SQLite format 3@ #- bbi7indexBookChapterVerseIndexBibleCREATE INDEX BookChapterVerseIndex ON Bible (Book, Chapter, Verse)PwtableDetailsDetailsCREATE TABLE 'Details' (Description NVARCHAR(250), Abbreviation NVARCHAR(50), Comments TEXT, Version INT, Font TEXT, RightToLeft BOOL, OT BOOL, NT BOOL, Apocrypha BOOL, Strong BOOL)^tableBibleBibleCREATE TABLE 'Bible' (Book INT, Chapter INT, Verse INT, Scripture TEXT)Q#|vpjd^XRLF@:4.("|ung`YRKD=6/(! 0*$ |vpjd^XRLF@:4.("@<61.*&" ~}{|w{typxlwiveu_t[sXrUqRpMoJnGmDl@k<j8i4h0#7"ρ~"f&!C![!*` x X+QioHbށ>u %8 ́qcL)l);YnWR!&jP;恝fRAByځ_rJ N6qʁ:W c)r[(f |b W 2 \ D3 Y Y d m 3 a 9i 3+@FSЫTY?7kqJ|h/N.= T u  UrduGeoUrduGeoExported from Simple Bible Reader (www.churchsw.org)DEFAULT ugYK=/!rcTE6' sdUF7) |  h  T  ZB 0     7B    p  '      Tz  i  U ! C  <-       j  $   (  & Q $  "   m  9[ H 3 g !     O     }  7  2 m  /X  -WD  + 1  )  &v  $+  "   +   J  '  !  ,iN  & Z @ I P;c   ,     HAH= yاللہ نے کہا، ”پانی کے درمیان ایک ایسا گنبد پیدا ہو جائے جس سے نچلا پانی اوپر کے پانی سے الگ ہو جائے۔“* Sاللہ نے روشنی کو دن کا نام دیا اور تاریکی کو رات کا۔ شام ہوئی، پھر صبح۔ یوں پہلا دن گزر گیا۔  اللہ نے دیکھا کہ روشنی اچھی ہے، اور اُس نے روشنی کو تاریکی سے الگ کر دیا۔j Sپھر اللہ نے کہا، ”روشنی ہو جائے“ تو روشنی پیدا ہو گئی۔| wابھی تک زمین ویران اور خالی تھی۔ وہ گہرے پانی سے ڈھکی ہوئی تھی جس کے اوپر اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اللہ کا روح پانی کے اوپر منڈلا رہا تھا۔R %ابتدا میں اللہ نے آسمان اور زمین کو بنایا۔ Wa TWz  s پھر اُس نے کہا، ”زمین ہریاول پیدا کرے، ایسے پودے جو بیج رکھتے ہوں اور ایسے درخت جن کے پھل اپنی اپنی قسم کے بیج رکھتے ہوں۔“ ایسا ہی ہوا۔2  c اللہ نے خشک جگہ کو زمین کا نام دیا اور جمع شدہ پانی کو سمندر کا۔ اور اللہ نے دیکھا کہ یہ اچھا ہے۔G   اللہ نے کہا، ”جو پانی آسمان کے نیچے ہے وہ ایک جگہ جمع ہو جائے تاکہ دوسری طرف خشک جگہ نظر آئے۔“ ایسا ہی ہوا۔  اللہ نے گنبد کو آسمان کا نام دیا۔ شام ہوئی، پھر صبح۔ یوں دوسرا دن گزر گیا۔ 7ایسا ہی ہوا۔ اللہ نے ایک ایسا گنبد بنایا جس سے نچلا پانی اوپر کے پانی سے الگ ہو گیا۔ LJL{ uاللہ نے دو بڑی روشنیاں بنائیں، سورج جو بڑا تھا دن پر حکومت کرنے کو اور چاند جو چھوٹا تھا رات پر۔ اِن کے علاوہ اُس نے ستاروں کو بھی بنایا۔f Kآسمان کی یہ روشنیاں دنیا کو روشن کریں۔“ ایسا ہی ہوا۔i Qاللہ نے کہا، ”آسمان پر روشنیاں پیدا ہو جائیں تاکہ دن اور رات میں امتیاز ہو اور اِسی طرح مختلف موسموں، دنوں اور سالوں میں بھی۔O   شام ہوئی، پھر صبح۔ یوں تیسرا دن گزر گیا۔   زمین نے ہریاول پیدا کی، ایسے پودے جو اپنی اپنی قسم کے بیج رکھتے اور ایسے درخت جن کے پھل اپنی اپنی قسم کے بیج رکھتے تھے۔ اللہ نے دیکھا کہ یہ اچھا ہے۔ } yاللہ نے بڑے بڑے سمندری جانور بنائے، پانی کی تمام دیگر مخلوقات اور ہر قسم کے پَر رکھنے والے جاندار بھی بنائے۔ اللہ نے دیکھا کہ یہ اچھا ہے۔ !اللہ نے کہا، ”پانی آبی جانداروں سے بھر جائے اور فضا میں پرندے اُڑتے پھریں۔“O شام ہوئی، پھر صبح۔ یوں چوتھا دن گزر گیا۔3 eدن اور رات پر حکومت کریں اور روشنی اور تاریکی میں امتیاز پیدا کریں۔ اللہ نے دیکھا کہ یہ اچھا ہے۔h Oاُس نے اُنہیں آسمان پر رکھا تاکہ وہ دنیا کو روشن کریں، QQ# Eاللہ نے ہر قسم کے مویشی، رینگنے والے اور جنگلی جانور بنائے۔ اُس نے دیکھا کہ یہ اچھا ہے۔4 gاللہ نے کہا، ”زمین ہر قسم کے جاندار پیدا کرے: مویشی، رینگنے والے اور جنگلی جانور۔“ ایسا ہی ہوا۔S %شام ہوئی، پھر صبح۔ یوں پانچواں دن گزر گیا۔z sاُس نے اُنہیں برکت دی اور کہا، ”پھلو پھولو اور تعداد میں بڑھتے جاؤ۔ سمندر تم سے بھر جائے۔ اِسی طرح پرندے زمین پر تعداد میں بڑھ جائیں۔“ BjBx oاللہ نے اُنہیں برکت دی اور کہا، ”پھلو پھولو اور تعداد میں بڑھتے جاؤ۔ دنیا تم سے بھر جائے اور تم اُس پر اختیار رکھو۔ سمندر کی مچھلیوں، ہَوا کے پرندوں اور زمین پر کے تمام رینگنے والے جانداروں پر حکومت کرو۔“* Sیوں اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا، اللہ کی صورت پر۔ اُس نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا۔ %اللہ نے کہا، ”آؤ اب ہم انسان کو اپنی صورت پر بنائیں، وہ ہم سے مشابہت رکھے۔ وہ تمام جانوروں پر حکومت کرے، سمندر کی مچھلیوں پر، ہَوا کے پرندوں پر، مویشیوں پر، جنگلی جانوروں پر اور زمین پر کے تمام رینگنے والے جانداروں پر۔“ &o   ]یوں آسمان و زمین اور اُن کی تمام چیزوں کی تخلیق مکمل ہوئی۔) Qاللہ نے سب پر نظر کی تو دیکھا کہ وہ بہت اچھا بن گیا ہے۔ شام ہوئی، پھر صبح۔ چھٹا دن گزر گیا۔ g Mاِس طرح مَیں تمام جانوروں کو کھانے کے لئے ہریالی دیتا ہوں۔ جس میں بھی جان ہے وہ یہ کھا سکتا ہے، خواہ وہ زمین پر چلنے پھرنے والا جانور، ہَوا کا پرندہ یا زمین پر رینگنے والا کیوں نہ ہو۔“ ایسا ہی ہوا۔W -اللہ نے اُن سے مزید کہا، ”تمام بیج دار پودے اور پھل دار درخت تمہارے ہی ہیں۔ مَیں اُنہیں تم کو کھانے کے لئے دیتا ہوں۔ NlN% اِس کی بجائے زمین میں سے دُھند اُٹھ کر اُس کی پوری سطح کو تر کرتی تھی۔&$ Iتو شروع میں جھاڑیاں اور پودے نہیں اُگتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اللہ نے بارش کا انتظام نہیں کیا تھا۔ اور ابھی انسان بھی پیدا نہیں ہوا تھا کہ زمین کی کھیتی باڑی کرتا۔# یہ آسمان و زمین کی تخلیق کا بیان ہے۔ جب رب خدا نے آسمان و زمین کو بنایاc" Cاللہ نے ساتویں دن کو برکت دی اور اُسے مخصوص و مُقدّس کیا۔ کیونکہ اُس دن اُس نے اپنے تمام تخلیقی کام سے فارغ ہو کر آرام کیا۔! ساتویں دن اللہ کا سارا کام تکمیل کو پہنچا۔ اِس سے فارغ ہو کر اُس نے آرام کیا۔ 51u5.) Y عدن میں سے ایک دریا نکل کر باغ کی آب پاشی کرتا تھا۔ وہاں سے بہہ کر وہ چار شاخوں میں تقسیم ہوا۔ (  رب خدا کے حکم پر زمین میں سے طرح طرح کے درخت پھوٹ نکلے، ایسے درخت جو دیکھنے میں دل کش اور کھانے کے لئے اچھے تھے۔ باغ کے بیچ میں دو درخت تھے۔ ایک کا پھل زندگی بخشتا تھا جبکہ دوسرے کا پھل اچھے اور بُرے کی پہچان دلاتا تھا۔9' oرب خدا نے مشرق میں ملکِ عدن میں ایک باغ لگایا۔ اُس میں اُس نے اُس آدمی کو رکھا جسے اُس نے بنایا تھا۔L& پھر رب خدا نے زمین سے مٹی لے کر انسان کو تشکیل دیا اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو وہ جیتی جان ہوا۔ )8G)/ لیکن رب خدا نے اُسے آگاہ کیا، ”تجھے ہر درخت کا پھل کھانے کی اجازت ہے۔. %رب خدا نے پہلے آدمی کو باغِ عدن میں رکھا تاکہ وہ اُس کی باغ بانی اور حفاظت کرے۔ - تیسری کا نام دجلہ ہے جو اسور کے مشرق کو جاتی ہے اور چوتھی کا نام فرات ہے۔c, C دوسری کا نام جیحون ہے جو کوش کو گھیرے ہوئے بہتی ہے۔a+ ? پہلی شاخ کا نام فیسون ہے۔ وہ ملکِ حویلہ کو گھیرے ہوئے بہتی ہے جہاں خالص سونا، گُوگل کا گوند اور عقیقِ احمر پائے جاتے ہیں۔a* ? پہلی شاخ کا نام فیسون ہے۔ وہ ملکِ حویلہ کو گھیرے ہوئے بہتی ہے جہاں خالص سونا، گُوگل کا گوند اور عقیقِ احمر پائے جاتے ہیں۔ 303^3 9آدمی نے تمام مویشیوں، پرندوں اور زمین پر پھرنے والے جانداروں کے نام رکھے۔ لیکن اُسے اپنے لئے کوئی مناسب مددگار نہ ملا۔l2 Uرب خدا نے مٹی سے زمین پر چلنے پھرنے والے جانور اور ہَوا کے پرندے بنائے تھے۔ اب وہ اُنہیں آدمی کے پاس لے آیا تاکہ معلوم ہو جائے کہ وہ اُن کے کیا کیا نام رکھے گا۔ یوں ہر جانور کو آدم کی طرف سے نام مل گیا۔*1 Qرب خدا نے کہا، ”اچھا نہیں کہ آدمی اکیلا رہے۔ مَیں اُس کے لئے ایک مناسب مددگار بناتا ہوں۔“M0 لیکن جس درخت کا پھل اچھے اور بُرے کی پہچان دلاتا ہے اُس کا پھل کھانا منع ہے۔ اگر اُسے کھائے تو یقیناً مرے گا۔“ << 8 دونوں، آدمی اور عورت ننگے تھے، لیکن یہ اُن کے لئے شرم کا باعث نہیں تھا۔ ;7 sاِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے، اور وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔,6 Uاُسے دیکھ کر وہ پکار اُٹھا، ”واہ! یہ تو مجھ جیسی ہی ہے، میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے۔ اِس کا نام ناری رکھا جائے کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی ہے۔“h5 Mپسلی سے اُس نے عورت بنائی اور اُسے آدمی کے پاس لے آیا۔^4 9تب رب خدا نے اُسے سُلا دیا۔ جب وہ گہری نیند سو رہا تھا تو اُس نے اُس کی پسلیوں میں سے ایک نکال کر اُس کی جگہ گوشت بھر دیا۔ C9O< سانپ نے عورت سے کہا، ”تم ہرگز نہ مروگے،;  صرف اُس درخت کے پھل سے گریز کرنا ہے جو باغ کے بیچ میں ہے۔ اللہ نے کہا کہ اُس کا پھل نہ کھاؤ بلکہ اُسے چھونا بھی نہیں، ورنہ تم یقیناً مر جاؤ گے۔“t: eعورت نے جواب دیا، ”ہرگز نہیں۔ ہم باغ کا ہر پھل کھا سکتے ہیں،D9  سانپ زمین پر چلنے پھرنے والے اُن تمام جانوروں سے زیادہ چالاک تھا جن کو رب خدا نے بنایا تھا۔ اُس نے عورت سے پوچھا، ”کیا اللہ نے واقعی کہا کہ باغ کے کسی بھی درخت کا پھل نہ کھانا؟“ 55g? Kلیکن کھاتے ہی اُن کی آنکھیں کھل گئیں اور اُن کو معلوم ہوا کہ ہم ننگے ہیں۔ چنانچہ اُنہوں نے انجیر کے پتے سی کر لنگیاں بنا لیں۔F>  عورت نے درخت پر غور کیا کہ کھانے کے لئے اچھا اور دیکھنے میں بھی دل کش ہے۔ سب سے دل فریب بات یہ کہ اُس سے سمجھ حاصل ہو سکتی ہے! یہ سوچ کر اُس نے اُس کا پھل لے کر اُسے کھایا۔ پھر اُس نے اپنے شوہر کو بھی دے دیا، کیونکہ وہ اُس کے ساتھ تھا۔ اُس نے بھی کھا لیا۔= 'بلکہ اللہ جانتا ہے کہ جب تم اُس کا پھل کھاؤ گے تو تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم اللہ کی مانند ہو جاؤ گے، تم جو بھی اچھا اور بُرا ہے اُسے جان لو گے۔“ ^"^>D y آدم نے کہا، ”جو عورت تُو نے میرے ساتھ رہنے کے لئے دی ہے اُس نے مجھے پھل دیا۔ اِس لئے مَیں نے کھا لیا۔“[C 3 اُس نے پوچھا، ”کس نے تجھے بتایا کہ تُو ننگا ہے؟ کیا تُو نے اُس درخت کا پھل کھایا ہے جسے کھانے سے مَیں نے منع کیا تھا؟“KB  آدم نے جواب دیا، ’مَیں نے تجھے باغ میں چلتے ہوئے سنا تو ڈر گیا، کیونکہ مَیں ننگا ہوں۔ اِس لئے مَیں چھپ گیا۔“UA ' رب خدا نے پکار کر کہا، ”آدم، تُو کہاں ہے؟“[@ 3شام کے وقت جب ٹھنڈی ہَوا چلنے لگی تو اُنہوں نے رب خدا کو باغ میں چلتے پھرتے سنا۔ وہ ڈر کے مارے درختوں کے پیچھے چھپ گئے۔  0 G مَیں تیرے اور عورت کے درمیان دشمنی پیدا کروں گا۔ اُس کی اولاد تیری اولاد کی دشمن ہو گی۔ وہ تیرے سر کو کچل ڈالے گی جبکہ تُو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا۔“F !رب خدا نے سانپ سے کہا، ”چونکہ تُو نے یہ کیا، اِس لئے تُو تمام مویشیوں اور جنگلی جانوروں میں لعنتی ہے۔ تُو عمر بھر پیٹ کے بل رینگے گا اور خاک چاٹے گا۔ME  اب رب خدا عورت سے مخاطب ہوا، ”تُو نے یہ کیوں کیا؟“ عورت نے جواب دیا، ”سانپ نے مجھے بہکایا تو مَیں نے کھایا۔“ LL8J mتیرے لئے وہ خاردار پودے اور اونٹ کٹارے پیدا کرے گی، حالانکہ تُو اُس سے اپنی خوراک بھی حاصل کرے گا۔~I yآدم سے اُس نے کہا، ”تُو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اُس درخت کا پھل کھایا جسے کھانے سے مَیں نے منع کیا تھا۔ اِس لئے تیرے سبب سے زمین پر لعنت ہے۔ اُس سے خوراک حاصل کرنے کے لئے تجھے عمر بھر محنت مشقت کرنی پڑے گی۔uH gپھر رب خدا عورت سے مخاطب ہوا اور کہا، ”جب تُو اُمید سے ہو گی تو مَیں تیری تکلیف کو بہت بڑھاؤں گا۔ جب تیرے بچے ہوں گے تو تُو شدید درد کا شکار ہو گی۔ تُو اپنے شوہر کی تمنا کرے گی لیکن وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔“ ?t? M رب خدا نے آدم اور اُس کی بیوی کے لئے کھالوں سے لباس بنا کر اُنہیں پہنایا۔%L Gآدم نے اپنی بیوی کا نام حوا یعنی زندگی رکھا، کیونکہ بعد میں وہ تمام زندوں کی ماں بن گئی۔ K پسینہ بہا بہا کر تجھے روٹی کمانے کے لئے بھاگ دوڑ کرنی پڑے گی۔ اور یہ سلسلہ موت تک جاری رہے گا۔ تُو محنت کرتے کرتے دوبارہ زمین میں لوٹ جائے گا، کیونکہ تُو اُسی سے لیا گیا ہے۔ تُو خاک ہے اور دوبارہ خاک میں مل جائے گا۔“ hhvP iانسان کو خارج کرنے کے بعد اُس نے باغِ عدن کے مشرق میں کروبی فرشتے کھڑے کئے اور ساتھ ساتھ ایک آتشی تلوار رکھی جو اِدھر اُدھر گھومتی تھی تاکہ اُس راستے کی حفاظت کرے جو زندگی بخشنے والے درخت تک پہنچاتا تھا۔ OO اِس لئے رب خدا نے اُسے باغِ عدن سے نکال کر اُس زمین کی کھیتی باڑی کرنے کی ذمہ داری دی جس میں سے اُسے لیا گیا تھا۔JN اُس نے کہا، ”انسان ہماری مانند ہو گیا ہے، وہ اچھے اور بُرے کا علم رکھتا ہے۔ اب ایسا نہ ہو کہ وہ ہاتھ بڑھا کر زندگی بخشنے والے درخت کے پھل سے لے اور اُس سے کھا کر ہمیشہ تک زندہ رہے۔“ M+cM-U Wمگر قابیل کا نذرانہ منظور نہ ہوا۔ یہ دیکھ کر قابیل بڑے غصے میں آ گیا، اور اُس کا منہ بگڑ گیا۔oT [ہابیل نے بھی نذرانہ پیش کیا، لیکن اُس نے اپنی بھیڑبکریوں کے کچھ پہلوٹھے اُن کی چربی سمیت چڑھائے۔ ہابیل کا نذرانہ رب کو پسند آیا،rS aکچھ دیر کے بعد قابیل نے رب کو اپنی فصلوں میں سے کچھ پیش کیا۔ER بعد میں قابیل کا بھائی ہابیل پیدا ہوا۔ ہابیل بھیڑبکریوں کا چرواہا بن گیا جبکہ قابیل کھیتی باڑی کرنے لگا۔RQ  #آدم حوا سے ہم بستر ہوا تو اُن کا پہلا بیٹا قابیل پیدا ہوا۔ حوا نے کہا، ”رب کی مدد سے مَیں نے ایک مرد حاصل کیا ہے۔“ } X =ایک دن قابیل نے اپنے بھائی سے کہا، ”آؤ، ہم باہر کھلے میدان میں چلیں۔“ اور جب وہ کھلے میدان میں تھے تو قابیل نے اپنے بھائی ہابیل پر حملہ کر کے اُسے مار ڈالا۔rW aکیا اگر تُو اچھی نیت رکھتا ہے تو اپنی نظر اُٹھا کر میری طرف نہیں دیکھ سکے گا؟ لیکن اگر اچھی نیت نہیں رکھتا تو خبردار! گناہ دروازے پر دبکا بیٹھا ہے اور تجھے چاہتا ہے۔ لیکن تیرا فرض ہے کہ اُس پر غالب آئے۔“V }رب نے پوچھا، ”تُو غصے میں کیوں آ گیا ہے؟ تیرا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے؟ J`K\  اب سے جب تُو کھیتی باڑی کرے گا تو زمین اپنی پیداوار دینے سے انکار کرے گی۔ تُو مفرور ہو کر مارا مارا پھرے گا۔“g[ K اِس لئے تجھ پر لعنت ہے اور زمین نے تجھے رد کیا ہے، کیونکہ زمین کو منہ کھول کر تیرے ہاتھ سے قتل کئے ہوئے بھائی کا خون پینا پڑا۔-Z W رب نے کہا، ”تُو نے کیا کِیا ہے؟ تیرے بھائی کا خون زمین میں سے پکار کر مجھ سے فریاد کر رہا ہے۔Y  تب رب نے قابیل سے پوچھا، ”تیرا بھائی ہابیل کہاں ہے؟“ قابیل نے جواب دیا، ”مجھے کیا پتا! کیا اپنے بھائی کی دیکھ بھال کرنا میری ذمہ داری ہے؟“ 3t3` ;اِس کے بعد قابیل رب کے حضور سے چلا گیا اور عدن کے مشرق کی طرف نود کے علاقے میں جا بسا۔6_ iلیکن رب نے اُس سے کہا، ”ہرگز نہیں۔ جو قابیل کو قتل کرے اُس سے سات گُنا بدلہ لیا جائے گا۔“ پھر رب نے اُس پر ایک نشان لگایا تاکہ جو بھی قابیل کو دیکھے وہ اُسے قتل نہ کر دے۔c^ Cآج تُو مجھے زمین کی سطح سے بھگا رہا ہے اور مجھے تیرے حضور سے بھی چھپ جانا ہے۔ مَیں مفرور کی حیثیت سے مارا مارا پھرتا رہوں گا، اِس لئے جس کو بھی پتا چلے گا کہ مَیں کہاں ہوں وہ مجھے قتل کر ڈالے گا۔“ ]  قابیل نے کہا، ”میری سزا نہایت سخت ہے۔ مَیں اِسے برداشت نہیں کر پاؤں گا۔ U''-5=EMU]emu} %.7@IR[dmv )2;DMV_hqz                                                       ! " # $ % & '  (  )  *  +  , - . / 0 1 2 3 4 5 6 7 8  9 : ; < = > ? @  A  B  C  D  E F G H I J K L M N O P  Q R S T U N  )2;DMV_hqz $-6?HQZclu~%/9CMWaku W X  Y  Z  [  \  ] ^ _ ` a W X  Y  Z  [  \  ] ^ _ ` a b c d e f g h i j  k l m n o p q r  s  t  u  v  w x y z { | } ~                                                                             6He یابل کا بھائی یوبل تھا۔ اُس کی نسل کے لوگ سرود اور بانسری بجاتے تھے۔d عدہ کا بیٹا یابل تھا۔ اُس کی نسل کے لوگ خیموں میں رہتے اور مویشی پالتے تھے۔[c 3لمک متوسائیل کی دو بیویاں تھیں، عدہ اورضِلّہ۔Db حنوک کا بیٹا عیراد تھا، عیراد کا بیٹا محویائیل، محویائیل کا بیٹا متوسائیل اور متوسائیل کا بیٹا لمک تھا۔a }قابیل کی بیوی حاملہ ہوئی۔ بیٹا پیدا ہوا جس کا نام حنوک رکھا گیا۔ قابیل نے ایک شہر تعمیر کیا اور اپنے بیٹے کی خوشی میں اُس کا نام حنوک رکھا۔ ( h ایک آدمی نے مجھے زخمی کیا تو مَیں نے اُسے مار ڈالا۔ ایک لڑکے نے میرے چوٹ لگائی تو مَیں نے اُسے قتل کر دیا۔ جو قابیل کو قتل کرے اُس سے سات گُنا بدلہ لیا جائے گا، لیکن جو لمک کو قتل کرے اُس سے ستتر گُنا بدلہ لیا جائے گا۔“:g qایک دن لمک نے اپنی بیویوں سے کہا، ”عدہ اور ضِلّہ، میری بات سنو! لمک کی بیویو، میرے الفاظ پر غور کرو!f -ضِلّہ کے بھی بیٹا پیدا ہوا جس کا نام توبل قابیل تھا۔ وہ لوہار تھا۔ اُس کی نسل کے لوگ پیتل اور لوہے کی چیزیں بناتے تھے۔ توبل قابیل کی بہن کا نام نعمہ تھا۔ *zfl Iاُس نے اُنہیں مرد اور عورت پیدا کیا۔ اور جس دن اُس نے اُنہیں خلق کیا اُس نے اُنہیں برکت دے کر اُن کا نام آدم یعنی انسان رکھا۔-k  Yذیل میں آدم کا نسب نامہ درج ہے۔ جب اللہ نے انسان کو خلق کیا تو اُس نے اُسے اپنی صورت پر بنایا۔Gj  سیت کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے اُس کا نام انوس رکھا۔ اُن دنوں میں لوگ رب کا نام لے کر عبادت کرنے لگے۔ i آدم اور حوا کا ایک اَور بیٹا پیدا ہوا۔ حوا نے اُس کا نام سیت رکھ کر کہا، ”اللہ نے مجھے ہابیل کی جگہ جسے قابیل نے قتل کیا ایک اَور بیٹا بخشا ہے۔“ 1 ~CY1 t  اِس کے بعد وہ مزید 815 سال زندہ رہا۔ اُس کے اَور بیٹے بیٹیاں بھی پیدا ہوئے۔]s 7 انوس 90 برس کا تھا جب اُس کا بیٹا قینان پیدا ہوا۔9r qوہ 912 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ q اِس کے بعد وہ مزید 807 سال زندہ رہا۔ اُس کے اَور بیٹے بیٹیاں بھی پیدا ہوئے۔Zp 1سیت 105 سال کا تھا جب اُس کا بیٹا انوس پیدا ہوا۔9o qوہ 930 سال کی عمر میں فوت ہوا۔n ;سیت کی پیدائش کے بعد آدم مزید 800 سال زندہ رہا۔ اُس کے اَور بیٹے بیٹیاں بھی پیدا ہوئے۔]m 7آدم کی عمر 130 سال تھی جب اُس کا بیٹا سیت پیدا ہوا۔ سیت صورت کے لحاظ سے اپنے باپ کی مانند تھا، وہ اُس سے مشابہت رکھتا تھا۔ B_2i }B9~ qوہ 962 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ } اِس کے بعد وہ مزید 800 سال زندہ رہا۔ اُس کے اَور بیٹے بیٹیاں بھی پیدا ہوئے۔\| 5یارد 162 سال کا تھا جب اُس کا بیٹا حنوک پیدا ہوا۔9{ qوہ 895 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ z اِس کے بعد وہ مزید 830 سال زندہ رہا۔ اُس کے اَور بیٹے بیٹیاں بھی پیدا ہوئے۔by Aمہلل ایل 65 سال کا تھا جب اُس کا بیٹا یارد پیدا ہوا۔9x qوہ 910 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ w  اِس کے بعد وہ مزید 840 سال زندہ رہا۔ اُس کے اَور بیٹے بیٹیاں بھی پیدا ہوئے۔dv E قینان 70 سال کا تھا جب اُس کا بیٹا مہلل ایل پیدا ہوا۔9u q وہ 905 سال کی عمر میں فوت ہوا۔  *Q لمک 182 سال کا تھا جب اُس کا بیٹا پیدا ہوا۔9 qوہ 969 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ {وہ مزید 782 سال زندہ رہا۔ اُس کے اَور بیٹے اور بیٹیاں بھی پیدا ہوئے۔^ 9متوسلح 187 سال کا تھا جب اُس کا بیٹا لمک پیدا ہوا۔/ [حنوک اللہ کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ 365 سال کی عمر میں وہ غائب ہوا، کیونکہ اللہ نے اُسے اُٹھا لیا۔6 kوہ کُل 365 سال دنیا میں رہا۔" Aاِس کے بعد وہ مزید 300 سال اللہ کے ساتھ چلتا رہا۔ اُس کے اَور بیٹے بیٹیاں بھی پیدا ہوئے۔_ ;حنوک 65 سال کا تھا جب اُس کا بیٹا متوسلح پیدا ہوا۔ M{   uدنیا میں لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ اُن کے ہاں بیٹیاں پیدا ہوئیں۔u  g نوح 500 سال کا تھا جب اُس کے بیٹے سِم، حام اور یافت پیدا ہوئے۔ 9  qوہ 777 سال کی عمر میں فوت ہوا۔  اِس کے بعد وہ مزید 595 سال زندہ رہا۔ اُس کے اَور بیٹے بیٹیاں بھی پیدا ہوئے۔l Uاُس نے اُس کا نام نوح یعنی تسلی رکھا، کیونکہ اُس نے اُس کے بارے میں کہا، ”ہمارا کھیتی باڑی کا کام نہایت تکلیف دہ ہے، اِس لئے کہ اللہ نے زمین پر لعنت بھیجی ہے۔ لیکن اب ہم بیٹے کی معرفت تسلی پائیں گے۔“ l$=$l4 eرب نے دیکھا کہ انسان نہایت بگڑ گیا ہے، کہ اُس کے تمام خیالات لگاتار بُرائی کی طرف مائل رہتے ہیں۔ 'اُن دنوں میں اور بعد میں بھی دنیا میں دیو تھے جو انسانی عورتوں اور اُن آسمانی ہستیوں کی شادیوں سے پیدا ہوئے تھے۔ یہ دیو قدیم زمانے کے مشہور سورما تھے۔c  Cپھر رب نے کہا، ”میری روح ہمیشہ کے لئے انسان میں نہ رہے کیونکہ وہ فانی مخلوق ہے۔ اب سے وہ 120 سال سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا۔“X  -تب آسمانی ہستیوں نے دیکھا کہ بنی نوع انسان کی بیٹیاں خوب صورت ہیں، اور اُنہوں نے اُن میں سے کچھ چن کر اُن سے شادی کی۔ 1db1N  نوح کے تین بیٹے تھے، سِم، حام اور یافت۔\ 5 یہ اُس کی زندگی کا بیان ہے۔ نوح راست باز تھا۔ اُس زمانے کے لوگوں میں صرف وہی بےقصور تھا۔ وہ اللہ کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔< wصرف نوح پر رب کی نظرِ کرم تھی۔? {اُس نے کہا، ”گو مَیں ہی نے انسان کو خلق کیا مَیں اُسے رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالوں گا۔ مَیں نہ صرف لوگوں کو بلکہ زمین پر چلنے پھرنے اور رینگنے والے جانوروں اور ہَوا کے پرندوں کو بھی ہلاک کر دوں گا، کیونکہ مَیں پچھتاتا ہوں کہ مَیں نے اُن کو بنایا۔“ -وہ پچھتایا کہ مَیں نے انسان کو بنا کر دنیا میں رکھ دیا ہے، اور اُسے سخت دُکھ ہوا۔ j{je Gاُس کی لمبائی 450 فٹ، چوڑائی 75 فٹ اور اونچائی 45 فٹ ہو۔* Qاب اپنے لئے سرو کی لکڑی کی کشتی بنا لے۔ اُس میں کمرے ہوں اور اُسے اندر اور باہر تارکول لگا۔A  تب اللہ نے نوح سے کہا، ”مَیں نے تمام جانداروں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اُن کے سبب سے پوری دنیا ظلم و تشدد سے بھر گئی ہے۔ چنانچہ مَیں اُن کو زمین سمیت تباہ کر دوں گا۔2 a جہاں بھی اللہ دیکھتا دنیا خراب تھی، کیونکہ تمام جانداروں نے زمین پر اپنی روِش کو بگاڑ دیا تھا۔  لیکن دنیا اللہ کی نظر میں بگڑی ہوئی اور ظلم و تشدد سے بھری ہوئی تھی۔ Ai6 iہر قسم کے جانور کا ایک نر اور ایک مادہ بھی اپنے ساتھ کشتی میں لے جانا تاکہ وہ تیرے ساتھ جیتے بچیں۔F  لیکن تیرے ساتھ مَیں عہد باندھوں گا جس کے تحت تُو اپنے بیٹوں، اپنی بیوی اور بہوؤں کے ساتھ کشتی میں جائے گا۔T %مَیں پانی کا اِتنا بڑا سیلاب لاؤں گا کہ وہ زمین کے تمام جانداروں کو ہلاک کر ڈالے گا۔ زمین پر سب کچھ فنا ہو جائے گا۔; sکشتی کی چھت کو یوں بنانا کہ اُس کے نیچے 18 انچ کھلا رہے۔ ایک طرف دروازہ ہو، اور اُس کی تین منزلیں ہوں۔ ;t";c" Cہر قسم کے پاک جانوروں میں سے سات سات نر و مادہ کے جوڑے جبکہ ناپاک جانوروں میں سے نر و مادہ کا صرف ایک ایک جوڑا ساتھ لے جانا۔h!  Oپھر رب نے نوح سے کہا، ”اپنے گھرانے سمیت کشتی میں داخل ہو جا، کیونکہ اِس دور کے لوگوں میں سے مَیں نے صرف تجھے راست باز پایا ہے۔c  Cنوح نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا اللہ نے اُسے بتایا۔  /جو بھی خوراک درکار ہے اُسے اپنے اور اُن کے لئے جمع کر کے کشتی میں محفوظ کر لینا۔“k Sہر قسم کے پَر رکھنے والے جانور اور ہر قسم کے زمین پر پھرنے یا رینگنے والے جانور دو دو ہو کر تیرے پاس آئیں گے تاکہ جیتے بچ جائیں۔ .L*' Qطوفانی سیلاب سے بچنے کے لئے نوح اپنے بیٹوں، اپنی بیوی اور بہوؤں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔\& 5وہ 600 سال کا تھا جب یہ طوفانی سیلاب زمین پر آیا۔R% !نوح نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے حکم دیا تھا۔*$ Qایک ہفتے کے بعد مَیں چالیس دن اور چالیس رات متواتر بارش برساؤں گا۔ اِس سے مَیں تمام جانداروں کو رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالوں گا، اگرچہ مَیں ہی نے اُنہیں بنایا ہے۔“N# اِسی طرح ہر قسم کے پَر رکھنے والوں میں سے سات سات نر و مادہ کے جوڑے بھی ساتھ لے جانا تاکہ اُن کی نسلیں بچی رہیں۔ Qmc, C چالیس دن اور چالیس رات تک موسلادھار بارش ہوتی رہی۔ +  یہ سب کچھ اُس وقت ہوا جب نوح 600 سال کا تھا۔ دوسرے مہینے کے 17ویں دن زمین کی گہرائیوں میں سے تمام چشمے پھوٹ نکلے اور آسمان پر پانی کے دریچے کھل گئے۔U* ' ایک ہفتے کے بعد طوفانی سیلاب زمین پر آ گیا۔`) = نر و مادہ کی صورت میں دو دو ہو کر وہ نوح کے پاس آ کر کشتی میں سوار ہوئے۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا اللہ نے نوح کو حکم دیا تھا۔+( Sزمین پر پھرنے والے پاک اور ناپاک جانور، پَر رکھنے والے اور تمام رینگنے والے جانور بھی آئے۔ E9TEj2 Qپانی زور پکڑ کر بہت بڑھ گیا، اور کشتی اُس پر تیرنے لگی۔1 9چالیس دن تک طوفانی سیلاب جاری رہا۔ پانی چڑھا تو اُس نے کشتی کو زمین پر سے اُٹھا لیا۔B0 نر و مادہ آئے تھے۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا تھا جیسا اللہ نے نوح کو حکم دیا تھا۔ پھر رب نے دروازے کو بند کر دیا۔/ ہر قسم کے جاندار دو دو ہو کر نوح کے پاس آ کر کشتی میں سوار ہو چکے تھے۔. 'اُن کے ساتھ ہر قسم کے جنگلی جانور، مویشی، رینگنے اور پَر رکھنے والے جانور تھے۔C-  جب بارش شروع ہوئی تو نوح، اُس کے بیٹے سِم، حام اور یافت، اُس کی بیوی اور بہوئیں کشتی میں سوار ہو چکے تھے۔ Pv#PN8 سیلاب ڈیڑھ سَو دن تک زمین پر غالب رہا۔ 57 gیوں ہر مخلوق کو رُوئے زمین پر سے مٹا دیا گیا۔ انسان، زمین پر پھرنے اور رینگنے والے جانور اور پرندے، سب کچھ ختم کر دیا گیا۔ صرف نوح اور کشتی میں سوار اُس کے ساتھی بچ گئے۔F6  زمین پر ہر جاندار مخلوق ہلاک ہوئی۔m5 Wزمین پر رہنے والی ہر مخلوق ہلاک ہوئی۔ پرندے، مویشی، جنگلی جانور، تمام جاندار جن سے زمین بھری ہوئی تھی اور انسان، سب کچھ مر گیا۔_4 ;بلکہ سب سے اونچی چوٹی پر پانی کی گہرائی 20 فٹ تھی۔3  آخرکار پانی اِتنا زیادہ ہو گیا کہ تمام اونچے پہاڑ بھی اُس میں چھپ گئے، K)3=GQ[eoy",6@JT^hr|%/9CMWaku                                                                                                                                                                                                      KFV>Ko> [چالیس دن کے بعد نوح نے کشتی کی کھڑکی کھول کر ایک کوّا چھوڑ دیا، اور وہ اُڑ کر چلا گیا۔ لیکن جب تک زمین پر پانی تھا وہ آتا جاتا رہا۔ = =دسویں مہینے کے پہلے دن پانی اِتنا کم ہو گیا تھا کہ پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آنے لگی تھیں۔q< _ساتویں مہینے کے 17 ویں دن کشتی اراراط کے ایک پہاڑ پر ٹک گئی۔a; ?پانی گھٹتا گیا۔ 150 دن کے بعد وہ کافی کم ہو گیا تھا۔:  زمین کے چشمے اور آسمان پر کے پانی کے دریچے بند ہو گئے، اور بارش رُک گئی۔69  kلیکن اللہ کو نوح اور تمام جانور یاد رہے جو کشتی میں تھے۔ اُس نے ہَوا چلا دی جس سے پانی کم ہونے لگا۔  w rB a اُس نے ایک ہفتہ اَور انتظار کر کے کبوتر کو دوبارہ چھوڑ دیا۔gA K لیکن کبوتر کو کہیں بھی بیٹھنے کی جگہ نہ ملی، کیونکہ اب تک پوری زمین پر پانی ہی پانی تھا۔ وہ کشتی اور نوح کے پاس واپس آ گیا، اور نوح نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کبوتر کو پکڑ کر اپنے پاس کشتی میں رکھ لیا۔@ !پھر نوح نے ایک کبوتر چھوڑ دیا تاکہ پتا چلے کہ زمین پانی سے نکل آئی ہے یا نہیں۔o? [چالیس دن کے بعد نوح نے کشتی کی کھڑکی کھول کر ایک کوّا چھوڑ دیا، اور وہ اُڑ کر چلا گیا۔ لیکن جب تک زمین پر پانی تھا وہ آتا جاتا رہا۔ $.cH C”اپنی بیوی، بیٹوں اور بہوؤں کے ساتھ کشتی سے نکل آ۔0G _پھر اللہ نے نوح سے کہا،YF /دوسرے مہینے کے 27ویں دن زمین بالکل خشک ہو گئی۔ E  جب نوح 601 سال کا تھا تو پہلے مہینے کے پہلے دن زمین کی سطح پر پانی ختم ہو گیا۔ تب نوح نے کشتی کی چھت کھول دی اور دیکھا کہ زمین کی سطح پر پانی نہیں ہے۔D   اُس نے مزید ایک ہفتے کے بعد کبوتر کو چھوڑ دیا۔ اِس دفعہ وہ واپس نہ آیا۔XC - شام کے وقت وہ لوٹ آیا۔ اِس دفعہ اُس کی چونچ میں زیتون کا تازہ پتا تھا۔ تب نوح کو معلوم ہوا کہ زمین پانی سے نکل آئی ہے۔ `L -اُس وقت نوح نے رب کے لئے قربان گاہ بنائی۔ اُس نے تمام پھرنے اور اُڑنے والے پاک جانوروں میں سے کچھ چن کر اُنہیں ذبح کیا اور قربان گاہ پر پوری طرح جلا دیا۔K {تمام جانور اور پرندے بھی اپنی اپنی قسم کے گروہوں میں کشتی سے نکلے۔nJ Yچنانچہ نوح اپنے بیٹوں، اپنی بیوی اور بہوؤں سمیت نکل آیا۔+I Sجتنے بھی جانور ساتھ ہیں اُنہیں نکال دے، خواہ پرندے ہوں، خواہ زمین پر پھرنے یا رینگنے والے جانور۔ وہ دنیا میں پھیل جائیں، نسل بڑھائیں اور تعداد میں بڑھتے جائیں۔“ @5@JO   پھر اللہ نے نوح اور اُس کے بیٹوں کو برکت دے کر کہا، ”پھلو پھولو اور تعداد میں بڑھتے جاؤ۔ دنیا تم سے بھر جائے۔#N Cدنیا کے مقررہ اوقات جاری رہیں گے۔ بیج بونے اور فصل کاٹنے کا وقت، ٹھنڈ اور تپش، گرمیوں اور سردیوں کا موسم، دن اور رات، یہ سب کچھ دنیا کے اخیر تک قائم رہے گا۔“ GM  یہ قربانیاں دیکھ کر رب خوش ہوا اور اپنے دل میں کہا، ”اب سے مَیں کبھی زمین پر انسان کی وجہ سے لعنت نہیں بھیجوں گا، کیونکہ اُس کا دل بچپن ہی سے بُرائی کی طرف مائل ہے۔ اب سے مَیں کبھی اِس طرح تمام جان رکھنے والی مخلوقات کو رُوئے زمین پر سے نہیں مٹاؤں گا۔ *EdS E کسی کی جان لینا منع ہے۔ جو ایسا کرے گا اُسے اپنی جان دینی پڑے گی، خواہ وہ انسان ہو یا حیوان۔ مَیں خود اِس کا مطالبہ کروں گا۔R  لیکن خبردار! ایسا گوشت نہ کھاناجس میں خون ہے، کیونکہ خون میں اُس کی جان ہے۔aQ ? جس طرح مَیں نے تمہارے کھانے کے لئے پودوں کی پیداوار مقرر کی ہے اِسی طرح اب سے تمہیں ہر قسم کے جانور کھانے کی اجازت بھی ہے۔RP ! زمین پر پھرنے اور رینگنے والے جانور، پرندے اور مچھلیاں سب تم سے ڈریں گے۔ اُنہیں تمہارے اختیار میں کر دیا گیا ہے۔ B}dX E یہ عہد اُن تمام جانوروں کے ساتھ بھی ہو گا جو کشتی میں سے نکلے ہیں یعنی پرندوں، مویشیوں اور زمین پر کے تمام جانوروں کے ساتھ۔tW e ”اب مَیں تمہارے اور تمہاری اولاد کے ساتھ عہد قائم کرتا ہوں۔MV  تب اللہ نے نوح اور اُس کے بیٹوں سے کہا،rU a اب پھلو پھولو اور تعداد میں بڑھتے جاؤ۔ دنیا میں پھیل جاؤ۔“:T q جو بھی کسی کا خون بہائے اُس کا خون بھی بہایا جائے گا۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔ t\ / جب کبھی میرے کہنے پر آسمان پر بادل چھا جائیں گے اور قوسِ قزح اُن میں سے نظر آئے گی[  مَیں اپنی کمان بادلوں میں رکھتا ہوں۔ وہ میرے دنیا کے ساتھ عہد کا نشان ہو گا۔!Z ? اِس ابدی عہد کا نشان جو مَیں تمہارے اور تمام جانداروں کے ساتھ قائم کر رہا ہوں یہ ہے کہOY  مَیں تمہارے ساتھ عہد باندھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ اب سے ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ زمین کی تمام زندگی سیلاب سے ختم کر دی جائے گی۔ اب سے ایسا سیلاب کبھی نہیں آئے گا جو پوری زمین کو تباہ کر دے۔ //`b = نوح کسان تھا۔ شروع میں اُس نے انگور کا باغ لگایا۔Wa + دنیا بھر کے تمام لوگ اِن تینوں کی اولاد ہیں۔` 7 نوح کے جو بیٹے اُس کے ساتھ کشتی سے نکلے سِم، حام اور یافت تھے۔ حام کنعان کا باپ تھا۔_  یہ اُس عہد کا نشان ہے جو مَیں نے دنیا کے تمام جانداروں کے ساتھ کیا ہے۔“c^ C قوسِ قزح نظر آئے گی تو مَیں اُسے دیکھ کر اُس دائمی عہد کو یاد کروں گا جو میرے اور دنیا کی تمام جاندار مخلوقات کے درمیان ہے۔}] w تو مَیں یہ عہد یاد کروں گا جو تمہارے اور تمام جانداروں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اب کبھی بھی ایسا سیلاب نہیں آئے گا جو تمام زندگی کو ہلاک کر دے۔ =^M=g  اُس نے کہا، ”کنعان پر لعنت! وہ اپنے بھائیوں کا ذلیل ترین غلام ہو گا۔f  جب نوح ہوش میں آیا تو اُس کو پتا چلا کہ سب سے چھوٹے بیٹے نے کیا کِیا ہے۔Me  یہ سن کر سِم اور یافت نے اپنے کندھوں پر کپڑا رکھا۔ پھر وہ اُلٹے چلتے ہوئے ڈیرے میں داخل ہوئے اور کپڑا اپنے باپ پر ڈال دیا۔ اُن کے منہ دوسری طرف مُڑے رہے تاکہ باپ کی برہنگی نظر نہ آئے۔ = تُو نے کیوں کہا کہ وہ میری بہن ہے؟ اِس دھوکے کی بنا پر مَیں نے اُسے گھر میں رکھ لیا تاکہ اُس سے شادی کروں۔ دیکھ، تیری بیوی حاضرہے۔ اِسے لے کر یہاں سے نکل جا!“Y= / آخرکار فرعون نے ابرام کو بُلا کر کہا، ”تُو نے میرے ساتھ کیا کِیا؟ تُو نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ سارئی تیری بیوی ہے؟< + لیکن رب نے سارئی کے سبب سے فرعون اور اُس کے گھرانے میں سخت قسم کے امراض پھیلائے۔M;  فرعون نے سارئی کی خاطر ابرام پر احسان کر کے اُسے بھیڑبکریاں، گائےبَیل، گدھے گدھیاں، نوکر چاکر اور اونٹ دیئے۔ HB 1 وہاں سے جگہ بہ جگہ چلتے ہوئے وہ آخرکار بیت ایل سے ہو کر اُس مقام تک پہنچ گیا جہاں اُس نے شروع میں اپنا ڈیرا لگایا تھا اور جو بیت ایل اور عَی کے درمیان تھا۔A  ابرام نہایت دولت مند ہو گیا تھا۔ اُس کے پاس بہت سے مویشی اور سونا چاندی تھی۔N@   ابرام اپنی بیوی، لوط اور تمام جائیداد کو ساتھ لے کر مصر سے نکلا اور کنعان کے جنوبی علاقے دشتِ نجب میں واپس آیا۔b? A پھر فرعون نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا، اور اُنہوں نے ابرام، اُس کی بیوی اور پوری ملکیت کو رُخصت کر کے ملک سے روانہ کر دیا۔ gn0sgG  تب ابرام نے لوط سے بات کی، ”ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ تیرے اور میرے درمیان جھگڑا ہو یا تیرے چرواہوں اور میرے چرواہوں کے درمیان۔ ہم تو بھائی ہیں۔9F o ابرام اور لوط کے چرواہے آپس میں جھگڑنے لگے۔ (اُس زمانے میں کنعانی اور فرِزّی بھی ملک میں آباد تھے۔)IE  نتیجہ یہ نکلا کہ آخرکار وہ مل کر نہ رہ سکے، کیونکہ اِتنی جگہ نہیں تھی کہ دونوں کے ریوڑ ایک ہی جگہ پر چر سکیں۔nD Y لوط کے پاس بھی بہت سی بھیڑبکریاں، گائےبَیل اور خیمے تھے۔C  وہاں جہاں اُس نے قربان گاہ بنائی تھی اُس نے رب کا نام لے کر اُس کی عبادت کی۔ LXJ - چنانچہ لوط نے دریائے یردن کے پورے علاقے کو چن لیا اور مشرق کی طرف جا بسا۔ یوں دونوں رشتے دار ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔PI  لوط نے اپنی نظر اُٹھا کر دیکھا کہ دریائے یردن کے پورے علاقے میں ضُغر تک پانی کی کثرت ہے۔ وہ رب کے باغ یا ملکِ مصر کی مانند تھا، کیونکہ اُس وقت رب نے سدوم اور عمورہ کو تباہ نہیں کیا تھا۔0H ] کیا ضرورت ہے کہ ہم مل کر رہیں جبکہ تُو آسانی سے اِس ملک کی کسی اَور جگہ رہ سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ تُو مجھ سے الگ ہو کر کہیں اَور رہے۔ اگر تُو بائیں ہاتھ جائے تو مَیں دائیں ہاتھ جاؤں گا، اور اگر تُو دائیں ہاتھ جائے تو مَیں بائیں ہاتھ جاؤں گا۔“ |kO S مَیں تیری اولاد کو خاک کی طرح بےشمار ہونے دوں گا۔ جس طرح خاک کے ذرے گنے نہیں جا سکتے اُسی طرح تیری اولاد بھی گنی نہیں جا سکے گی۔N + جو بھی زمین تجھے نظر آئے اُسے مَیں تجھے اور تیری اولاد کو ہمیشہ کے لئے دیتا ہوں۔XM - لوط ابرام سے جدا ہوا تو رب نے ابرام سے کہا، ”اپنی نظر اُٹھا کر چاروں طرف یعنی شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کی طرف دیکھ۔L ) لیکن سدوم کے باشندے نہایت شریر تھے، اور اُن کے رب کے خلاف گناہ نہایت مکروہ تھے۔fK I ابرام ملکِ کنعان میں رہا جبکہ لوط یردن کے علاقے کے شہروں کے درمیان آباد ہو گیا۔ وہاں اُس نے اپنے خیمے سدوم کے قریب لگا دیئے۔ 7pw7\S 5کنعان کے بادشاہ یہ تھے: سدوم سے بِرَع، عمورہ سے بِرشَع، ادمہ سے سِنیاب، ضبوئیم سے شِمیبر اور بالع یعنی ضُغرکا بادشاہ۔\R  7کنعان میں جنگ ہوئی۔ بیرونِ ملک کے چار بادشاہوں نے کنعان کے پانچ بادشاہوں سے جنگ کی۔ بیرونِ ملک کے بادشاہ یہ تھے: سِنعار سے امرا فِل، اِلاسر سے اریوک، عیلام سے کدرلاعُمر اور جوئیم سے تِدعال۔uQ g ابرام روانہ ہوا۔ چلتے چلتے اُس نے اپنے ڈیرے حبرون کے قریب ممرے کے درختوں کے پاس لگائے۔ وہاں اُس نے رب کی تعظیم میں قربان گاہ بنائی۔ P  چنانچہ اُٹھ کر اِس ملک کی ہر جگہ چل پھر، کیونکہ مَیں اِسے تجھے دیتا ہوں۔“ a_*aEW اور حوریوں کو اُن کے پہاڑی علاقے سعیر میں شکست دی۔ یوں وہ ایل فاران تک پہنچ گئے جو ریگستان کے کنارے پر ہے۔1V _اب ایک سال کے بعد کدرلاعُمر اور اُس کے اتحادی اپنی فوجوں کے ساتھ آئے۔ پہلے اُنہوں نے عَستارات قرنیم میں رفائیوں کو، ہام میں زُوزیوں کو، سَوی قِریَتائم میں ایمیوں کوU 3کدرلاعُمر نے بارہ سال تک اُن پر حکومت کی تھی، لیکن تیرھویں سال وہ باغی ہو گئے تھے۔~T yکنعان کے اِن پانچ بادشاہوں کا اتحاد ہوا تھا اور وہ سِدّ یم میں جمع ہوئے تھے۔ (اب سِدّ یم نہیں ہے، کیونکہ اُس کی جگہ بحیرۂ مُردار آ گیا ہے)۔ !Z  اِن پانچ بادشاہوں نے عیلام کے بادشاہ کدرلاعُمر، جوئیم کے بادشاہ تِدعال، سِنعار کے بادشاہ امرافِل اور اِلاسر کے بادشاہ اریوک کا مقابلہ کیا۔NY اُس وقت سدوم، عمورہ، ادمہ، ضبوئیم اور بالع یعنی ضُغر کے بادشاہ اُن سے لڑنے کے لئے سِدّیم کی وادی میں جمع ہوئے۔ X پھر وہ واپس آئے اور عین مِصفات یعنی قادس پہنچے۔ اُنہوں نے عمالیقیوں کے پورے علاقے کو تباہ کر دیا اور حصصون تمر میں آباد اموریوں کو بھی شکست دی۔ K *4=GQ[eoy",6@JT^hr|%/9CMWaku   =   >   ?   @   A   B   C   D   E   F   =   >   ?   @   A   B   C   D   E   F   G   H   I   J   K   L   M   N   O   P   Q  R  S  T  U  V  W  X  Y   Z   [   \   ]   ^  _  `  a  b  c  d  e  f  g  h  i  j  k  l  m  n  o  p  q   r   s   t   u   v  w  x  y  z  {  |  }  ~                    LL5] g ابرام کا بھتیجا لوط سدوم میں رہتا تھا، اِس لئے وہ اُسے بھی اُس کی ملکیت سمیت چھین کر ساتھ لے گئے۔*\ Q فتح مند بادشاہ سدوم اور عمورہ کا تمام مال تمام کھانے والی چیزوں سمیت لُوٹ کر واپس چل دیئے۔I[  اِس وادی میں تارکول کے متعدد گڑھے تھے۔ جب باغی بادشاہ شکست کھا کر بھاگنے لگے تو سدوم اور عمورہ کے بادشاہ اِن گڑھوں میں گر گئے جبکہ باقی تین بادشاہ بچ کر پہاڑی علاقے میں فرار ہوئے۔ &U&+` Sوہاں اُس نے اپنے بندوں کو گروہوں میں تقسیم کر کے رات کے وقت دشمن پر حملہ کیا۔ دشمن شکست کھا کر بھاگ گیا اور ابرام نے دمشق کے شمال میں واقع خوبہ تک اُس کا تعاقب کیا۔;_ sجب ابرام کو پتا چلا کہ بھتیجے کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو اُس نے اپنے گھر میں پیدا ہوئے تمام جنگ آزمودہ غلاموں کو جمع کر کے دان تک دشمن کا تعاقب کیا۔ اُس کے ساتھ 318 افراد تھے۔h^ M لیکن ایک آدمی نے جو بچ نکلا تھا عبرانی مرد ابرام کے پاس آ کر اُسے سب کچھ بتا دیا۔ اُس وقت وہ ممرے کے درختوں کے پاس آباد تھا۔ ممرے اموری تھا۔ وہ اور اُس کے بھائی اِسکال اور عانیر ابرام کے اتحادی تھے۔ x,*x.d Yاُس نے ابرام کو برکت دے کر کہا، ”ابرام پر اللہ تعالیٰ کی برکت ہو، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔Lc سالم کا بادشاہ مَلِک صدق بھی وہاں پہنچا۔ وہ اپنے ساتھ روٹی اور مَے لے آیا۔ مَلِک صدق اللہ تعالیٰ کا امام تھا۔.b Yجب ابرام کدرلاعُمر اور اُس کے اتحادیوں پر فتح پانے کے بعد واپس پہنچا تو سدوم کا بادشاہ اُس سے ملنے کے لئےوادیِ سَوی میں آیا۔ (اِسے آج کل بادشاہ کی وادی کہا جاتا ہے۔)Pa وہ اُن سے لُوٹا ہوا تمام مال واپس لے آیا۔ لوط، اُس کی جائیداد، عورتیں اور باقی قیدی بھی دشمن کے قبضے سے بچ نکلے۔ 2h 1کہ مَیں اُس میں سے کچھ نہیں لوں گا جو آپ کا ہے، چاہے وہ دھاگا یا جوتی کا تسمہ ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کہیں، ’مَیں نے ابرام کو دولت مند بنا دیا ہے۔‘5g gلیکن ابرام نے اُس سے کہا، ”مَیں نے رب سے قَسم کھائی ہے، اللہ تعالیٰ سے جو آسمان و زمین کا خالق ہے/f [سدوم کے بادشاہ نے ابرام سے کہا، ”مجھے میرے لوگ واپس کر دیں اور باقی چیزیں اپنے پاس رکھ لیں۔“Je اللہ تعالیٰ مبارک ہو جس نے تیرے دشمنوں کو تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے۔“ ابرام نے اُسے تمام مال کا دسواں حصہ دیا۔ w wl تُو نے مجھے اولاد نہیں بخشی، اِس لئے میرے گھرانے کا نوکر میرا وارث ہو گا۔“k لیکن ابرام نے اعتراض کیا، ”اے رب قادرِ مطلق، تُو مجھے کیا دے گا جبکہ ابھی تک میرے ہاں کوئی بچہ نہیں ہے اور اِلی عزر دمشقی میری میراث پائے گا۔Pj  اِس کے بعد رب رویا میں ابرام سے ہم کلام ہوا، ”ابرام، مت ڈر۔ مَیں ہی تیری سپر ہوں، مَیں ہی تیرا بہت بڑا اجر ہوں۔“i )سوائے اُس کھانے کے جو میرے آدمیوں نے راستے میں کھایا ہے مَیں کچھ قبول نہیں کروں گا۔ لیکن میرے اتحادی عانیر، اِسکال اور ممرے ضرور اپنا اپنا حصہ لیں۔“ R GRq 3ابرام نے پوچھا، ”اے رب قادرِ مطلق، مَیں کس طرح جانوں کہ اِس ملک پر قبضہ کروں گا؟“Ip پھر رب نے اُس سے کہا، ”مَیں رب ہوں جو تجھے کسدیوں کے اُور سے یہاں لے آیا تاکہ تجھے یہ ملک میراث میں دے دوں۔“o ابرام نے رب پر بھروسا رکھا۔ اِس بنا پر اللہ نے اُسے راست باز قرار دیا۔Un 'رب نے اُسے باہر لے جا کر کہا، ”آسمان کی طرف دیکھ اور ستاروں کو گننے کی کوشش کر۔ تیری اولاد اِتنی ہی بےشمار ہو گی۔“\m 5تب ابرام کو اللہ سے ایک اَور کلام ملا۔ ”یہ آدمی اِلی عزر تیرا وارث نہیں ہو گا بلکہ تیرا اپنا ہی بیٹا تیرا وارث ہو گا۔“ |1u _ جب سورج ڈوبنے لگا تو ابرام پر گہری نیند طاری ہوئی۔ اُس پر دہشت اور اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا۔vt i شکاری پرندے اُن پر اُترنے لگے، لیکن ابرام اُنہیں بھگاتا رہا۔s } ابرام نے ایسا ہی کیا اور پھر ہر ایک جانور کو دو حصوں میں کاٹ کر اُن کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے رکھ دیا۔ لیکن پرندوں کو اُس نے سالم رہنے دیا۔r  جواب میں رب نے کہا، ”میرے حضور ایک تین سالہ گائے، ایک تین سالہ بکری اور ایک تین سالہ مینڈھا لے آ۔ ایک قمری اور ایک کبوتر کا بچہ بھی لے آنا۔“ TT6x iتُو خود عمر رسیدہ ہو کر سلامتی کے ساتھ انتقال کر کے اپنے باپ دادا سے جا ملے گا اور دفنایا جائے گا۔Ow لیکن مَیں اُس قوم کی عدالت کروں گا جس نے اُسے غلام بنایا ہو گا۔ اِس کے بعد وہ بڑی دولت پا کر اُس ملک سے نکلیں گے۔v 3 پھر رب نے اُس سے کہا، ”جان لے کہ تیری اولاد ایسے ملک میں رہے گی جو اُس کا نہیں ہو گا۔ وہاں وہ اجنبی اور غلام ہو گی، اور اُس پر 400 سال تک بہت ظلم کیا جائے گا۔ MM/} ]حِتّی، فرِزّی، رفائی،W| +اگرچہ ابھی تک اِس میں قینی، قنِزّی، قدمونی،F{  اُس وقت رب نے ابرام کے ساتھ عہد کیا۔ اُس نے کہا، ”مَیں یہ ملکِ مصر کی سرحد سے فرات تک تیری اولاد کو دوں گا،|z uسورج غروب ہوا۔ اندھیرا چھا گیا۔ اچانک ایک دھواں دار تنور اور ایک بھڑکتی ہوئی مشعل نظر آئی اور جانوروں کے دو دو ٹکڑوں کے بیچ میں سے گزرے۔Yy /تیری اولاد کی چوتھی پشت غیروطن سے واپس آئے گی، کیونکہ اُس وقت تک مَیں اموریوں کو برداشت کروں گا۔ لیکن آخرکار اُن کے گناہ اِتنے سنگین ہو جائیں گے کہ مَیں اُنہیں ملکِ کنعان سے نکال دوں گا۔“ e~e 'چنانچہ سارئی نے اپنی مصری لونڈی ہاجرہ کو اپنے شوہر ابرام کو دے دیا تاکہ وہ اُس کی بیوی بن جائے۔ اُس وقت ابرام کو کنعان میں بستے ہوئے دس سال ہو گئے تھے۔Q اور ایک دن سارئی نے ابرام سے کہا، ”رب نے مجھے بچے پیدا کرنے سے محروم رکھا ہے، اِس لئے میری لونڈی کے ساتھ ہم بستر ہوں۔ شاید مجھے اُس کی معرفت بچہ مل جائے۔“ ابرام نے سارئی کی بات مان لی۔M  اب تک ابرام کی بیوی سارئی کے کوئی بچہ نہیں ہوا تھا۔ لیکن اُنہوں نے ایک مصری لونڈی رکھی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا،Y~ /اموری، کنعانی، جرجاسی اور یبوسی آباد ہیں۔“ Z1ZB ابرام نے جواب دیا، ”دیکھو، یہ تمہاری لونڈی ہے اور تمہارے اختیار میں ہے۔ جو تمہارا جی چاہے اُس کے ساتھ کرو۔“ اِس پر سارئی اُس سے اِتنا بُرا سلوک کرنے لگی کہ ہاجرہ فرار ہو گئی۔  تب سارئی نے ابرام سے کہا، ”جو ظلم مجھ پر کیا جا رہا ہے وہ آپ ہی پر آئے۔ مَیں نے خود اِسے آپ کے بازوؤں میں دے دیا تھا۔ اب جب اِسے معلوم ہوا ہے کہ اُمید سے ہے تو مجھے حقیر جاننے لگی ہے۔ رب میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ کرے۔“K ابرام ہاجرہ سے ہم بستر ہوا تو وہ اُمید سے ہو گئی۔ جب ہاجرہ کو یہ معلوم ہوا تو وہ اپنی مالکن کو حقیر جاننے لگی۔ HogZH   رب کے فرشتے نے مزید کہا، ”تُو اُمید سے ہے۔ ایک بیٹا پیدا ہو گا۔ اُس کا نام اسمٰعیل یعنی ’اللہ سنتا ہے‘ رکھ، کیونکہ رب نے مصیبت میں تیری آواز سنی۔u g مَیں تیری اولاد اِتنی بڑھاؤں گا کہ اُسے گنا نہیں جا سکے گا۔“  رب کے فرشتے نے اُس سے کہا، ”اپنی مالکن کے پاس واپس چلی جا اور اُس کے تابع رہ۔ اُس نے کہا، ”سارئی کی لونڈی ہاجرہ، تُو کہاں سے آ رہی ہے اور کہاں جا رہی ہے؟“ ہاجرہ نے جواب دیا، ”مَیں اپنی مالکن سارئی سے فرار ہو رہی ہوں۔“  رب کے فرشتے کو ہاجرہ ریگستان کے اُس چشمے کے قریب ملی جو شور کے راستے پر ہے۔ ~  yاِس لئے اُس جگہ کے کنوئیں کا نام بیر لحی روئی یعنی ’اُس زندہ ہستی کا کنواں جو مجھے دیکھتا ہے‘ پڑ گیا۔ وہ قادس اور بِرد کے درمیان واقع ہے۔a  ? رب کے اُس کے ساتھ بات کرنے کے بعد ہاجرہ نے اُس کا نام ’اتا ایل روئی‘ یعنی ’تُو ایک معبود ہے جو مجھے دیکھتا ہے‘ رکھا۔ اُس نے کہا، ”کیا مَیں نے واقعی اُس کے پیچھے دیکھا ہے جس نے مجھے دیکھا ہے؟“    وہ جنگلی گدھے کی مانند ہو گا۔ اُس کا ہاتھ ہر ایک کے خلاف اور ہر ایک کا ہاتھ اُس کے خلاف ہو گا۔ توبھی وہ اپنے تمام بھائیوں کے سامنے آباد رہے گا۔“ m1Uag K”میرا تیرے ساتھ عہد ہے کہ تُو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔[ 3ابرام منہ کے بل گر گیا، اور اللہ نے اُس سے کہا، !مَیں تیرے ساتھ اپنا عہد باندھوں گا اور تیری اولاد بہت ہی زیادہ بڑھا دوں گا۔“X  /جب ابرام 99 سال کا تھا تو رب اُس پر ظاہر ہوا۔ اُس نے کہا، ”مَیں اللہ قادرِ مطلق ہوں۔ میرے حضور چلتا رہ اور بےالزام ہو۔9 qاُس وقت ابرام 86 سال کا تھا۔   ہاجرہ واپس گئی، اور اُس کے بیٹا پیدا ہوا۔ ابرام نے اُس کا نام اسمٰعیل رکھا۔ !6A! 5تُو اِس وقت ملکِ کنعان میں پردیسی ہے، لیکن مَیں اِس پورے ملک کو تجھے اور تیری اولاد کو دیتا ہوں۔ یہ ہمیشہ تک اُن کا ہی رہے گا، اور مَیں اُن کا خدا ہوں گا۔“q _مَیں اپنا عہد تیرے اور تیری اولاد کے ساتھ نسل در نسل قائم کروں گا، ایک ابدی عہد جس کے مطابق مَیں تیرا اور تیری اولاد کا خدا ہوں گا۔- Wمَیں تجھے بہت ہی زیادہ اولاد بخش دوں گا، اِتنی کہ قومیں بنیں گی۔ تجھ سے بادشاہ بھی نکلیں گے۔ 'اب سے تُو ابرام یعنی ’عظیم باپ‘ نہیں کہلائے گا بلکہ تیرا نام ابراہیم یعنی ’بہت قوموں کا باپ‘ ہو گا۔ کیونکہ مَیں نے تجھے بہت قوموں کا باپ بنا دیا ہے۔ Do  لازم ہے کہ تُو اور تیری اولاد نسل در نسل اپنے ہر ایک بیٹے کا آٹھویں دن ختنہ کروائیں۔ یہ اصول اُس پر بھی لاگو ہے جو تیرے گھر میں رہتا ہے لیکن تجھ سے رشتہ نہیں رکھتا، چاہے وہ گھر میں پیدا ہوا ہو یا کسی اجنبی سے خریدا گیا ہو۔l U اپنا ختنہ کراؤ۔ یہ ہمارے آپس کے عہد کا ظاہری نشان ہو گا۔c C اِس کی ایک شرط یہ ہے کہ ہر ایک مرد کا ختنہ کیا جائے۔8 m اللہ نے ابراہیم سے یہ بھی کہا، ”تجھے اور تیری اولاد کو نسل در نسل میرے عہد کی شرائط پوری کرنی ہیں۔ | uمَیں اُسے برکت بخشوں گا اور تجھے اُس کی معرفت بیٹا دوں گا۔ مَیں اُسے یہاں تک برکت دوں گا کہ اُس سے قومیں بلکہ قوموں کے بادشاہ نکلیں گے۔“h Mاللہ نے ابراہیم سے یہ بھی کہا، ”اپنی بیوی سارئی کا نام بھی بدل دینا۔ اب سے اُس کا نام سارئی نہیں بلکہ سارہ یعنی شہزادی ہو گا۔J جس مرد کا ختنہ نہ کیا گیا اُسے اُس کی قوم میں سے مٹایا جائے گا، کیونکہ اُس نے میرے عہد کی شرائط پوری نہ کیں۔“, U گھر کے ہر ایک مرد کا ختنہ کرنا لازم ہے، خواہ وہ گھر میں پیدا ہوا ہو یا کسی اجنبی سے خریدا گیا ہو۔ یہ اِس بات کا نشان ہو گا کہ میرا تیرے ساتھ عہد ہمیشہ تک قائم رہے گا۔ N.! Yاللہ نے کہا، ”نہیں، تیری بیوی سارہ کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا۔ تُو اُس کا نام اسحاق یعنی ’وہ ہنستا ہے‘ رکھنا۔ مَیں اُس کے اور اُس کی اولاد کے ساتھ ابدی عہد باندھوں گا۔s  cاُس نے اللہ سے کہا، ”ہاں، اسمٰعیل ہی تیرے سامنے جیتا رہے۔“. Yابراہیم منہ کے بل گر گیا۔ لیکن دل ہی دل میں وہ ہنس پڑا اور سوچا، ”یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ مَیں تو 100 سال کا ہوں۔ ایسے آدمی کے ہاں بچہ کس طرح پیدا ہو سکتا ہے؟ اور سارہ جیسی عمر رسیدہ عورت کے بچہ کس طرح پیدا ہو سکتا ہے؟ اُس کی عمر تو 90 سال ہے۔“ BqB$ اللہ کی ابراہیم کے ساتھ بات ختم ہوئی، اور وہ اُس کے پاس سے آسمان پر چلا گیا۔# -لیکن میرا عہد اسحاق کے ساتھ ہو گا، جو عین ایک سال کے بعد سارہ کے ہاں پیدا ہو گا۔“ " مَیں اسمٰعیل کے سلسلے میں بھی تیری درخواست پوری کروں گا۔ مَیں اُسے بھی برکت دے کر پھلنے پھولنے دوں گا اور اُس کی اولاد بہت ہی زیادہ بڑھا دوں گا۔ وہ بارہ رئیسوں کا باپ ہو گا، اور مَیں اُس کی معرفت ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ J)3=GQ[dnx",6@JT^hq{%/9CMWaku                                                                                                                                                                           !                 UYU&) Iساتھ ساتھ گھرانے کے تمام باقی مردوں کا ختنہ بھی ہوا، بشمول اُن کے جن کا ابراہیم کے ساتھ رشتہ نہیں تھا، چاہے وہ گھر میں پیدا ہوئے یا کسی اجنبی سے خریدے گئے تھے۔ 6( kدونوں کا ختنہ اُسی دن ہوا۔L' جبکہ اُس کا بیٹا اسمٰعیل 13 سال کا تھا۔O& ابراہیم 99 سال کا تھا جب اُس کا ختنہ ہوا،#% Cاُسی دن ابراہیم نے اللہ کا حکم پورا کیا۔ اُس نے گھر کے ہر ایک مرد کا ختنہ کروایا، اپنے بیٹے اسمٰعیل کا بھی اور اُن کا بھی جو اُس کے گھر میں رہتے لیکن اُس سے رشتہ نہیں رکھتے تھے، چاہے وہ اُس کے گھر میں پیدا ہوئے تھے یا خریدے گئے تھے۔ ",b+- Sاگر اجازت ہو تو مَیں کچھ پانی لے آؤں تاکہ آپ اپنے پاؤں دھو کر درخت کے سائے میں آرام کر سکیں۔F,  اُس نے کہا، ”میرے آقا، اگر مجھ پر آپ کے کرم کی نظر ہے تو آگے نہ بڑھیں بلکہ کچھ دیر اپنے بندے کے گھر ٹھہریں۔r+ aاچانک اُس نے دیکھا کہ تین مرد میرے سامنے کھڑے ہیں۔ اُنہیں دیکھتے ہی وہ خیمے سے اُن سے ملنے کے لئے دوڑا اور منہ کے بل گر کر سجدہ کیا۔Z*  3ایک دن رب ممرے کے درختوں کے پاس ابراہیم پر ظاہر ہوا۔ ابراہیم اپنے خیمے کے دروازے پر بیٹھا تھا۔ دن کی گرمی عروج پر تھی۔ 0 -پھر وہ بھاگ کر بَیلوں کے پاس پہنچا۔ اُن میں سے اُس نے ایک موٹا تازہ بچھڑا چن لیا جس کا گوشت نرم تھا اور اُسے اپنے نوکر کو دیا جس نے جلدی سے اُسے تیار کیا۔^/ 9ابراہیم خیمے کی طرف دوڑ کر سارہ کے پاس آیا اور کہا، ”جلدی کرو! 16 کلو گرام بہترین میدہ لے اور اُسے گوندھ کر روٹیاں بنا۔“f. Iساتھ ساتھ مَیں آپ کے لئے تھوڑا بہت کھانا بھی لے آؤں تاکہ آپ تقویت پا کر آگے بڑھ سکیں۔ مجھے یہ کرنے دیں، کیونکہ آپ اپنے خادم کے گھر آ گئے ہیں۔“ اُنہوں نے کہا، ”ٹھیک ہے۔ جو کچھ تُو نے کہا ہے وہ کر۔“ iK'i:4 q دونوں میاں بیوی بوڑھے ہو چکے تھے اور سارہ اُس عمر سے گزر چکی تھی جس میں عورتوں کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ 3 = رب نے کہا، ”عین ایک سال کے بعد مَیں واپس آؤں گا تو تیری بیوی سارہ کے بیٹا ہو گا۔“ سارہ یہ باتیں سن رہی تھی، کیونکہ وہ اُس کے پیچھے خیمے کے دروازے کے پاس تھی۔ 2  اُنہوں نے پوچھا، ”تیری بیوی سارہ کہاں ہے؟“ اُس نے جواب دیا، ”خیمے میں۔“ 1 =جب کھانا تیار تھا تو ابراہیم نے اُسے لے کر لسی اور دودھ کے ساتھ اپنے مہمانوں کے آگے رکھ دیا۔ وہ کھانے لگے اور ابراہیم اُن کے سامنے درخت کے سائے میں کھڑا رہا۔ M8 سارہ ڈر گئی۔ اُس نے جھوٹ بول کر انکار کیا، ”مَیں نہیں ہنس رہی تھی۔“ رب نے کہا، ”نہیں، تُو ضرور ہنس رہی تھی۔“=7 wکیا رب کے لئے کوئی کام ناممکن ہے؟ ایک سال کے بعد مقررہ وقت پر مَیں واپس آؤں گا تو سارہ کے بیٹا ہو گا۔“y6 o رب نے ابراہیم سے پوچھا، ”سارہ کیوں ہنس رہی ہے؟ وہ کیوں کہہ رہی ہے، ’کیا واقعی میرے ہاں بچہ پیدا ہو گا جبکہ مَیں اِتنی عمر رسیدہ ہوں؟‘O5  اِس لئے سارہ اندر ہی اندر ہنس پڑی اور سوچا، ”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا جب مَیں بُڑھاپے کے باعث گھسے پھٹے لباس کی مانند ہوں تو جوانی کے جوبن کا لطف اُٹھاؤں؟ اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہے۔“ EdEi< Oاُسی کو مَیں نے چن لیا ہے تاکہ وہ اپنی اولاد اور اپنے بعد کے گھرانے کو حکم دے کہ وہ رب کی راہ پر چل کر راست اور منصفانہ کام کریں۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کریں تو رب ابراہیم کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔“.; Yاِسی سے تو ایک بڑی اور طاقت ور قوم نکلے گی اور اِسی سے مَیں دنیا کی تمام قوموں کو برکت دوں گا۔+: Sرب نے دل میں کہا، ”مَیں ابراہیم سے وہ کام کیوں چھپائے رکھوں جو مَیں کرنے کے لئے جا رہا ہوں؟i9 Oپھر مہمان اُٹھ کر روانہ ہوئے اور نیچے وادی میں سدوم کی طرف دیکھنے لگے۔ ابراہیم اُنہیں رُخصت کرنے کے لئے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ M+@ Sپھر اُس نے قریب آ کر اُس سے بات کی، ”کیا تُو راست بازوں کو بھی شریروں کے ساتھ تباہ کر دے گا؟G?  دوسرے دو آدمی سدوم کی طرف آگے نکلے جبکہ رب کچھ دیر کے لئے وہاں ٹھہرا رہا اور ابراہیم اُس کے سامنے کھڑا رہا۔~> yمَیں اُتر کر اُن کے پاس جا رہا ہوں تاکہ دیکھوں کہ یہ الزام واقعی سچ ہیں جو مجھ تک پہنچے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو مَیں یہ جاننا چاہتا ہوں۔“b= Aپھر رب نے کہا، ”سدوم اور عمورہ کی بدی کے باعث لوگوں کی آہیں بلند ہو رہی ہیں، کیونکہ اُن سے بہت سنگین گناہ سرزد ہو رہے ہیں۔ ^&-^KD ابراہیم نے کہا، ”مَیں معافی چاہتا ہوں کہ مَیں نے رب سے بات کرنے کی جرٲت کی ہے اگرچہ مَیں خاک اور راکھ ہی ہوں۔1C _رب نے جواب دیا، ”اگر مجھے شہر میں 50 راست باز مل جائیں تو اُن کے سبب سے تمام کو معاف کر دوں گا۔“@B }یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تُو بےقصوروں کو شریروں کے ساتھ ہلاک کر دے؟ یہ تو ناممکن ہے کہ تُو نیک اور شریر لوگوں سے ایک جیسا سلوک کرے۔ کیا لازم نہیں کہ پوری دنیا کا منصف انصاف کرے؟“VA )ہو سکتا ہے کہ شہر میں 50 راست باز ہوں۔ کیا تُو پھر بھی شہر کو برباد کر دے گا اور اُسے اُن 50 کے سبب سے معاف نہیں کرے گا؟ vG iابراہیم نے کہا، ”رب غصہ نہ کرے کہ مَیں ایک دفعہ اَور بات کروں۔ شاید وہاں صرف 30 ہوں۔“ اُس نے جواب دیا، ”پھر بھی اُنہیں چھوڑ دوں گا۔“ZF 1ابراہیم نے اپنی بات جاری رکھی، ”اور اگر صرف 40 نیک لوگ ہوں تو؟“ رب نے کہا، ”مَیں اُن 40 کے سبب سے اُنہیں چھوڑ دوں گا۔“SE #لیکن ہو سکتا ہے کہ صرف 45 راست باز اُس میں ہوں۔ کیا تُو پھر بھی اُن پانچ لوگوں کی کمی کے سبب سے پورے شہر کو تباہ کرے گا؟“ اُس نے کہا، ”اگر مجھے 45 بھی مل جائیں تو اُسے برباد نہیں کروں گا۔“ |uJ g!اِن باتوں کے بعد رب چلا گیا اور ابراہیم اپنے گھر کو لوٹ آیا۔ LI  ابراہیم نے ایک آخری دفعہ بات کی، ”رب غصہ نہ کرے اگر مَیں ایک اَور بار بات کروں۔ شاید اُس میں صرف 10 پائے جائیں۔“ رب نے کہا، ”مَیں اُسے اُن 10 لوگوں کے سبب سے بھی برباد نہیں کروں گا۔“0H ]ابراہیم نے کہا، ”مَیں معافی چاہتا ہوں کہ مَیں نے رب سے بات کرنے کی جرٲت کی ہے۔ اگر صرف 20 پائے جائیں؟“ رب نے کہا، ”مَیں 20 کے سبب سے شہر کو برباد کرنے سے باز رہوں گا۔“ `` M =لیکن لوط نے اُنہیں بہت مجبور کیا، اور آخرکار وہ اُس کے ساتھ اُس کے گھر آئے۔ اُس نے اُن کے لئے کھانا پکایا اور بےخمیری روٹی بنائی۔ پھر اُنہوں نے کھانا کھایا۔fL Iاُس نے کہا، ”صاحبو، اپنے بندے کے گھر تشریف لائیں تاکہ اپنے پاؤں دھو کر رات کو ٹھہریں اور پھر کل صبح سویرے اُٹھ کر اپنا سفر جاری رکھیں۔“ اُنہوں نے کہا، ”کوئی بات نہیں، ہم چوک میں رات گزاریں گے۔“K  شام کے وقت یہ دو فرشتے سدوم پہنچے۔ لوط شہر کے دروازے پر بیٹھا تھا۔ جب اُس نے اُنہیں دیکھا تو کھڑے ہو کر اُن سے ملنے گیا اور منہ کے بل گر کر سجدہ کیا۔ +7@X+)R Oدیکھو، میری دو کنواری بیٹیاں ہیں۔ اُنہیں مَیں تمہارے پاس باہر لے آتا ہوں۔ پھر جو جی چاہے اُن کے ساتھ کرو۔ لیکن اِن آدمیوں کو چھوڑ دو، کیونکہ وہ میرے مہمان ہیں۔“mQ Wاور کہا، ”میرے بھائیو، ایسا مت کرو، ایسی بدکاری نہ کرو۔uP gلوط اُن سے ملنے باہر گیا۔ اُس نے اپنے پیچھے دروازہ بند کر لیاsO cاُنہوں نے آواز دے کر لوط سے کہا، ”وہ آدمی کہاں ہیں جو رات کے وقت تیرے پاس آئے؟ اُن کو باہر لے آ تاکہ ہم اُن کے ساتھ حرام کاری کریں۔“EN وہ ابھی سونے کے لئے لیٹے نہیں تھے کہ شہر کے جوانوں سے لے کر بوڑھوں تک تمام مردوں نے لوط کے گھر کو گھیر لیا۔ mQU  اُنہوں نے چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک باہر کے تمام آدمیوں کو اندھا کر دیا، اور وہ دروازے کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے۔T ; لیکن عین وقت پر اندر کے آدمی لوط کو پکڑ کر اندر لے آئے، پھر دروازہ دوبارہ بند کر دیا۔S  اُنہوں نے کہا، ”راستے سے ہٹ جا! دیکھو، یہ شخص جب ہمارے پاس آیا تھا تو اجنبی تھا، اور اب یہ ہم پر حاکم بننا چاہتا ہے۔ اب تیرے ساتھ اُن سے زیادہ بُرا سلوک کریں گے۔“ وہ اُسے مجبور کرتے کرتے دروازے کو توڑنے کے لئے آگے بڑھے۔ ==}X wلوط گھر سے نکلا اور اپنے دامادوں سے بات کی جن کا اُس کی بیٹیوں کے ساتھ رشتہ ہو چکا تھا۔ اُس نے کہا، ”جلدی کرو، اِس جگہ سے نکلو، کیونکہ رب اِس شہر کو تباہ کرنے کو ہے۔“ لیکن اُس کے دامادوں نے اِسے مذاق ہی سمجھا۔6W i کیونکہ ہم یہ مقام تباہ کرنے کو ہیں۔ اِس کے باشندوں کی بدی کے باعث لوگوں کی آہیں بلند ہو کر رب کے حضور پہنچ گئی ہیں، اِس لئے اُس نے ہمیں اِس کو تباہ کرنے کے لئے بھیجا ہے۔“V  دونوں آدمیوں نے لوط سے کہا، ”کیا تیرا کوئی اَور رشتے دار اِس شہر میں رہتا ہے، مثلاً کوئی داماد یا بیٹا بیٹی؟ سب کو ساتھ لے کر یہاں سے چلا جا، VVI[ جوں ہی وہ اُنہیں باہر لے آئے اُن میں سے ایک نے کہا، ”اپنی جان بچا کر چلا جا۔ پیچھے مُڑ کر نہ دیکھنا۔ میدان میں کہیں نہ ٹھہرنا بلکہ پہاڑوں میں پناہ لینا، ورنہ تُو ہلاک ہو جائے گا۔“ Z توبھی وہ جھجکتا رہا۔ آخرکار دونوں نے لوط، اُس کی بیوی اور بیٹیوں کے ہاتھ پکڑ کر اُنہیں شہر کے باہر تک پہنچا دیا، کیونکہ رب کو لوط پر ترس آتا تھا۔JY جب پَو پھٹنے لگی تو دونوں آدمیوں نے لوط کو بہت سمجھایا اور کہا، ”جلدی کر! اپنی بیوی اور دونوں بیٹیوں کو ساتھ لے کر چلا جا، ورنہ جب شہر کو سزا دی جائے گی تو تُو بھی ہلاک ہو جائے گا۔“ YY'_ Kاُس نے کہا، ”چلو، ٹھیک ہے۔ تیری یہ درخواست بھی منظور ہے۔ مَیں یہ قصبہ تباہ نہیں کروں گا۔^ %دیکھ، قریب ہی ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ وہ اِتنا نزدیک ہے کہ مَیں اُس طرف ہجرت کر سکتا ہوں۔ مجھے وہاں پناہ لینے دے۔ وہ چھوٹا ہی ہے، نا؟ پھر میری جان بچے گی۔“y] oتیرے بندے کو تیری نظرِ کرم حاصل ہوئی ہے اور تُو نے میری جان بچانے میں بہت مہربانی کر دکھائی ہے۔ لیکن مَیں پہاڑوں میں پناہ نہیں لے سکتا۔ وہاں پہنچنے سے پہلے یہ مصیبت مجھ پر آن پڑے گی اور مَیں ہلاک ہو جاؤں گا۔d\ Eلیکن لوط نے اُن سے کہا، ”نہیں میرے آقا، ایسا نہ ہو۔ wTwe 'ابراہیم صبح سویرے اُٹھ کر اُس جگہ واپس آیا جہاں وہ کل رب کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔d 7لیکن فرار ہوتے وقت لوط کی بیوی نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہ فوراً نمک کا ستون بن گئی۔c ;یوں اُس نے اُس پورے میدان کو اُس کے شہروں، باشندوں اور تمام ہریالی سمیت تباہ کر دیا۔lb Uتب رب نے آسمان سے سدوم اور عمورہ پر گندھک اور آگ برسائی۔Na جب لوط ضُغر پہنچا تو سورج نکلا ہوا تھا۔h` Mلیکن بھاگ کر وہاں پناہ لے، کیونکہ جب تک تُو وہاں پہنچ نہ جائے مَیں کچھ نہیں کر سکتا۔“ اِس لئے قصبے کا نام ضُغر یعنی چھوٹا ہے۔ $J0$Ii ایک دن بڑی بیٹی نے چھوٹی سے کہا، ”ابو بوڑھا ہے اور یہاں کوئی مرد ہے نہیں جس کے ذریعے ہمارے بچے پیدا ہو سکیں۔;h sلوط اور اُس کی بیٹیاں زیادہ دیر تک ضُغر میں نہ ٹھہرے۔ وہ روانہ ہو کر پہاڑوں میں آباد ہوئے، کیونکہ لوط ضُغر میں رہنے سے ڈرتا تھا۔ وہاں اُنہوں نے ایک غار کو اپنا گھر بنا لیا۔g )یوں اللہ نے ابراہیم کو یاد کیا جب اُس نے اُس میدان کے شہر تباہ کئے۔ کیونکہ اُس نے اُنہیں تباہ کرنے سے پہلے لوط کو جو اُن میں آباد تھا وہاں سے نکال لایا۔2f aجب اُس نے نیچے سدوم، عمورہ اور پوری وادی کی طرف نظر کی تو وہاں سے بھٹے کا سا دھواں اُٹھ رہا تھا۔ D Dl "اگلے دن بڑی بہن نے چھوٹی بہن سے کہا، ”پچھلی رات مَیں ابو سے ہم بستر ہوئی۔ آؤ، آج رات کو ہم اُسے دوبارہ مَے پلائیں۔ جب وہ نشے میں دُھت ہو تو تم اُس کے ساتھ ہم بستر ہو کر اپنے لئے اولاد پیدا کرنا تاکہ ہماری نسل قائم رہے۔“3k c!اُس رات اُنہوں نے اپنے باپ کو مَے پلائی۔ جب وہ نشے میں تھا تو بڑی بیٹی اندر جا کر اُس کے ساتھ ہم بستر ہوئی۔ چونکہ لوط ہوش میں نہیں تھا اِس لئے اُسے کچھ بھی معلوم نہ ہوا۔oj [ آؤ، ہم ابو کو مَے پلائیں۔ جب وہ نشے میں دُھت ہو تو ہم اُس کے ساتھ ہم بستر ہو کر اپنے لئے اولاد پیدا کریں تاکہ ہماری نسل قائم رہے۔“ P*p Q&چھوٹی بیٹی کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے اُس کا نام بن عمی رکھا۔ اُس سے عمونی نکلے ہیں۔ o 1%بڑی بیٹی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے اُس کا نام موآب رکھا۔ اُس سے موآبی نکلے ہیں۔Yn /$یوں لوط کی بیٹیاں اپنے باپ سے اُمید سے ہوئیں۔Pm #چنانچہ اُنہوں نے اُس رات بھی اپنے باپ کو مَے پلائی۔ جب وہ نشے میں تھا تو چھوٹی بیٹی اُٹھ کر اُس کے ساتھ ہم بستر ہوئی۔ اِس بار بھی وہ ہوش میں نہیں تھا، اِس لئے اُسے کچھ بھی معلوم نہ ہوا۔ J(2<FPZdnx",6@IS]gq{$.8BLV`jt~                                                                             !  "  #  $  %  &                                                                                                     * *[t 3اصل میں ابی مَلِک ابھی تک سارہ کے قریب نہیں گیا تھا۔ اُس نے کہا، ”میرے آقا، کیا تُو ایک بےقصور قوم کو بھی ہلاک کرے گا؟s لیکن رات کے وقت اللہ خواب میں ابی مَلِک پر ظاہر ہوا اور کہا، ”موت تیرے سر پر کھڑی ہے، کیونکہ جو عورت تُو اپنے گھر لے آیا ہے وہ شادی شدہ ہے۔“gr Kوہاں اُس نے لوگوں کو بتایا، ”سارہ میری بہن ہے۔“ اِس لئے جرار کے بادشاہ ابی مَلِک نے کسی کو بھجوا دیا کہ اُسے محل میں لے آئے۔q  ابراہیم وہاں سے جنوب کی طرف دشتِ نجب میں چلا گیا اور قادس اور شور کے درمیان جا بسا۔ کچھ دیر کے لئے وہ جرار میں ٹھہرا، لیکن اجنبی کی حیثیت سے۔  Xw -اب اُس عورت کو اُس کے شوہر کو واپس کر دے، کیونکہ وہ نبی ہے اور تیرے لئے دعا کرے گا۔ پھر تُو نہیں مرے گا۔ لیکن اگر تُو اُسے واپس نہیں کرے گا تو جان لے کہ تیری اور تیرے لوگوں کی موت یقینی ہے۔“jv Qاللہ نے کہا، ”ہاں، مَیں جانتا ہوں کہ اِس میں تیری نیت اچھی تھی۔ اِس لئے مَیں نے تجھے میرا گناہ کرنے اور اُسے چھونے سے روک دیا۔u کیا ابراہیم نے مجھ سے نہیں کہا تھا کہ سارہ میری بہن ہے؟ اور سارہ نے اُس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ میری نیت اچھی تھی اور مَیں نے غلط کام نہیں کیا۔“ 7F~Q7{ ) ابراہیم نے جواب دیا، ”مَیں نے اپنے دل میں کہا کہ یہاں کے لوگ اللہ کا خوف نہیں رکھتے ہوں گے، اِس لئے وہ میری بیوی کو حاصل کرنے کے لئے مجھے قتل کر دیں گے۔*z S آپ نے یہ کیوں کیا؟“Dy  پھر ابی مَلِک نے ابراہیم کو بُلا کر کہا، ”آپ نے ہمارے ساتھ کیا کِیا ہے؟ مَیں نے آپ کے ساتھ کیا غلط کام کیا کہ آپ نے مجھے اور میری سلطنت کو اِتنے سنگین جرم میں پھنسا دیا ہے؟ جو سلوک آپ نے ہمارے ساتھ کر دکھایا ہے وہ کسی بھی شخص کے ساتھ نہیں کرنا چاہئے۔6x iابی مَلِک نے صبح سویرے اُٹھ کر اپنے تمام کارندوں کو یہ سب کچھ بتایا۔ یہ سن کر اُن پر دہشت چھا گئی۔ ]']  اُس نے کہا، ”میرا ملک آپ کے لئے کھلا ہے۔ جہاں جی چاہے اُس میں جا بسیں۔“O~ پھر ابی مَلِک نے ابراہیم کو بھیڑبکریاں، گائےبَیل، غلام اور لونڈیاں دے کر اُس کی بیوی سارہ کو اُسے واپس کر دیا۔g} K پھر جب اللہ نے ہونے دیا کہ مَیں اپنے باپ کے گھرانے سے نکل کر اِدھر اُدھر پھروں تو مَیں نے اپنی بیوی سے کہا، ’مجھ پر یہ مہربانی کر کہ جہاں بھی ہم جائیں میرے بارے میں کہہ دینا کہ وہ میرا بھائی ہے‘۔“U| ' حقیقت میں وہ میری بہن بھی ہے۔ وہ میرے باپ کی بیٹی ہے اگرچہ اُس کی اور میری ماں فرق ہیں۔ یوں مَیں اُس سے شادی کر سکا۔  )تب ابراہیم نے اللہ سے دعا کی اور اللہ نے ابی مَلِک، اُس کی بیوی اور اُس کی لونڈیوں کو شفا دی، کیونکہ رب نے ابی مَلِک کے گھرانے کی تمام عورتوں کو سارہ کے سبب سے بانجھ بنا دیا تھا۔ لیکن اب اُن کے ہاں دوبارہ بچے پیدا ہونے لگے۔ E سارہ سے اُس نے کہا، ”مَیں آپ کے بھائی کو چاندی کے ہزار سکے دیتا ہوں۔ اِس سے آپ اور آپ کے لوگوں کے سامنے آپ کے ساتھ کئے گئے ناروا سلوک کا ازالہ ہو اور آپ کو بےقصور قرار دیا جائے۔“ /f/z qابراہیم نے اپنے اِس بیٹے کا نام اسحاق یعنی ’وہ ہنستا ہے‘ رکھا۔Y /وہ حاملہ ہوئی اور بیٹا پیدا ہوا۔ عین اُس وقت بوڑھے ابراہیم کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جو اللہ نے مقرر کر کے اُسے بتایا تھا۔Y  1تب رب نے سارہ کے ساتھ ویسا ہی کیا جیسا اُس نے فرمایا تھا۔ جو وعدہ اُس نے سارہ کے بارے میں کیا تھا اُسے اُس نے پورا کیا۔ )تب ابراہیم نے اللہ سے دعا کی اور اللہ نے ابی مَلِک، اُس کی بیوی اور اُس کی لونڈیوں کو شفا دی، کیونکہ رب نے ابی مَلِک کے گھرانے کی تمام عورتوں کو سارہ کے سبب سے بانجھ بنا دیا تھا۔ لیکن اب اُن کے ہاں دوبارہ بچے پیدا ہونے لگے۔ XY6  9اسحاق بڑا ہوتا گیا۔ جب اُس کا دودھ چھڑایا گیا تو ابراہیم نے اُس کے لئے بڑی ضیافت کی۔  ;اِس سے پہلے کون ابراہیم سے یہ کہنے کی جرٲت کر سکتا تھا کہ سارہ اپنے بچوں کو دودھ پلائے گی؟ اور اب میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے، اگرچہ ابراہیم بوڑھا ہو گیا ہے۔“ 3سارہ نے کہا، ”اللہ نے مجھے ہنسایا، اور ہر کوئی جو میرے بارے میں یہ سنے گا ہنسے گا۔] 7جب اسحاق پیدا ہوا اُس وقت ابراہیم 100 سال کا تھا۔$ Eجب اسحاق آٹھ دن کا تھا تو ابراہیم نے اُس کا ختنہ کرایا، جس طرح اللہ نے اُسے حکم دیا تھا۔ 9_s9  لیکن مَیں اسمٰعیل سے بھی ایک قوم بناؤں گا، کیونکہ وہ تیرا بیٹا ہے۔“2 a لیکن اللہ نے اُس سے کہا، ”جو بات سارہ نے اپنی لونڈی اور اُس کے بیٹے کے بارے میں کہی ہے وہ تجھے بُری نہ لگے۔ سارہ کی بات مان لے، کیونکہ تیری نسل اسحاق ہی سے قائم رہے گی۔{  s ابراہیم کو یہ بات بہت بُری لگی۔ آخر اسمٰعیل بھی اُس کا بیٹا تھا۔h  M اُس نے ابراہیم سے کہا، ”اِس لونڈی اور اُس کے بیٹے کو گھر سے نکال دیں، کیونکہ وہ میرے بیٹے اسحاق کے ساتھ میراث نہیں پائے گا۔“  7 ایک دن سارہ نے دیکھا کہ مصری لونڈی ہاجرہ کا بیٹا اسمٰعیل اسحاق کا مذاق اُڑا رہا ہے۔ .Es.A لیکن اللہ نے بیٹے کی روتی ہوئی آواز سن لی۔ اللہ کے فرشتے نے آسمان پر سے پکار کر ہاجرہ سے بات کی، ”ہاجرہ، کیا بات ہے؟ مت ڈر، کیونکہ اللہ نے لڑکے کا جو وہاں پڑا ہے رونا سن لیاہے۔N کوئی 300 فٹ دُور بیٹھ گئی۔ کیونکہ اُس نے دل میں کہا، ”مَیں اُسے مرتے نہیں دیکھ سکتی۔“ وہ وہاں بیٹھ کر رونے لگی۔s cپھر پانی ختم ہو گیا۔ ہاجرہ لڑکے کو کسی جھاڑی کے نیچے چھوڑ کرA ابراہیم صبح سویرے اُٹھا۔ اُس نے روٹی اور پانی کی مشک ہاجرہ کے کندھوں پر رکھ کر اُسے لڑکے کے ساتھ گھر سے نکال دیا۔ ہاجرہ چلتے چلتے بیرسبع کے ریگستان میں اِدھر اُدھر پھرنے لگی۔ m[sAmP اُن دنوں میں ابی مَلِک اور اُس کے سپاہ سالار فیکل نے ابراہیم سے کہا، ”جو کچھ بھی آپ کرتے ہیں اللہ آپ کے ساتھ ہے۔ 7جب وہ فاران کے ریگستان میں رہتا تھا تو اُس کی ماں نے اُسے ایک مصری عورت سے بیاہ دیا۔  اللہ لڑکے کے ساتھ تھا۔ وہ جوان ہوا اور تیرانداز بن کر بیابان میں رہنے لگا۔d Eپھر اللہ نے ہاجرہ کی آنکھیں کھول دیں، اور اُس کی نظر ایک کنوئیں پر پڑی۔ وہ وہاں گئی اور مشک کو پانی سے بھر کر لڑکے کو پلایا۔! ?اُٹھ، لڑکے کو اُٹھا کر اُس کا ہاتھ تھام لے، کیونکہ مَیں اُس سے ایک بڑی قوم بناؤں گا۔“ t< uتب ابراہیم نے ابی مَلِک کو بھیڑبکریاں اور گائےبَیل دیئے، اور دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ عہد باندھا۔a ?ابی مَلِک نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ کس نے ایسا کیا ہے۔ آپ نے بھی مجھے نہیں بتایا۔ آج مَیں پہلی دفعہ یہ بات سن رہا ہوں۔“7 kپھر اُس نے ابی مَلِک سے شکایت کرتے ہوئے کہا، ”آپ کے بندوں نے ہمارے ایک کنوئیں پر قبضہ کر لیا ہے۔“Y /ابراہیم نے جواب دیا، ”مَیں قَسم کھاتا ہوں۔“, Uاب مجھ سے اللہ کی قَسم کھائیں کہ آپ مجھے اور میری آل اولاد کو دھوکا نہیں دیں گے۔ مجھ پر اور اِس ملک پر جس میں آپ پردیسی ہیں وہی مہربانی کریں جو مَیں نے آپ پر کی ہے۔“ Ek>" y یوں اُنہوں نے بیرسبع میں ایک دوسرے سے عہد باندھا۔ پھر ابی مَلِک اور فیکل فلستیوں کے ملک واپس چلے گئے۔D! اِس لئے اُس جگہ کا نام بیرسبع یعنی ’قَسم کا کنواں‘ رکھا گیا، کیونکہ وہاں اُن دونوں مردوں نے قَسم کھائی۔V  )ابراہیم نے جواب دیا، ”بھیڑ کے اِن سات بچوں کو مجھ سے لے لیں۔ یہ اِس کے گواہ ہوں کہ مَیں نے اِس کنوئیں کو کھودا ہے۔“R !ابی مَلِک نے پوچھا، ”آپ نے یہ کیوں کیا؟“c Cپھر ابراہیم نے بھیڑ کے سات مادہ بچوں کو الگ کر لیا۔ M.My& oاللہ نے کہا، ”اپنے اکلوتے بیٹے اسحاق کو جسے تُو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے علاقے میں چلا جا۔ وہاں مَیں تجھے ایک پہاڑ دکھاؤں گا۔ اُس پر اپنے بیٹے کو قربان کر دے۔ اُسے ذبح کر کے قربان گاہ پر جلا دینا۔“P%  کچھ عرصے کے بعد اللہ نے ابراہیم کو آزمایا۔ اُس نے اُس سے کہا، ”ابراہیم!“ اُس نے جواب دیا، ”جی، مَیں حاضر ہوں۔“ $ "ابراہیم بہت عرصے تک فلستیوں کے ملک میں آباد رہا، لیکن اجنبی کی حیثیت سے۔ N# !اِس کے بعد ابراہیم نے بیرسبع میں جھاؤ کا درخت لگایا۔ وہاں اُس نے رب کا نام لے کر اُس کی عبادت کی جو ابدی خدا ہے۔ $* ابراہیم نے قربانی کو جلانے کے لئے لکڑیاں اسحاق کے کندھوں پر رکھ دیں اور خود چھری اور آگ جلانے کے لئے انگاروں کا برتن اُٹھایا۔ دونوں چل دیئے۔k) Sاُس نے نوکروں سے کہا، ”یہاں گدھے کے پاس ٹھہرو۔ مَیں لڑکے کے ساتھ وہاں جا کر پرستش کروں گا۔ پھر ہم تمہارے پاس واپس آ جائیں گے۔“{( sسفر کرتے کرتے تیسرے دن قربانی کی جگہ ابراہیم کو دُور سے نظر آئی۔k' Sصبح سویرے ابراہیم اُٹھا اور اپنے گدھے پر زِین کسا۔ اُس نے اپنے ساتھ دو نوکروں اور اپنے بیٹے اسحاق کو لیا۔ پھر وہ قربانی کو جلانے کے لئے لکڑی کاٹ کر اُس جگہ کی طرف روانہ ہوا جو اللہ نے اُسے بتائی تھی۔  dS. # اور چھری پکڑ لی تاکہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے۔C-  چلتے چلتے وہ اُس مقام پر پہنچے جو اللہ نے اُس پر ظاہر کیا تھا۔ ابراہیم نے وہاں قربان گاہ بنائی اور اُس پر لکڑیاں ترتیب سے رکھ دیں۔ پھر اُس نے اسحاق کو باندھ کر لکڑیوں پر رکھ دیا%, Gابراہیم نے جواب دیا، ”اللہ خود قربانی کے لئے جانور مہیا کرے گا، بیٹا۔“ وہ آگے بڑھ گئے۔o+ [اسحاق بولا، ”ابو!“ ابراہیم نے کہا، ”جی بیٹا۔“ ”ابو، آگ اور لکڑیاں تو ہمارے پاس ہیں، لیکن قربانی کے لئے بھیڑ یا بکری کہاں ہے؟“ *1 # اچانک ابراہیم کو ایک مینڈھا نظر آیا جس کے سینگ گنجان جھاڑیوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ ابراہیم نے اُسے ذبح کر کے اپنے بیٹے کی جگہ قربانی کے طور پر جلا دیا۔B0  فرشتے نے کہا، ”اپنے بیٹے پر ہاتھ نہ چلا، نہ اُس کے ساتھ کچھ کر۔ اب مَیں نے جان لیا ہے کہ تُو اللہ کا خوف رکھتا ہے، کیونکہ تُو اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی مجھے دینے کے لئے تیار ہے۔“R/ ! عین اُسی وقت رب کے فرشتے نے آسمان پر سے اُسے آواز دی، ”ابراہیم، ابراہیم!“ ابراہیم نے کہا، ”جی، مَیں حاضر ہوں۔“ $3$6 'چونکہ تُو نے میری سنی اِس لئے تیری اولاد سے دنیا کی تمام قومیں برکت پائیں گی۔“/5 [اِس لئے مَیں تجھے برکت دوں گا اور تیری اولاد کو آسمان کے ستاروں اور ساحل کی ریت کی طرح بےشمار ہونے دوں گا۔ تیری اولاد اپنے دشمنوں کے شہروں کے دروازوں پر قبضہ کرے گی۔I4 ”رب کا فرمان ہے، میری ذات کی قَسم، چونکہ تُو نے یہ کیا اور اپنے اکلوتے بیٹے کو مجھے پیش کرنے کے لئے تیار تھاs3 cرب کے فرشتے نے ایک بار پھر آسمان پر سے پکار کر اُس سے بات کی۔I2 اُس نے اُس مقام کا نام ”رب مہیا کرتا ہے“ رکھا۔ اِس لئے آج تک کہا جاتا ہے، ”رب کے پہاڑ پر مہیا کیا جاتا ہے۔“ bG b:< qنحور کی حرم کا نام رُومہ تھا۔ اُس کے ہاں بھی بیٹے پیدا ہوئے جن کے نام طِبخ، جاحم، تخص اور معکہ ہیں۔ ;  مِلکاہ اور نحور کے ہاں یہ آٹھ بیٹے پیدا ہوئے۔ (بتوایل رِبقہ کا باپ تھا)۔g: Kکسد، حزو، فِلداس، اِدلاف اور بتوایل پیدا ہوئے ہیں۔“h9 Mاُس کے پہلوٹھے عُوض کے بعد بوز، قموایل (اَرام کا باپ)،B8 اِن واقعات کے بعد ابراہیم کو اطلاع ملی، ”آپ کے بھائی نحور کی بیوی مِلکاہ کے ہاں بھی بیٹے پیدا ہوئے ہیں۔57 gاِس کے بعد ابراہیم اپنے نوکروں کے پاس واپس آیا، اور وہ مل کر بیرسبع لوٹے۔ وہاں ابراہیم آباد رہا۔ J)3=GQ[dnx",6@JS]gq{$.8BLV`jt~      !   "  !#  "$  %  &  '  (      !   "  !#  "$  %  &  '  (  )  *  +  ,   -   .   /   0   1  2  3  4  5  6  7  8  9  :  ;  <  =  >  ?  @  A  B  C  D   E   F   G   H   I  J  K  L  M  N  O  P  Q  R  S  T  U  V  W  X   Y   Z   [   \   ]  ^  _  `  a  b  c  d  e  f  g  h W]W@ ”مَیں آپ کے درمیان پردیسی اور غیرشہری کی حیثیت سے رہتا ہوں۔ مجھے قبر کے لئے زمین بیچیں تاکہ اپنی بیوی کو اپنے گھر سے لے جا کر دفن کر سکوں۔“x? mپھر وہ جنازے کے پاس سے اُٹھا اور حِتّیوں سے بات کی۔ اُس نے کہا،G>  اُس زمانے میں حبرون کا نام قِریَت اربع تھا، اور وہ ملکِ کنعان میں تھا۔ ابراہیم نے اُس کے پاس آ کر ماتم کیا۔Z=  3سارہ 127 سال کی عمر میں حبرون میں انتقال کر گئی۔ Z C ابراہیم اُٹھا اور ملک کے باشندوں یعنی حِتّیوں کے سامنے تعظیماً جھک گیا۔OB حِتّیوں نے جواب دیا، ”ہمارے آقا، ہماری بات سنیں! آپ ہمارے درمیان اللہ کے رئیس ہیں۔ اپنی بیوی کو ہماری بہترین قبر میں دفن کریں۔ ہم میں سے کوئی نہیں جو آپ سے اپنی قبر کا انکار کرے گا۔“OA حِتّیوں نے جواب دیا، ”ہمارے آقا، ہماری بات سنیں! آپ ہمارے درمیان اللہ کے رئیس ہیں۔ اپنی بیوی کو ہماری بہترین قبر میں دفن کریں۔ ہم میں سے کوئی نہیں جو آپ سے اپنی قبر کا انکار کرے گا۔“  rF a عفرون حِتّیوں کی جماعت میں موجود تھا۔ ابراہیم کی درخواست پر اُس نے اُن تمام حِتّیوں کے سامنے جو شہر کے دروازے پر جمع تھے جواب دیا،5E g کہ وہ مجھے مکفیلہ کا غار بیچ دے۔ وہ اُس کا ہے اور اُس کے کھیت کے کنارے پر ہے۔ مَیں اُس کی پوری قیمت دینے کے لئے تیار ہوں تاکہ آپ کے درمیان رہتے ہوئے میرے پاس قبر بھی ہو۔“rD aاُس نے کہا، ”اگر آپ اِس کے لئے تیار ہیں کہ مَیں اپنی بیوی کو اپنے گھر سے لے جا کر دفن کروں تو صُحر کے بیٹے عِفرون سے میری سفارش کریںsjjoty~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|    % )/38<?DGJM    % )/38<?DGJMPUX\`eh l!t"~#$ %&'()"*'+,,2-8/>0B1H2L3O4S5X6\7b8g9o:t;}<= >@AB!C'D+E/F2G6H:I>JBKGLJMONSOWPZR]S`TdUhVlWqXuYxZ}[\] ^ _`abc!d$f)g-h0i4j8k<l@mDnGoJpMqRrUsXt[u_vewixlyp{t|w}{~offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| "&*.16<@C "&*.16<@CFJNRVY]_cglnrvz} !'+/47;=@FJMQU[`ejnruy…|ÅĆņƆ džȆɆʆ̆ ͆$Ά(φ-І2ц6҆:ӆ=Ԇ@ՆFֆL׆N؆RنWچ[ۆ^܆a݆cކf߆jnqsvz  %),148 6Y36yJ oعفرون نے جواب دیا، ”میرے آقا، سنیں۔ اِس زمین کی قیمت صرف 400 چاندی کے سکے ہے۔ آپ کے اور میرے درمیان یہ کیا ہے؟ اپنی بیوی کو دفن کر دیں۔“"I A اُس نے سب کے سامنے عفرون سے کہا، ”مہربانی کر کے میری بات پر غور کریں۔ مَیں کھیت کی پوری قیمت ادا کروں گا۔ اُسے قبول کریں تاکہ وہاں اپنی بیوی کو دفن کر سکوں۔“iH O ابراہیم دوبارہ ملک کے باشندوں کے سامنے ادباً جھک گیا۔7G k ”نہیں، میرے آقا! میری بات سنیں۔ مَیں آپ کو یہ کھیت اور اُس میں موجود غار دے دیتا ہوں۔ سب جو حاضر ہیں میرے گواہ ہیں، مَیں یہ آپ کو دیتا ہوں۔ اپنی بیوی کو وہاں دفن کر دیں۔“ 11N +حِتّیوں کی پوری جماعت نے جو شہر کے دروازے پر جمع تھی زمین کے انتقال کی تصدیق کی۔%M Gچنانچہ مکفیلہ میں عفرون کی زمین ابراہیم کی ملکیت ہو گئی۔ یہ زمین ممرے کے مشرق میں تھی۔ اُس میں کھیت، کھیت کا غار اور کھیت کی حدود میں موجود تمام درخت شامل تھے۔ L ابراہیم نے عفرون کی مطلوبہ قیمت مان لی اور سب کے سامنے چاندی کے 400 سکے تول کر عفرون کو دے دیئے۔ اِس کے لئے اُس نے اُس وقت کے رائج باٹ استعمال کئے۔yK oعفرون نے جواب دیا، ”میرے آقا، سنیں۔ اِس زمین کی قیمت صرف 400 چاندی کے سکے ہے۔ آپ کے اور میرے درمیان یہ کیا ہے؟ اپنی بیوی کو دفن کر دیں۔“ KR ایک دن اُس نے اپنے گھر کے سب سے بزرگ نوکر سے جو اُس کی جائیداد کا پورا انتظام چلاتا تھا بات کی۔ ”قَسم کے لئے اپنا ہاتھ میری ران کے نیچے رکھو۔~Q  {ابراہیم اب بہت بوڑھا ہو گیا تھا۔ رب نے اُسے ہر لحاظ سے برکت دی تھی۔DP اِس طریقے سے یہ کھیت اور اُس کا غار حِتّیوں سے ابراہیم کے نام پر منتقل کر دیا گیا تاکہ اُس کے پاس قبر ہو۔ iO Oپھر ابراہیم نے اپنی بیوی سارہ کو ملکِ کنعان کے اُس غار میں دفن کیا جو ممرے یعنی حبرون کے مشرق میں واقع مکفیلہ کے کھیت میں تھا۔ [ReV Gابراہیم نے کہا، ”خبردار! اُسے ہرگز واپس نہ لے جانا۔U اُس کے نوکر نے کہا، ”شاید وہ عورت میرے ساتھ یہاں آنا نہ چاہے۔ کیا مَیں اِس صورت میں آپ کے بیٹے کو اُس وطن میں واپس لے جاؤں جس سے آپ نکلے ہیں؟“3T cبلکہ میرے وطن میں میرے رشتے داروں کے پاس جاؤ گے اور اُن ہی میں سے میرے بیٹے کے لئے بیوی لاؤ گے۔“jS Qرب کی قَسم کھاؤ جو آسمان و زمین کا خدا ہے کہ تم اِن کنعانیوں میں سے جن کے درمیان مَیں رہتا ہوں میرے بیٹے کے لئے بیوی نہیں لاؤ گے o'o4Y e ابراہیم کے نوکر نے اپنا ہاتھ اُس کی ران کے نیچے رکھ کر قَسم کھائی کہ مَیں سب کچھ ایسا ہی کروں گا۔hX Mاگر وہاں کی عورت یہاں آنا نہ چاہے تو پھر تم اپنی قَسم سے آزاد ہو گے۔ لیکن کسی صورت میں بھی میرے بیٹے کو وہاں واپس نہ لے جانا۔“iW Oرب جو آسمان کا خدا ہے اپنا فرشتہ تمہارے آگے بھیجے گا، اِس لئے تم وہاں میرے بیٹے کے لئے بیوی چننے میں ضرور کامیاب ہو گے۔ کیونکہ وہی مجھے میرے باپ کے گھر اور میرے وطن سے یہاں لے آیا ہے، اور اُسی نے قَسم کھا کر مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ مَیں کنعان کا یہ ملک تیری اولاد کو دوں گا۔ ,Z]  اب مَیں اِس چشمے پر کھڑا ہوں، اور شہر کی بیٹیاں پانی بھرنے کے لئے آ رہی ہیں۔G\   پھر اُس نے دعا کی، ”اے رب میرے آقا ابراہیم کے خدا، مجھے آج کامیابی بخش اور میرے آقا ابراہیم پر مہربانی کر۔N[  اُس نے اونٹوں کو شہر کے باہر کنوئیں کے پاس بٹھایا۔ شام کا وقت تھا جب عورتیں کنوئیں کے پاس آ کر پانی بھرتی تھیں۔PZ  پھر وہ اپنے آقا کے دس اونٹوں پر قیمتی تحفے لاد کر مسوپتامیہ کی طرف روانہ ہوا۔ چلتے چلتے وہ نحور کے شہر پہنچ گیا۔ _ 9وہ ابھی دعا کر ہی رہا تھا کہ رِبقہ شہر سے نکل آئی۔ اُس کے کندھے پر گھڑا تھا۔ وہ بتوایل کی بیٹی تھی (بتوایل ابراہیم کے بھائی نحور کی بیوی مِلکاہ کا بیٹا تھا)۔x^ mمَیں اُن میں سے کسی سے کہوں گا، ’ذرا اپنا گھڑا نیچے کر کے مجھے پانی پلائیں۔‘ اگر وہ جواب دے، ’پی لیں، مَیں آپ کے اونٹوں کو بھی پانی پلا دیتی ہوں،‘ تو وہ وہی ہو گی جسے تُو نے اپنے خادم اسحاق کے لئے چن رکھا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو مَیں جان لوں گا کہ تُو نے میرے آقا پر مہربانی کی ہے۔“ 'thc Mجب وہ پینے سے فارغ ہوا تو رِبقہ نے کہا، ”مَیں آپ کے اونٹوں کے لئے بھی پانی لے آتی ہوں۔ وہ بھی پورے طور پر اپنی پیاس بجھائیں۔“Jb رِبقہ نے کہا، ”جناب، پی لیں۔“ جلدی سے اُس نے اپنے گھڑے کو کندھے پر سے اُتار کر ہاتھ میں پکڑا تاکہ وہ پی سکے۔/a [ابراہیم کا نوکر دوڑ کر اُس سے ملا۔ اُس نے کہا، ”ذرا مجھے اپنے گھڑے سے تھوڑا سا پانی پلائیں۔“U` 'رِبقہ نہایت خوب صورت جوان لڑکی تھی، اور وہ کنواری بھی تھی۔ وہ چشمے تک اُتری، اپنا گھڑا بھرا اور پھر واپس اوپر آئی۔ !+&g Iاُس نے پوچھا، ”آپ کس کی بیٹی ہیں؟ کیا اُس کے ہاں اِتنی جگہ ہے کہ ہم وہاں رات گزار سکیں؟“rf aاونٹ پانی پینے سے فارغ ہوئے تو اُس نے رِبقہ کو سونے کی ایک نتھ اور دو کنگن دیئے۔ نتھ کا وزن تقریباً 6 گرام تھا اور کنگنوں کا 120 گرام۔ie Oاِتنے میں ابراہیم کا آدمی خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا، کیونکہ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا رب مجھے سفر کی کامیابی بخشے گا یا نہیں۔nd Yجلدی سے اُس نے اپنے گھڑے کا پانی حوض میں اُنڈیل دیا اور پھر بھاگ کر کنوئیں سے اِتنا پانی لاتی رہی کہ تمام اونٹوں کی پیاس بجھ گئی۔ u~l لڑکی بھاگ کر اپنی ماں کے گھر چلی گئی۔ وہاں اُس نے سب کچھ بتا دیا جو ہوا تھا۔k 7اُس نے کہا، ”میرے آقا ابراہیم کے خدا کی تمجید ہو جس کے کرم اور وفاداری نے میرے آقا کو نہیں چھوڑا۔ رب نے مجھے سیدھا میرے مالک کے رشتے داروں تک پہنچایا ہے۔“Tj %یہ سن کر ابراہیم کے نوکر نے رب کو سجدہ کیا۔|i uہمارے پاس بھوسا اور چارا ہے۔ رات گزارنے کے لئے بھی کافی جگہ ہے۔“h  رِبقہ نے جواب دیا، ”میرا باپ بتوایل ہے۔ وہ نحور اور مِلکاہ کا بیٹا ہے۔ {n sجب رِبقہ کے بھائی لابن نے نتھ اور بہن کی کلائیوں میں کنگنوں کو دیکھا اور وہ سب کچھ سنا جو ابراہیم کے نوکر نے رِبقہ کو بتایا تھا تو وہ فوراً کنوئیں کی طرف دوڑا۔ ابراہیم کا نوکر اب تک اونٹوں سمیت وہاں کھڑا تھا۔{m sجب رِبقہ کے بھائی لابن نے نتھ اور بہن کی کلائیوں میں کنگنوں کو دیکھا اور وہ سب کچھ سنا جو ابراہیم کے نوکر نے رِبقہ کو بتایا تھا تو وہ فوراً کنوئیں کی طرف دوڑا۔ ابراہیم کا نوکر اب تک اونٹوں سمیت وہاں کھڑا تھا۔ ..Nr "اُس نے کہا، ”مَیں ابراہیم کا نوکر ہوں۔q !لیکن جب کھانا آ گیا تو ابراہیم کے نوکر نے کہا، ”اِس سے پہلے کہ مَیں کھانا کھاؤں لازم ہے کہ اپنا معاملہ پیش کروں۔“ لابن نے کہا، ”بتائیں اپنی بات۔“,p U وہ نوکر کو لے کر گھر پہنچا۔ اونٹوں سے سامان اُتارا گیا، اور اُن کو بھوسا اور چارا دیا گیا۔ پانی بھی لایا گیا تاکہ ابراہیم کا نوکر اور اُس کے آدمی اپنے پاؤں دھوئیں۔9o oلابن نے کہا، ”رب کے مبارک بندے، میرے ساتھ آئیں۔ آپ یہاں شہر کے باہر کیوں کھڑے ہیں؟ مَیں نے اپنے گھر میں آپ کے لئے سب کچھ تیار کیا ہے۔ آپ کے اونٹوں کے لئے بھی کافی جگہ ہے۔“ ,v /&بلکہ میرے باپ کے گھرانے اور میرے رشتے داروں کے پاس جا کر اُس کے لئے بیوی لاؤ گے۔‘iu O%لیکن میرے آقا نے مجھ سے کہا، ’قَسم کھاؤ کہ تم اِن کنعانیوں میں سے جن کے درمیان مَیں رہتا ہوں میرے بیٹے کے لئے بیوی نہیں لاؤ گےHt  $جب میرے مالک کی بیوی بوڑھی ہو گئی تھی تو اُس کے بیٹا پیدا ہوا تھا۔ ابراہیم نے اُسے اپنی پوری ملکیت دے دی ہے۔s +#رب نے میرے آقا کو بہت برکت دی ہے۔ وہ بہت امیر بن گیا ہے۔ رب نے اُسے کثرت سے بھیڑبکریاں، گائےبَیل، سونا چاندی، غلام اور لونڈیاں، اونٹ اور گدھے دیئے ہیں۔ [!q[z !*آج جب مَیں کنوئیں کے پاس آیا تو مَیں نے دعا کی، ’اے رب، میرے آقا کے خدا، اگر تیری مرضی ہو تو مجھے اِس مشن میں کامیابی بخش جس کے لئے مَیں یہاں آیا ہوں۔,y U)لیکن اگر تم میرے رشتے داروں کے پاس جاؤ اور وہ انکار کریں تو پھر تم اپنی قَسم سے آزاد ہو گے۔‘]x 7(اُس نے کہا، ’رب جس کے سامنے مَیں چلتا رہا ہوں اپنے فرشتے کو تمہارے ساتھ بھیجے گا اور تمہیں کامیابی بخشے گا۔ تمہیں ضرور میرے رشتے داروں اور میرے باپ کے گھرانے سے میرے بیٹے کے لئے بیوی ملے گی۔{w s'مَیں نے اپنے مالک سے کہا، ’شاید وہ عورت میرے ساتھ آنا نہ چاہے۔‘ 6} i-مَیں ابھی دل میں یہ دعا کر رہا تھا کہ رِبقہ شہر سے نکل آئی۔ اُس کے کندھے پر گھڑا تھا۔ وہ چشمے تک اُتری اور اپنا گھڑا بھر لیا۔ مَیں نے اُس سے کہا، ’ذرا مجھے پانی پلائیں۔‘#| C,اگر وہ کہے، ”پی لیں، مَیں آپ کے اونٹوں کے لئے بھی پانی لے آؤں گی“ تو اِس کا مطلب یہ ہو کہ تُو نے اُسے میرے آقا کے بیٹے کے لئے چن لیا ہے کہ اُس کی بیوی بن جائے۔‘{ +اب مَیں اِس کنوئیں کے پاس کھڑا ہوں۔ جب کوئی جوان عورت شہر سے نکل کر یہاں آئے تو مَیں اُس سے کہوں گا، ”ذرا مجھے اپنے گھڑے سے تھوڑا سا پانی پلائیں۔“ dld 0تب مَیں نے رب کو سجدہ کر کے اپنے آقا ابراہیم کے خدا کی تمجید کی جس نے مجھے سیدھا میرے مالک کی بھتیجی تک پہنچایا تاکہ وہ اسحاق کی بیوی بن جائے۔W +/پھر مَیں نے اُس سے پوچھا، ’آپ کس کی بیٹی ہیں؟‘ اُس نے جواب دیا، ’میرا باپ بتوایل ہے۔ وہ نحور اور مِلکاہ کا بیٹا ہے۔‘ پھر مَیں نے اُس کی ناک میں نتھ اور اُس کی کلائیوں میں کنگن پہنا دیئے۔5~ g.جواب میں اُس نے جلدی سے اپنے گھڑے کو کندھے پر سے اُتار کر کہا، ’پی لیں، مَیں آپ کے اونٹوں کو بھی پانی پلاتی ہوں۔‘ مَیں نے پانی پیا، اور اُس نے اونٹوں کو بھی پانی پلایا۔ xT %4یہ سن کر ابراہیم کے نوکر نے رب کو سجدہ کیا۔8 m3رِبقہ آپ کے سامنے ہے۔ اُسے لے جائیں۔ وہ آپ کے مالک کے بیٹے کی بیوی بن جائے جس طرح رب نے فرمایا ہے۔“3 c2لابن اور بتوایل نے جواب دیا، ”یہ بات رب کی طرف سے ہے، اِس لئے ہم کسی طرح بھی انکار نہیں کر سکتے۔ 1اب مجھے بتائیں، کیا آپ میرے آقا پر اپنی مہربانی اور وفاداری کا اظہار کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو رِبقہ کی اسحاق کے ساتھ شادی قبول کریں۔ اگر آپ متفق نہیں ہیں تو مجھے بتائیں تاکہ مَیں کوئی اَور قدم اُٹھا سکوں۔“ !$! {8لیکن اُس نے اُن سے کہا، ”اب دیر نہ کریں، کیونکہ رب نے مجھے میرے مشن میں کامیابی بخشی ہے۔ مجھے اجازت دیں تاکہ اپنے مالک کے پاس واپس جاؤں۔“ 57رِبقہ کے بھائی اور ماں نے کہا، ”رِبقہ کچھ دن اَور ہمارے ہاں ٹھہرے۔ پھر آپ جائیں۔“1 _6اِس کے بعد اُس نے اپنے ہم سفروں کے ساتھ شام کا کھانا کھایا۔ وہ رات کو وہیں ٹھہرے۔ اگلے دن جب اُٹھے تو نوکر نے کہا، ”اب ہمیں اجازت دیں تاکہ اپنے آقا کے پاس لوٹ جائیں۔“ 5پھر اُس نے سونے اور چاندی کے زیورات اور مہنگے ملبوسات اپنے سامان میں سے نکال کر رِبقہ کو دیئے۔ رِبقہ کے بھائی اور ماں کو بھی قیمتی تحفے ملے۔ J'1;EOYcmw !+5?IS]gq{$.8BLV`jt~  j  k  l  m  n  o   p  !q  "r  #  j  k  l  m  n  o   p  !q  "r  #s  $t  %u  &v  'w  (x  )y  *z  +{  ,|  -}  .~  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8  9  :  ;  <  =  >  ?  @  A  B  C                                                                         <پہلے اُنہوں نے رِبقہ کو برکت دے کر کہا، ”ہماری بہن، اللہ کرے کہ تُو کروڑوں کی ماں بنے۔ تیری اولاد اپنے دشمنوں کے شہروں کے دروازوں پر قبضہ کرے۔“8  m;چنانچہ اُنہوں نے اپنی بہن رِبقہ، اُس کی دایہ، ابراہیم کے نوکر اور اُس کے ہم سفروں کو رُخصت کر دیا۔n  Y:اُنہوں نے رِبقہ کو بُلا کر اُس سے پوچھا، ”کیا تُو ابھی اِس آدمی کے ساتھ جانا چاہتی ہے؟“ اُس نے کہا، ”جی، مَیں جانا چاہتی ہوں۔“}  w9اُنہوں نے کہا، ”چلیں، ہم لڑکی کو بُلا کر اُسی سے پوچھ لیتے ہیں۔“  Z  @جب رِبقہ نے اپنی نظر اُٹھا کر اسحاق کو دیکھا تو اُس نے اونٹ سے اُتر کرD ?ایک شام وہ نکل کر کھلے میدان میں اپنی سوچوں میں مگن ٹہل رہا تھا کہ اچانک اونٹ اُس کی طرف آتے ہوئے نظر آئے۔ 1>اُس وقت اسحاق ملک کے جنوبی حصے، دشتِ نجب میں رہتا تھا۔ وہ بیر لحی روئی سے آیا تھا۔  =پھر رِبقہ اور اُس کی نوکرانیاں اُٹھ کر اونٹوں پر سوار ہوئیں اور ابراہیم کے نوکر کے پیچھے ہو لیں۔ چنانچہ نوکر اُنہیں ساتھ لے کر روانہ ہو گیا۔ +*+ قطورہ کے چھ بیٹے پیدا ہوئے، زِمران، یُقسان، مدان، مِدیان، اِسباق اور سوخ۔j  Sابراہیم نے ایک اَور شادی کی۔ نئی بیوی کا نام قطورہ تھا۔[ 3Cپھر اسحاق رِبقہ کو اپنی ماں سارہ کے ڈیرے میں لے گیا۔ اُس نے اُس سے شادی کی، اور وہ اُس کی بیوی بن گئی۔ اسحاق کے دل میں اُس کے لئے بہت محبت پیدا ہوئی۔ یوں اُسے اپنی ماں کی موت کے بعد سکون ملا۔ ` =Bنوکر نے اسحاق کو سب کچھ بتا دیا جو اُس نے کیا تھا۔ Aنوکر سے پوچھا، ”وہ آدمی کون ہے جو میدان میں ہم سے ملنے آ رہا ہے؟“ نوکر نے کہا، ”میرا مالک ہے۔“ یہ سن کر رِبقہ نے چادر لے کر اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا۔ gqX -ابراہیم 175 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ غرض وہ بہت عمر رسیدہ اور زندگی سے آسودہ ہو کر انتقال کر کے اپنے باپ دادا سے جا ملا۔A اپنی موت سے پہلے اُس نے اپنی دوسری بیویوں کے بیٹوں کو تحفے دے کر اپنے بیٹے سے دُور مشرق کی طرف بھیج دیا۔T %ابراہیم نے اپنی ساری ملکیت اسحاق کو دے دی۔ 3مِدیان کے بیٹے عیفہ، عِفر، حنوک، ابیداع اور اِلدعا تھے۔ یہ سب قطورہ کی اولاد تھے۔ 'یُقسان کے دو بیٹے تھے، سبا اور ددان۔ اسوری، لطُوسی اور لومی ددان کی اولاد ہیں۔ $  اُس کے بیٹوں اسحاق اور اسمٰعیل نے اُسے مکفیلہ کے غار میں دفن کیا جو ممرے کے مشرق میں ہے۔ یہ وہی غار تھا جسے کھیت سمیت حِتّی آدمی عِفرون بن صُحر سے خریدا گیا تھا۔ ابراہیم اور اُس کی بیوی سارہ دونوں کو اُس میں دفن کیا گیا۔X -ابراہیم 175 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ غرض وہ بہت عمر رسیدہ اور زندگی سے آسودہ ہو کر انتقال کر کے اپنے باپ دادا سے جا ملا۔ Ll xL)! Qمشماع، دُومہ، مسا،   اسمٰعیل کے بیٹے بڑے سے لے کر چھوٹے تک یہ ہیں: نبایوت، قیدار، ادبئیل، مِبسام،) O ابراہیم کا بیٹا اسمٰعیل جو سارہ کی مصری لونڈی ہاجرہ کے ہاں پیدا ہوا اُس کا نسب نامہ یہ ہے۔. Y ابراہیم کی وفات کے بعد اللہ نے اسحاق کو برکت دی۔ اُس وقت اسحاق بیر لحی روئی کے قریب آباد تھا۔  اُس کے بیٹوں اسحاق اور اسمٰعیل نے اُسے مکفیلہ کے غار میں دفن کیا جو ممرے کے مشرق میں ہے۔ یہ وہی غار تھا جسے کھیت سمیت حِتّی آدمی عِفرون بن صُحر سے خریدا گیا تھا۔ ابراہیم اور اُس کی بیوی سارہ دونوں کو اُس میں دفن کیا گیا۔ 9 s'9j' Qاسحاق 40 سال کا تھا جب اُس کی رِبقہ سے شادی ہوئی۔ رِبقہ لابن کی بہن اور اَرامی مرد بتوایل کی بیٹی تھی (بتوایل مسوپتامیہ کا تھا)۔I& یہ ابراہیم کے بیٹے اسحاق کا بیان ہے۔% 9اُس کی اولاد اُس علاقے میں آباد تھی جو حویلہ اور شور کے درمیان ہے اور جو مصر کے مشرق میں اسور کی طرف ہے۔ یوں اسمٰعیل اپنے تمام بھائیوں کے سامنے ہی آباد ہوا۔t$ eاسمٰعیل 137 سال کا تھا جب وہ کوچ کر کے اپنے باپ دادا سے جا ملا۔*# Qیہ بیٹے بارہ قبیلوں کے بانی بن گئے، اور جہاں جہاں وہ آباد ہوئے اُن جگہوں کا وہی نام پڑ گیا۔C" حدد، تیما، یطور، نفیس اور قِدمہ۔ 1,Y+ /پیدائش کا وقت آ گیا تو جُڑواں بیٹے پیدا ہوئے۔$* Eرب نے اُس سے کہا، ”تیرے اندر دو قومیں ہیں۔ وہ تجھ سے نکل کر ایک دوسری سے الگ الگ ہو جائیں گی۔ اُن میں سے ایک زیادہ طاقت ور ہو گی، اور بڑا چھوٹے کی خدمت کرے گا۔“) اُس کے پیٹ میں بچے ایک دوسرے سے زورآزمائی کرنے لگے تو وہ رب سے پوچھنے گئی، ”اگر یہ میری حالت رہے گی تو پھر مَیں یہاں تک کیوں پہنچ گئی ہوں؟“K( رِبقہ کے بچے پیدا نہ ہوئے۔ لیکن اسحاق نے اپنی بیوی کے لئے دعا کی تو رب نے اُس کی سنی، اور رِبقہ اُمید سے ہوئی۔ @/ }اسحاق عیسَو کو پیار کرتا تھا، کیونکہ وہ شکار کا گوشت پسند کرتا تھا۔ لیکن رِبقہ یعقوب کو پیار کرتی تھی۔. لڑکے جوان ہوئے۔ عیسَو ماہر شکاری بن گیا اور کھلے میدان میں خوش رہتا تھا۔ اُس کے مقابلے میں یعقوب شائستہ تھا اور ڈیرے میں رہنا پسند کرتا تھا۔- %اِس کے بعد دوسرا بچہ پیدا ہوا۔ وہ عیسَو کی ایڑی پکڑے ہوئے نکلا، اِس لئے اُس کا نام یعقوب یعنی ’ایڑی پکڑنے والا‘ رکھا گیا۔ اُس وقت اسحاق 60 سال کا تھا۔,  پہلا بچہ نکلا تو سرخ سا تھا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ گھنے بالوں کا کوٹ ہی پہنے ہوئے ہے۔ اِس لئے اُس کا نام عیسَو یعنی ’بالوں والا‘ رکھا گیا۔ p~E4 !یعقوب نے کہا، ”پہلے قَسم کھا کر مجھے یہ حق بیچ دو۔“ عیسَو نے قَسم کھا کر اُسے پہلوٹھے کا حق منتقل کر دیا۔ 3  عیسَو نے کہا، ”مَیں تو بھوک سے مر رہا ہوں، پہلوٹھے کا حق میرے کس کام کا؟“_2 ;یعقوب نے کہا، ”پہلے مجھے پہلوٹھے کا حق بیچ دو۔“1 %اُس نے کہا، ”مجھے جلدی سے لال سالن، ہاں اِسی لال سالن سے کچھ کھانے کو دو۔ مَیں تو بےدم ہو رہا ہوں۔“ (اِسی لئے بعد میں اُس کا نام ادوم یعنی سرخ پڑ گیا۔)u0 gایک دن یعقوب سالن پکا رہا تھا کہ عیسَو تھکا ہارا جنگل سے آیا۔ e  e!7 ?رب نے اسحاق پر ظاہر ہو کر کہا، ”مصر نہ جا بلکہ اُس ملک میں بس جو مَیں تجھے دکھاتا ہوں۔|6  wاُس ملک میں دوبارہ کال پڑا، جس طرح ابراہیم کے دنوں میں بھی پڑ گیا تھا۔ اسحاق جرار شہر گیا جس پر فلستیوں کے بادشاہ ابی مَلِک کی حکومت تھی۔r5 a"تب یعقوب نے اُسے کچھ روٹی اور دال دے دی، اور عیسَو نے کھایا اور پیا۔ پھر وہ اُٹھ کر چلا گیا۔ یوں اُس نے پہلوٹھے کے حق کو حقیر جانا۔ F;  چنانچہ اسحاق جرار میں آباد ہو گیا۔2: aمَیں تجھے اِس لئے برکت دوں گا کہ ابراہیم میرے تابع رہا اور میری ہدایات اور احکام پر چلتا رہا۔“9 مَیں تجھے اِتنی اولاد دوں گا جتنے آسمان پر ستارے ہیں۔ اور مَیں یہ تمام ملک اُنہیں دے دوں گا۔ تیری اولاد سے دنیا کی تمام قومیں برکت پائیں گی۔k8 Sاُس ملک میں اجنبی رہ تو مَیں تیرے ساتھ ہوں گا اور تجھے برکت دوں گا۔ کیونکہ مَیں تجھے اور تیری اولاد کو یہ تمام علاقہ دوں گا اور وہ وعدہ پورا کروں گا جو مَیں نے قَسم کھا کر تیرے باپ ابراہیم سے کیا تھا۔ 1 1W= +کافی وقت گزر گیا۔ ایک دن فلستیوں کے بادشاہ نے اپنی کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھا کہ اسحاق اپنی بیوی کو پیار کر رہا ہے۔p< ]جب وہاں کے مردوں نے رِبقہ کے بارے میں پوچھا تو اسحاق نے کہا، ”یہ میری بہن ہے۔“ وہ اُنہیں یہ بتانے سے ڈرتا تھا کہ یہ میری بیوی ہے، کیونکہ اُس نے سوچا، ”رِبقہ نہایت خوب صورت ہے۔ اگر اُنہیں معلوم ہو جائے کہ رِبقہ میری بیوی ہے تو وہ اُسے حاصل کرنے کی خاطر مجھے قتل کر دیں گے۔“ eH@   پھر ابی مَلِک نے تمام لوگوں کو حکم دیا، ”جو بھی اِس مرد یا اُس کی بیوی کو چھیڑے اُسے سزائے موت دی جائے گی۔“K?  ابی مَلِک نے کہا، ”آپ نے ہمارے ساتھ کیسا سلوک کر دکھایا! کتنی آسانی سے میرے آدمیوں میں سے کوئی آپ کی بیوی سے ہم بستر ہو جاتا۔ اِس طرح ہم آپ کے سبب سے ایک بڑے جرم کے قصوروار ٹھہرتے۔“H>   اُس نے اسحاق کو بُلا کر کہا، ”وہ تو آپ کی بیوی ہے! آپ نے کیوں کہا کہ میری بہن ہے؟“ اسحاق نے جواب دیا، ”مَیں نے سوچا کہ اگر مَیں بتاؤں کہ یہ میری بیوی ہے تو لوگ مجھے قتل کر دیں گے۔“ !I [!yF oچنانچہ اسحاق نے وہاں سے جا کر جرار کی وادی میں اپنے ڈیرے لگائے۔:E qآخرکار ابی مَلِک نے اسحاق سے کہا، ”کہیں اَور جا کر رہیں، کیونکہ آپ ہم سے زیادہ زورآور ہو گئے ہیں۔“AD اب ایسا ہوا کہ اُنہوں نے اُن تمام کنوؤں کو مٹی سے بھر کر بند کر دیا جو اُس کے باپ کے نوکروں نے کھودے تھے۔C /اُس کے پاس اِتنی بھیڑبکریاں، گائےبَیل اور غلام تھے کہ فلستی اُس سے حسد کرنے لگے۔B   اور وہ امیر ہو گیا۔ اُس کی دولت بڑھتی گئی، اور وہ نہایت دولت مند ہو گیا۔3A c اسحاق نے اُس علاقے میں کاشت کاری کی، اور اُسی سال اُسے سَو گُنا پھل ملا۔ یوں رب نے اُسے برکت دی، qgRq]J 7اسحاق کے نوکروں نے ایک اَور کنواں کھود لیا۔ لیکن اُس پر بھی جھگڑا ہوا، اِس لئے اُس نے اُس کا نام ستنہ یعنی مخالفت رکھا۔I لیکن جرار کے چرواہے آ کر اسحاق کے چرواہوں سے جھگڑنے لگے۔ اُنہوں نے کہا، ”یہ ہمارا کنواں ہے!“ اِس لئے اُس نے اُس کنوئیں کا نام عِسق یعنی جھگڑا رکھا۔sH cاسحاق کے نوکروں کو وادی میں کھودتے کھودتے تازہ پانی مل گیا۔G ;وہاں فلستیوں نے ابراہیم کی موت کے بعد تمام کنوؤں کو مٹی سے بھر دیا تھا۔ اسحاق نے اُن کو دوبارہ کھدوایا۔ اُس نے اُن کے وہی نام رکھے جو اُس کے باپ نے رکھے تھے۔ x?NM اُسی رات رب اُس پر ظاہر ہوا اور کہا، ”مَیں تیرے باپ ابراہیم کا خدا ہوں۔ مت ڈر، کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ مَیں تجھے برکت دوں گا اور تجھے اپنے خادم ابراہیم کی خاطر بہت اولاد دوں گا۔“6L kوہاں سے وہ بیرسبع چلا گیا۔K وہاں سے جا کر اُس نے ایک تیسرا کنواں کھدوایا۔ اِس دفعہ کوئی جھگڑا نہ ہوا، اِس لئے اُس نے اُس کا نام رحوبوت یعنی ’کھلی جگہ‘ رکھا۔ کیونکہ اُس نے کہا، ”رب نے ہمیں کھلی جگہ دی ہے، اور اب ہم ملک میں پھلیں پھولیں گے۔“ jrjQ 9اُنہوں نے جواب دیا، ”ہم نے جان لیا ہے کہ رب آپ کے ساتھ ہے۔ اِس لئے ہم نے کہا کہ ہمارا آپ کے ساتھ عہد ہونا چاہئے۔ آئیے ہم قَسم کھا کر ایک دوسرے سے عہد باندھیںbP Aاسحاق نے پوچھا، ”آپ کیوں میرے پاس آئے ہیں؟ آپ تو مجھ سے نفرت رکھتے ہیں۔ کیا آپ نے مجھے اپنے درمیان سے خارج نہیں کیا تھا؟“!O ?ایک دن ابی مَلِک، اُس کا ساتھی اخوزت اور اُس کا سپہ سالار فیکل جرار سے اُس کے پاس آئے۔eN Gوہاں اسحاق نے قربان گاہ بنائی اور رب کا نام لے کر عبادت کی۔ وہاں اُس نے اپنے خیمے لگائے اور اُس کے نوکروں نے کنواں کھود لیا۔ J(1;EOYcmw !+5?IS]gq{$.8BLV`jt~  "                     "                                                                        !  "  #                                                                        !  "  #  $  %  & fKYfoU [ اُسی دن اسحاق کے نوکر آئے اور اُسے اُس کنوئیں کے بارے میں اطلاع دی جو اُنہوں نے کھودا تھا۔ اُنہوں نے کہا، ”ہمیں پانی مل گیا ہے۔“nT Yپھر صبح سویرے اُٹھ کر اُنہوں نے ایک دوسرے کے سامنے قَسم کھائی۔ اِس کے بعد اسحاق نے اُنہیں رُخصت کیا اور وہ سلامتی سے روانہ ہوئے۔iS Oاسحاق نے اُن کی ضیافت کی، اور اُنہوں نے کھایا اور پیا۔ER کہ آپ ہمیں نقصان نہیں پہنچائیں گے، کیونکہ ہم نے بھی آپ کو نہیں چھیڑا بلکہ آپ سے صرف اچھا سلوک کیا اور آپ کو سلامتی کے ساتھ رُخصت کیا ہے۔ اور اب ظاہر ہے کہ رب نے آپ کو برکت دی ہے۔“ c$,[ !اِس لئے اپنا تیر کمان لے کر جنگل میں نکل جا اور میرے لئے کسی جانور کا شکار کر۔vZ iاسحاق نے کہا، ”مَیں بوڑھا ہو گیا ہوں اور خدا جانے کب مر جاؤں۔tY  gاسحاق بوڑھا ہو گیا تو اُس کی نظر دُھندلا گئی۔ اُس نے اپنے بڑے بیٹے کو بُلا کر کہا، ”بیٹا۔“ عیسَو نے جواب دیا، ”جی، مَیں حاضر ہوں۔“mX W#یہ عورتیں اسحاق اور رِبقہ کے لئے بڑے دُکھ کا باعث بنیں۔ KW "جب عیسَو 40 سال کا تھا تو اُس نے دو حِتّی عورتوں سے شادی کی، بیری کی بیٹی یہودِت سے اور ایلون کی بیٹی باسمت سے۔V /!اُس نے کنوئیں کا نام ’سبع‘ یعنی قَسم رکھا۔ آج تک ساتھ والے شہر کا نام بیرسبع ہے۔ 646]` 7اب سنو، میرے بیٹے! جو کچھ مَیں بتاتی ہوں وہ کرو۔_ 1’میرے لئے کسی جانور کا شکار کر کے لے آ۔ اُسے تیار کر کے میرے لئے لذیذ کھانا پکا۔ مرنے سے پہلے مَیں یہ کھانا کھا کر تجھے رب کے سامنے برکت دینا چاہتا ہوں۔‘}^ w”ابھی ابھی مَیں نے تمہارے ابو کو عیسَو سے یہ بات کرتے ہوئے سنا کہG]  رِبقہ نے اسحاق کی عیسَو کے ساتھ بات چیت سن لی تھی۔ جب عیسَو شکار کرنے کے لئے چلا گیا تو اُس نے یعقوب سے کہا،}\ wاُسے تیار کر کے ایسا لذیذ کھانا پکا جو مجھے پسند ہے۔ پھر اُسے میرے پاس لے آ۔ مرنے سے پہلے مَیں وہ کھانا کھا کر تجھے برکت دینا چاہتا ہوں۔“ 818Le  اُس کی ماں نے کہا، ”تم پر آنے والی لعنت مجھ پر آئے، بیٹا۔ بس میری بات مان لو۔ جاؤ اور بکریوں کے وہ بچے لے آؤ۔“Ud ' کہیں مجھے چھونے سے میرے باپ کو پتا نہ چل جائے کہ مَیں اُسے فریب دے رہا ہوں۔ پھر مجھ پر برکت نہیں بلکہ لعنت آئے گی۔“/c [ لیکن یعقوب نے اعتراض کیا، ”آپ جانتی ہیں کہ عیسَو کے جسم پر گھنے بال ہیں جبکہ میرے بال کم ہیں۔b / تم یہ کھانا اُس کے پاس لے جاؤ گے تو وہ اُسے کھا کر مرنے سے پہلے تمہیں برکت دے گا۔“Ka  جا کر ریوڑ میں سے بکریوں کے دو اچھے اچھے بچے چن لو۔ پھر مَیں وہی لذیذ کھانا پکاؤں گی جو تمہارے ابو کو پسند ہے۔ h3E h j =یعقوب نے اپنے باپ کے پاس جا کر کہا، ”ابو جی۔“ اسحاق نے کہا، ”جی، بیٹا۔ تُو کون ہے؟“i پھر اُس نے اپنے بیٹے یعقوب کو روٹی اور وہ لذیذ کھانا دیا جو اُس نے پکایا تھا۔ h =ساتھ ساتھ اُس نے بکریوں کی کھالیں اُس کے ہاتھوں اور گردن پر جہاں بال نہ تھے لپیٹ دیں۔jg Qعیسَو کے خاص موقعوں کے لئے اچھے لباس رِبقہ کے پاس گھر میں تھے۔ اُس نے اُن میں سے بہترین لباس چن کر اپنے چھوٹے بیٹے کو پہنا دیا۔If چنانچہ وہ گیا اور اُنہیں اپنی ماں کے پاس لے آیا۔ رِبقہ نے ایسا لذیذ کھانا پکایا جو یعقوب کے باپ کو پسند تھا۔ GGOn یعقوب اپنے باپ کے نزدیک آیا۔ اسحاق نے اُسے چھو کر کہا، ”تیری آواز تو یعقوب کی ہے لیکن تیرے ہاتھ عیسَو کے ہیں۔“8m mاسحاق نے کہا، ”بیٹا، میرے قریب آ تاکہ مَیں تجھے چھو لوں کہ تُو واقعی میرا بیٹا عیسَو ہے کہ نہیں۔“ol [اسحاق نے پوچھا، ”بیٹا، تجھے یہ شکار اِتنی جلدی کس طرح مل گیا؟“ اُس نے جواب دیا، ”رب آپ کے خدا نے اُسے میرے سامنے سے گزرنے دیا۔“3k cاُس نے کہا، ”مَیں آپ کا پہلوٹھا عیسَو ہوں۔ مَیں نے وہ کیا ہے جو آپ نے مجھے کہا تھا۔ اب ذرا اُٹھیں اور بیٹھ کر میرے شکار کا کھانا کھائیں تاکہ آپ بعد میں مجھے برکت دیں۔“ E~c[r 3پھر کہا، ”بیٹا، میرے پاس آ اور مجھے بوسہ دے۔“q +آخرکار اسحاق نے کہا، ”شکار کا کھانا میرے پاس لے آ، بیٹا۔ اُسے کھانے کے بعد مَیں تجھے برکت دوں گا۔“ یعقوب کھانا اور مَے لے آیا۔ اسحاق نے کھایا اور پیا،Cp توبھی اُس نے دوبارہ پوچھا، ”کیا تُو واقعی میرا بیٹا عیسَو ہے؟“ یعقوب نے جواب دیا، ”جی، مَیں وہی ہوں۔“7o kیوں اُس نے فریب کھایا۔ چونکہ یعقوب کے ہاتھ عیسَو کے ہاتھ کی مانند تھے اِس لئے اُس نے اُسے برکت دی۔ #ru aقومیں تیری خدمت کریں، اور اُمّتیں تیرے سامنے جھک جائیں۔ اپنے بھائیوں کا حکمران بن، اور تیری ماں کی اولاد تیرے سامنے گھٹنے ٹیکے۔ جو تجھ پر لعنت کرے وہ خود لعنتی ہو اور جو تجھے برکت دے وہ خود برکت پائے۔“!t ?اللہ تجھے آسمان کی اوس اور زمین کی زرخیزی دے۔ وہ تجھے کثرت کا اناج اور انگور کا رس دے۔4s eیعقوب نے پاس آ کر اُسے بوسہ دیا۔ اسحاق نے اُس کے لباس کو سونگھ کر اُسے برکت دی۔ اُس نے کہا، ”میرے بیٹے کی خوشبو اُس کھلے میدان کی خوشبو کی مانند ہے جسے رب نے برکت دی ہے۔ 6RS6{y s!اسحاق گھبرا کر شدت سے کانپنے لگا۔ اُس نے پوچھا، ”پھر وہ کون تھا جو کسی جانور کا شکار کر کے میرے پاس لے آیا؟ تیرے آنے سے ذرا پہلے مَیں نے اُس شکار کا کھانا کھا کر اُس شخص کو برکت دی۔ اب وہ برکت اُسی پر رہے گی۔“x 1 اسحاق نے پوچھا، ”تُو کون ہے؟“ اُس نے جواب دیا، ”مَیں آپ کا بڑا بیٹا عیسَو ہوں۔“{w sوہ بھی لذیذ کھانا پکا کر اُسے اپنے باپ کے پاس لے آیا۔ اُس نے کہا، ”ابو جی، اُٹھیں اور میرے شکار کا کھانا کھائیں تاکہ آپ مجھے برکت دیں۔“*v Qاسحاق کی برکت کے بعد یعقوب ابھی رُخصت ہی ہوا تھا کہ اُس کا بھائی عیسَو شکار کر کے واپس آیا۔  [ | +$عیسَو نے کہا، ”اُس کا نام یعقوب ٹھیک ہی رکھا گیا ہے، کیونکہ اب اُس نے مجھے دوسری بار دھوکا دیا ہے۔ پہلے اُس نے پہلوٹھے کا حق مجھ سے چھین لیا اور اب میری برکت بھی زبردستی لے لی۔ کیا آپ نے میرے لئے کوئی برکت محفوظ نہیں رکھی؟“3{ c#لیکن اسحاق نے جواب دیا، ”تیرے بھائی نے آ کر مجھے فریب دیا۔ اُس نے تیری برکت تجھ سے چھین لی ہے۔“!z ?"یہ سن کر عیسَو زوردار اور تلخ چیخیں مارنے لگا۔ ”ابو، مجھے بھی برکت دیں،“ اُس نے کہا۔   'پھر اسحاق نے کہا، ”تُو زمین کی زرخیزی اور آسمان کی اوس سے محروم رہے گا۔k~ S&لیکن عیسَو خاموش نہ ہوا بلکہ کہا، ”ابو، کیا آپ کے پاس واقعی صرف یہی برکت تھی؟ ابو، مجھے بھی برکت دیں۔“ وہ زار و قطار رونے لگا۔h} M%لیکن اسحاق نے کہا، ”مَیں نے اُسے تیرا حکمران اور اُس کے تمام بھائیوں کو اُس کے خادم بنا دیا ہے۔ مَیں نے اُسے اناج اور انگور کا رس مہیا کیا ہے۔ اب مجھے بتا بیٹا، کیا کچھ رہ گیا ہے جو مَیں تجھے دوں؟“  -*رِبقہ کو اپنے بڑے بیٹے عیسَو کا یہ ارادہ معلوم ہوا۔ اُس نے یعقوب کو بُلا کر کہا، ”تمہارا بھائی بدلہ لینا چاہتا ہے۔ وہ تمہیں قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔K )باپ کی برکت کے سبب سے عیسَو یعقوب کا دشمن بن گیا۔ اُس نے دل میں کہا، ”وہ دن قریب آ گئے ہیں کہ ابو انتقال کر جائیں گے اور ہم اُن کا ماتم کریں گے۔ پھر مَیں اپنے بھائی کو مار ڈالوں گا۔“  (تُو صرف اپنی تلوار کے سہارے زندہ رہے گا اور اپنے بھائی کی خدمت کرے گا۔ لیکن ایک دن تُو بےچین ہو کر اُس کا جوا اپنی گردن پر سے اُتار پھینکے گا۔“ 9\9D .پھر رِبقہ نے اسحاق سے بات کی، ”مَیں عیسَو کی بیویوں کے سبب سے اپنی زندگی سے تنگ ہوں۔ اگر یعقوب بھی اِس ملک کی عورتوں میں سے کسی سے شادی کرے تو بہتر ہے کہ مَیں پہلے ہی مر جاؤں۔“ V )-جب اُس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور وہ تمہارے اُس کے ساتھ کئے گئے سلوک کو بھول جائے گا، تب مَیں اطلاع دوں گی کہ تم وہاں سے واپس آ سکتے ہو۔ مَیں کیوں ایک ہی دن میں تم دونوں سے محروم ہو جاؤں؟“~ y,وہاں کچھ دن ٹھہرے رہنا جب تک تمہارے بھائی کا غصہ ٹھنڈا نہ ہو جائے۔  =+بیٹا، اب میری سنو، یہاں سے ہجرت کر جاؤ۔ حاران شہر میں میرے بھائی لابن کے پاس چلے جاؤ۔ Kxq  _وہ تجھے اور تیری اولاد کو ابراہیم کی برکت دے جسے اُس نے یہ ملک دیا جس میں تُو مہمان کے طور پر رہتا ہے۔ یہ ملک تمہارے قبضے میں آئے۔“D  اللہ قادرِ مطلق تجھے برکت دے کر پھلنے پھولنے دے اور تجھے اِتنی اولاد دے کہ تُو بہت ساری قوموں کا باپ بنے۔O اب سیدھے مسوپتامیہ میں اپنے نانا بتوایل کے گھر جا اور وہاں اپنے ماموں لابن کی لڑکیوں میں سے کسی ایک سے شادی کر۔1  aاسحاق نے یعقوب کو بُلا کر اُسے برکت دی اور کہا، ”لازم ہے کہ تُو کسی کنعانی عورت سے شادی نہ کرے۔ /u g اِس لئے وہ ابراہیم کے بیٹے اسمٰعیل کے پاس گیا اور اُس کی بیٹی محلت سے شادی کی۔ وہ نبایوت کی بہن تھی۔ یوں اُس کی بیویوں میں اضافہ ہوا۔s cعیسَو سمجھ گیا کہ کنعانی عورتیں میرے باپ کو منظور نہیں ہیں۔l  Uاور کہ یعقوب اپنے ماں باپ کی سن کر مسوپتامیہ چلا گیا ہے۔3  cعیسَو کو پتا چلا کہ اسحاق نے یعقوب کو برکت دے کر مسوپتامیہ بھیج دیا ہے تاکہ وہاں شادی کرے۔ اُسے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسحاق نے اُسے کنعانی عورت سے شادی کرنے سے منع کیا ہےM  یوں اسحاق نے یعقوب کو مسوپتامیہ میں لابن کے گھر بھیجا۔ لابن اَرامی مرد بتوایل کا بیٹا اور رِبقہ کا بھائی تھا۔ | u رب اُس کے اوپر کھڑا تھا۔ اُس نے کہا، ”مَیں رب ابراہیم اور اسحاق کا خدا ہوں۔ مَیں تجھے اور تیری اولاد کو یہ زمین دوں گا جس پر تُو لیٹا ہے۔\ 5 جب وہ سو رہا تھا تو خواب میں ایک سیڑھی دیکھی جو زمین سے آسمان تک پہنچتی تھی۔ فرشتے اُس پر چڑھتے اور اُترتے نظر آتے تھے۔^ 9 جب سورج غروب ہوا تو وہ رات گزارنے کے لئے رُک گیا اور وہاں کے پتھروں میں سے ایک کو لے کر اُسے اپنے سرہانے رکھا اور سو گیا۔O  یعقوب بیرسبع سے حاران کی طرف روانہ ہوا۔ ,) Oوہ ڈر گیا اور کہا، ”یہ کتنا خوف ناک مقام ہے۔ یہ تو اللہ ہی کا گھر اور آسمان کا دروازہ ہے۔“ 9تب یعقوب جاگ اُٹھا۔ اُس نے کہا، ”یقیناً رب یہاں حاضر ہے، اور مجھے معلوم نہیں تھا۔“& Iمَیں تیرے ساتھ ہوں گا، تجھے محفوظ رکھوں گا اور آخرکار تجھے اِس ملک میں واپس لاؤں گا۔ ممکن ہی نہیں کہ مَیں تیرے ساتھ اپنا وعدہ پورا کرنے سے پہلے تجھے چھوڑ دوں۔“ تیری اولاد زمین پر خاک کی طرح بےشمار ہو گی، اور تُو چاروں طرف پھیل جائے گا۔ دنیا کی تمام قومیں تیرے اور تیری اولاد کے وسیلے سے برکت پائیں گی۔ G` =جہاں یہ پتھر ستون کے طور پر کھڑا ہے وہاں اللہ کا گھر ہو گا، اور جو بھی تُو مجھے دے گا اُس کا دسواں حصہ تجھے دیا کروں گا۔“   اور مَیں سلامتی سے اپنے باپ کے گھر واپس پہنچوں تو پھر وہ میرا خدا ہو گا۔6 iاُس نے قَسم کھا کر کہا، ”اگر رب میرے ساتھ ہو، سفر پر میری حفاظت کرے، مجھے کھانا اور کپڑا مہیا کرے% Gاُس نے مقام کا نام بیت ایل یعنی ’اللہ کا گھر‘ رکھا (پہلے ساتھ والے شہر کا نام لُوز تھا)۔  یعقوب صبح سویرے اُٹھا۔ اُس نے وہ پتھر لیا جو اُس نے اپنے سرہانے رکھا تھا اور اُسے ستون کی طرح کھڑا کیا۔ پھر اُس نے اُس پر زیتون کا تیل اُنڈیل دیا۔ J)3=GQ[enx",6@IS]gq{%/9CMWaku  (  )  *  +  ,  -  .        (  )  *  +  ,  -  .                                                           !  "  #  $   %   &   '   (   )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8  9  :  ;   <  !=  ">  #?  @  A  B  C  D  E  F  G   H   I SpMS.  Yیعقوب نے چرواہوں سے پوچھا، ”میرے بھائیو، آپ کہاں کے ہیں؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”حاران کے۔“D وہاں پانی پلانے کا یہ طریقہ تھا کہ پہلے چرواہے تمام ریوڑوں کا انتظار کرتے اور پھر پتھر کو لُڑھکا کر منہ سے ہٹا دیتے تھے۔ پانی پلانے کے بعد وہ پتھر کو دوبارہ منہ پر رکھ دیتے تھے۔ ;وہاں اُس نے کھیت میں کنواں دیکھا جس کے ارد گرد بھیڑبکریوں کے تین ریوڑ جمع تھے۔ ریوڑوں کو کنوئیں کا پانی پلایا جانا تھا، لیکن اُس کے منہ پر بڑا پتھر پڑا تھا۔   یعقوب نے اپنا سفر جاری رکھا اور چلتے چلتے مشرقی قوموں کے ملک میں پہنچ گیا۔ obwxo$ اُنہوں نے جواب دیا، ”پہلے ضروری ہے کہ تمام ریوڑ یہاں پہنچیں۔ تب ہی پتھر کو لُڑھکا کر ایک طرف ہٹایا جائے گا اور ہم ریوڑوں کو پانی پلائیں گے۔“{# sیعقوب نے کہا، ”ابھی تو شام تک بہت وقت باقی ہے۔ ریوڑوں کو جمع کرنے کا وقت تو نہیں ہے۔ آپ کیوں اُنہیں پانی پلا کر دوبارہ چرنے نہیں دیتے؟“g" Kاُس نے پوچھا، ”کیا وہ خیریت سے ہے؟“ اُنہوں نے کہا، ”جی، وہ خیریت سے ہے۔ دیکھو، اُدھر اُس کی بیٹی راخل ریوڑ لے کر آ رہی ہے۔“! 1اُس نے پوچھا، ”کیا آپ نحور کے پوتے لابن کو جانتے ہیں؟“ اُنہوں نے کہا، ”جی ہاں۔“   <( u اُس نے کہا، ”مَیں آپ کے ابو کی بہن رِبقہ کا بیٹا ہوں۔“ یہ سن کر راخل نے بھاگ کر اپنے ابو کو اطلاع دی۔S' # پھر اُس نے اُسے بوسہ دیا اور خوب رونے لگا۔&  جب یعقوب نے راخل کو ماموں لابن کے ریوڑ کے ساتھ آتے دیکھا تو اُس نے کنوئیں کے پاس جا کر پتھر کو لُڑھکا کر منہ سے ہٹا دیا اور بھیڑبکریوں کو پانی پلایا۔\% 5 یعقوب ابھی اُن سے بات کر ہی رہا تھا کہ راخل اپنے باپ کا ریوڑ لے کر آ پہنچی، کیونکہ بھیڑبکریوں کو چَرانا اُس کا کام تھا۔ \SM\t- eلیاہ کی آنکھیں چُندھی تھیں جبکہ راخل ہر طرح سے خوب صورت تھی۔w, kلابن کی دو بیٹیاں تھیں۔ بڑی کا نام لیاہ تھا اور چھوٹی کا راخل۔+ پھر لابن یعقوب سے کہنے لگا، ”بےشک آپ میرے رشتے دار ہیں، لیکن آپ کو میرے لئے کام کرنے کے بدلے میں کچھ ملنا چاہئے۔ مَیں آپ کو کتنے پیسے دوں؟“* +لابن نے کہا، ”آپ واقعی میرے رشتے دار ہیں۔“ یعقوب نے وہاں ایک پورا مہینہ گزارا۔)  جب لابن نے سنا کہ میرا بھانجا یعقوب آیا ہے تو وہ دوڑ کر اُس سے ملنے گیا اور اُسے گلے لگا کر اپنے گھر لے آیا۔ یعقوب نے اُسے سب کچھ بتا دیا جو ہوا تھا۔ OprOv2 iلابن نے اُس مقام کے تمام لوگوں کو دعوت دے کر شادی کی ضیافت کی۔&1 Iاِس کے بعد اُس نے لابن سے کہا، ”مدت پوری ہو گئی ہے۔ اب مجھے اپنی بیٹی سے شادی کرنے دیں۔“z0 qپس یعقوب نے راخل کو پانے کے لئے سات سال تک کام کیا۔ لیکن اُسے ایسا لگا جیسا دو ایک دن ہی گزرے ہوں کیونکہ وہ راخل کو شدت سے پیار کرتا تھا۔(/ Mلابن نے کہا، ”کسی اَور آدمی کی نسبت مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ آپ ہی سے اُس کی شادی کراؤں۔“`. =یعقوب کو راخل سے محبت تھی، اِس لئے اُس نے کہا، ”اگر مجھے آپ کی چھوٹی بیٹی راخل مل جائے تو آپ کے لئے سات سال کام کروں گا۔“ V6 7لابن نے جواب دیا، ”یہاں دستور نہیں ہے کہ چھوٹی بیٹی کی شادی بڑی سے پہلے کر دی جائے۔K5 جب صبح ہوئی تو یعقوب نے دیکھا کہ لیاہ ہی میرے پاس ہے۔ اُس نے لابن کے پاس جا کر کہا، ”یہ آپ نے میرے ساتھ کیا کِیا ہے؟ کیا مَیں نے راخل کے لئے کام نہیں کیا؟ آپ نے مجھے دھوکا کیوں دیا؟“4 (لابن نے لیاہ کو اپنی لونڈی زِلفہ دے دی تھی تاکہ وہ اُس کی خدمت کرے۔)&3 Iلیکن اُس رات وہ راخل کی بجائے لیاہ کو یعقوب کے پاس لے آیا، اور یعقوب اُسی سے ہم بستر ہوا۔ f: Iیعقوب راخل سے بھی ہم بستر ہوا۔ وہ لیاہ کی نسبت اُسے زیادہ پیار کرتا تھا۔ پھر اُس نے راخل کے عوض سات سال اَور لابن کی خدمت کی۔|9 u(لابن نے راخل کو اپنی لونڈی بِلہاہ دے دی تاکہ وہ اُس کی خدمت کرے۔)c8 Cیعقوب مان گیا۔ چنانچہ جب ایک ہفتے کے بعد شادی کی رسومات پوری ہوئیں تو لابن نے اپنی بیٹی راخل کی شادی بھی اُس کے ساتھ کر دی۔7 +ایک ہفتے کے بعد شادی کی رسومات پوری ہو جائیں گی۔ اُس وقت تک صبر کریں۔ پھر مَیں آپ کو راخل بھی دے دوں گا۔ شرط یہ ہے کہ آپ مزید سات سال میرے لئے کام کریں۔“ D L= !وہ دوبارہ حاملہ ہوئی۔ ایک اَور بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے کہا، ”رب نے سنا کہ مجھ سے نفرت کی جاتی ہے، اِس لئے اُس نے مجھے یہ بھی دیا ہے۔“ اُس نے اُس کا نام شمعون یعنی ’رب نے سنا ہے‘ رکھا۔6< i لیاہ حاملہ ہوئی اور اُس کے بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے کہا، ”رب نے میری مصیبت دیکھی ہے اور اب میرا شوہر مجھے پیار کرے گا۔“ اُس نے اُس کا نام روبن یعنی ’دیکھو ایک بیٹا‘ رکھا۔8; mجب رب نے دیکھا کہ لیاہ سے نفرت کی جاتی ہے تو اُس نے اُسے اولاد دی جبکہ راخل کے ہاں بچے پیدا نہ ہوئے۔ E3Ej@  Sلیکن راخل بےاولاد ہی رہی، اِس لئے وہ اپنی بہن سے حسد کرنے لگی۔ اُس نے یعقوب سے کہا، ”مجھے بھی اولاد دیں ورنہ مَیں مر جاؤں گی۔“K? #وہ ایک بار پھر حاملہ ہوئی۔ چوتھا بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے کہا، ”اِس دفعہ مَیں رب کی تمجید کروں گی۔“ اُس نے اُس کا نام یہوداہ یعنی تمجید رکھا۔ اِس کے بعد اُس سے اَور بچے پیدا نہ ہوئے۔ z> q"وہ ایک اَور دفعہ حاملہ ہوئی۔ تیسرا بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے کہا، ”اب آخرکار شوہر کے ساتھ میرا بندھن مضبوط ہو جائے گا، کیونکہ مَیں نے اُس کے لئے تین بیٹوں کو جنم دیا ہے۔“ اُس نے اُس کا نام لاوی یعنی بندھن رکھا۔ ]f~gF Kبِلہاہ دوبارہ حاملہ ہوئی اور ایک اَور بیٹا پیدا ہوا۔ E =راخل نے کہا، ”اللہ نے میرے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ اُس نے میری دعا سن کر مجھے بیٹا دے دیا ہے۔“ اُس نے اُس کا نام دان یعنی ’کسی کے حق میں فیصلہ کرنے والا‘ رکھا۔JD بِلہاہ حاملہ ہوئی اور بیٹا پیدا ہوا۔tC eیوں اُس نے اپنے شوہر کو بِلہاہ دی، اور وہ اُس سے ہم بستر ہوا۔sB cراخل نے کہا، ”یہاں میری لونڈی بِلہاہ ہے۔ اُس کے ساتھ ہم بستر ہوں تاکہ وہ میرے لئے بچے کو جنم دے اور مَیں اُس کی معرفت ماں بن جاؤں۔“A ;یعقوب کو غصہ آیا۔ اُس نے کہا، ”کیا مَیں اللہ ہوں جس نے تجھے اولاد سے محروم رکھاہے؟“ &!6&EL  لیاہ نے کہا، ”مَیں کتنی مبارک ہوں۔ اب خواتین مجھے مبارک کہیں گی۔“ اُس نے اُس کا نام آشر یعنی مبارک رکھا۔DK  پھر زِلفہ کے دوسرا بیٹا پیدا ہوا۔%J G لیاہ نے کہا، ”مَیں کتنی خوش قسمت ہوں!“ چنانچہ اُس نے اُس کا نام جد یعنی خوش قسمتی رکھا۔?I } زِلفہ کے بھی ایک بیٹا پیدا ہوا۔\H 5 جب لیاہ نے دیکھا کہ میرے اَور بچے پیدا نہیں ہو رہے تو اُس نے یعقوب کو اپنی لونڈی زِلفہ دے دی تاکہ وہ بھی اُس کی بیوی ہو۔{G sراخل نے کہا، ”مَیں نے اپنی بہن سے سخت کُشتی لڑی ہے، لیکن جیت گئی ہوں۔“ اُس نے اُس کا نام نفتالی یعنی ’کُشتی میں مجھ سے جیتا گیا‘ رکھا۔ ]N 1لیاہ نے جواب دیا، ”کیا یہی کافی نہیں کہ تم نے میرے شوہر کو مجھ سے چھین لیا ہے؟ اب میرے بیٹے کے مردم گیاہ کو بھی چھیننا چاہتی ہو۔“ راخل نے کہا، ”اگر تم مجھے اپنے بیٹے کے مردم گیاہ میں سے دو تو آج رات یعقوب کے ساتھ سو سکتی ہو۔“M ;ایک دن اناج کی فصل کی کٹائی ہو رہی تھی کہ روبن باہر نکل کر کھیتوں میں چلا گیا۔ وہاں اُسے مردم گیاہ مل گئے۔ وہ اُنہیں اپنی ماں لیاہ کے پاس لے آیا۔ یہ دیکھ کر راخل نے لیاہ سے کہا، ”مجھے ذرا اپنے بیٹے کے مردم گیاہ میں سے کچھ دے دو۔“ eke~R yاِس کے بعد وہ ایک اَور دفعہ حاملہ ہوئی۔ اُس کے چھٹا بیٹا پیدا ہوا۔fQ Iلیاہ نے کہا، ”اللہ نے مجھے اِس کا اجر دیا ہے کہ مَیں نے اپنے شوہر کو اپنی لونڈی دی۔“ اُس نے اُس کا نام اِشکار یعنی اجر رکھا۔P +اُس وقت اللہ نے لیاہ کی دعا سنی اور وہ حاملہ ہوئی۔ اُس کے پانچواں بیٹا پیدا ہوا۔O شام کو یعقوب کھیتوں سے واپس آ رہا تھا کہ لیاہ آگے سے اُس سے ملنے کو گئی اور کہا، ”آج رات آپ کو میرے ساتھ سونا ہے، کیونکہ مَیں نے اپنے بیٹے کے مردم گیاہ کے عوض آپ کو اُجرت پر لیا ہے۔“ چنانچہ یعقوب نے لیاہ کے پاس رات گزاری۔ rTr W رب مجھے ایک اَور بیٹا دے۔“ اُس نے اُس کا نام یوسف یعنی ’وہ اَور دے‘ رکھا۔@V }وہ حاملہ ہوئی اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے کہا، ”مجھے بیٹا عطا کرنے سے اللہ نے میری عزت بحال کر دی ہے۔ U پھر اللہ نے راخل کو بھی یاد کیا۔ اُس نے اُس کی دعا سن کر اُسے اولاد بخشی۔jT Qاِس کے بعد بیٹی پیدا ہوئی۔ اُس نے اُس کا نام دینہ رکھا۔;S sاُس نے کہا، ”اللہ نے مجھے ایک اچھا خاصا تحفہ دیا ہے۔ اب میرا خاوند میرے ساتھ رہے گا، کیونکہ مجھ سے اُس کے چھ بیٹے پیدا ہوئے ہیں۔“ اُس نے اُس کا نام زبولون یعنی رہائش رکھا۔ ?)Hc[ Cاپنی اُجرت خود مقرر کریں تو مَیں وہی دیا کروں گا۔“]Z 7لیکن لابن نے کہا، ”مجھ پر مہربانی کریں اور یہیں رہیں۔ مجھے غیب دانی سے پتا چلا ہے کہ رب نے مجھے آپ کے سبب سے برکت دی ہے۔Y !مجھے میرے بال بچے دیں جن کے عوض مَیں نے آپ کی خدمت کی ہے۔ پھر مَیں چلا جاؤں گا۔ آپ تو خود جانتے ہیں کہ مَیں نے کتنی محنت کے ساتھ آپ کے لئے کام کیا ہے۔“=X wیوسف کی پیدائش کے بعد یعقوب نے لابن سے کہا، ”اب مجھے اجازت دیں کہ مَیں اپنے وطن اور گھر کو واپس جاؤں۔  / q^ _لابن نے کہا، ”مَیں آپ کو کیا دوں؟“ یعقوب نے کہا، ”مجھے کچھ نہ دیں۔ مَیں اِس شرط پر آپ کی بھیڑبکریوں کی دیکھ بھال جاری رکھوں گا کہ)] Oجو تھوڑا بہت میرے آنے سے پہلے آپ کے پاس تھا وہ اب بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ رب نے میرے کام سے آپ کو بہت برکت دی ہے۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ مَیں اپنے گھر کے لئے کچھ کروں۔“M\ یعقوب نے کہا، ”آپ جانتے ہیں کہ مَیں نے کس طرح آپ کے لئے کام کیا، کہ میرے وسیلے سے آپ کے مویشی کتنے بڑھ گئے ہیں۔ dyha M"لابن نے کہا، ”ٹھیک ہے۔ ایسا ہی ہو جیسا آپ نے کہا ہے۔“g` K!آئندہ جن بکریوں کے جسم پر چھوٹے یا بڑے دھبے ہوں گے یا جن بھیڑوں کا رنگ سفید نہیں ہو گا وہ میرا اجر ہوں گی۔ جب کبھی آپ اُن کا معائنہ کریں گے تو آپ معلوم کر سکیں گے کہ مَیں دیانت دار رہا ہوں۔ کیونکہ میرے جانوروں کے رنگ سے ہی ظاہر ہو گا کہ مَیں نے آپ کا کچھ چُرایا نہیں ہے۔“_ - آج مَیں آپ کے ریوڑ میں سے گزر کر اُن تمام بھیڑوں کو الگ کر لوں گا جن کے جسم پر چھوٹے یا بڑے دھبے ہوں یا جو سفید نہ ہوں۔ اِسی طرح مَیں اُن تمام بکریوں کو بھی الگ کر لوں گا جن کے جسم پر چھوٹے یا بڑے دھبے ہوں۔ یہی میری اُجرت ہو گی۔ {c s$جو اُن کے ساتھ یعقوب سے اِتنا دُور چلے گئے کہ اُن کے درمیان تین دن کا فاصلہ تھا۔ تب یعقوب لابن کی باقی بھیڑبکریوں کی دیکھ بھال کرتا گیا۔(b M#اُسی دن لابن نے اُن بکروں کو الگ کر لیا جن کے جسم پر دھاریاں یا دھبے تھے اور اُن تمام بکریوں کو جن کے جسم پر چھوٹے یا بڑے دھبے تھے۔ جس کے بھی جسم پر سفید نشان تھا اُسے اُس نے الگ کر لیا۔ اِسی طرح اُس نے اُن تمام بھیڑوں کو بھی الگ کر لیا جو پورے طور پر سفید نہ تھے۔ پھر لابن نے اُنہیں اپنے بیٹوں کے سپرد کر دیا h#8hLf 'جب وہ اِن شاخوں کے سامنے ملاپ کرتے تو جو بچے پیدا ہوتے اُن کے جسم پر چھوٹے اور بڑے دھبے اور دھاریاں ہوتی تھیں۔ge K&اُس نے اُنہیں بھیڑبکریوں کے سامنے اُن حوضوں میں گاڑ دیا جہاں وہ پانی پیتے تھے، کیونکہ وہاں یہ جانور مست ہو کر ملاپ کرتے تھے۔Yd /%یعقوب نے سفیدہ، بادام اور چنار کی ہری ہری شاخیں لے کر اُن سے کچھ چھلکا یوں اُتار دیا کہ اُس پر سفید دھاریاں نظر آئیں۔ DgD&j I+یوں یعقوب بہت امیر بن گیا۔ اُس کے پاس بہت سے ریوڑ، غلام اور لونڈیاں، اونٹ اور گدھے تھے۔ Di *کمزور جانوروں کے ساتھ اُس نے ایسا نہ کیا۔ اِسی طرح لابن کو کمزور جانور اور یعقوب کو طاقت ور جانور مل گئے۔-h W)لیکن اُس نے یہ شاخیں صرف اُس وقت حوضوں میں کھڑی کیں جب طاقت ور جانور مست ہو کر ملاپ کرتے تھے۔g '(پھر یعقوب نے بھیڑ کے بچوں کو الگ کر کے اپنے ریوڑوں کو لابن کے اُن جانوروں کے سامنے چرنے دیا جن کے جسم پر دھاریاں تھیں اور جو سفید نہ تھے۔ یوں اُس نے اپنے ذاتی ریوڑوں کو الگ کر لیا اور اُنہیں لابن کے ریوڑ کے ساتھ چرنے نہ دیا۔ J'1;EOYcmw !+5?IS]fpz$.8BLV`jt~   K   L  M  N  O  P  Q  R  S  T   K   L  M  N  O  P  Q  R  S  T  U  V  W  X  Y  Z  [  \  ]  ^   _  !`  "a  #b  $c  %d  &e  'f  (g  )h  *i  +j  k  l  m  n  o  p  q  r   s   t   u   v   w  x  y  z  {  |  }  ~                           !  "  #  $  %  &  '  (  )  * E,n Uاُس وقت یعقوب کھلے میدان میں اپنے ریوڑوں کے پاس تھا۔ اُس نے وہاں سے راخل اور لیاہ کو بُلا کر?m {پھر رب نے اُس سے کہا، ”اپنے باپ کے ملک اور اپنے رشتے داروں کے پاس واپس چلا جا۔ مَیں تیرے ساتھ ہوں گا۔“l  یعقوب نے یہ بھی دیکھا کہ لابن کا میرے ساتھ رویہ پہلے کی نسبت بگڑ گیا ہے۔+k  Uایک دن یعقوب کو پتا چلا کہ لابن کے بیٹے میرے بارے میں کہہ رہے ہیں، ”یعقوب نے ہمارے ابو سے سب کچھ چھین لیا ہے۔ اُس نے یہ تمام دولت ہمارے باپ کی ملکیت سے حاصل کی ہے۔“ :q qلیکن وہ مجھے فریب دیتا رہا اور میری اُجرت دس بار بدلی۔ تاہم اللہ نے اُسے مجھے نقصان پہنچانے نہ دیا۔p آپ دونوں جانتی ہیں کہ مَیں نے آپ کے ابو کے لئے کتنی جاں فشانی سے کام کیا ہے۔io Oاُن سے کہا، ”مَیں نے دیکھ لیا ہے کہ آپ کے باپ کا میرے ساتھ رویہ پہلے کی نسبت بگڑ گیا ہے۔ لیکن میرے باپ کا خدا میرے ساتھ رہا ہے۔ GGks S یوں اللہ نے آپ کے ابو کے مویشی چھین کر مجھے دے دیئے ہیں۔Gr  جب ماموں لابن کہتے تھے، ’جن جانوروں کے جسم پر دھبے ہوں وہی آپ کو اُجرت کے طور پر ملیں گے‘ تو تمام بھیڑبکریوں کے ایسے بچے پیدا ہوئے جن کے جسموں پر دھبے ہی تھے۔ جب اُنہوں نے کہا، ’جن جانوروں کے جسم پر دھاریاں ہوں گی وہی آپ کو اُجرت کے طور پر ملیں گے‘ تو تمام بھیڑبکریوں کے ایسے بچے پیدا ہوئے جن کے جسموں پر دھاریاں ہی تھیں۔ ::Tv % فرشتے نے کہا، ’اپنی نظر اُٹھا کر اُس پر غور کر جو ہو رہا ہے۔ وہ تمام مینڈھے اور بکرے جو بھیڑبکریوں سے ملاپ کر رہے ہیں اُن کے جسم پر بڑے اور چھوٹے دھبے اور دھاریاں ہیں۔ مَیں یہ خود کروا رہا ہوں، کیونکہ مَیں نے وہ سب کچھ دیکھ لیا ہے جو لابن نے تیرے ساتھ کیا ہے۔'u K اُس خواب میں اللہ کے فرشتے نے مجھ سے بات کی، ’یعقوب!‘ مَیں نے کہا، ’جی، مَیں حاضر ہوں۔‘?t { اب ایسا ہوا کہ حیوانوں کی مستی کے موسم میں مَیں نے ایک خواب دیکھا۔ اُس میں جو مینڈھے اور بکرے بھیڑبکریوں سے ملاپ کر رہے تھے اُن کے جسم پر بڑے اور چھوٹے دھبے اور دھاریاں تھیں۔ pz ]چنانچہ جو بھی دولت اللہ نے ہمارے باپ سے چھین لی ہے وہ ہماری اور ہمارے بچوں کی ہی ہے۔ اب جو کچھ بھی اللہ نے آپ کو بتایا ہے وہ کریں۔“Gy  اُس کا ہمارے ساتھ اجنبی کا سا سلوک ہے۔ پہلے اُس نے ہمیں بیچ دیا، اور اب اُس نے وہ سارے پیسے کھا بھی لئے ہیں۔6x iراخل اور لیاہ نے جواب میں یعقوب سے کہا، ”اب ہمیں اپنے باپ کی میراث سے کچھ ملنے کی اُمید نہیں رہی۔dw E مَیں وہ خدا ہوں جو بیت ایل میں تجھ پر ظاہر ہوا تھا، اُس جگہ جہاں تُو نے ستون پر تیل اُنڈیل کر اُسے میرے لئے مخصوص کیا اور میرے حضور قَسم کھائی تھی۔ اب اُٹھ اور روانہ ہو کر اپنے وطن واپس چلا جا‘۔“ bq _تین دن گزر گئے۔ پھر لابن کو بتایا گیا کہ یعقوب بھاگ گیا ہے۔K بلکہ اپنی ساری ملکیت سمیٹ کر فرار ہوا۔ دریائے فرات کو پار کر کے وہ جِلعاد کے پہاڑی علاقے کی طرف سفر کرنے لگا۔w~ kیعقوب نے لابن کو فریب دے کر اُسے اطلاع نہ دی کہ مَیں جا رہا ہوںS} #اُس وقت لابن اپنی بھیڑبکریوں کی پشم کترنے کو گیا ہوا تھا۔ اُس کی غیرموجودگی میں راخل نے اپنے باپ کے بُت چُرا لئے۔_| ;اور اپنے تمام مویشی اور مسوپتامیہ سے حاصل کیا ہوا تمام سامان لے کر ملکِ کنعان میں اپنے باپ کے ہاں جانے کے لئے روانہ ہوا۔g{ Kتب یعقوب نے اُٹھ کر اپنے بال بچوں کو اونٹوں پر بٹھایا WF4WY /اُس نے یعقوب سے کہا، ”یہ آپ نے کیا کِیا ہے؟ آپ مجھے دھوکا دے کر میری بیٹیوں کو کیوں جنگی قیدیوں کی طرح ہانک لائے ہیں؟ جب لابن اُس کے پاس پہنچا تو یعقوب نے جِلعاد کے پہاڑی علاقے میں اپنے خیمے لگائے ہوئے تھے۔ لابن نے بھی اپنے رشتے داروں کے ساتھ وہیں اپنے خیمے لگائے۔4 eلیکن اُس رات اللہ نے خواب میں لابن کے پاس آ کر اُس سے کہا، ”خبردار! یعقوب کو بُرا بھلا نہ کہنا۔“~ yاپنے رشتے داروں کو ساتھ لے کر اُس نے اُس کا تعاقب کیا۔ سات دن چلتے چلتے اُس نے یعقوب کو آ لیا جب وہ جِلعاد کے پہاڑی علاقے میں پہنچ گیا تھا۔ b:Ubo [ٹھیک ہے، آپ اِس لئے چلے گئے کہ اپنے باپ کے گھر واپس جانے کے بڑے آرزومند تھے۔ لیکن یہ آپ نے کیا کِیا ہے کہ میرے بُت چُرا لائے ہیں؟“a ?مَیں آپ کو بہت نقصان پہنچا سکتا ہوں۔ لیکن پچھلی رات آپ کے ابو کے خدا نے مجھ سے کہا، ’خبردار! یعقوب کو بُرا بھلا نہ کہنا۔‘B آپ نے مجھے اپنے نواسے نواسیوں اور بیٹیوں کو بوسہ دینے کا موقع بھی نہ دیا۔ آپ کی یہ حرکت بڑی احمقانہ تھی۔| uآپ کیوں مجھے فریب دے کر خاموشی سے بھاگ آئے ہیں؟ اگر آپ مجھے اطلاع دیتے تو مَیں آپ کو خوشی خوشی دف اور سرود کے ساتھ گاتے بجاتے رُخصت کرتا۔ gsgX  -!لابن یعقوب کے خیمے میں داخل ہوا اور ڈھونڈنے لگا۔ وہاں سے نکل کر وہ لیاہ کے خیمے میں اور دونوں لونڈیوں کے خیمے میں گیا۔ لیکن اُس کے بُت کہیں نظر نہ آئے۔ آخر میں وہ راخل کے خیمے میں داخل ہوا۔,  U لیکن اگر آپ کو یہاں کسی کے پاس اپنے بُت مل جائیں تو اُسے سزائے موت دی جائے۔ ہمارے رشتے داروں کی موجودگی میں معلوم کریں کہ میرے پاس آپ کی کوئی چیز ہے کہ نہیں۔ اگر ہے تو اُسے لے لیں۔“ یعقوب کو معلوم نہیں تھا کہ راخل نے بُتوں کو چُرایا ہے۔  یعقوب نے جواب دیا، ”مجھے ڈر تھا کہ آپ اپنی بیٹیوں کو مجھ سے چھین لیں گے۔ * Q$پھر یعقوب کو غصہ آیا اور وہ لابن سے جھگڑنے لگا۔ اُس نے پوچھا، ”مجھ سے کیا جرم سرزد ہوا ہے؟ مَیں نے کیا گناہ کیا ہے کہ آپ اِتنی تُندی سے میرے تعاقب کے لئے نکلے ہیں؟S  ##راخل نے اپنے باپ سے کہا، ”ابو، مجھ سے ناراض نہ ہونا کہ مَیں آپ کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی۔ مَیں ایامِ ماہواری کے سبب سے اُٹھ نہیں سکتی۔“ لابن اُسے چھوڑ کر ڈھونڈتا رہا، لیکن کچھ نہ ملا۔j  Q"راخل بُتوں کو اونٹوں کی ایک کاٹھی کے نیچے چھپا کر اُس پر بیٹھ گئی تھی۔ لابن ٹٹول ٹٹول کر پورے خیمے میں سے گزرا لیکن بُت نہ ملے۔ GG  'جب بھی کوئی بھیڑ یا بکری کسی جنگلی جانور نے پھاڑ ڈالی تو مَیں اُسے آپ کے پاس نہ لایا بلکہ مجھے خود اُس کا نقصان بھرنا پڑا۔ آپ کا تقاضا تھا کہ مَیں خود چوری ہوئے مال کا عوضانہ دوں، خواہ وہ دن کے وقت چوری ہوا یا رات کو۔t e&مَیں بیس سال تک آپ کے ساتھ رہا ہوں۔ اُس دوران آپ کی بھیڑبکریاں بچوں سے محروم نہیں رہیں بلکہ مَیں نے آپ کا ایک مینڈھا بھی نہیں کھایا۔1 _%آپ نے ٹٹول ٹٹول کر میرے سارے سامان کی تلاشی لی ہے۔ تو آپ کا کیا نکلا ہے؟ اُسے یہاں اپنے اور میرے رشتے داروں کے سامنے رکھیں۔ پھر وہ فیصلہ کریں کہ ہم میں سے کون حق پر ہے۔ i!i *اگر میرے باپ اسحاق کا خدا اور میرے دادا ابراہیم کا معبود میرے ساتھ نہ ہوتا تو آپ مجھے ضرور خالی ہاتھ رُخصت کرتے۔ لیکن اللہ نے میری مصیبت اور میری سخت محنت مشقت دیکھی ہے، اِس لئے اُس نے کل رات کو میرے حق میں فیصلہ دیا۔“" A)پورے بیس سال اِسی حالت میں گزر گئے۔ چودہ سال مَیں نے آپ کی بیٹیوں کے عوض کام کیا اور چھ سال آپ کی بھیڑبکریوں کے لئے۔ اُس دوران آپ نے دس بار میری تنخواہ بدل دی۔[ 3(مَیں دن کی شدید گرمی کے باعث پگھل گیا اور رات کی شدید سردی کے باعث جم گیا۔ کام اِتنا سخت تھا کہ مَیں نیند سے محروم رہا۔ YcY  .اُس نے اپنے رشتے داروں سے کہا، ”کچھ پتھر جمع کریں۔“ اُنہوں نے پتھر جمع کر کے ڈھیر لگا دیا۔ پھر اُنہوں نے اُس ڈھیر کے پاس بیٹھ کر کھانا کھایا۔s c-چنانچہ یعقوب نے ایک پتھر لے کر اُسے ستون کے طور پر کھڑا کیا۔S #,اِس لئے آؤ، ہم ایک دوسرے کے ساتھ عہد باندھیں۔ اِس کے لئے ہم یہاں پتھروں کا ڈھیر لگائیں جو عہد کی گواہی دیتا رہے۔“L +تب لابن نے یعقوب سے کہا، ”یہ بیٹیاں تو میری بیٹیاں ہیں، اور اِن کے بچے میرے بچے ہیں۔ یہ بھیڑبکریاں بھی میری ہی ہیں۔ لیکن اب مَیں اپنی بیٹیوں اور اُن کے بچوں کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ 8. 12میری بیٹیوں سے بُرا سلوک نہ کرنا، نہ اُن کے علاوہ کسی اَور سے شادی کرنا۔ اگر مجھے پتا بھی نہ چلے لیکن ضرور یاد رکھیں کہ اللہ میرے اور آپ کے سامنے گواہ ہے۔  1اُس کا ایک اَور نام مِصفاہ یعنی ’پہرے داروں کا مینار‘ بھی رکھا گیا۔ کیونکہ لابن نے کہا، ”رب ہم پر پہرا دے جب ہم ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے۔> y0لابن نے کہا، ”آج ہم دونوں کے درمیان یہ ڈھیر عہد کی گواہی دیتا ہے۔“ اِس لئے اُس کا نام جلعید رکھا گیا۔ /لابن نے اُس کا نام ’یجرشاہدوتھا‘ رکھا جبکہ یعقوب نے ’جلعید‘ رکھا۔ دونوں ناموں کا مطلب ’گواہی کا ڈھیر‘ ہے یعنی وہ ڈھیر جو گواہی دیتا ہے۔ @J@   6اُس نے پہاڑ پر ایک جانور قربانی کے طور پر چڑھایا اور اپنے رشتے داروں کو کھانا کھانے کی دعوت دی۔ اُنہوں نے کھانا کھا کر وہیں پہاڑ پر رات گزاری۔= w5ابراہیم، نحور اور اُن کے باپ کا خدا ہم دونوں کے درمیان فیصلہ کرے اگر ایسا کوئی معاملہ ہو۔“ جواب میں یعقوب نے اسحاق کے معبود کی قَسم کھائی کہ مَیں یہ عہد کبھی نہیں توڑوں گا۔y o4یہ ڈھیر اور ستون دونوں اِس کے گواہ ہیں کہ نہ مَیں یہاں سے گزر کر آپ کو نقصان پہنچاؤں گا اور نہ آپ یہاں سے گزر کر مجھے نقصان پہنچائیں گے۔u g3یہاں یہ ڈھیر ہے جو مَیں نے لگا دیا ہے اور یہاں یہ ستون بھی ہے۔ 3$3Y% / اُنہیں عیسَو کو بتانا تھا، ”آپ کا خادم یعقوب آپ کو اطلاع دیتا ہے کہ مَیں پردیس میں جا کر اب تک لابن کا مہمان رہا ہوں۔:$ q یعقوب نے اپنے بھائی عیسَو کے پاس اپنے آگے آگے قاصد بھیجے۔ عیسَو سعیر یعنی ادوم کے ملک میں آباد تھا۔M#  اُنہیں دیکھ کر اُس نے کہا، ”یہ اللہ کی لشکرگاہ ہے۔“ اُس نے اُس مقام کا نام محنائم یعنی ’دو لشکرگاہیں‘ رکھا۔"   یعقوب نے بھی اپنا سفر جاری رکھا۔ راستے میں اللہ کے فرشتے اُس سے ملے۔X! -7اگلے دن صبح سویرے لابن نے اپنے نواسے نواسیوں اور بیٹیوں کو بوسہ دے کر اُنہیں برکت دی۔ پھر وہ اپنے گھر واپس چلا گیا۔ {{)  خیال یہ تھا کہ اگر عیسَو آ کر ایک گروہ پر حملہ کرے تو باقی گروہ شاید بچ جائے۔j( Q یعقوب گھبرا کر بہت پریشان ہوا۔ اُس نے اپنے ساتھ کے تمام لوگوں، بھیڑبکریوں، گائےبَیلوں اور اونٹوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا۔U' ' جب قاصد واپس آئے تو اُنہوں نے کہا، ”ہم آپ کے بھائی عیسَو کے پاس گئے، اور وہ 400 آدمی ساتھ لے کر آپ سے ملنے آ رہا ہے۔“&& I وہاں مجھے بَیل، گدھے، بھیڑبکریاں، غلام اور لونڈیاں حاصل ہوئے ہیں۔ اب مَیں اپنے مالک کو اطلاع دے رہا ہوں کہ واپس آ گیا ہوں اور آپ کی نظرِ کرم کا خواہش مند ہوں۔“ v?vE,  مجھے اپنے بھائی عیسَو سے بچا، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھ پر حملہ کر کے بال بچوں سمیت سب کچھ تباہ کر دے گا۔f+ I مَیں اُس تمام مہربانی اور وفاداری کے لائق نہیں جو تُو نے اپنے خادم کو دکھائی ہے۔ جب مَیں نے لابن کے پاس جاتے وقت دریائے یردن کو پار کیا تو میرے پاس صرف یہ لاٹھی تھی، اور اب میرے پاس یہ دو گروہ ہیں۔S* # پھر یعقوب نے دعا کی، ”اے میرے دادا ابراہیم اور میرے باپ اسحاق کے خدا، میری دعا سن! اے رب، تُو نے خود مجھے بتایا، ’اپنے ملک اور رشتے داروں کے پاس واپس جا، اور مَیں تجھے کامیابی دوں گا۔‘ 6 1  اُس نے اُنہیں مختلف ریوڑوں میں تقسیم کر کے اپنے مختلف نوکروں کے سپرد کیا اور اُن سے کہا، ”میرے آگے آگے چلو لیکن ہر ریوڑ کے درمیان فاصلہ رکھو۔“ 0  30 دودھ دینے والی اونٹنیاں بچوں سمیت، 40 گائیں، 10 بَیل، 20 گدھیاں اور 10 گدھے۔M/  200 بکریاں، 20 بکرے، 200 بھیڑیں، 20 مینڈھے،.  یعقوب نے وہاں رات گزاری۔ پھر اُس نے اپنے مال میں سے عیسَو کے لئے تحفے چن لئے:b- A تُو نے خود کہا تھا، ’مَیں تجھے کامیابی دوں گا اور تیری اولاد اِتنی بڑھاؤں گا کہ وہ سمندر کی ریت کی مانند بےشمار ہو گی‘۔“ r4 a یعقوب نے یہی حکم ہر ایک نوکر کو دیا جسے ریوڑ لے کر اُس کے آگے آگے جانا تھا۔ اُس نے کہا، ”جب تم عیسَو سے ملو گے تو اُس سے یہی کہنا ہے۔3  جواب میں تمہیں کہنا ہے، ’یہ آپ کے خادم یعقوب کے ہیں۔ یہ تحفہ ہیں جو وہ اپنے مالک عیسَو کو بھیج رہے ہیں۔ یعقوب ہمارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں‘۔“=2 w جو نوکر پہلے ریوڑ لے کر آگے نکلا اُس سے یعقوب نے کہا، ”میرا بھائی عیسَو تم سے ملے گا اور پوچھے گا، ’تمہارا مالک کون ہے؟ تم کہاں جا رہے ہو؟ تمہارے سامنے کے جانور کس کے ہیں؟‘ J)3=GQ[eoy",6@JT^hr|%/9CMWaku  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7                                                                                                  !  !  !  !  !  !  !  !  !   !   !   !   !   !  !  !  !  !  !  !  "  "  "  "  "  "  "  "  "   "  Y8 / پھر اُس نے اپنا سارا سامان بھی وہاں بھیج دیا۔d7 E اُس رات وہ اُٹھا اور اپنی دو بیویوں، دو لونڈیوں اور گیارہ بیٹوں کو لے کر دریائے یبوق کو وہاں سے پار کیا جہاں کم گہرائی تھی۔6 1 یوں اُس نے یہ تحفے اپنے آگے آگے بھیج دیئے۔ لیکن اُس نے خود خیمہ گاہ میں رات گزاری۔a5 ? تمہیں یہ بھی ضرور کہنا ہے، ’آپ کے خادم یعقوب ہمارے پیچھے آ رہے ہیں‘۔“ کیونکہ یعقوب نے سوچا، ’مَیں اِن تحفوں سے اُس کے ساتھ صلح کروں گا۔ پھر جب اُس سے ملاقات ہو گی تو شاید وہ مجھے قبول کر لے۔‘ $K.$=  آدمی نے کہا، ”اب سے تیرا نام یعقوب نہیں بلکہ اسرائیل یعنی ’وہ اللہ سے لڑتا ہے‘ ہو گا۔ کیونکہ تُو اللہ اور آدمیوں کے ساتھ لڑ کر غالب آیا ہے۔“w< k آدمی نے پوچھا، ”تیرا کیا نام ہے؟“ اُس نے جواب دیا، ”یعقوب۔“\; 5 آدمی نے کہا، ”مجھے جانے دے، کیونکہ پَو پھٹنے والی ہے۔“ یعقوب نے کہا، ”پہلے مجھے برکت دیں، پھر ہی آپ کو جانے دوں گا۔“?: { جب اُس نے دیکھا کہ مَیں یعقوب پر غالب نہیں آ رہا تو اُس نے اُس کے کولھے کو چھوا، اور اُس کا جوڑ نکل گیا۔19 _ لیکن وہ خود اکیلا ہی پیچھے رہ گیا۔ اُس وقت ایک آدمی آیا اور پَو پھٹنے تک اُس سے کُشتی لڑتا رہا۔ #TVA ) یہی وجہ ہے کہ آج بھی اسرائیل کی اولاد کولھے کے جوڑ پر کی نس کو نہیں کھاتے، کیونکہ یعقوب کی اِسی نس کو چھوا گیا تھا۔ @  یعقوب وہاں سے چلا تو سورج طلوع ہو رہا تھا۔ وہ کولھے کے سبب سے لنگڑاتا رہا۔K?  یعقوب نے کہا، ”مَیں نے اللہ کو رُوبرُو دیکھا توبھی بچ گیا ہوں۔“ اِس لئے اُس نے اُس مقام کا نام فنی ایل رکھا۔Y> / یعقوب نے کہا، ”مجھے اپنا نام بتائیں۔“ اُس نے کہا، ”تُو کیوں میرا نام جاننا چاہتا ہے؟“ پھر اُس نے یعقوب کو برکت دی۔ E !لیکن عیسَو دوڑ کر اُس سے ملنے آیا اور اُسے گلے لگا کر بوسہ دیا۔ دونوں رو پڑے۔ D !یعقوب خود سب سے آگے عیسَو سے ملنے گیا۔ چلتے چلتے وہ سات دفعہ زمین تک جھکا۔NC !اُس نے دونوں لونڈیوں کو اُن کے بچوں سمیت آگے چلنے دیا۔ پھر لیاہ اُس کے بچوں سمیت اور آخر میں راخل اور یوسف آئے۔B  !پھر عیسَو اُن کی طرف آتا ہوا نظر آیا۔ اُس کے ساتھ 400 آدمی تھے۔ اُنہیں دیکھ کر یعقوب نے بچوں کو بانٹ کر لیاہ، راخل اور دونوں لونڈیوں کے حوالے کر دیا۔ 0h0J ! لیکن عیسَو نے کہا، ”میرے بھائی، میرے پاس بہت کچھ ہے۔ یہ اپنے پاس ہی رکھو۔“I /!عیسَو نے پوچھا، ”جس جانوروں کے بڑے غول سے میری ملاقات ہوئی اُس سے کیا مراد ہے؟“ یعقوب نے جواب دیا، ”یہ تحفہ ہے تاکہ آپ کا خادم آپ کی نظر میں مقبول ہو۔“H !پھر لیاہ اپنے بچوں کے ساتھ آئی اور آخر میں یوسف اور راخل آ کر جھک گئے۔mG W!دونوں لونڈیاں اپنے بچوں سمیت آ کر اُس کے سامنے جھک گئیں۔$F E!پھر عیسَو نے عورتوں اور بچوں کو دیکھا۔ اُس نے پوچھا، ”تمہارے ساتھ یہ لوگ کون ہیں؟“ یعقوب نے کہا، ”یہ آپ کے خادم کے بچے ہیں جو اللہ نے اپنے کرم سے نوازے ہیں۔“ |jM Q! ”آؤ، ہم روانہ ہو جائیں۔ مَیں تمہارے آگے آگے چلوں گا۔“L ! مہربانی کر کے یہ تحفہ قبول کریں جو مَیں آپ کے لئے لایا ہوں۔ کیونکہ اللہ نے مجھ پر اپنے کرم کا اظہار کیا ہے، اور میرے پاس بہت کچھ ہے۔“ یعقوب اصرار کرتا رہا تو آخرکار عیسَو نے اُسے قبول کر لیا۔ پھر عیسَو کہنے لگا،K }! یعقوب نے کہا، ”نہیں جی، اگر مجھ پر آپ کے کرم کی نظر ہے تو میرے اِس تحفے کو ضرور قبول فرمائیں۔ کیونکہ جب مَیں نے آپ کا چہرہ دیکھا تو وہ میرے لئے اللہ کے چہرے کی مانند تھا، آپ نے میرے ساتھ اِس قدر اچھا سلوک کیا ہے۔ nO Y!میرے مالک، مہربانی کر کے میرے آگے آگے جائیں۔ مَیں آرام سے اُسی رفتار سے آپ کے پیچھے پیچھے چلتا رہوں گا جس رفتار سے میرے مویشی اور میرے بچے چل سکیں گے۔ یوں ہم آہستہ چلتے ہوئے آپ کے پاس سعیر پہنچیں گے۔“zN q! یعقوب نے جواب دیا، ”میرے مالک، آپ جانتے ہیں کہ میرے بچے نازک ہیں۔ میرے پاس بھیڑبکریاں، گائےبَیل اور اُن کے دودھ پینے والے بچے بھی ہیں۔ اگر مَیں اُنہیں ایک دن کے لئے بھی حد سے زیادہ ہانکوں تو وہ مر جائیں گے۔ wwS !پھر یعقوب چلتے چلتے سلامتی سے سِکم شہر پہنچا۔ یوں اُس کا مسوپتامیہ سے ملکِ کنعان تک کا سفر اختتام تک پہنچ گیا۔ اُس نے اپنے خیمے شہر کے سامنے لگائے۔R -!یعقوب سُکات کے لئے روانہ ہوا۔ وہاں اُس نے اپنے لئے مکان بنا لیا اور اپنے مویشیوں کے لئے جھونپڑیاں۔ اِس لئے اُس مقام کا نام سُکات یعنی جھونپڑیاں پڑ گیا۔9Q q!اُس دن عیسَو سعیر کے لئے اورP /!عیسَو نے کہا، ”کیا مَیں اپنے آدمیوں میں سے کچھ آپ کے پاس چھوڑ دوں؟“ لیکن یعقوب نے کہا، ”کیا ضرورت ہے؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ نے مجھے قبول کر لیا ہے۔“ ?O.?%X G"لیکن اُس کا دل دینہ سے لگ گیا۔ وہ اُس سے محبت کرنے لگا اور پیار سے اُس سے باتیں کرتا رہا۔BW "شہر میں ایک آدمی بنام سِکم رہتا تھا۔ اُس کا والد حمور اُس علاقے کا حکمران تھا اور حِوّی قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ جب سِکم نے دینہ کو دیکھا تو اُس نے اُسے پکڑ کر اُس کی عصمت دری کی۔V  "ایک دن یعقوب اور لیاہ کی بیٹی دینہ کنعانی عورتوں سے ملنے کے لئے گھر سے نکلی۔ U !وہاں اُس نے قربان گاہ بنائی جس کا نام اُس نے ’ایل خدائے اسرائیل‘ رکھا۔ -T W!اُس کے خیمے حمور کی اولاد کی زمین پر لگے تھے۔ اُس نے یہ زمین چاندی کے 100 سکوں کے بدلے خرید لی۔ V\ )"جب یعقوب کے بیٹوں کو دینہ کی عصمت دری کی خبر ملی تو اُن کے دل رنجش اور غصے سے بھر گئے کہ سِکم نے یعقوب کی بیٹی کی عصمت دری سے اسرائیل کی اِتنی بےعزتی کی ہے۔ وہ سیدھے کھلے میدان سے واپس آئے۔r[ a"سِکم کا باپ حمور شہر سے نکل کر یعقوب سے بات کرنے کے لئے آیا۔yZ o"جب یعقوب نے اپنی بیٹی کی عصمت دری کی خبر سنی تو اُس کے بیٹے مویشیوں کے ساتھ کھلے میدان میں تھے۔ اِس لئے وہ اُن کے واپس آنے تک خاموش رہا۔wY k"اُس نے اپنے باپ سے کہا، ”اِس لڑکی کے ساتھ میری شادی کرا دیں۔“ (_` ;" سِکم نے خود بھی دینہ کے باپ اور بھائیوں سے منت کی، ”اگر میری یہ درخواست منظور ہو تو مَیں جو کچھ آپ کہیں گے ادا کر دوں گا۔_ %" پھر آپ ہمارے ساتھ اِس ملک میں رہ سکیں گے اور پورا ملک آپ کے لئے کھلا ہو گا۔ آپ جہاں بھی چاہیں آباد ہو سکیں گے، تجارت کر سکیں گے اور زمین خرید سکیں گے۔“^ }" ہمارے ساتھ رشتہ باندھیں، ہمارے بیٹے بیٹیوں کے ساتھ شادیاں کرائیں۔T] %"حمور نے یعقوب سے کہا، ”میرے بیٹے کا دل آپ کی بیٹی سے لگ گیا ہے۔ مہربانی کر کے اُس کی شادی میرے بیٹے کے ساتھ کر دیں۔ !,!+e S"پھر آپ کے بیٹے بیٹیوں کے ساتھ ہماری شادیاں ہو سکیں گی اور ہم آپ کے ساتھ ایک قوم بن جائیں گے۔ {#اُس نے جگہ کا نام بیت ایل رکھا۔X -#جہاں اللہ یعقوب سے ہم کلام ہوا تھا وہاں اُس نے پتھر کا ستون کھڑا کیا اور اُس پر مَے اور تیل اُنڈیل کر اُسے مخصوص کیا۔E # پھر اللہ وہاں سے آسمان پر چلا گیا۔6 i# مَیں تجھے وہی ملک دوں گا جو ابراہیم اور اسحاق کو دیا ہے۔ اور تیرے بعد اُسے تیری اولاد کو دوں گا۔“> y# اللہ نے یہ بھی اُس سے کہا، ”مَیں اللہ قادرِ مطلق ہوں۔ پھل پھول اور تعداد میں بڑھتا جا۔ ایک قوم نہیں بلکہ بہت سی قومیں تجھ سے نکلیں گی۔ تیری اولاد میں بادشاہ بھی شامل ہوں گے۔ 414) O#راخل فوت ہوئی، اور وہ اِفراتہ کے راستے میں دفن ہوئی۔ آج کل اِفراتہ کو بیت لحم کہا جاتا ہے۔L #لیکن وہ دم توڑنے والی تھی، اور مرتے مرتے اُس نے اُس کا نام بن اونی یعنی ’میری مصیبت کا بیٹا‘ رکھا۔ لیکن اُس کے باپ نے اُس کا نام بن یمین یعنی ’دہنے ہاتھ یا خوش قسمتی کا بیٹا‘ رکھا۔! ?#جب دردِ زہ عروج کو پہنچ گیا تو دائی نے اُس سے کہا، ”مت ڈرو، کیونکہ ایک اَور بیٹا ہے۔“& I#پھر یعقوب اپنے گھر والوں کے ساتھ بیت ایل کو چھوڑ کر اِفراتہ کی طرف چل پڑا۔ راخل اُمید سے تھی، اور راستے میں بچے کی پیدائش کا وقت آ گیا۔ بچہ بڑی مشکل سے پیدا ہوا۔ [>f  I#راخل کی لونڈی بِلہاہ کے دو بیٹے تھے، دان اور نفتالی۔L  #راخل کے دو بیٹے تھے، یوسف اور بن یمین۔-  W#لیاہ کے بیٹے یہ تھے: اُس کا سب سے بڑا بیٹا روبن، پھر شمعون، لاوی، یہوداہ، اِشکار اور زبولون۔N  #جب وہ وہاں ٹھہرے تھے تو روبن یعقوب کی حرم بِلہاہ سے ہم بستر ہوا۔ یعقوب کو معلوم ہو گیا۔ یعقوب کے بارہ بیٹے تھے۔  )#وہاں سے یعقوب نے اپنا سفر جاری رکھا اور مِجدل عِدر کی پرلی طرف اپنے خیمے لگائے۔! ?#یعقوب نے اُس کی قبر پر پتھر کا ستون کھڑا کیا۔ وہ آج تک راخل کی قبر کی نشان دہی کرتا ہے۔ Ro [#اسحاق 180 سال کا تھا جب وہ عمر رسیدہ اور زندگی سے آسودہ ہو کر اپنے باپ دادا سے جا ملا۔ اُس کے بیٹے عیسَو اور یعقوب نے اُسے دفن کیا۔ o [#اسحاق 180 سال کا تھا جب وہ عمر رسیدہ اور زندگی سے آسودہ ہو کر اپنے باپ دادا سے جا ملا۔ اُس کے بیٹے عیسَو اور یعقوب نے اُسے دفن کیا۔ L #پھر یعقوب اپنے باپ اسحاق کے پاس پہنچ گیا جو حبرون کے قریب ممرے میں اجنبی کی حیثیت سے رہتا تھا (اُس وقت حبرون کا نام قِریَت اربع تھا)۔ وہاں اسحاق اور اُس سے پہلے ابراہیم رہا کرتے تھے۔* Q#لیاہ کی لونڈی زِلفہ کے دو بیٹے تھے، جَد اور آشر۔ یعقوب کے یہ بیٹے مسوپتامیہ میں پیدا ہوئے۔ *B $اُہلی بامہ کے تین بیٹے پیدا ہوئے، یعوس، یعلام اور قورح۔ عیسَو کے یہ تمام بیٹے ملکِ کنعان میں پیدا ہوئے۔w k$عدہ کا ایک بیٹا اِلی فز اور باسمت کا ایک بیٹا رعوایل پیدا ہوا۔b A$اور اسمٰعیل کی بیٹی باسمت سے جو نبایوت کی بہن تھی۔r a$عیسَو نے تین کنعانی عورتوں سے شادی کی: حِتّی آدمی ایلون کی بیٹی عدہ سے، عنہ کی بیٹی اُہلی بامہ سے جو حِوّی آدمی صِبعون کی نواسی تھیx  o$یہ عیسَو کی اولاد کا نسب نامہ ہے (عیسَو کو ادوم بھی کہا جاتا ہے): gg% G$ عیسَو کی بیوی عدہ کا ایک بیٹا اِلی فز تھا جبکہ اُس کی بیوی باسمت کا ایک بیٹا رعوایل تھا۔~ y$ یہ عیسَو یعنی سعیر کے پہاڑی علاقے میں آباد ادومیوں کا نسب نامہ ہے:  $چنانچہ عیسَو پہاڑی علاقے سعیر میں آباد ہوا۔ عیسَو کا دوسرا نام ادوم ہے۔$ E$وہ اِس وجہ سے چلا گیا کہ دونوں بھائیوں کے پاس اِتنے ریوڑ تھے کہ چَرانے کی جگہ کم پڑ گئی۔6 i$بعد میں عیسَو دوسرے ملک میں چلا گیا۔ اُس نے اپنی بیویوں، بیٹے بیٹیوں اور گھر کے رہنے والوں کو اپنے تمام مویشیوں اور ملکِ کنعان میں حاصل کئے ہوئے مال سمیت اپنے ساتھ لیا۔ %,k%v! i$قورح، جعتام اور عمالیق۔ یہ سب عیسَو کی بیوی عدہ کی اولاد تھے۔I  $عیسَو سے مختلف قبیلوں کے سردار نکلے۔ اُس کے پہلوٹھے اِلی فز سے یہ قبائلی سردار نکلے: تیمان، اومر، صفو، قنز،= w$عیسَو کی بیوی اُہلی بامہ جو عنہ کی بیٹی اور صِبعون کی نواسی تھی کے تین بیٹے یعوس، یعلام اور قورح تھے۔1 _$ رعوایل کے بیٹے نحت، زارح، سمّہ اور مِزّہ تھے۔ یہ سب عیسَو کی بیوی باسمت کی اولاد میں شامل تھے۔@ }$ اور عمالیق تھے۔ عمالیق اِلی فز کی حرم تِمنع کا بیٹا تھا۔ یہ سب عیسَو کی بیوی عدہ کی اولاد میں شامل تھے۔X -$ اِلی فز کے بیٹے تیمان، اومر، صفو، جعتام، قنز }-<}o' [$لوطان حوری اور ہیمام کا باپ تھا۔ (تِمنع لوطان کی بہن تھی۔)& 5$دیسون، ایصر اور دیسان تھے۔ سعیر کے یہ بیٹے ملکِ ادوم میں حوری قبیلوں کے سردار تھے۔)% O$ملکِ ادوم کے کچھ باشندے حوری آدمی سعیر کی اولاد تھے۔ اُن کے نام لوطان، سوبل، صِبعون، عنہ،D$ $یہ تمام سردار عیسَو کی اولاد ہیں۔&# I$عیسَو کی بیوی اُہلی بامہ یعنی عنہ کی بیٹی سے یہ قبائلی سردار نکلے: یعوس، یعلام اور قورح۔O" $عیسَو کے بیٹے رعوایل سے یہ قبائلی سردار نکلے: نحت، زارح، سمّہ اور مِزہ۔ یہ سب عیسَو کی بیوی باسمت کی اولاد تھے۔ hW8. m$یہی یعنی لوطان، سوبل، صِبعون، عنہ، دیسون، ایصر اور دیسان سعیر کے ملک میں حوری قبائل کے سردار تھے۔G-  $دیسان کے دو بیٹے عُوض اور اران تھے۔X, -$ایصر کے تین بیٹے بِلہان، زعوان اور عقان تھے۔i+ O$دیسون کے چار بیٹے حمدان، اِشبان، یِتران اور کران تھے۔b* A$عنہ کا ایک بیٹا دیسون اور ایک بیٹی اُہلی بامہ تھی۔E) $صِبعون کے بیٹے ایّاہ اور عنہ تھے۔ اِسی عنہ کو گرم چشمے ملے جب وہ بیابان میں اپنے باپ کے گدھے چَرا رہا تھا۔g( K$سوبل کے بیٹے علوان، مانحت، عیبال، سفو اور اونام تھے۔ `DH`H5  $$اُس کی موت پر سملہ جو مسرِقہ کا تھا۔4 /$#اُس کی موت پر ہدد بن بدد جس نے ملکِ موآب میں مِدیانیوں کو شکست دی۔ وہ عویت کا تھا۔Z3 1$"اُس کی موت پر حُشام جو تیمانیوں کے ملک کا تھا۔]2 7$!اُس کی موت پر یوباب بن زارح جو بُصرہ شہر کا تھا۔y1 o$ بالع بن بعور جو دنہابا شہر کا تھا ملکِ ادوم کا پہلا بادشاہ تھا۔?0 {$اِس سے پہلے کہ اسرائیلیوں کا کوئی بادشاہ تھا ذیل کے بادشاہ یکے بعد دیگرے ملکِ ادوم میں حکومت کرتے تھے:8/ m$یہی یعنی لوطان، سوبل، صِبعون، عنہ، دیسون، ایصر اور دیسان سعیر کے ملک میں حوری قبائل کے سردار تھے۔ P>9 y$(عیسَو سے ادومی قبیلوں کے یہ سردار نکلے: تِمنع، علوَہ، یتیت، اُہلی بامہ، ایلہ، فینون، قنز، تیمان، مِبصار، مجدی ایل اور عِرام۔ ادوم کے سرداروں کی یہ فہرست اُن کی موروثی زمین کی آبادیوں اور قبیلوں کے مطابق ہی بیان کی گئی ہے۔ عیسَو اُن کا باپ ہے۔ #8 C$'اُس کی موت پر ہدد جو فاعُو شہر کا تھا (بیوی کا نام مہیطب ایل بنت مطرِد بنت میزاہاب تھا)۔@7 $&اُس کی موت پر بعل حنان بن عکبور۔j6 Q$%اُس کی موت پر ساؤل جو دریائے فرات پر رحوبوت شہر کا تھا۔ |>|>; y$*عیسَو سے ادومی قبیلوں کے یہ سردار نکلے: تِمنع، علوَہ، یتیت، اُہلی بامہ، ایلہ، فینون، قنز، تیمان، مِبصار، مجدی ایل اور عِرام۔ ادوم کے سرداروں کی یہ فہرست اُن کی موروثی زمین کی آبادیوں اور قبیلوں کے مطابق ہی بیان کی گئی ہے۔ عیسَو اُن کا باپ ہے۔ >: y$)عیسَو سے ادومی قبیلوں کے یہ سردار نکلے: تِمنع، علوَہ، یتیت، اُہلی بامہ، ایلہ، فینون، قنز، تیمان، مِبصار، مجدی ایل اور عِرام۔ ادوم کے سرداروں کی یہ فہرست اُن کی موروثی زمین کی آبادیوں اور قبیلوں کے مطابق ہی بیان کی گئی ہے۔ عیسَو اُن کا باپ ہے۔ >!> ?%یہ یعقوب کے خاندان کا بیان ہے۔ اُس وقت یعقوب کا بیٹا یوسف 17 سال کا تھا۔ وہ اپنے بھائیوں یعنی بِلہاہ اور زِلفہ کے بیٹوں کے ساتھ بھیڑبکریوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ یوسف اپنے باپ کو اپنے بھائیوں کی بُری حرکتوں کی اطلاع دیا کرتا تھا۔~=  {%یعقوب ملکِ کنعان میں رہتا تھا جہاں پہلے اُس کا باپ بھی پردیسی تھا۔>< y$+عیسَو سے ادومی قبیلوں کے یہ سردار نکلے: تِمنع، علوَہ، یتیت، اُہلی بامہ، ایلہ، فینون، قنز، تیمان، مِبصار، مجدی ایل اور عِرام۔ ادوم کے سرداروں کی یہ فہرست اُن کی موروثی زمین کی آبادیوں اور قبیلوں کے مطابق ہی بیان کی گئی ہے۔ عیسَو اُن کا باپ ہے۔ LB %اُس نے کہا، ”سنو، مَیں نے خواب دیکھا۔DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|AEJMOSX\`eilptwAEJMOSX\`eilptwz~    !'.59;>BEILPTW [!^"a#g$j%m&p's(v)y*}+,-. /0234"5%6*7/8397::;?M?R@VAYB]CbEfFkGoHsIwJzK~LMN O PQRSTU"V'W*Y-Z0[4\8]<^?_C`HaKbNcQdUeYf]gaheiijmkrly )E O% کچھ دیر کے بعد یوسف نے ایک اَور خواب دیکھا۔ اُس نے اپنے بھائیوں سے کہا، ”مَیں نے ایک اَور خواب دیکھا ہے۔ اُس میں سورج، چاند اور گیارہ ستارے میرے سامنے جھک گئے۔“D %اُس کے بھائیوں نے کہا، ”اچھا، تُو بادشاہ بن کر ہم پر حکومت کرے گا؟“ اُس کے خوابوں اور اُس کی باتوں کے سبب سے اُن کی اُس سے نفرت مزید بڑھ گئی۔lC U%ہم سب کھیت میں پُولے باندھ رہے تھے کہ میرا پُولا کھڑا ہو گیا۔ آپ کے پُولے میرے پُولے کے ارد گرد جمع ہو کر اُس کے سامنے جھک گئے۔“ _f_I % تو یعقوب نے یوسف سے کہا، ”تیرے بھائی سِکم میں ریوڑوں کو چَرا رہے ہیں۔ آ، مَیں تجھے اُن کے پاس بھیج دیتا ہوں۔“ یوسف نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے۔“ H % ایک دن جب یوسف کے بھائی اپنے باپ کے ریوڑ چَرانے کے لئے سِکم تک پہنچ گئے تھے+G S% نتیجے میں اُس کے بھائی اُس سے بہت حسد کرنے لگے۔ لیکن اُس کے باپ نے دل میں یہ بات محفوظ رکھی۔VF )% اُس نے یہ خواب اپنے باپ کو بھی سنایا تو اُس نے اُسے ڈانٹا۔ اُس نے کہا، ”یہ کیسا خواب ہے جو تُو نے دیکھا! یہ کیسی بات ہے کہ مَیں، تیری ماں اور تیرے بھائی آ کر تیرے سامنے زمین تک جھک جائیں؟“ J(2<FPZdnx !+5?IS]gq{%/8BLV`jt~  $,  $-  $.  $/  $0  $ 1  $!2  $"3  $#4  $$  $,  $-  $.  $/  $0  $ 1  $!2  $"3  $#4  $$5  $%6  $&7  $'8  $(9  $):  $*;  $+<  %=  %>  %?  %@  %A  %B  %C  %D  % E  % F  % G  % H  % I  %J  %K  %L  %M  %N  %O  %P  %Q  %R  %S  %T  %U  %V  %W  %X  %Y  %Z  %[  % \  %!]  %"^  %#_  %$`  &a  &b  &c  &d  &e  &f  &g  &h  & i  & j  & k  & l  & m  &n  &o  &p  &q  &r  &s  &t  &u PL %یوسف نے جواب دیا، ”مَیں اپنے بھائیوں کو تلاش کر رہا ہوں۔ مجھے بتائیں کہ وہ اپنے جانوروں کو کہاں چَرا رہے ہیں۔“0K ]%وہاں وہ اِدھر اُدھر پھرتا رہا۔ آخرکار ایک آدمی اُس سے ملا اور پوچھا، ”آپ کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟“bJ A%یعقوب نے کہا، ”جا کر معلوم کر کہ تیرے بھائی اور اُن کے ساتھ کے ریوڑ خیریت سے ہیں کہ نہیں۔ پھر واپس آ کر مجھے بتا دینا۔“ چنانچہ اُس کے باپ نے اُسےوادیِ حبرون سے بھیج دیا، اور یوسف سِکم پہنچ گیا۔ (P M%آؤ، ہم اُسے مار ڈالیں اور اُس کی لاش کسی گڑھے میں پھینک دیں۔ ہم کہیں گے کہ کسی وحشی جانور نے اُسے پھاڑ کھایا ہے۔ پھر پتا چلے گا کہ اُس کے خوابوں کی کیا حقیقت ہے۔“bO A%اُنہوں نے کہا، ”دیکھو، خواب دیکھنے والا آ رہا ہے۔>N y%جب یوسف ابھی دُور سے نظر آیا تو اُس کے بھائیوں نے اُس کے پہنچنے سے پہلے اُسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔'M K%آدمی نے کہا، ”وہ یہاں سے چلے گئے ہیں۔ مَیں نے اُنہیں یہ کہتے سنا کہ آؤ، ہم دوتین جائیں۔“ یہ سن کر یوسف اپنے بھائیوں کے پیچھے دوتین چلا گیا۔ وہاں اُسے وہ مل گئے۔ ;f}T w%یوسف کو گڑھے میں پھینک دیا۔ گڑھا خالی تھا، اُس میں پانی نہیں تھا۔S %جوں ہی یوسف اپنے بھائیوں کے پاس پہنچا اُنہوں نے اُس کا رنگ دار لباس اُتار کر=R w%اُس کا خون نہ کرنا۔ بےشک اُسے اِس گڑھے میں پھینک دیں جو ریگستان میں ہے، لیکن اُسے ہاتھ نہ لگائیں۔“ اُس نے یہ اِس لئے کہا کہ وہ اُسے بچا کر باپ کے پاس واپس پہنچانا چاہتا تھا۔AQ %جب روبن نے اُن کی باتیں سنیں تو اُس نے یوسف کو بچانے کی کوشش کی۔ اُس نے کہا، ”نہیں، ہم اُسے قتل نہ کریں۔ W %آؤ، ہم اُسے اِن اسمٰعیلیوں کے ہاتھ فروخت کر دیں۔ پھر کوئی ضرورت نہیں ہو گی کہ ہم اُسے ہاتھ لگائیں۔ آخر وہ ہمارا بھائی ہے۔“ اُس کے بھائی راضی ہوئے۔BV %تب یہوداہ نے اپنے بھائیوں سے کہا، ”ہمیں کیا فائدہ ہے اگر اپنے بھائی کو قتل کر کے اُس کے خون کو چھپا دیں؟>U y%پھر وہ روٹی کھانے کے لئے بیٹھ گئے۔ اچانک اسمٰعیلیوں کا ایک قافلہ نظر آیا۔ وہ جِلعاد سے مصر جا رہے تھے، اور اُن کے اونٹ قیمتی مسالوں یعنی لادن، بلسان اور مُر سے لدے ہوئے تھے۔ Fv[ i%تب اُنہوں نے بکرا ذبح کر کے یوسف کا لباس اُس کے خون میں ڈبویا،'Z K%وہ اپنے بھائیوں کے پاس واپس گیا اور کہا، ”لڑکا نہیں ہے۔ اب مَیں کس طرح ابو کے پاس جاؤں؟“sY c%اُس وقت روبن موجود نہیں تھا۔ جب وہ گڑھے کے پاس واپس آیا تو یوسف اُس میں نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر اُس نے پریشانی میں اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔X %%چنانچہ جب مِدیانی تاجر وہاں سے گزرے تو بھائیوں نے یوسف کو کھینچ کر گڑھے سے نکالا اور چاندی کے 20 سکوں کے عوض بیچ ڈالا۔ اسمٰعیلی اُسے لے کر مصر چلے گئے۔ e-eD^ %"یعقوب نے غم کے مارے اپنے کپڑے پھاڑے اور اپنی کمر سے ٹاٹ اوڑھ کر بڑی دیر تک اپنے بیٹے کے لئے ماتم کرتا رہا۔c] C%!یعقوب نے اُسے پہچان لیا اور کہا، ”بےشک اُسی کا ہے۔ کسی وحشی جانور نے اُسے پھاڑ کھایا ہے۔ یقیناً یوسف کو پھاڑ دیا گیا ہے۔“h\ M% پھر رنگ دار لباس اِس خبر کے ساتھ اپنے باپ کو بھجوا دیاکہ ”ہمیں یہ ملا ہے۔ اِسے غور سے دیکھیں۔ یہ آپ کے بیٹے کا لباس تو نہیں؟“ sRa  #&اُن دنوں میں یہوداہ اپنے بھائیوں کو چھوڑ کر ایک آدمی کے پاس رہنے لگا جس کا نام حِیرہ تھا اور جو عدُلام شہر سے تھا۔ ` =%$اِتنے میں مِدیانی مصر پہنچ کر یوسف کو بیچ چکے تھے۔ مصر کے بادشاہ فرعون کے ایک اعلیٰ افسر فوطی فار نے اُسے خرید لیا۔ فوطی فار بادشاہ کے محافظوں پر مقرر تھا۔ e_ G%#اُس کے تمام بیٹے بیٹیاں اُسے تسلی دینے آئے، لیکن اُس نے تسلی پانے سے انکار کیا اور کہا، ”مَیں پاتال میں اُترتے ہوئے بھی اپنے بیٹے کے لئے ماتم کروں گا۔“ اِس حالت میں وہ اپنے بیٹے کے لئے روتا رہا۔ KHog [&رب کے نزدیک عیر شریر تھا، اِس لئے اُس نے اُسے ہلاک کر دیا۔f  &یہوداہ نے اپنے بڑے بیٹے عیر کی شادی ایک لڑکی سے کرائی جس کا نام تمر تھا۔3e c&اُس کے تیسرا بیٹا بھی پیدا ہوا۔ اُس نے اُس کا نام سیلہ رکھا۔ یہوداہ کزیب میں تھا جب وہ پیدا ہوا۔ed G&ایک اَور بیٹا پیدا ہوا جس کا نام بیوی نے اونان رکھا۔Uc '&بیٹا پیدا ہوا جس کا نام یہوداہ نے عیر رکھا۔1b _&وہاں یہوداہ کی ملاقات ایک کنعانی عورت سے ہوئی جس کے باپ کا نام سُوع تھا۔ اُس نے اُس سے شادی کی۔ Dkj S& یہ بات رب کو بُری لگی، اور اُس نے اُسے بھی سزائے موت دی۔1i _& اونان نے ایسا کیا، لیکن وہ جانتا تھا کہ جو بھی بچے پیدا ہوں گے وہ قانون کے مطابق میرے بڑے بھائی کے ہوں گے۔ اِس لئے جب بھی وہ تمر سے ہم بستر ہوتا تو نطفہ کو زمین پر گرا دیتا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ میری معرفت میرے بھائی کے بچے پیدا ہوں۔h &اِس پر یہوداہ نے عیرکے چھوٹے بھائی اونان سے کہا، ”اپنے بڑے بھائی کی بیوہ کے پاس جاؤ اور اُس سے شادی کرو تاکہ تمہارے بھائی کی نسل قائم رہے۔“ gHgm +& تمر کو بتایا گیا، ”آپ کا سُسر اپنی بھیڑوں کی پشم کترنے کے لئے تِمنت جا رہا ہے۔“Bl & کافی دنوں کے بعد یہوداہ کی بیوی جو سُوع کی بیٹی تھی مر گئی۔ ماتم کا وقت گزر گیا تو یہوداہ اپنے عدُلامی دوست حیرہ کے ساتھ تِمنت گیا جہاں یہوداہ کی بھیڑوں کی پشم کتری جا رہی تھی۔4k e& تب یہوداہ نے اپنی بہو تمر سے کہا، ”اپنے باپ کے گھر واپس چلی جاؤ اور اُس وقت تک بیوہ رہو جب تک میرا بیٹا سیلہ بڑا نہ ہو جائے۔“ اُس نے یہ اِس لئے کہا کہ اُسے ڈر تھا کہ کہیں سیلہ بھی اپنے بھائیوں کی طرح مر نہ جائے۔ چنانچہ تمر اپنے میکے چلی گئی۔ V(cV p &وہ راستے سے ہٹ کر اُس کے پاس گیا اور کہا، ”ذرا مجھے اپنے ہاں آنے دیں۔“ (اُس نے نہیں پہچانا کہ یہ میری بہو ہے)۔ تمر نے کہا، ”آپ مجھے کیا دیں گے؟“Ao &جب یہوداہ وہاں سے گزرا تو اُس نے اُسے دیکھ کر سوچا کہ یہ کسبی ہے، کیونکہ اُس نے اپنا منہ چھپایا ہوا تھا۔Tn %&یہ سن کر تمر نے بیوہ کے کپڑے اُتار کر عام کپڑے پہن لئے۔ پھر وہ اپنا منہ چادر سے لپیٹ کر عینیم شہر کے دروازے پر بیٹھ گئی جو تِمنت کے راستے میں تھا۔ تمر نے یہ حرکت اِس لئے کی کہ یہوداہ کا بیٹا سیلہ اب بالغ ہو چکا تھا توبھی اُس کی اُس کے ساتھ شادی نہیں کی گئی تھی۔ &.s Y&پھر تمر اُٹھ کر اپنے گھر واپس چلی گئی۔ اُس نے اپنی چادر اُتار کر دوبارہ بیوہ کے کپڑے پہن لئے۔r &اُس نے پوچھا، ”مَیں آپ کو کیا دوں؟“ تمر نے کہا، ”اپنی مُہر اور اُسے گلے میں لٹکانے کی ڈوری۔ وہ لاٹھی بھی دیں جو آپ پکڑے ہوئے ہیں۔“ چنانچہ یہوداہ اُسے یہ چیزیں دے کر اُس کے ساتھ ہم بستر ہوا۔ نتیجے میں تمر اُمید سے ہوئی۔Vq )&اُس نے جواب دیا، ”مَیں آپ کو بکری کا بچہ بھیج دوں گا۔“ تمر نے کہا، ”ٹھیک ہے، لیکن اُسے بھیجنے تک مجھے ضمانت دیں۔“ ^v 9&اُس نے یہوداہ کے پاس واپس جا کر کہا، ”وہ مجھے نہیں ملی بلکہ وہاں کے رہنے والوں نے کہا کہ یہاں کوئی ایسی کسبی تھی نہیں۔“tu e&اُس نے عینیم کے باشندوں سے پوچھا، ”وہ کسبی کہاں ہے جو یہاں سڑک پر بیٹھی تھی؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”یہاں ایسی کوئی کسبی نہیں تھی۔“-t W&یہوداہ نے اپنے دوست حیرہ عدُلامی کے ہاتھ بکری کا بچہ بھیج دیا تاکہ وہ چیزیں واپس مل جائیں جو اُس نے ضمانت کے طور پر دی تھیں۔ لیکن حیرہ کو پتا نہ چلا کہ عورت کہاں ہے۔ }cy C&تمر کو جلانے کے لئے باہر لایا گیا تو اُس نے اپنے سُسر کو خبر بھیج دی، ”یہ چیزیں دیکھیں۔ یہ اُس آدمی کی ہیں جس کی معرفت مَیں اُمید سے ہوں۔ پتا کریں کہ یہ مُہر، اُس کی ڈوری اور یہ لاٹھی کس کی ہیں۔“yx o&تین ماہ کے بعد یہوداہ کو اطلاع دی گئی، ”آپ کی بہو تمر نے زنا کیا ہے، اور اب وہ حاملہ ہے۔“ یہوداہ نے حکم دیا، ”اُسے باہر لا کر جلا دو۔“w {&یہوداہ نے کہا، ”پھر وہ ضمانت کی چیزیں اپنے پاس ہی رکھے۔ اُسے چھوڑ دو ورنہ لوگ ہمارا مذاق اُڑائیں گے۔ ہم نے تو پوری کوشش کی کہ اُسے بکری کا بچہ مل جائے، لیکن آپ کو کھوج لگانے کے باوجود پتا نہ چلا کہ وہ کہاں ہے۔“ R@R*} Q&لیکن اُس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا، اور اُس کا بھائی پہلے پیدا ہوا۔ یہ دیکھ کر دائی بول اُٹھی، ”تُو کس طرح پھوٹ نکلا ہے!“ اُس نے اُس کا نام فارص یعنی پھوٹ رکھا۔<| u&ایک بچے کا ہاتھ نکلا تو دائی نے اُسے پکڑ کر اُس میں سرخ دھاگا باندھ دیا اور کہا، ”یہ پہلے پیدا ہوا۔“h{ M&جب جنم دینے کا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ جُڑواں بچے ہیں۔Qz &یہوداہ نے اُنہیں پہچان لیا۔ اُس نے کہا، ”مَیں نہیں بلکہ یہ عورت حق پر ہے، کیونکہ مَیں نے اُس کی اپنے بیٹے سیلہ سے شادی نہیں کرائی۔“ لیکن بعد میں یہوداہ کبھی بھی تمر سے ہم بستر نہ ہوا۔ @7} 'جس نے دیکھا کہ رب یوسف کے ساتھ ہے اور اُسے ہر کام میں کامیابی دیتا ہے۔6 i'رب یوسف کے ساتھ تھا۔ جو بھی کام وہ کرتا اُس میں کامیاب رہتا۔ وہ اپنے مصری مالک کے گھر میں رہتا تھا  'اِسمٰعیلیوں نے یوسف کو مصر لے جا کر بیچ دیا تھا۔ مصر کے بادشاہ کے ایک اعلیٰ افسر بنام فوطی فار نے اُسے خرید لیا۔ وہ شاہی محافظوں کا کپتان تھا۔<~ u&پھر اُس کا بھائی پیدا ہوا جس کے ہاتھ میں سرخ دھاگا بندھا ہوا تھا۔ اُس کا نام زارح یعنی چمک رکھا گیا۔ VVa ?'جس وقت سے فوطی فار نے اپنے گھرانے کا انتظام اور پوری ملکیت یوسف کے سپرد کی اُس وقت سے رب نے فوطی فار کو یوسف کے سبب سے برکت دی۔ اُس کی برکت فوطی فار کی ہر چیز پر تھی، خواہ گھر میں تھی یا کھیت میں۔A 'چنانچہ یوسف کو مالک کی خاص مہربانی حاصل ہوئی، اور فوطی فار نے اُسے اپنا ذاتی نوکر بنا لیا۔ اُس نے اُسے اپنے گھرانے کے انتظام پر مقرر کیا اور اپنی پوری ملکیت اُس کے سپرد کر دی۔   Y /'یوسف انکار کر کے کہنے لگا، ”میرے مالک کو میرے سبب سے کسی معاملے کی فکر نہیں ہے۔ اُنہوں نے سب کچھ میرے سپرد کر دیا ہے۔4 e'کچھ دیر کے بعد اُس کے مالک کی بیوی کی آنکھ اُس پر لگی۔ اُس نے اُس سے کہا، ”میرے ساتھ ہم بستر ہو!“\ 5'فوطی فار نے اپنی ہر چیز یوسف کے ہاتھ میں چھوڑ دی۔ اور چونکہ یوسف سب کچھ اچھی طرح چلاتا تھا اِس لئے فوطی فار کو کھانا کھانے کے سوا کسی بھی معاملے کی فکر نہیں تھی۔ یوسف نہایت خوب صورت آدمی تھا۔ R`R  ' فوطی فار کی بیوی نے یوسف کا لباس پکڑ کر کہا، ”میرے ساتھ ہم بستر ہو!“ یوسف بھاگ کر باہر چلا گیا لیکن اُس کا لباس پیچھے عورت کے ہاتھ میں ہی رہ گیا۔   ' ایک دن وہ کام کرنے کے لئے گھر میں گیا۔ گھر میں اَور کوئی نوکر نہیں تھا۔: q' مالک کی بیوی روز بہ روز یوسف کے پیچھے پڑی رہی کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو۔ لیکن وہ ہمیشہ انکار کرتا رہا۔T %' گھر کے انتظام پر اُن کا اختیار میرے اختیار سے زیادہ نہیں ہے۔ آپ کے سوا اُنہوں نے کوئی بھی چیز مجھ سے باز نہیں رکھی۔ تو پھر مَیں کس طرح اِتنا غلط کام کروں؟ مَیں کس طرح اللہ کا گناہ کروں؟“ EEU ''جب وہ گھر واپس آیا تو اُس نے اُسے یہی کہانی سنائی، ”یہ عبرانی غلام جو آپ لے آئے ہیں میری تذلیل کے لئے میرے پاس آیا۔_ ;'اُس نے مالک کے آنے تک یوسف کا لباس اپنے پاس رکھا۔  !'جب مَیں مدد کے لئے اونچی آواز سے چیخنے لگی تو وہ اپنا لباس چھوڑ کر بھاگ گیا۔“q  _'تو اُس نے گھر کے نوکروں کو بُلا کر کہا، ”یہ دیکھو! میرے مالک اِس عبرانی کو ہمارے پاس لے آئے ہیں تاکہ وہ ہمیں ذلیل کرے۔ وہ میری عصمت دری کرنے کے لئے میرے کمرے میں آ گیا، لیکن مَیں اونچی آواز سے چیخنے لگی۔r  a' جب مالک کی بیوی نے دیکھا کہ وہ اپنا لباس چھوڑ کر بھاگ گیا ہے z0{G  'یوسف یہاں تک مقبول ہوا کہ داروغے نے تمام قیدیوں کو اُس کے سپرد کر کے اُسے پورا انتظام چلانے کی ذمہ داری دی۔9 o'لیکن رب یوسف کے ساتھ تھا۔ اُس نے اُس پر مہربانی کی اور اُسے قیدخانے کے داروغے کی نظر میں مقبول کیا۔1 _'اُس نے یوسف کو گرفتار کر کے اُس جیل میں ڈال دیا جہاں بادشاہ کے قیدی رکھے جاتے تھے۔ وہیں وہ رہا۔G  'یہ سن کر فوطی فار بڑے غصے میں آ گیا۔ 'لیکن جب مَیں مدد کے لئے چیخنے لگی تو وہ اپنا لباس چھوڑ کر بھاگ گیا۔“ J)3=GQ[eox",6@JT]gq{%/9BLV`jt~  &w  &x  &y  &z  &{  &|  &}  &~  '  '  &w  &x  &y  &z  &{  &|  &}  &~  '  '  '  '  '  '  '  '  '   '   '   '   '   '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  (  (  (  (  (  (  (  (  (   (   (   (   (   (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  )  )  )  )  )  )  )  )  )   )   )   )   )   )  )  )  )  )  )  ) LL0 ](محافظوں کے کپتان نے اُنہیں یوسف کے حوالے کیا تاکہ وہ اُن کی خدمت کرے۔ وہاں وہ کافی دیر تک رہے۔2 a(اُس نے اُنہیں اُس قیدخانے میں ڈال دیا جو شاہی محافظوں کے کپتان کے سپرد تھا اور جس میں یوسف تھا۔G  (فرعون کو دونوں افسروں پر غصہ آ گیا۔7  m(کچھ دیر کے بعد یوں ہوا کہ مصر کے بادشاہ کے سردار ساقی اور بیکری کے انچارج نے اپنے مالک کا گناہ کیا۔u g'داروغے کو کسی بھی معاملے کی جسے اُس نے یوسف کے سپرد کیا تھا فکر نہ رہی، کیونکہ رب یوسف کے ساتھ تھا اور اُسے ہر کام میں کامیابی بخشی۔ r@r  ( سردار ساقی نے شروع کیا، ”مَیں نے خواب میں اپنے سامنے انگور کی بیل دیکھی۔; s(اُنہوں نے جواب دیا، ”ہم دونوں نے خواب دیکھا ہے، اور کوئی نہیں جو ہمیں اُن کا مطلب بتائے۔“ یوسف نے کہا، ”خوابوں کی تعبیر تو اللہ کا کام ہے۔ ذرا مجھے اپنے خواب تو سنائیں۔“f I(اُس نے اُن سے پوچھا، ”آج آپ کیوں اِتنے پریشان ہیں؟“l U(جب یوسف صبح کے وقت اُن کے پاس آیا تو وہ دبے ہوئے نظر آئے۔d E(ایک رات بادشاہ کے سردار ساقی اور بیکری کے انچارج نے خواب دیکھا۔ دونوں کا خواب فرق فرق تھا، اور اُن کا مطلب بھی فرق فرق تھا۔ mJ"  ( تین دن کے بعد فرعون آپ کو بحال کر لے گا۔ آپ کو پہلی ذمہ داری واپس مل جائے گی۔ آپ پہلے کی طرح سردار ساقی کی حیثیت سے بادشاہ کا پیالہ سنبھالیں گے۔V! )( یوسف نے کہا، ”تین شاخوں سے مراد تین دن ہیں۔  ;( میرے ہاتھ میں بادشاہ کا پیالہ تھا، اور مَیں نے انگوروں کو توڑ کر یوں بھینچ دیا کہ اُن کا رس بادشاہ کے پیالے میں آ گیا۔ پھر مَیں نے پیالہ بادشاہ کو پیش کیا۔“ ( اُس کی تین شاخیں تھیں۔ اُس کے پتے لگے، کونپلیں پھوٹ نکلیں اور انگور پک گئے۔ e% G(جب شاہی بیکری کے انچارج نے دیکھا کہ سردار ساقی کے خواب کا اچھا مطلب نکلا تو اُس نے یوسف سے کہا، ”میرا خواب بھی سنیں۔ مَیں نے سر پر تین ٹوکریاں اُٹھا رکھی تھیں جو بیکری کی چیزوں سے بھری ہوئی تھیں۔$ (کیونکہ مجھے عبرانیوں کے ملک سے اغوا کر کے یہاں لایا گیا ہے، اور یہاں بھی مجھ سے کوئی ایسی غلطی نہیں ہوئی کہ مجھے اِس گڑھے میں پھینکا جاتا۔“]# 7(لیکن جب آپ بحال ہو جائیں تو میرا خیال کریں۔ مہربانی کر کے بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کریں تاکہ مَیں یہاں سے رِہا ہو جاؤں۔ mmY* /(سردار ساقی کو پہلے والی ذمہ داری سونپ دی گئی،2) a(تین دن کے بعد بادشاہ کی سال گرہ تھی۔ اُس نے اپنے تمام افسروں کی ضیافت کی۔ اِس موقع پر اُس نے سردار ساقی اور بیکری کے انچارج کو جیل سے نکال کر اپنے حضور لانے کا حکم دیا۔;( s(تین دن کے بعد ہی فرعون آپ کو قیدخانے سے نکال کر درخت سے لٹکا دے گا۔ پرندے آپ کی لاش کو کھا جائیں گے۔“Z' 1(یوسف نے کہا، ”تین ٹوکریوں سے مراد تین دن ہیں۔a& ?(سب سے اوپر والی ٹوکری میں وہ تمام چیزیں تھیں جو بادشاہ کی میز کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ لیکن پرندے آ کر اُنہیں کھا رہے تھے۔“ ?+]/ 7)اُن کے بعد سات اَور گائیں نکل آئیں۔ لیکن وہ بدصورت اور دُبلی پتلی تھیں۔ وہ دریا کے کنارے دوسری گائیوں کے پاس کھڑی ہو کر. )اچانک دریا میں سے سات خوب صورت اور موٹی گائیں نکل کر سرکنڈوں میں چرنے لگیں۔-  +)دو سال گزر گئے کہ ایک رات بادشاہ نے خواب دیکھا۔ وہ دریائے نیل کے کنارے کھڑا تھا۔w, k(لیکن سردار ساقی نے یوسف کا خیال نہ کیا بلکہ اُسے بھول ہی گیا۔ =+ w(لیکن بیکری کے انچارج کو سزائے موت دے کر درخت سے لٹکا دیا گیا۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا یوسف نے کہا تھا۔ Xru3 g)اناج کی سات دُبلی پتلی بالوں نے سات موٹی اور خوب صورت بالوں کو نگل لیا۔ پھر فرعون جاگ اُٹھا تو معلوم ہوا کہ مَیں نے خواب ہی دیکھا ہے۔2 +)پھر سات اَور بالیں پھوٹ نکلیں جو دُبلی پتلی اور مشرقی ہَوا سے جُھلسی ہوئی تھیں۔b1 A)پھر وہ دوبارہ سو گیا۔ اِس دفعہ اُس نے ایک اَور خواب دیکھا۔ اناج کے ایک پودے پر سات موٹی موٹی اور اچھی اچھی بالیں لگی تھیں۔$0 E)پہلی سات خوب صورت اور موٹی موٹی گائیوں کو کھا گئیں۔ اِس کے بعد مصر کا بادشاہ جاگ اُٹھا۔ ad7 {) ایک ہی رات میں ہم دونوں نے مختلف خواب دیکھے جن کا مطلب فرق فرق تھا۔y6 o) ایک دن فرعون اپنے خادموں سے ناراض ہوئے۔ حضور نے مجھے اور بیکری کے انچارج کو قیدخانے میں ڈلوا دیا جس پر شاہی محافظوں کا کپتان مقرر تھا۔~5 y) پھر سردار ساقی نے فرعون سے کہا، ”آج مجھے اپنی خطائیں یاد آتی ہیں۔4 1)صبح ہوئی تو وہ پریشان تھا، اِس لئے اُس نے مصر کے تمام جادوگروں اور عالموں کو بُلایا۔ اُس نے اُنہیں اپنے خواب سنائے، لیکن کوئی بھی اُن کی تعبیر نہ کر سکا۔  }: w)یہ سن کر فرعون نے یوسف کو بُلایا، اور اُسے جلدی سے قیدخانے سے لایا گیا۔ اُس نے شیو کروا کر اپنے کپڑے بدلے اور سیدھے بادشاہ کے حضور پہنچا۔9 ) اور جو کچھ بھی اُس نے بتایا سب کچھ ویسا ہی ہوا۔ مجھے اپنی ذمہ داری واپس مل گئی جبکہ بیکری کے انچارج کو سزائے موت دے کر درخت سے لٹکا دیا گیا۔“r8 a) وہاں جیل میں ایک عبرانی نوجوان تھا۔ وہ محافظوں کے کپتان کا غلام تھا۔ ہم نے اُسے اپنے خواب سنائے تو اُس نے ہمیں اُن کا مطلب بتا دیا۔ El? U)اِس کے بعد سات اَور گائیں نکلیں۔ وہ نہایت بدصورت اور دُبلی پتلی تھیں۔ مَیں نے اِتنی بدصورت گائیں مصر میں کہیں بھی نہیں دیکھیں۔> -)اچانک دریا میں سے سات موٹی موٹی اور خوب صورت گائیں نکل کر سرکنڈوں میں چرنے لگیں۔= ))فرعون نے یوسف کو اپنے خواب سنائے، ”مَیں خواب میں دریائے نیل کے کنارے کھڑا تھا۔1< _)یوسف نے جواب دیا، ”یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ لیکن اللہ ہی بادشاہ کو سلامتی کا پیغام دے گا۔“; )بادشاہ نے کہا، ”مَیں نے خواب دیکھا ہے، اور یہاں کوئی نہیں جو اُس کی تعبیر کر سکے۔ لیکن سنا ہے کہ تُو خواب کو سن کر اُس کا مطلب بتا سکتا ہے۔“ hQheD G)سات دُبلی پتلی بالیں سات اچھی بالوں کو نگل گئیں۔ مَیں نے یہ سب کچھ اپنے جادوگروں کو بتایا، لیکن وہ اِس کی تعبیر نہ کر سکے۔“%C G)اِس کے بعد سات اَور بالیں نکلیں جو خراب، دُبلی پتلی اور مشرقی ہَوا سے جُھلسی ہوئی تھیں۔B /)پھر مَیں نے ایک اَور خواب دیکھا۔ سات موٹی اور اچھی بالیں ایک ہی پودے پر لگی تھیں۔{A s)اور نگلنے کے بعد بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اُنہوں نے موٹی گائیوں کو کھایا ہے۔ وہ پہلے کی طرح بدصورت ہی تھیں۔ اِس کے بعد مَیں جاگ اُٹھا۔g@ K)دُبلی اور بدصورت گائیں پہلی موٹی گائیوں کو کھا گئیں۔ 4&@4H 5)یہ وہی بات ہے جو مَیں نے حضور سے کہی کہ اللہ نے حضور پر ظاہر کیا ہے کہ وہ کیا کرے گا۔hG M)جو سات دُبلی اور بدصورت گائیں بعد میں نکلیں اُن سے مراد سات اَور سال ہیں۔ یہی سات دُبلی پتلی اور مشرقی ہَوا سے جُھلسی ہوئی بالوں کا مطلب بھی ہے۔ وہ ایک ہی بات بیان کرتی ہیں کہ سات سال تک کال پڑے گا۔bF A)سات اچھی گائیوں سے مراد سات سال ہیں۔ اِسی طرح سات اچھی بالوں سے مراد بھی سات سال ہیں۔ دونوں خواب ایک ہی بات بیان کرتے ہیں۔VE ))یوسف نے بادشاہ سے کہا، ”دونوں خوابوں کا ایک ہی مطلب ہے۔ اِن سے اللہ نے حضور پر ظاہر کیا ہے کہ وہ کیا کچھ کرنے کو ہے۔ x*M  )!اب بادشاہ کسی سمجھ دار اور دانش مند آدمی کو ملکِ مصر کا انتظام سونپیں۔jL Q) حضور کو اِس لئے ایک ہی پیغام دو مختلف خوابوں کی صورت میں ملا کہ اللہ اِس کا پکا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ جلد ہی اِس پر عمل کرے گا۔mK W)کال کی شدت کے باعث اچھے سالوں کی کثرت یاد ہی نہیں رہے گی۔lJ U)اُس کے بعد سات سال کال پڑے گا۔ کال اِتنا شدید ہو گا کہ لوگ بھول جائیں گے کہ پہلے اِتنی کثرت تھی۔ کیونکہ کال ملک کو تباہ کر دے گا۔I )سات سال آئیں گے جن کے دوران مصر کے پورے ملک میں کثرت سے پیداوار ہو گی۔ UuU=R w)&اُس نے اُن سے کہا، ”ہمیں اِس کام کے لئے یوسف سے زیادہ لائق آدمی نہیں ملے گا۔ اُس میں اللہ کی روح ہے۔“]Q 7)%یہ منصوبہ بادشاہ اور اُس کے افسران کو اچھا لگا۔,>jb Q)6پھر کال کے سات سال شروع ہوئے جس طرح یوسف نے کہا تھا۔ تمام دیگر ممالک میں بھی کال پڑ گیا، لیکن مصر میں وافر خوراک پائی جاتی تھی۔^a 9)5سات اچھے سال جن میں کثرت کی فصلیں اُگیں گزر گئے۔x` m)4دوسرے کا نام اُس نے افرائیم یعنی ’دُگنا پھل دار‘ رکھا۔ کیونکہ اُس نے کہا، ”اللہ نے مجھے میری مصیبت کے ملک میں پھلنے پھولنے دیا ہے۔“_ !)3اُس نے پہلے کا نام منسّی یعنی ’جو بُھلا دیتا ہے‘ رکھا۔ کیونکہ اُس نے کہا، ”اللہ نے میری مصیبت اور میرے باپ کا گھرانا میری یادداشت سے نکال دیا ہے۔“^^ 9)2کال سے پہلے یوسف اور آسنَت کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ J'1;EOYcmw !+5?IS]gq{$.8BLV`jt~  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )   )!  )"  )#  )$  )%  )&  )'  )(  ))  )*  )+  ),  )-  ).  )/  )0  )1  )2  )3  )4  )5  )6  )7  )8  )9  *  *  *  *  *  *  *  *  *   *   *   *   *   *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *   *!  *"  *#  *$  *%  *& SS@f  *جب یعقوب کو معلوم ہوا کہ مصر میں اناج ہے تو اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا، ”تم کیوں ایک دوسرے کا منہ تکتے ہو؟;e s)9تمام ممالک سے بھی لوگ اناج خریدنے کے لئے یوسف کے پاس آئے، کیونکہ پوری دنیا سخت کال کی گرفت میں تھی۔ d {)8جب کال پوری دنیا میں پھیل گیا تو یوسف نے اناج کے گودام کھول کر مصریوں کو اناج بیچ دیا۔ کیونکہ کال کے باعث ملک کے حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔#c C)7جب کال نے تمام مصر میں زور پکڑا تو لوگ چیخ کر کھانے کے لئے بادشاہ سے منت کرنے لگے۔ تب فرعون نے اُن سے کہا، ”یوسف کے پاس جاؤ۔ جو کچھ وہ تمہیں بتائے گا وہی کرو۔“ ^#iLk *یوسف مصر کے حاکم کی حیثیت سے لوگوں کو اناج بیچتا تھا، اِس لئے اُس کے بھائی آ کر اُس کے سامنے منہ کے بل جھک گئے۔6j i*یوں یعقوب کے بیٹے بہت سارے اَور لوگوں کے ساتھ مصر گئے، کیونکہ ملکِ کنعان بھی کال کی گرفت میں تھا۔Xi -*لیکن یعقوب نے یوسف کے سگے بھائی بن یمین کو ساتھ نہ بھیجا، کیونکہ اُس نے کہا، ”ایسا نہ ہو کہ اُسے جانی نقصان پہنچے۔“\h 5*تب یوسف کے دس بھائی اناج خریدنے کے لئے مصر گئے۔g 9*سنا ہے کہ مصر میں اناج ہے۔ وہاں جا کر ہمارے لئے کچھ خرید لاؤ تاکہ ہم بھوکے نہ مریں۔“ fzf{o s* اُنہوں نے کہا، ”جناب، ہرگز نہیں۔ آپ کے غلام غلہ خریدنے آئے ہیں۔ n * اُسے وہ خواب یاد آئے جو اُس نے اُن کے بارے میں دیکھے تھے۔ اُس نے کہا، ”تم جاسوس ہو۔ تم یہ دیکھنے آئے ہو کہ ہمارا ملک کن کن جگہوں پر غیرمحفوظ ہے۔“m *گو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا، لیکن اُنہوں نے اُسے نہ پہچانا۔l *جب یوسف نے اپنے بھائیوں کو دیکھا تو اُس نے اُنہیں پہچان لیا لیکن ایسا کیا جیسا اُن سے ناواقف ہو اور سختی سے اُن سے بات کی، ”تم کہاں سے آئے ہو؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”ہم ملکِ کنعان سے اناج خریدنے کے لئے آئے ہیں۔“ us )*لیکن یوسف نے اپنا الزام دہرایا، ”ایسا ہی ہے جیسا مَیں نے کہا ہے کہ تم جاسوس ہو۔.r Y* اُنہوں نے عرض کی، ”آپ کے خادم کُل بارہ بھائی ہیں۔ ہم ایک ہی آدمی کے بیٹے ہیں جو کنعان میں رہتا ہے۔ سب سے چھوٹا بھائی اِس وقت ہمارے باپ کے پاس ہے جبکہ ایک مر گیا ہے۔“*q Q* لیکن یوسف نے اصرار کیا، ”نہیں، تم دیکھنے آئے ہو کہ ہمارا ملک کن کن جگہوں پر غیرمحفوظ ہے۔“p  * ہم سب ایک ہی مرد کے بیٹے ہیں۔ آپ کے خادم شریف لوگ ہیں، جاسوس نہیں ہیں۔“ C5w g*تیسرے دن اُس نے اُن سے کہا، ”مَیں اللہ کا خوف مانتا ہوں، اِس لئے تم کو ایک شرط پر جیتا چھوڑوں گا۔qv _*یہ کہہ کر یوسف نے اُنہیں تین دن کے لئے قیدخانے میں ڈال دیا۔Tu %*ایک بھائی کو اُسے لانے کے لئے بھیج دو۔ باقی سب یہاں گرفتار رہیں گے۔ پھر پتا چلے گا کہ تمہاری باتیں سچ ہیں کہ نہیں۔ اگر نہیں تو فرعون کی حیات کی قَسم، اِس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم جاسوس ہو۔“mt W*مَیں تمہاری باتیں جانچ لوں گا۔ فرعون کی حیات کی قَسم، پہلے تمہارا سب سے چھوٹا بھائی آئے، ورنہ تم اِس جگہ سے کبھی نہیں جا سکو گے۔ \z 5*وہ آپس میں کہنے لگے، ”بےشک یہ ہمارے اپنے بھائی پر ظلم کی سزا ہے۔ جب وہ التجا کر رہا تھا کہ مجھ پر رحم کریں تو ہم نے اُس کی بڑی مصیبت دیکھ کر بھی اُس کی نہ سنی۔ اِس لئے یہ مصیبت ہم پر آ گئی ہے۔“y '*لیکن لازم ہے کہ تم اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو میرے پاس لے آؤ۔ صرف اِس سے تمہاری باتیں سچ ثابت ہوں گی اور تم موت سے بچ جاؤ گے۔“ یوسف کے بھائی راضی ہو گئے۔}x w*اگر تم واقعی شریف لوگ ہو تو ایسا کرو کہ تم میں سے ایک یہاں قیدخانے میں رہے جبکہ باقی سب اناج لے کر اپنے بھوکے گھر والوں کے پاس واپس جائیں۔ .?[.)~ O*یوسف نے حکم دیا کہ ملازم اُن کی بوریاں اناج سے بھر کر ہر ایک بھائی کے پیسے اُس کی بوری میں واپس رکھ دیں اور اُنہیں سفر کے لئے کھانا بھی دیں۔ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔`} =*یہ باتیں سن کر وہ اُنہیں چھوڑ کر رونے لگا۔ پھر وہ سنبھل کر واپس آیا۔ اُس نے شمعون کو چن کر اُسے اُن کے سامنے ہی باندھ لیا۔>| y*اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ یوسف ہماری باتیں سمجھ سکتا ہے، کیونکہ وہ مترجم کی معرفت اُن سے بات کرتا تھا۔{{ s*اور روبن نے کہا، ”کیا مَیں نے نہیں کہا تھا کہ لڑکے پر ظلم مت کرو، لیکن تم نے میری ایک نہ مانی۔ اب اُس کی موت کا حساب کتاب کیا جا رہا ہے۔“ 2u2C *ملکِ کنعان میں اپنے باپ کے پاس پہنچ کر اُنہوں نے اُسے سب کچھ سنایا جو اُن کے ساتھ ہوا تھا۔ اُنہوں نے کہا،x m*اُس نے اپنے بھائیوں سے کہا، ”میرے پیسے واپس کر دیئے گئے ہیں! وہ میری بوری میں ہیں۔“ یہ دیکھ کر اُن کے ہوش اُڑ گئے۔ کانپتے ہوئے وہ ایک دوسرے کو دیکھنے اور کہنے لگے، ”یہ کیا ہے جو اللہ نے ہمارے ساتھ کیا ہے؟“ )*جب وہ رات کے لئے کسی جگہ پر ٹھہرے تو ایک بھائی نے اپنے گدھے کے لئے چارا نکالنے کی غرض سے اپنی بوری کھولی تو دیکھا کہ بوری کے منہ میں اُس کے پیسے پڑے ہیں۔n Y*پھر یوسف کے بھائی اپنے گدھوں پر اناج لاد کر روانہ ہو گئے۔ h*$ E*!پھر اُس ملک کے مالک نے ہم سے کہا، ’اِس سے مجھے پتا چلے گا کہ تم شریف لوگ ہو کہ ایک بھائی کو میرے پاس چھوڑ دو اور اپنے بھوکے گھر والوں کے لئے خوراک لے کر چلے جاؤ۔J * ہم بارہ بھائی ہیں، ایک ہی باپ کے بیٹے۔ ایک تو مر گیا جبکہ سب سے چھوٹا بھائی اِس وقت کنعان میں باپ کے پاس ہے۔‘m W*لیکن ہم نے اُس سے کہا، ’ہم جاسوس نہیں بلکہ شریف لوگ ہیں۔ %*”اُس ملک کے مالک نے بڑی سختی سے ہمارے ساتھ بات کی۔ اُس نے ہمیں جاسوس قرار دیا۔ EE:  q*$اُن کے باپ نے اُن سے کہا، ”تم نے مجھے اپنے بچوں سے محروم کر دیا ہے۔ یوسف نہیں رہا، شمعون بھی نہیں رہا اور اب تم بن یمین کو بھی مجھ سے چھیننا چاہتے ہو۔ سب کچھ میرے خلاف ہے۔“ #*#اُنہوں نے اپنی بوریوں سے اناج نکال دیا تو دیکھا کہ ہر ایک کی بوری میں اُس کے پیسوں کی تھیلی رکھی ہوئی ہے۔ یہ پیسے دیکھ کر وہ خود اور اُن کا باپ ڈر گئے۔b A*"لیکن اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو میرے پاس لے آؤ تاکہ مجھے معلوم ہو جائے کہ تم جاسوس نہیں بلکہ شریف لوگ ہو۔ پھر مَیں تم کو تمہارا بھائی واپس کر دوں گا اور تم اِس ملک میں آزادی سے تجارت کر سکو گے‘۔“ mR,m;  s+جب مصر سے لایا گیا اناج ختم ہو گیا تو یعقوب نے کہا، ”اب واپس جا کر ہمارے لئے کچھ اَور غلہ خرید لاؤ۔“#   G+کال نے زور پکڑا۔t  e*&لیکن یعقوب نے کہا، ”میرا بیٹا تمہارے ساتھ جانے کا نہیں۔ کیونکہ اُس کا بھائی مر گیا ہے اور وہ اکیلا ہی رہ گیا ہے۔ اگر اُس کو راستے میں جانی نقصان پہنچے تو تم مجھ بوڑھے کو غم کے مارے پاتال میں پہنچاؤ گے۔“ 2  a*%پھر روبن بول اُٹھا، ”اگر مَیں اُسے سلامتی سے آپ کے پاس واپس نہ پہنچاؤں تو آپ میرے دو بیٹوں کو سزائے موت دے سکتے ہیں۔ اُسے میرے سپرد کریں تو مَیں اُسے واپس لے آؤں گا۔“ &S #+یعقوب نے کہا، ”تم نے اُسے کیوں بتایا کہ ہمارا ایک اَور بھائی بھی ہے؟ اِس سے تم نے مجھے بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔“G  +ورنہ نہیں۔ کیونکہ اُس آدمی نے کہا تھا کہ ہم صرف اِس صورت میں اُس کے پاس آ سکتے ہیں کہ ہمارا بھائی ساتھ ہو۔“  +اگر آپ ہمارے بھائی کو ساتھ بھیجیں تو پھر ہم جا کر آپ کے لئے غلہ خریدیں گےV )+لیکن یہوداہ نے کہا، ”اُس مرد نے سختی سے کہا تھا، ’تم صرف اِس صورت میں میرے پاس آ سکتے ہو کہ تمہارا بھائی ساتھ ہو۔‘ 6[a6' K+ مَیں خود اُس کا ضامن ہوں گا۔ آپ مجھے اُس کی جان کا ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔ اگر مَیں اُسے سلامتی سے واپس نہ پہنچاؤں تو پھر مَیں زندگی کے آخر تک قصوروار ٹھہروں گا۔v i+پھر یہوداہ نے باپ سے کہا، ”لڑکے کو میرے ساتھ بھیج دیں تو ہم ابھی روانہ ہو جائیں گے۔ ورنہ آپ، ہمارے بچے بلکہ ہم سب بھوکوں مر جائیں گے۔! ?+اُنہوں نے جواب دیا، ”وہ آدمی ہمارے اور ہمارے خاندان کے بارے میں پوچھتا رہا، ’کیا تمہارا باپ اب تک زندہ ہے؟ کیا تمہارا کوئی اَور بھائی ہے؟‘ پھر ہمیں جواب دینا پڑا۔ ہمیں کیا پتا تھا کہ وہ ہمیں اپنے بھائی کو ساتھ لانے کو کہے گا۔“ ] M + اپنے بھائی کو لے کر سیدھے واپس پہنچنا۔j Q+ اپنے ساتھ دُگنی رقم لے کر جاؤ، کیونکہ تمہیں وہ پیسے واپس کرنے ہیں جو تمہاری بوریوں میں رکھے گئے تھے۔ شاید کسی سے غلطی ہوئی ہو۔K + تب اُن کے باپ اسرائیل نے کہا، ”اگر اَور کوئی صورت نہیں تو اِس ملک کی بہترین پیداوار میں سے کچھ تحفے کے طور پر لے کر اُس آدمی کو دے دو یعنی کچھ بلسان، شہد، لادن، مُر، پستہ اور بادام۔ ;+ جتنی دیر تک ہم جھجکتے رہے ہیں اُتنی دیر میں تو ہم دو دفعہ مصر جا کر واپس آ سکتے تھے۔“ GGj Q+ملازم نے ایسا ہی کیا اور بھائیوں کو یوسف کے گھر لے گیا۔X -+جب یوسف نے بن یمین کو اُن کے ساتھ دیکھا تو اُس نے اپنے گھر پر مقرر ملازم سے کہا، ”اِن آدمیوں کو میرے گھر لے جاؤ تاکہ وہ دوپہر کا کھانا میرے ساتھ کھائیں۔ جانور کو ذبح کر کے کھانا تیار کرو۔“8 m+چنانچہ وہ تحفے، دُگنی رقم اور بن یمین کو ساتھ لے کر چل پڑے۔ مصر پہنچ کر وہ یوسف کے سامنے حاضر ہوئے۔0 ]+اللہ قادرِ مطلق کرے کہ یہ آدمی تم پر رحم کر کے بن یمین اور تمہارے دوسرے بھائی کو واپس بھیجے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، اگر مجھے اپنے بچوں سے محروم ہونا ہے تو ایسا ہی ہو۔“ 5W5 /+”جنابِ عالی، ہماری بات سن لیجئے۔ اِس سے پہلے ہم اناج خریدنے کے لئے یہاں آئے تھے۔ +اِس لئے گھر کے دروازے پر پہنچ کر اُنہوں نے گھر پر مقرر ملازم سے کہا،% G+جب اُنہیں اُس کے گھر پہنچایا جا رہا تھا تو وہ ڈر کر سوچنے لگے، ”ہمیں اُن پیسوں کے سبب سے یہاں لایا جا رہا ہے جو پہلی دفعہ ہماری بوریوں میں واپس کئے گئے تھے۔ وہ ہم پر اچانک حملہ کر کے ہمارے گدھے چھین لیں گے اور ہمیں غلام بنا لیں گے۔“ W" ++ملازم نے کہا، ”فکر نہ کریں۔ مت ڈریں۔ آپ کے اور آپ کے باپ کے خدا نے آپ کے لئے آپ کی بوریوں میں یہ خزانہ رکھا ہو گا۔ بہرحال مجھے آپ کے پیسے مل گئے ہیں۔“ ملازم شمعون کو اُن کے پاس باہر لے آیا۔P! +نیز، ہم مزید خوراک خریدنے کے لئے اَور پیسے لے آئے ہیں۔ خدا جانے کس نے ہمارے یہ پیسے ہماری بوریوں میں رکھ دیئے۔“;  s+لیکن جب ہم یہاں سے روانہ ہو کر راستے میں رات کے لئے ٹھہرے تو ہم نے اپنی بوریاں کھول کر دیکھا کہ ہر بوری کے منہ میں ہمارے پیسوں کی پوری رقم پڑی ہے۔ ہم یہ پیسے واپس لے آئے ہیں۔ [D [,' U+اُنہوں نے جواب دیا، ”جی، آپ کے خادم ہمارے باپ اب تک زندہ ہیں۔“ وہ دوبارہ منہ کے بل جھک گئے۔Y& /+اُس نے اُن سے خیریت دریافت کی اور پھر کہا، ”تم نے اپنے بوڑھے باپ کا ذکر کیا۔ کیا وہ ٹھیک ہیں؟ کیا وہ اب تک زندہ ہیں؟“% #+جب یوسف گھر پہنچا تو وہ اپنے تحفے لے کر اُس کے سامنے آئے اور منہ کے بل جھک گئے۔A$ +اُنہوں نے اپنے تحفے تیار رکھے، کیونکہ اُنہیں بتایا گیا، ”یوسف دوپہر کا کھانا آپ کے ساتھ ہی کھائے گا۔“8# m+پھر اُس نے بھائیوں کو یوسف کے گھر میں لے جا کر اُنہیں پاؤں دھونے کے لئے پانی اور گدھوں کو چارا دیا۔ AA** Q+پھر وہ اپنا منہ دھو کر واپس آیا۔ اپنے آپ پر قابو پا کر اُس نے حکم دیا کہ نوکر کھانا لے آئیں۔s) c+یوسف اپنے بھائی کو دیکھ کر اِتنا متاثر ہوا کہ وہ رونے کو تھا، اِس لئے وہ جلدی سے وہاں سے نکل کر اپنے سونے کے کمرے میں گیا اور رو پڑا۔( )+جب یوسف نے اپنے سگے بھائی بن یمین کو دیکھا تو اُس نے کہا، ”کیا یہ تمہارا سب سے چھوٹا بھائی ہے جس کا تم نے ذکر کیا تھا؟ بیٹا، اللہ کی نظرِ کرم تم پر ہو۔“ J(2<FPZdnx",6@JT^hq{%/9CMWaku  +  +  +  +  +  +  +  +   +   +   +  +  +  +  +  +  +  +   +   +   +   +   +  +  +  +  +  +  +  +  +!  +"  +#  +$  +%  +&  +'  +(  +)  +*  + +  +!,  +"-  ,.  ,/  ,0  ,1  ,2  ,3  ,4  ,5  , 6  , 7  , 8  , 9  , :  ,;  ,<  ,=  ,>  ,?  ,@  ,A  ,B  ,C  ,D  ,E  ,F  ,G  ,H  ,I  ,J  ,K  ,L  , M  ,!N  ,"O  -P  -Q  -R  -S  -T  -U  -V $- E+"نوکروں نے اُنہیں یوسف کی میز پر سے کھانا لے کر کھلایا۔ لیکن بن یمین کو دوسروں کی نسبت پانچ گُنا زیادہ ملا۔ یوں اُنہوں نے یوسف کے ساتھ جی بھر کر کھایا اور پیا۔ <, u+!بھائیوں کو اُن کی عمر کی ترتیب کے مطابق یوسف کے سامنے بٹھایا گیا۔ یہ دیکھ کر بھائی نہایت حیران ہوئے۔J+ + نوکروں نے یوسف کے لئے کھانے کا الگ انتظام کیا اور بھائیوں کے لئے الگ۔ مصریوں کے لئے بھی کھانے کا الگ انتظام تھا، کیونکہ عبرانیوں کے ساتھ کھانا کھانا اُن کی نظر میں قابلِ نفرت تھا۔ uu0 ,اگلی صبح جب پَو پھٹنے لگی تو بھائیوں کو اُن کے گدھوں سمیت رُخصت کر دیا گیا۔F/  ,سب سے چھوٹے بھائی کی بوری میں نہ صرف پیسے بلکہ میرے چاندی کے پیالے کو بھی رکھ دینا۔“ ملازم نے ایسا ہی کیا۔+.  U,یوسف نے گھر پر مقرر ملازم کو حکم دیا، ”اُن مردوں کی بوریاں خوراک سے اِتنی بھر دینا جتنی وہ اُٹھا کر لے جا سکیں۔ ہر ایک کے پیسے اُس کی اپنی بوری کے منہ میں رکھ دینا۔ WD4 ,جواب میں اُنہوں نے کہا، ”ہمارے مالک ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ کبھی نہیں ہو سکتا کہ آپ کے خادم ایسا کریں۔u3 g,جب ملازم بھائیوں کے پاس پہنچا تو اُس نے اُن سے یہی باتیں کیں۔42 e,آپ نے میرے مالک کا چاندی کا پیالہ کیوں چُرایا ہے؟ اُس سے وہ نہ صرف پیتے ہیں بلکہ اُسے غیب دانی کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ آپ ایک نہایت سنگین جرم کے مرتکب ہوئے ہیں‘۔“m1 W,وہ ابھی شہر سے نکل کر دُور نہیں گئے تھے کہ یوسف نے اپنے گھر پر مقرر ملازم سے کہا، ”جلدی کرو۔ اُن آدمیوں کا تعاقب کرو۔ اُن کے پاس پہنچ کر یہ پوچھنا، ’آپ نے ہماری بھلائی کے جواب میں غلط کام کیوں کیا ہے؟ Aq8 9, اُنہوں نے جلدی سے اپنی بوریاں اُتار کر زمین پر رکھ دیں۔ ہر ایک نے اپنی بوری کھول دی۔L7 , ملازم نے کہا، ”ٹھیک ہے ایسا ہی ہو گا۔ لیکن صرف وہی میرا غلام بنے گا جس نے پیالہ چُرایا ہے۔ باقی سب آزاد ہیں۔“46 e, اگر وہ آپ کے خادموں میں سے کسی کے پاس مل جائے تو اُسے مار ڈالا جائے اور باقی سب آپ کے غلام بنیں۔“5 ,آپ تو جانتے ہیں کہ ہم ملکِ کنعان سے وہ پیسے واپس لے آئے جو ہماری بوریوں میں تھے۔ تو پھر ہم کیوں آپ کے مالک کے گھر سے چاندی یا سونا چُرائیں گے؟ ;-< W,یوسف نے کہا، ”یہ تم نے کیا کِیا ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ مجھ جیسا آدمی غیب کا علم رکھتا ہے؟“7; k,جب یہوداہ اور اُس کے بھائی یوسف کے گھر پہنچے تو وہ ابھی وہیں تھا۔ وہ اُس کے سامنے منہ کے بل گر گئے۔;: s, بھائیوں نے یہ دیکھ کر پریشانی میں اپنے لباس پھاڑ لئے۔ وہ اپنے گدھوں کو دوبارہ لاد کر شہر واپس آ گئے۔9 , ملازم بوریوں کی تلاشی لینے لگا۔ وہ بڑے بھائی سے شروع کر کے آخرکار سب سے چھوٹے بھائی تک پہنچ گیا۔ اور وہاں بن یمین کی بوری میں سے پیالہ نکلا۔ ? 7,لیکن یہوداہ نے یوسف کے قریب آ کر کہا، ”میرے مالک، مہربانی کر کے اپنے بندے کو ایک بات کرنے کی اجازت دیں۔ مجھ پر غصہ نہ کریں اگرچہ آپ مصر کے بادشاہ جیسے ہیں۔ > ,یوسف نے کہا، ”اللہ نہ کرے کہ مَیں ایسا کروں، بلکہ صرف وہی میرا غلام ہو گا جس کے پاس پیالہ تھا۔ باقی سب سلامتی سے اپنے باپ کے پاس واپس چلے جائیں۔“6= i,یہوداہ نے کہا، ”جنابِ عالی، ہم کیا کہیں؟ اب ہم اپنے دفاع میں کیا کہیں؟ اللہ ہی نے ہمیں قصوروار ٹھہرایا ہے۔ اب ہم سب آپ کے غلام ہیں، نہ صرف وہ جس کے پاس سے پیالہ مل گیا۔“ ptpC 1,ہم نے جواب دیا، ’یہ لڑکا اپنے باپ کو چھوڑ نہیں سکتا، ورنہ اُس کا باپ مر جائے گا۔‘B ',جنابِ عالی، آپ نے ہمیں بتایا، ’اُسے یہاں لے آؤ تاکہ مَیں خود اُسے دیکھ سکوں۔‘IA ,ہم نے جواب دیا، ’ہمارا باپ ہے۔ وہ بوڑھا ہے۔ ہمارا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے جو اُس وقت پیدا ہوا جب ہمارا باپ عمر رسیدہ تھا۔ اُس لڑکے کا بھائی مر چکا ہے۔ اُس کی ماں کے صرف یہ دو بیٹے پیدا ہوئے۔ اب وہ اکیلا ہی رہ گیا ہے۔ اُس کا باپ اُسے شدت سے پیار کرتا ہے۔‘@  ,جنابِ عالی، آپ نے ہم سے پوچھا، ’کیا تمہارا باپ یا کوئی اَور بھائی ہے؟‘ rD>rH /,ہمارے باپ نے ہم سے کہا، ’تم جانتے ہو کہ میری بیوی راخل سے میرے دو بیٹے پیدا ہوئے۔+G S,ہم نے جواب دیا، ’ہم جا نہیں سکتے۔ ہم صرف اِس صورت میں اُس مرد کے پاس جا سکتے ہیں کہ ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ساتھ ہو۔ ہم تب ہی جا سکتے ہیں جب وہ بھی ہمارے ساتھ چلے۔‘lF U,پھر اُنہوں نے ہم سے کہا، ’مصر لوٹ کر کچھ غلہ خرید لاؤ۔‘E #,جب ہم اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے تو ہم نے اُنہیں سب کچھ بتایا جو آپ نے کہا تھا۔8D m,پھر آپ نے کہا، ’تم صرف اِس صورت میں میرے پاس آ سکو گے کہ تمہارا سب سے چھوٹا بھائی تمہارے ساتھ ہو۔‘ 2cJK ,یہوداہ نے اپنی بات جاری رکھی، ”جنابِ عالی، اب اگر مَیں اپنے باپ کے پاس جاؤں اور وہ دیکھیں کہ لڑکا میرے ساتھ نہیں ہے تو وہ دم توڑ دیں گے۔ اُن کی زندگی اِس قدر لڑکے کی زندگی پر منحصر ہے اور وہ اِتنے بوڑھے ہیں کہ ہم ایسی حرکت سے اُنہیں قبر تک پہنچا دیں گے۔KJ ,اگر اِس کو بھی مجھ سے لے جانے کی وجہ سے جانی نقصان پہنچے تو تم مجھ بوڑھے کو غم کے مارے پاتال میں پہنچاؤ گے‘۔“JI ,پہلا مجھے چھوڑ چکا ہے۔ کسی جنگلی جانور نے اُسے پھاڑ کھایا ہو گا، کیونکہ اُسی وقت سے مَیں نے اُسے نہیں دیکھا۔ 121`N =,!اب اپنے خادم کی گزارش سنیں۔ مَیں یہاں رہ کر اِس لڑکے کی جگہ غلام بن جاتا ہوں، اور وہ دوسرے بھائیوں کے ساتھ واپس چلا جائے۔M /, نہ صرف یہ بلکہ مَیں نے باپ سے کہا، ’مَیں خود اِس کا ضامن ہوں گا۔ اگر مَیں اِسے سلامتی سے واپس نہ پہنچاؤں تو پھر مَیں زندگی کے آخر تک قصوروار ٹھہروں گا۔‘JL ,یہوداہ نے اپنی بات جاری رکھی، ”جنابِ عالی، اب اگر مَیں اپنے باپ کے پاس جاؤں اور وہ دیکھیں کہ لڑکا میرے ساتھ نہیں ہے تو وہ دم توڑ دیں گے۔ اُن کی زندگی اِس قدر لڑکے کی زندگی پر منحصر ہے اور وہ اِتنے بوڑھے ہیں کہ ہم ایسی حرکت سے اُنہیں قبر تک پہنچا دیں گے۔  Q =-وہ اِتنے زور سے رو پڑا کہ مصریوں نے اُس کی آواز سنی اور فرعون کے گھرانے کو پتا چل گیا۔IP  -یہ سن کر یوسف اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔ اُس نے اونچی آواز سے حکم دیا کہ تمام ملازم کمرے سے نکل جائیں۔ کوئی اَور شخص کمرے میں نہیں تھا جب یوسف نے اپنے بھائیوں کو بتایا کہ وہ کون ہے۔}O w,"اگر لڑکا میرے ساتھ نہ ہوا تو مَیں کس طرح اپنے باپ کو منہ دکھا سکتا ہوں؟ مَیں برداشت نہیں کر سکوں گا کہ وہ اِس مصیبت میں مبتلا ہو جائیں۔“ xx U -یہ کال کا دوسرا سال ہے۔ پانچ اَور سال کے دوران نہ ہل چلے گا، نہ فصل کٹے گی۔T -اب میری بات سنو۔ نہ گھبراؤ اور نہ اپنے آپ کو الزام دو کہ ہم نے یوسف کو بیچ دیا۔ اصل میں اللہ نے خود مجھے تمہارے آگے یہاں بھیج دیا تاکہ ہم سب بچے رہیں۔\S 5-پھر یوسف نے کہا، ”میرے قریب آؤ۔“ وہ قریب آئے تو اُس نے کہا، ”مَیں تمہارا بھائی یوسف ہوں جسے تم نے بیچ کر مصر بھجوایا۔R {-یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا، ”مَیں یوسف ہوں۔ کیا میرا باپ اب تک زندہ ہے؟“ لیکن اُس کے بھائی یہ سن کر اِتنے گھبرا گئے کہ وہ جواب نہ دے سکے۔ !gY K- آپ جُشن کے علاقے میں رہ سکتے ہیں۔ وہاں آپ میرے قریب ہوں گے، آپ، آپ کی آل اولاد، گائےبَیل، بھیڑبکریاں اور جو کچھ بھی آپ کا ہے۔X 7- اب جلدی سے میرے باپ کے پاس واپس جا کر اُن سے کہو، ’آپ کا بیٹا یوسف آپ کو اطلاع دیتا ہے کہ اللہ نے مجھے مصر کا مالک بنا دیا ہے۔ میرے پاس آ جائیں، دیر نہ کریں۔lW U-چنانچہ تم نے مجھے یہاں نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے۔ اُس نے مجھے فرعون کا باپ، اُس کے پورے گھرانے کا مالک اور مصر کا حاکم بنا دیا ہے۔kV S-اللہ نے مجھے تمہارے آگے بھیجا تاکہ دنیا میں تمہارا ایک بچا کھچا حصہ محفوظ رہے اور تمہاری جان ایک بڑی مخلصی کی معرفت چھوٹ جائے۔ BN)] O-یہ کہہ کر وہ اپنے بھائی بن یمین کو گلے لگا کر رو پڑا۔ بن یمین بھی اُس کے گلے لگ کر رونے لگا۔p\ ]- میرے باپ کو مصر میں میرے اثر و رسوخ کے بارے میں اطلاع دو۔ اُنہیں سب کچھ بتاؤ جو تم نے دیکھا ہے۔ پھر جلد ہی میرے باپ کو یہاں لے آؤ۔“-[ W- تم خود اور میرا بھائی بن یمین دیکھ سکتے ہو کہ مَیں یوسف ہی ہوں جو تمہارے ساتھ بات کر رہا ہوں۔ Z - وہاں مَیں آپ کی ضروریات پوری کروں گا، کیونکہ کال کو ابھی پانچ سال اَور لگیں گے۔ ورنہ آپ، آپ کے گھر والے اور جو بھی آپ کے ہیں بدحال ہو جائیں گے۔‘ ;a -وہاں اپنے باپ اور خاندانوں کو لے کر میرے پاس آ جاؤ۔ مَیں تم کو مصر کی سب سے اچھی زمین دے دوں گا، اور تم اِس ملک کی بہترین پیداوار کھا سکو گے۔3` c-اُس نے یوسف سے کہا، ”اپنے بھائیوں کو بتا کہ اپنے جانوروں پر غلہ لاد کر ملکِ کنعان واپس چلے جاؤ۔8_ m-جب یہ خبر بادشاہ کے محل تک پہنچی کہ یوسف کے بھائی آئے ہیں تو فرعون اور اُس کے تمام افسران خوش ہوئے۔A^ -پھر یوسف نے روتے ہوئے اپنے ہر ایک بھائی کو بوسہ دیا۔ اِس کے بعد اُس کے بھائی اُس کے ساتھ باتیں کرنے لگے۔ 7Fe  -اُس نے ہر ایک بھائی کو کپڑوں کا ایک جوڑا بھی دیا۔ لیکن بن یمین کو اُس نے چاندی کے 300 سکے اور پانچ جوڑے دیئے۔=d w-یوسف کے بھائیوں نے ایسا ہی کیا۔ یوسف نے اُنہیں بادشاہ کے حکم کے مطابق گاڑیاں اور سفر کے لئے خوراک دی۔c -اپنے مال کی زیادہ فکر نہ کرو، کیونکہ تمہیں ملکِ مصر کا بہترین مال ملے گا۔“Eb -اُنہیں یہ ہدایت بھی دے کہ اپنے بال بچوں کے لئے مصر سے گاڑیاں لے جاؤ اور اپنے باپ کو بھی بٹھا کر یہاں لے آؤ۔ bSi #-اُنہوں نے اُس سے کہا، ”یوسف زندہ ہے! وہ پورے مصر کا حاکم ہے۔“ لیکن یعقوب ہکا بکا رہ گیا، کیونکہ اُسے یقین نہ آیا۔qh _-وہ مصر سے روانہ ہو کر ملکِ کنعان میں اپنے باپ کے پاس پہنچے۔g  -یوں اُس نے اپنے بھائیوں کو رُخصت کر کے کہا، ”راستے میں جھگڑا نہ کرنا۔“f -اُس نے اپنے باپ کو دس گدھے بھجوا دیئے جو مصر کے بہترین مال سے لدے ہوئے تھے اور دس گدھیاں جو اناج، روٹی اور باپ کے سفر کے لئے کھانے سے لدی ہوئی تھیں۔ q BqMm .رات کو اللہ رویا میں اُس سے ہم کلام ہوا۔ اُس نے کہا، ”یعقوب، یعقوب!“ یعقوب نے جواب دیا، ”جی، مَیں حاضر ہوں۔“Fl  .یعقوب سب کچھ لے کر روانہ ہوا اور بیرسبع پہنچا۔ وہاں اُس نے اپنے باپ اسحاق کے خدا کے حضور قربانیاں چڑھائیں۔2k a-اور اُس نے کہا، ”میرا بیٹا یوسف زندہ ہے! یہی کافی ہے۔ مرنے سے پہلے مَیں جا کر اُس سے ملوں گا۔“ :j q-تاہم اُنہوں نے اُسے سب کچھ بتایا جو یوسف نے اُن سے کہا تھا، اور اُس نے خود وہ گاڑیاں دیکھیں جو یوسف نے اُسے مصر لے جانے کے لئے بھجوا دی تھیں۔ پھر یعقوب کی جان میں جان آ گئی، $FEwr k.یعقوب کے بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں اور باقی اولاد سب ساتھ گئے۔,q U.یوں یعقوب اور اُس کی تمام اولاد اپنے مویشی اور کنعان میں حاصل کیا ہوا مال لے کر مصر چلے گئے۔}p w.اِس کے بعد یعقوب بیرسبع سے روانہ ہوا۔ اُس کے بیٹوں نے اُسے اور اپنے بال بچوں کو اُن گاڑیوں میں بٹھا دیا جو مصر کے بادشاہ نے بھجوائی تھیں۔Zo 1.مَیں تیرے ساتھ مصر جاؤں گا اور تجھے اِس ملک میں واپس بھی لے آؤں گا۔ جب تُو مرے گا تو یوسف خود تیری آنکھیں بند کرے گا۔“Xn -.اللہ نے کہا، ”مَیں اللہ ہوں، تیرے باپ اسحاق کا خدا۔ مصر جانے سے مت ڈر، کیونکہ وہاں مَیں تجھ سے ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ {)+CSy #.زبولون کے بیٹے سرد، ایلون اور یحلئیل تھے۔^x 9. اِشکار کے بیٹے تولع، فُوّہ، یوب اور سِمرون تھے۔dw E. یہوداہ کے بیٹے عیر، اونان، سیلہ، فارص اور زارح تھے (عیراور اونان کنعان میں مر چکے تھے)۔ فارص کے دو بیٹے حصرون اور حمول تھے۔Qv . لاوی کے بیٹے جیرسون، قہات اور مراری تھے۔&u I. شمعون کے بیٹے یموایل، یمین، اُہد، یکین، صُحر اور ساؤل تھے (ساؤل کنعانی عورت کا بچہ تھا)۔Ot . کے بیٹے حنوک، فلّو، حصرون اور کرمی تھے۔s .اسرائیل کی اولاد کے نام جو مصر چلی گئی یہ ہیں: یعقوب کے پہلوٹھے روبن K(2<FPZdnx !+5?IS]gq{%/8BLV`jt~  - X  - Y  - Z  - [  - \  -]  -^  -_  -`  - X  - Y  - Z  - [  - \  -]  -^  -_  -`  -a  -b  -c  -d  -e  -f  -g  -h  -i  -j  -k  .l  .m  .n  .o  .p  .q  .r  .s  . t  . u  . v  . w  . x  .y  .z  .{  .|  .}  .~  .  .  .  .  .  .  .  .  .  .  .  .  .   .!  ."  /  /  /  /  /  /  /  /  /   /   /   /   /   /  /  /  /  /  /  /  / ,:,B .یوسف کے دو بیٹے منسّی اور افرائیم مصر میں پیدا ہوئے۔ اُن کی ماں اون کے پجاری فوطی فرع کی بیٹی آسنَت تھی۔E~ .راخل کے بیٹے یوسف اور بن یمین تھے۔} .کُل 16 افراد زِلفہ کی اولاد تھے جسے لابن نے اپنی بیٹی لیاہ کو دیا تھا۔U| '.آشر کے بیٹے یِمنہ، اِسواہ، اِسوی اور بریعہ تھے۔ آشر کی بیٹی سِرح تھی، اور بریعہ کے دو بیٹے تھے، حِبر اور ملکی ایل۔}{ w.جد کے بیٹے صفیان، حجی، سُونی، اِصبون، عیری، ارودی اور اریلی تھے۔bz A.اِن بیٹوں کی ماں لیاہ تھی، اور وہ مسوپتامیہ میں پیدا ہوئے۔ اِن کے علاوہ دینہ اُس کی بیٹی تھی۔ کُل 33 مرد لیاہ کی اولاد تھے۔ [P4 e.جب ہم یعقوب، یوسف اور اُس کے دو بیٹے اِن میں شامل کرتے ہیں تو یعقوب کے گھرانے کے 70 افراد مصر گئے۔4 e.یعقوب کی اولاد کے 66 افراد اُس کے ساتھ مصر چلے گئے۔ اِس تعداد میں بیٹوں کی بیویاں شامل نہیں تھیں۔ }.کُل 7 مرد بِلہاہ کی اولاد تھے جسے لابن نے اپنی بیٹی راخل کو دیا تھا۔^ 9.نفتالی کے بیٹے یحصئیل، جونی، یصر اور سِلیم تھے۔/ ].دان کا بیٹا حُشیم تھا۔9 q.کُل 14 مرد راخل کی اولاد تھے۔! ?.بن یمین کے بیٹے بالع، بِکر، اشبیل، جیرا، نعمان، اِخی، روس، مُفیم، حُفیم اور ارد تھے۔ LRzLo  [.پھر یوسف نے اپنے بھائیوں اور اپنے باپ کے خاندان کے باقی افراد سے کہا، ”ضروری ہے کہ مَیں جا کر بادشاہ کو اطلاع دوں کہ میرے بھائی اور میرے باپ کا پورا خاندان جو کنعان کے رہنے والے ہیں میرے پاس آ گئے ہیں۔7  k.یعقوب نے یوسف سے کہا، ”اب مَیں مرنے کے لئے تیار ہوں، کیونکہ مَیں نے خود دیکھا ہے کہ تُو زندہ ہے۔“T %.تو یوسف اپنے رتھ پر سوار ہو کر اپنے باپ سے ملنے کے لئے جُشن گیا۔ اُسے دیکھ کر وہ اُس کے گلے لگ کر کافی دیر روتا رہا۔* Q.یعقوب نے یہوداہ کو اپنے آگے یوسف کے پاس بھیجا تاکہ وہ جُشن میں اُن سے ملے۔ جب وہ وہاں پہنچے z(  M."پھر تم کو جواب دینا ہے، ’آپ کے خادم بچپن سے مویشی پالتے آئے ہیں۔ یہ ہمارے باپ دادا کا پیشہ تھا اور ہمارا بھی ہے۔‘ اگر تم یہ کہو تو تمہیں جُشن میں رہنے کی اجازت ملے گی۔ کیونکہ بھیڑبکریوں کے چرواہے مصریوں کی نظر میں قابلِ نفرت ہیں۔“ e  G.!بادشاہ تمہیں بُلا کر پوچھے گا کہ تم کیا کام کرتے ہو؟  1. مَیں اُس سے کہوں گا، ’یہ آدمی بھیڑبکریوں کے چرواہے ہیں۔ وہ مویشی پالتے ہیں، اِس لئے اپنی بھیڑبکریاں، گائےبَیل اور باقی سارا مال اپنے ساتھ لے آئے ہیں۔‘ 5Y5  =/فرعون نے بھائیوں سے پوچھا، ”تم کیا کام کرتے ہو؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”آپ کے خادم بھیڑبکریوں کے چرواہے ہیں۔ یہ ہمارے باپ دادا کا پیشہ تھا اور ہمارا بھی ہے۔z q/اُس نے اپنے بھائیوں میں سے پانچ کو چن کر فرعون کے سامنے پیش کیا۔&  K/یوسف فرعون کے پاس گیا اور اُسے اطلاع دے کر کہا، ”میرا باپ اور بھائی اپنی بھیڑبکریوں، گائےبَیلوں اور سارے مال سمیت ملکِ کنعان سے آ کر جُشن میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔“ ' K/پھر یوسف اپنے باپ یعقوب کو لے آیا اور فرعون کے سامنے پیش کیا۔ یعقوب نے بادشاہ کو برکت دی۔: q/ملکِ مصر تیرے سامنے کھلا ہے۔ اُنہیں بہترین جگہ پر آباد کر۔ وہ جُشن میں رہیں۔ اور اگر اُن میں سے کچھ ہیں جو خاص قابلیت رکھتے ہیں تو اُنہیں میرے مویشیوں کی نگہداشت پر رکھ۔“x m/بادشاہ نے یوسف سے کہا، ”تیرا باپ اور بھائی تیرے پاس آ گئے ہیں۔| u/ہم یہاں آئے ہیں تاکہ کچھ دیر اجنبی کی حیثیت سے آپ کے پاس ٹھہریں، کیونکہ کال نے کنعان میں بہت زور پکڑا ہے۔ وہاں آپ کے خادموں کے جانوروں کے لئے چراگاہیں ختم ہو گئی ہیں۔ اِس لئے ہمیں جُشن میں رہنے کی اجازت دیں۔“ 2c2O / یوسف اپنے باپ کے پورے گھرانے کو خوراک مہیا کرتا رہا۔ ہر خاندان کو اُس کے بچوں کی تعداد کے مطابق خوراک ملتی رہی۔t e/ پھر یوسف نے اپنے باپ اور بھائیوں کو مصر میں آباد کیا۔ اُس نے اُنہیں رعمسیس کے علاقے میں بہترین زمین دی جس طرح بادشاہ نے حکم دیا تھا۔c C/ یہ کہہ کر یعقوب فرعون کو دوبارہ برکت دے کر چلا گیا۔< u/ یعقوب نے جواب دیا، ”مَیں 130 سال سے اِس دنیا کا مہمان ہوں۔ میری زندگی مختصر اور تکلیف دہ تھی، اور میرے باپ دادا مجھ سے زیادہ عمر رسیدہ ہوئے تھے جب وہ اِس دنیا کے مہمان تھے۔“Z 1/بادشاہ نے اُس سے پوچھا، ”تمہاری عمر کیا ہے؟“ \7 k/یوسف نے جواب دیا، ”اگر آپ کے پیسے ختم ہیں تو مجھے اپنے مویشی دیں۔ مَیں اُن کے عوض روٹی دیتا ہوں۔“ /جب مصر اور کنعان کے پیسے ختم ہو گئے تو مصریوں نے یوسف کے پاس آ کر کہا، ”ہمیں روٹی دیں! ہم آپ کے سامنے کیوں مریں؟ ہمارے پیسے ختم ہو گئے ہیں۔“C /مصر اور کنعان کے تمام پیسے اناج خریدنے کے لئے صَرف ہو گئے۔ یوسف اُنہیں جمع کر کے فرعون کے محل میں لے آیا۔  =/ کال اِتنا سخت تھا کہ کہیں بھی روٹی نہیں ملتی تھی۔ مصر اور کنعان میں لوگ نڈھال ہو گئے۔ GGw k/اگلے سال وہ دوبارہ اُس کے پاس آئے۔ اُنہوں نے کہا، ”جنابِ عالی، ہم یہ بات آپ سے نہیں چھپا سکتے کہ اب ہم صرف اپنے آپ اور اپنی زمین کو آپ کو دے سکتے ہیں۔ ہمارے پیسے تو ختم ہیں اور آپ ہمارے مویشی بھی لے چکے ہیں۔: q/چنانچہ وہ اپنے گھوڑے، بھیڑبکریاں، گائےبَیل اور گدھے یوسف کے پاس لے آئے۔ اِن کے عوض اُس نے اُنہیں خوراک دی۔ اُس سال اُس نے اُنہیں اُن کے تمام مویشیوں کے عوض خوراک مہیا کی۔ c " /یوسف نے مصر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کے لوگوں کو شہروں میں منتقل کر دیا۔!! ?/چنانچہ یوسف نے فرعون کے لئے مصر کی پوری زمین خرید لی۔ کال کی سختی کے سبب سے تمام مصریوں نے اپنے کھیت بیچ دیئے۔ اِس طریقے سے پورا ملک فرعون کی ملکیت میں آ گیا۔t  e/ہم کیوں آپ کی آنکھوں کے سامنے مر جائیں؟ ہماری زمین کیوں تباہ ہو جائے؟ ہمیں روٹی دیں تو ہم اور ہماری زمین بادشاہ کی ہو گی۔ ہم فرعون کے غلام ہوں گے۔ ہمیں بیج دیں تاکہ ہم جیتے بچیں اور زمین تباہ نہ ہو جائے۔“ ?& {/اُنہوں نے جواب دیا، ”آپ نے ہمیں بچایا ہے۔ ہمارے مالک ہم پر مہربانی کریں تو ہم فرعون کے غلام بنیں گے۔“!% ?/آپ کو فرعون کو فصل کا پانچواں حصہ دینا ہے۔ باقی پیداوار آپ کی ہو گی۔ آپ اِس سے بیج بو سکتے ہیں، اور یہ آپ کے اور آپ کے گھرانوں اور بچوں کے کھانے کے لئے ہو گا۔“w$ k/یوسف نے لوگوں سے کہا، ”غور سے سنیں۔ آج مَیں نے آپ کو اور آپ کی زمین کو بادشاہ کے لئے خرید لیا ہے۔ اب یہ بیج لے کر اپنے کھیتوں میں بونا۔# /صرف پجاریوں کی زمین آزاد رہی۔ اُنہیں اپنی زمین بیچنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، کیونکہ اُنہیں فرعون سے اِتنا وظیفہ ملتا تھا کہ گزارہ ہو جاتا تھا۔ ;;j* Q/جب مرنے کا وقت قریب آیا تو اُس نے یوسف کو بُلا کر کہا، ”مہربانی کر کے اپنا ہاتھ میری ران کے نیچے رکھ کر قَسم کھا کہ تُو مجھ پر شفقت اور وفاداری کا اِس طرح اظہار کرے گا کہ مجھے مصر میں دفن نہیں کرے گا۔d) E/یعقوب 17 سال مصر میں رہا۔ وہ 147 سال کا تھا جب فوت ہوا۔R( !/اسرائیلی مصر میں جُشن کے علاقے میں آباد ہوئے۔ وہاں اُنہیں زمین ملی، اور وہ پھلے پھولے اور تعداد میں بہت بڑھ گئے۔' )/اِس طرح یوسف نے مصر میں یہ قانون نافذ کیا کہ ہر فصل کا پانچواں حصہ بادشاہ کا ہے۔ یہ قانون آج تک جاری ہے۔ صرف پجاریوں کی زمین بادشاہ کی ملکیت میں نہ آئی۔ %<+. S0یعقوب کو بتایا گیا، ”آپ کا بیٹا آ گیا ہے“ تو وہ اپنے آپ کو سنبھال کر اپنے بستر پر بیٹھ گیا۔e-  I0کچھ دیر کے بعدیوسف کو اطلاع دی گئی کہ آپ کا باپ بیمار ہے۔ وہ اپنے دو بیٹوں منسّی اور افرائیم کو ساتھ لے کر یعقوب سے ملنے گیا۔f, I/یعقوب نے کہا، ”قَسم کھا کہ تُو ایسا ہی کرے گا۔“ یوسف نے قَسم کھائی۔ تب اسرائیل نے اپنے بستر کے سرہانے پر اللہ کو سجدہ کیا۔ m+ W/جب مَیں مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملوں گا تو مجھے مصر سے لے جا کر میرے باپ دادا کی قبر میں دفنانا۔“ یوسف نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے۔“ . 1 ;0اب میری بات سن۔ مَیں چاہتا ہوں کہ تیرے بیٹے جو میرے آنے سے پہلے مصر میں پیدا ہوئے میرے بیٹے ہوں۔ افرائیم اور منسّی روبن اور شمعون کے برابر ہی میرے بیٹے ہوں۔ 0 =0کہا، ’مَیں تجھے پھلنے پھولنے دوں گا اور تیری اولاد بڑھا دوں گا بلکہ تجھ سے بہت سی قومیں نکلنے دوں گا۔ اور مَیں تیری اولاد کو یہ ملک ہمیشہ کے لئے دے دوں گا۔‘N/ 0اُس نے یوسف سے کہا، ”جب مَیں کنعانی شہر لُوز میں تھا تو اللہ قادرِ مطلق مجھ پر ظاہر ہوا۔ اُس نے مجھے برکت دے کر w4 k0پھر یعقوب نے یوسف کے بیٹوں پر نظر ڈال کر پوچھا، ”یہ کون ہیں؟“F3  0مَیں یہ تیری ماں راخل کے سبب سے کر رہا ہوں جو مسوپتامیہ سے واپسی کے وقت کنعان میں اِفراتہ کے قریب مر گئی۔ مَیں نے اُسے وہیں راستے میں دفن کیا“ (آج اِفراتہ کو بیت لحم کہا جاتا ہے)۔)2 O0اگر اِن کے بعد تیرے ہاں اَور بیٹے پیدا ہو جائیں تو وہ میرے بیٹے نہیں بلکہ تیرے ٹھہریں گے۔ جو میراث وہ پائیں گے وہ اُنہیں افرائیم اور منسّی کی میراث میں سے ملے گی۔ EE8 0 پھر یوسف اُنہیں یعقوب کی گود میں سے لے کر خود اُس کے سامنے منہ کے بل جھک گیا۔{7 s0 اور یوسف سے کہا، ”مجھے توقع ہی نہیں تھی کہ مَیں کبھی تیرا چہرہ دیکھوں گا، اور اب اللہ نے مجھے تیرے بیٹوں کو دیکھنے کا موقع بھی دیا ہے۔“ 6 =0 بوڑھا ہونے کے سبب سے یعقوب کی آنکھیں کمزور تھیں۔ وہ اچھی طرح دیکھ نہیں سکتا تھا۔ یوسف اپنے بیٹوں کو یعقوب کے پاس لے آیا تو اُس نے اُنہیں بوسہ دے کر گلے لگایا5 }0 یوسف نے جواب دیا، ”یہ میرے بیٹے ہیں جو اللہ نے مجھے یہاں مصر میں دیئے۔“ یعقوب نے کہا، ”اُنہیں میرے قریب لے آ تاکہ مَیں اُنہیں برکت دوں۔“ m4+; S0پھر اُس نے یوسف کو اُس کے بیٹوں کی معرفت برکت دی، ”اللہ جس کے حضور میرے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق چلتے رہے اور جو شروع سے آج تک میرا چرواہا رہا ہے اِنہیں برکت دے۔5: g0لیکن یعقوب نے اپنا دہنا ہاتھ بائیں طرف بڑھا کر افرائیم کے سر پر رکھا اگرچہ وہ چھوٹا تھا۔ اِس طرح اُس نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں طرف بڑھا کر منسّی کے سر پر رکھا جو بڑا تھا۔9 0 یوسف نے افرائیم کو یعقوب کے بائیں ہاتھ رکھا اور منسّی کو اُس کے دائیں ہاتھ۔ 6> +0اُس نے کہا، ”ابو، ایسے نہیں۔ دوسرا لڑکا بڑا ہے۔ اُسی پر اپنا دہنا ہاتھ رکھیں۔“X= -0جب یوسف نے دیکھا کہ باپ نے اپنا دہنا ہاتھ چھوٹے بیٹے افرائیم کے سر پر رکھا ہے تو یہ اُسے بُرا لگا، اِس لئے اُس نے باپ کا ہاتھ پکڑا تاکہ اُسے افرائیم کے سر پر سے اُٹھا کر منسّی کے سر پر رکھے۔j< Q0جس فرشتے نے عوضانہ دے کر مجھے ہر نقصان سے بچایا ہے وہ اِنہیں برکت دے۔ اللہ کرے کہ اِن میں میرا نام اور میرے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق کے نام جیتے رہیں۔ دنیا میں اِن کی اولاد کی تعداد بہت بڑھ جائے۔“ hA M0یوسف سے اُس نے کہا، ”مَیں تو مرنے والا ہوں، لیکن اللہ تمہارے ساتھ ہو گا اور تمہیں تمہارے باپ دادا کے ملک میں واپس لے جائے گا۔<@ u0اُس دن اُس نے دونوں بیٹوں کو برکت دے کر کہا، ”اسرائیلی تمہارا نام لے کر برکت دیا کریں گے۔ جب وہ برکت دیں گے تو کہیں گے، ’اللہ آپ کے ساتھ ویسا کرے جیسا اُس نے افرائیم اور منسّی کے ساتھ کیا ہے‘۔“ اِس طرح یعقوب نے افرائیم کو منسّی سے بڑا بنا دیا۔8? m0لیکن باپ نے انکار کر کے کہا، ”مجھے پتا ہے بیٹا، مجھے پتا ہے۔ وہ بھی ایک بڑی قوم بنے گا۔ پھر بھی اُس کا چھوٹا بھائی اُس سے بڑا ہو گا اور اُس سے قوموں کی بڑی تعداد نکلے گی۔“ J)3=GQ[eoy",6@JT]gq{%/9CMWaku  0  /  /  /  /  /  /  /  /  /  0  /  /  /  /  /  /  /  /  /  0  0  0  0  0  0  0  0  0   0   0   0   0   0  0  0  0  0  0  0  0  0  1  1  1  1  1  1  1  1  1   1   1   1   1   1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1   1!  2  2  2  2  2  2  2  2  2   2   |3E c1روبن، تم میرے پہلوٹھے ہو، میرے زور اور میری طاقت کا پہلا پھل۔ تم عزت اور قوت کے لحاظ سے برتر ہو۔ D 1اے یعقوب کے بیٹو، اکٹھے ہو کر سنو، اپنے باپ اسرائیل کی باتوں پر غور کرو۔\C  71یعقوب نے اپنے بیٹوں کو بُلا کر کہا، ”میرے پاس جمع ہو جاؤ تاکہ مَیں تمہیں بتاؤں کہ مستقبل میں تمہارے ساتھ کیاکیا ہو گا۔B #0ایک بات میں مَیں تجھے تیرے بھائیوں پر ترجیح دیتا ہوں، مَیں تجھے کنعان میں وہ قطعہ دیتا ہوں جو مَیں نے اپنی تلوار اور کمان سے اموریوں سے چھینا تھا۔“ q<I ;1اُن کے غصے پر لعنت ہو جو اِتنا زبردست ہے اور اُن کے طیش پر جو اِتنا سخت ہے۔ مَیں اُنہیں یعقوب کے ملک میں تتر بتر کروں گا، اُنہیں اسرائیل میں منتشر کر دوں گا۔1H _1میری جان نہ اُن کی مجلس میں شامل اور نہ اُن کی جماعت میں داخل ہو، کیونکہ اُنہوں نے غصے میں آ کر دوسروں کو قتل کیا ہے، اُنہوں نے اپنی مرضی سے بَیلوں کی کونچیں کاٹی ہیں۔G 1شمعون اور لاوی دونوں بھائیوں کی تلواریں ظلم و تشدد کے ہتھیار رہے ہیں۔F 1لیکن چونکہ تم بےقابو سیلاب کی مانند ہو اِس لئے تمہاری اوّل حیثیت جاتی رہے۔ کیونکہ تم نے میری حرم سے ہم بستر ہو کر اپنے باپ کی بےحرمتی کی ہے۔  xL m1 شاہی عصا یہوداہ سے دُور نہیں ہو گا بلکہ شاہی اختیار اُس وقت تک اُس کی اولاد کے پاس رہے گا جب تک وہ حاکم نہ آئے جس کے تابع قومیں رہیں گی۔#K C1 یہوداہ شیرببر کا بچہ ہے۔ میرے بیٹے، تم ابھی ابھی شکار مار کر واپس آئے ہو۔ یہوداہ شیرببر بلکہ شیرنی کی طرح دبک کر بیٹھ جاتا ہے۔ کون اُسے چھیڑنے کی جرٲت کرے گا؟pJ ]1یہوداہ، تمہارے بھائی تمہاری تعریف کریں گے۔ تم اپنے دشمنوں کی گردن پکڑے رہو گے، اور تمہارے باپ کے بیٹے تمہارے سامنے جھک جائیں گے۔ $YH$ Q =1جب وہ دیکھے گا کہ اُس کی آرام گاہ اچھی اور اُس کا ملک خوش نما ہے تو وہ بوجھ اُٹھانے کے لئے تیار ہو جائے گا اور اُجرت کے بغیر کام کرنے کے لئے مجبور کیا جائے گا۔P }1اِشکار طاقت ور گدھا ہے جو اپنے زِین کے دو بوروں کے درمیان بیٹھا ہے۔ O 1 زبولون ساحل پر آباد ہو گا جہاں بحری جہاز ہوں گے۔ اُس کی حد صیدا تک ہو گی۔ N 1 اُس کی آنکھیں مَے سے زیادہ گدلی اور اُس کے دانت دودھ سے زیادہ سفید ہوں گے۔M #1 وہ اپنا جوان گدھا انگور کی بیل سے اور اپنی گدھی کا بچہ بہترین انگور کی بیل سے باندھے گا۔ وہ اپنا لباس مَے میں اور اپنا کپڑا انگور کے خون میں دھوئے گا۔ rG8%X G1یوسف پھل دار بیل ہے۔ وہ چشمے پر لگی ہوئی پھل دار بیل ہے جس کی شاخیں دیوار پر چڑھ گئی ہیں۔qW _1نفتالی آزاد چھوڑی ہوئی ہرنی ہے۔ وہ خوب صورت باتیں کرتا ہے۔V 1آشر کو غذائیت والی خوراک حاصل ہو گی۔ وہ لذیذ شاہی کھانا مہیا کرے گا۔U 1جد پر ڈاکوؤں کا جتھا حملہ کرے گا، لیکن وہ پلٹ کر اُسی پر حملہ کر دے گا۔TT %1اے رب، مَیں تیری ہی نجات کے انتظار میں ہوں!PS 1دان سٹرک کے سانپ اور راستے کے افعی کی مانند ہو گا۔ وہ گھوڑے کی ایڑیوں کو کاٹے گا تو اُس کا سوار پیچھے گر جائے گا۔ R 1دان اپنی قوم کا انصاف کرے گا اگرچہ وہ اسرائیل کے قبیلوں میں سے ایک ہی ہے۔ _yw_"\ A1تیرے باپ کی برکت قدیم پہاڑوں اور ابدی پہاڑیوں کی مرغوب چیزوں سے زیادہ عظیم ہے۔ یہ تمام برکت یوسف کے سر پر ہو، اُس شخص کے چاند پر جو اپنے بھائیوں پر شہزادہ ہے۔n[ Y1کیونکہ تیرے باپ کا خدا تیری مدد کرتا ہے، اللہ قادرِ مطلق تجھے آسمان کی برکت، زمین کی گہرائیوں کی برکت اور اولاد کی برکت دیتا ہے۔~Z y1لیکن اُس کی کمان مضبوط رہی، اور اُس کے بازو یعقوب کے زورآور خدا کے سبب سے طاقت ور رہے، اُس چرواہے کے سبب سے جو اسرائیل کا زبردست سورما ہے۔Y 1تیراندازوں نے اُس پر تیر چلا کر اُسے تنگ کیا اور اُس کے پیچھے پڑ گئے، 7E._ Y1پھر یعقوب نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا، ”اب مَیں کوچ کر کے اپنے باپ دادا سے جا ملوں گا۔ مجھے میرے باپ دادا کے ساتھ اُس غار میں دفنانا جو حِتّی آدمی عفرون کے کھیت میں ہے۔n^ Y1یہ اسرائیل کے کُل بارہ قبیلے ہیں۔ اور یہ وہ کچھ ہے جو اُن کے باپ نے اُن سے برکت دیتے وقت کہا۔ اُس نے ہر ایک کو اُس کی اپنی برکت دی۔E] 1بن یمین پھاڑنے والا بھیڑیا ہے۔ صبح وہ اپنا شکار کھا جاتا اور رات کو اپنا لُوٹا ہوا مال تقسیم کر دیتا ہے۔“ ff{d  u2یوسف اپنے باپ کے چہرے سے لپٹ گیا۔ اُس نے روتے ہوئے اُسے بوسہ دیا۔/c [1!اِن ہدایات کے بعد یعقوب نے اپنے پاؤں بستر پر سمیٹ لئے اور دم چھوڑ کر اپنے باپ دادا سے جا ملا۔ ab ?1 وہ کھیت اور اُس کا غار حِتّیوں سے خریدا گیا تھا۔“ea G1وہاں ابراہیم اور اُس کی بیوی سارہ دفنائے گئے، وہاں اسحاق اور اُس کی بیوی رِبقہ دفنائے گئے اور وہاں مَیں نے لیاہ کو دفن کیا۔` -1یعنی وہ غار جو ملکِ کنعان میں ممرے کے مشرق میں مکفیلہ کے کھیت میں ہے۔ ابراہیم نے اُسے کھیت سمیت اپنے لوگوں کو دفنانے کے لئے عفرون حِتّی سے خرید لیا تھا۔ l/l?g {2جب ماتم کا وقت ختم ہوا تو یوسف نے بادشاہ کے درباریوں سے کہا، ”مہربانی کر کے یہ خبر بادشاہ تک پہنچا دیںDf 2اِس میں 40 دن لگ گئے۔ عام طور پر حنوط کرنے کے لئے اِتنے ہی دن لگتے ہیں۔ مصریوں نے 70 دن تک یعقوب کا ماتم کیا۔e 2اُس کے ملازموں میں سے کچھ ڈاکٹر تھے۔ اُس نے اُنہیں ہدایت دی کہ میرے باپ اسرائیل کی لاش کو حنوط کریں تاکہ وہ گل نہ جائے۔ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ jj Q2چنانچہ یوسف اپنے باپ کو دفنانے کے لئے کنعان روانہ ہوا۔ بادشاہ کے تمام ملازم، محل کے بزرگ اور پورے مصر کے بزرگ اُس کے ساتھ تھے۔i '2فرعون نے جواب دیا، ”جا، اپنے باپ کو دفن کر جس طرح اُس نے تجھے قَسم دلائی تھی۔“vh i2کہ میرے باپ نے مجھے قَسم دلا کر کہا تھا، ’مَیں مرنے والا ہوں۔ مجھے اُس قبر میں دفن کرنا جو مَیں نے ملکِ کنعان میں اپنے لئے بنوائی۔‘ اب مجھے اجازت دیں کہ مَیں وہاں جاؤں اور اپنے باپ کو دفن کر کے واپس آؤں۔“ 11mn W2 جب مقامی کنعانیوں نے اتد کے کھلیان پر ماتم کا یہ نظارہ دیکھا تو اُنہوں نے کہا، ”یہ تو ماتم کا بہت بڑا انتظام ہے جو مصری کروا رہے ہیں۔“ اِس لئے اُس جگہ کا نام ابیل مصریم یعنی ’مصریوں کا ماتم‘ پڑ گیا۔_m ;2 جب وہ یردن کے قریب اتد کے کھلیان پر پہنچے تو اُنہوں نے نہایت دلسوز نوحہ کیا۔ وہاں یوسف نے سات دن تک اپنے باپ کا ماتم کیا۔jl Q2 رتھ اور گھڑسوار بھی ساتھ گئے۔ سب مل کر بڑا لشکر بن گئے۔ k 2یوسف کے گھرانے کے افراد، اُس کے بھائی اور اُس کے باپ کے گھرانے کے لوگ بھی ساتھ گئے۔ صرف اُن کے بچے، اُن کی بھیڑبکریاں اور گائےبَیل جُشن میں رہے۔ pWp4r e2جب یعقوب انتقال کر گیا تو یوسف کے بھائی ڈر گئے۔ اُنہوں نے کہا، ”خطرہ ہے کہ اب یوسف ہمارا تعاقب کر کے اُس غلط کام کا بدلہ لے جو ہم نے اُس کے ساتھ کیا تھا۔ پھر کیا ہو گا؟“+q S2اِس کے بعد یوسف، اُس کے بھائی اور باقی تمام لوگ جو جنازے کے لئے ساتھ گئے تھے مصر کو لوٹ آئے۔Fp  2 اُنہوں نے اُسے ملکِ کنعان میں لے جا کر مکفیلہ کے کھیت کے غار میں دفن کیا جو ممرے کے مشرق میں ہے۔ یہ وہی کھیت ہے جو ابراہیم نے عفرون حِتّی سے اپنے لوگوں کو دفنانے کے لئے خریدا تھا۔\o 52 یوں یعقوب کے بیٹوں نے اپنے باپ کا حکم پورا کیا۔ n'yv o2لیکن یوسف نے کہا، ”مت ڈرو۔ کیا مَیں اللہ کی جگہ ہوں؟ ہرگز نہیں!!u ?2پھر اُس کے بھائی خود آئے اور اُس کے سامنے گر گئے۔ اُنہوں نے کہا، ”ہم آپ کے خادم ہیں۔“Ct 2کہ یوسف کو بتانا، ’اپنے بھائیوں کے اُس غلط کام کو معاف کر دینا جو اُنہوں نے تمہارے ساتھ کیا۔‘ اب ہمیں جو آپ کے باپ کے خدا کے پیروکار ہیں معاف کر دیں۔“ یہ خبر سن کر یوسف رو پڑا۔s 2یہ سوچ کر اُنہوں نے یوسف کو خبر بھیجی، ”آپ کے باپ نے مرنے سے پیشتر ہدایت دی LuL%z G2موت سے پہلے اُس نے نہ صرف افرائیم کے بچوں کو بلکہ اُس کے پوتوں کو بھی دیکھا۔ منسّی کے بیٹے مکیر کے بچے بھی اُس کی موجودگی میں پیدا ہو کر اُس کی گود میں رکھے گئے۔ty e2یوسف اپنے باپ کے خاندان سمیت مصر میں رہا۔ وہ 110 سال زندہ رہا۔x  2چنانچہ اب ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مَیں تمہیں اور تمہارے بچوں کو خوراک مہیا کرتا رہوں گا۔“ یوں یوسف نے اُنہیں تسلی دی اور اُن سے نرمی سے بات کی۔w 2تم نے مجھے نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا تھا، لیکن اللہ نے اُس سے بھلائی پیدا کی۔ اور اب اِس کا مقصد پورا ہو رہا ہے۔ بہت سے لوگ موت سے بچ رہے ہیں۔  {i ~ ?ذیل میں اُن بیٹوں کے نام ہیں جو اپنے باپ یعقوب اور اپنے خاندانوں سمیت مصر میں آئے تھے:!} ?2پھر یوسف فوت ہو گیا۔ وہ 110 سال کا تھا۔ اُسے حنوط کر کے مصر میں ایک تابوت میں رکھا گیا۔ | 2پھر یوسف نے اسرائیلیوں کو قَسم دلا کر کہا، ”اللہ یقیناً تمہاری دیکھ بھال کر کے وہاں لے جائے گا۔ اُس وقت میری ہڈیوں کو بھی اُٹھا کر ساتھ لے جانا۔“{ 2پھر ایک وقت آیا کہ یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا، ”مَیں مرنے والا ہوں۔ لیکن اللہ ضرور آپ کی دیکھ بھال کر کے آپ کو اِس ملک سے اُس ملک میں لے جائے گا جس کا اُس نے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے قَسم کھا کر وعدہ کیا ہے۔“ %XG%' K اُس نے اپنے لوگوں سے کہا، ”اسرائیلیوں کو دیکھو۔ وہ تعداد اور طاقت میں ہم سے بڑھ گئے ہیں۔t eہوتے ہوتے ایک نیا بادشاہ تخت نشین ہوا جو یوسف سے ناواقف تھا۔K اسرائیلی پھلے پھولے اور تعداد میں بہت بڑھ گئے۔ نتیجے میں وہ نہایت ہی طاقت ور ہو گئے۔ پورا ملک اُن سے بھر گیا۔8 mمصر میں رہتے ہوئے بہت دن گزر گئے۔ اِتنے میں یوسف، اُس کے تمام بھائی اور اُس نسل کے تمام لوگ مر گئے۔ اُس وقت یعقوب کی اولاد کی تعداد 70 تھی۔ یوسف تو پہلے ہی مصر آ چکا تھا۔3 eدان، نفتالی، جد اور آشر۔4 gاِشکار، زبولون، بن یمین،8 oروبن، شمعون، لاوی، یہوداہ، [[U  ' اور وہ بڑی بےرحمی سے اُن سے کام کرواتے رہے۔S  # لیکن جتنا اسرائیلیوں کو دبایا گیا اُتنا ہی وہ تعداد میں بڑھتے اور پھیلتے گئے۔ آخرکار مصری اُن سے دہشت کھانے لگے،o [ چنانچہ مصریوں نے اسرائیلیوں پر نگران مقرر کئے تاکہ بیگار میں اُن سے کام کروا کر اُنہیں دباتے رہیں۔ اُس وقت اُنہوں نے پتوم اور رعمسیس کے شہر تعمیر کئے۔ اِن شہروں میں فرعون بادشاہ کے بڑے بڑے گودام تھے۔ { آؤ، ہم حکمت سے کام لیں، ورنہ وہ مزید بڑھ جائیں گے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی جنگ کے موقع پر دشمن کا ساتھ دے کر ہم سے لڑیں اور ملک کو چھوڑ جائیں۔“ H$.8BLV`jt~ '1;EOYcmw%0;FQ\gr}   2   2   2  2  2  2  2  2  2  2  2   2   2  2  2  2  2  2  2  2  2  2  2  2  2                                                                    ! " # $ % & ' ( ) * + ,  - . / 0 1 2 3 4  5  6 j'-j? {لیکن دائیاں اللہ کا خوف مانتی تھیں۔ اُنہوں نے مصر کے بادشاہ کا حکم نہ مانا بلکہ لڑکوں کو بھی جینے دیا۔v  i”جب عبرانی عورتیں تمہیں مدد کے لئے بُلائیں تو خبردار رہو۔ اگر لڑکا پیدا ہو تو اُسے جان سے مار دو، اگر لڑکی ہو تو اُسے جیتا چھوڑ دو۔“$  Eاسرائیلیوں کی دو دائیاں تھیں جن کے نام سِفرہ اور فوعہ تھے۔ مصر کے بادشاہ نے اُن سے کہا،-  Wاسرائیلیوں کا گزارہ نہایت مشکل ہو گیا۔ اُنہیں گارا تیار کر کے اینٹیں بنانا اور کھیتوں میں مختلف قسم کے کام کرنا پڑے۔ اِس میں مصری اُن سے بڑی بےرحمی سے پیش آتے رہے۔ 6[A اور چونکہ دائیاں اللہ کا خوف مانتی تھیں اِس لئے اُس نے اُنہیں اولاد دے کر اُن کے خاندانوں کو قائم رکھا۔$ Eچنانچہ اللہ نے دائیوں کو برکت دی، اور اسرائیلی قوم تعداد میں بڑھ کر بہت طاقت ور ہو گئی۔W +اُنہوں نے جواب دیا، ”عبرانی عورتیں مصری عورتوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔ بچے ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی پیدا ہو جاتے ہیں۔“F  تب مصر کے بادشاہ نے اُنہیں دوبارہ بُلا کر پوچھا، ”تم نے یہ کیوں کیا؟ تم لڑکوں کو کیوں جیتا چھوڑ دیتی ہو؟“ 3a3W)جب وہ اُسے اَور زیادہ نہ چھپا سکی تو اُس نے آبی نرسل سے ٹوکری بنا کر اُس پر تارکول چڑھایا۔ پھر اُس نے بچے کو ٹوکری میں رکھ کر ٹوکری کو دریائے نیل کے کنارے پر اُگے ہوئے سرکنڈوں میں رکھ دیا۔Oعورت حاملہ ہوئی اور بچہ پیدا ہوا۔ ماں نے دیکھا کہ لڑکا خوب صورت ہے، اِس لئے اُس نے اُسے تین ماہ تک چھپائے رکھا۔ اُن دنوں میں لاوی کے ایک آدمی نے اپنے ہی قبیلے کی ایک عورت سے شادی کی۔ #آخرکار بادشاہ نے اپنے تمام ہم وطنوں سے بات کی، ”جب بھی عبرانیوں کے لڑکے پیدا ہوں تو اُنہیں دریائے نیل میں پھینک دینا۔ صرف لڑکیوں کو زندہ رہنے دو۔“ ]xW)اب بچے کی بہن فرعون کی بیٹی کے پاس گئی اور پوچھا، ”کیا مَیں بچے کو دودھ پلانے کے لئے کوئی عبرانی عورت ڈھونڈ لاؤں؟“a=اُسے کھولا تو چھوٹا لڑکا دکھائی دیا جو رو رہا تھا۔ فرعون کی بیٹی کو اُس پر ترس آیا۔ اُس نے کہا، ”یہ کوئی عبرانی بچہ ہے۔“'Iاُس وقت فرعون کی بیٹی نہانے کے لئے دریا پر آئی۔ اُس کی نوکرانیاں دریا کے کنارے ٹہلنے لگیں۔ تب اُس نے سرکنڈوں میں ٹوکری دیکھی اور اپنی لونڈی کو اُسے لانے بھیجا۔ueبچے کی بہن کچھ فاصلے پر کھڑی دیکھتی رہی کہ اُس کا کیا بنے گا۔ \+U% جب بچہ بڑا ہوا تو اُس کی ماں اُسے فرعون کی بیٹی کے پاس لائی، اور وہ اُس کا بیٹا بن گیا۔ فرعون کی بیٹی نے اُس کا نام موسیٰ یعنی ’نکالا گیا‘ رکھ کر کہا، ”مَیں اُسے پانی سے نکال لائی ہوں۔“-U فرعون کی بیٹی نے ماں سے کہا، ”بچے کو لے جاؤ اور اُسے میرے لئے دودھ پلایا کرو۔ مَیں تمہیں اِس کا معاوضہ دوں گی۔“ چنانچہ بچے کی ماں نے اُسے دودھ پلانے کے لئے لے لیا۔ ;فرعون کی بیٹی نے کہا، ”ہاں، جاؤ۔“ لڑکی چلی گئی اور بچے کی سگی ماں کو لے کر واپس آئی۔   اگلے دن بھی موسیٰ گھر سے نکلا۔ اِس دفعہ دو عبرانی مرد آپس میں لڑ رہے تھے۔ جو غلطی پر تھا اُس سے موسیٰ نے پوچھا، ”تم اپنے بھائی کو کیوں مار رہے ہو؟“gI موسیٰ نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ جب معلوم ہوا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا تو اُس نے مصری کو جان سے مار دیا اور اُسے ریت میں چھپا دیا۔9 جب موسیٰ جوان ہوا تو ایک دن وہ گھر سے نکل کر اپنے لوگوں کے پاس گیا جو جبری کام میں مصروف تھے۔ موسیٰ نے دیکھا کہ ایک مصری میرے ایک عبرانی بھائی کو مار رہا ہے۔ # مِدیان میں ایک امام تھا جس کی سات بیٹیاں تھیں۔ یہ لڑکیاں اپنی بھیڑبکریوں کو پانی پلانے کے لئے کنوئیں پر آئیں اور پانی نکال کر حوض بھرنے لگیں۔v"gبادشاہ کو بھی پتا لگا تو اُس نے موسیٰ کو مروانے کی کوشش کی۔ لیکن موسیٰ مِدیان کے ملک کو بھاگ گیا۔ وہاں وہ ایک کنوئیں کے پاس بیٹھ گیا۔]!5آدمی نے جواب دیا، ”کس نے آپ کو ہم پر حکمران اور قاضی مقرر کیا ہے؟ کیا آپ مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہیں جس طرح مصری کو مار ڈالا تھا؟“ تب موسیٰ ڈر گیا۔ اُس نے سوچا، ”ہائے، میرا بھید کھل گیا ہے!“ TbH' رعوایل نے کہا، ”وہ آدمی کہاں ہے؟ تم اُسے کیوں چھوڑ کر آئی ہو؟ اُسے بُلاؤ تاکہ وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے۔“n&Wلڑکیوں نے جواب دیا، ”ایک مصری آدمی نے ہمیں چرواہوں سے بچایا۔ نہ صرف یہ بلکہ اُس نے ہمارے لئے پانی بھی نکال کر ریوڑ کو پلا دیا۔“?%yجب لڑکیاں اپنے باپ رعوایل کے پاس واپس آئیں تو باپ نے پوچھا، ”آج تم اِتنی جلدی سے کیوں واپس آ گئی ہو؟“e$Eلیکن کچھ چرواہوں نے آ کر اُنہیں بھگا دیا۔ یہ دیکھ کر موسیٰ اُٹھا اور لڑکیوں کو چرواہوں سے بچا کر اُن کے ریوڑ کو پانی پلایا۔ o@F)o6+gاللہ نے اُن کی آہیں سنیں اور اُس عہد کو یاد کیا جو اُس نے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے باندھا تھا۔*-کافی عرصہ گزر گیا۔ اِتنے میں مصر کا بادشاہ انتقال کر گیا۔ اسرائیلی اپنی غلامی تلے کراہتے اور مدد کے لئے پکارتے رہے، اور اُن کی چیخیں اللہ تک پہنچ گئیں۔v)gصفورہ کے بیٹا پیدا ہوا تو موسیٰ نے کہا، ”اِس کا نام جیرسوم یعنی ’اجنبی ملک میں پردیسی‘ ہو، کیونکہ مَیں اجنبی ملک میں پردیسی ہوں۔“<(sموسیٰ رعوایل کے گھر میں ٹھہرنے کے لئے راضی ہو گیا۔ بعد میں اُس کی شادی رعوایل کی بیٹی صفورہ سے ہوئی۔ s/aموسیٰ نے سوچا، ”یہ تو عجیب بات ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جلتی ہوئی جھاڑی بھسم نہیں ہو رہی؟ مَیں ذرا وہاں جا کر یہ حیرت انگیز منظر دیکھوں۔“.وہاں رب کا فرشتہ آگ کے شعلے میں اُس پر ظاہر ہوا۔ یہ شعلہ ایک جھاڑی میں بھڑک رہا تھا۔ موسیٰ نے دیکھا کہ جھاڑی جل رہی ہے لیکن بھسم نہیں ہو رہی۔t- eموسیٰ اپنے سُسر یترو کی بھیڑبکریوں کی نگہبانی کرتا تھا (مِدیان کا امام رعوایل یترو بھی کہلاتا تھا)۔ ایک دن موسیٰ ریوڑ کو ریگستان کی پرلی جانب لے گیا اور چلتے چلتے اللہ کے پہاڑ حورب یعنی سینا تک پہنچ گیا۔k,Qاللہ اسرائیلیوں کی حالت دیکھ کر اُن کا خیال کرنے لگا۔ FN?Fu3eرب نے کہا، ”مَیں نے مصر میں اپنی قوم کی بُری حالت دیکھی اور غلامی میں اُن کی چیخیں سنی ہیں، اور مَیں اُن کے دُکھوں کو خوب جانتا ہوں۔ 2مَیں تیرے باپ کا خدا، ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔“ یہ سن کر موسیٰ نے اپنا منہ ڈھانک لیا، کیونکہ وہ اللہ کو دیکھنے سے ڈرا۔.1Wرب نے کہا، ”اِس سے زیادہ قریب نہ آنا۔ اپنی جوتیاں اُتار، کیونکہ تُو مُقدّس زمین پر کھڑا ہے۔|0sجب رب نے دیکھا کہ موسیٰ جھاڑی کو دیکھنے آ رہا ہے تو اُس نے اُسے جھاڑی میں سے پکارا، ”موسیٰ، موسیٰ!“ موسیٰ نے کہا، ”جی، مَیں حاضر ہوں۔“offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|op q rstuvw"x&y*z.{1|4}8op q rstuvw"x&y*z.{1|4}8~;>AEILQX\_dgjnrvz~  #'+/369<?CGJLOSVZ^bejosw{"&)-14Í7č:ō?ƍBǍEȍIɍLʍQˍV̍Y͍\΍`ЍdэiҍmӍrԍuՍx֍{׍~؎َڎ ێ ܎ݎގߎ#&* BG6  چنانچہ اب جا۔ مَیں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں، کیونکہ تجھے میری قوم اسرائیل کو مصر سے نکال کر لانا ہے۔“45c اسرائیلیوں کی چیخیں مجھ تک پہنچی ہیں۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ مصری اُن پر کس طرح کا ظلم ڈھا رہے ہیں۔:4oاب مَیں اُنہیں مصریوں کے قابو سے بچانے کے لئے اُتر آیا ہوں۔ مَیں اُنہیں مصر سے نکال کر ایک اچھے وسیع ملک میں لے جاؤں گا، ایک ایسے ملک میں جہاں دودھ اور شہد کی کثرت ہے، گو اِس وقت کنعانی، حِتّی، اموری، فرِزّی، حِوّی اور یبوسی اُس میں رہتے ہیں۔ Gj9O لیکن موسیٰ نے اعتراض کیا، ”اگر مَیں اسرائیلیوں کے پاس جا کر اُنہیں بتاؤں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تو وہ پوچھیں گے، ’اُس کا نام کیا ہے؟‘ پھر مَیں اُن کو کیا جواب دوں؟“18] اللہ نے کہا، ”مَیں تو تیرے ساتھ ہوں گا۔ اور اِس کا ثبوت کہ مَیں تجھے بھیج رہا ہوں یہ ہو گا کہ لوگوں کے مصر سے نکلنے کے بعد تم یہاں آ کر اِس پہاڑ پر میری عبادت کرو گے۔“57e لیکن موسیٰ نے اللہ سے کہا، ”مَیں کون ہوں کہ فرعون کے پاس جا کر اسرائیلیوں کو مصر سے نکال لاؤں؟“ rMr~<wاب جا اور اسرائیل کے بزرگوں کو جمع کر کے اُن کو بتا دے کہ رب تمہارے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا خدا مجھ پر ظاہر ہوا ہے۔ وہ فرماتا ہے، ’مَیں نے خوب دیکھ لیا ہے کہ مصر میں تمہارے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔U;%رب جو تمہارے باپ دادا کا خدا، ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہے اُسی نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔‘ یہ ابد تک میرا نام رہے گا۔ لوگ یہی نام لے کر مجھے نسل در نسل یاد کریں گے۔/:Yاللہ نے کہا، ”مَیں جو ہوں سو مَیں ہوں۔‘ اُن سے کہنا، ’مَیں ہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ a!aبزرگ تیری سنیں گے۔ پھر اُن کے ساتھ مصر کے بادشاہ کے پاس جا کر اُس سے کہنا، ’رب عبرانیوں کا خدا ہم پر ظاہر ہوا ہے۔ اِس لئے ہمیں اجازت دیں کہ ہم تین دن کا سفر کر کے ریگستان میں رب اپنے خدا کے لئے قربانیاں چڑھائیں۔‘T=#اِس لئے مَیں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں مصر کی مصیبت سے نکال کر کنعانیوں، حِتّیوں، اموریوں، فرِزّیوں، حِوّیوں اور یبوسیوں کے ملک میں لے جاؤں، ایسے ملک میں جہاں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔‘ NB:NhC Mموسیٰ نے اعتراض کیا، ”لیکن اسرائیلی نہ میری بات کا یقین کریں گے، نہ میری سنیں گے۔ وہ تو کہیں گے، ’رب تم پر ظاہر نہیں ہوا‘۔“VB'تمام عبرانی عورتیں اپنی مصری پڑوسنوں اور اپنے گھر میں رہنے والی مصری عورتوں سے چاندی اور سونے کے زیورات اور نفیس کپڑے مانگ کر اپنے بچوں کو پہنائیں گی۔ یوں مصریوں کو لُوٹ لیا جائے گا۔“ *AOاُس وقت مَیں مصریوں کے دلوں کو تمہارے لئے نرم کر دوں گا۔ تمہیں خالی ہاتھ نہیں جانا پڑے گا۔:@oاِس لئے مَیں اپنی قدرت ظاہر کر کے اپنے معجزوں کی معرفت مصریوں کو ماروں گا۔ پھر وہ تمہیں جانے دے گا۔ U G رب نے کہا، ”یہ دیکھ کر لوگوں کو یقین آئے گا کہ رب جو اُن کے باپ دادا کا خدا، ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہے تجھ پر ظاہر ہوا ہے۔F3رب نے کہا، ”اب سانپ کی دُم کو پکڑ لے۔“ موسیٰ نے ایسا کیا تو سانپ پھر لاٹھی بن گیا۔6Egرب نے کہا، ”اُسے زمین پر ڈال دے۔“ موسیٰ نے ایسا کیا تو لاٹھی سانپ بن گئی، اور موسیٰ ڈر کر بھاگا۔'DIجواب میں رب نے موسیٰ سے کہا، ”تُو نے ہاتھ میں کیا پکڑا ہوا ہے؟“ موسیٰ نے کہا، ”لاٹھی۔“ `J;رب نے کہا، ”اگر لوگوں کو پہلا معجزہ دیکھ کر یقین نہ آئے اور وہ تیری نہ سنیں تو شاید اُنہیں دوسرا معجزہ دیکھ کر یقین آئے۔qI]تب رب نے کہا، ”اب اپنا ہاتھ دوبارہ اپنے لباس میں ڈال۔“ موسیٰ نے ایسا کیا۔ جب اُس نے اپنا ہاتھ دوبارہ نکالا تو وہ پھر صحت مند تھا۔ Hاب اپنا ہاتھ اپنے لباس میں ڈال دے۔“ موسیٰ نے ایسا کیا۔ جب اُس نے اپنا ہاتھ نکالا تو وہ برف کی مانند سفید ہو گیا تھا۔ کوڑھ جیسی بیماری لگ گئی تھی۔ VV L  لیکن موسیٰ نے کہا، ”میرے آقا، مَیں معذرت چاہتا ہوں، مَیں اچھی طرح بات نہیں کر سکتا بلکہ مَیں کبھی بھی یہ لیاقت نہیں رکھتا تھا۔ اِس وقت بھی جب مَیں تجھ سے بات کر رہا ہوں میری یہی حالت ہے۔ مَیں رُک رُک کر بولتا ہوں۔“K- اگر اُنہیں پھر بھی یقین نہ آئے اور وہ تیری نہ سنیں تو دریائے نیل سے کچھ پانی نکال کر اُسے خشک زمین پر اُنڈیل دے۔ یہ پانی زمین پر گرتے ہی خون بن جائے گا۔“ YY O  لیکن موسیٰ نے التجا کی، ”میرے آقا، مہربانی کر کے کسی اَور کو بھیج دے۔“+NQ اب جا! تیرے بولتے وقت مَیں خود تیرے ساتھ ہوں گا اور تجھے وہ کچھ سکھاؤں گا جو تجھے کہنا ہے۔“gMI رب نے کہا، ”کس نے انسان کا منہ بنایا؟ کون ایک کو گونگا اور دوسرے کو بہرا بنا دیتا ہے؟ کون ایک کو دیکھنے کی قابلیت دیتا ہے اور دوسرے کو اِس سے محروم رکھتا ہے؟ کیا مَیں جو رب ہوں یہ سب کچھ نہیں کرتا؟ K{KSلیکن یہ لاٹھی بھی ساتھ لے جانا، کیونکہ اِسی کے ذریعے تُو یہ معجزے کرے گا۔“%REہارون تیری جگہ قوم سے بات کرے گا جبکہ تُو میری طرح اُسے وہ کچھ بتائے گا جو اُسے کہنا ہے۔pQ[اُسے وہ کچھ بتا جو اُسے کہنا ہے۔ تمہارے بولتے وقت مَیں تیرے اور اُس کے ساتھ ہوں گا اور تمہیں وہ کچھ سکھاؤں گا جو تمہیں کرنا ہو گا۔P}تب رب موسیٰ سے سخت خفا ہوا۔ اُس نے کہا، ”کیا تیرا لاوی بھائی ہارون ایسے کام کے لئے حاضر نہیں ہے؟ مَیں جانتا ہوں کہ وہ اچھی طرح بول سکتا ہے۔ دیکھ، وہ تجھ سے ملنے کے لئے نکل چکا ہے۔ تجھے دیکھ کر وہ نہایت خوش ہو گا۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr}  8  9 : ; < = > ? @  8  9 : ; < = > ? @ A B  C D E F G H I J  K  L  M  N  O P Q R S T U V W X Y Z [ \ ] ^ _ ` a  b c d e f g h i  j  k  l  m  n o p q r s t u v w x  y z { | gHV چنانچہ موسیٰ اپنی بیوی اور بیٹوں کو گدھے پر سوار کر کے مصر کو لوٹنے لگا۔ اللہ کی لاٹھی اُس کے ہاتھ میں تھی۔dUCموسیٰ ابھی مِدیان میں تھا کہ رب نے اُس سے کہا، ”مصر کو واپس چلا جا، کیونکہ جو آدمی تجھے قتل کرنا چاہتے تھے وہ مر گئے ہیں۔“T%پھر موسیٰ اپنے سُسر یترو کے گھر واپس چلا گیا۔ اُس نے کہا، ”مجھے ذرا اپنے عزیزوں کے پاس واپس جانے دیں جو مصر میں ہیں۔ مَیں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں کہ نہیں۔ یترو نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، سلامتی سے جائیں۔“ #*#hZKایک دن جب موسیٰ اپنے خاندان کے ساتھ راستے میں کسی سرائے میں ٹھہرا ہوا تھا تو رب نے اُس پر حملہ کر کے اُسے مار دینے کی کوشش کی۔Y)مَیں تجھے بتا چکا ہوں کہ میرے بیٹے کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کرے۔ اگر تُو میرے بیٹے کو جانے سے منع کرے تو مَیں تیرے پہلوٹھے کو جان سے مار دوں گا‘۔“Xاُس وقت فرعون کو بتا دینا، ’رب فرماتا ہے کہ اسرائیل میرا پہلوٹھا ہے۔IW رب نے اُس سے یہ بھی کہا، ”مصر جا کر فرعون کے سامنے وہ تمام معجزے دکھا جن کا مَیں نے تجھے اختیار دیا ہے۔ لیکن میرے کہنے پر وہ اَڑا رہے گا۔ وہ اسرائیلیوں کو جانے کی اجازت نہیں دے گا۔ ]PX]w^iموسیٰ نے ہارون کو سب کچھ سنا دیا جو رب نے اُسے کہنے کے لئے بھیجا تھا۔ اُس نے اُسے اُن معجزوں کے بارے میں بھی بتایا جو اُسے دکھانے تھے۔t]cرب نے ہارون سے بھی بات کی، ”ریگستان میں موسیٰ سے ملنے جا۔“ ہارون چل پڑا اور اللہ کے پہاڑ کے پاس موسیٰ سے ملا۔ اُس نے اُسے بوسہ دیا۔\7تب اللہ نے موسیٰ کو چھوڑ دیا۔ صفورہ نے اُسے ختنے کے باعث ہی ’خونی دُولھا‘ کہا تھا۔ [یہ دیکھ کر صفورہ نے ایک تیز پتھر سے اپنے بیٹے کا ختنہ کیا اور کاٹے ہوئے حصے سے موسیٰ کے پیر چھوئے۔ اُس نے کہا، ”یقیناً تم میرے خونی دُولھا ہو۔“ `b %پھر موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے۔ اُنہوں نے کہا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’میری قوم کو ریگستان میں جانے دے تاکہ وہ میرے لئے عید منا ئیں‘۔“iaMپھر اُنہیں یقین آیا۔ اور جب اُنہوں نے سنا کہ رب کو تمہارا خیال ہے اور وہ تمہاری مصیبت سے آگاہ ہے تو اُنہوں نے رب کو سجدہ کیا۔ U`%ہارون نے اُنہیں وہ تمام باتیں سنائیں جو رب نے موسیٰ کو بتائی تھیں۔ اُس نے مذکورہ معجزے بھی لوگوں کے سامنے دکھائے۔_3پھر دونوں مل کر مصر گئے۔ وہاں پہنچ کر اُنہوں نے اسرائیل کے تمام بزرگوں کو جمع کیا۔ oeore_لیکن مصر کے بادشاہ نے انکار کیا، ”موسیٰ اور ہارون، تم لوگوں کو کام سے کیوں روک رہے ہو؟ جاؤ، جو کام ہم نے تم کو دیا ہے اُس پر لگ جاؤ! dہارون اور موسیٰ نے کہا، ”عبرانیوں کا خدا ہم پر ظاہر ہوا ہے۔ اِس لئے مہربانی کر کے ہمیں اجازت دیں کہ ریگستان میں تین دن کا سفر کر کے رب اپنے خدا کے حضور قربانیاں پیش کریں۔ کہیں وہ ہمیں کسی بیماری یا تلوار سے نہ مارے۔“c فرعون نے جواب دیا، ”یہ رب کون ہے؟ مَیں کیوں اُس کا حکم مان کر اسرائیلیوں کو جانے دوں؟ نہ مَیں رب کو جانتا ہوں، نہ اسرائیلیوں کو جانے دوں گا۔“ ]bj? اُن سے اَور زیادہ سخت کام کراؤ، اُنہیں کام میں لگائے رکھو۔ اُن کے پاس اِتنا وقت ہی نہ ہو کہ وہ جھوٹی باتوں پر دھیان دیں۔“i#توبھی وہ اُتنی ہی اینٹیں بنائیں جتنی پہلے بناتے تھے۔ وہ سُست ہو گئے ہیں اور اِسی لئے چیخ رہے ہیں کہ ہمیں جانے دیں تاکہ اپنے خدا کو قربانیاں پیش کریں۔*hO”اب سے اسرائیلیوں کو اینٹیں بنانے کے لئے بھوسا مت دینا، بلکہ وہ خود جا کر بھوسا جمع کریں۔gاُسی دن فرعون نے مصری نگرانوں اور اُن کے تحت کے اسرائیلی نگرانوں کو حکم دیا،f9اسرائیلی ویسے بھی تعداد میں بہت بڑھ گئے ہیں، اور تم اُنہیں کام کرنے سے روک رہے ہو۔“ (U6( oجو اسرائیلی نگران اُنہوں نے مقرر کئے تھے اُنہیں وہ پیٹتے اور کہتے رہے، ”تم نے کل اور آج اُتنی اینٹیں کیوں نہیں بنوائیں جتنی پہلے بنواتے تھے؟“ n; مصری نگران یہ کہہ کر اُن پر دباؤ ڈالتے رہے کہ اُتنی اینٹیں بناؤ جتنی پہلے بناتے تھے۔xmk یہ سن کر اسرائیلی بھوسا جمع کرنے کے لئے پورے ملک میں پھیل گئے۔IT_ju%0:EP[fq| ~              ~                                                                                      (.(saفرعون سے بات کرتے وقت موسیٰ 80 سال کا اور ہارون 83 سال کا تھا۔{qموسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے اُنہیں حکم دیا۔Qجب مَیں مصر کے خلاف اپنی قدرت کا اظہار کر کے اسرائیلیوں کو وہاں سے نکالوں گا تو مصری جان لیں گے کہ مَیں رب ہوں۔“9mتوبھی فرعون تمہاری نہیں سنے گا۔ تب مصریوں پر میرا ہاتھ بھاری ہو جائے گا، اور مَیں اُن کو سخت سزا دے کر اپنی قوم اسرائیل کو خاندانوں کی ترتیب کے مطابق مصر سے نکال لاؤں گا۔Nلیکن مَیں فرعون کو اَڑ جانے دوں گا۔ اگرچہ مَیں مصر میں بہت سے نشانوں اور معجزوں سے اپنی قدرت کا مظاہرہ کروں گا f,fB" ہر ایک نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینکی تو وہ سانپ بن گئی۔ لیکن ہارون کی لاٹھی نے اُن کی لاٹھیوں کو نگل لیا۔8!k یہ دیکھ کر فرعون نے اپنے عالموں اور جادوگروں کو بُلایا۔ جادوگروں نے بھی اپنے جادو سے ایسا ہی کیا۔t c موسیٰ اور ہارون نے فرعون کے پاس جا کر ایسا ہی کیا۔ ہارون نے اپنی لاٹھی فرعون اور اُس کے عہدیداروں کے سامنے ڈال دی تو وہ سانپ بن گئی۔]5 ”جب فرعون تمہیں معجزہ دکھانے کو کہے گا تو موسیٰ ہارون سے کہے کہ اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دے۔ اِس پر وہ سانپ بن جائے گی۔“<uرب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا، 8,8S&!جب وہ وہاں پہنچے تو اُس سے کہنا، ’رب عبرانیوں کے خدا نے مجھے آپ کو یہ بتانے کے لئے بھیجا ہے کہ میری قوم کو میری عبادت کرنے کے لئے ریگستان میں جانے دے۔ لیکن آپ نے ابھی تک اُس کی نہیں سنی۔{%qکل صبح سویرے جب وہ دریائے نیل پر آئے گا تو اُس سے ملنے کے لئے دریا کے کنارے پر کھڑے ہو جانا۔ اُس لاٹھی کو تھامے رکھنا جو سانپ بن گئی تھی۔$/پھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”فرعون اَڑ گیا ہے۔ وہ میری قوم کو مصر چھوڑنے سے روکتا ہے۔P# تاہم فرعون اِس سے متاثر نہ ہوا۔ اُس نے موسیٰ اور ہارون کی بات سننے سے انکار کیا۔ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے کہا تھا۔ @ );رب نے موسیٰ سے کہا، ”ہارون کو بتا دینا کہ وہ اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ اُن تمام جگہوں کی طرف بڑھائے جہاں پانی جمع ہوتا ہے۔ تب مصر کی تمام ندیوں، نہروں، جوہڑوں اور تالابوں کا پانی خون میں بدل جائے گا۔ پورے ملک میں خون ہی خون ہو گا، یہاں تک کہ لکڑی اور پتھر کے برتنوں کا پانی بھی خون میں بدل جائے گا۔“9(mدریائے نیل کی مچھلیاں مر جائیں گی، دریا سے بدبو اُٹھے گی اور مصری دریا کا پانی نہیں پی سکیں گے‘۔“'yچنانچہ اب آپ جان لیں گے کہ وہ رب ہے۔ مَیں اِس لاٹھی کو جو میرے ہاتھ میں ہے لے کر دریائے نیل کے پانی کو ماروں گا۔ پھر وہ خون میں بدل جائے گا۔ CC--Uفرعون پلٹ کر اپنے گھر واپس چلا گیا۔ اُسے اُس کی پروا نہیں تھی جو موسیٰ اور ہارون نے کیا تھا۔,لیکن جادوگروں نے بھی اپنے جادو کے ذریعے ایسا ہی کیا۔ اِس لئے فرعون اَڑ گیا اور موسیٰ اور ہارون کی بات نہ مانی۔ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے کہا تھا۔b+?دریا کی مچھلیاں مر گئیں، اور اُس سے اِتنی بدبو اُٹھنے لگی کہ مصری اُس کا پانی نہ پی سکے۔ مصر میں چاروں طرف خون ہی خون تھا۔*+چنانچہ موسیٰ اور ہارون نے فرعون اور اُس کے عہدیداروں کے سامنے اپنی لاٹھی اُٹھا کر دریائے نیل کے پانی پر ماری۔ اِس پر دریا کا سارا پانی خون میں بدل گیا۔ 0X1+ورنہ مَیں پورے مصر کو مینڈکوں سے سزا دوں گا۔]0 7پھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”فرعون کے پاس جا کر اُسے بتا دینا کہ رب فرماتا ہے، ’میری قوم کو میری عبادت کرنے کے لئے جانے دے،P/پانی کے بدل جانے کے بعد سات دن گزر گئے۔ L.لیکن مصری دریا سے پانی نہ پی سکے، اور اُنہوں نے پینے کا پانی حاصل کرنے کے لئے دریا کے کنارے کنارے گڑھے کھودے۔ ~=~;4qرب نے موسیٰ سے کہا، ”ہارون کو بتا دینا کہ وہ اپنی لاٹھی کو ہاتھ میں لے کر اُسے دریاؤں، نہروں اور جوہڑوں کے اوپر اُٹھائے تاکہ مینڈک باہر نکل کر مصر کے ملک میں پھیل جائیں۔“}3uمینڈک تجھ پر، تیری قوم پر اور تیرے عہدیداروں پر چڑھ جائیں گے‘۔“?2yدریائے نیل مینڈکوں سے اِتنا بھر جائے گا کہ وہ دریا سے نکل کر تیرے محل، تیرے سونے کے کمرے اور تیرے بستر میں جا گھسیں گے۔ وہ تیرے عہدیداروں اور تیری رعایا کے گھروں میں آئیں گے بلکہ تمہارے تنوروں اور آٹا گوندھنے کے برتنوں میں بھی پُھدکتے پھریں گے۔ Y6Y@7{فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بُلا کر کہا، ”رب سے دعا کرو کہ وہ مجھ سے اور میری قوم سے مینڈکوں کو دُور کرے۔ پھر مَیں تمہاری قوم کو جانے دوں گا تاکہ وہ رب کو قربانیاں پیش کریں۔“6%لیکن جادوگروں نے بھی اپنے جادو سے ایسا ہی کیا۔ وہ بھی دریا سے مینڈک نکال لائے۔F5ہارون نے ملکِ مصر کے پانی کے اوپر اپنی لاٹھی اُٹھائی تو مینڈکوں کے غول پانی سے نکل کر پورے ملک پر چھا گئے۔ r*:O مینڈک آپ، آپ کے گھروں، آپ کے عہدیداروں اور آپ کی قوم کو چھوڑ کر صرف دریا میں رہ جائیں گے۔“9/ فرعون نے کہا، ”ٹھیک ہے، کل اُنہیں ختم کرو۔“ موسیٰ نے کہا، ”جیسا آپ کہتے ہیں ویسا ہی ہو گا۔ اِس طرح آپ کو معلوم ہو گا کہ ہمارے خدا کی مانند کوئی نہیں ہے۔l8S موسیٰ نے جواب دیا، ”وہ وقت مقرر کریں جب مَیں آپ کے عہدیداروں اور آپ کی قوم کے لئے دعا کروں۔ پھر جو مینڈک آپ کے پاس اور آپ کے گھروں میں ہیں اُسی وقت ختم ہو جائیں گے۔ مینڈک صرف دریا میں پائے جائیں گے۔“ #?{پھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”ہارون سے کہنا کہ وہ اپنی لاٹھی سے زمین کی گرد کو مارے۔ جب وہ ایسا کرے گا تو پورے مصر کی گرد جوؤں میں بدل جائے گی۔“C>لیکن جب فرعون نے دیکھا کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے تو وہ پھر اکڑ گیا اور اُن کی نہ سنی۔ یوں رب کی بات درست نکلی۔=1لوگوں نے اُنہیں جمع کر کے اُن کے ڈھیر لگا دیئے۔ اُن کی بدبو پورے ملک میں پھیل گئی۔z<o رب نے اُس کی دعا سنی۔ گھروں، صحنوں اور کھیتوں میں مینڈک مر گئے۔v;g موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس سے چلے گئے، اور موسیٰ نے رب سے منت کی کہ وہ مینڈکوں کے وہ غول دُور کرے جو اُس نے فرعون کے خلاف بھیجے تھے۔ > >KBجادوگروں نے فرعون سے کہا، ”اللہ کی قدرت نے یہ کیا ہے۔“ لیکن فرعون نے اُن کی نہ سنی۔ یوں رب کی بات درست نکلی۔bA?جادوگروں نے بھی اپنے جادو سے ایسا کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ گرد سے جوئیں نہ بنا سکے۔ جوئیں آدمیوں اور جانوروں پر چھا گئیں۔ @ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ ہارون نے اپنی لاٹھی سے زمین کی گرد کو مارا تو پورے ملک کی گرد جوؤں میں بدل گئی۔ اُن کے غول جانوروں اور آدمیوں پر چھا گئے۔ G2E_لیکن اُس وقت مَیں اپنی قوم کے ساتھ جو جُشن میں رہتی ہے فرق سلوک کروں گا۔ وہاں ایک بھی کاٹنے والی مکھی نہیں ہو گی۔ اِس طرح تجھے پتا لگے گا کہ اِس ملک میں مَیں ہی رب ہوں۔xDkورنہ مَیں تیرے اور تیرے عہدیداروں کے پاس، تیری قوم کے پاس اور تیرے گھروں میں کاٹنے والی مکھیاں بھیج دوں گا۔ مصریوں کے گھر مکھیوں سے بھر جائیں گے بلکہ جس زمین پر وہ کھڑے ہیں وہ بھی مکھیوں سے ڈھانکی جائے گی۔9Cmپھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”جب فرعون صبح سویرے دریا پر جائے تو تُو اُس کے راستے میں کھڑا ہو جانا۔ اُسے کہنا کہ رب فرماتا ہے، ’میری قوم کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کر سکیں۔ pbgp;Iqلیکن موسیٰ نے کہا، ”یہ مناسب نہیں ہے۔ جو قربانیاں ہم رب اپنے خدا کو پیش کریں گے وہ مصریوں کی نظر میں گھناؤنی ہیں۔ اگر ہم یہاں ایسا کریں تو کیا وہ ہمیں سنگسار نہیں کریں گے؟4Hcپھر فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بُلا کر کہا، ”چلو، اِسی ملک میں اپنے خدا کو قربانیاں پیش کرو۔“wGiرب نے ایسا ہی کیا۔ کاٹنے والی مکھیوں کے غول فرعون کے محل، اُس کے عہدیداروں کے گھروں اور پورے مصر میں پھیل گئے۔ ملک کا ستیاناس ہو گیا۔F/مَیں اپنی قوم اور تیری قوم میں امتیاز کروں گا۔ کل ہی میری قدرت کا اظہار ہو گا‘۔“ OOLموسیٰ نے کہا، ”ٹھیک، مَیں جاتے ہی رب سے دعا کروں گا۔ کل ہی مکھیاں فرعون، اُس کے عہدیداروں اور اُس کی قوم سے دُور ہو جائیں گی۔ لیکن ہمیں دوبارہ فریب نہ دینا بلکہ ہمیں جانے دینا تاکہ ہم رب کو قربانیاں پیش کر سکیں۔“9Kmفرعون نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، مَیں تمہیں جانے دوں گا تاکہ تم ریگستان میں رب اپنے خدا کو قربانیاں پیش کرو۔ لیکن تمہیں زیادہ دُور نہیں جانا ہے۔ اور میرے لئے بھی دعا کرنا۔“fJGاِس لئے لازم ہے کہ ہم تین دن کا سفر کر کے ریگستان میں ہی رب اپنے خدا کو قربانیاں پیش کریں جس طرح اُس نے ہمیں حکم بھی دیا ہے۔“ EFPQ اگر آپ انکار کریں اور اُنہیں روکتے رہیں{P s پھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”فرعون کے پاس جا کر اُسے بتا کہ رب عبرانیوں کا خدا فرماتا ہے، ’میری قوم کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کر سکیں۔‘rO_ لیکن فرعون پھر اکڑ گیا۔ اُس نے اسرائیلیوں کو جانے نہ دیا۔ \N3رب نے موسیٰ کی دعا سنی۔ کاٹنے والی مکھیاں فرعون، اُس کے عہدیداروں اور اُس کی قوم سے دُور ہو گئیں۔ ایک بھی مکھی نہ رہی۔cMAپھر موسیٰ فرعون کے پاس سے چلا گیا اور رب سے دعا کی۔ "xVk فرعون نے کچھ لوگوں کو اُن کے پاس بھیج دیا تو پتا چلا کہ ایک بھی جانور نہیں مرا۔ تاہم فرعون اَڑا رہا۔ اُس نے اسرائیلیوں کو جانے نہ دیا۔/UY اگلے دن رب نے ایسا ہی کیا۔ مصر کے تمام مویشی مر گئے، لیکن اسرائیلیوں کا ایک بھی جانور نہ مرا۔\T3 رب نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کل ہی ایسا کرے گا۔“3Sa لیکن رب اسرائیل اور مصر کے مویشیوں میں امتیاز کرے گا۔ اسرائیلیوں کا ایک بھی جانور نہیں مرے گا۔#RA تو رب اپنی قدرت کا اظہار کر کے آپ کے مویشیوں میں بھیانک وبا پھیلا دے گا جو آپ کے گھوڑوں، گدھوں، اونٹوں، گائےبَیلوں، بھیڑبکریوں اور مینڈھوں میں پھیل جائے گی۔ GY  موسیٰ اور ہارون نے ایسا ہی کیا۔ وہ کسی بھٹی سے راکھ لے کر فرعون کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ موسیٰ نے راکھ کو ہَوا میں اُڑا دیا تو انسانوں اور جانوروں کے جسموں پر پھوڑے پھنسیاں نکل آئے۔X یہ راکھ باریک دُھول کا بادل بن جائے گی جو پورے ملک پر چھا جائے گا۔ اُس کے اثر سے لوگوں اور جانوروں کے جسموں پر پھوڑے پھنسیاں پھوٹ نکلیں گے۔“W  پھر رب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا، ”اپنی مٹھیاں کسی بھٹی کی راکھ سے بھر کر فرعون کے پاس جاؤ۔ پھر موسیٰ فرعون کے سامنے یہ راکھ ہَوا میں اُڑا دے۔ ,4\c اِس کے بعد رب نے موسیٰ سے کہا، ”صبح سویرے اُٹھ اور فرعون کے سامنے کھڑے ہو کر اُسے بتا کہ رب عبرانیوں کا خدا فرماتا ہے، ’میری قوم کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کر سکیں۔e[E لیکن رب نے فرعون کو ضدی بنائے رکھا، اِس لئے اُس نے موسیٰ اور ہارون کی نہ سنی۔ یوں ویسا ہی ہوا جیسا رب نے موسیٰ کو بتایا تھا۔gZI اِس مرتبہ جادوگر موسیٰ کے سامنے کھڑے بھی نہ ہو سکے کیونکہ اُن کے جسموں پر بھی پھوڑے نکل آئے تھے۔ تمام مصریوں کا یہی حال تھا۔ Gc`1 تُو ابھی تک اپنے آپ کو سرفراز کر کے میری قوم کے خلاف ہے اور اُنہیں جانے نہیں دیتا۔`_; لیکن مَیں نے تجھے اِس لئے برپا کیا ہے کہ تجھ پر اپنی قدرت کا اظہار کروں اور یوں تمام دنیا میں میرے نام کا پرچار کیا جائے۔4^c اگر مَیں چاہتا تو اپنی قدرت سے ایسی وبا پھیلا سکتا کہ تجھے اور تیری قوم کو دنیا سے مٹا دیا جاتا۔}]u ورنہ مَیں اپنی تمام آفتیں تجھ پر، تیرے عہدیداروں پر اور تیری قوم پر آنے دوں گا۔ پھر تُو جان لے گا کہ تمام دنیا میں مجھ جیسا کوئی نہیں ہے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq|                                                                                         !  "  #                                              %%&dG لیکن دوسروں نے رب کے پیغام کی پروا نہ کی۔ اُن کے جانور اور غلام باہر کھلے میدان میں رہے۔?cy فرعون کے کچھ عہدیدار رب کا پیغام سن کر ڈر گئے اور بھاگ کر اپنے جانوروں اور غلاموں کو گھروں میں لے آئے۔Wb) اپنے بندوں کو ابھی بھیجنا تاکہ وہ تیرے مویشیوں کو اور کھیتوں میں پڑے تیرے مال کو لا کر محفوظ کر لیں۔ کیونکہ جو بھی کھلے میدان میں رہے گا وہ اولوں سے مر جائے گا، خواہ انسان ہو یا حیوان‘۔“a اِس لئے کل مَیں اِسی وقت بھیانک قسم کے اولوں کا طوفان بھیج دوں گا۔ مصری قوم کی ابتدا سے لے کر آج تک مصر میں اولوں کا ایسا طوفان کبھی نہیں آیا ہو گا۔ 08u0liS وہ صرف جُشن کے علاقے میں نہ پڑے جہاں اسرائیلی آباد تھے۔Rh انسانوں سے لے کر حیوانوں تک کھیتوں میں سب کچھ برباد ہو گیا۔ اولوں نے کھیتوں میں تمام پودے اور درخت بھی توڑ دیئے۔?gy اولے پڑتے رہے اور بجلی چمکتی رہی۔ مصری قوم کی ابتدا سے لے کر اب تک ایسے خطرناک اولے کبھی نہیں پڑے تھے۔Xf+ موسیٰ نے اپنی لاٹھی آسمان کی طرف اُٹھائی تو رب نے ایک زبردست طوفان بھیج دیا۔ اولے پڑے، بجلی گری اور بادل گرجتے رہے۔heK رب نے موسیٰ سے کہا، ”اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا دے۔ پھر مصر کے تمام انسانوں، جانوروں اور کھیتوں کے پودوں پر اولے پڑیں گے۔“ ??m% لیکن مَیں جانتا ہوں کہ آپ اور آپ کے عہدیدار ابھی تک رب خدا کا خوف نہیں مانتے۔“l5 موسیٰ نے فرعون سے کہا، ”مَیں شہر سے نکل کر دونوں ہاتھ رب کی طرف اُٹھا کر دعا کروں گا۔ پھر گرج اور اولے رُک جائیں گے اور آپ جان لیں گے کہ پوری دنیا رب کی ہے۔ k اولے اور اللہ کی گرجتی آوازیں حد سے زیادہ ہیں۔ رب سے دعا کرو تاکہ اولے رُک جائیں۔ اب مَیں تمہیں جانے دوں گا۔ اب سے تمہیں یہاں رہنا نہیں پڑے گا۔“tjc تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بُلایا۔ اُس نے کہا، ”اِس مرتبہ مَیں نے گناہ کیا ہے۔ رب حق پر ہے۔ مجھ سے اور میری قوم سے غلطی ہوئی ہے۔ PG%rE #فرعون اَڑا رہا اور اسرائیلیوں کو جانے نہ دیا۔ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے موسیٰ سے کہا تھا۔ ,qS "جب فرعون نے دیکھا کہ طوفان ختم ہو گیا ہے تو وہ اور اُس کے عہدیدار دوبارہ گناہ کر کے اکڑ گئے۔Mp !موسیٰ فرعون کو چھوڑ کر شہر سے نکلا۔ اُس نے رب کی طرف اپنے ہاتھ اُٹھائے تو گرج، اولے اور بارش کا طوفان رُک گیا۔o لیکن گیہوں اور ایک اَور قسم کی گندم جو بعد میں پکتی ہے برباد نہ ہوئی۔,nS اُس وقت سَن کے پھول نکل چکے تھے اور جَو کی بالیں لگ گئی تھیں۔ اِس لئے یہ فصلیں تباہ ہو گئیں۔ kTu# موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے۔ اُنہوں نے اُس سے کہا، ”رب عبرانیوں کے خدا کا فرمان ہے، ’تُو کب تک میرے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرے گا؟ میری قوم کو میری عبادت کرنے کے لئے جانے دے،_t9 اور تم اپنے بیٹے بیٹیوں اور پوتے پوتیوں کو سنا سکو کہ مَیں نے مصریوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اور اُن کے درمیان کس طرح کے معجزے کر کے اپنی قدرت کا اظہار کیا ہے۔ یوں تم جان لو گے کہ مَیں رب ہوں۔“.s Y پھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”فرعون کے پاس جا، کیونکہ مَیں نے اُس کا اور اُس کے درباریوں کا دل سخت کر دیا ہے تاکہ اُن کے درمیان اپنے معجزوں اور اپنی قدرت کا اظہار کر سکوں kxQ تیرے محل، تیرے عہدیداروں اور باقی لوگوں کے گھر اُن سے بھر جائیں گے۔ جب سے مصری اِس ملک میں آباد ہوئے ہیں تم نے کبھی ٹڈیوں کا ایسا سخت حملہ نہیں دیکھا ہو گا‘۔“ یہ کہہ کر موسیٰ پلٹ کر وہاں سے چلا گیا۔%wE اُن کے غول زمین پر یوں چھا جائیں گے کہ زمین نظر ہی نہیں آئے گی۔ جو کچھ اولوں نے تباہ نہیں کیا اُسے وہ چٹ کر جائیں گی۔ بچے ہوئے درختوں کے پتے بھی ختم ہو جائیں گے۔Qv ورنہ مَیں کل تیرے ملک میں ٹڈیاں لاؤں گا۔ MMX{+ موسیٰ نے جواب دیا، ”ہمارے جوان اور بوڑھے ساتھ جائیں گے۔ ہم اپنے بیٹے بیٹیوں، بھیڑبکریوں اور گائےبَیلوں کو بھی ساتھ لے کر جائیں گے۔ ہم سب کے سب جائیں گے، کیونکہ ہمیں رب کی عید منانی ہے۔“xzk تب موسیٰ اور ہارون کو فرعون کے پاس بُلایا گیا۔ اُس نے اُن سے کہا، ”جاؤ، اپنے خدا کی عبادت کرو۔ لیکن یہ بتاؤ کہ کون کون ساتھ جائے گا؟“Wy) اِس پر درباریوں نے فرعون سے بات کی، ”ہم کب تک اِس مرد کے جال میں پھنسے رہیں؟ اسرائیلیوں کو رب اپنے خدا کی عبادت کرنے کے لئے جانے دیں۔ کیا آپ کو ابھی تک معلوم نہیں کہ مصر برباد ہو گیا ہے؟“  ~; پھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”مصر پر اپنا ہاتھ اُٹھا تاکہ ٹڈیاں آ کر مصر کی سرزمین پر پھیل جائیں۔ جو کچھ بھی کھیتوں میں اولوں سے بچ گیا ہے اُسے وہ کھا جائیں گی۔“m}U نہیں، صرف مرد جا کر رب کی عبادت کر سکتے ہیں۔ تم نے تو یہی درخواست کی تھی۔“ تب موسیٰ اور ہارون کو فرعون کے سامنے سے نکال دیا گیا۔| فرعون نے طنزاً کہا، ”ٹھیک ہے، جاؤ اور رب تمہارے ساتھ ہو۔ نہیں، مَیں کس طرح تم سب کو بال بچوں سمیت جانے دے سکتا ہوں؟ تم نے کوئی بُرا منصوبہ بنایا ہے۔ q] اُنہوں نے زمین کو یوں ڈھانک لیا کہ وہ کالی نظر آنے لگی۔ جو کچھ بھی اولوں سے بچ گیا تھا چاہے کھیتوں کے پودے یا درختوں کے پھل تھے اُنہوں نے کھا لیا۔ مصر میں ایک بھی درخت یا پودا نہ رہا جس کے پتے بچ گئے ہوں۔`; بےشمار ٹڈیاں پورے ملک پر حملہ کر کے ہر جگہ بیٹھ گئیں۔ اِس سے پہلے یا بعد میں کبھی بھی ٹڈیوں کا اِتنا سخت حملہ نہ ہوا تھا۔|s موسیٰ نے اپنی لاٹھی مصر پر اُٹھائی تو رب نے مشرق سے آندھی چلائی جو سارا دن اور ساری رات چلتی رہی اور اگلی صبح تک مصر میں ٹڈیاں پہنچائیں۔ 4l! لیکن رب نے ہونے دیا کہ فرعون پھر اَڑ گیا۔ اُس نے اسرائیلیوں کو جانے نہ دیا۔ جواب میں رب نے ہَوا کا رُخ بدل دیا۔ اُس نے مغرب سے تیز آندھی چلائی جس نے ٹڈیوں کو اُڑا کر بحرِ قُلزم میں ڈال دیا۔ مصر میں ایک بھی ٹڈی نہ رہی۔H  موسیٰ نے محل سے نکل کر رب سے دعا کی۔D اب ایک اَور مرتبہ میرا گناہ معاف کرو اور رب اپنے خدا سے دعا کرو تاکہ موت کی یہ حالت مجھ سے دُور ہو جائے۔“H  تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو جلدی سے بُلوایا۔ اُس نے کہا، ”مَیں نے تمہارے خدا کا اور تمہارا گناہ کیا ہے۔ q[q( K تب فرعون نے موسیٰ کو پھر بُلوایا اور کہا، ”جاؤ، رب کی عبادت کرو! تم اپنے ساتھ بال بچوں کو بھی لے جا سکتے ہو۔ صرف اپنی بھیڑبکریاں اور گائےبَیل پیچھے چھوڑ دینا۔“: o تین دن تک لوگ نہ ایک دوسرے کو دیکھ سکے، نہ کہیں جا سکے۔ لیکن جہاں اسرائیلی رہتے تھے وہاں روشنی تھی۔7 موسیٰ نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھایا تو تین دن تک مصر پر گہرا اندھیرا چھایا رہا۔y اِس کے بعد رب نے موسیٰ سے کہا، ”اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا تو مصر پر اندھیرا چھا جائے گا۔ اِتنا اندھیرا ہو گا کہ بندہ اُسے چھو سکے گا۔“ ? y لیکن رب کی مرضی کے مطابق فرعون اَڑ گیا۔ اُس نے اُنہیں جانے نہ دیا۔ 5 یقیناً نہیں۔ اِس لئے لازم ہے کہ ہم اپنے جانوروں کو ساتھ لے کر جائیں۔ ایک کُھربھی پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا، کیونکہ ابھی تک ہمیں معلوم نہیں کہ رب کی عبادت کے لئے کن کن جانوروں کی ضرورت ہو گی۔ یہ اُس وقت ہی پتا چلے گا جب ہم منزلِ مقصود پر پہنچیں گے۔ اِس لئے ضروری ہے کہ ہم سب کو اپنے ساتھ لے کر جائیں۔“= u موسیٰ نے جواب دیا، ”کیا آپ ہی ہمیں قربانیوں کے لئے جانور دیں گے تاکہ اُنہیں رب اپنے خدا کو پیش کریں؟ /<s اسرائیلیوں کو بتا دینا کہ ہر مرد اپنے پڑوسی اور ہر عورت اپنی پڑوسن سے سونے چاندی کی چیزیں مانگ لے۔“s c تب رب نے موسیٰ سے کہا، ”اب مَیں فرعون اور مصر پر آخری آفت لانے کو ہوں۔ اِس کے بعد وہ تمہیں جانے دے گا بلکہ تمہیں زبردستی نکال دے گا۔! موسیٰ نے کہا، ”ٹھیک ہے، آپ کی مرضی۔ مَیں پھر کبھی آپ کے سامنے نہیں آؤں گا۔“ M اُس نے موسیٰ سے کہا، ”دفع ہو جا۔ خبردار! پھر کبھی اپنی شکل نہ دکھانا، ورنہ تجھے موت کے حوالے کر دیا جائے گا۔“ #'I مصر کی سرزمین پر ایسا رونا پیٹنا ہو گا کہ نہ ماضی میں کبھی ہوا، نہ مستقبل میں کبھی ہو گا۔~w تب بادشاہ کے پہلوٹھے سے لے کر چکّی پیسنے والی نوکرانی کے پہلوٹھے تک مصریوں کا ہر پہلوٹھا مر جائے گا۔ چوپایوں کے پہلوٹھے بھی مر جائیں گے۔ موسیٰ نے کہا، ”رب فرماتا ہے، ’آج آدھی رات کے وقت مَیں مصر میں سے گزروں گا۔Y- (رب نے مصریوں کے دل اسرائیلیوں کی طرف مائل کر دیئے تھے۔ وہ فرعون کے عہدیداروں سمیت خاص کر موسیٰ کی بڑی عزت کرتے تھے)۔ X0XT# رب نے موسیٰ سے کہا تھا، ”فرعون تمہاری نہیں سنے گا۔ کیونکہ لازم ہے کہ مَیں مصر میں اپنی قدرت کا مزید اظہار کروں۔“/Y موسیٰ نے یہ کچھ فرعون کو بتایا پھر کہا، ”اُس وقت آپ کے تمام عہدیدار آ کر میرے سامنے جھک جائیں گے اور منت کریں گے، ’اپنے پیروکاروں کے ساتھ چلے جائیں۔‘ تب مَیں چلا ہی جاؤں گا۔“ یہ کہہ کر موسیٰ فرعون کے پاس سے چلا گیا۔ وہ بڑے غصے میں تھا۔- لیکن اسرائیلی اور اُن کے جانور بچے رہیں گے۔ کُتا بھی اُن پر نہیں بھونکے گا۔ اِس طرح تم جان لو گے کہ رب اسرائیلیوں کی نسبت مصریوں سے فرق سلوک کرتا ہے‘۔“ ;8;ym اسرائیل کی پوری جماعت کو بتانا کہ اِس مہینے کے دسویں دن ہر خاندان کا سرپرست اپنے گھرانے کے لئے لیلا یعنی بھیڑ یا بکری کا بچہ حاصل کرے۔cA ”اب سے یہ مہینہ تمہارے لئے سال کا پہلا مہینہ ہو۔“Q  پھر رب نے مصر میں موسیٰ اور ہارون سے کہا،  گو موسیٰ اور ہارون نے فرعون کے سامنے یہ تمام معجزے دکھائے، لیکن رب نے فرعون کو ضدی بنائے رکھا، اِس لئے اُس نے اسرائیلیوں کو ملک چھوڑنے نہ دیا۔ ;;C مہینے کے 14ویں دن تک اُس کی دیکھ بھال کرو۔ اُس دن تمام اسرائیلی سورج کے غروب ہوتے وقت اپنے لیلے ذبح کریں۔$C اِس کے لئے ایک سال کا نر بچہ چن لینا جس میں نقص نہ ہو۔ وہ بھیڑ یا بکری کا بچہ ہو سکتا ہے۔R اگر گھرانے کے افراد پورا جانور کھانے کے لئے کم ہوں تو وہ اپنے سب سے قریبی پڑوسی کے ساتھ مل کر لیلا حاصل کریں۔ اِتنے لوگ اُس میں سے کھائیں کہ سب کے لئے کافی ہو اور پورا جانور کھایا جائے۔ rr#1 لازم ہے کہ پورا گوشت اُسی رات کھایا جائے۔ اگر کچھ صبح تک بچ جائے تو اُسے جلانا ہے۔Z"/ لیلے کا گوشت کچا نہ کھانا، نہ اُسے پانی میں اُبالنا بلکہ پورے جانور کو سر، پیروں اور اندرونی حصوں سمیت آگ پر بھوننا۔B! لازم ہے کہ لوگ جانور کو بھون کر اُسی رات کھائیں۔ ساتھ ہی وہ کڑوا ساگ پات اور بےخمیری روٹیاں بھی کھائیں۔G   ہر خاندان اپنے جانور کا کچھ خون جمع کر کے اُسے اُس گھر کے دروازے کی چوکھٹ پر لگائے جہاں لیلا کھایا جائے گا۔ یہ خون چوکھٹ کے اوپر والے حصے اور دائیں بائیں کے بازوؤں پر لگایا جائے۔ E  "-8CNXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr}                                                                     !  "  #  $  %  &  '  (  )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8  9  !:  ";  #<  $=  %>  &?  '@  (A  )B  *C  +D  ,E  -F  .G  /H  0I  1J  2K  3L   M  N UUL& لیکن تمہارے گھروں پر لگا ہوا خون تمہارا خاص نشان ہو گا۔ جس جس گھر کے دروازے پر مَیں وہ خون دیکھوں گا اُسے چھوڑتا جاؤں گا۔ جب مَیں مصر پر حملہ کروں گا تو مہلک وبا تم تک نہیں پہنچے گی۔%1 مَیں آج رات مصر میں سے گزروں گا اور ہر پہلوٹھے کو جان سے مار دوں گا، خواہ انسان کا ہو یا حیوان کا۔ یوں مَیں جو رب ہوں مصر کے تمام دیوتاؤں کی عدالت کروں گا۔8$k کھانا کھاتے وقت ایسا لباس پہننا جیسے تم سفر پر جا رہے ہو۔ اپنے جوتے پہنے رکھنا اور ہاتھ میں سفر کے لئے لاٹھی لئے ہوئے تم اُسے جلدی جلدی کھانا۔ رب کے فسح کی عید یوں منانا۔ /ZD4/*} بےخمیری روٹی کی عید منانا لازم ہے، کیونکہ اُس دن مَیں تمہارے متعدد خاندانوں کو مصر سے نکال لایا۔ اِس لئے یہ دن نسل درنسل ہر سال یاد رکھنا۔ ) اِس عید کے پہلے اور آخری دن مُقدّس اجتماع منعقد کرنا۔ اِن تمام دنوں کے دوران کام نہ کرنا۔ صرف ایک کام کی اجازت ہے اور وہ ہے اپنا کھانا تیار کرنا۔( سات دن تک بےخمیری روٹی کھانا ہے۔ پہلے دن اپنے گھروں سے تمام خمیر نکال دینا۔ اگر کوئی اِن سات دنوں کے دوران خمیر کھائے تو اُسے قوم میں سے مٹایا جائے۔"'? آج کی رات کو ہمیشہ یاد رکھنا۔ اِسے نسل در نسل اور ہر سال رب کی خاص عید کے طور پر منانا۔ gN .  پھر موسیٰ نے تمام اسرائیلی بزرگوں کو بُلا کر اُن سے کہا، ”جاؤ، اپنے خاندانوں کے لئے بھیڑ یا بکری کے بچے چن کر اُنہیں فسح کی عید کے لئے ذبح کرو۔%-E غرض، اِس عید کے دوران خمیر نہ کھانا۔ جہاں بھی تم رہتے ہو وہاں بےخمیری روٹی ہی کھانا ہے۔,% سات دن تک تمہارے گھروں میں خمیر نہ پایا جائے۔ جو بھی اِس دوران خمیر کھائے اُسے اسرائیل کی جماعت میں سے مٹایا جائے، خواہ وہ اسرائیلی شہری ہو یا اجنبی۔+% پہلے مہینے کے 14ویں دن کی شام سے لے کر 21ویں دن کی شام تک صرف بےخمیری روٹی کھانا۔  2  یہ رسم اُس وقت بھی ادا کرنا جب تم اُس ملک میں پہنچو گے جو رب تمہیں دے گا۔`1; تم اپنی اولاد سمیت ہمیشہ اِن ہدایات پر عمل کرنا۔70i جب رب مصریوں کو مار ڈالنے کے لئے ملک میں سے گزرے گا تو وہ چوکھٹ کے اوپر والے حصے اور دائیں بائیں کے بازوؤں پر لگا ہوا خون دیکھ کر اُن گھروں کو چھوڑ دے گا۔ وہ ہلاک کرنے والے فرشتے کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ تمہارے گھروں میں جا کر تمہیں ہلاک کرے۔A/} زوفے کا گچھا لے کر اُسے خون سے بھرے ہوئے باسن میں ڈبو دینا۔ پھر اُسے لے کر خون کو چوکھٹ کے اوپر والے حصے اور دائیں بائیں کے بازوؤں پر لگا دینا۔ صبح تک کوئی اپنے گھر سے نہ نکلے۔ ; 6 آدھی رات کو رب نے بادشاہ کے پہلوٹھے سے لے کر جیل کے قیدی کے پہلوٹھے تک مصریوں کے تمام پہلوٹھوں کو جان سے مار دیا۔ چوپایوں کے پہلوٹھے بھی مر گئے۔ 5 پھر اُنہوں نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ اور ہارون کو بتایا تھا۔N4 تو اُن سے کہو، ’یہ فسح کی قربانی ہے جو ہم رب کو پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ جب رب مصریوں کو ہلاک کر رہا تھا تو اُس نے ہمارے گھروں کو چھوڑ دیا تھا‘۔“ یہ سن کر اسرائیلیوں نے اللہ کو سجدہ کیا۔p3[ اور جب تمہارے بچے تم سے پوچھیں کہ ہم یہ عید کیوں مناتے ہیں Q<:s !باقی مصریوں نے بھی اسرائیلیوں پر زور دے کر کہا، ”جلدی جلدی ملک سے نکل جاؤ، ورنہ ہم سب مر جائیں گے۔“!9= جس طرح تم چاہتے ہو اپنی بھیڑبکریوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ۔ اور مجھے بھی برکت دینا۔“ 8 ابھی رات تھی کہ فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بُلا کر کہا، ”اب تم اور باقی اسرائیلی میری قوم میں سے نکل جاؤ۔ اپنی درخواست کے مطابق رب کی عبادت کرو۔u7e اُس رات مصر کے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی مر گیا۔ فرعون، اُس کے عہدیدار اور مصر کے تمام لوگ جاگ اُٹھے اور زور زور سے رونے اور چیخنے لگے۔ >>4>c %اسرائیلی رعمسیس سے روانہ ہو کر سُکات پہنچ گئے۔ عورتوں اور بچوں کو چھوڑ کر اُن کے 6 لاکھ مرد تھے۔= $رب نے مصریوں کے دلوں کو اسرائیلیوں کی طرف مائل کر دیا تھا، اِس لئے اُنہوں نے اُن کی ہر درخواست پوری کی۔ یوں اسرائیلیوں نے مصریوں کو لُوٹ لیا۔T<# #اسرائیلی موسیٰ کی ہدایت پر عمل کر کے اپنے مصری پڑوسیوں کے پاس گئے اور اُن سے کپڑے اور سونے چاندی کی چیزیں مانگیں۔$;C "اسرائیلیوں کے گوندھے ہوئے آٹے میں خمیر نہیں تھا۔ اُنہوں نے اُسے گوندھنے کے برتنوں میں رکھ کر اپنے کپڑوں میں لپیٹ لیا اور سفر کرتے وقت اپنے کندھوں پر رکھ لیا۔ [rB_ )430 سال کے عین بعد، اُسی دن رب کے یہ تمام خاندان مصر سے نکلے۔GA  (اسرائیلی 430 سال تک مصر میں رہے تھے۔i@M 'راستے میں اُنہوں نے اُس بےخمیری آٹے سے روٹیاں بنائیں جو وہ ساتھ لے کر نکلے تھے۔ آٹے میں اِس لئے خمیر نہیں تھا کہ اُنہیں اِتنی جلدی سے مصر سے نکال دیا گیا تھا کہ کھانا تیار کرنے کا وقت ہی نہ ملا تھا۔j?O &وہ اپنے بھیڑبکریوں اور گائےبَیلوں کے بڑے بڑے ریوڑ بھی ساتھ لے گئے۔ بہت سے ایسے لوگ بھی اُن کے ساتھ نکلے جو اسرائیلی نہیں تھے۔ +wFi -لیکن غیرشہری یا مزدور کو فسح کا کھانا کھانے کی اجازت نہیں ہے۔E% ,اگر تم نے کسی غلام کو خرید کر اُس کا ختنہ کیا ہے تو وہ فسح کا کھانا کھا سکتا ہے۔\D3 +رب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا، ”فسح کی عید کے یہ اصول ہیں: کسی بھی پردیسی کو فسح کی عید کا کھانا کھانے کی اجازت نہیں ہے۔XC+ *اُس خاص رات رب نے خود پہرا دیا تاکہ اسرائیلی مصر سے نکل سکیں۔ اِس لئے تمام اسرائیلیوں کے لئے لازم ہے کہ وہ نسل در نسل اِس رات رب کی تعظیم میں جاگتے رہیں، وہ بھی اور اُن کے بعد کی اولاد بھی۔ +K0+K 2تمام اسرائیلیوں نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا تھا۔yJm 1یہی اصول ہر ایک پر لاگو ہو گا، خواہ وہ اسرائیلی ہو یا پردیسی۔“8Ik 0اگر کوئی پردیسی تمہارے ساتھ رہتا ہے جو فسح کی عید میں شرکت کرنا چاہے تو لازم ہے کہ پہلے اُس کے گھرانے کے ہر مرد کا ختنہ کیا جائے۔ تب وہ اسرائیلی کی طرح کھانے میں شریک ہو سکتا ہے۔ لیکن جس کا ختنہ نہ ہوا اُسے فسح کا کھانا کھانے کی اجازت نہیں ہے۔\H3 /لازم ہے کہ اسرائیل کی پوری جماعت یہ عید منائے۔1G] .یہ کھانا ایک ہی گھر کے اندر کھانا ہے۔ نہ گوشت گھر سے باہر لے جانا، نہ لیلے کی کسی ہڈی کو توڑنا۔ k?[XaP= آج ہی ابیب کے مہینے میں تم مصر سے روانہ ہو رہے ہو۔Oy پھر موسیٰ نے لوگوں سے کہا، ”اِس دن کو یاد رکھو جب تم رب کی عظیم قدرت کے باعث مصر کی غلامی سے نکلے۔ اِس دن کوئی چیز نہ کھانا جس میں خمیر ہو۔`N; ”اسرائیلیوں کے ہر پہلوٹھے کو میرے لئے مخصوص و مُقدّس کرنا ہے۔ ہر پہلا نر بچہ میرا ہی ہے، خواہ انسان کا ہو یا حیوان کا۔“)M Q رب نے موسیٰ سے کہا،L 3اُسی دن رب تمام اسرائیلیوں کو خاندانوں کی ترتیب کے مطابق مصر سے نکال لایا۔ 9D9TT# اُس دن اپنے بیٹے سے یہ کہو، ’مَیں یہ عید اُس کام کی خوشی میں مناتا ہوں جو رب نے میرے لئے کیا جب مَیں مصر سے نکلا۔‘5Se سات دن خمیری روٹی نہ کھانا۔ کہیں بھی خمیر نہ پایا جائے۔ پورے ملک میں خمیر کا نام و نشان تک نہ ہو۔wRi سات دن بےخمیری روٹی کھاؤ۔ ساتویں دن رب کی تعظیم میں عید مناؤ۔8Qk رب نے تمہارے باپ دادا سے قَسم کھا کر وعدہ کیا ہے کہ وہ تم کو کنعانی، حِتّی، اموری، حِوّی اور یبوسی قوموں کا ملک دے گا، ایک ایسا ملک جس میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔ جب رب تمہیں اُس ملک میں پہنچا دے گا تو لازم ہے کہ تم اِسی مہینے میں یہ رسم مناؤ۔ bX? لازم ہے کہ وہاں پہنچ کر تم اپنے تمام پہلوٹھوں کو رب کے لئے مخصوص کرو۔ تمہارے مویشیوں کے تمام پہلوٹھے بھی رب کی ملکیت ہیں۔FW رب تمہیں کنعانیوں کے اُس ملک میں لے جائے گا جس کا وعدہ اُس نے قَسم کھا کر تم اور تمہارے باپ دادا سے کیا ہے۔NV اِس دن کی یاد ہر سال ٹھیک وقت پر منانا۔,US یہ عید تمہارے ہاتھ یا پیشانی پر نشان کی مانند ہو جو تمہیں یاد دلائے کہ رب کی شریعت کو تمہارے ہونٹوں پر رہنا ہے۔ کیونکہ رب تمہیں اپنی عظیم قدرت سے مصر سے نکال لایا۔ w[i جب فرعون نے اکڑ کر ہمیں جانے نہ دیا تو رب نے مصر کے تمام انسانوں اور حیوانوں کے پہلوٹھوں کو مار ڈالا۔ اِس وجہ سے مَیں اپنے جانوروں کا ہر پہلا بچہ رب کو قربان کرتا اور اپنے ہر پہلوٹھے کے لئے عوضی دیتا ہوں۔‘wZi آنے والے دنوں میں جب تمہارا بیٹا پوچھے کہ اِس کا کیا مطلب ہے تو اُسے جواب دینا، ’رب اپنی عظیم قدرت سے ہمیں مصر کی غلامی سے نکال لایا۔tYc اگر تم اپنا پہلوٹھا گدھا خود رکھنا چاہو تو رب کو اُس کے بدلے بھیڑ یا بکری کا بچہ پیش کرو۔ لیکن اگر تم اُسے رکھنا نہیں چاہتے تو اُس کی گردن توڑ ڈالو۔ لیکن انسان کے پہلوٹھوں کے لئے ہر صورت میں عوضی دینا ہے۔ (l^S اِس لئے اللہ اُنہیں دوسرے راستے سے لے کر گیا، اور وہ ریگستان کے راستے سے بحرِ قُلزم کی طرف بڑھے۔ مصر سے نکلتے وقت مرد مسلح تھے۔"]? جب فرعون نے اسرائیلی قوم کو جانے دیا تو اللہ اُنہیں فلستیوں کے علاقے میں سے گزرنے والے راستے سے لے کر نہ گیا، اگرچہ اُس پر چلتے ہوئے وہ جلد ہی ملکِ کنعان پہنچ جاتے۔ بلکہ رب نے کہا، ”اگر اُس راستے پر چلیں گے تو اُنہیں دوسروں سے لڑنا پڑے گا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اِس وجہ سے اپنا ارادہ بدل کر مصر لوٹ جائیں۔“T\# یہ دستور تمہارے ہاتھ اور پیشانی پر نشان کی مانند ہو جو تمہیں یاد دلائے کہ رب ہمیں اپنی قدرت سے مصر سے نکال لایا۔“ 7ai رب اُن کے آگے آگے چلتا گیا، دن کے وقت بادل کے ستون میں تاکہ اُنہیں راستے کا پتا لگے اور رات کے وقت آگ کے ستون میں تاکہ اُنہیں روشنی ملے۔ یوں وہ دن اور رات سفر کر سکتے تھے۔)`M اسرائیلیوں نے سُکات کو چھوڑ کر ایتام میں اپنے خیمے لگائے۔ ایتام ریگستان کے کنارے پر تھا۔g_I موسیٰ یوسف کا تابوت بھی اپنے ساتھ لے گیا، کیونکہ یوسف نے اسرائیلیوں کو قَسم دلا کر کہا تھا، ”اللہ یقیناً تمہاری دیکھ بھال کر کے وہاں لے جائے گا۔ اُس وقت میری ہڈیوں کو بھی اُٹھا کر ساتھ لے جانا۔“ E^e7یہ دیکھ کر فر عون سمجھے گا کہ اسرائیلی راستہ بھول کر آوارہ پھر رہے ہیں اور کہ ریگستان نے چاروں طرف اُنہیں گھیر رکھا ہے۔d”اسرائیلیوں کو کہہ دینا کہ وہ پیچھے مُڑ کر مجدال اور سمندر کے بیچ یعنی فی ہخیروت کے نزدیک رُک جائیں۔ وہ بعل صفون کے مقابل ساحل پر اپنے خیمے لگائیں۔.c [تب رب نے موسیٰ سے کہا،7bi دن کے وقت بادل کا ستون اور رات کے وقت آگ کا ستون اُن کے سامنے رہا۔ وہ کبھی بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹا۔ h چنانچہ بادشاہ نے اپنا جنگی رتھ تیار کروایا اور اپنی فوج کو لے کر نکلا۔ugeجب مصر کے بادشاہ کو اطلاع دی گئی کہ اسرائیلی ہجرت کر گئے ہیں تو اُس نے اور اُس کے درباریوں نے اپنا خیال بدل کر کہا، ”ہم نے کیا کِیا ہے؟ ہم نے اُنہیں جانے دیا ہے، اور اب ہم اُن کی خدمت سے محروم ہو گئے ہیں۔“sfaپھر مَیں فرعون کو دوبارہ اَڑ جانے دوں گا، اور وہ اسرائیلیوں کا پیچھا کرے گا۔ لیکن مَیں فرعون اور اُس کی پوری فوج پر اپنا جلال ظاہر کروں گا۔ مصری جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔“ اسرائیلیوں نے ایسا ہی کیا۔ GMhlK جب اسرائیلیوں نے فرعون اور اُس کی فوج کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا تو وہ سخت گھبرا گئے اور مدد کے لئے رب کے سامنے چیخنے چلانے لگے۔Ck اسرائیلیوں کا پیچھا کرتے کرتے فرعون کے تمام گھوڑے، رتھ، سوار اور فوجی اُن کے قریب پہنچے۔ اسرائیلی بحرِ قُلزم کے ساحل پر بعل صفون کے مقابل فی ہخیروت کے نزدیک خیمے لگا چکے تھے۔vjgرب نے مصر کے بادشاہ فرعون کو دوبارہ اَڑ جانے دیا تھا، اِس لئے جب اسرائیلی بڑے اختیار کے ساتھ نکل رہے تھے تو وہ اُن کا تعاقب کرنے لگا۔5ieوہ 600 بہترین قسم کے رتھ اور مصر کے باقی تمام رتھوں کو ساتھ لے گیا۔ تمام رتھوں پر افسران مقرر تھے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0:EP[fq|  P  Q  R  S  T  U  V  W    P  Q  R  S  T  U  V  W  X  Y  Z  [  \  ]  ^  _  `  a  b  c d e f g h i j  k  l  m  n  o p q r s t u v w x y z { | } ~                             AAYp-رب تمہارے لئے لڑے گا۔ تمہیں بس، چپ رہنا ہے۔“ o لیکن موسیٰ نے جواب دیا، ”مت گھبراؤ۔ آرام سے کھڑے رہو اور دیکھو کہ رب تمہیں آج کس طرح بچائے گا۔ آج کے بعد تم اِن مصریوں کو پھر کبھی نہیں دیکھو گے۔Ln کیا ہم نے مصر میں آپ سے درخواست نہیں کی تھی کہ مہربانی کر کے ہمیں چھوڑ دیں، ہمیں مصریوں کی خدمت کرنے دیں؟ یہاں آ کر ریگستان میں مر جانے کی نسبت بہتر ہوتا کہ ہم مصریوں کے غلام رہتے۔“my اُنہوں نے موسیٰ سے کہا، ”کیا مصر میں قبروں کی کمی تھی کہ آپ ہمیں ریگستان میں لے آئے ہیں؟ ہمیں مصر سے نکال کر آپ نے ہمارے ساتھ کیا کِیا ہے؟ yOoJyMtجب مَیں فرعون، اُس کے رتھوں اور اُس کے سواروں پر اپنا جلال ظاہر کروں گا تو مصری جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔“!s=مَیں مصریوں کو اَڑے رہنے دوں گا تاکہ وہ اسرائیلیوں کا پیچھا کریں۔ پھر مَیں فرعون، اُس کی ساری فوج، اُس کے رتھوں اور اُس کے سواروں پر اپنا جلال ظاہر کروں گا۔\r3اپنی لاٹھی کو پکڑ کر اُسے سمندر کے اوپر اُٹھا تو وہ دو حصوں میں بٹ جائے گا۔ اسرائیلی خشک زمین پرسمندر میں سے گزریں گے۔-qUپھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”تُو میرے سامنے کیوں چیخ رہا ہے؟ اسرائیلیوں کو آگے بڑھنے کا حکم دے۔ _@w{موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر اُٹھایا تو رب نے مشرق سے تیز آندھی چلائی۔ آندھی تمام رات چلتی رہی۔ اُس نے سمندر کو پیچھے ہٹا کر اُس کی تہہ خشک کر دی۔ سمندر دو حصوں میں بٹ گیاtvcاِس طرح بادل مصریوں اور اسرائیلیوں کے لشکروں کے درمیان آ گیا۔ پوری رات مصریوں کی طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا جبکہ اسرائیلیوں کی طرف روشنی تھی۔ اِس لئے مصری پوری رات کے دوران اسرائیلیوں کے قریب نہ آ سکے۔%uEاللہ کا فرشتہ اسرائیلی لشکر کے آگے آگے چل رہا تھا۔ اب وہ وہاں سے ہٹ کر اُن کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ بادل کا ستون بھی لوگوں کے آگے سے ہٹ کر اُن کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔ .j3{aاُن کے رتھوں کے پہئے نکل گئے تو اُن پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ مصریوں نے کہا، ”آؤ، ہم اسرائیلیوں سے بھاگ جائیں، کیونکہ رب اُن کے ساتھ ہے۔ وہی مصر کا مقابلہ کر رہا ہے۔“,zSصبح سویرے ہی رب نے بادل اور آگ کے ستون سے مصر کی فوج پر نگاہ کی اور اُس میں ابتری پیدا کر دی۔@y{جب مصریوں کو پتا چلا تو فرعون کے تمام گھوڑے، رتھ اور گھڑسوار بھی اُن کے پیچھے پیچھے سمندر میں چلے گئے۔Nxتو اسرائیلی سمندر میں سے خشک زمین پر چلتے ہوئے گزر گئے۔ اُن کے دائیں اور بائیں طرف پانی دیوار کی طرح کھڑا رہا۔ ~9پانی واپس آ گیا۔ اُس نے رتھوں اور گھڑسواروں کو ڈھانک لیا۔ فرعون کی پوری فوج جو اسرائیلیوں کا تعاقب کر رہی تھی ڈوب کر تباہ ہو گئی۔ اُن میں سے ایک بھی نہ بچا۔Q}موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر اُٹھایا تو دن نکلتے وقت پانی معمول کے مطابق بہنے لگا، اور جس طرف مصری بھاگ رہے تھے وہاں پانی ہی پانی تھا۔ یوں رب نے اُنہیں سمندر میں بہا کر غرق کر دیا۔g|Iتب رب نے موسیٰ سے کہا، ”اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر اُٹھا۔ پھر پانی واپس آ کر مصریوں، اُن کے رتھوں اور گھڑسواروں کو ڈبو دے گا۔“ NA}N+ Sتب موسیٰ اور اسرائیلیوں نے رب کے لئے یہ گیت گایا، ”مَیں رب کی تمجید میں گیت گاؤں گا، کیونکہ وہ نہایت عظیم ہے۔ گھوڑے اور اُس کے سوار کو اُس نے سمندر میں پٹخ دیا ہے۔1جب اسرائیلیوں نے رب کی یہ عظیم قدرت دیکھی جو اُس نے مصریوں پر ظاہر کی تھی تو رب کا خوف اُن پر چھا گیا۔ وہ اُس پر اور اُس کے خادم موسیٰ پر اعتماد کرنے لگے۔ !=اُس دن رب نے اسرائیلیوں کو مصریوں سے بچایا۔ مصریوں کی لاشیں اُنہیں ساحل پر نظر آئیں۔;qلیکن اسرائیلی خشک زمین پر سمندر میں سے گزرے۔ اُن کے دائیں اور بائیں طرف پانی دیوار کی طرح کھڑا رہا۔ LI اے رب، تیرے دہنے ہاتھ کا جلال بڑی قدرت سے ظاہر ہوتا ہے۔ اے رب، تیرا دہنا ہاتھ دشمن کو چِکنا چُور کر دیتا ہے۔گہرے پانی نے اُنہیں ڈھانک لیا، اور وہ پتھر کی طرح سمندر کی تہہ تک اُتر گئے۔>wفرعون کے رتھوں اور فوج کو اُس نے سمندر میں پٹخ دیا تو بادشاہ کے بہترین افسران بحرِ قُلزم میں ڈوب گئے۔=wرب سورما ہے، رب اُس کا نام ہے۔1رب میری قوت اور میرا گیت ہے، وہ میری نجات بن گیا ہے۔ وہی میرا خدا ہے، اور مَیں اُس کی تعریف کروں گا۔ وہی میرے باپ کا خدا ہے، اور مَیں اُس کی تعظیم کروں گا۔ e E دشمن نے ڈینگ مار کر کہا، ’مَیں اُن کا پیچھا کر کے اُنہیں پکڑ لوں گا، مَیں اُن کا لُوٹا ہوا مال تقسیم کروں گا۔ میری لالچی جان اُن سے سیر ہو جائے گی، مَیں اپنی تلوار کھینچ کر اُنہیں ہلاک کروں گا۔‘^ 7تُو نے غصے میں آ کر پھونک ماری تو پانی ڈھیر کی صورت میں جمع ہو گیا۔ بہتا پانی ٹھوس دیوار بن گیا، سمندر گہرائی تک جم گیا۔-جو تیرے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اُنہیں تُو اپنی عظمت کا اظہار کر کے زمین پر پٹخ دیتا ہے۔ تیرا غضب اُن پر آن پڑتا ہے تو وہ آگ میں بھوسے کی طرح جل جاتے ہیں۔ 91 یہ سن کر دیگر قومیں کانپ اُٹھیِں، فلستی ڈر کے مارے پیچ و تاب کھانے لگے۔  اپنی شفقت سے تُو نے عوضانہ دے کر اپنی قوم کو چھٹکارا دیا اور اُس کی راہنمائی کی ہے، اپنی قدرت سے تُو نے اُسے اپنی مُقدّس سکونت گاہ تک پہنچایا ہے۔y m تُو نے اپنا دہنا ہاتھ اُٹھایا تو زمین ہمارے دشمنوں کو نگل گئی۔  اے رب، کون سا معبود تیری مانند ہے؟ کون تیری طرح جلالی اور قدوس ہے؟ کون تیری طرح حیرت انگیز کام کرتا اور عظیم معجزے دکھاتا ہے؟ کوئی بھی نہیں۔C  لیکن تُو نے اُن پر پھونک ماری تو سمندر نے اُنہیں ڈھانک لیا، اور وہ سیسے کی طرح زوردار موجوں میں ڈوب گئے۔ G.Yرب ابد تک بادشاہ ہے!“;qاے رب، تُو اپنے لوگوں کو لے کر پودوں کی طرح اپنے موروثی پہاڑ پر لگائے گا، اُس جگہ پر جو تُو نے اپنی سکونت کے لئے چن لی ہے، جہاں تُو نے اپنے ہاتھوں سے اپنا مقدِس تیار کیا ہے۔<sدہشت اور خوف اُن پر چھا گیا۔ تیری عظیم قدرت کے باعث وہ پتھر کی طرح جم گئے۔ اے رب، وہ نہ ہلے جب تک تیری قوم گزر نہ گئی۔ وہ بےحس و حرکت رہے جب تک تیری خریدی ہوئی قوم گزر نہ گئی۔5eادوم کے رئیس سہم گئے، موآب کے راہنما پر کپکپی طاری ہو گئی، اور کنعان کے تمام باشندے ہمت ہار گئے۔ F”رب کی تمجید میں گیت گاؤ، کیونکہ وہ نہایت عظیم ہے۔ گھوڑے اور اُس کے سوار کو اُس نے سمندر میں پٹخ دیا ہے۔“"?تب ہارون کی بہن مریم جو نبیہ تھی نے دف لیا، اور باقی تمام عورتیں بھی دف لے کر اُس کے پیچھے ہو لیں۔ سب گانے اور ناچنے لگیں۔ مریم نے یہ گا کر اُن کی راہنمائی کی، جب فرعون کے گھوڑے، رتھ اور گھڑسوار سمندر میں چلے گئے تو رب نے اُنہیں سمندر کے پانی سے ڈھانک لیا۔ لیکن اسرائیلی خشک زمین پر سمندر میں سے گزر گئے۔ :7:|sموسیٰ نے مدد کے لئے رب سے التجا کی تو اُس نے اُسے لکڑی کا ایک ٹکڑا دکھایا۔ جب موسیٰ نے یہ لکڑی پانی میں ڈالی تو پانی کی کڑواہٹ ختم ہو گئی۔ مارہ میں رب نے اپنی قوم کو قوانین دیئے۔ وہاں اُس نے اُنہیں آزمایا بھی۔zoیہ دیکھ کر لوگ موسیٰ کے خلاف بڑبڑا کر کہنے لگے، ”ہم کیا پئیں؟“G آخرکار وہ مارہ پہنچے جہاں پانی دست یاب تھا۔ لیکن وہ کڑوا تھا، اِس لئے مقام کا نام مارہ یعنی کڑواہٹ پڑ گیا۔zoموسیٰ کے کہنے پر اسرائیلی بحرِ قُلزم سے روانہ ہو کر دشتِ شور میں چلے گئے۔ وہاں وہ تین دن تک سفر کرتے رہے۔ اِس دوران اُنہیں پانی نہ ملا۔ -;X-' Kاِس کے بعد اسرائیل کی پوری جماعت ایلیم سے سفر کر کے صین کے ریگستان میں پہنچی جو ایلیم اور سینا کے درمیان ہے۔ وہ مصر سے نکلنے کے بعد دوسرے مہینے کے 15ویں دن پہنچے۔_9پھر اسرائیلی روانہ ہو کر ایلیم پہنچے جہاں 12 چشمے اور کھجور کے 70 درخت تھے۔ وہاں اُنہوں نے پانی کے قریب اپنے خیمے لگائے۔ A}اُس نے کہا، ”غور سے رب اپنے خدا کی آواز سنو! جو کچھ اُس کی نظر میں درست ہے وہی کرو۔ اُس کے احکام پر دھیان دو اور اُس کی تمام ہدایات پر عمل کرو۔ پھر مَیں تم پر وہ بیماریاں نہیں لاؤں گا جو مصریوں پر لایا تھا، کیونکہ مَیں رب ہوں جو تجھے شفا دیتا ہوں۔“ >j Oتب رب نے موسیٰ سے کہا، ”مَیں آسمان سے تمہارے لئے روٹی برساؤں گا۔ ہر روز لوگ باہر جا کر اُسی دن کی ضرورت کے مطابق کھانا جمع کریں۔ اِس سے مَیں اُنہیں آزما کر دیکھوں گا کہ آیا وہ میری سنتے ہیں کہ نہیں۔Cاُنہوں نے کہا، ”کاش رب ہمیں مصر میں ہی مار ڈالتا! وہاں ہم کم از کم جی بھر کر گوشت اور روٹی تو کھا سکتے تھے۔ آپ ہمیں صرف اِس لئے ریگستان میں لے آئے ہیں کہ ہم سب بھوکوں مر جائیں۔“xkریگستان میں تمام لوگ پھر موسیٰ اور ہارون کے خلاف بڑبڑانے لگے۔ #@I#"$?پھر بھی رب تم کو شام کے وقت گوشت اور صبح کے وقت وافر روٹی دے گا، کیونکہ اُس نے تمہاری شکایتیں سن لی ہیں۔ تمہاری شکایتیں ہمارے خلاف نہیں بلکہ رب کے خلاف ہیں۔“s#aاور کل صبح تم رب کا جلال دیکھو گے۔ اُس نے تمہاری شکایتیں سن لی ہیں، کیونکہ اصل میں تم ہمارے خلاف نہیں بلکہ رب کے خلاف بڑ بڑا رہے ہو۔6"gموسیٰ اور ہارون نے اسرائیلیوں سے کہا، ”آج شام کو تم جان لو گے کہ رب ہی تمہیں مصر سے نکال لایا ہے۔!ہر روز وہ صرف اُتنا کھانا جمع کریں جتنا کہ ایک دن کے لئے کافی ہو۔ لیکن چھٹے دن جب وہ کھانا تیار کریں گے تو وہ اگلے دن کے لئے بھی کافی ہو گا۔“ $F9)m اُسی شام بٹیروں کے غول آئے جو پوری خیمہ گاہ پر چھا گئے۔ اور اگلی صبح خیمے کے چاروں طرف اوس پڑی تھی۔>(w ”مَیں نے اسرائیلیوں کی شکایت سن لی ہے۔ اُنہیں بتا، ’آج جب سورج غروب ہونے لگے گا تو تم گوشت کھاؤ گے اور کل صبح پیٹ بھر کر روٹی۔ پھر تم جان لو گے کہ مَیں رب تمہارا خدا ہوں‘۔“*'Q رب نے موسیٰ سے کہا،Z&/ جب ہارون پوری جماعت کے سامنے بات کرنے لگا تو لوگوں نے پلٹ کر ریگستان کی طرف دیکھا۔ وہاں رب کا جلال بادل میں ظاہر ہوا۔X%+ موسیٰ نے ہارون سے کہا، ”اسرائیلیوں کو بتانا، ’رب کے سامنے حاضر ہو جاؤ، کیونکہ اُس نے تمہاری شکایتیں سن لی ہیں‘۔“ nx-kاسرائیلیوں نے ایسا ہی کیا۔ بعض نے زیادہ اور بعض نے کم جمع کیا۔S,!رب کا حکم ہے کہ ہر ایک اُتنا جمع کرے جتنا اُس کے خاندان کو ضرورت ہو۔ اپنے خاندان کے ہر فرد کے لئے دو لٹر جمع کرو۔“v+gجب اسرائیلیوں نے اُسے دیکھا تو ایک دوسرے سے پوچھنے لگے، ”مَن ہُو؟“ یعنی ”یہ کیا ہے؟“ کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ کیا چیز ہے۔ موسیٰ نے اُن کو سمجھایا، ”یہ وہ روٹی ہے جو رب نے تمہیں کھانے کے لئے دی ہے۔*جب اوس سوکھ گئی تو برف کے گالوں جیسے پتلے دانے پالے کی طرح زمین پر پڑے تھے۔ ;,;m1Uہر صبح ہر کوئی اُتنا جمع کر لیتا جتنی اُسے ضرورت ہوتی تھی۔ جب دھوپ تیز ہوتی تو جو کچھ زمین پر رہ جاتا وہ پگھل کر ختم ہو جاتا تھا۔R0لیکن لوگوں نے موسیٰ کی بات نہ مانی بلکہ بعض نے کھانا بچا لیا۔ لیکن اگلی صبح معلوم ہوا کہ بچے ہوئے کھانے میں کیڑے پڑ گئے ہیں اور اُس سے بہت بدبو آ رہی ہے۔ یہ سن کر موسیٰ اُن سے ناراض ہوا۔e/Eموسیٰ نے حکم دیا، ”اگلے دن کے لئے کھانا نہ بچانا۔“.لیکن جب اُسے ناپا گیا تو ہر ایک آدمی کے لئے کافی تھا۔ جس نے زیادہ جمع کیا تھا اُس کے پاس کچھ نہ بچا۔ لیکن جس نے کم جمع کیا تھا اُس کے پاس بھی کافی تھا۔ E  "-8CNYcny)4?JU`kv%0;FQ\gr}                                                         ! " # $                                    bL4لوگوں نے موسیٰ کے حکم کے مطابق اگلے دن کے لئے کھانا محفوظ کر لیا تو نہ کھانے سے بدبو آئی، نہ اُس میں کیڑے پڑے۔ 3تو اُس نے اُن سے کہا، ”رب کا فرمان ہے کہ کل آرام کا دن ہے، مُقدّس سبت کا دن جو اللہ کی تعظیم میں منانا ہے۔ آج تم جو تنور میں پکانا چاہتے ہو پکا لو اور جو اُبالنا چاہتے ہو اُبال لو۔ جو بچ جائے اُسے کل کے لئے محفوظ رکھو۔“ 2 چھٹے دن جب لوگ یہ خوراک جمع کرتے تو وہ مقدار میں دُگنی ہوتی تھی یعنی ہر فرد کے لئے چار لٹر۔ جب جماعت کے بزرگوں نے موسیٰ کے پاس آ کر اُسے اطلاع دی  G$8Cتب رب نے موسیٰ سے کہا، ”تم لوگ کب تک میرے احکام اور ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کرو گے؟ 7توبھی کچھ لوگ ہفتے کو کھانا جمع کرنے کے لئے نکلے، لیکن اُنہیں کچھ نہ ملا۔>6wچھ دن یہ خوراک جمع کرنا ہے، لیکن ساتواں دن آرام کا دن ہے۔ اُس دن زمین پر کھانے کے لئے کچھ نہیں ہو گا۔“s5aموسیٰ نے کہا، ”آج یہی بچا ہوا کھانا کھاؤ، کیونکہ آج سبت کا دن ہے، رب کی تعظیم میں آرام کا دن۔ آج تمہیں ریگستان میں کچھ نہیں ملے گا۔ kXki;Mاسرائیلیوں نے اِس خوراک کا نام ’من‘ رکھا۔ اُس کے دانے دھنئے کی مانند سفید تھے، اور اُس کا ذائقہ شہد سے بنے کیک کی مانند تھا۔H: چنانچہ لوگ سبت کے دن آرام کرتے تھے۔Y9-دیکھو، رب نے تمہارے لئے مقرر کیا ہے کہ سبت کا دن آرام کا دن ہے۔ اِس لئے وہ تمہیں جمعہ کو دو دن کے لئے خوراک دیتا ہے۔ ہفتے کو سب کو اپنے خیموں میں رہنا ہے۔ کوئی بھی اپنے گھر سے باہر نہ نکلے۔“ ,,Q?#اسرائیلیوں کو 40 سال تک من ملتا رہا۔ وہ اُس وقت تک من کھاتے رہے جب تک ریگستان سے نکل کر کنعان کی سرحد پر نہ پہنچے۔0>["ہارون نے ایسا ہی کیا۔ اُس نے من کے اِس مرتبان کو عہد کے صندوق کے سامنے رکھا تاکہ وہ محفوظ رہے۔i=M!موسیٰ نے ہارون سے کہا، ”ایک مرتبان لو اور اُسے دو لٹر من سے بھر کر رب کے سامنے رکھو تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رہے۔“Z</ موسیٰ نے کہا، ”رب فرماتا ہے، ’دو لٹر مَن ایک مرتبان میں رکھ کر اُسے آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رکھنا۔ پھر وہ دیکھ سکیں گے کہ مَیں تمہیں کیا کھانا کھلاتا رہا جب تمہیں مصر سے نکال لایا‘۔“ M Bاِس لئے وہ موسیٰ کے ساتھ یہ کہہ کر جھگڑنے لگے، ”ہمیں پینے کے لئے پانی دو۔“ موسیٰ نے جواب دیا، ”تم مجھ سے کیوں جھگڑ رہے ہو؟ رب کو کیوں آزما رہے ہو؟“=A wپھر اسرائیل کی پوری جماعت صین کے ریگستان سے نکلی۔ رب جس طرح حکم دیتا رہا وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے رہے۔ رفیدیم میں اُنہوں نے خیمے لگائے۔ وہاں پینے کے لئے پانی نہ ملا۔/@Y$(جو پیمانہ اسرائیلی من کے لئے استعمال کرتے تھے وہ دو لٹر کا ایک برتن تھا جس کا نام عومر تھا۔) aE=رب نے موسیٰ سے کہا، ”کچھ بزرگ ساتھ لے کر لوگوں کے آگے آگے چل۔ وہ لاٹھی بھی ساتھ لے جا جس سے تُو نے دریائے نیل کو مارا تھا۔jDOتب موسیٰ نے رب کے حضور فریاد کی، ”مَیں اِن لوگوں کے ساتھ کیا کروں؟ حالات ذرا بھی اَور بگڑ جائیں تو وہ مجھے سنگسار کر دیں گے۔“0C[لیکن لوگ بہت پیاسے تھے۔ وہ موسیٰ کے خلاف بڑبڑانے سے باز نہ آئے بلکہ کہا، ”آپ ہمیں مصر سے کیوں لائے ہیں؟ کیا اِس لئے کہ ہم اپنے بچوں اور ریوڑوں سمیت پیاسے مر جائیں؟“   sHaرفیدیم وہ جگہ بھی تھی جہاں عمالیقی اسرائیلیوں سے لڑنے آئے۔/GYاُس نے اُس جگہ کا نام ’مسّہ اور مریبہ‘ یعنی ’آزمانا اور جھگڑنا‘ رکھا، کیونکہ وہاں اسرائیلی بڑبڑائے اور یہ پوچھ کر رب کو آزمایا کہ کیا رب ہمارے درمیان ہے کہ نہیں؟IF مَیں حورب یعنی سینا پہاڑ کی ایک چٹان پر تیرے سامنے کھڑا ہوں گا۔ لاٹھی سے چٹان کو مارنا تو اُس سے پانی نکلے گا اور لوگ پی سکیں گے۔“ موسیٰ نے اسرائیل کے بزرگوں کے سامنے ایسا ہی کیا۔ GGRK اور یوں ہوا کہ جب موسیٰ کے ہاتھ اُٹھائے ہوئے تھے تو اسرائیلی جیتتے رہے، اور جب وہ نیچے تھے تو عمالیقی جیتتے رہے۔?Jy یشوع موسیٰ کی ہدایت کے مطابق عمالیقیوں سے لڑنے گیا جبکہ موسیٰ، ہارون اور حور پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے۔I3 موسیٰ نے یشوع سے کہا، ”لڑنے کے قابل آدمیوں کو چن لو اور نکل کر عمالیقیوں کا مقابلہ کرو۔ کل مَیں اللہ کی لاٹھی پکڑے ہوئے پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہو جاؤں گا۔“ GOاُس وقت موسیٰ نے قربان گاہ بنا کر اُس کا نام ’رب میرا جھنڈا ہے‘ رکھا۔,NSتب رب نے موسیٰ سے کہا، ”یہ واقعہ یادگاری کے لئے کتاب میں لکھ لے۔ لازم ہے کہ یہ سب کچھ یشوع کی یاد میں رہے، کیونکہ مَیں دنیا سے عمالیقیوں کا نام و نشان مٹا دوں گا۔“kMQ اِس طرح یشوع نے عمالیقیوں سے لڑتے لڑتے اُنہیں شکست دی۔5Le کچھ دیر کے بعد موسیٰ کے بازو تھک گئے۔ اِس لئے ہارون اور حور ایک چٹان لے آئے تاکہ وہ اُس پر بیٹھ جائے۔ پھر اُنہوں نے اُس کے دائیں اور بائیں طرف کھڑے ہو کر اُس کے بازوؤں کو اوپر اُٹھائے رکھا۔ سورج کے غروب ہونے تک اُنہوں نے یوں موسیٰ کی مدد کی۔ Q=3Q^R7تو وہ موسیٰ کے پاس آیا۔ وہ اُس کی بیوی صفورہ کو اپنے ساتھ لایا، کیونکہ موسیٰ نے اُسے اپنے بیٹوں سمیت میکے بھیج دیا تھا۔Q موسیٰ کا سُسر یترو اب تک مِدیان میں امام تھا۔ جب اُس نے سب کچھ سنا جو اللہ نے موسیٰ اور اپنی قوم کے لئے کیا ہے، کہ وہ اُنہیں مصر سے نکال لایا ہے?Pyاُس نے کہا، ”رب کے تخت کے خلاف ہاتھ اُٹھایا گیا ہے، اِس لئے رب کی عمالیقیوں سے ہمیشہ تک جنگ رہے گی۔“ qtqUyیترو موسیٰ کی بیوی اور بیٹے ساتھ لے کر اُس وقت موسیٰ کے پاس پہنچا جب اُس نے ریگستان میں اللہ کے پہاڑ یعنی سینا کے قریب خیمہ لگایا ہوا تھا۔:Toدوسرے بیٹے کا نام اِلی عزر یعنی ’میرا خدا مددگار ہے‘ تھا، کیونکہ جب وہ پیدا ہوا تو موسیٰ نے کہا تھا، ”میرے باپ کے خدا نے میری مدد کر کے مجھے فرعون کی تلوار سے بچایا ہے۔“JSیترو موسیٰ کے دونوں بیٹوں کو بھی ساتھ لایا۔ پہلے بیٹے کا نام جیرسوم یعنی ’اجنبی ملک میں پردیسی‘ تھا، کیونکہ جب وہ پیدا ہوا تو موسیٰ نے کہا تھا، ”مَیں اجنبی ملک میں پردیسی ہوں۔“ &%ZX/موسیٰ نے یترو کو تفصیل سے بتایا کہ رب نے اسرائیلیوں کی خاطر فرعون اور مصریوں کے ساتھ کیا کچھ کیا ہے۔ اُس نے راستے میں پیش آئی تمام مشکلات کا ذکر بھی کیا کہ رب نے ہمیں کس طرح اُن سے بچایا ہے۔}Wuموسیٰ اپنے سُسر کے استقبال کے لئے باہر نکلا، اُس کے سامنے جھکا اور اُسے بوسہ دیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کا حال پوچھا، پھر خیمے میں چلے گئے۔VV'اُس نے موسیٰ کو پیغام بھیجا تھا، ”مَیں، آپ کا سُسر یترو آپ کی بیوی اور دو بیٹوں کو ساتھ لے کر آپ کے پاس آ رہا ہوں۔“of\flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|26:>BFKPTX[^aeh26:>BFKPTX[^aehlptw{~  $)-1 4 8 ; ?BEHKORUX[^behlpsv!y"}#$% &'()*"+%,(-,.0/3071:2>4A5D6F7H8J9L:O;R`?e@jAmBpCsDwEzF~GIJK LMNOPQR#S'T,U2V7W<X@YEZI  .'[I اب مَیں نے جان لیا ہے کہ رب تمام معبودوں سے عظیم ہے، کیونکہ اُس نے یہ سب کچھ اُن لوگوں کے ساتھ کیا جنہوں نے اپنے غرور میں اسرائیلیوں کے ساتھ بُرا سلوک کیا تھا۔“XZ+ اُس نے کہا، ”رب کی تمجید ہو جس نے آپ کو مصریوں اور فرعون کے قبضے سے نجات دلائی ہے۔ اُسی نے قوم کو غلامی سے چھڑایا ہے!rY_ یترو اُن سارے اچھے کاموں کے بارے میں سن کر خوش ہوا جو رب نے اسرائیلیوں کے لئے کئے تھے جب اُس نے اُنہیں مصریوں کے ہاتھ سے بچایا تھا۔ W^)جب یترو نے یہ سب کچھ دیکھا تو اُس نے پوچھا، ”یہ کیا ہے جو آپ لوگوں کے ساتھ کر رہے ہیں؟ سارا دن وہ آپ کو گھیرے رہتے اور آپ اُن کی عدالت کرتے رہتے ہیں۔ آپ یہ سب کچھ اکیلے ہی کیوں کر رہے ہیں؟“p][ اگلے دن موسیٰ لوگوں کا انصاف کرنے کے لئے بیٹھ گیا۔ اُن کی تعداد اِتنی زیادہ تھی کہ وہ صبح سے لے کر شام تک موسیٰ کے سامنے کھڑے رہے۔\7 پھر یترو نے اللہ کو بھسم ہونے والی قربانی اور دیگر کئی قربانیاں پیش کیں۔ تب ہارون اور تمام بزرگ موسیٰ کے سُسر یترو کے ساتھ اللہ کے حضور کھانا کھانے بیٹھے۔ 7|7Xb+کام اِتنا وسیع ہے کہ آپ اُسے اکیلے نہیں سنبھال سکتے۔ اِس سے آپ اور وہ لوگ جو آپ کے پاس آتے ہیں بُری طرح تھک جاتے ہیں۔laSموسیٰ کے سُسر نے اُس سے کہا، ”آپ کا طریقہ اچھا نہیں ہے۔v`gجب کبھی کوئی تنازع یا جھگڑا ہوتا ہے تو دونوں پارٹیاں میرے پاس آتی ہیں۔ مَیں فیصلہ کر کے اُنہیں اللہ کے احکام اور ہدایات بتاتا ہوں۔“_{موسیٰ نے جواب دیا، ”لوگ میرے پاس آ کر اللہ کی مرضی معلوم کرتے ہیں۔ keQلیکن ساتھ ساتھ قوم میں سے قابلِ اعتماد آدمی چنیں۔ وہ ایسے لوگ ہوں جو اللہ کا خوف مانتے ہوں، راست دل ہوں اور رشوت سے نفرت کرتے ہوں۔ اُنہیں ہزار ہزار، سَو سَو، پچاس پچاس اور دس دس آدمیوں پر مقرر کریں۔Gd یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اُنہیں اللہ کے احکام اور ہدایات سکھائیں، کہ وہ کس طرح زندگی گزاریں اور کیا کیا کریں۔*cOمیری بات سنیں! مَیں آپ کو ایک مشورہ دیتا ہوں۔ اللہ اُس میں آپ کی مدد کرے۔ لازم ہے کہ آپ اللہ کے سامنے قوم کے نمائندہ رہیں اور اُن کے معاملات اُس کے سامنے پیش کریں۔ IfhGموسیٰ نے اپنے سُسر کا مشورہ مان لیا اور ایسا ہی کیا۔2g_اگر میرا یہ مشورہ اللہ کی مرضی کے مطابق ہو اور آپ ایسا کریں تو آپ اپنی ذمہ داری نبھا سکیں گے اور یہ تمام لوگ انصاف کے ملنے پر سلامتی کے ساتھ اپنے اپنے گھر جا سکیں گے۔“3faاُن آدمیوں کی ذمہ داری یہ ہو گی کہ وہ ہر وقت لوگوں کا انصاف کریں۔ اگر کوئی بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہو تو وہ فیصلے کے لئے آپ کے پاس آئیں، لیکن دیگر معاملوں کا فیصلہ وہ خود کریں۔ یوں وہ کام میں آپ کا ہاتھ بٹائیں گے اور آپ کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔  &Ol اسرائیلیوں کو مصر سے سفر کرتے ہوئے دو مہینے ہو گئے تھے۔ تیسرے مہینے کے پہلے ہی دن وہ سینا کے ریگستان میں پہنچے۔kکچھ عرصے بعد موسیٰ نے اپنے سُسر کو رُخصت کیا تو یترو اپنے وطن واپس چلا گیا۔ vjgیہ مرد قاضی بن کر مستقل طور پر لوگوں کا انصاف کرنے لگے۔ آسان مسئلوں کا فیصلہ وہ خود کرتے اور مشکل معاملوں کو موسیٰ کے پاس لے آتے تھے۔\i3اُس نے اسرائیلیوں میں سے قابلِ اعتماد آدمی چنے اور اُنہیں ہزار ہزار، سَو سَو، پچاس پچاس اور دس دس آدمیوں پر مقرر کیا۔ >^x^p7چنانچہ اگر تم میری سنو اور میرے عہد کے مطابق چلو تو پھر تمام قوموں میں سے میری خاص ملکیت ہو گے۔ گو پوری دنیا میری ہی ہے،bo?’تم نے دیکھا ہے کہ مَیں نے مصریوں کے ساتھ کیا کچھ کیا، اور کہ مَیں تم کو عقاب کے پَروں پر اُٹھا کر یہاں اپنے پاس لایا ہوں۔\n3تب موسیٰ پہاڑ پر چڑھ کر اللہ کے پاس گیا۔ اللہ نے پہاڑ پر سے موسیٰ کو پکار کر کہا، ”یعقوب کے گھرانے بنی اسرائیل کو بتا،>mwاُس دن وہ رفیدیم کو چھوڑ کر دشتِ سینا میں آ پہنچے۔ وہاں اُنہوں نے ریگستان میں پہاڑ کے قریب ڈیرے ڈالے۔ Y2PYssaجواب میں پوری قوم نے مل کر کہا، ”ہم رب کی ہر بات پوری کریں گے جو اُس نے فرمائی ہے۔“ موسیٰ نے پہاڑ پر لوٹ کر رب کو قوم کا جواب بتایا۔^r7موسیٰ نے پہاڑ سے اُتر کر اور قوم کے بزرگوں کو بُلا کر اُنہیں وہ تمام باتیں بتائیں جو کہنے کے لئے رب نے اُسے حکم دیا تھا۔Jqلیکن تم میرے لئے مخصوص اماموں کی بادشاہی اور مُقدّس قوم ہو گے۔‘ اب جا کر یہ ساری باتیں اسرائیلیوں کو بتا۔“ w0v[ تیسرے دن کے لئے تیار ہو جائیں، کیونکہ اُس دن رب لوگوں کے دیکھتے دیکھتے کوہِ سینا پر اُترے گا۔Iu  رب نے موسیٰ سے کہا، ”اب لوگوں کے پاس لوٹ کر آج اور کل اُنہیں میرے لئے مخصوص و مُقدّس کر۔ وہ اپنے لباس دھو کرt جب وہ پہنچا تو رب نے موسیٰ سے کہا، ”مَیں گھنے بادل میں تیرے پاس آؤں گا تاکہ لوگ مجھے تجھ سے ہم کلام ہوتے ہوئے سنیں۔ پھر وہ ہمیشہ تجھ پر بھروسا رکھیں گے۔“ تب موسیٰ نے رب کو وہ تمام باتیں بتائیں جو لوگوں نے کی تھیں۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr}                                                                                                X5yeموسیٰ نے پہاڑ سے اُتر کر لوگوں کو اللہ کے لئے مخصوص و مُقدّس کیا۔ اُنہوں نے اپنے لباس بھی دھوئے۔gxI اور اُسے ہاتھ سے چھو کر نہیں مارنا ہے بلکہ پتھروں یا تیروں سے۔ خواہ انسان ہو یا حیوان، وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ جب تک نرسنگا دیر تک پھونکا نہ جائے اُس وقت تک لوگوں کو پہاڑ پر چڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔“9wm لوگوں کی حفاظت کے لئے چاروں طرف پہاڑ کی حدیں مقرر کر۔ اُنہیں خبردار کر کہ حدود کو پار نہ کرو۔ نہ پہاڑ پر چڑھو، نہ اُس کے دامن کو چھوؤ۔ جو بھی اُسے چھوئے وہ ضرور مارا جائے۔ ge\g#}Aسینا پہاڑ دھوئیں سے ڈھکا ہوا تھا، کیونکہ رب آگ میں اُس پر اُتر آیا۔ پہاڑ سے دھواں اِس طرح اُٹھ رہا تھا جیسے کسی بھٹے سے اُٹھتا ہے۔ پورا پہاڑ شدت سے لرزنے لگا۔J|تب موسیٰ لوگوں کو اللہ سے ملنے کے لئے خیمہ گاہ سے باہر پہاڑ کی طرف لے گیا، اور وہ پہاڑ کے دامن میں کھڑے ہوئے۔{تیسرے دن صبح پہاڑ پر گھنا بادل چھا گیا۔ بجلی چمکنے لگی، بادل گرجنے لگا اور نرسنگے کی نہایت زوردار آواز سنائی دی۔ خیمہ گاہ میں لوگ لرز اُٹھے۔z)اُس نے اُن سے کہا، ”تیسرے دن کے لئے تیار ہو جاؤ۔ مرد عورتوں سے ہم بستر نہ ہوں۔“ Cr4cامام بھی جو رب کے حضور آتے ہیں اپنے آپ کو مخصوص و مُقدّس کریں، ورنہ میرا غضب اُن پر ٹوٹ پڑے گا۔“1]رب نے موسیٰ سے کہا، ”فوراً نیچے اُتر کر لوگوں کو خبردار کر کہ وہ مجھے دیکھنے کے لئے پہاڑ کی حدود میں زبردستی داخل نہ ہوں۔ اگر وہ ایسا کریں تو بہت سے ہلاک ہو جائیں گے۔+رب سینا پہاڑ کی چوٹی پر اُترا اور موسیٰ کو اوپر آنے کے لئے کہا۔ موسیٰ اوپر چڑھا۔9~mنرسنگے کی آواز تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ موسیٰ بولنے لگا اور اللہ اُسے اونچی آواز میں جواب دیتا رہا۔ BYBS!میرے سوا کسی اَور معبود کی پرستش نہ کرنا۔wi”مَیں رب تیرا خدا ہوں جو تجھے ملکِ مصر کی غلامی سے نکال لایا۔D تب اللہ نے یہ تمام باتیں فرمائیں،lSموسیٰ نے لوگوں کے پاس اُتر کر اُنہیں یہ باتیں بتا دیں۔ %Eرب نے جواب دیا، ”توبھی اُتر جا اور ہارون کو ساتھ لے کر واپس آ۔ لیکن اماموں اور لوگوں کو مت آنے دے۔ اگر وہ زبردستی میرے پاس آئیں تو میرا غضب اُن پر ٹوٹ پڑے گا۔“ لیکن موسیٰ نے رب سے کہا، ”لوگ پہاڑ پر نہیں آ سکتے، کیونکہ تُو نے خود ہی ہمیں خبردار کیا کہ ہم پہاڑ کی حدیں مقرر کر کے اُسے مخصوص و مُقدّس کریں۔“ H: سبت کے دن کا خیال رکھنا۔ اُسے اِس طرح منانا کہ وہ مخصوص و مُقدّس ہو۔[ 1رب اپنے خدا کا نام بےمقصد یا غلط مقصد کے لئے استعمال نہ کرنا۔ جو بھی ایسا کرتا ہے اُسے رب سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑے گا۔7 iلیکن جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے احکام پورے کرتے ہیں اُن پر مَیں ہزار پشتوں تک مہربانی کروں گا۔ نہ بُتوں کی پرستش، نہ اُن کی خدمت کرنا، کیونکہ مَیں تیرا رب غیور خدا ہوں۔ جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں اُنہیں مَیں تیسری اور چوتھی پشت تک سزا دوں گا۔4cاپنے لئے بُت نہ بنانا۔ کسی بھی چیز کی مورت نہ بنانا، چاہے وہ آسمان میں، زمین پر یا سمندر میں ہو۔ ,6,F اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا۔ پھر تُو اُس ملک میں جو رب تیرا خدا تجھے دینے والا ہے دیر تک جیتا رہے گا۔<s کیونکہ رب نے پہلے چھ دن میں آسمان و زمین، سمندر اور جو کچھ اُن میں ہے بنایا لیکن ساتویں دن آرام کیا۔ اِس لئے رب نے سبت کے دن کو برکت دے کر مقرر کیا کہ وہ مخصوص اور مُقدّس ہو۔|s لیکن ساتواں دن رب تیرے خدا کا آرام کا دن ہے۔ اُس دن کسی طرح کا کام نہ کرنا۔ نہ تُو، نہ تیرا بیٹا، نہ تیری بیٹی، نہ تیرا نوکر، نہ تیری نوکرانی اور نہ تیرے مویشی۔ جو پردیسی تیرے درمیان رہتا ہے وہ بھی کام نہ کرے۔G   ہفتے کے پہلے چھ دن اپنا کام کاج کر، A9mجب باقی تمام لوگوں نے بادل کی گرج اور نرسنگے کی آواز سنی اور بجلی کی چمک اور پہاڑ سے اُٹھتے ہوئے دھوئیں کو دیکھا تو وہ خوف کے مارے کانپنے لگے اور پہاڑ سے دُور کھڑے ہو گئے۔:oاپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ نہ اُس کی بیوی کا، نہ اُس کے نوکر کا، نہ اُس کی نوکرانی کا، نہ اُس کے بَیل اور نہ اُس کے گدھے کا بلکہ اُس کی کسی بھی چیز کا لالچ نہ کرنا۔“W)اپنے پڑوسی کے بارے میں جھوٹی گواہی نہ دینا۔ =چوری نہ کرنا۔9زنا نہ کرنا۔9 قتل نہ کرنا۔ ?#!?چنانچہ میری پرستش کے ساتھ ساتھ اپنے لئے سونے یا چاندی کے بُت نہ بناؤ۔Lتب رب نے موسیٰ سے کہا، ”اسرائیلیوں کو بتا، ’تم نے خود دیکھا کہ مَیں نے آسمان پر سے تمہارے ساتھ باتیں کی ہیں۔لوگ دُور ہی رہے جبکہ موسیٰ اُس گہری تاریکی کے قریب گیا جہاں اللہ تھا۔~wلیکن موسیٰ نے اُن سے کہا، ”مت ڈرو، کیونکہ رب تمہیں جانچنے کے لئے آیا ہے، تاکہ اُس کا خوف تمہاری آنکھوں کے سامنے رہے اور تم گناہ نہ کرو۔“Y-اُنہوں نے موسیٰ سے کہا، ”آپ ہی ہم سے بات کریں تو ہم سنیں گے۔ لیکن اللہ کو ہم سے بات نہ کرنے دیں ورنہ ہم مر جائیں گے۔“ *Fقربان گاہ کو سیڑھیوں کے بغیر بنانا ہے تاکہ اُس پر چڑھنے سے تیرے لباس کے نیچے سے تیرا ننگاپن نظر نہ آئے۔‘ Cاگر تُو میرے لئے قربان گاہ بنانے کی خاطر پتھر استعمال کرنا چاہے تو تراشے ہوئے پتھر استعمال نہ کرنا۔ کیونکہ تُو تراشنے کے لئے استعمال ہونے والے اوزار سے اُس کی بےحرمتی کرے گا۔Rمیرے لئے مٹی کی قربان گاہ بنا کر اُس پر اپنی بھیڑبکریوں اور گائےبَیلوں کی بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں چڑھانا۔ مَیں تجھے وہ جگہیں دکھاؤں گا جہاں میرے نام کی تعظیم میں قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ ایسی تمام جگہوں پر مَیں تیرے پاس آ کر تجھے برکت دوں گا۔ 0x0D"اگر مالک نے غلام کی شادی کرائی اور بچے پیدا ہوئے ہیں تو اُس کی بیوی اور بچے مالک کی ملکیت ہوں گے۔ چھ سال کے بعد جب غلام آزاد ہو کر جائے تو اُس کی بیوی اور بچے مالک ہی کے پاس رہیں۔,!Sاگر غلام غیرشادی شدہ حالت میں مالک کے گھر آیا ہو تو وہ آزاد ہو کر اکیلا ہی چلا جائے۔ اگر وہ شادی شدہ حالت میں آیا ہو تو لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی سمیت آزاد ہو کر جائے۔ +’اگر تُو عبرانی غلام خریدے تو وہ چھ سال تیرا غلام رہے۔ اِس کے بعد لازم ہے کہ اُسے آزاد کر دیا جائے۔ آزاد ہونے کے لئے اُسے پیسے دینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔9 qاسرائیلیوں کو یہ احکام بتا، MGM)%Mاگر کوئی اپنی بیٹی کو غلامی میں بیچ ڈالے تو اُس کے لئے آزادی ملنے کی شرائط مرد سے فرق ہیں۔I$ تو غلام کا مالک اُسے اللہ کے سامنے لائے۔ وہ اُسے دروازے یا اُس کی چوکھٹ کے پاس لے جائے اور ستالی یعنی تیز اوزار سے اُس کے کان کی لَو چھید دے۔ تب وہ زندگی بھر اُس کا غلام بنا رہے گا۔5#eاگر غلام کہے، ”مَیں اپنے مالک اور اپنے بیوی بچوں سے محبت رکھتا ہوں، مَیں آزاد نہیں ہونا چاہتا“ #k#D( اگر مالک نے اُس سے شادی کر کے بعد میں دوسری عورت سے بھی شادی کی تو لازم ہے کہ وہ پہلی کو بھی کھانا اور کپڑے دیتا رہے۔ اِس کے علاوہ اُس کے ساتھ ہم بستر ہونے کا فرض بھی ادا کرنا ہے۔)'M اگر لونڈی کا مالک اُس کی اپنے بیٹے کے ساتھ شادی کرائے تو عورت کو بیٹی کے حقوق حاصل ہوں گے۔d&Cاگر اُس کے مالک نے اُسے منتخب کیا کہ وہ اُس کی بیوی بن جائے، لیکن بعد میں وہ اُسے پسند نہ آئے تو لازم ہے کہ وہ مناسب معاوضہ لے کر اُسے اُس کے رشتے داروں کو واپس کر دے۔ اُسے عورت کو غیرملکیوں کے ہاتھ بیچنے کا اختیار نہیں ہے، کیونکہ اُس نے اُس کے ساتھ بےوفا سلوک کیا ہے۔ f=2fH, لیکن جو دیدہ دانستہ اور چالاکی سے کسی کو مار ڈالتا ہے اُسے میری قربان گاہ سے بھی چھین کر سزائے موت دینا ہے۔b+? لیکن اگر اُس نے اُسے جان بوجھ کر نہ مارا بلکہ یہ اتفاق سے ہوا اور اللہ نے یہ ہونے دیا، تو مارنے والا ایک ایسی جگہ پناہ لے سکتا ہے جو مَیں مقرر کروں گا۔ وہاں اُسے قتل کئے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔!*= جو کسی کو جان بوجھ کر اِتنا سخت مارتا ہو کہ وہ مر جائے تو اُسے ضرور سزائے موت دینا ہے۔?)y اگر وہ یہ تین فرائض ادا نہ کرے تو اُسے عورت کو آزاد کرنا پڑے گا۔ اِس صورت میں اُسے مفت آزاد کرنا ہو گا۔ H/Hc0Aہو سکتا ہے کہ آدمی جھگڑیں اور ایک شخص دوسرے کو پتھر یا مُکے سے اِتنا زخمی کر دے کہ گو وہ بچ جائے وہ بستر سے اُٹھ نہ سکتا ہو۔i/Mجو اپنے باپ یا ماں پر لعنت کرے اُسے سزائے موت دی جائے۔a.=جس نے کسی کو اغوا کر لیا ہے اُسے سزائے موت دی جائے، چاہے وہ اُسے غلام بنا کر بیچ چکا ہو یا اُسے اب تک اپنے پاس رکھا ہوا ہو۔}-uجو اپنے باپ یا اپنی ماں کو مارتا پیٹتا ہے اُسے سزائے موت دی جائے۔ ]%3Eلیکن اگر غلام یا لونڈی پٹائی کے بعد ایک یا دو دن زندہ رہے تو مالک کو سزا نہ دی جائے۔ کیونکہ جو رقم اُس نے اُس کے لئے دی تھی اُس کا نقصان اُسے خود اُٹھانا پڑے گا۔ 2جو اپنے غلام یا لونڈی کو لاٹھی سے یوں مارے کہ وہ مر جائے اُسے سزا دی جائے۔19اگر بعد میں مریض یہاں تک شفا پائے کہ دوبارہ اُٹھ کر لاٹھی کے سہارے چل پھر سکے تو چوٹ پہنچانے والے کو سزا نہیں ملے گی۔ اُسے صرف اُس وقت کے لئے معاوضہ دینا پڑے گا جب تک مریض پیسے نہ کما سکے۔ ساتھ ہی اُسے اُس کا پورا علاج کروانا ہے۔ B;WB~7wجلنے کے زخم کے بدلے جلنے کا زخم، مار کے بدلے مار، کاٹ کے بدلے کاٹ۔6آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت، ہاتھ کے بدلے ہاتھ، پاؤں کے بدلے پاؤں،`5;لیکن اگر اُس عورت کو اَور نقصان بھی پہنچا ہو تو پھر ضرب پہنچانے والے کو اِس اصول کے مطابق سزا دی جائے کہ جان کے بدلے جان،A4}ہو سکتا ہے کہ لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں اور لڑتے لڑتے کسی حاملہ عورت سے یوں ٹکرا جائیں کہ اُس کا بچہ ضائع ہو جائے۔ اگر کوئی اَور نقصان نہ ہوا ہو تو ضرب پہنچانے والے کو جرمانہ دینا پڑے گا۔ عورت کا شوہر یہ جرمانہ مقرر کرے، اور عدالت میں اِس کی تصدیق ہو۔ +4:cاگر کوئی بَیل کسی مرد یا عورت کو ایسا مارے کہ وہ مر جائے تو اُس بَیل کو سنگسار کیا جائے۔ اُس کا گوشت کھانے کی اجازت نہیں ہے۔ اِس صورت میں بَیل کے مالک کو سزا نہ دی جائے۔U9%اگر مالک کے پیٹنے سے غلام کا دانت ٹوٹ جائے تو اُسے غلام کو دانت کے بدلے آزاد کرنا پڑے گا، چاہے غلام مرد ہو یا عورت۔x8kاگر کوئی مالک اپنے غلام کی آنکھ پر یوں مارے کہ وہ ضائع ہو جائے تو اُسے غلام کو آنکھ کے بدلے آزاد کرنا پڑے گا، چاہے غلام مرد ہو یا عورت۔ Yn8Y[>1 لیکن اگر بَیل کسی غلام یا لونڈی کو مار دے تو اُس کا مالک غلام کے مالک کو چاندی کے 30 سکے دے اور بَیل کو سنگسار کیا جائے۔t=cسزا میں کوئی فرق نہیں ہے، چاہے بیٹے کو مارا جائے یا بیٹی کو۔;<qلیکن اگر فیصلہ کیا جائے کہ وہ اپنی جان کا فدیہ دے تو جتنا معاوضہ بھی مقرر کیا جائے اُسے دینا پڑے گا۔;لیکن ہو سکتا ہے کہ مالک کو پہلے آگاہ کیا گیا تھا کہ بَیل لوگوں کو مارتا ہے، توبھی اُس نے بَیل کو کھلا چھوڑا تھا جس کے نتیجے میں اُس نے کسی کو مار ڈالا۔ ایسی صورت میں نہ صرف بَیل کو بلکہ اُس کے مالک کو بھی سنگسار کرنا ہے۔ E  !,7BMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr} " # $ % &  '  (  )  * " # $ % &  '  (  )  *  + , - . / 0 1 2 3 4 5 6 7 8 9 : ; < =  > !? "@ #A $B  C D E F G H I J  K  L  M  N  O P Q R S T U V W X Y Z [ \ ] ^ _ ` a  b c d e f EA#اگر کسی کا بَیل کسی دوسرے کے بَیل کو ایسے مارے کہ وہ مر جائے تو دونوں مالک زندہ بَیل کو بیچ کر اُس کے پیسے آپس میں برابر بانٹ لیں۔ اِسی طرح وہ مُردہ بَیل کو بھی برابر تقسیم کریں۔g@I"ایسی صورت میں حوض کا مالک مُردہ جانور کے لئے پیسے دے۔ وہ جانور کے مالک کو اُس کی پوری قیمت ادا کرے اور مُردہ جانور خود لے لے۔?!ہو سکتا ہے کہ کسی نے اپنے حوض کو کھلا رہنے دیا یا حوض بنانے کے لئے گڑھا کھود کر اُسے کھلا رہنے دیا اور کوئی بَیل یا گدھا اُس میں گر کر مر گیا۔ ]E0D[ہو سکتا ہے کہ کوئی چور نقب لگا رہا ہو اور لوگ اُسے پکڑ کر یہاں تک مارتے پیٹتے رہیں کہ وہ مر جائے۔ اگر رات کے وقت ایسا ہوا ہو تو وہ اُس کے خون کے ذمہ دار نہیں ٹھہر سکتے۔C %جس نے کوئی بَیل یا بھیڑ چوری کر کے اُسے ذبح کیا یا بیچ ڈالا ہے اُسے ہر چوری کے بَیل کے عوض پانچ بَیل اور ہر چوری کی بھیڑ کے عوض چار بھیڑیں واپس کرنا ہے۔B9$لیکن ہو سکتا ہے کہ مالک کو معلوم تھا کہ میرا بَیل دوسرے جانوروں پر حملہ کرتا ہے، اِس کے باوجود اُس نے اُسے آزاد چھوڑدیا تھا۔ ایسی صورت میں اُسے مُردہ بَیل کے عوض اُس کے مالک کو نیا بَیل دینا پڑے گا، اور وہ مُردہ بَیل خود لے لے۔ 11`F;اگر چوری کا جانور چور کے پاس زندہ پایا جائے تو اُسے ہر جانور کے عوض دو دینے پڑیں گے، چاہے وہ بَیل، بھیڑ، بکری یا گدھا ہو۔gEIلیکن اگر سورج کے طلوع ہونے کے بعد ایسا ہوا ہو تو جس نے اُسے مارا وہ قاتل ٹھہرے گا۔ چور کو ہر چُرائی ہوئی چیز کا عوضانہ دینا ہے۔ اگر اُس کے پاس دینے کے لئے کچھ نہ ہو تو اُسے غلام بنا کر بیچنا ہے۔ جو پیسے اُسے بیچنے کے عوض ملیں وہ چُرائی ہوئی چیزوں کے بدلے میں دیئے جائیں۔ e,eCHہو سکتا ہے کہ کسی نے آگ جلائی ہو اور وہ کانٹےدار جھاڑیوں کے ذریعے پڑوسی کے کھیت تک پھیل کر اُس کے اناج کے پُولوں کو، اُس کی پکی ہوئی فصل کو یا کھیت کی کسی اَور پیداوار کو برباد کر دے۔ ایسی صورت میں جس نے آگ جلائی ہو اُسے اُس کی پوری قیمت ادا کرنی ہے۔PGہو سکتا ہے کہ کوئی اپنے مویشی کو اپنے کھیت یا انگور کے باغ میں چھوڑ کر چرنے دے اور ہوتے ہوتے وہ کسی دوسرے کے کھیت یا انگور کے باغ میں جا کر چرنے لگے۔ ایسی صورت میں لازم ہے کہ مویشی کا مالک نقصان کے عوض اپنے انگور کے باغ اور کھیت کی بہترین پیداوار میں سے دے۔ 4l44Jcلیکن اگر چور پکڑا نہ جائے تو لازم ہے کہ اُس گھر کا مالک جس کے سپرد یہ چیزیں کی گئی تھیں اللہ کے حضور کھڑا ہو تاکہ معلوم کیا جائے کہ اُس نے خود یہ مال چوری کیا ہے یا نہیں۔Iہو سکتا ہے کہ کسی نے کچھ پیسے یا کوئی اَور مال اپنے کسی واقف کار کے سپرد کر دیا ہو تاکہ وہ اُسے محفوظ رکھے۔ اگر یہ چیزیں اُس کے گھر سے چوری ہو جائیں اور بعد میں چور کو پکڑا جائے تو چور کو اُس کی دُگنی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ <<$LC ہو سکتا ہے کہ کسی نے اپنا کوئی گدھا، بَیل، بھیڑ، بکری یا کوئی اَور جانور کسی واقف کار کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اُسے محفوظ رکھے۔ وہاں جانور مر جائے یا زخمی ہو جائے، یا کوئی اُس پر قبضہ کر کے اُسے اُس وقت لے جائے جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔K+ ہو سکتا ہے کہ دو لوگوں کا آپس میں جھگڑا ہو، اور دونوں کسی چیز کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوں کہ یہ میری ہے۔ اگر کوئی قیمتی چیز ہو مثلاً بَیل، گدھا، بھیڑ، بکری، کپڑے یا کوئی کھوئی ہوئی چیز تو معاملہ اللہ کے حضور لایا جائے۔ جسے اللہ قصوروار قرار دے اُسے دوسرے کو زیرِبحث چیز کی دُگنی قیمت ادا کرنی ہے۔ WoOY اگر کسی جنگلی جانور نے اُسے پھاڑ ڈالا ہو تو وہ ثبوت کے طور پر پھاڑی ہوئی لاش کو لے آئے۔ پھر اُسے اُس کی قیمت ادا نہیں کرنی پڑے گی۔CN لیکن اگر واقعی جانور کو چوری کیا گیا ہے تو جس کے سپرد جانور کیا گیا تھا اُسے اُس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔%ME یہ معاملہ یوں حل کیا جائے کہ جس کے سپرد جانور کیا گیا تھا وہ رب کے حضور قَسم کھا کر کہے کہ مَیں نے اپنے واقف کار کے جانور کے لالچ میں یہ کام نہیں کیا۔ جانور کے مالک کو یہ قبول کرنا پڑے گا، اور دوسرے کو اِس کے بدلے کچھ نہیں دینا ہو گا۔ eXR+اگر کسی کنواری کی منگنی نہیں ہوئی اور کوئی مرد اُسے ورغلا کر اُس سے ہم بستر ہو جائے تو وہ مَہر دے کر اُس سے شادی کرے۔(QKلیکن اگر جانور کا مالک اُس وقت ساتھ تھا تو دوسرے کو معاوضہ دینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اگر اُس نے جانور کو کرائے پر لیا ہو تو اُس کا نقصان کرائے سے پورا ہو جائے گا۔kPQہو سکتا ہے کہ کوئی اپنے واقف کار سے اجازت لے کر اُس کا جانور استعمال کرے۔ اگر جانور کو مالک کی غیرموجودگی میں چوٹ لگے یا وہ مر جائے تو اُس شخص کو جس کے پاس جانور اُس وقت تھا اُس کا معاوضہ دینا پڑے گا۔ }N}MXکسی بیوہ یا یتیم سے بُرا سلوک نہ کرنا۔LWجو پردیسی تیرے ملک میں مہمان ہے اُسے نہ دبانا اور نہ اُس سے بُرا سلوک کرنا، کیونکہ تم بھی مصر میں پردیسی تھے۔-VUجو نہ صرف رب کو قربانیاں پیش کرے بلکہ دیگر معبودوں کو بھی اُسے قوم سے نکال کر ہلاک کیا جائے۔Uجو شخص کسی جانور کے ساتھ جنسی تعلقات رکھتا ہو اُسے سزائے موت دی جائے۔6Tiجادوگرنی کو جینے نہ دینا۔lSSلیکن اگر لڑکی کا باپ اُس کی اُس مرد کے ساتھ شادی کرنے سے انکار کرے، اِس صورت میں بھی مرد کو کنواری کے لئے مقررہ رقم دینی پڑے گی۔ PiP2\_اگر تجھے کسی سے اُس کی چادر گروی کے طور پر ملی ہو تو اُسے سورج ڈوبنے سے پہلے ہی واپس کر دینا ہے،[{اگر تُو نے میری قوم کے کسی غریب کو قرض دیا ہے تو اُس سے سود نہ لینا۔[Z1مَیں بڑے غصے میں آ کر تمہیں تلوار سے مار ڈالوں گا۔ پھر تمہاری بیویاں خود بیوائیں اور تمہارے بچے خود یتیم بن جائیں گے۔Y!اگر تُو ایسا کرے اور وہ چلّا کر مجھ سے فریاد کریں تو مَیں ضرور اُن کی سنوں گا۔ y5y`اپنے بَیلوں، بھیڑوں اور بکریوں کے پہلوٹھوں کو بھی مجھے دینا۔ جانور کا پہلوٹھا پہلے سات دن اپنی ماں کے ساتھ رہے۔ آٹھویں دن وہ مجھے دیا جائے۔0_[مجھے وقت پر اپنے کھیت اور کولھوؤں کی پیداوار میں سے نذرانے پیش کرنا۔ اپنے پہلوٹھے مجھے دینا۔m^Uاللہ کو نہ کوسنا، نہ اپنی قوم کے کسی سردار پر لعنت کرنا۔W])کیونکہ اِسی کو وہ سونے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ورنہ وہ کیا چیز اوڑھ کر سوئے گا؟ اگر تُو چادر واپس نہ کرے اور وہ شخص چلّا کر مجھ سے فریاد کرے تو مَیں اُس کی سنوں گا، کیونکہ مَیں مہربان ہوں۔ 2SE2-eUاگر تجھے تیرے دشمن کا بَیل یا گدھا آوارہ پھرتا ہوا نظر آئے تو اُسے ہر صورت میں واپس کر دینا۔_d9لیکن عدالت میں کسی غریب کی طرف داری بھی نہ کرنا۔ cاگر اکثریت غلط کام کر رہی ہو تو اُس کے پیچھے نہ ہو لینا۔ عدالت میں گواہی دیتے وقت اکثریت کے ساتھ مل کر ایسی بات نہ کرنا جس سے غلط فیصلہ کیا جائے۔b غلط افواہیں نہ پھیلانا۔ کسی شریر آدمی کا ساتھ دے کر جھوٹی گواہی دینا منع ہے۔a#اپنے آپ کو میرے لئے مخصوص و مُقدّس رکھنا۔ اِس لئے ایسے جانور کا گوشت مت کھانا جسے کسی جنگلی جانور نے پھاڑ ڈالا ہے۔ ایسے گوشت کو کُتوں کو کھانے دینا۔ )mjU جو پردیسی تیرے ملک میں مہمان ہے اُس پر دباؤ نہ ڈالنا۔ تم ایسے لوگوں کی حالت سے خوب واقف ہو، کیونکہ تم خود مصر میں پردیسی رہے ہو۔;iqرشوت نہ لینا، کیونکہ رشوت دیکھنے والے کو اندھا کر دیتی ہے اور اُس کی بات بننے نہیں دیتی جو حق پر ہے۔hایسے معاملے سے دُور رہنا جس میں لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ جو بےگناہ اور حق پر ہے اُسے سزائے موت نہ دینا، کیونکہ مَیں قصوروار کو حق بجانب نہیں ٹھہراؤں گا۔Cgعدالت میں غریب کے حقوق نہ مارنا۔Sf!اگر تجھ سے نفرت کرنے والے کا گدھا بوجھ تلے گر گیا ہو اور تجھے پتا لگے تو اُسے نہ چھوڑنا بلکہ ضرور اُس کی مدد کرنا۔  @m{ چھ دن اپنا کام کاج کرنا، لیکن ساتویں دن آرام کرنا۔ پھر تیرا بَیل اور تیرا گدھا بھی آرام کر سکیں گے، تیری لونڈی کا بیٹا اور تیرے ساتھ رہنے والا پردیسی بھی تازہ دم ہو جائیں گے۔ly لیکن ساتویں سال زمین کو استعمال نہ کرنا بلکہ اُسے پڑے رہنے دینا۔ جو کچھ بھی اُگے وہ قوم کے غریب لوگ کھائیں۔ جو اُن سے بچ جائے اُسے جنگلی جانور کھائیں۔ اپنے انگور اور زیتون کے باغوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا ہے۔pk[ چھ سال تک اپنی زمین میں بیج بو کر اُس کی پیداوار جمع کرنا۔ [[fpGپہلے، بےخمیری روٹی کی عید منانا۔ ابیب کے مہینے میں سات دن تک تیری روٹی میں خمیر نہ ہو جس طرح مَیں نے حکم دیا ہے، کیونکہ اِس مہینے میں تُو مصر سے نکلا۔ اِن دنوں میں کوئی میرے حضور خالی ہاتھ نہ آئے۔Uo%سال میں تین دفعہ میری تعظیم میں عید منانا۔_n9 جو بھی ہدایت مَیں نے دی ہے اُس پر عمل کر۔ دیگر معبودوں کی پرستش نہ کرنا۔ مَیں تیرے منہ سے اُن کے ناموں تک کا ذکر نہ سنوں۔ Vs'جب تُو کسی جانور کو ذبح کر کے قربانی کے طور پر پیش کرے تو اُس کے خون کے ساتھ ایسی روٹی پیش نہ کرنا جس میں خمیر ہو۔ اور جو جانور تُو میری عیدوں پر چڑھائے اُن کی چربی اگلی صبح تک باقی نہ رہے۔|rsیوں تیرے تمام مرد تین مرتبہ رب قادرِ مطلق کے حضور حاضر ہوا کریں۔iqMدوسرے، فصل کٹائی کی عید اُس وقت منانا جب تُو اپنے کھیت میں بوئی ہوئی پہلی فصل کاٹے گا۔ تیسرے، جمع کرنے کی عید فصل کی کٹائی کے اختتام پر منانا ہے جب تُو نے انگور اور باقی باغوں کے پھل جمع کئے ہوں گے۔ 'dwCلیکن اگر تُو اُس کی سنے اور سب کچھ کرے جو مَیں تجھے بتاتا ہوں تو مَیں تیرے دشمنوں کا دشمن اور تیرے مخالفوں کا مخالف ہوں گا۔(vKاُس کی موجودگی میں احتیاط برتنا۔ اُس کی سننا، اور اُس کی خلاف ورزی نہ کرنا۔ اگر تُو سرکش ہو جائے تو وہ تجھے معاف نہیں کرے گا، کیونکہ میرا نام اُس میں حاضر ہو گا۔luSمَیں تیرے آگے آگے فرشتہ بھیجتا ہوں جو راستے میں تیری حفاظت کرے گا اور تجھے اُس جگہ تک لے جائے گا جو مَیں نے تیرے لئے تیار کی ہے۔etEاپنی زمین کی پہلی پیداوار کا بہترین حصہ رب اپنے خدا کے گھر میں لانا۔ بھیڑ یا بکری کے بچے کو اُس کی ماں کے دودھ میں نہ پکانا۔ [Az}رب اپنے خدا کی خدمت کرنا۔ پھر مَیں تیری خوراک اور پانی کو برکت دے کر تمام بیماریاں تجھ سے دُور کروں گا۔Uy%اُن کے معبودوں کو سجدہ نہ کرنا، نہ اُن کی خدمت کرنا۔ اُن کے رسم و رواج بھی نہ اپنانا بلکہ اُن کے بُتوں کو تباہ کر دینا۔ جن ستونوں کے سامنے وہ عبادت کرتے ہیں اُن کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنا۔Hx کیونکہ میرا فرشتہ تیرے آگے آگے چلے گا اور تجھے ملکِ کنعان تک پہنچا دے گا جہاں اموری، حِتّی، فرِزّی، کنعانی، حِوّی اور یبوسی آباد ہیں۔ تب مَیں اُنہیں رُوئے زمین پر سے مٹا دوں گا۔ 89!r86~gلیکن جب تُو وہاں پہنچے گا تو مَیں اُنہیں ایک ہی سال میں ملک سے نہیں نکالوں گا۔ ورنہ پورا ملک ویران ہو جائے گا اور جنگلی جانور پھیل کر تیرے لئے نقصان کا باعث بن جائیں گے۔+}Qمَیں تیرے آگے زنبور بھیج دوں گا جو حِوّی، کنعانی اور حِتّی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کریں گے۔|#مَیں تیرے آگے آگے دہشت پھیلاؤں گا۔ جہاں بھی تُو جائے گا وہاں مَیں تمام قوموں میں ابتری پیدا کروں گا۔ میرے سبب سے تیرے سارے دشمن پلٹ کر بھاگ جائیں گے۔C{پھر تیرے ملک میں نہ کسی کا بچہ ضائع ہو گا، نہ کوئی بانجھ ہو گی۔ ساتھ ہی مَیں تجھے طویل زندگی عطا کروں گا۔ ;{ لازم ہے کہ تُو اُن کے ساتھ یا اُن کے معبودوں کے ساتھ عہد نہ باندھے۔*Oمَیں تیری سرحدیں مقرر کروں گا۔ بحرِ قُلزم ایک حد ہو گی اور فلستیوں کا سمندر دوسری، جنوب کا ریگستان ایک ہو گی اور دریائے فرات دوسری۔ مَیں ملک کے باشندوں کو تیرے قبضے میں کر دوں گا، اور تُو اُنہیں اپنے آگے آگے ملک سے دُور کرتا جائے گا۔!اِس لئے مَیں تیرے پہنچنے پر ملک کے باشندوں کو تھوڑا تھوڑا کر کے نکالتا جاؤں گا۔ اِتنے میں تیری تعداد بڑھے گی اور تُو رفتہ رفتہ ملک پر قبضہ کر سکے گا۔ E  !,7BMXcny)4>IT_ju$/:EP[fq| h i  j  k  l  m  n o p h i  j  k  l  m  n o p q r s t u v w x y z { | } ~     !                                                       QHQsaتب موسیٰ نے قوم کے پاس جا کر رب کی تمام باتیں اور احکام پیش کئے۔ جواب میں سب نے مل کر کہا، ”ہم رب کی اِن تمام باتوں پر عمل کریں گے۔“4cصرف تُو اکیلا ہی میرے قریب آ، دوسرے دُور رہیں۔ اور قوم کے باقی لوگ تیرے ساتھ پہاڑ پر نہ چڑھیں۔“g Kرب نے موسیٰ سے کہا، ”تُو، ہارون، ندب، ابیہو اور اسرائیل کے 70 بزرگ میرے پاس اوپر آئیں۔ کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر مجھے سجدہ کرو۔!اُن کا تیرے ملک میں رہنا منع ہے، ورنہ تُو اُن کے سبب سے میرا گناہ کرے گا۔ اگر تُو اُن کے معبودوں کی عبادت کرے گا تو یہ تیرے لئے پھندا بن جائے گا‘۔“ oAoNموسیٰ نے قربانیوں کاخون جمع کیا۔ اُس کا آدھا حصہ اُس نے باسنوں میں ڈال دیا اور آدھا حصہ قربان گاہ پر چھڑک دیا۔H پھر اُس نے کچھ اسرائیلی نوجوانوں کو قربانی پیش کرنے کے لئے بُلایا تاکہ وہ رب کی تعظیم میں بھسم ہونے والی قربانیاں چڑھائیں اور جوان بَیلوں کو سلامتی کی قربانی کے طور پر پیش کریں۔oYتب موسیٰ نے رب کی تمام باتیں لکھ لیں۔ اگلے دن وہ صبح سویرے اُٹھا اور پہاڑ کے پاس گیا۔ اُس کے دامن میں اُس نے قربان گاہ بنائی۔ ساتھ ہی اُس نے اسرائیل کے ہر ایک قبیلے کے لئے ایک ایک پتھر کا ستون کھڑا کیا۔ |  اِس کے بعد موسیٰ، ہارون، ندب، ابیہو اور اسرائیل کے 70 بزرگ سینا پہاڑ پر چڑھے۔2 _اِس پر موسیٰ نے باسنوں میں سے خون لے کر اُسے لوگوں پر چھڑکا اور کہا، ”یہ خون اُس عہد کی تصدیق کرتا ہے جو رب نے تمہارے ساتھ کیا ہے اور جو اُس کی تمام باتوں پر مبنی ہے۔“J پھر اُس نے وہ کتاب لی جس میں رب کے ساتھ عہد کی تمام شرائط درج تھیں اور اُسے قوم کو پڑھ کر سنایا۔ جواب میں اُنہوں نے کہا، ”ہم رب کی اِن تمام باتوں پر عمل کریں گے۔ ہم اُس کی سنیں گے۔“ WW پہاڑ سے اُترنے کے بعد رب نے موسیٰ سے کہا، ”میرے پاس پہاڑ پر آ کر کچھ دیر کے لئے ٹھہرے رہنا۔ مَیں تجھے پتھر کی تختیاں دوں گا جن پر مَیں نے اپنی شریعت اور احکام لکھے ہیں اور جو اسرائیل کی تعلیم و تربیت کے لئے ضروری ہیں۔“ - اگرچہ اسرائیل کے راہنماؤں نے یہ سب کچھ دیکھا توبھی رب نے اُنہیں ہلاک نہ کیا، بلکہ وہ اللہ کو دیکھتے رہے اور اُس کے حضور عہد کا کھانا کھاتے اور پیتے رہے۔v g وہاں اُنہوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا۔ لگتا تھا کہ اُس کے پاؤں کے نیچے سنگِ لاجورد کا سا تختہ تھا۔ وہ آسمان کی مانند صاف و شفاف تھا۔ x~`7x;qرب کا جلال اسرائیلیوں کو بھی نظر آتا تھا۔ اُنہیں یوں لگا جیسا کہ پہاڑ کی چوٹی پر تیز آگ بھڑک رہی ہو۔Lرب کا جلال کوہِ سینا پر اُتر آیا۔ چھ دن تک بادل اُس پر چھایا رہا۔ ساتویں دن رب نے بادل میں سے موسیٰ کو بُلایا۔V'جب موسیٰ چڑھنے لگا تو پہاڑ پر بادل چھا گیا۔/پہلے اُس نے بزرگوں سے کہا، ”ہماری واپسی کے انتظار میں یہاں ٹھہرے رہو۔ ہارون اور حور تمہارے پاس رہیں گے۔ کوئی بھی معاملہ ہو تو لوگ اُن ہی کے پاس جائیں۔“y موسیٰ اپنے مددگار یشوع کے ساتھ چل پڑا اور اللہ کے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ >oCIU>+شمع دان کے لئے زیتون کا تیل، مسح کرنے کے لئے تیل اور خوشبودار بخور کے لئے مسالے،xkمینڈھوں کی سرخ رنگی ہوئی کھالیں، تخس کی کھالیں، کیکر کی لکڑی،zoنیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا، باریک کتان، بکری کے بال،tcاُن سے یہ چیزیں ہدیئے کے طور پر قبول کرو: سونا، چاندی، پیتل؛vg”اسرائیلیوں کو بتا کہ وہ ہدیئے لا کر مجھے اُٹھانے والی قربانی کے طور پر پیش کریں۔ لیکن صرف اُن سے ہدیئے قبول کرو جو دلی خوشی سے دیں۔) Qرب نے موسیٰ سے کہا، چڑھتے چڑھتے موسیٰ بادل میں داخل ہوا۔ وہاں وہ چالیس دن اور چالیس رات رہا۔ ZF مَیں تجھے مقدِس اور اُس کے تمام سامان کا نمونہ دکھاؤں گا، کیونکہ تمہیں سب کچھ عین اُسی کے مطابق بنانا ہے۔اِن چیزوں سے لوگ میرے لئے مقدِس بنائیں تاکہ مَیں اُن کے درمیان رہوں۔"?عقیقِ احمر اور دیگر جواہر جو امامِ اعظم کے بالاپوش اور سینے کے کیسے میں جڑے جائیں گے۔ 6g لوگ کیکر کی لکڑی کا صندوق بنائیں۔ اُس کی لمبائی پونے چار فٹ ہو جبکہ اُس کی چوڑائی اور اونچائی سوا دو دو فٹ ہو۔ پورے صندوق پر اندر اور باہر سے خالص سونا چڑھانا۔ اوپر کی سطح کے ارد گرد سونے کی جھالر لگانا۔ صندوق کو اُٹھانے کے لئے سونے کے چار کڑے ڈھال کر اُنہیں صندوق کے چارپائیوں پر لگانا۔ دونوں طرف دو دو کڑے ہوں۔ 6g لوگ کیکر کی لکڑی کا صندوق بنائیں۔ اُس کی لمبائی پونے چار فٹ ہو جبکہ اُس کی چوڑائی اور اونچائی سوا دو دو فٹ ہو۔ پورے صندوق پر اندر اور باہر سے خالص سونا چڑھانا۔ اوپر کی سطح کے ارد گرد سونے کی جھالر لگانا۔ صندوق کو اُٹھانے کے لئے سونے کے چار کڑے ڈھال کر اُنہیں صندوق کے چارپائیوں پر لگانا۔ دونوں طرف دو دو کڑے ہوں۔ 1#یہ لکڑیاں صندوق کے اِن کڑوں میں پڑی رہیں۔ اُنہیں کبھی بھی دُور نہ کیا جائے۔"اُن کو دونوں طرف کے کڑوں میں ڈالنا تاکہ اُن سے صندوق کو اُٹھایا جائے۔! پھر کیکر کی دو لکڑیاں صندوق کو اُٹھانے کے لئے تیار کرنا۔ اُن پر سونا چڑھا کر6 g لوگ کیکر کی لکڑی کا صندوق بنائیں۔ اُس کی لمبائی پونے چار فٹ ہو جبکہ اُس کی چوڑائی اور اونچائی سوا دو دو فٹ ہو۔ پورے صندوق پر اندر اور باہر سے خالص سونا چڑھانا۔ اوپر کی سطح کے ارد گرد سونے کی جھالر لگانا۔ صندوق کو اُٹھانے کے لئے سونے کے چار کڑے ڈھال کر اُنہیں صندوق کے چارپائیوں پر لگانا۔ دونوں طرف دو دو کڑے ہوں۔ j'Oسونے سے گھڑ کر دو کروبی فرشتے بنائے جائیں جو ڈھکنے کے دونوں سِروں پر کھڑے ہوں۔ یہ دو فرشتے اور ڈھکنا ایک ہی ٹکڑے سے بنانے ہیں۔j&Oسونے سے گھڑ کر دو کروبی فرشتے بنائے جائیں جو ڈھکنے کے دونوں سِروں پر کھڑے ہوں۔ یہ دو فرشتے اور ڈھکنا ایک ہی ٹکڑے سے بنانے ہیں۔V%'صندوق کا ڈھکنا خالص سونے کا بنانا۔ اُس کی لمبائی پونے چار فٹ اور چوڑائی سوا دو فٹ ہو۔ اُس کا نام کفارے کا ڈھکنا ہے۔q$]صندوق میں شریعت کی وہ دو تختیاں رکھنا جو مَیں تجھے دوں گا۔ [J|,sاُس پر خالص سونا چڑھانا، اور اُس کے ارد گرد سونے کی جھالر لگانا۔(+Kکیکر کی لکڑی کی میز بنانا۔ اُس کی لمبائی تین فٹ، چوڑائی ڈیڑھ فٹ اور اونچائی سوا دو فٹ ہو۔ *وہاں ڈھکنے کے اوپر دونوں فرشتوں کے درمیان سے مَیں اپنے آپ کو تجھ پر ظاہر کر کے تجھ سے ہم کلام ہوں گا اور تجھے اسرائیلیوں کے لئے تمام احکام دوں گا۔)5ڈھکنے کو صندوق پر لگا، اور صندوق میں شریعت کی وہ دو تختیاں رکھ جو مَیں تجھے دوں گا۔({فرشتوں کے پَر یوں اوپر کی طرف پھیلے ہوئے ہوں کہ وہ ڈھکنے کو پناہ دیں۔ اُن کے منہ ایک دوسرے کی طرف کئے ہوئے ہوں، اور وہ ڈھکنے کی طرف دیکھیں۔ ,RN,}2uمیز پر وہ روٹیاں ہر وقت میرے حضور پڑی رہیں جو میرے لئے مخصوص ہیں۔17اُس کے تھال، پیالے، مرتبان اور مَے کی نذریں پیش کرنے کے برتن خالص سونے سے بنانا ہے۔0+یہ لکڑیاں بھی کیکر کی ہوں اور اُن پر سونا چڑھایا جائے۔ اُن سے میز کو اُٹھانا ہے۔M/یہ کڑے میز کی سطح پر لگے چوکھٹے کے نیچے لگائے جائیں۔ اُن میں وہ لکڑیاں ڈالنی ہیں جن سے میز کو اُٹھایا جائے گا۔.!سونے کے چار کڑے ڈھال کر اُنہیں چاروں کونوں پر لگانا جہاں میز کے پائے لگے ہیں۔*-Oمیز کی اوپر کی سطح پر چوکھٹا لگانا جس کی اونچائی تین انچ ہو اور جس پر سونے کی جھالر لگی ہو۔ t[K7#اِن میں سے تین پیالیاں دائیں بائیں کی چھ شاخوں کے نیچے لگی ہوں۔ وہ یوں لگی ہوں کہ ہر پیالی سے دو شاخیں نکلیں۔6"شمع دان کی ڈنڈی پر بھی اِس قسم کی پیالیاں لگی ہوں، لیکن تعداد میں چار۔ 5!ہر شاخ پر تین پیالیاں لگی ہوں جو بادام کی کلیوں اور پھولوں کی شکل کی ہوں۔`4; ڈنڈی سے دائیں اور بائیں طرف تین تین شاخیں نکلیں۔%3Eخالص سونے کا شمع دان بھی بنانا۔ اُس کا پایہ اور ڈنڈی گھڑ کر بنانا ہے۔ اُس کی پیالیاں جو پھولوں اور کلیوں کی شکل کی ہوں گی پائے اور ڈنڈی کے ساتھ ایک ہی ٹکڑا ہوں۔ d(<K(غور کر کہ سب کچھ عین اُس نمونے کے مطابق بنایا جائے جو مَیں تجھے یہاں پہاڑ پر دکھاتا ہوں۔ ;!'شمع دان اور اُس سارے سامان کے لئے پورے 34 کلو گرام خالص سونا استعمال کیا جائے۔:9&بتی کترنے کی قینچیاں اور جلتے کوئلے کے لئے چھوٹے برتن بھی خالص سونے سے بنائے جائیں۔"9?%شمع دان کے لئے سات چراغ بنا کر اُنہیں یوں شاخوں پر رکھنا کہ وہ سامنے کی جگہ روشن کریں۔8+$شاخیں اور پیالیاں بلکہ پورا شمع دان خالص سونے کے ایک ہی ٹکڑے سے گھڑ کر بنانا ہے۔ Lzj@Oدونوں ٹکڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانے کے لئے نیلے دھاگے کے حلقے بنانا۔ یہ حلقے ہر ٹکڑے کے 42 فٹ والے ایک کنارے پر لگائے جائیں،N?پانچ پردوں کے لمبے حاشئے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے جائیں اور اِسی طرح باقی پانچ بھی۔ یوں دو بڑے ٹکڑے بن جائیں گے۔R>ہر پردے کی لمبائی 42 فٹ اور چوڑائی 6 فٹ ہو۔[= 3مُقدّس خیمے کے لئے دس پردے بنانا۔ اُن کے لئے باریک کتان اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا استعمال کرنا۔ پردوں میں کسی ماہر کاری گر کے کڑھائی کے کام سے کروبی فرشتوں کا ڈیزائن بنوانا۔ L/QlLE3 پانچ پردوں کے لمبے حاشئے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے جائیں اور اِسی طرح باقی چھ بھی۔ اِن چھ پردوں کے چھٹے پردے کو ایک دفعہ تہہ کرنا۔ یہ سامنے والے حصے سے لٹکے۔RDہر پردے کی لمبائی 45 فٹ اور چوڑائی 6 فٹ ہو۔ Cبکری کے بالوں سے بھی 11 پردے بنانا جنہیں کپڑے والے خیمے کے اوپر رکھا جائے۔ZB/پھر سونے کی 50 ہکیں بنا کر اُن سے آمنے سامنے کے حلقے ایک دوسرے کے ساتھ ملانا۔ یوں دونوں ٹکڑے جُڑ کر خیمے کا کام دیں گے۔MAایک ٹکڑے کے حاشئے پر 50 حلقے اور دوسرے پر بھی اُتنے ہی حلقے۔ اِن دو حاشیوں کے حلقے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں۔ )I- خیمے کے دائیں اور بائیں طرف بکری کے بالوں کا خیمہ کپڑے کے خیمے کی نسبت ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ لمبا ہو گا۔ یوں وہ دونوں طرف لٹکے ہوئے کپڑے کے خیمے کو محفوظ رکھے گا۔`H; جب بکریوں کے بالوں کا یہ خیمہ کپڑے کے خیمے کے اوپر لگایا جائے گا تو آدھا پردہ باقی رہے گا۔ وہ خیمے کی پچھلی طرف لٹکا رہے۔`G; پھر پیتل کی 50 ہکیں بنا کر اُن سے دونوں حصے ملانا۔SF! بکری کے بال کے اِن دونوں ٹکڑوں کو بھی ملانا ہے۔ اِس کے لئے ہر ٹکڑے کے 45 فٹ والے ایک کنارے پر پچاس پچاس حلقے لگانا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FP[fq|         ! "         ! " # $ % & ' (                                        ! " # $ %                         [N1خیمے کی جنوبی دیوار کے لئے 20 تختوں کی ضرورت ہے@M{ہر تختے کے نیچے دو دو چولیں ہوں۔ یہ چولیں ہر تختے کو اُس کے پائیوں کے ساتھ جوڑیں گی تاکہ تختہ کھڑا رہے۔^L7ہر تختے کی اونچائی 15 فٹ ہو اور چوڑائی سوا دو فٹ۔K!کیکر کی لکڑی کے تختے بنانا جو کھڑے کئے جائیں تاکہ خیمے کی دیواروں کا کام دیں۔\J3ایک دوسرے کے اوپر کے اِن دونوں خیموں کی حفاظت کے لئے دو غلاف بنانے ہیں۔ بکری کے بالوں کے خیمے پر مینڈھوں کی سرخ رنگی ہوئی کھالیں جوڑ کر رکھی جائیں اور اُن پر تخس کی کھالیں ملا کر رکھی جائیں۔ oS5اِس دیوار کو شمالی اور جنوبی دیواروں کے ساتھ جوڑنے کے لئے کونے والے دو تختے بنانا۔gRIخیمے کی پچھلی یعنی مغربی دیوار کے لئے چھ تختے بنانا۔?Qyاور ساتھ ہی چاندی کے 40 پائیوں کی۔ وہ بھی تختوں کو کھڑا کرنے کے لئے ہیں۔ ہر تختے کے نیچے دو پائے ہوں گے۔rP_اِسی طرح خیمے کی شمالی دیوار کے لئے بھی 20 تختوں کی ضرورت ہےkOQاور ساتھ ہی چاندی کے 40 پائیوں کی۔ اُن پر تختے کھڑے کئے جائیں گے۔ ہر تختے کے نیچے دو پائے ہوں گے، اور ہر پائے میں ایک چول لگے گی۔ %VEاِس کے علاوہ کیکر کی لکڑی کے شہتیر بنانا، تینوں دیواروں کے لئے پانچ پانچ شہتیر۔ وہ ہر دیوار کے تختوں پر یوں لگائے جائیں کہ وہ اُنہیں ایک دوسرے کے ساتھ ملائیں۔gUIیوں پچھلے یعنی مغربی تختوں کی پوری تعداد 8 ہو گی اور اِن کے لئے چاندی کے پائیوں کی تعداد 16، ہر تختے کے نیچے دو دو پائے ہوں گے۔ZT/اِن دو تختوں میں نیچے سے لے کر اوپر تک کونا ہو تاکہ ایک سے شمالی دیوار مغربی دیوار کے ساتھ جُڑ جائے اور دوسرے سے جنوبی دیوار مغربی دیوار کے ساتھ۔ اِن کے اوپر کے سرے کڑوں سے مضبوط کئے جائیں۔ 4]Z'پورے مُقدّس خیمے کو اُسی نمونے کے مطابق بنانا جو مَیں تجھے پہاڑ پر دکھاتا ہوں۔SY!شہتیروں کو تختوں کے ساتھ لگانے کے لئے سونے کے کڑے بنا کر تختوں میں لگانا۔ تمام تختوں اور شہتیروں پر سونا چڑھانا۔X9درمیانی شہتیر دیوار کی آدھی اونچائی پر دیوار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لگایا جائے۔%WEاِس کے علاوہ کیکر کی لکڑی کے شہتیر بنانا، تینوں دیواروں کے لئے پانچ پانچ شہتیر۔ وہ ہر دیوار کے تختوں پر یوں لگائے جائیں کہ وہ اُنہیں ایک دوسرے کے ساتھ ملائیں۔ ;;S^!"پھر عہد کے صندوق پر کفارے کا ڈھکنا رکھنا۔(]K!یہ پردہ مُقدّس کمرے کو مُقدّس ترین کمرے سے الگ کرے گا جس میں عہد کا صندوق پڑا رہے گا۔ پردے کو لٹکانے کے بعد اُس کے پیچھے مُقدّس ترین کمرے میں عہد کا صندوق رکھنا۔i\M اِسے سونے کی ہکوں سے کیکر کی لکڑی کے چار ستونوں سے لٹکانا۔ اِن ستونوں پر سونا چڑھایا جائے اور وہ چاندی کے پائیوں پر کھڑے ہوں۔R[اب ایک اَور پردہ بنانا۔ اِس کے لئے بھی باریک کتان اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا استعمال کرنا۔ اُس پر بھی کسی ماہر کاری گر کے کڑھائی کے کام سے کروبی فرشتوں کا ڈیزائن بنوانا۔ a{%اِس پردے کو سونے کی ہکوں سے کیکر کی لکڑی کے پانچ ستونوں سے لٹکانا۔ اِن ستونوں پر بھی سونا چڑھایا جائے، اور وہ پیتل کے پائیوں پر کھڑے ہوں۔ ,`S$پھر خیمے کے دروازے کے لئے بھی پردہ بنایا جائے۔ اِس کے لئے بھی باریک کتان اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا استعمال کیا جائے۔ اِس پر کڑھائی کا کام کیا جائے۔_##جس میز پر میرے لئے مخصوص کی گئی روٹیاں پڑی رہتی ہیں وہ پردے کے باہر مُقدّس کمرے میں شمال کی طرف رکھی جائے۔ اُس کے مقابل جنوب کی طرف شمع دان رکھا جائے۔ n(\=nKeقربان گاہ کو اُٹھانے کے لئے پیتل کا جنگلا بنانا جو اوپر سے کھلا ہو۔ جنگلے کے چاروں کونوں پر کڑے لگائے جائیں۔d1اُس کا تمام ساز و سامان اور برتن بھی پیتل کے ہوں یعنی راکھ کو اُٹھا کر لے جانے کی بالٹیاں، بیلچے، کانٹے، جلتے ہوئے کوئلے کے لئے برتن اور چھڑکاؤ کے کٹورے۔Hc اُس کے اوپر چاروں کونوں میں سے ایک ایک سینگ نکلے۔ سینگ اور قربان گاہ ایک ہی ٹکڑے کے ہوں۔ سب پر پیتل چڑھانا۔Tb %کیکر کی لکڑی کی قربان گاہ بنانا۔ اُس کی اونچائی ساڑھے چار فٹ ہو جبکہ اُس کی لمبائی اور چوڑائی ساڑھے سات سات فٹ ہو۔ MedjC مُقدّس خیمے کے لئے صحن بنانا۔ اُس کی چاردیواری باریک کتان کے کپڑے سے بنائی جائے۔ چاردیواری کی لمبائی جنوب کی طرف 150 فٹ ہو۔]i5پوری قربان گاہ لکڑی کی ہو، لیکن اندر سے کھوکھلی ہو۔ اُسے عین اُس نمونے کے مطابق بنانا جو مَیں تجھے پہاڑ پر دکھاتا ہوں۔dhCاُن کو قربان گاہ کے دونوں طرف کے کڑوں میں ڈال دینا۔~gwاُسے اُٹھانے کے لئے کیکر کی دو لکڑیاں بنانا جن پر پیتل چڑھانا ہے۔/fYقربان گاہ کی آدھی اونچائی پر کنارہ لگانا، اور قربان گاہ کو جنگلے میں اِس کنارے تک رکھا جائے۔ @8@n! سامنے، مشرق کی طرف جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے چاردیواری کی چوڑائی بھی 75 فٹ ہو۔m خیمے کے پیچھے مغرب کی طرف چاردیواری کی چوڑائی 75 فٹ ہو اور کپڑا لکڑی کے 10 کھمبوں کے ساتھ لگایا جائے۔ یہ کھمبے بھی پیتل کے پائیوں پر کھڑے ہوں۔Wl) چاردیواری شمال کی طرف بھی اِسی کی مانند ہو۔Dk کپڑے کو چاندی کی ہکوں اور پٹیوں سے لکڑی کے 20 کھمبوں کے ساتھ لگایا جائے۔ ہر کھمبا پیتل کے پائے پر کھڑا ہو۔ opYیہاں چاردیواری کا دروازہ ہو۔ کپڑا دروازے کے دائیں طرف ساڑھے 22 فٹ چوڑا ہو اور اُس کے بائیں طرف بھی اُتنا ہی چوڑا۔ اُسے دونوں طرف تین تین لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ لگایا جائے جو پیتل کے پائیوں پر کھڑے ہوں۔ooYیہاں چاردیواری کا دروازہ ہو۔ کپڑا دروازے کے دائیں طرف ساڑھے 22 فٹ چوڑا ہو اور اُس کے بائیں طرف بھی اُتنا ہی چوڑا۔ اُسے دونوں طرف تین تین لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ لگایا جائے جو پیتل کے پائیوں پر کھڑے ہوں۔ xZt/جو بھی ساز و سامان مُقدّس خیمے میں استعمال کیا جاتا ہے وہ سب پیتل کا ہو۔ خیمے اور چاردیواری کی میخیں بھی پیتل کی ہوں۔7siچاردیواری کی لمبائی 150 فٹ، چوڑائی 75 فٹ اور اونچائی ساڑھے 7 فٹ ہو۔ کھمبوں کے تمام پائے پیتل کے ہوں۔@r{تمام کھمبے پیتل کے پائیوں پر کھڑے ہوں اور کپڑا چاندی کی ہکوں اور پٹیوں سے ہر کھمبے کے ساتھ لگایا جائے۔qدروازے کا پردہ 30 فٹ چوڑا بنانا۔ وہ نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے اور باریک کتان سے بنایا جائے، اور اُس پر کڑھائی کا کام ہو۔ یہ کپڑا لکڑی کے چار کھمبوں کے ساتھ لگایا جائے۔ وہ بھی پتیل کے پائیوں پر کھڑے ہوں۔ 6^6$w Eاپنے بھائی ہارون اور اُس کے بیٹوں ندب، ابیہو، اِلی عزر اور اِتمر کو بلا۔ مَیں نے اُنہیں اسرائیلیوں میں سے چن لیا ہے تاکہ وہ اماموں کی حیثیت سے میری خدمت کریں۔,vSہارون اور اُس کے بیٹے شمع دان کو ملاقات کے خیمے کے مُقدّس کمرے میں رکھیں، اُس پردے کے سامنے جس کے پیچھے عہد کا صندوق ہے۔ اُس میں وہ تیل ڈالتے رہیں تاکہ وہ رب کے سامنے شام سے لے کر صبح تک جلتا رہے۔ اسرائیلیوں کا یہ اصول ابد تک قائم رہے۔ nuWاسرائیلیوں کو حکم دینا کہ وہ تیرے پاس کوٹے ہوئے زیتونوں کا خالص تیل لائیں تاکہ مُقدّس کمرے کے شمع دان کے چراغ متواتر جلتے رہیں۔ quq]z5اُس کے لئے یہ لباس بنانے ہیں: سینے کا کیسہ، بالاپوش، چوغہ، بُنا ہوا زیرجامہ، پگڑی اور کمربند۔ یہ کپڑے اپنے بھائی ہارون اور اُس کے بیٹوں کے لئے بنوانے ہیں تاکہ وہ امام کے طور پر خدمت کر سکیں۔y9لباس بنانے کی ذمہ داری اُن تمام لوگوں کو دینا جو ایسے کاموں میں ماہر ہیں اور جن کو مَیں نے حکمت کی روح سے بھر دیا ہے۔ کیونکہ جب ہارون کو مخصوص کیا جائے گا اور وہ مُقدّس خیمے کی خدمت سرانجام دے گا تو اُسے اِن کپڑوں کی ضرورت ہو گی۔x اپنے بھائی ہارون کے لئے مُقدّس لباس بنوانا جو پُروقار اور شاندار ہوں۔ ?G;?W~)اِس کے علاوہ ایک پٹکا بُننا ہے جس سے بالاپوش کو باندھا جائے اور جو بالاپوش کے ساتھ ایک ٹکڑا ہو۔ اُس کے لئے بھی سونا، نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا اور باریک کتان استعمال کیا جائے۔}5اُس کی دو پٹیاں ہوں جو کندھوں پر رکھ کر سامنے اور پیچھے سے بالاپوش کے ساتھ لگی ہوں۔| بالاپوش کو بھی سونے اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے اور باریک کتان سے بنانا ہے۔ اُس پر کسی ماہر کاری گر سے کڑھائی کا کام کروایا جائے۔5{eاِن کپڑوں کے لئے سونا اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا اور باریک کتان استعمال کیا جائے۔ h)O سونے کے خانے بنانا1] بالاپوش کی دو پٹیوں پر ایسے لگانا کہ کندھوں پر آ جائیں۔ جب ہارون میرے حضور آئے گا تو جوہروں پر کے یہ نام اُس کے کندھوں پر ہوں گے اور مجھے اسرائیلیوں کی یاد دلائیں گے۔G  یہ نام اُس طرح جوہروں پر کندہ کئے جائیں جس طرح مُہر کندہ کی جاتی ہے۔ پھر دونوں جوہر سونے کے خانوں میں جڑ کر ہر جوہر پر چھ چھ نام اُن کی پیدائش کی ترتیب کے مطابق کندہ کئے جائیں۔# پھر عقیقِ احمر کے دو پتھر چن کر اُن پر اسرائیل کے بارہ بیٹوں کے نام کندہ کرنا۔ -.-9mاُس پر چار قطاروں میں جواہر جڑنا۔ ہر قطار میں تین تین جوہر ہوں۔ پہلی قطار میں لعل، زبرجد اور زمرد۔جب کپڑے کو ایک دفعہ تہہ کیا گیا ہو تو کیسے کی لمبائی اور چوڑائی نو نو انچ ہو۔+Qسینے کے لئے کیسہ بنانا۔ اُس میں وہ قرعے پڑے رہیں جن کی معرفت میری مرضی معلوم کی جائے گی۔ ماہر کاری گر اُسے اُن ہی چیزوں سے بنائے جن سے ہارون کا بالاپوش بنایا گیا ہے یعنی سونے اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے اور باریک کتان سے۔Nاور خالص سونے کی دو زنجیریں جو ڈوری کی طرح گُندھی ہوئی ہوں۔ پھر اِن دو زنجیروں کو سونے کے خانوں کے ساتھ لگانا۔ KhNاب دونوں زنجیریں اُن دو کڑوں سے لگانا۔ اُنہیں لگانے کے لئے دو کڑے بنا کر کیسے کے اوپر کے دو کونوں پر لگانا۔ !سینے کے کیسے پر خالص سونے کی دو زنجیریں لگانا جو ڈوری کی طرح گُندھی ہوئی ہوں۔0 [یہ بارہ جواہر اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک ایک جوہر پر ایک قبیلے کا نام کندہ کیا جائے۔ یہ نام اُس طرح کندہ کئے جائیں جس طرح مُہر کندہ کی جاتی ہے۔ چوتھی میں پکھراج، عقیقِ احمر اور یشب۔ ہر جوہر سونے کے خانے میں جڑا ہوا ہو۔U %تیسری میں زرقون، عقیق اور یاقوتِ ارغوانی۔Z/دوسری میں فیروزہ، سنگِ لاجورد اور حجر القمر۔ E  !,6ALWbmx(3>IT_ju$/:EP[fq|                                                                 !  "  #  $  %  &  '  (  )  * + !   "  #  $  %  &  '  (  )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8 Aسینے کے کیسے کے نچلے کڑے نیلی ڈوری سے بالاپوش کے اِن نچلے کڑوں کے ساتھ باندھے جائیں۔ یوں کیسہ پٹکے کے اوپر اچھی طرح سینے کے ساتھ لگا رہے گا۔lSاب دو اَور کڑے بنا کر بالاپوش کی کندھوں والی پٹیوں پر لگانا۔ یہ بھی سامنے کی طرف لگے ہوں لیکن نیچے، بالاپوش کے پٹکے کے اوپر ہی۔5کیسے کے نچلے دو کونوں پر بھی سونے کے دو کڑے لگانا۔ وہ اندر، بالاپوش کی طرف لگے ہوں۔;qاُن کے دوسرے سرے بالاپوش کی کندھوں والی پٹیوں کے دو خانوں کے ساتھ جوڑ دینا، پھر سامنے کی طرف لگانا۔ 1_1y اُس کے گریبان کو بُنے ہوئے کالر سے مضبوط کیا جائے تاکہ وہ نہ پھٹے۔(Kچوغہ بھی بُننا۔ وہ پوری طرح نیلے دھاگے سے بنایا جائے۔ چوغے کو بالاپوش سے پہلے پہنا جائے۔r_سینے کے کیسے میں دونوں قرعے بنام اُوریم اور تُمیم رکھے جائیں۔ وہ بھی مقدِس میں رب کے سامنے آتے وقت ہارون کے دل پر ہوں۔ یوں جب ہارون رب کے حضور ہو گا تو رب کی مرضی پوچھنے کا وسیلہ ہمیشہ اُس کے دل پر ہو گا۔'Iجب بھی ہارون مقدِس میں داخل ہو کر رب کے حضور آئے گا وہ اسرائیلی قبیلوں کے نام اپنے دل پر سینے کے کیسے کی صورت میں ساتھ لے جائے گا۔ یوں وہ قوم کی یاد دلاتا رہے گا۔ SSjO%اُسے نیلی ڈوری سے پگڑی کے سامنے والے حصے سے لگایا جائے}u$خالص سونے کی تختی بنا کر اُس پر یہ الفاظ کندہ کرنا، ’رب کے لئے مخصوص و مُقدّس۔‘ یہ الفاظ یوں کندہ کئے جائیں جس طرح مُہر کندہ کی جاتی ہے۔ym#ہارون خدمت کرتے وقت ہمیشہ چوغہ پہنے۔ جب وہ مقدِس میں رب کے حضور آئے گا اور وہاں سے نکلے گا تو گھنٹیاں سنائی دیں گی۔ پھر وہ نہیں مرے گا۔V'"دامن میں انار اور گھنٹیاں باری باری لگانا۔eE!نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے سے انار بنا کر اُنہیں چوغے کے دامن میں لگا دینا۔ اُن کے درمیان سونے کی گھنٹیاں لگانا۔ ?7i(ہارون کے بیٹوں کے لئے بھی زیر جامے، کمربند اور پگڑیاں بنانا تاکہ وہ پُروقار اور شاندار نظر آئیں۔@{'زیر جامے کو باریک کتان سے بُننا اور اِس طرح پگڑی بھی۔ پھر کمربند بنانا۔ اُس پر کڑھائی کا کام کیا جائے۔ym&تاکہ وہ ہارون کے ماتھے پر پڑی رہے۔ جب بھی وہ مقدِس میں جائے تو یہ تختی ساتھ ہو۔ جب اسرائیلی اپنے نذرانے لا کر رب کے لئے مخصوص کریں لیکن کسی غلطی کے باعث قصوروار ہوں تو اُن کا یہ قصور ہارون پر منتقل ہو گا۔ اِس لئے یہ تختی ہر وقت اُس کے ماتھے پر ہو تاکہ رب اسرائیلیوں کو قبول کر لے۔  o!Y+جب بھی ہارون اور اُس کے بیٹے ملاقات کے خیمے میں داخل ہوں تو اُنہیں یہ پاجامے پہننے ہیں۔ اِسی طرح جب اُنہیں مُقدّس کمرے میں خدمت کرنے کے لئے قربان گاہ کے پاس آنا ہوتا ہے تو وہ یہ پہنیں، ورنہ وہ قصوروار ٹھہر کر مر جائیں گے۔ یہ ہارون اور اُس کی اولاد کے لئے ایک ابدی اصول ہے۔ C *اُن کے لئے کتان کے پاجامے بھی بنانا تاکہ وہ زیر جامے کے نیچے ننگے نہ ہوں۔ اُن کی لمبائی کمر سے ران تک ہو۔,S)یہ سب اپنے بھائی ہارون اور اُس کے بیٹوں کو پہنانا۔ اُن کے سروں پر تیل اُنڈیل کر اُنہیں مسح کرنا۔ یوں اُنہیں اُن کے عُہدے پر مقرر کر کے میری خدمت کے لئے مخصوص کرنا۔ 7' %پھر ہارون اور اُس کے بیٹوں کو ملاقات کے خیمے کے دروازے پر لا کر غسل کرانا۔ $یہ چیزیں ٹوکری میں رکھ کر جوان بَیل اور دو مینڈھوں کے ساتھ رب کو پیش کرنا۔ #بہترین میدے سے تین قسم کی چیزیں پکانا جن میں خمیر نہ ہو۔ پہلے، سادہ روٹی۔ دوسرے، روٹی جس میں تیل ڈالا گیا ہو۔ تیسرے، روٹی جس پر تیل لگایا گیا ہو۔E" اماموں کو مقدِس میں میری خدمت کے لئے مخصوص کرنے کا یہ طریقہ ہے: ایک جوان بَیل اور دو بےعیب مینڈھے چن لینا۔ '"*? اُن کے پگڑیاں اور کمربند باندھنا۔ یوں تُو ہارون اور اُس کے بیٹوں کو اُن کے منصب پر مقرر کرنا۔ صرف وہ اور اُن کی اولاد ہمیشہ تک مقدِس میں میری خدمت کرتے رہیں۔Z)/پھر اُس کے بیٹوں کو آگے لا کر زیرجامہ پہنانا۔b(?ہارون کے سر پر مسح کا تیل اُنڈیل کر اُسے مسح کرنا۔t'cاُس کے سر پر پگڑی باندھ کر اُس پر سونے کی مُقدّس تختی لگانا۔y&mاِس کے بعد زیرجامہ، چوغہ، بالاپوش اور سینے کا کیسہ لے کر ہارون کو پہنانا۔ بالاپوش کو اُس کے مہارت سے بُنے ہوئے پٹکے کے ذریعے باندھنا۔ VZ3/aلیکن بَیل کے گوشت، کھال اور انتڑیوں کے گوبر کو خیمہ گاہ کے باہر جلا دینا۔ یہ گناہ کی قربانی ہے۔5.e انتڑیوں پر کی تمام چربی، جوڑ کلیجی اور دونوں گُردے اُن کی چربی سمیت لے کر قربان گاہ پر جلا دینا۔[-1 بیل کے خون میں سے کچھ لے کر اپنی اُنگلی سے قربان گاہ کے سینگوں پر لگانا اور باقی خون قربان گاہ کے پائے پر اُنڈیل دینا۔a,= اُسے خیمے کے دروازے کے سامنے رب کے حضور ذبح کرنا۔&+G بیل کو ملاقات کے خیمے کے سامنے لانا۔ ہارون اور اُس کے بیٹے اُس کے سر پر اپنے ہاتھ رکھیں۔ V(4/اب دوسرے مینڈھے کو لے آنا۔ ہارون اور اُس کے بیٹے اپنے ہاتھ مینڈھے کے سر پر رکھیں۔h3Kپورے مینڈھے کو قربان گاہ پر جلا دینا۔ جلنے والی یہ قربانی رب کے لئے بھسم ہونے والی قربانی ہے، اور اُس کی خوشبو رب کو پسند ہے۔G2 مینڈھے کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُس کی انتڑیوں اور پنڈلیوں کو دھونا۔ پھر اُنہیں سر اور باقی ٹکڑوں کے ساتھ ملا کرt1cاُسے ذبح کر کے اُس کا خون قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑکنا۔&0Gاِس کے بعد پہلے مینڈھے کو لے آنا۔ ہارون اور اُس کے بیٹے اپنے ہاتھ مینڈھے کے سر پر رکھیں۔ y61جو خون قربان گاہ پر پڑا ہے اُس میں سے کچھ لے کر اور مسح کے تیل کے ساتھ ملا کر ہارون اور اُس کے کپڑوں پر چھڑکنا۔ اِسی طرح اُس کے بیٹوں اور اُن کے کپڑوں پر بھی چھڑکنا۔ یوں وہ اور اُس کے بیٹے خدمت کے لئے مخصوص و مُقدّس ہو جائیں گے۔5اُس کو ذبح کرنا۔ اُس کے خون میں سے کچھ لے کر ہارون اور اُس کے بیٹوں کے دہنے کان کی لَو پر لگانا۔ اِسی طرح خون کو اُن کے دہنے ہاتھ اور دہنے پاؤں کے انگوٹھوں پر بھی لگانا۔ باقی خون قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑکنا۔ SkS8#اُس ٹوکری میں سے جو رب کے حضور یعنی خیمے کے دروازے پر پڑی ہے ایک سادہ روٹی، ایک روٹی جس میں تیل ڈالا گیا ہو اور ایک روٹی جس پر تیل لگایا گیا ہو نکالنا۔7اِس مینڈھے کا خاص مقصد یہ ہے کہ ہارون اور اُس کے بیٹوں کو مقدِس میں خدمت کرنے کا اختیار اور عُہدہ دیا جائے۔ مینڈھے کی چربی، دُم، انتڑیوں پر کی ساری چربی، جوڑ کلیجی، دونوں گُردے اُن کی چربی سمیت اور دہنی ران الگ کرنی ہے۔ bb?;yاب اُس مینڈھے کا سینہ لینا جس کی معرفت ہارون کو امامِ اعظم کا اختیار دیا جاتا ہے۔ سینے کو بھی ہلانے والی قربانی کے طور پر رب کے سامنے ہلانا۔ یہ سینہ قربانی کا تیرا حصہ ہو گا۔:پھر یہ چیزیں اُن سے واپس لے کر بھسم ہونے والی قربانی کے ساتھ قربان گاہ پر جلا دینا۔ یہ رب کے لئے جلنے والی قربانی ہے، اور اُس کی خوشبو رب کو پسند ہے۔B9مینڈھے سے الگ کی گئی چیزیں اور بےخمیری روٹی کی ٹوکری کی یہ چیزیں لے کر ہارون اور اُس کے بیٹوں کے ہاتھوں میں دینا، اور وہ اُنہیں ہلانے والی قربانی کے طور پر رب کے سامنے ہلائیں۔ Db6Dn>Wجب ہارون فوت ہو جائے گا تو اُس کے مُقدّس لباس اُس کی اولاد میں سے اُس مرد کو دینے ہیں جسے مسح کر کے ہارون کی جگہ مقرر کیا جائے گا۔(=Kہارون اور اُس کی اولاد کو اسرائیلیوں کی طرف سے ہمیشہ تک یہ ملنے کا حق ہے۔ جب بھی اسرائیلی رب کو اپنی سلامتی کی قربانیاں پیش کریں تو اماموں کو یہ دو ٹکڑے ملیں گے۔</یوں تجھے ہارون اور اُس کے بیٹوں کی مخصوصیت کے لئے مستعمل مینڈھے کے ٹکڑے مخصوص و مُقدّس کرنے ہیں۔ اُس کے سینے کو رب کے سامنے ہلانے والی قربانی کے طور پر ہلایا جائے اور اُس کی ران کو اُٹھانے والی قربانی کے طور پر اُٹھایا جائے۔ atBc!وہ یہ چیزیں کھائیں جن سے اُنہیں گناہوں کا کفارہ اور امام کا عُہدہ ملا ہے۔ لیکن کوئی اَور یہ نہ کھائے، کیونکہ یہ مخصوص و مُقدّس ہیں۔EA پھر ہارون اور اُس کے بیٹے ملاقات کے خیمے کے دروازے پر مینڈھے کا گوشت اور ٹوکری کی بےخمیری روٹیاں کھائیں۔5@eجو مینڈھا ہارون اور اُس کے بیٹوں کی مخصوصیت کے لئے ذبح کیا گیا ہے اُسے مُقدّس جگہ پر اُبالنا ہے۔b??جو بیٹا اُس کی جگہ مقرر کیا جائے گا اور مقدِس میں خدمت کرنے کے لئے ملاقات کے خیمے میں آئے گا وہ یہ لباس سات دن تک پہنے رہے۔ &TE5$اِس کے دوران گناہ کی قربانی کے طور پر روزانہ ایک جوان بَیل ذبح کرنا۔ اِس سے تُو قربان گاہ کا کفارہ دے کر اُسے ہر طرح کی ناپاکی سے پاک کرے گا۔ اِس کے علاوہ اُس پر مسح کا تیل اُنڈیلنا۔ اِس سے وہ میرے لئے مخصوص و مُقدّس ہو جائے گا۔ND#جب تُو ہارون اور اُس کے بیٹوں کو امام مقرر کرے گا تو عین میری ہدایت پر عمل کرنا۔ یہ تقریب سات دن تک منائی جائے۔VC'"اور اگر اگلی صبح تک اِس گوشت یا روٹی میں سے کچھ بچ جائے تو اُسے جلایا جائے۔ اُسے کھانا منع ہے، کیونکہ وہ مُقدّس ہے۔ =AI}(پہلے جانور کے ساتھ ڈیڑھ کلو گرام بہترین میدہ پیش کیا جائے جو کوٹے ہوئے زیتونوں کے ایک لٹر تیل کے ساتھ ملایا گیا ہو۔ مَے کی نذر کے طور پر ایک لٹر مَے بھی قربان گاہ پر اُنڈیلنا۔nHW'ایک کو صبح کے وقت، دوسرے کو سورج کے غروب ہونے کے عین بعد۔wGi&روزانہ ایک ایک سال کے دو بھیڑ کے نر بچے قربان گاہ پر جلا دینا،EF%سات دن تک قربان گاہ کا کفارہ دے کر اُسے پاک صاف کرنا اور اُسے تیل سے مخصوص و مُقدّس کرنا۔ پھر قربان گاہ نہایت مُقدّس ہو گی۔ جو بھی اُسے چھوئے گا وہ بھی مخصوص و مُقدّس ہو جائے گا۔ SA \SM,یوں مَیں ملاقات کے خیمے اور قربان گاہ کو مخصوص کروں گا اور ہارون اور اُس کے بیٹوں کو مخصوص کروں گا تاکہ وہ اماموں کی حیثیت سے میری خدمت کریں۔,LS+وہاں مَیں اسرائیلیوں سے بھی ملا کروں گا، اور وہ جگہ میرے جلال سے مخصوص و مُقدّس ہو جائے گی۔1K]*لازم ہے کہ آنے والی تمام نسلیں بھسم ہونے والی یہ قربانی باقاعدگی سے مُقدّس خیمے کے دروازے پر رب کے حضور چڑھائیں۔ وہاں مَیں تم سے ملا کروں گا اور تم سے ہم کلام ہوں گا۔;Jq)دوسرے جانور کے ساتھ بھی غلہ اور مَے کی یہ دو نذریں پیش کی جائیں۔ ایسی قربانی کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ M.*MYR-اُس کی اوپر کی سطح، اُس کے چار پہلوؤں اور اُس کے سینگوں پر خالص سونا چڑھانا۔ اوپر کی سطح کے ارد گرد سونے کی جھالر ہو۔Q{وہ ڈیڑھ فٹ لمبی، اِتنی ہی چوڑی اور تین فٹ اونچی ہو۔ اُس کے چاروں کونوں میں سے سینگ نکلیں جو قربان گاہ کے ساتھ ایک ہی ٹکڑے سے بنائے گئے ہوں۔iP Oکیکر کی لکڑی کی قربان گاہ بنانا جس پر بخور جلایا جائے۔lOS.وہ جان لیں گے کہ مَیں رب اُن کا خدا ہوں، کہ مَیں اُنہیں مصر سے نکال لایا تاکہ اُن کے درمیان سکونت کروں۔ مَیں رب اُن کا خدا ہوں۔ sNa-تب مَیں اسرائیلیوں کے درمیان رہوں گا اور اُن کا خدا ہوں گا۔ rV'جب ہارون ہر صبح شمع دان کے چراغ تیار کرے اُس وقت وہ اُس پر خوشبودار بخور جلائے۔U-اِس قربان گاہ کو خیمے کے مُقدّس کمرے میں اُس پردے کے سامنے رکھنا جس کے پیچھے عہد کا صندوق اور اُس کا ڈھکنا ہوں گے، وہ ڈھکنا جہاں مَیں تجھ سے ملا کروں گا۔cTAیہ لکڑیاں کیکر کی ہوں، اور اُن پر بھی سونا چڑھانا۔S سونے کے دو کڑے بنا کر اِن ہیں اُس جھالر کے نیچے ایک دوسرے کے مقابل پہلوؤں پر لگانا۔ اِن کڑوں میں قربان گاہ کو اُٹھانے کی لکڑیاں ڈالی جائیں گی۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr}  :  ;  <  =  >  ?  @  A ! B  :  ;  <  =  >  ?  @  A ! B " C # D $ E % F & G ' H ( I ) J * K + L , M - N . O   P  Q  R  S  T  U  V  W  X  Y  Z  [  \  ]  ^  _  `  a  b  c  d  e  f  g  h  i  j  k  l  m  n  o ! p " q # r $ s % t & u   v  w  x  y  z  {  |  }  ~ $Q$*ZQ رب نے موسیٰ سے کہا،[Y1 ہارون سال میں ایک دفعہ اُس کا کفارہ دے کر اُسے پاک کرے۔ اِس کے لئے وہ کفارے کے دن اُس قربانی کا کچھ خون سینگوں پر لگائے۔ یہ اصول بھی ابد تک قائم رہے۔ یہ قربان گاہ رب کے لئے نہایت مُقدّس ہے۔“vXg اِس قربان گاہ پر صرف جائز بخور استعمال کیا جائے۔ اِس پر نہ تو جانوروں کی قربانیاں چڑھائی جائیں، نہ غلہ یا مَے کی نذریں پیش کی جائیں۔RWسورج کے غروب ہونے کے بعد بھی جب وہ دوبارہ چراغوں کی دیکھ بھال کرے گا تو وہ ساتھ ساتھ بخور جلائے۔ یوں رب کے سامنے بخور متواتر جلتا رہے۔ لازم ہے کہ بعد کی نسلیں بھی اِس اصول پر قائم رہیں۔ 33@^{امیر اور غریب دونوں اِتنا ہی دیں، کیونکہ یہی نذرانہ رب کو پیش کرنے سے تمہاری جان کا کفارہ دیا جاتا ہے۔!]=جس کی بھی عمر 20 سال یا اِس سے زائد ہو وہ رب کو یہ رقم اُٹھانے والی قربانی کے طور پر دے۔g\I جس جس کا شمار کیا گیا ہو وہ چاندی کے آدھے سکے کے برابر رقم اُٹھانے والی قربانی کے طور پر دے۔ سکے کا وزن مقدِس کے سکّوں کے برابر ہو۔ یعنی چاندی کے سکے کا وزن 11 گرام ہو، اِس لئے چھ گرام چاندی دینی ہے۔u[e ”جب بھی تُو اسرائیلیوں کی مردم شماری کرے تو لازم ہے کہ جن کا شمار کیا گیا ہو وہ رب کو اپنی جان کا فدیہ دیں تاکہ اُن میں وبا نہ پھیلے۔ bہارون اور اُس کے بیٹے اپنے ہاتھ پاؤں دھونے کے لئے اُس کا پانی استعمال کریں۔Ga ”پیتل کا ڈھانچا بنانا جس پر پیتل کا حوض بنا کر رکھنا ہے۔ یہ حوض دھونے کے لئے ہے۔ اُسے صحن میں ملاقات کے خیمے اور جانوروں کو چڑھانے کی قربان گاہ کے درمیان رکھ کر پانی سے بھر دینا۔*`Qرب نے موسیٰ سے کہا،y_mکفارے کی یہ رقم ملاقات کے خیمے کی خدمت کے لئے استعمال کرنا۔ پھر یہ نظرانہ رب کو یاد دلاتا رہے گا کہ تمہاری جانوں کا کفارہ دیا گیا ہے۔“ 224gcاور 6 کلو گرام تیج پات۔ یہ چیزیں مقدِس کے باٹوں کے حساب سے تول کر چار لٹر زیتون کے تیل میں ڈالنا۔dfC”مسح کے تیل کے لئے عمدہ قسم کے مسالے استعمال کرنا۔ 6 کلو گرام آبِ مُر، 3 کلو گرام خوشبودار دارچینی، 3 کلو گرام خوشبودار بید*eQرب نے موسیٰ سے کہا،Xd+تو لازم ہے کہ پہلے ہاتھ پاؤں دھو لیں، ورنہ وہ مر جائیں گے۔ یہ اصول ہارون اور اُس کی اولاد کے لئے ہمیشہ تک قائم رہے۔“!c=ملاقات کے خیمے میں داخل ہونے سے پہلے ہی وہ اپنے آپ کو دھوئیں ورنہ وہ مر جائیں گے۔ اِسی طرح جب بھی وہ خیمے کے باہر کی قربان گاہ پر جانوروں کی قربانیاں چڑھائیں F]2FhlKیوں تُو یہ تمام چیزیں مخصوص و مُقدّس کرے گا۔ اِس سے وہ نہایت مُقدّس ہو جائیں گی۔ جو بھی اُنہیں چھوئے گا وہ مُقدّس ہو جائے گا۔k-جانوروں کو چڑھانے کی قربان گاہ اور اُس کا سامان، دھونے کا حوض اور اُس کا ڈھانچا۔ jمیز اور اُس کا سامان، شمع دان اور اُس کا سامان، بخور جلانے کی قربان گاہ،i9یہی تیل لے کر ملاقات کا خیمہ اور اُس کا سارا سامان مسح کرنا یعنی خیمہ، عہد کا صندوق،|hsسب کچھ ملا کر خوشبودار تیل تیار کرنا۔ وہ مُقدّس ہے اور صرف اُس وقت استعمال کیا جائے جب کوئی چیز یا شخص میرے لئے مخصوص و مُقدّس کیا جائے۔ 3Aq}"رب نے موسیٰ سے کہا، ”بخور اِس ترکیب سے بنانا ہے: مصطکی، اونِکا، بریجا اور خالص لُبان برابر کے حصوں میںPp!جو اِس ترکیب سے عام استعمال کے لئے تیل بناتا ہے یا کسی عام شخص پر لگاتا ہے اُسے اُس کی قوم میں سے مٹا ڈالنا ہے۔“~ow اِس لئے اِسے اپنے لئے استعمال نہ کرنا اور نہ اِس ترکیب سے اپنے لئے تیل بنانا۔ یہ تیل مخصوص و مُقدّس ہے اور تمہیں بھی اِسے یوں ٹھہرانا ہے۔n}اسرائیلیوں کو کہہ دے کہ یہ تیل ہمیشہ تک میرے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔Im ہارون اور اُس کے بیٹوں کو بھی اِس تیل سے مسح کرنا تاکہ وہ مُقدّس ہو کر میرے لئے امام کا کام سرانجام دے سکیں۔ r^0v _پھر رب نے موسیٰ سے کہا،.uW&جو بھی اپنے ذاتی استعمال کے لئے اِس قسم کا بخور بنائے اُسے اُس کی قوم میں سے مٹا ڈالنا ہے۔“ "t?%اِسی ترکیب کے مطابق اپنے لئے بخور نہ بنانا۔ اِسے رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ٹھہرانا ہے۔s$اِس میں سے کچھ پیس کر پاؤڈر بنانا اور ملاقات کے خیمے میں عہد کے صندوق کے سامنے ڈالنا جہاں مَیں تجھ سے ملا کروں گا۔ اِس بخور کو مُقدّس ترین ٹھہرانا۔ r#ملا کر خوشبودار بخور بنانا۔ عطرساز کا یہ کام نمکین، خالص اور مُقدّس ہو۔ *szوہ جواہر کو کاٹ کر جڑنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ وہ لکڑی کو تراش کر اُس سے مختلف چیزیں بنا سکتا ہے۔ وہ بہت سارے اَور کاموں میں بھی مہارت رکھتا ہے۔yوہ نقشے بنا کر اُن کے مطابق سونے، چاندی اور پیتل کی چیزیں بنا سکتا ہے۔3xaمَیں نے اُسے الٰہی روح سے معمور کر کے حکمت، سمجھ اور تعمیر کے ہر کام کے لئے درکار علم دے دیا ہے۔Rw”مَیں نے یہوداہ کے قبیلے کے بضلی ایل بن اُوری بن حور کو چن لیا ہے تاکہ وہ مُقدّس خیمے کی تعمیر میں راہنمائی کرے۔ YaY<~s جانوروں کو چڑھانے کی قربان گاہ اور اُس کا سامان، دھونے کا حوض اُس ڈھانچے سمیت جس پر وہ رکھا جاتا ہے،!}=میز اور اُس کا سامان، خالص سونے کا شمع دان اور اُس کا سامان، بخور جلانے کی قربان گاہ،|9یعنی ملاقات کا خیمہ، کفارے کے ڈھکنے سمیت عہد کا صندوق اور خیمے کا سارا دوسرا سامان،{1ساتھ ہی مَیں نے دان کے قبیلے کے اُہلیاب بن اخی سمک کو مقرر کیا ہے تاکہ وہ ہر کام میں اُس کی مدد کرے۔ اِس کے علاوہ مَیں نے تمام سمجھ دار کاری گروں کو مہارت دی ہے تاکہ وہ سب کچھ اُن ہدایات کے مطابق بنا سکیں جو مَیں نے تجھے دی ہیں۔ v} ”اسرائیلیوں کو بتا کہ ہر سبت کا دن ضرور مناؤ۔ کیونکہ سبت کا دن ایک نمایاں نشان ہے جس سے جان لیا جائے گا کہ مَیں رب ہوں جو تمہیں مخصوص و مُقدّس کرتا ہوں۔ اور یہ نشان میرے اور تمہارے درمیان نسل در نسل قائم رہے گا۔*Q رب نے موسیٰ سے کہا،>w مسح کا تیل اور مقدِس کے لئے خوشبودار بخور۔ یہ سب کچھ وہ ویسے ہی بنائیں جیسے مَیں نے تجھے حکم دیا ہے۔“ وہ لباس جو ہارون اور اُس کے بیٹے مقدِس میں خدمت کرنے کے لئے پہنتے ہیں، 0)وہ میرے اور اسرائیلیوں کے درمیان ابدی نشان ہو گا۔ کیونکہ رب نے چھ دن کے دوران آسمان و زمین کو بنایا جبکہ ساتویں دن اُس نے آرام کیا اور تازہ دم ہو گیا۔“ اسرائیلیوں کو حال میں اور مستقبل میں سبت کا دن ابدی عہد سمجھ کر منانا ہے۔چھ دن کام کرنا، لیکن ساتواں دن آرام کا دن ہے۔ وہ رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔7iسبت کا دن ضرور منانا، کیونکہ وہ تمہارے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔ جو بھی اُس کی بےحرمتی کرے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ جو بھی اِس دن کام کرے اُسے اُس کی قوم میں سے مٹایا جائے۔offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|]S^V_Z`^aabecjdnepftgwhzi~jk]S^V_Z`^aabecjdnepftgwhzi~jklnopqr!s%t*u/v4w6x8y;z>{B|E}I~MRVZ^bglqvz~  !#&*-036:>BFJMPTX[_chmsy} #&),048=B”FÔJĔMŔQƔUǔXȔ[ɔ_ʔb˔f̔j͔mϔoДrєwҔ| WWA } جواب میں ہارون نے کہا، ”آپ کی بیویاں، بیٹے اور بیٹیاں اپنی سونے کی بالیاں اُتار کر میرے پاس لے آئیں۔“a ? پہاڑ کے دامن میں لوگ موسیٰ کے انتظار میں رہے، لیکن بہت دیر ہو گئی۔ ایک دن وہ ہارون کے گرد جمع ہو کر کہنے لگے، ”آئیں، ہمارے لئے دیوتا بنا دیں جو ہمارے آگے آگے چلتے ہوئے ہماری راہنمائی کریں۔ کیونکہ کیا معلوم کہ اُس بندے موسیٰ کو کیا ہوا ہے جو ہمیں مصر سے نکال لایا۔“{qیہ سب کچھ موسیٰ کو بتانے کے بعد رب نے اُسے سینا پہاڑ پر شریعت کی دو تختیاں دیں۔ اللہ نے خود پتھر کی اِن تختیوں پر تمام باتیں لکھی تھیں۔ 6 g اگلے دن لوگ صبح سویرے اُٹھے اور بھسم ہونے والی قربانیاں اور سلامتی کی قربانیاں چڑھائیں۔ وہ کھانے پینے کے لئے بیٹھ گئے اور پھر اُٹھ کر رنگ رلیوں میں اپنے دل بہلانے لگے۔R  جب ہارون نے یہ دیکھا تو اُس نے بچھڑے کے سامنے قربان گاہ بنا کر اعلان کیا، ”کل ہم رب کی تعظیم میں عید منائیں گے۔“u e تو اُس نے یہ زیورات لے کر بچھڑا ڈھال دیا۔ بچھڑے کو دیکھ کر لوگ بول اُٹھے، ”اے اسرائیل، یہ تیرے دیوتا ہیں جو تجھے مصر سے نکال لائے۔“h K سب لوگ اپنی بالیاں اُتار اُتار کر ہارون کے پاس لے آئے 7f}u اللہ نے موسیٰ سے کہا، ”مَیں نے دیکھا ہے کہ یہ قوم بڑی ہٹ دھرم ہے۔M وہ کتنی جلدی سے اُس راستے سے ہٹ گئے ہیں جس پر چلنے کے لئے مَیں نے اُنہیں حکم دیا تھا۔ اُنہوں نے اپنے لئے ڈھالا ہوا بچھڑا بنا کر اُسے سجدہ کیا ہے۔ اُنہوں نے اُسے قربانیاں پیش کر کے کہا ہے، ’اے اسرائیل، یہ تیرے دیوتا ہیں۔ یہی تجھے مصر سے نکال لائے ہیں‘۔“E اُس وقت رب نے موسیٰ سے کہا، ”پہاڑ سے اُتر جا۔ تیرے لوگ جنہیں تُو مصر سے نکال لایا بڑی شرارتیں کر رہے ہیں۔ bb!= مصری کیوں کہیں، ’رب اسرائیلیوں کو صرف اِس بُرے مقصد سے ہمارے ملک سے نکال لے گیا ہے کہ اُنہیں پہاڑی علاقے میں مار ڈالے اور یوں اُنہیں رُوئے زمین پر سے مٹائے‘؟ اپنا غصہ ٹھنڈا ہونے دے اور اپنی قوم کے ساتھ بُرا سلوک کرنے سے باز رہ۔kQ لیکن موسیٰ نے کہا، ”اے رب، تُو اپنی قوم پر اپنا غصہ کیوں اُتارنا چاہتا ہے؟ تُو خود اپنی عظیم قدرت سے اُسے مصر سے نکال لایا ہے۔ اب مجھے روکنے کی کوشش نہ کر۔ مَیں اُن پر اپنا غضب اُنڈیل کر اُن کو رُوئے زمین پر سے مٹا دوں گا۔ اُن کی جگہ مَیں تجھ سے ایک بڑی قوم بنا دوں گا۔“ u =uD موسیٰ مُڑ کر پہاڑ سے اُترا۔ اُس کے ہاتھوں میں شریعت کی دونوں تختیاں تھیں۔ اُن پر آگے پیچھے لکھا گیا تھا۔L موسیٰ کے کہنے پر رب نے وہ نہیں کیا جس کا اعلان اُس نے کر دیا تھا بلکہ وہ اپنی قوم سے بُرا سلوک کرنے سے باز رہا۔oY یاد رکھ کہ تُو نے اپنے خادموں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے اپنی ہی قَسم کھا کر کہا تھا، ’مَیں تمہاری اولاد کی تعداد یوں بڑھاؤں گا کہ وہ آسمان کے ستاروں کے برابر ہو جائے گی۔ مَیں اُنہیں وہ ملک دوں گا جس کا وعدہ مَیں نے کیا ہے، اور وہ اُسے ہمیشہ کے لئے میراث میں پائیں گے‘۔“ W) جب وہ خیمہ گاہ کے نزدیک پہنچا تو اُس نے لوگوں کو سونے کے بچھڑے کے سامنے ناچتے ہوئے دیکھا۔ بڑے غصے میں آ کر اُس نے تختیوں کو زمین پر پٹخ دیا، اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پہاڑ کے دامن میں گر گئیں۔jO موسیٰ نے جواب دیا، ”نہ تو یہ فتح مندوں کے نعرے ہیں، نہ شکست کھائے ہوؤں کی چیخ پکار۔ مجھے گانے والوں کی آواز سنائی دے رہی ہے۔“0[ اُترتے اُترتے یشوع نے لوگوں کا شور سنا اور موسیٰ سے کہا، ”خیمہ گاہ میں جنگ کا شور مچ رہا ہے!“tc اللہ نے خود تختیوں کو بنا کر اُن پر اپنے احکام کندہ کئے تھے۔ E  "-8CNYdny)4?JU`kv%0;FQ\gr}                                                                              !  "  #  ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! !  " " " 6v6<s اُنہوں نے مجھ سے کہا، ’ہمارے لئے دیوتا بنا دیں جو ہمارے آگے آگے چلتے ہوئے ہماری راہنمائی کریں۔ کیونکہ کیا معلوم کہ اُس بندے موسیٰ کو کیا ہوا ہے جو ہمیں مصر سے نکال لایا۔‘!= ہارون نے کہا، ”میرے آقا۔ غصے نہ ہوں۔ آپ خود جانتے ہیں کہ یہ لوگ بدی پر تُلے رہتے ہیں۔D اُس نے ہارون سے پوچھا، ”اِن لوگوں نے تمہارے ساتھ کیا کِیا کہ تم نے اُنہیں ایسے بڑے گناہ میں پھنسا دیا؟“- موسیٰ نے اسرائیلیوں کے بنائے ہوئے بچھڑے کو جلا دیا۔ جو کچھ بچ گیا اُسے اُس نے پیس پیس کر پاؤڈر بنا ڈالا اور پاؤڈر پانی پر چھڑک کر اسرائیلیوں کو پلا دیا۔ ! موسیٰ خیمہ گاہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر بولا، ”جو بھی رب کا بندہ ہے وہ میرے پاس آئے۔“ جواب میں لاوی کے قبیلے کے تمام لوگ اُس کے پاس جمع ہو گئے۔  موسیٰ نے دیکھا کہ لوگ بےقابو ہو گئے ہیں۔ کیونکہ ہارون نے اُنہیں بےلگام چھوڑ دیا تھا، اور یوں وہ اسرائیل کے دشمنوں کے لئے مذاق کا نشانہ بن گئے تھے۔I  اِس لئے مَیں نے اُن کو بتایا، ’جس کے پاس سونے کے زیورات ہیں وہ اُنہیں اُتار لائے۔‘ جو کچھ اُنہوں نے مجھے دیا اُسے مَیں نے آگ میں پھینک دیا تو ہوتے ہوتے سونے کا یہ بچھڑا نکل آیا۔“ HH #  لاویوں نے موسیٰ کی ہدایت پر عمل کیا تو اُس دن تقریباً 3,000 مرد ہلاک ہوئے۔'"I پھر موسیٰ نے اُن سے کہا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’ہر ایک اپنی تلوار لے کر خیمہ گاہ میں سے گزرے۔ ایک سرے کے دروازے سے شروع کر کے دوسرے سرے کے دروازے تک چلتے چلتے ہر ملنے والے کو جان سے مار دو، چاہے وہ تمہارا بھائی، دوست یا رشتے دار ہی کیوں نہ ہو۔ پھر مُڑ کر مارتے مارتے پہلے دروازے پر واپس آ جاؤ‘۔“ nk&Q چنانچہ موسیٰ نے رب کے پاس واپس جا کر کہا، ”ہائے، اِس قوم نے نہایت سنگین گناہ کیا ہے۔ اُنہوں نے اپنے لئے سونے کا دیوتا بنا لیا۔ %; اگلے دن موسیٰ نے اسرائیلیوں سے بات کی، ”تم نے نہایت سنگین گناہ کیا ہے۔ توبھی مَیں اب رب کے پاس پہاڑ پر جا رہا ہوں۔ شاید مَیں تمہارے گناہ کا کفارہ دے سکوں۔“j$O یہ دیکھ کر موسیٰ نے لاویوں سے کہا، ”آج اپنے آپ کو مقدِس میں رب کی خدمت کرنے کے لئے مخصوص و مُقدّس کرو، کیونکہ تم اپنے بیٹوں اور بھائیوں کے خلاف لڑنے کے لئے تیار تھے۔ اِس لئے رب تم کو آج برکت دے گا۔“ ^H9^W*) #پھر رب نے اسرائیلیوں کے درمیان وبا پھیلنے دی، اِس لئے کہ اُنہوں نے اُس بچھڑے کی پوجا کی تھی جو ہارون نے بنایا تھا۔ ) "اب جا، لوگوں کو اُس جگہ لے چل جس کا ذکر مَیں نے کیا ہے۔ میرا فرشتہ تیرے آگے آگے چلے گا۔ لیکن جب سزا کا مقررہ دن آئے گا تب مَیں اُنہیں سزا دوں گا۔“(/ !رب نے جواب دیا، ”مَیں صرف اُس کو اپنی کتاب میں سے مٹاتا ہوں جو میرا گناہ کرتا ہے۔'' مہربانی کر کے اُنہیں معاف کر۔ لیکن اگر تُو اُنہیں معاف نہ کرے تو پھر مجھے بھی اپنی اُس کتاب میں سے مٹا دے جس میں تُو نے اپنے لوگوں کے نام درج کئے ہیں۔“ .Lx.F-!اُٹھ، اُس ملک کو جا جہاں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔ لیکن مَیں ساتھ نہیں جاؤں گا۔ تم اِتنے ہٹ دھرم ہو کہ اگر مَیں ساتھ جاؤں تو خطرہ ہے کہ تمہیں وہاں پہنچنے سے پہلے ہی برباد کر دوں۔“P,!مَیں تیرے آگے آگے فرشتہ بھیج کر کنعانی، اموری، حِتّی، فرِزّی، حِوّی اور یبوسی اقوام کو اُس ملک سے نکال دوں گا۔0+ ]!رب نے موسیٰ سے کہا، ”اِس جگہ سے روانہ ہو جا۔ اُن لوگوں کو لے کر جن کو تُو مصر سے نکال لایا ہے اُس ملک کو جا جس کا وعدہ مَیں نے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے کیا ہے۔ اُن ہی سے مَیں نے قَسم کھا کر کہا تھا، ’مَیں یہ ملک تمہاری اولاد کو دوں گا۔‘ -]- 0!اِن الفاظ پر اسرائیلیوں نے حورب یعنی سینا پہاڑ پر اپنے زیور اُتار دیئے۔/7!کیونکہ رب نے موسیٰ سے کہا تھا، ”اسرائیلیوں کو بتا کہ تم ہٹ دھرم ہو۔ اگر مَیں ایک لمحہ بھی تمہارے ساتھ چلوں تو خطرہ ہے کہ مَیں تمہیں تباہ کر دوں۔ اب اپنے زیورات اُتار ڈالو۔ پھر مَیں فیصلہ کروں گا کہ تمہارے ساتھ کیا کِیا جائے۔“.9!جب اسرائیلیوں نے یہ سخت الفاظ سنے تو وہ ماتم کرنے لگے۔ کسی نے بھی اپنے زیور نہ پہنے، PeP3! موسیٰ کے خیمے میں داخل ہونے پر بادل کا ستون اُتر کر خیمے کے دروازے پر ٹھہر جاتا۔ جتنی دیر تک رب موسیٰ سے باتیں کرتا اُتنی دیر تک وہ وہاں ٹھہرا رہتا۔G2 !جب بھی موسیٰ خیمہ گاہ سے نکل کر وہاں جاتا تو تمام لوگ اپنے خیموں کے دروازوں پر کھڑے ہو کر موسیٰ کے پیچھے دیکھنے لگتے۔ اُس کے ملاقات کے خیمے میں اوجھل ہونے تک وہ اُسے دیکھتے رہتے۔L1!اُس وقت موسیٰ نے خیمہ لے کر اُسے کچھ فاصلے پر خیمہ گاہ کے باہر لگا دیا۔ اُس نے اُس کا نام ’ملاقات کا خیمہ‘ رکھا۔ جو بھی رب کی مرضی دریافت کرنا چاہتا وہ خیمہ گاہ سے نکل کر وہاں جاتا۔ %61! موسیٰ نے رب سے کہا، ”دیکھ، تُو مجھ سے کہتا آیا ہے کہ اِس قوم کو کنعان لے چل۔ لیکن تُو میرے ساتھ کس کو بھیجے گا؟ تُو نے اب تک یہ بات مجھے نہیں بتائی حالانکہ تُو نے کہا ہے، ’مَیں تجھے بنام جانتا ہوں، تجھے میرا کرم حاصل ہوا ہے۔‘c5A! رب موسیٰ سے رُوبرُو باتیں کرتا تھا، ایسے شخص کی طرح جو اپنے دوست سے باتیں کرتا ہے۔ اِس کے بعد موسیٰ نکل کر خیمہ گاہ کو واپس چلا جاتا۔ لیکن اُس کا جوان مددگار یشوع بن نون خیمے کو نہیں چھوڑتا تھا۔W4)! جب اسرائیلی ملاقات کے خیمے کے دروازے پر بادل کا ستون دیکھتے تو وہ اپنے اپنے خیمے کے دروازے پر کھڑے ہو کر سجدہ کرتے۔ P:/!اگر تُو ہمارے ساتھ نہ جائے تو کس طرح پتا چلے گا کہ مجھے اور تیری قوم کو تیرا کرم حاصل ہوا ہے؟ ہم صرف اِسی وجہ سے دنیا کی دیگر قوموں سے الگ اور ممتاز ہیں۔“9%!موسیٰ نے کہا، ”اگر تُو خود ساتھ نہیں چلے گا تو پھر ہمیں یہاں سے روانہ نہ کرنا۔8}!رب نے جواب دیا، ”مَیں خود تیرے ساتھ چلوں گا اور تجھے آرام دوں گا۔“'7I! اگر مجھے واقعی تیرا کرم حاصل ہے تو مجھے اپنے راستے دکھا تاکہ مَیں تجھے جان لوں اور تیرا کرم مجھے حاصل ہوتا رہے۔ اِس بات کا خیال رکھ کہ یہ قوم تیری ہی اُمّت ہے۔“ {&{'>I!لیکن تُو میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا، کیونکہ جو بھی میرا چہرہ دیکھے وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔“=!رب نے جواب دیا، ”مَیں اپنی پوری بھلائی تیرے سامنے سے گزرنے دوں گا اور تیرے سامنے ہی اپنے نام رب کا اعلان کروں گا۔ مَیں جس پر مہربان ہونا چاہوں اُس پر مہربان ہوتا ہوں، اور جس پر رحم کرنا چاہوں اُس پر رحم کرتا ہوں۔c<A!پھر موسیٰ بولا، ”براہِ کرم مجھے اپنا جلال دکھا۔“h;K!رب نے موسیٰ سے کہا، ”مَیں تیری یہ درخواست بھی پوری کروں گا، کیونکہ تجھے میرا کرم حاصل ہوا ہے اور مَیں تجھے بنام جانتا ہوں۔“ bp^b1B _"رب نے موسیٰ سے کہا، ”اپنے لئے پتھر کی دو تختیاں تراش لے جو پہلی دو کی مانند ہوں۔ پھر مَیں اُن پر وہ الفاظ لکھوں گا جو پہلی تختیوں پر لکھے تھے جنہیں تُو نے پٹخ دیا تھا۔CA!اِس کے بعد مَیں اپنا ہاتھ ہٹاؤں گا اور تُو میرے پیچھے دیکھ سکے گا۔ لیکن میرا چہرہ دیکھا نہیں جا سکتا۔“ @!جب میرا جلال وہاں سے گزرے گا تو مَیں تجھے چٹان کے ایک شگاف میں رکھوں گا اور اپنا ہاتھ تیرے اوپر پھیلاؤں گا تاکہ تُو میرے گزرنے کے دوران محفوظ رہے۔ ?!پھر رب نے فرمایا، ”دیکھ، میرے پاس ایک جگہ ہے۔ وہاں کی چٹان پر کھڑا ہو جا۔ zzz.z0F["جب وہ چوٹی پر پہنچا تو رب بادل میں اُتر آیا اور اُس کے پاس کھڑے ہو کر اپنے نام رب کا اعلان کیا۔HE "چنانچہ موسیٰ نے دو تختیاں تراش لیں جو پہلی کی مانند تھیں۔ پھر وہ صبح سویرے اُٹھ کر سینا پہاڑ پر چڑھ گیا جس طرح رب نے اُسے حکم دیا تھا۔ اُس کے ہاتھوں میں پتھر کی دونوں تختیاں تھیں۔|Ds"تیرے ساتھ کوئی بھی نہ آئے بلکہ پورے پہاڑ پر کوئی اَور شخص نظر نہ آئے، یہاں تک کہ بھیڑبکریاں اور گائےبَیل بھی پہاڑ کے دامن میں نہ چریں۔“C"صبح تک تیار ہو کر سینا پہاڑ پر چڑھنا۔ چوٹی پر میرے سامنے کھڑا ہو جا۔ ":N"(JK" اُس نے کہا، ”اے رب، اگر مجھ پر تیرا کرم ہو تو ہمارے ساتھ چل۔ بےشک یہ قوم ہٹ دھرم ہے، توبھی ہمارا قصور اور گناہ معاف کر اور بخش دے کہ ہم دوبارہ تیرے ہی بن جائیں۔“DI"موسیٰ نے جلدی سے جھک کر سجدہ کیا۔!H="وہ ہزاروں پر اپنی شفقت قائم رکھتا اور لوگوں کا قصور، نافرمانی اور گناہ معاف کرتا ہے۔ لیکن وہ ہر ایک کو اُس کی مناسب سزا بھی دیتا ہے۔ جب والدین گناہ کریں تو اُن کی اولاد کو بھی تیسری اور چوتھی پشت تک سزا کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔“BG"موسیٰ کے سامنے سے گزرتے ہوئے اُس نے پکارا، ”رب، رب، رحیم اور مہربان خدا۔ تحمل، شفقت اور وفا سے بھرپور۔ ;A<;}Mu" خبردار، جو اُس ملک میں رہتے ہیں جہاں تُو جا رہا ہے اُن سے عہد نہ باندھنا۔ ورنہ وہ تیرے درمیان رہتے ہوئے تجھے گناہوں میں پھنساتے رہیں گے۔L}" جو احکام مَیں آج دیتا ہوں اُن پر عمل کرتا رہ۔ مَیں اموری، کنعانی، حِتّی، فرِزّی، حِوّی اور یبوسی اقوام کو تیرے آگے آگے ملک سے نکال دوں گا۔;Kq" تب رب نے کہا، ”مَیں تمہارے ساتھ عہد باندھوں گا۔ تیری قوم کے سامنے ہی مَیں ایسے معجزے کروں گا جو اب تک دنیا بھر کی کسی بھی قوم میں نہیں کئے گئے۔ پوری قوم جس کے درمیان تُو رہتا ہے رب کا کام دیکھے گی اور اُس سے ڈر جائے گی جو مَیں تیرے ساتھ کروں گا۔ 0P{"خبردار، اُس ملک کے باشندوں سے عہد نہ کرنا، کیونکہ تیرے درمیان رہتے ہوئے بھی وہ اپنے معبودوں کی پیروی کر کے زنا کریں گے اور اُنہیں قربانیاں چڑھائیں گے۔ آخرکار وہ تجھے بھی اپنی قربانیوں میں شرکت کی دعوت دیں گے۔O"کسی اَور معبود کی پرستش نہ کرنا، کیونکہ رب کا نام غیور ہے، اللہ غیرت مند ہے۔LN" اُن کی قربان گاہیں ڈھا دینا، اُن کے بُتوں کے ستون ٹکڑے ٹکڑے کر دینا اور اُن کی دیوی یسیرت کے کھمبے کاٹ ڈالنا۔ ~T5"ہر پہلوٹھا میرا ہے۔ تیرے مال مویشیوں کا ہر پہلوٹھا میرا ہے، چاہے بچھڑا ہو یا لیلا۔ S "بےخمیری روٹی کی عید منانا۔ ابیب کے مہینے میں سات دن تک تیری روٹی میں خمیر نہ ہو جس طرح مَیں نے حکم دیا ہے۔ کیونکہ اِس مہینے میں تُو مصر سے نکلا۔6Ri"اپنے لئے دیوتا نہ ڈھالنا۔8Qk"خطرہ ہے کہ تُو اُن کی بیٹیوں کا اپنے بیٹوں کے ساتھ رشتہ باندھے۔ پھر جب یہ اپنے معبودوں کی پیروی کر کے زنا کریں گی تو اُن کے سبب سے تیرے بیٹے بھی اُن کی پیروی کرنے لگیں گے۔ ZZ4Xc"لازم ہے کہ تیرے تمام مرد سال میں تین مرتبہ رب قادرِ مطلق کے سامنے جو اسرائیل کا خدا ہے حاضر ہوں۔W"گندم کی فصل کی کٹائی کی عید اُس وقت منانا جب تُو گیہوں کی پہلی فصل کاٹے گا۔ انگور اور پھل جمع کرنے کی عید اسرائیلی سال کے اختتام پر منانی ہے۔EV"چھ دن کام کاج کرنا، لیکن ساتویں دن آرام کرنا۔ خواہ ہل چلانا ہو یا فصل کاٹنی ہو توبھی ساتویں دن آرام کرنا۔U-"لیکن پہلوٹھے گدھے کے عوض بھیڑ دینا۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اُس کی گردن توڑ ڈالنا۔ اپنے پہلوٹھے بیٹوں کے لئے بھی عوضی دینا۔ کوئی میرے پاس خالی ہاتھ نہ آئے۔ r[_"اپنی زمین کی پہلی پیداوار میں سے بہترین حصہ رب اپنے خدا کے گھر میں لے آنا۔ بکری یا بھیڑ کے بچے کو اُس کی ماں کے دودھ میں نہ پکانا۔“2Z_"جب تُو کسی جانور کو ذبح کر کے قربانی کے طور پر پیش کرتا ہے تو اُس کے خون کے ساتھ ایسی روٹی پیش نہ کرنا جس میں خمیر ہو۔ عیدِ فسح کی قربانی سے اگلی صبح تک کچھ باقی نہ رہے۔?Yy"مَیں تیرے آگے آگے قوموں کو ملک سے نکال دوں گا اور تیری سرحدیں بڑھاتا جاؤں گا۔ پھر جب تُو سال میں تین مرتبہ رب اپنے خدا کے حضور آئے گا تو کوئی بھی تیرے ملک کا لالچ نہیں کرے گا۔ 5_e"جب ہارون اور تمام اسرائیلیوں نے دیکھا کہ موسیٰ کا چہرہ چمک رہا ہے تو وہ اُس کے پاس آنے سے ڈر گئے۔G^ "اِس کے بعد موسیٰ شریعت کی دونوں تختیوں کو ہاتھ میں لئے ہوئے سینا پہاڑ سے اُترا۔ اُس کے چہرے کی جِلد چمک رہی تھی، کیونکہ اُس نے رب سے بات کی تھی۔ لیکن اُسے خود اِس کا علم نہیں تھا۔w]i"موسیٰ چالیس دن اور چالیس رات وہیں رب کے حضور رہا۔ اِس دوران نہ اُس نے کچھ کھایا نہ پیا۔ اُس نے پتھر کی تختیوں پر عہد کے دس احکام لکھے۔c\A"رب نے موسیٰ سے کہا، ”یہ تمام باتیں لکھ لے، کیونکہ یہ اُس عہد کی بنیاد ہیں جو مَیں نے تیرے اور اسرائیل کے ساتھ باندھا ہے۔“ E  !,7BMXcny)4?JU`ju%0;FQ\gr} " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " "! "" "#  # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #  #  #  #  #!  #"  ##   $  $ $ Ayc9""جب بھی وہ رب سے بات کرنے کے لئے ملاقات کے خیمے میں جاتا تو نقاب کو خیمے سے نکلتے وقت تک اُتار لیتا۔ اور جب وہ نکل کر اسرائیلیوں کو رب سے ملے ہوئے احکام سناتاnbW"!یہ سب کچھ کہنے کے بعد موسیٰ نے اپنے چہرے پر نقاب ڈال لیا۔Da" بعد میں باقی اسرائیلی بھی آئے، اور موسیٰ نے اُنہیں تمام احکام سنائے جو رب نے اُسے کوہِ سینا پر دیئے تھے۔;`q"لیکن اُس نے اُنہیں بُلایا تو ہارون اور جماعت کے تمام سردار اُس کے پاس آئے، اور اُس نے اُن سے بات کی۔ ..ph[#موسیٰ نے اسرائیل کی پوری جماعت سے کہا، ”رب نے ہدایت دی ہے^g7#ہفتے کے دن اپنے تمام گھروں میں آگ تک نہ جلانا۔“rf_#چھ دن کام کاج کیا جائے، لیکن ساتواں دن مخصوص و مُقدّس ہو۔ وہ رب کے لئے آرام کا سبت ہے۔ جو بھی اِس دن کام کرے اُسے سزائے موت دی جائے۔e )#موسیٰ نے اسرائیل کی پوری جماعت کو اکٹھا کر کے کہا، ”رب نے تم کو یہ حکم دیئے ہیں:jdO"#تو وہ دیکھتے کہ اُس کے چہرے کی جِلد چمک رہی ہے۔ اِس کے بعد موسیٰ دوبارہ نقاب کو اپنے چہرے پر ڈال لیتا، اور وہ اُس وقت تک چہرے پر رہتا جب تک موسیٰ رب سے بات کرنے کے لئے ملاقات کے خیمے میں نہ جاتا تھا۔ O8"m?# عقیقِ احمر اور دیگر جواہر جو امامِ اعظم کے بالاپوش اور سینے کے کیسے میں جڑے جائیں گے۔l+#شمع دان کے لئے زیتون کا تیل، مسح کرنے کے لئے تیل اور خوشبودار بخور کے لئے مسالے،xkk#مینڈھوں کی سرخ رنگی ہوئی کھالیں، تخس کی کھالیں، کیکر کی لکڑی،zjo#نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا، باریک کتان، بکری کے بال،0i[#کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے اُس میں سے ہدیئے لا کر رب کو اُٹھانے والی قربانی کے طور پر پیش کرو۔ جو بھی دلی خوشی سے دینا چاہے وہ اِن چیزوں میں سے کچھ دے: سونا، چاندی، پیتل؛ zoJs#بخور جلانے کی قربان گاہ، اُسے اُٹھانے کی لکڑیاں، مسح کا تیل، خوشبودار بخور، مُقدّس خیمے کے دروازے کا پردہ،r #شمع دان اور اُس پر رکھنے کے چراغ اُس کے سامان سمیت، شمع دان کے لئے تیل،q# مخصوص روٹیوں کی میز، اُسے اُٹھانے کی لکڑیاں، اُس کا سارا سامان اور روٹیاں،7pi# عہد کا صندوق، اُسے اُٹھانے کی لکڑیاں، اُس کے کفارے کا ڈھکنا، مُقدّس ترین کمرے کے دروازے کا پردہ،8ok# یعنی خیمہ اور وہ غلاف جو اُس کے اوپر لگائے جائیں گے، ہکیں، دیواروں کے تختے، شہتیر، ستون اور پائے،n# تم میں سے جتنے ماہر کاری گر ہیں وہ آ کر وہ کچھ بنائیں جو رب نے فرمایا [ j^y7#اور جو جو دلی خوشی سے دینا چاہتا تھا وہ ملاقات کے خیمے، اُس کے سامان یا اماموں کے کپڑوں کے لئے کوئی ہدیہ لے کر واپس آیا۔kxQ#یہ سن کر اسرائیل کی پوری جماعت موسیٰ کے پاس سے چلی گئی۔w5#اور وہ مُقدّس لباس جو ہارون اور اُس کے بیٹے مقدِس میں خدمت کرنے کے لئے پہنتے ہیں۔“Mv#خیمے اور چاردیواری کی میخیں اور رسّے، u#چاردیواری کے پردے اُن کے کھمبوں اور پائیوں سمیت، صحن کے دروازے کا پردہ،t!#جانوروں کو چڑھانے کی قربان گاہ، اُس کا پیتل کا جنگلا، اُسے اُٹھانے کی لکڑیاں اور باقی سارا سامان، دھونے کا حوض اور وہ ڈھانچا جس پر حوض رکھا جاتا ہے، v3evk}Q#اور جتنی عورتیں کاتنے میں ماہر تھیں وہ اپنی کاتی ہوئی چیزیں لے آئیں یعنی نیلے، قرمزی اور ارغوانی رنگ کا دھاگا اور باریک کتان۔q|]#چاندی، پیتل اور کیکر کی لکڑی بھی ہدیئے کے طور پر لائی گئی۔V{'#جس جس کے پاس درکار چیزوں میں سے کچھ تھا وہ اُسے موسیٰ کے پاس لے آیا یعنی نیلے، قرمزی اور ارغوانی رنگ کا دھاگا، باریک کتان، بکری کے بال، مینڈھوں کی سرخ رنگی ہوئی کھالیں اور تخس کی کھالیں۔Iz #رب کے ہدیئے کے لئے مرد اور خواتین دلی خوشی سے اپنے سونے کے زیورات مثلاً جڑاؤ پِنیں، بالیاں اور چھلے لے آئے۔ !d#یوں اسرائیل کے تمام مرد اور خواتین جو دلی خوشی سے رب کو کچھ دینا چاہتے تھے اُس سارے کام کے لئے ہدیئے لے آئے جو رب نے موسیٰ کی معرفت کرنے کو کہا تھا۔1#وہ شمع دان، مسح کے تیل اور خوشبودار بخور کے لئے مسالے اور زیتون کا تیل بھی لے آئے۔9m#سردار عقیقِ احمر اور دیگر جواہر لے آئے جو امامِ اعظم کے بالاپوش اور سینے کے کیسے کے لئے درکار تھے۔[~1#اِسی طرح جو جو عورت بکری کے بال کاتنے میں ماہر تھی اور دلی خوشی سے مقدِس کے لئے کام کرنا چاہتی تھی وہ یہ کات کر لے آئی۔ EGE7i#"ساتھ ہی رب نے اُسے اور دان کے قبیلے کے اُہلیاب بن اخی سمک کو دوسروں کو سکھانے کی قابلیت بھی دی ہے۔#!وہ جواہر کو کاٹ کر جڑنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ وہ لکڑی کو تراش کر اُس سے مختلف چیزیں بنا سکتا ہے۔ وہ بہت سارے اَور کاموں میں بھی مہارت رکھتا ہے۔# وہ نقشے بنا کر اُن کے مطابق سونے، چاندی اور پیتل کی چیزیں بنا سکتا ہے۔1]#اُس نے اُسے الٰہی روح سے معمور کر کے حکمت، سمجھ اور تعمیر کے ہر کام کے لئے درکار علم دے دیا ہے۔5e#پھر موسیٰ نے اسرائیلیوں سے کہا، ”رب نے یہوداہ کے قبیلے کے بضلی ایل بن اُوری بن حور کو چن لیا ہے۔  3$لازم ہے کہ بضلی ایل، اُہلیاب اور باقی کاری گر جن کو رب نے مقدِس کی تعمیر کے لئے حکمت اور سمجھ دی ہے سب کچھ عین اُن ہدایات کے مطابق بنائیں جو رب نے دی ہیں۔“]5##اُس نے اُنہیں وہ مہارت اور حکمت دی ہے جو ہر کام کے لئے درکار ہے یعنی کاری گری کے ہر کام کے لئے، کڑھائی کے کام کے لئے، نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے اور باریک کتان سے کپڑا بنانے کے لئے اور بُنائی کے کام کے لئے۔ وہ ماہر کاری گر ہیں اور نقشے بھی بنا سکتے ہیں۔ 7 7Q $اُنہوں نے کہا، ”لوگ حد سے زیادہ لا رہے ہیں۔ جس کام کا حکم رب نے دیا ہے اُس کے لئے اِتنے سامان کی ضرورت نہیں ہے۔“& G$آخرکار تمام کاری گر جو مقدِس بنانے کے کام میں لگے تھے اپنا کام چھوڑ کر موسیٰ کے پاس آئے۔s a$اُنہیں موسیٰ سے تمام ہدیئے ملے جو اسرائیلی مقدِس کی تعمیر کے لئے لائے تھے۔ اِس کے بعد بھی لوگ روز بہ روز صبح کے وقت ہدیئے لاتے رہے۔O $موسیٰ نے بضلی ایل اور اُہلیاب کو بُلایا۔ ساتھ ہی اُس نے ہر اُس کاری گر کو بھی بُلایا جسے رب نے مقدِس کی تعمیر کے لئے حکمت اور مہارت دی تھی اور جو خوشی سے آنا اور یہ کام کرنا چاہتا تھا۔ T#$ ہر پردے کی لمبائی 42 فٹ اور چوڑائی 6 فٹ تھی۔xk$جو کاری گر مہارت رکھتے تھے اُنہوں نے خیمے کو بنایا۔ اُنہوں نے باریک کتان اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی دھاگے سے دس پردے بنائے۔ پردوں پر کسی ماہر کاری گر کے کڑھائی کے کام سے کروبی فرشتوں کا ڈیزائن بنایا گیا۔cA$کیونکہ کام کے لئے سامان ضرورت سے زیادہ ہو گیا تھا۔ $تب موسیٰ نے پوری خیمہ گاہ میں اعلان کروا دیا کہ کوئی مرد یا عورت مقدِس کی تعمیر کے لئے اب کچھ نہ لائے۔ یوں اُنہیں مزید چیزیں لانے سے روکا گیا، u;?nuue$ پھر بضلی ایل نے سونے کی 50 ہکیں بنا کر اُن سے آمنے سامنے کے حلقوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا۔ یوں دونوں ٹکڑوں کے جوڑنے سے خیمہ بن گیا۔M$ ایک ٹکڑے کے حاشئے پر 50 حلقے اور دوسرے پر بھی اُتنے ہی حلقے۔ اِن دو حاشیوں کے حلقے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔xk$ دونوں ٹکڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانے کے لئے اُنہوں نے نیلے دھاگے کے حلقے بنائے۔ یہ حلقے ہر ٹکڑے کے 42 فٹ والے ایک کنارے پر لگائے گئے،A}$ پانچ پردوں کے لمبے حاشئے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے گئے اور اِسی طرح باقی پانچ بھی۔ یوں دو بڑے ٹکڑے بن گئے۔ ad xa`;$پھر پیتل کی 50 ہکیں بنا کر اُس نے دونوں حصے ملائے۔0[$اِن دونوں ٹکڑوں کو ملانے کے لئے اُس نے ہر ٹکڑے کے 45 فٹ والے ایک کنارے پر پچاس پچاس حلقے لگائے۔$پانچ پردوں کے لمبے حاشئے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے گئے اور اِس طرح باقی چھ بھی۔T#$ہر پردے کی لمبائی 45 فٹ اور چوڑائی 6 فٹ تھی۔+$اُس نے بکری کے بالوں سے بھی 11 پردے بنائے جنہیں کپڑے والے خیمے کے اوپر رکھنا تھا۔ ErtEV'$خیمے کی جنوبی دیوار کے لئے 20 تختے بنائے گئےR$ہر تختے کے نیچے دو دو چولیں تھیں۔ اِن چولوں سے ہر تختے کو اُس کے پائیوں کے ساتھ جوڑا جاتا تھا تاکہ تختہ کھڑا رہے۔`;$ہر تختے کی اونچائی 15 فٹ تھی اور چوڑائی سوا دو فٹ۔)$اِس کے بعد اُس نے کیکر کی لکڑی کے تختے بنائے جو خیمے کی دیواروں کا کام دیتے تھے۔ $ایک دوسرے کے اوپر کے دونوں خیموں کی حفاظت کے لئے بضلی ایل نے دو اَور غلاف بنائے۔ بکری کے بالوں کے خیمے پر رکھنے کے لئے اُس نے مینڈھوں کی سرخ رنگی ہوئی کھالیں جوڑ دیں اور اُس کے اوپر رکھنے کے لئے تخس کی کھالیں ملائیں۔ $#C$اِس دیوار کو شمالی اور جنوبی دیواروں کے ساتھ جوڑنے کے لئے کونے والے دو تختے بنائے گئے۔n"W$خیمے کی پچھلی یعنی مغربی دیوار کے لئے چھ تختے بنائے گئے۔(!K$اور ساتھ ہی چاندی کے 40 پائے جو تختوں کو کھڑا کرنے کے لئے تھے۔ ہر تختے کے نیچے دو پائے تھے۔m U$اِسی طرح خیمے کی شمالی دیوار کے لئے بھی 20 تختے بنائے گئےdC$اور ساتھ ہی چاندی کے 40 پائے بھی جن پر تختے کھڑے کئے جاتے تھے۔ ہر تختے کے نیچے دو پائے تھے، اور ہر پائے میں ایک چول لگتی تھی۔ >&w$پھر بضلی ایل نے کیکر کی لکڑی کے شہتیر بنائے، تینوں دیواروں کے لئے پانچ پانچ شہتیر۔ وہ ہر دیوار کے تختوں پر یوں لگانے کے لئے تھے کہ اُن سے تختے ایک دوسرے کے ساتھ ملائے جائیں۔S%!$یوں پچھلے یعنی مغربی تختوں کی پوری تعداد 8 تھی اور اِن کے لئے چاندی کے پائیوں کی تعداد 16، ہر تختے کے نیچے دو پائے۔X$+$اِن دو تختوں میں نیچے سے لے کر اوپر تک کونا تھا تاکہ ایک سے شمالی دیوار مغربی دیوار کے ساتھ جُڑ جائے اور دوسرے سے جنوبی دیوار مغربی دیوار کے ساتھ۔ اِن کے اوپر کے سرے کڑوں سے مضبوط کئے گئے۔ E  !,7BMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr} $ $ $  $  $  $  $  $  $  $ $ $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $ $ ! $ " $ # $ $ $ % $ & $ ' $! ( $" ) $# * $$ + $% , $& -  % . % / % 0 % 1 % 2 % 3 % 4 % 5 % 6 % 7 % 8 % 9 % : % ; % < % = % > % ? % @ % A % B % C % D % E % F % G % H % I % J  & K & L & M & N & O & P v)g$"اُس نے تمام تختوں اور شہتیروں پر سونا چڑھایا۔ شہتیروں کو تختوں کے ساتھ لگانے کے لئے اُس نے سونے کے کڑے بنائے جو تختوں میں لگانے تھے۔C($!درمیانی شہتیر یوں بنایا گیا کہ وہ دیوار کی آدھی اونچائی پر دیوار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لگ سکتا تھا۔>'w$ پھر بضلی ایل نے کیکر کی لکڑی کے شہتیر بنائے، تینوں دیواروں کے لئے پانچ پانچ شہتیر۔ وہ ہر دیوار کے تختوں پر یوں لگانے کے لئے تھے کہ اُن سے تختے ایک دوسرے کے ساتھ ملائے جائیں۔ ~~ ,;$%بضلی ایل نے خیمے کے دروازے کے لئے بھی پردہ بنایا۔ وہ بھی باریک کتان اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے سے بنایا گیا، اور اُس پر کڑھائی کا کام کیا گیا۔l+S$$پھر اُس نے پردے کو لٹکانے کے لئے کیکر کی لکڑی کے چار ستون، سونے کی ہکیں اور چاندی کے چار پائے بنائے۔ ستونوں پر سونا چڑھایا گیا۔j*O$#اب بضلی ایل نے ایک اَور پردہ بنایا۔ اُس کے لئے بھی باریک کتان اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا استعمال ہوا۔ اُس پر بھی کسی ماہر کاری گر کے کڑھائی کے کام سے کروبی فرشتوں کا ڈیزائن بنایا گیا۔ V1VW0)%صندوق کو اُٹھانے کے لئے اُس نے سونے کے چار کڑے ڈھال کر اُنہیں صندوق کے چارپائیوں پر لگایا۔ دونوں طرف دو دو کڑے تھے۔F/%اُس نے پورے صندوق پر اندر اور باہر سے خالص سونا چڑھایا۔ اوپر کی سطح کے ارد گرد اُس نے سونے کی جھالر لگائی۔\. 5%بضلی ایل نے کیکر کی لکڑی کا صندوق بنایا۔ اُس کی لمبائی پونے چار فٹ تھی جبکہ اُس کی چوڑائی اور اونچائی سوا دو دو فٹ تھی۔!-=$&اِس پردے کو لٹکانے کے لئے اُس نے سونے کی ہکیں اور کیکر کی لکڑی کے پانچ ستون بنائے۔ ستونوں کے سروں اور پٹیوں پر سونا چڑھایا گیا جبکہ اُن کے پائے پیتل کے تھے۔ [p4[%پھر اُس نے دو کروبی فرشتے سونے سے گھڑ کر بنائے جو ڈھکنے کے دونوں سروں پر کھڑے تھے۔ یہ دو فرشتے اور ڈھکنا ایک ہی ٹکڑے سے بنائے گئے۔83k%بضلی ایل نے صندوق کا ڈھکنا خالص سونے کا بنایا۔ اُس کی لمبائی پونے چار فٹ اور چوڑائی سوا دو فٹ تھی۔$2C%اُس نے اِن لکڑیوں کو دونوں طرف کے کڑوں میں ڈال دیا تاکہ اُن سے صندوق کو اُٹھایا جا سکے۔!1=%پھر اُس نے کیکر کی دو لکڑیاں صندوق کو اُٹھانے کے لئے تیار کیں اور اُن پر سونا چڑھایا۔  "8{% اُس نے اُس پر خالص سونا چڑھا کر اُس کے ارد گرد سونے کی جھالر لگائی۔R7% اِس کے بعد بضلی ایل نے کیکر کی لکڑی کی میز بنائی۔ اُس کی لمبائی تین فٹ، چوڑائی ڈیڑھ فٹ اور اونچائی سوا دو فٹ تھی۔6% فرشتوں کے پَر یوں اوپر کی طرف پھیلے ہوئے تھے کہ وہ ڈھکنے کو پناہ دیتے تھے۔ اُن کے منہ ایک دوسرے کی طرف کئے ہوئے تھے، اور وہ ڈھکنے کی طرف دیکھتے تھے۔p5[%پھر اُس نے دو کروبی فرشتے سونے سے گھڑ کر بنائے جو ڈھکنے کے دونوں سروں پر کھڑے تھے۔ یہ دو فرشتے اور ڈھکنا ایک ہی ٹکڑے سے بنائے گئے۔ s;LsU=%%آخرکار اُس نے خالص سونے کے وہ تھال، پیالے، مَے کی نذریں پیش کرنے کے برتن اور مرتبان بنائے جو اُس پر رکھے جاتے تھے۔|<s%بضلی ایل نے یہ لکڑیاں بھی کیکر سے بنائیں اور اُن پر سونا چڑھایا۔D;%یہ کڑے میز کی سطح پر لگے چوکھٹے کے نیچے لگائے گئے۔ اُن میں وہ لکڑیاں ڈالنی تھیں جن سے میز کو اُٹھانا تھا۔$:C% اب اُس نے سونے کے چار کڑے ڈھال کر اُنہیں چاروں کونوں پر لگایا جہاں میز کے پائے لگے تھے۔A9}% میز کی اوپر کی سطح پر اُس نے چوکھٹا بھی لگایا جس کی اونچائی تین انچ تھی اور جس پر سونے کی جھالر لگی تھی۔ ZU6ZXB+%اِن میں سے تین پیالیاں دائیں بائیں کی چھ شاخوں کے نیچے لگی تھیں۔ وہ یوں لگی تھیں کہ ہر پیالی سے دو شاخیں نکلتی تھیں۔A %شمع دان کی ڈنڈی پر بھی اِس قسم کی پیالیاں لگی تھیں، لیکن تعداد میں چار۔@%ہر شاخ پر تین پیالیاں لگی تھیں جو بادام کی کلیوں اور پھولوں کی شکل کی تھیں۔i?M%ڈنڈی سے دائیں اور بائیں طرف تین تین شاخیں نکلتی تھیں۔;>q%پھر بضلی ایل نے خالص سونے کا شمع دان بنایا۔ اُس کا پایہ اور ڈنڈی گھڑ کر بنائے گئے۔ اُس کی پیالیاں جو پھولوں اور کلیوں کی شکل کی تھیں پائے اور ڈنڈی کے ساتھ ایک ہی ٹکڑا تھیں۔ Cb[CF}%بضلی ایل نے کیکر کی لکڑی کی قربان گاہ بنائی جو بخور جلانے کے لئے تھی۔ وہ ڈیڑھ فٹ لمبی، اِتنی ہی چوڑی اور تین فٹ اونچی تھی۔ اُس کے چار کونوں میں سے سینگ نکلتے تھے جو قربان گاہ کے ساتھ ایک ہی ٹکڑے سے بنائے گئے تھے۔E%شمع دان اور اُس کے تمام سامان کے لئے پورے 34 کلو گرام خالص سونا استعمال ہوا۔D%بضلی ایل نے شمع دان کے لئے خالص سونے کے سات چراغ بنائے۔ اُس نے بتی کترنے کی قینچیاں اور جلتے کوئلے کے لئے چھوٹے برتن بھی خالص سونے سے بنائے۔C/%شاخیں اور پیالیاں بلکہ پورا شمع دان خالص سونے کے ایک ہی ٹکڑے سے گھڑ کر بنایا گیا۔ -JU%بضلی ایل نے مسح کرنے کا مُقدّس تیل اور خوشبودار خالص بخور بھی بنایا۔ یہ عطرساز کا کام تھا۔ lIS%یہ لکڑیاں کیکر کی تھیں، اور اُن پر بھی سونا چڑھایا گیا۔ H%سونے کے دو کڑے بنا کر اُس نے اُنہیں اِس جھالر کے نیچے ایک دوسرے کے مقابل پہلوؤں پر لگایا۔ اِن کڑوں میں قربان گاہ کو اُٹھانے کی لکڑیاں ڈالی گئیں۔{Gq%اُس کی اوپر کی سطح، اُس کے چار پہلوؤں اور اُس کے سینگوں پر خالص سونا چڑھایا گیا۔ اوپر کی سطح کے ارد گرد بضلی ایل نے سونے کی جھالر بنائی۔ M1&اُس کا تمام ساز و سامان اور برتن بھی پیتل کے تھے یعنی راکھ کو اُٹھا کر لے جانے کی بالٹیاں، بیلچے، کانٹے، جلتے ہوئے کوئلے کے لئے برتن اور چھڑکاؤ کے کٹورے۔SL!&اُس کے اوپر چاروں کونوں میں سے سینگ نکلتے تھے۔ سینگ اور قربان گاہ ایک ہی ٹکڑے کے تھے، اور اُس پر پیتل چڑھایا گیا۔3K c&بضلی ایل نے کیکر کی لکڑی کی ایک اَور قربان گاہ بنائی جو بھسم ہونے والی قربانیوں کے لئے تھی۔ اُس کی اونچائی ساڑھے چار فٹ، اُس کی لمبائی اور چوڑائی ساڑھے سات سات فٹ تھی۔ dQC&اور قربان گاہ کے دونوں طرف لگے اِن کڑوں میں ڈال دیں۔ یوں اُسے اُٹھایا جا سکتا تھا۔ قربان گاہ لکڑی کی تھی لیکن کھوکھلی تھی۔iPM&پھر اُس نے کیکر کی دو لکڑیاں بنا کر اُن پر پیتل چڑھایا!O=&اُس نے قربان گاہ کو اُٹھانے کے لئے چار کڑے بنا کر اُنہیں جنگلے کے چار کونوں پر لگایا۔`N;&قربان گاہ کو اُٹھانے کے لئے اُس نے پیتل کا جنگلا بنایا۔ وہ اوپر سے کھلا تھا اور یوں بنایا گیا کہ جب قربان گاہ اُس میں رکھی جائے تو وہ اُس کنارے تک پہنچے جو قربان گاہ کی آدھی اونچائی پر لگی تھی۔ `[U1& چاردیواری شمال کی طرف بھی اِسی طرح بنائی گئی۔T7& کپڑے کو لگانے کے لئے چاندی کی ہکیں، پٹیاں، لکڑی کے کھمبے اور اُن کے پائے بنائے گئے۔^S7& پھر بضلی ایل نے صحن بنایا۔ اُس کی چاردیواری باریک کتان کے کپڑے سے بنائی گئی۔ چاردیواری کی لمبائی جنوب کی طرف 150 فٹ تھی۔R+&بضلی ایل نے دھونے کا حوض اور اُس کا ڈھانچا بھی پیتل سے بنایا۔ اُس کا پیتل اُن عورتوں کے آئینوں سے ملا تھا جو ملاقات کے خیمے کے دروازے پر خدمت کرتی تھیں۔ G,XS&کپڑا دروازے کے دائیں طرف ساڑھے 22 فٹ چوڑا تھا اور اُس کے بائیں طرف بھی اُتنا ہی چوڑا۔ اُسے دونوں طرف تین تین کھمبوں کے ساتھ لگایا گیا جو پیتل کے پائیوں پر کھڑے تھے۔W%& سامنے، مشرق کی طرف جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے چاردیواری کی چوڑائی بھی 75 فٹ تھی۔V3& خیمے کے پیچھے مغرب کی طرف چاردیواری کی چوڑائی 75 فٹ تھی۔ کپڑے کے علاوہ اُس کے لئے 10 کھمبے، 10 پائے اور کپڑا لگانے کے لئے چاندی کی ہکیں اور پٹیاں بنائی گئیں۔ aZ[/&کھمبے پیتل کے پائیوں پر کھڑے تھے، اور پردے چاندی کی ہکوں اور پٹیوں سے کھمبوں کے ساتھ لگے تھے۔ کھمبوں کے اوپر کے سروں پر چاندی چڑھائی گئی تھی۔ صحن کے تمام کھمبوں پر چاندی کی پٹیاں لگی تھیں۔lZS&چاردیواری کے تمام پردوں کے لئے باریک کتان استعمال ہوا۔,YS&کپڑا دروازے کے دائیں طرف ساڑھے 22 فٹ چوڑا تھا اور اُس کے بائیں طرف بھی اُتنا ہی چوڑا۔ اُسے دونوں طرف تین تین کھمبوں کے ساتھ لگایا گیا جو پیتل کے پائیوں پر کھڑے تھے۔ 3_)&ذیل میں اُس سامان کی فہرست ہے جو مقدِس کی تعمیر کے لئے استعمال ہوا۔ موسیٰ کے حکم پر امامِ اعظم ہارون کے بیٹے اِتمر نے لاویوں کی معرفت یہ فہرست تیار کی۔]^5&خیمے اور چاردیواری کی تمام میخیں پیتل کی تھیں۔u]e&اُس کے چار کھمبے اور پیتل کے چار پائے تھے۔ اُس کی ہکیں اور پٹیاں چاندی کی تھیں، اور کھمبوں کے اوپر کے سِروں پر چاندی چڑھائی گئی تھی۔p\[&چاردیواری کے دروازے کا پردہ نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے اور باریک کتان سے بنایا گیا، اور اُس پر کڑھائی کا کام کیا گیا۔ وہ 30 فٹ چوڑا اور چاردیواری کے دوسرے پردوں کی طرح ساڑھے سات فٹ اونچا تھا۔ Qb#&اُس سونے کا وزن جو لوگوں کے ہدئیوں سے جمع ہوا اور مقدِس کی تعمیر کے لئے استعمال ہوا تقریباً 1,000 کلو گرام تھا (اُسے مقدِس کے باٹوں کے حساب سے تولا گیا)۔^a7&اُس کے ساتھ دان کے قبیلے کا اُہلیاب بن اخی سمک تھا جو کاری گری کے ہر کام اور کڑھائی کے کام میں ماہر تھا۔ وہ نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے اور باریک کتان سے کپڑا بنانے میں بھی ماہر تھا۔)+`Q&(یہوداہ کے قبیلے کے بضلی ایل بن اُوری بن حور نے وہ سب کچھ بنایا جو رب نے موسیٰ کو بتایا تھا۔ 2f}&تقریباً 30 کلو گرام چاندی بچ گئی۔ اِس سے چاردیواری کے کھمبوں کی ہکیں اور پٹیاں بنائی گئیں، اور یہ کھمبوں کے اوپر کے سروں پر بھی چڑھائی گئی۔e+&چونکہ دیواروں کے تختوں کے پائے اور مُقدّس ترین کمرے کے دروازے کے ستونوں کے پائے چاندی کے تھے اِس لئے تقریباً پوری چاندی اِن 100 پائیوں کے لئے صَرف ہوئی۔Kd&جن مردوں کی عمر 20 سال یا اِس سے زائد تھی اُنہیں چاندی کا آدھا آدھا سکہ دینا پڑا۔ مردوں کی کُل تعداد 6,03,550 تھی۔{cq&تعمیر کے لئے چاندی جو مردم شماری کے حساب سے وصول ہوئی، اُس کا وزن تقریباً 3,430 کلو گرام تھا (اُسے بھی مقدِس کے باٹوں کے حساب سے تولا گیا)۔ jj Q'بضلی ایل کی ہدایت پر کاری گروں نے نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا لے کر مقدِس میں خدمت کے لئے لباس بنائے۔ اُنہوں نے ہارون کے مُقدّس کپڑے اُن ہدایات کے عین مطابق بنائے جو رب نے موسیٰ کو دی تھیں۔;iq&چاردیواری کے پائے، صحن کے دروازے کے پائے اور خیمے اور چاردیواری کی تمام میخیں اِسی سے بنائی گئیں۔ -hU&خیمے کے دروازے کے پائے، جانوروں کو چڑھانے کی قربان گاہ، اُس کا جنگلا، برتن اور ساز و سامان،wgi&جو پیتل ہدئیوں سے جمع ہوا اُس کا وزن تقریباً 2,425 کلو گرام تھا۔ "fmG'اُنہوں نے بالاپوش کے لئے دو پٹیاں بنائیں اور اُنہیں بالاپوش کے کندھوں پر رکھ کر سامنے اور پیچھے سے بالاپوش کے ساتھ لگائیں۔vlg'اُنہوں نے سونے کو کوٹ کوٹ کر ورق بنایا اور پھر اُسے کاٹ کر دھاگے بنائے۔ جب نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے اور باریک کتان سے کپڑا بنایا گیا تو سونے کا یہ دھاگا مہارت سے کڑھائی کے کام میں استعمال ہوا۔Zk/'اُنہوں نے امامِ اعظم کا بالاپوش بنانے کے لئے سونا، نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا اور باریک کتان استعمال کیا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr} & R & S & T & U & V & W & X & Y & Z & R & S & T & U & V & W & X & Y & Z & [ & \ & ] & ^ & _ & ` & a & b & c & d & e & f & g & h & i  ' j ' k ' l ' m ' n ' o ' p ' q ' r ' s ' t ' u ' v ' w ' x ' y ' z ' { ' | ' } ' ~ '  ' ' ' ' ' ' ' ' ' ' '! '" '# '$ '% '& '' '( ') '* '+  ( ( 66Zo/'پھر اُنہوں نے عقیقِ احمر کے دو پتھر چن لئے اور اُنہیں سونے کے خانوں میں جڑ کر اُن پر اسرائیل کے بارہ بیٹوں کے نام کندہ کئے۔ یہ نام جوہروں پر اُس طرح کندہ کئے گئے جس طرح مُہر کندہ کی جاتی ہے۔hnK'پٹکا بھی بنایا گیا جس سے بالاپوش کو باندھا جاتا تھا۔ اِس کے لئے بھی سونا، نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کا دھاگا اور باریک کتان استعمال ہوا۔ یہ اُن ہدایات کے عین مطابق ہوا جو رب نے موسیٰ کو دی تھیں۔ jr' جب کپڑے کو ایک دفعہ تہہ کیا گیا تو کیسے کی لمبائی اور چوڑائی نو نو انچ تھی۔fqG'اِس کے بعد اُنہوں نے سینے کا کیسہ بنایا۔ یہ ماہر کاری گر کا کام تھا اور اُن ہی چیزوں سے بنا جن سے ہارون کا بالاپوش بھی بنا تھا یعنی سونے اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے اور باریک کتان سے۔(pK'اُنہوں نے پتھروں کو بالاپوش کی دو پٹیوں پر یوں لگایا کہ وہ ہارون کے کندھوں پر رب کو اسرائیلیوں کی یاد دلاتے رہیں۔ یہ سب کچھ رب کی دی گئی ہدایات کے عین مطابق ہوا۔ 3~1w]'یہ بارہ جواہر اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ ایک ایک جوہر پر ایک قبیلے کا نام کندہ کیا گیا، اور یہ نام اُس طرح کندہ کئے گئے جس طرح مُہر کندہ کی جاتی ہے۔v' چوتھی میں پکھراج، عقیقِ احمر اور یشب۔ ہر جوہر سونے کے خانے میں جڑا ہوا تھا۔Uu%' تیسری میں زرقون، عقیق اور یاقوتِ ارغوانی۔Zt/' دوسری میں فیروزہ، سنگِ لاجورد اور حجر القمر۔Is ' اُنہوں نے اُس پر چار قطاروں میں جواہر جڑے۔ ہر قطار میں تین تین جوہر تھے۔ پہلی قطار میں لعل، زبرجد اور زمرد۔ GxF/|Y'اُنہوں نے کیسے کے نچلے دو کونوں پر بھی سونے کے دو کڑے لگائے۔ وہ اندر، بالاپوش کی طرف لگے تھے۔I{ 'اُن کے دوسرے سرے بالاپوش کی کندھوں والی پٹیوں کے دو خانوں کے ساتھ جوڑ دیئے گئے، پھر سامنے کی طرف لگائے گئے۔bz?'پھر دونوں زنجیریں اُن دو کڑوں کے ساتھ لگائی گئیں۔Ky'ساتھ ساتھ اُنہوں نے سونے کے دو خانے اور دو کڑے بھی بنائے۔ اُنہوں نے یہ کڑے کیسے کے اوپر کے دو کونوں پر لگائے۔5xe'اب اُنہوں نے سینے کے کیسے کے لئے خالص سونے کی دو زنجیریں بنائیں جو ڈوری کی طرح گُندھی ہوئی تھیں۔ PP}u'اُس کے گریبان کو بُنے ہوئے کالر سے مضبوط کیا گیا تاکہ وہ نہ پھٹے۔;q'پھر کاری گروں نے چوغہ بُنا۔ وہ پوری طرح نیلے دھاگے سے بنایا گیا۔ چوغے کو بالاپوش سے پہلے پہننا تھا۔k~Q'اُنہوں نے سینے کے کیسے کے نچلے کڑے نیلی ڈوری سے بالاپوش کے اِن نچلے کڑوں کے ساتھ باندھے۔ یوں کیسہ پٹکے کے اوپر اچھی طرح سینے کے ساتھ لگا رہا۔ یہ اُن ہدایات کے عین مطابق ہوا جو رب نے موسیٰ کو دی تھیں۔~}w'اب اُنہوں نے دو اَور کڑے بنا کر بالاپوش کی کندھوں والی پٹیوں پر لگائے۔ یہ بھی سامنے کی طرف لگے تھے لیکن نیچے، بالاپوش کے پٹکے کے اوپر ہی۔ J2 'ساتھ ساتھ اُنہوں نے باریک کتان کی پگڑیاں اور باریک کتان کے پاجامے بنائے۔7i'کاری گروں نے ہارون اور اُس کے بیٹوں کے لئے باریک کتان کے زیرجامے بنائے۔ یہ بُننے والے کا کام تھا۔ym'دامن میں انار اور گھنٹیاں باری باری لگائی گئیں۔ لازم تھا کہ ہارون خدمت کرنے کے لئے ہمیشہ یہ چوغہ پہنے۔ رب نے موسیٰ کو یہی حکم دیا تھا۔]5'اُن کے درمیان خالص سونے کی گھنٹیاں لگائی گئیں۔2_'اُنہوں نے نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے سے انار بنا کر اُنہیں چوغے کے دامن میں لگا دیا۔ ((I  ' آخرکار مقدِس کا کام مکمل ہوا۔ اسرائیلیوں نے سب کچھ اُن ہدایات کے مطابق بنایا تھا جو رب نے موسیٰ کو دی تھیں۔p['پھر اُنہوں نے اِسے نیلی ڈوری سے پگڑی کے سامنے والے حصے سے لگا دیا۔ یہ بھی اُن ہدایات کے مطابق بنایا گیا جو رب نے موسیٰ کو دی تھیں۔K'اُنہوں نے مُقدّس تاج یعنی خالص سونے کی تختی بنائی اور اُس پر یہ الفاظ کندہ کئے، ’رب کے لئے مخصوص و مُقدّس۔‘D'کمربند کو باریک کتان اور نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے سے بنایا گیا۔ کڑھائی کرنے والوں نے اِس پر کام کیا۔ سب کچھ اُن ہدایات کے مطابق بنایا گیا جو رب نے موسیٰ کو دی تھیں۔ q/q'I'%خالص سونے کا شمع دان اور اُس پر رکھنے کے چراغ اُس کے سارے سامان سمیت، شمع دان کے لئے تیل،d C'$مخصوص روٹیوں کی میز، اُس کا سارا سامان اور روٹیاں،( K'#عہد کا صندوق جس میں شریعت کی تختیاں رکھنی تھیں، اُسے اُٹھانے کی لکڑیاں اور اُس کا ڈھکنا،O '"خیمے پر مینڈھوں کی سرخ رنگی ہوئی کھالوں کا غلاف اور تخس کی کھالوں کا غلاف، مُقدّس ترین کمرے کے دروازے کا پردہ،z o'!وہ مقدِس کی تمام چیزیں موسیٰ کے پاس لے آئے یعنی مُقدّس خیمہ اور اُس کا سارا سامان، اُس کی ہکیں، دیواروں کے تختے، شہتیر، ستون اور پائے، yP0y/')اور مقدِس میں خدمت کرنے کے وہ مُقدّس لباس جو ہارون اور اُس کے بیٹوں کو پہننے تھے۔%'(چاردیواری کے پردے اُن کے کھمبوں اور پائیوں سمیت، صحن کے دروازے کا پردہ، چاردیواری کے رسّے اور میخیں، ملاقات کے خیمے میں خدمت کرنے کا باقی سارا سامان3''جانوروں کو چڑھانے کی پیتل کی قربان گاہ، اُس کا پیتل کا جنگلا، اُسے اُٹھانے کی لکڑیاں اور باقی سارا سامان، دھونے کا حوض اور وہ ڈھانچا جس پر حوض رکھنا تھا،,S'&بخور جلانے کی سونے کی قربان گاہ، مسح کا تیل، خوشبودار بخور، مُقدّس خیمے کے دروازے کا پردہ، "|Y1" (اِس کے بعد مخصوص روٹیوں کی میز مُقدّس کمرے میں لا کر اُس پر تمام ضروری سامان رکھنا۔ اُس کمرے میں شمع دان بھی لے آنا اور اُس پر اُس کے چراغ رکھنا۔5e(عہد کا صندوق جس میں شریعت کی تختیاں ہیں مُقدّس ترین کمرے میں رکھ کر اُس کے دروازے کا پردہ لگانا۔lS(”پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو ملاقات کا خیمہ کھڑا کرنا۔0 _(پھر رب نے موسیٰ سے کہا،lS'+موسیٰ نے تمام چیزوں کا معائنہ کیا اور معلوم کیا کہ اُنہوں نے سب کچھ رب کی ہدایات کے مطابق بنایا تھا۔ تب اُس نے اُنہیں برکت دی۔ {'*سب کچھ اُن ہدایات کے مطابق بنایا گیا تھا جو رب نے موسیٰ کو دی تھیں۔ a=( پھر مسح کا تیل لے کر اُسے خیمے اور اُس کے سارے سامان پر چھڑک دینا۔ یوں تُو اُسے میرے لئے مخصوص کرے گا اور وہ مُقدّس ہو گا۔nW(صحن کی چاردیواری کھڑی کر کے اُس کے دروازے کا پردہ لگانا۔ (خیمے اور اِس قربان گاہ کے درمیان دھونے کا حوض رکھ کر اُس میں پانی ڈالنا۔ (جانوروں کو چڑھانے کی قربان گاہ صحن میں خیمے کے دروازے کے سامنے رکھی جائے۔jO(بخور کی سونے کی قربان گاہ اُس پردے کے سامنے رکھنا جس کے پیچھے عہد کا صندوق ہے۔ پھر خیمے میں داخل ہونے کے دروازے پر پردہ لگانا۔ |_"9(اُس کے بیٹوں کو لا کر اُنہیں زیر جامے پہنا دینا۔U!%( پھر ہارون کو مُقدّس لباس پہنانا اور اُسے مسح کر کے میرے لئے مخصوص و مُقدّس کرنا تاکہ امام کے طور پر میری خدمت کرے۔ ( ہارون اور اُس کے بیٹوں کو ملاقات کے خیمے کے دروازے پر لا کر غسل کرانا۔( اِسی طرح حوض اور اُس ڈھانچے کو بھی مخصوص کرنا جس پر حوض رکھا گیا ہے۔zo( پھر جانوروں کو چڑھانے کی قربان گاہ اور اُس کے سامان پر مسح کا تیل چھڑکنا۔ یوں تُو اُسے میرے لئے مخصوص کرے گا اور وہ نہایت مُقدّس ہو گا۔ Q]&5(موسیٰ نے دیوار کے تختوں کو اُن کے پائیوں پر کھڑا کر کے اُن کے ساتھ شہتیر لگائے۔ اِسی طرح اُس نے ستونوں کو بھی کھڑا کیا۔7%i(پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو مُقدّس خیمہ کھڑا کیا گیا۔ اُنہیں مصر سے نکلے پورا ایک سال ہو گیا تھا۔T$#(موسیٰ نے سب کچھ رب کی ہدایات کے مطابق کیا۔T##(اُنہیں اُن کے والد کی طرح مسح کرنا تاکہ وہ بھی اماموں کے طور پر میری خدمت کریں۔ جب اُنہیں مسح کیا جائے گا تو وہ اور بعد میں اُن کی اولاد ہمیشہ تک مقدِس میں اِس خدمت کے لئے مخصوص ہوں گے۔“ oRFDoQ*(موسیٰ نے مخصوص روٹیوں کی میز مُقدّس کمرے کے شمالی حصے میں اُس پردے کے سامنے رکھ دی جس کے پیچھے عہد کا صندوق تھا۔~)w(پھر اُس نے رب کی ہدایات کے عین مطابق صندوق کو مُقدّس ترین کمرے میں رکھ کر اُس کے دروازے کا پردہ لگا دیا۔ یوں عہد کے صندوق پر پردہ پڑا رہا۔( (اُس نے شریعت کی دونوں تختیاں لے کر عہد کے صندوق میں رکھ دیں، اُٹھانے کے لئے لکڑیاں صندوق کے کڑوں میں ڈال دیں اور کفارے کا ڈھکنا اُس پر لگا دیا۔*'O(اُس نے رب کی ہدایات کے عین مطابق دیواروں پر کپڑے کا خیمہ لگایا اور اُس پر دوسرے غلاف رکھے۔ ll%F0(پھر اُس نے خیمے کا دروازہ لگا دیا۔s/a(اُس نے اُس پر رب کی ہدایت کے عین مطابق خوشبودار بخور جلایا۔M.(اُس نے بخور کی سونے کی قربان گاہ بھی اُسی کمرے میں رکھی، اُس پردے کے بالکل سامنے جس کے پیچھے عہد کا صندوق تھا۔|-s(اُس پر اُس نے رب کی ہدایت کے عین مطابق رب کے سامنے چراغ رکھ دیئے۔~,w(اُسی کمرے کے جنوبی حصے میں اُس نے شمع دان کو میز کے مقابل رکھ دیا۔+(اُس نے رب کی ہدایت کے عین مطابق رب کے لئے مخصوص کی ہوئی روٹیاں میز پر رکھیں۔ #i4M( جب بھی وہ ملاقات کے خیمے میں داخل ہوتے یا جانوروں کو چڑھانے کی قربان گاہ کے پاس آتے تو رب کی ہدایت کے عین مطابق پہلے غسل کرتے۔3+(موسیٰ، ہارون اور اُس کے بیٹے اُسے اپنے ہاتھ پاؤں دھونے کے لئے استعمال کرتے تھے۔27(اُس نے دھونے کے حوض کو خیمے اور اُس قربان گاہ کے درمیان رکھ کر اُس میں پانی ڈال دیا۔71i(باہر جا کر اُس نے جانوروں کو چڑھانے کی قربان گاہ خیمے کے دروازے کے سامنے رکھ دی۔ اُس پر اُس نے رب کی ہدایت کے عین مطابق بھسم ہونے والی قربانیاں اور غلہ کی نذریں چڑھائیں۔ F(3>IT_ju%0;FQ\gr} (2<FQ\gr} ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( ( (! (" (# ($ (% (&                                                       "9(%اگر وہ نہ اُٹھتا تو وہ اُس وقت تک ٹھہرے رہتے جب تک بادل اُٹھ نہ جاتا۔*8O($تمام سفر کے دوران جب بھی مقدِس کے اوپر سے بادل اُٹھتا تو اسرائیلی سفر کے لئے تیار ہو جاتے۔;7q(#موسیٰ خیمے میں داخل نہ ہو سکا، کیونکہ بادل اُس پر ٹھہرا ہوا تھا اور مقدِس رب کے جلال سے بھر گیا تھا۔6{("پھر ملاقات کے خیمے پر بادل چھا گیا اور مقدِس رب کے جلال سے بھر گیا۔i5M(!آخر میں موسیٰ نے خیمہ، قربان گاہ اور چاردیواری کھڑی کر کے صحن کے دروازے کا پردہ لگا دیا۔ یوں موسیٰ نے مقدِس کی تعمیر مکمل کی۔ = 'اگر وہ اپنے گائےبَیلوں میں سے بھسم ہونے والی قربانی چڑھانا چاہے تو وہ بےعیب بَیل چن کر اُسے ملاقات کے خیمے کے دروازے پر پیش کرے تاکہ رب اُسے قبول کرے۔q< _کہ اسرائیلیوں کو اطلاع دے، ”اگر تم میں سے کوئی رب کو قربانی پیش کرنا چاہے تو وہ اپنے گائےبَیلوں یا بھیڑبکریوں میں سے جانور چن لے۔\; 7رب نے ملاقات کے خیمے میں سے موسیٰ کو بُلا کر کہا:(&دن کے وقت بادل مقدِس کے اوپر ٹھہرا رہتا اور رات کے وقت وہ تمام اسرائیلیوں کو آگ کی صورت میں نظر آتا تھا۔ یہ سلسلہ پورے سفر کے دوران جاری رہا۔ K%\B 5اُس پر وہ جانور کے ٹکڑے سر اور چربی سمیت رکھیں۔lA Uامام قربان گاہ پر آگ لگا کر اُس پر ترتیب سے لکڑیاں چنیں۔@ اِس کے بعد قربانی پیش کرنے والا کھال اُتار کر جانور کے ٹکڑے ٹکڑے کرے۔+? Sقربانی پیش کرنے والا بَیل کو وہاں رب کے سامنے ذبح کرے۔ پھر ہارون کے بیٹے جو امام ہیں اُس کا خون رب کو پیش کر کے اُسے دروازے پر کی قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑکیں۔1> _قربانی پیش کرنے والا اپنا ہاتھ جانور کے سر پر رکھے تو یہ قربانی مقبول ہو کر اُس کا کفارہ دے گی۔ LG>LnF Y اِس کے بعد پیش کرنے والا جانور کے ٹکڑے ٹکڑے کرے اور امام یہ ٹکڑے سر اور چربی سمیت قربان گاہ کی جلتی ہوئی لکڑیوں پر ترتیب سے رکھے۔E  پیش کرنے والا اُسے رب کے سامنے قربان گاہ کی شمالی سمت میں ذبح کرے۔ پھر ہارون کے بیٹے جو امام ہیں اُس کا خون قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑکیں۔D   اگر بھسم ہونے والی قربانی بھیڑبکریوں میں سے چنی جائے تو وہ بےعیب نر ہو۔)C O لازم ہے کہ قربانی پیش کرنے والا پہلے جانور کی انتڑیاں اور پنڈلیاں دھوئے، پھر امام پورے جانور کو قربان گاہ پر جلا دے۔ اِس جلنے والی قربانی کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ b<3bMJ وہ اُس کا پوٹا اور جو اُس میں ہے دُور کر کے قربان گاہ کی مشرقی سمت میں پھینک دے، وہاں جہاں راکھ پھینکی جاتی ہے۔I امام اُسے قربان گاہ کے پاس لے آئے اور اُس کا سر مروڑ کر قربان گاہ پر جلا دے۔ وہ اُس کا خون یوں نکلنے دے کہ وہ قربان گاہ کی ایک طرف سے نیچے ٹپکے۔yH oاگر بھسم ہونے والی قربانی پرندہ ہو تو وہ قمری یا جوان کبوتر ہو۔DG  لازم ہے کہ قربانی پیش کرنے والا پہلے جانور کی انتڑیاں اور پنڈلیاں دھوئے، پھر امام پورے جانور کو رب کو پیش کر کے قربان گاہ پر جلا دے۔ اِس جلنے والی قربانی کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ RRBMاُسے ہارون کے بیٹوں کے پاس لے آئے جو امام ہیں۔ امام تیل سے ملایا گیا مٹھی بھر میدہ اور تمام لُبان لے کر قربان گاہ پر جلا دے۔ یہ یادگار کا حصہ ہے، اور اُس کی خوشبو رب کو پسند ہے۔mL Wاگر کوئی رب کو غلہ کی نذر پیش کرنا چاہے تو وہ اِس کے لئے بہترین میدہ استعمال کرے۔ اُس پر وہ زیتون کا تیل اُنڈیلے اور لُبان رکھ کرsK cاُسے پیش کرتے وقت امام اُس کے پَر پکڑ کر پرندے کو پھاڑ ڈالے، لیکن یوں کہ وہ بالکل ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جائے۔ پھر امام اُسے قربان گاہ پر جلتی ہوئی لکڑیوں پر جلا دے۔ اِس جلنے والی قربانی کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ -;Rاگر یہ قربانی کڑاہی میں پکائی ہوئی روٹی ہو تو وہ بہترین میدے اور تیل کی ہو۔Qچونکہ وہ غلہ کی نذر ہے اِس لئے روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اُس پر تیل ڈالنا۔,PSاگر یہ قربانی توے پر پکائی ہوئی روٹی ہو تو وہ بہترین میدے اور تیل کی ہو۔ اُس میں خمیر نہ ہو۔>Owاگر یہ قربانی تنور میں پکائی ہوئی روٹی ہو تو اُس میں خمیر نہ ہو۔ اِس کی دو قسمیں ہو سکتی ہیں، روٹیاں جو بہترین میدے اور تیل سے بنی ہوئی ہوں اور روٹیاں جن پر تیل لگایا گیا ہو۔ONباقی میدہ اور تیل ہارون اور اُس کے بیٹوں کا حصہ ہے۔ وہ رب کی جلنے والی قربانیوں میں سے ایک نہایت مُقدّس حصہ ہے۔ i{Vq غلہ کی جتنی نذریں تم رب کو پیش کرتے ہو اُن میں خمیر نہ ہو، کیونکہ لازم ہے کہ تم رب کو جلنے والی قربانی پیش کرتے وقت نہ خمیر، نہ شہد جلاؤ۔QU قربانی کا باقی حصہ ہارون اور اُس کے بیٹوں کے لئے ہے۔ وہ رب کی جلنے والی قربانیوں میں سے ایک نہایت مُقدّس حصہ ہے۔0T[ پھر امام یادگار کا حصہ الگ کر کے اُسے قربان گاہ پر جلا دے۔ ایسی قربانی کی خوشبو رب کو پسند ہے۔_S9اگر تُو اِن چیزوں کی بنی ہوئی غلہ کی نذر رب کے حضور لانا چاہے تو اُسے امام کو پیش کرنا۔ وہی اُسے قربان گاہ کے پاس لے آئے۔ >Z}چونکہ وہ غلہ کی نذر ہے اِس لئے اُس پر تیل اُنڈیلنا اور لُبان رکھنا۔5Yeاگر تُو غلہ کی نذر کے لئے فصل کے پہلے پھل پیش کرنا چاہے تو کچلی ہوئی کچی بالیاں بھون کر پیش کرنا۔vXg غلہ کی ہر نذر میں نمک ہو، کیونکہ نمک اُس عہد کی نمائندگی کرتا ہے جو تیرے خدا نے تیرے ساتھ باندھا ہے۔ تجھے ہر قربانی میں نمک ڈالنا ہے۔ W یہ چیزیں فصل کے پہلے پھلوں کے ساتھ رب کو پیش کی جا سکتی ہیں، لیکن اُنہیں قربان گاہ پر نہ جلایا جائے، کیونکہ وہاں رب کو اُن کی خوشبو پسند نہیں ہے۔ 8L8]وہ اپنا ہاتھ جانور کے سر پر رکھ کر اُسے ملاقات کے خیمے کے دروازے پر ذبح کرے۔ ہارون کے بیٹے جو امام ہیں اُس کا خون قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑکیں۔0\ ]اگر کوئی رب کو سلامتی کی قربانی پیش کرنے کے لئے گائے یا بَیل چڑھانا چاہے تو وہ جانور بےعیب ہو۔|[sکچلے ہوئے دانوں اور تیل کا جو حصہ رب کا ہے یعنی یادگار کا حصہ اُسے امام تمام لُبان کے ساتھ جلا دے۔ یہ نذر رب کے لئے جلنے والی قربانی ہے۔ -<- `پھر ہارون کے بیٹے یہ سب کچھ بھسم ہونے والی قربانی کے ساتھ قربان گاہ کی لکڑیوں پر جلا دیں۔ یہ جلنے والی قربانی ہے، اور اِس کی خوشبو رب کو پسند ہے۔^_7پیش کرنے والا انتڑیوں پر کی ساری چربی، گُردے اُس چربی سمیت جو اُن پر اور کمر کے قریب ہوتی ہے اور جوڑ کلیجی جلنے والی قربانی کے طور پر رب کو پیش کرے۔ اِن چیزوں کو گُردوں کے ساتھ ہی الگ کرنا ہے۔^^7پیش کرنے والا انتڑیوں پر کی ساری چربی، گُردے اُس چربی سمیت جو اُن پر اور کمر کے قریب ہوتی ہے اور جوڑ کلیجی جلنے والی قربانی کے طور پر رب کو پیش کرے۔ اِن چیزوں کو گُردوں کے ساتھ ہی الگ کرنا ہے۔ lWl{dq پیش کرنے والا چربی، پوری دُم، انتڑیوں پر کی ساری چربی، گُردے اُس چربی سمیت جو اُن پر اور کمر کے قریب ہوتی ہے اور جوڑ کلیجی جلنے والی قربانی کے طور پر رب کو پیش کرے۔ اِن چیزوں کو گُردوں کے ساتھ ہی الگ کرنا ہے۔pc[وہ اپنا ہاتھ اُس کے سر پر رکھ کر اُسے ملاقات کے خیمے کے سامنے ذبح کرے۔ ہارون کے بیٹے اُس کا خون قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑکیں۔ubeاگر وہ بھیڑ کا بچہ چڑھانا چاہے تو وہ اُسے رب کے سامنے لے آئے۔%aEاگر سلامتی کی قربانی کے لئے بھیڑبکریوں میں سے جانور چنا جائے تو وہ بےعیب نر یا مادہ ہو۔ zho تو پیش کرنے والا اُس پر ہاتھ رکھ کر اُسے ملاقات کے خیمے کے سامنے ذبح کرے۔ ہارون کے بیٹے جانور کا خون قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑکیں۔@g} اگر سلامتی کی قربانی بکری کی ہوf+ امام یہ سب کچھ رب کو پیش کر کے قربان گاہ پر جلا دے۔ یہ خوراک جلنے والی قربانی ہے۔{eq پیش کرنے والا چربی، پوری دُم، انتڑیوں پر کی ساری چربی، گُردے اُس چربی سمیت جو اُن پر اور کمر کے قریب ہوتی ہے اور جوڑ کلیجی جلنے والی قربانی کے طور پر رب کو پیش کرے۔ اِن چیزوں کو گُردوں کے ساتھ ہی الگ کرنا ہے۔ E<Eskaامام یہ سب کچھ رب کو پیش کر کے قربان گاہ پر جلا دے۔ یہ خوراک جلنے والی قربانی ہے، اور اِس کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ ساری چربی رب کی ہے۔^j7پیش کرنے والا انتڑیوں پر کی ساری چربی، گُردے اُس چربی سمیت جو اُن پر اور کمر کے قریب ہوتی ہے اور جوڑ کلیجی جلنے والی قربانی کے طور پر رب کو پیش کرے۔ اِن چیزوں کو گُردوں کے ساتھ ہی الگ کرنا ہے۔^i7پیش کرنے والا انتڑیوں پر کی ساری چربی، گُردے اُس چربی سمیت جو اُن پر اور کمر کے قریب ہوتی ہے اور جوڑ کلیجی جلنے والی قربانی کے طور پر رب کو پیش کرے۔ اِن چیزوں کو گُردوں کے ساتھ ہی الگ کرنا ہے۔ P%&PRpوہ جوان بَیل کو ملاقات کے خیمے کے دروازے کے پاس لے آئے اور اپنا ہاتھ اُس کے سر پر رکھ کر اُسے رب کے سامنے ذبح کرے۔{oqاگر امامِ اعظم گناہ کرے اور نتیجے میں پوری قوم قصوروار ٹھہرے تو پھر وہ رب کو ایک بےعیب جوان بَیل لے کر گناہ کی قربانی کے طور پر پیش کرے۔)nM”اسرائیلیوں کو بتانا کہ جو بھی غیرارادی طور پر گناہ کر کے رب کے کسی حکم کو توڑے وہ یہ کرے:)m Qرب نے موسیٰ سے کہا،~lwتمہارے لئے خون یا چربی کھانا منع ہے۔ یہ نہ صرف تمہارے لئے منع ہے بلکہ تمہاری اولاد کے لئے بھی، نہ صرف یہاں بلکہ ہر جگہ جہاں تم رہتے ہو۔“ Z}ZDJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|ԕՕ ֕וٕؕڕ"ە&ܕ*ݕ0ޕ49=BFԕՕ ֕וٕؕڕ"ە&ܕ*ݕ0ޕ49=BFJMRVZ]`dhkpuy}   #&*.26;?D I M Q T X^cgmpsvz}  !""%#'$*%-&/'1(4)9*=+C,L.N/O0P1Q2S3V4Z5`6d7i8l9p:s;w<{=>?@ A BDEFG#H&I+ &z&P;”ہارون اور اُس کے بیٹوں کو گناہ کی قربانی کے بارے میں ذیل کی ہدایات دینا: گناہ کی قربانی کو رب کے سامنے وہیں ذبح کرنا ہے جہاں بھسم ہونے والی قربانی ذبح کی جاتی ہے۔ وہ نہایت مُقدّس ہے۔*:Qرب نے موسیٰ سے کہا،t9cامام کی غلہ کی نذر ہمیشہ پورے طور پر جلانا۔ اُسے نہ کھانا۔“w8iیہ قربانی ہمیشہ ہارون کی نسل کا وہ آدمی پیش کرے جسے مسح کر کے امامِ اعظم کا عُہدہ دیا گیا ہے، اور وہ اُسے پورے طور پر رب کے لئے جلا دے۔c7Aاُسے تیل کے ساتھ ملا کر توے پر پکانا ہے۔ پھر اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے غلہ کی نذر کے طور پر پیش کرنا۔ اُس کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ zP7z?+اماموں کے خاندانوں میں سے تمام مرد اُسے کھا سکتے ہیں۔ یہ کھانا نہایت مُقدّس ہے۔>5اگر گوشت کو ہنڈیا میں پکایا گیا ہو تو اُس برتن کو بعد میں توڑ دینا ہے۔ اگر اُس کے لئے پیتل کا برتن استعمال کیا گیا ہو تو اُسے خوب مانجھ کر پانی سے صاف کرنا۔=%جو بھی اِس قربانی کے گوشت کو چھو لیتا ہے وہ مخصوص و مُقدّس ہو جاتا ہے۔ اگر قربانی کے خون کے چھینٹے کسی لباس پر پڑ جائیں تو اُسے مُقدّس جگہ پر دھونا ہے۔,<Sاُسے پیش کرنے والا امام اُسے مُقدّس جگہ پر یعنی ملاقات کے خیمے کی چاردیواری کے اندر کھائے۔ E  !,7BMXcny)4?IT_ju%0;FQ\gr}  %  &  '  (  )  *  +  ,  -  %  &  '  (  )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8  9  :  ;  <  =  >  ?  @   A  B  C  D  E  F  G  H  I  J  K  L  M  N  O  P  Q  R  S  T  U  V  W  X  Y  Z  [  \  ]  ^  _  ` ! a " b # c $ d % e & f   g  h  i zPDگُردے اُس چربی سمیت جو اُن پر اور کمر کے قریب ہوتی ہے اور جوڑ کلیجی۔ اِن چیزوں کو گُردوں کے ساتھ ہی الگ کرنا ہے۔C9اُس کی تمام چربی نکال کر قربان گاہ پر چڑھانی ہے یعنی اُس کی دُم، انتڑیوں پر کی چربی،gBIقصور کی قربانی وہیں ذبح کرنی ہے جہاں بھسم ہونے والی قربانی ذبح کی جاتی ہے۔ اُس کا خون قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑکا جائے۔zA qقصور کی قربانی جو نہایت مُقدّس ہے اُس کے بارے میں ہدایات یہ ہیں:@لیکن گناہ کی ہر وہ قربانی کھائی نہ جائے جس کا خون ملاقات کے خیمے میں اِس لئے لایا گیا ہے کہ مقدِس میں کسی کا کفارہ دیا جائے۔ اُسے جلانا ہے۔“ RII  اور اِسی طرح تنور میں، کڑاہی میں یا توے پر پکائی گئی غلہ کی ہر نذر اُس امام کو ملتی ہے جس نے اُسے پیش کیا ہے۔=Huاِس طرح جو امام کسی جانور کو بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر چڑھاتا ہے اُسی کو جانور کی کھال ملتی ہے۔VG'گناہ اور قصور کی قربانی کے لئے ایک ہی اصول ہے، جو امام قربانی کو پیش کر کے کفارہ دیتا ہے اُس کو اُس کا گوشت ملتا ہے۔NFاماموں کے خاندانوں میں سے تمام مرد اُسے کھا سکتے ہیں۔ لیکن اُسے مُقدّس جگہ پر کھایا جائے۔ یہ نہایت مُقدّس ہے۔*EOامام یہ سب کچھ رب کو قربان گاہ پر جلنے والی قربانی کے طور پر پیش کرے۔ یہ قصور کی قربانی ہے۔ 4&OM اِس کے علاوہ وہ خمیری روٹی بھی پیش کرے۔yLm اگر کوئی اِس قربانی سے اپنی شکرگزاری کا اظہار کرنا چاہے تو وہ جانور کے ساتھ بےخمیری روٹی جس میں تیل ڈالا گیا ہو، بےخمیری روٹی جس پر تیل لگایا گیا ہو اور روٹی جس میں بہترین میدہ اور تیل ملایا گیا ہو پیش کرے۔ K سلامتی کی قربانی جو رب کو پیش کی جاتی ہے اُس کے بارے میں ذیل کی ہدایات ہیں:HJ  لیکن ہارون کے تمام بیٹوں کو غلہ کی باقی نذریں برابر برابر ملتی رہیں، خواہ اُن میں تیل ملا ہو یا وہ خشک ہوں۔ (e(bQ?اگر کچھ گوشت تیسرے دن تک بچ جائے تو اُسے جلانا ہے۔TP#اِس قربانی کا گوشت صرف اِس صورت میں اگلے دن کھایا جا سکتا ہے جب کسی نے مَنت مان کر یا اپنی خوشی سے اُسے پیش کیا ہے۔O9گوشت اُسی دن کھایا جائے جب جانور کو ذبح کیا گیا ہو۔ اگلی صبح تک کچھ نہیں بچنا چاہئے۔tNcپیش کرنے والا قربانی کی ہر چیز کا ایک حصہ اُٹھا کر رب کے لئے مخصوص کرے۔ یہ اُس امام کا حصہ ہے جو جانور کا خون قربان گاہ پر چھڑکتا ہے۔ JTلیکن اگر ناپاک شخص رب کو پیش کی گئی سلامتی کی قربانی کا یہ گوشت کھائے تو اُسے اُس کی قوم میں سے مٹا ڈالنا ہے۔}Suاگر یہ گوشت کسی ناپاک چیز سے لگ جائے تو اُسے نہیں کھانا ہے بلکہ اُسے جلایا جائے۔ اگر گوشت پاک ہے تو ہر شخص جو خود پاک ہے اُسے کھا سکتا ہے۔=Ruاگر اُسے تیسرے دن بھی کھایا جائے تو رب یہ قربانی قبول نہیں کرے گا۔ اُس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ اُسے ناپاک قرار دیا جائے گا۔ جو بھی اُس سے کھائے گا وہ قصوروار ٹھہرے گا۔ yLhXKتم فطری طور پر مرے ہوئے جانوروں اور پھاڑے ہوئے جانوروں کی چربی دیگر کاموں کے لئے استعمال کر سکتے ہو، لیکن اُسے کھانا منع ہے۔"W?”اسرائیلیوں کو بتا دینا کہ گائےبَیل اور بھیڑبکریوں کی چربی کھانا تمہارے لئے منع ہے۔*VQرب نے موسیٰ سے کہا،Uہو سکتا ہے کہ کسی نے کسی ناپاک چیز کو چھو لیا ہے چاہے وہ ناپاک شخص، جانور یا کوئی اَور گھنونی اور ناپاک چیز ہو۔ اگر ایسا شخص رب کو پیش کی گئی سلامتی کی قربانی کا گوشت کھائے تو اُسے اُس کی قوم میں سے مٹا ڈالنا ہے۔“ KZ-}^uوہ جلنے والی یہ قربانی اپنے ہاتھوں سے رب کو پیش کرے۔ اِس کے لئے وہ جانور کی چربی اور سینہ رب کے سامنے پیش کرے۔ سینہ ہلانے والی قربانی ہو۔)]M”اسرائیلیوں کو بتانا کہ جو رب کو سلامتی کی قربانی پیش کرے وہ رب کے لئے ایک حصہ مخصوص کرے۔*\Qرب نے موسیٰ سے کہا،g[Iجو بھی خون کھائے اُسے اُس کی قوم میں سے مٹایا جائے۔“Zجہاں بھی تم رہتے ہو وہاں پرندوں یا دیگر جانوروں کا خون کھانا منع ہے۔1Y]جو بھی اُس چربی میں سے کھائے جو جلا کر رب کو پیش کی جاتی ہے اُسے اُس کی قوم میں سے مٹا ڈالنا ہے۔ Mle1M`c;#یہ اُس دن جلنے والی قربانیوں میں سے ہارون اور اُس کے بیٹوں کا حصہ بن گئیں جب اُنہیں مقدِس میں رب کی خدمت میں پیش کیا گیا۔0b["اسرائیلیوں کی سلامتی کی قربانیوں میں سے مَیں نے ہلانے والا سینہ اور اُٹھانے والی ران اماموں کو دی ہے۔ یہ چیزیں ہمیشہ کے لئے اسرائیلیوں کی طرف سے اماموں کا حق ہیں۔“a!وہ اُس امام کا حصہ ہے جو سلامتی کی قربانی کا خون اور چربی چڑھاتا ہے۔~`w قربانی کی دہنی ران امام کو اُٹھانے والی قربانی کے طور پر دی جائے۔_امام چربی کو قربان گاہ پر جلا دے جبکہ سینہ ہارون اور اُس کے بیٹوں کا حصہ ہے۔ E)g Qرب نے موسیٰ سے کہا،tfc&رب نے موسیٰ کو یہ ہدایات سینا پہاڑ پر دیں، اُس دن جب اُس نے اسرائیلیوں کو حکم دیا کہ وہ دشتِ سینا میں رب کو اپنی قربانیاں پیش کریں۔ qe]%غرض یہ ہدایات تمام قربانیوں کے بارے میں ہیں یعنی بھسم ہونے والی قربانی، غلہ کی نذر، گناہ کی قربانی، قصور کی قربانی، امام کو مقدِس میں خدمت کے لئے مخصوص کرنے کی قربانی اور سلامتی کی قربانی کے بارے میں۔7di$رب نے اُس دن جب اُنہیں تیل سے مسح کیا گیا حکم دیا تھا کہ اسرائیلی یہ حصہ ہمیشہ اماموں کو دیا کریں۔ |{mqاُس نے ہارون کو کتان کا زیرجامہ پہنا کر کمربند لپیٹا۔ پھر اُس نے چوغہ پہنایا جس پر اُس نے بالاپوش کو مہارت سے بُنے ہوئے پٹکے سے باندھا۔olYموسیٰ نے ہارون اور اُس کے بیٹوں کو سامنے لا کر غسل کرایا۔kاُس نے اُن سے کہا، ”اب مَیں وہ کچھ کرتا ہوں جس کا حکم رب نے دیا ہے۔“djCموسیٰ نے ایسا ہی کیا۔ جب پوری جماعت اکٹھی ہو گئی تو]i5پھر پوری جماعت کو خیمے کے دروازے پر جمع کرنا۔“ h;”ہارون اور اُس کے بیٹوں کو میرے حضور لے آنا۔ نیز اماموں کے لباس، مسح کا تیل، گناہ کی قربانی کے لئے جوان بَیل، دو مینڈھے اور بےخمیری روٹیوں کی ٹوکری لے آنا۔ v]3v9pm اِس کے بعد موسیٰ نے مسح کے تیل سے مقدِس کو اور جو کچھ اُس میں تھا مسح کر کے اُسے مخصوص و مُقدّس کیا۔&oG پھر اُس نے ہارون کے سر پر پگڑی رکھی جس کے سامنے والے حصے پر اُس نے مُقدّس تاج یعنی سونے کی تختی لگا دی۔ سب کچھ اُس حکم کے عین مطابق ہوا جو رب نے موسیٰ کو دیا تھا۔n9اِس کے بعد اُس نے سینے کا کیسہ لگا کر اُس میں دونوں قرعے بنام اُوریم اور تُمیم رکھے۔ >sw پھر موسیٰ نے ہارون کے بیٹوں کو سامنے لا کر اُنہیں زیر جامے پہنائے، کمربند لپیٹے اور اُن کے سروں پر پگڑیاں باندھیں۔ سب کچھ اُس حکم کے عین مطابق ہوا جو رب نے موسیٰ کو دیا تھا۔r3 اُس نے ہارون کے سر پر مسح کا تیل اُنڈیل کر اُسے مسح کیا۔ یوں وہ مخصوص و مُقدّس ہوا۔sqa اُس نے یہ تیل سات بار جانور چڑھانے کی قربان گاہ اور اُس کے سامان پر چھڑک دیا۔ اِسی طرح اُس نے سات بار دھونے کے حوض اور اُس ڈھانچے پر تیل چھڑک دیا جس پر حوض رکھا ہوا تھا۔ یوں یہ چیزیں مخصوص و مُقدّس ہوئیں۔ 0Evموسیٰ نے انتڑیوں پر کی تمام چربی، جوڑ کلیجی اور دونوں گُردے اُن کی چربی سمیت لے کر قربان گاہ پر جلا دیئے۔#uAموسیٰ نے اُسے ذبح کر کے اُس کے خون میں سے کچھ لے کر اپنی اُنگلی سے قربان گاہ کے سینگوں پر لگا دیا تاکہ وہ گناہوں سے پاک ہو جائے۔ باقی خون اُس نے قربان گاہ کے پائے پر اُنڈیل دیا۔ یوں اُس نے اُسے مخصوص و مُقدّس کر کے اُس کا کفارہ دیا۔Ltاب موسیٰ نے گناہ کی قربانی کے لئے جوان بَیل کو پیش کیا۔ ہارون اور اُس کے بیٹوں نے اپنے ہاتھ اُس کے سر پر رکھے۔    pz[اُس نے مینڈھے کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے سر، ٹکڑے اور چربی جلا دی۔y موسیٰ نے اُسے ذبح کر کے اُس کا خون قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑک دیا۔ixMاِس کے بعد اُس نے بھسم ہونے والی قربانی کے لئے پہلا مینڈھا پیش کیا۔ ہارون اور اُس کے بیٹوں نے اپنے ہاتھ اُس کے سر پر رکھ دیئے۔wلیکن بَیل کی کھال، گوشت اور انتڑیوں کے گوبر کو اُس نے خیمہ گاہ کے باہر لے جا کر جلا دیا۔ سب کچھ اُس حکم کے مطابق ہوا جو رب نے موسیٰ کو دیا تھا۔ [y}mموسیٰ نے اُسے ذبح کر کے اُس کے خون میں سے کچھ لے کر ہارون کے دہنے کان کی لَو پر اور اُس کے دہنے ہاتھ اور دہنے پاؤں کے انگوٹھوں پر لگایا۔>|wاِس کے بعد موسیٰ نے دوسرے مینڈھے کو پیش کیا۔ اِس قربانی کا مقصد اماموں کو مقدِس میں خدمت کے لئے مخصوص کرنا تھا۔ ہارون اور اُس کے بیٹوں نے اپنے ہاتھ مینڈھے کے سر پر رکھ دیئے۔!{=اُس نے انتڑیاں اور پنڈلیاں پانی سے صاف کر کے پورے مینڈھے کو قربان گاہ پر جلا دیا۔ سب کچھ اُس حکم کے عین مطابق ہوا جو رب نے موسیٰ کو دیا تھا۔ رب کے لئے جلنے والی یہ قربانی بھسم ہونے والی قربانی تھی، اور اُس کی خوشبو رب کو پسند تھی۔ tt2_پھر وہ رب کے سامنے پڑی بےخمیری روٹیوں کی ٹوکری میں سے ایک سادہ روٹی، ایک روٹی جس میں تیل ڈالا گیا تھا اور ایک روٹی جس پر تیل لگایا گیا تھا لے کر چربی اور ران پر رکھ دی۔T#اُس نے مینڈھے کی چربی، دُم، انتڑیوں پر کی ساری چربی، جوڑ کلیجی، دونوں گُردے اُن کی چربی سمیت اور دہنی ران الگ کی۔z~oیہی اُس نے ہارون کے بیٹوں کے ساتھ بھی کیا۔ اُس نے اُنہیں سامنے لا کر اُن کے دہنے کان کی لَو پر اور اُن کے دہنے ہاتھ اور دہنے پاؤں کے انگوٹھوں پر خون لگایا۔ باقی خون اُس نے قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑک دیا۔ m6mG موسیٰ نے سینہ بھی لیا اور اُسے ہلانے والی قربانی کے طور پر رب کے سامنے ہلایا۔ یہ مخصوصیت کے مینڈھے میں سے موسیٰ کا حصہ تھا۔ موسیٰ نے اِس میں بھی سب کچھ رب کے حکم کے عین مطابق کیا۔zoپھر اُس نے یہ چیزیں اُن سے واپس لے کر قربان گاہ پر جلا دیں جس پر پہلے بھسم ہونے والی قربانی رکھی گئی تھی۔ رب کے لئے جلنے والی یہ قربانی اماموں کو مخصوص کرنے کے لئے چڑھائی گئی، اور اُس کی خوشبو رب کو پسند تھی۔Fاُس نے یہ سب کچھ ہارون اور اُس کے بیٹوں کے ہاتھوں پر رکھ کر اُسے ہلانے والی قربانی کے طور پر رب کو پیش کیا۔ [6[W)!سات دن تک ملاقات کے خیمے کے دروازے میں سے نہ نکلنا، کیونکہ مقدِس میں خدمت کے لئے تمہاری مخصوصیت کے اِتنے ہی دن ہیں۔G  گوشت اور روٹیوں کا بقایا جلا دینا۔Cموسیٰ نے اُن سے کہا، ”گوشت کو ملاقات کے خیمے کے دروازے پر اُبال کر اُسے اُن روٹیوں کے ساتھ کھانا جو مخصوصیت کی قربانیوں کی ٹوکری میں پڑی ہیں۔ کیونکہ رب نے مجھے یہی حکم دیا ہے۔5eپھر اُس نے مسح کے تیل اور قربان گاہ پر کے خون میں سے کچھ لے کر ہارون، اُس کے بیٹوں اور اُن کے کپڑوں پر چھڑک دیا۔ یوں اُس نے اُنہیں اور اُن کے کپڑوں کو مخصوص و مُقدّس کیا۔ E  !,7BMXcny)4?JU`ku%0;FQ\gr|  k  l  m  n  o  p  q  r   k  l  m  n  o  p  q  r  s  t  u  v  w  x  y  z  {  |  }  ~          ! " # $                                                                 wm5  g مخصوصیت کے سات دن کے بعد موسیٰ نے آٹھویں دن ہارون، اُس کے بیٹوں اور اسرائیل کے بزرگوں کو بُلایا۔/ Y$ہارون اور اُس کے بیٹوں نے اُن تمام ہدایات پر عمل کیا جو رب نے موسیٰ کی معرفت اُنہیں دی تھیں۔  #تمہیں سات رات اور دن تک خیمے کے دروازے کے اندر رہنا ہے۔ رب کی اِس ہدایت کو مانو ورنہ تم مر جاؤ گے، کیونکہ یہ حکم مجھے رب کی طرف سے دیا گیا ہے۔“"جو کچھ آج ہوا ہے وہ رب کے حکم کے مطابق ہوا تاکہ تمہارا کفارہ دیا جائے۔ &G ساتھ ہی سلامتی کی قربانی کے لئے ایک بَیل اور ایک مینڈھا چنو۔ تیل کے ساتھ ملائی ہوئی غلہ کی نذر بھی لے کر سب کچھ رب کو پیش کرو۔ کیونکہ آج ہی رب تم پر ظاہر ہو گا۔“) M پھر اسرائیلیوں کو کہہ دینا کہ گناہ کی قربانی کے لئے ایک بکرا جبکہ بھسم ہونے والی قربانی کے لئے ایک بےعیب یک سالہ بچھڑا اور ایک بےعیب یک سالہ بھیڑ کا بچہ پیش کرو۔ ' اُس نے ہارون سے کہا، ”ایک بےعیب بچھڑا اور ایک بےعیب مینڈھا چن کر رب کو پیش کر۔ بچھڑا گناہ کی قربانی کے لئے اور مینڈھا بھسم ہونے والی قربانی کے لئے ہو۔ +(T+"? ہارون قربان گاہ کے پاس آیا۔ اُس نے بچھڑے کو ذبح کیا۔ یہ اُس کے لئے گناہ کی قربانی تھا۔y پھر اُس نے ہارون سے کہا، ”قربان گاہ کے پاس جا کر گناہ کی قربانی اور بھسم ہونے والی قربانی چڑھا کر اپنا اور اپنی قوم کا کفارہ دینا۔ رب کے حکم کے مطابق قوم کے لئے بھی قربانی پیش کرنا تاکہ اُس کا کفارہ دیا جائے۔“P موسیٰ نے اُن سے کہا، ”تمہیں وہی کرنا ہے جس کا حکم رب نے تمہیں دیا ہے۔ کیونکہ آج ہی رب کا جلال تم پر ظاہر ہو گا۔“T# اسرائیلی موسیٰ کی مطلوبہ تمام چیزیں ملاقات کے خیمے کے سامنے لے آئے۔ پوری جماعت قریب آ کر رب کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ cnc  اِس کے بعد ہارون نے بھسم ہونے والی قربانی کو ذبح کیا۔ اُس کے بیٹوں نے اُسے اُس کا خون دیا، اور اُس نے اُسے قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑک دیا۔xk بچھڑے کا گوشت اور کھال اُس نے خیمہ گاہ کے باہر لے جا کر جلا دی۔cA پھر اُس نے اُس کی چربی، گُردوں اور جوڑ کلیجی کو قربان گاہ پر جلا دیا۔ جیسے رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسے ہی ہارون نے کیا۔,S اُس کے بیٹے بچھڑے کا خون اُس کے پاس لے آئے۔ اُس نے اپنی اُنگلی خون میں ڈبو کر اُسے قربان گاہ کے سینگوں پر لگایا۔ باقی خون کو اُس نے قربان گاہ کے پائے پر اُنڈیل دیا۔ ,SN,7 اُس نے غلہ کی نذر پیش کی اور اُس میں سے مٹھی بھر قربان گاہ پر جلا دیا۔ یہ غلہ کی اُس نذر کے علاوہ تھی جو صبح کو بھسم ہونے والی قربانی کے ساتھ چڑھائی گئی تھی۔mU اُس نے بھسم ہونے والی قربانی بھی قواعد کے مطابق چڑھائی۔S! اب ہارون نے قوم کے لئے قربانی چڑھائی۔ اُس نے گناہ کی قربانی کے لئے بکرا ذبح کر کے اُسے پہلی قربانی کی طرح چڑھایا۔:o پھر اُس نے اُس کی انتڑیاں اور پنڈلیاں دھو کر بھسم ہونے والی قربانی کی باقی چیزوں پر رکھ کر جلا دیں۔)M اُنہوں نے اُسے قربانی کے مختلف ٹکڑے سر سمیت دیئے، اور اُس نے اُنہیں قربان گاہ پر جلا دیا۔ iM سینے کے ٹکڑے اور دہنی رانیں اُس نے ہلانے والی قربانی کے طور پر رب کے سامنے ہلائیں۔ اُس نے سب کچھ موسیٰ کے حکم کے مطابق ہی کیا۔ سینے کے ٹکڑوں پر رکھ دیا۔ ہارون نے چربی کا حصہ قربان گاہ پر جلا دیا۔"? لیکن اُنہوں نے بَیل اور مینڈھے کو چربی، دُم، انتڑیوں پر کی چربی اور جوڑ کلیجی نکال کرG  پھر اُس نے سلامتی کی قربانی کے لئے بَیل اور مینڈھے کو ذبح کیا۔ یہ بھی قوم کے لئے تھی۔ اُس کے بیٹوں نے اُسے جانوروں کا خون دیا، اور اُس نے اُسے قربان گاہ کے چار پہلوؤں پر چھڑک دیا۔ ,?T,$"C رب کے حضور سے آگ نکل کر قربان گاہ پر اُتری اور بھسم ہونے والی قربانی اور چربی کے ٹکڑے بھسم کر دیئے۔ یہ دیکھ کر لوگ خوشی کے نعرے مارنے لگے اور منہ کے بل گر گئے۔ g!I موسیٰ کے ساتھ ملاقات کے خیمے میں داخل ہوا۔ جب دونوں باہر آئے تو اُنہوں نے قوم کو برکت دی۔ تب رب کا جلال پوری قوم پر ظاہر ہوا۔= u تمام قربانیاں پیش کرنے کے بعد ہارون نے اپنے ہاتھ اُٹھا کر قوم کو برکت دی۔ پھر وہ قربان گاہ سے اُتر کر X%+ موسیٰ نے ہارون سے کہا، ”اب وہی ہوا ہے جو رب نے فرمایا تھا کہ جو میرے قریب ہیں اُن سے مَیں اپنی قدوسیت ظاہر کروں گا، مَیں تمام قوم کے سامنے ہی اپنے جلال کا اظہار کروں گا۔“ ہارون خاموش رہا۔$+ اچانک رب کے حضور سے آگ نکلی جس نے اُنہیں بھسم کر دیا۔ وہیں رب کے سامنے وہ مر گئے۔r# a ہارون کے بیٹے ندب اور ابیہو نے اپنے اپنے بخوردان لے کر اُن میں جلتے ہوئے کوئلے ڈالے۔ اُن پر بخور ڈال کر وہ رب کے سامنے آئے تاکہ اُسے پیش کریں۔ لیکن یہ آگ ناجائز تھی۔ رب نے یہ پیش کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ 9'm وہ آئے اور موسیٰ کے حکم کے عین مطابق اُنہیں اُن کے زیر جاموں سمیت اُٹھا کر خیمہ گاہ کے باہر لے گئے۔+&Q موسیٰ نے ہارون کے چچا عُزی ایل کے بیٹوں میسائیل اور اِلصَفن کو بُلا کر کہا، ”اِدھر آؤ اور اپنے رشتے داروں کو مقدِس کے سامنے سے اُٹھا کر خیمہ گاہ کے باہر لے جاؤ۔“ **Q رب نے ہارون سے کہا،u)e ملاقات کے خیمے کے دروازے کے باہر نہ نکلو ورنہ تم مر جاؤ گے، کیونکہ تمہیں رب کے تیل سے مسح کیا گیا ہے۔“ چنانچہ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔( موسیٰ نے ہارون اور اُس کے دیگر بیٹوں اِلی عزر اور اِتمر سے کہا، ”ماتم کا اظہار نہ کرو۔ نہ اپنے بال بکھرنے دو، نہ اپنے کپڑے پھاڑو۔ ورنہ تم مر جاؤ گے اور رب پوری جماعت سے ناراض ہو جائے گا۔ لیکن تمہارے رشتے دار اور باقی تمام اسرائیلی ضرور اِن کا ماتم کریں جن کو رب نے آگ سے ہلاک کر دیا ہے۔ __+-Q تمہیں اسرائیلیوں کو تمام پابندیاں سکھانی ہیں جو مَیں نے تمہیں موسیٰ کی معرفت بتائی ہیں۔“(,K یہ بھی لازم ہے کہ تم مُقدّس اور غیرمُقدّس چیزوں میں، پاک اور ناپاک چیزوں میں امتیاز کرو۔B+ ”جب بھی تجھے یا تیرے بیٹوں کو ملاقات کے خیمے میں داخل ہونا ہے تو مَے یا کوئی اَور نشہ آور چیز پینا منع ہے، ورنہ تم مر جاؤ گے۔ یہ اصول آنے والی نسلوں کے لئے بھی ابد تک اَن مٹ ہے۔ qtq/y اُسے مُقدّس جگہ پر کھانا، کیونکہ وہ رب کی جلنے والی قربانیوں میں سے تمہارے اور تمہارے بیٹوں کا حصہ ہے۔ کیونکہ مجھے اِس کا حکم دیا گیا ہے۔.  موسیٰ نے ہارون اور اُس کے بچے ہوئے بیٹوں اِلی عزر اور اِتمر سے کہا، ”غلہ کی نذر کا جو حصہ رب کے سامنے جلایا نہیں جاتا اُسے اپنے لئے لے کر بےخمیری روٹی پکانا اور قربان گاہ کے پاس ہی کھانا۔ کیونکہ وہ نہایت مُقدّس ہے۔ er1_ لیکن پہلے امام ران اور سینے کو جلنے والی قربانیوں کی چربی کے ساتھ پیش کریں۔ وہ اُنہیں ہلانے والی قربانی کے طور پر رب کے سامنے ہلائیں۔ رب فرماتا ہے کہ یہ ٹکڑے ابد تک تمہارے اور تمہارے بیٹوں کا حصہ ہیں۔“0) جو سینہ ہلانے والی قربانی اور دہنی ران اُٹھانے والی قربانی کے طور پر پیش کی گئی ہے، وہ تم اور تمہارے بیٹے بیٹیاں کھا سکتے ہیں۔ اُنہیں مُقدّس جگہ پر کھانا ہے۔ اسرائیلیوں کی سلامتی کی قربانیوں میں سے یہ ٹکڑے تمہارا حصہ ہیں۔ =(=g4I چونکہ اِس بکرے کا خون مقدِس میں نہ لایا گیا اِس لئے تمہیں اُس کا گوشت مقدِس میں کھانا تھا جس طرح مَیں نے تمہیں حکم دیا تھا۔“`3; ”تم نے گناہ کی قربانی کا گوشت کیوں نہیں کھایا؟ تمہیں اُسے مُقدّس جگہ پر کھانا تھا۔ یہ ایک نہایت مُقدّس حصہ ہے جو رب نے تمہیں دیا تاکہ تم جماعت کا قصور دُور کر کے رب کے سامنے لوگوں کا کفارہ دو۔p2[ موسیٰ نے دریافت کیا کہ اُس بکرے کے گوشت کا کیا ہوا جو گناہ کی قربانی کے طور پر چڑھایا گیا تھا۔ اُسے پتا چلا کہ وہ بھی جل گیا تھا۔ یہ سن کر اُسے ہارون کے بیٹوں اِلی عزر اور اِتمر پر غصہ آیا۔ اُس نے پوچھا، y?A#9A جن کے کُھر یا پاؤں بالکل چِرے ہوئے ہیں اور جو جگالی کرتے ہیں اُنہیں کھانے کی اجازت ہے۔<8s ”اسرائیلیوں کو بتانا کہ تمہیں زمین پر رہنے والے جانوروں میں سے ذیل کے جانوروں کو کھانے کی اجازت ہے:;7 u رب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا،76k یہ بات موسیٰ کو اچھی لگی۔ 5 ہارون نے موسیٰ کو جواب دے کر کہا، ”دیکھیں، آج لوگوں نے اپنے لئے گناہ کی قربانی اور بھسم ہونے والی قربانی رب کو پیش کی ہے جبکہ مجھ پر یہ آفت گزری ہے۔ اگر مَیں آج گناہ کی قربانی سے کھاتا تو کیا یہ رب کو اچھا لگتا؟“ ^ ^9=m سؤر نہ کھانا۔ وہ تمہارے لئے ناپاک ہے، کیونکہ اُس کے کُھر تو چِرے ہوئے ہیں لیکن وہ جگالی نہیں کرتا۔s<a اونٹ، بِجُو یا خرگوش کھانا منع ہے۔ وہ آپ کے لئے ناپاک ہیں، کیونکہ وہ جگالی تو کرتے ہیں لیکن اُن کے کُھر یا پاؤں چِرے ہوئے نہیں ہیں۔s;a اونٹ، بِجُو یا خرگوش کھانا منع ہے۔ وہ آپ کے لئے ناپاک ہیں، کیونکہ وہ جگالی تو کرتے ہیں لیکن اُن کے کُھر یا پاؤں چِرے ہوئے نہیں ہیں۔s:a اونٹ، بِجُو یا خرگوش کھانا منع ہے۔ وہ آپ کے لئے ناپاک ہیں، کیونکہ وہ جگالی تو کرتے ہیں لیکن اُن کے کُھر یا پاؤں چِرے ہوئے نہیں ہیں۔ rPC ذیل کے پرندے تمہارے لئے قابلِ گھن ہوں۔ اِنہیں کھانا منع ہے، کیونکہ وہ مکروہ ہیں: عقاب، دڑھیَل گِدھ، کالا گِدھ،B! پانی میں رہنے والے تمام جانور جن کے پَر یا چھلکے نہ ہوں تمہارے لئے مکروہ ہیں۔A  اِس لئے اُن کا گوشت کھانا منع ہے، اور اُن کی لاشوں سے بھی گھن کھانا ہے۔E@ لیکن جن کے پَر یا چھلکے نہیں ہیں وہ سب تمہارے لئے مکروہ ہیں، خواہ وہ بڑی تعداد میں مل کر رہتے ہیں یا نہیں۔? سمندری اور دریائی جانور کھانے کے لئے جائز ہیں اگر اُن کے پَر اور چھلکے ہوں۔ > نہ اُن کا گوشت کھانا، نہ اُن کی لاشوں کو چھونا۔ وہ تمہارے لئے ناپاک ہیں۔ &WL) اِس ناتے سے تم مختلف قسم کے ٹڈے کھا سکتے ہو۔K+ سوائے اُن کے جن کی ٹانگوں کے دو حصے ہیں اور جو پھدکتے ہیں۔ اُن کو تم کھا سکتے ہو۔J  تمام پَر رکھنے والے کیڑے جو چار پاؤں پر چلتے ہیں تمہارے لئے مکروہ ہیں،\I3 لق لق، ہر قسم کا بُوتیمار، ہُد ہُد اور چمگادڑ۔DH سفید الّو، دشتی الّو، مصری گِدھ،LG چھوٹا الّو، قوق، چنگھاڑنے والا الّو،F{ عقابی الّو، چھوٹے کان والا الّو، بڑے کان والا الّو، ہر قسم کا باز،!E? ہر قسم کا کوا،:Dq لال چیل، ہر قسم کی کالی چیل، E  "-8CNXcny)4?JU`kv&1<GR\gr}                                                                                          !  "  #  $  %  &  '  (  )  *  +  ,  -  .  /                                 p N جو بھی ذیل کے جانوروں کی لاشیں چھوئے وہ شام تک ناپاک رہے گا: (۱لف) کُھر رکھنے والے تمام جانور سوائے اُن کے جن کے کُھر یا پاؤں پورے طور پر چرے ہوئے ہیں اور جو جگالی کرتے ہیں، (ب) تمام جانور جو اپنے چار پنجوں پر چلتے ہیں۔ یہ جانور تمہارے لئے ناپاک ہیں، اور جو بھی اُن کی لاشیں اُٹھائے یا چھوئے لازم ہے کہ وہ اپنے کپڑے دھو لے۔ اِس کے باوجود بھی وہ شام تک ناپاک رہے گا۔ M باقی سب پَر رکھنے والے کیڑے جو چار پاؤں پر چلتے ہیں تمہارے لئے مکروہ ہیں۔ oo O جو بھی ذیل کے جانوروں کی لاشیں چھوئے وہ شام تک ناپاک رہے گا: (۱لف) کُھر رکھنے والے تمام جانور سوائے اُن کے جن کے کُھر یا پاؤں پورے طور پر چرے ہوئے ہیں اور جو جگالی کرتے ہیں، (ب) تمام جانور جو اپنے چار پنجوں پر چلتے ہیں۔ یہ جانور تمہارے لئے ناپاک ہیں، اور جو بھی اُن کی لاشیں اُٹھائے یا چھوئے لازم ہے کہ وہ اپنے کپڑے دھو لے۔ اِس کے باوجود بھی وہ شام تک ناپاک رہے گا۔ oo P جو بھی ذیل کے جانوروں کی لاشیں چھوئے وہ شام تک ناپاک رہے گا: (۱لف) کُھر رکھنے والے تمام جانور سوائے اُن کے جن کے کُھر یا پاؤں پورے طور پر چرے ہوئے ہیں اور جو جگالی کرتے ہیں، (ب) تمام جانور جو اپنے چار پنجوں پر چلتے ہیں۔ یہ جانور تمہارے لئے ناپاک ہیں، اور جو بھی اُن کی لاشیں اُٹھائے یا چھوئے لازم ہے کہ وہ اپنے کپڑے دھو لے۔ اِس کے باوجود بھی وہ شام تک ناپاک رہے گا۔ oo Q جو بھی ذیل کے جانوروں کی لاشیں چھوئے وہ شام تک ناپاک رہے گا: (۱لف) کُھر رکھنے والے تمام جانور سوائے اُن کے جن کے کُھر یا پاؤں پورے طور پر چرے ہوئے ہیں اور جو جگالی کرتے ہیں، (ب) تمام جانور جو اپنے چار پنجوں پر چلتے ہیں۔ یہ جانور تمہارے لئے ناپاک ہیں، اور جو بھی اُن کی لاشیں اُٹھائے یا چھوئے لازم ہے کہ وہ اپنے کپڑے دھو لے۔ اِس کے باوجود بھی وہ شام تک ناپاک رہے گا۔ oQS زمین پر رینگنے والے جانوروں میں سے چھچھوندر، مختلف قسم کے چوہے اور مختلف قسم کی چھپکلیاں تمہارے لئے ناپاک ہیں۔ R جو بھی ذیل کے جانوروں کی لاشیں چھوئے وہ شام تک ناپاک رہے گا: (۱لف) کُھر رکھنے والے تمام جانور سوائے اُن کے جن کے کُھر یا پاؤں پورے طور پر چرے ہوئے ہیں اور جو جگالی کرتے ہیں، (ب) تمام جانور جو اپنے چار پنجوں پر چلتے ہیں۔ یہ جانور تمہارے لئے ناپاک ہیں، اور جو بھی اُن کی لاشیں اُٹھائے یا چھوئے لازم ہے کہ وہ اپنے کپڑے دھو لے۔ اِس کے باوجود بھی وہ شام تک ناپاک رہے گا۔ +eVE اگر اُن میں سے کسی کی لاش کسی چیز پر گر پڑے تو وہ بھی ناپاک ہو جائے گی۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ لکڑی، کپڑے، چمڑے یا ٹاٹ کی بنی ہو، نہ اِس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ وہ کس کام کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ اُسے ہر صورت میں پانی میں ڈبونا ہے۔ توبھی وہ شام تک ناپاک رہے گی۔~Uw جو بھی اُنہیں اور اُن کی لاشیں چھو لیتا ہے وہ شام تک ناپاک رہے گا۔QT زمین پر رینگنے والے جانوروں میں سے چھچھوندر، مختلف قسم کے چوہے اور مختلف قسم کی چھپکلیاں تمہارے لئے ناپاک ہیں۔ 1MD7Zi $لیکن جس چشمے یا حوض میں ایسی لاش گرے وہ پاک رہتا ہے۔ صرف وہ جو لاش کو چھو لیتا ہے ناپاک ہو جاتا ہے۔Y #جس پر بھی ایسی لاش گر پڑے وہ ناپاک ہو جاتا ہے۔ اگر وہ تنور یا چولھے پر گر پڑے تو اُن کو توڑ دینا ہے۔ وہ ناپاک ہیں اور تمہارے لئے ناپاک رہیں گے۔`X; "ہر کھانے والی چیز جس پر ایسے برتن کا پانی ڈالا گیا ہے ناپاک ہے۔ اِسی طرح اُس برتن سے نکلی ہوئی ہر پینے والی چیز ناپاک ہے۔KW !اگر ایسی لاش مٹی کے برتن میں گر جائے تو جو کچھ بھی اُس میں ہے ناپاک ہو جائے گا اور تمہیں اُس برتن کو توڑنا ہے۔ }~9n}s`a *چاہے وہ اپنے پیٹ پر چاہے چار یا اِس سے زائد پاؤں پر چلتا ہو۔x_k )ہر جانور جو زمین پر رینگتا ہے قابلِ گھن ہے۔ اُسے کھانا منع ہے،G^  (جو اُس میں سے کچھ کھائے یا اُسے اُٹھا کر لے جائے اُسے اپنے کپڑوں کو دھونا ہے۔ توبھی وہ شام تک ناپاک رہے گا۔,]S 'اگر ایسا جانور جسے کھانے کی اجازت ہے مر جائے تو جو بھی اُس کی لاش چھوئے شام تک ناپاک رہے گا۔\ &لیکن اگر بیجوں پر پانی ڈالا گیا ہو اور پھر لاش اُن پر گر پڑے تو وہ ناپاک ہیں۔[y %اگر ایسی لاش بیجوں پر گر پڑے جن کو ابھی بونا ہے تو وہ پاک رہتے ہیں۔ {MBd .زمین پر چلنے والے جانوروں، پرندوں، آبی جانوروں اور زمین پر رینگنے والے جانوروں کے بارے میں شرع یہی ہے۔Ic  -مَیں رب ہوں۔ مَیں تمہیں مصر سے نکال لایا ہوں تاکہ تمہارا خدا بنوں۔ لہٰذا مُقدّس رہو، کیونکہ مَیں قدوس ہوں۔*bO ,کیونکہ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ لازم ہے کہ تم اپنے آپ کو مخصوص و مُقدّس رکھو، کیونکہ مَیں قدوس ہوں۔ اپنے آپ کو زمین پر رینگنے والے تمام جانوروں سے ناپاک نہ بنانا۔a} +اِن تمام رینگنے والوں سے اپنے آپ کو گھن کا باعث اور ناپاک نہ بنانا، "3>r _ لیکن اگر داغ پھیلا ہوا نظر نہیں آتا اور متاثرہ جِلد کا رنگ صحت مند جِلد کے رنگ کی مانند ہو گیا ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ یہ صرف اُس بھرے ہوئے زخم کا نشان ہے جو جلنے سے پیدا ہوا تھا۔ امام مریض کو پاک قرار دے۔vg اگر وہ ساتویں دن معلوم کرے کہ متاثرہ جگہ پھیل گئی ہے تو وہ اُسے ناپاک قرار دے۔ کیونکہ اِس کا مطلب ہے کہ وبائی جِلدی بیماری لگ گئی ہے۔N لیکن اگر امام نے معلوم کیا ہے کہ داغ میں بال سفید نہیں ہیں، وہ جِلد میں دھنسا ہوا نظر نہیں آتا اور اُس کا رنگ صحت مند جِلد کی مانند ہو رہا ہے تو وہ مریض کو سات دن تک علیٰحدگی میں رکھے۔  1 لیکن اگر امام نے معلوم کیا کہ متاثرہ جگہ جِلد میں دھنسی ہوئی نظر نہیں آتی اگرچہ اُس کے بالوں کا رنگ بدل گیا ہے تو وہ اُسے سات دن کے لئے علیٰحدگی میں رکھے۔O  تو امام متاثرہ جگہ کا معائنہ کرے۔ اگر وہ دھنسی ہوئی نظر آئے اور اُس کے بال رنگ کے لحاظ سے چمکتے ہوئے سونے کی مانند اور باریک ہوں تو امام مریض کو ناپاک قرار دے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ایسی وبائی جِلدی بیماری سر یا داڑھی کی جِلد پر لگ گئی ہے جو خارش پیدا کرتی ہے۔\ 3 اگر کسی کے سر یا داڑھی کی جِلد میں نشان نظر آئے q] #لیکن اگر اِس کے بعد جِلد کی متاثرہ جگہ پھیلنا شروع ہو جائے.W "ساتویں دن وہ اُس کا معائنہ کرے۔ اگر متاثرہ جگہ نہیں پھیلی اور وہ جِلد میں دھنسی ہوئی نظر نہیں آتی تو امام اُسے پاک قرار دے۔ وہ اپنے کپڑے دھو لے تو وہ پاک ہو جائے گا۔[1 !تو مریض اپنے بال منڈوائے۔ صرف وہ بال رہ جائیں جو متاثرہ جگہ سے نکلتے ہیں۔ امام مریض کو مزید سات دن علیٰحدگی میں رکھے۔^ 7 ساتویں دن امام جِلد کی متاثرہ جگہ کا معائنہ کرے۔ اگر وہ پھیلی ہوئی نظر نہیں آتی اور اُس کے بالوں کا رنگ چمک دار سونے کی مانند نہیں ہے، ساتھ ہی وہ جگہ جِلد میں دھنسی ہوئی بھی دکھائی نہیں دیتی، E   +6ALWbmx(3>IT_ju%0:EP[fq|                                                                 !   "   #   $   %   &   '   (   )   *   +   ,   -   .   /   0   1   2   3  4 !  5 "  6 #  7 $  8 %  9 &  : '  ; (   )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8  9  :  ; 81] 'تو امام اُن کا معائنہ کرے۔ اگر اُن کا سفید رنگ ہلکا سا ہو تو یہ صرف بےضرر پپڑی ہے۔ مریض پاک ہے۔gI &اگر کسی مرد یا عورت کی جِلد پر سفید داغ پیدا ہو جائیں>w %لیکن اگر اُس کے خیال میں متاثرہ جگہ پھیلی ہوئی نظر نہیں آتی بلکہ اُس میں سے کالے رنگ کے بال نکل رہے ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ مریض کی صحت بحال ہو گئی ہے۔ امام اُسے پاک قرار دے۔+ $تو امام دوبارہ اُس کا معائنہ کرے۔ اگر وہ جگہ واقعی پھیلی ہوئی نظر آئے تو مریض ناپاک ہے، چاہے متاثرہ جگہ کے بالوں کا رنگ چمکتے سونے کی مانند ہو یا نہ ہو۔ |(f~w ,تو مریض کو وبائی جِلدی بیماری لگ گئی ہے۔ امام اُسے ناپاک قرار دے۔>w +امام اُس کا معائنہ کرے۔ اگر گنجی جگہ پر سرخی مائل سفید سوجن ہو جو وبائی جِلدی بیماری کی مانند نظر آئےL *لیکن اگر اُس جگہ جہاں وہ گنجا ہے سرخی مائل سفید داغ ہو تو اِس کا مطلب ہے کہ وہاں وبائی جِلدی بیماری لگ گئی ہے۔{ )اگر کسی مرد کا سر ماتھے کی طرف یا پیچھے کی طرف گنجا ہے تو وہ پاک ہے۔{ (اگر کسی مرد کا سر ماتھے کی طرف یا پیچھے کی طرف گنجا ہے تو وہ پاک ہے۔ F;FJ 1اگر پھپھوندی کا رنگ ہرا یا لال سا ہو تو وہ پھیلنے والی پھپھوندی ہے، اور لازم ہے کہ اُسے امام کو دکھایا جائے۔+Q 0یا کہ پھپھوندی اُون یا کتان کے کسی کپڑے کے ٹکڑے یا کسی چمڑے یا چمڑے کی کسی چیز پر لگ گئی ہے۔ue /ہو سکتا ہے کہ اُون یا کتان کے کسی لباس پر پھپھوندی لگ گئی ہے،=u .جس وقت تک وبائی جِلدی بیماری لگی رہے وہ ناپاک ہے۔ وہ اِس دوران خیمہ گاہ کے باہر جا کر تنہائی میں رہے۔{ -وبائی جِلدی بیماری کا مریض پھٹے کپڑے پہنے۔ اُس کے بال بکھرے رہیں۔ وہ اپنی مونچھوں کو کسی کپڑے سے چھپائے اور پکارتا رہے، ’ناپاک، ناپاک۔‘ 5#e 6تو امام حکم دے کہ متاثرہ چیز کو دُھلوایا جائے۔ پھر وہ اُسے مزید سات دن کے لئے علیٰحدگی میں رکھے۔w"i 5لیکن اگر اِن سات دنوں کے بعد پھپھوندی پھیلی ہوئی نظر نہیں آتی!) 4امام اُسے جلا دے، کیونکہ یہ پھپھوندی نقصان دہ ہے۔ لازم ہے کہ اُسے جلا دیا جائے۔a = 3ساتویں دن وہ دوبارہ اُس کا معائنہ کرے۔ اگر پھپھوندی پھیل گئی ہو تو اِس کا مطلب ہے کہ وہ نقصان دہ ہے۔ متاثرہ چیز ناپاک ہے۔xk 2امام اُس کا معائنہ کر کے اُسے سات دن کے لئے علیٰحدگی میں رکھے۔ `g&I 9توبھی ہو سکتا ہے کہ پھپھوندی دوبارہ اُسی کپڑے یا چمڑے پر نظر آئے۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ پھیل رہی ہے اور اُسے جلا دینا لازم ہے۔P% 8لیکن اگر معلوم ہو جائے کہ پھپھوندی کا رنگ ماند پڑ گیا ہے تو امام کپڑے یا چمڑے میں سے متاثرہ جگہ پھاڑ کر نکال دے۔$3 7اِس کے بعد وہ دوبارہ اُس کا معائنہ کرے۔ اگر وہ معلوم کرے کہ پھپھوندی تو پھیلی ہوئی نظر نہیں آتی لیکن اُس کا رنگ ویسے کا ویسا ہے تو وہ ناپاک ہے۔ اُسے جلا دینا، چاہے پھپھوندی متاثرہ چیز کے سامنے والے حصے یا پچھلے حصے میں لگی ہو۔ 1>1-+Uجو خیمہ گاہ کے باہر جا کر اُس کا معائنہ کرے۔ اگر وہ دیکھے کہ مریض کی صحت واقعی بحال ہو گئی ہے2*_”اگر کوئی شخص جِلدی بیماری سے شفا پائے اور اُسے پاک صاف کرانا ہے تو اُسے امام کے پاس لایا جائے)) Qرب نے موسیٰ سے کہا،v(g ;یوں ہی پھپھوندی سے نپٹنا ہے، چاہے وہ اُون یا کتان کے کسی لباس کو لگ گئی ہو، چاہے اُون یا کتان کے کسی ٹکڑے یا چمڑے کی کسی چیز کو لگ گئی ہو۔ اِن ہی اصولوں کے تحت فیصلہ کرنا ہے کہ متاثرہ چیز پاک ہے یا ناپاک۔“ >'w :لیکن اگر پھپھوندی دھونے کے بعد غائب ہو جائے تو اُسے ایک اَور دفعہ دھونا ہے۔ پھر متاثرہ چیز پاک ہو گی۔ J`/;وہ پانی سے ملایا ہوا خون سات بار پاک ہونے والے شخص پر چھڑک کر اُسے پاک قرار دے، پھر زندہ پرندے کو کھلے میدان میں چھوڑ دے۔ .امام زندہ پرندے کو دیودار کی لکڑی، قرمزی رنگ کے دھاگے اور زوفا کے ساتھ ذبح کئے گئے پرندے کے اُس خون میں ڈبو دے جو مٹی کے برتن کے پانی میں آ گیا ہے۔,-Sامام کے حکم پر پرندوں میں سے ایک کو تازہ پانی سے بھرے ہوئے مٹی کے برتن کے اوپر ذبح کیا جائے۔2,_تو امام اُس کے لئے دو زندہ اور پاک پرندے، دیودار کی لکڑی، قرمزی رنگ کا دھاگا اور زوفا منگوائے۔ oo92m آٹھویں دن وہ دو بھیڑ کے نر بچے اور ایک یک سالہ بھیڑ چن لے جو بےعیب ہوں۔ ساتھ ہی وہ غلہ کی نذر کے لئے تیل کے ساتھ ملایا گیا ساڑھے 4 کلو گرام بہترین میدہ اور 300 ملی لٹر تیل لے۔p1[ ساتویں دن وہ دوبارہ اپنے سر کے بال، اپنی داڑھی، اپنے ابرو اور باقی تمام بال منڈوائے۔ وہ اپنے کپڑے دھوئے اور نہا لے۔ تب وہ پاک ہے۔\03جو اپنے آپ کو پاک صاف کرا رہا ہے وہ اپنے کپڑے دھوئے، اپنے تمام بال منڈوائے اور نہا لے۔ اِس کے بعد وہ پاک ہے۔ اب وہ خیمہ گاہ میں داخل ہو سکتا ہے اگرچہ وہ مزید سات دن اپنے ڈیرے میں نہیں جا سکتا۔ ?ZZ6/امام خون میں سے کچھ لے کر پاک ہونے والے کے دہنے کان کی لَو پر اور اُس کے دہنے ہاتھ اور دہنے پاؤں کے انگوٹھوں پر لگائے۔g5I پھر وہ بھیڑ کے اِس بچے کو خیمے کے دروازے پر ذبح کرے جہاں گناہ کی قربانیاں اور بھسم ہونے والی قربانیاں ذبح کی جاتی ہیں۔ گناہ کی قربانیوں کی طرح قصور کی یہ قربانی امام کا حصہ ہے اور نہایت مُقدّس ہے۔a4= بھیڑ کا ایک نر بچہ اور 300 ملی لٹر تیل قصور کی قربانی کے لئے ہے۔ امام اُنہیں ہلانے والی قربانی کے طور پر رب کے سامنے ہلائے۔=3u پھر جس امام نے اُسے پاک قرار دیا وہ اُسے اِن قربانیوں سمیت ملاقات کے خیمے کے دروازے پر رب کو پیش کرے۔ uK(:Kامام اپنی ہتھیلی پر کا باقی تیل پاک ہونے والے کے سر پر ڈال کر رب کے سامنے اُس کا کفارہ دے۔h9Kوہ اپنی ہتھیلی پر کے تیل میں سے کچھ اَور لے کر پاک ہونے والے کے دہنے کان کی لَو پر اور اُس کے دہنے ہاتھ اور دہنے پاؤں کے انگوٹھوں پر لگا دے یعنی اُن جگہوں پر جہاں وہ قصور کی قربانی کا خون لگا چکا ہے۔:8oاپنے دہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے ساتھ والی اُنگلی اِس تیل میں ڈبو کر وہ اُسے سات بار رب کے سامنے چھڑکے۔7 اب وہ 300 ملی لٹر تیل میں سے کچھ لے کر اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈالے۔ $x=kاگر شفایاب شخص غربت کے باعث یہ قربانیاں نہیں چڑھا سکتا تو پھر وہ قصور کی قربانی کے لئے بھیڑ کا صرف ایک نر بچہ لے آئے۔ کافی ہے کہ کفارہ دینے کے لئے یہی رب کے سامنے ہلایا جائے۔ ساتھ ساتھ غلہ کی نذر کے لئے ڈیڑھ کلو گرام بہترین میدہ تیل کے ساتھ ملا کر پیش کیا جائے اور 300 ملی لٹر تیل۔<وہ اُسے غلہ کی نذر کے ساتھ قربان گاہ پر چڑھا کر اُس کا کفارہ دے۔ تب وہ پاک ہے۔X;+اِس کے بعد امام گناہ کی قربانی چڑھا کر پاک ہونے والے کا کفارہ دے۔ آخر میں وہ بھسم ہونے والی قربانی کا جانور ذبح کرے۔ bMb8Akوہ قصور کی قربانی کے لئے بھیڑ کے بچے کو ذبح کرے اور اُس کے خون میں سے کچھ لے کر پاک ہونے والے کے دہنے کان کی لَو پر اور اُس کے دہنے ہاتھ اور دہنے پاؤں کے انگوٹھوں پر لگائے۔+@Qامام بھیڑ کے بچے کو 300 ملی لٹر تیل سمیت لے کر ہلانے والی قربانی کے طور پر رب کے سامنے ہلائے۔G? آٹھویں دن وہ اُنہیں ملاقات کے خیمے کے دروازے پر امام کے پاس اور رب کے سامنے لے آئے تاکہ وہ پاک صاف ہو جائے۔d>Cاِس کے علاوہ وہ دو قمریاں یا دو جوان کبوتر پیش کرے، ایک کو گناہ کی قربانی کے لئے اور دوسرے کو بھسم ہونے والی قربانی کے لئے۔ S-EUاپنی ہتھیلی پر کا باقی تیل وہ پاک ہونے والے کے سر پر ڈال دے تاکہ رب کے سامنے اُس کا کفارہ دے۔hDKوہ اپنی ہتھیلی پر کے تیل میں سے کچھ اَور لے کر پاک ہونے والے کے دہنے کان کی لَو پر اور اُس کے دہنے ہاتھ اور دہنے پاؤں کے انگوٹھوں پر لگا دے یعنی اُن جگہوں پر جہاں وہ قصور کی قربانی کا خون لگا چکا ہے۔?Cyاور اپنے دہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے ساتھ والی اُنگلی اِس تیل میں ڈبو کر اُسے سات بار رب کے سامنے چھڑک دے۔{Bqاب وہ 300 ملی لٹر تیل میں سے کچھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈالے ;gYV;XJ+"”جب تم ملکِ کنعان میں داخل ہو گے جو مَیں تمہیں دوں گا تو وہاں ایسے مکان ہوں گے جن میں مَیں نے پھپھوندی پھیلنے دی ہے۔IT_ju$/:EP[fq|  =  >  ?  @  A  B  C  D   =  >  ?  @  A  B  C  D  E  F  G  H ! I " J # K $ L % M & N ' O ( P ) Q * R + S , T - U . V / W 0 X 1 Y 2 Z 3 [ 4 \ 5 ] 6 ^ 7 _ 8 ` 9 a   b  c  d  e  f  g  h  i  j  k  l  m  n  o  p  q  r  s  t  u  v  w  x  y  z  {  |  }  ~     ``Z2وہ پرندوں میں سے ایک کو تازہ پانی سے بھرے ہوئے مٹی کے برتن کے اوپر ذبح کرے۔6Yg1اُسے گناہ سے پاک صاف کرانے کے لئے وہ دو پرندے، دیودار کی لکڑی، قرمزی رنگ کا دھاگا اور زوفا لے لے۔PX0لیکن اگر گھر کو نئے سرے سے پلستر کرنے کے بعد امام آ کر اُس کا دوبارہ معائنہ کرے اور دیکھے کہ پھپھوندی دوبارہ نہیں نکلی تو اِس کا مطلب ہے کہ پھپھوندی ختم ہو گئی ہے۔ وہ اُسے پاک قرار دے۔ "Dj"D^6لازم ہے کہ ہر قسم کی وبائی بیماری سے ایسے نپٹو جیسے بیان کیا گیا ہے، چاہے وہ وبائی جِلدی بیماریاں ہوں (مثلاً خارش، سوجن، پپڑی یا سفید داغ)، چاہے کپڑوں یا گھروں میں پھپھوندی ہو۔V]'5آخر میں وہ زندہ پرندے کو آبادی کے باہر کھلے میدان میں چھوڑ دے۔ یوں وہ گھر کا کفارہ دے گا، اور وہ پاک صاف ہو جائے گا۔\\34اِن چیزوں سے وہ گھر کو گناہ سے پاک صاف کرتا ہے۔Y[-3اِس کے بعد وہ دیودار کی لکڑی، زوفا، قرمزی رنگ کا دھاگا اور زندہ پرندہ لے کر اُس تازہ پانی میں ڈبو دے جس کے ساتھ ذبح کئے ہوئے پرندے کا خون ملایا گیا ہے اور اِس پانی کو سات بار گھر پر چھڑک دے۔ p;b uرب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا،a9اِن اصولوں کے تحت فیصلہ کرنا ہے کہ کوئی شخص یا چیز پاک ہے یا ناپاک۔“ D`8لازم ہے کہ ہر قسم کی وبائی بیماری سے ایسے نپٹو جیسے بیان کیا گیا ہے، چاہے وہ وبائی جِلدی بیماریاں ہوں (مثلاً خارش، سوجن، پپڑی یا سفید داغ)، چاہے کپڑوں یا گھروں میں پھپھوندی ہو۔D_7لازم ہے کہ ہر قسم کی وبائی بیماری سے ایسے نپٹو جیسے بیان کیا گیا ہے، چاہے وہ وبائی جِلدی بیماریاں ہوں (مثلاً خارش، سوجن، پپڑی یا سفید داغ)، چاہے کپڑوں یا گھروں میں پھپھوندی ہو۔ @lgSجو کوئی بھی اُس کے لیٹنے کی جگہ کو چھوئے یا اُس کے بیٹھنے کی جگہ پر بیٹھ جائے وہ اپنے کپڑے دھو کر نہا لے۔ وہ شام تک ناپاک رہے گا۔lfSجو کوئی بھی اُس کے لیٹنے کی جگہ کو چھوئے یا اُس کے بیٹھنے کی جگہ پر بیٹھ جائے وہ اپنے کپڑے دھو کر نہا لے۔ وہ شام تک ناپاک رہے گا۔be?جس چیز پر بھی مریض لیٹتا یا بیٹھتا ہے وہ ناپاک ہے۔Kdچاہے مائع بہتا رہتا ہو یا رُک گیا ہو۔+wاب سے اسرائیلی اپنی قربانیاں اُن بکروں کے دیوتاؤں کو پیش نہ کریں جن کی پیروی کر کے اُنہوں نے زنا کیا ہے۔ یہ اُن کے لئے اور اُن کے بعد آنے والی نسلوں کے لئے ایک دائمی اصول ہے۔s*aامام اُن کا خون ملاقات کے خیمے کے دروازے پر کی قربان گاہ پر چھڑکے اور اُن کی چربی اُس پر جلا دے۔ ایسی قربانی کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ )اِس ہدایت کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیلی اب سے اپنی قربانیاں کھلے میدان میں ذبح نہ کریں بلکہ رب کو پیش کریں۔ وہ اپنے جانوروں کو ملاقات کے خیمے کے دروازے پر امام کے پاس لا کر اُنہیں رب کو سلامتی کی قربانی کے طور پر پیش کریں۔ '6k'@/{ کیونکہ ہر مخلوق کے خون میں اُس کی جان ہے۔ مَیں نے اُسے تمہیں دے دیا ہے تاکہ وہ قربان گاہ پر تمہارا کفارہ دے۔ کیونکہ خون ہی اُس جان کے ذریعے جو اُس میں ہے تمہارا کفارہ دیتا ہے۔.- خون کھانا بالکل منع ہے۔ جو بھی اسرائیلی یا تمہارے درمیان رہنے والا پردیسی خون کھائے مَیں اُس کے خلاف ہو جاؤں گا اور اُسے اُس کی قوم میں سے مٹا ڈالوں گا۔*-O ملاقات کے خیمے کے دروازے پر لا کر رب کو پیش کرے۔ ورنہ اُسے اُس کی قوم میں سے مٹایا جائے گا۔F,لازم ہے کہ ہر اسرائیلی اور تمہارے درمیان رہنے والا پردیسی اپنی بھسم ہونے والی قربانی یا کوئی اَور قربانی z>W2)کیونکہ ہر مخلوق کا خون اُس کی جان ہے۔ اِس لئے مَیں نے اسرائیلیوں کو کہا ہے کہ کسی بھی مخلوق کا خون نہ کھاؤ۔ ہر مخلوق کا خون اُس کی جان ہے، اور جو بھی اُسے کھائے اُسے قوم میں سے مٹا دینا ہے۔81k اگر کوئی بھی اسرائیلی یا پردیسی کسی جانور یا پرندے کا شکار کر کے پکڑے جسے کھانے کی اجازت ہے تو وہ اُسے ذبح کرنے کے بعد اُس کا پورا خون زمین پر بہنے دے اور خون پر مٹی ڈالے۔0 اِس لئے مَیں کہتا ہوں کہ نہ کوئی اسرائیلی نہ کوئی پردیسی خون کھائے۔ S''7Iمصریوں کی طرح زندگی نہ گزارنا جن میں تم رہتے تھے۔ ملکِ کنعان کے لوگوں کی طرح بھی زندگی نہ گزارنا جن کے پاس مَیں تمہیں لے جا رہا ہوں۔ اُن کے رسم و رواج نہ اپنانا۔`6;”اسرائیلیوں کو بتانا کہ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔)5 Qرب نے موسیٰ سے کہا،o4Yجو ایسا نہیں کرتا اُسے اپنے قصور کی سزا بھگتنی پڑے گی۔“ 73iاگر کوئی بھی اسرائیلی یا پردیسی ایسے جانور کا گوشت کھائے جو فطری طور پر مر گیا یا جسے جنگلی جانوروں نے پھاڑ ڈالا ہو تو وہ اپنے کپڑے دھو کر نہا لے۔ وہ شام تک ناپاک رہے گا۔ g9d<-اپنے باپ کی کسی بھی بیوی سے ہم بستر نہ ہونا، ورنہ تیرے باپ کی بےحرمتی ہو جائے گی۔Q;اپنی ماں سے ہم بستر نہ ہونا، ورنہ تیرے باپ کی بےحرمتی ہو جائے گی۔ وہ تیری ماں ہے، اِس لئے اُس سے ہم بستر نہ ہونا۔:تم میں سے کوئی بھی اپنی قریبی رشتے دار سے ہم بستر نہ ہو۔ مَیں رب ہوں۔#9Aمیری ہدایات اور احکام کے مطابق چلنا، کیونکہ جو یوں کرے گا وہ جیتا رہے گا۔ مَیں رب ہوں۔8%میرے ہی احکام پر عمل کرو اور میری ہدایات کے مطابق چلو۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ BBWB)اپنے باپ کے بھائی کی بیوی سے ہم بستر نہ ہونا، ورنہ تیرے باپ کے بھائی کی بےحرمتی ہو جائے گی۔ اُس کی بیوی تیری چچی ہے۔yAm اپنی خالہ سے ہم بستر نہ ہونا۔ وہ تیری ماں کی قریبی رشتے دار ہے۔}@u اپنی پھوپھی سے ہم بستر نہ ہونا۔ وہ تیرے باپ کی قریبی رشتے دار ہے۔s?a اپنے باپ کی بیوی کی بیٹی سے ہم بستر نہ ہونا۔ وہ تیری بہن ہے۔ > اپنی پوتی یا نواسی سے ہم بستر نہ ہونا، ورنہ تیری اپنی بےحرمتی ہو جائے گی۔]=5 اپنی بہن سے ہم بستر نہ ہونا، چاہے وہ تیرے باپ یا تیری ماں کی بیٹی ہو، چاہے وہ تیرے ہی گھر میں یا کہیں اَور پیدا ہوئی ہو۔ b bHکسی دوسرے مرد کی بیوی سے ہم بستر نہ ہونا، ورنہ تُو اپنے آپ کو ناپاک کرے گا۔G#کسی عورت سے اُس کی ماہواری کے دنوں میں ہم بستر نہ ہونا۔ اِس دوران وہ ناپاک ہے۔^F7اپنی بیوی کے جیتے جی اُس کی بہن سے شادی نہ کرنا۔E3اگر تیرا جنسی تعلق کسی عورت سے ہو تو اُس کی بیٹی، پوتی یا نواسی سے ہم بستر ہونا منع ہے، کیونکہ وہ اُس کی قریبی رشتے دار ہیں۔ ایسا کرنا بڑی شرم ناک حرکت ہے۔Dاپنی بھابی سے ہم بستر نہ ہونا، ورنہ تیرے بھائی کی بےحرمتی ہو جائے گی۔gCIاپنی بہو سے ہم بستر نہ ہونا۔ وہ تیرے بیٹے کی بیوی ہے۔ v]L5ایسی حرکتوں سے اپنے آپ کو ناپاک نہ کرنا۔ کیونکہ جو قومیں مَیں تمہارے آگے ملک سے نکالوں گا وہ اِسی طرح ناپاک ہوتی رہیں۔aK=کسی جانور سے جنسی تعلقات نہ رکھنا، ورنہ تُو ناپاک ہو جائے گا۔ عورتوں کے لئے بھی ایسا کرنا منع ہے۔ یہ بڑی شرم ناک حرکت ہے۔J{مرد دوسرے مرد کے ساتھ جنسی تعلقات نہ رکھے۔ ایسی حرکت قابلِ گھن ہے۔Iاپنے کسی بھی بچے کو مَلِک دیوتا کو قربانی کے طور پر پیش کر کے جلا دینا منع ہے۔ ایسی حرکت سے تُو اپنے خدا کے نام کو داغ لگائے گا۔ مَیں رب ہوں۔ 5g5Q%جو بھی مذکورہ گھناؤنی حرکتوں میں سے ایک کرے اُسے اُس کی قوم میں سے مٹایا جائے۔YP-لہٰذا اگر تم بھی ملک کو ناپاک کرو گے تو وہ تمہیں اِسی طرح اُگل دے گا جس طرح اُس نے تم سے پہلے موجود قوموں کو اُگل دیا۔8Okکیونکہ یہ تمام قابلِ گھن باتیں اُن سے ہوئیں جو تم سے پہلے اِس ملک میں رہتے تھے۔ یوں ملک ناپاک ہوا۔3Naلیکن تم میری ہدایات اور احکام کے مطابق چلو۔ نہ دیسی اور نہ پردیسی ایسی کوئی گھناؤنی حرکت کریں۔^M7ملک خود بھی ناپاک ہوا۔ اِس لئے مَیں نے اُسے اُس کے قصور کے سبب سے سزا دی، اور نتیجے میں اُس نے اپنے باشندوں کو اُگل دیا۔ %W%W!جب تم رب کو سلامتی کی قربانی پیش کرتے ہو تو اُسے یوں چڑھاؤ کہ تم منظور ہو جاؤ۔V)نہ بُتوں کی طرف رجوع کرنا، نہ اپنے لئے دیوتا ڈھالنا۔ مَیں ہی رب تمہارا خدا ہوں۔&UGتم میں سے ہر ایک اپنے ماں باپ کی عزت کرے۔ ہفتے کے دن کام نہ کرنا۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔%TE”اسرائیلیوں کی پوری جماعت کو بتانا کہ مُقدّس رہو، کیونکہ مَیں رب تمہارا خدا قدوس ہوں۔)S Qرب نے موسیٰ سے کہا،&RGمیرے احکام کے مطابق چلتے رہو اور ایسے قابلِ گھن رسم و رواج نہ اپنانا جو تمہارے آنے سے پہلے رائج تھے۔ اِن سے اپنے آپ کو ناپاک نہ کرنا۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔“ uY|u[ کٹائی کے وقت اپنی فصل پورے طور پر نہ کاٹنا بلکہ کھیت کے کناروں پر کچھ چھوڑ دینا۔ اِس طرح جو کچھ کٹائی کرتے وقت کھیت میں بچ جائے اُسے چھوڑنا۔Z9ایسے شخص کو اپنے قصور کی سزا اُٹھانی پڑے گی، کیونکہ اُس نے اُس چیز کی مُقدّس حالت ختم کی ہے جو رب کے لئے مخصوص کی گئی تھی۔ اُسے اُس کی قوم میں سے مٹایا جائے۔6Ygاگر کوئی اُسے تیسرے دن کھائے تو اُسے علم ہونا چاہئے کہ یہ قربانی ناپاک ہے اور رب کو پسند نہیں ہے۔#XAاُس کا گوشت اُسی دن یا اگلے دن کھایا جائے۔ جو بھی تیسرے دن تک بچ جاتا ہے اُسے جلانا ہے۔ )P_ ایک دوسرے کو نہ دبانا اور نہ لُوٹنا۔ کسی کی مزدوری اُسی دن کی شام تک دے دینا اور اُسے اگلی صبح تک روکے نہ رکھنا۔^7 میرے نام کی قَسم کھا کر دھوکا نہ دینا، ورنہ تم میرے نام کو داغ لگاؤ گے۔ مَیں رب ہوں۔n]W چوری نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، ایک دوسرے کو دھوکا نہ دینا۔b\? انگور کے باغوں میں بھی جو کچھ انگور توڑتے وقت بچ جائے اُسے چھوڑ دینا۔ جو انگور زمین پر گر جائیں اُنہیں اُٹھا کر نہ لے جانا۔ اُنہیں غریبوں اور پردیسیوں کے لئے چھوڑ دینا۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ . .Zc/دل میں اپنے بھائی سے نفرت نہ کرنا۔ اگر کسی کی سرزنش کرنی ہے تو رُوبرُو کرنا، ورنہ تُو اُس کے سبب سے قصوروار ٹھہرے گا۔tbcاپنی قوم میں اِدھر اُدھر پھرتے ہوئے کسی پر بہتان نہ لگانا۔ کوئی بھی ایسا کام نہ کرنا جس سے کسی کی جان خطرے میں پڑ جائے۔ مَیں رب ہوں۔aعدالت میں کسی کی حق تلفی نہ کرنا۔ فیصلہ کرتے وقت کسی کی بھی جانب داری نہ کرنا، چاہے وہ غریب یا اثر و رسوخ والا ہو۔ انصاف سے اپنے پڑوسی کی عدالت کر۔f`Gبہرے کو نہ کوسنا، نہ اندھے کے راستے میں کوئی چیز رکھنا جس سے وہ ٹھوکر کھائے۔ اِس میں بھی اپنے خدا کا خوف ماننا۔ مَیں رب ہوں۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq|                                                     ! " # $ %                                ((f/اگر کوئی آدمی کسی لونڈی سے جس کی منگنی کسی اَور سے ہو چکی ہو ہم بستر ہو جائے اور لونڈی کو اب تک نہ پیسوں سے نہ ویسے ہی آزاد کیا گیا ہو تو مناسب سزا دی جائے۔ لیکن اُنہیں سزائے موت نہ دی جائے، کیونکہ اُسے اب تک آزاد نہیں کیا گیا۔2e_میری ہدایات پر عمل کرو۔ دو مختلف قسم کے جانوروں کو ملاپ نہ کرنے دینا۔ اپنے کھیت میں دو قسم کے بیج نہ بونا۔ ایسا کپڑا نہ پہننا جو دو مختلف قسم کے دھاگوں کا بُنا ہوا ہو۔d{انتقام نہ لینا۔ اپنی قوم کے کسی شخص پر دیر تک تیرا غصہ نہ رہے بلکہ اپنے پڑوسی سے ویسی محبت رکھنا جیسی تُو اپنے آپ سے رکھتا ہے۔ مَیں رب ہوں۔offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|K2L6M:N=OAPEQJRNSSTWVZW^XbYgZlK2L6M:N=OAPEQJRNSSTWVZW^XbYgZl[p\u]x^|_`ab cdefghj!k&l(m+n/o2p7q<rBsHtLuQvWw[x_yc{f}k~pty| !&)-047;>@DINTX\_cjorx|  !%(+.16;?CGJNSVZ]ae N-N0k[پانچویں سال تم اُن کا پھل کھا سکتے ہو۔ یوں تمہاری فصل بڑھائی جائے گی۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔j5چوتھے سال اُن کا تمام پھل خوشی کے مُقدّس نذرانے کے طور پر رب کے لئے مخصوص کیا جائے۔[i1جب ملکِ کنعان میں داخل ہونے کے بعد تم پھل دار درخت لگاؤ گے تو پہلے تین سال اُن کا پھل نہ کھانا بلکہ اُسے ممنوع سمجھنا۔'hIامام اِس قربانی سے رب کے سامنے اُس کے گناہ کا کفارہ دے۔ یوں اُس کا گناہ معاف کیا جائے گا۔Ogقصوروار آدمی ملاقات کے خیمے کے دروازے پر ایک مینڈھا لے آئے تاکہ وہ رب کو قصور کی قربانی کے طور پر پیش کیا جائے۔ i|psہفتے کے دن آرام کرنا اور میرے مقدِس کا احترام کرنا۔ مَیں رب ہوں۔So!اپنی بیٹی کو کسبی نہ بنانا، ورنہ اُس کی مُقدّس حالت جاتی رہے گی اور ملک زناکاری کے باعث حرام کاری سے بھر جائے گا۔)nMاپنے آپ کو مُردوں کے سبب سے کاٹ کر زخمی نہ کرنا، نہ اپنی جِلد پر نقوش گدوانا۔ مَیں رب ہوں۔wmiاپنے سرکے بال گول شکل میں نہ کٹوانا، نہ اپنی داڑھی کو تراشنا۔mlUایسا گوشت نہ کھانا جس میں خون ہو۔ فال یا شگون نہ نکالنا۔ Y2YZt/"اُس کے ساتھ ایسا سلوک کر جیسا اپنے ہم وطنوں کے ساتھ کرتا ہے۔ جس طرح تُو اپنے آپ سے محبت رکھتا ہے اُسی طرح اُس سے بھی محبت رکھنا۔ یاد رہے کہ تم خود مصر میں پردیسی تھے۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔xsk!جو پردیسی تمہارے ملک میں تمہارے درمیان رہتا ہے اُسے نہ دبانا۔Br بوڑھے لوگوں کے سامنے اُٹھ کر کھڑا ہو جانا، بزرگوں کی عزت کرنا اور اپنے خدا کا احترام کرنا۔ مَیں رب ہوں۔qایسے لوگوں کے پاس نہ جانا جو مُردوں سے رابطہ کرتے ہیں، نہ غیب دانوں کی طرف رجوع کرنا، ورنہ تم اُن سے ناپاک ہو جاؤ گے۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ L?vLlyS”اسرائیلیوں کو بتانا کہ تم میں سے جو بھی اپنے بچے کو مَلِک دیوتا کو قربانی کے طور پر پیش کرے اُسے سزائے موت دینی ہے۔ اِس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ اسرائیلی ہے یا پردیسی۔ جماعت کے لوگ اُسے سنگسار کریں۔)x Qرب نے موسیٰ سے کہا، w%میری تمام ہدایات اور تمام احکام مانو اور اُن پر عمل کرو۔ مَیں رب ہوں۔“ Ev$صحیح ترازو، صحیح باٹ اور صحیح پیمانہ استعمال کرنا۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں جو تمہیں مصر سے نکال لایا ہوں۔=uu#ناانصافی نہ کرنا۔ نہ عدالت میں، نہ لمبائی ناپتے وقت، نہ تولتے وقت اور نہ کسی چیز کی مقدار ناپتے وقت۔ [|1تو پھر مَیں خود ایسے شخص اور اُس کے گھرانے کے خلاف کھڑا ہو جاؤں گا۔ مَیں اُسے اور اُن تمام لوگوں کو قوم میں سے مٹا ڈالوں گا جنہوں نے اُس کے پیچھے لگ کر مَلِک دیوتا کو سجدہ کرنے سے زنا کیا ہے۔7{iاگر جماعت کے لوگ اپنی آنکھیں بند کر کے ایسے شخص کی حرکتیں نظرانداز کریں اور اُسے سزائے موت نہ دیںFzمَیں خود ایسے شخص کے خلاف ہو جاؤں گا اور اُسے اُس کی قوم میں سے مٹا ڈالوں گا۔ کیونکہ اپنے بچوں کو مَلِک کو پیش کرنے سے اُس نے میرے مقدِس کو ناپاک کیا اور میرے نام کو داغ لگایا ہے۔ ))) اگر کسی مرد نے کسی کی بیوی کے ساتھ زنا کیا ہے تو دونوں کو سزائے موت دینی ہے۔I  جس نے بھی اپنے باپ یا ماں پر لعنت بھیجی ہے اُسے سزائے موت دی جائے۔ اِس حرکت سے وہ اپنی موت کا خود ذمہ دار ہے۔3میری ہدایات مانو اور اُن پر عمل کرو۔ مَیں رب ہوں جو تمہیں مخصوص و مُقدّس کرتا ہوں۔ ~ اپنے آپ کو میرے لئے مخصوص و مُقدّس رکھو، کیونکہ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔F}جو شخص مُردوں سے رابطہ کرنے اور غیب دانی کرنے والوں کی طرف رجوع کرتا ہے مَیں اُس کے خلاف ہو جاؤں گا۔ اُن کی پیروی کرنے سے وہ زنا کرتا ہے۔ مَیں اُسے اُس کی قوم میں سے مٹا ڈالوں گا۔ xk اگر کوئی مرد کسی دوسرے مرد سے جنسی تعلقات رکھے تو دونوں کو اِس گھناؤنی حرکت کے باعث سزائے موت دینی ہے۔ وہ اپنی موت کے خود ذمہ دار ہیں۔  اگر کوئی مرد اپنی بہو سے ہم بستر ہوا ہے تو دونوں کو سزائے موت دینی ہے۔ جو کچھ اُنہوں نے کیا ہے وہ نہایت شرم ناک ہے۔ وہ اپنی موت کے خود ذمہ دار ہیں۔wi جو مرد اپنے باپ کی بیوی سے ہم بستر ہوا ہے اُس نے اپنے باپ کی بےحرمتی کی ہے۔ دونوں کو سزائے موت دینی ہے۔ وہ اپنی موت کے خود ذمہ دار ہیں۔ @*@fGجو عورت کسی جانور سے جنسی تعلقات رکھے اُسے سزائے موت دینی ہے۔ اُس جانور کو بھی مار دیا جائے۔ وہ اپنی موت کے خود ذمہ دار ہیں۔,Sجو مرد کسی جانور سے جنسی تعلقات رکھے اُسے سزائے موت دینا ہے۔ اُس جانور کو بھی مار دیا جائے۔"?اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے علاوہ اُس کی ماں سے بھی شادی کرے تو یہ ایک نہایت شرم ناک بات ہے۔ دونوں کو جلا دینا ہے تاکہ تمہارے درمیان کوئی ایسی خبیث بات نہ رہے۔ V6 5اپنی خالہ یا پھوپھی سے ہم بستر نہ ہونا۔ کیونکہ جو ایسا کرتا ہے وہ اپنی قریبی رشتے دار کی بےحرمتی کرتا ہے۔ دونوں کو اپنے قصور کے نتیجے برداشت کرنے پڑیں گے۔ 3اگر کوئی مرد ماہواری کے ایام میں کسی عورت سے ہم بستر ہوا ہے تو دونوں کو اُن کی قوم میں سے مٹانا ہے۔ کیونکہ دونوں نے عورت کے خون کے منبع سے پردہ اُٹھایا ہے۔&Gجس مرد نے اپنی بہن سے شادی کی ہے اُس نے شرم ناک حرکت کی ہے، چاہے وہ باپ کی بیٹی ہو یا ماں کی۔ اُنہیں اسرائیلی قوم کی نظروں سے مٹایا جائے۔ ایسے شخص نے اپنی بہن کی بےحرمتی کی ہے۔ اِس لئے اُسے خود اپنے قصور کے نتیجے برداشت کرنے پڑیں گے۔ +<+ اُن قوموں کے رسم و رواج کے مطابق زندگی نہ گزارنا جنہیں مَیں تمہارے آگے سے نکال دوں گا۔ مجھے اِس سبب سے اُن سے گھن آنے لگی کہ وہ یہ سب کچھ کرتے تھے۔W )میری تمام ہدایات اور احکام کو مانو اور اُن پر عمل کرو۔ ورنہ جس ملک میں مَیں تمہیں لے جا رہا ہوں وہ تمہیں اُگل دے گا۔Q جس نے اپنی بھابی سے شادی کی ہے اُس نے ایک نجس حرکت کی ہے۔ اُس نے اپنے بھائی کی بےحرمتی کی ہے۔ وہ بےاولاد رہیں گے۔ جو اپنی چچی یا تائی سے ہم بستر ہوا ہے اُس نے اپنے چچا یا تایا کی بےحرمتی کی ہے۔ دونوں کو اپنے قصور کے نتیجے برداشت کرنے پڑیں گے۔ وہ بےاولاد مریں گے۔ Lاِس لئے لازم ہے کہ تم زمین پر چلنے والے جانوروں اور پرندوں میں پاک اور ناپاک کا امتیاز کرو۔ اپنے آپ کو ناپاک جانور کھانے سے قابلِ گھن نہ بنانا، چاہے وہ زمین پر چلتے یا رینگتے ہیں، چاہے ہَوا میں اُڑتے ہیں۔ مَیں ہی نے اُنہیں تمہارے لئے ناپاک قرار دیا ہے۔saلیکن تم سے مَیں نے کہا، ’تم ہی اُن کی زمین پر قبضہ کرو گے۔ مَیں ہی اُسے تمہیں دے دوں گا، ایسا ملک جس میں کثرت کا دودھ اور شہد ہے۔‘ مَیں رب تمہارا خدا ہوں، جس نے تم کو دیگر قوموں میں سے چن کر الگ کر دیا ہے۔ 33[1اور جو غیرشادی شدہ بہن اُس کے گھر میں رہتی ہے۔|sسوائے اپنے قریبی رشتے داروں کے یعنی ماں، باپ، بیٹا، بیٹی، بھائیj Qرب نے موسیٰ سے کہا، ”ہارون کے بیٹوں کو جو امام ہیں بتا دینا کہ امام اپنے آپ کو کسی اسرائیلی کی لاش کے قریب جانے سے ناپاک نہ کرےتم میں سے جو مُردوں سے رابطہ یا غیب دانی کرتا ہے اُسے سزائے موت دینی ہے، خواہ عورت ہو یا مرد۔ اُنہیں سنگسار کرنا۔ وہ اپنی موت کے خود ذمہ دار ہیں۔“ jOتمہیں میرے لئے مخصوص و مُقدّس ہونا ہے، کیونکہ مَیں قدوس ہوں، اور مَیں نے تمہیں دیگر قوموں میں سے چن کر اپنے لئے الگ کر لیا ہے۔ xLLxPامام زناکار عورت، مندر کی کسبی یا طلاق یافتہ عورت سے شادی نہ کریں، کیونکہ وہ اپنے رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہیں۔I وہ اپنے خدا کے لئے مخصوص و مُقدّس رہیں اور اپنے خدا کے نام کو داغ نہ لگائیں۔ چونکہ وہ رب کو جلنے والی قربانیاں یعنی اپنے خدا کی روٹی پیش کرتے ہیں اِس لئے لازم ہے کہ وہ مُقدّس رہیں۔/Yامام اپنے سر کو نہ منڈوائیں۔ وہ نہ اپنی داڑھی کو تراشیں اور نہ کاٹنے سے اپنے آپ کو زخمی کریں۔0[وہ اپنی قوم میں کسی اَور کے باعث اپنے آپ کو ناپاک نہ کرے، ورنہ اُس کی مُقدّس حالت جاتی رہے گی۔ zz_9 امامِ اعظم کے سر پر مسح کا تیل اُنڈیلا گیا ہے اور اُسے امامِ اعظم کے مُقدّس کپڑے پہننے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اِس لئے وہ رنج کے عالم میں اپنے بالوں کو بکھرنے نہ دے، نہ کبھی اپنے کپڑوں کو پھاڑے۔wi کسی امام کی جو بیٹی زناکاری سے اپنی مُقدّس حالت کو ختم کر دیتی ہے وہ اپنے باپ کی مُقدّس حالت کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ اُسے جلا دیا جائے۔$Cامام کو مُقدّس سمجھنا، کیونکہ وہ تیرے خدا کی روٹی کو قربان گاہ پر چڑھاتا ہے۔ وہ تیرے لئے مُقدّس ٹھہرے کیونکہ مَیں رب قدوس ہوں۔ مَیں ہی تمہیں مُقدّس کرتا ہوں۔ !G!H! ورنہ اُس کی اولاد مخصوص و مُقدّس نہیں ہو گی۔ کیونکہ مَیں رب ہوں جو اُسے اپنے لئے مخصوص و مُقدّس کرتا ہوں۔“@ {وہ بیوہ، طلاق یافتہ عورت، مندر کی کسبی یا زناکار عورت سے شادی نہ کرے بلکہ صرف اپنے قبیلے کی کنواری سے،Z/ امامِ اعظم کو صرف کنواری سے شادی کی اجازت ہے۔5e جب تک کوئی لاش اُس کے گھر میں پڑی رہے وہ مقدِس کو چھوڑ کر اپنے گھر نہ جائے، ورنہ وہ مقدِس کو ناپاک کرے گا۔ کیونکہ اُسے اُس کے خدا کے تیل سے مخصوص کیا گیا ہے۔ مَیں رب ہوں۔5e وہ کسی لاش کے قریب نہ جائے، چاہے وہ اُس کے باپ یا ماں کی لاش کیوں نہ ہو، ورنہ وہ ناپاک ہو جائے گا۔ ~A&}نہ کُبڑا، نہ بونا، نہ وہ جس کی آنکھ میں نقص ہو یا جسے وبائی جِلدی بیماری ہو یا جس کے خصیے کچلے ہوئے ہوں۔J%نہ وہ جس کا پاؤں یا ہاتھ ٹوٹا ہوا ہو،_$9کیونکہ کوئی بھی معذور میرے حضور نہ آئے، نہ اندھا، نہ لنگڑا، نہ وہ جس کی ناک چری ہوئی ہو یا جس کے کسی عضو میں کمی بیشی ہو،#%”ہارون کو بتانا کہ تیری اولاد میں سے کوئی بھی جس کے جسم میں نقص ہو میرے حضور آ کر اپنے خدا کی روٹی نہ چڑھائے۔ یہ اصول آنے والی نسلوں کے لئے بھی اٹل ہے۔6"iرب نے موسیٰ سے یہ بھی کہا، ww)!لیکن چونکہ اُس میں نقص ہے اِس لئے وہ مُقدّس ترین کمرے کے دروازے کے پردے کے قریب نہ جائے، نہ قربان گاہ کے پاس آئے۔ ورنہ وہ میری مُقدّس چیزوں کو ناپاک کرے گا۔ کیونکہ مَیں رب ہوں جو اُنہیں اپنے لئے مخصوص و مُقدّس کرتا ہوں۔“*(Oاُسے اللہ کی مُقدّس بلکہ مُقدّس ترین قربانیوں میں سے بھی اماموں کا حصہ کھانے کی اجازت ہے۔@'{ہارون امام کی کوئی بھی اولاد جس کے جسم میں نقص ہو میرے حضور آ کر رب کو جلنے والی قربانیاں پیش نہ کرے۔ چونکہ اُس میں نقص ہے اِس لئے وہ میرے حضور آ کر اپنے خدا کی روٹی نہ چڑھائے۔ E  "-8BMXcny)4?IT_ju%0;FQ\gr}                                                         !  "  #  $  %  &  '  (  )  *   +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8  9  :  ;  <  =  >  ?  @  A  B  C  D  E  F  G  H  I  J ! K   L  M  N  O  P  Q  R  S yMW-)جو امام ناپاک ہونے کے باوجود اُن قربانیوں کے پاس آ جائے جو اسرائیلیوں نے میرے لئے مخصوص و مُقدّس کی ہیں اُسے میرے سامنے سے مٹانا ہے۔ یہ اصول آنے والی نسلوں کے لئے بھی اٹل ہے۔ مَیں رب ہوں۔-,U”ہارون اور اُس کے بیٹوں کو بتانا کہ اسرائیلیوں کی اُن قربانیوں کا احترام کرو جو تم نے میرے لئے مخصوص و مُقدّس کی ہیں، ورنہ تم میرے نام کو داغ لگاؤ گے۔ مَیں رب ہوں۔)+ Qرب نے موسیٰ سے کہا،*موسیٰ نے یہ ہدایات ہارون، اُس کے بیٹوں اور تمام اسرائیلیوں کو دیں۔ @6@r0_جو ایسی کوئی بھی چیز چھوئے وہ شام تک ناپاک رہے گا۔ اِس کے علاوہ لازم ہے کہ وہ مُقدّس قربانیوں میں سے اپنا حصہ کھانے سے پہلے نہا لے۔[/1وہ ناپاک رینگنے والے جانور یا ناپاک شخص کو چھونے سے بھی ناپاک ہو جاتا ہے، خواہ وہ کسی بھی سبب سے ناپاک کیوں نہ ہوا ہو۔g.Iہارون کی اولاد میں سے جو کوئی بھی وبائی جِلدی بیماری یا جریان کا مریض ہو اُسے مُقدّس قربانیوں میں سے اپنا حصہ کھانے کی اجازت نہیں ہے۔ پہلے وہ پاک ہو جائے۔ جو ایسی کوئی بھی چیز چھوئے جو لاش سے ناپاک ہو گئی ہو یا ایسے آدمی کو چھوئے جس کا نطفہ نکلا ہو وہ ناپاک ہو جاتا ہے۔ 5355<4s صرف امام کے خاندان کے افراد مُقدّس قربانیوں میں سے کھا سکتے ہیں۔ غیرشہری یا مزدور کو اجازت نہیں ہے۔<3s امام میری ہدایات کے مطابق چلیں، ورنہ وہ قصوروار بن جائیں گے اور مُقدّس چیزوں کی بےحرمتی کرنے کے سبب سے مر جائیں گے۔ مَیں رب ہوں جو اُنہیں اپنے لئے مخصوص و مُقدّس کرتا ہوں۔z2oامام ایسے جانوروں کا گوشت نہ کھائے جو فطری طور پر مر گئے یا جنہیں جنگلی جانوروں نے پھاڑ ڈالا ہو، ورنہ وہ ناپاک ہو جائے گا۔ مَیں رب ہوں۔I1 سورج کے غروب ہونے پر وہ پاک ہو گا اور مُقدّس قربانیوں میں سے اپنا حصہ کھا سکے گا۔ کیونکہ وہ اُس کی روزی ہیں۔ U,OUv7g لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ بیوہ یا طلاق یافتہ ہو اور اُس کے بچے نہ ہوں۔ جب وہ اپنے باپ کے گھر لوٹ کر وہاں ایسے رہے گی جیسے اپنی جوانی میں تو وہ اپنے باپ کے اُس کھانے میں سے کھا سکتی ہے جو قربانیوں میں سے باپ کا حصہ ہے۔ لیکن جو امام کے خاندان کا فرد نہیں ہے اُسے کھانے کی اجازت نہیں ہے۔Y6- اگر امام کی بیٹی نے کسی ایسے شخص سے شادی کی ہے جو امام نہیں ہے تو اُسے مُقدّس قربانیوں میں سے کھانے کی اجازت نہیں ہے۔P5 لیکن امام کا غلام یا لونڈی اُس میں سے کھا سکتے ہیں، چاہے اُنہیں خریدا گیا ہو یا وہ اُس کے گھر میں پیدا ہوئے ہوں۔ > k>*;Qرب نے موسیٰ سے کہا،":?کہ وہ دوسرے اسرائیلیوں کو یہ مُقدّس چیزیں کھانے دیں۔ ایسی حرکت سے وہ اُن کو بڑا قصوروار بنا دیں گے۔ مَیں رب ہوں جو اُنہیں اپنے لئے مخصوص و مُقدّس کرتا ہوں۔“x9kامام رب کو پیش کی ہوئی قربانیوں کی مُقدّس حالت یوں ختم نہ کریںp8[جس شخص نے نادانستہ طور پر مُقدّس قربانیوں میں سے امام کے حصے سے کچھ کھایا ہے وہ امام کو سب کچھ واپس کرنے کے علاوہ 20 فیصد زیادہ دے۔ l7>iقربانی کے لئے کبھی بھی ایسا جانور پیش نہ کرنا جس میں نقص ہو، ورنہ تم اُس کے باعث منظور نہیں ہو گے۔0=[اِس کے لئے لازم ہے کہ تم ایک بےعیب بَیل، مینڈھا یا بکرا پیش کرو۔ پھر ہی اُسے قبول کیا جائے گا۔<”ہارون، اُس کے بیٹوں اور اسرائیلیوں کو بتانا کہ اگر تم میں سے کوئی اسرائیلی یا پردیسی رب کو بھسم ہونے والی قربانی پیش کرنا چاہے تو طریقِ کار میں کوئی فرق نہیں ہے، چاہے وہ یہ مَنت مان کر یا ویسے ہی دلی خوشی سے کر رہا ہو۔ Le@Eرب کو ایسے جانور پیش نہ کرنا جو اندھے ہوں، جن کے اعضا ٹوٹے یا کٹے ہوئے ہوں، جن کو رسَولی ہو یا جنہیں وبائی جِلدی بیماری لگ گئی ہو۔ رب کو اُنہیں جلنے والی قربانی کے طور پر قربان گاہ پر پیش نہ کرنا۔0?[اگر کوئی رب کو سلامتی کی قربانی پیش کرنا چاہے تو طریقِ کار میں کوئی فرق نہیں ہے، چاہے وہ یہ مَنت مان کر یا ویسے ہی دلی خوشی سے کر رہا ہو۔ اِس کے لئے لازم ہے کہ وہ گائےبَیلوں یا بھیڑبکریوں میں سے بےعیب جانور چنے۔ پھر اُسے قبول کیا جائے گا۔ __6Diرب نے موسیٰ سے یہ بھی کہا،C#نہ ایسے جانور کسی غیرملکی سے خرید کر اپنے خدا کی روٹی کے طور پر پیش کرنا۔ تم ایسے جانوروں کے باعث منظور نہیں ہو گے، کیونکہ اُن میں خرابی اور نقص ہے۔“RBرب کو ایسا جانور پیش نہ کرنا جس کے خصیے کچلے، توڑے یا کٹے ہوئے ہوں۔ اپنے ملک میں جانوروں کو اِس طرح خصی نہ بنانا،vAgلیکن جس گائےبَیل یا بھیڑبکری کے کسی عضو میں کمی بیشی ہو اُسے پیش کیا جا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ پیش کرنے والا اُسے ویسے ہی دلی خوشی سے چڑھائے۔ اگر وہ اُسے اپنی مَنت مان کر پیش کرے تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ A_I9میرے احکام مانو اور اُن پر عمل کرو۔ مَیں رب ہوں۔H{اگلی صبح تک کچھ بچا نہ رہے بلکہ اُسے اُسی دن کھانا ہے۔ مَیں رب ہوں۔)GMجب تم رب کو سلامتی کی کوئی قربانی چڑھانا چاہتے ہو تو اُسے یوں پیش کرنا کہ تم منظور ہو جاؤ۔Fکسی گائے، بھیڑ یا بکری کے بچے کو اُس کی ماں سمیت ایک ہی دن ذبح نہ کرنا۔1E]”جب کسی گائے، بھیڑ یا بکری کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو لازم ہے کہ وہ پہلے سات دن اپنی ماں کے پاس رہے۔ آٹھویں دن سے پہلے رب اُسے جلنے والی قربانی کے طور پر قبول نہیں کرے گا۔ h}QhN7ہفتے میں چھ دن کام کرنا، لیکن ساتواں دن ہر طرح سے آرام کا دن ہے۔ اُس دن مُقدّس اجتماع ہو۔ جہاں بھی تم رہتے ہو وہاں کام نہ کرنا۔ یہ دن رب کے لئے مخصوص سبت ہے۔CM”اسرائیلیوں کو بتانا کہ یہ میری، رب کی عیدیں ہیں جن پر تمہیں لوگوں کو مُقدّس اجتماع کے لئے جمع کرنا ہے۔)L Qرب نے موسیٰ سے کہا،K!مَیں تمہیں مصر سے نکال لایا ہوں تاکہ تمہارا خدا ہوں۔ مَیں رب ہوں۔“ xJk میرے نام کو داغ نہ لگانا۔ لازم ہے کہ مجھے اسرائیلیوں کے درمیان قدوس مانا جائے۔ مَیں رب ہوں جو تمہیں اپنے لئے مخصوص و مُقدّس کرتا ہوں۔ oqyo*TQ رب نے موسیٰ سے کہا،YS-اِن سات دنوں میں روزانہ رب کو جلنے والی قربانی پیش کرو۔ ساتویں دن بھی مُقدّس اجتماع ہو اور لوگ اپنا ہر کام چھوڑیں۔“Rاِن سات دنوں کے پہلے دن مُقدّس اجتماع ہو اور لوگ اپنا ہر کام چھوڑیں۔.QWاگلے دن رب کی یاد میں بےخمیری روٹی کی عید شروع ہوتی ہے۔ سات دن تک تمہاری روٹی میں خمیر نہ ہو۔;Pqفسح کی عید پہلے مہینے کے چودھویں دن شروع ہوتی ہے۔ اُس دن سورج کے غروب ہونے پر رب کی خوشی منائی جائے۔ Oیہ رب کی عیدیں ہیں جن پر تمہیں لوگوں کو مُقدّس اجتماع کے لئے جمع کرنا ہے۔ nn6Xg ساتھ ہی غلہ کی نذر کے لئے تیل سے ملایا گیا 3 کلو گرام بہترین میدہ بھی پیش کرنا۔ جلنے والی یہ قربانی رب کو پسند ہے۔ اِس کے علاوہ مَے کی نذر کے لئے ایک لٹر مَے بھی پیش کرنا۔TW# اُس دن بھیڑ کا ایک یک سالہ بےعیب بچہ بھی رب کو پیش کرنا۔ اُسے قربان گاہ پر بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر چڑھانا۔xVk اتوار کو امام یہ پُولا رب کے سامنے ہلائے تاکہ تم منظور ہو جاؤ۔U} ”اسرائیلیوں کو بتانا کہ جب تم اُس ملک میں داخل ہو گے جو مَیں تمہیں دوں گا اور وہاں اناج کی فصل کاٹو گے تو تمہیں امام کو پہلا پُولا دینا ہے۔ n\Wہر گھرانے کی طرف سے رب کو ہلانے والی قربانی کے طور پر دو روٹیاں پیش کی جائیں۔ ہر روٹی کے لئے 3 کلو گرام بہترین میدہ استعمال کیا جائے۔ اُن میں خمیر ڈال کر پکانا ہے۔ یہ فصل کی پہلی پیداوار کی قربانی ہیں۔}[uپچاسویں دن یعنی ساتویں اتوار کو رب کو نئے اناج کی قربانی چڑھانا۔vZgجس دن تم نے اناج کا پُولا پیش کیا اُس دن سے پورے سات ہفتے گنو۔sYaپہلے یہ سب کچھ کرو، پھر ہی تمہیں نئی فصل کے اناج سے کھانے کی اجازت ہو گی، خواہ وہ بُھنا ہوا ہو، خواہ کچا یا روٹی کی صورت میں پکایا گیا ہو۔ جہاں بھی تم رہتے ہو وہاں ایسا ہی کرنا ہے۔ یہ اصول ابد تک قائم رہے۔ b8b!_=امام بھیڑ کے یہ دو بچے مذکورہ روٹیوں سمیت ہلانے والی قربانی کے طور پر رب کے سامنے ہلائے۔ یہ رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہیں اور قربانیوں میں سے امام کا حصہ ہیں۔-^Uپھر گناہ کی قربانی کے لئے ایک بکرا اور سلامتی کی قربانی کے لئے دو یک سالہ بھیڑ کے بچے چڑھاؤ۔D]اِن روٹیوں کے ساتھ ایک جوان بَیل، دو مینڈھے اور بھیڑ کے سات بےعیب اور یک سالہ بچے پیش کرو۔ اُنہیں رب کے حضور بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر چڑھانا۔ اِس کے علاوہ غلہ کی نذر اور مَے کی نذر بھی پیش کرنی ہے۔ جلنے والی اِس قربانی کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ kakrc_”اسرائیلیوں کو بتانا کہ ساتویں مہینے کا پہلا دن آرام کا دن ہے۔ اُس دن مُقدّس اجتماع ہو جس پر یاد دلانے کے لئے نرسنگا پھونکا جائے۔*bQرب نے موسیٰ سے کہا، aکٹائی کے وقت اپنی فصل پورے طور پر نہ کاٹنا بلکہ کھیت کے کناروں پر کچھ چھوڑ دینا۔ اِس طرح جو کچھ کٹائی کرتے وقت کھیت میں بچ جائے اُسے چھوڑنا۔ بچا ہوا اناج غریبوں اور پردیسیوں کے لئے چھوڑ دینا۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔“]`5اُسی دن لوگوں کو مُقدّس اجتماع کے لئے جمع کرو۔ کوئی بھی کام نہ کرنا۔ یہ اصول ابد تک قائم رہے، اور اِسے ہر جگہ ماننا ہے۔ cu0 j کوئی بھی کام نہ کرنا۔ یہ اصول ابد تک قائم رہے، اور اِسے ہر جگہ ماننا ہے۔iجو اُس دن کام کرتا ہے اُسے مَیں اُس کی قوم میں سے نکال کر ہلاک کروں گا۔h جو اُس دن اپنی جان کو دُکھ نہیں دیتا اُسے اُس کی قوم میں سے مٹایا جائے۔6ggاُس دن کام نہ کرنا، کیونکہ یہ کفارہ کا دن ہے، جب رب تمہارے خدا کے سامنے تمہارا کفارہ دیا جاتا ہے۔jfO”ساتویں مہینے کا دسواں دن کفارہ کا دن ہے۔ اُس دن مُقدّس اجتماع ہو۔ اپنی جان کو دُکھ دینا اور رب کو جلنے والی قربانی پیش کرنا۔*eQرب نے موسیٰ سے کہا،mdUکوئی بھی کام نہ کرنا۔ رب کو جلنے والی قربانی پیش کرنا۔“  &oG$اِن سات دنوں کے دوران رب کو جلنے والی قربانیاں پیش کرنا۔ آٹھویں دن مُقدّس اجتماع ہو۔ رب کو جلنے والی قربانی پیش کرو۔ اِس خاص اجتماع کے دن بھی کام نہیں کرنا ہے۔cnA#پہلے دن مُقدّس اجتماع ہو۔ اِس دن کوئی کام نہ کرنا۔Nm"”اسرائیلیوں کو بتانا کہ ساتویں مہینے کے پندرھویں دن جھونپڑیوں کی عید شروع ہوتی ہے۔ اِس کا دورانیہ سات دن ہے۔*lQ!رب نے موسیٰ سے کہا،]k5 یہ دن آرام کا خاص دن ہے جس میں تمہیں اپنی جان کو دُکھ دینا ہے۔ اِسے مہینے کے نویں دن کی شام سے لے کر اگلی شام تک منانا۔“ E  !,7BMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr}  U  V  W  X  Y  Z  [  \  ]  U  V  W  X  Y  Z  [  \  ]  ^  _  `  a  b  c  d  e  f  g  h  i  j  k ! l " m # n $ o % p & q ' r ( s ) t * u + v , w   x  y  z  {  |  }  ~                              XwXr1'چنانچہ ساتویں مہینے کے پندرھویں دن فصل کی کٹائی کے اختتام پر رب کی یہ عید یعنی جھونپڑیوں کی عید مناؤ۔ اِسے سات دن منانا۔ پہلا اور آخری دن آرام کے دن ہیں۔q&یہ قربانیاں اُن قربانیوں کے علاوہ ہیں جو سبت کے دن چڑھائی جاتی ہیں اور جو تم نے ہدیئے کے طور پر یا مَنت مان کر یا اپنی دلی خوشی سے پیش کی ہیں۔}pu%یہ رب کی عیدیں ہیں جن پر تمہیں مُقدّس اجتماع کرنا ہے تاکہ رب کو روزمرہ کی مطلوبہ جلنے والی قربانیاں اور مَے کی نذریں پیش کی جائیں یعنی بھسم ہونے والی قربانیاں، غلہ کی نذریں، ذبح کی قربانیاں اور مَے کی نذریں۔ 6eb6)x Qرب نے موسیٰ سے کہا،}wu,موسیٰ نے اسرائیلیوں کو رب کی عیدوں کے بارے میں یہ باتیں بتائیں۔ dvC+پھر تمہاری اولاد جانے گی کہ اسرائیلیوں کو مصر سے نکالتے وقت مَیں نے اُنہیں جھونپڑیوں میں بسایا۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔“u)*عید کے ہفتے کے دوران جھونپڑیوں میں رہنا۔ تمام ملک میں آباد اسرائیلی ایسا کریں۔t)ہر سال ساتویں مہینے میں رب کی خوشی میں یہ عید منانا۔ یہ اصول ابد تک قائم رہے۔s}(پہلے دن اپنے لئے درختوں کے بہترین پھل، کھجور کی ڈالیاں اور گھنے درختوں اور سفیدہ کی شاخیں توڑنا۔ سات دن تک رب اپنے خدا کے سامنے خوشی مناؤ۔ g g|بارہ روٹیاں پکانا۔ ہر روٹی کے لئے 3 کلو گرام بہترین میدہ استعمال کیا جائے۔.{Wوہ خالص سونے کے شمع دان پر لگے چراغوں کی دیکھ بھال یوں کرے کہ یہ ہمیشہ رب کے سامنے جلتے رہیں۔]z5ہارون اُنہیں مسلسل، شام سے لے کر صبح تک رب کے حضور سنبھالے یعنی وہاں جہاں وہ مُقدّس ترین کمرے کے پردے کے سامنے پڑے ہیں، اُس پردے کے سامنے جس کے پیچھے عہد کا صندوق ہے۔ یہ اصول ابد تک قائم رہے۔py[”اسرائیلیوں کو حکم دے کہ وہ تیرے پاس کوٹے ہوئے زیتونوں کا خالص تیل لے آئیں تاکہ مُقدّس کمرے کے شمع دان کے چراغ متواتر جلتے رہیں۔ 3a میز کی روٹیاں ہارون اور اُس کے بیٹوں کا حصہ ہیں، اور وہ اُنہیں مُقدّس جگہ پر کھائیں، کیونکہ وہ جلنے والی قربانیوں کا مُقدّس ترین حصہ ہیں۔ یہ ابد تک اُن کا حق رہے گا۔“S!ہر ہفتے کو رب کے سامنے تازہ روٹیاں اِسی ترتیب سے میز پر رکھنی ہیں۔ یہ اسرائیلیوں کے لئے ابدی عہد کی لازمی شرط ہے۔?~yہر قطار پر خالص لُبان ڈالنا۔ یہ لُبان روٹی کے لئے یادگاری کی قربانی ہے جسے بعد میں رب کے لئے جلانا ہے۔s}aاُنہیں دو قطاروں میں رب کے سامنے خالص سونے کی میز پر رکھنا۔ zo خیمہ گاہ میں ایک آدمی تھا جس کا باپ مصری اور ماں اسرائیلی تھی۔ ماں کا نام سلومیت تھا۔ وہ دِبری کی بیٹی اور دان کے قبیلہ کی تھی۔ ایک دن یہ آدمی خیمہ گاہ میں کسی اسرائیلی سے جھگڑنے لگا۔ لڑتے لڑتے اُس نے رب کے نام پر کفر بک کر اُس پر لعنت بھیجی۔ یہ سن کر لوگ اُسے موسیٰ کے پاس لے آئے۔ ESE ”لعنت کرنے والے کو خیمہ گاہ کے باہر لے جاؤ۔ جنہوں نے اُس کی یہ باتیں سنی ہیں وہ سب اپنے ہاتھ اُس کے سر پر رکھیں۔ پھر پوری جماعت اُسے سنگسار کرے۔/[ تب رب نے موسیٰ سے کہا،zo وہاں اُنہوں نے اُسے پہرے میں بٹھا کر رب کی ہدایت کا انتظار کیا۔zo خیمہ گاہ میں ایک آدمی تھا جس کا باپ مصری اور ماں اسرائیلی تھی۔ ماں کا نام سلومیت تھا۔ وہ دِبری کی بیٹی اور دان کے قبیلہ کی تھی۔ ایک دن یہ آدمی خیمہ گاہ میں کسی اسرائیلی سے جھگڑنے لگا۔ لڑتے لڑتے اُس نے رب کے نام پر کفر بک کر اُس پر لعنت بھیجی۔ یہ سن کر لوگ اُسے موسیٰ کے پاس لے آئے۔ lF!l1 ]اگر کسی نے کسی کو زخمی کر دیا ہے تو وہی کچھ اُس کے ساتھ کیا جائے جو اُس نے دوسرے کے ساتھ کیا ہے۔ #جس نے کسی کے جانور کو مار ڈالا ہے وہ اُس کا معاوضہ دے۔ جان کے بدلے جان دی جائے۔^7جس نے کسی کو مار ڈالا ہے اُسے سزائے موت دی جائے۔(Kجو بھی رب کے نام پر کفر بکے اُسے سزائے موت دی جائے۔ پوری جماعت اُسے سنگسار کرے۔ جس نے رب کے نام پر کفر بکا ہو اُسے ضرور سزائے موت دینی ہے، خواہ دیسی ہو یا پردیسی۔6gاسرائیلیوں سے کہنا کہ جو بھی اپنے خدا پر لعنت بھیجے اُسے اپنے قصور کے نتیجے برداشت کرنے پڑیں گے۔ Gx دیسی اور پردیسی کے لئے تمہارا ایک ہی قانون ہو۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔“K جس نے کسی جانور کو مار ڈالا ہے وہ اُس کا معاوضہ دے، لیکن جس نے کسی انسان کو مار دیا ہے اُسے سزائے موت دینی ہے۔5 eاگر دوسرے کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے تو اُس کی وہی ہڈی توڑی جائے۔ اگر دوسرے کی آنکھ ضائع ہو جائے تو اُس کی آنکھ ضائع کر دی جائے۔ اگر دوسرے کا دانت ٹوٹ جائے تو اُس کا وہی دانت توڑا جائے۔ جو بھی زخم اُس نے دوسرے کو پہنچایا وہی زخم اُسے پہنچایا جائے۔ |I چھ سال کے دوران اپنے کھیتوں میں بیج بونا، اپنے انگور کے باغوں کی کانٹ چھانٹ کرنا اور اُن کی فصلیں جمع کرنا۔iM”اسرائیلیوں کو بتانا کہ جب تم اُس ملک میں داخل ہو گے جو مَیں تمہیں دوں گا تو لازم ہے کہ رب کی تعظیم میں زمین ایک سال آرام کرے۔@ رب نے سینا پہاڑ پر موسیٰ سے کہا،=uپھر موسیٰ نے اسرائیلیوں سے بات کی، اور اُنہوں نے رب پر لعنت بھیجنے والے کو خیمہ گاہ سے باہر لے جا کر اُسے سنگسار کیا۔ اُنہوں نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔ }}T#البتہ جو بھی یہ زمین آرام کے سال میں پیدا کرے گی اُس سے تم اپنی روزانہ کی ضروریات پوری کر سکتے ہو یعنی تُو، تیرے غلام اور لونڈیاں، تیرے مزدور، تیرے غیرشہری، تیرے ساتھ رہنے والے پردیسی، جو اناج خود بخود اُگتا ہے اُس کی کٹائی نہ کرنا اور جو انگور اُس سال لگتے ہیں اُن کو توڑ کر جمع نہ کرنا، کیونکہ زمین کو ایک سال کے لئے آرام کرنا ہے۔'لیکن ساتواں سال زمین کے لئے آرام کا سال ہے، رب کی تعظیم میں سبت کا سال۔ اُس سال نہ اپنے کھیتوں میں بیج بونا، نہ اپنے انگور کے باغوں کی کانٹ چھانٹ کرنا۔ ;#9 پچاسواں سال مخصوص و مُقدّس کرو اور پورے ملک میں اعلان کرو کہ تمام باشندوں کو آزاد کر دیا جائے۔ یہ بحالی کا سال ہو جس میں ہر شخص کو اُس کی ملکیت واپس کی جائے اور ہر غلام کو آزاد کیا جائے تاکہ وہ اپنے رشتے داروں کے پاس واپس جا سکے۔)M پچاسویں سال کے ساتویں مہینے کے دسویں دن یعنی کفارہ کے دن اپنے ملک کی ہر جگہ نرسنگا بجانا۔hKسات سبت کے سال یعنی 49 سال کے بعد ایک اَور کام کرنا ہے۔A}تیرے مویشی اور تیری زمین پر رہنے والے جنگلی جانور۔ جو کچھ بھی یہ زمین پیدا کرتی ہے وہ کھایا جا سکتا ہے۔ % %,Sزمین کی قیمت اِس حساب سے مقرر کی جائے کہ وہ اگلے بحالی کے سال تک کتنے سال فصلیں پیدا کرے گی۔Jچنانچہ جب کبھی تم اپنے کسی ہم وطن بھائی کو زمین بیچتے یا اُس سے خریدتے ہو تو اُس سے ناجائز فائدہ نہ اُٹھانا۔gI بحالی کے سال میں ہر شخص کو اُس کی ملکیت واپس کی جائے۔fG کیونکہ یہ بحالی کا سال ہے جو تمہارے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔ روزانہ اُتنی ہی پیداوار لینا کہ ایک دن کی ضروریات پوری ہو جائیں۔ یہ پچاسواں سال بحالی کا سال ہو، اِس لئے نہ اپنے کھیتوں میں بیج بونا، نہ خود بخود اُگنے والے اناج کی کٹائی کرنا، اور نہ انگور توڑ کر جمع کرنا۔ 0{!qزمین اپنی پوری پیداوار دے گی، تم سیر ہو جاؤ گے اور محفوظ رہو گے۔; qمیری ہدایات پر عمل کرنا اور میرے احکام کو مان کر اُن کے مطابق چلنا۔ تب تم اپنے ملک میں محفوظ رہو گے۔=uاپنے ہم وطن سے ناجائز فائدہ نہ اُٹھانا بلکہ رب اپنے خدا کا خوف ماننا، کیونکہ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔Lاگر بہت سال رہ گئے ہوں تو اُس کی قیمت زیادہ ہو گی، اور اگر کم سال رہ گئے ہوں تو اُس کی قیمت کم ہو گی۔ کیونکہ اُن فصلوں کی تعداد بِک رہی ہے جو زمین اگلے بحالی کے سال تک پیدا کر سکتی ہے۔ 5mY%-کوئی زمین بھی ہمیشہ کے لئے نہ بیچی جائے، کیونکہ ملک کی تمام زمین میری ہی ہے۔ تم میرے حضور صرف پردیسی اور غیرشہری ہو۔X$+جب تم آٹھویں سال بیج بوؤ گے تو تمہارے پاس چھٹے سال کی اِتنی پیداوار باقی ہو گی کہ تم فصل کی کٹائی تک گزارہ کر سکو گے۔D#جواب یہ ہے کہ مَیں چھٹے سال میں زمین کو اِتنی برکت دوں گا کہ اُس سال کی پیداوار تین سال کے لئے کافی ہو گی۔G" ہو سکتا ہے کوئی پوچھے، ’ہم ساتویں سال میں کیا کھائیں گے جبکہ ہم بیج نہیں بوئیں گے اور فصل نہیں کاٹیں گے؟‘ AE.(Wہو سکتا ہے کہ ایسے شخص کا کوئی قریبی رشتے دار نہ ہو جو اُس کی زمین واپس خرید سکے، لیکن وہ خود کچھ دیر کے بعد اِتنے پیسے جمع کرتا ہے کہ وہ اپنی زمین واپس خرید سکتا ہے۔x'kاگر تیرا کوئی ہم وطن بھائی غریب ہو کر اپنی کچھ زمین بیچنے پر مجبور ہو جائے تو لازم ہے کہ اُس کا سب سے قریبی رشتے دار اُسے واپس خرید لے۔;&qملک میں جہاں بھی زمین بک جائے وہاں موروثی مالک کا یہ حق مانا جائے کہ وہ اپنی زمین واپس خرید سکتا ہے۔ H+ اگر کسی کا گھر فصیل دار شہر میں ہے تو جب وہ اُسے بیچے گا تو اپنا گھر واپس خریدنے کا حق صرف ایک سال تک رہے گا۔*{لیکن اگر اُس کے پاس اِتنے پیسے نہ ہوں تو زمین اگلے بحالی کے سال تک خریدنے والے کے ہاتھ میں رہے گی۔ پھر اُسے موروثی مالک کو واپس دی جائے گی۔b)?اِس صورت میں وہ حساب کرے کہ خریدنے والے کے لئے اگلے بحالی کے سال تک کتنے سال رہ گئے ہیں۔ جتنا نقصان خریدنے والے کو زمین کو بحالی کے سال سے پہلے واپس دینے سے پہنچے گا اُتنے ہی پیسے اُسے دینے ہیں۔ xK. لیکن لاویوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے وہ گھر ہر وقت خرید سکتے ہیں جو اُن کے لئے مقرر کئے ہوئے شہروں میں ہیں۔c-Aلیکن جو گھر ایسی آبادی میں ہے جس کی فصیل نہ ہو وہ دیہات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اُس کے موروثی مالک کو حق حاصل ہے کہ ہر وقت اپنا گھر واپس خرید سکے۔ بحالی کے سال میں اِس گھر کو لازماً واپس کر دینا ہے۔,5اگر پہلا مالک اُسے پہلے سال کے اندر اندر نہ خریدے تو وہ ہمیشہ کے لئے خریدنے والے کی موروثی ملکیت بن جائے گا۔ وہ بحالی کے سال میں بھی واپس نہیں کیا جائے گا۔ <{<Z1/#اگر تیرا کوئی ہم وطن بھائی غریب ہو جائے اور گزارہ نہ کر سکے تو اُس کی مدد کر۔ اُس طرح اُس کی مدد کرنا جس طرح پردیسی یا غیرشہری کی مدد کرنی ہوتی ہے تاکہ وہ تیرے ساتھ رہتے ہوئے زندگی گزار سکے۔]05"لیکن جو زمینیں شہروں کے ارد گرد مویشی چَرانے کے لئے مقرر ہیں اُنہیں بیچنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ اُن کی دائمی ملکیت ہیں۔/}!اگر ایسا گھر کسی لاوی کے ہاتھ فروخت کیا جائے اور واپس نہ خریدا جائے تو اُسے لازماً بحالی کے سال میں واپس کرنا ہے۔ کیونکہ لاوی کے جو گھر اُن کے مقررہ شہروں میں ہوتے ہیں وہ اسرائیلیوں میں اُن کی موروثی ملکیت ہیں۔ mD m61(اُس کے ساتھ مزدور یا غیرشہری کا سا سلوک کرنا۔ وہ تیرے لئے بحالی کے سال تک کام کرے۔B5'اگر تیرا کوئی اسرائیلی بھائی غریب ہو کر اپنے آپ کو تیرے ہاتھ بیچ ڈالے تو اُس سے غلام کا سا کام نہ کرانا۔B4&مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ مَیں تمہیں اِس لئے مصر سے نکال لایا کہ تمہیں ملکِ کنعان دوں اور تمہارا خدا ہوں۔(3K%اگر وہ تیرا قرض دار ہو تو اُس سے سود نہ لینا۔ اِسی طرح خوراک بیچتے وقت اُس سے نفع نہ لینا۔82k$اُس سے کسی طرح کا سود نہ لینا بلکہ اپنے خدا کا خوف ماننا تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی گزار سکے۔ E   +6ALWbmx(3>IT_ju$/:EP[fq|                              ! " # $ % & ' ( ) * + , - . / 0 1 2 3 4 5 6 7                            }X}%;E-جو پردیسی غیرشہری کے طور پر تمہارے ملک میں آباد ہیں اُنہیں بھی تم خرید سکتے ہو۔ اُن میں وہ بھی شامل ہیں جو تمہارے ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔ وہی تمہاری ملکیت بن کرu:e,تم پڑوسی ممالک سے اپنے لئے غلام اور لونڈیاں حاصل کر سکتے ہو۔~9w+ایسے لوگوں پر سختی سے حکمرانی نہ کرنا بلکہ اپنے خدا کا خوف ماننا۔58e*چونکہ اسرائیلی میرے خادم ہیں جنہیں مَیں مصر سے نکال لایا اِس لئے اُنہیں غلامی میں نہ بیچا جائے۔$7C)پھر وہ اور اُس کے بال بچے آزاد ہو کر اپنے رشتے داروں اور موروثی زمین کے پاس واپس جائیں۔ V'iV?1چچا، تایا، چچا یا تایا کا بیٹا یا کوئی اَور قریبی رشتے دار اُسے واپس خرید سکتا ہے۔ وہ خود بھی اپنی آزادی خرید سکتا ہے اگر اُس کے پاس پیسے کافی ہوں۔x>k0تو بک جانے کے بعد اُسے آزادی خریدنے کا حق حاصل ہے۔ کوئی بھائی،?=y/اگر تیرے ملک میں رہنے والا کوئی پردیسی یا غیرشہری امیر ہو جائے جبکہ تیرا کوئی ہم وطن بھائی غریب ہو کر اپنے آپ کو اُس پردیسی یا غیرشہری یا اُس کے خاندان کے کسی فرد کو بیچ ڈالےU<%.تمہاے بیٹوں کی میراث میں آ جائیں اور وہی ہمیشہ تمہارے غلام رہیں۔ لیکن اپنے ہم وطن بھائیوں پر سخت حکمرانی نہ کرنا۔ D%CE5اُس کے ساتھ سال بہ سال مزدور کا سا سلوک کیا جائے۔ اُس کا مالک اُس پر سخت حکمرانی نہ کرے۔,BS4جتنے سال باقی رہ گئے ہیں اُن کے مطابق اُس کی بک جانے کی قیمت میں سے پیسے واپس کر دیئے جائیں۔,AS3جتنے سال باقی رہ گئے ہیں اُن کے مطابق اُس کی بک جانے کی قیمت میں سے پیسے واپس کر دیئے جائیں۔X@+2اِس صورت میں وہ اپنے مالک سے مل کر وہ سال گنے جو اُس کے خریدنے سے لے کر اگلے بحالی کے سال تک باقی ہیں۔ اُس کی آزادی کے پیسے اُس قیمت پر مبنی ہوں جو مزدور کو اِتنے سالوں کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ cKcqG]سبت کا دن منانا اور میرے مقدِس کی تعظیم کرنا۔ مَیں رب ہوں۔pF ]اپنے لئے بُت نہ بنانا۔ نہ اپنے لئے دیوتا کے مجسمے یا پتھر کے مخصوص کئے ہوئے ستون کھڑے کرنا، نہ سجدہ کرنے کے لئے اپنے ملک میں ایسے پتھر رکھنا جن میں دیوتا کی تصویر کندہ کی گئی ہو۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔JE7کیونکہ اسرائیلی میرے ہی خادم ہیں۔ وہ میرے ہی خادم ہیں جنہیں مَیں مصر سے نکال لایا۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ cDA6اگر وہ اِس طرح کے کسی طریقے سے آزاد نہ ہو جائے تو اُسے اور اُس کے بچوں کو ہر حالت میں اگلے بحالی کے سال میں آزاد کر دینا ہے، OO Jکثرت کے باعث اناج کی فصل کی کٹائی انگور توڑتے وقت تک جاری رہے گی اور انگور کی فصل اُس وقت تک توڑی جائے گی جب تک بیج بونے کا موسم آئے گا۔ اِتنی خوراک ملے گی کہ تم کبھی بھوکے نہیں ہو گے۔ اور تم اپنے ملک میں محفوظ رہو گے۔%IEتو مَیں وقت پر بارش بھیجوں گا، زمین اپنی پیداوار دے گی اور درخت اپنے اپنے پھل لائیں گے۔wHiاگر تم میری ہدایات پر چلو اور میرے احکام مان کر اُن پر عمل کرو 44BN میری نظرِ کرم تم پر ہو گی۔ مَیں تمہاری اولاد کی تعداد بڑھاؤں گا اور تمہارے ساتھ اپنا عہد قائم رکھوں گا۔Mتمہارے پانچ آدمی سَو دشمنوں کا پیچھا کریں گے، اور تمہارے سَو آدمی اُن کے دس ہزار آدمیوں کو بھگا دیں گے۔ تمہارے دشمن تمہاری تلوار سے مارے جائیں گے۔"L?تم اپنے دشمنوں پر غالب آ کر اُن کا تعاقب کرو گے، اور وہ تمہاری تلوار سے مارے جائیں گے۔HK مَیں ملک کو امن و امان بخشوں گا۔ تم آرام سے لیٹ جاؤ گے، کیونکہ کسی خطرے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ مَیں وحشی جانور ملک سے دُور کر دوں گا، اور وہ تلوار کی قتل و غارت سے بچا رہے گا۔ 5ySmلیکن اگر تم میری نہیں سنو گے اور اِن تمام احکام پر نہیں چلو گے،+RQ مَیں رب تمہارا خدا ہوں جو تمہیں مصر سے نکال لایا تاکہ تمہاری غلامی کی حالت ختم ہو جائے۔ مَیں نے تمہارے جوئے کو توڑ ڈالا، اور اب تم آزاد اور سیدھے ہو کر چل سکتے ہو۔WQ) مَیں تم میں پھروں گا، اور تم میری قوم ہو گے۔P  مَیں تمہارے درمیان اپنا مسکن قائم کروں گا اور تم سے گھن نہیں کھاؤں گا۔bO? ایک سال اِتنی فصل ہو گی کہ جب اگلی فصل کی کٹائی ہو گی تو نئے اناج کے لئے جگہ بنانے کی خاطر پرانے اناج کو پھینک دینا پڑے گا۔ pIpIV مَیں تمہارے خلاف ہو جاؤں گا، اِس لئے تم اپنے دشمنوں کے ہاتھ سے شکست کھاؤ گے۔ تم سے نفرت رکھنے والے تم پر حکومت کریں گے۔ اُس وقت بھی جب کوئی تمہارا تعاقب نہیں کرے گا تم بھاگ جاؤ گے۔U تو مَیں جواب میں تم پر اچانک دہشت طاری کر دوں گا۔ جسم کو ختم کرنے والی بیماریوں اور بخار سے تمہاری آنکھیں ضائع ہو جائیں گی اور تمہاری جان چھن جائے گی۔ جب تم بیج بوؤ گے تو بےفائدہ، کیونکہ دشمن اُس کی فصل کھا جائے گا۔3Taاگر تم میری ہدایات کو رد کر کے میرے احکام سے گھن کھاؤ گے اور اُن پر عمل نہ کر کے میرا عہد توڑو گے EynZWاگر تم پھر بھی میری مخالفت کرو گے اور میری نہیں سنو گے تو مَیں اِن گناہوں کے جواب میں تمہیں اِس سے بھی سات گُنا زیادہ سزا دوں گا۔\Y3جتنی بھی محنت کرو گے وہ بےفائدہ ہو گی، کیونکہ تمہارے کھیتوں میں فصلیں نہیں پکیں گی اور تمہارے درخت پھل نہیں لائیں گے۔HX مَیں تمہارا سخت غرور خاک میں ملا دوں گا۔ تمہارے اوپر آسمان لوہے جیسا اور تمہارے نیچے زمین پیتل جیسی ہو گی۔7Wiاگر تم اِس کے بعد بھی میری نہ سنو تو مَیں تمہارے گناہوں کے سبب سے تمہیں سات گُنا زیادہ سزا دوں گا۔ 85]eتو مَیں خود تمہارے خلاف ہو جاؤں گا۔ اِن گناہوں کے جواب میں مَیں تمہیں سات گُنا زیادہ سزا دوں گا۔o\Yاگر تم پھر بھی میری تربیت قبول نہ کرو بلکہ میرے مخالف رہوR[مَیں تمہارے خلاف جنگلی جانور بھیج دوں گا جو تمہارے بچوں کو پھاڑ کھائیں گے اور تمہارے مویشی برباد کر دیں گے۔ آخر میں تمہاری تعداد اِتنی کم ہو جائے گی کہ تمہاری سڑکیں ویران ہو جائیں گی۔ {OGa تو میرا غصہ بھڑکے گا اور مَیں تمہارے خلاف ہو کر تمہارے گناہوں کے جواب میں تمہیں سات گُنا زیادہ سزا دوں گا۔i`Mاگر تم پھر بھی میری نہیں سنو گے بلکہ میرے مخالف رہو گے(_Kاناج کی اِتنی کمی ہو گی کہ دس عورتیں تمہاری پوری روٹی ایک ہی تنور میں پکا سکیں گی، اور وہ اُسے بڑی احتیاط سے تول تول کر تقسیم کریں گی۔ تم کھا کر بھی بھوکے رہو گے۔^}مَیں تم پر تلوار چلا کر اِس کا بدلہ لوں گا کہ تم نے میرے عہد کو توڑا ہے۔ جب تم اپنی حفاظت کے لئے شہروں میں بھاگ کر جمع ہو گے تو مَیں تمہارے درمیان وبائی بیماریاں پھیلاؤں گا اور تمہیں دشمنوں کے ہاتھ میں دے دوں گا۔ `{Fe مَیں تمہارے ملک کا ستیاناس یوں کروں گا کہ جو دشمن اُس میں آباد ہو جائیں گے اُن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ad=مَیں تمہارے شہروں کو کھنڈرات میں بدل کر تمہارے مندروں کو برباد کروں گا۔ تمہاری قربانیوں کی خوشبو مجھے پسند نہیں آئے گی۔6cgمَیں تمہاری اونچی جگہوں کی قربان گاہیں اور تمہاری بخور کی قربان گاہیں برباد کر دوں گا۔ مَیں تمہاری لاشوں کے ڈھیر تمہارے بےجان بُتوں پر لگاؤں گا اور تم سے گھن کھاؤں گا۔cbAتم مصیبت کے باعث اپنے بیٹے بیٹیوں کا گوشت کھاؤ گے۔ 550h[#اُن تمام دنوں میں جب وہ برباد رہے گی اُسے وہ آرام ملے گا جو اُسے نہ ملا جب تم ملک میں رہتے تھے۔[g1"اُس وقت جب تم اپنے دشمنوں کے ملک میں رہو گے تمہاری زمین ویران حالت میں آرام کے وہ سال منا سکے گی جن سے وہ محروم رہی ہے۔4fc!مَیں تمہیں مختلف ممالک میں منتشر کر دوں گا، لیکن وہاں بھی اپنی تلوار کو ہاتھ میں لئے تمہارا پیچھا کروں گا۔ تمہاری زمین ویران ہو گی اور تمہارے شہر کھنڈرات بن جائیں گے۔ +kQ&تم دیگر قوموں میں منتشر ہو کر ہلاک ہو جاؤ گے، اور تمہارے دشمنوں کی زمین تمہیں ہڑپ کر لے گی۔j%%وہ ایک دوسرے سے ٹکرا کر لڑکھڑائیں گے گویا کوئی تلوار لے کر اُن کے پیچھے چل رہا ہو حالانکہ کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ تم اپنے دشمنوں کا سامنا نہیں کر سکو گے۔i)$تم میں سے جو بچ کر اپنے دشمنوں کے ممالک میں رہیں گے اُن کے دلوں پر مَیں دہشت طاری کروں گا۔ وہ ہَوا کے جھونکوں سے گرنے والے پتے کی آواز سے چونک کر بھاگ جائیں گے۔ وہ فرار ہوں گے گویا کوئی ہاتھ میں تلوار لئے اُن کا تعاقب کر رہا ہو۔ اور وہ گر کر مر جائیں گے حالانکہ کوئی اُن کا پیچھا نہیں کر رہا ہو گا۔ E_hnK)جس کے سبب سے مَیں اُن کے خلاف ہوا اور اُنہیں اُن کے دشمنوں کے ملک میں دھکیل دیا تھا۔ پہلے اُن کا ختنہ صرف ظاہری طور پر ہوا تھا، لیکن اب اُن کا دل عاجز ہو جائے گا اور وہ اپنے قصور کی قیمت ادا کریں گے۔bm?(لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ اپنے اور اپنے باپ دادا کا قصور مان لیں گے۔ وہ میرے ساتھ اپنی بےوفائی اور وہ مخالفت تسلیم کریں گے7li'تم میں سے باقی لوگ اپنے اور اپنے باپ دادا کے قصور کے باعث اپنے دشمنوں کے ممالک میں گل سڑ جائیں گے۔  pq[,اِس کے باوجود بھی مَیں اُنہیں دشمنوں کے ملک میں چھوڑ کر رد نہیں کروں گا، نہ یہاں تک اُن سے گھن کھاؤں گا کہ وہ بالکل تباہ ہو جائیں۔ کیونکہ مَیں اُن کے ساتھ اپنا عہد نہیں توڑنے کا۔ مَیں رب اُن کا خدا ہوں۔zpo+لیکن پہلے وہ زمین کو چھوڑیں گے تاکہ وہ اُن کی غیرموجودگی میں ویران ہو کر آرام کے سال منائے۔ یوں اسرائیلی اپنے قصور کے نتیجے بھگتیں گے، اِس سبب سے کہ اُنہوں نے میرے احکام رد کئے اور میری ہدایات سے گھن کھائی۔ro_*پھر مَیں ابراہیم کے ساتھ اپنا عہد، اسحاق کے ساتھ اپنا عہد اور یعقوب کے ساتھ اپنا عہد یاد کروں گا۔ مَیں ملکِ کنعان بھی یاد کروں گا۔ DD|vsاُس آدمی کے لئے جس کی عمر 20 اور 60 سال کے درمیان ہے چاندی کے 50 سکے،$uC”اسرائیلیوں کو بتانا کہ اگر کسی نے مَنت مان کر کسی کو رب کے لئے مخصوص کیا ہو تو وہ اُسے ذیل کی رقم دے کر آزاد کر سکتا ہے (مستعمل سکے مقدِس کے سکوں کے برابر ہوں):)t Qرب نے موسیٰ سے کہا،s#.رب نے موسیٰ کو اسرائیلیوں کے لئے یہ تمام ہدایات اور احکام سینا پہاڑ پر دیئے۔ Mr-مَیں اُن کی خاطر اُن کے باپ دادا کے ساتھ بندھا ہوا عہد یاد کروں گا، اُن لوگوں کے ساتھ عہد جنہیں مَیں دوسری قوموں کے دیکھتے دیکھتے مصر سے نکال لایا تاکہ اُن کا خدا ہوں۔ مَیں رب ہوں۔“ 9{اگر مَنت ماننے والا مقررہ رقم ادا نہ کر سکے تو وہ مخصوص کئے ہوئے شخص کو امام کے پاس لے آئے۔ پھر امام ایسی رقم مقرر کرے جو مَنت ماننے والا ادا کر سکے۔ z;ساٹھ سال سے بڑے آدمی کے لئے چاندی کے 15 سکے اور اِسی عمر کی عورت کے لئے چاندی کے 10 سکے۔-yUایک ماہ سے لے کر 5 سال تک کے لڑکے کے لئے چاندی کے 5 سکے، اِسی عمر کی لڑکی کے لئے چاندی کے 3 سکے،Ax}اُس لڑکے کے لئے جس کی عمر 5 اور 20 سال کے درمیان ہو چاندی کے 20 سکے، اِسی عمر کی لڑکی کے لئے چاندی کے 10 سکے،Nwاِسی عمر کی عورت کے لئے چاندی کے 30 سکے، F'2=HS^it #.9DOZep{  +6ALW`jt~      ! " # $      ! " # $ % & ' ( ) * + , - .                                    ! "                           !   "  #  $  %  & ,,I  امام اُس کی رقم اُس کی اچھی اور بُری صفتوں کا لحاظ کر کے مقرر کرے۔ اِس مقررہ قیمت میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔l~S اگر کسی نے مَنت مان کر کوئی ناپاک جانور مخصوص کیا جو رب کی قربانیوں کے لئے استعمال نہیں ہو سکتا تو وہ اُس کو امام کے پاس لے آئے۔"}? وہ اُسے بدل نہیں سکتا۔ نہ وہ اچھے جانور کی جگہ ناقص، نہ ناقص جانور کی جگہ اچھا جانور دے۔ اگر وہ ایک جانور دوسرے کی جگہ دے تو دونوں مخصوص و مُقدّس ہو جاتے ہیں۔m|U اگر کسی نے مَنت مان کر ایسا جانور مخصوص کیا جو رب کی قربانیوں کے لئے استعمال ہو سکتا ہے تو ایسا جانور مخصوص و مُقدّس ہو جاتا ہے۔ gB9اگر گھر کو مخصوص کرنے والا اُسے واپس خریدنا چاہے تو وہ مقررہ رقم جمع 20 فیصد ادا کرے۔!=اگر کوئی اپنا گھر رب کے لئے مخصوص و مُقدّس کرے تو امام اُس کی اچھی اور بُری صفتوں کا لحاظ کر کے اُس کی رقم مقرر کرے۔ اِس مقررہ قیمت میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔% اگر مَنت ماننے والا اُسے واپس خریدنا چاہے تو وہ مقررہ قیمت جمع 20 فیصد ادا کرے۔ ckcQاگر زمین کا مالک اُسے بحالی کے سال کے کچھ دیر بعد مخصوص کرے تو امام اگلے بحالی کے سال تک رہنے والے سالوں کے مطابق زمین کی قیمت مقرر کرے۔ جتنے کم سال باقی ہیں اُتنی کم اُس کی قیمت ہو گی۔/Yشرط یہ ہے کہ وہ اپنی زمین بحالی کے سال کے عین بعد مخصوص کرے۔ پھر اُس کی یہی قیمت مقرر کی جائے۔اگر کوئی اپنی موروثی زمین میں سے کچھ رب کے لئے مخصوص و مُقدّس کرے تو اُس کی قیمت اُس بیج کی مقدار کے مطابق مقرر کی جائے جو اُس میں بونا ہوتا ہے۔ جس کھیت میں 135 کلو گرام جَو کا بیج بویا جائے اُس کی قیمت چاندی کے 50 سکے ہو گی۔ ^ اگر کوئی اپنا موروثی کھیت نہیں بلکہ اپنا خریدا ہوا کھیت رب کے لئے مخصوص کرےPاگلے بحالی کے سال یہ زمین مخصوص و مُقدّس رہے گی اور رب کی دائمی ملکیت ہو جائے گی۔ چنانچہ وہ امام کی ملکیت ہو گی۔[1اگر مخصوص کرنے والا اپنی زمین کو رب سے واپس خریدے بغیر اُسے کسی اَور کو بیچے تو اُسے واپس خریدنے کا حق ختم ہو جائے گا۔7اگر مخصوص کرنے والا اپنی زمین واپس خریدنا چاہے تو وہ مقررہ قیمت جمع 20 فیصد ادا کرے۔ zGz لیکن کوئی بھی کسی مویشی کا پہلوٹھا رب کے لئے مخصوص نہیں کر سکتا۔ وہ تو پہلے سے رب کے لئے مخصوص ہے۔ اِس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ گائے، بَیل یا بھیڑ ہو۔4 cواپس خریدنے کے لئے مستعمل سکے مقدِس کے سکوں کے برابر ہوں۔ اُس کے چاندی کے سکوں کا وزن 11 گرام ہے۔  بحالی کے سال میں یہ کھیت اُس شخص کے پاس واپس آئے گا جس نے اُسے بیچا تھا۔) Mتو امام اگلے بحالی کے سال تک رہنے والے سالوں کا لحاظ کر کے اُس کی قیمت مقرر کرے۔ کھیت کا مالک اُسی دن اُس کے پیسے ادا کرے۔ یہ پیسے رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہوں گے۔ YQاِسی طرح جس شخص کو تباہی کے لئے مخصوص کیا گیا ہے اُس کا فدیہ نہیں دیا جا سکتا۔ لازم ہے کہ اُسے سزائے موت دی جائے۔zoلیکن اگر کسی نے اپنی ملکیت میں سے کچھ غیرمشروط طور پر رب کے لئے مخصوص کیا ہے تو اُسے بیچا یا واپس نہیں خریدا جا سکتا، خواہ وہ انسان، جانور یا زمین ہو۔ جو اِس طرح مخصوص کیا گیا ہو وہ رب کے لئے نہایت مُقدّس ہے۔%Eاگر اُس نے کوئی ناپاک جانور مخصوص کیا ہو تو وہ اُسے مقررہ قیمت جمع 20 فیصد کے لئے واپس خرید سکتا ہے۔ اگر وہ اُسے واپس نہ خریدے تو وہ مقررہ قیمت کے لئے بیچا جائے۔ ^ym اِسی طرح گائےبَیلوں اور بھیڑبکریوں کا دسواں حصہ بھی رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہے، ہر دسواں جانور جو گلہ بان کے ڈنڈے کے نیچے سے گزرے گا۔3aاگر کوئی اپنی فصل کا دسواں حصہ چھڑانا چاہتا ہے تو وہ اِس کے لئے اُس کی مقررہ قیمت جمع 20 فیصد دے۔7ہر فصل کا دسواں حصہ رب کا ہے، چاہے وہ اناج ہو یا پھل۔ وہ رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔ 33P اسرائیلیوں کو مصر سے نکلے ہوئے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا تھا۔ اب تک وہ دشتِ سینا میں تھے۔ دوسرے سال کے دوسرے مہینے کے پہلے دن رب ملاقات کے خیمے میں موسیٰ سے ہم کلام ہوا۔ اُس نے کہا، "یہ وہ احکام ہیں جو رب نے سینا پہاڑ پر موسیٰ کو اسرائیلیوں کے لئے دیئے۔ iM!یہ جانور چننے سے پہلے اُن کا معائنہ نہ کیا جائے کہ کون سے جانور اچھے یا کمزور ہیں۔ یہ بھی نہ کرنا کہ دسویں حصے کے کسی جانور کے بدلے کوئی اَور جانور دیا جائے۔ اگر پھر بھی اُسے بدلا جائے تو دونوں جانور رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہوں گے۔ اور اُنہیں واپس خریدا نہیں جا سکتا۔“ %VKH   زبولون کے قبیلے سے اِلیاب بن حیلون،I اِشکار کے قبیلے سے نتنی ایل بن ضُغر،K یہوداہ کے قبیلے سے نحسون بن عمی نداب،P شمعون کے قبیلے سے سلومی ایل بن صوری شدی،g Kیہ اُن کے نام ہیں: روبن کے قبیلے سے اِلی صور بن شدیور،m Wاِس میں ہر قبیلے کے ایک خاندان کا سرپرست تمہاری مدد کرے۔\ 5جو کم از کم بیس سال کے اور جنگ لڑنے کے قابل ہوں۔W +”تُو اور ہارون تمام اسرائیلیوں کی مردم شماری کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق کرنا۔ اُن تمام مردوں کی فہرست بنانا 7X@& اِن کی مدد سے موسیٰ اور ہارون نے/% [یہی مرد جماعت سے اِس کام کے لئے بُلائے گئے۔ وہ اپنے قبیلوں کے راہنما اور کنبوں کے سرپرست تھے۔I$ نفتالی کے قبیلے سے اخیرع بن عینان۔“G#  جد کے قبیلے سے اِلیاسف بن د عُوایل،E"  آشر کے قبیلے سے فجعی ایل بن عکران،H!   دان کے قبیلے سے اخی عزر بن عمی شَدی،I   بن یمین کے قبیلے سے ابدان بن جدعونی،E  یوسف کے بیٹے افرائیم کے قبیلے سے اِلی سمع بن عمی ہود، یوسف کے بیٹے منسّی کے قبیلے سے جملی ایل بن فدا ہصور، La(L80 oیہوداہ کے قبیلے کے 74,600 مرد،8/ oیہوداہ کے قبیلے کے 74,600 مرد،0. _جد کے قبیلے کے 45,650 مرد،0- _جد کے قبیلے کے 45,650 مرد،6, kشمعون کے قبیلے کے 59,300 مرد،6+ kشمعون کے قبیلے کے 59,300 مرد،4* gروبن کے قبیلے کے 46,500 مرد،4) gروبن کے قبیلے کے 46,500 مرد،R( !سب کچھ ویسا ہی کیا گیا جیسا رب نے حکم دیا تھا۔ موسیٰ نے سینا کے ریگستان میں لوگوں کی مردم شماری کی۔ نتیجہ یہ نکلا:' 9اُسی دن پوری جماعت کو اکٹھا کیا۔ ہر اسرائیلی مرد جو کم از کم 20 سال کا تھا رجسٹر میں درج کیا گیا۔ رجسٹر کی ترتیب اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق تھی۔ AOjP|A8? o*نفتالی کے قبیلے کے 53,400 مرد۔2> c)آشر کے قبیلے کے 41,500 مرد،2= c(آشر کے قبیلے کے 41,500 مرد،2< c'دان کے قبیلے کے 62,700 مرد،2; c&دان کے قبیلے کے 62,700 مرد،9: q%بن یمین کے قبیلے کے 35,400 مرد،99 q$بن یمین کے قبیلے کے 35,400 مرد،N8 #یوسف کے بیٹے منسّی کے قبیلے کے 32,200 مرد،N7 "یوسف کے بیٹے منسّی کے قبیلے کے 32,200 مرد،R6 !!یوسف کے بیٹے افرائیم کے قبیلے کے 40,500 مرد،R5 ! یوسف کے بیٹے افرائیم کے قبیلے کے 40,500 مرد،84 oزبولون کے قبیلے کے 57,400 مرد،83 oزبولون کے قبیلے کے 57,400 مرد،82 oاِشکار کے قبیلے کے 54,400 مرد،81 oاِشکار کے قبیلے کے 54,400 مرد، 1?@1G 92اِس کے بجائے اُنہیں شریعت کی سکونت گاہ اور اُس کا سارا سامان سنبھالنے کی ذمہ داری دینا۔ وہ سفر کرتے وقت یہ خیمہ اور اُس کا سارا سامان اُٹھا کر لے جائیں، اُس کی خدمت کے لئے حاضر رہیں اور رُکتے وقت اُسے اپنے خیموں سے گھیرے رکھیں۔jF Q1”اسرائیلیوں کی مردم شماری میں لاویوں کو شامل نہ کرنا۔=E y0کیونکہ رب نے موسیٰ سے کہا تھا،FD  /لیکن لاویوں کی مردم شماری نہ ہوئی،8C o.اُن کی پوری تعداد 6,03,550 تھی۔8B o-اُن کی پوری تعداد 6,03,550 تھی۔A ,موسیٰ، ہارون اور قبیلوں کے بارہ راہنماؤں نے اِن تمام آدمیوں کو گنا۔8@ o+نفتالی کے قبیلے کے 53,400 مرد۔ H",6@JT^hr|&0:DNXblv%0;FQ\gr}  (  )  *  +  ,  -  .  /  0    (  )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4   5  !6  "7  #8  $9  %:  &;  '<  (=  )>  *?  +@  ,A  -B  .C  /D  0E  1F  2G  3H  4I  5J  6K  L M N O P Q R S  T  U  V  W  X Y Z [ \ ] ^ _ ` a b c d e f g h i j  k !l "m  n o NYN9L qرب نے موسیٰ اور ہارون سے کہاrK a6اسرائیلیوں نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔ VJ )5لیکن لاوی اپنے خیموں سے شریعت کی سکونت گاہ کو گھیر لیں تاکہ میرا غضب کسی غلط شخص کے نزدیک آنے سے اسرائیلیوں کی جماعت پر نازل نہ ہو جائے۔ یوں لاویوں کو شریعت کی سکونت گاہ کو سنبھالنا ہے۔“9I o4باقی اسرائیلی خیمہ گاہ میں اپنے اپنے دستے کے مطابق اور اپنے اپنے علَم کے ارد گرد اپنے خیمے لگائیں۔fH I3روانہ ہوتے وقت وہی خیمے کو سمیٹیں اور رُکتے وقت وہی اُسے لگائیں۔ اگر کوئی اَور اُس کے قریب آئے تو اُسے سزائے موت دی جائے گی۔ -!o-?S{اور جس کے لشکر کے 57,400 فوجی تھے۔mRUتیسرے، زبولون کا قبیلہ جس کا کمانڈر اِلیاب بن حیلون تھا?Q{اور جس کے لشکر کے 54,400 فوجی تھے۔pP[دوسرے، اِشکار کا قبیلہ جس کا کمانڈر نتنی ایل بن ضُغر تھا،?O{اور جس کے لشکر کے 74,600 فوجی تھے۔N%اِن ہدایات کے مطابق مقدِس کے مشرق میں یہوداہ کا علَم تھا جس کے ارد گرد تین دستے خیمہ زن تھے۔ پہلے، یہوداہ کا قبیلہ جس کا کمانڈر نحسون بن عمی نداب تھا، Mکہ اسرائیلی اپنے خیمے کچھ فاصلے پر ملاقات کے خیمے کے ارد گرد لگائیں۔ ہر ایک اپنے اپنے علَم اور اپنے اپنے آبائی گھرانے کے نشان کے ساتھ خیمہ زن ہو۔ >h{G+>5[eتینوں قبیلوں کے فوجیوں کی کُل تعداد 1,51,450 تھی۔ روانہ ہوتے وقت یہ مشرقی قبیلوں کے پیچھے چلتے تھے۔1Z_اور جس کے 45,650 فوجی تھے۔kYQتیسرے، جد کا قبیلہ جس کا کمانڈر اِلیاسف بن رعوایل تھا،1X_ اور جس کے 59,300 فوجی تھے۔wWi دوسرے، شمعون کا قبیلہ جس کا کمانڈر سلومی ایل بن صوری شدی تھا،1V_ اور جس کے 46,500 فوجی تھے۔iUM مقدِس کے جنوب میں روبن کا علَم تھا جس کے ارد گرد تین دستے خیمہ زن تھے۔ پہلے، روبن کا قبیلہ جس کا کمانڈر اِلی صور بن شدیور تھا،T# تینوں قبیلوں کے فوجیوں کی کُل تعداد 1,86,400 تھی۔ روانہ ہوتے وقت یہ آگے چلتے تھے۔ HkHtacتیسرے، بن یمین کا قبیلہ جس کا کمانڈر ابدان بن جِدعُونی تھا،1`_اور جس کے 32,200 فوجی تھے۔u_eدوسرے، منسّی کا قبیلہ جس کا کمانڈر جملی ایل بن فدا ہصور تھا،1^_اور جس کے 40,500 فوجی تھے۔x]kمقدِس کے مغرب میں افرائیم کا علَم تھا جس کے ارد گرد تین دستے خیمہ زن تھے۔ پہلے، افرائیم کا قبیلہ جس کا کمانڈر اِلی سمع بن عمی ہود تھا،a\=اِن جنوبی قبیلوں کے بعد لاوی ملاقات کا خیمہ اُٹھا کر قبیلوں کے عین بیچ میں چلتے تھے۔ قبیلے اُس ترتیب سے روانہ ہوتے تھے جس ترتیب سے وہ اپنے خیمے لگاتے تھے۔ ہر قبیلہ اپنے علَم کے پیچھے چلتا تھا۔ )R1i_اور جس کے 53,400 فوجی تھے۔mhUتیسرے، نفتالی کا قبیلہ جس کا کمانڈر اخیرع بن عینان تھا،1g_اور جس کے 41,500 فوجی تھے۔lfSدوسرے، آشر کا قبیلہ جس کا کمانڈر فجعی ایل بن عکران تھا،1e_اور جس کے 62,700 فوجی تھے۔fdGمقدِس کے شمال میں دان کا علَم تھا جس کے ارد گرد تین دستے خیمہ زن تھے۔ پہلے، دان کا قبیلہ جس کا کمانڈر اخی عزر بن عمی شدی تھا،5ceتینوں قبیلوں کے فوجیوں کی کُل تعداد 1,08,100 تھی۔ روانہ ہوتے وقت یہ جنوبی قبیلوں کے پیچھے چلتے تھے۔1b_اور جس کے 35,400 فوجی تھے۔ aEm"یوں اسرائیلیوں نے سب کچھ اُن ہدایات کے مطابق کیا جو رب نے موسیٰ کو دی تھیں۔ اُن کے مطابق ہی وہ اپنے جھنڈوں کے ارد گرد اپنے خیمے لگاتے تھے اور اُن کے مطابق ہی اپنے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے ساتھ روانہ ہوتے تھے۔ 9lm!صرف لاوی اِس تعداد میں شامل نہیں تھے، کیونکہ رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا کہ اُن کی بھرتی نہ کی جائے۔\k3 پوری خیمہ گاہ کے فوجیوں کی کُل تعداد 6,03,550 تھی۔j1تینوں قبیلوں کی کُل تعداد 1,57,600 تھی۔ وہ آخر میں اپنا علَم اُٹھا کر روانہ ہوتے تھے۔ IIHIqs]”لاوی کے قبیلے کو لا کر ہارون کی خدمت کرنے کی ذمہ داری دے۔*rQرب نے موسیٰ سے کہا،Zq/لیکن ندب اور ابیہو اُس وقت مر گئے جب اُنہوں نے دشتِ سینا میں رب کے حضور ناجائز آگ پیش کی۔ چونکہ وہ بےاولاد تھے اِس لئے ہارون کے جیتے جی صرف اِلی عزر اور اِتمر امام کی خدمت سرانجام دیتے تھے۔qp]یہ امام تھے جن کو مسح کر کے اِس خدمت کا اختیار دیا گیا تھا۔ o ہارون کے چار بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا ندب تھا، پھر ابیہو، اِلی عزر اور اِتمر۔3n cیہ ہارون اور موسیٰ کے خاندان کا بیان ہے۔ اُس وقت کا ذکر ہے جب رب نے سینا پہاڑ پر موسیٰ سے بات کی۔ j 6xi رب نے موسیٰ سے یہ بھی کہا،w لیکن صرف ہارون اور اُس کے بیٹوں کو امام کی حیثیت حاصل ہے۔ جو بھی باقیوں میں سے اُن کی ذمہ داریاں اُٹھانے کی کوشش کرے گا اُسے سزائے موت دی جائے گی۔“v7 تمام اسرائیلیوں میں سے صرف لاویوں کو ہارون اور اُس کے بیٹوں کی خدمت کے لئے مقرر کر۔'uIوہ ملاقات کے خیمے کا سامان سنبھالیں اور تمام اسرائیلیوں کے لئے مقدِس کے فرائض ادا کریں۔tاُنہیں اُس کے لئے اور پوری جماعت کے لئے ملاقات کے خیمے کی خدمات سنبھالنا ہے۔ Q=vQ.}Yموسیٰ نے ایسا ہی کیا۔p|[”لاویوں کو گن کر اُن کے آبائی گھرانوں اور کنبوں کے مطابق رجسٹر میں درج کرنا۔ ہر بیٹے کو گننا ہے جو ایک ماہ یا اِس سے زائد کا ہے۔“O{رب نے سینا کے ریگستان میں موسیٰ سے کہا،qz] کیونکہ تمام پہلوٹھے میرے ہی ہیں۔ جس دن مَیں نے مصر میں تمام پہلوٹھوں کو مار دیا اُس دن مَیں نے اسرائیل کے پہلوٹھوں کو اپنے لئے مخصوص کیا، خواہ وہ انسان کے تھے یا حیوان کے۔ وہ میرے ہی ہیں۔ مَیں رب ہوں۔“?yy ”مَیں نے اسرائیلیوں میں سے لاویوں کو چن لیا ہے۔ وہ تمام اسرائیلی پہلوٹھوں کے عوض میرے لئے مخصوص ہیں، >%R>I اُن کا راہنما اِلیاسف بن لائیل تھا،fGاُنہیں اپنے خیمے مغرب میں مقدِس کے پیچھے لگانے تھے۔\3کے 7,500 مرد تھے جو ایک ماہ یا اِس سے زائد کے تھے۔Pجیرسون کے دو کنبوں بنام لِبنی اور سِمعی]5مراری کے دو کنبے اُس کے بیٹوں محلی اور مُوشی کے نام رکھتے تھے۔ غرض لاوی کے قبیلے کے کنبے اُس کے پوتوں کے نام رکھتے تھے۔1قہات کے چار کنبے اُس کے بیٹوں عمرام، اِضہار، حبرون اور عُزی ایل کے نام رکھتے تھے۔|sجیرسون کے دو کنبے اُس کے بیٹوں لِبنی اور سِمعی کے نام رکھتے تھے۔Y~-لاوی کے تین بیٹے جیرسون، قہات اور مراری تھے۔ svj O اُن کا راہنما اِلی صفن بن عُزی ایل تھا،[ 1اُنہیں اپنے ڈیرے مقدِس کے جنوب میں ڈالنے تھے۔ 'کے 8,600 مرد تھے جو ایک ماہ یا اِس سے زائد کے تھے اور جن کو مقدِس کی خدمت کرنی تھی۔oYقہات کے چار کنبوں بنام عمرام، اِضہار، حبرون اور عُزی ایلymخیمے اور قربان گاہ کی چاردیواری کے پردے، چاردیواری کے دروازے کا پردہ اور تمام رسّے۔ اِن چیزوں سے متعلق ساری خدمت اُن کی ذمہ داری تھی۔  اور وہ خیمے کو سنبھالتے تھے یعنی اُس کی پوششیں، خیمے کے دروازے کا پردہ، E   +6ALWbmx(3>IT_ju$/:EP[fq| q r s t u  v  w  x  y q r s t u  v  w  x  y  z { | } ~                 ! " # $ % & ' ( ) * + , - . / 0 1 2 3                            ADA ;#اُن کا راہنما صوری ایل بن ابی خیل تھا۔ اُنہیں اپنے ڈیرے مقدِس کے شمال میں ڈالنے تھے،\3"کے 6,200 مرد تھے جو ایک ماہ یا اِس سے زائد کے تھے۔L!مراری کے دو کنبوں بنام محلی اور مُوشیo Y ہارون امام کا بیٹا اِلی عزر لاویوں کے تمام راہنماؤں پر مقرر تھا۔ وہ اُن تمام لوگوں کا انچارج تھا جو مقدِس کی دیکھ بھال کرتے تھے۔v gاور وہ یہ چیزیں سنبھالتے تھے: عہد کا صندوق، میز، شمع دان، قربان گاہیں، وہ برتن اور ساز و سامان جو مقدِس میں استعمال ہوتا تھا اور مُقدّس ترین کمرے کا پردہ۔ اِن چیزوں سے متعلق ساری خدمت اُن کی ذمہ داری تھی۔ r &موسیٰ، ہارون اور اُن کے بیٹوں کو اپنے ڈیرے مشرق میں مقدِس کے سامنے ڈالنے تھے۔ اُن کی ذمہ داری مقدِس میں بنی اسرائیل کے لئے خدمت کرنا تھی۔ اُن کے علاوہ جو بھی مقدِس میں داخل ہونے کی کوشش کرتا اُسے سزائے موت دینی تھی۔ym%وہ چاردیواری کے کھمبے، پائے، میخیں اور رسّے بھی سنبھالتے تھے۔$اور وہ یہ چیزیں سنبھالتے تھے: خیمے کے تختے، اُس کے شہتیر، کھمبے، پائے اور اِس طرح کا سارا سامان۔ اِن چیزوں سے متعلق ساری خدمت اُن کی ذمہ داری تھی۔ N N*موسیٰ نے ایسا ہی کیا جیسا رب نے اُسے حکم دیا۔ اُس نے تمام اسرائیلی پہلوٹھے%E)اُن تمام پہلوٹھوں کی جگہ لاویوں کو میرے لئے مخصوص کرنا۔ اِسی طرح اسرائیلیوں کے مویشیوں کے پہلوٹھوں کی جگہ لاویوں کے مویشی میرے لئے مخصوص کرنا۔ مَیں رب ہوں۔“^7(رب نے موسیٰ سے کہا، ”تمام اسرائیلی پہلوٹھوں کو گننا جو ایک ماہ یا اِس سے زائد کے ہیں اور اُن کے نام رجسٹر میں درج کرنا۔'اُن لاوی مردوں کی کُل تعداد جو ایک ماہ یا اِس سے زائد کے تھے 22,000 تھی۔ رب کے کہنے پر موسیٰ اور ہارون نے اُنہیں کنبوں کے مطابق گن کر رجسٹر میں درج کیا۔ {S,{.Y1موسیٰ نے ایسا ہی کیا۔R0یہ پیسے ہارون اور اُس کے بیٹوں کو دینا۔“#A/ہر ایک کے عوض چاندی کے پانچ سکے لے جو مقدِس کے وزن کے مطابق ہوں (فی سکہ تقریباً 11 گرام)۔{.لاویوں کی نسبت باقی اسرائیلیوں کے 273 پہلوٹھے زیادہ ہیں۔ اُن میں سے#A-”مجھے تمام اسرائیلی پہلوٹھوں کی جگہ لاویوں کو پیش کرنا۔ اِسی طرح مجھے اسرائیلیوں کے مویشیوں کی جگہ لاویوں کے مویشی پیش کرنا۔ لاوی میرے ہی ہیں۔ مَیں رب ہوں۔*Q,رب نے موسیٰ سے کہا،}u+جو ایک ماہ یا اِس سے زائد کے تھے گن لئے۔ اُن کی کُل تعداد 22,273 تھی۔ (Qb$?قہاتیوں کی خدمت مُقدّس ترین کمرے کی دیکھ بھال ہے۔S#!اُن تمام مردوں کو رجسٹر میں درج کرنا جو 30 سے لے کر 50 سال کے ہیں اور ملاقات کے خیمے میں خدمت کرنے کے لئے آ سکتے ہیں۔+"Q”لاوی کے قبیلے میں سے قہاتیوں کی مردم شماری اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق کرنا۔;! uرب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا،y m3ہارون اور اُس کے بیٹوں کو دیئے، جس طرح رب نے اُسے حکم دیا تھا۔ lS2یوں اُس نے چاندی کے 1,365 سکے (تقریباً 16 کلو گرام جمع کر کے d'Cوہ اُس میز پر بھی نیلے رنگ کا کپڑا بچھائیں جس پر رب کو روٹی پیش کی جاتی ہے۔ اُس پر تھال، پیالے، مَے کی نذریں پیش کرنے کے برتن اور مرتبان رکھے جائیں۔ جو روٹی ہمیشہ میز پر ہوتی ہے وہ بھی اُس پر رہے۔l&Sاِس پر وہ تخس کی کھالوں کا غلاف اور آخر میں پوری طرح نیلے رنگ کا کپڑا بچھائیں۔ اِس کے بعد وہ صندوق کو اُٹھانے کی لکڑیاں لگائیں۔{%qجب خیمے کو سفر کے لئے سمیٹنا ہے تو ہارون اور اُس کے بیٹے داخل ہو کر مُقدّس ترین کمرے کا پردہ اُتاریں اور اُسے شریعت کے صندوق پر ڈال دیں۔   9*m یہ سب کچھ وہ تخس کی کھالوں کے غلاف میں لپیٹیں اور اُسے اُٹھا کر لے جانے کے لئے ایک چوکھٹے پر رکھیں۔)  وہ شمع دان اور اُس کے سامان پر یعنی اُس کے چراغ، بتی کترنے کی قینچیوں، جلتے کوئلے کے چھوٹے برتنوں اور تیل کے برتنوں پر نیلے رنگ کا کپڑا رکھیں۔((Kہارون اور اُس کے بیٹے اِن تمام چیزوں پر قرمزی رنگ کا کپڑا بچھا کر آخر میں اُن کے اوپر تخس کی کھالوں کا غلاف ڈالیں۔ اِس کے بعد وہ میز کو اُٹھانے کی لکڑیاں لگائیں۔ /-Y پھر وہ جانوروں کو جلانے کی قربان گاہ کو راکھ سے صاف کر کے اُس پر ارغوانی رنگ کا کپڑا بچھائیں۔<,s وہ سارا سامان جو مُقدّس کمرے میں استعمال ہوتا ہے لے کر نیلے رنگ کے کپڑے میں لپیٹیں، اُس پر تخس کی کھالوں کا غلاف ڈالیں اور اُسے اُٹھا کر لے جانے کے لئے ایک چوکھٹے پر رکھیں۔+ وہ بخور جلانے کی سونے کی قربان گاہ پر بھی نیلے رنگ کا کپڑا بچھا کر اُس پر تخس کی کھالوں کا غلاف ڈالیں اور پھر اُسے اُٹھانے کی لکڑیاں لگائیں۔ z/oسفر کے لئے روانہ ہوتے وقت یہ سب کچھ اُٹھا کر لے جانا قہاتیوں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن لازم ہے کہ پہلے ہارون اور اُس کے بیٹے یہ تمام مُقدّس چیزیں ڈھانپیں۔ قہاتی اِن میں سے کوئی بھی چیز نہ چھوئیں ورنہ مر جائیں گے۔y.mاُس پر وہ قربان گاہ کی خدمت کے لئے سارا ضروری سامان رکھیں یعنی چھڑکاؤ کے کٹورے، جلتے ہوئے کوئلے کے برتن، بیلچے اور کانٹے۔ اِس سامان پر وہ تخس کی کھالوں کا غلاف ڈال کر قربان گاہ کو اُٹھانے کی لکڑیاں لگائیں۔ 'K15_پھر رب نے موسیٰ سے کہا،*4Oقہاتی ایک لمحے کے لئے بھی مُقدّس چیزیں دیکھنے کے لئے اندر نہ جائیں، ورنہ وہ مر جائیں گے۔“*3Oچنانچہ جب وہ مُقدّس ترین چیزوں کے پاس آئیں تو ہارون اور اُس کے بیٹے ہر ایک کو اُس سامان کے پاس لے جائیں جو اُسے اُٹھا کر لے جانا ہے تاکہ وہ نہ مریں بلکہ جیتے رہیں۔{2q”خبردار رہو کہ قہات کے کنبے لاوی کے قبیلے میں سے مٹنے نہ پائیں۔<1uرب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا،0+ہارون امام کا بیٹا اِلی عزر پورے مُقدّس خیمے اور اُس کے سامان کا انچارج ہو۔ اِس میں چراغوں کا تیل، بخور، غلہ کی روزانہ نذر اور مسح کا تیل بھی شامل ہے۔“ Na:N<:sخیمے اور قربان گاہ کی چاردیواری کے پردے، چاردیواری کے دروازے کا پردہ، اُس کے رسّے اور اُسے لگانے کا باقی سامان۔ وہ اُن تمام کاموں کے ذمہ دار ہیں جو اِن چیزوں سے منسلک ہیں۔(9Kملاقات کا خیمہ، اُس کی چھت، چھت پر رکھی ہوئی تخس کی کھال کی پوشش، خیمے کے دروازے کا پردہ،V8'وہ یہ چیزیں اُٹھا کر لے جانے کے ذمہ دار ہیں:J7اُن تمام مردوں کو رجسٹر میں درج کرنا جو 30 سے لے کر 50 سال کے ہیں اور ملاقات کے خیمے میں خدمت کے لئے آ سکتے ہیں۔61”جیرسون کی اولاد کی مردم شماری بھی اُن کے آبائی گھرانوں اور کنبوں کے مطابق کرنا۔ :J>اُن تمام مردوں کو رجسٹر میں درج کرنا جو 30 سے لے کر 50 سال کے ہیں اور ملاقات کے خیمے میں خدمت کے لئے آ سکتے ہیں۔,=Sرب نے کہا، ”مراری کی اولاد کی مردم شماری بھی اُن کے آبائی گھرانوں اور کنبوں کے مطابق کرنا۔J<یہ سب ملاقات کے خیمے میں جیرسونیوں کی ذمہ داریاں ہیں۔ اِس کام میں ہارون امام کا بیٹا اِتمر اُن پر مقرر ہے۔“t;cجیرسونیوں کی پوری خدمت ہارون اور اُس کے بیٹوں کی ہدایات کے مطابق ہو۔ خبردار رہو کہ وہ سب کچھ عین ہدایات کے مطابق اُٹھا کر لے جائیں۔ ABcDB"موسیٰ، ہارون اور جماعت کے راہنماؤں نے قہاتیوں کی مردم شماری اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق کی۔[A1!یہ سب کچھ مراریوں کی ملاقات کے خیمے میں ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اِس کام میں ہارون امام کا بیٹا اِتمر اُن پر مقرر ہو۔“{@q پھر خیمے کی چاردیواری کے کھمبے، پائے، میخیں، رسّے اور یہ چیزیں لگانے کا سامان۔ ہر ایک کو تفصیل سے بتانا کہ وہ کیا کیا اُٹھا کر لے جائے۔;?qوہ ملاقات کے خیمے کی یہ چیزیں اُٹھا کر لے جانے کے ذمہ دار ہیں: دیوار کے تختے، شہتیر، کھمبے اور پائے، s D $اُنہوں نے اُن تمام مردوں کو رجسٹر میں درج کیا جو 30 سے لے کر 50 سال کے تھے اور جو ملاقات کے خیمے میں خدمت کر سکتے تھے۔ اُن کی کُل تعداد 2,750 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کی معرفت فرمایا تھا۔ C #اُنہوں نے اُن تمام مردوں کو رجسٹر میں درج کیا جو 30 سے لے کر 50 سال کے تھے اور جو ملاقات کے خیمے میں خدمت کر سکتے تھے۔ اُن کی کُل تعداد 2,750 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کی معرفت فرمایا تھا۔ s]F5&پھر جیرسونیوں کی مردم شماری اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق ہوئی۔ خدمت کے لائق مردوں کی کُل تعداد 2,630 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کے ذریعے فرمایا تھا۔ E %اُنہوں نے اُن تمام مردوں کو رجسٹر میں درج کیا جو 30 سے لے کر 50 سال کے تھے اور جو ملاقات کے خیمے میں خدمت کر سکتے تھے۔ اُن کی کُل تعداد 2,750 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کی معرفت فرمایا تھا۔ >>]H5(پھر جیرسونیوں کی مردم شماری اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق ہوئی۔ خدمت کے لائق مردوں کی کُل تعداد 2,630 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کے ذریعے فرمایا تھا۔]G5'پھر جیرسونیوں کی مردم شماری اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق ہوئی۔ خدمت کے لائق مردوں کی کُل تعداد 2,630 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کے ذریعے فرمایا تھا۔ BBYJ-*پھر مراریوں کی مردم شماری اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق ہوئی۔ خدمت کے لائق مردوں کی کُل تعداد 3,200 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کے ذریعے فرمایا تھا۔]I5)پھر جیرسونیوں کی مردم شماری اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق ہوئی۔ خدمت کے لائق مردوں کی کُل تعداد 2,630 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کے ذریعے فرمایا تھا۔of9flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|›kÛněqśvƛ{țɜʜ˜ ̜ ͜ΜϜМќ&›kÛněqśvƛ{țɜʜ˜ ̜ ͜ΜϜМќ&Ҝ0Ӝ?ԜG֜LלS؜[ٜaڜiۜmܜsݜxޜ}ߝ $'*-/5:>BDFHJLOSX\_cgkotx{}    ! (+.147<BEHKNQUZ^bf k!o"s#v$y%~&'( ) *+,-. /&1+2134495=6A7D8G FFYL-,پھر مراریوں کی مردم شماری اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق ہوئی۔ خدمت کے لائق مردوں کی کُل تعداد 3,200 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کے ذریعے فرمایا تھا۔YK-+پھر مراریوں کی مردم شماری اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق ہوئی۔ خدمت کے لائق مردوں کی کُل تعداد 3,200 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کے ذریعے فرمایا تھا۔ ]O5/لاویوں کے اُن مردوں کی کُل تعداد 8,580 تھی جنہیں ملاقات کے خیمے میں خدمت کرنا اور سفر کرتے وقت اُسے اُٹھا کر لے جانا تھا۔]N5.لاویوں کے اُن مردوں کی کُل تعداد 8,580 تھی جنہیں ملاقات کے خیمے میں خدمت کرنا اور سفر کرتے وقت اُسے اُٹھا کر لے جانا تھا۔YM--پھر مراریوں کی مردم شماری اُن کے کنبوں اور آبائی گھرانوں کے مطابق ہوئی۔ خدمت کے لائق مردوں کی کُل تعداد 3,200 تھی۔ موسیٰ اور ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کے ذریعے فرمایا تھا۔ GpG%SE”اسرائیلیوں کو حکم دے کہ ہر اُس شخص کو خیمہ گاہ سے باہر کر دو جس کو وبائی جِلدی بیماری ہے، جس کے زخموں سے مائع نکلتا رہتا ہے یا جو کسی لاش کو چھونے سے ناپاک ہے۔)R Qرب نے موسیٰ سے کہا،Qy1موسیٰ نے رب کے حکم کے مطابق ہر ایک کو اُس کی اپنی اپنی ذمہ داری سونپی اور اُسے بتایا کہ اُسے کیا کیا اُٹھا کر لے جانا ہے۔ یوں اُن کی مردم شماری رب کے اُس حکم کے عین مطابق کی گئی جو اُس نے موسیٰ کی معرفت دیا تھا۔ ]P50لاویوں کے اُن مردوں کی کُل تعداد 8,580 تھی جنہیں ملاقات کے خیمے میں خدمت کرنا اور سفر کرتے وقت اُسے اُٹھا کر لے جانا تھا۔ E  !,7BMXcny)4>IT_ju%0;FQ\gr}                     ! " # $ % & ' ( ) * + , - . / 0 1                                                       _X9لازم ہے کہ وہ اپنا گناہ تسلیم کرے اور اُس کا پورا معاوضہ دے بلکہ متاثرہ شخص کا نقصان پورا کرنے کے علاوہ 20 فیصد زیادہ دے۔cWA”اسرائیلیوں کو ہدایت دینا کہ جو بھی کسی سے غلط سلوک کرے وہ میرے ساتھ بےوفائی کرتا ہے اور قصوروار ہے، خواہ مرد ہو یا عورت۔*VQرب نے موسیٰ سے کہا،|Usاسرائیلیوں نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کو کہا تھا۔ اُنہوں نے رب کے حکم کے عین مطابق اِس طرح کے تمام لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر کر دیا۔oTYخواہ مرد ہو یا عورت، سب کو خیمہ گاہ کے باہر بھیج دینا تاکہ وہ خیمہ گاہ کو ناپاک نہ کریں جہاں مَیں تمہارے درمیان سکونت کرتا ہوں۔“ D{qD*\Q رب نے موسیٰ سے کہا،[ نیز امام کو اسرائیلیوں کی قربانیوں میں سے وہ کچھ ملنا ہے جو اُٹھانے والی قربانی کے طور پر اُسے دیا جاتا ہے۔ یہ حصہ صرف اماموں کو ہی ملنا ہے۔“Z نیز امام کو اسرائیلیوں کی قربانیوں میں سے وہ کچھ ملنا ہے جو اُٹھانے والی قربانی کے طور پر اُسے دیا جاتا ہے۔ یہ حصہ صرف اماموں کو ہی ملنا ہے۔“wYiلیکن اگر وہ شخص جس کا قصور کیا گیا تھا مر چکا ہو اور اُس کا کوئی وارث نہ ہو جو یہ معاوضہ وصول کر سکے تو پھر اُسے رب کو دینا ہے۔ امام کو یہ معاوضہ اُس مینڈھے کے علاوہ ملے گا جو قصوروار اپنے کفارہ کے لئے دے گا۔ LK4Ld_Cاگر شوہر کو اپنی بیوی کی وفاداری پر شک ہو اور وہ غیرت کھانے لگے، لیکن یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میری بیوی قصوروار ہے کہ نہیں^! کسی اَور سے ہم بستر ہو کر ناپاک ہو جائے۔ اُس کے شوہر نے اُسے نہیں دیکھا، کیونکہ یہ پوشیدگی میں ہوا ہے اور نہ کسی نے اُسے پکڑا، نہ اِس کا کوئی گواہ ہے۔1]] ”اسرائیلیوں کو بتانا، ہو سکتا ہے کہ کوئی شادی شدہ عورت بھٹک کر اپنے شوہر سے بےوفا ہو جائے اور $5@$c+پھر وہ عورت کو رب کو پیش کر کے اُس کے بال کھلوائے اور اُس کے ہاتھوں پر میدے کی نذر رکھے۔ امام کے اپنے ہاتھ میں کڑوے پانی کا وہ برتن ہو جو لعنت کا باعث ہے۔ bوہ مٹی کا برتن مُقدّس پانی سے بھر کر اُس میں مقدِس کے فرش کی کچھ خاک ڈالے۔ba?امام عورت کو قریب آنے دے اور رب کے سامنے کھڑا کرے۔G` تو وہ اپنی بیوی کو امام کے پاس لے آئے۔ ساتھ ساتھ وہ اپنی بیوی کے لئے قربانی کے طور پر جَو کا ڈیڑھ کلو گرام بہترین میدہ لے آئے۔ اِس پر نہ تیل اُنڈیلا جائے، نہ بخور ڈالا جائے، کیونکہ غلہ کی یہ نذر غیرت کی نذر ہے جس کا مقصد ہے کہ پوشیدہ قصور ظاہر ہو جائے۔ +dgCجب لعنت کا یہ پانی آپ کے پیٹ میں اُترے تو آپ بانجھ ہو جائیں اور آپ کا پیٹ پھول جائے۔‘ اِس پر عورت کہے، ’آمین، ایسا ہی ہو۔‘!f=تو رب آپ کو آپ کی قوم کے سامنے لعنتی بنائے۔ آپ بانجھ ہو جائیں اور آپ کا پیٹ پھول جائے۔2e_لیکن اگر آپ بھٹک کر اپنے شوہر سے بےوفا ہو گئی ہیں اور کسی اَور سے ہم بستر ہو کر ناپاک ہو گئی ہیںd1پھر وہ عورت کو قَسم کھلا کر کہے، ’اگر کوئی اَور آدمی آپ سے ہم بستر نہیں ہوا ہے اور آپ ناپاک نہیں ہوئی ہیں تو اِس کڑوے پانی کی لعنت کا آپ پر کوئی اثر نہ ہو۔ 9$kCاُس پر وہ مٹھی بھر یادگاری کی قربانی کے طور پر جلائے۔ اِس کے بعد وہ عورت کو پانی پلائے۔tjcلیکن پہلے امام اُس کے ہاتھوں میں سے غیرت کی قربانی لے کر اُسے غلہ کی نذر کے طور پر رب کے سامنے ہلائے اور پھر قربان گاہ کے پاس لے آئے۔i)بعد میں وہ عورت کو یہ پانی پلائے تاکہ وہ اُس کے جسم میں جا کر اُسے لعنت پہنچائے۔Chپھر امام یہ لعنت لکھ کر کاغذ کو برتن کے پانی میں یوں دھو دے کہ اُس پر لکھی ہوئی باتیں پانی میں گھل جائیں۔ I[RIoچنانچہ ایسا ہی کرنا ہے جب شوہر غیرت کھائے اور اُسے اپنی بیوی پر زنا کا شک ہو۔ بیوی کو قربان گاہ کے سامنے کھڑا کیا جائے اور امام یہ سب کچھ کرے۔nچنانچہ ایسا ہی کرنا ہے جب شوہر غیرت کھائے اور اُسے اپنی بیوی پر زنا کا شک ہو۔ بیوی کو قربان گاہ کے سامنے کھڑا کیا جائے اور امام یہ سب کچھ کرے۔ m;لیکن اگر وہ پاک صاف ہے تو اُسے سزا نہیں دی جائے گی اور وہ بچے جنم دینے کے قابل رہے گی۔}luاگر وہ اپنے شوہر سے بےوفا تھی اور ناپاک ہو گئی ہے تو وہ بانجھ ہو جائے گی، اُس کا پیٹ پھول جائے گا اور وہ اپنی قوم کے سامنے لعنتی ٹھہرے گی۔ Z Z@t{جب تک وہ مخصوص ہے وہ انگور کی کوئی بھی پیداوار نہ کھائے، یہاں تک کہ انگور کے بیج یا چھلکے بھی نہ کھائے۔ksQتو وہ مَے یا کوئی اَور نشہ آور چیز نہ پیئے۔ نہ وہ انگور یا کسی اَور چیز کا سرکہ پیئے، نہ انگور کا رس۔ وہ انگور یا کشمش نہ کھائے۔Ur%”اسرائیلیوں کو ہدایت دینا کہ اگر کوئی آدمی یا عورت مَنت مان کر اپنے آپ کو ایک مقررہ وقت کے لئے رب کے لئے مخصوص کرے)q Qرب نے موسیٰ سے کہا،jpOاِس صورت میں شوہر بےقصور ٹھہرے گا، لیکن اگر اُس کی بیوی نے واقعی زنا کیا ہو تو اُسے اپنے گناہ کے نتیجے برداشت کرنے پڑیں گے۔“ gKhxKوہ اپنی مخصوصیت کے دوران رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔w+چاہے وہ اُس کے باپ، ماں، بھائی یا بہن کی لاش کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اِس سے وہ ناپاک ہو جائے گا جبکہ ابھی تک اُس کی مخصوصیت لمبے بالوں کی صورت میں نظر آتی ہے۔Xv+جب تک وہ مخصوص ہے وہ کسی لاش کے قریب نہ جائے،:uoجب تک وہ اپنی مَنت کے مطابق مخصوص ہے وہ اپنے بال نہ کٹوائے۔ جتنی دیر کے لئے اُس نے اپنے آپ کو رب کے لئے مخصوص کیا ہے اُتنی دیر تک وہ مُقدّس ہے۔ اِس لئے وہ اپنے بال بڑھنے دے۔ z{o امام اِن میں سے ایک کو گناہ کی قربانی کے طور پر چڑھائے اور دوسرے کو بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر۔ یوں وہ اُس کے لئے کفارہ دے گا جو لاش کے قریب ہونے سے ناپاک ہو گیا ہے۔ اُسی دن وہ اپنے سر کو دوبارہ مخصوص کرے.zW آٹھویں دن وہ دو قمریاں یا دو جوان کبوتر لے کر ملاقات کے خیمے کے دروازے پر آئے اور امام کو دے۔9ym اگر کوئی اچانک مر جائے جب مخصوص شخص اُس کے قریب ہو تو اُس کے مخصوص بال ناپاک ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو پاک صاف کر کے ساتویں دن اپنے سر کو منڈوائے۔ JJA}} شریعت کے مطابق جب مخصوص شخص کا مقررہ وقت گزر گیا ہو تو پہلے اُسے ملاقات کے خیمے کے دروازے پر لایا جائے۔m|U اور اپنے آپ کو مقررہ وقت کے لئے دوبارہ رب کے لئے مخصوص کرے۔ وہ قصور کی قربانی کے طور پر ایک سال کا بھیڑ کا بچہ پیش کرے۔ جتنے دن اُس نے پہلے مخصوصیت کی حالت میں گزارے ہیں وہ شمار نہیں کئے جا سکتے کیونکہ وہ مخصوصیت کی حالت میں ناپاک ہو گیا تھا۔ وہ دوبارہ پہلے دن سے شروع کرے۔  ;رب کو پیش کرے۔ پہلے امام گناہ کی قربانی اور بھسم ہونے والی قربانی رب کے حضور چڑھائے۔3aاِس کے علاوہ وہ ایک ٹوکری میں بےخمیری روٹیاں جن میں بہترین میدہ اور تیل ملایا گیا ہو اور بےخمیری روٹیاں جن پر تیل لگایا گیا ہو متعلقہ غلہ کی نذر اور مَے کی نذر کے ساتھA~}وہاں وہ رب کو بھسم ہونے والی قربانی کے لئے بھیڑ کا ایک بےعیب یک سالہ نر بچہ، گناہ کی قربانی کے لئے ایک بےعیب یک سالہ بھیڑ اور سلامتی کی قربانی کے لئے ایک بےعیب مینڈھا پیش کرے۔ k EkV'پھر امام مینڈھے کا ایک پکا ہوا شانہ اور ٹوکری میں سے دونوں قسموں کی ایک ایک روٹی لے کر مخصوص شخص کے ہاتھوں پر رکھے۔W)اِس دوران مخصوص شخص ملاقات کے خیمے پر اپنے مخصوص کئے گئے سر کو منڈوا کر تمام بال سلامتی کی قربانی کی آگ میں پھینکے۔\3پھر وہ مینڈھے کو بےخمیری روٹیوں کے ساتھ سلامتی کی قربانی کے طور پر پیش کرے۔ امام غلہ کی نذر اور مَے کی نذر بھی چڑھائے۔ bb*Qرب نے موسیٰ سے کہا،}جو اپنے آپ کو رب کے لئے مخصوص کرتا ہے وہ ایسا ہی کرے۔ لازم ہے کہ وہ اِن ہدایات کے مطابق تمام قربانیاں پیش کرے۔ اگر گنجائش ہو تو وہ اَور بھی پیش کر سکتا ہے۔ بہر حال لازم ہے کہ وہ اپنی مَنت اور یہ ہدایات پوری کرے۔“hKاِس کے بعد وہ یہ چیزیں واپس لے کر اُنہیں ہلانے کی قربانی کے طور پر رب کے سامنے ہلائے۔ یہ ایک مُقدّس قربانی ہے جو امام کا حصہ ہے۔ سلامتی کی قربانی کا ہلایا ہوا سینہ اور اُٹھائی ہوئی ران بھی امام کا حصہ ہیں۔ قربانی کے اختتام پر مخصوص کئے ہوئے شخص کو مَے پینے کی اجازت ہے۔ v(I  'جس دن مقدِس مکمل ہوا اُسی دن موسیٰ نے اُسے مخصوص و مُقدّس کیا۔ اِس کے لئے اُس نے خیمے، اُس کے تمام سامان، قربان گاہ اور اُس کے تمام سامان پر تیل چھڑکا۔ !یوں وہ میرا نام لے کر اسرائیلیوں کو برکت دیں۔ پھر مَیں اُنہیں برکت دوں گا۔“ e Eرب کی نظرِ کرم تجھ پر ہو، اور وہ تجھے سلامتی بخشے۔‘t cرب اپنے چہرے کا مہربان نور تجھ پر چمکائے اور تجھ پر رحم کرے۔K’رب تجھے برکت دے اور تیری حفاظت کرے۔”ہارون اور اُس کے بیٹوں کو بتا دینا کہ وہ اسرائیلیوں کو یوں برکت دیں،   lSپھر قبیلوں کے بارہ سردار مقدِس کے لئے ہدیئے لے کر آئے۔ یہ وہی راہنما تھے جنہوں نے مردم شماری کے وقت موسیٰ کی مدد کی تھی۔ اُنہوں نے چھت والی چھ بَیل گاڑیاں اور بارہ بَیل خیمے کے سامنے رب کو پیش کئے، دو دو سرداروں کی طرف سے ایک بَیل گاڑی اور ہر ایک سردار کی طرف سے ایک بَیل۔l Sپھر قبیلوں کے بارہ سردار مقدِس کے لئے ہدیئے لے کر آئے۔ یہ وہی راہنما تھے جنہوں نے مردم شماری کے وقت موسیٰ کی مدد کی تھی۔ اُنہوں نے چھت والی چھ بَیل گاڑیاں اور بارہ بَیل خیمے کے سامنے رب کو پیش کئے، دو دو سرداروں کی طرف سے ایک بَیل گاڑی اور ہر ایک سردار کی طرف سے ایک بَیل۔ 8{K8 لیکن موسیٰ نے قہاتیوں کو نہ بَیل گاڑیاں اور نہ بَیل دیئے۔ وجہ یہ تھی کہ جو مُقدّس چیزیں اُن کے سپرد تھیں وہ اُن کو کندھوں پر اُٹھا کر لے جانی تھیں۔Eاور چار بَیل گاڑیاں آٹھ بَیلوں سمیت مراریوں کو دیں۔ مراری ہارون امام کے بیٹے اِتمر کے تحت خدمت کرتے تھے۔dCاُس نے دو بَیل گاڑیاں چار بَیلوں سمیت جیرسونیوں کوmUچنانچہ موسیٰ نے بَیل گاڑیاں اور بَیل لاویوں کو دے دیئے۔dC”یہ تحفے قبول کر کے ملاقات کے خیمے کے کام کے لئے استعمال کر۔ اُنہیں لاویوں میں اُن کی خدمت کی ضرورت کے مطابق تقسیم کرنا۔“*Qرب نے موسیٰ سے کہا، /3a چاندی کا تھال جس کا وزن ڈیڑھ کلو گرام تھا اور چھڑکاؤ کا چاندی کا کٹوراجس کا وزن 800 گرام تھا۔ دونوں غلہ کی نذر کے لئے تیل کے ساتھ ملائے گئے بہترین میدے سے بھرے ہوئے تھے۔ پہلے دن یہوداہ کے سردار نحسون بن عمی نداب کی باری تھی۔ اُس کے ہدیئے یہ تھے: رب نے موسیٰ سے کہا، ”سردار بارہ دن کے دوران باری باری اپنے ہدیئے پیش کریں۔“M بارہ سردار قربان گاہ کی مخصوصیت کے موقع پر بھی ہدیئے لے آئے۔ اُنہوں نے اپنے ہدیئے قربان گاہ کے سامنے پیش کئے۔ E   +6ALWbmx'2=HS^it$/:EP[fq|                                                      ! " # $ % & ' ( ) *  + !, "- #. $/ %0 &1 '2 (3 )4 *5 +6 ,7 -8 .9 /: 0; 1< 2= 3> 4? 5@ 6A =_U%اگلے گیارہ دن باقی سردار بھی یہی ہدیئے مقدِس کے پاس لے آئے۔ دوسرے دن اِشکار کے سردار نتنی ایل بن ضُغر کی باری تھی،)Mاور سلامتی کی قربانی کے لئے دو بَیل، پانچ مینڈھے، پانچ بکرے اور بھیڑ کے پانچ یک سالہ بچے۔>yگناہ کی قربانی کے لئے ایک بکرا-ایک جوان بَیل، ایک مینڈھا، بھسم ہونے والی قربانی کے لئے بھیڑ کا ایک یک سالہ بچہ،?yاِن کے علاوہ نحسون نے یہ چیزیں پیش کیں: سونے کا پیالہ جس کا وزن 110 گرام تھا اور جو بخور سے بھرا ہوا تھا، 'NuU!%اگلے گیارہ دن باقی سردار بھی یہی ہدیئے مقدِس کے پاس لے آئے۔ دوسرے دن اِشکار کے سردار نتنی ایل بن ضُغر کی باری تھی،U %اگلے گیارہ دن باقی سردار بھی یہی ہدیئے مقدِس کے پاس لے آئے۔ دوسرے دن اِشکار کے سردار نتنی ایل بن ضُغر کی باری تھی،U%اگلے گیارہ دن باقی سردار بھی یہی ہدیئے مقدِس کے پاس لے آئے۔ دوسرے دن اِشکار کے سردار نتنی ایل بن ضُغر کی باری تھی،U%اگلے گیارہ دن باقی سردار بھی یہی ہدیئے مقدِس کے پاس لے آئے۔ دوسرے دن اِشکار کے سردار نتنی ایل بن ضُغر کی باری تھی، 'o[Y(-تیسرے دن زبولون کے سردار اِلیاب بن حیلون کی،Y'-تیسرے دن زبولون کے سردار اِلیاب بن حیلون کی،Y&-تیسرے دن زبولون کے سردار اِلیاب بن حیلون کی،Y%-تیسرے دن زبولون کے سردار اِلیاب بن حیلون کی،Y$-تیسرے دن زبولون کے سردار اِلیاب بن حیلون کی،Y#-تیسرے دن زبولون کے سردار اِلیاب بن حیلون کی،U"%اگلے گیارہ دن باقی سردار بھی یہی ہدیئے مقدِس کے پاس لے آئے۔ دوسرے دن اِشکار کے سردار نتنی ایل بن ضُغر کی باری تھی، +{ چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،*{چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،){چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی، .{#چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،-{"چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،,{!چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی، 1{&چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،0{%چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،/{$چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی، 4{)چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،3{(چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،2{'چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی، 7{,چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،6{+چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،5{*چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی، ((c<A1ساتویں دن افرائیم کے سردار اِلی سمع بن عمی ہود کی،c;A0ساتویں دن افرائیم کے سردار اِلی سمع بن عمی ہود کی،:{/چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،9{.چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی،8{-چوتھے دن روبن کے سردار اِلی صور بن شدیور کی، پانچویں دن شمعون کے سردار سلومی ایل بن صوری شدی کی، چھٹے دن جد کے سردار اِلیاسف بن رعوایل کی، `4hd`B{7آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،A{6آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،c@A5ساتویں دن افرائیم کے سردار اِلی سمع بن عمی ہود کی،c?A4ساتویں دن افرائیم کے سردار اِلی سمع بن عمی ہود کی،c>A3ساتویں دن افرائیم کے سردار اِلی سمع بن عمی ہود کی،c=A2ساتویں دن افرائیم کے سردار اِلی سمع بن عمی ہود کی، E{:آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،D{9آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،C{8آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی، H{=آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،G{<آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،F{;آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی، K{@آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،J{?آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،I{>آٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی، N{Cآٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،M{Bآٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،L{Aآٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی، Q{Fآٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،P{Eآٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی،O{Dآٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی، 4lDUJگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔DTIگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔DSHگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔R{Gآٹھویں دن منسّی کے سردار جملی ایل بن فدا ہصور کی، نویں دن بن یمین کے سردار ابدان بن جدعونی کی، دسویں دن دان کے سردار اخی عزر بن عمی شدی کی، 8pDZOگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔DYNگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔DXMگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔DWLگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔DVKگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔ 8pD^Sگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔D]Rگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔D\Qگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔D[Pگیارھویں دن آشر کے سردار فجعی ایل بن عکران کی اور بارھویں دن نفتالی کے سردار اخیرع بن عینان کی باری تھی۔ E  !,7BMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr} 8C 9D :E ;F <G =H >I ?J @K 8C 9D :E ;F <G =H >I ?J @K AL BM CN DO EP FQ GR HS IT JU KV LW MX NY OZ P[ Q\ R] S^ T_ U` Va Wb Xc Yd  e f g h i j k l  m  n  o  p  q r s t u v w x y z { | } ~                    H.H8bkWسرداروں نے مل کر بھسم ہونے والی قربانی کے لئے 12 جوان بَیل، 12 مینڈھے، بھیڑ کے 12 یک سالہ بچے اُن کی غلہ کی نذروں سمیت پیش کئے۔ گناہ کی قربانی کے لئے اُنہوں نے 12 بکرے پیش کئے&aGVبخور سے بھرے ہوئے سونے کے پیالوں کا کُل وزن تقریباً ڈیڑھ کلو گرام تھا (فی پیالہ 110 گرام)۔V`'Uہر تھال کا وزن ڈیڑھ کلو گرام اور چھڑکاؤ کے ہر کٹورے کا وزن 800 گرام تھا۔ اِن چیزوں کا کُل وزن تقریباً 28 کلو گرام تھا۔t_cTاسرائیل کے اِن سرداروں نے مل کر قربان گاہ کی مخصوصیت کے لئے چاندی کے 12 تھال، چھڑکاؤ کے چاندی کے 12 کٹورے اور سونے کے 12 پیالے پیش کئے۔ If ”ہارون کو بتانا، ’تجھے سات چراغوں کو شمع دان پر یوں رکھنا ہے کہ وہ شمع دان کا سامنے والا حصہ روشن کریں‘۔“)e Qرب نے موسیٰ سے کہا،!d=Yجب موسیٰ ملاقات کے خیمے میں رب کے ساتھ بات کرنے کے لئے داخل ہوتا تھا تو وہ رب کی آواز عہد کے صندوق کے ڈھکنے پر سے یعنی دو کروبی فرشتوں کے درمیان سے سنتا تھا۔ c Xاور سلامتی کی قربانی کے لئے 24 بَیل، 60 مینڈھے، 60 بکرے اور بھیڑ کے 60 یک سالہ بچے۔ اِن تمام جانوروں کو قربان گاہ کی مخصوصیت کے موقع پر چڑھایا گیا۔ TfTkاِس کے لئے گناہ سے پاک کرنے والا پانی اُن پر چھڑک کر اُنہیں حکم دینا کہ اپنے جسم کے پورے بال منڈواؤ اور اپنے کپڑے دھوؤ۔ یوں وہ پاک صاف ہو جائیں گے۔jjO”لاویوں کو دیگر اسرائیلیوں سے الگ کر کے پاک صاف کرنا۔*iQرب نے موسیٰ سے کہا،h%شمع دان پائے سے لے کر اوپر کی کلیوں تک سونے کے ایک گھڑے ہوئے ٹکڑے کا بنا ہوا تھا۔ موسیٰ نے اُسے اُس نمونے کے عین مطابق بنوایا جو رب نے اُسے دکھایا تھا۔cgAہارون نے ایسا ہی کیا۔ جس طرح رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا اُسی طرح اُس نے چراغوں کو رکھ دیا تاکہ وہ سامنے والا حصہ روشن کریں۔ (o پھر ہارون لاویوں کو رب کے سامنے پیش کرے۔ اُنہیں اسرائیلیوں کی طرف سے ہلائی ہوئی قربانی کی حیثیت سے پیش کیا جائے تاکہ وہ رب کی خدمت کر سکیں۔n! جب لاوی رب کے سامنے کھڑے ہوں تو باقی اسرائیلی اُن کے سروں پر اپنے ہاتھ رکھیں۔3ma اِس کے بعد لاویوں کو ملاقات کے خیمے کے سامنے کھڑا کر کے اسرائیل کی پوری جماعت کو وہاں جمع کرنا۔l5پھر وہ ایک جوان بَیل چنیں اور ساتھ کی غلہ کی نذر کے لئے تیل کے ساتھ ملایا گیا بہترین میدہ لیں۔ تُو خود بھی ایک جوان بَیل چن۔ وہ گناہ کی قربانی کے لئے ہو گا۔ Y}Y s;اِس کے بعد ہی وہ ملاقات کے خیمے میں آ کر خدمت کریں، کیونکہ اب وہ خدمت کرنے کے لائق ہیں۔ اُنہیں پاک صاف کر کے ہلائی ہوئی قربانی کے طور پر پیش کرنے کا سبب یہ ہےrr_اُنہیں باقی اسرائیلیوں سے الگ کرنے سے وہ میرا حصہ بنیں گے۔Pq لاویوں کو اِس طریقے سے ہارون اور اُس کے بیٹوں کے سامنے کھڑا کر کے رب کو ہلائی ہوئی قربانی کے طور پر پیش کرنا ہے۔6pg پھر لاوی اپنے ہاتھ دونوں بَیلوں کے سروں پر رکھیں۔ ایک بَیل کو گناہ کی قربانی کے طور پر اور دوسرے کو بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر چڑھاؤ تاکہ لاویوں کا کفارہ دیا جائے۔ 22 vاِس سلسلے میں مَیں نے لاویوں کو اسرائیلیوں کے تمام پہلوٹھوں کی جگہ لے کرJuکیونکہ اسرائیل میں ہر پہلوٹھا میرا ہے، خواہ وہ انسان کا ہو یا حیوان کا۔ اُس دن جب مَیں نے مصریوں کے پہلوٹھوں کو مار دیا مَیں نے اسرائیل کے پہلوٹھوں کو اپنے لئے مخصوص و مُقدّس کیا۔mtUکہ لاوی اسرائیلیوں میں سے وہ ہیں جو مجھے پورے طور پر دیئے گئے ہیں۔ مَیں نے اُنہیں اسرائیلیوں کے تمام پہلوٹھوں کی جگہ لے لیا ہے۔ Byلاویوں نے اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف کر کے اپنے کپڑوں کو دھویا۔ پھر ہارون نے اُنہیں رب کے سامنے ہلائی ہوئی قربانی کے طور پر پیش کیا اور اُن کا کفارہ دیا تاکہ وہ پاک ہو جائیں۔:xoموسیٰ، ہارون اور اسرائیلیوں کی پوری جماعت نے احتیاط سے رب کی لاویوں کے بارے میں ہدایات پر عمل کیا۔iwMاُنہیں ہارون اور اُس کے بیٹوں کو دیا ہے۔ وہ ملاقات کے خیمے میں اسرائیلیوں کی خدمت کریں اور اُن کے لئے کفارہ کا انتظام قائم رکھیں تاکہ جب اسرائیلی مقدِس کے قریب آئیں تو اُن کو وبا سے مارا نہ جائے۔“ A7~iاِس کے بعد وہ ملاقات کے خیمے میں اپنے بھائیوں کی مدد کر سکتے ہیں، لیکن خود خدمت نہیں کر سکتے۔ تجھے لاویوں کو اِن ہدایات کے مطابق اُن کی اپنی اپنی ذمہ داریاں دینی ہیں۔“ K}اور 50 سال کی عمر میں ریٹائر ہو جائیں۔w|i”لاوی 25 سال کی عمر میں ملاقات کے خیمے میں اپنی خدمت شروع کریں6{iرب نے موسیٰ سے یہ بھی کہا،z اِس کے بعد لاوی ملاقات کے خیمے میں آئے تاکہ ہارون اور اُس کے بیٹوں کے تحت خدمت کریں۔ یوں سب کچھ ویسا ہی کیا گیا جیسا رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔ `0`9m اور اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ اُنہوں نے عیدِ فسح کو پہلے مہینے کے چودھویں دن سورج کے غروب ہونے کے عین بعد منایا۔ اُنہوں نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔oY چنانچہ موسیٰ نے اسرائیلیوں سے کہا کہ وہ عیدِ فسح منائیں،0[ یعنی اِس مہینے کے چودھویں دن، سورج کے غروب ہونے کے عین بعد۔ اُسے تمام قواعد کے مطابق منانا۔“jO ”لازم ہے کہ اسرائیلی عیدِ فسح کو مقررہ وقت پر منائیں،L  اسرائیلیوں کو مصر سے نکلے ایک سال ہو گیا تھا۔ دوسرے سال کے پہلے مہینے میں رب نے دشتِ سینا میں موسیٰ سے بات کی۔  *Q رب نے موسیٰ سے کہا،Q موسیٰ نے جواب دیا، ”یہاں میرے انتظار میں کھڑے رہو۔ مَیں معلوم کرتا ہوں کہ رب تمہارے بارے میں کیا حکم دیتا ہے۔“W) کہنے لگے، ”ہم نے لاش چھو لی ہے، اِس لئے ناپاک ہیں۔ لیکن ہمیں اِس سبب سے عیدِ فسح کو منانے سے کیوں روکا جائے؟ ہم بھی مقررہ وقت پر باقی اسرائیلیوں کے ساتھ رب کی قربانی پیش کرنا چاہتے ہیں۔“oY لیکن کچھ آدمی ناپاک تھے، کیونکہ اُنہوں نے لاش چھو لی تھی۔ اِس وجہ سے وہ اُس دن عیدِ فسح نہ منا سکے۔ وہ موسیٰ اور ہارون کے پاس آ کر 77_ 9 کھانے میں سے کچھ بھی اگلی صبح تک باقی نہ رہے۔ جانور کی کوئی بھی ہڈی نہ توڑنا۔ منانے والا عیدِ فسح کے پورے فرائض ادا کرے۔( K ایسا شخص اُسے عین ایک ماہ کے بعد منا کر لیلے کے ساتھ بےخمیری روٹی اور کڑوا ساگ پات کھائے۔6g ”اسرائیلیوں کو بتا دینا کہ اگر تم یا تمہاری اولاد میں سے کوئی عیدِ فسح کے دوران لاش چھونے سے ناپاک ہو یا کسی دُوردراز علاقے میں سفر کر رہا ہو، توبھی وہ عید منا سکتا ہے۔ \3\S ! جس دن شریعت کے مُقدّس خیمے کو کھڑا کیا گیا اُس دن بادل آ کر اُس پر چھا گیا۔ رات کے وقت بادل آگ کی صورت میں نظر آیا۔Y - اگر کوئی پردیسی تمہارے درمیان رہتے ہوئے رب کے سامنے عیدِ فسح منانا چاہے تو اُسے اجازت ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ پورے فرائض ادا کرے۔ پردیسی اور دیسی کے لئے عیدِ فسح منانے کے فرائض ایک جیسے ہیں۔“l S لیکن جو پاک ہونے اور سفر نہ کرنے کے باوجود بھی عیدِ فسح کو نہ منائے اُسے اُس کی قوم میں سے مٹایا جائے، کیونکہ اُس نے مقررہ وقت پر رب کو قربانی پیش نہیں کی۔ اُس شخص کو اپنے گناہ کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔  Kz G  کبھی کبھی بادل صرف دو چار دن کے لئے خیمے پر ٹھہرتا۔ پھر وہ رب کے حکم کے مطابق ہی ٹھہرتے اور روانہ ہوتے تھے۔(K کبھی کبھی بادل بڑی دیر تک خیمے پر ٹھہرا رہتا۔ تب اسرائیلی رب کا حکم مان کر روانہ نہ ہوتے۔_9 اسرائیلی رب کے حکم پر روانہ ہوتے اور اُس کے حکم پر ڈیرے ڈالتے۔ جب تک بادل مقدِس پر چھایا رہتا اُس وقت تک وہ وہیں ٹھہرتے۔M جب بھی بادل خیمے پر سے اُٹھتا اسرائیلی روانہ ہو جاتے۔ جہاں بھی بادل اُتر جاتا وہاں اسرائیلی اپنے ڈیرے ڈالتے۔1] اِس کے بعد یہی صورتِ حال رہی کہ بادل اُس پر چھایا رہتا اور رات کے دوران آگ کی صورت میں نظر آتا۔ w~w) Q رب نے موسیٰ سے کہا،W) وہ رب کے حکم پر خیمے لگاتے اور اُس کے حکم پر روانہ ہوتے تھے۔ وہ ویسا ہی کرتے تھے جیسا رب موسیٰ کی معرفت فرماتا تھا۔ dC جب تک بادل مُقدّس خیمے پر چھایا رہتا اُس وقت تک اسرائیلی روانہ نہ ہوتے، چاہے وہ دو دن، ایک ماہ، ایک سال یا اِس سے زیادہ عرصہ مقدِس پر چھایا رہتا۔ لیکن جب وہ اُٹھتا تو اسرائیلی بھی روانہ ہو جاتے۔' کبھی کبھی بادل صرف شام سے لے کر صبح تک خیمے پر ٹھہرتا۔ جب وہ صبح کے وقت اُٹھتا تو اسرائیلی بھی روانہ ہوتے تھے۔ جب بھی بادل اُٹھتا وہ بھی روانہ ہو جاتے۔ 9;|91] اگر اُن کی آواز صرف تھوڑی دیر کے لئے سنائی دے تو مقدِس کے مشرق میں موجود قبیلے روانہ ہو جائیں۔  لیکن اگر ایک ہی بجایا جائے تو صرف کنبوں کے بزرگ تیرے سامنے جمع ہو جائیں۔;q جب دونوں کو دیر تک بجایا جائے تو پوری جماعت ملاقات کے خیمے کے دروازے پر آ کر تیرے سامنے جمع ہو جائے۔A} ”چاندی کے دو بِگل گھڑ کر بنوا لے۔ اُنہیں جماعت کو جمع کرنے اور قبیلوں کو روانہ کرنے کے لئے استعمال کر۔ ((R بِگل بجانے کی ذمہ داری ہارون کے بیٹوں یعنی اماموں کو دی جائے۔ یہ تمہارے اور آنے والی نسلوں کے لئے دائمی اصول ہو۔7i اِس کے مقابلے میں جب اُن کی آواز دیر تک سنائی دے تو یہ اِس بات کا اعلان ہو گا کہ جماعت جمع ہو جائے۔C پھر جب اُن کی آواز دوسری بار تھوڑی دیر کے لئے سنائی دے تو مقدِس کے جنوب میں موجود قبیلے روانہ ہو جائیں۔ جب اُن کی آواز تھوڑی دیر کے لئے سنائی دے تو یہ روانہ ہونے کا اعلان ہو گا۔ 99U % اسرائیلیوں کو مصر سے نکلے ایک سال سے زائد عرصہ ہو چکا تھا۔ دوسرے سال کے بیسویں دن بادل ملاقات کے خیمے پر سے اُٹھا۔E اِسی طرح اُن کی آواز مقدِس میں خوشی کے موقعوں پر سنائی دے یعنی مقررہ عیدوں اور نئے چاند کی عیدوں پر۔ اِن موقعوں پر وہ بھسم ہونے والی قربانیاں اور سلامتی کی قربانیاں چڑھاتے وقت بجائے جائیں۔ پھر تمہارا خدا تمہیں یاد کرے گا۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔“!= اُن کی آواز اُس وقت بھی تھوڑی دیر کے لئے سنا دو جب تم اپنے ملک میں کسی ظالم دشمن سے جنگ لڑنے کے لئے نکلو گے۔ تب رب تمہارا خدا تمہیں یاد کر کے دشمن سے بچائے گا۔ S6iS&' اِس کے بعد ملاقات کا خیمہ اُتارا گیا۔ جیرسونی اور مراری اُسے اُٹھا کر چل دیئے۔y%m زبولون کا قبیلہ بھی ساتھ چلا جس کا کمانڈر اِلیاب بن حیلون تھا۔t$c ساتھ چلنے والے قبیلے اِشکار کا کمانڈر نتنی ایل بن ضُغر تھا۔5#e پہلے یہوداہ کے قبیلے کے تین دستے اپنے علَم کے تحت چل پڑے۔ تینوں کا کمانڈر نحسون بن عمی نداب تھا۔"- اُس وقت وہ پہلی دفعہ اُس ترتیب سے روانہ ہوئے جو رب نے موسیٰ کی معرفت مقرر کی تھی۔F! پھر اسرائیلی مقررہ ترتیب کے مطابق دشتِ سینا سے روانہ ہوئے۔ چلتے چلتے بادل فاران کے ریگستان میں اُتر آیا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%/:EP[fq|                                                                                                               !  "  #  $                                          {0:A{B+ اِس کے بعد افرائیم کے قبیلے کے تین دستے اپنے علَم کے تحت چل دیئے۔ اُن کا کمانڈر اِلی سمع بن عمی ہود تھا۔u*e پھر لاویوں میں سے قہاتی مقدِس کا سامان اُٹھا کر روانہ ہوئے۔ لازم تھا کہ اُن کے اگلی منزل پر پہنچنے تک ملاقات کا خیمہ لگا دیا گیا ہو۔u)e جد کا قبیلہ بھی ساتھ چلا جس کا کمانڈر اِلیاسف بن رعوایل تھا۔{(q ساتھ چلنے والے قبیلے شمعون کا کمانڈر سلومی ایل بن صوری شدی تھا۔L' اِن لاویوں کے بعد روبن کے قبیلے کے تین دستے اپنے علَم کے تحت چلنے لگے۔ تینوں کا کمانڈر اِلی صور بن شدیور تھا۔ o%H1  اسرائیلی اِسی ترتیب سے روانہ ہوئے۔w0i نفتالی کا قبیلہ بھی ساتھ چلا جس کا کمانڈر اخیرع بن عینان تھا۔|/s دان کے ساتھ چلنے والے قبیلے آشر کا کمانڈر فجعی ایل بن عکران تھا۔P. آخر میں دان کے تین دستے عقبی محافظ کے طور پر اپنے علَم کے تحت روانہ ہوئے۔ اُن کا کمانڈر اخی عزر بن عمی شدّی تھا۔z-o بن یمین کا قبیلہ بھی ساتھ چلا جس کا کمانڈر ابدان بن جدعونی تھا۔ , افرائیم کے ساتھ چلنے والے قبیلے منسّی کا کمانڈر جملی ایل بن فدا ہصور تھا۔ nbn*4O موسیٰ نے کہا، ”مہربانی کر کے ہمیں نہ چھوڑیں۔ کیونکہ آپ ہی جانتے ہیں کہ ہم ریگستان میں کہاں کہاں اپنے ڈیرے ڈال سکتے ہیں۔ آپ ریگستان میں ہمیں راستہ دکھا سکتے ہیں۔B3 لیکن حوباب نے جواب دیا، ”مَیں ساتھ نہیں جاؤں گا بلکہ اپنے ملک اور رشتے داروں کے پاس واپس چلا جاؤں گا۔“2/ موسیٰ نے اپنے مِدیانی سُسر رعوایل یعنی یترو کے بیٹے حوباب سے کہا، ”ہم اُس جگہ کے لئے روانہ ہو رہے ہیں جس کا وعدہ رب نے ہم سے کیا ہے۔ ہمارے ساتھ چلیں! ہم آپ پر احسان کریں گے، کیونکہ رب نے اسرائیل پر احسان کرنے کا وعدہ کیا ہے۔“ )`J)+9Q $اور جب بھی وہ رُک جاتا تو موسیٰ کہتا، ”اے رب، اسرائیل کے ہزاروں خاندانوں کے پاس واپس آ۔“ s8a #صندوق کے روانہ ہوتے وقت موسیٰ کہتا، ”اے رب، اُٹھ۔ تیرے دشمن تتر بتر ہو جائیں۔ تجھ سے نفرت کرنے والے تیرے سامنے سے فرار ہو جائیں۔“x7k "جب کبھی وہ روانہ ہوتے تو رب کا بادل دن کے وقت اُن کے اوپر رہتا۔6 !چنانچہ اُنہوں نے رب کے پہاڑ سے روانہ ہو کر تین دن سفر کیا۔ اِس دوران رب کا عہد کا صندوق اُن کے آگے آگے چلا تاکہ اُن کے لئے آرام کرنے کی جگہ معلوم کرے۔53 اگر آپ ہمارے ساتھ جائیں تو ہم آپ کو اُس احسان میں شریک کریں گے جو رب ہم پر کرے گا۔“ 1 =  اسرائیلیوں کے ساتھ جو اجنبی سفر کر رہے تھے وہ گوشت کھانے کی شدید آرزو کرنے لگے۔ تب اسرائیلی بھی رو پڑے اور کہنے لگے، ”کون ہمیں گوشت کھلائے گا؟<9 اُس مقام کا نام تعبیرہ یعنی جلنا پڑ گیا، کیونکہ رب کی آگ اُن کے درمیان جل اُٹھی تھی۔;/ لوگ مدد کے لئے موسیٰ کے پاس آ کر چلّانے لگے تو اُس نے رب سے دعا کی، اور آگ بجھ گئی۔-: W ایک دن لوگ خوب شکایت کرنے لگے۔ جب یہ شکایتیں رب تک پہنچیں تو اُسے غصہ آیا اور اُس کی آگ اُن کے درمیان بھڑک اُٹھی۔ جلتے جلتے اُس نے خیمہ گاہ کا ایک کنارہ بھسم کر دیا۔ HA&HZA/ رات کے وقت وہ خیمہ گاہ میں اوس کے ساتھ زمین پر گرتا تھا۔ صبح کے وقت لوگ اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے ہوئے اُسے جمع کرتے تھے۔ پھر وہ اُسے چکّی میں پیس کر یا اُکھلی میں کوٹ کر اُبالتے یا روٹی بناتے تھے۔ اُس کا ذائقہ ایسی روٹی کا سا تھا جس میں زیتون کا تیل ڈالا گیا ہو۔ @ من دھنئے کے دانوں کی مانند تھا، اور اُس کا رنگ گُوگل کے گوند کی مانند تھا۔? لیکن اب تو ہماری جان سوکھ گئی ہے۔ یہاں بس مَن ہی مَن نظر آتا رہتا ہے۔“;>q مصر میں ہم مچھلی مفت کھا سکتے تھے۔ ہائے، وہاں کے کھیرے، تربوز، گَندنے، پیاز اور لہسن کتنے اچھے تھے! +"S+$DC اُس نے رب سے پوچھا، ”تُو نے اپنے خادم کے ساتھ اِتنا بُرا سلوک کیوں کیا؟ مَیں نے کس کام سے تجھے اِتنا ناراض کیا کہ تُو نے اِن تمام لوگوں کا بوجھ مجھ پر ڈال دیا؟KC تمام خاندان اپنے اپنے خیمے کے دروازے پر رونے لگے تو رب کو شدید غصہ آیا۔ اُن کا شور موسیٰ کو بھی بہت بُرا لگا۔ZB/ رات کے وقت وہ خیمہ گاہ میں اوس کے ساتھ زمین پر گرتا تھا۔ صبح کے وقت لوگ اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے ہوئے اُسے جمع کرتے تھے۔ پھر وہ اُسے چکّی میں پیس کر یا اُکھلی میں کوٹ کر اُبالتے یا روٹی بناتے تھے۔ اُس کا ذائقہ ایسی روٹی کا سا تھا جس میں زیتون کا تیل ڈالا گیا ہو۔ 0Y0G[ مَیں اکیلا اِن تمام لوگوں کی ذمہ داری نہیں اُٹھا سکتا۔ یہ بوجھ میرے لئے حد سے زیادہ بھاری ہے۔SF! اے اللہ، مَیں اِن تمام لوگوں کو کہاں سے گوشت مہیا کروں؟ وہ میرے سامنے روتے رہتے ہیں کہ ہمیں کھانے کے لئے گوشت دو۔LE کیا مَیں نے حاملہ ہو کر اِس پوری قوم کو جنم دیا کہ تُو مجھ سے کہتا ہے، ’اِسے اُس طرح اُٹھا کر لے چلنا جس طرح آیا شیرخوار بچے کو اُٹھا کر ہر جگہ ساتھ لئے پھرتی ہے۔ اِسی طرح اِسے اُس ملک میں لے جانا جس کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اِن کے باپ دادا سے کیا ہے۔‘ 0N0J تو مَیں اُتر کر تیرے ساتھ ہم کلام ہوں گا۔ اُس وقت مَیں اُس روح میں سے کچھ لوں گا جو مَیں نے تجھ پر نازل کیا تھا اور اُسے اُن پر نازل کروں گا۔ تب وہ قوم کا بوجھ اُٹھانے میں تیری مدد کریں گے اور تُو اِس میں اکیلا نہیں رہے گا۔I جواب میں رب نے موسیٰ سے کہا، ”میرے پاس اسرائیل کے 70 بزرگ جمع کر۔ صرف ایسے لوگ چن جن کے بارے میں تجھے معلوم ہے کہ وہ لوگوں کے بزرگ اور نگہبان ہیں۔ اُنہیں ملاقات کے خیمے کے پاس لے آ۔ وہاں وہ تیرے ساتھ کھڑے ہو جائیں،.HW اگر تُو اِس پر اصرار کرے تو پھر بہتر ہے کہ ابھی مجھے مار دے تاکہ مَیں اپنی تباہی نہ دیکھوں۔“ O{OM! تم ایک پورا مہینہ خوب گوشت کھاؤ گے، یہاں تک کہ وہ تمہاری ناک سے نکلے گا اور تمہیں اُس سے گھن آئے گی۔ اور یہ اِس سبب سے ہو گا کہ تم نے رب کو جو تمہارے درمیان ہے رد کیا اور روتے روتے اُس کے سامنے کہا کہ ہم کیوں مصر سے نکلے‘۔“L تم اُسے نہ صرف ایک، دو یا پانچ دن کھاؤ گے بلکہ 10 یا 20 دن سے بھی زیادہ عرصے تک۔K} لوگوں کو بتانا، ’اپنے آپ کو مخصوص و مُقدّس کرو، کیونکہ کل تم گوشت کھاؤ گے۔ رب نے تمہاری سنی جب تم رو پڑے کہ کون ہمیں گوشت کھلائے گا، مصر میں ہماری حالت بہتر تھی۔ اب رب تمہیں گوشت مہیا کرے گا اور تم اُسے کھاؤ گے۔ BSB Q چنانچہ موسیٰ نے وہاں سے نکل کر لوگوں کو رب کی یہ باتیں بتائیں۔ اُس نے اُن کے بزرگوں میں سے 70 کو چن کر اُنہیں ملاقات کے خیمے کے ارد گرد کھڑا کر دیا۔*PO رب نے کہا، ”کیا رب کا اختیار کم ہے؟ اب تُو خود دیکھ لے گا کہ میری باتیں درست ہیں کہ نہیں۔“O کیا گائےبَیلوں یا بھیڑبکریوں کو اِتنی مقدار میں ذبح کیا جا سکتا ہے کہ کافی ہو؟ اگر سمندر کی تمام مچھلیاں اُن کے لئے پکڑی جائیں تو کیا کافی ہوں گی؟“eNE لیکن موسیٰ نے اعتراض کیا، ”اگر قوم کے پیدل چلنے والے گنے جائیں تو چھ لاکھ ہیں۔ تُو کس طرح ہمیں ایک ماہ تک گوشت مہیا کرے گا؟ $$9Tm ایک نوجوان بھاگ کر موسیٰ کے پاس آیا اور کہا، ”اِلداد اور میداد خیمہ گاہ میں ہی نبوّت کر رہے ہیں۔“-SU اب ایسا ہوا کہ اِن ستر بزرگوں میں سے دو خیمہ گاہ میں رہ گئے تھے۔ اُن کے نام اِلداد اور میداد تھے۔ اُنہیں چنا تو گیا تھا لیکن وہ ملاقات کے خیمے کے پاس نہیں آئے تھے۔ اِس کے باوجود روح اُن پر بھی نازل ہوا اور وہ خیمہ گاہ میں نبوّت کرنے لگے۔jRO تب رب بادل میں اُتر کر موسیٰ سے ہم کلام ہوا۔ جو روح اُس نے موسیٰ پر نازل کیا تھا اُس میں سے اُس نے کچھ لے کر اُن 70 بزرگوں پر نازل کیا۔ جب روح اُن پر آیا تو وہ نبوّت کرنے لگے۔ لیکن ایسا پھر کبھی نہ ہوا۔ SglXS تب رب کی طرف سے زوردار ہَوا چلنے لگی جس نے سمندر کو پار کرنے والے بٹیروں کے غول دھکیل کر خیمہ گاہ کے ارد گرد زمین پر پھینک دیئے۔ اُن کے غول تین فٹ اونچے اور خیمہ گاہ کے چاروں طرف 30 کلو میٹر تک پڑے رہے۔gWI پھر موسیٰ اور اسرائیل کے بزرگ خیمہ گاہ میں واپس آئے۔hVK لیکن موسیٰ نے جواب دیا، ”کیا تُو میری خاطر غیرت کھا رہا ہے؟ کاش رب کے تمام لوگ نبی ہوتے اور وہ اُن سب پر اپنا روح نازل کرتا!“)UM یشوع بن نون جو جوانی سے موسیٰ کا مددگار تھا بول اُٹھا، ”موسیٰ میرے آقا، اُنہیں روک دیں!“ 11$\C #اِس کے بعد اسرائیلی قبروت ہتاوہ سے روانہ ہو کر حصیرات پہنچ گئے۔ وہاں وہ خیمہ زن ہوئے۔ }[u "چنانچہ مقام کا نام قبروت ہتاوہ یعنی ’لالچ کی قبریں‘ رکھا گیا، کیونکہ وہاں اُنہوں نے اُن لوگوں کو دفن کیا جو گوشت کے لالچ میں آ گئے تھے۔BZ !لیکن گوشت کے پہلے ٹکڑے ابھی منہ میں تھے کہ رب کا غضب اُن پر آن پڑا، اور اُس نے اُن میں سخت وبا پھیلنے دی۔\Y3 اُس پورے دن اور رات اور اگلے پورے دن لوگ نکل کر بٹیریں جمع کرتے رہے۔ ہر ایک نے کم از کم دس بڑی ٹوکریاں بھر لیں۔ پھر اُنہوں نے اُن کا گوشت خیمے کے ارد گرد زمین پر پھیلا دیا تاکہ وہ خشک ہو جائے۔ +<Z+Ta# تب رب بادل کے ستون میں اُتر کر ملاقات کے خیمے کے دروازے پر کھڑا ہوا۔ اُس نے ہارون اور مریم کو بُلایا تو دونوں آئے۔S`! اچانک رب موسیٰ، ہارون اور مریم سے مخاطب ہوا، ”تم تینوں باہر نکل کر ملاقات کے خیمے کے پاس آؤ۔“ تینوں وہاں پہنچے۔}_u لیکن موسیٰ نہایت حلیم تھا۔ دنیا میں اُس جیسا حلیم کوئی نہیں تھا۔^^7 اُنہوں نے پوچھا، ”کیا رب صرف موسیٰ کی معرفت بات کرتا ہے؟ کیا اُس نے ہم سے بھی بات نہیں کی؟“ رب نے اُن کی یہ باتیں سنیں۔@] } ایک دن مریم اور ہارون موسیٰ کے خلاف باتیں کرنے لگے۔ وجہ یہ تھی کہ اُس نے کوش کی ایک عورت سے شادی کی تھی۔ [Oe رب کا غضب اُن پر آن پڑا، اور وہ چلا گیا۔Ed اُس سے مَیں رُوبرُو ہم کلام ہوتا ہوں۔ اُس سے مَیں معموں کے ذریعے نہیں بلکہ صاف صاف بات کرتا ہوں۔ وہ رب کی صورت دیکھتا ہے۔ تو پھر تم میرے خادم کے خلاف باتیں کرنے سے کیوں نہ ڈرے؟“c3 لیکن میرے خادم موسیٰ کی اَور بات ہے۔ اُسے مَیں نے اپنے پورے گھرانے پر مقرر کیا ہے۔b} اُس نے کہا، ”میری بات سنو۔ جب تمہارے درمیان نبی ہوتا ہے تو مَیں اپنے آپ کو رویا میں اُس پر ظاہر کرتا ہوں یا خواب میں اُس سے مخاطب ہوتا ہوں۔ -Vi تب موسیٰ نے پکار کر رب سے کہا، ”اے اللہ، مہربانی کر کے اُسے شفا دے۔“Sh! مریم کو اِس حالت میں نہ چھوڑیں۔ وہ تو ایسے بچے کی مانند ہے جو مُردہ پیدا ہوا ہو، جس کے جسم کا آدھا حصہ گل چکا ہو۔“Gg  اور موسیٰ سے کہا، ”میرے آقا، مہربانی کر کے ہمیں اِس گناہ کی سزا نہ دیں جو ہماری حماقت کے باعث سرزد ہوا ہے۔f جب بادل کا ستون خیمے سے دُور ہوا تو مریم کی جِلد برف کی مانند سفید تھی۔ وہ کوڑھ کا شکار ہو گئی تھی۔ ہارون اُس کی طرف مُڑا تو اُس کی حالت دیکھی E  "-8CNYdoz)4?JU_ju%0;FQ\gr}                                          !  "  #                                                                                                    !        0m _ پھر رب نے موسیٰ سے کہا، l; جب وہ واپس آئی تو اسرائیلی حصیرات سے روانہ ہو کر فاران کے ریگستان میں خیمہ زن ہوئے۔ okY چنانچہ مریم کو ایک ہفتے کے لئے خیمہ گاہ کے باہر بند رکھا گیا۔ لوگ اُس وقت تک سفر کے لئے روانہ نہ ہوئے جب تک اُسے واپس نہ لایا گیا۔bj? رب نے جواب میں موسیٰ سے کہا، ”اگر مریم کا باپ اُس کے منہ پر تھوکتا تو کیا وہ پورے ہفتے تک شرم محسوس نہ کرتی؟ اُسے ایک ہفتے کے لئے خیمہ گاہ کے باہر بند رکھ۔ اِس کے بعد اُسے واپس لایا جا سکتا ہے۔“ Rct,RHv  زبولون کے قبیلے سے جدی ایل بن سودی،Du بن یمین کے قبیلے سے فلتی بن رفُو،Et افرائیم کے قبیلے سے ہوسیع بن نون،Es اِشکار کے قبیلے سے اِجال بن یوسف،Gr  یہوداہ کے قبیلے سے کالب بن یفُنّہ،@q} شمعون کے قبیلے سے سافط بن حوری،_p9 اُن کے نام یہ ہیں: روبن کے قبیلے سے سموع بن زکور،o موسیٰ نے رب کے کہنے پر اُنہیں دشتِ فاران سے بھیجا۔ سب اسرائیلی راہنما تھے۔n ”کچھ آدمی ملکِ کنعان کا جائزہ لینے کے لئے بھیج دے، کیونکہ مَیں اُسے اسرائیلیوں کو دینے کو ہوں۔ ہر قبیلے میں سے ایک راہنما کو چن کر بھیج دے۔“ 4\4V~' معلوم کرو کہ یہ کس طرح کا ملک ہے اور اُس کے باشندے کیسے ہیں۔ کیا وہ طاقت ور ہیں یا کمزور، تعداد میں کم ہیں یا زیادہ؟}+ اُنہیں رُخصت کرنے سے پہلے اُس نے کہا، ”دشتِ نجب سے گزر کر پہاڑی علاقے تک پہنچو۔]|5 موسیٰ نے اِن ہی بارہ آدمیوں کو ملک کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا۔ اُس نے ہوسیع کا نام یشوع یعنی ’رب نجات ہے‘ میں بدل دیا۔@{} جد کے قبیلے سے جیُوایل بن ماکی۔Ez نفتالی کے قبیلے سے نخبی بن وُفسی،Cy آشر کے قبیلے سے ستور بن میکائیل،Dx دان کے قبیلے سے عمی ایل بن جملّی،Zw/ یوسف کے بیٹے منسّی کے قبیلے سے جَدی بن سُوسی، q'4q  وہ دشتِ نجب سے گزر کر حبرون پہنچے جہاں عناق کے بیٹے اخی مان، سیسی اور تلمی رہتے تھے۔ (حبرون کو مصر کے شہر ضُعن سے سات سال پہلے تعمیر کیا گیا تھا)۔0[ چنانچہ اِن آدمیوں نے سفر کر کے دشتِ صین سے رحوب تک ملک کا جائزہ لیا۔ رحوب لبو حمات کے قریب ہے۔oY ملک کی زمین زرخیز ہے یا بنجر؟ اُس میں درخت ہیں کہ نہیں؟ اور جرٲت کر کے ملک کا کچھ پھل چن کر لے آؤ۔“ اُس وقت پہلے انگور پک گئے تھے۔U% جس ملک میں وہ بستے ہیں کیا وہ اچھا ہے کہ نہیں؟ وہ کس قسم کے شہروں میں رہتے ہیں؟ کیا اُن کی چاردیواریاں ہیں کہ نہیں؟ ..q] وہ موسیٰ، ہارون اور اسرائیل کی پوری جماعت کے پاس آئے جو دشتِ فاران میں قادس کی جگہ پر انتظار کر رہے تھے۔ وہاں اُنہوں نے سب کچھ بتایا جو اُنہوں نے معلوم کیا تھا اور اُنہیں وہ پھل دکھائے جو لے کر آئے تھے۔]5 چالیس دن تک ملک کا کھوج لگاتے لگاتے وہ لوٹ آئے۔1] اُس جگہ کا نام اُس گُچھے کے سبب سے جو اسرائیلیوں نے وہاں سے کاٹ لیا اِسکال یعنی گچھا رکھا گیا۔D جب وہ وادیِ اِسکال تک پہنچے تو اُنہوں نے ایک ڈالی کاٹ لی جس پر انگور کا گچھا لگا ہوا تھا۔ دو آدمیوں نے یہ انگور، کچھ انار اور کچھ انجیر لاٹھی پر لٹکائے اور اُسے اُٹھا کر چل پڑے۔   عمالیقی دشتِ نجب میں رہتے ہیں جبکہ حِتّی، یبوسی اور اموری پہاڑی علاقے میں آباد ہیں۔ کنعانی ساحلی علاقے اور دریائے یردن کے کنارے کنارے بستے ہیں۔“Z/ لیکن اُس کے باشندے طاقت ور ہیں۔ اُن کے شہروں کی فصیلیں ہیں، اور وہ نہایت بڑے ہیں۔ ہم نے وہاں عناق کی اولاد بھی دیکھی۔!= اُنہوں نے موسیٰ کو رپورٹ دی، ”ہم اُس ملک میں گئے جہاں آپ نے ہمیں بھیجا تھا۔ واقعی اُس ملک میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔ یہاں ہمارے پاس اُس کے کچھ پھل بھی ہیں۔ o Y لیکن دوسرے آدمیوں نے جو اُس کے ساتھ ملک کو دیکھنے گئے تھے کہا، ”ہم اُن لوگوں پر حملہ نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ ہم سے طاقت ور ہیں۔“O  کالب نے موسیٰ کے سامنے جمع شدہ لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ خاموش ہو جائیں۔ پھر اُس نے کہا، ”آئیں، ہم ملک میں داخل ہو جائیں اور اُس پر قبضہ کر لیں، کیونکہ ہم یقیناً یہ کرنے کے قابل ہیں۔“ L2U 'اُس رات تمام لوگ چیخیں مار مار کر روتے رہے۔ ' !ہم نے وہاں دیو بھی دیکھے۔ (عناق کے بیٹے دیوؤں کی اولاد تھے)۔ اُن کے سامنے ہم اپنے آپ کو ٹڈی جیسا محسوس کر رہے تھے، اور ہم اُن کی نظر میں ایسے تھے بھی۔“ 0 [ اُنہوں نے اسرائیلیوں کے درمیان اُس ملک کے بارے میں غلط افواہیں پھیلائیں جس کی تفتیش اُنہوں نے کی تھی۔ اُنہوں نے کہا، ”جس ملک میں سے ہم گزرے تاکہ اُس کا جائزہ لیں وہ اپنے باشندوں کو ہڑپ کر لیتا ہے۔ جو بھی اُس میں رہتا ہے نہایت درازقد ہے۔ H0HPلیکن یشوع بن نون اور کالب بن یفُنّہ باقی دس جاسوسوں سے فرق تھے۔ پریشانی کے عالم میں اُنہوں نے اپنے کپڑے پھاڑ کرhKتب موسیٰ اور ہارون پوری جماعت کے سامنے منہ کے بل گرے۔ اُنہوں نے ایک دوسرے سے کہا، ”آؤ، ہم راہنما چن کر مصر واپس چلے جائیں۔“/رب ہمیں کیوں اُس ملک میں لے جا رہا ہے؟ کیا اِس لئے کہ دشمن ہمیں تلوار سے قتل کرے اور ہمارے بال بچوں کو لُوٹ لے؟ کیا بہتر نہیں ہو گا کہ ہم مصر واپس جائیں؟“Lسب موسیٰ اور ہارون کے خلاف بڑبڑانے لگے۔ پوری جماعت نے اُن سے کہا، ”کاش ہم مصر یا اِس ریگستان میں مر گئے ہوتے! MYXM  یہ سن کر پوری جماعت اُنہیں سنگسار کرنے کے لئے تیار ہوئی۔ لیکن اچانک رب کا جلال ملاقات کے خیمے پر ظاہر ہوا، اور تمام اسرائیلیوں نے اُسے دیکھا۔$C رب سے بغاوت مت کرنا۔ اُس ملک کے رہنے والوں سے نہ ڈریں۔ ہم اُنہیں ہڑپ کر جائیں گے۔ اُن کی پناہ اُن سے جاتی رہی ہے جبکہ رب ہمارے ساتھ ہے۔ چنانچہ اُن سے مت ڈریں۔“U%اگر رب ہم سے خوش ہے تو وہ ضرور ہمیں اُس ملک میں لے جائے گا جس میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔ وہ ہمیں ضرور یہ ملک دے گا۔#Aپوری جماعت سے کہا، ”جس ملک میں سے ہم گزرے اور جس کی تفتیش ہم نے کی وہ نہایت ہی اچھا ہے۔ cA لیکن موسیٰ نے رب سے کہا، ”پھر مصری یہ سن لیں گے! کیونکہ تُو نے اپنی قدرت سے اِن لوگوں کو مصر سے نکال کر یہاں تک پہنچایا ہے۔  مَیں اُنہیں وبا سے مار ڈالوں گا اور اُنہیں رُوئے زمین پر سے مٹا دوں گا۔ اُن کی جگہ مَیں تجھ سے ایک قوم بناؤں گا جو اُن سے بڑی اور طاقت ور ہو گی۔“ رب نے موسیٰ سے کہا، ”یہ لوگ مجھے کب تک حقیر جانیں گے؟ وہ کب تک مجھ پر ایمان رکھنے سے انکار کریں گے اگرچہ مَیں نے اُن کے درمیان اِتنے معجزے کئے ہیں؟ 5’رب اِن لوگوں کو اُس ملک میں لے جانے کے قابل نہیں تھا جس کا وعدہ اُس نے اُن سے قَسم کھا کر کیا تھا۔ اِسی لئے اُس نے اُنہیں ریگستان میں ہلاک کر دیا۔‘ اگر تُو ایک دم اِس پوری قوم کو تباہ کر ڈالے تو باقی قومیں یہ سن کر کہیں گی،G مصری یہ بات کنعان کے باشندوں کو بتائیں گے۔ یہ لوگ پہلے سے سن چکے ہیں کہ رب اِس قوم کے ساتھ ہے، کہ تجھے رُوبرُو دیکھا جاتا ہے، کہ تیرا بادل اُن کے اوپر ٹھہرا رہتا ہے، اور کہ تُو دن کے وقت بادل کے ستون میں اور رات کو آگ کے ستون میں اِن کے آگے آگے چلتا ہے۔ {n{u!eرب نے جواب دیا، ”تیرے کہنے پر مَیں نے اُنہیں معاف کر دیا ہے۔w iاِن لوگوں کا قصور اپنی عظیم شفقت کے مطابق معاف کر۔ اُنہیں اُس طرح معاف کر جس طرح تُو اُنہیں مصر سے نکلتے وقت اب تک معاف کرتا رہا ہے۔“|s’رب تحمل اور شفقت سے بھرپور ہے۔ وہ گناہ اور نافرمانی معاف کرتا ہے، لیکن ہر ایک کو اُس کی مناسب سزا بھی دیتا ہے۔ جب والدین گناہ کریں تو اُن کی اولاد کو بھی تیسری اور چوتھی پشت تک سزا کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔‘اے رب، اب اپنی قدرت یوں ظاہر کر جس طرح تُو نے فرمایا ہے۔ کیونکہ تُو نے کہا، ]$9اُن میں سے ایک بھی اُس ملک کو نہیں دیکھے گا جس کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اُن کے باپ دادا سے کیا تھا۔ جس نے بھی مجھے حقیر جانا ہے وہ کبھی اُسے نہیں دیکھے گا۔k#Qاِن لوگوں میں سے کوئی بھی اُس ملک میں داخل نہیں ہو گا۔ اُنہوں نے میرا جلال اور میرے معجزے دیکھے ہیں جو مَیں نے مصر اور ریگستان میں کر دکھائے ہیں۔ توبھی اُنہوں نے دس دفعہ مجھے آزمایا اور میری نہ سنی۔"9اِس کے باوجود میری حیات کی قَسم اور میرے جلال کی قَسم جو پوری دنیا کو معمور کرتا ہے، l(7”یہ شریر جماعت کب تک میرے خلاف بڑبڑاتی رہے گی؟ اُن کے گلے شکوے مجھ تک پہنچ گئے ہیں۔<'uرب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا،&yلیکن فی الحال عمالیقی اور کنعانی اُس کی وادیوں میں آباد رہیں گے۔ چنانچہ کل مُڑ کر واپس چلو۔ ریگستان میں بحرِ قُلزم کی طرف روانہ ہو جاؤ۔“N%صرف میرا خادم کالب مختلف ہے۔ اُس کی روح فرق ہے۔ وہ پورے دل سے میری پیروی کرتا ہے، اِس لئے مَیں اُسے اُس ملک میں لے جاؤں گا جس میں اُس نے سفر کیا ہے۔ اُس کی اولاد ملک میراث میں پائے گی۔ +!-+M,تم نے کہا تھا کہ دشمن ہمارے بچوں کو لُوٹ لیں گے۔ لیکن اُن ہی کو مَیں اُس ملک میں لے جاؤں گا جسے تم نے رد کیا ہے۔-+Uگو مَیں نے ہاتھ اُٹھا کر قَسم کھائی تھی کہ مَیں تجھے اُس میں بساؤں گا تم میں سے کوئی بھی اُس ملک میں داخل نہیں ہو گا۔ صرف کالب بن یفُنّہ اور یشوع بن نون داخل ہوں گے۔p*[تم اِس ریگستان میں مر کر یہیں پڑے رہو گے، ہر ایک جو 20 سال یا اِس سے زائد کا ہے، جو مردم شماری میں گنا گیا اور جو میرے خلاف بڑبڑایا۔[)1اِس لئے اُنہیں بتاؤ، ’رب فرماتا ہے کہ میری حیات کی قَسم، مَیں تمہارے ساتھ وہی کچھ کروں گا جو تم نے میرے سامنے کہا ہے۔  uU D/"تم نے چالیس دن کے دوران اُس ملک کا جائزہ لیا۔ اب تمہیں چالیس سال تک اپنے گناہوں کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ تب تمہیں پتا چلے گا کہ اِس کا کیا مطلب ہے کہ مَیں تمہاری مخالفت کرتا ہوں۔.3!تمہارے بچے 40 سال تک یہاں ریگستان میں گلہ بان ہوں گے۔ اُنہیں تمہاری بےوفائی کے سبب سے اُس وقت تک تکلیف اُٹھانی پڑے گی جب تک تم میں سے آخری شخص مر نہ گیا ہو۔-  لیکن تم خود داخل نہیں ہو گے۔ تمہاری لاشیں اِس ریگستان میں پڑی رہیں گی۔ E   +6ALWbmx(3>IT_ju$/:EP[fq|                                ! " # $ % & ' ( ) * + ,  - !. "/ #0 $1 %2 &3 '4 (5 )6 *7 +8 ,9 -:  ; < = > ? @ A B  C  D  E  F  G H I J K L M N O P Q R S T U V W X Y VV.2W%جن آدمیوں کو موسیٰ نے ملک کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا تھا، رب نے اُنہیں فوراً مہلک وبا سے مار ڈالا، کیونکہ اُن کے غلط افواہیں پھیلانے سے پوری جماعت بڑبڑانے لگی تھی۔.1W$جن آدمیوں کو موسیٰ نے ملک کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا تھا، رب نے اُنہیں فوراً مہلک وبا سے مار ڈالا، کیونکہ اُن کے غلط افواہیں پھیلانے سے پوری جماعت بڑبڑانے لگی تھی۔B0#مَیں، رب نے یہ بات فرمائی ہے۔ مَیں یقیناً یہ سب کچھ اُس ساری شریر جماعت کے ساتھ کروں گا جس نے مل کر میری مخالفت کی ہے۔ اِسی ریگستان میں وہ ختم ہو جائیں گے، یہیں مر جائیں گے‘۔“ D7#*وہاں نہ جاؤ، کیونکہ رب تمہارے ساتھ نہیں ہے۔ تم دشمنوں کے ہاتھوں شکست کھاؤ گے،6)لیکن موسیٰ نے کہا، ”تم کیوں رب کی خلاف ورزی کر رہے ہو؟ تم کامیاب نہیں ہو گے۔:5o(اگلی صبح سویرے وہ اُٹھے اور یہ کہتے ہوئے اونچے پہاڑی علاقے کے لئے روانہ ہوئے کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے، لیکن اب ہم حاضر ہیں اور اُس جگہ کی طرف جا رہے ہیں جس کا ذکر رب نے کیا ہے۔ 4'جب موسیٰ نے رب کی یہ باتیں اسرائیلیوں کو بتائیں تو وہ خوب ماتم کرنے لگے۔X3+&صرف یشوع بن نون اور کالب بن یفُنّہ زندہ رہے۔ FF <”اسرائیلیوں کو بتانا کہ جب تم اُس ملک میں داخل ہو گے جو مَیں تمہیں دوں گا); Qرب نے موسیٰ سے کہا،X:+-پھر اُس پہاڑی علاقے میں رہنے والے عمالیقی اور کنعانی اُن پر آن پڑے اور اُنہیں مارتے مارتے حُرمہ تک تتر بتر کر دیا۔ j9O,توبھی وہ اپنے غرور میں جرٲت کر کے اونچے پہاڑی علاقے کی طرف بڑھے، حالانکہ نہ موسیٰ اور نہ عہد کے صندوق ہی نے خیمہ گاہ کو چھوڑا۔08[+کیونکہ وہاں عمالیقی اور کنعانی تمہارا سامنا کریں گے۔ چونکہ تم نے اپنا منہ رب سے پھیر لیا ہے اِس لئے وہ تمہارے ساتھ نہیں ہو گا، اور دشمن تمہیں تلوار سے مار ڈالے گا۔“ f=Gتو جلنے والی قربانیاں یوں پیش کرنا: اگر تم اپنے گائےبَیلوں یا بھیڑبکریوں میں سے ایسی قربانی پیش کرنا چاہو جس کی خوشبو رب کو پسند ہو تو ساتھ ساتھ ڈیڑھ کلو گرام بہترین میدہ بھی پیش کرو جو ایک لٹر زیتون کے تیل کے ساتھ ملایا گیا ہو۔ اِس میں کوئی فرق نہیں کہ یہ بھسم ہونے والی قربانی، مَنت کی قربانی، دلی خوشی کی قربانی یا کسی عید کی قربانی ہو۔ LL>@wجب مینڈھا قربان کیا جائے 3 کلو گرام بہترین میدہ بھی ساتھ پیش کرنا جو سوا لٹر تیل کے ساتھ ملایا گیا ہو۔?ہر بھیڑ کو پیش کرتے وقت ایک لٹر مَے بھی مَے کی نذر کے طور پر پیش کرنا۔f>Gتو جلنے والی قربانیاں یوں پیش کرنا: اگر تم اپنے گائےبَیلوں یا بھیڑبکریوں میں سے ایسی قربانی پیش کرنا چاہو جس کی خوشبو رب کو پسند ہو تو ساتھ ساتھ ڈیڑھ کلو گرام بہترین میدہ بھی پیش کرو جو ایک لٹر زیتون کے تیل کے ساتھ ملایا گیا ہو۔ اِس میں کوئی فرق نہیں کہ یہ بھسم ہونے والی قربانی، مَنت کی قربانی، دلی خوشی کی قربانی یا کسی عید کی قربانی ہو۔ V=5Ee لازم ہے کہ جب بھی کسی گائے، بَیل، بھیڑ، مینڈھے، بکری یا بکرے کو چڑھایا جائے تو ایسا ہی کیا جائے۔D5 دو لٹر مَے بھی مَے کی نذر کے طور پر پیش کی جائے۔ ایسی قربانی کی خوشبو رب کو پسند ہے۔+CQ تو اُس کے ساتھ ساڑھے 4 کلو گرام بہترین میدہ بھی پیش کرنا جو دو لٹر تیل کے ساتھ ملایا گیا ہو۔EBاگر تُو رب کو بھسم ہونے والی قربانی، مَنت کی قربانی یا سلامتی کی قربانی کے طور پر جوان بَیل پیش کرنا چاہے&AGسوا لٹر مَے بھی مَے کی نذر کے طور پر پیش کی جائے۔ ایسی قربانی کی خوشبو رب کو پسند آئے گی۔ M0bMHیہ بھی لازم ہے کہ اسرائیل میں عارضی یا مستقل طور پر رہنے والے پردیسی اِن اصولوں کے مطابق اپنی قربانیاں چڑھائیں۔ پھر اُن کی خوشبو رب کو پسند آئے گی۔JG لازم ہے کہ ہر دیسی اسرائیلی جلنے والی قربانیاں پیش کرتے وقت ایسا ہی کرے۔ پھر اُن کی خوشبو رب کو پسند آئے گی۔LF اگر ایک سے زائد جانوروں کو قربان کرنا ہے تو ہر ایک کے لئے مقررہ غلہ اور مَے کی نذریں بھی ساتھ ہی پیش کی جائیں۔ !Q4Mcاور وہاں کی پیداوار کھاؤ گے تو پہلے اُس کا ایک حصہ اُٹھانے والی قربانی کے طور پر رب کو پیش کرنا۔L9”اسرائیلیوں کو بتانا کہ جب تم اُس ملک میں داخل ہو گے جس میں مَیں تمہیں لے جا رہا ہوں*KQرب نے موسیٰ سے کہا،~Jwتمہارے اور تمہارے ساتھ رہنے والے پردیسی کے لئے ایک ہی شریعت ہے۔“ZI/ملکِ کنعان میں رہنے والے تمام لوگوں کے لئے پابندیاں ایک جیسی ہیں، خواہ وہ دیسی ہوں یا پردیسی، کیونکہ رب کی نظر میں پردیسی تمہارے برابر ہے۔ یہ تمہارے اور تمہاری اولاد کے لئے دائمی اصول ہے۔ CbCQیا جو وہ آنے والی نسلوں کو دے گا۔]P5ہو سکتا ہے کہ غیرارادی طور پر تم سے غلطی ہوئی ہے اور تم نے اُن احکام پر پورے طور پر عمل نہیں کیا جو رب موسیٰ کو دے چکا ہےO1اپنی فصل کے پہلے خالص آٹے میں سے یہ قربانی پیش کیا کرو۔ یہ اصول ہمیشہ تک لاگو رہے۔N/فصل کے پہلے خالص آٹے میں سے میرے لئے ایک روٹی بنا کر اُٹھانے والی قربانی کے طور پر پیش کرو۔ وہ گاہنے کی جگہ کی طرف سے رب کے لئے اُٹھانے والی قربانی ہو گی۔ %%T7اسرائیلیوں کی پوری جماعت کو پردیسیوں سمیت معافی ملے گی، کیونکہ گناہ غیرارادی تھا۔3Saامام اسرائیل کی پوری جماعت کا کفارہ دے تو اُنہیں معافی ملے گی، کیونکہ اُن کا گناہ غیرارادی تھا اور اُنہوں نے رب کو بھسم ہونے والی قربانی اور گناہ کی قربانی پیش کی ہے۔~Rwاگر جماعت اِس بات سے ناواقف تھی اور غیرارادی طور پر اُس سے غلطی ہوئی تو پھر پوری جماعت ایک جوان بَیل بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کرے۔ ساتھ ہی وہ مقررہ غلہ اور مَے کی نذریں بھی پیش کرے۔ اِس کی خوشبو رب کو پسند ہو گی۔ اِس کے علاوہ جماعت گناہ کی قربانی کے لئے ایک بکرا پیش کرے۔ BX}لیکن اگر کوئی دیسی یا پردیسی جان بوجھ کر گناہ کرتا ہے تو ایسا شخص رب کی اہانت کرتا ہے، اِس لئے لازم ہے کہ اُسے اُس کی قوم میں سے مٹایا جائے۔Wیہی اصول پردیسی پر بھی لاگو ہے۔ اگر اُس سے غیرارادی طور پر گناہ ہوا ہو تو وہ معافی حاصل کرنے کے لئے وہی کچھ کرے جو اسرائیلی کو کرنا ہوتا ہے۔V3امام رب کے سامنے اُس شخص کا کفارہ دے۔ جب کفارہ دے دیا گیا تو اُسے معافی حاصل ہو گی۔:Uoاگر صرف ایک شخص سے غیرارادی طور پر گناہ ہوا ہو تو گناہ کی قربانی کے لئے وہ ایک یک سالہ بکری پیش کرے۔ :V:X]+#پھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”اِس آدمی کو ضرور سزائے موت دی جائے۔ پوری جماعت اُسے خیمہ گاہ کے باہر لے جا کر سنگسار کرے۔“,\S"چونکہ صاف معلوم نہیں تھا کہ اُس کے ساتھ کیا کِیا جائے اِس لئے اُنہوں نے اُسے گرفتار کر لیا۔ [!جنہوں نے اُسے پکڑا تھا وہ اُسے موسیٰ، ہارون اور پوری جماعت کے پاس لے آئے۔9Zm جب اسرائیلی ریگستان میں سے گزر رہے تھے تو ایک آدمی کو پکڑا گیا جو ہفتے کے دن لکڑیاں جمع کر رہا تھا۔iYMاُس نے رب کا کلام حقیر جان کر اُس کے احکام توڑ ڈالے ہیں، اِس لئے اُسے ضرور قوم میں سے مٹایا جائے۔ وہ اپنے گناہ کا ذمہ دار ہے۔“ N!-bU(پھر تم میرے احکام کو یاد کر کے اُن پر عمل کرو گے اور اپنے خدا کے سامنے مخصوص و مُقدّس رہو گے۔Da'اِن پُھندنوں کو دیکھ کر تمہیں رب کے تمام احکام یاد رہیں گے اور تم اُن پر عمل کرو گے۔ پھر تم اپنے دلوں اور آنکھوں کی غلط خواہشوں کے پیچھے نہیں پڑو گے بلکہ زناکاری سے دُور رہو گے۔`&”اسرائیلیوں کو بتانا کہ تم اور تمہارے بعد کی نسلیں اپنے لباس کے کناروں پر پھُندنے لگائیں۔ ہر پھُندنا ایک قرمزی ڈوری سے لباس کے ساتھ لگا ہو۔*_Q%رب نے موسیٰ سے کہا،.^W$چنانچہ جماعت نے اُسے خیمہ گاہ کے باہر لے جا کر سنگسار کیا، جس طرح رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔ YGYjd Qایک دن قورح بن اِضہار موسیٰ کے خلاف اُٹھا۔ وہ لاوی کے قبیلے کا قہاتی تھا۔ اُس کے ساتھ روبن کے قبیلے کے تین آدمی تھے، اِلیاب کے بیٹے داتن اور ابیرام اور اون بن پلت۔ اُن کے ساتھ 250 اَور آدمی بھی تھے جو جماعت کے سردار اور اثر و رسوخ والے تھے، اور جو کونسل کے لئے چنے گئے تھے۔5ce)مَیں رب تمہارا خدا ہوں جو تمہیں مصر سے نکال لایا تاکہ تمہارا خدا ہوں۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔“ ss;gsیہ سن کر موسیٰ منہ کے بل گرا۔\f3وہ مل کر موسیٰ اور ہارون کے پاس آ کر کہنے لگے، ”آپ ہم سے زیادتی کر رہے ہیں۔ پوری جماعت مخصوص و مُقدّس ہے، اور رب اُس کے درمیان ہے۔ تو پھر آپ اپنے آپ کو کیوں رب کی جماعت سے بڑھ کر سمجھتے ہیں؟“keQایک دن قورح بن اِضہار موسیٰ کے خلاف اُٹھا۔ وہ لاوی کے قبیلے کا قہاتی تھا۔ اُس کے ساتھ روبن کے قبیلے کے تین آدمی تھے، اِلیاب کے بیٹے داتن اور ابیرام اور اون بن پلت۔ اُن کے ساتھ 250 اَور آدمی بھی تھے جو جماعت کے سردار اور اثر و رسوخ والے تھے، اور جو کونسل کے لئے چنے گئے تھے۔ 44lkSموسیٰ نے قورح سے بات جاری رکھی، ”اے لاوی کی اولاد، سنو!`j;رب کے سامنے اُن میں انگارے اور بخور ڈالو۔ جس آدمی کو رب چنے گا وہ مخصوص و مُقدّس ہو گا۔ اب تم لاوی خود زیادتی کر رہے ہو۔“eiEاے قورح، کل اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ بخوردان لے کر hپھر اُس نے قورح اور اُس کے تمام ساتھیوں سے کہا، ”کل صبح رب ظاہر کرے گا کہ کون اُس کا بندہ اور کون مخصوص و مُقدّس ہے۔ اُسی کو وہ اپنے پاس آنے دے گا۔ hh2o_ پھر موسیٰ نے اِلیاب کے بیٹوں داتن اور ابیرام کو بُلایا۔ لیکن اُنہوں نے کہا، ”ہم نہیں آئیں گے۔Un% اپنے ساتھیوں سے مل کر تُو نے ہارون کی نہیں بلکہ رب کی مخالفت کی ہے۔ کیونکہ ہارون کون ہے کہ تم اُس کے خلاف بڑبڑاؤ؟“7mi وہ تجھے اور تیرے ساتھی لاویوں کو اپنے قریب لایا ہے۔ لیکن اب تم امام کا عُہدہ بھی اپنانا چاہتے ہو۔Jl کیا تمہاری نظر میں یہ کوئی چھوٹی بات ہے کہ رب تمہیں اسرائیلی جماعت کے باقی لوگوں سے الگ کر کے اپنے قریب لے آیا تاکہ تم رب کے مقدِس میں اور جماعت کے سامنے کھڑے ہو کر اُن کی خدمت کرو؟ KmKr7تب موسیٰ نہایت غصے ہوا۔ اُس نے رب سے کہا، ”اُن کی قربانی کو قبول نہ کر۔ مَیں نے ایک گدھا تک اُن سے نہیں لیا، نہ مَیں نے اُن میں سے کسی سے بُرا سلوک کیا ہے۔“]q5نہ آپ نے ہمیں ایسے ملک میں پہنچایا جس میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے، نہ ہمیں کھیتوں اور انگور کے باغوں کے وارث بنایا ہے۔ کیا آپ اِن آدمیوں کی آنکھیں نکال ڈالیں گے؟ نہیں، ہم ہرگز نہیں آئیں گے۔“.pW آپ ہمیں ایک ایسے ملک سے نکال لائے ہیں جہاں دودھ اور شہد کی کثرت ہے تاکہ ہم ریگستان میں ہلاک ہو جائیں۔ کیا یہ کافی نہیں ہے؟ کیا اب آپ ہم پر حکمومت بھی کرنا چاہتے ہیں؟ bYbuxe”اِس جماعت سے الگ ہو جاؤ تاکہ مَیں اِسے فوراً ہلاک کر دوں۔“IT_ju%0;FQ\gr} ![ "\ #] $^ %_ &` 'a (b ) ![ "\ #] $^ %_ &` 'a (b )c  d e f g h i j k  l  m  n  o  p q r s t u v w x y z { | } ~       ! " # $ % & ' ( ) * + , - . / 0 1 2              I0IH} اُس نے جماعت کو آگاہ کیا، ”اِن شریروں کے خیموں سے دُور ہو جاؤ! جو کچھ بھی اُن کے پاس ہے اُسے نہ چھوؤ، ورنہ تم بھی اُن کے ساتھ تباہ ہو جاؤ گے جب وہ اپنے گناہوں کے باعث ہلاک ہوں گے۔“|)موسیٰ اُٹھ کر داتن اور ابیرام کے پاس گیا، اور اسرائیل کے بزرگ اُس کے پیچھے چلے۔{”جماعت کو بتا دے کہ قورح، داتن اور ابیرام کے ڈیروں سے دُور ہو جاؤ۔“/z[تب رب نے موسیٰ سے کہا،y!موسیٰ اور ہارون منہ کے بل گرے اور بول اُٹھے، ”اے اللہ، تُو تمام جانوں کا خدا ہے۔ کیا تیرا غضب ایک ہی آدمی کے گناہ کے سبب سے پوری جماعت پر آن پڑے گا؟“ . .b?لیکن اگر رب ایسا کام کرے جو پہلے کبھی نہیں ہوا اور زمین اپنا منہ کھول کر اُنہیں اور اُن کا پورا مال ہڑپ کر لے اور اُنہیں جیتے جی دفنا دے تو اِس کا مطلب ہو گا کہ اِن آدمیوں نے رب کو حقیر جانا ہے۔“اگر یہ لوگ دوسروں کی طرح طبعی موت مریں تو پھر رب نے مجھے نہیں بھیجا۔nWموسیٰ نے کہا، ”اب تمہیں پتا چلے گا کہ رب نے مجھے یہ سب کچھ کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ مَیں اپنی نہیں بلکہ اُس کی مرضی پوری کر رہا ہوں۔p~[تب باقی لوگ قورح، داتن اور ابیرام کے ڈیروں سے دُور ہو گئے۔ داتن اور ابیرام اپنے بال بچوں سمیت اپنے خیموں سے نکل کر باہر کھڑے تھے۔offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|:M;Q\?a@eAiCmDvE~FGH I :M;Q\?a@eAiCmDvE~FGH I JKLMNO!P$Q(R,S/U2V7W<X=Y@ZE[H\M]Q^T_X`]abbdcgdkeofrgxi}jlm n opqrs"t$u(v+w/x3y6z9{=}A~EJMPSUX]adhkpux{  $(+.158;?CGJMPTX\`dgjn .[.*Q$رب نے موسیٰ سے کہا،(K#اُسی لمحے رب کی طرف سے آگ اُتر آئی اور اُن 250 آدمیوں کو بھسم کر دیا جو بخور پیش کر رہے تھے۔kQ"اُن کی چیخیں سن کر اُن کے ارد گرد کھڑے تمام اسرائیلی بھاگ اُٹھے، کیونکہ اُنہوں نے سوچا، ”ایسا نہ ہو کہ زمین ہمیں بھی نگل لے۔“b?!وہ اپنی پوری ملکیت سمیت جیتے جی دفن ہو گئے۔ زمین اُن کے اوپر واپس آ گئی۔ یوں اُنہیں جماعت سے نکالا گیا اور وہ ہلاک ہو گئے۔H  اُس نے اپنا منہ کھول کر اُنہیں، اُن کے خاندانوں کو، قورح کے تمام لوگوں کو اور اُن کا سارا سامان ہڑپ کر لیا۔U%یہ بات کہتے ہی اُن کے نیچے کی زمین پھٹ گئی۔ r _&لوگ اُن آدمیوں کے یہ بخوردان لے لیں جو اپنے گناہ کے باعث جاں بحق ہو گئے۔ وہ اُنہیں کوٹ کر اُن سے چادریں بنائیں اور اُنہیں جلنے والی قربانیوں کی قربان گاہ پر چڑھائیں۔ کیونکہ وہ رب کو پیش کئے گئے ہیں، اِس لئے وہ مخصوص و مُقدّس ہیں۔ یوں وہ اسرائیلیوں کے لئے ایک نشان رہیں گے۔“D%”ہارون امام کے بیٹے اِلی عزر کو اطلاع دے کہ وہ بخوردانوں کو راکھ میں سے نکال کر رکھے۔ اُن کے انگارے وہ دُور پھینکے۔ بخوردانوں کو رکھنے کا سبب یہ ہے کہ اب وہ مخصوص و مُقدّس ہیں۔ T #(ہارون نے سب کچھ ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کی معرفت بتایا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ بخوردان اسرائیلیوں کو یاد دلاتے رہیں کہ صرف ہارون کی اولاد ہی کو رب کے سامنے آ کر بخور جلانے کی اجازت ہے۔ اگر کوئی اَور ایسا کرے تو اُس کا حال قورح اور اُس کے ساتھیوں کا سا ہو گا۔G  'چنانچہ اِلی عزر امام نے پیتل کے یہ بخوردان جمع کئے جو بھسم کئے ہوئے آدمیوں نے رب کو پیش کئے تھے۔ پھر لوگوں نے اُنہیں کوٹ کر اُن سے چادریں بنائیں اور اُنہیں قربان گاہ پر چڑھا دیا۔ #*$C-”اِس جماعت سے نکل جاؤ تاکہ مَیں اِسے فوراً ہلاک کر دوں۔“ یہ سن کر دونوں منہ کے بل گرے۔1_,اور رب نے موسیٰ سے کہا،`;+پھر موسیٰ اور ہارون ملاقات کے خیمے کے سامنے آئے،u e*لیکن جب وہ موسیٰ اور ہارون کے مقابلے میں جمع ہوئے اور ملاقات کے خیمے کا رُخ کیا تو اچانک اُس پر بادل چھا گیا اور رب کا جلال ظاہر ہوا۔Y -)اگلے دن اسرائیل کی پوری جماعت موسیٰ اور ہارون کے خلاف بڑبڑانے لگی۔ اُنہوں نے کہا، ”آپ نے رب کی قوم کو مار ڈالا ہے۔“ hxy h91توبھی 14,700 افراد وبا سے مر گئے۔ اِس میں وہ شامل نہیں ہیں جو قورح کے سبب سے مر گئے تھے۔kQ0وہ زندوں اور مُردوں کے بیچ میں کھڑا ہوا تو وبا رُک گئی۔{q/ہارون نے ایسا ہی کیا۔ وہ دوڑ کر جماعت کے بیچ میں گیا۔ لوگوں میں وبا شروع ہو چکی تھی، لیکن ہارون نے رب کو بخور پیش کر کے اُن کا کفارہ دیا۔.موسیٰ نے ہارون سے کہا، ”اپنا بخوردان لے کر اُس میں قربان گاہ کے انگارے اور بخور ڈالیں۔ پھر بھاگ کر جماعت کے پاس چلے جائیں تاکہ اُن کا کفارہ دیں۔ جلدی کریں، کیونکہ رب کا غضب اُن پر ٹوٹ پڑا ہے۔ وبا پھیلنے لگی ہے۔“ N"<$Cپھر اُن کو ملاقات کے خیمے میں عہد کے صندوق کے سامنے رکھ جہاں میری تم سے ملاقات ہوتی ہے۔!=لاوی کی لاٹھی پر ہارون کا نام لکھنا، کیونکہ ہر قبیلے کے سردار کے لئے ایک لاٹھی ہو گی۔b?”اسرائیلیوں سے بات کر کے اُن سے 12 لاٹھیاں منگوا لے، ہر قبیلے کے سردار سے ایک لاٹھی۔ ہر لاٹھی پر اُس کے مالک کا نام لکھنا۔) Qرب نے موسیٰ سے کہا،.W2جب وبا رُک گئی تو ہارون موسیٰ کے پاس واپس آیا جو اب تک ملاقات کے خیمے کے دروازے پر کھڑا تھا۔ W W;qاگلے دن جب وہ ملاقات کے خیمے میں داخل ہوا تو اُس نے دیکھا کہ لاوی کے قبیلے کے سردار ہارون کی لاٹھی سے نہ صرف کونپلیں پھوٹ نکلی ہیں بلکہ پھول اور پکے ہوئے بادام بھی لگے ہیں۔ymموسیٰ نے اُنہیں ملاقات کے خیمے میں عہد کے صندوق کے سامنے رکھا۔saچنانچہ موسیٰ نے اسرائیلیوں سے بات کی، اور قبیلوں کے ہر سردار نے اُسے اپنی لاٹھی دی۔ اِن 12 لاٹھیوں میں ہارون کی لاٹھی بھی شامل تھی۔saجس آدمی کو مَیں نے چن لیا ہے اُس کی لاٹھی سے کونپلیں پھوٹ نکلیں گی۔ اِس طرح مَیں تمہارے خلاف اسرائیلیوں کی بڑبڑاہٹ ختم کر دوں گا۔“ ;;"! جو بھی رب کے مقدِس کے قریب آئے وہ مر جائے گا۔ کیا ہم سب ہی ہلاک ہو جائیں گے؟“ H!  لیکن اسرائیلیوں نے موسیٰ سے کہا، ”ہائے، ہم مر جائیں گے۔ ہائے، ہم ہلاک ہو جائیں گے، ہم سب ہلاک ہو جائیں گے۔. Y موسیٰ نے ایسا ہی کیا۔5 رب نے موسیٰ سے کہا، ”ہارون کی لاٹھی عہد کے صندوق کے سامنے رکھ دے۔ یہ باغی اسرائیلیوں کو یاد دلائے گی کہ وہ اپنا بڑبڑانا بند کریں، ورنہ ہلاک ہو جائیں گے۔“  موسیٰ تمام لاٹھیاں رب کے سامنے سے باہر لا کر اسرائیلیوں کے پاس لے آیا، اور اُنہوں نے اُن کا معائنہ کیا۔ پھر ہر ایک نے اپنی اپنی لاٹھی واپس لے لی۔ 9$mاپنے قبیلے لاوی کے باقی آدمیوں کو بھی میرے قریب آنے دے۔ وہ تیرے ساتھ مل کر یوں حصہ لیں کہ وہ تیری اور تیرے بیٹوں کی خدمت کریں جب تم خیمے کے سامنے اپنی ذمہ داریاں نبھاؤ گے۔b# Aرب نے ہارون سے کہا، ”مقدِس تیری، تیرے بیٹوں اور لاوی کے قبیلے کی ذمہ داری ہے۔ اگر اِس میں کوئی غلطی ہو جائے تو تم قصوروار ٹھہرو گے۔ اِسی طرح اماموں کی خدمت صرف تیری اور تیرے بیٹوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر اِس میں کوئی غلطی ہو جائے تو تُو اور تیرے بیٹے قصوروار ٹھہریں گے۔ > A>(yمَیں ہی نے اسرائیلیوں میں سے تیرے بھائیوں یعنی لاویوں کو چن کر تجھے تحفے کے طور پر دیا ہے۔ وہ رب کے لئے مخصوص ہیں تاکہ خیمے میں خدمت کریں۔E'صرف تُو اور تیرے بیٹے مقدِس اور قربان گاہ کی دیکھ بھال کریں تاکہ میرا غضب دوبارہ اسرائیلیوں پر نہ بھڑکے۔G& یوں وہ تیرے ساتھ مل کر ملاقات کے خیمے کے پورے کام میں حصہ لیں۔ لیکن کسی اَور کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔'%Iتیری خدمت اور خیمے میں خدمت اُن کی ذمہ داری ہے۔ لیکن وہ خیمے کے مخصوص و مُقدّس سامان اور قربان گاہ کے قریب نہ جائیں، ورنہ نہ صرف وہ بلکہ تُو بھی ہلاک ہو جائے گا۔ 77R+ تمہیں مُقدّس ترین قربانیوں کا وہ حصہ ملنا ہے جو جلایا نہیں جاتا۔ ہاں، تجھے اور تیرے بیٹوں کو وہی حصہ ملنا ہے، خواہ وہ مجھے غلہ کی نذریں، گناہ کی قربانیاں یا قصور کی قربانیاں پیش کریں۔*!رب نے ہارون سے کہا، ”مَیں نے خود مقرر کیا ہے کہ تمام اُٹھانے والی قربانیاں تیرا حصہ ہوں۔ یہ ہمیشہ تک قربانیوں میں سے تیرا اور تیری اولاد کا حصہ ہیں۔X)+لیکن صرف تُو اور تیرے بیٹے امام کی خدمت سرانجام دیں۔ مَیں تمہیں امام کا عُہدہ تحفے کے طور پر دیتا ہوں۔ کوئی اَور قربان گاہ اور مُقدّس چیزوں کے نزدیک نہ آئے، ورنہ اُسے سزائے موت دی جائے۔“ 3]3E/ فصلوں کا جو بھی پہلا پھل وہ رب کو پیش کریں گے وہ تیرا ہی ہو گا۔ تیرے گھرانے کا ہر پاک فرد اُسے کھا سکتا ہے۔{.q جب لوگ رب کو اپنی فصلوں کا پہلا پھل پیش کریں گے تو وہ تیرا ہی حصہ ہو گا۔ مَیں تجھے زیتون کے تیل، نئی مَے اور اناج کا بہترین حصہ دیتا ہوں۔^-7 مَیں نے مقرر کیا ہے کہ تمام ہلانے والی قربانیوں کا اُٹھایا ہوا حصہ تیرا ہے۔ یہ ہمیشہ کے لئے تیرے اور تیرے بیٹے بیٹیوں کا حصہ ہے۔ تیرے گھرانے کا ہر فرد اُسے کھا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ پاک ہو۔,9 اُسے مُقدّس جگہ پر کھانا۔ ہر مرد اُسے کھا سکتا ہے۔ خیال رکھ کہ وہ مخصوص و مُقدّس ہے۔ ,tP,U3%لیکن گائےبَیلوں اور بھیڑبکریوں کے پہلے بچوں کا فدیہ یعنی معاوضہ نہ دینا۔ وہ مخصوص و مُقدّس ہیں۔ اُن کا خون قربان گاہ پر چھڑک دینا اور اُن کی چربی جلا دینا۔ ایسی قربانی رب کو پسند ہو گی۔G2 جب وہ ایک ماہ کے ہیں تو اُن کے عوض چاندی کے پانچ سکے دینا۔ (ہر سکے کا وزن مقدِس کے باٹوں کے مطابق 11 گرام ہو)۔ 1;ہر انسان اور ہر حیوان کا جوپہلوٹھا رب کو پیش کیا جاتا ہے وہ تیرا ہی ہے۔ لیکن لازم ہے کہ تُو ہر انسان اور ہر ناپاک جانور کے پہلوٹھے کا فدیہ دے کر اُسے چھڑائے۔0 اسرائیل میں جو بھی چیز رب کے لئے مخصوص و مُقدّس کی گئی ہے وہ تیری ہو گی۔ B.6Wرب نے ہارون سے کہا، ”تُو میراث میں زمین نہیں پائے گا۔ اسرائیل میں تجھے کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا، کیونکہ اسرائیلیوں کے درمیان مَیں ہی تیرا حصہ اور تیری میراث ہوں۔t5cمُقدّس قربانیوں میں سے تمام اُٹھانے والی قربانیاں تیرا اور تیرے بیٹے بیٹیوں کا حصہ ہیں۔ مَیں نے اُسے ہمیشہ کے لئے تجھے دیا ہے۔ یہ نمک کا دائمی عہد ہے جو مَیں نے تیرے اور تیری اولاد کے ساتھ قائم کیا ہے۔“:4oاُن کا گوشت ویسے ہی تمہارے لئے ہو، جیسے ہلانے والی قربانی کا سینہ اور د ہنی ران بھی تمہارے لئے ہیں۔ .9Wصرف لاوی ملاقات کے خیمے میں خدمت کریں۔ اگر اِس میں کوئی غلطی ہو جائے تو وہی قصوروار ٹھہریں گے۔ یہ ایک دائمی اصول ہے۔ اُنہیں اسرائیل میں میراث میں زمین نہیں ملے گی۔`8;اب سے اسرائیلی ملاقات کے خیمے کے قریب نہ آئیں، ورنہ اُنہیں اپنی خطا کا نتیجہ برداشت کرنا پڑے گا اور وہ ہلاک ہو جائیں گے۔&7Gاپنی پیداوار کا جو دسواں حصہ اسرائیلی مجھے دیتے ہیں وہ مَیں لاویوں کو دیتا ہوں۔ یہ اُن کی وراثت ہے، جو اُنہیں ملاقات کے خیمے میں خدمت کرنے کے بدلے میں ملتی ہے۔ Nf9N=+تمہاری یہ قربانی نئے اناج یا نئے انگور کے رس کی قربانی کے برابر قرار دی جائے گی۔K<”لاویوں کو بتانا کہ تمہیں اسرائیلیوں کی پیداوار کا دسواں حصہ ملے گا۔ یہ رب کی طرف سے تمہاری وراثت ہو گی۔ لازم ہے کہ تم اِس کا دسواں حصہ رب کو اُٹھانے والی قربانی کے طور پر پیش کرو۔*;Qرب نے موسیٰ سے کہا،:'کیونکہ مَیں نے اُنہیں وہی دسواں حصہ میراث کے طور پر دیا ہے جو اسرائیلی مجھے اُٹھانے والی قربانی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اِس وجہ سے مَیں نے اُن کے بارے میں کہا کہ اُنہیں باقی اسرائیلیوں کے ساتھ میراث میں زمین نہیں ملے گی۔“ E  ",7BMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr|                                                                                                       ~NAتم اپنے گھرانوں سمیت اِس کا باقی حصہ کہیں بھی کھا سکتے ہو، کیونکہ یہ ملاقات کے خیمے میں تمہاری خدمت کا اجر ہے۔L@جب تم اِس کا سب سے اچھا حصہ پیش کرو گے تو اُسے نئے اناج یا نئے انگور کے رس کی قربانی کے برابر قرار دیا جائے گا۔?}جو بھی تمہیں ملا ہے اُس میں سے سب سے اچھا اور مُقدّس حصہ رب کو دینا۔y>mاِس طرح تم بھی رب کو اسرائیلیوں کی پیداوار کے دسویں حصے میں سے اُٹھانے والی قربانی پیش کرو گے۔ رب کے لئے یہ قربانی ہارون امام کو دینا۔ f|?Eyتم اُسے اِلی عزر امام کو دینا جو اُسے خیمے کے باہر لے جائے۔ وہاں اُسے اُس کی موجودگی میں ذبح کیا جائے۔fDG”اسرائیلیوں کو بتانا کہ وہ تمہارے پاس سرخ رنگ کی جوان گائے لے کر آئیں۔ اُس میں نقص نہ ہو اور اُس پر کبھی جوا نہ رکھا گیا ہو۔;C uرب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا،XB+ اگر تم نے پہلے اِس کا بہترین حصہ پیش کیا ہو تو پھر اِسے کھانے میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہو گا۔ پھر اسرائیلیوں کی مخصوص و مُقدّس قربانیاں تم سے ناپاک نہیں ہو جائیں گی اور تم نہیں مرو گے۔“ _<i_$JCجس آدمی نے گائے کو جلایا وہ بھی اپنے کپڑوں کو دھو کر نہا لے۔ وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا۔5Ieاِس کے بعد وہ اپنے کپڑوں کو دھو کر نہا لے۔ پھر وہ خیمہ گاہ میں آ سکتا ہے لیکن شام تک ناپاک رہے گا۔%HEپھر وہ دیودار کی لکڑی، زوفا اور قرمزی رنگ کا دھاگا لے کر اُسے جلتی ہوئی گائے پر پھینکے۔OGاُس کی موجودگی میں پوری کی پوری گائے کو جلایا جائے۔ اُس کی کھال، گوشت، خون اور انتڑیوں کا گوبر بھی جلایا جائے۔@F{پھر اِلی عزر امام اپنی اُنگلی سے اُس کے خون سے کچھ لے کر ملاقات کے خیمے کے سامنے والے حصے کی طرف چھڑکے۔ zUUM% جو بھی لاش چھوئے وہ سات دن تک ناپاک رہے گا۔!L= جس آدمی نے راکھ اکٹھی کی ہے وہ بھی اپنے کپڑوں کو دھو لے۔ وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا۔ یہ اسرائیلیوں اور اُن کے درمیان رہنے والے پردیسیوں کے لئے دائمی اصول ہو۔K ایک دوسرا آدمی جو پاک ہے گائے کی راکھ اکٹھی کر کے خیمہ گاہ کے باہر کسی پاک جگہ پر ڈال دے۔ وہاں اسرائیل کی جماعت اُسے ناپاکی دُور کرنے کا پانی تیار کرنے کے لئے محفوظ رکھے۔ یہ گناہ سے پاک کرنے کے لئے استعمال ہو گا۔ {={>Pwاگر کوئی ڈیرے میں مر جائے تو جو بھی اُس وقت اُس میں موجود ہو یا داخل ہو جائے وہ سات دن تک ناپاک رہے گا۔lOS جو بھی لاش چھو کر اپنے آپ کو یوں پاک نہیں کرتا وہ رب کے مقدِس کو ناپاک کرتا ہے۔ لازم ہے کہ اُسے اسرائیل میں سے مٹایا جائے۔ چونکہ ناپاکی دُور کرنے کا پانی اُس پر چھڑکا نہیں گیا اِس لئے وہ ناپاک رہے گا۔ON تیسرے اور ساتویں دن وہ اپنے آپ پر ناپاکی دُور کرنے کا پانی چھڑک کر پاک صاف ہو جائے۔ اِس کے بعد ہی وہ پاک ہو گا۔ لیکن اگر وہ اِن دونوں دنوں میں اپنے آپ کو یوں پاک نہ کرے تو ناپاک رہے گا۔ :P:Sناپاکی دُور کرنے کے لئے اُس سرخ رنگ کی گائے کی راکھ میں سے کچھ لینا جو گناہ دُور کرنے کے لئے جلائی گئی تھی۔ اُسے برتن میں ڈال کر تازہ پانی میں ملانا۔3Raاِسی طرح جو کھلے میدان میں لاش چھوئے وہ بھی سات دن تک ناپاک رہے گا، خواہ وہ تلوار سے یا طبعی موت مرا ہو۔ جو انسان کی کوئی ہڈی یا قبر چھوئے وہ بھی سات دن تک ناپاک رہے گا۔vQgہر کھلا برتن جو ڈھکنے سے بند نہ کیا گیا ہو وہ بھی ناپاک ہو گا۔  U;پاک آدمی یہ پانی تیسرے اور ساتویں دن ناپاک شخص پر چھڑکے۔ ساتویں دن وہ اُسے پاک کرے۔ جسے پاک کیا جا رہا ہے وہ اپنے کپڑے دھو کر نہا لے تو وہ اُسی شام پاک ہو گا۔cTAپھر کوئی پاک آدمی کچھ زوفا لے اور اُسے اِس پانی میں ڈبو کر مرے ہوئے شخص کے خیمے، اُس کے سامان اور اُن لوگوں پر چھڑکے جو اُس کے مرتے وقت وہاں تھے۔ اِسی طرح وہ پانی اُس شخص پر بھی چھڑکے جس نے طبعی یا غیرطبعی موت مرے ہوئے شخص کو، کسی انسان کی ہڈی کو یا کوئی قبر چھوئی ہو۔ iXMاور ناپاک شخص جو بھی چیز چھوئے وہ ناپاک ہو جاتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ جو بعد میں یہ ناپاک چیز چھوئے وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا۔“ Wیہ اُن کے لئے دائمی اصول ہے۔ جس آدمی نے ناپاکی دُور کرنے کا پانی چھڑکا ہے وہ بھی اپنے کپڑے دھوئے۔ بلکہ جس نے بھی یہ پانی چھوا ہے شام تک ناپاک رہے گا۔TV#لیکن جو ناپاک شخص اپنے آپ کو پاک نہیں کرتا اُسے جماعت میں سے مٹانا ہے، کیونکہ اُس نے رب کا مقدِس ناپاک کر دیا ہے۔ ناپاکی دُور کرنے کا پانی اُس پر نہیں چھڑکا گیا، اِس لئے وہ ناپاک رہا ہے۔ qw]iآپ ہمیں مصر سے نکال کر اِس ناخوش گوار جگہ پر کیوں لے آئے ہیں؟ یہاں نہ تو اناج، نہ انجیر، انگور یا انار دست یاب ہیں۔ پانی بھی نہیں ہے!“6\gآپ رب کی جماعت کو کیوں اِس ریگستان میں لے آئے؟ کیا اِس لئے کہ ہم یہاں اپنے مویشیوں سمیت مر جائیں؟$[Cوہ موسیٰ سے یہ کہہ کر جھگڑنے لگے، ”کاش ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ رب کے سامنے مر گئے ہوتے!Z7قادس میں پانی دست یاب نہیں تھا، اِس لئے لوگ موسیٰ اور ہارون کے مقابلے میں جمع ہوئے۔iY Oپہلے مہینے میں اسرائیل کی پوری جماعت دشتِ صین میں پہنچ کر قادس میں رہنے لگی۔ وہاں مریم نے وفات پائی اور وہیں اُسے دفنایا گیا۔ )ra موسیٰ نے ایسا ہی کیا۔ اُس نے عہد کے صندوق کے سامنے پڑی لاٹھی اُٹھائی`”عہد کے صندوق کے سامنے پڑی لاٹھی پکڑ کر ہارون کے ساتھ جماعت کو اکٹھا کر۔ اُن کے سامنے چٹان سے بات کرو تو وہ اپنا پانی دے گی۔ یوں تُو چٹان میں سے جماعت کے لئے پانی نکال کر اُنہیں اُن کے مویشیوں سمیت پانی پلائے گا۔“*_Qرب نے موسیٰ سے کہا،S^!موسیٰ اور ہارون لوگوں کو چھوڑ کر ملاقات کے خیمے کے دروازے پر گئے اور منہ کے بل گرے۔ تب رب کا جلال اُن پر ظاہر ہوا۔ hdK لیکن رب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا، ”تمہارا مجھ پر اِتنا ایمان نہیں تھا کہ میری قدوسیت کو اسرائیلیوں کے سامنے قائم رکھتے۔ اِس لئے تم اِس جماعت کو اُس ملک میں نہیں لے جاؤ گے جو مَیں اُنہیں دوں گا۔“Tc# اُس نے لاٹھی کو اُٹھا کر چٹان کو دو مرتبہ مارا تو بہت سا پانی پھوٹ نکلا۔ جماعت اور اُن کے مویشیوں نے خوب پانی پیا۔b اور ہارون کے ساتھ جماعت کو چٹان کے سامنے اکٹھا کیا۔ موسیٰ نے اُن سے کہا، ”اے بغاوت کرنے والو، سنو! کیا ہم اِس چٹان میں سے تمہارے لئے پانی نکالیں؟“ %hلیکن جب ہم نے چلّا کر رب سے منت کی تو اُس نے ہماری سنی اور فرشتہ بھیج کر ہمیں مصر سے نکال لایا۔ اب ہم یہاں قادس شہر میں ہیں جو آپ کی سرحد پر ہے۔Dgہمارے باپ دادا مصر گئے تھے اور وہاں ہم بہت عرصے تک رہے۔ مصریوں نے ہمارے باپ دادا اور ہم سے بُرا سلوک کیا۔f5قادس سے موسیٰ نے ادوم کے بادشاہ کو اطلاع بھیجی، ”آپ کے بھائی اسرائیل کی طرف سے ایک گزارش ہے۔ آپ کو اُن تمام مصیبتوں کے بارے میں علم ہے جو ہم پر آن پڑی ہیں۔neW یہ واقعہ مریبہ یعنی ’جھگڑنا‘ کے پانی پر ہوا۔ وہاں اسرائیلیوں نے رب سے جھگڑا کیا، اور وہاں اُس نے اُن پر ظاہر کیا کہ وہ قدوس ہے۔ uiu[k1اسرائیل نے دوبارہ خبر بھیجی، ”ہم شاہراہ پر رہتے ہوئے گزریں گے۔ اگر ہمیں یا ہمارے جانوروں کو پانی کی ضرورت ہوئی تو پیسے دے کر خرید لیں گے۔ ہم پیدل ہی گزرنا چاہتے ہیں، اَور کچھ نہیں چاہتے۔“jلیکن ادومیوں نے جواب دیا، ”یہاں سے نہ گزرنا، ورنہ ہم نکل کر آپ سے لڑیں گے۔“i!مہربانی کر کے ہمیں اپنے ملک میں سے گزرنے دیں۔ ہم کسی کھیت یا انگور کے باغ میں نہیں جائیں گے، نہ کسی کنوئیں کا پانی پئیں گے۔ ہم شاہراہ پر ہی رہیں گے۔ آپ کے ملک میں سے گزرتے ہوئے ہم اُس سے نہ دائیں اور نہ بائیں طرف ہٹیں گے۔“ H5 H7pi”ہارون اب کوچ کر کے اپنے باپ دادا سے جا ملے گا۔ وہ اُس ملک میں داخل نہیں ہو گا جو مَیں اسرائیلیوں کو دوں گا، کیونکہ تم دونوں نے مریبہ کے پانی پر میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔oیہ پہاڑ ادوم کی سرحد پر واقع تھا۔ وہاں رب نے موسیٰ اور ہارون سے کہا،|nsاسرائیل کی پوری جماعت قادس سے روانہ ہو کر ہور پہاڑ کے پاس پہنچی۔)mMچونکہ ادوم نے اُنہیں گزرنے کی اجازت نہ دی اِس لئے اسرائیلی مُڑ کر دوسرے راستے سے چلے گئے۔Gl لیکن ادومیوں نے دوبارہ انکار کیا۔ ساتھ ہی اُنہوں نے اُن کے ساتھ لڑنے کے لئے ایک بڑی اور طاقت ور فوج بھیجی۔ XX&uGجب پوری جماعت کو معلوم ہوا کہ ہارون انتقال کر گیا ہے تو سب نے دن تک اُس کے لئے ماتم کیا۔ tموسیٰ نے ہارون کے کپڑے اُتروا کر اُس کے بیٹے اِلی عزر کو پہنا دیئے۔ پھر ہارون وہاں پہاڑ کی چوٹی پر فوت ہوا، اور موسیٰ اور اِلی عزر نیچے اُتر گئے۔,sSموسیٰ نے ایسا ہی کیا جیسا رب نے کہا۔ تینوں پوری جماعت کے دیکھتے دیکھتے ہور پہاڑ پر چڑھ گئے۔Frہارون کے کپڑے اُتار کر اُس کے بیٹے اِلی عزر کو پہنا دینا۔ پھر ہارون کوچ کر کے اپنے باپ دادا سے جا ملے گا۔“qq]ہارون اور اُس کے بیٹے اِلی عزر کو لے کر ہور پہاڑ پر چڑھ جا۔ x)رب نے اُن کی سنی اور کنعانیوں پر فتح بخشی۔ اسرائیلیوں نے اُنہیں اُن کے شہروں سمیت پوری طرح تباہ کر دیا۔ اِس لئے اُس جگہ کا نام حُرمہ یعنی تباہی پڑ گیا۔gwIتب اسرائیلیوں نے رب کے سامنے مَنت مان کر کہا، ”اگر تُو ہمیں اُن پر فتح دے گا تو ہم اُنہیں اُن کے شہروں سمیت تباہ کر دیں گے۔“ v دشتِ نجب کے کنعانی ملک عراد کے بادشاہ کو خبر ملی کہ اسرائیلی اتھارِم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اُس نے اُن پر حملہ کیا اور کئی ایک کو پکڑ کر قید کر لیا۔ 22{!تب رب نے اُن کے درمیان زہریلے سانپ بھیج دیئے جن کے کاٹنے سے بہت سے لوگ مر گئے۔Lzوہ رب اور موسیٰ کے خلاف باتیں کرنے لگے، ”آپ ہمیں مصر سے نکال کر ریگستان میں مرنے کے لئے کیوں لے آئے ہیں؟ یہاں نہ روٹی دست یاب ہے نہ پانی۔ ہمیں اِس گھٹیا قسم کی خوراک سے گھن آتی ہے۔“cyAہور پہاڑ سے روانہ ہو کر وہ بحرِ قُلزم کی طرف چل دیئے تاکہ ادوم کے ملک میں سے گزرنا نہ پڑے۔ لیکن چلتے چلتے لوگ بےصبر ہو گئے۔ tteE اسرائیلی روانہ ہوئے اور اوبوت میں اپنے خیمے لگائے۔~7 چنانچہ موسیٰ نے پیتل کا ایک سانپ بنایا اور کھمبا کھڑا کر کے سانپ کو اُس سے لٹکا دیا۔ اور ایسا ہوا کہ جسے بھی ڈسا گیا تھا وہ پیتل کے سانپ پر نظر کر کے بچ گیا۔K}تو رب نے موسیٰ سے کہا، ”ایک سانپ بنا کر اُسے کھمبے سے لٹکا دے۔ جو بھی ڈسا گیا ہو وہ اُسے دیکھ کر بچ جائے گا۔“/|Yپھر لوگ موسیٰ کے پاس آئے۔ اُنہوں نے کہا، ”ہم نے رب اور آپ کے خلاف باتیں کرتے ہوئے گناہ کیا۔ ہماری سفارش کریں کہ رب ہم سے سانپ دُور کر دے۔“ موسیٰ نے اُن کے لئے دعا کی CFC اور وادیوں کا وہ ڈھلان جو عار شہر تک جاتا ہے اور موآب کی سرحد پر واقع ہے۔“*Oاِس کا ذکر کتاب ’رب کی جنگیں‘ میں بھی ہے، ”واہیب جو سُوفہ میں ہے، دریائے ارنون کی وادیاںY- جب وادیِ زِرد سے روانہ ہوئے تو دریائے ارنون کے پرلے یعنی جنوبی کنارے پر خیمہ زن ہوئے۔ یہ دریا ریگستان میں ہے اور اموریوں کے علاقے سے نکلتا ہے۔ یہ اموریوں اور موآبیوں کے درمیان کی سرحد ہے۔dC وہاں سے روانہ ہو کر وہ وادیِ زِرد میں خیمہ زن ہوئے۔6g پھر وہاں سے کوچ کر کے عیّے عباریم میں ڈیرے ڈالے، اُس ریگستان میں جو مشرق کی طرف موآب کے سامنے ہے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0:EP[fq|                                                                ! " #           !  "  #  $  % & ' ( ) * + xq[1متّنہ سے نحلی ایل کو اور نحلی ایل سے بامات کو۔اُس کنوئیں کے بارے میں جسے سرداروں نے کھودا، جسے قوم کے راہنماؤں نے عصائے شاہی اور اپنی لاٹھیوں سے کھودا۔“ پھر وہ ریگستان سے متّنہ کو گئے،1اُس وقت اسرائیلیوں نے یہ گیت گایا، ”اے کنوئیں، پھوٹ نکل! اُس کے بارے میں گیت گاؤ،eEوہاں سے وہ بیر یعنی ’کنواں‘ پہنچے۔ یہ وہی بیر ہے جہاں رب نے موسیٰ سے کہا، ”لوگوں کو اکٹھا کر تو مَیں اُنہیں پانی دوں گا۔“  لیکن سیحون نے اُنہیں گزرنے نہ دیا بلکہ اپنی فوج جمع کر کے اسرائیل سے لڑنے کے لئے ریگستان میں چل پڑا۔ یہض پہنچ کر اُس نے اسرائیلیوں سے جنگ کی۔f G”ہمیں اپنے ملک میں سے گزرنے دیں۔ ہم سیدھے سیدھے گزر جائیں گے۔ نہ ہم کوئی کھیت یا انگور کا باغ چھیڑیں گے، نہ کسی کنوئیں کا پانی پئیں گے۔ ہم آپ کے ملک میں سے سیدھے گزرتے ہوئے شاہراہ پر ہی رہیں گے۔“e Eاسرائیل نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کو اطلاع بھیجی، بامات سے وہ موآبیوں کے علاقے کی اُس وادی میں پہنچے جو پِسگہ پہاڑ کے دامن میں ہے۔ اِس پہاڑ کی چوٹی سے وادیِ یردن کا جنوبی حصہ یشیمون خوب نظر آتا ہے۔ mUحسبون اموری بادشاہ سیحون کا دار الحکومت تھا۔ اُس نے موآب کے پچھلے بادشاہ سے لڑ کر اُس سے یہ علاقہ دریائے ارنون تک چھین لیا تھا۔Rاسرائیلی تمام اموری شہروں پر قبضہ کر کے اُن میں رہنے لگے۔ اُن میں حسبون اور اُس کے ارد گرد کی آبادیاں شامل تھیں۔o Yلیکن اسرائیلیوں نے اُسے قتل کیا اور دریائے ارنون سے لے کر دریائے یبوق تک یعنی عمونیوں کی سرحد تک اُس کے ملک پر قبضہ کر لیا۔ وہ اِس سے آگے نہ جا سکے کیونکہ عمونیوں نے اپنی سرحد کی حصار بندی کر رکھی تھی۔ !6"!}uلیکن جب ہم نے اموریوں پر تیر چلائے تو حسبون کا علاقہ دیبون تک برباد ہوا۔ ہم نے نُفح تک سب کچھ تباہ کیا، وہ نُفح جس کا علاقہ میدبا تک ہے۔“اے موآب، تجھ پر افسوس! اے کموس دیوتا کی قوم، تُو ہلاک ہوئی ہے۔ کموس نے اپنے بیٹوں کو مفرور اور اپنیبیٹیوں کو اموری بادشاہ سیحون کی قیدی بنا دیا ہے۔_9حسبون سے آگ نکلی، سیحون کے شہر سے شعلہ بھڑکا۔ اُس نے موآب کے شہر عار کو جلا دیا، ارنون کی بلندیوں کے مالکوں کو بھسم کیا۔cAاِس واقعے کا ذکر شاعری میں یوں کیا گیا ہے، ”حسبون کے پاس آ کر اُسے از سرِ نو تعمیر کرو، سیحون کے شہر کو از سرِ نو قائم کرو۔ t"اُس وقت رب نے موسیٰ سے کہا، ”عُوج سے نہ ڈرنا۔ مَیں اُسے، اُس کی تمام فوج اور اُس کا ملک تیرے حوالے کر چکا ہوں۔ اُس کے ساتھ وہی سلوک کر جو تُو نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کے ساتھ کیا، جس کا دار الحکومت حسبون تھا۔“P!اِس کے بعد وہ مُڑ کر بسن کی طرف بڑھے۔ تب بسن کا بادشاہ عوج اپنی تمام فوج لے کر اُن سے لڑنے کے لئے شہر اِدرعی آیا۔3a وہاں سے موسیٰ نے اپنے جاسوس یعزیر شہر بھیجے۔ وہاں بھی اموری رہتے تھے۔ اسرائیلیوں نے یعزیر اور اُس کے ارد گرد کے شہروں پر بھی قبضہ کیا اور وہاں کے اموریوں کو نکال دیا۔Rیوں اسرائیل اموریوں کے ملک میں آباد ہوا۔ I)موآبیوں نے یہ بھی دیکھا کہ اسرائیلی بہت زیادہ ہیں، اِس لئے اُن پر دہشت چھا گئی۔'Iموآب کے بادشاہ بلق بن صفور کو معلوم ہوا کہ اسرائیلیوں نے اموریوں کے ساتھ کیا کچھ کیا ہے۔P اِس کے بعد اسرائیلی موآب کے میدانوں میں پہنچ کر دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر یریحو کے آمنے سامنے خیمہ زن ہوئے۔_9#اسرائیلیوں نے عُوج، اُس کے بیٹوں اور تمام فوج کو ہلاک کر دیا۔ کوئی بھی نہ بچا۔ پھر اُنہوں نے بسن کے ملک پر قبضہ کر لیا۔ ""T#تب بلق نے اپنے قاصد فتور شہر کو بھیجے جو دریائے فرات پر واقع تھا اور جہاں بلعام بن بعور اپنے وطن میں رہتا تھا۔ قاصد اُسے بُلانے کے لئے اُس کے پاس پہنچے اور اُسے بلق کا پیغام سنایا، ”ایک قوم مصر سے نکل آئی ہے جو رُوئے زمین پر چھا کر میرے قریب ہی آباد ہوئی ہے۔اُنہوں نے مِدیانیوں کے بزرگوں سے بات کی، ”اب یہ ہجوم اِس طرح ہمارے ارد گرد کا علاقہ چٹ کر جائے گا جس طرح بَیل میدان کی گھاس چٹ کر جاتا ہے۔“ =;;=z oبلعام نے کہا، ”رات یہاں گزاریں۔ کل مَیں آپ کو بتا دوں گا کہ رب اِس کے بارے میں کیا فرماتا ہے۔“ چنانچہ موآبی سردار اُس کے پاس ٹھہر گئے۔|sیہ پیغام لے کر موآب اور مِدیان کے بزرگ روانہ ہوئے۔ اُن کے پاس انعام کے پیسے تھے۔ بلعام کے پاس پہنچ کر اُنہوں نے اُسے بلق کا پیغام سنایا۔A}اِس لئے آئیں اور اِن لوگوں پر لعنت بھیجیں، کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ پھر شاید مَیں اُنہیں شکست دے کر ملک سے بھگا سکوں۔ کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ جنہیں آپ برکت دیتے ہیں اُنہیں برکت ملتی ہے اور جن پر آپ لعنت بھیجتے ہیں اُن پر لعنت آتی ہے۔“ VS$! رب نے بلعام سے کہا، ”اُن کے ساتھ نہ جانا۔ تجھے اُن پر لعنت بھیجنے کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ اُن پر میری برکت ہے۔“3#a ’جو قوم مصر سے نکل آئی ہے وہ رُوئے زمین پر چھا گئی ہے۔ اِس لئے آئیں اور میرے لئے اُن پر لعنت بھیجیں۔ پھر شاید مَیں اُن سے لڑ کر اُنہیں بھگا دینے میں کامیاب ہو جاؤں‘۔“"  بلعام نے جواب دیا، ”موآب کے بادشاہ بلق بن صفور نے مجھے پیغام بھیجا ہے،&!G رات کے وقت اللہ بلعام پر ظاہر ہوا۔ اُس نے پوچھا، ”یہ آدمی کون ہیں جو تیرے پاس آئے ہیں؟“ 1:(oوہ بلعام کے پاس جا کر کہنے لگے، ”بلق بن صفور کہتے ہیں کہ کوئی بھی بات آپ کو میرے پاس آنے سے نہ روکے،#'Aتب بلق نے اَور سردار بھیجے جو پہلے والوں کی نسبت تعداد اور عُہدے کے لحاظ سے زیادہ تھے۔I& چنانچہ موآبی سردار خالی ہاتھ بلق کے پاس واپس آئے۔ اُنہوں نے کہا، ”بلعام ہمارے ساتھ آنے سے انکار کرتا ہے۔“~%w اگلی صبح بلعام جاگ اُٹھا تو اُس نے بلق کے سرداروں سے کہا، ”اپنے وطن واپس چلے جائیں، کیونکہ رب نے مجھے آپ کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی۔“   E+آپ دوسرے سرداروں کی طرح رات یہاں گزاریں۔ اِتنے میں مَیں معلوم کروں گا کہ رب مجھے مزید کیا کچھ بتاتا ہے۔“1*]لیکن بلعام نے جواب دیا، ”اگر بلق اپنے محل کو چاندی اور سونے سے بھر کر بھی مجھے دے توبھی مَیں رب اپنے خدا کے فرمان کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، خواہ بات چھوٹی ہو یا بڑی۔u)eکیونکہ مَیں آپ کو بڑا انعام دوں گا۔ آپ جو بھی کہیں گے مَیں کرنے کے لئے تیار ہوں۔ آئیں تو سہی اور میرے لئے اُن لوگوں پر لعنت بھیجیں۔“ OI. لیکن اللہ نہایت غصے ہوا کہ وہ جا رہا ہے، اِس لئے اُس کا فرشتہ اُس کا مقابلہ کرنے کے لئے راستے میں کھڑا ہو گیا۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار تھا اور اُس کے دو نوکر اُس کے ساتھ چل رہے تھے۔-'صبح کو بلعام نے اُٹھ کر اپنی گدھی پر زِین کسا اور موآبی سرداروں کے ساتھ چل پڑا۔,!اُس رات اللہ بلعام پر ظاہر ہوا اور کہا، ”چونکہ یہ آدمی تجھے بُلانے آئے ہیں اِس لئے اُن کے ساتھ چلا جا۔ لیکن صرف وہی کچھ کرنا جو مَیں تجھے بتاؤں گا۔“ ?1yگدھی یہ دیکھ کر چاردیواری کے ساتھ ساتھ چلنے لگی، اور بلعام کا پاؤں کچلا گیا۔ اُس نے اُسے دوبارہ مارا۔ 0پھر وہ انگور کے دو باغوں کے درمیان سے گزرنے لگے۔ راستہ تنگ تھا، کیونکہ وہ دونوں طرف باغوں کی چاردیواری سے بند تھا۔ اب رب کا فرشتہ وہاں کھڑا ہوا۔//Yجب گدھی نے دیکھا کہ رب کا فرشتہ اپنے ہاتھ میں تلوار تھامے ہوئے راستے میں کھڑا ہے تو وہ راستے سے ہٹ کر کھیت میں چلنے لگی۔ بلعام اُسے مارتے مارتے راستے پر واپس لے آیا۔ ?RM5بلعام نے جواب دیا، ”تُو نے مجھے بےوقوف بنایا ہے! کاش میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو مَیں ابھی تجھے ذبح کر دیتا!“i4Mتب رب نے گدھی کو بولنے دیا، اور اُس نے بلعام سے کہا، ”مَیں نے آپ سے کیا غلط سلوک کیا ہے کہ آپ مجھے اب تیسری دفعہ پیٹ رہے ہیں؟“?3yجب گدھی نے رب کا فرشتہ دیکھا تو وہ لیٹ گئی۔ بلعام کو غصہ آ گیا، اور اُس نے اُسے اپنی لاٹھی سے خوب مارا۔z2oرب کا فرشتہ آگے نکلا اور تیسری مرتبہ راستے میں کھڑا ہو گیا۔ اب راستے سے ہٹ جانے کی کوئی گنجائش نہیں تھی، نہ دائیں طرف اور نہ بائیں طرف۔ 8  رب کے فرشتے نے پوچھا، ”تُو نے تین بار اپنی گدھی کو کیوں پیٹا؟ مَیں تیرے مقابلے میں آیا ہوں، کیونکہ جس طرف تُو بڑھ رہا ہے اُس کا انجام بُرا ہے۔7/پھر رب نے بلعام کی آنکھیں کھولیں اور اُس نے رب کے فرشتے کو دیکھا جو اب تک ہاتھ میں تلوار تھامے ہوئے راستے میں کھڑا تھا۔ بلعام نے منہ کے بل گر کر سجدہ کیا۔ 6گدھی نے بلعام سے کہا، ”کیا مَیں آپ کی گدھی نہیں ہوں جس پر آپ آج تک سوار ہوتے رہے ہیں؟ کیا مجھے کبھی ایسا کرنے کی عادت تھی؟“ اُس نے کہا، ”نہیں۔“ /;Y#رب کے فرشتے نے کہا، ”اِن آدمیوں کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ۔ لیکن صرف وہی کچھ کہنا جو مَیں تجھے بتاؤں گا۔“ چنانچہ بلعام نے بلق کے سرداروں کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔A:}"بلعام نے رب کے فرشتے سے کہا، ”مَیں نے گناہ کیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ تُو میرے مقابلے میں راستے میں کھڑا ہے۔ لیکن اگر میرا سفر تجھے بُرا لگے تو مَیں اب واپس چلا جاؤں گا۔“h9K!گدھی تین مرتبہ مجھے دیکھ کر میری طرف سے ہٹ گئی۔ اگر وہ نہ ہٹتی تو تُو اِس وقت ہلاک ہو گیا ہوتا اگرچہ مَیں گدھی کو چھوڑ دیتا۔“ N?'پھر بلعام بلق کے ساتھ قِریَت حصات گیا۔p>[&بلعام نے جواب دیا، ”بہر حال اب مَیں پہنچ گیا ہوں۔ لیکن مَیں صرف وہی کچھ کہہ سکتا ہوں جو اللہ نے پہلے ہی میرے منہ میں ڈال دیا ہے۔“=3%اُس نے بلعام سے کہا، ”کیا مَیں نے آپ کو اطلاع نہیں بھیجی تھی کہ آپ ضرور آئیں؟ آپ کیوں نہیں آئے؟ کیا آپ نے سوچا کہ مَیں آپ کو مناسب انعام نہیں دے پاؤں گا؟“b<?$جب بلق کو خبر ملی کہ بلعام آ رہا ہے تو وہ اُس سے ملنے کے لئے موآب کے اُس شہر تک گیا جو موآب کی سرحد دریائے ارنون پر واقع ہے۔ *4]"C?بلق نے ایسا ہی کیا، اور دونوں نے مل کر ہر قربان گاہ پر ایک بَیل اور ایک مینڈھا چڑھایا۔SB #بلعام نے کہا، ”یہاں میرے لئے سات قربان گاہیں بنائیں۔ ساتھ ساتھ میرے لئے سات بَیل اور سات مینڈھے تیار کر رکھیں۔“rA_)اگلی صبح بلق بلعام کو ساتھ لے کر ایک اونچی جگہ پر چڑھ گیا جس کا نام باموت بعل تھا۔ وہاں سے اسرائیلی خیمہ گاہ کا کنارہ نظر آتا تھا۔ R@(وہاں بلق نے گائےبَیل اور بھیڑبکریاں قربان کر کے اُن کے گوشت میں سے بلعام اور اُس کے ساتھ والے سرداروں کو دے دیا۔ Vb!G=بلعام بلق کے پاس واپس آیا جو اب تک موآبی سرداروں کے ساتھ اپنی قربانی کے پاس کھڑا تھا۔%FEتب رب نے اُسے بلق کے لئے پیغام دیا اور کہا، ”بلق کے پاس واپس جا اور اُسے یہ پیغام سنا۔“pE[وہاں اللہ بلعام سے ملا۔ بلعام نے کہا، ”مَیں نے سات قربان گاہیں تیار کر کے ہر قربان گاہ پر ایک بَیل اور ایک مینڈھا قربان کیا ہے۔“&DGپھر بلعام نے بلق سے کہا، ”یہاں اپنی قربانی کے پاس کھڑے رہیں۔ مَیں کچھ فاصلے پر جاتا ہوں، شاید رب مجھ سے ملنے آئے۔ جو کچھ وہ مجھ پر ظاہر کرے مَیں آپ کو بتا دوں گا۔“ یہ کہہ کر وہ ایک اونچے مقام پر چلا گیا جو ہریالی سے بالکل محروم تھا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;EP[fq| - . / 0 1 2 3 4  - . / 0 1 2 3 4 5 6 7  8 !9 ": #; $< %= &> '? (@ )A  B C D E F G H I  J  K  L  M  N O P Q R S T U V W X Y Z [ \ ] ^ _  ` a b c d e f g  h  i  j  k  l m n o p q6$2@N\jx!0?N]l{ />M\kz V  .   ?   <Q   e   z   V  .   ?   <Q   e   z    i  !  '   J  +  "   $+  &v1  )D  + X  -Wm  /  2   7 }      O    !3 gH [ m  9   "  $  & Q (     $  j   -  C  <U ! i  z    T      ' p    7B4$3BQ`o~#1@O^m| />M\kz0  B T  Zh  |  , 0  B T  Zh  |  , r .   D   !79 $N _c y    1  w    I   /1 aJ  (]  t 4 z     L  & & d@ X n 9         Q     $)  #lA  \  u  >  /   ?Jy مَیں اُنہیں چٹانوں کی چوٹی سے دیکھتا ہوں، پہاڑیوں سے اُن کا مشاہدہ کرتا ہوں۔ واقعی یہ ایک ایسی قوم ہے جو دوسروں سے الگ رہتی ہے۔ یہ اپنے آپ کو دوسری قوموں سے ممتاز سمجھتی ہے۔ZI/مَیں کس طرح اُن پر لعنت بھیجوں جن پر اللہ نے لعنت نہیں بھیجی؟ مَیں کس طرح اُنہیں بددعا دوں جنہیں رب نے بددعا نہیں دی؟-HUبلعام بول اُٹھا، ”بلق مجھے اَرام سے یہاں لایا ہے، موآبی بادشاہ نے مجھے مشرقی پہاڑوں سے بُلا کر کہا، ’آؤ، یعقوب پر میرے لئے لعنت بھیجو۔ آؤ، اسرائیل کو بددعا دو۔‘ M5 بلعام نے جواب دیا، ”کیا لازم نہیں کہ مَیں وہی کچھ بولوں جو رب نے بتانے کو کہا ہے؟“L بلق نے بلعام سے کہا، ”آپ نے میرے ساتھ کیا کِیا ہے؟ مَیں آپ کو اپنے دشمنوں پر لعنت بھیجنے کے لئے لایا اور آپ نے اُنہیں اچھی خاصی برکت دی ہے۔“RK کون یعقوب کی اولاد کو گن سکتا ہے جو گرد کی مانند بےشمار ہے۔ کون اسرائیلیوں کا چوتھا حصہ بھی گن سکتا ہے؟ رب کرے کہ مَیں راست بازوں کی موت مروں، کہ میرا انجام اُن کے انجام جیسا اچھا ہو۔“ U;Pqبلعام نے بلق سے کہا، ”یہاں اپنی قربان گاہ کے پاس کھڑے رہیں۔ مَیں کچھ فاصلے پر جا کر رب سے ملوں گا۔“-OUیہ کہہ کر وہ اُس کے ساتھ پِسگہ کی چوٹی پر چڑھ کر پہرے داروں کے میدان تک پہنچ گیا۔ وہاں بھی اُس نے سات قربان گاہیں بنا کر ہر ایک پر ایک بَیل اور ایک مینڈھا قربان کیا۔vNg پھر بلق نے اُس سے کہا، ”آئیں، ہم ایک اَور جگہ جائیں جہاں سے آپ اسرائیلی قوم کو دیکھ سکیں گے، گو اُن کی خیمہ گاہ کا صرف کنارہ ہی نظر آئے گا۔ آپ سب کو نہیں دیکھ سکیں گے۔ وہیں سے اُن پر میرے لئے لعنت بھیجیں۔“ 7]%TEاللہ آدمی نہیں جو جھوٹ بولتا ہے۔ وہ انسان نہیں جو کوئی فیصلہ کر کے بعد میں پچھتائے۔ کیا وہ کبھی اپنی بات پر عمل نہیں کرتا؟ کیا وہ کبھی اپنی بات پوری نہیں کرتا؟Sبلعام نے کہا، ”اے بلق، اُٹھو اور سنو۔ اے صفور کے بیٹے، میری بات پر غور کرو۔VR'وہ واپس چلا گیا۔ بلق اب تک اپنے سرداروں کے ساتھ اپنی قربانی کے پاس کھڑا تھا۔ اُس نے اُس سے پوچھا، ”رب نے کیا کہا؟“EQرب بلعام سے ملا۔ اُس نے اُسے بلق کے لئے پیغام دیا اور کہا، ”بلق کے پاس واپس جا اور اُسے یہ پیغام سنا دے۔“ gTXیعقوب کے گھرانے کے خلاف جادوگری ناکام ہے، اسرائیل کے خلاف غیب دانی بےفائدہ ہے۔ اب یعقوب کے گھرانے سے کہا جائے گا، ’اللہ نے کیسا کام کیا ہے!‘Wاللہ اُنہیں مصر سے نکال لایا، اور اُنہیں جنگلی بَیل کی طاقت حاصل ہے۔Vیعقوب کے گھرانے میں خرابی نظر نہیں آتی، اسرائیل میں دُکھ دکھائی نہیں دیتا۔ رب اُس کا خدا اُس کے ساتھ ہے، اور قوم بادشاہ کی خوشی میں نعرے لگاتی ہے۔U%مجھے برکت دینے کو کہا گیا ہے۔ اُس نے برکت دی ہے اور مَیں یہ برکت روک نہیں سکتا۔ ] S]r\_تب بلق نے بلعام سے کہا، ”آئیں، مَیں آپ کو ایک اَور جگہ لے جاؤں۔ شاید اللہ راضی ہو جائے کہ آپ میرے لئے وہاں سے اُن پر لعنت بھیجیں۔“3[aبلعام نے جواب دیا، ”کیا مَیں نے آپ کو نہیں بتایا تھا کہ جو کچھ بھی رب کہے گا مَیں وہی کروں گا؟“3Zaیہ سن کر بلق نے کہا، ”اگر آپ اُن پر لعنت بھیجنے سے انکار کریں، کم از کم اُنہیں برکت تو نہ دیں۔“;Yqاسرائیلی قوم شیرنی کی طرح اُٹھتی اور شیرببر کی طرح کھڑی ہو جاتی ہے۔ جب تک وہ اپنا شکار نہ کھا لے وہ آرام نہیں کرتا، جب تک وہ مارے ہوئے لوگوں کا خون نہ پی لے وہ نہیں لیٹتا۔“ H\` 5اب بلعام کو اِس بات کا پورا یقین ہو گیا کہ رب کو پسند ہے کہ مَیں اسرائیلیوں کو برکت دوں۔ اِس لئے اُس نے اِس مرتبہ پہلے کی طرح جادوگری کا طریقہ استعمال نہ کیا بلکہ سیدھا ریگستان کی طرف رُخ کیا_1بلق نے ایسا ہی کیا۔ اُس نے ہر ایک قربان گاہ پر ایک بَیل اور ایک مینڈھا قربان کیا۔ ;^qبلعام نے اُس سے کہا، ”میرے لئے یہاں سات قربان گاہیں بنا کر سات بَیل اور سات مینڈھے تیار کر رکھیں۔“4]cوہ اُس کے ساتھ فغور پہاڑ پر چڑھ گیا۔ اُس کی چوٹی سے یردن کی وادی کا جنوبی حصہ یشیمون دکھائی دیا۔ ,K, dاے یعقوب، تیرے خیمے کتنے شاندار ہیں! اے اسرائیل، تیرے گھر کتنے اچھے ہیں![c1اُس کا پیغام جو اللہ کی باتیں سن لیتا ہے، قادرِ مطلق کی رویا کو دیکھ لیتا ہے اور زمین پر گر کر پوشیدہ باتیں دیکھتا ہے۔.bWاور وہ بول اُٹھا، ”بلعام بن بعور کا پیغام سنو، اُس کے پیغام پر غور کرو جو صاف صاف دیکھتا ہے،1a]جہاں اسرائیل اپنے اپنے قبیلوں کی ترتیب سے خیمہ زن تھا۔ یہ دیکھ کر اللہ کا روح اُس پر نازل ہوا، {{Cgاللہ اُنہیں مصر سے نکال لایا، اور اُنہیں جنگلی بَیل کی سی طاقت حاصل ہے۔ وہ مخالف قوموں کو ہڑپ کر کے اُن کی ہڈیاں چُور چُور کر دیتے ہیں، وہ اپنے تیر چلا کر اُنہیں مار ڈالتے ہیں۔ fاُن کی بالٹیوں سے پانی چھلکتا رہے گا، اُن کے بیج کو کثرت کا پانی ملے گا۔ اُن کا بادشاہ اجاج سے زیادہ طاقت ور ہو گا، اور اُن کی سلطنت سرفراز ہو گی۔*eOوہ دُور تک پھیلی ہوئی وادیوں کی مانند، نہر کے کنارے لگے باغوں کی مانند، رب کے لگائے ہوئے عود کے درختوں کی مانند، پانی کے کنارے لگے دیودار کے درختوں کی مانند ہیں۔ YUj% اب دفع ہو جا! اپنے گھر واپس بھاگ جا! مَیں نے کہا تھا کہ بڑا انعام دوں گا۔ لیکن رب نے تجھے انعام پانے سے روک دیا ہے۔“[i1 یہ سن کر بلق آپے سے باہر ہوا۔ اُس نے تالی بجا کر اپنی حقارت کا اظہار کیا اور کہا، ”مَیں نے تجھے اِس لئے بُلایا تھا کہ تُو میرے دشمنوں پر لعنت بھیجے۔ اب تُو نے اُنہیں تینوں بار برکت ہی دی ہے۔Dh اسرائیل شیرببر یا شیرنی کی مانند ہے۔ جب وہ دبک کر بیٹھ جائے تو کوئی بھی اُسے چھیڑنے کی جرٲت نہیں کرتا۔ جو تجھے برکت دے اُسے برکت ملے، اور جو تجھ پر لعنت بھیجے اُس پر لعنت آئے۔“ c?cn#وہ بول اُٹھا، ”بلعام بن بعور کا پیغام سنو، اُس کا پیغام جو صاف صاف دیکھتا ہے،`m;اب مَیں اپنے وطن واپس چلا جاتا ہوں۔ لیکن پہلے مَیں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ آخرکار یہ قوم آپ کی قوم کے ساتھ کیا کچھ کرے گی۔“\l3 کہ اگر بلق اپنے محل کو چاندی اور سونے سے بھر کر بھی مجھے دے دے توبھی مَیں رب کی کسی بات کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، خواہ میری نیت اچھی ہو یا بُری۔ مَیں صرف وہ کچھ کر سکتا ہوں جو اللہ فرماتا ہے۔=ku بلعام نے جواب دیا، ”کیا مَیں نے اُن لوگوں کو جنہیں آپ نے مجھے بُلانے کے لئے بھیجا تھا نہیں بتایا تھا T=quادوم اُس کے قبضے میں آئے گا، اُس کا دشمن سعیر اُس کی ملکیت بنے گا جبکہ اسرائیل کی طاقت بڑھتی جائے گی۔pجسے مَیں دیکھ رہا ہوں وہ اِس وقت نہیں ہے۔ جو مجھے نظر آ رہا ہے وہ قریب نہیں ہے۔ یعقوب کے گھرانے سے ستارہ نکلے گا، اور اسرائیل سے عصائے شاہی اُٹھے گا جو موآب کے ماتھوں اور سیت کے تمام بیٹوں کی کھوپڑیوں کو پاش پاش کرے گا۔o'اُس کا پیغام جو اللہ کی باتیں سن لیتا اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کو جانتا ہے، جو قادرِ مطلق کی رویا کو دیکھ لیتا اور زمین پر گر کر پوشیدہ باتیں دیکھتا ہے۔ *m*Cwکِتّیم کے ساحل سے بحری جہاز آئیں گے جو اسور اور عِبر کو ذلیل کریں گے، لیکن وہ خود بھی ہلاک ہو جائیں گے۔“vایک اَور دفعہ اُس نے بات کی، ”ہائے، کون زندہ رہ سکتا ہے جب اللہ یوں کرے گا؟iuMلیکن تُو تباہ ہو جائے گا جب اسور تجھے گرفتار کرے گا۔“;tqپھر اُس نے قینیوں کو دیکھا اور کہا، ”تیری سکونت گاہ مستحکم ہے، تیرا چٹان میں بنا گھونسلا مضبوط ہے۔:soپھر بلعام نے عمالیق کو دیکھا اور کہا، ”عمالیق قوموں میں اوّل تھا، لیکن آخرکار وہ ختم ہو جائے گا۔“rیعقوب کے گھرانے سے ایک حکمران نکلے گا جو شہر کے بچے ہوؤں کو ہلاک کر دے گا۔“ ~1{]اِس طریقے سے اسرائیلی موآبی دیوتا بنام بعل فغور کی پوجا کرنے لگے، اور رب کا غضب اُن پر آن پڑا۔Qzیہ ایسا ہوا کہ موآبی عورتیں اپنے دیوتاؤں کو قربانیاں پیش کرتے وقت اسرائیلیوں کو شریک ہونے کی دعوت دینے لگیں۔ اسرائیلی دعوت قبول کر کے قربانیوں سے کھانے اور دیوتاؤں کو سجدہ کرنے لگے۔y ;جب اسرائیلی شِطّیم میں رہ رہے تھے تو اسرائیلی مرد موآبی عورتوں سے زناکاری کرنے لگے۔xyپھر بلعام اُٹھ کر اپنے گھر واپس چلا گیا۔ بلق بھی وہاں سے چلا گیا۔ 1~]موسیٰ اور اسرائیل کی پوری جماعت ملاقات کے خیمے کے دروازے پر جمع ہو کر رونے لگے۔ اتفاق سے اُسی وقت ایک آدمی وہاں سے گزرا جو ایک مِدیانی عورت کو اپنے گھر لے جا رہا تھا۔}#چنانچہ موسیٰ نے اسرائیل کے قاضیوں سے کہا، ”لازم ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنے اُن آدمیوں کو جان سے مار دے جو بعل فغور دیوتا کی پوجا میں شریک ہوئے ہیں۔“|اُس نے موسیٰ سے کہا، ”اِس قوم کے تمام راہنماؤں کو سزائے موت دے کر سورج کی روشنی میں رب کے سامنے لٹکا، ورنہ رب کا اسرائیلیوں پر سے غضب نہیں ٹلے گا۔“ tqt*Q رب نے موسیٰ سے کہا،9o توبھی 24,000 افراد مر چکے تھے۔اُس اسرائیلی کے پیچھے چل پڑا۔ وہ عورت سمیت اپنے خیمے میں داخل ہوا تو فینحاس نے اُن کے پیچھے پیچھے جا کر نیزہ اِتنے زور سے مارا کہ وہ دونوں میں سے گزر گیا۔ اُس وقت وبا پھیلنے لگی تھی، لیکن فینحاس کے اِس عمل سے وہ رُک گئی۔ یہ دیکھ کر ہارون کا پوتا فینحاس بن اِلی عزر جماعت سے نکلا اور نیزہ پکڑ کر {  اِس عہد کے تحت اُسے اور اُس کی اولاد کو ابد تک امام کا عُہدہ حاصل رہے گا، کیونکہ اپنے خدا کی خاطر غیرت کھا کر اُس نے اسرائیلیوں کا کفارہ دیا۔“ لہٰذا اُسے بتا دینا کہ مَیں اُس کے ساتھ سلامتی کا عہد قائم کرتا ہوں۔} ”ہارون کے پوتے فینحاس بن اِلی عزر نے اسرائیلیوں پر میرا غصہ ٹھنڈا کر دیا ہے۔ میری غیرت اپنا کر وہ اسرائیل میں دیگر معبودوں کی پوجا کو برداشت نہ کر سکا۔ اِس لئے میری غیرت نے اسرائیلیوں کو نیست و نابود نہیں کیا۔ 1 L1  کیونکہ اُنہوں نے اپنی چالاکیوں سے تمہارے ساتھ دشمن کا سا سلوک کیا، اُنہوں نے تمہیں بعل فغور کی پوجا کرنے پر اُکسایا اور تمہیں اپنی بہن مِدیانی سردار کی بیٹی کزبی کے ذریعے جسے وبا پھیلتے وقت مار دیا گیا بہکایا۔“ ` ;”مِدیانیوں کو دشمن قرار دے کر اُنہیں مار ڈالنا۔*Qرب نے موسیٰ سے کہا،=uمِدیانی عورت کا نام کزبی تھا، اور وہ صور کی بیٹی تھی جو مِدیانیوں کے ایک آبائی گھرانے کا سرپرست تھا۔oYجس آدمی کو مِدیانی عورت کے ساتھ مار دیا گیا اُس کا نام زِمری بن سلو تھا، اور وہ شمعون کے قبیلے کے ایک آبائی گھرانے کا سرپرست تھا۔ n 5موسیٰ اور اِلی عزر نے اسرائیلیوں کو بتایا کہ رب نے اُنہیں کیا حکم دیا ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے موآب کے میدانی علاقے میں یریحو کے سامنے، لیکن دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر مردم شماری کی۔ یہ وہ اسرائیلی آدمی تھے جو مصر سے نکلے تھے۔ 7”پوری اسرائیلی جماعت کی مردم شماری اُن کے آبائی گھرانوں کے مطابق کرنا۔ اُن تمام مردوں کو گننا جو 20 سال یا اِس سے زائد کے ہیں اور جو جنگ لڑنے کے قابل ہیں۔“m  Wوبا کے بعد رب نے موسیٰ اور ہارون کے بیٹے اِلی عزر سے کہا، E  !,7BMWbmx'2=HS^it$/:EP[fq| s t u v w x  y z { s t u v w x  y z { | } ~                                                         ! " # $ % & ' ( ) * + , - 6_6%Eاسرائیل کے پہلوٹھے روبن کے قبیلے کے 43,730 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے حنوکی، فلُّوِی، حصرونی اور کرمی روبن کے بیٹوں حنوک، فلّو، حصرون اور کرمی سے نکلے ہوئے تھے۔5موسیٰ اور اِلی عزر نے اسرائیلیوں کو بتایا کہ رب نے اُنہیں کیا حکم دیا ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے موآب کے میدانی علاقے میں یریحو کے سامنے، لیکن دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر مردم شماری کی۔ یہ وہ اسرائیلی آدمی تھے جو مصر سے نکلے تھے۔ cA} جس کے بیٹے نمُوایل، داتن اور ابیرام تھے۔ داتن اور ابیرام وہی لوگ تھے جنہیں جماعت نے چنا تھا اور جنہوں نے قورح کے گروہ سمیت موسیٰ اور ہارون سے جھگڑتے ہوئے خود رب سے جھگڑا کیا۔H روبن کا بیٹا فلُو اِلیاب کا باپ تھا%Eاسرائیل کے پہلوٹھے روبن کے قبیلے کے 43,730 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے حنوکی، فلُّوِی، حصرونی اور کرمی روبن کے بیٹوں حنوک، فلّو، حصرون اور کرمی سے نکلے ہوئے تھے۔%Eاسرائیل کے پہلوٹھے روبن کے قبیلے کے 43,730 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے حنوکی، فلُّوِی، حصرونی اور کرمی روبن کے بیٹوں حنوک، فلّو، حصرون اور کرمی سے نکلے ہوئے تھے۔ c="? شمعون کے قبیلے کے 22,200 مرد تھے۔ قبیلے کے پانچ کنبے نموایلی، یمینی، یکینی، زارحی اور ساؤلی شمعون کے بیٹوں نموایل، یمین، یکین، زارح اور ساؤل سے نکلے ہوئے تھے۔"? شمعون کے قبیلے کے 22,200 مرد تھے۔ قبیلے کے پانچ کنبے نموایلی، یمینی، یکینی، زارحی اور ساؤلی شمعون کے بیٹوں نموایل، یمین، یکین، زارح اور ساؤل سے نکلے ہوئے تھے۔S! لیکن قورح کی پوری نسل مٹائی نہیں گئی تھی۔C اُس وقت زمین نے اپنا منہ کھول کر اُنہیں قورح سمیت ہڑپ کر لیا تھا۔ اُس کے 250 ساتھی بھی مر گئے تھے جب آگ نے اُنہیں بھسم کر دیا۔ یوں وہ سب اسرائیل کے لئے عبرت انگیز مثال بن گئے تھے۔ ff6gجد کے قبیلے کے 40,500 مرد تھے۔ قبیلے کے سات کنبے صفونی، حجی، سونی، اُزنی، عیری، ارودی اور اریلی جد کے بیٹوں صفون، حجی، سونی، اُزنی، عیری، ارود اور اریلی سے نکلے ہوئے تھے۔6gجد کے قبیلے کے 40,500 مرد تھے۔ قبیلے کے سات کنبے صفونی، حجی، سونی، اُزنی، عیری، ارودی اور اریلی جد کے بیٹوں صفون، حجی، سونی، اُزنی، عیری، ارود اور اریلی سے نکلے ہوئے تھے۔"?شمعون کے قبیلے کے 22,200 مرد تھے۔ قبیلے کے پانچ کنبے نموایلی، یمینی، یکینی، زارحی اور ساؤلی شمعون کے بیٹوں نموایل، یمین، یکین، زارح اور ساؤل سے نکلے ہوئے تھے۔ 6gجد کے قبیلے کے 40,500 مرد تھے۔ قبیلے کے سات کنبے صفونی، حجی، سونی، اُزنی، عیری، ارودی اور اریلی جد کے بیٹوں صفون، حجی، سونی، اُزنی، عیری، ارود اور اریلی سے نکلے ہوئے تھے۔6gجد کے قبیلے کے 40,500 مرد تھے۔ قبیلے کے سات کنبے صفونی، حجی، سونی، اُزنی، عیری، ارودی اور اریلی جد کے بیٹوں صفون، حجی، سونی، اُزنی، عیری، ارود اور اریلی سے نکلے ہوئے تھے۔  p[یہوداہ کے قبیلے کے 76,500 مرد تھے۔ یہوداہ کے دو بیٹے عیر اور اونان مصر آنے سے پہلے کنعان میں مر گئے تھے۔ قبیلے کے تین کنبے سیلانی، فارصی اور زارحی یہوداہ کے بیٹوں سیلہ، فارص اور زارح سے نکلے ہوئے تھے۔ فارص کے دو بیٹوں حصرون اور حمول سے دو کنبے حصرونی اور حمولی نکلے ہوئے تھے۔p[یہوداہ کے قبیلے کے 76,500 مرد تھے۔ یہوداہ کے دو بیٹے عیر اور اونان مصر آنے سے پہلے کنعان میں مر گئے تھے۔ قبیلے کے تین کنبے سیلانی، فارصی اور زارحی یہوداہ کے بیٹوں سیلہ، فارص اور زارح سے نکلے ہوئے تھے۔ فارص کے دو بیٹوں حصرون اور حمول سے دو کنبے حصرونی اور حمولی نکلے ہوئے تھے۔  p [یہوداہ کے قبیلے کے 76,500 مرد تھے۔ یہوداہ کے دو بیٹے عیر اور اونان مصر آنے سے پہلے کنعان میں مر گئے تھے۔ قبیلے کے تین کنبے سیلانی، فارصی اور زارحی یہوداہ کے بیٹوں سیلہ، فارص اور زارح سے نکلے ہوئے تھے۔ فارص کے دو بیٹوں حصرون اور حمول سے دو کنبے حصرونی اور حمولی نکلے ہوئے تھے۔p[یہوداہ کے قبیلے کے 76,500 مرد تھے۔ یہوداہ کے دو بیٹے عیر اور اونان مصر آنے سے پہلے کنعان میں مر گئے تھے۔ قبیلے کے تین کنبے سیلانی، فارصی اور زارحی یہوداہ کے بیٹوں سیلہ، فارص اور زارح سے نکلے ہوئے تھے۔ فارص کے دو بیٹوں حصرون اور حمول سے دو کنبے حصرونی اور حمولی نکلے ہوئے تھے۔ #اِشکار کے قبیلے کے 64,300 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے تولعی، فُوّی، یسوبی اور سِمرونی اِشکار کے بیٹوں تولع، فُوّہ، یسوب اور سِمرون سے نکلے ہوئے تھے۔"اِشکار کے قبیلے کے 64,300 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے تولعی، فُوّی، یسوبی اور سِمرونی اِشکار کے بیٹوں تولع، فُوّہ، یسوب اور سِمرون سے نکلے ہوئے تھے۔!اِشکار کے قبیلے کے 64,300 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے تولعی، فُوّی، یسوبی اور سِمرونی اِشکار کے بیٹوں تولع، فُوّہ، یسوب اور سِمرون سے نکلے ہوئے تھے۔  n&Wیوسف کے دو بیٹوں منسّی اور افرائیم کے الگ الگ قبیلے بنے۔w%iزبولون کے قبیلے کے 60,500 مرد تھے۔ قبیلے کے تین کنبے سردی، ایلونی اور یہلی ایلی زبولون کے بیٹوں سرد، ایلون اور یحلئیل سے نکلے ہوئے تھے۔w$iزبولون کے قبیلے کے 60,500 مرد تھے۔ قبیلے کے تین کنبے سردی، ایلونی اور یہلی ایلی زبولون کے بیٹوں سرد، ایلون اور یحلئیل سے نکلے ہوئے تھے۔ b'?منسّی کے قبیلے کے 52,700 مرد تھے۔ قبیلے کے آٹھ کنبے مکیری، جِلعادی، اِیعزری، خلقی، اسری ایلی، سِکمی، سمیدعی اور حِفری تھے۔ مکیری منسّی کے بیٹے مکیر سے جبکہ جِلعادی مکیر کے بیٹے جِلعاد سے نکلے ہوئے تھے۔ باقی کنبے جِلعاد کے چھ بیٹوں اِیعزر، خلق، اسری ایل، سِکم، سمیدع اور حِفر سے نکلے ہوئے تھے۔ حِفر صلافحاد کا باپ تھا۔ صلافحاد کا کوئی بیٹا نہیں بلکہ پانچ بیٹیاں محلاہ، نوعاہ، حُجلاہ، مِلکاہ اور تِرضہ تھیں۔ b(?منسّی کے قبیلے کے 52,700 مرد تھے۔ قبیلے کے آٹھ کنبے مکیری، جِلعادی، اِیعزری، خلقی، اسری ایلی، سِکمی، سمیدعی اور حِفری تھے۔ مکیری منسّی کے بیٹے مکیر سے جبکہ جِلعادی مکیر کے بیٹے جِلعاد سے نکلے ہوئے تھے۔ باقی کنبے جِلعاد کے چھ بیٹوں اِیعزر، خلق، اسری ایل، سِکم، سمیدع اور حِفر سے نکلے ہوئے تھے۔ حِفر صلافحاد کا باپ تھا۔ صلافحاد کا کوئی بیٹا نہیں بلکہ پانچ بیٹیاں محلاہ، نوعاہ، حُجلاہ، مِلکاہ اور تِرضہ تھیں۔ b)?منسّی کے قبیلے کے 52,700 مرد تھے۔ قبیلے کے آٹھ کنبے مکیری، جِلعادی، اِیعزری، خلقی، اسری ایلی، سِکمی، سمیدعی اور حِفری تھے۔ مکیری منسّی کے بیٹے مکیر سے جبکہ جِلعادی مکیر کے بیٹے جِلعاد سے نکلے ہوئے تھے۔ باقی کنبے جِلعاد کے چھ بیٹوں اِیعزر، خلق، اسری ایل، سِکم، سمیدع اور حِفر سے نکلے ہوئے تھے۔ حِفر صلافحاد کا باپ تھا۔ صلافحاد کا کوئی بیٹا نہیں بلکہ پانچ بیٹیاں محلاہ، نوعاہ، حُجلاہ، مِلکاہ اور تِرضہ تھیں۔ b*? منسّی کے قبیلے کے 52,700 مرد تھے۔ قبیلے کے آٹھ کنبے مکیری، جِلعادی، اِیعزری، خلقی، اسری ایلی، سِکمی، سمیدعی اور حِفری تھے۔ مکیری منسّی کے بیٹے مکیر سے جبکہ جِلعادی مکیر کے بیٹے جِلعاد سے نکلے ہوئے تھے۔ باقی کنبے جِلعاد کے چھ بیٹوں اِیعزر، خلق، اسری ایل، سِکم، سمیدع اور حِفر سے نکلے ہوئے تھے۔ حِفر صلافحاد کا باپ تھا۔ صلافحاد کا کوئی بیٹا نہیں بلکہ پانچ بیٹیاں محلاہ، نوعاہ، حُجلاہ، مِلکاہ اور تِرضہ تھیں۔ b+?!منسّی کے قبیلے کے 52,700 مرد تھے۔ قبیلے کے آٹھ کنبے مکیری، جِلعادی، اِیعزری، خلقی، اسری ایلی، سِکمی، سمیدعی اور حِفری تھے۔ مکیری منسّی کے بیٹے مکیر سے جبکہ جِلعادی مکیر کے بیٹے جِلعاد سے نکلے ہوئے تھے۔ باقی کنبے جِلعاد کے چھ بیٹوں اِیعزر، خلق، اسری ایل، سِکم، سمیدع اور حِفر سے نکلے ہوئے تھے۔ حِفر صلافحاد کا باپ تھا۔ صلافحاد کا کوئی بیٹا نہیں بلکہ پانچ بیٹیاں محلاہ، نوعاہ، حُجلاہ، مِلکاہ اور تِرضہ تھیں۔ b,?"منسّی کے قبیلے کے 52,700 مرد تھے۔ قبیلے کے آٹھ کنبے مکیری، جِلعادی، اِیعزری، خلقی، اسری ایلی، سِکمی، سمیدعی اور حِفری تھے۔ مکیری منسّی کے بیٹے مکیر سے جبکہ جِلعادی مکیر کے بیٹے جِلعاد سے نکلے ہوئے تھے۔ باقی کنبے جِلعاد کے چھ بیٹوں اِیعزر، خلق، اسری ایل، سِکم، سمیدع اور حِفر سے نکلے ہوئے تھے۔ حِفر صلافحاد کا باپ تھا۔ صلافحاد کا کوئی بیٹا نہیں بلکہ پانچ بیٹیاں محلاہ، نوعاہ، حُجلاہ، مِلکاہ اور تِرضہ تھیں۔ 44b.?$افرائیم کے قبیلے کے 32,500 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے سوتلحی، بِکری، تحنی اور عیرانی تھے۔ پہلے تین کنبے افرائیم کے بیٹوں سوتلح، بِکر اور تحن سے جبکہ عیرانی سُوتلح کے بیٹے عیران سے نکلے ہوئے تھے۔b-?#افرائیم کے قبیلے کے 32,500 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے سوتلحی، بِکری، تحنی اور عیرانی تھے۔ پہلے تین کنبے افرائیم کے بیٹوں سوتلح، بِکر اور تحن سے جبکہ عیرانی سُوتلح کے بیٹے عیران سے نکلے ہوئے تھے۔ 60g&بن یمین کے قبیلے کے 45,600 مرد تھے۔ قبیلے کے سات کنبے بِلعی، اشبیلی، اخیرامی، سوفامی، حوفامی، اردی اور نَعمانی تھے۔ پہلے پانچ کنبے بن یمین کے بیٹوں بِلع، اشبیل، اخیرام، سُوفام اور حوفام سے جبکہ اردی اور نعمانی بلع کے بیٹوں سے نکلے ہوئے تھے۔b/?%افرائیم کے قبیلے کے 32,500 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے سوتلحی، بِکری، تحنی اور عیرانی تھے۔ پہلے تین کنبے افرائیم کے بیٹوں سوتلح، بِکر اور تحن سے جبکہ عیرانی سُوتلح کے بیٹے عیران سے نکلے ہوئے تھے۔ F62g(بن یمین کے قبیلے کے 45,600 مرد تھے۔ قبیلے کے سات کنبے بِلعی، اشبیلی، اخیرامی، سوفامی، حوفامی، اردی اور نَعمانی تھے۔ پہلے پانچ کنبے بن یمین کے بیٹوں بِلع، اشبیل، اخیرام، سُوفام اور حوفام سے جبکہ اردی اور نعمانی بلع کے بیٹوں سے نکلے ہوئے تھے۔61g'بن یمین کے قبیلے کے 45,600 مرد تھے۔ قبیلے کے سات کنبے بِلعی، اشبیلی، اخیرامی، سوفامی، حوفامی، اردی اور نَعمانی تھے۔ پہلے پانچ کنبے بن یمین کے بیٹوں بِلع، اشبیل، اخیرام، سُوفام اور حوفام سے جبکہ اردی اور نعمانی بلع کے بیٹوں سے نکلے ہوئے تھے۔ F35a+دان کے قبیلے کے 64,400 مرد تھے۔ سب دان کے بیٹے سُوحام سے نکلے ہوئے تھے، اِس لئے سوحامی کہلاتے تھے۔34a*دان کے قبیلے کے 64,400 مرد تھے۔ سب دان کے بیٹے سُوحام سے نکلے ہوئے تھے، اِس لئے سوحامی کہلاتے تھے۔63g)بن یمین کے قبیلے کے 45,600 مرد تھے۔ قبیلے کے سات کنبے بِلعی، اشبیلی، اخیرامی، سوفامی، حوفامی، اردی اور نَعمانی تھے۔ پہلے پانچ کنبے بن یمین کے بیٹوں بِلع، اشبیل، اخیرام، سُوفام اور حوفام سے جبکہ اردی اور نعمانی بلع کے بیٹوں سے نکلے ہوئے تھے۔ ~?~=7u-آشر کے قبیلے کے 53,400 مرد تھے۔ قبیلے کے بانچ کنبے یِمنی، اِسوی، بریعہی، حبری اور ملکی ایلی تھے۔ پہلے تین کنبے آشر کے بیٹوں یِمنہ، اِسوی اور بریعاہ سے جبکہ باقی بریعہ کے بیٹوں حِبر اور ملکی ایل سے نکلے ہوئے تھے۔ آشر کی ایک بیٹی بنام سِرح بھی تھی۔=6u,آشر کے قبیلے کے 53,400 مرد تھے۔ قبیلے کے بانچ کنبے یِمنی، اِسوی، بریعہی، حبری اور ملکی ایلی تھے۔ پہلے تین کنبے آشر کے بیٹوں یِمنہ، اِسوی اور بریعاہ سے جبکہ باقی بریعہ کے بیٹوں حِبر اور ملکی ایل سے نکلے ہوئے تھے۔ آشر کی ایک بیٹی بنام سِرح بھی تھی۔ ~?~=9u/آشر کے قبیلے کے 53,400 مرد تھے۔ قبیلے کے بانچ کنبے یِمنی، اِسوی، بریعہی، حبری اور ملکی ایلی تھے۔ پہلے تین کنبے آشر کے بیٹوں یِمنہ، اِسوی اور بریعاہ سے جبکہ باقی بریعہ کے بیٹوں حِبر اور ملکی ایل سے نکلے ہوئے تھے۔ آشر کی ایک بیٹی بنام سِرح بھی تھی۔=8u.آشر کے قبیلے کے 53,400 مرد تھے۔ قبیلے کے بانچ کنبے یِمنی، اِسوی، بریعہی، حبری اور ملکی ایلی تھے۔ پہلے تین کنبے آشر کے بیٹوں یِمنہ، اِسوی اور بریعاہ سے جبکہ باقی بریعہ کے بیٹوں حِبر اور ملکی ایل سے نکلے ہوئے تھے۔ آشر کی ایک بیٹی بنام سِرح بھی تھی۔ YY*>Q4رب نے موسیٰ سے کہا،M=3اسرائیلی مردوں کی کُل تعداد 6,01,730 تھی۔ <2نفتالی کے قبیلے کے 45,400 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے یحصئیلی، جونی، یصری اور سِلیمی نفتالی کے بیٹوں یحصئیل، جونی، یصر اور سِلیم سے نکلے ہوئے تھے۔ ;1نفتالی کے قبیلے کے 45,400 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے یحصئیلی، جونی، یصری اور سِلیمی نفتالی کے بیٹوں یحصئیل، جونی، یصر اور سِلیم سے نکلے ہوئے تھے۔ :0نفتالی کے قبیلے کے 45,400 مرد تھے۔ قبیلے کے چار کنبے یحصئیلی، جونی، یصری اور سِلیمی نفتالی کے بیٹوں یحصئیل، جونی، یصر اور سِلیم سے نکلے ہوئے تھے۔ n|Bs8قرعہ ڈالنے سے فیصلہ کیا جائے کہ ہر قبیلے کو کہاں زمین ملے گی۔ لیکن ہر قبیلے کے علاقے کا رقبہ اِس پر مبنی ہو کہ قبیلے کے کتنے افراد ہیں۔“|As7قرعہ ڈالنے سے فیصلہ کیا جائے کہ ہر قبیلے کو کہاں زمین ملے گی۔ لیکن ہر قبیلے کے علاقے کا رقبہ اِس پر مبنی ہو کہ قبیلے کے کتنے افراد ہیں۔“2@_6بڑے قبیلوں کو چھوٹے کی نسبت زیادہ زمین دی جائے۔ ہر قبیلے کا علاقہ اُس کی تعداد سے مطابقت رکھے۔?5”جب ملکِ کنعان کو تقسیم کیا جائے گا تو زمین اِن کی تعداد کے مطابق دینا ہے۔ 5~4G =لیکن ندب اور ابیہو رب کو بخور کی ناجائز قربانی پیش کرنے کے باعث مر گئے۔bF?<ہارون کے بیٹے ندب، ابیہو، اِلی عزر اور اِتمر تھے۔aE=;عمرام نے لاوی عورت یوکبد سے شادی کی جو مصر میں پیدا ہوئی تھی۔ اُن کے دو بیٹے ہارون اور موسیٰ اور ایک بیٹی مریم پیدا ہوئے۔3Da:اِس کے علاوہ لِبنی، حبرونی، محلی، مُوشی اور قورحی بھی لاوی کے کنبے تھے۔ قہات عمرام کا باپ تھا۔GC 9لاوی کے قبیلے کے تین کنبے جیرسونی، قہاتی اور مراری لاوی کے بیٹوں جیرسون، قہات اور مراری سے نکلے ہوئے تھے۔ kJQ@لوگوں کو گنتے گنتے اُنہیں معلوم ہوا کہ جو لوگ دشتِ صین میں موسیٰ اور ہارون کی پہلی مردم شماری میں گنے گئے تھے وہ سب مر چکے ہیں۔rI_?یوں موسیٰ اور اِلی عزر نے موآب کے میدانی علاقے میں یریحو کے سامنے لیکن دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر اسرائیلیوں کی مردم شماری کی۔^H7>لاویوں کے مردوں کی کُل تعداد 23,000 تھی۔ اِن میں وہ سب شامل تھے جو ایک ماہ یا اِس سے زائد کے تھے۔ اُنہیں دوسرے اسرائیلیوں سے الگ گنا گیا، کیونکہ اُنہیں اسرائیل میں میراث میں زمین نہیں ملنی تھی۔ eMEصلافحاد کی بیٹیاں ملاقات کے خیمے کے دروازے پر آ کر موسیٰ، اِلی عزر امام اور پوری جماعت کے سامنے کھڑی ہوئیں۔ اُنہوں نے کہا،QL صلافحاد کی پانچ بیٹیاں محلاہ، نوعاہ، حُجلاہ، مِلکاہ اور تِرضہ تھیں۔ صلافحاد یوسف کے بیٹے منسّی کے کنبے کا تھا۔ اُس کا پورا نام صلافحاد بن حِفر بن جِلعاد بن مکیر بن منسّی بن یوسف تھا۔]K5Aرب نے کہا تھا کہ وہ سب کے سب ریگستان میں مر جائیں گے، اور ایسا ہی ہوا تھا۔ صرف کالب بن یفُنّہ اور یشوع بن نون زندہ رہے۔ ` +QSتو رب نے اُس سے کہا،TP#موسیٰ نے اُن کا معاملہ رب کے سامنے پیش کیا1O]کیا یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے خاندان میں بیٹا نہ ہونے کے باعث ہمیں زمین نہ ملے اور ہمارے باپ کا نام و نشان مٹ جائے؟ ہمیں بھی ہمارے باپ کے دیگر رشتے داروں کے ساتھ زمین دیں۔“gNI”ہمارا باپ ریگستان میں فوت ہوا۔ لیکن وہ قورح کے اُن ساتھیوں میں سے نہیں تھا جو رب کے خلاف متحد ہوئے تھے۔ وہ اِس سبب سے نہ مرا بلکہ اپنے ذاتی گناہ کے باعث۔ جب وہ مر گیا تو اُس کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ /U اگر اُس کے بھائی بھی نہ ہوں تو اُس کے باپ کے بھائیوں کو اُس کی میراث مل جائے۔T} اگر اُس کی بیٹی بھی نہ ہو تو اُس کے بھائیوں کو اُس کی میراث مل جائے۔HS اسرائیلیوں کو بھی بتانا کہ جب بھی کوئی آدمی مر جائے جس کا بیٹا نہ ہو تو اُس کی بیٹی کو اُس کی میراث مل جائے۔R}”جو بات صلافحاد کی بیٹیاں کر رہی ہیں وہ درست ہے۔ اُنہیں ضرور اُن کے باپ کے رشتے داروں کے ساتھ زمین ملنی چاہئے۔ اُنہیں باپ کا ورثہ مل جائے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq| / 0 1 2 3 4 5 6 7 / 0 1 2 3 4 5 6 7 8 9 : ; < = > ? @ A                                                               %XE اُسے دیکھنے کے بعد تُو بھی اپنے بھائی ہارون کی طرح کوچ کر کے اپنے باپ دادا سے جا ملے گا،`W; پھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”عباریم کے پہاڑی سلسلے کے مذکور پہاڑ پر چڑھ کر اُس ملک پر نگاہ ڈال جو مَیں اسرائیلیوں کو دوں گا۔pV[ اگر یہ بھی نہ ہوں تو اُس کے سب سے قریبی رشتے دار کو اُس کی میراث مل جائے۔ وہ اُس کی ذاتی ملکیت ہو گی۔ یہ اصول اسرائیلیوں کے لئے قانونی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ اِسے ویسا مانیں جیسا رب نے موسیٰ کو حکم دیا ہے۔“ [.=\uجو اُن کے آگے آگے جنگ کے لئے نکلے اور اُن کے آگے آگے واپس آ جائے، جو اُنہیں باہر لے جائے اور واپس لے آئے۔ ورنہ رب کی جماعت اُن بھیڑوں کی مانند ہو گی جن کا کوئی چرواہا نہ ہو۔“d[C”اے رب، تمام جانوں کے خدا، جماعت پر راہنما مقرر کر*ZQموسیٰ نے رب سے کہا،!Y=کیونکہ تم دونوں نے دشتِ صین میں میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔ اُس وقت جب پوری جماعت نے مریبہ میں میرے خلاف گلہ شکوہ کیا تو تُو نے چٹان سے پانی نکالتے وقت لوگوں کے سامنے میری قدوسیت قائم نہ رکھی۔“ (مریبہ دشتِ صین کے قادس میں چشمہ ہے۔) PIP`9رب کی مرضی جاننے کے لئے وہ اِلی عزر امام کے سامنے کھڑا ہو گا تو اِلی عزر رب کے سامنے اُوریم اور تُمیم استعمال کر کے اُس کی مرضی دریافت کرے گا۔ اُسی کے حکم پر یشوع اور اسرائیل کی پوری جماعت خیمہ گاہ سے نکلیں گے اور واپس آئیں گے۔“_اپنے اختیار میں سے کچھ اُسے دے تاکہ اسرائیل کی پوری جماعت اُس کی اطاعت کرے۔>^wاُسے اِلی عزر امام اور پوری جماعت کے سامنے کھڑا کر کے اُن کے رُوبرُو ہی اُسے راہنمائی کی ذمہ داری دے۔3]aجواب میں رب نے موسیٰ سے کہا، ”یشوع بن نون کو چن لے جس میں میرا روح ہے، اور اپنا ہاتھ اُس پر رکھ۔ >\xz>|fsایک کو صبح کے وقت پیش کرنا اور دوسرے کو سورج کے ڈوبنے کے عین بعد۔9emرب کو جلنے والی یہ قربانی پیش کرنا: روزانہ بھیڑ کے دو یکسالہ بچے جو بےعیب ہوں پورے طور پر جلا دینا۔zdo”اسرائیلیوں کو بتانا، خیال رکھو کہ تم مقررہ اوقات پر مجھے جلنے والی قربانیاں پیش کرو۔ یہ میری روٹی ہیں اور اِن کی خوشبو مجھے پسند ہے۔)c Qرب نے موسیٰ سے کہا،4bcپھر اُس نے اُس پر اپنے ہاتھ رکھ کر اُسے راہنمائی کی ذمہ داری سونپی جس طرح رب نے اُسے بتایا تھا۔ a;موسیٰ نے ایسا ہی کیا۔ اُس نے یشوع کو چن کر اِلی عزر اور پوری جماعت کے سامنے کھڑا کیا۔ %%gjIساتھ ہی ایک لٹر شراب بھی نذر کے طور پر قربان گاہ پر ڈالی جائے۔ صبح اور شام کی یہ قربانیاں دونوں ہی اِس طریقے سے پیش کی جائیں۔giIساتھ ہی ایک لٹر شراب بھی نذر کے طور پر قربان گاہ پر ڈالی جائے۔ صبح اور شام کی یہ قربانیاں دونوں ہی اِس طریقے سے پیش کی جائیں۔zhoیہ روزمرہ کی قربانی ہے جو پورے طور پر جلائی جاتی ہے اور پہلی دفعہ سینا پہاڑ پر چڑھائی گئی۔ اِس جلنے والی قربانی کی خوشبو رب کو پسند ہے۔gبھیڑ کے بچے کے ساتھ غلہ کی نذر بھی پیش کی جائے یعنی ڈیڑھ کلو گرام بہترین میدہ جو ایک لٹر زیتون کے کوٹ کر نکالے ہوئے تیل کے ساتھ ملایا گیا ہو۔  my ہر ماہ کے شروع میں رب کو بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر دو جوان بَیل، ایک مینڈھا اور بھیڑ کے سات یک سالہ بچے پیش کرنا۔ سب بغیر نقص کے ہوں۔#lA بھسم ہونے والی یہ قربانی ہر ہفتے کے دن پیش کرنی ہے۔ یہ روزمرہ کی قربانیوں کے علاوہ ہے۔Jk سبت کے دن بھیڑ کے دو اَور بچے چڑھانا۔ وہ بھی بےعیب اور ایک سال کے ہوں۔ ساتھ ہی مَے اور غلہ کی نذریں بھی پیش کی جائیں۔ غلہ کی نذر کے لئے 3 کلو گرام بہترین میدہ تیل کے ساتھ ملایا جائے۔ "pاِن قربانیوں کے ساتھ مَے کی نذر بھی قربان گاہ پر ڈالنا یعنی ہر بَیل کے ساتھ دو لٹر، ہر مینڈھے کے ساتھ سوا لٹر اور بھیڑ کے ہر بچے کے ساتھ ایک لٹر مَے پیش کرنا۔ یہ قربانی سال میں ہر مہینے کے پہلے دن کے موقع پر پیش کرنی ہے۔8ok اور بھیڑ کے ہر بچے کے ساتھ ڈیڑھ کلو گرام میدہ پیش کرنا۔ بھسم ہونے والی یہ قربانیاں رب کو پسند ہیں۔n7 ہر جانور کے ساتھ غلہ کی نذر پیش کرنا جس کے لئے تیل میں ملایا گیا بہترین میدہ استعمال کیا جائے۔ ہر بَیل کے ساتھ ساڑھے 4 کلو گرام، ہر مینڈھے کے ساتھ 3 کلو گرام NHfuGرب کے حضور بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر دو جوان بَیل، ایک مینڈھا اور بھیڑ کے سات یکسالہ بچے پیش کرنا۔ سب بغیر نقص کے ہوں۔pt[پہلے دن کام نہ کرنا بلکہ مُقدّس اجتماع کے لئے اکٹھے ہونا۔!s=اگلے دن پورے ہفتے کی وہ عید شروع ہوتی ہے جس کے دوران تمہیں صرف بےخمیری روٹی کھانی ہے۔^r7پہلے مہینے کے چودھویں دن فسح کی عید منائی جائے۔.qWاِس قربانی اور روزمرہ کی قربانیوں کے علاوہ رب کو ایک بکرا گناہ کی قربانی کے طور پر پیش کرنا۔ b{yqاِن تمام قربانیوں کو عید کے دوران ہر روز پیش کرنا۔ یہ روزمرہ کی بھسم ہونے والی قربانیوں کے علاوہ ہیں۔ اِس خوراک کی خوشبو رب کو پسند ہے۔xگناہ کی قربانی کے طور پر ایک بکرا بھی پیش کرنا تاکہ تمہارا کفارہ دیا جائے۔kwQاور بھیڑ کے ہر بچے کے ساتھ ڈیڑھ کلو گرام میدہ پیش کرنا۔,vSہر جانور کے ساتھ غلہ کی نذر بھی پیش کرنا جس کے لئے تیل کے ساتھ ملایا گیا بہترین میدہ استعمال کیا جائے۔ ہر بَیل کے ساتھ ساڑھے 4 کلو گرام، ہر مینڈھے کے ساتھ 3 کلو گرام HHB}اُس دن دو جوان بَیل، ایک مینڈھا اور بھیڑ کے سات یکسالہ بچے قربان گاہ پر پورے طور پر جلا دینا۔ اِس کے ساتھ غلہ اور مَے کی وہی نذریں پیش کرنا جو فسح کی عید پر بھی پیش کی جاتی ہیں۔x|kفصل کی کٹائی کے پہلے دن کی عید پر جب تم رب کو اپنی فصل کی پہلی پیداوار پیش کرتے ہو تو کام نہ کرنا بلکہ مُقدّس اجتماع کے لئے اکٹھے ہونا۔t{cساتویں دن کام نہ کرنا بلکہ مُقدّس اجتماع کے لئے اکٹھے ہونا۔{zqاِن تمام قربانیوں کو عید کے دوران ہر روز پیش کرنا۔ یہ روزمرہ کی بھسم ہونے والی قربانیوں کے علاوہ ہیں۔ اِس خوراک کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ tcAیہ تمام قربانیاں روزمرہ کی بھسم ہونے والی قربانیوں اور اُن کے ساتھ والی غلہ اور مَے کی نذروں کے علاوہ ہیں۔ وہ بےعیب ہوں۔ tcاِس کے علاوہ رب کو ایک بکرا گناہ کی قربانی کے طور پر چڑھانا۔Bاُس دن دو جوان بَیل، ایک مینڈھا اور بھیڑ کے سات یکسالہ بچے قربان گاہ پر پورے طور پر جلا دینا۔ اِس کے ساتھ غلہ اور مَے کی وہی نذریں پیش کرنا جو فسح کی عید پر بھی پیش کی جاتی ہیں۔B~اُس دن دو جوان بَیل، ایک مینڈھا اور بھیڑ کے سات یکسالہ بچے قربان گاہ پر پورے طور پر جلا دینا۔ اِس کے ساتھ غلہ اور مَے کی وہی نذریں پیش کرنا جو فسح کی عید پر بھی پیش کی جاتی ہیں۔of(flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|w{~   £#w{~   £#ã&ģ'ţ(ƣ)ǣ*ȣ+ɣ,ʣ.ˣ0̣2ͣ5Σ7ϣ9У>ѣBңGӣJԣMգQ֣UأX٣\ڣ`ۣfܣjݣmޣpߣuy}  !$(-047=BDHMOSV\^`cegjn r u y |  !&'()*+,-. /!0"1#2$3%4&5'6 2&kQاور بھیڑ کے ہر بچے کے ساتھ ڈیڑھ کلو گرام میدہ پیش کرنا۔"?ہر جانور کے ساتھ غلہ کی نذر بھی پیش کرنا جس کے لئے تیل کے ساتھ ملایا گیا بہترین میدہ استعمال کیا جائے۔ بَیل کے ساتھ ساڑھے 4 کلو گرام، مینڈھے کے ساتھ 3 کلو گرام رب کو بھسم ہونے والی قربانی پیش کی جائے جس کی خوشبو اُسے پسند ہو یعنی ایک جوان بَیل، ایک مینڈھا اور بھیڑ کے سات یکسالہ بچے۔ سب نقص کے بغیر ہوں۔J ساتویں ماہ کے پندرھویں دن بھی کام نہ کرنا بلکہ مُقدّس اجتماع کے لئے اکٹھے ہونا۔ اِس دن نرسنگے پھونکے جائیں۔ (ns( }رب کو وہی قربانیاں پیش کرنا جو اِسی مہینے کے پہلے دن پیش کی جاتی ہیں۔ صرف ایک فرق ہے، اِس دن ایک نہیں بلکہ دو بکرے گناہ کی قربانی کے طور پر پیش کئے جائیں تاکہ تمہارا کفارہ دیا جائے۔ ایسی قربانیاں رب کو پسند ہیں۔Bساتویں مہینے کے دسویں دن مُقدّس اجتماع کے لئے اکٹھے ہونا۔ اِس دن کام نہ کرنا اور اپنی جان کو دُکھ دینا۔wiیہ قربانیاں روزانہ اور ہر ماہ کے پہلے دن کی قربانیوں اور اُن کے ساتھ کی غلہ اور مَے کی نذروں کے علاوہ ہیں۔ اِن کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ایک بکرا بھی گناہ کی قربانی کے طور پر پیش کرنا تاکہ تمہارا کفارہ دیا جائے۔ { } رب کو وہی قربانیاں پیش کرنا جو اِسی مہینے کے پہلے دن پیش کی جاتی ہیں۔ صرف ایک فرق ہے، اِس دن ایک نہیں بلکہ دو بکرے گناہ کی قربانی کے طور پر پیش کئے جائیں تاکہ تمہارا کفارہ دیا جائے۔ ایسی قربانیاں رب کو پسند ہیں۔ } رب کو وہی قربانیاں پیش کرنا جو اِسی مہینے کے پہلے دن پیش کی جاتی ہیں۔ صرف ایک فرق ہے، اِس دن ایک نہیں بلکہ دو بکرے گناہ کی قربانی کے طور پر پیش کئے جائیں تاکہ تمہارا کفارہ دیا جائے۔ ایسی قربانیاں رب کو پسند ہیں۔ z{z3 عید کے پہلے دن رب کو 13 جوان بَیل، 2 مینڈھے اور 14 بھیڑ کے یکسالہ بچے بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کرنا۔ اِن کی خوشبو اُسے پسند ہے۔ سب نقص کے بغیر ہوں۔] 5 ساتویں مہینے کے پندرھویں دن بھی کام نہ کرنا بلکہ مُقدّس اجتماع کے لئے اکٹھے ہونا۔ سات دن تک رب کی تعظیم میں عید منانا۔ } رب کو وہی قربانیاں پیش کرنا جو اِسی مہینے کے پہلے دن پیش کی جاتی ہیں۔ صرف ایک فرق ہے، اِس دن ایک نہیں بلکہ دو بکرے گناہ کی قربانی کے طور پر پیش کئے جائیں تاکہ تمہارا کفارہ دیا جائے۔ ایسی قربانیاں رب کو پسند ہیں۔ <k<+Qاِس کے علاوہ ایک بکرا بھی گناہ کی قربانی کے طور پر پیش کرنا۔ یہ قربانیاں روزانہ کی بھسم ہونے والی قربانیوں اور اُن کے ساتھ والی غلہ اور مَے کی نذروں کے علاوہ ہیں۔kQاور بھیڑ کے ہر بچے کے ساتھ ڈیڑھ کلو گرام میدہ پیش کرنا۔#Aہر جانور کے ساتھ غلہ کی نذر بھی پیش کرنا جس کے لئے تیل سے ملایا گیا بہترین میدہ استعمال کیا جائے۔ ہر بَیل کے ساتھ ساڑھے 4 کلو گرام، ہر مینڈھے کے ساتھ 3 کلو گرام T(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔ T(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔ T(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔ T(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔ E  "-7BMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr}                                                    ! !" "# #$ $% %& &' '( ()  * + , - . / 0 1  2  3  4  5  6 7 8 9  : ; < = > ? @ A  B  C T(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔ T(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔ T(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔(Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔ T(!K عید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔( Kعید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔ $T$${#عید کے آٹھویں دن کام نہ کرنا بلکہ مُقدّس اجتماع کے لئے اکٹھے ہونا۔(#K"عید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔("K!عید کے باقی چھ دن یہی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ لیکن ہر دن ایک بَیل کم ہو یعنی دوسرے دن 12، تیسرے دن 11، چوتھے دن 10، پانچویں دن 9، چھٹے دن 8 اور ساتویں دن 7 بَیل۔ ہر دن گناہ کی قربانی کے لئے بکرا اور معمول کی روزانہ کی قربانیاں بھی پیش کرنا۔ ^l^ ('یہ سب وہی قربانیاں ہیں جو تمہیں رب کو اپنی عیدوں پر پیش کرنی ہیں۔ یہ اُن تمام قربانیوں کے علاوہ ہیں جو تم دلی خوشی سے یا مَنت مان کر دیتے ہو، چاہے وہ بھسم ہونے والی، غلہ کی، مَے کی یا سلامتی کی قربانیاں کیوں نہ ہوں۔“}'u&ساتھ ہی وہ تمام قربانیاں بھی پیش کرنا جو پہلے دن پیش کی جاتی ہیں۔}&u%ساتھ ہی وہ تمام قربانیاں بھی پیش کرنا جو پہلے دن پیش کی جاتی ہیں۔%$رب کو ایک جوان بَیل، ایک مینڈھا اور بھیڑ کے سات یکسالہ بچے بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کرنا۔ اِن کی خوشبو رب کو پسند ہے۔ سب نقص کے بغیر ہوں۔ (@\R-تو لازم ہے کہ وہ اپنی مَنت یا قَسم کی ہر بات پوری کرے۔ شرط یہ ہے کہ اُس کا باپ اِس کے بارے میں سن کر اعتراض نہ کرے۔`,;اگر کوئی جوان عورت جو اب تک اپنے باپ کے گھر میں رہتی ہے رب کو کچھ دینے کی مَنت مانے یا کسی چیز سے پرہیز کرنے کی قَسم کھائےd+Cاگر کوئی آدمی رب کو کچھ دینے کی مَنت مانے یا کسی چیز سے پرہیز کرنے کی قَسم کھائے تو وہ اپنی بات پر قائم رہ کر اُسے پورا کرے۔i* Oپھر موسیٰ نے قبیلوں کے سرداروں سے کہا، ”رب فرماتا ہے،i)M(موسیٰ نے رب کی یہ تمام ہدایات اسرائیلیوں کو بتا دیں۔ ztzv0gشادی شدہ حالت میں بھی لازم ہے کہ وہ اپنی مَنت یا قَسم کی ہر بات پوری کرے۔ شرط یہ ہے کہ اُس کا شوہر اِس کے بارے میں سن کر اعتراض نہ کرے۔>/wہو سکتا ہے کہ کسی غیرشادی شدہ عورت نے مَنت مانی یا کسی چیز سے پرہیز کرنے کی قَسم کھائی، چاہے اُس نے دانستہ طور پر یا بےسوچے سمجھے ایسا کیا۔ اِس کے بعد اُس عورت نے شادی کر لی۔F.لیکن اگر اُس کا باپ یہ سن کر اُسے ایسا کرنے سے منع کرے تو اُس کی مَنت یا قَسم منسوخ ہے، اور وہ اُسے پورا کرنے سے بَری ہے۔ رب اُسے معاف کرے گا، کیونکہ اُس کے باپ نے اُسے منع کیا ہے۔ 84k تو لازم ہے کہ وہ اپنی ہر بات پوری کرے۔ شرط یہ ہے کہ اُس کا شوہر اِس کے بارے میں سن کر اعتراض نہ کرے۔ 3 اگر کسی شادی شدہ عورت نے مَنت مانی یا کسی چیز سے پرہیز کرنے کی قَسم کھائی]25 اگر کسی بیوہ یا طلاق شدہ عورت نے مَنت مانی یا کسی چیز سے پرہیز کرنے کی قَسم کھائی تو لازم ہے کہ وہ اپنی ہر بات پوری کرے۔1لیکن اگر اُس کا شوہر یہ سن کر اُسے ایسا کرنے سے منع کرے تو اُس کی مَنت یا قَسم منسوخ ہے، اور وہ اُسے پورا کرنے سے بَری ہے۔ رب اُسے معاف کرے گا۔ QQl7Sاگر اُس نے اپنی بیوی کی مَنت یا قَسم کے بارے میں سن لیا اور اگلے دن تک اعتراض نہ کیا تو لازم ہے کہ اُس کی بیوی اپنی ہر بات پوری کرے۔ شوہر نے اگلے دن تک اعتراض نہ کرنے سے اپنی بیوی کی بات کی تصدیق کی ہے۔6 چاہے بیوی نے کچھ دینے کی مَنت مانی ہو یا کسی چیز سے پرہیز کرنے کی قَسم کھائی ہو، اُس کے شوہر کو اُس کی تصدیق یا اُسے منسوخ کرنے کا اختیار ہے۔45c لیکن اگر اُس کا شوہر اُسے ایسا کرنے سے منع کرے تو اُس کی مَنت یا قَسم منسوخ ہے۔ وہ اُسے پورا کرنے سے بَری ہے۔ رب اُسے معاف کرے گا، کیونکہ اُس کے شوہر نے اُسے منع کیا ہے۔ *YAe*V='ہر قبیلے کے 1,000 مرد جنگ لڑنے کے لئے بھیجو۔“^<7چنانچہ موسیٰ نے اسرائیلیوں سے کہا، ”ہتھیاروں سے اپنے کچھ آدمیوں کو لیس کرو تاکہ وہ مِدیان سے جنگ کر کے رب کا بدلہ لیں۔,;S”مِدیانیوں سے اسرائیلیوں کا بدلہ لے۔ اِس کے بعد تُو کوچ کر کے اپنے باپ دادا سے جا ملے گا۔“): Qرب نے موسیٰ سے کہا،9#رب نے موسیٰ کو یہ ہدایات دیں۔ یہ ایسی عورتوں کی مَنتوں یا قَسموں کے اصول ہیں جو غیرشادی شدہ حالت میں اپنے باپ کے گھر میں رہتی ہیں یا جو شادی شدہ ہیں۔ #8Aاگر وہ اِس کے بعد یہ مَنت یا قَسم منسوخ کرے تو اُسے اِس قصور کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔“ `GB  اسرائیلیوں نے مِدیانی عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر کے اُن کے تمام گائےبَیل، بھیڑبکریاں اور مال لُوٹ لیا۔KAاِن میں مِدیانیوں کے پانچ بادشاہ اِوی، رِقم، صور، حور اور رِبع تھے۔ بلعام بن بعور کو بھی جان سے مار دیا گیا۔*@Oاُنہوں نے رب کے حکم کے مطابق مِدیانیوں سے جنگ کی اور تمام آدمیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔)?Mتب موسیٰ نے اُنہیں جنگ لڑنے کے لئے بھیج دیا۔ اُس نے اِلی عزر امام کے بیٹے فینحاس کو بھی اُن کے ساتھ بھیجا جس کے پاس مقدِس کی کچھ چیزیں اور اعلان کرنے کے بِگل تھے۔p>[چنانچہ ہر قبیلے کے 1,000 مسلح مرد یعنی کُل 12,000 آدمی چنے گئے۔ y;Dq پھر وہ تمام لُوٹا ہوا مال قیدیوں اور جانوروں سمیت موسیٰ، اِلی عزر امام اور اسرائیل کی پوری جماعت کے پاس لے آئے جو خیمہ گاہ میں انتظار کر رہے تھے۔ ابھی تک وہ موآب کے میدانی علاقے میں دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر یریحو کے سامنے ٹھہرے ہوئے تھے۔C اُنہوں نے اُن کی تمام آبادیوں کو خیمہ گاہوں سمیت جلا کر راکھ کر دیا۔ AdHCاُس نے کہا، ”آپ نے تمام عورتوں کو کیوں بچائے رکھا؟G%اُنہیں دیکھ کر موسیٰ کو ہزار ہزار اور سَو سَو افراد پر مقرر افسران پر غصہ آیا۔ F; موسیٰ، اِلی عزر اور جماعت کے تمام سردار اُن کا استقبال کرنے کے لئے خیمہ گاہ سے نکلے۔;Eq پھر وہ تمام لُوٹا ہوا مال قیدیوں اور جانوروں سمیت موسیٰ، اِلی عزر امام اور اسرائیل کی پوری جماعت کے پاس لے آئے جو خیمہ گاہ میں انتظار کر رہے تھے۔ ابھی تک وہ موآب کے میدانی علاقے میں دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر یریحو کے سامنے ٹھہرے ہوئے تھے۔ XMXMہر لباس اور ہر چیز کو پاک صاف کرنا جو چمڑے، بکریوں کے بالوں یا لکڑی کی ہو۔“L!جس نے بھی کسی کو مار دیا یا کسی لاش کو چھوا ہے وہ سات دن تک خیمہ گاہ کے باہر رہے۔ تیسرے اور ساتویں دن اپنے آپ کو اپنے قیدیوں سمیت گناہ سے پاک صاف کرنا۔HK لیکن تمام کنواریوں کو بچائے رکھنا۔BJچنانچہ اب تمام لڑکوں کو جان سے مار دو۔ اُن تمام عورتوں کو بھی موت کے گھاٹ اُتارنا جو کنواریاں نہیں ہیں۔iIMاُن ہی نے بلعام کے مشورے پر فغور میں اسرائیلیوں کو رب سے دُور کر دیا تھا۔ اُن ہی کے سبب سے رب کی وبا اُس کے لوگوں میں پھیل گئی۔ H)OMجو بھی چیز جل نہیں جاتی اُسے آگ میں سے گزار دینا تاکہ پاک صاف ہو جائے۔ اِس میں سونا، چاندی، پیتل، لوہا، ٹین اور سیسہ شامل ہے۔ پھر اُس پر ناپاکی دُور کرنے کا پانی چھڑکنا۔ باقی تمام چیزیں پانی میں سے گزار دینا تاکہ وہ پاک صاف ہو جائیں۔4Ncپھر اِلی عزر امام نے جنگ سے واپس آنے والے مردوں سے کہا، ”جو شریعت رب نے موسیٰ کو دی اُس کے مطابق SJS”تمام قیدیوں اور لُوٹے ہوئے جانوروں کو گن۔ اِس میں اِلی عزر امام اور قبائلی کنبوں کے سرپرست تیری مدد کریں۔*RQرب نے موسیٰ سے کہا،Q'ساتویں دن اپنے لباس کو دھونا تو تم پاک صاف ہو کر خیمہ گاہ میں داخل ہو سکتے ہو۔“)PMجو بھی چیز جل نہیں جاتی اُسے آگ میں سے گزار دینا تاکہ پاک صاف ہو جائے۔ اِس میں سونا، چاندی، پیتل، لوہا، ٹین اور سیسہ شامل ہے۔ پھر اُس پر ناپاکی دُور کرنے کا پانی چھڑکنا۔ باقی تمام چیزیں پانی میں سے گزار دینا تاکہ وہ پاک صاف ہو جائیں۔ nIn'VIاُنہیں اِلی عزر امام کو دینا تاکہ وہ اُنہیں رب کو اُٹھانے والی قربانی کے طور پر پیش کرے۔,USفوجیوں کے حصے کے پانچ پانچ سَو قیدیوں میں سے ایک ایک نکال کر رب کو دینا۔ اِسی طرح پانچ پانچ سَو بَیلوں، گدھوں، بھیڑوں اور بکریوں میں سے ایک ایک نکال کر رب کو دینا۔3Taسارا مال دو برابر کے حصوں میں تقسیم کرنا، ایک حصہ فوجیوں کے لئے اور دوسرا باقی جماعت کے لئے ہو۔ IFIR\#اِن کے علاوہ 32,000 قیدی کنواریاں بھی تھیں۔r[_"اُنہوں نے 6,75,000 بھیڑبکریاں، 72,000 گائےبَیل اور 61,000 گدھے گنے۔rZ_!اُنہوں نے 6,75,000 بھیڑبکریاں، 72,000 گائےبَیل اور 61,000 گدھے گنے۔rY_ اُنہوں نے 6,75,000 بھیڑبکریاں، 72,000 گائےبَیل اور 61,000 گدھے گنے۔FXموسیٰ اور اِلی عزر نے ایسا ہی کیا۔6Wgباقی جماعت کے حصے کے پچاس پچاس قیدیوں میں سے ایک ایک نکال کر رب کو دینا، اِسی طرح پچاس پچاس بَیلوں، گدھوں، بھیڑوں اور بکریوں یا دوسرے جانوروں میں سے بھی ایک ایک نکال کر رب کو دینا۔ اُنہیں اُن لاویوں کو دینا جو رب کے مقدِس کو سنبھالتے ہیں۔“ HHX^+%فوجیوں کو تمام چیزوں کا آدھا حصہ مل گیا یعنی 3,37,500 بھیڑبکریاں، 36,000 گائےبَیل، 30,500 گدھے اور 16,000 قیدی کنواریاں۔ اِن میں سے اُنہوں نے 675 بھیڑبکریاں، 72 گائےبَیل، 61 گدھے اور 32 لڑکیاں رب کو دیں۔X]+$فوجیوں کو تمام چیزوں کا آدھا حصہ مل گیا یعنی 3,37,500 بھیڑبکریاں، 36,000 گائےبَیل، 30,500 گدھے اور 16,000 قیدی کنواریاں۔ اِن میں سے اُنہوں نے 675 بھیڑبکریاں، 72 گائےبَیل، 61 گدھے اور 32 لڑکیاں رب کو دیں۔ E   +6ALWbmx(3>IT_ju$/:EP[fq|  E  F G H I J K L M  E  F G H I J K L M N O P Q R S T U V W X  Y !Z "[ #\ $] %^ &_ '` (a )b *c +d ,e -f .g /h 0i 1j 2k 3l 4m 5n 6o   p  q  r  s  t  u  v  w  x  y  z  {  |  }  ~                       HHX`+'فوجیوں کو تمام چیزوں کا آدھا حصہ مل گیا یعنی 3,37,500 بھیڑبکریاں، 36,000 گائےبَیل، 30,500 گدھے اور 16,000 قیدی کنواریاں۔ اِن میں سے اُنہوں نے 675 بھیڑبکریاں، 72 گائےبَیل، 61 گدھے اور 32 لڑکیاں رب کو دیں۔X_+&فوجیوں کو تمام چیزوں کا آدھا حصہ مل گیا یعنی 3,37,500 بھیڑبکریاں، 36,000 گائےبَیل، 30,500 گدھے اور 16,000 قیدی کنواریاں۔ اِن میں سے اُنہوں نے 675 بھیڑبکریاں، 72 گائےبَیل، 61 گدھے اور 32 لڑکیاں رب کو دیں۔ hhwci*باقی جماعت کو بھی لُوٹے ہوئے مال کا آدھا حصہ مل گیا۔ موسیٰ نے پچاس پچاس قیدیوں اور جانوروں میں سے ایک ایک نکال کر اُن لاویوں کو دے دیا جو رب کا مقدِس سنبھالتے تھے۔ اُس نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے حکم دیا تھا۔=bu)موسیٰ نے رب کا یہ حصہ اِلی عزر امام کو اُٹھانے والی قربانی کے طور پر دے دیا، جس طرح رب نے حکم دیا تھا۔Xa+(فوجیوں کو تمام چیزوں کا آدھا حصہ مل گیا یعنی 3,37,500 بھیڑبکریاں، 36,000 گائےبَیل، 30,500 گدھے اور 16,000 قیدی کنواریاں۔ اِن میں سے اُنہوں نے 675 بھیڑبکریاں، 72 گائےبَیل، 61 گدھے اور 32 لڑکیاں رب کو دیں۔   wei,باقی جماعت کو بھی لُوٹے ہوئے مال کا آدھا حصہ مل گیا۔ موسیٰ نے پچاس پچاس قیدیوں اور جانوروں میں سے ایک ایک نکال کر اُن لاویوں کو دے دیا جو رب کا مقدِس سنبھالتے تھے۔ اُس نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے حکم دیا تھا۔wdi+باقی جماعت کو بھی لُوٹے ہوئے مال کا آدھا حصہ مل گیا۔ موسیٰ نے پچاس پچاس قیدیوں اور جانوروں میں سے ایک ایک نکال کر اُن لاویوں کو دے دیا جو رب کا مقدِس سنبھالتے تھے۔ اُس نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے حکم دیا تھا۔   wgi.باقی جماعت کو بھی لُوٹے ہوئے مال کا آدھا حصہ مل گیا۔ موسیٰ نے پچاس پچاس قیدیوں اور جانوروں میں سے ایک ایک نکال کر اُن لاویوں کو دے دیا جو رب کا مقدِس سنبھالتے تھے۔ اُس نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے حکم دیا تھا۔wfi-باقی جماعت کو بھی لُوٹے ہوئے مال کا آدھا حصہ مل گیا۔ موسیٰ نے پچاس پچاس قیدیوں اور جانوروں میں سے ایک ایک نکال کر اُن لاویوں کو دے دیا جو رب کا مقدِس سنبھالتے تھے۔ اُس نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے حکم دیا تھا۔ fjG1اُنہوں نے اُس سے کہا، ”آپ کے خادموں نے اُن فوجیوں کو گن لیا ہے جن پر وہ مقرر ہیں، اور ہمیں پتا چل گیا کہ ایک بھی کم نہیں ہوا۔i-0پھر وہ افسر موسیٰ کے پاس آئے جو لشکر کے ہزار ہزار اور سَو سَو آدمیوں پر مقرر تھے۔whi/باقی جماعت کو بھی لُوٹے ہوئے مال کا آدھا حصہ مل گیا۔ موسیٰ نے پچاس پچاس قیدیوں اور جانوروں میں سے ایک ایک نکال کر اُن لاویوں کو دے دیا جو رب کا مقدِس سنبھالتے تھے۔ اُس نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے حکم دیا تھا۔ SWS n5صرف افسران نے ایسا کیا۔ باقی فوجیوں نے اپنا لُوٹ کا مال اپنے لئے رکھ لیا۔ymm4جو چیزیں اُنہوں نے افسران کے لُوٹے ہوئے مال میں سے رب کو اُٹھانے والی قربانی کے طور پر پیش کیں اُن کا پورا وزن تقریباً 190 کلو گرام تھا۔tlc3موسیٰ اور اِلی عزر امام نے سونے کی تمام چیزیں اُن سے لے لیں۔%kE2اِس لئے ہم رب کو سونے کا تمام زیور قربان کرنا چاہتے ہیں جو ہمیں فتح پانے پر ملا تھا مثلاً سونے کے بازوبند، کنگن، مُہر لگانے کی انگوٹھیاں، بالیاں اور ہار۔ یہ سب کچھ ہم رب کو پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ رب کے سامنے ہمارا کفارہ ہو جائے۔“ 7S(rK ”جس علاقے کو رب نے اسرائیل کی جماعت کے آگے آگے شکست دی ہے وہ مویشی پالنے کے لئے اچھا ہے۔ عطارات، دیبون، یعزیر، نِمرہ، حسبون، اِلی عالی، سبام، نبو اور بعون جو اِس میں شامل ہیں ہمارے کام آئیں گے، کیونکہ آپ کے خادموں کے پاس مویشی ہیں۔ q تو اُنہوں نے موسیٰ، اِلی عزر امام اور جماعت کے راہنماؤں کے پاس آ کر کہا،`p = روبن اور جد کے قبیلوں کے پاس بہت سے مویشی تھے۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ یعزیر اور جِلعاد کا علاقہ مویشی پالنے کے لئے اچھا ہےEo6موسیٰ اور اِلی عزر افسران کا یہ سونا ملاقات کے خیمے میں لے آئے تاکہ وہ رب کو اُس کی قوم کی یاد دلاتا رہے۔ eTZequ] موسیٰ نے جد اور روبن کے افراد سے کہا، ”کیا تم یہاں پیچھے رہ کر اپنے بھائیوں کو چھوڑنا چاہتے ہو جب وہ جنگ لڑنے کے لئے آگے نکلیں گے؟vtg اگر آپ کی نظرِ کرم ہم پر ہو تو ہمیں یہ علاقہ دیا جائے۔ یہ ہماری ملکیت بن جائے اور ہمیں دریائے یردن کو پار کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔“(sK ”جس علاقے کو رب نے اسرائیل کی جماعت کے آگے آگے شکست دی ہے وہ مویشی پالنے کے لئے اچھا ہے۔ عطارات، دیبون، یعزیر، نِمرہ، حسبون، اِلی عالی، سبام، نبو اور بعون جو اِس میں شامل ہیں ہمارے کام آئیں گے، کیونکہ آپ کے خادموں کے پاس مویشی ہیں۔ $Jy اُس دن رب نے غصے میں آ کر قَسم کھائی، x اِسکال کی وادی میں پہنچ کر ملک کی تفتیش کرنے کے بعد اُنہوں نے اسرائیلیوں کی حوصلہ شکنی کی تاکہ وہ اُس ملک میں داخل نہ ہوں جو رب نے اُنہیں دیا تھا۔Ww) تمہارے باپ دادا نے بھی یہی کچھ کیا جب مَیں نے اُنہیں قادِس برنیع سے ملک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بھیجا۔}vu اِس وقت جب اسرائیلی دریائے یردن کو پار کر کے اُس ملک میں داخل ہونے والے ہیں جو رب نے اُنہیں دیا ہے تو تم کیوں اُن کی حوصلہ شکنی کر رہے ہو؟ 2FQ2|1 اُس وقت رب کا غضب اُن پر آن پڑا، اور اُنہیں 40 سال تک ریگستان میں مارے مارے پھرنا پڑا، جب تک کہ وہ تمام نسل ختم نہ ہو گئی جس نے اُس کے نزدیک غلط کام کیا تھا۔q{] بزرگوں میں سے صرف کالب بن یفُنّہ قنِزّی اور یشوع بن نون ملک میں داخل ہوں گے، اِس لئے کہ اُنہوں نے پوری وفاداری سے میری پیروی کی۔‘6zg ’اُن آدمیوں میں سے جو مصر سے نکل آئے ہیں کوئی اُس ملک کو نہیں دیکھے گا جس کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے کیا تھا۔ کیونکہ اُنہوں نے پوری وفاداری سے میری پیروی نہ کی۔ صرف وہ جن کی عمر اِس وقت 20 سال سے کم ہے داخل ہوں گے۔ SInS) اِس کے بعد روبن اور جد کے افراد دوبارہ موسیٰ کے پاس آئے اور کہا، ”ہم یہاں فی الحال اپنے مویشی کے لئے باڑے اور اپنے بال بچوں کے لئے شہر بنانا چاہتے ہیں۔W~) اگر تم اُس کی پیروی سے ہٹو گے تو وہ دوبارہ اِن لوگوں کو ریگستان میں رہنے دے گا، اور تم اِن کی ہلاکت کا باعث بنو گے۔“3}a اب تم گناہ گاروں کی اولاد اپنے باپ دادا کی جگہ کھڑے ہو کر رب کا اسرائیل پر غصہ مزید بڑھا رہے ہو۔ 2_ یہ سن کر موسیٰ نے کہا، ”اگر تم ایسا ہی کرو گے تو ٹھیک ہے۔ پھر رب کے سامنے جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ' دوسرے، ہم خود اُن کے ساتھ دریائے یردن کے مغرب میں میراث میں کچھ نہیں پائیں گے، کیونکہ ہمیں اپنی موروثی زمین دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر مل چکی ہے۔“.W ہم اُس وقت تک اپنے گھروں کو نہیں لوٹیں گے جب تک ہر اسرائیلی کو اُس کی موروثی زمین نہ مل جائے۔a= اِس کے بعد ہم مسلح ہو کر اسرائیلیوں کے آگے آگے چلیں گے اور ہر ایک کو اُس کی اپنی جگہ تک پہنچائیں گے۔ اِتنے میں ہمارے بال بچے ہمارے شہروں کی فصیلوں کے اندر ملک کے مخالف باشندوں سے محفوظ رہیں گے۔ GG;q اب اپنے بال بچوں کے لئے شہر اور اپنے مویشیوں کے لئے باڑے بنا لو۔ لیکن اپنے وعدے کو ضرور پورا کرنا۔“2_ لیکن اگر تم ایسا نہ کرو تو پھر تم رب ہی کا گناہ کرو گے۔ یقین جانو تمہیں اپنے گناہ کی سزا ملے گی۔A} پھر جب ملک پر رب کا قبضہ ہو گیا ہو گا تو تم لوٹ سکو گے۔ تب تم نے رب اور اپنے ہم وطن بھائیوں کے لئے اپنے فرائض ادا کر دیئے ہوں گے، اور یہ علاقہ رب کے سامنے تمہارا موروثی حق ہو گا۔{q اور سب ہتھیار باندھ کر رب کے سامنے دریائے یردن کو پار کرو۔ اُس وقت تک نہ لوٹو جب تک رب نے اپنے تمام دشمنوں کو اپنے آگے سے نکال نہ دیا ہو۔ 8G8 - تب موسیٰ نے اِلی عزر امام، یشوع بن نون اور قبائلی کنبوں کے سرپرستوں کو ہدایت دی،{ q لیکن آپ کے خادم مسلح ہو کر دریا کو پار کریں گے اور رب کے سامنے جنگ کریں گے۔ ہم سب کچھ ویسا ہی کریں گے جیسا ہمارے آقا نے ہمیں حکم دیا ہے۔“p [ ہمارے بال بچے اور مویشی یہیں جِلعاد کے شہروں میں رہیں گے۔5e جد اور روبن کے افراد نے موسیٰ سے کہا، ”ہم آپ کے خادم ہیں، ہم اپنے آقا کے حکم کے مطابق ہی کریں گے۔ yy ہم مسلح ہو کر رب کے سامنے دریائے یردن کو پار کریں گے اور کنعان کے ملک میں داخل ہوں گے، اگرچہ ہماری موروثی زمین یردن کے مشرقی کنارے پر ہو گی۔“! جد اور روبن کے افراد نے اصرار کیا، ”آپ کے خادم سب کچھ کریں گے جو رب نے کہا ہے۔% E لیکن اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر اُنہیں ملکِ کنعان ہی میں تمہارے ساتھ موروثی زمین ملے۔“: o ”لازم ہے کہ جد اور روبن کے مرد مسلح ہو کر تمہارے ساتھ ہی رب کے سامنے دریائے یردن کو پار کریں اور ملک پر قبضہ کریں۔ اگر وہ ایسا کریں تو اُنہیں میراث میں جِلعاد کا علاقہ دو۔ Z \3 %روبن کے قبیلے نے حسبون، اِلی عالی، قِریَتائم،^7 $بیت نِمرہ اور بیت ہاران کے شہروں کو دوبارہ تعمیر کیا۔ اُنہوں نے اُن کی فصیلیں بنائیں اور اپنے مویشیوں کے لئے باڑے بھی۔9o #عطرات شوفان، یعزیر، یگبہا،M "جد کے قبیلے نے دیبون، عطارات، عروعیر،"? !تب موسیٰ نے جد، روبن اور منسّی کے آدھے قبیلے کو یہ علاقہ دیا۔ اُس میں وہ پورا ملک شامل تھا جس پر پہلے اموریوں کا بادشاہ سیحون اور بسن کا بادشاہ عوج حکومت کرتے تھے۔ اِن شکست خوردہ ممالک کے دیہات سمیت تمام شہر اُن کے حوالے کئے گئے۔ hK )منسّی کے ایک آدمی بنام یائیر نے اِس علاقے میں کچھ بستیوں پر قبضہ کر کے اُنہیں ’حووت یائیر‘ یعنی یائیر کی بستیاں کا نام دیا۔  (چنانچہ موسیٰ نے مکیریوں کو جِلعاد کی سرزمین دے دی، اور وہ وہاں آباد ہوئے۔D 'منسّی کے بیٹے مکیر کی اولاد نے جِلعاد جا کر اُس پر قبضہ کر لیا اور اُس کے تمام اموری باشندوں کو نکال دیا۔% &نبو، بعل معون اور سِبماہ دوبارہ تعمیر کئے۔ نبو اور بعل معون کے نام بدل گئے، کیونکہ اُنہوں نے اُن شہروں کو نئے نام دیئے جو اُنہوں نے دوبارہ تعمیر کئے۔ >N> !پہلے مہینے کے پندرھویں دن اسرائیلی رعمسیس سے روانہ ہوئے۔ یعنی فسح کے دن کے بعد کے دن وہ بڑے اختیار کے ساتھ تمام مصریوں کے دیکھتے دیکھتے چلے گئے۔G !رب کے حکم پر موسیٰ نے ہر جگہ کا نام قلم بند کیا جہاں اُنہوں نے اپنے خیمے لگائے تھے۔ اُن جگہوں کے نام یہ ہیں:~ y!ذیل میں اُن جگہوں کے نام ہیں جہاں جہاں اسرائیلی قبیلے اپنے دستوں کے مطابق موسیٰ اور ہارون کی راہنمائی میں مصر سے نکل کر خیمہ زن ہوئے تھے۔a= *اِسی طرح اُس قبیلے کے ایک اَور آدمی بنام نوبح نے جا کر قنات اور اُس کے دیہات پر قبصہ کر لیا۔ اُس نے شہر کا نام نوبح رکھا۔ T0+fT!!پھر وہ فی ہخیروت سے کوچ کر کے سمندر میں سے گزر گئے۔ اِس کے بعد وہ تین دن ایتام کے ریگستان میں سفر کرتے کرتے مارہ پہنچ گئے اور وہاں اپنے خیمے لگائے۔A }!ایتام سے وہ واپس مُڑ کر فی ہخیروت کی طرف بڑھے جو بعل صفون کے مشرق میں ہے۔ وہ مجدال کے قریب خیمہ زن ہوئے۔jO!وہاں سے وہ ایتام پہنچے جو ریگستان کے کنارے پر واقع ہے۔#!رعمسیس سے اسرائیلی سُکات پہنچ گئے جہاں اُنہوں نے پہلی مرتبہ اپنے ڈیرے لگائے۔L!مصری اُس وقت اپنے پہلوٹھوں کو دفن کر رہے تھے، کیونکہ رب نے پہلوٹھوں کو مار کر اُن کے دیوتاؤں کی عدالت کی تھی۔ ^e^5&e! الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔A%! اُن کے اگلے مرحلے یہ تھے: دُفقہ،7$k! پھر دشتِ صین میں پہنچ گئے۔M#! وہ بحرِ قُلزم کے ساحل پر خیمہ زن ہوئے،")! مارہ سے وہ ایلیم چلے گئے جہاں 12 چشمے اور کھجور کے 70 درخت تھے۔ وہاں ٹھہرنے کے بعد E   +6ALWbmx'2=HS^it$/:EP[fq|            !  "  #  $            !  "  #  $  %  &  '  (  )  *  ! ! ! ! ! ! ! ! !  !  !  !  !  ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! !  !! !" !# !$ !% !& !' !( !) !* !+ !, !- !. !/ !0 !1 !2 !3 !4 !5 !6 5'e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5(e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5)e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5*e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5+e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5,e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5-e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5.e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5/e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 50e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 51e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 52e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 53e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 54e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 55e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 56e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 57e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 58e!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 59e! الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5:e!!الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5;e!"الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5<e!#الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ 5=e!$الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ }}9@o!'اُس وقت ہارون 123 سال کا تھا۔ ?!&وہاں رب نے ہارون امام کو حکم دیا کہ وہ ہور پہاڑ پر چڑھ جائے۔ وہیں وہ پانچویں ماہ کے پہلے دن فوت ہوا۔ اسرائیلیوں کو مصر سے نکلے 04 سال گزر چکے تھے۔5>e!%الوس، رفیدیم جہاں پینے کا پانی دست یاب نہ تھا، دشتِ سینا، قبروت ہتاوہ، حصیرات، رِتمہ، رِمّون فارص، لِبناہ، رِسّہ، قہیلاتہ، سافر پہاڑ، حرادہ، مقہیلوت، تحت، تارح، مِتقَہ، حشمونہ، موسیروت، بنی یعقان، حور ہَجِدجاد، یُطباتہ، عبرونہ، عِصیون جابر، دشتِ صین میں واقع قادس اور ہور پہاڑ جو ادوم کی سرحد پر واقع ہے۔ ffXC+!*ہور پہاڑ سے روانہ ہو کر اسرائیلی ذیل کی جگہوں پر ٹھہرے: ضلمونہ، فُونون، اوبوت، عیے عباریم جو موآب کے علاقے میں تھا، دیبون جد، علمون دِبلہ تائم اور نبو کے قریب واقع عباریم کا پہاڑی علاقہ۔XB+!)ہور پہاڑ سے روانہ ہو کر اسرائیلی ذیل کی جگہوں پر ٹھہرے: ضلمونہ، فُونون، اوبوت، عیے عباریم جو موآب کے علاقے میں تھا، دیبون جد، علمون دِبلہ تائم اور نبو کے قریب واقع عباریم کا پہاڑی علاقہ۔^A7!(اُن دنوں میں عراد کے کنعانی بادشاہ نے سنا کہ اسرائیلی میرے ملک کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ کنعان کے جنوب میں حکومت کرتا تھا۔ HHXE+!,ہور پہاڑ سے روانہ ہو کر اسرائیلی ذیل کی جگہوں پر ٹھہرے: ضلمونہ، فُونون، اوبوت، عیے عباریم جو موآب کے علاقے میں تھا، دیبون جد، علمون دِبلہ تائم اور نبو کے قریب واقع عباریم کا پہاڑی علاقہ۔XD+!+ہور پہاڑ سے روانہ ہو کر اسرائیلی ذیل کی جگہوں پر ٹھہرے: ضلمونہ، فُونون، اوبوت، عیے عباریم جو موآب کے علاقے میں تھا، دیبون جد، علمون دِبلہ تائم اور نبو کے قریب واقع عباریم کا پہاڑی علاقہ۔ HHXG+!.ہور پہاڑ سے روانہ ہو کر اسرائیلی ذیل کی جگہوں پر ٹھہرے: ضلمونہ، فُونون، اوبوت، عیے عباریم جو موآب کے علاقے میں تھا، دیبون جد، علمون دِبلہ تائم اور نبو کے قریب واقع عباریم کا پہاڑی علاقہ۔XF+!-ہور پہاڑ سے روانہ ہو کر اسرائیلی ذیل کی جگہوں پر ٹھہرے: ضلمونہ، فُونون، اوبوت، عیے عباریم جو موآب کے علاقے میں تھا، دیبون جد، علمون دِبلہ تائم اور نبو کے قریب واقع عباریم کا پہاڑی علاقہ۔ T'TL-!3”اسرائیلیوں کو بتانا کہ جب تم دریائے یردن کو پار کر کے ملکِ کنعان میں داخل ہو گے3Kc!2وہاں رب نے موسیٰ سے کہا،kJQ!1اُن کے خیمے بیت یسیموت سے لے کر ابیل شِطّیم تک لگے تھے۔ I!0وہاں سے اُنہوں نے یردن کی وادی میں اُتر کر موآب کے میدانی علاقے میں اپنے ڈیرے لگائے۔ اب وہ دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر یریحو شہر کے سامنے تھے۔XH+!/ہور پہاڑ سے روانہ ہو کر اسرائیلی ذیل کی جگہوں پر ٹھہرے: ضلمونہ، فُونون، اوبوت، عیے عباریم جو موآب کے علاقے میں تھا، دیبون جد، علمون دِبلہ تائم اور نبو کے قریب واقع عباریم کا پہاڑی علاقہ۔ +GO !6ملک کو مختلف قبیلوں اور خاندانوں میں قرعہ ڈال کر تقسیم کرنا۔ ہر خاندان کے افراد کی تعداد کا لحاظ رکھنا۔ بڑے خاندان کو نسبتاً زیادہ زمین دینا اور چھوٹے خاندان کو نسبتاً کم زمین۔WN)!5ملک پر قبضہ کر کے اُس میں آباد ہو جاؤ، کیونکہ مَیں نے یہ ملک تمہیں دے دیا ہے۔ یہ میری طرف سے تمہاری موروثی ملکیت ہے۔vMg!4تو لازم ہے کہ تم تمام باشندوں کو نکال دو۔ اُن کے تراشے اور ڈھالے ہوئے بُتوں کو توڑ ڈالو اور اُن کی اونچی جگہوں کے مندروں کو تباہ کرو۔  IK 'TI"اُس کی جنوبی سرحد دشتِ صین میں ادوم کی سرحد کے ساتھ ساتھ چلے گی۔ مشرق میں وہ بحیرۂ مُردار کے جنوبی ساحل سے شروع ہو گی، پھر اِن جگہوں سے ہو کر مغرب کی طرف گزرے گی:NS"”اسرائیلیوں کو بتانا کہ جب تم اُس ملک میں داخل ہو گے جو مَیں تمہیں میراث میں دوں گا تو اُس کی سرحدیں یہ ہوں گی:)R Q"رب نے موسیٰ سے کہا،Q!8پھر مَیں تمہارے ساتھ وہ کچھ کروں گا جو اُن کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں۔“ +PQ!7لیکن اگر تم ملک کے باشندوں کو نہیں نکالو گے تو بچے ہوئے تمہاری آنکھوں میں خار اور تمہارے پہلوؤں میں کانٹے بن کر تمہیں اُس ملک میں تنگ کریں گے جس میں تم آباد ہو گے۔ 8IR8B[" اُس کی مشرقی سرحد شمال میں حصر عینان سے شروع ہو گی۔ پھر وہ اِن جگہوں سے ہو کر جنوب کی طرف گزرے گی: سِفام،Z" زِفرون اور حصر عینان۔ حصر عینان شمالی سرحد کا سب سے مشرقی مقام ہو گا۔$YE"لبو حمات، صداد، X;"اُس کی شمالی سرحد بحیرۂ روم سے لے کر اِن جگہوں سے ہو کر مشرق کی طرف گزرے گی: ہور پہاڑ،TW#"اُس کی مغربی سرحد بحیرۂ روم کا ساحل ہو گا۔V3"وہاں سے وہ مُڑ کر مصر کی سرحد پر واقع وادیِ مصر کے ساتھ ساتھ بحیرۂ روم تک پہنچے گی۔3Ua"درۂ عقربیم کے جنوب میں سے، دشتِ صین میں سے، قادس برنیع کے جنوب میں سے حصرادار اور عضمون میں سے۔ Y`"اُنہیں یہاں، دریائے یردن کے مشرق میں یریحو کے سامنے زمین مل چکی ہے۔“[_1"کیونکہ اڑھائی قبیلوں کے خاندانوں کو اُن کی میراث مل چکی ہے یعنی روبن اور جد کے پورے قبیلے اور منسّی کے آدھے قبیلے کو۔~^w" موسیٰ نے اسرائیلیوں سے کہا، ”یہ وہی ملک ہے جسے تمہیں قرعہ ڈال کر تقسیم کرنا ہے۔ رب نے حکم دیا ہے کہ اُسے باقی ساڑھے نو قبیلوں کو دینا ہے۔P]" اِس کے بعد وہ دریائے یردن کے کنارے کنارے گزرتی ہوئی بحیرۂ مُردار تک پہنچے گی۔ یہ تمہارے ملک کی سرحدیں ہوں گی۔“#\A" رِبلہ جو عین کے مشرق میں ہے اور کِنّرت یعنی گلیل کی جھیل کے مشرق میں واقع پہاڑی علاقہ۔ /\Ef|/Jk"اِشکار کے قبیلے کا فلطی ایل بن عزان،Lj"زبولون کے قبیلے کا اِلی صفن بن فرناک،Mi"افرائیم کے قبیلے کا قموایل بن سِفتان،Hh "منسّی کے قبیلے کا حنی ایل بن افُود،>gy"دان کے قبیلے کا بُقی بن یُگلی،Nf"بن یمین کے قبیلے کا اِلیداد بن کِسلون،Je"شمعون کے قبیلے کا سموایل بن عمی ہود،Gd "یہوداہ کے قبیلے کا کالب بن یفُنّہ،Ic "ہر قبیلے کے ایک ایک راہنما کو بھی چننا تاکہ وہ تقسیم کرنے میں مدد کرے۔ جن کو تمہیں چننا ہے اُن کے نام یہ ہیں:tbc"”اِلی عزر امام اور یشوع بن نون لوگوں کے لئے ملک تقسیم کریں۔*aQ"رب نے موسیٰ سے کہا، E  !,7BMXcny)4?JU_ju%0;FQ\gr}  !8  " " " " " " " " !8  " " " " " " " " "  "  "  "  "  " " " " " " " " " " " " " " " "  # # # # # # # # #  #  #  #  #  # # # # # # # # # # # # # # # # # # #  #! #"  $ $ $ $ $ fgf q#پھر لاویوں کے پاس رہنے کے لئے شہر اور اپنے جانور چَرانے کے لئے زمین ہو گی۔p#”اسرائیلیوں کو بتا دے کہ وہ لاویوں کو اپنی ملی ہوئی زمینوں میں سے رہنے کے لئے شہر دیں۔ اُنہیں شہروں کے ارد گرد مویشی چَرانے کی زمین بھی ملے۔Uo '#اسرائیلی اب تک موآب کے میدانی علاقے میں دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر یریحو کے سامنے تھے۔ وہاں رب نے موسیٰ سے کہا، n"رب نے اِن ہی آدمیوں کو ملک کو اسرائیلیوں میں تقسیم کرنے کی ذمہ داری دی۔ Om"نفتالی کے قبیلے کا فداہیل بن عمی ہود۔“Dl"آشر کے قبیلے کا اخی ہود بن شلومی، a6*u #”لاویوں کو کُل 48 شہر دینا۔ اِن میں سے چھ پناہ کے شہر مقرر کرنا۔ اُن میں ایسے لوگ پناہ لے سکیں گے جن کے ہاتھوں غیرارادی طور پر کوئی ہلاک ہوا ہو۔t #”لاویوں کو کُل 48 شہر دینا۔ اِن میں سے چھ پناہ کے شہر مقرر کرنا۔ اُن میں ایسے لوگ پناہ لے سکیں گے جن کے ہاتھوں غیرارادی طور پر کوئی ہلاک ہوا ہو۔'sI#چرانے کی یہ زمین مربع شکل کی ہو گی جس کے ہر پہلو کا فاصلہ 3,000 فٹ ہو۔ شہر اِس مربع شکل کے بیچ میں ہو۔ یہ رقبہ شہر کے باشندوں کے لئے ہو تاکہ وہ اپنے مویشی چَرا سکیں۔r1#چرانے کے لئے زمین شہر کے ارد گرد ہو گی، اور چاروں طرف کا فاصلہ فصیلوں سے 1,500 فٹ ہو۔ X \X2{a# اِس کے لئے چھ شہر چن لو۔Kz# وہاں وہ انتقام لینے والے سے پناہ لے سکے گا اور جماعت کی عدالت کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے مارا نہیں جا سکے گا۔@y{# کچھ پناہ کے شہر مقرر کرنا۔ اُن میں وہ شخص پناہ لے سکے گا جس کے ہاتھوں غیرارادی طور پر کوئی ہلاک ہوا ہو۔lxS# ”اسرائیلیوں کو بتانا کہ دریائے یردن کو پار کرنے کے بعد1w_# پھر رب نے موسیٰ سے کہا،9vm#ہر قبیلہ لاویوں کو اپنے علاقے کے رقبے کے مطابق شہر دے۔ جس قبیلے کا علاقہ بڑا ہے اُسے لاویوں کو زیادہ شہر دینے ہیں جبکہ جس قبیلے کا علاقہ چھوٹا ہے وہ لاویوں کو کم شہر دے۔“ `P#اگر کسی نے کسی کو جان بوجھ کر لوہے، پتھر یا لکڑی کی کسی چیز سے مار ڈالا ہو وہ قاتل ہے اور اُسے سزائے موت دینی ہے۔P~#اگر کسی نے کسی کو جان بوجھ کر لوہے، پتھر یا لکڑی کی کسی چیز سے مار ڈالا ہو وہ قاتل ہے اور اُسے سزائے موت دینی ہے۔-}U#یہ چھ شہر ہر کسی کو پناہ دیں گے، چاہے وہ اسرائیلی، پردیسی یا اُن کے درمیان رہنے والا غیرشہری ہو۔ جس سے بھی غیرارادی طور پر کوئی ہلاک ہوا ہو وہ وہاں پناہ لے سکتا ہے۔l|S#تین دریائے یردن کے مشرق میں اور تین ملکِ کنعان میں ہوں۔ x,x!=#کیونکہ جو نفرت یا دشمنی کے باعث جان بوجھ کر کسی کو یوں دھکا دے، اُس پر کوئی چیزپھینک دے یا اُسے مُکا مارے کہ وہ مر جائے وہ قاتل ہے اور اُسے سزائے موت دینی ہے۔!=#کیونکہ جو نفرت یا دشمنی کے باعث جان بوجھ کر کسی کو یوں دھکا دے، اُس پر کوئی چیزپھینک دے یا اُسے مُکا مارے کہ وہ مر جائے وہ قاتل ہے اور اُسے سزائے موت دینی ہے۔gI#مقتول کا سب سے قریبی رشتے دار اُسے تلاش کر کے مار دے۔P#اگر کسی نے کسی کو جان بوجھ کر لوہے، پتھر یا لکڑی کی کسی چیز سے مار ڈالا ہو وہ قاتل ہے اور اُسے سزائے موت دینی ہے۔ &&#لیکن اگر یہ شخص اِس سے پہلے پناہ کے شہر سے نکلے تو وہ محفوظ نہیں ہو گا۔5e#اگر ملزم بےقصور ہے تو جماعت اُس کی حفاظت کر کے اُسے پناہ کے اُس شہر میں واپس لے جائے جس میں اُس نے پناہ لی ہے۔ وہاں وہ مُقدّس تیل سے مسح کئے گئے امامِ اعظم کی موت تک رہے۔>w#اگر ایسا ہوا تو لازم ہے کہ جماعت اِن ہدایات کے مطابق اُس کے اور انتقام لینے والے کے درمیان فیصلہ کرے۔<u#یا کوئی پتھر اُس پر گرنے دیا۔#لیکن وہ قاتل نہیں ہے جس سے دشمنی کے باعث نہیں بلکہ اتفاق سے اور غیرارادی طور پر کوئی ہلاک ہوا ہو، چاہے اُس نے اُسے دھکا دیا، کوئی چیز اُس پر پھینک دی Je E#جس پر قتل کا الزام لگایا گیا ہو اُسے صرف اِس صورت میں سزائے موت دی جا سکتی ہے کہ کم از کم دو گواہ ہوں۔ ایک گواہ کافی نہیں ہے۔ #یہ اصول دائمی ہیں۔ جہاں بھی تم رہتے ہو تمہیں ہمیشہ اِن پر عمل کرنا ہے۔: o#پناہ لینے والا امامِ اعظم کی وفات تک پناہ کے شہر میں رہے۔ اِس کے بعد ہی وہ اپنے گھر واپس جا سکتا ہے۔t c#اگر اُس کا انتقام لینے والے سے سامنا ہو جائے تو انتقام لینے والے کو اُسے مار ڈالنے کی اجازت ہو گی۔ اگر وہ ایسا کرے تو بےقصور رہے گا۔ X%XI # اُس شخص سے بھی پیسے قبول نہ کرنا جس سے غیرارادی طور پر کوئی ہلاک ہوا ہو اور جو اِس سبب سے پناہ کے شہر میں رہ رہا ہے۔ اُسے اجازت نہیں کہ وہ پیسے دے کر پناہ کا شہر چھوڑے اور اپنے گھر واپس چلا جائے۔ لازم ہے کہ وہ اِس کے لئے امامِ اعظم کی وفات کا انتظار کرے۔W )#قاتل کو ضرور سزائے موت دینا۔ خواہ وہ اِس سے بچنے کے لئے کوئی بھی معاوضہ دے اُسے آزاد نہ چھوڑنا بلکہ سزائے موت دینا۔ p[#"اُس ملک کو ناپاک نہ کرنا جس میں تم آباد ہو اور مَیں سکونت کرتا ہوں۔ کیونکہ مَیں رب ہوں جو اسرائیلیوں کے درمیان سکونت کرتا ہوں۔“ tc#!جس ملک میں تم رہتے ہو اُس کی مُقدّس حالت کو ناپاک نہ کرنا۔ جب کسی کو اُس میں قتل کیا جائے تو وہ ناپاک ہو جاتا ہے۔ جب اِس طرح خون بہتا ہے تو ملک کی مُقدّس حالت صرف اُس شخص کے خون بہنے سے بحال ہو جاتی ہے جس نے یہ خون بہایا ہے۔ یعنی ملک کا صرف قاتل کی موت سے ہی کفارہ دیا جا سکتا ہے۔ xk$اگر وہ اسرائیل کے کسی اَور قبیلے کے مردوں سے شادی کریں تو پھر یہ زمین جو ہمارے قبیلے کا موروثی حصہ ہے اُس قبیلے کا موروثی حصہ بنے گی اور ہم اُس سے محروم ہو جائیں گے۔ پھر ہمارا قبائلی علاقہ چھوٹا ہو جائے گا۔S!$اُنہوں نے کہا، ”رب نے آپ کو حکم دیا تھا کہ آپ قرعہ ڈال کر ملک کو اسرائیلیوں میں تقسیم کریں۔ اُس وقت اُس نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے بھائی صلافحاد کی بیٹیوں کو اُس کی موروثی زمین ملنی ہے۔ 3$ایک دن جِلعاد بن مکیر بن منسّی بن یوسف کے کنبے سے نکلے ہوئے آبائی گھرانوں کے سرپرست موسیٰ اور اُن سرداروں کے پاس آئے جو دیگر آبائی گھرانوں کے سرپرست تھے۔ ?!$?a=$اِس طرح ایک قبیلے کی موروثی زمین کسی دوسرے قبیلے میں منتقل نہیں ہو گی۔ لازم ہے کہ ہر قبیلے کا پورا علاقہ اُسی کے پاس رہے۔ym$اِس لئے رب کی ہدایت یہ ہے کہ صلافحاد کی بیٹیوں کو ہر آدمی سے شادی کرنے کی اجازت ہے، لیکن صرف اِس صورت میں کہ وہ اُن کے اپنے قبیلے کا ہو۔ $موسیٰ نے رب کے حکم پر اسرائیلیوں کو بتایا، ”جِلعاد کے مرد حق بجانب ہیں۔M$اور اگر ہم یہ زمین واپس بھی خریدیں توبھی وہ اگلے بحالی کے سال میں دوسرے قبیلے کو واپس چلی جائے گی جس میں اِن عورتوں نے شادی کی ہے۔ اِس طرح وہ ہمیشہ کے لئے ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔“ $ صلافحاد کی بیٹیوں محلاہ، تِرضہ، حُجلاہ، مِلکاہ اور نوعاہ نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کو بتایا تھا۔ اُنہوں نے اپنے چچا زاد بھائیوں سے شادی کی۔ue$ ایک قبیلے کی موروثی زمین کسی دوسرے قبیلے کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لازم ہے کہ ہر قبیلے کا پورا موروثی علاقہ اُسی کے پاس رہے۔“ue$جو بھی بیٹی میراث میں زمین پاتی ہے اُس کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے ہی قبیلے کے کسی مرد سے شادی کرے تاکہ اُس کی زمین قبیلے کے پاس ہی رہے۔ /F/!$ رب نے یہ احکام اور ہدایات اسرائیلیوں کو موسیٰ کی معرفت دیں جب وہ موآب کے میدانی علاقے میں دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر یریحو کے سامنے خیمہ زن تھے۔ #A$ چونکہ وہ بھی منسّی کے قبیلے کے تھے اِس لئے یہ موروثی زمین صلافحاد کے قبیلے کے پاس رہی۔$ صلافحاد کی بیٹیوں محلاہ، تِرضہ، حُجلاہ، مِلکاہ اور نوعاہ نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے موسیٰ کو بتایا تھا۔ اُنہوں نے اپنے چچا زاد بھائیوں سے شادی کی۔ sVs  اسرائیلیوں کو مصر سے نکلے 40 سال ہو گئے تھے۔ اِس سال کے گیارھویں ماہ کے پہلے دن موسیٰ نے اُنہیں سب کچھ بتایا جو رب نے اُسے اُنہیں بتانے کو کہا تھا۔O اگر ادوم کے پہاڑی علاقے سے ہو کر جائیں تو حورب یعنی سینا پہاڑ سے قادس برنیع تک کا سفر 11 دن میں طے کیا جا سکتا ہے۔& Kاِس کتاب میں وہ باتیں درج ہیں جو موسیٰ نے تمام اسرائیلیوں سے کہیں جب وہ دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر بیابان میں تھے۔ وہ یردن کی وادی میں سوف کے قریب تھے۔ ایک طرف فاران شہر تھا اور دوسری طرف طوفل، لابن، حصیرات اور دِیزہب کے شہر تھے۔ //=# wجب تم حورب یعنی سینا پہاڑ کے پاس تھے تو رب ہمارے خدا نے ہم سے کہا، ”تم کافی دیر سے یہاں ٹھہرے ہوئے ہو۔O" وہاں، دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر جو موآب کے علاقے میں تھا موسیٰ اللہ کی شریعت کی تشریح کرنے لگا۔ اُس نے کہا،9! oاُس وقت وہ اموریوں کے بادشاہ سیحون کو شکست دے چکا تھا جس کا دار الحکومت حسبون تھا۔ بسن کے بادشاہ عوج پر بھی فتح حاصل ہو چکی تھی جس کی حکومت کے مرکز عستارات اور اِدرعی تھے۔ \% 5مَیں نے تمہیں یہ ملک دے دیا ہے۔ اب جا کر اُس پر قبضہ کر لو۔ کیونکہ رب نے قَسم کھا کر تمہارے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے وعدہ کیا تھا کہ مَیں یہ ملک تمہیں اور تمہاری اولاد کو دوں گا۔“$  اب اِس جگہ کو چھوڑ کر آگے ملکِ کنعان کی طرف بڑھو۔ اموریوں کے پہاڑی علاقے اور اُن کے پڑوس کی قوموں کے پاس جاؤ جو یردن کے میدانی علاقے میں آباد ہیں۔ پہاڑی علاقے میں، مغرب کے نشیبی پہاڑی علاقے میں، جنوب کے دشتِ نجب میں، ساحلی علاقے میں، ملکِ کنعان میں اور لبنان میں دریائے فرات تک چلے جاؤ۔ T|* u اِس لئے اپنے ہر قبیلے میں سے کچھ ایسے دانش مند اور سمجھ دار آدمی چن لو جن کی لیاقت کو لوگ مانتے ہیں۔ پھر مَیں اُنہیں تم پر مقرر کروں گا۔“() M لیکن مَیں اکیلا ہی تمہارا بوجھ اُٹھانے اور جھگڑوں کو نپٹانے کی ذمہ داری نہیں اُٹھا سکتا۔]( 7 اور رب تمہارے باپ دادا کا خدا کرے کہ تمہاری تعداد مزید ہزار گُنا بڑھ جائے۔ وہ تمہیں وہ برکت دے جس کا وعدہ اُس نے کیا ہے۔+' S رب تمہارے خدا نے تمہاری تعداد اِتنی بڑھا دی ہے کہ آج تم آسمان کے ستاروں کی مانند بےشمار ہو۔(& M اُس وقت مَیں نے تم سے کہا، ”مَیں اکیلا تمہاری راہنمائی کرنے کی ذمہ داری نہیں اُٹھا سکتا۔ rq- _اُس وقت مَیں نے اُن قاضیوں سے کہا، ”عدالت کرتے وقت ہر ایک کی بات غور سے سن کر غیرجانب دار فیصلے کرنا، چاہے دو اسرائیلی فریق ایک دوسرے سے جھگڑا کر رہے ہوں یا معاملہ کسی اسرائیلی اور پردیسی کے درمیان ہو۔X, -تم نے اپنے میں سے ایسے راہنما چن لئے جو دانش مند تھے اور جن کی لیاقت کو لوگ مانتے تھے۔ پھر مَیں نے اُنہیں ہزار ہزار، سَو سَو اور پچاس پچاس مردوں پر مقرر کیا۔ یوں وہ قبیلوں کے نگہبان بن گئے۔/+ ]یہ بات تمہیں پسند آئی۔ 0  ہم نے ویسا ہی کیا جیسا رب نے ہمیں کہا تھا۔ ہم حورب سے روانہ ہو کر اموریوں کے پہاڑی علاقے کی طرف بڑھے۔ سفر کرتے کرتے ہم اُس وسیع اور ہول ناک ریگستان میں سے گزر گئے جسے تم نے دیکھ لیا ہے۔ آخرکار ہم قادس برنیع پہنچ گئے۔g/ Kاُس وقت مَیں نے تمہیں سب کچھ بتایا جو تمہیں کرنا تھا۔j. Qعدالت کرتے وقت جانب داری نہ کرنا۔ چھوٹے اور بڑے کی بات سن کر دونوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا۔ کسی سے مت ڈرنا، کیونکہ اللہ ہی نے تمہیں عدالت کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ اگر کسی معاملے میں فیصلہ کرنا تمہارے لئے مشکل ہو تو اُسے مجھے پیش کرو۔ پھر مَیں ہی اُس کا فیصلہ کروں گا۔“ A0 3 =لیکن تم سب میرے پاس آئے اور کہا، ”کیوں نہ ہم جانے سے پہلے کچھ آدمی بھیجیں جو ملک کے حالات دریافت کریں اور واپس آ کر ہمیں اُس راستے کے بارے میں بتائیں جس پر ہمیں جانا ہے اور اُن شہروں کے بارے میں اطلاع دیں جن کے پاس ہم پہنچیں گے۔“ 2 دیکھ، رب تیرے خدا نے تجھے یہ ملک دے دیا ہے۔ اب جا کر اُس پر قبضہ کر لے جس طرح رب تیرے باپ دادا کے خدا نے تجھے بتایا ہے۔ مت ڈرنا اور بےدل نہ ہو جانا!“;1 sوہاں مَیں نے تم سے کہا، ”تم اموریوں کے پہاڑی علاقے تک پہنچ گئے ہو جو رب ہمارا خدا ہمیں دینے والا ہے۔ H#.9DOZenx",6@JT^hr|&0:EP[fq|   $ $ $  $  $  $  $      $ $ $  $  $  $  $        !  "  #  $  %   &   '   (   )   *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8  9  :  ;  <   =  !>  "?  #@  $A  %B  &C  'D  (E  )F  *G  +H  ,I  -J  .K  L M N O P Q R S  T  U  V  W  X Y Z [ \ ] ^ N`HNv8 iتم نے اپنے خیموں میں بڑبڑاتے ہوئے کہا، ”رب ہم سے نفرت رکھتا ہے۔ وہ ہمیں مصر سے نکال لایا ہے تاکہ ہمیں اموریوں کے ہاتھوں ہلاک کروائے۔7  لیکن تم جانا نہیں چاہتے تھے بلکہ سرکشی کر کے رب اپنے خدا کا حکم نہ مانا۔m6 Wپھر وہ ملک کا کچھ پھل لے کر لوٹ آئے اور ہمیں ملک کے بارے میں اطلاع دے کر کہا، ”جو ملک رب ہمارا خدا ہمیں دینے والا ہے وہ اچھا ہے۔“5 +جب یہ بارہ آدمی پہاڑی علاقے میں جا کر وادیِ اِسکال میں پہنچے تو اُس کی تفتیش کی۔4 5یہ بات مجھے پسند آئی۔ مَیں نے اِس کام کے لئے ہر قبیلے کے ایک آدمی کو چن کر بھیج دیا۔ fuf+; Sرب تمہارا خدا تمہارے آگے آگے چلتا ہوا تمہارے لئے لڑے گا۔ تم خود دیکھ چکے ہو کہ وہ کس طرح مصر]: 7مَیں نے کہا، ”نہ گھبراؤ اور نہ اُن سے خوف کھاؤ۔9  ہم کہاں جائیں؟ ہمارے بھائیوں نے ہمیں بےدل کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’وہاں کے لوگ ہم سے طاقت ور اور درازقد ہیں۔ اُن کے بڑے بڑے شہروں کی فصیلیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ وہاں ہم نے عناق کی اولاد بھی دیکھی جو دیو ہیں‘۔“ 4u4 ? "جب رب نے تمہاری یہ باتیں سنیں تو اُسے غصہ آیا اور اُس نے قَسم کھا کر کہا،L> !تم نے یہ بات نظرانداز کی کہ وہ سفر کے دوران رات کے وقت آگ اور دن کے وقت بادل کی صورت میں تمہارے آگے آگے چلتا رہا تاکہ تمہارے لئے خیمے لگانے کی جگہیں معلوم کرے اور تمہیں راستہ دکھائے۔a= ? اِس کے باوجود تم نے رب اپنے خدا پر بھروسا نہ رکھا۔<  اور ریگستان میں تمہارے لئے لڑا۔ یہاں بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔ تُو خود گواہ ہے کہ بیابان میں پورے سفر کے دوران رب تجھے یوں اُٹھائے پھرا جس طرح باپ اپنے بیٹے کو اُٹھائے پھرتا ہے۔ اِس طرح چلتے چلتے تم یہاں تک پہنچ گئے۔“ ]I]hC M&لیکن تیرا مددگار یشوع بن نون داخل ہو گا۔ اُس کی حوصلہ افزائی کر، کیونکہ وہ ملک پر قبضہ کرنے میں اسرائیل کی راہنمائی کرے گا۔“B +%تمہاری وجہ سے رب مجھ سے بھی ناراض ہوا اور کہا، ’تُو بھی اُس میں داخل نہیں ہو گا۔ A $صرف کالب بن یفُنّہ اُسے دیکھے گا۔ مَیں اُسے اور اُس کی اولاد کو وہ ملک دوں گا جس میں اُس نے سفر کیا ہے، کیونکہ اُس نے پورے طور پر رب کی پیروی کی۔“ @ #”اِس شریر نسل کا ایک مرد بھی اُس اچھے ملک کو نہیں دیکھے گا اگرچہ مَیں نے قَسم کھا کر تمہارے باپ دادا سے وعدہ کیا تھا کہ مَیں اُسے اُنہیں دوں گا۔ ]_]ZF 1)تب تم نے کہا، ”ہم نے رب کا گناہ کیا ہے۔ اب ہم ملک میں جا کر لڑیں گے، جس طرح رب ہمارے خدا نے ہمیں حکم دیا ہے۔“ چنانچہ یہ سوچتے ہوئے کہ اُس پہاڑی علاقے پر حملہ کرنا آسان ہو گا، ہر ایک مسلح ہوا۔ E =(لیکن تم خود آگے نہ بڑھو۔ پیچھے مُڑ کر دوبارہ ریگستان میں بحرِ قُلزم کی طرف سفر کرو۔“D 7'تم سے رب نے کہا، ”تمہارے بچے جو ابھی اچھے اور بُرے میں امتیاز نہیں کر سکتے، وہی ملک میں داخل ہوں گے، وہی بچے جن کے بارے میں تم نے کہا کہ دشمن اُنہیں ملکِ کنعان میں چھین لیں گے۔ اُنہیں مَیں ملک دوں گا، اور وہ اُس پر قبضہ کریں گے۔ ::2J a-تب تم واپس آ کر رب کے سامنے زار و قطار رونے لگے۔ لیکن اُس نے توجہ نہ دی بلکہ تمہیں نظرانداز کیا۔ I ,وہاں کے اموری باشندے تمہارا سامنا کرنے نکلے۔ وہ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح تم پر ٹوٹ پڑے اور تمہارا تعاقب کر کے تمہیں سعیر سے حُرمہ تک مارتے گئے۔iH O+مَیں نے تمہیں یہ بتایا، لیکن تم نے میری نہ سنی۔ تم نے سرکشی کر کے رب کا حکم نہ مانا بلکہ مغرور ہو کر پہاڑی علاقے میں داخل ہوئے۔G *لیکن رب نے مجھ سے کہا، ”اُنہیں بتانا کہ وہاں جنگ کرنے کے لئے نہ جاؤ، کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ نہیں ہوں گا۔ تم اپنے دشمنوں کے ہاتھوں شکست کھاؤ گے۔“ t? Oقوم کو بتانا، ’اگلے دنوں میں تم سعیر کے ملک میں سے گزرو گے جہاں تمہارے بھائی عیسَو کی اولاد آباد ہے۔ وہ تم سے ڈریں گے۔ توبھی بڑی احتیاط سے گزرنا۔N/”تم بہت دیر سے اِس پہاڑی علاقے کے کنارے کنارے پھر رہے ہو۔ اب شمال کی طرف سفر کرو۔2Maایک دن رب نے مجھ سے کہا،+L Sپھرجس طرح رب نے مجھے حکم دیا تھا ہم پیچھے مُڑ کر ریگستان میں بحرِ قُلزم کی طرف سفر کرنے لگے۔ کافی دیر تک ہم سعیر یعنی ادوم کے پہاڑی علاقے کے کنارے کنارے پھرتے رہے۔ZK 1.اِس کے بعد تم بہت دنوں تک قادس برنیع میں رہے۔ liRMجو بھی کام تُو نے کیا ہے رب نے اُس پر برکت دی ہے۔ اِس وسیع ریگستان میں پورے سفر کے دوران اُس نے تیری نگہبانی کی۔ اِن 40 سالوں کے دوران رب تیرا خدا تیرے ساتھ تھا، اور تیری تمام ضروریات پوری ہوتی رہیں۔{Qqلازم ہے کہ تم کھانے اور پینے کی تمام ضروریات پیسے دے کر خریدو۔“Pاُن کے ساتھ جنگ نہ چھیڑنا، کیونکہ مَیں تمہیں اُن کے ملک کا ایک مربع فٹ بھی نہیں دوں گا۔ مَیں نے سعیر کا پہاڑی علاقہ عیسَو اور اُس کی اولاد کو دیا ہے۔ gpg'UI پہلے ایمی وہاں رہتے تھے جو عناق کی اولاد کی طرح طاقت ور، درازقد اور تعداد میں زیادہ تھے۔ZT/ وہاں رب نے مجھ سے کہا، ”موآب کے باشندوں کی مخالفت نہ کرنا اور نہ اُن کے ساتھ جنگ چھیڑنا، کیونکہ مَیں اُن کے ملک کا کوئی بھی حصہ تجھے نہیں دوں گا۔ مَیں نے عار شہر کو لوط کی اولاد کو دیا ہے۔“ Sچنانچہ ہم سعیر کو چھوڑ کر جہاں ہمارے بھائی عیسَو کی اولاد آباد تھی دوسرے راستے سے آگے نکلے۔ ہم نے وہ راستہ چھوڑ دیا جو ایلات اور عِصیون جابر کے شہروں سے بحیرۂ مُردار تک پہنچاتا ہے اور موآب کے بیابان کی طرف بڑھنے لگے۔  V |Xs رب نے کہا، ”اب جا کر وادیِ زِرد کو عبور کرو۔“ ہم نے ایسا ہی کیا۔IW  اِسی طرح قدیم زمانے میں حوری سعیر میں آباد تھے، لیکن عیسَو کی اولاد نے اُنہیں وہاں سے نکال دیا تھا۔ جس طرح اسرائیلیوں نے بعد میں اُس ملک میں کیا جو رب نے اُنہیں دیا تھا اُسی طرح عیسَو کی اولاد بڑھتے بڑھتے حوریوں کو تباہ کر کے اُن کی جگہ آباد ہوئے تھے۔&VG عناق کی اولاد کی طرح وہ رفائیوں میں شمار کئے جاتے تھے، لیکن موآبی اُنہیں ایمی کہتے تھے۔offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|)8*9+:,;-<.=/@0C1E2G3L4O5T6[7`)8*9+:,;-<.=/@0C1E2G3L4O5T6[7`8k:q;u<{=>?@ ABCDEFG H#I%J*K-L0M3O8P;Q?RCSFTJUOVRWUXXZ^[a\d]h^l_p`sawb{d}efghi jklmno"p%q(r,s.t1u5v:w=xBzG{K|M}S~VZ^afimrvy|  !%(*-158< (W+(_^9پھر تم عمونیوں کے علاقے تک پہنچو گے۔ اُن کی بھی مخالفت نہ کرنا، اور نہ اُن کے ساتھ جنگ چھیڑنا، کیونکہ مَیں اُن کے ملک کا کوئی بھی حصہ تمہیں نہیں دوں گا۔ مَیں نے یہ ملک لوط کی اولاد کو دیا ہے۔“o]Y”آج تمہیں عار شہر سے ہو کر موآب کے علاقے میں سے گزرنا ہے۔+\Sتب رب نے مجھ سے کہا،)[Oجب وہ سب مر گئے تھےZ رب کی مخالفت کے باعث آخرکار خیمہ گاہ میں اُس نسل کا ایک مرد بھی نہ رہا۔Y/ہمیں قادس برنیع سے روانہ ہوئے 38 سال ہو گئے تھے۔ اب وہ تمام آدمی مر چکے تھے جو اُس وقت جنگ کرنے کے قابل تھے۔ ویسا ہی ہوا تھا جیسا رب نے قَسم کھا کر کہا تھا۔ ==Jaبالکل اُسی طرح جس طرح رب نے عیسَو کی اولاد کے آگے آگے حوریوں کو تباہ کر دیا تھا جب وہ سعیر کے ملک میں آئے تھے۔ وہاں بھی وہ بڑھتے بڑھتے حوریوں کو نکالتے گئے اور اُن کی جگہ آباد ہوئے۔ `اور وہ دیو تھے، طاقت ور اور تعداد میں زیادہ۔ وہ عناق کی اولاد جیسے درازقد تھا۔ جب عمونی ملک میں آئے تو رب نے رفائیوں کو اُن کے آگے آگے تباہ کر دیا۔ چنانچہ عمونی بڑھتے بڑھتے اُنہیں نکالتے گئے اور اُن کی جگہ آباد ہوئے،b_?حقیقت میں عمونیوں کا ملک بھی رفائیوں کا ملک سمجھا جاتا تھا جو قدیم زمانے میں وہاں آباد تھے۔ عمونی اُنہیں زمزمی کہتے تھے، !!!|dsاِسی دن سے مَیں تمام قوموں میں تمہارے بارے میں دہشت اور خوف پیدا کروں گا۔ وہ تمہاری خبر سن کر خوف کے مارے تھرتھرائیں گی اور کانپیں گی۔“cرب نے موسیٰ سے کہا، ”اب جا کر وادیِ ارنون کو عبور کرو۔ یوں سمجھو کہ مَیں حسبون کے اموری بادشاہ سیحون کو اُس کے ملک سمیت تمہارے حوالے کر چکا ہوں۔ اُس پر قبضہ کرنا شروع کرو اور اُس کے ساتھ جنگ کرنے کا موقع ڈھونڈو۔Ub%اِسی طرح ایک اَور قدیم قوم بنام عوی کو بھی اُس کے ملک سے نکالا گیا۔ عوی غزہ تک آباد تھے، لیکن جب کفتوری کفتور یعنی کریتے سے آئے تو اُنہوں نے اُنہیں تباہ کر دیا اور اُن کی جگہ آباد ہو گئے۔ &h$hCجس طرح سعیر کے باشندوں عیسَو کی اولاد اور موآبیوں نے ہمیں گزرنے دیا۔ کیونکہ ہماری منزل دریائے یردن کے مغرب میں ہے، وہ ملک جو رب ہمارا خدا ہمیں دینے والا ہے۔“5geہم کھانے اور پینے کی تمام ضروریات کے لئے مناسب پیسے دیں گے۔ ہمیں پیدل اپنے ملک میں سے گزرنے دیں،:fo”ہمیں اپنے ملک میں سے گزرنے دیں۔ ہم شاہراہ پر ہی رہیں گے اور اُس سے نہ بائیں، نہ دائیں طرف ہٹیں گے۔Ve'مَیں نے دشتِ قدیمات سے حسبون کے بادشاہ سیحون کے پاس قاصد بھیجے۔ میرا پیغام نفرت اور مخالفت سے خالی تھا۔ وہ یہ تھا، :'lI!تو رب ہمارے خدا نے ہمیں پوری فتح بخشی۔ ہم نے سیحون، اُس کے بیٹوں اور پوری قوم کو شکست دی۔vkg جب سیحون اپنی ساری فوج لے کر ہمارا مقابلہ کرنے کے لئے یہض آیاhjKرب نے مجھ سے کہا، ”یوں سمجھ لے کہ مَیں سیحون اور اُس کے ملک کو تیرے حوالے کرنے لگا ہوں۔ اب نکل کر اُس پر قبضہ کرنا شروع کرو۔“]i5لیکن حسبون کے بادشاہ سیحون نے ہمیں گزرنے نہ دیا، کیونکہ رب تمہارے خدا نے اُسے بےلچک اور ہماری بات سے انکار کرنے پر آمادہ کر دیا تھا تاکہ سیحون ہمارے قابو میں آ جائے۔ اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔ #'a#:po%لیکن تم نے عمونیوں کا ملک چھوڑ دیا اور نہ دریائے یبوق کے ارد گرد کے علاقے، نہ اُس کے پہاڑی علاقے کے شہروں کو چھیڑا، کیونکہ رب ہمارے خدا نے ایسا کرنے سے تمہیں منع کیا تھا۔ Eo$وادیِ ارنون کے کنارے پر واقع عروعیر سے لے کر جِلعاد تک ہر شہر کو شکست ماننی پڑی۔ اِس میں وہ شہر بھی شامل تھا جو وادیِ ارنون میں تھا۔ رب ہمارے خدا نے اُن سب کو ہمارے حوالے کر دیا۔zno#ہم نے صرف مویشی اور شہروں کا لُوٹا ہوا مال اپنے لئے بچائے رکھا۔Um%"اُس وقت ہم نے اُس کے تمام شہروں پر قبضہ کر لیا اور اُن کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں کو مار ڈالا۔ کوئی بھی نہ بچا۔ qs]ایسا ہی ہوا۔ رب ہمارے خدا کی مدد سے ہم نے بسن کے بادشاہ عوج اور اُس کی تمام قوم کو شکست دی۔ ہم نے سب کوہلاک کر دیا۔ کوئی بھی نہ بچا۔[r1رب نے مجھ سے کہا، ”اُس سے مت ڈر۔ مَیں اُسے، اُس کی پوری فوج اور اُس کا ملک تیرے حوالے کر چکا ہوں۔ اُس کے ساتھ وہ کچھ کر جو تُو نے اموری بادشاہ سیحون کے ساتھ کیا جو حسبون میں حکومت کرتا تھا۔“hq Mاِس کے بعد ہم شمال میں بسن کی طرف بڑھ گئے۔ بسن کا بادشاہ عوج اپنی تمام فوج کے ساتھ نکل کر ہمارا مقابلہ کرنے کے لئے اِدرعی آیا۔ 44wہم نے صرف تمام مویشی اور شہروں کا لُوٹا ہوا مال اپنے لئے بچائے رکھا۔=vuہم نے اُن کے ساتھ وہ کچھ کیا جو ہم نے حسبون کے بادشاہ سیحون کے علاقے کے ساتھ کیا تھا۔ ہم نے سب کچھ رب کے حوالے کر کے ہر شہر کو اور تمام مردوں، عورتوں اور بچوں کو ہلاک کر ڈالا۔uاِن تمام شہروں کی حفاظت اونچی اونچی فصیلوں اور کنڈے والے دروازوں سے کی گئی تھی۔ دیہات میں بہت سی ایسی آبادیاں بھی مل گئیں جن کی فصیلیں نہیں تھیں۔ntWاُسی وقت ہم نے اُس کے تمام شہروں پر قبضہ کر لیا۔ ہم نے کُل 60 شہروں پر یعنی ارجوب کے سارے علاقے پر قبضہ کیا جس پر عوج کی حکومت تھی۔ `y`{% بادشاہ عوج دیو قبیلے رفائی کا آخری مرد تھا۔ اُس کا لوہے کا تابوت سے زائد فٹ لمبا اور چھ فٹ چوڑا تھا اور آج تک عمونیوں کے شہر ربّہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔z  ہم نے عوج بادشاہ کے پورے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اِس میں میدانِ مرتفع کے تمام شہر شامل تھے، نیز سلکہ اور اِدرعی تک جِلعاد اور بسن کے پورے علاقے۔y' (صیدا کے باشندے حرمون کو سِریون کہتے ہیں جبکہ اموریوں نے اُس کا نام سنیر رکھا)۔^x7یوں ہم نے اُس وقت اموریوں کے اِن دو بادشاہوں سے دریائے یردن کا مشرقی علاقہ وادیِ ارنون سے لے کر حرمون پہاڑ تک چھین لیا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq| ` a b c d e f g h ` a b c d e f g h i j  k !l "m #n $o %p  q r s t u v w x  y  z  {  |  } ~                                             @C} جِلعاد کا شمالی حصہ اور بسن کا ملک مَیں نے منسّی کے آدھے قبیلے کو دیا۔ (بسن میں ارجوب کا علاقہ ہے جہاں پہلے عوج بادشاہ کی حکومت تھی اور جو رفائیوں یعنی دیووں کا ملک کہلاتا تھا۔<|s جب ہم نے دریائے یردن کے مشرقی علاقے پر قبضہ کیا تو مَیں نے روبن اور جد کے قبیلوں کو اُس کا جنوبی حصہ شہروں سمیت دیا۔ اِس علاقے کی جنوبی سرحد دریائے ارنون پر واقع شہر عروعیر ہے جبکہ شمال میں اِس میں جِلعاد کے پہاڑی علاقے کا آدھا حصہ بھی شامل ہے۔ 'Jلیکن جِلعاد کا جنوبی حصہ روبن اور جد کے قبیلوں کو دیا۔ اِس حصے کی ایک سرحد جنوب میں وادیِ ارنون کے بیچ میں سے گزرتی ہے جبکہ دوسری سرحد دریائے یبوق ہے جس کے پار عمونیوں کی حکومت ہے۔hKمَیں نے جِلعاد کا شمالی حصہ منسّی کے کنبے مکیر کو دیاj~Oمنسّی کے قبیلے کے ایک آدمی بنام یائیر نے ارجوب پر جسوریوں اور معکاتیوں کی سرحد تک قبضہ کر لیا تھا۔ اُس نے اِس علاقے کی بستیوں کو اپنا نام دیا۔ آج تک یہی نام حووت یائیر یعنی یائیر کی بستیاں چلتا ہے۔) vv5اُس وقت مَیں نے روبن، جد اور منسّی کے قبیلوں سے کہا، ”رب تمہارے خدا نے تمہیں میراث میں یہ ملک دے دیا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ تمہارے تمام جنگ کرنے کے قابل مرد مسلح ہو کر تمہارے اسرائیلی بھائیوں کے آگے آگے دریائے یردن کو پار کریں۔eEاُس کی مغربی سرحد دریائے یردن ہے یعنی کِنّرت (گلیل) کی جھیل سے لے کر بحیرۂ مُردار تک جو پِسگہ کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں ہے۔ |sاپنے بھائیوں کے ساتھ چلتے ہوئے اُن کی مدد کرتے رہو۔ جب رب تمہارا خدا اُنہیں دریائے یردن کے مغرب میں واقع ملک دے گا اور وہ تمہاری طرح آرام اور سکون سے وہاں آباد ہو جائیں گے تب تم اپنے ملک میں واپس جا سکتے ہو۔“nWصرف تمہاری عورتیں اور بچے پیچھے رہ کر اُن شہروں میں انتظار کر سکتے ہیں جو مَیں نے تمہارے لئے مقرر کئے ہیں۔ تم اپنے مویشیوں کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہو، کیونکہ مجھے پتا ہے کہ تمہارے بہت زیادہ جانور ہیں۔ l1”اے رب قادرِ مطلق، تُو اپنے خادم کو اپنی عظمت اور قدرت دکھانے لگا ہے۔ کیا آسمان یا زمین پر کوئی اَور خدا ہے جو تیری طرح کے عظیم کام کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!Lاُس وقت مَیں نے رب سے التجا کر کے کہا،iMاُن سے نہ ڈرو۔ تمہارا خدا خود تمہارے لئے جنگ کرے گا۔“ساتھ ساتھ مَیں نے یشوع سے کہا، ”تُو نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیا ہے جو رب تمہارے خدا نے اِن دونوں بادشاہوں سیحون اور عوج سے کیا۔ وہ یہی کچھ ہر اُس بادشاہ کے ساتھ کرے گا جس کے ملک پر تُو دریا کو پار کر کے حملہ کرے گا۔ Ep\ 3اپنی جگہ یشوع کو مقرر کر۔ اُس کی حوصلہ افزائی کر اور اُسے مضبوط کر، کیونکہ وہی اِس قوم کو دریائے یردن کے مغرب میں لے جائے گا اور قبیلوں میں اُس ملک کو تقسیم کرے گا جسے تُو پہاڑ سے دیکھے گا۔“Q پِسگہ کی چوٹی پر چڑھ کر چاروں طرف نظر دوڑا۔ وہاں سے غور سے دیکھ، کیونکہ تُو خود دریائے یردن کو عبور نہیں کرے گا۔P لیکن تمہارے سبب سے رب مجھ سے ناراض تھا۔ اُس نے میری نہ سنی بلکہ کہا، ”بس کر! آئندہ میرے ساتھ اِس کا ذکر نہ کرنا۔c Aمہربانی کر کے مجھے بھی دریائے یردن کو پار کر کے اُس اچھے ملک یعنی اُس بہترین پہاڑی علاقے کو لبنان تک دیکھنے کی اجازت دے۔“ G[9GnWتم نے خود دیکھا ہے کہ رب نے بعل فغور سے کیا کچھ کیا۔ وہاں رب تیرے خدا نے ہر ایک کو ہلاک کر ڈالا جس نے فغور کے بعل دیوتا کی پوجا کی۔7جو احکام مَیں تمہیں سکھاتا ہوں اُن میں نہ کسی بات کا اضافہ کرو اور نہ اُن سے کوئی بات نکالو۔ رب اپنے خدا کے تمام احکام پر عمل کرو جو مَیں نے تمہیں دیئے ہیں۔G اے اسرائیل، اب وہ تمام احکام دھیان سے سن لے جو مَیں تمہیں سکھاتا ہوں۔ اُن پر عمل کرو تاکہ تم زندہ رہو اور جا کر اُس ملک پر قبضہ کرو جو رب تمہارے باپ دادا کا خدا تمہیں دینے والا ہے۔W )چنانچہ ہم بیت فغور کے قریب وادی میں ٹھہرے۔ x\S!اِنہیں مانو اور اِن پر عمل کرو تو دوسری قوموں کو تمہاری دانش مندی اور سمجھ نظر آئے گی۔ پھر وہ اِن تمام احکام کے بارے میں سن کر کہیں گی، ”واہ، یہ عظیم قوم کیسی دانش مند اور سمجھ دار ہے!“+مَیں نے تمہیں تمام احکام یوں سکھا دیئے ہیں جس طرح رب میرے خدا نے مجھے بتایا۔ کیونکہ لازم ہے کہ تم اُس ملک میں اِن کے تابع رہو جس پر تم قبضہ کرنے والے ہو۔لیکن تم میں سے جتنے رب اپنے خدا کے ساتھ لپٹے رہے وہ سب آج تک زندہ ہیں۔ 8E لیکن خبردار، احتیاط کرنا اور وہ تمام باتیں نہ بھولنا جو تیری آنکھوں نے دیکھی ہیں۔ وہ عمر بھر تیرے دل میں سے مٹ نہ جائیں بلکہ اُنہیں اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کو بھی بتاتے رہنا۔Lکون سی عظیم قوم کے پاس ایسے منصفانہ احکام اور ہدایات ہیں جیسے مَیں آج تمہیں پوری شریعت سنا کر پیش کر رہا ہوں؟tcکون سی عظیم قوم کے معبود اِتنے قریب ہیں جتنا ہمارا خدا ہمارے قریب ہے؟ جب بھی ہم مدد کے لئے پکارتے ہیں تو رب ہمارا خدا موجود ہوتا ہے۔ eg>eU% پھر رب آگ میں سے تم سے ہم کلام ہوا۔ تم نے اُس کی باتیں سنیں لیکن اُس کی کوئی شکل نہ دیکھی۔ صرف اُس کی آواز سنائی دی۔%E اُس وقت تم قریب آ کر پہاڑ کے دامن میں کھڑے ہوئے۔ وہ جل رہا تھا، اور اُس کی آگ آسمان تک بھڑک رہی تھی جبکہ کالے بادلوں اور گہرے اندھیرے نے اُسے نظروں سے چھپا دیا۔% وہ دن یاد کر جب تُو حورب یعنی سینا پہاڑ پر رب اپنے خدا کے سامنے حاضر تھا اور اُس نے مجھے بتایا، ”قوم کو یہاں میرے پاس جمع کر تاکہ مَیں اُن سے بات کروں اور وہ عمر بھر میرا خوف مانیں اور اپنے بچوں کو میری باتیں سکھاتے رہیں۔“ / N/Pرینگنے والے جانور یا مچھلی کا بُت بناؤ۔Aزمین پر چلنے والے جانور، پرندے،کہ تم غلط کام کر کے اپنے لئے کسی بھی شکل کا بُت نہ بناؤ۔ نہ مرد، عورت،8kجب رب حورب یعنی سینا پہاڑ پر تم سے ہم کلام ہوا تو تم نے اُس کی کوئی شکل نہ دیکھی۔ چنانچہ خبردار رہوvgرب نے مجھے ہدایت کی، ”اُنہیں وہ تمام احکام سکھا جن کے مطابق اُنہیں چلنا ہو گا جب وہ دریائے یردن کو پار کر کے کنعان پر قبصہ کریں گے۔“xk اُس نے تمہارے لئے اپنے عہد یعنی اُن 10 احکام کا اعلان کیا اور حکم دیا کہ اِن پر عمل کرو۔ پھر اُس نے اُنہیں پتھر کی دو تختیوں پر لکھ دیا۔  ";تمہارے سبب سے رب نے مجھ سے ناراض ہو کر قَسم کھائی کہ تُو دریائے یردن کو پار کر کے اُس اچھے ملک میں داخل نہیں ہو گا جو رب تیرا خدا تجھے میراث میں دینے والا ہے۔]!5لیکن تمہیں اُس نے مصر کے بھڑکتے بھٹے سے نکالا ہے تاکہ تم اُس کی اپنی قوم اور اُس کی میراث بن جاؤ۔ اور آج ایسا ہی ہوا ہے۔V 'جب تُو آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر آسمان کا پورا لشکر دیکھے تو سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش اور خدمت کرنے کی آزمائش میں نہ پڑنا۔ رب تیرے خدا نے اِن چیزوں کو باقی تمام قوموں کو عطا کیا ہے، $r%_کیونکہ رب تیرا خدا بھسم کر دینے والی آگ ہے، وہ غیور خدا ہے۔j$Oہر صورت میں وہ عہد یاد رکھنا جو رب تمہارے خدا نے تمہارے ساتھ باندھا ہے۔ اپنے لئے کسی بھی چیز کی مورت نہ بنانا۔ یہ رب کا حکم ہے،j#Oمَیں یہیں اِسی ملک میں مر جاؤں گا اور دریائے یردن کو پار نہیں کروں گا۔ لیکن تم دریا کو پار کر کے اُس بہترین ملک پر قبضہ کرو گے۔ 'G'4(cرب تمہیں ملک سے نکال کر مختلف قوموں میں منتشر کر دے گا، اور وہاں صرف تھوڑے ہی افراد بچے رہیں گے۔d'Cآج آسمان اور زمین میرے گواہ ہیں کہ اگر تم ایسا کرو تو جلدی سے اُس ملک میں سے مٹ جاؤ گے جس پر تم دریائے یردن کو پار کر کے قبضہ کرو گے۔ تم دیر تک وہاں جیتے نہیں رہو گے بلکہ پورے طور پر ہلاک ہو جاؤ گے۔5&eتم ملک میں جا کر وہاں رہو گے۔ تمہارے بچے اور پوتے نواسے اُس میں پیدا ہو جائیں گے۔ جب اِس طرح بہت وقت گزر جائے گا تو خطرہ ہے کہ تم غلط کام کر کے کسی چیز کی مورت بناؤ۔ ایسا کبھی نہ کرنا۔ یہ رب تمہارے خدا کی نظر میں بُرا ہے اور اُسے غصہ دلائے گا۔ CA^C,)کیونکہ رب تیرا خدا رحیم خدا ہے۔ وہ تجھے نہ ترک کرے گا اور نہ برباد کرے گا۔ وہ اُس عہد کو نہیں بھولے گا جو اُس نے قَسم کھا کر تیرے باپ دادا سے باندھا تھا۔_+9جب تُو اِس تکلیف میں مبتلا ہو گا اور یہ سارا کچھ تجھ پر سے گزرے گا پھر آخرکار رب اپنے خدا کی طرف رجوع کر کے اُس کی سنے گا۔9*mوہیں تُو رب اپنے خدا کو تلاش کرے گا، اور اگر اُسے پورے دل و جان سے ڈھونڈے تو وہ تجھے مل بھی جائے گا۔~)wوہاں تم انسان کے ہاتھوں سے بنے ہوئے لکڑی اور پتھر کے بُتوں کی خدمت کرو گے، جو نہ دیکھ سکتے، نہ سن سکتے، نہ کھا سکتے اور نہ سونگھ سکتے ہیں۔ 6.g!تُو نے آگ میں سے بولتی ہوئی اللہ کی آواز سنی توبھی جیتا بچا! کیا کسی اَور قوم کے ساتھ ایسا ہوا ہے؟y-m دنیا میں انسان کی تخلیق سے لے کر آج تک ماضی کی تفتیش کر۔ آسمان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کھوج لگا۔ کیا اِس سے پہلے کبھی اِس طرح کا معجزانہ کام ہوا ہے؟ کیا کسی نے اِس سے پہلے اِس قسم کے عظیم کام کی خبر سنی ہے؟ >4>r1_$اُس نے تجھے نصیحت دینے کے لئے آسمان سے اپنی آواز سنائی۔ زمین پر اُس نے تجھے اپنی عظیم آگ دکھائی جس میں سے تُو نے اُس کی باتیں سنیں۔09#تجھے یہ سب کچھ دکھایا گیا تاکہ تُو جان لے کہ رب خدا ہے۔ اُس کے سوا کوئی اَور نہیں ہے۔%/E"کیا کسی اَور معبود نے کبھی جرٲت کی ہے کہ رب کی طرح پوری قوم کو ایک ملک سے نکال کر اپنی ملکیت بنایا ہو؟ اُس نے ایسا ہی تمہارے ساتھ کیا۔ اُس نے تمہارے دیکھتے دیکھتے مصریوں کو آزمایا، اُنہیں بڑے معجزے دکھائے، اُن کے ساتھ جنگ کی، اپنی بڑی قدرت اور اختیار کا اظہار کیا اور ہول ناک کاموں سے اُن پر غالب آ گیا۔ 9e9(5K(اُس کے احکام پر عمل کر جو مَیں تجھے آج سنا رہا ہوں۔ پھر تُو اور تیری اولاد کامیاب ہوں گے، اور تُو دیر تک اُس ملک میں جیتا رہے گا جو رب تجھے ہمیشہ کے لئے دے رہا ہے۔'4I'چنانچہ آج جان لے اور ذہن میں رکھ کہ رب آسمان اور زمین کا خدا ہے۔ کوئی اَور معبود نہیں ہے۔d3C&اُس نے تیرے آگے سے تجھ سے زیادہ بڑی اور طاقت ور قومیں نکال دیں تاکہ تجھے اُن کا ملک میراث میں مل جائے۔ آج ایسا ہی ہو رہا ہے۔2%اُسے تیرے باپ دادا سے پیار تھا، اور اُس نے تجھے جو اُن کی اولاد ہیں چن لیا۔ اِس لئے وہ خود حاضر ہو کر اپنی عظیم قدرت سے تجھے مصر سے نکال لایا۔ :6$:z:o-موسیٰ نے یہ احکام اور ہدایات اُس وقت پیش کیں جب وہ مصر سے نکل کرj9O,درجِ ذیل وہ شریعت ہے جو موسیٰ نے اسرائیلیوں کو پیش کی۔8+اِس کے لئے روبن کے قبیلے کے لئے میدانِ مرتفع کا شہر بصر، جد کے قبیلے کے لئے جِلعاد کا شہر رامات اور منسّی کے قبیلے کے لئے بسن کا شہر جولان چنا گیا۔E7*اُن میں وہ شخص پناہ لے سکتا تھا جس نے دشمنی کی بنا پر نہیں بلکہ غیرارادی طور پر کسی کو جان سے مار دیا تھا۔ ایسے شہر میں پناہ لینے کے سبب سے اُسے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا تھا۔~6w)یہ کہہ کر موسیٰ نے دریائے یردن کے مشرق میں پناہ کے تین شہر چن لئے۔ "`"U=%0اُس کی جنوبی سرحد دریائے ارنون کے کنارے پر واقع شہر عروعیر تھی جبکہ اُس کی شمالی سرحد سِیُون یعنی حرمون پہاڑ تھی۔a<=/اُس کے ملک پر قبضہ کر کے اُنہوں نے بسن کے ملک پر بھی فتح پائی تھی جس کا بادشاہ عوج تھا۔ اِن دونوں اموری بادشاہوں کا یہ پورا علاقہ اُن کے ہاتھ میں آ گیا تھا۔ یہ علاقہ دریائے یردن کے مشرق میں تھا۔;3.دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر تھے۔ بیت فغور اُن کے مقابل تھا، اور وہ اموری بادشاہ سیحون کے ملک میں خیمہ زن تھے۔ سیحون کی رہائش حسبون میں تھی اور اُسے اسرائیلیوں سے شکست ہوئی تھی جب وہ موسیٰ کی راہنمائی میں مصر سے نکل آئے تھے۔ d7dfBGرب پہاڑ پر آگ میں سے رُوبرُو ہو کر تم سے ہم کلام ہوا۔7Aiاُس نے یہ عہد ہمارے باپ دادا کے ساتھ نہیں بلکہ ہمارے ہی ساتھ باندھا ہے، جو آج اِس جگہ پر زندہ ہیں۔w@iرب ہمارے خدا نے حورب یعنی سینا پہاڑ پر ہمارے ساتھ عہد باندھا۔1? _موسیٰ نے تمام اسرائیلیوں کو جمع کر کے کہا، اے اسرائیل، دھیان سے وہ ہدایات اور احکام سن جو مَیں تمہیں آج پیش کر رہا ہوں۔ اُنہیں سیکھو اور بڑی احتیاط سے اُن پر عمل کرو۔E>1دریائے یردن کا پورا مشرقی کنارہ پِسگہ کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع بحیرۂ مُردار تک اُس میں شامل تھا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr}          !          ! " # $ % & ' ( ) * + , - . / 0 1                                        !                VrdV G نہ بُتوں کی پرستش، نہ اُن کی خدمت کرنا، کیونکہ مَیں تیرا رب غیور خدا ہوں۔ جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں اُنہیں مَیں تیسری اور چوتھی پشت تک سزا دوں گا۔4Fcاپنے لئے بُت نہ بنانا۔ کسی بھی چیز کی مورت نہ بنانا، چاہے وہ آسمان میں، زمین پر یا سمندر میں ہو۔SE!میرے سوا کسی اَور معبود کی پرستش نہ کرنا۔wDi”مَیں رب تیرا خدا ہوں جو تجھے ملکِ مصر کی غلامی سے نکال لایا۔Cاُس وقت مَیں تمہارے اور رب کے درمیان کھڑا ہوا تاکہ تمہیں رب کی باتیں سناؤں۔ کیونکہ تم آگ سے ڈرتے تھے اور اِس لئے پہاڑ پر نہ چڑھے۔ اُس وقت رب نے کہا، BEfBGK  ہفتے کے پہلے چھ دن اپنا کام کاج کر،VJ' سبت کے دن کا خیال رکھنا۔ اُسے اِس طرح منانا کہ وہ مخصوص و مُقدّس ہو، اُسی طرح جس طرح رب تیرے خدا نے تجھے حکم دیا ہے۔[I1 رب اپنے خدا کا نام بےمقصد یا غلط مقصد کے لئے استعمال نہ کرنا۔ جو بھی ایسا کرتا ہے اُسے رب سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑے گا۔7Hi لیکن جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے احکام پورے کرتے ہیں اُن پر مَیں ہزار پشتوں تک مہربانی کروں گا۔ M)یاد رکھنا کہ تُو مصر میں غلام تھا اور کہ رب تیرا خدا ہی تجھے بڑی قدرت اور اختیار سے وہاں سے نکال لایا۔ اِس لئے اُس نے تجھے حکم دیا ہے کہ سبت کا دن منانا۔(LKلیکن ساتواں دن رب تیرے خدا کا آرام کا دن ہے۔ اُس دن کسی طرح کا کام نہ کرنا۔ نہ تُو، نہ تیرا بیٹا، نہ تیری بیٹی، نہ تیرا نوکر، نہ تیری نوکرانی، نہ تیرا بَیل، نہ تیرا گدھا، نہ تیرا کوئی اَور مویشی۔ جو پردیسی تیرے درمیان رہتا ہے وہ بھی کام نہ کرے۔ تیرے نوکر اور تیری نوکرانی کو تیری طرح آرام کا موقع ملنا ہے۔ p[S1اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا۔ نہ اُس کے گھر کا، نہ اُس کی زمین کا، نہ اُس کے نوکر کا، نہ اُس کی نوکرانی کا، نہ اُس کے بَیل اور نہ اُس کے گدھے کا بلکہ اُس کی کسی بھی چیز کا لالچ نہ کرنا۔“WR)اپنے پڑوسی کے بارے میں جھوٹی گواہی نہ دینا۔ Q=چوری نہ کرنا۔P9زنا نہ کرنا۔O9قتل نہ کرنا۔'NIاپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا جس طرح رب تیرے خدا نے تجھے حکم دیا ہے۔ پھر تُو اُس ملک میں جو رب تیرا خدا تجھے دینے والا ہے خوش حال ہو گا اور دیر تک جیتا رہے گا۔ ?q?WV)اُنہوں نے کہا، ”رب ہمارے خدا نے ہم پر اپنا جلال اور عظمت ظاہر کی ہے۔ آج ہم نے آگ میں سے اُس کی آواز سنی ہے۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ جب اللہ انسان سے ہم کلام ہوتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ مر جائے۔SU!جب تم نے تاریکی سے یہ آواز سنی اور پہاڑ کی جلتی ہوئی حالت دیکھی تو تمہارے قبیلوں کے راہنما اور بزرگ میرے پاس آئے۔ Tرب نے تم سب کو یہ احکام دیئے جب تم سینا پہاڑ کے دامن میں جمع تھے۔ وہاں تم نے آگ، بادل اور گہرے اندھیرے میں سے اُس کی زوردار آواز سنی۔ یہی کچھ اُس نے کہا اور بس۔ پھر اُس نے اُنہیں پتھر کی دو تختیوں پر لکھ کر مجھے دے دیا۔ FF4Zcجب رب نے یہ سنا تو اُس نے مجھ سے کہا، ”مَیں نے اِن لوگوں کی یہ باتیں سن لی ہیں۔ وہ ٹھیک کہتے ہیں۔Y+آپ ہی قریب جا کر اُن تمام باتوں کو سنیں جو رب ہمارا خدا ہمیں بتانا چاہتا ہے۔ پھر لوٹ کر ہمیں وہ باتیں سنائیں۔ ہم اُنہیں سنیں گے اور اُن پر عمل کریں گے۔“PXکیونکہ فانی انسانوں میں سے کون ہماری طرح زندہ خدا کو آگ میں سے باتیں کرتے ہوئے سن کر زندہ رہا ہے؟ کوئی بھی نہیں!Wلیکن اب ہم کیوں اپنی جان خطرے میں ڈالیں؟ اگر ہم مزید رب اپنے خدا کی آواز سنیں تو یہ بڑی آگ ہمیں بھسم کر دے گی اور ہم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ zWA^} چنانچہ احتیاط سے اُن احکام پر عمل کرو جو رب تمہارے خدا نے تمہیں دیئے ہیں۔ اُن سے نہ دائیں ہٹو نہ بائیں۔]9لیکن تُو یہاں میرے پاس رہ تاکہ مَیں تجھے تمام قوانین اور احکام دے دوں۔ اُن کو لوگوں کو سکھانا تاکہ وہ اُس ملک میں اُن کے مطابق چلیں جو مَیں اُنہیں دوں گا۔“X\+جا، اُنہیں بتا دے کہ اپنے خیموں میں لوٹ جاؤ۔'[Iکاش اُن کی سوچ ہمیشہ ایسی ہی ہو! کاش وہ ہمیشہ اِسی طرح میرا خوف مانیں اور میرے احکام پر عمل کریں! اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ اور اُن کی اولاد ہمیشہ کامیاب رہیں گے۔  aعمر بھر تُو، تیرے بچے اور پوتے نواسے رب اپنے خدا کا خوف مانیں اور اُس کے اُن تمام احکام پر چلیں جو مَیں تجھے دے رہا ہوں۔ تب تُو دیر تک جیتا رہے گا۔` یہ وہ تمام احکام ہیں جو رب تمہارے خدا نے مجھے تمہیں سکھانے کے لئے کہا۔ اُس ملک میں اِن پر عمل کرنا جس میں تم جانے والے ہو تاکہ اُس پر قبضہ کرو۔~_w!ہمیشہ اُس راہ پر چلتے رہو جو رب تمہارے خدا نے تمہیں بتائی ہے۔ پھر تم کامیاب ہو گے اور اُس ملک میں دیر تک جیتے رہو گے جس پر تم قبضہ کرو گے۔ /@8/fاُنہیں اپنے بچوں کے ذہن نشین کرا۔ یہی باتیں ہر وقت اور ہر جگہ تیرے لبوں پر ہوں خواہ تُو گھر میں بیٹھا یا راستے پر چلتا ہو، لیٹا ہو یا کھڑا ہو۔re_جو احکام مَیں تجھے آج بتا رہا ہوں اُنہیں اپنے دل پر نقش کر۔dرب اپنے خدا سے اپنے پورے دل، اپنی پوری جان اور اپنی پوری طاقت سے پیار کرنا۔Qcسن اے اسرائیل! رب ہمارا خدا ایک ہی رب ہے۔hbKاے اسرائیل، یہ میری باتیں سن اور بڑی احتیاط سے اِن پر عمل کر! پھر رب تیرے خدا کا وعدہ پورا ہو جائے گا کہ تُو کامیاب رہے گا اور تیری تعداد اُس ملک میں خوب بڑھتی جائے گی جس میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔ shiK رب تیرے خدا کا وعدہ پورا ہو گا جو اُس نے قَسم کھا کر تیرے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے ساتھ کیا کہ مَیں تجھے کنعان میں لے جاؤں گا۔ جو بڑے اور شاندار شہر اُس میں ہیں وہ تُو نے خود نہیں بنائے۔zho اُنہیں اپنے گھروں کی چوکھٹوں اور اپنے شہروں کے دروازوں پر لکھ۔ g اُنہیں نشان کے طور پر اور یاددہانی کے لئے اپنے بازوؤں اور ماتھے پر لگا۔ ddm'دیگر معبودوں کی پیروی نہ کرنا۔ اِس میں تمام پڑوسی اقوام کے دیوتا بھی شامل ہیں۔l1 رب اپنے خدا کا خوف ماننا۔ صرف اُسی کی عبادت کرنا اور اُسی کا نام لے کر قَسم کھانا۔uke تو خبردار! رب کو نہ بھولنا جو تجھے مصر کی غلامی سے نکال لایا۔gjI جو مکان اُس میں ہیں وہ ایسی اچھی چیزوں سے بھرے ہوئے ہیں جو تُو نے اُن میں نہیں رکھیں۔ جو کنوئیں اُس میں ہیں اُن کو تُو نے نہیں کھودا۔ جو انگور اور زیتون کے باغ اُس میں ہیں اُنہیں تُو نے نہیں لگایا۔ یہ حقیقت یاد رکھ۔ جب تُو اُس ملک میں کثرت کا کھانا کھا کر سیر ہو جائے گا 22 rتب رب کی بات پوری ہو جائے گی کہ تُو اپنے دشمنوں کو اپنے آگے آگے نکال دے گا۔!q=جو کچھ رب کی نظر میں درست اور اچھا ہے وہ کر۔ پھر تُو کامیاب رہے گا، تُو جا کر اُس اچھے ملک پر قبضہ کرے گا جس کا وعدہ رب نے تیرے باپ دادا سے قَسم کھا کر کیا تھا۔8pkدھیان سے رب اپنے خدا کے احکام کے مطابق چلو، اُن تمام ہدایات اور قوانین پر جو اُس نے تجھے دیئے ہیں۔xokرب اپنے خدا کو اُس طرح نہ آزمانا جس طرح تم نے مسّہ میں کیا تھا۔]n5ورنہ رب تیرے خدا کا غضب تجھ پر نازل ہو کر تجھے ملک میں سے مٹا ڈالے گا۔ کیونکہ وہ غیور خدا ہے اور تیرے درمیان ہی رہتا ہے۔ =e^v7اُس وقت وہ ہمیں وہاں سے نکال لایا تاکہ ہمیں لے کر وہ ملک دے جس کا وعدہ اُس نے قَسم کھا کر ہمارے باپ دادا کے ساتھ کیا تھا۔^u7ہمارے دیکھتے دیکھتے اُس نے بڑے بڑے نشان اور معجزے کئے اور مصر، فرعون اور اُس کے پورے گھرانے پر ہول ناک مصیبتیں بھیجیں۔Tt#پھر اُنہیں جواب دینا، ”ہم مصر کے بادشاہ فرعون کے غلام تھے، لیکن رب ہمیں بڑی قدرت کا اظہار کر کے مصر سے نکال لایا۔?syآنے والے دنوں میں تیرے بچے پوچھیں گے، ”رب ہمارے خدا نے آپ کو اِن تمام احکام پر عمل کرنے کو کیوں کہا؟“ y ;رب تیرا خدا تجھے اُس ملک میں لے جائے گا جس پر تُو جا کر قبضہ کرے گا۔ وہ تیرے سامنے سے بہت سی قومیں بھگا دے گا۔ گو یہ سات قومیں یعنی حِتّی، جرجاسی، اموری، کنعانی، فرِزّی، حِوّی اور یبوسی تعداد اور طاقت کے لحاظ سے تجھ سے بڑی ہوں گی{xqاگر ہم رب اپنے خدا کے حضور رہ کر احتیاط سے اُن تمام باتوں پر عمل کریں گے جو اُس نے ہمیں کرنے کو کہی ہیں تو وہ ہمیں راست باز قرار دے گا۔“ Dwرب ہمارے خدا ہی نے ہمیں کہا کہ اِن تمام احکام کے مطابق چلو اور رب اپنے خدا کا خوف مانو۔ کیونکہ اگر ہم ایسا کریں تو پھر ہم ہمیشہ کامیاب اور زندہ رہیں گے۔ اور آج تک ایسا ہی رہا ہے۔ '|Iورنہ وہ تمہارے بچوں کو میری پیروی سے دُور کریں گے اور وہ میری نہیں بلکہ اُن کے دیوتاؤں کی خدمت کریں گے۔ تب رب کا غضب تم پر نازل ہو کر جلدی سے تمہیں ہلاک کر دے گا۔`{;اُن میں سے کسی سے شادی نہ کرنا۔ نہ اپنی بیٹیوں کا رشتہ اُن کے بیٹوں کو دینا، نہ اپنے بیٹوں کا رشتہ اُن کی بیٹیوں سے کرنا۔9zmتوبھی رب تیرا خدا اُنہیں تیرے حوالے کرے گا۔ جب تُو اُنہیں شکست دے گا تو اُن سب کو اُس کے لئے مخصوص کر کے ہلاک کر دینا ہے۔ نہ اُن کے ساتھ عہد باندھنا اور نہ اُن پر رحم کرنا۔  رب نے کیوں تمہارے ساتھ تعلق قائم کیا اور تمہیں چن لیا؟ کیا اِس وجہ سے کہ تم تعداد میں دیگر قوموں کی نسبت زیادہ تھے؟ ہرگز نہیں! تم تو بہت کم تھے۔b~?کیونکہ تُو رب اپنے خدا کے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔ اُس نے دنیا کی تمام قوموں میں سے تجھے چن کر اپنی قوم اور خاص ملکیت بنایا۔}7اِس لئے اُن کی قربان گاہیں ڈھا دینا۔ جن پتھروں کی وہ پوجا کرتے ہیں اُنہیں چِکنا چُور کر دینا، اُن کے یسیرت دیوی کے کھمبے کاٹ ڈالنا اور اُن کے بُت جلا دینا۔ }^7 چنانچہ جان لے کہ صرف رب تیرا خدا ہی خدا ہے۔ وہ وفادار خدا ہے۔ جو اُس سے محبت رکھتے اور اُس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اُن کے ساتھ وہ اپنا عہد قائم رکھے گا اور اُن پر ہزار پشتوں تک مہربانی کرے گا۔yبلکہ وجہ یہ تھی کہ رب نے تمہیں پیار کیا اور وہ وعدہ پورا کیا جو اُس نے قَسم کھا کر تمہارے باپ دادا کے ساتھ کیا تھا۔ اِسی لئے وہ فدیہ دے کر تمہیں بڑی قدرت سے مصر کی غلامی اور اُس ملک کے بادشاہ کے ہاتھ سے بچا لایا۔ eE اگر تُو اُن پر توجہ دے اور احتیاط سے اُن پر چلے تو پھر رب تیرا خدا تیرے ساتھ اپنا عہد قائم رکھے گا اور تجھ پر مہربانی کرے گا، بالکل اُس وعدے کے مطابق جو اُس نے قَسم کھا کر تیرے باپ دادا سے کیا تھا۔?y چنانچہ دھیان سے اُن تمام احکام پر عمل کر جو مَیں آج تجھے دے رہا ہوں تاکہ تُو اُن کے مطابق زندگی گزارے۔'I لیکن اُس سے نفرت کرنے والوں کو وہ اُن کے رُوبرُو مناسب سزا دے کر برباد کرے گا۔ ہاں، جو اُس سے نفرت کرتے ہیں، اُن کے رُوبرُو وہ مناسب سزا دے گا اور جھجکے گا نہیں۔ Nتجھے دیگر تمام قوموں کی نسبت کہیں زیادہ برکت ملے گی۔ نہ تجھ میں اور نہ تیرے مویشیوں میں بانجھ پن پایا جائے گا۔E وہ تجھے پیار کرے گا اور تجھے اُس ملک میں برکت دے گا جو تجھے دینے کا وعدہ اُس نے قَسم کھا کر تیرے باپ دادا سے کیا تھا۔ تجھے بہت اولاد بخشنے کے علاوہ وہ تیرے کھیتوں کو برکت دے گا، اور تجھے کثرت کا اناج، انگور اور زیتون حاصل ہو گا۔ وہ تیرے ریوڑوں کو بھی برکت دے گا، اور تیرے گائےبَیلوں اور بھیڑبکریوں کی تعداد بڑھتی جائے گی۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr}                                                                             ! " # $ % &   '  (  )  *  +  ,  -  .  /  0 _ _& Gتوبھی اُن سے نہ ڈر۔ وہی کچھ ذہن میں رکھ جو رب تیرے خدا نے فرعون اور پورے مصر کے ساتھ کیا۔ #گو تیرا دل کہے، ”یہ قومیں ہم سے طاقت ور ہیں۔ ہم کس طرح اِنہیں نکال سکتے ہیں؟“'Iجو بھی قومیں رب تیرا خدا تیرے ہاتھ میں کر دے گا اُنہیں تباہ کرنا لازم ہے۔ اُن پر رحم کی نگاہ سے نہ دیکھنا، نہ اُن کے دیوتاؤں کی خدمت کرنا، ورنہ تُو پھنس جائے گا۔0[رب ہر بیماری کو تجھ سے دُور رکھے گا۔ وہ تجھ میں وہ خطرناک وبائیں پھیلنے نہیں دے گا جن سے تُو مصر میں واقف ہوا بلکہ اُنہیں اُن میں پھیلائے گا جو تجھ سے نفرت رکھتے ہیں۔ `}. Wاُن سے دہشت نہ کھا، کیونکہ رب تیرا خدا تیرے درمیان ہے۔ وہ عظیم خدا ہے جس سے سب خوف کھاتے ہیں۔_ 9نہ صرف یہ بلکہ رب تیرا خدا اُن کے درمیان زنبور بھی بھیجے گا تاکہ وہ بھی تباہ ہو جائیں جو پہلے حملوں سے بچ کر چھپ گئے ہیں۔ 3کیونکہ تُو نے اپنی آنکھوں سے رب اپنے خدا کی وہ بڑی آزمانے والی مصیبتیں اور معجزے، اُس کا وہ عظیم اختیار اور قدرت دیکھی جس سے وہ تجھے وہاں سے نکال لایا۔ وہی کچھ رب تیرا خدا اُن قوموں کے ساتھ بھی کرے گا جن سے تُو اِس وقت ڈرتا ہے۔  + 1وہ اُن کے بادشاہوں کو بھی تیرے قابو میں کر دے گا، اور تُو اُن کا نام و نشان مٹا دے گا۔ کوئی بھی تیرا سامنا نہیں کر سکے گا بلکہ تُو اُن سب کو برباد کر دے گا۔G رب تیرا خدا اُنہیں تیرے حوالے کر دے گا۔ وہ اُن میں اِتنی سخت افرا تفری پیدا کرے گا کہ وہ برباد ہو جائیں گے۔وہ رفتہ رفتہ اُن قوموں کو تیرے آگے سے بھگا دے گا۔ تُو اُنہیں ایک دم ختم نہیں کر سکے گا، ورنہ جنگلی جانور تیزی سے بڑھ کر تجھے نقصان پہچائیں گے۔ LLjOاِس طرح کی مکروہ چیز اپنے گھر میں نہ لانا، ورنہ تجھے بھی اُس کے ساتھ الگ کر کے برباد کیا جائے گا۔ تیرے دل میں اُس سے شدید نفرت اور گھن ہو، کیونکہ اُسے پورے طور پر برباد کرنے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ Bاُن کے دیوتاؤں کے مجسمے جلا دینا۔ جو چاندی اور سونا اُن پر چڑھایا ہوا ہے اُس کا لالچ نہ کرنا۔ اُسے نہ لینا ورنہ تُو پھنس جائے گا۔ کیونکہ اِن چیزوں سے رب تیرے خدا کو گھن آتی ہے۔ YY*Oوہ پورا وقت یاد رکھ جب رب تیرا خدا ریگستان میں 40 سال تک تیری راہنمائی کرتا رہا تاکہ تجھے عاجز کر کے آزمائے اور معلوم کرے کہ کیا تُو اُس کے احکام پر چلے گا کہ نہیں۔u gاحتیاط سے اُن تمام احکام پر عمل کرو جو مَیں آج تجھے دے رہا ہوں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے تم جیتے رہو گے، تعداد میں بڑھو گے اور جا کر اُس ملک پر قبضہ کرو گے جس کا وعدہ رب نے تمہارے باپ دادا سے قَسم کھا کر کیا تھا۔ d رب اپنے خدا کے احکام پر عمل کر کے اُس کی راہوں پر چل اور اُس کا خوف مان۔Bچنانچہ دل میں جان لے کہ جس طرح باپ اپنے بیٹے کی تربیت کرتا ہے اُسی طرح رب ہمارا خدا ہماری تربیت کرتا ہے۔yاِن 40 سالوں کے دوران تیرے کپڑے نہ گھسے نہ پھٹے، نہ تیرے پاؤں سوجے۔+اُس نے تجھے عاجز کر کے بھوکے ہونے دیا، پھر تجھے مَن کھلایا جس سے نہ تُو اور نہ تیرے باپ دادا واقف تھے۔ کیونکہ وہ تجھے سکھانا چاہتا تھا کہ انسان کی زندگی صرف روٹی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ہر اُس بات پر جو رب کے منہ سے نکلتی ہے۔ cG  جب تُو کثرت کا کھانا کھا کر سیر ہو جائے گا تو پھر رب اپنے خدا کی تمجید کرنا جس نے تجھے یہ شاندار ملک دیا ہے۔,S اُس میں روٹی کی کمی نہیں ہو گی، اور تُو کسی چیز سے محروم نہیں رہے گا۔ اُس کے پتھروں میں لوہا پایا جاتا ہے، اور کھدائی سے تُو اُس کی پہاڑیوں سے تانبا حاصل کر سکے گا۔|sاُس کی پیداوار اناج، جَو، انگور، انجیر، انار، زیتون اور شہد ہے۔jOکیونکہ وہ تجھے ایک بہترین ملک میں لے جا رہا ہے جس میں نہریں اور ایسے چشمے ہیں جو پہاڑیوں اور وادیوں کی زمین سے پھوٹ نکلتے ہیں۔ (:x(L!جب تُو اُس وسیع اور ہول ناک ریگستان میں سفر کر رہا تھا جس میں زہریلے سانپ اور بچھو تھے تو وہی تیری راہنمائی کرتا رہا۔ پانی سے محروم اُس علاقے میں وہی سخت پتھر میں سے پانی نکال لایا۔! =تو کہیں تُو مغرور ہو کر رب اپنے خدا کو بھول نہ جائے جو تجھے مصر کی غلامی سے نکال لایا۔sa اور تیرے ریوڑ، سونے چاندی اور باقی تمام مال میں اضافہ ہو گا#A کیونکہ جب تُو کثرت کا کھانا کھا کر سیر ہو جائے گا، تُو شاندار گھر بنا کر اُن میں رہے گاB خبردار، رب اپنے خدا کو نہ بھول اور اُس کے اُن احکام پر عمل کرنے سے گریز نہ کر جو مَیں آج تجھے دے رہا ہوں۔ 8- %رب اپنے خدا کو نہ بھولنا، اور نہ دیگر معبودوں کے پیچھے پڑ کر اُنہیں سجدہ اور اُن کی خدمت کرنا۔ ورنہ مَیں خود گواہ ہوں کہ تم یقیناً ہلاک ہو جاؤ گے۔$ بلکہ رب اپنے خدا کو یاد کرنا جس نے تجھے دولت حاصل کرنے کی قابلیت دی ہے۔ کیونکہ وہ آج بھی اُسی عہد پر قائم ہے جو اُس نے تیرے باپ دادا سے کیا تھا۔5#eجب تجھے کامیابی حاصل ہو گی تو یہ نہ کہنا کہ مَیں نے اپنی ہی قوت اور طاقت سے یہ سب کچھ حاصل کیا ہے۔ "ریگستان میں وہی تجھے من کھلاتا رہا، جس سے تیرے باپ دادا واقف نہ تھے۔ اِن مشکلات سے وہ تجھے عاجز کر کے آزماتا رہا تاکہ آخرکار تُو کامیاب ہو جائے۔ s(a وہاں عناقی بستے ہیں جو طاقت ور اور درازقد ہیں۔ تُو خود جانتا ہے کہ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے، ”کون عناقیوں کا سامنا کر سکتا ہے؟“I'  سن اے اسرائیل! آج تُو دریائے یردن کو پار کرنے والا ہے۔ دوسری طرف تُو ایسی قوموں کو بھگا دے گا جو تجھ سے بڑی اور طاقت ور ہیں اور جن کے شاندار شہروں کی فصیلیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔c&Aاگر تم رب اپنے خدا کی اطاعت نہیں کرو گے تو پھر وہ تمہیں اُن قوموں کی طرح تباہ کر دے گا جو تم سے پہلے اِس ملک میں رہتی تھیں۔ L* جب رب تیرا خدا اُنہیں تیرے سامنے سے نکال دے گا تو تُو یہ نہ کہنا، ”مَیں راست باز ہوں، اِسی لئے رب مجھے لائق سمجھ کر یہاں لایا اور یہ ملک میراث میں دے دیا ہے۔“ یہ بات ہرگز درست نہیں ہے۔ رب اُن قوموں کو اُن کی غلط حرکتوں کی وجہ سے تیرے سامنے سے نکال دے گا۔m)U لیکن آج جان لے کہ رب تیرا خدا تیرے آگے آگے چلتے ہوئے اُنہیں بھسم کر دینے والی آگ کی طرح ہلاک کرے گا۔ وہ تیرے آگے آگے اُن پر قابو پائے گا، اور تُو اُنہیں نکال کر جلدی مٹا دے گا، جس طرح رب نے وعدہ کیا ہے۔ \;c\- یاد رکھ اور کبھی نہ بھول کہ تُو نے ریگستان میں رب اپنے خدا کو کس طرح ناراض کیا۔ مصر سے نکلتے وقت سے لے کر یہاں پہنچنے تک تم رب سے سرکش رہے ہو۔T,# چنانچہ جان لے کہ رب تیرا خدا تجھے تیری راستی کے باعث یہ اچھا ملک نہیں دے رہا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تُو ہٹ دھرم قوم ہے۔A+} تُو اپنی راست بازی اور دیانت داری کی بنا پر اُس ملک پر قبضہ نہیں کرے گا بلکہ رب اُنہیں اُن کی شریر حرکتوں کے باعث تیرے سامنے سے نکال دے گا۔ دوسرے، جو وعدہ اُس نے تیرے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے ساتھ قَسم کھا کر کیا تھا اُسے پورا ہونا ہے۔ QR8Qc1A جو کچھ رب نے آگ میں سے کہا تھا جب تم پہاڑ کے دامن میں جمع تھے وہی کچھ اُس نے اپنی اُنگلی سے دونوں تختیوں پر لکھ کر مجھے دیا۔c0A جو کچھ رب نے آگ میں سے کہا تھا جب تم پہاڑ کے دامن میں جمع تھے وہی کچھ اُس نے اپنی اُنگلی سے دونوں تختیوں پر لکھ کر مجھے دیا۔//Y اُس وقت مَیں پہاڑ پر چڑھ گیا تھا تاکہ پتھر کی تختیاں یعنی اُس عہد کی تختیاں مل جائیں جو رب نے تمہارے ساتھ باندھا تھا۔ کچھ کھائے پیئے بغیر مَیں 40 دن اور رات وہاں رہا۔*.O خاص کر حورب یعنی سینا کے دامن میں تم نے رب کو اِتنا غصہ دلایا کہ وہ تمہیں ہلاک کرنے کو تھا۔ xQ*5O مَیں مُڑ کر پہاڑ سے اُترا جو اب تک بھڑک رہا تھا۔ میرے ہاتھوں میں عہد کی دونوں تختیاں تھیں۔#4A اب مجھے چھوڑ دے تاکہ مَیں اُنہیں تباہ کر کے اُن کا نام و نشان دنیا میں سے مٹا ڈالوں۔ اُن کی جگہ مَیں تجھ سے ایک قوم بنا لوں گا جو اُن سے بڑی اور طاقت ور ہو گی۔“Q3 مَیں نے جان لیا ہے کہ یہ قوم کتنی ضدی ہے۔02[ اُس نے مجھ سے کہا، ”فوراً یہاں سے اُتر جا۔ تیری قوم جسے تُو مصر سے نکال لایا بگڑ گئی ہے۔ وہ کتنی جلدی سے میرے احکام سے ہٹ گئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے لئے بُت ڈھال لیا ہے۔ C8+ ایک اَور بار مَیں رب کے سامنے منہ کے بل گرا۔ مَیں نے نہ کچھ کھایا، نہ کچھ پیا۔ 40 دن اور رات مَیں تمہارے تمام گناہوں کے باعث اِسی حالت میں رہا۔ کیونکہ جو کچھ تم نے کیا تھا وہ رب کو نہایت بُرا لگا، اِس لئے وہ غضب ناک ہو گیا تھا۔7- تب مَیں نے تمہارے دیکھتے دیکھتے دونوں تختیوں کو زمین پر پٹخ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔63 تمہیں دیکھتے ہی مجھے معلوم ہوا کہ تم نے رب اپنے خدا کا گناہ کیا ہے۔ تم نے اپنے لئے بچھڑے کا بُت ڈھال لیا تھا۔ تم کتنی جلدی سے رب کی مقررہ راہ سے ہٹ گئے تھے۔ Zs<a تم نے رب کو تعبیرہ، مسّہ اور قبروت ہتاوہ میں بھی غصہ دلایا۔X;+ جو بچھڑا تم نے گناہ کر کے بنایا تھا اُسے مَیں نے جلا دیا، پھر جو کچھ باقی رہ گیا اُسے کچل دیا اور پیس پیس کر پاؤڈر بنا دیا۔ یہ پاؤڈر مَیں نے اُس چشمے میں پھینک دیا جو پہاڑ پر سے بہہ رہا تھا۔?:y مَیں نے ہارون کے لئے بھی دعا کی، کیونکہ رب اُس سے بھی نہایت ناراض تھا اور اُسے ہلاک کر دینا چاہتا تھا۔_99 وہ تم سے اِتنا ناراض تھا کہ مَیں بہت ڈر گیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ تمہیں ہلاک کر دے گا۔ لیکن اِس بار بھی اُس نے میری سن لی۔ $g$8?k مَیں 40 دن اور رات رب کے سامنے زمین پر منہ کے بل رہا، کیونکہ رب نے کہا تھا کہ وہ تمہیں ہلاک کر دے گا۔> جب سے مَیں تمہیں جانتا ہوں تمہارا رب کے ساتھ رویہ باغیانہ ہی رہا ہے۔=% قادس برنیع میں بھی ایسا ہی ہوا۔ وہاں سے رب نے تمہیں بھیج کر کہا تھا، ”جاؤ، اُس ملک پر قبضہ کرو جو مَیں نے تمہیں دے دیا ہے۔“ لیکن تم نے سرکش ہو کر رب اپنے خدا کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ تم نے اُس پر اعتماد نہ کیا، نہ اُس کی سنی۔ ?By ورنہ مصری کہیں گے، ’رب اُنہیں اُس ملک میں لانے کے قابل نہیں تھا جس کا وعدہ اُس نے کیا تھا، بلکہ وہ اُن سے نفرت کرتا تھا۔ ہاں، وہ اُنہیں ہلاک کرنے کے لئے ریگستان میں لے آیا۔‘@A{ اپنے خادموں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کر، اور اِس قوم کی ضد، شریر حرکتوں اور گناہ پر توجہ نہ دے۔K@ مَیں نے اُس سے منت کر کے کہا، ”اے رب قادرِ مطلق، اپنی قوم کو تباہ نہ کر۔ وہ تو تیری ہی ملکیت ہے جسے تُو نے فدیہ دے کر اپنی عظیم قدرت سے بچایا اور بڑے اختیار کے ساتھ مصر سے نکال لایا۔ :VC4:vFg مَیں نے کیکر کی لکڑی کا صندوق بنوایا اور دو تختیاں تراشیں جو پہلی تختیوں کی مانند تھیں۔ پھر مَیں دونوں تختیاں لے کر پہاڑ پر چڑھ گیا۔ E پھر مَیں اِن تختیوں پر دوبارہ وہی باتیں لکھوں گا جو مَیں اُن تختیوں پر لکھ چکا تھا جو تُو نے توڑ ڈالیں۔ تمہیں اُنہیں صندوق میں محفوظ رکھنا ہے۔“D  اُس وقت رب نے مجھ سے کہا، ”پتھر کی دو اَور تختیاں تراشنا جو پہلی تختیوں کی مانند ہوں۔ اُنہیں لے کر میرے پاس پہاڑ پر چڑھ آ۔ لکڑی کا صندوق بھی بنانا۔&CG وہ تو تیری قوم ہیں، تیری ملکیت جسے تُو اپنی عظیم قدرت اور اختیار سے مصر سے نکال لایا۔“ wwI' (اِس کے بعد اسرائیلی بنی یعقان کے کنوؤں سے روانہ ہو کر موسیرہ پہنچے۔ وہاں ہارون فوت ہوا۔ اُسے دفن کرنے کے بعد اُس کا بیٹا اِلی عزر اُس کی جگہ امام بنا۔vHg مَیں لوٹ کر اُترا اور تختیوں کو اُس صندوق میں رکھا جو مَیں نے بنایا تھا۔ وہاں وہ اب تک ہیں۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے حکم دیا تھا۔qG] رب نے اُن تختیوں پر دوبارہ وہ دس احکام لکھ دیئے جو وہ پہلی تختیوں پر لکھ چکا تھا۔ (اُن ہی احکام کا اعلان اُس نے پہاڑ پر آگ میں سے کیا تھا جب تم اُس کے دامن میں جمع تھے۔) پھر اُس نے یہ تختیاں میرے سپرد کیں۔ ]y#7]VM' جب مَیں نے دوسری مرتبہ 40 دن اور رات پہاڑ پر گزارے تو رب نے اِس دفعہ بھی میری سنی اور تجھے ہلاک نہ کرنے پر آمادہ ہوا۔hLK اِس وجہ سے لاویوں کو دیگر قبیلوں کی طرح نہ حصہ نہ میراث ملی۔ رب تیرا خدا خود اُن کی میراث ہے۔ اُس نے خود اُنہیں یہ فرمایا ہے۔)RK اُن دنوں میں رب نے لاوی کے قبیلے کو الگ کر کے اُسے رب کے عہد کے صندوق کو اُٹھا کر لے جانے، رب کے حضور خدمت کرنے اور اُس کے نام سے برکت دینے کی ذمہ داری دی۔ آج تک یہ اُن کی ذمہ داری رہی ہے۔J پھر وہ آگے سفر کرتے کرتے جُدجودہ، پھر یُطباتہ پہنچے جہاں نہریں ہیں۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq|  2  3  4  5  6  7  8  9    2  3  4  5  6  7  8  9  :  ;  <  =  >  ?  @  A  B  C   D  E  F  G  H  I  J  K  L  M  N  O  P  Q  R  S  T  U  V  W  X  Y   Z  [  \  ]  ^  _  `  a  b  c  d  e  f  g  h  i  j  k  l  m  n  o  p  q  r  s  t  u  v  *|Qs پورا آسمان، زمین اور جو کچھ اُس پر ہے، سب کا مالک رب تیرا خدا ہے۔P5 اور اُس کے تمام احکام پر عمل کرے۔ آج مَیں اُنہیں تجھے تیری بہتری کے لئے دے رہا ہوں۔=Ou اے اسرائیل، اب میری بات سن! رب تیرا خدا تجھ سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ صرف یہ کہ تُو اُس کا خوف مانے، اُس کی تمام راہوں پر چلے، اُسے پیار کرے، اپنے پورے دل و جان سے اُس کی خدمت کرےpN[ اُس نے کہا، ”جا، قوم کی راہنمائی کر تاکہ وہ جا کر اُس ملک پر قبضہ کریں جس کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اُن کے باپ دادا سے کیا تھا۔“ _/ _=Uu وہ یتیموں اور بیواؤں کا انصاف کرتا ہے۔ وہ پردیسی سے پیار کرتا اور اُسے خوراک اور پوشاک مہیا کرتا ہے۔ T کیونکہ رب تمہارا خدا خداؤں کا خدا اور ربوں کا رب ہے۔ وہ عظیم اور زورآور خدا ہے جس سے سب خوف کھاتے ہیں۔ وہ جانب داری نہیں کرتا اور رشوت نہیں لیتا۔9Sm ختنہ اُس کی قوم کا نشان ہے، لیکن دھیان رکھو کہ وہ نہ صرف ظاہری بلکہ باطنی بھی ہو۔ آئندہ اَڑ نہ جاؤ۔R توبھی اُس نے تیرے باپ دادا پر ہی اپنی خاص شفقت کا اظہار کر کے اُن سے محبت کی۔ اور اُس نے تمہیں چن کر دوسری تمام قوموں پر ترجیح دی جیسا کہ آج ظاہر ہے۔ z*_~Z y رب اپنے خدا سے پیار کر اور ہمیشہ اُس کے احکام کے مطابق زندگی گزار۔GY  جب تیرے باپ دادا مصر گئے تھے تو 70 افراد تھے۔ اور اب رب تیرے خدا نے تجھے ستاروں کی مانند بےشمار بنا دیا ہے۔ (XK وہی تیرا فخر ہے۔ وہ تیرا خدا ہے جس نے وہ تمام عظیم اور ڈراؤنے کام کئے جو تُو نے خود دیکھے۔ W; رب اپنے خدا کا خوف مان اور اُس کی خدمت کر۔ اُس سے لپٹا رہ اور اُسی کے نام کی قَسم کھا۔V تم بھی اُن کے ساتھ محبت سے پیش آؤ، کیونکہ تم بھی مصر میں پردیسی تھے۔ [k [A^} تمہارے بچے نہیں بلکہ تم ہی گواہ ہو کہ یہاں پہنچنے سے پہلے رب نے ریگستان میں تمہاری کس طرح دیکھ بھال کی۔G]  تم نے دیکھا کہ رب نے کس طرح مصری فوج کو اُس کے گھوڑوں اور رتھوں سمیت بحرِ قُلزم میں غرق کر دیا جب وہ تمہارا تعاقب کر رہے تھے۔ اُس نے اُنہیں یوں تباہ کیا کہ وہ آج تک بحال نہیں ہوئے۔,\S اور تم اُن معجزوں کے گواہ ہو جو اُس نے مصر کے بادشاہ فرعون اور اُس کے پورے ملک کے سامنے کئے۔a[= آج جان لو کہ تمہارے بچوں نے نہیں بلکہ تم ہی نے رب اپنے خدا سے تربیت پائی۔ تم نے اُس کی عظمت، بڑے اختیار اور قدرت کو دیکھا، $ a; چنانچہ اُن تمام احکام پر عمل کرتے رہو جو مَیں آج تمہیں دے رہا ہوں تاکہ تمہیں وہ طاقت حاصل ہو جو درکار ہو گی جب تم دریائے یردن کو پار کر کے ملک پر قبضہ کرو گے۔n`W تم نے اپنی ہی آنکھوں سے رب کے یہ تمام عظیم کام دیکھے ہیں۔g_I تم نے اُس کا اِلیاب کے بیٹوں داتن اور ابیرام کے ساتھ سلوک دیکھا جو روبن کے قبیلے کے تھے۔ اُس دن زمین نے خیمہ گاہ کے اندر منہ کھول کر اُنہیں اُن کے گھرانوں، ڈیروں اور تمام جانداروں سمیت ہڑپ کر لیا۔ _C_`e; رب تیرا خدا خود اُس ملک کا خیال رکھتا ہے۔ رب تیرے خدا کی آنکھیں سال کے پہلے دن سے لے کر آخر تک متواتر اُس پر لگی رہتی ہیں۔2d_ جبکہ جس ملک پر تم قبضہ کرو گے اُس میں پہاڑ اور وادیاں ہیں جنہیں صرف بارش کا پانی سیراب کرتا ہے۔rc_ کیونکہ یہ ملک مصر کی مانند نہیں ہے جہاں سے تم نکل آئے ہو۔ وہاں کے کھیتوں میں تجھے بیج بو کر بڑی محنت سے اُس کی آب پاشی کرنی پڑتی تھی b اگر تم فرماں بردار رہو تو دیر تک اُس ملک میں جیتے رہو گے جس کا وعدہ رب نے قَسم کھا کر تمہارے باپ دادا سے کیا تھا اور جس میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔ 3|giI لیکن خبردار، کہیں تمہیں ورغلایا نہ جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تم رب کی راہ سے ہٹ جاؤ اور دیگر معبودوں کو سجدہ کر کے اُن کی خدمت کرو۔3ha نیز، اللہ تیری چراگاہوں میں تیرے ریوڑوں کے لئے گھاس مہیا کرے گا، اور تُو کھا کر سیر ہو جائے گا۔ag= پھر وہ خریف اور بہار کی سالانہ بارش وقت پر بھیجے گا۔ اناج، انگور اور زیتون کی فصلیں پکیں گی، اور تُو اُنہیں جمع کر لے گا۔dfC چنانچہ اُن احکام کے تابع رہو جو مَیں آج تمہیں دے رہا ہوں۔ رب اپنے خدا سے پیار کرو اور اپنے پورے دل و جان سے اُس کی خدمت کرو۔ rrxmk اُنہیں اپنے گھروں کی چوکھٹوں اور اپنے شہروں کے دروازوں پر لکھtlc اُنہیں اپنے بچوں کو سکھاؤ۔ ہر جگہ اور ہمیشہ اُن کے بارے میں بات کرو، خواہ تُو گھر میں بیٹھا یا راستے پر چلتا ہو، لیٹا ہو یا کھڑا ہو۔]k5 چنانچہ میری یہ باتیں اپنے دلوں پر نقش کر لو۔ اُنہیں نشان کے طور پر اور یاددہانی کے لئے اپنے ہاتھوں اور ماتھوں پر لگاؤ۔6jg ورنہ رب کا غضب تم پر آن پڑے گا، اور وہ ملک میں بارش ہونے نہیں دے گا۔ تمہاری فصلیں نہیں پکیں گی، اور تمہیں جلد ہی اُس اچھے ملک میں سے مٹا دیا جائے گا جو رب تمہیں دے رہا ہے۔ b  *bDq تم جہاں بھی قدم رکھو گے وہ تمہارا ہی ہو گا، جنوبی ریگستان سے لے کر لبنان تک، دریائے فرات سے بحیرۂ روم تک۔[p1 پھر وہ تمہارے آگے آگے یہ تمام قومیں نکال دے گا اور تم ایسی قوموں کی زمینوں پر قبضہ کرو گے جو تم سے بڑی اور طاقت ور ہیں۔~ow احتیاط سے اُن احکام کی پیروی کرو جو مَیں تمہیں دے رہا ہوں۔ رب اپنے خدا سے پیار کرو، اُس کے تمام احکام پر عمل کرو اور اُس کے ساتھ لپٹے رہو۔qn] تاکہ جب تک زمین پر آسمان قائم ہے تم اور تمہاری اولاد اُس ملک میں جیتے رہیں جس کا وعدہ رب نے قَسم کھا کر تمہارے باپ دادا سے کیا تھا۔ sTu# لیکن اگر تم اُن کے تابع نہ رہو بلکہ میری پیش کردہ راہ سے ہٹ کر دیگر معبودوں کی پیروی کرو تو وہ تم پر لعنت بھیجے گا۔.tW اگر تم رب اپنے خدا کے اُن احکام پر عمل کرو جو مَیں آج تمہیں دے رہا ہوں تو وہ تمہیں برکت دے گا۔s} آج تم خود فیصلہ کرو۔ کیا تم رب کی برکت یا اُس کی لعنت پانا چاہتے ہو؟r کوئی بھی تمہارا سامنا نہیں کر سکے گا۔ تم اُس ملک میں جہاں بھی جاؤ گے وہاں رب تمہارا خدا اپنے وعدے کے مطابق تمہاری دہشت اور خوف پیدا کر دے گا۔ 22 y تو احتیاط سے اُن تمام احکام پر عمل کرتے رہو جو مَیں آج تمہیں دے رہا ہوں۔ vxg اب تم دریائے یردن کو پار کر کے اُس ملک پر قبضہ کرنے والے ہو جو رب تمہارا خدا تمہیں دے رہا ہے۔ جب تم اُسے اپنا کر اُس میں آباد ہو جاؤ گے7wi یہ دو پہاڑ دریائے یردن کے مغرب میں اُن کنعانیوں کے علاقے میں واقع ہیں جو وادیِ یردن میں آباد ہیں۔ وہ مغرب کی طرف جِلجال شہر کے سامنے مورے کے بلوط کے درختوں کے نزدیک ہیں۔v جب رب تیرا خدا تجھے اُس ملک میں لے جائے گا جس پر تُو قبضہ کرے گا تو لازم ہے کہ گرزیم پہاڑ پر چڑھ کر برکت کا اعلان کرے اور عیبال پہاڑ پر لعنت کا۔ SS1{] اُن تمام جگہوں کو برباد کرو جہاں وہ قومیں جنہیں تمہیں نکالنا ہے اپنے دیوتاؤں کی پوجا کرتی ہیں، خواہ وہ اونچے پہاڑوں، پہاڑیوں یا گھنے درختوں کے سائے میں کیوں نہ ہوں۔tz e ذیل میں وہ احکام اور قوانین ہیں جن پر تمہیں دھیان سے عمل کرنا ہو گا جب تم اُس ملک میں آباد ہو گے جو رب تیرے باپ دادا کا خدا تجھے دے رہا ہے تاکہ تُو اُس پر قبضہ کرے۔ ملک میں رہتے ہوئے عمر بھر اُن کے تابع رہو۔ h#h7~i رب تمہارا خدا قبیلوں میں سے اپنے نام کی سکونت کے لئے ایک جگہ چن لے گا۔ عبادت کے لئے وہاں جایا کرو،m}U رب اپنے خدا کی پرستش کرنے کے لئے اُن کے طریقے نہ اپنانا۔i|M اُن کی قربان گاہوں کو ڈھا دینا۔ جن پتھروں کی پوجا وہ کرتے ہیں اُنہیں چِکنا چُور کر دینا۔ یسیرت دیوی کے کھمبے جلا دینا۔ اُن کے دیوتاؤں کے مجسمے کاٹ ڈالنا۔ غرض اِن جگہوں سے اُن کا نام و نشان مٹ جائے۔ mr7 کیونکہ اب تک تم آرام کی اُس جگہ نہیں پہنچے جو تجھے رب تیرے خدا سے میراث میں ملنی ہے۔0[ اُس وقت تمہیں وہ نہیں کرنا جو ہم کرتے آئے ہیں۔ آج تک ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق عبادت کرتا ہے،wi وہاں رب اپنے خدا کے حضور اپنے گھرانوں سمیت کھانا کھا کر اُن کامیابیوں کی خوشی مناؤ جو تجھے رب تیرے خدا کی برکت کے باعث حاصل ہوئی ہیں۔ اور وہاں اپنی تمام قربانیاں لا کر پیش کرو، خواہ وہ بھسم ہونے والی قربانیاں، ذبح کی قربانیاں، پیداوار کا دسواں حصہ، اُٹھانے والی قربانیاں، مَنت کے ہدیئے، خوشی سے پیش کی گئی قربانیاں یا مویشیوں کے پہلوٹھے کیوں نہ ہوں۔ ?y تب رب تمہارا خدا اپنے نام کی سکونت کے لئے ایک جگہ چن لے گا، اور تمہیں سب کچھ جو مَیں بتاؤں گا وہاں لا کر پیش کرنا ہے، خواہ وہ بھسم ہونے والی قربانیاں، ذبح کی قربانیاں، پیداوار کا دسواں حصہ، اُٹھانے والی قربانیاں یا مَنت کے خاص ہدیئے کیوں نہ ہوں۔ue لیکن جلد ہی تم دریائے یردن کو پار کر کے اُس ملک میں آباد ہو جاؤ گے جو رب تمہارا خدا تمہیں میراث میں دے رہا ہے۔ اُس وقت وہ تمہیں ارد گرد کے دشمنوں سے بچائے رکھے گا، اور تم آرام اور سکون سے زندگی گزار سکو گے۔ >1] بلکہ صرف اُس جگہ پر جو رب قبیلوں میں سے چنے گا۔ وہیں سب کچھ یوں منا جس طرح مَیں تجھے بتاتا ہوں۔r_ خبردار، اپنی بھسم ہونے والی قربانیاں ہر جگہ پر پیش نہ کرناI  وہاں رب کے سامنے تم، تمہارے بیٹے بیٹیاں، تمہارے غلام اور لونڈیاں خوشی منائیں۔ اپنے شہروں میں آباد لاویوں کو بھی اپنی خوشی میں شریک کرو، کیونکہ اُن کے پاس موروثی زمین نہیں ہو گی۔ KK } لیکن خون نہ کھانا۔ اُسے پانی کی طرح زمین پر اُنڈیل کر ضائع کر دینا۔,S لیکن وہ جانور اِس میں شامل نہیں ہیں جو تُو قربانی کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتا بلکہ صرف کھانا چاہتا ہے۔ ایسے جانور تُو آزادی سے اپنے تمام شہروں میں ذبح کر کے اُس برکت کے مطابق کھا سکتا ہے جو رب تیرے خدا نے تجھے دی ہے۔ ایسا گوشت ہرن اور غزال کے گوشت کی مانند ہے یعنی پاک اور ناپاک دونوں ہی اُسے کھا سکتے ہیں۔ upuu e اپنے ملک میں لاویوں کی ضروریات عمر بھر پوری کرنے کی فکر رکھ۔ y یہ چیزیں صرف رب کے حضور کھانا یعنی اُس جگہ پر جسے وہ مقدِس کے لئے چنے گا۔ وہیں تُو اپنے بیٹے بیٹیوں، غلاموں، لونڈیوں اور اپنے قبائلی علاقے کے لاویوں کے ساتھ جمع ہو کر خوشی منا کہ رب نے ہماری محنت کو برکت دی ہے۔  جو بھی چیزیں رب کے لئے مخصوص کی گئی ہیں اُنہیں اپنے شہروں میں نہ کھانا مثلاً اناج، انگور کے رس اور زیتون کے تیل کا دسواں حصہ، مویشیوں کے پہلوٹھے، مَنت کے ہدیئے، خوشی سے پیش کی گئی قربانیاں اور اُٹھانے والی قربانیاں۔ 113a البتہ گوشت کے ساتھ خون نہ کھانا، کیونکہ خون جاندار کی جان ہے۔ اُس کی جان گوشت کے ساتھ نہ کھانا۔(K ایسا گوشت ہرن اور غزال کے گوشت کی مانند ہے یعنی پاک اور ناپاک دونوں ہی اُسے کھا سکتے ہیں۔zo اگر تیرا گھر اُس مقدِس سے دُور ہو جسے رب تیرا خدا اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا تو تُو جس طرح جی چاہے اپنے شہروں میں رب سے ملے ہوئے مویشیوں کو ذبح کر کے کھا سکتا ہے۔ لیکن ایسا ہی کرنا جیسا مَیں نے حکم دیاہے۔j O جب رب تیرا خدا اپنے وعدے کے مطابق تیری سرحدیں بڑھا دے گا اور تُو گوشت کھانے کی خواہش رکھے گا تو جس طرح جی چاہے گوشت کھا سکے گا۔ __8k وہیں، رب اپنے خدا کی قربان گاہ پر اپنی بھسم ہونے والی قربانیاں گوشت اور خون سمیت چڑھا۔ ذبح کی قربانیوں کا خون قربان گاہ پر اُنڈیل دینا، لیکن اُن کا گوشت تُو کھا سکتا ہے۔5 لیکن جو چیزیں رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہیں یا جو تُو نے مَنت مان کر اُس کے لئے مخصوص کی ہیں لازم ہے کہ تُو اُنہیں اُس جگہ لے جائے جسے رب مقدِس کے لئے چنے گا۔S! اُسے نہ کھانا تاکہ تجھے اور تیری اولاد کو کامیابی حاصل ہو، کیونکہ ایسا کرنے سے تُو رب کی نظر میں صحیح کام کرے گا۔jO خون نہ کھانا بلکہ اُسے زمین پر اُنڈیل کر ضائع کر دینا۔ E  ",7BMXcny)4?JU`kv%0;FP[fq|  x  y   z  {  |  }  ~      x  y   z  {  |  }  ~                                                                                                                   kka= لیکن خبردار، اُن کے ختم ہونے کے بعد بھی اُن کے دیوتاؤں کے بارے میں معلومات حاصل نہ کر، ورنہ تُو پھنس جائے گا۔ مت کہنا کہ یہ قومیں کس طریقے سے اپنے دیوتاؤں کی پوجا کرتی ہیں؟ ہم بھی ایسا ہی کریں۔sa رب تیرا خدا اُن قوموں کو مٹا دے گا جن کی طرف تُو بڑھ رہا ہے۔ تُو اُنہیں اُن کے ملک سے نکالتا جائے گا اور خود اُس میں آباد ہو جائے گا۔5e جو بھی ہدایات مَیں تجھے دے رہا ہوں اُنہیں احتیاط سے پورا کر۔ پھر تُو اور تیری اولاد خوش حال رہیں گے، کیونکہ تُو وہ کچھ کرے گا جو رب تیرے خدا کی نظر میں اچھا اور درست ہے۔ ++kQ جو واقعی وجود میں آئے۔ ساتھ ساتھ وہ کہیں، ”آ، ہم دیگر معبودوں کی پوجا کریں، ہم اُن کی خدمت کریں جن سے تُو اب تک واقف نہیں ہے۔“ { تیرے درمیان ایسے لوگ اُٹھ کھڑے ہوں گے جو اپنے آپ کو نبی یا خواب دیکھنے والے کہیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی الٰہی نشان یا معجزے کا اعلان کریںcA کلام کی جو بھی بات مَیں تمہیں پیش کرتا ہوں اُس کے تابع رہ کر اُس پر عمل کرو۔ نہ کسی بات کا اضافہ کرنا، نہ کوئی بات نکالنا۔ xk ایسا مت کر! یہ قومیں ایسے گھنونے طریقے سے پوجا کرتی ہیں جن سے رب نفرت کرتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو بھی جلا کر اپنے دیوتاؤں کو پیش کرتے ہیں۔   تمہیں رب اپنے خدا کی پیروی کرنا اور اُسی کا خوف ماننا ہے۔ اُس کے احکام کے مطابق زندگی گزارو، اُس کی سنو، اُس کی خدمت کرو، اُس کے ساتھ لپٹے رہو۔nW ایسے لوگوں کی نہ سن۔ اِس سے رب تمہارا خدا تمہیں آزما کر معلوم کر رہا ہے کہ کیا تم واقعی اپنے پورے دل و جان سے اُس سے پیار کرتے ہو۔ {{} ایسے نبیوں یا خواب دیکھنے والوں کو سزائے موت دینا، کیونکہ وہ تجھے رب تمہارے خدا سے بغاوت کرنے پر اُکسانا چاہتے ہیں، اُسی سے جس نے فدیہ دے کر تمہیں مصر کی غلامی سے بچایا اور وہاں سے نکال لایا۔ چونکہ وہ تجھے اُس راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں جسے رب تیرے خدا نے تیرے لئے مقرر کیا ہے اِس لئے لازم ہے کہ اُنہیں سزائے موت دی جائے۔ ایسی بُرائی اپنے درمیان سے مٹا دینا۔ zT"# بلکہ اُسے سزائے موت دے۔ اور اُسے سنگسار کرتے وقت پہلے تیرا ہاتھ اُس پر پتھر پھینکے، پھر ہی باقی تمام لوگ حصہ لیں۔H!  کسی صورت میں اپنی رضامندی کا اظہار نہ کر، نہ اُس کی سن۔ اُس پر رحم نہ کر۔ نہ اُسے بچائے رکھ، نہ اُسے پناہ دے= u خواہ ارد گرد کی یا دُوردراز کی قوموں کے دیوتا ہوں، خواہ دنیا کے ایک سرے کے یا دوسرے سرے کے معبود ہوں، ہو سکتا ہے کہ تیرا سگا بھائی، تیرا بیٹا یا بیٹی، تیری بیوی یا تیرا قریبی دوست تجھے چپکے سے ورغلانے کی کوشش کرے کہ آ، ہم جا کر دیگر معبودوں کی پوجا کریں، ایسے دیوتاؤں کی جن سے نہ تُو اور نہ تیرے باپ دادا واقف تھے۔ bFb:&o کہ شریر لوگ تیرے درمیان سے اُبھر آئے ہیں جو اپنے شہر کے باشندوں کو یہ کہہ کر غلط راہ پر لائے ہیں کہ آؤ، ہم دیگر معبودوں کی پوجا کریں، ایسے معبودوں کی جن سے تم واقف نہیں ہو۔"%? جب تُو اُن شہروں میں رہنے لگے گا جو رب تیرا خدا تجھے دے رہا ہے تو شاید تجھے خبر مل جائے:$o پھر تمام اسرائیل یہ سن کر ڈر جائے گا اور آئندہ تیرے درمیان ایسی شریر حرکت کرنے کی جرٲت نہیں کرے گا۔x#k اُسے ضرور پتھروں سے سزائے موت دینا، کیونکہ اُس نے تجھے رب تیرے خدا سے دُور کرنے کی کوشش کی، اُسی سے جو تجھے مصر کی غلامی سے نکال لایا۔ ?)y شہر کا پورا مالِ غنیمت چوک میں اکٹھا کر۔ پھر پورے شہر کو اُس کے مال سمیت رب کے لئے مخصوص کر کے جلا دینا۔ اُسے دوبارہ کبھی نہ تعمیر کیا جائے بلکہ اُس کے کھنڈرات ہمیشہ تک رہیں۔v(g تو پھر لازم ہے کہ تُو شہر کے تمام باشندوں کو ہلاک کرے۔ اُسے رب کے سپرد کر کے سراسر تباہ کرنا، نہ صرف اُس کے لوگ بلکہ اُس کے مویشی بھی۔f'G لازم ہے کہ تُو دریافت کر کے اِس کی تفتیش کرے اور خوب معلوم کرے کہ کیا ہوا ہے۔ اگر ثابت ہو جائے کہ یہ گھنونی بات واقعی ہوئی ہے 33B, تم رب اپنے خدا کے فرزند ہو۔ اپنے آپ کو مُردوں کے سبب سے نہ زخمی کرو، نہ اپنے سر کے سامنے والے بال منڈواؤ۔+9 لیکن یہ سب کچھ اِس پر مبنی ہے کہ تُو رب اپنے خدا کی سنے اور اُس کے اُن تمام احکام پر عمل کرے جو مَیں تجھے آج دے رہا ہوں۔ وہی کچھ کر جو اُس کی نظر میں درست ہے۔ `*; پورا شہر رب کے لئے مخصوص کیا گیا ہے، اِس لئے اُس کی کوئی بھی چیز تیرے پاس نہ پائی جائے۔ صرف اِس صورت میں رب کا غضب ٹھنڈا ہو جائے گا، اور وہ تجھ پر رحم کر کے اپنی مہربانی کا اظہار کرے گا اور تیری تعداد بڑھائے گا، جس طرح اُس نے قَسم کھا کر تیرے باپ دادا سے وعدہ کیا ہے۔ vs2aاونٹ، بِجُو یا خرگوش کھانا منع ہے۔ وہ آپ کے لئے ناپاک ہیں، کیونکہ وہ جگالی تو کرتے ہیں لیکن اُن کے کُھر یا پاؤں چِرے ہوئے نہیں ہیں۔"1?جن کے کُھریا پاؤں بالکل چِرے ہوئے ہیں اور جو جگالی کرتے ہیں اُنہیں کھانے کی اجازت ہے۔0ہرن، غزال، مِرگ، پہاڑی بکری، مہات، غزالِ افریقہ اور پہاڑی بکری کھا سکتے ہو۔*/Qتم بَیل، بھیڑبکری،;.sکوئی بھی مکروہ چیز نہ کھانا۔_-9کیونکہ تُو رب اپنے خدا کے لئے مخصوص و مُقدّس قوم ہے۔ دنیا کی تمام قوموں میں سے رب نے تجھے ہی چن کر اپنی ملکیت بنا لیا ہے۔ ?Y0?:{عقابی الّو، چھوٹے کان والا الّو، بڑے کان والا الّو، ہر قسم کا باز،!9?ہر قسم کا کوا،F8 لال چیل، کالی چیل، ہر قسم کا گِدھ،w7i لیکن ذیل کے پرندے کھانا منع ہے: عقاب، دڑھیَل گِدھ، کالا گِدھ،:6q تم ہر پاک پرندہ کھا سکتے ہو۔o5Y لیکن جن کے پَر یا چھلکے نہیں ہیں وہ تمہارے لئے ناپاک ہیں۔4 پانی میں رہنے والے جانور کھانے کے لئے جائز ہیں اگر اُن کے پَر اور چھلکے ہوں۔3سؤر نہ کھانا۔ وہ تمہارے لئے ناپاک ہے، کیونکہ اُس کے کُھر تو چِرے ہوئے ہیں لیکن وہ جگالی نہیں کرتا۔ نہ اُن کا گوشت کھانا، نہ اُن کی لاشوں کو چھونا۔ Lk @Lp@[جو جانور خود بہ خود مر جائے اُسے نہ کھانا۔ تُو اُسے اپنی آبادی میں رہنے والے کسی پردیسی کو دے یا کسی اجنبی کو بیچ سکتا ہے اور وہ اُسے کھا سکتا ہے۔ لیکن تُو اُسے مت کھانا، کیونکہ تُو رب اپنے خدا کے لئے مخصوص و مُقدّس قوم ہے۔ بکری کے بچے کو اُس کی ماں کے دودھ میں پکانا منع ہے۔D?لیکن تم ہر پاک پرندہ کھا سکتے ہو۔>}تمام پَر رکھنے والے کیڑے تمہارے لئے ناپاک ہیں۔ انہیں کھانا منع ہے۔\=3لق لق، ہر قسم کا بُوتیمار، ہُد ہُد اور چمگادڑ۔8<mدشتی الّو، مصری گِدھ، قوق،W;)چھوٹا الّو، چنگھاڑنے والا الّو، سفید الّو، VlVuCeلیکن ہو سکتا ہے کہ جو جگہ رب تیرا خدا اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا وہ تیرے گھر سے حد سے زیادہ دُور ہو اور رب تیرے خدا کی برکت کے باعث مذکورہ دسواں حصہ اِتنا زیادہ ہو کہ تُو اُسے مقدِس تک نہیں پہنچا سکتا۔B-اِس کے لئے اپنا اناج، انگور کا رس، زیتون کا تیل اور مویشی کے پہلوٹھے رب اپنے خدا کے حضور لے آنا یعنی اُس جگہ جو وہ اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا۔ وہاں یہ چیزیں قربان کر کے کھا تاکہ تُو عمر بھر رب اپنے خدا کا خوف ماننا سیکھے۔Aلازم ہے کہ تُو ہر سال اپنے کھیتوں کی پیداوار کا دسواں حصہ رب کے لئے الگ کرے۔ G{Gqہر تیسرے سال اپنی پیداوار کا دسواں حصہ اپنے شہروں میں جمع کرنا۔[F1ایسے موقعوں پر اُن لاویوں کا خیال رکھنا جو تیرے قبائلی علاقے میں رہتے ہیں، کیونکہ اُنہیں میراث میں زمین نہیں ملے گی۔aE=وہاں پہنچ کر اُن پیسوں سے جو جی چاہے خریدنا، خواہ گائےبَیل، بھیڑبکری، مَے یا مَے جیسی کوئی اَور چیز کیوں نہ ہو۔ پھر اپنے گھرانے کے ساتھ مل کر رب اپنے خدا کے حضور یہ چیزیں کھانا اور خوشی منانا۔5Deاِس صورت میں اُسے بیچ کر اُس کے پیسے اُس جگہ لے جا جو رب تیرا خدا اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا۔ 9^J7اُس وقت جس نے بھی کسی اسرائیلی بھائی کو قرض دیا ہے وہ اُسے منسوخ کرے۔ وہ اپنے پڑوسی یا بھائی کو پیسے واپس کرنے پر مجبور نہ کرے، کیونکہ رب کی تعظیم میں قرض معاف کرنے کے سال کا اعلان کیا گیا ہے۔_I ;ہر سات سال کے بعد ایک دوسرے کے قرضے معاف کر دینا۔aH=اُسے لاویوں کو دینا جن کے پاس موروثی زمین نہیں ہے، نیز اپنے شہروں میں آباد پردیسیوں، یتیموں اور بیواؤں کو دینا۔ وہ آئیں اور کھانا کھا کر سیر ہو جائیں تاکہ رب تیرا خدا تیرے ہر کام میں برکت دے۔ + +ZM/لیکن شرط یہ ہے کہ تُو پورے طور پر اُس کی سنے اور احتیاط سے اُس کے اُن تمام احکام پر عمل کرے جو مَیں تجھے آج دے رہا ہوں۔ Lتیرے درمیان کوئی بھی غریب نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ جب تُو اُس ملک میں رہے گا جو رب تیرا خدا تجھے میراث میں دینے والا ہے تو وہ تجھے بہت برکت دے گا۔dKCاِس سال میں تُو صرف غیرملکی قرض داروں کو پیسے واپس کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اپنے اسرائیلی بھائی کے تمام قرض معاف کر دینا۔   Pکھلے دل سے اُس کی مدد کر۔ جتنی اُسے ضرورت ہے اُسے اُدھار کے طور پر دے۔wOiجب تُو اُس ملک میں آباد ہو گا جو رب تیرا خدا تجھے دینے والا ہے تو اپنے درمیان رہنے والے غریب بھائی سے سخت سلوک نہ کرنا، نہ کنجوس ہونا۔oNYپھر رب تمہارا خدا تجھے اپنے وعدے کے مطابق برکت دے گا۔ تُو کسی بھی قوم سے اُدھار نہیں لے گا بلکہ بہت سی قوموں کو اُدھار دے گا۔ کوئی بھی قوم تجھ پر حکومت نہیں کرے گی بلکہ تُو بہت سی قوموں پر حکومت کرے گا۔ VS} ملک میں ہمیشہ غریب اور ضرورت مند لوگ پائے جائیں گے، اِس لئے مَیں تجھے حکم دیتا ہوں کہ کھلے دل سے اپنے غریب اور ضرورت مند بھائیوں کی مدد کر۔R اُسے ضرور کچھ دے بلکہ خوشی سے دے۔ پھر رب تیرا خدا تیرے ہر کام میں برکت دے گا۔&QG خبردار، ایسا مت سوچ کہ قرض معاف کرنے کا سال قریب ہے، اِس لئے مَیں اُسے کچھ نہیں دوں گا۔ اگر تُو ایسی شریر بات اپنے دل میں سوچتے ہوئے ضرورت مند بھائی کو قرض دینے سے انکار کرے اور وہ رب کے سامنے تیری شکایت کرے تو تُو قصوروار ٹھہرے گا۔ ]W5یاد رکھ کہ تُو بھی مصر میں غلام تھا اور کہ رب تیرے خدا نے فدیہ دے کر تجھے چھڑایا۔ اِسی لئے مَیں آج تجھے یہ حکم دیتا ہوں۔fVGبلکہ اپنی بھیڑبکریوں، اناج، تیل اور مَے سے اُسے فیاضی سے کچھ دے، یعنی اُن چیزوں میں سے جن سے رب تیرے خدا نے تجھے برکت دی ہے۔SU! آزاد کرتے وقت اُسے خالی ہاتھ فارغ نہ کرنا T  اگر کوئی اسرائیلی بھائی یا بہن اپنے آپ کو بیچ کر تیرا غلام بن جائے تو وہ چھ سال تیری خدمت کرے۔ لیکن لازم ہے کہ ساتویں سال اُسے آزاد کر دیا جائے۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr|                                                                                                 6 6kZQاگر غلام تجھے چھ سال کے بعد چھوڑنا چاہے تو بُرا نہ ماننا۔ آخر اگر اُس کی جگہ کوئی اَور وہی کام تنخواہ کے لئے کرتا تو تیرے اخراجات دُگنے ہوتے۔ اُسے آزاد کرنا تو رب تیرا خدا تیرے ہر کام میں برکت دے گا۔aY=اِس صورت میں اُسے دروازے کے پاس لے جا اور اُس کے کان کی لَو چوکھٹ کے ساتھ لگا کر اُسے سُتالی یعنی تیز اوزار سے چھید دے۔ تب وہ زندگی بھر تیرا غلام بنا رہے گا۔ اپنی لونڈی کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا۔rX_لیکن ممکن ہے کہ تیرا غلام تجھے چھوڑنا نہ چاہے، کیونکہ وہ تجھ سے اور تیرے خاندان سے محبت رکھتا ہے، اور وہ تیرے پاس رہ کر خوش حال ہے۔ e]Eاگر ایسے جانور میں کوئی خرابی ہو، وہ اندھا یا لنگڑا ہو یا اُس میں کوئی اَور نقص ہو تو اُسے رب اپنے خدا کے لئے قربان نہ کرنا۔b\?ہر سال ایسے بچے اُس جگہ لے جا جو رب اپنے مقدِس کے لئے چنے گا۔ وہاں اُنہیں رب اپنے خدا کے حضور اپنے پورے خاندان سمیت کھانا۔[+اپنی گائیوں اور بھیڑبکریوں کے نرپہلوٹھے رب اپنے خدا کے لئے مخصوص کرنا۔ نہ گائے کے پہلوٹھے کو کام کے لئے استعمال کرنا، نہ بھیڑ کے پہلوٹھے کے بال کترنا۔ })K}Jaاُس جگہ جمع ہو جا جو رب اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا۔ اُسے قربانی کے لئے بھیڑبکریاں یا گائےبَیل پیش کرنا۔Z` 1ابیب کے مہینے میں رب اپنے خدا کی تعظیم میں فسح کی عید منانا، کیونکہ اِس مہینے میں وہ تجھے رات کے وقت مصر سے نکال لایا۔_لیکن خون نہ کھانا۔ اُسے پانی کی طرح زمین پر اُنڈیل کر ضائع کر دینا۔ L^ایسے جانور تُو گھر میں ذبح کر کے کھا سکتا ہے۔ وہ ہرن اور غزال کی مانند ہیں جنہیں تُو کھا تو سکتا ہے لیکن قربانی کے طور پر پیش نہیں کر سکتا۔ پاک اور ناپاک شخص دونوں اُسے کھا سکتے ہیں۔ J|dsفسح کی قربانی کسی بھی شہر میں جو رب تیرا خدا تجھے دے گا نہ چڑھاناAc}لازم ہے کہ عید کے ہفتے کے دوران تیرے پورے ملک میں خمیر نہ پایا جائے۔ جو قربانی تُو عید کے پہلے دن کی شام کو پیش کرے اُس کا گوشت اُسی وقت کھا لے۔ اگلی صبح تک کچھ باقی نہ رہ جائے۔mbUگوشت کے ساتھ بےخمیری روٹی کھانا۔ سات دن تک یہی روٹی کھا، بالکل اُسی طرح جس طرح تُو نے کیا جب جلدی جلدی مصر سے نکلا۔ مصیبت کی یہ روٹی اِس لئے کھا تاکہ وہ دن تیرے جیتے جی یاد رہے جب تُو مصر سے روانہ ہوا۔offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|BFIMQUZ^aeimquyBFIMQUZ^aeimquy{~  "&),2©:é@ĩCũGƩJǩMȩPɩSʩW̩Zͩ]Ωaϩdѩiҩmөpԩtթx֩|שت٪ڪ ۪ ܪݪުߪ #&(,048:?DGKOSVX[_bflqtw{   %(+ / 2 5 :>AEILNQ a{7aRi فصل کی کٹائی کی عید منانا۔ رب اپنے خدا کو اُتنا پیش کر جتنا جی چاہے۔ وہ اُس برکت کے مطابق ہو جو اُس نے تجھے دی ہے۔thc جب اناج کی فصل کی کٹائی شروع ہو گی تو پہلے دن کے سات ہفتے بعدIg عید کے پہلے چھ دن بےخمیری روٹی کھاتا رہ۔ ساتویں دن کام نہ کرنا بلکہ رب اپنے خدا کی عبادت کے لئے جمع ہو جانا۔f7پھر اُسے بھون کر اُس جگہ کھانا جو رب تیرا خدا چنے گا۔ اگلی صبح اپنے گھر واپس چلا جا۔_e9بلکہ صرف اُس جگہ جو وہ اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا۔ مصر سے نکلتے وقت کی طرح قربانی کے جانور کو سورج ڈوبتے وقت ذبح کر۔ $i>$m'عید کے موقع پر خوشی منانا۔ تیرے بال بچے، تیرے غلام اور لونڈیاں اور تیرے شہروں میں بسنے والے لاوی، پردیسی، یتیم اور بیوائیں سب تیری خوشی میں شریک ہوں۔'lI اناج گاہنے اور انگور کا رس نکالنے کے بعد جھونپڑیوں کی عید منانا جس کا دورانیہ سات دن ہو۔}ku اِن احکام پر ضرور عمل کرنا اور مت بھولنا کہ تُو مصر میں غلام تھا۔j! اِس کے لئے بھی اُس جگہ جمع ہو جا جو رب اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا۔ وہاں اُس کے حضور خوشی منا۔ تیرے بال بچے، تیرے غلام اور لونڈیاں اور تیرے شہروں میں رہنے والے لاوی، پردیسی، یتیم اور بیوائیں سب تیری خوشی میں شریک ہوں۔ copYہر کوئی اُس برکت کے مطابق دے جو رب تیرے خدا نے اُسے دی ہے۔doCاسرائیل کے تمام مرد سال میں تین مرتبہ اُس مقدِس پر حاضر ہو جائیں جو رب تیرا خدا چنے گا یعنی بےخمیری روٹی کی عید، فصل کی کٹائی کی عید اور جھونپڑیوں کی عید پر۔ کوئی بھی رب کے حضور خالی ہاتھ نہ آئے۔1n]جو جگہ رب تیرا خدا مقدِس کے لئے چنے گا وہاں اُس کی تعظیم میں سات دن تک یہ عید منانا۔ کیونکہ رب تیرا خدا تیری تمام فصلوں اور محنت کو برکت دے گا، اِس لئے خوب خوشی منانا۔ K0t[جہاں تُو رب اپنے خدا کے لئے قربان گاہ بنائے گا وہاں نہ یسیرت دیوی کی پوجا کے لئے لکڑی کا کھمبا6sgصرف اور صرف انصاف کے مطابق چل تاکہ تُو جیتا رہے اور اُس ملک پر قبضہ کرے جو رب تیرا خدا تجھے دے گا۔}ruنہ کسی کے حقوق مارنا، نہ جانب داری دکھانا۔ رشوت قبول نہ کرنا، کیونکہ رشوت دانش مندوں کو اندھا کر دیتی اور راست باز کی باتیں پلٹ دیتی ہے۔vqgاپنے اپنے قبائلی علاقے میں قاضی اور نگہبان مقرر کر۔ وہ ہر اُس شہر میں ہوں جو رب تیرا خدا تجھے دے گا۔ وہ انصاف سے لوگوں کی عدالت کریں۔ FgExمثلاً وہ دیگر معبودوں کو یا سورج، چاند یا ستاروں کے پورے لشکر کو سجدہ کرے، حالانکہ مَیں نے یہ منع کیا ہے۔'wIجب تُو اُن شہروں میں آباد ہو جائے گا جو رب تیرا خدا تجھے دے گا تو ہو سکتا ہے کہ تیرے درمیان کوئی مرد یا عورت رب تیرے خدا کا عہد توڑ کر وہ کچھ کرے جو اُسے بُرا لگے۔0v ]رب اپنے خدا کو ناقص گائےبَیل یا بھیڑبکری پیش نہ کرنا، کیونکہ وہ ایسی قربانی سے نفرت رکھتا ہے۔6ugاور نہ کوئی ایسا پتھر کھڑا کرنا جس کی پوجا لوگ کرتے ہیں۔ رب تیرا خدا اِن چیزوں سے نفرت رکھتا ہے۔ V|'پہلے گواہ اُس پر پتھر پھینکیں، اِس کے بعد باقی تمام لوگ اُسے سنگسار کریں۔ یوں تُو اپنے درمیان سے بُرائی مٹا دے گا۔g{Iلیکن لازم ہے کہ پہلے کم از کم دو یا تین لوگ گواہی دیں کہ اُس نے ایسا ہی کیا ہے۔ اُسے سزائے موت دینے کے لئے ایک گواہ کافی نہیں۔bz?تو قصوروار کو شہر کے باہر لے جا کر سنگسار کر دینا۔by?جب بھی تجھے اِس قسم کی خبر ملے تو اِس کا پورا کھوج لگا۔ اگر بات درست نکلے اور ایسی گھنونی حرکت واقعی اسرائیل میں کی گئی ہو K جو فیصلہ وہ اُس مقدِس میں کریں گے جو رب چنے گا اُسے ماننا پڑے گا۔ جو بھی ہدایت وہ دیں اُس پر احتیاط سے عمل کر۔9~m لاوی کے قبیلے کے اماموں اور مقدِس میں خدمت کرنے والے قاضی کو اپنا مقدمہ پیش کر، اور وہ فیصلہ کریں۔j}Oاگر تیرے شہر کے قاضیوں کے لئے کسی مقدمے کا فیصلہ کرنا مشکل ہو تو اُس مقدِس میں آ کر اپنا معاملہ پیش کر جو رب تیرا خدا چنے گا، خواہ کسی کو قتل کیا گیا ہو، اُسے زخمی کر دیا گیا ہو یا کوئی اَور مسئلہ ہو۔ HH1 پھر تمام لوگ یہ سن کر ڈر جائیں گے اور آئندہ ایسی گستاخی کرنے کی جرٲت نہیں کریں گے۔ جو مقدِس میں رب تیرے خدا کی خدمت کرنے والے قاضی یا امام کو حقیر جان کر اُن کی نہیں سنتا اُسے سزائے موت دی جائے۔ یوں تُو اسرائیل سے بُرائی مٹا دے گا۔} شریعت کی جو بھی بات وہ تجھے سکھائیں اور جو بھی فیصلہ وہ دیں اُس پر عمل کر۔ جو کچھ بھی وہ تجھے بتائیں اُس سے نہ دائیں اور نہ بائیں طرف مُڑنا۔ jymبادشاہ بہت زیادہ گھوڑے نہ رکھے، نہ اپنے لوگوں کو اُنہیں خریدنے کے لئے مصر بھیجے۔ کیونکہ رب نے تجھ سے کہا ہے کہ کبھی وہاں واپس نہ جانا۔Pاگر تُو ایسا کرے تو صرف وہ شخص مقرر کر جسے رب تیرا خدا چنے گا۔ وہ پردیسی نہ ہو بلکہ تیرا اپنا اسرائیلی بھائی ہو۔تُو جلد ہی اُس ملک میں داخل ہو گا جو رب تیرا خدا تجھے دینے والا ہے۔ جب تُو اُس پر قبضہ کر کے اُس میں آباد ہو جائے گا تو ہو سکتا ہے کہ تُو ایک دن کہے، ”آؤ ہم ارد گرد کی تمام قوموں کی طرح بادشاہ مقرر کریں جو ہم پر حکومت کرے۔“ -#t-C اپنے آپ کو اپنے اسرائیلی بھائیوں سے زیادہ اہم نہیں سمجھے گا اور کسی طرح بھی شریعت سے ہٹ کر کام نہیں کرے گا۔ نتیجے میں وہ اور اُس کی اولاد بہت عرصے تک اسرائیل پر حکومت کریں گے۔ یہ کتاب اُس کے پاس محفوظ رہے، اور وہ عمر بھر روزانہ اِسے پڑھتا رہے تاکہ رب اپنے خدا کا خوف ماننا سیکھے۔ تب وہ شریعت کی تمام باتوں کی پیروی کرے گا،/تخت نشین ہوتے وقت وہ لاوی کے قبیلے کے اماموں کے پاس پڑی اِس شریعت کی نقل لکھوائے۔Y-تیرا بادشاہ زیادہ بیویاں بھی نہ رکھے، ورنہ اُس کا دل رب سے دُور ہو جائے گا۔ اور وہ حد سے زیادہ سونا چاندی جمع نہ کرے۔ q4q? yاپنی فصلوں کا پہلا پھل بھی اُنہیں دینا یعنی اناج، مَے، زیتون کا تیل اور بھیڑوں کی پہلی کتری ہوئی اون۔7 iجب بھی کسی بَیل یا بھیڑ کو قربان کیا جائے تو اماموں کو اُس کا شانہ، جبڑے اور اوجھڑی ملنے کا حق ہے۔P اُن کے پاس دوسروں کی طرح موروثی زمین نہیں ہو گی بلکہ رب خود اُن کا موروثی حصہ ہو گا۔ یہ اُس نے وعدہ کر کے کہا ہے۔9  oاسرائیل کے ہر قبیلے کو میراث میں اُس کا اپنا علاقہ ملے گا سوائے لاوی کے قبیلے کے جس میں امام بھی شامل ہیں۔ وہ جلنے والی اور دیگر قربانیوں میں سے اپنا حصہ لے کر گزارہ کریں۔ L,L\3اُسے قربانیوں میں سے دوسروں کے برابر لاویوں کا حصہ ملنا ہے، خواہ اُسے خاندانی ملکیت بیچنے سے پیسے مل گئے ہوں یا نہیں۔,Sتو وہ وہاں کے خدمت کرنے والے لاویوں کی طرح مقدِس میں رب اپنے خدا کے نام میں خدمت کر سکتا ہے۔p[کچھ لاوی مقدِس کے پاس نہیں بلکہ اسرائیل کے مختلف شہروں میں رہیں گے۔ اگر اُن میں سے کوئی اُس جگہ آنا چاہے جو رب مقدِس کے لئے چنے گا,Sکیونکہ رب نے تیرے تمام قبیلوں میں سے لاوی کے قبیلے کو ہی مقدِس میں رب کے نام میں خدمت کرنے کے لئے چنا ہے۔ یہ ہمیشہ کے لئے اُن کی اور اُن کی اولاد کی ذمہ داری رہے گی۔ &+;&kQ اِس لئے لازم ہے کہ تُو رب اپنے خدا کے سامنے بےقصور رہے۔gI جو بھی ایسا کرے وہ رب کی نظر میں قابلِ گھن ہے۔ اِن ہی مکروہ دستوروں کی وجہ سے رب تیرا خدا تیرے آگے سے اُن قوموں کو نکال دے گا۔8k اِسی طرح منتر پڑھنا، حاضِرات کرنا، قسمت کا حال بتانا یا مُردوں کی روحوں سے رابطہ کرنا سخت منع ہے۔lS تیرے درمیان کوئی بھی اپنے بیٹے یا بیٹی کو قربانی کے طور پر نہ جلائے۔ نہ کوئی غیب دانی کرے، نہ فال یا شگون نکالے یا جادوگری کرے۔Q جب تُو اُس ملک میں داخل ہو گا جو رب تیرا خدا تجھے دے رہا ہے تو وہاں کی رہنے والی قوموں کے گھنونے دستور نہ اپنانا۔ YeEتب رب نے مجھ سے کہا، ”جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ ٹھیک ہے۔Rکیونکہ حورب یعنی سینا پہاڑ پر جمع ہوتے وقت تُو نے خود رب اپنے خدا سے درخواست کی، ”نہ مَیں مزید رب اپنے خدا کی آواز سننا چاہتا، نہ یہ بھڑکتی ہوئی آگ دیکھنا چاہتا ہوں، ورنہ مر جاؤں گا۔“9رب تیرا خدا تیرے واسطے تیرے بھائیوں میں سے مجھ جیسے نبی کو برپا کرے گا۔ اُس کی سننا۔{جن قوموں کو تُو نکالنے والا ہے وہ اُن کی سنتی ہیں جو فال نکالتے اور غیب دانی کرتے ہیں۔ لیکن رب تیرے خدا نے تجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ DgIلیکن اگر کوئی نبی گستاخ ہو کر میرے نام میں کوئی بات کہے جو مَیں نے اُسے بتانے کو نہیں کہا تھا تو اُسے سزائے موت دینی ہے۔ اِسی طرح اُس نبی کو بھی ہلاک کر دینا ہے جو دیگر معبودوں کے نام میں بات کرے۔“Fجب وہ نبی میرے نام میں کچھ کہے تو لازم ہے کہ تُو اُس کی سن۔ جو نہیں سنے گا اُس سے مَیں خود جواب طلب کروں گا۔nWآئندہ مَیں اُن میں سے تجھ جیسا نبی کھڑا کروں گا۔ مَیں اپنے الفاظ اُس کے منہ میں ڈال دوں گا، اور وہ میری ہر بات اُن تک پہنچائے گا۔ E  "-8CNXcny)4?IT_ju%/:EP[fq|                                               ! " # $ % & '  (  )  *  +  , - . / 0 1 2 3 4  5 6 7 8 9 : ; <  =  >  ?  @  A B C D E F G H 6x  mرب تیرا خدا اُس ملک میں آباد قوموں کو تباہ کرے گا جو وہ تجھے دے رہا ہے۔ جب تُو اُنہیں بھگا کر اُن کے شہروں اور گھروں میں آباد ہو جائے گا?yجواب یہ ہے کہ اگر نبی رب کے نام میں کچھ کہے اور وہ پورا نہ ہو جائے تو مطلب ہے کہ نبی کی بات رب کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اُس نے گستاخی کر کے بات کی ہے۔ اِس صورت میں اُس سے مت ڈرنا۔ Fشاید تیرے ذہن میں سوال اُبھر آئے کہ ہم کس طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ کوئی کلام واقعی رب کی طرف سے ہے یا نہیں۔ //e#Eوہ ایسے شہر میں جا کر انتقام لینے والوں سے محفوظ رہے گا۔ شرط یہ ہے کہ اُس نے نہ قصداً اور نہ دشمنی کے باعث کسی کو مار دیا ہو۔p"[تو پورے ملک کو تین حصوں میں تقسیم کر۔ ہر حصے میں ایک مرکزی شہر مقرر کر۔ اُن تک پہنچانے والے راستے صاف ستھرے رکھنا۔ اِن شہروں میں ہر وہ شخص پناہ لے سکتا ہے جس کے ہاتھ سے کوئی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا ہے۔p![تو پورے ملک کو تین حصوں میں تقسیم کر۔ ہر حصے میں ایک مرکزی شہر مقرر کر۔ اُن تک پہنچانے والے راستے صاف ستھرے رکھنا۔ اِن شہروں میں ہر وہ شخص پناہ لے سکتا ہے جس کے ہاتھ سے کوئی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا ہے۔ _&9اِس لئے لازم ہے کہ تُو پناہ کے تین شہر الگ کر لے۔9%mاِس لئے ضروری ہے کہ ایسے شہروں کا فاصلہ زیادہ نہ ہو۔ کیونکہ جب انتقام لینے والا اُس کا تعاقب کرے گا تو خطرہ ہے کہ وہ طیش میں اُسے پکڑ کر مار ڈالے، اگرچہ بھاگنے والا بےقصور ہے۔ جو کچھ اُس نے کیا وہ دشمنی کے سبب سے نہیں بلکہ غیرارادی طور پر ہوا۔X$+مثلاً دو آدمی جنگل میں درخت کاٹ رہے ہیں۔ کلہاڑی چلاتے وقت ایک کی کلہاڑی دستے سے نکل کر اُس کے ساتھی کو لگ جائے اور وہ مر جائے۔ ایسا شخص فرار ہو کر ایسے شہر میں پناہ لے سکتا ہے تاکہ بچا رہے۔ ( البتہ شرط یہ ہے کہ تُو احتیاط سے اُن تمام احکام کی پیروی کرے جو مَیں تجھے آج دے رہا ہوں۔ دوسرے الفاظ میں شرط یہ ہے کہ تُو رب اپنے خدا کو پیار کرے اور ہمیشہ اُس کی راہوں میں چلتا رہے۔ اگر تُو ایسا ہی کرے اور نتیجتاً رب کا وعدہ پورا ہو جائے تو لازم ہے کہ تُو پناہ کے تین اَور شہر الگ کر لے۔'%بعد میں رب تیرا خدا تیری سرحدیں مزید بڑھا دے گا، کیونکہ یہی وعدہ اُس نے قَسم کھا کر تیرے باپ دادا سے کیا ہے۔ اپنے وعدے کے مطابق وہ تجھے پورا ملک دے گا، t/t7,i اُس پر رحم مت کرنا۔ لازم ہے کہ تُو اسرائیل میں سے بےقصور کی موت کا داغ مٹائے تاکہ تُو خوش حال رہے۔`+; تو اُس کے شہر کے بزرگ اطلاع دیں کہ اُسے واپس لایا جائے۔ اُسے انتقام لینے والے کے حوالے کیا جائے تاکہ اُسے سزائے موت ملے۔* لیکن ہو سکتا ہے کوئی دشمنی کے باعث کسی کی تاک میں بیٹھ جائے اور اُس پر حملہ کر کے اُسے مار ڈالے۔ اگر قاتل پناہ کے کسی شہر میں بھاگ کر پناہ لےc)A ورنہ تیرے ملک میں جو رب تیرا خدا تجھے میراث میں دے رہا ہے بےقصور لوگوں کو جان سے مارا جائے گا اور تُو خود ذمہ دار ٹھہرے گا۔ z,z.0Wتو دونوں مقدِس میں رب کے حضور آ کر خدمت کرنے والے اماموں اور قاضیوں کو اپنا معاملہ پیش کریں۔ /اگر جس پر الزام لگایا گیا ہے انکار کر کے دعویٰ کرے کہ گواہ جھوٹ بول رہا ہے&.Gتُو کسی کو ایک ہی گواہ کے کہنے پر قصوروار نہیں ٹھہرا سکتا۔ جو بھی جرم سرزد ہوا ہے، کم از کم دو یا تین گواہوں کی ضرورت ہے۔ ورنہ تُو اُسے قصوروار نہیں ٹھہرا سکتا۔-'جب تُو اُس ملک میں رہے گا جو رب تیرا خدا تجھے میراث میں دے گا تاکہ تُو اُس پر قبضہ کرے تو زمین کی وہ حدیں آگے پیچھے نہ کرنا جو تیرے باپ دادا نے مقرر کیں۔ =qs4aقصوروار پر رحم نہ کرنا۔ اصول یہ ہو کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت، ہاتھ کے بدلے ہاتھ، پاؤں کے بدلے پاؤں۔ =3uپھر تمام باقی لوگ یہ سن کر ڈر جائیں گے اور آئندہ تیرے درمیان ایسی غلط حرکت کرنے کی جرٲت نہیں کریں گے۔H2 تو اُس کے ساتھ وہ کچھ کیا جائے جو وہ اپنے بھائی کے لئے چاہ رہا تھا۔ یوں تُو اپنے درمیان سے بُرائی مٹا دے گا۔?1yقاضی اِس کا خوب کھوج لگائیں۔ اگر بات درست نکلے کہ گواہ نے جھوٹ بول کر اپنے بھائی پر غلط الزام لگایا ہے Py85کیونکہ رب تمہارا خدا خود تمہارے ساتھ جا کر دشمن سے لڑے گا۔ وہی تمہیں فتح بخشے گا۔“S7!کہے، ”سن اے اسرائیل! آج تم اپنے دشمن سے لڑنے جا رہے ہو۔ اُن کے سبب سے پریشان نہ ہو۔ اُن سے نہ خوف کھاؤ، نہ گھبراؤ،w6iجنگ کے لئے نکلنے سے پہلے امام سامنے آئے اور فوج سے مخاطب ہو کر25 aجب تُو جنگ کے لئے نکل کر دیکھتا ہے کہ دشمن تعداد میں زیادہ ہیں اور اُن کے پاس گھوڑے اور رتھ بھی ہیں تو مت ڈرنا۔ رب تیرا خدا جو تجھے مصر سے نکال لایا اب بھی تیرے ساتھ ہے۔ NB:کیا کوئی ہے جس نے انگور کا باغ لگا کر اِس وقت اُس کی پہلی فصل کے انتظار میں ہے؟ وہ اپنے گھر واپس چلا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ جنگ میں مارا جائے اور کوئی اَور باغ کا فائدہ اُٹھائے۔.9Wپھر نگہبان فوج سے مخاطب ہوں، ”کیا یہاں کوئی ہے جس نے حال میں اپنا نیا گھر مکمل کیا لیکن اُسے مخصوص کرنے کا موقع نہ ملا؟ وہ اپنے گھر واپس چلا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ جنگ کے دوران مارا جائے اور کوئی اَور گھر کو مخصوص کر کے اُس میں بسنے لگے۔ TT-?U اگر وہ مان جائیں اور اپنے دروازے کھول دیں تو وہ تیرے لئے بیگار میں کام کر کے تیری خدمت کریں۔> کسی شہر پر حملہ کرنے سے پہلے اُس کے باشندوں کو ہتھیار ڈال دینے کا موقع دینا۔S=! اِس کے بعد فوجیوں پر افسر مقرر کئے جائیں۔L<نگہبان کہیں، ”کیا کوئی خوف زدہ یا پریشان ہے؟ وہ اپنے گھر واپس چلا جائے تاکہ اپنے ساتھیوں کو پریشان نہ کرے۔“<;sکیا کوئی ہے جس کی منگنی ہوئی ہے اور جو اِس وقت شادی کے انتظار میں ہے؟ وہ اپنے گھر واپس چلا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ جنگ میں مارا جائے اور کوئی اَور اُس کی منگیتر سے شادی کرے۔“ klNDلیکن جو شہر اُس ملک میں واقع ہیں جو رب تیرا خدا تجھے میراث میں دے رہا ہے، اُن کے تمام جانداروں کو ہلاک کر دینا۔fCGیوں اُن شہروں سے نپٹنا جو تیرے اپنے ملک سے باہر ہیں۔Bتُو تمام مالِ غنیمت عورتوں، بچوں اور مویشیوں سمیت رکھ سکتا ہے۔ دشمن کی جو چیزیں رب نے تیرے حوالے کر دی ہیں اُن سب کو تُو استعمال کر سکتا ہے۔ A جب رب تیرا خدا تجھے شہر پر فتح دے گا تو اُس کے تمام مردوں کو ہلاک کر دینا۔@ لیکن اگر وہ ہتھیار ڈالنے سے انکار کریں اور جنگ چھڑ جائے تو شہر کا محاصرہ کر۔ 22}Guشہر کا محاصرہ کرتے وقت ارد گرد کے پھل دار درختوں کو کاٹ کر تباہ نہ کر دینا خواہ بڑی دیر بھی ہو جائے، ورنہ تُو اُن کا پھل نہیں کھا سکے گا۔ اُنہیں نہ کاٹنا۔ کیا درخت تیرے دشمن ہیں جن کا محاصرہ کرنا ہے؟ ہرگز نہیں!1F]اگر تُو ایسا نہ کرے تو وہ تمہیں رب تمہارے خدا کا گناہ کرنے پر اُکسائیں گے۔ جو گھنونی حرکتیں وہ اپنے دیوتاؤں کی پوجا کرتے وقت کرتے ہیں اُنہیں وہ تمہیں بھی سکھائیں گے۔E#اُنہیں رب کے سپرد کر کے مکمل طور پر ہلاک کرنا، جس طرح رب تیرے خدا نے تجھے حکم دیا ہے۔ اِس میں حِتّی، اموری، کنعانی، فرِزّی، حِوّی اور یبوسی شامل ہیں۔ K#پھر اُس شہر کے بزرگ ایک جوان گائے چن لیں جو کبھی کام کے لئے استعمال نہیں ہوئی۔)JMتو پہلے ارد گرد کے شہروں کے بزرگ اور قاضی آ کر پتا کریں کہ کون سا شہر لاش کے زیادہ قریب ہے۔PI جب تُو اُس ملک میں آباد ہو گا جو رب تجھے میراث میں دے رہا ہے تاکہ تُو اُس پر قبضہ کرے تو ہو سکتا ہے کہ کوئی لاش کھلے میدان میں کہیں پڑی پائی جائے۔ اگر معلوم نہ ہو کہ کس نے اُسے قتل کیا ہے_H9اُن درختوں کی اَور بات ہے جو پھل نہیں لاتے۔ اُنہیں تُو کاٹ کر محاصرے کے لئے استعمال کر سکتا ہے جب تک شہر شکست نہ کھائے۔ uuO/ساتھ ساتھ وہ کہیں، ”ہم نے اِس شخص کو قتل نہیں کیا، نہ ہم نے دیکھا کہ کس نے یہ کیا۔N اُن کے دیکھتے دیکھتے شہر کے بزرگ اپنے ہاتھ گائے کی لاش کے اوپر دھو لیں۔%MEپھر لاوی کے قبیلے کے امام قریب آئیں۔ کیونکہ رب تمہارے خدا نے اُنہیں چن لیا ہے تاکہ وہ خدمت کریں، رب کے نام سے برکت دیں اور تمام جھگڑوں اور حملوں کا فیصلہ کریں۔4Lcوہ اُسے ایک ایسی وادی میں لے جائیں جس میں نہ کبھی ہل چلایا گیا، نہ پودے لگائے گئے ہوں۔ وادی میں ایسی نہر ہو جو پورا سال بہتی رہے۔ وہیں بزرگ جوان گائے کی گردن توڑ ڈالیں۔ c%c>Sw تجھے اُن میں سے ایک خوب صورت عورت نظر آتی ہے جس کے ساتھ تیرا دل لگ جاتا ہے۔ تُو اُس سے شادی کر سکتا ہے۔9Rm ہو سکتا ہے کہ تُو اپنے دشمن سے جنگ کرے اور رب تمہارا خدا تجھے فتح بخشے۔ جنگی قیدیوں کو جمع کرتے وقت^Q7 یوں تُو ایسے بےقصور شخص کے قتل کا داغ اپنے درمیان سے مٹا دے گا۔ کیونکہ تُو نے وہی کچھ کیا ہو گا جو رب کی نظر میں درست ہے۔8Pkاے رب، اپنی قوم اسرائیل کا یہ کفارہ قبول فرما جسے تُو نے فدیہ دے کر چھڑایا ہے۔ اپنی قوم اسرائیل کو اِس بےقصور کے قتل کا قصوروار نہ ٹھہرا۔“ تب مقتول کا کفارہ دیا جائے گا۔ k5gVIاگر وہ تجھے کسی وقت پسند نہ آئے تو اُسے جانے دے۔ وہ وہاں جائے جہاں اُس کا جی چاہے۔ تجھے اُسے بیچنے یا اُس سے لونڈی کا سا سلوک کرنے کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ تُو نے اُسے مجبور کر کے اُس سے شادی کی ہے۔2U_ اور اپنے وہ کپڑے اُتارے جو وہ پہنے ہوئے تھی جب اُسے قید کیا گیا۔ وہ پورے ایک مہینے تک اپنے والدین کے لئے ماتم کرے۔ پھر تُو اُس کے پاس جا کر اُس کے ساتھ شادی کر سکتا ہے۔T اُسے اپنے گھر میں لے آ۔ وہاں وہ اپنے سر کے بالوں کو منڈوائے، اپنے ناخن تراشے YYVX'جب باپ اپنی ملکیت وصیت میں تقسیم کرتا ہے تو لازم ہے کہ وہ اپنے سب سے بڑے بیٹے کا موروثی حق پورا کرے۔ اُسے پہلوٹھے کا یہ حق اُس بیوی کے بیٹے کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں جسے وہ پیار کرتا ہے۔IW ہو سکتا ہے کسی مرد کی دو بیویاں ہوں۔ ایک کو وہ پیار کرتا ہے، دوسری کو نہیں۔ دونوں بیویوں کے بیٹے پیدا ہوئے ہیں، لیکن جس بیوی سے شوہر محبت نہیں کرتا اُس کا بیٹا سب سے پہلے پیدا ہوا۔ oj[/اِس صورت میں والدین اُسے پکڑ کر شہر کے دروازے پر لے جائیں جہاں بزرگ جمع ہوتے ہیں۔Z}ہو سکتا ہے کہ کسی کا بیٹا ہٹ دھرم اور سرکش ہو۔ وہ اپنے والدین کی اطاعت نہیں کرتا اور اُن کے تنبیہ کرنے اور سزا دینے پر بھی اُن کی نہیں سنتا۔ Yاُسے تسلیم کرنا ہے کہ اُس بیوی کا بیٹا سب سے بڑا ہے، جس سے وہ محبت نہیں کرتا۔ نتیجتاً اُسے اُس بیٹے کو دوسرے بیٹوں کی نسبت دُگنا حصہ دینا پڑے گا، کیونکہ وہ اپنے باپ کی طاقت کا پہلا اظہار ہے۔ اُسے پہلوٹھے کا حق حاصل ہے۔ ";^"0_[تو اُسے اگلی صبح تک وہاں نہ چھوڑنا۔ ہر صورت میں اُسے اُسی دن دفنا دینا، کیونکہ جسے بھی درخت سے لٹکایا گیا ہے اُس پر اللہ کی لعنت ہے۔ اگر اُسے اُسی دن دفنایا نہ جائے تو تُو اُس ملک کو ناپاک کر دے گا جو رب تیرا خدا تجھے میراث میں دے رہا ہے۔ ^جب تُو کسی کو سزائے موت دے کر اُس کی لاش کسی لکڑی یا درخت سے لٹکاتا ہےY]-یہ سن کر شہر کے تمام مرد اُسے سنگسار کریں۔ یوں تُو اپنے درمیان سے بُرائی مٹا دے گا۔ تمام اسرائیل یہ سن کر ڈر جائے گا۔A\}وہ بزرگوں سے کہیں، ”ہمارا بیٹا ہٹ دھرم اور سرکش ہے۔ وہ ہماری اطاعت نہیں کرتا بلکہ عیاش اور شرابی ہے۔“ ubeیہی کچھ کر اگر تیرے ہم وطن بھائی کا گدھا بھٹکا ہوا نظر آئے یا اُس کا گم شدہ کوٹ یا کوئی اَور چیز کہیں نظر آئے۔ اُسے نظرانداز نہ کرنا۔Ga اگر مالک کا گھر قریب نہ ہو یا تجھے معلوم نہ ہو کہ مالک کون ہے تو جانور کو اپنے گھر لا کر اُس وقت تک سنبھالے رکھنا جب تک کہ مالک اُسے ڈھونڈنے نہ آئے۔ پھر جانور کو اُسے واپس کر دینا۔_` ;اگر تجھے کسی ہم وطن بھائی کا بَیل یا بھیڑبکری بھٹکی ہوئی نظر آئے تو اُسے نظرانداز نہ کرنا بلکہ مالک کے پاس واپس لے جانا۔ OO%fEتجھے بچے لے جانے کی اجازت ہے لیکن ماں کو چھوڑ دینا تاکہ تُو خوش حال اور دیر تک جیتا رہے۔e}اگر تجھے کہیں راستے میں، کسی درخت میں یا زمین پر گھونسلا نظر آئے اور پرندہ اپنے بچوں یا انڈوں پر بیٹھا ہوا ہو تو ماں کو بچوں سمیت نہ پکڑنا۔dعورت کے لئے مردوں کے کپڑے پہننا منع ہے۔ اِسی طرح مرد کے لئے عورتوں کے کپڑے پہننا بھی منع ہے۔ جو ایسا کرتا ہے اُس سے رب تیرے خدا کو گھن آتی ہے۔wciاگر تُو دیکھے کہ کسی ہم وطن کا گدھا یا بَیل راستے میں گر گیا ہے تو اُسے نظرانداز نہ کرنا۔ جانور کو کھڑا کرنے میں اپنے بھائی کی مدد کر۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FP[fq| J K L M N O P  Q   J K L M N O P  Q  R  S  T  U V W X Y Z [ \ ] ^ _  ` a b c d e f g  h  i  j  k  l m n o p q r s t u v w x y z { | }  ~                      _8_}lu اگر کوئی آدمی شادی کرنے کے تھوڑی دیر بعد اپنی بیوی کو پسند نہ کرےVk' اپنی چادر کے چاروں کونوں پر پُھندنے لگانا۔zjo ایسے کپڑے نہ پہننا جن میں بنتے وقت اُون اور کتان ملائے گئے ہیں۔Gi  بیل اور گدھے کو جوڑ کر ہل نہ چلانا۔h# اپنے انگور کے باغ میں دو قسم کے بیج نہ بونا۔ ورنہ سب کچھ مقدِس کے لئے مخصوص و مُقدّس ہو گا، نہ صرف وہ فصل جو تم نے انگور کے علاوہ لگائی بلکہ انگور بھی۔egEنیا مکان تعمیر کرتے وقت چھت پر چاروں طرف دیوار بنانا۔ ورنہ تُو اُس شخص کی موت کا ذمہ دار ٹھہرے گا جو تیری چھت پر سے گر جائے۔ Cj]Gq تب بزرگ اُس آدمی کو پکڑ کر سزا دیں،Hp اب اِس نے اُس کی بدنامی کر کے کہا ہے، ’مجھے پتا چلا کہ تمہاری بیٹی کنواری نہیں ہے۔‘ لیکن یہاں ثبوت ہے کہ میری بیٹی کنواری تھی۔“ پھر والدین شہر کے بزرگوں کو مذکورہ کپڑا دکھائیں۔=ouبیوی کا باپ بزرگوں سے کہے، ”مَیں نے اپنی بیٹی کی شادی اِس آدمی سے کی ہے، لیکن یہ اُس سے نفرت کرتا ہے۔Un%جواب میں بیوی کے والدین شہر کے دروازے پر جمع ہونے والے بزرگوں کے پاس ثبوت لے آئیں کہ بیٹی شادی سے پہلے کنواری تھی۔9mmاور پھر اُس کی بدنامی کر کے کہے، ”اِس عورت سے شادی کرنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ وہ کنواری نہیں ہے۔“ \\tتو اُسے باپ کے گھر لایا جائے۔ وہاں شہر کے آدمی اُسے سنگسار کر دیں۔ کیونکہ اپنے باپ کے گھر میں رہتے ہوئے بدکاری کرنے سے اُس نے اسرائیل میں ایک احمقانہ اور بےدین حرکت کی ہے۔ یوں تُو اپنے درمیان سے بُرائی مٹا دے گا۔s-لیکن اگر آدمی کی بات درست نکلے اور ثابت نہ ہو سکے کہ بیوی شادی سے پہلے کنواری تھی{rqکیونکہ اُس نے ایک اسرائیلی کنواری کی بدنامی کی ہے۔ اِس کے علاوہ اُسے جرمانے کے طور پر بیوی کے باپ کو چاندی کے 100 سکے دینے پڑیں گے۔ لازم ہے کہ وہ شوہر کے فرائض ادا کرتا رہے۔ وہ عمر بھر اُسے طلاق نہیں دے سکے گا۔ t't/wYتو لازم ہے کہ تم دونوں کو شہر کے دروازے کے پاس لا کر سنگسار کرو۔ وجہ یہ ہے کہ لڑکی نے مدد کے لئے نہ پکارا اگرچہ اُس جگہ لوگ آباد تھے۔ مرد کا جرم یہ تھا کہ اُس نے کسی اَور کی منگیتر کی عصمت دری کی ہے۔ یوں تُو اپنے درمیان سے بُرائی مٹا دے گا۔fvGاگر آبادی میں کسی مرد کی ملاقات کسی ایسی کنواری سے ہو جس کی کسی اَور کے ساتھ منگنی ہوئی ہے اور وہ اُس کے ساتھ ہم بستر ہو جائےkuQاگر کوئی آدمی کسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے اور وہ پکڑے جائیں تو دونوں کو سزائے موت دینی ہے۔ یوں تُو اسرائیل سے بُرائی مٹا دے گا۔ FA-{Uہو سکتا ہے کوئی آدمی کسی لڑکی کی عصمت دری کرے جس کی منگنی نہیں ہوئی ہے۔ اگر اُنہیں پکڑا جائےZz/چونکہ اُس نے لڑکی کو وہاں پایا جہاں لوگ نہیں رہتے، اِس لئے اگرچہ لڑکی نے مدد کے لئے پکارا توبھی اُسے کوئی نہ بچا سکا۔#yAلڑکی کو کوئی سزا نہ دینا، کیونکہ اُس نے کچھ نہیں کیا جو موت کے لائق ہو۔ زیادتی کرنے والے کی حرکت اُس شخص کے برابر ہے جس نے کسی پر حملہ کر کے اُسے قتل کر دیا ہے۔6xgلیکن اگر مرد غیرآباد جگہ میں کسی اَور کی منگیتر کی عصمت دری کرے تو صرف اُسی کو سزائے موت دی جائے۔ `1^`zoاِسی طرح وہ بھی مُقدّس اجتماع سے دُور رہے جو ناجائز تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ اُس کی اولاد بھی دسویں پشت تک اُس میں نہیں آ سکتی۔O~ جب اسرائیلی رب کے مقدِس کے پاس جمع ہوتے ہیں تو اُسے حاضر ہونے کی اجازت نہیں جو کاٹنے یا کچلنے سے خوجہ بن گیا ہے۔ };اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرنا منع ہے۔ جو کوئی یہ کرے وہ اپنے باپ کی بےحرمتی کرتا ہے۔ '|Iتو وہ لڑکی کے باپ کو چاندی کے 50 سکے دے۔ لازم ہے کہ وہ اُسی لڑکی سے شادی کرے، کیونکہ اُس نے اُس کی عصمت دری کی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ عمر بھر اُسے طلاق نہیں دے سکتا۔ g gعمر بھر کچھ نہ کرنا جس سے اِن قوموں کی سلامتی اور خوش حالی بڑھ جائے۔Jلیکن رب تیرے خدا نے بلعام کی نہ سنی بلکہ اُس کی لعنت برکت میں بدل دی۔ کیونکہ رب تیرا خدا تجھ سے پیار کرتا ہے۔Lکیونکہ جب تم مصر سے نکل آئے تو وہ روٹی اور پانی لے کر تم سے ملنے نہ آئے۔ نہ صرف یہ بلکہ اُنہوں نے مسوپتامیہ کے شہر فتور میں جا کر بلعام بن بعور کو پیسے دیئے تاکہ وہ تجھ پر لعنت بھیجے۔q]کوئی بھی عمونی یا موآبی مُقدّس اجتماع میں شریک نہیں ہو سکتا۔ اِن قوموں کی اولاد دسویں پشت تک بھی اِس جماعت میں حاضر نہیں ہو سکتی، ns a اپنی حاجت رفع کرنے کے لئے لشکرگاہ سے باہر کوئی جگہ مقرر کر۔{ دن ڈھلتے وقت وہ نہا لے تو سورج ڈوبنے پر لشکرگاہ میں واپس آ سکتا ہے۔H  مثلاً اگر کوئی آدمی رات کے وقت اِحتلام کے باعث ناپاک ہو جائے تو وہ لشکرگاہ کے باہر جا کر شام تک وہاں ٹھہرے۔   اپنے دشمنوں سے جنگ کرتے وقت اپنی لشکرگاہ میں ہر ناپاک چیز سے دُور رہنا۔}uاُن کی تیسری نسل کے لوگ رب کے مُقدّس اجتماع میں شریک ہو سکتے ہیں۔لیکن ادومیوں کو مکروہ نہ سمجھنا، کیونکہ وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اِسی طرح مصریوں کو بھی مکروہ نہ سمجھنا، کیونکہ تُو اُن کے ملک میں پردیسی مہمان تھا۔ .t cاگر کوئی غلام تیرے پاس پناہ لے تو اُسے مالک کو واپس نہ کرنا۔9 mرب تیرا خدا تیری لشکرگاہ میں تیرے درمیان ہی گھومتا پھرتا ہے تاکہ تُو محفوظ رہے اور دشمن تیرے سامنے شکست کھائے۔ اِس لئے لازم ہے کہ تیری لشکرگاہ اُس کے لئے مخصوص و مُقدّس ہو۔ ایسا نہ ہو کہ اللہ وہاں کوئی شرم ناک بات دیکھ کر تجھ سے دُور ہو جائے۔  جب کسی کو حاجت کے لئے بیٹھنا ہو تو وہ اِس کے لئے گڑھا کھودے اور بعد میں اُسے مٹی سے بھر دے۔ اِس لئے اپنے سامان میں کھدائی کا کوئی آلہ رکھنا ضروری ہے۔ 7Rاگر کوئی اسرائیلی بھائی تجھ سے قرض لے تو اُس سے سود نہ لینا، خواہ تُو نے اُسے پیسے، کھانا یا کوئی اَور چیز دی ہو۔Rمَنت مانتے وقت نہ کسبی کا اجر، نہ کُتے کے پیسے رب کے مقدِس میں لانا، کیونکہ رب تیرے خدا کو دونوں چیزوں سے گھن ہے۔!کسی دیوتا کی خدمت میں عصمت فروشی کرنا ہر اسرائیلی عورت اور مرد کے لئے منع ہے۔E وہ تیرے ساتھ اور تیرے درمیان ہی رہے، وہاں جہاں وہ بسنا چاہے، اُس شہر میں جو اُسے پسند آئے۔ اُسے نہ دبانا۔ _%لیکن اگر تُو اپنی دلی خوشی سے رب کے حضور مَنت مانے تو ہر صورت میں اُسے پورا کر۔lSاگر تُو مَنت ماننے سے باز رہے تو قصوروار نہیں ٹھہرے گا،,Sجب تُو رب اپنے خدا کے حضور مَنت مانے تو اُسے پورا کرنے میں دیر نہ کرنا۔ رب تیرا خدا یقیناً تجھ سے اس کا مطالبہ کرے گا۔ اگر تُو اُسے پورا نہ کرے تو قصوروار ٹھہرے گا۔~wاپنے اسرائیلی بھائی سے سود نہ لے بلکہ صرف پردیسی سے۔ پھر جب تُو ملک پر قبضہ کر کے اُس میں رہے گا تو رب تیرا خدا تیرے ہر کام میں برکت دے گا۔ jOاِس کے بعد اُس عورت کی شادی کسی اَور مرد سے ہو جاتی ہے، {ہو سکتا ہے کوئی آدمی کسی عورت سے شادی کرے لیکن بعد میں اُسے پسند نہ کرے، کیونکہ اُسے بیوی کے بارے میں کسی شرم ناک بات کا پتا چل گیا ہے۔ وہ طلاق نامہ لکھ کر اُسے عورت کو دیتا اور پھر اُسے گھر سے واپس بھیج دیتا ہے۔}uاِسی طرح کسی ہم وطن کے اناج کے کھیت میں سے گزرتے وقت تجھے اپنے ہاتھوں سے اناج کی بالیاں توڑنے کی اجازت ہے۔ لیکن درانتی استعمال نہ کرنا۔ ueکسی ہم وطن کے انگور کے باغ میں سے گزرتے وقت تجھے جتنا جی چاہے اُس کے انگور کھانے کی اجازت ہے۔ لیکن اپنے کسی برتن میں پھل جمع نہ کرنا۔ @@yعورت کے پہلے شوہر کو اُس سے دوبارہ شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ وہ عورت اُس کے لئے ناپاک ہے۔ ایسی حرکت رب کی نظر میں قابلِ گھن ہے۔ اُس ملک کو یوں گناہ آلودہ نہ کرنا جو رب تیرا خدا تجھے میراث میں دے رہا ہے۔9mاور وہ بھی بعد میں اُسے پسند نہیں کرتا۔ وہ بھی طلاق نامہ لکھ کر اُسے عورت کو دیتا اور پھر اُسے گھر سے واپس بھیج دیتا ہے۔ خواہ دوسرا شوہر اُسے واپس بھیج دے یا شوہر مر جائے، a=اگر کوئی تجھ سے اُدھار لے تو ضمانت کے طور پر اُس سے نہ اُس کی چھوٹی چکّی، نہ اُس کی بڑی چکّی کا پاٹ لینا، کیونکہ ایسا کرنے سے تُو اُس کی جان لے گا یعنی تُو وہ چیز لے گا جس سے اُس کا گزارہ ہوتا ہے۔b?اگر کسی آدمی نے ابھی ابھی شادی کی ہو تو تُو اُسے بھرتی کر کے جنگ کرنے کے لئے نہیں بھیج سکتا۔ تُو اُسے کوئی بھی ایسی ذمہ داری نہیں دے سکتا، جس سے وہ گھر سے دُور رہنے پر مجبور ہو جائے۔ ایک سال تک وہ ایسی ذمہ داریوں سے بَری رہے تاکہ گھر میں رہ کر اپنی بیوی کو خوش کر سکے۔ * ) اپنے ہم وطن کو اُدھار دیتے وقت اُس کے گھر میں نہ جانا تاکہ ضمانت کی کوئی چیز ملے+ یاد کر کہ رب تیرے خدا نے مریم کے ساتھ کیا کِیا جب تم مصر سے نکل کر سفر کر رہے تھے۔5اگر کوئی وبائی جلدی بیماری تجھے لگ جائے تو بڑی احتیاط سے لاوی کے قبیلے کے اماموں کی تمام ہدایات پر عمل کرنا۔ جو بھی حکم مَیں نے اُنہیں دیا اُسے پورا کرنا۔%اگر کسی آدمی کو پکڑا جائے جس نے اپنے ہم وطن کو اغوا کر کے غلام بنا لیا یا بیچ دیا ہے تو اُسے سزائے موت دینا ہے۔ یوں تُو اپنے درمیان سے بُرائی مٹا دے گا۔ &pG&%5اُسے روزانہ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے اُس کی مزدوری دے دینا، کیونکہ اِس سے اُس کا گزارہ ہوتا ہے۔ کہیں وہ رب کے حضور تیری شکایت نہ کرے اور تُو قصوروار ٹھہرے۔ $ضرورت مند مزدور سے غلط فائدہ نہ اُٹھانا، چاہے وہ اسرائیلی ہو یا پردیسی۔r#_ اُسے سورج ڈوبنے تک واپس کرنا تاکہ قرض دار اُس میں لپٹ کر سو سکے۔ پھر وہ تجھے برکت دے گا اور رب تیرا خدا تیرا یہ قدم راست قرار دے گا۔!"= اگر وہ اِتنا ضرورت مند ہو کہ صرف اپنی چادر دے سکے تو رات کے وقت ضمانت تیرے پاس نہ رہے۔ ! بلکہ باہر ٹھہر کر انتظار کر کہ وہ خود گھر سے ضمانت کی چیز نکال کر تجھے دے۔ k(Qیاد رکھ کہ تُو بھی مصر میں غلام تھا اور کہ رب تیرے خدا نے فدیہ دے کر تجھے وہاں سے چھڑایا۔ اِسی وجہ سے مَیں تجھے یہ حکم دیتا ہوں۔1']پردیسیوں اور یتیموں کے حقوق قائم رکھنا۔ اُدھار دیتے وقت ضمانت کے طور پر بیوہ کی چادر نہ لینا۔E&والدین کو اُن کے بچوں کے جرائم کے سبب سے سزائے موت نہ دی جائے، نہ بچوں کو اُن کے والدین کے جرائم کے سبب سے۔ اگر کسی کو سزائے موت دینی ہو تو اُس گناہ کے سبب سے جو اُس نے خود کیا ہے۔ L_L+اِسی طرح اپنے انگور توڑنے کے لئے ایک ہی بار باغ میں سے گزرنا۔ اِس کے بعد اُسے نہ چھیڑنا۔ بچا ہوا پھل پردیسیوں، یتیموں اور بیواؤں کے لئے چھوڑ دینا۔6*gجب زیتون کی فصل پک گئی ہو تو درختوں کو مار مار کر ایک ہی بار اُن میں سے پھل اُتار۔ اِس کے بعد اُنہیں نہ چھیڑنا۔ بچا ہوا پھل پردیسیوں، یتیموں اور بیواؤں کے لئے چھوڑ دینا۔c)Aاگر تُو فصل کی کٹائی کے وقت ایک پُولا بھول کر کھیت میں چھوڑ آئے تو اُسے لانے کے لئے واپس نہ جانا۔ اُسے پردیسیوں، یتیموں اور بیواؤں کے لئے وہیں چھوڑ دینا تاکہ رب تیرا خدا تیرے ہر کام میں برکت دے۔ E  #.9DOZdoz *5@KU`kv%0;FQ\gr}                                                                                                   lke:/oلیکن اُس کو زیادہ سے زیادہ 40 کوڑے لگانے ہیں، ورنہ تیرے اسرائیلی بھائی کی سرِعام بےعزتی ہو جائے گی۔.اگر مجرم کو کوڑے لگانے کی سزا دینی ہے تو اُسے قاضی کے سامنے ہی منہ کے بل زمین پر لٹانا۔ پھر اُسے اِتنے کوڑے لگائے جائیں جتنوں کے وہ لائق ہے۔}- wاگر لوگ اپنا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا خود نپٹا نہ سکیں تو وہ اپنا معاملہ عدالت میں پیش کریں۔ قاضی فیصلہ کرے کہ کون بےقصور ہے اور کون مجرم۔,یاد رکھ کہ تُو خود مصر میں غلام تھا۔ اِسی وجہ سے مَیں تجھے یہ حکم دیتا ہوں۔ [d[82kپہلا بیٹا جو اِس رشتے سے پیدا ہو گا پہلے شوہر کے بیٹے کی حیثیت رکھے گا۔ یوں اُس کا نام قائم رہے گا۔I1 اگر کوئی شادی شدہ مرد بےاولاد مر جائے اور اُس کا سگا بھائی ساتھ رہے تو اُس کا فرض ہے کہ بیوہ سے شادی کرے۔ بیوہ شوہر کے خاندان سے ہٹ کر کسی اَور سے شادی نہ کرے بلکہ صرف اپنے دیور سے۔0+جب تُو فصل گاہنے کے لئے اُس پر بَیل چلنے دیتا ہے تو اُس کا منہ باندھ کر نہ رکھنا۔ 2[2d5C تو اُس کی بھابی بزرگوں کی موجودگی میں اُس کے پاس جا کر اُس کی ایک چپل اُتار لے۔ پھر وہ اُس کے منہ پر تھوک کر کہے، ”اُس آدمی سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے جو اپنے بھائی کی نسل قائم رکھنے کو تیار نہیں۔“=4uپھر شہر کے بزرگ دیور کو بُلا کر اُسے سمجھائیں۔ اگر وہ اِس کے باوجود بھی اُس سے شادی کرنے سے انکار کرے!3=لیکن اگر دیور بھابی سے شادی کرنا نہ چاہے تو بھابی شہر کے دروازے پر جمع ہونے والے بزرگوں کے پاس جائے اور اُن سے کہے، ”میرا دیور مجھ سے شادی کرنے سے انکار کرتا ہے۔ وہ اپنا فرض ادا کرنے کو تیار نہیں کہ اپنے بھائی کا نام قائم رکھے۔“ ~SI: اِسی طرح اپنے گھر میں اناج کی پیمائش کرنے کا صحیح برتن رکھ، اور دھوکا دینے کے لئے چھوٹا برتن ساتھ نہ رکھنا۔,9S تولتے وقت اپنے تھیلے میں صحیح وزن کے باٹ رکھ، اور دھوکا دینے کے لئے ہلکے باٹ ساتھ نہ رکھنا۔s8a تو لازم ہے کہ تُو عورت کا ہاتھ کاٹ ڈالے۔ اُس پر رحم نہ کرنا۔17] اگر دو آدمی لڑ رہے ہوں اور ایک کی بیوی اپنے شوہر کو بچانے کی خاطر مخالف کے عضوِ تناسل کو پکڑ لے6y آئندہ اسرائیل میں دیور کی نسل ”ننگے پاؤں والے کی نسل“ کہلائے گی۔ E;Er>_جب تُو تھکا ہارا تھا تو وہ تجھ پر حملہ کر کے پیچھے پیچھے چلنے والے تمام کمزوروں کو جان سے مارتے رہے۔ وہ اللہ کا خوف نہیں مانتے تھے۔=یاد رہے کہ عمالیقیوں نے تجھ سے کیا کچھ کیا جب تم مصر سے نکل کر سفر کر رہے تھے۔H< کیونکہ اُسے ہر دھوکے باز سے گھن ہے۔`;;صحیح وزن کے باٹ اور پیمائش کرنے کے صحیح برتن استعمال کرنا تاکہ تُو دیر تک اُس ملک میں جیتا رہے جو رب تیرا خدا تجھے دے گا۔ UynAWتو جو بھی فصل تُو کاٹے گا اُس کے پہلے پھل میں سے کچھ ٹوکرے میں رکھ کر اُس جگہ لے جا جو رب تیرا خدا اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا۔X@ -جب تُو اُس ملک میں داخل ہو گا جو رب تیرا خدا تجھے میراث میں دے رہا ہے اور تُو اُس پر قبضہ کر کے اُس میں آباد ہو جائے گا'?Iچنانچہ جب رب تیرا خدا تجھے ارد گرد کے تمام دشمنوں سے سکون دے گا اور تُو اُس ملک میں آباد ہو گا جو وہ تجھے میراث میں دے رہا ہے تاکہ تُو اُس پر قبضہ کرے تو عمالیقیوں کو یوں ہلاک کر کہ دنیا میں اُن کا نام و نشان نہ رہے۔ یہ بات مت بھولنا۔ 525E-لیکن مصریوں نے ہمارے ساتھ بُرا سلوک کیا اور ہمیں دبا کر سخت غلامی میں پھنسا دیا۔\D3پھر رب اپنے خدا کے حضور کہہ، ”میرا باپ آوارہ پھرنے والا اَرامی تھا جو اپنے لوگوں کو لے کر مصر میں آباد ہوا۔ وہاں پہنچتے وقت اُن کی تعداد کم تھی، لیکن ہوتے ہوتے وہ بڑی اور طاقت ور قوم بن گئے۔C تب امام تیرا ٹوکرا لے کر اُسے رب تیرے خدا کی قربان گاہ کے سامنے رکھ دے۔?Byوہاں خدمت کرنے والے امام سے کہہ، ”آج مَیں رب اپنے خدا کے حضور اعلان کرتا ہوں کہ اُس ملک میں پہنچ گیا ہوں جس کا ہمیں دینے کا وعدہ رب نے قَسم کھا کر ہمارے باپ دادا سے کیا تھا۔“  * I اے رب، اب مَیں تجھے اُس زمین کا پہلا پھل پیش کرتا ہوں جو تُو نے ہمیں بخشی ہے۔“ اپنی پیداوار کا ٹوکرا رب اپنے خدا کے سامنے رکھ کر اُسے سجدہ کرنا۔}Hu وہ ہمیں یہاں لے آیا اور یہ ملک دیا جس میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔^G7اور بڑے اختیار اور قدرت کا اظہار کر کے ہمیں مصر سے نکال لایا۔ اُس وقت اُس نے مصریوں میں دہشت پھیلا کر بڑے معجزے دکھائے۔pF[پھر ہم نے چلّا کر رب اپنے باپ دادا کے خدا سے فریاد کی، اور رب نے ہماری سنی۔ اُس نے ہمارا دُکھ، ہماری مصیبت اور دبی ہوئی حالت دیکھی DL پھر رب اپنے خدا سے کہہ، ”مَیں نے ویسا ہی کیا ہے جیسا تُو نے مجھے حکم دیا۔ مَیں نے اپنے گھر سے تیرے لئے مخصوص و مُقدّس حصہ نکال کر اُسے لاویوں، پردیسیوں، یتیموں اور بیواؤں کو دیا ہے۔ مَیں نے سب کچھ تیری ہدایات کے عین مطابق کیا ہے اور کچھ نہیں بھولا۔}Ku ہر تیسرے سال اپنی تمام فصلوں کا دسواں حصہ لاویوں، پردیسیوں، یتیموں اور بیواؤں کو دینا تاکہ وہ تیرے شہروں میں کھانا کھا کر سیر ہو جائیں۔ J; خوشی منانا کہ رب میرے خدا نے مجھے اور میرے گھرانے کو اِتنی اچھی چیزوں سے نوازا ہے۔ اِس خوشی میں اپنے درمیان رہنے والے لاویوں اور پردیسیوں کو بھی شامل کرنا۔ ,N!چنانچہ آسمان پر اپنے مقدِس سے نگاہ کر کے اپنی قوم اسرائیل کو برکت دے۔ اُس ملک کو بھی برکت دے جس کا وعدہ تُو نے قَسم کھا کر ہمارے باپ دادا سے کیا اور جو تُو نے ہمیں بخش بھی دیا ہے، اُس ملک کو جس میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔“PMماتم کرتے وقت مَیں نے اِس مخصوص و مُقدّس حصے سے کچھ نہیں کھایا۔ مَیں اِسے اُٹھا کر گھر سے باہر لاتے وقت ناپاک نہیں تھا۔ مَیں نے اِس میں سے مُردوں کو بھی کچھ پیش نہیں کیا۔ مَیں نے رب اپنے خدا کی اطاعت کر کے وہ سب کچھ کیا ہے جو تُو نے مجھے کرنے کو فرمایا تھا۔ @/C@Qyاور آج رب نے اعلان کیا ہے، ”تُو میری قوم اور میری اپنی ملکیت ہے جس طرح مَیں نے تجھ سے وعدہ کیا ہے۔ اب میرے تمام احکام کے مطابق زندگی گزار۔hPKآج تُو نے اعلان کیا ہے، ”رب میرا خدا ہے۔ مَیں اُس کی راہوں پر چلتا رہوں گا، اُس کے احکام کے تابع رہوں گا اور اُس کی سنوں گا۔“MOآج رب تیرا خدا فرماتا ہے کہ اِن احکام اور ہدایات کی پیروی کر۔ پورے دل و جان سے اور بڑی احتیاط سے اِن پر عمل کر۔ iTMجب تم دریائے یردن کو پار کر کے اُس ملک میں داخل ہو گے جو رب تیرا خدا تجھے دے رہا ہے تو وہاں بڑے پتھر کھڑے کر کے اُن پر سفیدی کر۔0S ]پھر موسیٰ نے بزرگوں سے مل کر قوم سے کہا، ”تمام ہدایات کے تابع رہو جو مَیں تمہیں آج دے رہا ہوں۔WR)جتنی بھی قومیں مَیں نے خلق کی ہیں اُن سب پر مَیں تجھے سرفراز کروں گا اور تجھے تعریف، شہرت اور عزت عطا کروں گا۔ تُو رب اپنے خدا کے لئے مخصوص و مُقدّس قوم ہو گا جس طرح مَیں نے وعدہ کیا ہے۔“ SjS"X?صرف سالم پتھر استعمال کر۔ قربان گاہ پر رب اپنے خدا کو بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کر۔UW%وہاں رب اپنے خدا کے لئے قربان گاہ بنانا۔ جو پتھر تُو اُس کے لئے استعمال کرے اُنہیں لوہے کے کسی اوزار سے نہ تراشنا۔V#چنانچہ یردن کو پار کر کے پتھروں کو عیبال پہاڑ پر کھڑا کرو اور اُن پر سفیدی کر۔Uاُن پر لفظ بہ لفظ پوری شریعت لکھ۔ دریا کو پار کرنے کے بعد یہی کچھ کر تاکہ تُو اُس ملک میں داخل ہو جو رب تیرا خدا تجھے دے گا اور جس میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔ کیونکہ رب تیرے باپ دادا کے خدا نے یہ دینے کا تجھ سے وعدہ کیا ہے۔ \-Z]/ اُسی دن موسیٰ نے اسرائیلیوں کو حکم دے کر کہا،'\I اِس لئے اُس کا فرماں بردار رہ اور اُس کے اُن احکام پر عمل کر جو مَیں تجھے آج دے رہا ہوں۔“w[i پھر موسیٰ نے لاوی کے قبیلے کے اماموں سے مل کر تمام اسرائیلیوں سے کہا، ”اے اسرائیل، خاموشی سے سن۔ اب تُو رب اپنے خدا کی قوم بن گیا ہے،Zوہاں کھڑے کئے گئے پتھروں پر شریعت کے تمام الفاظ صاف صاف لکھے جائیں۔“ Y;سلامتی کی قربانیاں بھی اُس پر چڑھا۔ اُنہیں وہاں رب اپنے خدا کے حضور کھا کر خوشی منا۔ . a ’اُس پر لعنت جو بُت تراش کر یا ڈھال کر چپکے سے کھڑا کرے۔ رب کو کاری گر کے ہاتھوں سے بنی ہوئی ایسی چیز سے گھن ہے۔‘ جواب میں سب لوگ کہیں، ’آمین!‘j`Oپھر لاوی تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر اونچی آواز سے کہیں،<_s باقی قبیلے یعنی روبن، جد، آشر، زبولون، دان اور نفتالی عیبال پہاڑ پر کھڑے ہو کر لعنت کے الفاظ بولیں۔^ ”دریائے یردن کو پار کرنے کے بعد شمعون، لاوی، یہوداہ، اِشکار، یوسف اور بن یمین کے قبیلے گرزیم پہاڑ پر کھڑے ہو جائیں۔ وہاں وہ برکت کے الفاظ بولیں۔ ] ^Vf'’اُس پر لعنت جو اپنے باپ کی بیوی سے ہم بستر ہو جائے، کیونکہ وہ اپنے باپ کی بےحرمتی کرتا ہے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘(eK’اُس پر لعنت جو پردیسیوں، یتیموں یا بیواؤں کے حقوق قائم نہ رکھے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘1d]’اُس پر لعنت جو کسی اندھے کی راہنمائی کر کے اُسے غلط راستے پر لے جائے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘c/’اُس پر لعنت جو اپنے پڑوسی کی زمین کی حدود آگے پیچھے کرے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘b9پھر لاوی کہیں، ’اُس پر لعنت جو اپنے باپ یا ماں کی تحقیر کرے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘ V+V-lU’اُس پر لعنت جو اِس شریعت کی باتیں قائم نہ رکھے، نہ اِن پر عمل کرے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘ k’اُس پر لعنت جو پیسے لے کر کسی بےقصور شخص کو قتل کرے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘ j’اُس پر لعنت جو چپکے سے اپنے ہم وطن کو قتل کر دے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘i’اُس پر لعنت جو اپنی ساس سے ہم بستر ہو جائے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘Lh’اُس پر لعنت جو اپنی سگی بہن، اپنے باپ کی بیٹی یا اپنی ماں کی بیٹی سے ہم بستر ہو جائے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘|gs’اُس پر لعنت جو جانور سے جنسی تعلق رکھے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘ ;dF;grIرب تجھے گھر میں آتے اور وہاں سے نکلتے وقت برکت دے گا۔q5تیرا ٹوکرا پھل سے بھرا رہے گا، اور آٹا گوندھنے کا تیرا برتن آٹے سے خالی نہیں ہو گا۔Lpتیری اولاد پھلے پھولے گی، تیری اچھی خاصی فصلیں پکیں گی، تیرے گائےبَیلوں اور بھیڑبکریوں کے بچے ترقی کریں گے۔Koرب تجھے شہر اور دیہات میں برکت دے گا۔znoرب اپنے خدا کا فرماں بردار رہ تو تجھے ہر طرح کی برکت حاصل ہو گی۔m 3رب تیرا خدا تجھے دنیا کی تمام قوموں پر سرفراز کرے گا۔ شرط یہ ہے کہ تُو اُس کی سنے اور احتیاط سے اُس کے اُن تمام احکام پر عمل کرے جو مَیں تجھے آج دے رہا ہوں۔ E   +6ALWbmx'2=HS^it$/:EP[fq|                                                                                 ! " # $ % & ' ( ) * + , - . AAQv پھر دنیا کی تمام قومیں تجھ سے خوف کھائیں گی، کیونکہ وہ دیکھیں گی کہ تُو رب کی قوم ہے اور اُس کے نام سے کہلاتا ہے۔Wu) رب اپنی قَسم کے مطابق تجھے اپنی مخصوص و مُقدّس قوم بنائے گا اگر تُو اُس کے احکام پر عمل کرے اور اُس کی راہوں پر چلے۔ t اللہ تیرے ہر کام میں برکت دے گا۔ اناج کی کثرت کے سبب سے تیرے گودام بھرے رہیں گے۔ رب تیرا خدا تجھے اُس ملک میں برکت دے گا جو وہ تجھے دینے والا ہے۔~swجب تیرے دشمن تجھ پر حملہ کریں گے تو وہ رب کی مدد سے شکست کھائیں گے۔ گو وہ مل کر تجھ پر حملہ کریں توبھی تُو اُنہیں چاروں طرف منتشر کر دے گا۔ @@cyA رب تجھے قوموں کی دُم نہیں بلکہ اُن کا سر بنائے گا۔ تُو ترقی کرتا جائے گا اور زوال کا شکار نہیں ہو گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ تُو رب اپنے خدا کے وہ احکام مان کر اُن پر عمل کرے جو مَیں تجھے آج دے رہا ہوں۔,xS رب آسمان کے خزانوں کو کھول کر وقت پر تیری زمین پر بارش برسائے گا۔ وہ تیرے ہر کام میں برکت دے گا۔ تُو بہت سی قوموں کو اُدھار دے گا لیکن کسی کا بھی قرض دار نہیں ہو گا۔%wE رب تجھے بہت اولاد دے گا، تیرے ریوڑ بڑھائے گا اور تجھے کثرت کی فصلیں دے گا۔ یوں وہ تجھے اُس ملک میں برکت دے گا جس کا وعدہ اُس نے قَسم کھا کر تیرے باپ دادا سے کیا۔ F YFeEگھر میں آتے اور وہاں سے نکلتے وقت تجھ پر لعنت ہو گی۔'~Iتیری اولاد پر، تیرے گائےبَیلوں اور بھیڑبکریوں کے بچوں پر اور تیرے کھیتوں پر لعنت ہو گی۔j}Oتیرے ٹوکرے اور آٹا گوندھنے کے تیرے برتن پر لعنت ہو گی۔I| شہر اور دیہات میں تجھ پر لعنت ہو گی۔s{aلیکن اگر تُو رب اپنے خدا کی نہ سنے اور اُس کے اُن تمام احکام پر عمل نہ کرے جو مَیں آج تجھے دے رہا ہوں تو ہر طرح کی لعنت تجھ پر آئے گی۔szaجو کچھ بھی مَیں نے تجھے کرنے کو کہا ہے اُس سے کسی طرح بھی ہٹ کر زندگی نہ گزارنا۔ نہ دیگر معبودوں کی پیروی کرنا، نہ اُن کی خدمت کرنا۔ ##تیرے اوپر آسمان پیتل جیسا سخت ہو گا جبکہ تیرے نیچے زمین لوہے کی مانند ہو گی۔(Kرب تجھے مہلک بیماریوں، بخار اور سوجن سے مارے گا۔ جُھلسانے والی گرمی، کال، پَت روگ اور پھپھوندی تیری فصلیں ختم کرے گی۔ ایسی مصیبتوں کے باعث تُو تباہ ہو جائے گا۔lSرب تجھ میں وبائی بیماریاں پھیلائے گا جن کے سبب سے تجھ میں سے کوئی اُس ملک میں زندہ نہیں رہے گا جس پر تُو ابھی قبضہ کرنے والا ہے۔(Kاگر تُو غلط کام کر کے رب کو چھوڑے تو جو کچھ بھی تُو کرے وہ تجھ پر لعنتیں، پریشانیاں اور مصیبتیں آنے دے گا۔ تب تیرا جلدی سے ستیاناس ہو گا، اور تُو ہلاک ہو جائے گا۔ 7C7?yرب تجھے اُن ہی پھوڑوں سے مارے گا جو مصریوں کو نکلے تھے۔ ایسے جِلدی امراض پھیلیں گے جن کا علاج نہیں ہے۔*Oپرندے اور جنگلی جانور تیری لاشوں کو کھا جائیں گے، اور اُنہیں بھگانے والا کوئی نہیں ہو گا۔)جب تُو اپنے دشمنوں کا سامنا کرے تو رب تجھے شکست دلائے گا۔ گو تُو مل کر اُن کی طرف بڑھے گا توبھی اُن سے بھاگ کر چاروں طرف منتشر ہو جائے گا۔ دنیا کے تمام ممالک میں لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے جب وہ تیری مصیبتیں دیکھیں گے۔9mبارش کی جگہ رب تیرے ملک پر گرد اور ریت برسائے گا جو آسمان سے تیرے ملک پر چھا کر تجھے برباد کر دے گی۔ `U %تیری منگنی کسی عورت سے ہو گی تو کوئی اَور آ کر اُس کی عصمت دری کرے گا۔ تُو اپنے لئے گھر بنائے گا لیکن اُس میں نہیں رہے گا۔ تُو اپنے لئے انگور کا باغ لگائے گا لیکن اُس کا پھل نہیں کھائے گا۔G  دوپہر کے وقت بھی تُو اندھے کی طرح ٹٹول ٹٹول کر پھرے گا۔ جو کچھ بھی تُو کرے اُس میں ناکام رہے گا۔ روز بہ روز لوگ تجھے دباتے اور لُوٹتے رہیں گے، اور تجھے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔3تُو پاگل پن کا شکار ہو جائے گا، رب تجھے اندھا پن اور ذہنی ابتری میں مبتلا کر دے گا۔ )j)c A!ایک اجنبی قوم تیری زمین کی پیداوار اور تیری محنت و مشقت کی کمائی لے جائے گی۔ تجھے عمر بھر ظلم اور دباؤ برداشت کرنا پڑے گا۔V ' تیرے بیٹے بیٹیوں کو کسی دوسری قوم کو دیا جائے گا، اور تُو کچھ نہیں کر سکے گا۔ روز بہ روز تُو اپنے بچوں کے انتظار میں اُفق کو تکتا رہے گا، لیکن دیکھتے دیکھتے تیری آنکھیں دُھندلا جائیں گی۔ تیرے دیکھتے دیکھتے تیرا بَیل ذبح کیا جائے گا، لیکن تُو اُس کا گوشت نہیں کھائے گا۔ تیرا گدھا تجھ سے چھین لیا جائے گا اور واپس نہیں کیا جائے گا۔ تیری بھیڑبکریاں دشمن کو دی جائیں گی، اور اُنہیں چھڑانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ &~=&!%جس جس قوم میں رب تجھے ہانک دے گا وہاں تجھے دیکھ کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور وہ تیرا مذاق اُڑائیں گے۔ تُو اُن کے لئے عبرت انگیز مثال ہو گا۔E$رب تجھے اور تیرے مقرر کئے ہوئے بادشاہ کو ایک ایسے ملک میں لے جائے گا جس سے نہ تُو اور نہ تیرے باپ دادا واقف تھے۔ وہاں تُو دیگر معبودوں یعنی لکڑی اور پتھر کے بُتوں کی خدمت کرے گا۔tc#رب تجھے تکلیف دہ اور لاعلاج پھوڑوں سے مارے گا جو تلوے سے لے کر چاندی تک پورے جسم پر پھیل کر تیرے گھٹنوں اور ٹانگوں کو متاثر کریں گے۔y"جو ہول ناک باتیں تیری آنکھیں دیکھیں گی اُن سے تُو پاگل ہو جائے گا۔ zPYczeE)تیرے بیٹے بیٹیاں تو ہوں گے، لیکن تُو اُن سے محروم ہو جائے گا۔ کیونکہ اُنہیں گرفتار کر کے کسی اجنبی ملک میں لے جایا جائے گا۔r_(گو تیرے پورے ملک میں زیتون کے درخت ہوں گے توبھی تُو اُن کا تیل استعمال نہیں کر سکے گا، کیونکہ زیتون خراب ہو کر زمین پر گر جائیں گے۔sa'تُو انگور کے باغ لگا کر اُن پر خوب محنت کرے گا لیکن نہ اُن کے انگور توڑے گا، نہ اُن کی مَے پیئے گا، کیونکہ کیڑے اُنہیں کھا جائیں گے۔,S&تُو اپنے کھیتوں میں بہت بیج بونے کے باوجود کم ہی فصل کاٹے گا، کیونکہ ٹڈے اُسے کھا جائیں گے۔ )M.یوں یہ ہمیشہ تک تیرے اور تیری اولاد کے لئے ایک معجزانہ اور عبرت انگیز الٰہی نشان رہیں گی۔/-یہ تمام لعنتیں تجھ پر آن پڑیں گی۔ جب تک تُو تباہ نہ ہو جائے وہ تیرا تعاقب کرتی رہیں گی، کیونکہ تُو نے رب اپنے خدا کی نہ سنی اور اُس کے احکام پر عمل نہ کیا۔mU,اُس کے پاس تجھے اُدھار دینے کے لئے پیسے ہوں گے جبکہ تیرے پاس اُسے اُدھار دینے کو کچھ نہیں ہو گا۔ آخر میں وہ سر اور تُو دُم ہو گا۔&G+تیرے درمیان رہنے والا پردیسی تجھ سے بڑھ کر ترقی کرتا جائے گا جبکہ تجھ پر زوال آ جائے گا۔}u*ٹڈیوں کے غول تیرے ملک کے تمام درختوں اور فصلوں پر قبضہ کر لیں گے۔ he h2وہ سخت قوم ہو گی جو نہ بزرگوں کا لحاظ کرے گی اور نہ بچوں پر رحم کرے گی۔#1رب تیرے خلاف ایک قوم کھڑی کرے گا جو دُور سے بلکہ دنیا کی انتہا سے آ کر عقاب کی طرح تجھ پر جھپٹا مارے گی۔ وہ ایسی زبان بولے گی جس سے تُو واقف نہیں ہو گا۔X+0اِس لئے تُو اُن دشمنوں کی خدمت کرے گا جنہیں رب تیرے خلاف بھیجے گا۔ تُو بھوکا، پیاسا، ننگا اور ہر چیز کا حاجت مند ہو گا، اور رب تیری گردن پر لوہے کا جوا رکھ کر تجھے مکمل تباہی تک لے جائے گا۔)/چونکہ تُو نے دلی خوشی سے اُس وقت رب اپنے خدا کی خدمت نہ کی جب تیرے پاس سب کچھ تھا JIJ{!q5جب دشمن تیرے شہروں کا محاصرہ کرے گا تو تُو اُن میں اِتنا شدید بھوکا ہو جائے گا کہ اپنے بچوں کو کھا لے گا جو رب تیرے خدا نے تجھے دیئے ہیں۔i M4دشمن تیرے ملک کے تمام شہروں کا محاصرہ کرے گا۔ آخرکار جن اونچی اور مضبوط فصیلوں پر تُو اعتماد کرے گا وہ بھی سب گر پڑیں گی۔ دشمن اُس ملک کا کوئی بھی شہر نہیں چھوڑے گا جو رب تیرا خدا تجھے دینے والا ہے۔F3وہ تیرے مویشی اور فصلیں کھا جائے گی اور تُو بھوکوں مر جائے گا۔ تُو ہلاک ہو جائے گا، کیونکہ تیرے لئے کچھ نہیں بچے گا، نہ اناج، نہ مَے، نہ تیل، نہ گائےبَیلوں یا بھیڑبکریوں کے بچے۔ l6lF#7محاصرے کے دوران تم میں سے سب سے شریف اور شائستہ آدمی بھی اپنے بچے کو ذبح کر کے کھائے گا، کیونکہ اُس کے پاس کوئی اَور خوراک نہیں ہو گی۔ اُس کی حالت اِتنی بُری ہو گی کہ وہ اُسے اپنے سگے بھائی، بیوی یا باقی بچوں کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔F"6محاصرے کے دوران تم میں سے سب سے شریف اور شائستہ آدمی بھی اپنے بچے کو ذبح کر کے کھائے گا، کیونکہ اُس کے پاس کوئی اَور خوراک نہیں ہو گی۔ اُس کی حالت اِتنی بُری ہو گی کہ وہ اُسے اپنے سگے بھائی، بیوی یا باقی بچوں کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔ $y8تم میں سے سب سے شریف اور شائستہ عورت بھی ایسا ہی کرے گی، اگرچہ پہلے وہ اِتنی نازک تھی کہ فرش کو اپنے تلوے سے چھونے کی جرٲت نہیں کرتی تھی۔ محاصرے کے دوران اُسے اِتنی شدید بھوک ہو گی کہ جب اُس کے بچہ پیدا ہو گا تو وہ چھپ چھپ کر اُسے کھائے گی۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ پیدائش کے وقت بچے کے ساتھ خارج ہوئی آلائش بھی کھائے گی اور اُسے اپنے شوہر یا اپنے باقی بچوں میں بانٹنے کے لئے تیار نہیں ہو گی۔ اِتنی مصیبت تجھ پر محاصرے کے دوران آئے گی۔ %y9تم میں سے سب سے شریف اور شائستہ عورت بھی ایسا ہی کرے گی، اگرچہ پہلے وہ اِتنی نازک تھی کہ فرش کو اپنے تلوے سے چھونے کی جرٲت نہیں کرتی تھی۔ محاصرے کے دوران اُسے اِتنی شدید بھوک ہو گی کہ جب اُس کے بچہ پیدا ہو گا تو وہ چھپ چھپ کر اُسے کھائے گی۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ پیدائش کے وقت بچے کے ساتھ خارج ہوئی آلائش بھی کھائے گی اور اُسے اپنے شوہر یا اپنے باقی بچوں میں بانٹنے کے لئے تیار نہیں ہو گی۔ اِتنی مصیبت تجھ پر محاصرے کے دوران آئے گی۔ { 5{)=نہ صرف شریعت کی اِس کتاب میں بیان کی ہوئی بیماریاں اور مصیبتیں تجھ پر آئیں گی بلکہ رب اَور بھی تجھ پر بھیجے گا، جب تک کہ تُو ہلاک نہ ہو جائے۔/(Y<جن تمام وباؤں سے تُو مصر میں دہشت کھاتا تھا وہ اب تیرے درمیان پھیل کر تیرے ساتھ چمٹی رہیں گی۔R';ورنہ وہ تجھ اور تیری اولاد میں سخت اور لاعلاج امراض اور ایسی دہشت ناک وبائیں پھیلائے گا جو روکی نہیں جا سکیں گی۔q&]:غرض احتیاط سے شریعت کی اُن تمام باتوں کی پیروی کر جو اِس کتاب میں درج ہیں، اور رب اپنے خدا کے پُرجلال اور بارُعب نام کا خوف ماننا۔ _;_B,@تب رب تجھے دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک تمام قوموں میں منتشر کر دے گا۔ وہاں تُو دیگر معبودوں کی پوجا کرے گا، ایسے دیوتاؤں کی جن سے نہ تُو اور نہ تیرے باپ دادا واقف تھے۔+?جس طرح پہلے رب خوشی سے تمہیں کامیابی دیتا اور تمہاری تعداد بڑھاتا تھا اُسی طرح اب وہ تمہیں برباد اور تباہ کرنے میں خوشی محسوس کرے گا۔ تمہیں زبردستی اُس ملک سے نکالا جائے گا جس پر تُو اِس وقت داخل ہو کر قبضہ کرنے والا ہے۔A*}>اگر تُو رب اپنے خدا کی نہ سنے تو آخرکار تم میں سے بہت کم بچے رہیں گے، گو تم پہلے ستاروں جیسے بےشمار تھے۔ o/YCصبح اُٹھ کر تُو کہے گا، ”کاش شام ہو!“ اور شام کے وقت، ”کاش صبح ہو!“ کیونکہ جو کچھ تُو دیکھے گا اُس سے تیرے دل کو دہشت گھیر لے گی۔./Bتیری جان ہر وقت خطرے میں ہو گی اور تُو دن رات دہشت کھاتے ہوئے مرنے کی توقع کرے گا۔t-cAاُن ممالک میں بھی نہ تُو آرام و سکون پائے گا، نہ تیرے پاؤں جم جائیں گے۔ رب ہونے دے گا کہ تیرا دل تھرتھراتا رہے گا، تیری آنکھیں پریشانی کے باعث دُھندلا جائیں گی اور تیری جان سے اُمید کی ہر کرن جاتی رہے گی۔ I31 cجب اسرائیلی موآب میں تھے تو رب نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اسرائیلیوں کے ساتھ ایک اَور عہد باندھے۔ یہ اُس عہد کے علاوہ تھا جو رب حورب یعنی سینا پر اُن کے ساتھ باندھ چکا تھا۔30aDرب تجھے جہازوں میں بٹھا کر مصر واپس لے جائے گا اگرچہ مَیں نے کہا تھا کہ تُو اُسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھے گا۔ وہاں پہنچ کر تم اپنے دشمنوں سے بات کر کے اپنے آپ کو غلام کے طور پر بیچنے کی کوشش کرو گے، لیکن کوئی بھی تمہیں خریدنا نہیں چاہے گا۔“ hC5ریگستان میں مَیں نے 40 سال تک تمہاری راہنمائی کی۔ اِس دوران نہ تمہارے کپڑے پھٹے اور نہ تمہارے جوتے گھسے۔/4Yمگر افسوس، آج تک رب نے تمہیں نہ سمجھ دار دل عطا کیا، نہ آنکھیں جو دیکھ سکیں یا کان جو سن سکیں۔G3 تم نے اپنی آنکھوں سے وہ بڑی آزمائشیں، الٰہی نشان اور معجزے دیکھے جن کے ذریعے رب نے اپنی قدرت کا اظہار کیا۔2'اِس سلسلے میں موسیٰ نے تمام اسرائیلیوں کو بُلا کر کہا، ”تم نے خود دیکھا کہ رب نے مصر کے بادشاہ فرعون، اُس کے ملازموں اور پورے ملک کے ساتھ کیا کچھ کیا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0:EP[fq| 0 1 2 3 4 5! 6" 7# 8 0 1 2 3 4 5! 6" 7# 8$ 9% :& ;' <( =) >* ?+ @, A- B. C/ D0  1 2 3 4 5 6 7 8  9  :  ;  <  = > ? @ A B C D E F G H I J K L M  N O P Q R S T U  V  W  X  Y  Z [ \ ] ^ _ ` I0I/:Y اِس وقت تم سب رب اپنے خدا کے حضور کھڑے ہو، تمہارے قبیلوں کے سردار، تمہارے بزرگ، نگہبان، مرد، 9 اب احتیاط سے اِس عہد کی تمام شرائط پوری کرو تاکہ تم ہر بات میں کامیاب ہو۔!8=اُن کے ملک پر قبضہ کر کے ہم نے اُسے روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کو میراث میں دیا۔P7پھر ہم یہاں آئے تو حسبون کا بادشاہ سیحون اور بسن کا بادشاہ عوج نکل کر ہم سے لڑنے آئے۔ لیکن ہم نے اُنہیں شکست دی۔x6kنہ تمہارے پاس روٹی تھی، نہ مَے یا مَے جیسی کوئی اَور چیز۔ توبھی رب نے تمہاری ضروریات پوری کیں تاکہ تم سیکھ لو کہ وہی رب تمہارا خدا ہے۔ ]*a2]Q>لیکن مَیں یہ عہد قَسم کھا کر نہ صرف تمہارے ساتھ جو حاضر ہو باندھ رہا ہوں بلکہ تمہاری آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی۔+=Q اِس سے وہ آج اِس کی تصدیق کر رہا ہے کہ تُو اُس کی قوم اور وہ تیرا خدا ہے یعنی وہی بات جس کا وعدہ اُس نے تجھ سے اور تیرے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے کیا تھا۔E< تُو اِس لئے یہاں جمع ہوا ہے کہ رب اپنے خدا کا وہ عہد تسلیم کرے جو وہ آج قَسم کھا کر تیرے ساتھ باندھ رہا ہے۔R; عورتیں اور بچے۔ تیرے درمیان رہنے والے پردیسی بھی لکڑہاروں سے لے کر پانی بھرنے والوں تک تیرے ساتھ یہاں حاضر ہیں۔ O+4OUB%دھیان دو کہ یہاں موجود کوئی بھی مرد، عورت، کنبہ یا قبیلہ رب اپنے خدا سے ہٹ کر دوسری قوموں کے دیوتاؤں کی پوجا نہ کرے۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے درمیان کوئی جڑ پھوٹ کر زہریلا اور کڑوا پھل لائے۔A تم نے اُن کے نفرت انگیز بُت دیکھے جو لکڑی، پتھر، چاندی اور سونے کے تھے۔s@aتم خود جانتے ہو کہ ہم مصر میں کس طرح زندگی گزارتے تھے۔ یہ بھی تمہیں یاد ہے کہ ہم کس طرح مختلف ممالک میں سے گزرتے ہوئے یہاں تک پہنچے۔Q?لیکن مَیں یہ عہد قَسم کھا کر نہ صرف تمہارے ساتھ جو حاضر ہو باندھ رہا ہوں بلکہ تمہاری آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی۔ PDرب کبھی بھی اُسے معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہو گا بلکہ وہ اُسے اپنے غضب اور غیرت کا نشانہ بنائے گا۔ اِس کتاب میں درج تمام لعنتیں اُس پر آئیں گی، اور رب دنیا سے اُس کا نام و نشان مٹا دے گا۔C#تم سب نے وہ لعنتیں سنی ہیں جو رب نافرمانوں پر بھیجے گا۔ توبھی ہو سکتا ہے کہ کوئی اپنے آپ کو رب کی برکت کا وارث سمجھ کر کہے، ”بےشک مَیں اپنی غلط راہوں سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوں، لیکن کوئی بات نہیں۔ مَیں محفوظ رہوں گا۔“ خبردار، ایسی حرکت سے وہ نہ صرف اپنے اوپر بلکہ پورے ملک پر تباہی لائے گا۔ 47'GIچاروں طرف زمین جُھلسی ہوئی اور گندھک اور نمک سے ڈھکی ہوئی نظر آئے گی۔ بیج اُس میں بویا نہیں جائے گا، کیونکہ خود رَو پودوں تک کچھ نہیں اُگے گا۔ تمہارا ملک سدوم، عمورہ، ادمہ اور ضبوئیم کی مانند ہو گا جن کو رب نے اپنے غضب میں تباہ کیا۔yFmمستقبل میں تمہاری اولاد اور دُوردراز ممالک سے آنے والے مسافر اُن مصیبتوں اور امراض کا اثر دیکھیں گے جن سے رب نے ملک کو تباہ کیا ہو گا۔HE وہ اُسے پوری جماعت سے الگ کر کے اُس پر عہد کی وہ تمام لعنتیں لائے گا جو شریعت کی اِس کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ O;U9Kmاِسی لئے اُس کا غضب اِس ملک پر نازل ہوا اور وہ اُس پر وہ تمام لعنتیں لایا جن کا ذکر اِس کتاب میں ہے۔bJ?اُنہوں نے جا کر دیگر معبودوں کی خدمت کی اور اُنہیں سجدہ کیا جن سے وہ پہلے واقف نہیں تھے اور جو رب نے اُنہیں نہیں دیئے تھے۔Iاُنہیں جواب ملے گا، ’وجہ یہ ہے کہ اِس ملک کے باشندوں نے رب اپنے باپ دادا کے خدا کا عہد توڑ دیا جو اُس نے اُنہیں مصر سے نکالتے وقت اُن سے باندھا تھا۔-HUتمام قومیں پوچھیں گی، ’رب نے اِس ملک کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ اُس کے سخت غضب کی کیا وجہ تھی؟‘ = QN مَیں نے تجھے بتایا ہے کہ تیرے لئے کیا کچھ برکت کا اور کیا کچھ لعنت کا باعث ہے۔ جب رب تیرا خدا تجھے تیری غلط حرکتوں کے سبب سے مختلف قوموں میں منتشر کر دے گا تو تُو میری باتیں مان جائے گا۔0M[بہت کچھ پوشیدہ ہے، اور صرف رب ہمارا خدا اُس کا علم رکھتا ہے۔ لیکن اُس نے ہم پر اپنی شریعت کا انکشاف کر دیا ہے۔ لازم ہے کہ ہم اور ہماری اولاد اُس کے فرماں بردار رہیں۔ ?Lyوہ اِتنا غصے ہوا کہ اُس نے اُنہیں جڑ سے اُکھاڑ کر ایک اجنبی ملک میں پھینک دیا جہاں وہ آج تک آباد ہیں۔‘ 'E'R/وہ تجھے تیرے باپ دادا کے ملک میں لائے گا، اور تُو اُس پر قبضہ کرے گا۔ پھر وہ تجھے تیرے باپ دادا سے زیادہ کامیابی بخشے گا، اور تیری تعداد زیادہ بڑھائے گا۔7Qiہاں، رب تیرا خدا تجھے ہر جگہ سے جمع کر کے واپس لائے گا، چاہے تُو سب سے دُور ملک میں کیوں نہ پڑا ہو۔qP]پھر رب تیرا خدا تجھے بحال کرے گا اور تجھ پر رحم کر کے تجھے اُن تمام قوموں سے نکال کر جمع کرے گا جن میں اُس نے تجھے منتشر کر دیا تھا۔O تب تُو اور تیری اولاد رب اپنے خدا کے پاس واپس آئیں گے اور پورے دل و جان سے اُس کی سن کر اُن تمام احکام پر عمل کریں گے جو مَیں آج تجھے دے رہا ہوں۔ 993Uaکیونکہ تُو دوبارہ رب کی سنے گا اور اُس کے تمام احکام کی پیروی کرے گا جو مَیں تجھے آج دے رہا ہوں۔rT_جو لعنتیں رب تیرا خدا تجھ پر لایا تھا اُنہیں وہ اب تیرے دشمنوں پر آنے دے گا، اُن پر جو تجھ سے نفرت رکھتے اور تجھے ایذا پہنچاتے ہیں۔S'ختنہ رب کی قوم کا ظاہری نشان ہے۔ لیکن اُس وقت رب تیرا خدا تیرے اور تیری اولاد کا باطنی ختنہ کرے گا تاکہ تُو اُسے پورے دل و جان سے پیار کرے اور جیتا رہے۔ HgX/ جو احکام مَیں آج تجھے دے رہا ہوں نہ وہ حد سے زیادہ مشکل ہیں، نہ تیری پہنچ سے باہر۔]W5 شرط صرف یہ ہے کہ تُو رب اپنے خدا کی سنے، شریعت میں درج اُس کے احکام پر عمل کرے اور پورے دل و جان سے اُس کی طرف رجوع لائے۔4Vc جو کچھ بھی تُو کرے گا اُس میں رب تجھے بڑی کامیابی بخشے گا، اور تجھے کثرت کی اولاد، مویشی اور فصلیں حاصل ہوں گی۔ کیونکہ جس طرح وہ تیرے باپ دادا کو کامیابی دینے میں خوشی محسوس کرتا تھا اُسی طرح وہ تجھے بھی کامیابی دینے میں خوشی محسوس کرے گا۔ K%KV\'دیکھ، آج مَیں تجھے دو راستے پیش کرتا ہوں۔ ایک زندگی اور خوش حالی کی طرف لے جاتا ہے جبکہ دوسرا موت اور ہلاکت کی طرف۔Y[-کیونکہ یہ کلام تیرے نہایت قریب بلکہ تیرے منہ اور دل میں موجود ہے۔ چنانچہ اُس پر عمل کرنے میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں ہے۔Z} وہ سمندر کے پار بھی نہیں ہیں کہ تُو کہے، ’کون سمندر کو پار کر کے ہمارے لئے یہ احکام لائے گا تاکہ ہم اُنہیں سن سکیں اور اُن پر عمل کر سکیں؟‘uYe وہ آسمان پر نہیں ہیں کہ تُو کہے، ’کون آسمان پر چڑھ کر ہمارے لئے یہ احکام نیچے لے آئے تاکہ ہم اُنہیں سن سکیں اور اُن پر عمل کر سکیں؟‘ FF?_yتو تم ضرور تباہ ہو جاؤ گے۔ آج مَیں اعلان کرتا ہوں کہ اِس صورت میں تم زیادہ دیر اُس ملک میں آباد نہیں رہو گے جس میں تُو دریائے یردن کو پار کر کے داخل ہو گا تاکہ اُس پر قبضہ کرے۔|^sلیکن اگر تیرا دل اِس راستے سے ہٹ کر نافرمانی کرے تو برکت کی توقع نہ کر۔ اگر تُو آزمائش میں پڑ کر دیگر معبودوں کو سجدہ اور اُن کی خدمت کرےs]aآج مَیں تجھے حکم دیتا ہوں کہ رب اپنے خدا کو پیار کر، اُس کی راہوں پر چل اور اُس کے احکام کے تابع رہ۔ پھر تُو زندہ رہ کر ترقی کرے گا، اور رب تیرا خدا تجھے اُس ملک میں برکت دے گا جس میں تُو داخل ہونے والا ہے۔ Vb )موسیٰ نے جا کر تمام اسرائیلیوں سے مزید کہا،aرب اپنے خدا کو پیار کر، اُس کی سن اور اُس سے لپٹا رہ۔ کیونکہ وہی تیری زندگی ہے اور وہی کرے گا کہ تُو دیر تک اُس ملک میں جیتا رہے گا جس کا وعدہ اُس نے قَسم کھا کر تیرے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے کیا تھا۔“ Z`/آج آسمان اور زمین تمہارے خلاف میرے گواہ ہیں کہ مَیں نے تمہیں زندگی اور برکتوں کا راستہ اور موت اور لعنتوں کا راستہ پیش کیا ہے۔ اب زندگی کا راستہ اختیار کر تاکہ تُو اور تیری اولاد زندہ رہے۔ [e1رب وہاں کے لوگوں کو بالکل اُسی طرح تباہ کرے گا جس طرح وہ اموریوں کو اُن کے بادشاہوں سیحون اور عوج سمیت تباہ کر چکا ہے۔edEرب تیرا خدا خود تیرے آگے آگے جا کر یردن کو پار کرے گا۔ وہی تیرے آگے آگے اِن قوموں کو تباہ کرے گا تاکہ تُو اُن کے ملک پر قبضہ کر سکے۔ دریا کو پار کرتے وقت یشوع تیرے آگے چلے گا جس طرح رب نے فرمایا ہے۔ycm”اب مَیں 120 سال کا ہو چکا ہوں۔ میرا چلنا پھرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اور ویسے بھی رب نے مجھے بتایا ہے، ’تُو دریائے یردن کو پار نہیں کرے گا۔‘ X:@XdhCاِس کے بعد موسیٰ نے تمام اسرائیلیوں کے سامنے یشوع کو بُلایا اور اُس سے کہا، ”مضبوط اور دلیر ہو، کیونکہ تُو اِس قوم کو اُس ملک میں لے جائے گا جس کا وعدہ رب نے قَسم کھا کر اُن کے باپ دادا سے کیا تھا۔ لازم ہے کہ تُو ہی اُسے تقسیم کر کے ہر قبیلے کو اُس کا موروثی علاقہ دے۔vggمضبوط اور دلیر ہو۔ اُن سے خوف نہ کھاؤ، کیونکہ رب تیرا خدا تیرے ساتھ چلتا ہے۔ وہ تجھے کبھی نہیں چھوڑے گا، تجھے کبھی ترک نہیں کرے گا۔“Bfرب تمہیں اُن پر غالب آنے دے گا۔ اُس وقت تمہیں اُن کے ساتھ ویسا سلوک کرنا ہے جیسا مَیں نے تمہیں بتایا ہے۔ A Ak' ”ہر سات سال کے بعد اِس شریعت کی تلاوت کرنا، یعنی بحالی کے سال میں جب تمام قرض منسوخ کئے جاتے ہیں۔ تلاوت اُس وقت کرنا ہے جب اسرائیلی جھونپڑیوں کی عید کے لئے رب اپنے خدا کے سامنے اُس جگہ حاضر ہوں گے جو وہ مقدِس کے لئے چنے گا۔.jW موسیٰ نے یہ پوری شریعت لکھ کر اسرائیل کے تمام بزرگوں اور لاوی کے قبیلے کے اُن اماموں کے سپرد کی جو سفر کرتے وقت عہد کا صندوق اُٹھا کر لے چلتے تھے۔ اُس نے اُن سے کہا،oiYرب خود تیرے آگے آگے چلتے ہوئے تیرے ساتھ ہو گا۔ وہ تجھے کبھی نہیں چھوڑے گا، تجھے کبھی نہیں ترک کرے گا۔ خوف نہ کھانا، نہ گھبرانا۔“ 9f9)mM تمام لوگوں کو مردوں، عورتوں، بچوں اور پردیسیوں سمیت وہاں جمع کرنا تاکہ وہ سن کر سیکھیں، رب تمہارے خدا کا خوف مانیں اور احتیاط سے اِس شریعت کی باتوں پر عمل کریں۔l' ”ہر سات سال کے بعد اِس شریعت کی تلاوت کرنا، یعنی بحالی کے سال میں جب تمام قرض منسوخ کئے جاتے ہیں۔ تلاوت اُس وقت کرنا ہے جب اسرائیلی جھونپڑیوں کی عید کے لئے رب اپنے خدا کے سامنے اُس جگہ حاضر ہوں گے جو وہ مقدِس کے لئے چنے گا۔ ubp?تو رب خیمے کے دروازے پر بادل کے ستون میں ظاہر ہوا۔Roرب نے موسیٰ سے کہا، ”اب تیری موت قریب ہے۔ یشوع کو بُلا کر اُس کے ساتھ ملاقات کے خیمے میں حاضر ہو جا۔ وہاں مَیں اُسے اُس کی ذمہ داریاں سونپوں گا۔“ موسیٰ اور یشوع آ کر خیمے میں حاضر ہوئے1n] لازم ہے کہ اُن کی اولاد جو اِس شریعت سے ناواقف ہے اِسے سنے اور سیکھے تاکہ عمر بھر اُس ملک میں رب تمہارے خدا کا خوف مانے جس پر تم دریائے یردن کو پار کر کے قبضہ کرو گے۔“ g>rwپھر میرا غضب اُن پر بھڑکے گا۔ مَیں اُنہیں چھوڑ کر اپنا چہرہ اُن سے چھپا لوں گا۔ تب اُنہیں کچا چبا لیا جائے گا اور بہت ساری ہیبت ناک مصیبتیں اُن پر آئیں گی۔ اُس وقت وہ کہیں گے، ’کیا یہ مصیبتیں اِس وجہ سے ہم پر نہیں آئیں کہ رب ہمارے ساتھ نہیں ہے؟‘q%اُس نے موسیٰ سے کہا، ”تُو جلد ہی مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملے گا۔ لیکن یہ قوم ملک میں داخل ہونے پر زنا کر کے اُس کے اجنبی دیوتاؤں کی پیروی کرنے لگ جائے گی۔ وہ مجھے ترک کر کے وہ عہد توڑ دے گی جو مَیں نے اُن کے ساتھ باندھا ہے۔ ,,Btاب ذیل کا گیت لکھ کر اسرائیلیوں کو یوں سکھاؤ کہ وہ زبانی یاد رہے اور میرے لئے اُن کے خلاف گواہی دیا کرے۔ sاور ایسا ہی ہو گا۔ مَیں ضرور اپنا چہرہ اُن سے چھپائے رکھوں گا، کیونکہ دیگر معبودوں کے پیچھے چلنے سے اُنہوں نے ایک نہایت شریر قدم اُٹھایا ہو گا۔offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|X]aflrvy !" # $%X]aflrvy !" # $%&'(!)#*$+%,)-,.//1052:3>4B5D6G7K8N9R:U;X<\=_>b?e@hAkBmCpDrEtGuHyI}KLMN OPQRST#U'V+W.X2Y6Z;[>\B^E_H`LaObRcVdZe^fbgfhiikjnkqltmwnzo}pqrs uvwxyz{"|(}-~/246:=ADGIJMP Xu+کیونکہ مَیں اُنہیں اُس ملک میں لے جا رہا ہوں جس کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اُن کے باپ دادا سے کیا تھا، اُس ملک میں جس میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے۔ وہاں اِتنی خوراک ہو گی کہ اُن کی بھوک جاتی رہے گی اور وہ موٹے ہو جائیں گے۔ لیکن پھر وہ دیگر معبودوں کے پیچھے لگ جائیں گے اور اُن کی خدمت کریں گے۔ وہ مجھے رد کریں گے اور میرا عہد توڑیں گے۔ lTy#جب موسیٰ نے پوری شریعت کو کتاب میں لکھ لیاIT^it$/:EP[fq|  b c d e f g h i  j  b c d e f g h i  j  k  l  m  n o p q r s t u v w x y z { | } ~                                                                    !  "  #  $  %  &  ' nDCnQ میری تعلیم بوندا باندی جیسی ہو، میری بات شبنم کی طرح زمین پر پڑ جائے۔ وہ بارش کی مانند ہو جو ہریالی پر برستی ہے۔a ? اے آسمان، میری بات پر غور کر! اے زمین، میرا گیت سن!-پھر موسیٰ نے اسرائیل کی تمام جماعت کے سامنے یہ گیت شروع سے لے کر آخر تک پیش کیا، 8~kکیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میری موت کے بعد تم ضرور بگڑ جاؤ گے اور اُس راستے سے ہٹ جاؤ گے جس پر چلنے کی مَیں نے تمہیں تاکید کی ہے۔ آخرکار تم پر مصیبت آئے گی، کیونکہ تم وہ کچھ کرو گے جو رب کو بُرا لگتا ہے، تم اپنے ہاتھوں کے کام سے اُسے غصہ دلاؤ گے۔“ jO اے میری احمق اور بےسمجھ قوم، کیا تمہارا رب سے ایسا رویہ ٹھیک ہے؟ وہ تو تمہارا باپ اور خالق ہے، جس نے تمہیں بنایا اور قائم کیا۔'I ایک ٹیڑھی اور کج رَو نسل نے اُس کا گناہ کیا۔ وہ اُس کے فرزند نہیں بلکہ داغ ثابت ہوئے ہیں۔q] وہ چٹان ہے، اور اُس کا کام کامل ہے۔ اُس کی تمام راہیں راست ہیں۔ وہ وفادار خدا ہے جس میں فریب نہیں ہے بلکہ جو عادل اور دیانت دار ہے۔nW مَیں رب کا نام پکاروں گا۔ ہمارے خدا کی عظمت کی تمجید کرو! 66~w کیونکہ رب کا حصہ اُس کی قوم ہے، یعقوب کو اُس نے میراث میں پایا ہے۔=u جب اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کو اُس کا اپنا اپنا موروثی علاقہ دے کر تمام انسانوں کو مختلف گروہوں میں الگ کر دیا تو اُس نے قوموں کی سرحدیں اسرائیلیوں کی تعداد کے مطابق مقرر کیں۔ قدیم زمانے کو یاد کرنا، ماضی کی نسلوں پر توجہ دینا۔ اپنے باپ سے پوچھنا تو وہ تجھے بتا دے گا، اپنے بزرگوں سے پتا کرنا تو وہ تجھے اطلاع دیں گے۔ yy} u رب نے اکیلے ہی اُس کی راہنمائی کی۔ کسی اجنبی معبود نے شرکت نہ کی۔. W جب عقاب اپنے بچوں کو اُڑنا سکھاتا ہے تو وہ اُنہیں گھونسلے سے نکال کر اُن کے ساتھ اُڑتا ہے۔ اگر وہ گر بھی جائیں تو وہ حاضر ہے اور اُن کے نیچے اپنے پَروں کو پھیلا کر اُنہیں زمین سے ٹکرا جانے سے بچاتا ہے۔ رب کا اسرائیل کے ساتھ یہی سلوک تھا۔Q  یہ قوم اُسے ریگستان میں مل گئی، ویران و سنسان بیابان میں جہاں چاروں طرف ہول ناک آوازیں گونجتی تھیں۔ اُس نے اُسے گھیر کر اُس کی دیکھ بھال کی، اُسے اپنی آنکھ کی پُتلی کی طرح بچائے رکھا۔ RR8k لیکن جب یسورون موٹا ہو گیا تو وہ دولتّیاں جھاڑنے لگا۔ جب وہ حلق تک بھر کر تنومند اور فربہ ہوا تو اُس نے اپنے خدا اور خالق کو رد کیا، اُس نے اپنی نجات کی چٹان کو حقیر جانا۔a = اُس نے اُسے گائے کی لسی اور بھیڑبکری کا دودھ چیدہ بھیڑ کے بچوں سمیت کھلایا اور اُسے بسن کے موٹے تازے مینڈھے، بکرے اور بہترین اناج عطا کیا۔ اُس وقت تُو اعلیٰ انگور کی عمدہ مَے سے لطف اندوز ہوا۔   اُس نے اُسے رتھ پر سوار کر کے ملک کی بلندیوں پر سے گزرنے دیا اور اُسے کھیت کا پھل کھلا کر اُسے چٹان سے شہد اور سخت پتھر سے زیتون کا تیل مہیا کیا۔  I"  رب نے یہ دیکھ کر اُنہیں رد کیا، کیونکہ وہ اپنے بیٹے بیٹیوں سے ناراض تھا۔ تُو وہ چٹان بھول گیا جس نے تجھے پیدا کیا، وہی خدا جس نے تجھے جنم دیا۔#A اُنہوں نے بدروحوں کو قربانیاں پیش کیں جو خدا نہیں ہیں، ایسے معبودوں کو جن سے نہ وہ اور نہ اُن کے باپ دادا واقف تھے، کیونکہ وہ تھوڑی دیر پہلے وجود میں آئے تھے۔3a اپنے اجنبی معبودوں سے اُنہوں نے اُس کی غیرت کو جوش دلایا، اپنے گھنونے بُتوں سے اُسے غصہ دلایا۔ ue کیونکہ میرے غصے سے آگ بھڑک اُٹھی ہے جو پاتال کی تہہ تک پہنچے گی اور زمین اور اُس کی پیداوار ہڑپ کر کے پہاڑوں کی بنیادوں کو جلا دے گی۔8k اُنہوں نے اُس کی پرستش سے جو خدا نہیں ہے میری غیرت کو جوش دلایا، اپنے بےکار بُتوں سے مجھے غصہ دلایا ہے۔ چنانچہ مَیں خود ہی اُنہیں غیرت دلاؤں گا، ایک ایسی قوم کے ذریعے جو حقیقت میں قوم نہیں ہے۔ ایک نادان قوم کے ذریعے مَیں اُنہیں غصہ دلاؤں گا۔+Q اُس نے کہا، ”مَیں اپنا چہرہ اُن سے چھپا لوں گا۔ پھر پتا لگے گا کہ میرے بغیر اُن کا کیا انجام ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ سراسر بگڑ گئے ہیں، اُن میں وفاداری پائی نہیں جاتی۔ sa\4c مجھے کہنا چاہئے تھا کہ مَیں اُنہیں چِکنا چُور کر کے انسانوں میں سے اُن کا نام و نشان مٹا دوں گا۔} باہر تلوار اُنہیں بےاولاد کر دے گی، اور گھر میں دہشت پھیل جائے گی۔ شیرخوار بچے، نوجوان لڑکے لڑکیاں اور بزرگ سب اُس کی گرفت میں آ جائیں گے۔ بھوک کے مارے اُن کی طاقت جاتی رہے گی، اور وہ بخار اور وبائی امراض کا لقمہ بنیں گے۔ مَیں اُن کے خلاف پھاڑنے والے جانور اور زہریلے سانپ بھیج دوں گا۔   مَیں اُن پر مصیبت پر مصیبت آنے دوں گا اور اپنے تمام تیر اُن پر چلاؤں گا۔ .>X. ہمارے دشمن خود مانتے ہیں کہ اسرائیل کی چٹان ہماری چٹان جیسی نہیں ہے۔7 کیونکہ دشمن کا ایک آدمی کس طرح ہزار اسرائیلیوں کا تعاقب کر سکتا ہے؟ اُس کے دو مرد کس طرح دس ہزار اسرائیلیوں کو بھگا سکتے ہیں؟ وجہ صرف یہ ہے کہ اُن کی چٹان نے اُنہیں دشمن کے ہاتھ بیچ دیا۔ رب نے خود اُنہیں دشمن کے قبضے میں کر دیا۔  کاش وہ دانش مند ہو کر یہ بات سمجھیں! کاش وہ جان لیں کہ اُن کا کیا انجام ہے۔S! کیونکہ یہ قوم بےسمجھ اور حکمت سے خالی ہے۔>w لیکن اندیشہ تھا کہ دشمن غلط مطلب نکال کر کہے، ’ہم خود اُن پر غالب آئے، اِس میں رب کا ہاتھ نہیں ہے‘۔“ CIR,Ce#E $یقیناً رب اپنی قوم کا انصاف کرے گا۔ وہ اپنے خادموں پر ترس کھائے گا جب دیکھے گا کہ اُن کی طاقت جاتی رہی ہے اور کوئی نہیں بچا۔""? #انتقام لینا میرا ہی کام ہے، مَیں ہی بدلہ لوں گا۔ ایک وقت آئے گا کہ اُن کا پاؤں پھسلے گا۔ کیونکہ اُن کی تباہی کا دن قریب ہے، اُن کا اُنجام جلد ہی آنے والا ہے۔“,!S "رب فرماتا ہے، ”کیا مَیں نے اِن باتوں پر مُہر لگا کر اُنہیں اپنے خزانے میں محفوظ نہیں رکھا؟D  !اُن کی مَے سانپوں کا مہلک زہر ہے۔3a اُن کی بیل تو سدوم کی بیل اور عمورہ کے باغ سے ہے، اُن کے انگور زہریلے اور اُن کے گُچھے کڑوے ہیں۔ idki'% (مَیں اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر اعلان کرتا ہوں کہ میری ابدی حیات کی قَسم،e&E 'اب جان لو کہ مَیں اور صرف مَیں خدا ہوں۔ میرے سوا کوئی اَور خدا نہیں ہے۔ مَیں ہی ہلاک کرتا اور مَیں ہی زندہ کر دیتا ہوں۔ مَیں ہی زخمی کرتا اور مَیں ہی شفا دیتا ہوں۔ کوئی میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا۔u%e &وہ دیوتا کہاں ہیں جنہوں نے اُن کے بہترین جانور کھائے اور اُن کی مَے کی نذریں پی لیں۔ وہ تمہاری مدد کے لئے اُٹھیں اور تمہیں پناہ دیں۔$+ %اُس وقت وہ پوچھے گا، ”اب اُن کے دیوتا کہاں ہیں، وہ چٹان جس کی پناہ اُنہوں نے لی؟ t tx+k ,موسیٰ اور یشوع بن نون نے آ کر اسرائیلیوں کو یہ پورا گیت سنایا۔*/ +اے دیگر قومو، اُس کی اُمّت کے ساتھ خوشی مناؤ! کیونکہ وہ اپنے خادموں کے خون کا انتقام لے گا۔ وہ اپنے مخالفوں سے بدلہ لے کر اپنے ملک اور قوم کا کفارہ دے گا۔u)e *میرے تیر خون پی پی کر نشے میں دُھت ہو جائیں گے، میری تلوار مقتولوں اور قیدیوں کے خون اور دشمن کے سرداروں کے سروں سے سیر ہو جائے گی۔“v(g )جب مَیں اپنی چمکتی ہوئی تلوار کو تیز کر کے عدالت کے لئے پکڑ لوں گا تو اپنے مخالفوں سے انتقام اور اپنے نفرت کرنے والوں سے بدلہ لوں گا۔ D/.Y /یہ خالی باتیں نہیں بلکہ تمہاری زندگی کا سرچشمہ ہیں۔ اِن کے مطابق چلنے کے باعث تم دیر تک اُس ملک میں جیتے رہو گے جس پر تم دریائے یردن کو پار کر کے قبضہ کرنے والے ہو۔“Z-/ .پھر موسیٰ نے اُن سے کہا، ”آج مَیں نے تمہیں اِن تمام باتوں سے آگاہ کیا ہے۔ لازم ہے کہ وہ تمہارے دلوں میں بیٹھ جائیں۔ اپنی اولاد کو بھی حکم دو کہ احتیاط سے اِس شریعت کی تمام باتوں پر عمل کرے۔Z,/ -پھر موسیٰ نے اُن سے کہا، ”آج مَیں نے تمہیں اِن تمام باتوں سے آگاہ کیا ہے۔ لازم ہے کہ وہ تمہارے دلوں میں بیٹھ جائیں۔ اپنی اولاد کو بھی حکم دو کہ احتیاط سے اِس شریعت کی تمام باتوں پر عمل کرے۔ 0qq0=2u 3کیونکہ تم دونوں اسرائیلیوں کے رُوبرُو بےوفا ہوئے۔ جب تم دشتِ صین میں قادِس کے قریب تھے اور مریبہ کے چشمے پر اسرائیلیوں کے سامنے کھڑے تھے تو تم نے میری قدوسیت قائم نہ رکھی۔|1s 2اِس کے بعد تُو وہاں مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملے گا، بالکل اُسی طرح جس طرح تیرا بھائی ہارون حور پہاڑ پر مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا ہے۔P0 1”پہاڑی سلسلے عباریم کے پہاڑ نبو پر چڑھ جا جو یریحو کے سامنے لیکن یردن کے مشرقی کنارے پر یعنی موآب کے ملک میں ہے۔ وہاں سے کنعان پر نظر ڈال، اُس ملک پر جو مَیں اسرائیلیوں کو دے رہا ہوں۔8/m 0اُسی دن رب نے موسیٰ سے کہا، -k[61!یقیناً وہ قوموں سے محبت کرتا ہے، تمام مُقدّسین تیرے ہاتھ میں ہیں۔ وہ تیرے پاؤں کے سامنے جھک کر تجھ سے ہدایت پاتے ہیں۔N5!کہا، ”رب سینا سے آیا، سعیر سے اُس کا نور اُن پر طلوع ہوا۔ وہ کوہِ فاران سے روشنی پھیلا کر رِببوت قادس سے آیا، وہ اپنے جنوبی علاقے سے روانہ ہو کر اُن کی خاطر پہاڑی ڈھلانوں کے پاس آیا۔m4 W!مرنے سے پیشتر مردِ خدا موسیٰ نے اسرائیلیوں کو برکت دے کرO3 4اِس سبب سے تُو وہ ملک صرف دُور سے دیکھے گا جو مَیں اسرائیلیوں کو دے رہا ہوں۔ تُو خود اُس میں داخل نہیں ہو گا۔“  r[F ";?!لاوی کی برکت: تیری مرضی معلوم کرنے کے قرعے بنام اُوریم اور تُمیم تیرے وفادار خادم لاوی کے پاس ہوتے ہیں۔ تُو نے اُسے مسّہ میں آزمایا اور مریبہ میں اُس سے لڑا۔:!یہوداہ کی برکت: اے رب، یہوداہ کی پکار سن کر اُسے دوبارہ اُس کی قوم میں شامل کر۔ اُس کے ہاتھ اُس کے لئے لڑیں۔ مخالفوں کا سامنا کرتے وقت اُس کی مدد کر۔9{!روبن کی برکت: روبن مر نہ جائے بلکہ جیتا رہے۔ وہ تعداد میں بڑھ جائے۔8!اسرائیل کے راہنما اپنے قبیلوں سمیت جمع ہوئے تو رب یسورون کا بادشاہ بن گیا۔ 7!موسیٰ نے ہمیں شریعت دی یعنی وہ چیز جو یعقوب کی جماعت کی موروثی ملکیت ہے۔ >!! اے رب، اُس کی طاقت کو بڑھا کر اُس کے ہاتھوں کا کام پسند کر۔ اُس کے مخالفوں کی کمر توڑ اور اُس سے نفرت رکھنے والوں کو ایسا مار کہ آئندہ کبھی نہ اُٹھیں۔t=c! وہ یعقوب کو تیری ہدایات اور اسرائیل کو تیری شریعت سکھا کر تیرے سامنے بخور اور تیری قربان گاہ پر بھسم ہونے والی قربانیاں چڑھاتا ہے۔g<I! اُس نے تیرا کلام سنبھال کر تیرا عہد قائم رکھا، یہاں تک کہ اُس نے نہ اپنے ماں باپ کا، نہ اپنے سگے بھائیوں یا بچوں کا لحاظ کیا۔   |Bs!اُسے قدیم پہاڑوں اور ابدی وادیوں کی بہترین چیزوں سے نوازا جائے۔A!یوسف کو سورج کی بہترین پیداوار اور ہر مہینے کا لذیذترین پھل حاصل ہو۔<@s! یوسف کی برکت: رب اُس کی زمین کو برکت دے۔ آسمان سے قیمتی اوس ٹپکے اور زمین کے نیچے سے چشمے پھوٹ نکلیں۔*?O! بن یمین کی برکت: بن یمین رب کو پیارا ہے۔ وہ سلامتی سے اُس کے پاس رہتا ہے، کیونکہ رب دن رات اُسے پناہ دیتا ہے۔ بن یمین اُس کی پہاڑی ڈھلانوں کے درمیان محفوظ رہتا ہے۔ F(3>IT_ju$/:EP[fq|  +6ALW`jt~   )  *  +  ,  -  .  /  0  1  )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  ! ! ! ! ! ! ! ! !  !  !  !  !  ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! !  " " " " " " " " "  "  "  "                                        RKE!زبولون اور اِشکار کی برکت: اے زبولون، گھر سے نکلتے وقت خوشی منا۔ اے اِشکار، اپنے خیموں میں رہتے ہوئے خوش ہو۔`D;!یوسف سانڈ کے پہلوٹھے جیسا عظیم ہے، اور اُس کے سینگ جنگلی بَیل کے سینگ ہیں جن سے وہ دنیا کی انتہا تک سب قوموں کو مارے گا۔ افرائیم کے بےشمار افراد ایسے ہی ہیں، منسّی کے ہزاروں افراد ایسے ہی ہیں۔FC!زمین کے تمام ذخیرے اُس کے لئے کھل جائیں۔ وہ اُس کو پسند ہو جو جلتی ہوئی جھاڑی میں سکونت کرتا تھا۔ یہ تمام برکتیں یوسف کے سر پر ٹھہریں، اُس کے سر پر جو اپنے بھائیوں میں شہزادہ ہے۔ [H1!اُس نے اپنے لئے سب سے اچھی زمین چن لی، راہنما کا حصہ اُسی کے لئے محفوظ رکھا گیا۔ جب قوم کے راہنما جمع ہوئے تو اُس نے رب کی راست مرضی پوری کی اور اسرائیل کے بارے میں اُس کے فیصلے عمل میں لایا۔bG?!جد کی برکت: مبارک ہے وہ جو جد کا علاقہ وسیع کر دے۔ جد شیرببر کی طرح دبک کر کسی کا بازو یا سر پھاڑ ڈالنے کے لئے تیار رہتا ہے۔'FI!وہ دیگر قوموں کو اپنے پہاڑ پر آنے کی دعوت دیں گے اور وہاں راستی کی قربانیاں پیش کریں گے۔ وہ سمندر کی کثرت اور سمندر کی ریت میں چھپے ہوئے خزانوں کو جذب کر لیں گے۔ ~~L)!تیرے شہروں کے دروازوں کے کنڈے لوہے اور پیتل کے ہوں، تیری طاقت عمر بھر قائم رہے۔yKm!آشر کی برکت: آشر بیٹوں میں سب سے مبارک ہے۔ وہ اپنے بھائیوں کو پسند ہو۔ اُس کے پاس زیتون کا اِتنا تیل ہو کہ وہ اپنے پاؤں اُس میں ڈبو سکے۔|Js!نفتالی کی برکت: نفتالی رب کی منظوری سے سیر ہے، اُسے اُس کی پوری برکت حاصل ہے۔ وہ گلیل کی جھیل اور اُس کے جنوب کا علاقہ میراث میں پائے گا۔Iy!دان کی برکت: دان شیرببر کا بچہ ہے جو بسن سے نکل کر چھلانگ لگاتا ہے۔ 9Om!چنانچہ اسرائیل سلامتی سے زندگی گزارے گا، یعقوب کا چشمہ الگ اور محفوظ رہے گا۔ اُس کی زمین اناج اور انگور کی کثرت پیدا کرے گی، اور اُس کے اوپر آسمان زمین پر اوس پڑنے دے گا۔uNe!ازلی خدا تیری پناہ گاہ ہے، وہ اپنے ازلی بازو تیرے نیچے پھیلائے رکھتا ہے۔ وہ دشمن کو تیرے سامنے سے بھگا کر اُسے ہلاک کرنے کو کہتا ہے۔gMI!یسورون کے خدا کی مانند کوئی نہیں ہے، جو آسمان پر سوار ہو کر، ہاں اپنے جلال میں بادلوں پر بیٹھ کر تیری مدد کرنے کے لئے آتا ہے۔ ::R-"نفتالی کا پورا علاقہ، افرائیم اور منسّی کا علاقہ، یہوداہ کا علاقہ بحیرۂ روم تک،4Q e"یہ برکت دے کر موسیٰ موآب کا میدانی علاقہ چھوڑ کر یریحو کے مقابل نبو پہاڑ پر چڑھ گیا۔ نبو پسگہ کے پہاڑی سلسلے کی ایک چوٹی تھا۔ وہاں سے رب نے اُسے وہ پورا ملک دکھایا جو وہ اسرائیل کو دینے والا تھا یعنی جِلعاد کے علاقے سے لے کر دان کے علاقے تک،mPU!اے اسرائیل، تُو کتنا مبارک ہے۔ کون تیری مانند ہے، جسے رب نے بچایا ہے۔ وہ تیری مدد کی ڈھال اور تیری شان کی تلوار ہے۔ تیرے دشمن شکست کھا کر تیری خوشامد کریں گے، اور تُو اُن کی کمریں پاؤں تلے کچلے گا۔“ CC9Vm"رب نے اُسے بیت فغور کی کسی وادی میں دفن کیا، لیکن آج تک کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اُس کی قبر کہاں ہے۔/UY"اِس کے بعد رب کا خادم موسیٰ وہیں موآب کے ملک میں فوت ہوا، بالکل اُسی طرح جس طرح رب نے کہا تھا۔HT "رب نے اُس سے کہا، ”یہ وہ ملک ہے جس کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے کیا۔ مَیں نے اُن سے کہا تھا کہ اُن کی اولاد کو یہ ملک ملے گا۔ تُو اُس میں داخل نہیں ہو گا، لیکن مَیں تجھے یہاں لے آیا ہوں تاکہ تُو اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔“~Sw"جنوب میں دشتِ نجب اور کھجور کے شہر یریحو کی وادی سے لے کر ضُغر تک۔ G`Z3" اِس کے بعد اسرائیل میں موسیٰ جیسا نبی کبھی نہ اُٹھا جس سے رب رُوبرُو بات کرتا تھا۔fYG" پھر یشوع بن نون موسیٰ کی جگہ کھڑا ہوا۔ وہ حکمت کی روح سے معمور تھا، کیونکہ موسیٰ نے اپنے ہاتھ اُس پر رکھ دیئے تھے۔ اسرائیلیوں نے اُس کی سنی اور وہ کچھ کیا جو رب نے اُنہیں موسیٰ کی معرفت بتایا تھا۔zXo"اسرائیلیوں نے موآب کے میدانی علاقے میں 30 دن تک اُس کا ماتم کیا۔5We"اپنی وفات کے وقت موسیٰ 120 سال کا تھا۔ آخر تک نہ اُس کی آنکھیں دُھندلائیں، نہ اُس کی طاقت کم ہوئی۔ T aT ^ ”میرا خادم موسیٰ فوت ہو گیا ہے۔ اب اُٹھ، اِس پوری قوم کے ساتھ دریائے یردن کو پار کر کے اُس ملک میں داخل ہو جا جو مَیں اسرائیلیوں کو دینے کو ہوں۔$] Gرب کے خادم موسیٰ کی موت کے بعد رب موسیٰ کے مددگار یشوع بن نون سے ہم کلام ہوا۔ اُس نے کہا،d\C" کسی اَور نبی نے اِس قسم کا بڑا اختیار نہ دکھایا، نہ ایسے عظیم اور ہیبت ناک کام کئے جیسے موسیٰ نے اسرائیلیوں کے سامنے کئے۔ [" کسی اَور نبی نے ایسے الٰہی نشان اور معجزے نہیں کئے جیسے موسیٰ نے فرعون بادشاہ، اُس کے ملازموں اور پورے ملک کے سامنے کئے جب رب نے اُسے مصر بھیجا۔ Kdb Eمضبوط اور دلیر ہو، کیونکہ تُو ہی اِس قوم کو میراث میں وہ ملک دے گا جس کا مَیں نے اُن کے باپ دادا سے قَسم کھا کر وعدہ کیا تھا۔"a Aتیرے جیتے جی کوئی تیرا سامنا نہیں کر سکے گا۔ جس طرح مَیں موسیٰ کے ساتھ تھا، اُسی طرح تیرے ساتھ بھی ہوں گا۔ مَیں تجھے کبھی نہیں چھوڑوں گا، نہ تجھے ترک کروں گا۔(` Mتمہارے ملک کی سرحدیں یہ ہوں گی: جنوب میں نجب کا ریگستان، شمال میں لبنان، مشرق میں دریائے فرات اور مغرب میں بحیرۂ روم۔ حِتّی قوم کا پورا علاقہ اِس میں شامل ہو گا۔1_ _جس زمین پر بھی تُو اپنا پاؤں رکھے گا اُسے مَیں موسیٰ کے ساتھ کئے گئے وعدے کے مطابق تجھے دوں گا۔ alMf  پھر یشوع قوم کے نگہبانوں سے مخاطب ہوا،qe _ مَیں پھر کہتا ہوں کہ مضبوط اور دلیر ہو۔ نہ گھبرا اور نہ حوصلہ ہار، کیونکہ جہاں بھی تُو جائے گا وہاں رب تیرا خدا تیرے ساتھ رہے گا۔“Hd  جو باتیں اِس شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں وہ تیرے منہ سے نہ ہٹیں۔ دن رات اُن پر غور کرتا رہ تاکہ تُو احتیاط سے اِس کی ہر بات پر عمل کر سکے۔ پھر تُو ہر کام میں کامیاب اور خوش حال ہو گا۔Oc لیکن خبردار، مضبوط اور بہت دلیر ہو۔ احتیاط سے اُس پوری شریعت پر عمل کر جو میرے خادم موسیٰ نے تجھے دی ہے۔ اُس سے نہ دائیں اور نہ بائیں طرف ہٹنا۔ پھرجہاں کہیں بھی تُو جائے کامیاب ہو گا۔ %2i a ”یہ بات یاد رکھیں جو رب کے خادم موسیٰ نے آپ سے کہی تھی، ’رب تمہارا خدا تم کو دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر کا یہ علاقہ دیتا ہے تاکہ تم یہاں امن و امان کے ساتھ رہ سکو۔‘kh S پھر یشوع روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے سے مخاطب ہوا،ig O ”خیمہ گاہ میں ہر جگہ جا کر لوگوں کو اطلاع دیں کہ سفر کے لئے کھانے کا بندوبست کر لیں۔ کیونکہ تین دن کے بعد آپ دریائے یردن کو پار کر کے اُس ملک پر قبضہ کریں گے جو رب آپ کا خدا آپ کو ورثے میں دے رہا ہے۔“ aJk جب تک رب اُنہیں وہ آرام نہ دے جو آپ کو حاصل ہے اور وہ اُس ملک پر قبضہ نہ کر لیں جو رب آپ کا خدا اُنہیں دے رہا ہے۔ اِس کے بعد ہی آپ کو اپنے اُس علاقے میں واپس جا کر آباد ہونے کی اجازت ہو گی جو رب کے خادم موسیٰ نے آپ کو دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر دیا تھا۔“j 3اب جب ہم دریائے یردن کو پار کر رہے ہیں تو آپ کے بال بچے اور مویشی یہیں رہ سکتے ہیں۔ لیکن لازم ہے کہ آپ کے تمام جنگ کرنے کے قابل مرد مسلح ہو کر اپنے بھائیوں کے آگے آگے دریا کو پار کریں۔ آپ کو اُس وقت تک اپنے بھائیوں کی مدد کرنا ہے ) )pn ]جو بھی آپ کے حکم کی خلاف ورزی کر کے آپ کی وہ تمام باتیں نہ مانے جو آپ فرمائیں گے اُسے سزائے موت دی جائے۔ لیکن مضبوط اور دلیر ہوں!“ m {جس طرح ہم موسیٰ کی ہر بات مانتے تھے اُسی طرح آپ کی بھی ہر بات مانیں گے۔ لیکن رب آپ کا خدا اُسی طرح آپ کے ساتھ ہو جس طرح وہ موسیٰ کے ساتھ تھا۔\l 5اُنہوں نے جواب میں یشوع سے کہا، ”جو بھی حکم آپ نے ہمیں دیا ہے وہ ہم مانیں گے اور جہاں بھی ہمیں بھیجیں گے وہاں جائیں گے۔ S?fSqیہ سن کر بادشاہ نے راحب کو خبر بھیجی، ”اُن آدمیوں کو نکال دو جو تمہارے پاس آ کر ٹھہرے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ پورے ملک کی جاسوسی کرنے کے لئے آئے ہیں۔“Up%لیکن یریحو کے بادشاہ کو اطلاع ملی کہ آج شام کو کچھ اسرائیلی مرد یہاں پہنچ گئے ہیں جو ملک کی جاسوسی کرنا چاہتے ہیں۔=o wپھر یشوع نے چپکے سے دو جاسوسوں کو شِطّیم سے بھیج دیا جہاں اسرائیلی خیمہ گاہ تھی۔ اُس نے اُن سے کہا، ”جا کر ملک کا جائزہ لیں، خاص کر یریحو شہر کا۔“ وہ روانہ ہوئے اور چلتے چلتے ایک کسبی کے گھر پہنچے جس کا نام راحب تھا۔ وہاں وہ رات کے لئے ٹھہر گئے۔ 'tIحقیقت میں راحب نے اُنہیں چھت پر لے جا کر وہاں پر پڑے سَن کے ڈنٹھلوں کے نیچے چھپا دیا تھا۔;sqجب دن ڈھلنے لگا اور شہر کے دروازوں کو بند کرنے کا وقت آ گیا تو وہ چلے گئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ کس طرف گئے۔ اب جلدی کر کے اُن کا پیچھا کریں۔ عین ممکن ہے کہ آپ اُنہیں پکڑ لیں۔“wriلیکن راحب نے دونوں آدمیوں کو چھپا رکھا تھا۔ اُس نے کہا، ”جی، یہ آدمی میرے پاس آئے تو تھے لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ کہاں سے آئے ہیں۔ w اُن سے کہا، ”مَیں جانتی ہوں کہ رب نے یہ ملک آپ کو دے دیا ہے۔ آپ کے بارے میں سن کر ہم پر دہشت چھا گئی ہے، اور ملک کے تمام باشندے ہمت ہار گئے ہیں۔Zv/جاسوسوں کے سو جانے سے پہلے راحب نے چھت پر آ کر^u7راحب کی بات سن کر بادشاہ کے آدمی وہاں سے چلے گئے اور شہر سے نکل کر جاسوسوں کے تعاقب میں اُس راستے پر چلنے لگے جو دریائے یردن کے اُن کم گہرے مقاموں تک لے جاتا ہے جہاں اُسے پیدل عبور کیا جا سکتا تھا۔ اور جوں ہی یہ آدمی نکلے، شہر کا دروازہ اُن کے پیچھے بند کر دیا گیا۔ E*_Ez' اب رب کی قَسم کھا کر مجھ سے وعدہ کریں کہ آپ اُسی طرح میرے خاندان پر مہربانی کریں گے جس طرح کہ مَیں نے آپ پر کی ہے۔ اور ضمانت کے طور پر مجھے کوئی نشان دیںGy  یہ سن کر ہماری ہمت ٹوٹ گئی۔ آپ کے سامنے ہم سب حوصلہ ہار گئے ہیں، کیونکہ رب آپ کا خدا آسمان و زمین کا خدا ہے۔Rx کیونکہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ کے مصر سے نکلتے وقت رب نے بحرِ قُلزم کا پانی کس طرح آپ کے آگے خشک کر دیا۔ یہ بھی ہمارے سننے میں آیا ہے کہ آپ نے دریائے یردن کے مشرق میں رہنے والے دو بادشاہوں سیحون اور عوج کے ساتھ کیا کچھ کیا، کہ آپ نے اُنہیں پوری طرح تباہ کر دیا۔ <}9تب راحب نے شہر سے نکلنے میں اُن کی مدد کی۔ چونکہ اُس کا گھر شہر کی چاردیواری سے ملحق تھا اِس لئے آدمی کھڑکی سے نکل کر رسّے کے ذریعے باہر کی زمین پر اُتر آئے۔|yآدمیوں نے کہا، ”ہم اپنی جانوں کو ضمانت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ آپ محفوظ رہیں گے۔ اگر آپ کسی کو ہمارے بارے میں اطلاع نہ دیں تو ہم آپ سے ضرور مہربانی اور وفاداری سے پیش آئیں گے جب رب ہمیں یہ ملک عطا فرمائے گا۔“@{{ کہ آپ میرے ماں باپ، میرے بہن بھائیوں اور اُن کے گھر والوں کو زندہ چھوڑ کر ہمیں موت سے بچائے رکھیں گے۔“ 'Y'vgکہ آپ ہمارے اِس ملک میں آتے وقت قرمزی رنگ کا یہ رسّا اُس کھڑکی کے سامنے باندھ دیں جس میں سے آپ نے ہمیں اُترنے دیا ہے۔ یہ بھی لازم ہے کہ اُس وقت آپ کے ماں باپ، بھائی بہنیں اور تمام گھر والے آپ کے گھر میں ہوں۔4cآدمیوں نے اُس سے کہا، ”جو قَسم آپ نے ہمیں کھلائی ہے ہم ضرور اُس کے پابند رہیں گے۔ لیکن شرط یہ ہے#~Aاُترنے سے پہلے راحب نے اُنہیں ہدایت کی، ”پہاڑی علاقے کی طرف چلے جائیں۔ جو آپ کا تعاقب کر رہے ہیں وہ وہاں آپ کو ڈھونڈ نہیں سکیں گے۔ تین دن تک یعنی جب تک وہ واپس نہ آ جائیں وہاں چھپے رہنا۔ اِس کے بعد جہاں جانے کا ارادہ ہے چلے جانا۔“  راحب نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، ایسا ہی ہو۔“ پھر اُس نے اُنہیں رُخصت کیا اور وہ روانہ ہوئے۔ اور راحب نے اپنی کھڑکی کے ساتھ مذکورہ رسّا باندھ دیا۔@{اور کسی کو ہمارے معاملے کے بارے میں اطلاع نہ دینا، ورنہ ہم اُس قَسم سے آزاد ہیں جو آپ نے ہمیں کھلائی۔“jOاگر کوئی آپ کے گھر میں سے نکلے اور مار دیا جائے تو یہ ہمارا قصور نہیں ہو گا، ہم ذمہ دار نہیں ٹھہریں گے۔ لیکن اگر کسی کو ہاتھ لگایا جائے جو آپ کے گھر کے اندر ہو تو ہم ہی اُس کی موت کے ذمہ دار ٹھہریں گے۔  & صبح سویرے اُٹھ کر یشوع اور تمام اسرائیلی شِطّیم سے روانہ ہوئے۔ جب وہ دریائے یردن پہنچے تو اُسے عبور نہ کیا بلکہ رات کے لئے کنارے پر رُک گئے۔a=اُنہوں نے کہا، ”یقیناً رب نے ہمیں پورا ملک دے دیا ہے۔ ہمارے بارے میں سن کر ملک کے تمام باشندوں پر دہشت طاری ہو گئی ہے۔“ vgپھر دونوں جاسوسوں نے پہاڑی علاقے سے اُتر کر دریائے یردن کو پار کیا اور یشوع بن نون کے پاس آ کر سب کچھ بیان کیا جو اُن کے ساتھ ہوا تھا۔wiجاسوس چلتے چلتے پہاڑی علاقے میں آ گئے۔ وہاں وہ تین دن رہے۔ اِتنے میں اُن کا تعاقب کرنے والے پورے راستے کا کھوج لگا کر خالی ہاتھ لوٹے۔ k[I  یشوع نے لوگوں کو بتایا، ”اپنے آپ کو مخصوص و مُقدّس کریں، کیونکہ کل رب آپ کے درمیان حیرت انگیز کام کرے گا۔“ پھر آپ کو پتا چلے گا کہ کہاں جانا ہے، کیونکہ آپ پہلے کبھی وہاں نہیں گئے۔ لیکن صندوق کے تقریباً ایک کلو میٹر پیچھے رہیں اور زیادہ قریب نہ جائیں۔“ 7لوگوں کو حکم دیا، ”جب آپ دیکھیں کہ لاوی کے قبیلے کے امام رب آپ کے خدا کے عہد کا صندوق اُٹھائے ہوئے ہیں تو اپنے اپنے مقام سے روانہ ہو کر اُس کے پیچھے ہو لیں۔p[وہ تین دن وہاں رہے۔ پھر نگہبانوں نے خیمہ گاہ میں سے گزر کر E  "-8CNYdoz )4?JU`kv%0;FQ\gr}                                                                             !  "  #  $ % & ' ( ) * + , - . /  0 1 2 3 -- یشوع نے اسرائیلیوں سے کہا، ”میرے پاس آئیں اور رب اپنے خدا کے فرمان سن لیں۔X+عہد کا صندوق اُٹھانے والے اماموں کو بتا دینا، ’جب آپ دریائے یردن کے کنارے پہنچیں گے تو وہاں پانی میں رُک جائیں‘۔“^ 7اور رب نے یشوع سے فرمایا، ”مَیں تجھے تمام اسرائیلیوں کے سامنے سرفراز کر دوں گا، اور آج ہی مَیں یہ کام شروع کروں گا تاکہ وہ جان لیں کہ جس طرح مَیں موسیٰ کے ساتھ تھا اُسی طرح تیرے ساتھ بھی ہوں۔~ wاگلے دن یشوع نے اماموں سے کہا، ”عہد کا صندوق اُٹھا کر لوگوں کے آگے آگے دریا کو پار کریں۔“ چنانچہ امام صندوق کو اُٹھا کر آگے آگے چل دیئے۔ [[7 اب ایسا کریں کہ ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی کو چن لیں تاکہ بارہ افراد جمع ہو جائیں۔<s یہ یوں ظاہر ہو گا کہ عہد کا یہ صندوق جو تمام دنیا کے مالک کا ہے آپ کے آگے آگے دریائے یردن میں جائے گا۔?y آج آپ جان لیں گے کہ زندہ خدا آپ کے درمیان ہے اور کہ وہ یقیناً آپ کے آگے آگے جا کر دوسری قوموں کو نکال دے گا، خواہ وہ کنعانی، حِتّی، حِوّی، فرِزّی، جرجاسی، اموری یا یبوسی ہوں۔ +فصل کی کٹائی کا موسم تھا، اور دریا کا پانی کناروں سے باہر آ گیا تھا۔ لیکن جوں ہی صندوق کو اُٹھانے والے اماموں نے دریا کے کنارے پہنچ کر پانی میں قدم رکھاLچنانچہ اسرائیلی اپنے خیموں کو سمیٹ کر روانہ ہوئے، اور عہد کا صندوق اُٹھانے والے امام اُن کے آگے آگے چل دیئے۔S! پھر امام تمام دنیا کے مالک رب کے عہد کا صندوق اُٹھا کر دریا میں جائیں گے۔ اور جوں ہی وہ اپنے پاؤں پانی میں رکھیں گے تو پانی کا بہاؤ رُک جائے گا اور آنے والا پانی ڈھیر بن کر کھڑا رہے گا۔“ 1?1 }جب پوری قوم نے دریائے یردن کو عبور کر لیا تو رب یشوع سے ہم کلام ہوا،رب کا عہد کا صندوق اُٹھانے والے امام دریائے یردن کے بیچ میں خشک زمین پر کھڑے رہے جبکہ باقی لوگ خشک زمین پر سے گزر گئے۔ امام اُس وقت تک وہاں کھڑے رہے جب تک تمام اسرائیلیوں نے خشک زمین پر چل کر دریا کو پار نہ کر لیا۔ =uتو آنے والے پانی کا بہاؤ رُک گیا۔ وہ اُن سے دُور ایک شہر کے قریب ڈھیر بن گیا جس کا نام آدم تھا اور جو ضرتان کے نزدیک ہے۔ جو پانی دوسری یعنی بحیرۂ مُردار کی طرف بہہ رہا تھا وہ پوری طرح اُتر گیا۔ تب اسرائیلیوں نے یریحو شہر کے مقابل دریا کو پار کیا۔ mm~wاور اُن سے کہا، ”رب اپنے خدا کے صندوق کے آگے آگے چل کر دریا کے درمیان تک جائیں۔ آپ میں سے ہر آدمی ایک ایک پتھر اُٹھا کر اپنے کندھے پر رکھے اور باہر لے جائے۔ کُل بارہ پتھر ہوں گے، اسرائیل کے ہر قبیلے کے لئے ایک۔%Eچنانچہ یشوع نے اُن بارہ آدمیوں کو بُلایا جنہیں اُس نے اسرائیل کے ہر قبیلے سے چن لیا تھاپھر اِن بارہ آدمیوں کو حکم دے کہ جہاں امام دریائے یردن کے درمیان کھڑے ہیں وہاں سے بارہ پتھر اُٹھا کر اُنہیں اُس جگہ رکھ دو جہاں تم آج رات ٹھہرو گے۔“O”ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی کو چن لے۔ 2G اسرائیلیوں نے ایسا ہی کیا۔ اُنہوں نے دریائے یردن کے بیچ میں سے اپنے قبیلوں کی تعداد کے مطابق بارہ پتھر اُٹھائے، بالکل اُسی طرح جس طرح رب نے یشوع کو فرمایا تھا۔ پھر اُنہوں نے یہ پتھر اپنے ساتھ لے کر اُس جگہ رکھ دیئے جہاں اُنہیں رات کے لئے ٹھہرنا تھا۔Lتو اُنہیں بتانا، ’یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دریائے یردن کا بہاؤ رُک گیا جب رب کا عہد کا صندوق اُس میں سے گزرا۔‘ یہ پتھر ابد تک اسرائیل کو یاد دلاتے رہیں گے کہ یہاں کیا کچھ ہوا تھا۔“Jیہ پتھر آپ کے درمیان ایک یادگار نشان رہیں گے۔ آئندہ جب آپ کے بچے آپ سے پوچھیں گے کہ اِن پتھروں کا کیا مطلب ہے tE" جب سب دُوسرے کنارے پر تھے تو امام بھی رب کا صندوق لے کر کنارے پر پہنچے اور دوبارہ قوم کے آگے آگے چلنے لگے۔y!m صندوق کو اُٹھانے والے امام دریا کے درمیان کھڑے رہے جب تک لوگوں نے تمام احکام جو رب نے یشوع کو دیئے تھے پورے نہ کر لئے۔ یوں سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا موسیٰ نے یشوع کو فرمایا تھا۔ لوگ جلدی جلدی دریا میں سے گزرے۔  ساتھ ساتھ یشوع نے اُس جگہ بھی بارہ پتھر کھڑے کئے جہاں عہد کا صندوق اُٹھانے والے امام دریائے یردن کے درمیان کھڑے تھے۔ یہ پتھر آج تک وہاں پڑے ہیں۔ o?T"o*(Qیشوع نے ایسا ہی کیا'”عہد کا صندوق اُٹھانے والے اماموں کو دریا میں سے نکلنے کا حکم دے۔“/&[پھر رب نے یشوع سے کہا،g%Iاُس دن رب نے یشوع کو پوری اسرائیلی قوم کے سامنے سرفراز کیا۔ اُس کے جیتے جی لوگ اُس کا یوں خوف مانتے رہے جس طرح پہلے موسیٰ کا۔'$I تقریباً 40,000 مسلح مرد اُس وقت رب کے سامنے یریحو کے میدان میں پہنچ گئے تاکہ وہاں جنگ کریں۔# اور جس طرح موسیٰ نے فرمایا تھا، روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کے مرد مسلح ہو کر باقی اسرائیلی قبیلوں سے پہلے دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے تھے۔ _p:)-Mتو اُنہیں بتانا، ’یہ وہ جگہ ہے جہاں اسرائیلی قوم نے خشک زمین پر دریائے یردن کو پار کیا۔‘>,wاُس نے اسرائیلیوں سے کہا، ”آئندہ جب آپ کے بچے اپنے اپنے باپ سے پوچھیں گے کہ اِن پتھروں کا کیا مطلب ہےq+]وہاں یشوع نے دریا میں سے چنے ہوئے بارہ پتھروں کو کھڑا کیا۔k*Qاسرائیلیوں نے پہلے مہینے کے دسویں دن دریائے یردن کو عبور کیا۔ اُنہوں نے اپنے خیمے یریحو کے مشرق میں واقع جِلجال میں کھڑے کئے۔)5تو جوں ہی امام کنارے پر پہنچ گئے پانی دوبارہ بہہ کر دریا کے کناروں سے باہر آنے لگا۔ T/#اُس نے یہ کام اِس لئے کیا تاکہ زمین کی تمام قومیں اللہ کی قدرت کو جان لیں اور آپ ہمیشہ رب اپنے خدا کا خوف مانیں۔“ 6.gکیونکہ رب آپ کے خدا نے اُس وقت تک آپ کے آگے آگے دریا کا پانی خشک کر دیا جب تک آپ وہاں سے گزر نہ گئے، بالکل اُسی طرح جس طرح بحرِ قُلزم کے ساتھ کیا تھا جب ہم اُس میں سے گزرے۔ {U{V2'چنانچہ یشوع نے پتھر کی چھریاں بنا کر ایک جگہ پر اسرائیلیوں کا ختنہ کروایا جس کا نام بعد میں ’ختنہ پہاڑ‘ رکھا گیا۔,1Sاُس وقت رب نے یشوع سے کہا، ”پتھر کی چھریاں بنا کر پہلے کی طرح اسرائیلیوں کا ختنہ کروا دے۔“w0 kیہ خبر دریائے یردن کے مغرب میں آباد تمام اموری بادشاہوں اور ساحلی علاقے میں آباد تمام کنعانی بادشاہوں تک پہنچ گئی کہ رب نے اسرائیلیوں کے سامنے دریا کو اُس وقت تک خشک کر دیا جب تک سب نے پار نہ کر لیا تھا۔ تب اُن کی ہمت ٹوٹ گئی اور اُن میں اسرائیلیوں کا سامنا کرنے کی جرٲت نہ رہی۔ ZKZm4Uمصر سے روانہ ہونے والے اِن تمام مردوں کا ختنہ ہوا تھا، لیکن جتنے لڑکوں کی پیدائش ریگستان میں ہوئی تھی اُن کا ختنہ نہیں ہوا تھا۔13]بات یہ تھی کہ جو مرد مصر سے نکلتے وقت جنگ کرنے کے قابل تھے وہ ریگستان میں چلتے چلتے مر چکے تھے۔ X~X"6?اُن کی جگہ رب نے اُن کے بیٹوں کو کھڑا کیا تھا۔ یشوع نے اُن ہی کا ختنہ کروایا۔ اُن کا ختنہ اِس لئے ہوا کہ ریگستان میں سفر کے دوران اُن کا ختنہ نہیں کیا گیا تھا۔~5wچونکہ اسرائیلی رب کے تابع نہیں رہے تھے اِس لئے اُس نے قَسم کھائی تھی کہ وہ اُس ملک کو نہیں دیکھیں گے جس میں دودھ اور شہد کی کثرت ہے اور جس کا وعدہ اُس نے قَسم کھا کر اُن کے باپ دادا سے کیا تھا۔ نتیجے میں اسرائیلی فوراً ملک میں داخل نہ ہو سکے بلکہ اُنہیں اُس وقت تک ریگستان میں پھرنا پڑا جب تک وہ تمام مرد مر نہ گئے جو مصر سے نکلتے وقت جنگ کرنے کے قابل تھے۔ 7DVE: اور اگلے ہی دن وہ پہلی دفعہ اُس ملک کی پیداوار میں سے بےخمیری روٹی اور اناج کے بھُنے ہوئے دانے کھانے لگے۔j9O جب اسرائیلی یریحو کے میدانی علاقے میں واقع جِلجال میں خیمہ زن تھے تو اُنہوں نے فسح کی عید بھی منائی۔ مہینے کا چودھواں دن تھا،o8Y اور رب نے یشوع سے کہا، ”آج مَیں نے مصر کی رُسوائی تم سے دُور کر دی ہے۔“ اِس لئے اُس جگہ کا نام آج تک جِلجال یعنی لُڑھکانا رہا ہے۔E7پوری قوم کے مردوں کا ختنہ ہونے کے بعد وہ اُس وقت تک خیمہ گاہ میں رہے جب تک اُن کے زخم ٹھیک نہیں ہو گئے تھے۔ x!xI= آدمی نے کہا، ”نہیں، مَیں رب کے لشکر کا سردار ہوں اور ابھی ابھی تیرے پاس پہنچا ہوں۔“ یہ سن کر یشوع نے گر کر اُسے سجدہ کیا اور پوچھا، ”میرے آقا اپنے خادم کو کیا فرمانا چاہتے ہیں؟“X<+ ایک دن یشوع یریحو شہر کے قریب تھا۔ اچانک ایک آدمی اُس کے سامنے کھڑا نظر آیا جس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی۔ یشوع نے اُس کے پاس جا کر پوچھا، ”کیا آپ ہمارے ساتھ یا ہمارے دشمنوں کے ساتھ ہیں؟“[;1 اُس کے بعد کے دن مَن کا سلسلہ ختم ہوا اور اسرائیلیوں کے لئے یہ سہولت نہ رہی۔ اُس سال وہ کنعان کی پیداوار سے کھانے لگے۔ ZA%جو اسرائیلی جنگ کے لئے تیرے ساتھ نکلیں گے اُن کے ساتھ شہر کی فصیل کے ساتھ ساتھ چل کر ایک چکر لگاؤ اور پھر خیمہ گاہ میں واپس آ جاؤ۔ چھ دن تک ایسا ہی کرو۔5@eرب نے یشوع سے کہا، ”مَیں نے یریحو کو اُس کے بادشاہ اور فوجی افسروں سمیت تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے۔8? mاُن دنوں میں اسرائیلیوں کی وجہ سے یریحو کے دروازے بند ہی رہے۔ نہ کوئی باہر نکلا، نہ کوئی اندر گیا۔f>Gرب کے لشکر کے سردار نے جواب میں کہا، ”اپنے جوتے اُتار دے، کیونکہ جس جگہ پر تُو کھڑا ہے وہ مُقدّس ہے۔“ یشوع نے ایسا ہی کیا۔ D%یشوع بن نون نے اماموں کو بُلا کر اُن سے کہا، ”رب کے عہد کا صندوق اُٹھا کر میرے ساتھ چلیں۔ اور سات امام ایک ایک نرسنگا اُٹھائے صندوق کے آگے آگے چلیں۔“SC!جب وہ نرسنگوں کو بجاتے بجاتے لمبی سی پھونک ماریں گے تو پھر تمام اسرائیلی بڑے زور سے جنگ کا نعرہ لگائیں۔ اِس پر شہر کی فصیل گر جائے گی اور تیرے لوگ ہر جگہ سیدھے شہر میں داخل ہو سکیں گے۔“zBoسات امام ایک ایک نرسنگا اُٹھائے عہد کے صندوق کے آگے آگے چلیں۔ پھر ساتویں دن شہر کے گرد سات چکر لگاؤ۔ ساتھ ساتھ امام نرسنگے بجاتے رہیں۔ :%:gGI مسلح آدمیوں میں سے کچھ بجانے والے اماموں کے آگے آگے اور کچھ صندوق کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ اِتنے میں امام نرسنگے بجاتے رہے۔mFUسب کچھ یشوع کی ہدایات کے مطابق ہوا۔ سات امام نرسنگے بجاتے ہوئے رب کے آگے آگے چلے جبکہ رب کے عہد کا صندوق اُن کے پیچھے پیچھے تھا۔fEGپھر اُس نے باقی لوگوں سے کہا، ”آئیں، شہر کی فصیل کے ساتھ ساتھ چل کر ایک چکر لگائیں۔ مسلح آدمی رب کے صندوق کے آگے آگے چلیں۔“ SI! اِسی طرح رب کے صندوق نے شہر کی فصیل کے ساتھ ساتھ چل کر چکر لگایا۔ پھر لوگوں نے خیمہ گاہ میں لوٹ کر وہاں رات گزاری۔UH% لیکن یشوع نے باقی لوگوں کو حکم دیا تھا کہ اُس دن جنگ کا نعرہ نہ لگائیں۔ اُس نے کہا، ”جب تک مَیں حکم نہ دوں اُس وقت تک ایک لفظ بھی نہ بولنا۔ جب مَیں اشارہ دوں گا تو پھر ہی خوب نعرہ لگانا۔“ {Jq اگلے دن یشوع صبح سویرے اُٹھا، اور اماموں اور فوجیوں نے دوسری مرتبہ شہر کا چکر لگایا۔ اُن کی وہی ترتیب تھی۔ پہلے کچھ مسلح آدمی، پھر سات نرسنگے بجانے والے امام، پھر رب کے عہد کا صندوق اُٹھانے والے امام اور آخر میں مزید کچھ مسلح آدمی تھے۔ چکر لگانے کے دوران امام نرسنگے بجاتے رہے۔ iTigMIساتویں دن اُنہوں نے صبح سویرے اُٹھ کر شہر کا چکر یوں لگایا جیسے پہلے چھ دنوں میں، لیکن اِس دفعہ اُنہوں نے کُل سات چکر لگائے۔)LMاِس دوسرے دن بھی وہ شہر کا چکر لگا کر خیمہ گاہ میں لوٹ آئے۔ اُنہوں نے چھ دن تک ایسا ہی کیا۔{Kq اگلے دن یشوع صبح سویرے اُٹھا، اور اماموں اور فوجیوں نے دوسری مرتبہ شہر کا چکر لگایا۔ اُن کی وہی ترتیب تھی۔ پہلے کچھ مسلح آدمی، پھر سات نرسنگے بجانے والے امام، پھر رب کے عہد کا صندوق اُٹھانے والے امام اور آخر میں مزید کچھ مسلح آدمی تھے۔ چکر لگانے کے دوران امام نرسنگے بجاتے رہے۔ M|M+PQلیکن اللہ کے لئے مخصوص چیزوں کو ہاتھ نہ لگانا، کیونکہ اگر آپ اُن میں سے کچھ لے لیں تو اپنے آپ کو تباہ کریں گے بلکہ اسرائیلی خیمہ گاہ پر بھی تباہی اور آفت لائیں گے۔jOOشہر کو اور جو کچھ اُس میں ہے تباہ کر کے رب کے لئے مخصوص کرنا ہے۔ صرف راحب کسبی کو اُن لوگوں سمیت بچانا ہے جو اُس کے گھر میں ہیں۔ کیونکہ اُس نے ہمارے اُن جاسوسوں کو چھپا دیا جن کو ہم نے یہاں بھیجا تھا۔Nساتویں چکر پر اماموں نے نرسنگوں کو بجاتے ہوئے لمبی سی پھونک ماری۔ تب یشوع نے لوگوں سے کہا، ”جنگ کا نعرہ لگائیں، کیونکہ رب نے آپ کو یہ شہر دے دیا ہے۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr} 5 6 7  8  9  :  ;  < = 5 6 7  8  9  :  ;  < = >  ? @ A B C D E F  G  H  I  J  K L M N O P Q R S T U V W X Y  Z [ \ ] ^ _ ` a  b  c  d  e  f g h i j k l m n o p q r s  t u v w x y ?S{جو کچھ بھی شہر میں تھا اُسے اُنہوں نے تلوار سے مار کر رب کے لئے مخصوص کیا، خواہ مرد یا عورت، جوان یا بزرگ، گائےبَیل، بھیڑبکری یا گدھا تھا۔VR'جب اماموں نے لمبی پھونک ماری تو اسرائیلیوں نے جنگ کے زوردار نعرے لگائے۔ اچانک یریحو کی فصیل گر گئی، اور ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر سیدھا شہر میں داخل ہوا۔ یوں شہر اسرائیل کے قبضے میں آ گیا۔=Quجو کچھ بھی چاندی، سونے، پیتل یا لوہے سے بنا ہے وہ رب کے لئے مخصوص ہے۔ اُسے رب کے خزانے میں ڈالنا ہے۔“ Vپھر اُنہوں نے پورے شہر کو اور جو کچھ اُس میں تھا بھسم کر دیا۔ لیکن چاندی، سونے، پیتل اور لوہے کا تمام مال اُنہوں نے رب کے گھر کے خزانے میں ڈال دیا۔~Uwچنانچہ یہ جوان آدمی گئے اور راحب، اُس کے ماں باپ، بھائیوں اور باقی رشتے داروں کو اُس کی ملکیت سمیت نکال کر خیمہ گاہ سے باہر کہیں بسا دیا۔#TAجن دو آدمیوں نے ملک کی جاسوسی کی تھی اُن سے یشوع نے کہا، ”اب اپنی قَسم کا وعدہ پورا کریں۔ کسبی کے گھر میں جا کر اُسے اور اُس کے تمام گھر والوں کو نکال لائیں۔“ {Yqیوں رب یشوع کے ساتھ تھا، اور اُس کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی۔ ;Xqاُس وقت یشوع نے قَسم کھائی، ”رب کی لعنت اُس پر ہو جو یریحو کا شہرنئے سرے سے تعمیر کرنے کی کوشش کرے۔ شہر کی بنیاد رکھتے وقت وہ اپنے پہلوٹھے سے محروم ہو جائے گا، اور اُس کے دروازوں کو کھڑا کرتے وقت وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔“:Woیشوع نے صرف راحب کسبی اور اُس کے گھر والوں کو بچائے رکھا، کیونکہ اُس نے اُن آدمیوں کو چھپا دیا تھا جنہیں یشوع نے یریحو بھیجا تھا۔ راحب آج تک اسرائیلیوں کے درمیان رہتی ہے۔ tx[kیہ یوں ظاہر ہوا کہ یشوع نے کچھ آدمیوں کو یریحو سے عَی شہر کو بھیج دیا جو بیت ایل کے مشرق میں بیت آون کے قریب ہے۔ اُس نے اُن سے کہا، ”اُس علاقے میں جا کر اُس کی جاسوسی کریں۔“ چنانچہ وہ جا کر ایسا ہی کرنے لگے۔Z لیکن جہاں تک رب کے لئے مخصوص چیزوں کا تعلق تھا اسرائیلیوں نے بےوفائی کی۔ یہوداہ کے قبیلے کے ایک آدمی نے اُن میں سے کچھ اپنے لئے لے لیا۔ اُس کا نام عکن بن کرمی بن زبدی بن زارح تھا۔ تب رب کا غضب اسرائیلیوں پر نازل ہوا۔ ]f]S^!اور اُن کے 36 افراد شہید ہوئے۔ عَی کے آدمیوں نے شہر کے دروازے سے لے کر شبریم تک اُن کا تعاقب کر کے وہاں کی ڈھلان پر اُنہیں مار ڈالا۔ تب اسرائیلی سخت گھبرا گئے، اور اُن کی ہمت جواب دے گئی۔.]Wچنانچہ تقریباً تین ہزار آدمی عَی سے لڑنے گئے۔ لیکن وہ عَی کے مردوں سے شکست کھا کر فرار ہوئے،\'جب واپس آئے تو اُنہوں نے یشوع سے کہا، ”اِس کی ضرورت نہیں کہ تمام لوگ عَی پر حملہ کریں۔ اُسے شکست دینے کے لئے دو یا تین ہزار مرد کافی ہیں۔ باقی لوگوں کو نہ بھیجیں ورنہ وہ خواہ مخواہ تھک جائیں گے، کیونکہ دشمن کے لوگ کم ہیں۔“ 6a اے رب، اب مَیں کیا کہوں جب اسرائیل اپنے دشمنوں کے سامنے سے بھاگ آیا ہے؟z`oیشوع نے کہا، ”ہائے، اے رب قادرِ مطلق! تُو نے اِس قوم کو دریائے یردن میں سے گزرنے کیوں دیا اگر تیرا مقصد صرف یہ تھا کہ ہمیں اموریوں کے حوالے کر کے ہلاک کرے؟ کاش ہم دریا کے مشرقی کنارے پر رہنے کے لئے تیار ہوتے!H_ یشوع نے رنجش کا اظہار کر کے اپنے کپڑوں کو پھاڑ دیا اور رب کے صندوق کے سامنے منہ کے بل گر گیا۔ وہاں وہ شام تک پڑا رہا۔ اسرائیل کے بزرگوں نے بھی ایسا ہی کیا اور اپنے سر پر خاک ڈال لی۔ Cad= اسرائیل نے گناہ کیا ہے۔ اُنہوں نے میرے عہد کی خلاف ورزی کی ہے جو مَیں نے اُن کے ساتھ باندھا تھا۔ اُنہوں نے مخصوص شدہ چیزوں میں سے کچھ لے لیا ہے، اور چوری کر کے چپکے سے اپنے سامان میں ملا لیا ہے۔ c جواب میں رب نے یشوع سے کہا، ”اُٹھ کر کھڑا ہو جا! تُو کیوں منہ کے بل پڑا ہے؟(bK کنعانی اور ملک کی باقی قومیں یہ سن کر ہمیں گھیر لیں گی اور ہمارا نام و نشان مٹا دیں گی۔ اگر ایسا ہو گا تو پھر تُو خود اپنا عظیم نام قائم رکھنے کے لئے کیا کرے گا؟“ ~ew اِسی لئے اسرائیلی اپنے دشمنوں کے سامنے قائم نہیں رہ سکتے بلکہ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہیں۔ کیونکہ اِس حرکت سے اسرائیل نے اپنے آپ کو بھی ہلاکت کے لئے مخصوص کر لیا ہے۔ جب تک تم اپنے درمیان سے وہ کچھ نکال کر تباہ نہ کر لو جو تباہی کے لئے مخصوص ہے اُس وقت تک مَیں تمہارے ساتھ نہیں ہوں گا۔ f% اب اُٹھ اور لوگوں کو میرے لئے مخصوص و مُقدّس کر۔ اُنہیں بتا دینا، ’اپنے آپ کو کل کے لئے مخصوص و مُقدّس کرنا، کیونکہ رب جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے کہ اے اسرائیل، تیرے درمیان ایسا مال ہے جو میرے لئے مخصوص ہے۔ جب تک تم اُسے اپنے درمیان سے نکال نہ دو اپنے دشمنوں کے سامنے قائم نہیں رہ سکو گے۔‘ h3جو رب کے لئے مخصوص مال کے ساتھ پکڑا جائے گا اُسے اُس کی ملکیت سمیت جلا دینا ہے، کیونکہ اُس نے رب کے عہد کی خلاف ورزی کر کے اسرائیل میں شرم ناک کام کیا ہے۔“kgQکل صبح کو ہر ایک قبیلہ اپنے آپ کو پیش کرے۔ رب ظاہر کرے گا کہ قصوروار شخص کون سے قبیلے کا ہے۔ پھر اُس قبیلے کے کنبے باری باری سامنے آئیں۔ جس کنبے کو رب قصوروار ٹھہرائے گا اُس کے مختلف خاندان سامنے آئیں۔ اور جس خاندان کو رب قصوروار ٹھرائے گا اُس کے مختلف افراد سامنے آئیں۔ ,3,lیشوع نے اُس سے کہا، ”بیٹا، رب اسرائیل کے خدا کو جلال دو اور اُس کی ستائش کرو۔ مجھے بتا دو کہ تم نے کیا کِیا۔ کوئی بھی بات مجھ سے مت چھپانا۔“k تب سورج رُک گیا، اور چاند نے آگے حرکت نہ کی۔ جب تک کہ اسرائیل نے اپنے دشمنوں سے پورا بدلہ نہ لے لیا اُس وقت تک وہ رُکے رہے۔ اِس بات کا ذکر یاشار کی کتاب میں کیا گیا ہے۔ سورج آسمان کے بیچ میں رُک گیا اور تقریباً ایک پورے دن کے دوران غروب نہ ہوا۔7=i اُس دن جب رب نے اموریوں کو اسرائیل کے ہاتھ میں کر دیا تو یشوع نے اسرائیلیوں کی موجودگی میں رب سے کہا، ”اے سورج، جِبعون کے اوپر رُک جا! اے چاند، وادیِ ایالون پر ٹھہر جا!“  `D; لیکن باقی لوگ نہ رُکیں بلکہ دشمنوں کا تعاقب کر کے پیچھے سے اُنہیں مارتے جائیں۔ اُنہیں دوبارہ اپنے شہروں میں داخل ہونے کا موقع مت دینا، کیونکہ رب آپ کے خدا نے اُنہیں آپ کے ہاتھ میں کر دیا ہے۔“:Co تو اُس نے کہا، ”کچھ بڑے بڑے پتھر لُڑھکا کر غار کا منہ بند کرنا، اور کچھ آدمی اُس کی پہرہ داری کریں۔,BU یشوع کو اطلاع دی گئیA لیکن پانچوں اموری بادشاہ فرار ہو کر مقیدہ کے ایک غار میں چھپ گئے تھے۔~@w اِس کے بعد یشوع پورے اسرائیل سمیت جِلجال کی خیمہ گاہ میں لوٹ آیا۔ DB1H] لوگ غار کو کھول کر یروشلم، حبرون، یرموت، لکیس اور عجلون کے بادشاہوں کو یشوع کے پاس نکال لائے۔G! پھر یشوع نے کہا، ”غار کے منہ کو کھول کر یہ پانچ بادشاہ میرے پاس نکال لائیں۔“~Fw اِس کے بعد پوری فوج صحیح سلامت یشوع کے پاس مقیدہ کی لشکرگاہ میں واپس پہنچ گئی۔ اب سے کسی میں بھی اسرائیلیوں کو دھمکی دینے کی جرٲت نہ رہی۔8Ek چنانچہ یشوع اور باقی اسرائیلی اُنہیں ہلاک کرتے رہے، اور کم ہی اپنے شہروں کی فصیل میں داخل ہو سکے۔ ##@K{ یہ کہہ کر اُس نے بادشاہوں کو ہلاک کر کے اُن کی لاشیں پانچ درختوں سے لٹکا دیں۔ وہاں وہ شام تک لٹکی رہیں۔wJi پھر یشوع نے اُن سے کہا، ”نہ ڈریں اور نہ حوصلہ ہاریں۔ مضبوط اور دلیر ہوں۔ رب یہی کچھ اُن تمام دشمنوں کے ساتھ کرے گا جن سے آپ لڑیں گے۔“I/ یشوع نے اسرائیل کے مردوں کو بُلا کر اپنے ساتھ کھڑے فوجی افسروں سے کہا، ”اِدھر آ کر اپنے پیروں کو بادشاہوں کی گردنوں پر رکھ دیں۔“ افسروں نے ایسا ہی کیا۔ bbN پھر یشوع نے تمام اسرائیلیوں کے ساتھ وہاں سے آگے نکل کر لِبناہ پر حملہ کیا۔M1 اُس دن مقیدہ یشوع کے قبضے میں آ گیا۔ اُس نے پورے شہر کو تلوار سے رب کے لئے مخصوص کر کے تباہ کر دیا۔ بادشاہ سمیت سب ہلاک ہوئے اور ایک بھی نہ بچا۔ شہر کے بادشاہ کے ساتھ اُس نے وہ سلوک کیا جو اُس نے یریحو کے بادشاہ کے ساتھ کیا تھا۔iLM جب سورج ڈوبنے لگا تو لوگوں نے یشوع کے حکم پر لاشیں اُتار کر اُس غار میں پھینک دیں جس میں بادشاہ چھپ گئے تھے۔ پھر اُنہوں نے غار کے منہ کو بڑے بڑے پتھروں سے بند کر دیا۔ یہ پتھر آج تک وہاں پڑے ہوئے ہیں۔ KxK\Q3 تو رب نے یہ شہر اُس کے بادشاہ سمیت اسرائیل کے ہاتھ میں کر دیا۔ دوسرے دن وہ یشوع کے قبضے میں آ گیا۔ شہر کے سارے باشندوں کو اُس نے تلوار سے ہلاک کیا، جس طرح کہ اُس نے لِبناہ کے ساتھ بھی کیا تھا۔IP  اِس کے بعد اُس نے تمام اسرائیلیوں کے ساتھ لِبناہ سے آگے بڑھ کر لکیس کا محاصرہ کیا۔ جب اُس نے اُس پر حملہ کیاO رب نے اُس شہر اور اُس کے بادشاہ کو بھی اسرائیل کے ہاتھ میں کر دیا۔ یشوع نے تلوار سے شہر کے تمام باشندوں کو ہلاک کیا، اور ایک بھی نہ بچا۔ بادشاہ کے ساتھ اُس نے وہی سلوک کیا جو اُس نے یریحو کے بادشاہ کے ساتھ کیا تھا۔  4NU/ $اِس کے بعد یشوع نے تمام اسرائیلیوں کے ساتھ عجلون سے آگے بڑھ کر حبرون پر حملہ کیا۔bT? #اُس پر قبضہ کر لیا۔ جس طرح لکیس کے ساتھ ہوا اُسی طرح عجلون کے ساتھ بھی کیا گیا یعنی شہر کے تمام باشندے تلوار سے ہلاک ہوئے۔TS# "پھر یشوع نے تمام اسرائیلیوں کے ساتھ لکیس سے آگے بڑھ کر عجلون کا محاصرہ کر لیا۔ اُسی دن اُنہوں نے اُس پر حملہ کر کےpR[ !ساتھ ساتھ یشوع نے جزر کے بادشاہ ہورم اور اُس کے لوگوں کو بھی شکست دی جو لکیس کی مدد کرنے کے لئے آئے تھے۔ اُن میں سے ایک بھی نہ بچا۔ OX 'اُس نے شہر، اُس کے بادشاہ اور ارد گرد کی آبادیوں پر قبضہ کر لیا۔ سب کو نیست کر دیا گیا، ایک بھی نہ بچا۔ یوں دبیر کے ساتھ وہ کچھ ہوا جو پہلے حبرون اور لِبناہ اُس کے بادشاہ سمیت ہوا تھا۔W# &پھر یشوع تمام اسرائیلیوں کے ساتھ مُڑ کر دبیر کی طرف بڑھ گیا۔ اُس پر حملہ کر کےgVI %شہر پر قبضہ کر کے اُنہوں نے بادشاہ، ارد گرد کی آبادیاں اور باشندے سب کے سب تہہ تیغ کر دیئے۔ کوئی نہ بچا۔ عجلون کی طرح اُنہوں نے اُسے پورے طور پر تمام باشندوں سمیت رب کے لئے مخصوص کر کے تباہ کر دیا۔offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|VY[^adefhlortw{VY[^adefhlortw{~ !$(+.1369<?DHKNQUXZ^ad¯gïkįnůpƯsǯuȯxɯzʰ˰ ̰ͰΰϰаѰҰ"԰%հ(ְ,װ.ذ/ٰ1ڰ4۰7ܰ:ݰ=ް@߰CFJMV_hnuy}  !%(.6:<= t.ZW )یشوع نے اُنہیں قادِس برنیع سے لے کر غزہ تک اور جُشن کے پورے علاقے سے لے کر جِبعون تک شکست دی۔Y  (اِس طرح یشوع نے جنوبی کنعان کے تمام بادشاہوں کو شکست دے کر اُن کے پورے ملک پر قبضہ کر لیا یعنی ملک کے پہاڑی علاقے پر، جنوب کے دشتِ نجب پر، مغرب کے نشیبی پہاڑی علاقے پر اور وادیِ یردن کے مغرب میں واقع پہاڑی ڈھلانوں پر۔ اُس نے کسی کو بھی بچنے نہ دیا بلکہ ہر جاندار کو رب کے لئے مخصوص کر کے ہلاک کر دیا۔ یہ سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا رب اسرائیل کے خدا نے حکم دیا تھا۔ E  !,7BMXcny)4?IT_ju%0;EP[fq|                                                      !  "  #  $  %  &  '  (  )  *  +                                                                                     '1'^ اِس کے علاوہ اُس نے اُن بادشاہوں کو پیغام بھیجے جو شمال میں تھے یعنی شمالی پہاڑی علاقے میں، وادیِ یردن کے اُس حصے میں جو کِنّرت یعنی گلیل کے جنوب میں ہے، مغرب کے نشیبی پہاڑی علاقے میں، مغرب میں واقع نافت دور میںp] ] جب حصور کے بادشاہ یابین کو اِن واقعات کی خبر ملی تو اُس نے مدون کے بادشاہ یوباب اور سِمرون اور اَکشاف کے بادشاہوں کو پیغام بھیجے۔ \ +اِس کے بعد یشوع تمام اسرائیلیوں کے ساتھ جِلجال کی خیمہ گاہ میں لوٹ آیا۔ K[ *اِن تمام بادشاہوں اور اُن کے ممالک پر یشوع نے ایک ہی وقت فتح پائی، کیونکہ اسرائیل کا خدا اسرائیل کے لئے لڑا۔ ,aS اِن تمام بادشاہوں نے اسرائیل سے لڑنے کے لئے متحد ہو کر اپنے خیمے میروم کے چشمے پر لگا دیئے۔ ` چنانچہ یہ اپنی تمام فوجوں کو لے کر جنگ کے لئے نکلے۔ اُن کے آدمی سمندر کے ساحل کی ریت کی مانند بےشمار تھے۔ اُن کے پاس متعدد گھوڑے اور رتھ بھی تھے۔7_i اور کنعان کے مشرق اور مغرب میں۔ یابین نے اموریوں، حِتّیوں، فرِزّیوں، پہاڑی علاقے کے یبوسیوں اور حرمون پہاڑ کے دامن میں واقع ملکِ مِصفاہ کے حِوّیوں کو بھی پیغام بھیجے۔ ::>dw اور رب نے دشمنوں کو اسرائیلیوں کے حوالے کر دیا۔ اسرائیلیوں نے اُنہیں شکست دی اور اُن کا تعاقب کرتے کرتے شمال میں بڑے شہر صیدا اور مسرفات مائم تک جا پہنچے۔ اِسی طرح اُنہوں نے مشرق میں وادیِ مِصفاہ تک بھی اُن کا تعاقب کیا۔ آخر میں ایک بھی نہ بچا۔#cA چنانچہ یشوع اپنے تمام فوجیوں کو لے کر میروم کے چشمے پر آیا اور اچانک دشمن پر حملہ کیا۔Yb- رب نے یشوع سے کہا، ”اُن سے مت ڈرنا، کیونکہ کل اِسی وقت تک مَیں نے اُن سب کو ہلاک کر کے اسرائیل کے حوالے کر دیا ہو گا۔ تجھے اُن کے گھوڑوں کی کونچوں کو کاٹنا اور اُن کے رتھوں کو جلا دینا ہے۔“ nU+n9gm اور شہر کے ہر جاندار کو اللہ کے حوالے کر کے ہلاک کر دیا۔ ایک بھی نہ بچا۔ پھر یشوع نے شہر کو جلا دیا۔&fG پھر یشوع واپس آیا اور حصور کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ حصور اُن تمام بادشاہتوں کا صدر مقام تھا جنہیں اُنہوں نے شکست دی تھی۔ اسرائیلیوں نے شہر کے بادشاہ کو مار دیا'eI رب کی ہدایت کے مطابق یشوع نے دشمن کے گھوڑوں کی کونچوں کو کٹوا کر اُس کے رتھوں کو جلا دیا۔ Ok کیونکہ رب نے اپنے خادم موسیٰ کو یہی حکم دیا تھا، اور یشوع نے سب کچھ ویسے ہی کیا جیسے رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔j' لُوٹ کا جو بھی مال جانوروں سمیت اُن میں پایا گیا اُسے اسرائیلیوں نے اپنے پاس رکھ لیا۔ لیکن تمام باشندوں کو اُنہوں نے مار ڈالا اور ایک بھی نہ بچنے دیا۔i لیکن یشوع نے صرف حصور کو جلایا۔ پہاڑیوں پر کے باقی شہروں کو اُس نے رہنے دیا۔jhO اِسی طرح یشوع نے اُن باقی بادشاہوں کے شہروں پر بھی قبضہ کر لیا جو اسرائیل کے خلاف متحد ہو گئے تھے۔ ہر شہر کو اُس نے رب کے خادم موسیٰ کے حکم کے مطابق تباہ کر دیا۔ بادشاہوں سمیت سب کچھ نیست کر دیا گیا۔ 6\n3 لیکن اِن بادشاہوں سے جنگ کرنے میں بہت وقت لگا،cmA اب یشوع کی پہنچ جنوب میں سعیر کی طرف بڑھنے والے پہاڑ خلق سے لے کر لبنان کے میدانی علاقے کے شہر بعل جد تک تھی جو حرمون پہاڑ کے دامن میں تھا۔ یشوع نے اِن علاقوں کے تمام بادشاہوں کو پکڑ کر مار ڈالا۔_l9 یوں یشوع نے پورے کنعان پر قبضہ کر لیا۔ اِس میں پہاڑی علاقہ، پورا دشتِ نجب، جُشن کا پورا علاقہ، مغرب کا نشیبی پہاڑی علاقہ، وادیِ یردن اور اسرائیل کے پہاڑ اُن کے دامن کی پہاڑیوں سمیت شامل تھے۔ ccp رب ہی نے اُنہیں اکڑنے دیا تھا تاکہ وہ اسرائیل سے جنگ کریں اور اُن پر رحم نہ کیا جائے بلکہ اُنہیں پورے طور پر رب کے حوالے کر کے ہلاک کیا جائے۔ لازم تھا کہ اُنہیں یوں نیست و نابود کیا جائے جس طرح رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔o کیونکہ جِبعون میں رہنے والے حِوّیوں کے علاوہ کسی بھی شہر نے اسرائیلیوں سے صلح نہ کی۔ اِس لئے اسرائیل کو اُن سب پر جنگ کر کے ہی قبضہ کرنا پڑا۔ _t_Vs' غرض یشوع نے پورے ملک پر یوں قبضہ کیا جس طرح رب نے موسیٰ کو بتایا تھا۔ پھر اُس نے اُسے قبیلوں میں تقسیم کر کے اسرائیل کو میراث میں دے دیا۔ جنگ ختم ہوئی، اور ملک میں امن و امان قائم ہو گیا۔ 7ri اسرائیل کے پورے علاقے میں عناقیوں میں سے ایک بھی نہ بچا۔ صرف غزہ، جات اور اشدود میں کچھ زندہ رہے۔q  اُس وقت یشوع نے اُن تمام عناقیوں کو ہلاک کر دیا جو حبرون، دبیر، عناب اور اُن تمام جگہوں میں رہتے تھے جو یہوداہ اور اسرائیل کے پہاڑی علاقے میں تھیں۔ اُس نے اُن سب کو اُن کے شہروں سمیت اللہ کے حوالے کر کے تباہ کر دیا۔ 5)uM پہلے کا نام سیحون تھا۔ وہ اموریوں کا بادشاہ تھا اور اُس کا دار الحکومت حسبون تھا۔ عروعیر شہر یعنی وادیِ ارنون کے درمیان سے لے کر عمونیوں کی سرحد دریائے یبوق تک سارا علاقہ اُس کی گرفت میں تھا۔ اِس میں جِلعاد کا آدھا حصہ بھی شامل تھا۔Gt  درجِ ذیل دریائے یردن کے مشرق میں اُن بادشاہوں کی فہرست ہے جنہیں اسرائیلیوں نے شکست دی تھی اور جن کے علاقے پر اُنہوں نے قبضہ کیا تھا۔ یہ علاقہ جنوب میں وادیِ ارنون سے لے کر شمال میں حرمون پہاڑ تک تھا، اور اُس میں وادیِ یردن کا پورا مشرقی حصہ شامل تھا۔ fxG شمال میں اُس کی سلطنت کی سرحد حرمون پہاڑ تھی اور مشرق میں سلکہ شہر۔ بسن کا تمام علاقہ جسوریوں اور معکاتیوں کی سرحد تک اُس کے ہاتھ میں تھا اور اِسی طرح جِلعاد کا شمالی حصہ بادشاہ سیحون کی سرحد تک۔w1 دوسرا بادشاہ جس نے شکست کھائی تھی بسن کا بادشاہ عوج تھا۔ وہ رفائیوں کے دیو قبیلے میں سے باقی رہ گیا تھا، اور اُس کی حکومت کے مرکز عستارات اور اِدرعی تھے۔Wv) اِس کے علاوہ سیحون کا قبضہ دریائے یردن کے پورے مشرقی کنارے پر کِنّرت یعنی گلیل کی جھیل سے لے کر بحیرۂ مُردار کے پاس شہر بیت یسیموت تک بلکہ اُس کے جنوب میں پہاڑی سلسلے پسگہ کے دامن تک تھا۔ z  درجِ ذیل دریائے یردن کے مغرب کے اُن بادشاہوں کی فہرست ہے جنہیں اسرائیلیوں نے یشوع کی راہنمائی میں شکست دی تھی اور جن کی سلطنت وادیِ لبنان کے شہر بعل جد سے لے کر سعیر کی طرف بڑھنے والے پہاڑ خلق تک تھی۔ بعد میں یشوع نے یہ سارا ملک اسرائیل کے قبیلوں میں تقسیم کر کے اُنہیں میراث میں دے دیاy اسرائیل نے رب کے خادم موسیٰ کی راہنمائی میں اِن دو بادشاہوں پر فتح پائی تھی، اور موسیٰ نے یہ علاقہ روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کے سپرد کیا تھا۔ =cE#n=.Y سِمرون مرون، اَکشاف،; مدُون، حصور،; افیق، لشرون،; تفّوح، حِفر،$E مقیدہ، بیت ایل،%G لِبناہ، عدُلام،; حُرمہ، عراد،3 دبیر، جدر،7 عجلون، جزر،~; یرموت، لکیس،#}C یروشلم، حبرون،2|a یریحو، عَی نزد بیت ایل،|{s یعنی پہاڑی علاقہ، مغرب کا نشیبی پہاڑی علاقہ، یردن کی وادی، اُس کے مغرب میں واقع پہاڑی ڈھلانیں، یہوداہ کا ریگستان اور دشتِ نجب۔ پہلے یہ سب کچھ حِتّیوں، اموریوں، کنعانیوں، فرِزّیوں، حِوّیوں اور یبوسیوں کے ہاتھ میں تھا۔ ذیل کے ہر شہر کا اپنا بادشاہ تھا، اور ہر ایک نے شکست کھائی:  W q ] اِس میں فلستیوں کے تمام علاقے اُن کے شاہی شہروں غزہ، اشدود، اسقلون، جات اور عقرون سمیت شامل ہیں اور اِسی طرح جسور کا علاقہ جس کی جنوبی سرحد وادیِ سیحور ہے جو مصر کے مشرق میں ہے اور جس کی شمالی سرحد عقرون ہے۔ اُسے بھی ملکِ کنعان کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ عَوّیوں کا علاقہ بھیi  O جب یشوع بوڑھا تھا تو رب نے اُس سے کہا، ”تُو بہت بوڑھا ہو چکا ہے، لیکن ابھی کافی کچھ باقی رہ گیا ہے جس پر قبضہ کرنے کی ضرورت ہے۔R  اور تِرضہ۔ بادشاہوں کی کُل تعداد 31 تھی۔ N  نافت دور میں واقع دور، جِلجال کا گوئیم1 _ قادس، کرمل کا یُقنعام،!? تعنک، مجِدّو،  V' جو جنوب میں ہے اب تک اسرائیل کے قبضے میں نہیں آیا۔ یہی بات شمال پر بھی صادق آتی ہے۔ صیدانیوں کے شہر معارہ سے لے کر افیق شہر اور اموریوں کی سرحد تک سب کچھ اب تک اسرائیل کی حکومت سے باہر ہے۔q] اِس میں فلستیوں کے تمام علاقے اُن کے شاہی شہروں غزہ، اشدود، اسقلون، جات اور عقرون سمیت شامل ہیں اور اِسی طرح جسور کا علاقہ جس کی جنوبی سرحد وادیِ سیحور ہے جو مصر کے مشرق میں ہے اور جس کی شمالی سرحد عقرون ہے۔ اُسے بھی ملکِ کنعان کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ عَوّیوں کا علاقہ بھی $}u اُسے نو باقی قبیلوں اور منسّی کے آدھے قبیلے کو وراثت میں دے دے۔“  اِس میں اُن صیدانیوں کا تمام علاقہ بھی شامل ہے جو لبنان کے پہاڑوں اور مسرفات مائم کے درمیان کے پہاڑی علاقے میں آباد ہیں۔ اسرائیلیوں کے بڑھتے بڑھتے مَیں خود ہی اِن لوگوں کو اُن کے سامنے سے نکال دوں گا۔ لیکن لازم ہے کہ تُو قرعہ ڈال کر یہ پورا ملک میرے حکم کے مطابق اسرائیلیوں میں تقسیم کرے۔X+ اِس کے علاوہ جبلیوں کا ملک اور مشرق میں پورا لبنان حرمون پہاڑ کے دامن میں بعل جد سے لے کر لبو حمات تک باقی رہ گیا ہے۔ G<s یوں حسبون کے اموری بادشاہ سیحون کے تمام شہر اُن کے قبضہ میں آ گئے تھے یعنی جنوبی وادیِ ارنون کے کنارے پر شہر عروعیر اور اُسی وادی کے بیچ کے شہر سے لے کر شمال میں عمونیوں کی سرحد تک۔ دیبون اور میدبا کے درمیان کا میدانِ مرتفع بھی اِس میں شامل تھا5e رب کا خادم موسیٰ روبن، جد اور منسّی کے باقی آدھے قبیلے کو دریائے یردن کا مشرقی علاقہ دے چکا تھا۔ j@jR اور اِسی طرح جِلعاد، جسوریوں اور معکاتیوں کا علاقہ، حرمون کا پہاڑی علاقہ اور سلکہ شہر تک بسن کا سارا علاقہ بھی۔<s یوں حسبون کے اموری بادشاہ سیحون کے تمام شہر اُن کے قبضہ میں آ گئے تھے یعنی جنوبی وادیِ ارنون کے کنارے پر شہر عروعیر اور اُسی وادی کے بیچ کے شہر سے لے کر شمال میں عمونیوں کی سرحد تک۔ دیبون اور میدبا کے درمیان کا میدانِ مرتفع بھی اِس میں شامل تھا sKs5e صرف لاوی کے قبیلے کو کوئی زمین نہ ملی، کیونکہ اُن کا موروثی حصہ جلنے والی وہ قربانیاں ہیں جو رب اسرائیل کے خدا کے لئے چڑھائی جاتی ہیں۔ رب نے یہی کچھ موسیٰ کو بتایا تھا۔1 صرف جسوری اور معکاتی باقی رہ گئے تھے، اور یہ آج تک اسرائیلیوں کے درمیان رہتے ہیں۔1] پہلے یہ سارا علاقہ بسن کے بادشاہ عوج کے قبضے میں تھا جس کی حکومت کے مرکز عستارات اور اِدرعی تھے۔ رفائیوں کے دیو قبیلے سے صرف عوج باقی رہ گیا تھا۔ موسیٰ کی راہنمائی کے تحت اسرائیلیوں نے اُس علاقے پر فتح پا کر تمام باشندوں کو نکال دیا تھا۔ Bzo بیت فغور، پسگہ کے پہاڑی سلسلے پر موجود آبادیاں اور بیت یسیموت۔5 قرِیَتائم، سِبماہ، ضرۃ السحر جو بحیرۂ مُردار کے مشرق میں واقع پہاڑی علاقے میں ہے،,U یہض، قدیمات، مِفعت،T# اور حسبون تک۔ وہاں کے میدانِ مرتفع پر واقع تمام شہر بھی روبن کے سپرد کئے گئے یعنی دیبون، بامات بعل، بیت بعل معون، وادیِ ارنون کے کنارے پر شہر عروعیر اور اُسی وادی کے بیچ کے شہر سے لے کر میدبا}u موسیٰ نے روبن کے قبیلے کو اُس کے کنبوں کے مطابق ذیل کا علاقہ دیا۔ AIA" روبن کے قبیلے کی مغربی سرحد دریائے یردن تھی۔ یہی شہر اور آبادیاں روبن کے قبیلے کو اُس کے کنبوں کے مطابق دی گئیں، اور وہ اُس کی میراث ٹھہریں۔! جن لوگوں کو اُس وقت مارا گیا اُن میں سے بلعام بن بعور بھی تھا جو غیب دان تھا۔ 7 میدانِ مرتفع کے تمام شہر روبن کے قبیلے کو دیئے گئے یعنی اموریوں کے بادشاہ سیحون کی پوری بادشاہی جس کا دار الحکومت حسبون شہر تھا۔ موسیٰ نے سیحون کو مار ڈالا تھا اور اُس کے ساتھ پانچ مِدیانی رئیسوں کو بھی جنہیں سیحون نے اپنے ملک میں مقرر کیا تھا۔ اِن رئیسوں کے نام اِوی، رِقم، صور، حور اور رِبع تھے۔ E  "-8CMXcny)4?JU`kv%0;FQ[fq|                                                                          !  "  #  $  %  &  '  (  )  *  +  !,  - . / 0 1 2 3 4  5  6  7  8  9 : ;  < = > ? @ A B C  D  E  F  G  H I J K R% اور حسبون کے بادشاہ سیحون کی بادشاہی کا باقی شمالی حصہ یعنی حسبون، رامت المصفات اور بطونیم کے درمیان کا علاقہ اور محنائم اور دبیر کے درمیان کا علاقہ۔ اِس کے علاوہ جد کو وادیِ یردن کا وہ مشرقی حصہ بھی مل گیا جو بیت ہارم، بیت نِمرہ، سُکات اور صفون پر مشتمل تھا۔ یوں اُس کی شمالی سرحد کِنّرت یعنی گلیل کی جھیل کا جنوبی کنارہ تھا۔$5 یعزیر کا علاقہ، جِلعاد کے تمام شہر، عمونیوں کا آدھا حصہ ربّہ کے قریب شہر عروعیر تکy#m موسیٰ نے جد کے قبیلے کو اُس کے کنبوں کے مطابق ذیل کا علاقہ دیا۔ qq( جو علاقہ موسیٰ نے منسّی کے آدھے حصے کو اُس کے کنبوں کے مطابق دیا تھا/'Y یہی شہر اور آبادیاں جد کے قبیلے کو اُس کے کنبوں کے مطابق دی گئیں، اور وہ اُس کی میراث ٹھہریں۔R& اور حسبون کے بادشاہ سیحون کی بادشاہی کا باقی شمالی حصہ یعنی حسبون، رامت المصفات اور بطونیم کے درمیان کا علاقہ اور محنائم اور دبیر کے درمیان کا علاقہ۔ اِس کے علاوہ جد کو وادیِ یردن کا وہ مشرقی حصہ بھی مل گیا جو بیت ہارم، بیت نِمرہ، سُکات اور صفون پر مشتمل تھا۔ یوں اُس کی شمالی سرحد کِنّرت یعنی گلیل کی جھیل کا جنوبی کنارہ تھا۔  x,k !لیکن لاوی کو موسیٰ سے کوئی موروثی زمین نہیں ملی تھی، کیونکہ رب اسرائیل کا خدا اُن کا موروثی حصہ ہے جس طرح اُس نے اُن سے وعدہ کیا تھا۔ p+[ موسیٰ نے اِن موروثی زمینوں کی تقسیم اُس وقت کی تھی جب وہ دریائے یردن کے مشرق میں موآب کے میدانی علاقے میں یریحو شہر کے مقابل تھا۔g*I جِلعاد کا آدھا حصہ عوج کی حکومت کے دو مراکز عستارات اور اِدرعی سمیت مکیر بن منسّی کی اولاد کو اُس کے کنبوں کے مطابق دیا گیا۔) وہ محنائم سے لے کر شمال میں عوج بادشاہ کی تمام بادشاہی پر مشتمل تھا۔ اُس میں ملکِ بسن اور وہ 60 آبادیاں شامل تھیں جن پر یائیر نے فتح پائی تھی۔ N.قرعہ ڈال کر مقرر کیا کہ ہر قبیلے کو کون کون سا علاقہ مل جائے۔ یوں ویسا ہی ہوا جس طرح رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔=- wاسرائیل کے باقی ساڑھے نو قبیلوں کو دریائے یردن کے مغرب میں یعنی ملکِ کنعان میں زمین مل گئی۔ اِس کے لئے اِلی عزر امام، یشوع بن نون اور قبیلوں کے آبائی گھرانوں کے سربراہوں نے /#موسیٰ اڑھائی قبیلوں کو اُن کی موروثی زمین دریائے یردن کے مشرق میں دے چکا تھا، کیونکہ یوسف کی اولاد کے دو قبیلے منسّی اور افرائیم وجود میں آئے تھے۔ لیکن لاویوں کو اُن کے درمیان زمین نہ مل گئی۔ اسرائیلیوں نے لاویوں کو زمین نہ دی بلکہ اُنہیں صرف رہائش کے لئے شہر اور ریوڑوں کے لئے چراگاہیں دیں۔ KK1-یوں اُنہوں نے زمین کو اُن ہی ہدایات کے مطابق تقسیم کیا جو رب نے موسیٰ کو دی تھیں۔0#موسیٰ اڑھائی قبیلوں کو اُن کی موروثی زمین دریائے یردن کے مشرق میں دے چکا تھا، کیونکہ یوسف کی اولاد کے دو قبیلے منسّی اور افرائیم وجود میں آئے تھے۔ لیکن لاویوں کو اُن کے درمیان زمین نہ مل گئی۔ اسرائیلیوں نے لاویوں کو زمین نہ دی بلکہ اُنہیں صرف رہائش کے لئے شہر اور ریوڑوں کے لئے چراگاہیں دیں۔ mk*m94mافسوس کہ جو بھائی میرے ساتھ گئے تھے اُنہوں نے لوگوں کو ڈرایا۔ لیکن مَیں رب اپنے خدا کا وفادار رہا۔=3uمَیں 40 سال کا تھا جب رب کے خادم موسیٰ نے مجھے ملکِ کنعان کا جائزہ لینے کے لئے قادس برنیع سے بھیج دیا۔ جب واپس آیا تو مَیں نے موسیٰ کو دیانت داری سے سب کچھ بتایا جو دیکھا تھا۔2جِلجال میں یہوداہ کے قبیلے کے مرد یشوع کے پاس آئے۔ یفُنّہ قنِزّی کا بیٹا کالب بھی اُن کے ساتھ تھا۔ اُس نے یشوع سے کہا، ”آپ کو یاد ہے کہ رب نے مردِ خدا موسیٰ سے آپ کے اور میرے بارے میں کیا کچھ کہا جب ہم قادس برنیع میں تھے۔ gOgd7C اور اب تک اُتنا ہی طاقت ور ہوں جتنا کہ اُس وقت تھا جب مَیں جاسوس تھا۔ اب تک میری باہر نکلنے اور جنگ کرنے کی وہی قوت قائم ہے۔s6a اور اب ایسا ہی ہوا ہے جس طرح رب نے وعدہ کیا تھا۔ اُس نے مجھے اب تک زندہ رہنے دیا ہے۔ رب کو موسیٰ سے یہ بات کئے 45 سال گزر گئے ہیں۔ اُس سارے عرصے میں ہم ریگستان میں گھومتے پھرتے رہے ہیں۔ آج مَیں 85 سال کا ہوں،65g اُس دن موسیٰ نے قَسم کھا کر مجھ سے وعدہ کیا، ’جس زمین پرتیرے پاؤں چلے ہیں وہ ہمیشہ تک تیری اور تیری اولاد کی وراثت میں رہے گی۔ کیونکہ تُو رب میرے خدا کا وفادار رہا ہے۔‘ GG.:Wپہلے حبرون قِریَت اربع یعنی اربع کا شہر کہلاتا تھا۔ اربع عناقیوں کا سب سے بڑا آدمی تھا۔ آج تک یہ شہر کالب کی اولاد کی ملکیت رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کالب رب اسرائیل کے خدا کا وفادار رہا۔ پھر جنگ ختم ہوئی، اور ملک میں امن و امان قائم ہو گیا۔ 9 تب یشوع نے کالب بن یفُنّہ کو برکت دے کر اُسے وراثت میں حبرون دے دیا۔}8u اب مجھے وہ پہاڑی علاقہ دے دیں جس کا وعدہ رب نے اُس دن مجھ سے کیا تھا۔ آپ نے خود سنا ہے کہ عناقی وہاں بڑے قلعہ بند شہروں میں بستے ہیں۔ لیکن شاید رب میرے ساتھ ہو اور مَیں اُنہیں نکال دوں جس طرح اُس نے فرمایا ہے۔“ Nu=eیہوداہ کی جنوبی سرحد بحیرۂ مُردار کے جنوبی سرے سے شروع ہو کرS< #جب اسرائیلیوں نے قرعہ ڈال کر ملک کو تقسیم کیا تو یہوداہ کے قبیلے کو اُس کے کنبوں کے مطابق کنعان کا جنوبی حصہ مل گیا۔ اِس علاقے کی سرحد ملکِ ادوم اور انتہائی جنوب میں صین کا ریگستان تھا۔.;Wپہلے حبرون قِریَت اربع یعنی اربع کا شہر کہلاتا تھا۔ اربع عناقیوں کا سب سے بڑا آدمی تھا۔ آج تک یہ شہر کالب کی اولاد کی ملکیت رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کالب رب اسرائیل کے خدا کا وفادار رہا۔ پھر جنگ ختم ہوئی، اور ملک میں امن و امان قائم ہو گیا۔ vv@#مشرق میں اُس کی سرحد بحیرۂ مُردار کے ساتھ ساتھ چل کر وہاں ختم ہوئی جہاں دریائے یردن بحیرۂ مُردار میں بہتا ہے۔ یہوداہ کی شمالی سرحد یہیں سے شروع ہو کر ?اِس کے بعد وہ عضمون سے ہو کر مصر کی سرحد پر واقع وادئی مصر تک پہنچ گئی جس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی وہ سمندر پر ختم ہوئی۔ یہ یہوداہ کی جنوبی سرحد تھی۔]>5جنوب کی طرف چلتی چلتی درۂ عقربیم پہنچ گئی۔ وہاں سے وہ صین کی طرف جاری ہوئی اور قادس برنیع کے جنوب میں سے آگے نکل کر حصرون تک پہنچ گئی۔ حصرون سے وہ ادار کی طرف چڑھ گئی اور پھر قرقع کی طرف مُڑی۔ C@CPCوہاں سے وہ وادیِ بن ہنوم میں سے گزرتی ہوئی یبوسیوں کے شہر یروشلم کے جنوب میں سے آگے نکل گئی اور پھر اُس پہاڑ پر چڑھ گئی جو وادیِ بن ہنوم کے مغرب اور میدانِ رفائیم کے شمالی کنارے پر ہے۔%BEوہاں سے سرحد وادیِ عکور میں اُتر گئی اور پھر دوبارہ دبیر کی طرف چڑھ گئی۔ دبیر سے وہ شمال یعنی جِلجال کی طرف جو درۂ ادُمیم کے مقابل ہے مُڑ گئی (یہ درہ وادی کے جنوب میں ہے)۔ یوں وہ چلتی چلتی شمالی سرحد عین شمس اور عین راجل تک پہنچ گئی۔Ew بعلہ سے مُڑ کر یہوداہ کی یہ سرحد مغرب میں سعیر کے پہاڑی علاقے کی طرف بڑھ گئی اور یعریم پہاڑ یعنی کسلون کے شمالی دامن کے ساتھ ساتھ چل کر بیت شمس کی طرف اُتر کر تِمنت پہنچ گئی۔zDo وہاں سرحد مُڑ کر چشمہ بنام نفتوح کی طرف بڑھ گئی اور پھر پہاڑی علاقے عفرون کے شہروں کے پاس سے گزر کر بعلہ یعنی قرِیَت یعریم تک پہنچ گئی۔ 13J%پھر وہ آگے دبیر کے باشندوں سے لڑنے چلا گیا۔ دبیر کا پرانا نام قِریَت سِفر تھا۔QIحبرون میں تین عناقی بنام سیسی، اخی مان اور تلمی اپنے گھرانوں سمیت رہتے تھے۔ کالب نے تینوں کو حبرون سے نکال دیا۔%HE رب کے حکم کے مطابق یشوع نے کالب بن یفُنّہ کو اُس کا حصہ یہوداہ میں دے دیا۔ وہاں اُسے حبرون شہر مل گیا۔ اُس وقت اُس کا نام قِریَت اربع تھا (اربع عناق کا باپ تھا)۔KG سمندر ملکِ یہوداہ کی مغربی سرحد تھی۔ یہی وہ علاقہ تھا جو یہوداہ کے قبیلے کو اُس کے خاندانوں کے مطابق مل گیا۔ ;4d;%MEجب عکسہ غُتنیایل کے ہاں جا رہی تھی تو اُس نے اُسے اُبھارا کہ وہ کالب سے کوئی کھیت پانے کی درخواست کرے۔ اچانک وہ گدھے سے اُتر گئی۔ کالب نے پوچھا، ”کیا بات ہے؟“LLکالب کے بھائی غُتنی ایل بن قنز نے شہر پر قبضہ کر لیا۔ چنانچہ کالب نے اُس کے ساتھ اپنی بیٹی عکسہ کی شادی کر دی۔HK کالب نے کہا، ”جو قِریَت سِفر پر فتح پا کر قبضہ کرے گا اُس کے ساتھ مَیں اپنی بیٹی عکسہ کا رشتہ باندھوں گا۔“ (j9a(6Viحصار جدہ، حشمون، بیت فلط،,UUاَمام، سمع، مولادہ،HT حصور حدتہ، قِریَت حصرون یعنی حصور،*SQزیف، طِلِم، بعلوت،.RYقادِس، حصور، اِتنان،.QYقینہ، دیمونہ، عدعدہ،0P[اُس میں ذیل کے شہر شامل تھے۔ جنوب میں ملکِ ادوم کی سرحد کی طرف یہ شہر تھے: قبضئیل، عِدر، یجور،sOaجو موروثی زمین یہوداہ کے قبیلے کو اُس کے کنبوں کے مطابق ملیhNKعکسہ نے جواب دیا، ”جہیز کے لئے مجھے ایک چیز سے نوازیں۔ آپ نے مجھے دشتِ نجب میں زمین دے دی ہے۔ اب مجھے چشمے بھی دے دیجئے۔“ چنانچہ کالب نے اُسے اپنی ملکیت میں سے اوپر اور نیچے والے چشمے بھی دے دیئے۔ g^%JOgd_C$شعریم، عدِتیم اور جدیرہ یعنی جدیرتیم۔ اِن شہروں کی تعداد 14 تھی۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔;^s#یرموت، عدُلام، سوکہ، عزیقہ،>]y"زنوح، عین جنیم، تفّوح، عینام،y\m!مغرب کے نشیبی پہاڑی علاقے میں یہ شہر تھے: اِستال، صُرعہ، اسنا،W[) لباؤت، سِلحیم، عین اور رِمّون۔ اِن شہروں کی تعداد 29 تھی۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔6Ziصِقلاج، مدمنّہ، سنسناّہ،0Y]اِلتولد، کسیل، حُرمہ،(XMبعلہ، عیّیم، عضم،AWحصار سوعال، بیرسبع، بِزیوتیاہ، +`1+h%-اِن کے علاوہ یہ شہر بھی تھے: عقرون اُس کے گرد و نواح کی آبادیوں اور دیہات سمیت،Ig ,قعیلہ، اکزیب اور مریسہ۔ اِن شہروں کی تعداد 9 تھی۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔*fQ+یفتاح، اسنہ، نصیب،]e5*اِس علاقے میں یہ شہر بھی تھے: لِبناہ، عتر، عسن،\d3)جدیروت، بیت دجون، نعمہ اور مقیدہ۔ اِن شہروں کی تعداد 16 تھی۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔0c](کبّون، لحماس، کِتلیس،,bU'لکیس، بُصقت، عجلون،4ae&دلعان، مِصفاہ، یُقتئیل،f`G%اِن کے علاوہ یہ شہر بھی تھے: ضِنان، حداشہ، مِجدل جد، E  !,7BMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr| M N O P Q R S T  M N O P Q R S T U V W X Y Z  [ !\ "] #^ $_ %` &a 'b (c )d *e +f ,g -h .i /j 0k 1l 2m 3n 4o 5p 6q 7r 8s 9t :u ;v <w =x >y ?z  { | } ~                            I OIQn3جُشن، حولون اور جِلوہ۔ اِن شہروں کی تعداد 11 تھی، اور اُن کے گرد و نواح کی آبادیاں بھی اُن کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔.mY2عناب، اِستموہ، عنیم،نبسان، نمک کا شہر اور عین جدی۔ اِن شہروں کی تعداد 6 تھی۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔x=ریگستان میں یہ شہر یہوداہ کے قبیلے کے تھے: بیت عرابہ، مدّین، سکاکہ،w<پھر قِریَت بعل یعنی قِریَت یعریم اور ربّہ بھی یہوداہ کے پہاڑی علاقے میں شامل تھے۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔Rv;معرات، بیت عنوت اور اِلتقون۔ اِن شہروں کی تعداد 6 تھی۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔ }{وہاں سے وہ مغرب کی طرف اُترتی اُترتی یفلیطیوں کے علاقے میں داخل ہوئی جہاں وہ نشیبی بیت حورون میں سے گزر کر جزر کے پیچھے سمندر پر ختم ہوئی۔|لُوز یعنی بیت ایل سے آگے نکل کر وہ ارکیوں کے علاقے میں عطارات پہنچی۔o{ [قرعہ ڈالنے سے یوسف کی اولاد کا علاقہ مقرر کیا گیا۔ اُس کی سرحد یریحو کے قریب دریائے یردن سے شروع ہوئی، شہر کے مشرق میں چشموں کے پاس سے گزری اور ریگستان میں سے چلتی چلتی بیت ایل کے پہاڑی علاقے تک پہنچی۔lzS?لیکن یہوداہ کا قبیلہ یبوسیوں کو یروشلم سے نکالنے میں ناکام رہا۔ اِس لئے اُن کی اولاد آج تک یہوداہ کے قبیلے کے درمیان رہتی ہے۔ dEd]5افرائیم کے قبیلے کو اُس کے کنبوں کے مطابق یہ علاقہ مل گیا: اُس کی جنوبی سرحد عطارات ادّار اور بالائی بیت حورون سے ہو کر7~iیہ اُس علاقے کی جنوبی سرحد تھی جو یوسف کی اولاد افرائیم اور منسّی کے قبیلوں کو وراثت میں دیا گیا۔ jOسمندر پر ختم ہوئی۔ اُس کی شمالی سرحد مغرب میں سمندر سے شروع ہوئی اور قاناہ ندی کے ساتھ چلتی چلتی تفّوح تک پہنچی۔ وہاں سے وہ شمال کی طرف مُڑی اور مِکمتاہ تک پہنچ کر دوبارہ مشرق کی طرف چلنے لگی۔ پھر وہ تانت سَیلا سے ہو کر ینوحاہ پہنچی۔ مشرقی سرحد شمال میں ینوحاہ سے شروع ہوئی اور عطارات سے ہو کر دریائے یردن کے مغربی کنارے تک اُتری اور پھر کنارے کے ساتھ جنوب کی طرف چلتی چلتی نعرہ اور اِس کے بعد یریحو پہنچی۔ وہاں وہ دریائے یردن پر ختم ہوئی۔ یہی افرائیم اور اُس کے کنبوں کی سرحدیں تھیں۔ jOسمندر پر ختم ہوئی۔ اُس کی شمالی سرحد مغرب میں سمندر سے شروع ہوئی اور قاناہ ندی کے ساتھ چلتی چلتی تفّوح تک پہنچی۔ وہاں سے وہ شمال کی طرف مُڑی اور مِکمتاہ تک پہنچ کر دوبارہ مشرق کی طرف چلنے لگی۔ پھر وہ تانت سَیلا سے ہو کر ینوحاہ پہنچی۔ مشرقی سرحد شمال میں ینوحاہ سے شروع ہوئی اور عطارات سے ہو کر دریائے یردن کے مغربی کنارے تک اُتری اور پھر کنارے کے ساتھ جنوب کی طرف چلتی چلتی نعرہ اور اِس کے بعد یریحو پہنچی۔ وہاں وہ دریائے یردن پر ختم ہوئی۔ یہی افرائیم اور اُس کے کنبوں کی سرحدیں تھیں۔ jOسمندر پر ختم ہوئی۔ اُس کی شمالی سرحد مغرب میں سمندر سے شروع ہوئی اور قاناہ ندی کے ساتھ چلتی چلتی تفّوح تک پہنچی۔ وہاں سے وہ شمال کی طرف مُڑی اور مِکمتاہ تک پہنچ کر دوبارہ مشرق کی طرف چلنے لگی۔ پھر وہ تانت سَیلا سے ہو کر ینوحاہ پہنچی۔ مشرقی سرحد شمال میں ینوحاہ سے شروع ہوئی اور عطارات سے ہو کر دریائے یردن کے مغربی کنارے تک اُتری اور پھر کنارے کے ساتھ جنوب کی طرف چلتی چلتی نعرہ اور اِس کے بعد یریحو پہنچی۔ وہاں وہ دریائے یردن پر ختم ہوئی۔ یہی افرائیم اور اُس کے کنبوں کی سرحدیں تھیں۔ 12d Eیوسف کے پہلوٹھے منسّی کی اولاد کو دو علاقے مل گئے۔ دریائے یردن کے مشرق میں مکیر کے گھرانے کو جِلعاد اور بسن دیئے گئے۔ مکیر منسّی کا پہلوٹھا اور جِلعاد کا باپ تھا، اور اُس کی اولاد ماہر فوجی تھی۔{q افرائیم کے مردوں نے جزر میں آباد کنعانیوں کو نہ نکالا۔ اِس لئے اُن کی اولاد آج تک وہاں رہتی ہے، البتہ اُسے بیگار میں کام کرنا پڑتا ہے۔ K اِس کے علاوہ کچھ شہر اور اُن کے گرد و نواح کی آبادیاں افرائیم کے لئے مقرر کی گئیں جو منسّی کے علاقے میں تھیں۔ vgصلافحاد بن حِفر بن جِلعاد بن مکیر بن منسّی کے بیٹے نہیں تھے بلکہ صرف بیٹیاں۔ اُن کے نام محلاہ، نوعاہ، حُجلاہ، مِلکاہ اور تِرضہ تھے۔a=اب قرعہ ڈالنے سے دریائے یردن کے مغرب میں وہ علاقہ مقرر کیا گیا جہاں منسّی کے باقی بیٹوں کی اولاد کو آباد ہونا تھا۔ اِن کے چھ کنبے تھے جن کے نام ابی عزر، خلق، اسری ایل، سِکم، حِفر اور سمیدع تھے۔ [P[. Wمغرب میں نہ صرف منسّی کی نرینہ اولاد کے خاندانوں کو زمین ملی بلکہ بیٹیوں کے خاندانوں کو بھی۔ اِس کے برعکس مشرق میں جِلعاد کی زمین صرف نرینہ اولاد میں تقسیم کی گئی۔? yنتیجے میں منسّی کے قبیلے کو دریائے یردن کے مغرب میں زمین کے دس حصے مل گئے اور مشرق میں جِلعاد اور بسن۔,Sیہ خواتین اِلی عزر امام، یشوع بن نون اور قوم کے بزرگوں کے پاس آئیں اور کہنے لگیں، ”رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا کہ وہ ہمیں بھی قبائلی علاقے کا کوئی حصہ دے۔“ یشوع نے رب کا حکم مان کر نہ صرف منسّی کی نرینہ اولاد کو زمین دی بلکہ اُنہیں بھی۔ ,I   وہاں سے سرحد قاناہ ندی کے جنوبی کنارے تک اُتری۔ پھر ندی کے ساتھ چلتی چلتی وہ سمندر پر ختم ہوئی۔ ندی کے جنوبی کنارے پر کچھ شہر افرائیم کی ملکیت تھے اگرچہ وہ منسّی کے علاقے میں تھے۔F تفّوح کے گرد و نواح کی زمین افرائیم کی ملکیت تھی، لیکن منسّی کی سرحد پر کے یہ شہر منسّی کی اپنی ملکیت تھے۔ منسّی کے قبیلے کے علاقے کی سرحد آشر سے شروع ہوئی اور سِکم کے مشرق میں واقع مِکمتاہ سے ہو کر جنوب کی طرف چلتی ہوئی عین تفّوح کی آبادی تک پہنچی۔ Z2 لیکن منسّی کا قبیلہ وہاں کے کنعانیوں کو نکال نہ سکا بلکہ وہ وہاں بستے رہے۔$C آشر اور اِشکار کے علاقوں کے درجِ ذیل شہر منسّی کی ملکیت تھے: بیت شان، اِبلیعام، دور یعنی نفوت دور، عین دور، تعنک اور مجِدّو اُن کے گرد و نواح کی آبادیوں سمیت۔"? لیکن مجموعی طور پر منسّی کا قبائلی علاقہ قاناہ ندی کے شمال میں تھا اور افرائیم کا علاقہ اُس کے جنوب میں۔ دونوں قبیلوں کا علاقہ مغرب میں سمندر پر ختم ہوا۔ منسّی کے علاقے کے شمال میں آشر کا قبائلی علاقہ تھا اور مشرق میں اِشکار کا۔ '<'Y-یشوع نے جواب دیا، ”اگر آپ اِتنے زیادہ ہیں اور آپ کے لئے افرائیم کا پہاڑی علاقہ کافی نہیں ہے تو پھر فرِزّیوں اور رفائیوں کے پہاڑی جنگلوں میں جائیں اور اُنہیں کاٹ کر کاشت کے قابل بنا لیں۔“4cیوسف کے قبیلے افرائیم اور منسّی دریائے یردن کے مغرب میں زمین پانے کے بعد یشوع کے پاس آئے اور کہنے لگے، ”آپ نے ہمارے لئے قرعہ ڈال کر زمین کا صرف ایک حصہ کیوں مقرر کیا؟ ہم تو بہت زیادہ لوگ ہیں، کیونکہ رب نے ہمیں برکت دے کر بڑی قوم بنایا ہے۔“@{ بعد میں بھی جب اسرائیل کی طاقت بڑھ گئی تو کنعانیوں کو نکالا نہ گیا بلکہ اُنہیں بیگار میں کام کرنا پڑا۔ NG لیکن یشوع نے جواب میں کہا، ”آپ اِتنی بڑی اور طاقت ور قوم ہیں کہ آپ کا علاقہ ایک ہی حصے پر محدود نہیں رہے گا.Wیوسف کے قبیلوں نے کہا، ”پہاڑی علاقہ ہمارے لئے کافی نہیں ہے، اور میدانی علاقے میں آباد کنعانیوں کے پاس لوہے کے رتھ ہیں، اُن کے پاس بھی جو وادیِ یزرعیل میں ہیں اور اُن کے پاس بھی جو بیت شان اور اُس کے گرد و نواح کی آبادیوں میں رہتے ہیں۔“ Iw'!یشوع نے اسرائیلیوں کو سمجھا کر کہا، ”آپ کتنی دیر تک سُست رہیں گے؟ آپ کب تک اُس ملک پر قبضہ نہیں کریں گے جو رب آپ کے باپ دادا کے خدا نے آپ کو دے دیا ہے؟Mاب تک سات قبیلوں کو زمین نہیں ملی تھی۔N کنعان پر غالب آنے کے بعد اسرائیل کی پوری جماعت سَیلا شہر میں جمع ہوئی۔ وہاں اُنہوں نے ملاقات کا خیمہ کھڑا کیا۔3aبلکہ جنگل کا پہاڑی علاقہ بھی آپ کی ملکیت میں آئے گا۔ اُس کے جنگلوں کو کاٹ کر کاشت کے قابل بنا لیں تو یہ تمام علاقہ آپ ہی کا ہو گا۔ آپ باقی علاقے پر بھی قبضہ کر کے کنعانیوں کو نکال دیں گے اگرچہ وہ طاقت ور ہیں اور اُن کے پاس لوہے کے رتھ ہیں۔“ kkEوہ آدمی لکھ لیں کہ سات نئے قبائلی علاقوں کی سرحدیں کہاں کہاں تک ہیں اور پھر اِن کی فہرستیں پیش کریں۔ پھر مَیں رب آپ کے خدا کے حضور مُقدّس قرعہ ڈال کر ہر ایک کی زمین مقرر کروں گا۔ملک کو سات علاقوں میں تقسیم کریں۔ لیکن دھیان رکھیں کہ جنوب میں یہوداہ کا علاقہ اور شمال میں افرائیم اور منسّی کا علاقہ ہے۔ اُن کی سرحدیں مت چھیڑنا!3aاب ہر قبیلے کے تین تین آدمیوں کو چن لیں۔ اُنہیں مَیں ملک کا دورہ کرنے کے لئے بھیج دوں گا تاکہ وہ تمام قبائلی علاقوں کی فہرست تیار کریں۔ اِس کے بعد وہ میرے پاس واپس آ کر uWu^7تب وہ آدمی روانہ ہونے کے لئے تیار ہوئے جنہیں ملک کا دورہ کرنے کے لئے چنا گیا تھا۔ یشوع نے اُنہیں حکم دیا، ”پورے ملک میں سے گزر کر تمام شہروں کی فہرست بنائیں۔ جب فہرست مکمل ہو جائے تو اُسے میرے پاس لے آئیں۔ پھر مَیں سَیلا میں رب کے حضور آپ کے لئے قرعہ ڈال دوں گا۔“%Eیاد رہے کہ لاویوں کو کوئی علاقہ نہیں ملنا ہے۔ اُن کا حصہ یہ ہے کہ وہ رب کے امام ہیں۔ اور جد، روبن اور منسّی کے آدھے قبیلے کو بھی مزید کچھ نہیں ملنا ہے، کیونکہ اُنہیں رب کے خادم موسیٰ سے دریائے یردن کے مشرق میں اُن کا حصہ مل چکا ہے۔“ i!M جب قرعہ ڈالا گیا تو بن یمین کے قبیلے اور اُس کے کنبوں کو پہلا حصہ مل گیا۔ اُس کی زمین یہوداہ اور یوسف کے قبیلوں کے درمیان تھی۔2 _ پھر یشوع نے رب کے حضور قرعہ ڈال کر یہ علاقے باقی سات قبیلوں اور اُن کے کنبوں میں تقسیم کر دیئے۔V' آدمی چلے گئے اور پورے ملک میں سے گزر کر تمام شہروں کی فہرست بنا لی۔ اُنہوں نے ملک کو سات حصوں میں تقسیم کر کے تمام تفصیلات کتاب میں درج کیں اور یہ کتاب سَیلا کی خیمہ گاہ میں یشوع کو دے دی۔   %;بن یمین کی جنوبی سرحد قِریَت یعریم کے مغربی کنارے سے شروع ہو کر نفتوح چشمہ تک پہنچی۔]$5پھر وہ جنوب کی طرف مُڑ کر مغربی سرحد کے طور پر قِریَت بعل یعنی قِریَت یعریم کے پاس آئی جو یہوداہ کے قبیلے کی ملکیت تھی۔7#i وہ لُوز یعنی بیت ایل کی طرف بڑھ کر شہر کے جنوب میں پہاڑی ڈھلان پر چلتی چلتی آگے نکل گئی۔ وہاں سے وہ عطارات ادّار اور اُس پہاڑی تک پہنچی جو نشیبی بیت حورون کے جنوب میں ہے۔"3 اُس کی شمالی سرحد دریائے یردن سے شروع ہوئی اور یریحو کے شمال میں پہاڑی ڈھلان پر چڑھ کر پہاڑی علاقے میں سے مغرب کی طرف گزری۔ بیت آون کے بیابان کو پہنچنے پر A(}وہاں سے وہ اُس ڈھلان کے شمالی رُخ پر سے گزری جو وادیِ یردن کے مغربی کنارے پر ہے۔ پھر وہ وادی میں اُتر کر{'qپھر وہ شمال کی طرف مُڑ کر عین شمس کے پاس سے گزری اور درۂ ادُمیم کے مقابل شہر جلیلوت تک پہنچ کر روبن کے بیٹے بوہن کے پتھر کے پاس اُتر آئی۔w&iپھر وہ اُس پہاڑ کے دامن پر اُتر آئی جو وادیِ بن ہنوم کے مغرب میں اور میدانِ رفائیم کے شمال میں واقع ہے۔ اِس کے بعد سرحد یبوسیوں کے شہر کے جنوب میں سے گزری اور یوں وادیِ ہنوم کو پار کر کے عین راجل کے پاس آئی۔ i^1iD.کفر العمونی، عُفنی اور جِبع۔ یہ کُل 12 شہر تھے۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔*-Qعویم، فارہ، عُفرہ،8,mبیت عرابہ، صمریم، بیت ایل،|+sذیل کے شہر اِس علاقے میں شامل تھے: یریحو، بیت حُجلاہ، عِمق قصیص،D*اُس کی مشرقی سرحد دریائے یردن تھی۔ یہی وہ علاقہ تھا جو بن یمین کے قبیلے کو اُس کے کنبوں کے مطابق دیا گیا۔)3بیت حُجلاہ کی شمالی پہاڑی ڈھلان سے گزری اور بحیرۂ مُردار کے شمالی کنارے پر ختم ہوئی، وہاں جہاں دریائے یردن اُس میں بہتا ہے۔ یہ تھی بن یمین کی جنوبی سرحد۔ E  !,7ALWbmx(3>IT_jt$/:EP[fq|                                                                                        ! " # $ % ,k8_,06]اِلتولد، بتول، حُرمہ،35cحصار سوعال، بالاہ، عضم،Q4اُسے یہ شہر مل گئے: بیرسبع (سبع)، مولادہ،e3 Gجب قرعہ ڈالا گیا تو شمعون کے قبیلے اور اُس کے کنبوں کو دوسرا حصہ مل گیا۔ اُس کی زمین یہوداہ کے قبیلے کے علاقے کے درمیان تھی۔b2?ضلع، الف، یبوسیوں کا شہر یروشلم، جِبعہ اور قِریَت یعریم۔ اِن شہروں کی تعداد 14 تھی۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔ یہ تمام شہر بن یمین اور اُس کے کنبوں کی ملکیت تھے۔ 01]رِقم، اِرفئیل، ترالہ،.0Yمِصفاہ، کفیرہ، موضہ،a/=اِن کے علاوہ یہ شہر بھی تھے: جِبعون، رامہ، بیروت، {:qاِن شہروں کے گرد و نواح کی تمام آبادیاں بعلات بیر یعنی نجب کے رامہ تک اُن کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔ یہ تھی شمعون اور اُس کے کنبوں کی ملکیت۔h9Kاِن کے علاوہ یہ چار شہر بھی شمعون کے تھے: عین، رِمّون، عتر اور عسن۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔F8بیت لباؤت اور ساروحن۔ اِن شہروں کی تعداد 13 تھی۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔@7}صِقلاج، بیت مرکبوت، حصار سوسہ،  <  جب قرعہ ڈالا گیا تو زبولون کے قبیلے اور اُس کے کنبوں کو تیسرا حصہ مل گیا۔ اُس کی جنوبی سرحد یُقنعام کی ندی سے شروع ہوئی اور پھر مشرق کی طرف دباست، مرعلہ اور سارید سے ہو کر کسلوت تبور کے علاقے تک پہنچی۔ اِس کے بعد وہ مُڑ کر مشرقی سرحد کے طور پر دابرت کے پاس آئی اور چڑھتی چڑھتی یفیع پہنچی۔; یہ جگہیں اِس لئے یہوداہ کے قبیلے کے علاقے سے لی گئیں کہ یہوداہ کا علاقہ اُس کے لئے بہت زیادہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شمعون کا علاقہ یہوداہ کے بیچ میں ہے۔  =  جب قرعہ ڈالا گیا تو زبولون کے قبیلے اور اُس کے کنبوں کو تیسرا حصہ مل گیا۔ اُس کی جنوبی سرحد یُقنعام کی ندی سے شروع ہوئی اور پھر مشرق کی طرف دباست، مرعلہ اور سارید سے ہو کر کسلوت تبور کے علاقے تک پہنچی۔ اِس کے بعد وہ مُڑ کر مشرقی سرحد کے طور پر دابرت کے پاس آئی اور چڑھتی چڑھتی یفیع پہنچی۔ =#@Aزبولون کی شمالی اور مغربی سرحد حناتون میں سے گزرتی گزرتی وادیِ افتاح ایل پر ختم ہوئی۔2?_ وہاں سے وہ مزید مشرق کی طرف بڑھتی ہوئی جات حِفر، عتہ قاضین اور رِمّون سے ہو کر نیعہ کے پاس آئی۔ >  جب قرعہ ڈالا گیا تو زبولون کے قبیلے اور اُس کے کنبوں کو تیسرا حصہ مل گیا۔ اُس کی جنوبی سرحد یُقنعام کی ندی سے شروع ہوئی اور پھر مشرق کی طرف دباست، مرعلہ اور سارید سے ہو کر کسلوت تبور کے علاقے تک پہنچی۔ اِس کے بعد وہ مُڑ کر مشرقی سرحد کے طور پر دابرت کے پاس آئی اور چڑھتی چڑھتی یفیع پہنچی۔ l7NGریمت، عین جنیم، عین حدّہ اور بیت فصیص۔,FUربیت، قِسیون، اِبض،2Eaحفاریم، شیون، اناخرات،'DIاُس کا علاقہ یزرعیل سے لے کر شمال کی طرف پھیل گیا۔ یہ شہر اُس میں شامل تھے: کسولت، شونیم، Cجب قرعہ ڈالا گیا تو اِشکار کے قبیلے اور اُس کے کنبوں کو چوتھا حصہ مل گیا۔mBUزبولون کے قبیلے کو یہی کچھ اُس کے کنبوں کے مطابق مل گیا۔fAGبارہ شہر اُن کے گرد و نواح کی آبادیوں سمیت زبولون کی ملکیت میں آئے جن میں قطات، نہلال، سِمرون، اِدالہ اور بیت لحم شامل تھے۔ [qp[Lالمَلِک، عماد اور مِسال۔ اُس کی سرحد سمندر کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی کرمل کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں سے گزری اور اُترتی اُترتی سیحور لِبنات تک پہنچی۔qK]اُس کے علاقے میں یہ شہر شامل تھے: خِلقت، حلی، بطن، اَکشاف، J جب قرعہ ڈالا گیا تو آشر کے قبیلے اور اُس کے کنبوں کو پانچواں حصہ مل گیا۔_I9اُسے یہ پورا علاقہ اُس کے کنبوں کے مطابق مل گیا۔)HMشمال میں یہ سرحد تبور پہاڑ سے شروع ہوئی اور شخصوماہ اور بیت شمس سے ہو کر دریائے یردن تک اُتر آئی۔ 16 شہر اُن کے گرد و نواح کی آبادیوں سمیت اِشکار کی ملکیت میں آئے۔ $n$9Pm22 شہر اُن کے گرد و نواح کی آبادیوں سمیت آشر کی ملکیت میں آئے۔ اِن میں عُمہ، افیق اور رحوب شامل تھے۔Oاِس کے بعد آشر کی سرحد رامہ کی طرف مُڑ کر فصیل دار شہر صور کے پاس آئی۔ وہاں وہ حوسہ کی طرف مُڑی اور چلتی چلتی اکزیب کے قریب سمندر پر ختم ہوئی۔N}پھر وہ عِبرون، رحوب، حمون اور قاناہ سے ہو کر بڑے شہر صیدا تک پہنچی۔Mوہاں وہ مشرق میں بیت دجون کی طرف مُڑ کر زبولون کے علاقے تک پہنچی اور اُس کی مغربی سرحد کے ساتھ چلتی چلتی شمال میں وادیِ افتاح ایل تک پہنچی۔ آگے بڑھتی ہوئی وہ بیت عِمق اور نعی ایل سے ہو کر شمال کی طرف مُڑی جہاں کبول تھا۔ MS!جنوب میں اُس کی سرحد دریائے یردن پر لقوم سے شروع ہوئی اور مغرب کی طرف چلتی چلتی یبنئیل، ادامی نقب، ایلون ضعننیم اور حلف سے ہو کر ازنوت تبور تک پہنچی۔ وہاں سے وہ مغربی سرحد کی حیثیت سے حقوق کے پاس آئی۔ نفتالی کی جنوبی سرحد زبولون کی شمالی سرحد اور مغرب میں آشر کی مشرقی سرحد تھی۔ دریائے یردن اور یہوداہ اُس کی مشرقی سرحد تھی۔ R  جب قرعہ ڈالا گیا تو نفتالی کے قبیلے اور اُس کے کنبوں کو چھٹا حصہ مل گیا۔RQآشر کو اُس کے کنبوں کے مطابق یہی کچھ ملا۔ 3Wc%قادس، اِدرعی، عین حصور،*VQ$ادامہ، رامہ، حصور،U#ذیل کے فصیل دار شہر نفتالی کی ملکیت میں آئے: صدّیم، صیر، حمات، رقّت، کِنّرت،MT"جنوب میں اُس کی سرحد دریائے یردن پر لقوم سے شروع ہوئی اور مغرب کی طرف چلتی چلتی یبنئیل، ادامی نقب، ایلون ضعننیم اور حلف سے ہو کر ازنوت تبور تک پہنچی۔ وہاں سے وہ مغربی سرحد کی حیثیت سے حقوق کے پاس آئی۔ نفتالی کی جنوبی سرحد زبولون کی شمالی سرحد اور مغرب میں آشر کی مشرقی سرحد تھی۔ دریائے یردن اور یہوداہ اُس کی مشرقی سرحد تھی۔ {3X!{h`K.مے یرقون اور رقون اُس علاقے سمیت جو یافا کے مقابل ہے۔8_m-یہود، بنی برق، جات رِمّون،4^e,اِلتقہ، جِبّتون، بعلات،.]Y+ایلون، تِمنت، عقرون،6\i*شعلبّین، ایالون، اِتلاہ،n[W)اُس کے علاقے میں یہ شہر شامل تھے: صُرعہ، اِستال، عیرشمس،Z(جب قرعہ ڈالا گیا تو دان کے قبیلے اور اُس کے کنبوں کو ساتواں حصہ ملا۔XY+'نفتالی کو یہی کچھ اُس کے کنبوں کے مطابق ملا۔hXK&اِرون، مِجدل ایل، حُریم، بیت عنات اور بیت شمس۔ ایسے 19 شہر تھے۔ ہر شہر کے گرد و نواح کی آبادیاں بھی اُس کے ساتھ گنی جاتی تھیں۔ ~9~7ci1پورے ملک کو تقسیم کرنے کے بعد اسرائیلیوں نے یشوع بن نون کو بھی اپنے درمیان کچھ موروثی زمین دے دی۔[b10لیکن یشوع کے زمانے میں دان کے قبیلے کو اُس کے کنبوں کے مطابق مذکورہ تمام شہر اور اُن کے گرد و نواح کی آبادیاں مل گئیں۔daC/افسوس، دان کا قبیلہ اپنے اِس علاقے پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہ ہوا، اِس لئے اُس کے مردوں نے لشم شہر پر حملہ کر کے اُس پر فتح پائی اور اُس کے باشندوں کو تلوار سے مار ڈالا۔ پھر وہ خود وہاں آباد ہوئے۔ اُس وقت لشم شہر کا نام دان میں تبدیل ہوا۔ (دان اُن کے قبیلے کا باپ تھا۔) lb8lHg ”اسرائیلیوں کو حکم دے کہ اُن ہدایات کے مطابق پناہ کے شہر چن لو جنہیں مَیں تمہیں موسیٰ کی معرفت دے چکا ہوں۔'f Mرب نے یشوع سے کہا،meU3غرض یہ وہ تمام زمینیں ہیں جو اِلی عزر امام، یشوع بن نون اور قبیلوں کے آبائی گھرانوں کے سربراہوں نے سَیلا میں ملاقات کے خیمے کے دروازے پر قرعہ ڈال کر تقسیم کی تھیں۔ یوں تقسیم کرنے کا یہ کام مکمل ہوا۔ )dM2رب کے حکم پر اُنہوں نے اُسے افرائیم کا شہر تِمنت سِرح دے دیا۔ یشوع نے خود اِس کی درخواست کی تھی۔ وہاں جا کر اُس نے شہر کو از سرِ نو تعمیر کیا اور اُس میں آباد ہوا۔ '='jاب اگر بدلہ لینے والا اُس کے پیچھے پڑ کر وہاں پہنچے تو بزرگ ملزم کو اُس کے ہاتھ میں نہ دیں، کیونکہ یہ موت غیرارادی طور پر اور نفرت رکھے بغیر ہوئی ہے۔iلازم ہے کہ ایسا شخص پناہ کے شہر کے پاس پہنچنے پر شہر کے دروازے کے پاس بیٹھے بزرگوں کو اپنا معاملہ پیش کرے۔ اُس کی بات سن کر بزرگ اُسے اپنے شہر میں داخل ہونے کی اجازت دیں اور اُسے اپنے درمیان رہنے کے لئے جگہ دے دیں۔6hgاِن شہروں میں وہ لوگ فرار ہو سکتے ہیں جن سے کوئی اتفاقاً یعنی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا ہو۔ یہ اُنہیں مرے ہوئے شخص کے اُن رشتے داروں سے پناہ دیں گے جو بدلہ لینا چاہیں گے۔ C/lYاسرائیلیوں نے پناہ کے یہ شہر چن لئے: نفتالی کے پہاڑی علاقے میں گلیل کا قادِس، افرائیم کے پہاڑی علاقے میں سِکم اور یہوداہ کے پہاڑی علاقے میں قِریَت اربع یعنی حبرون۔9kmوہ اُس وقت تک شہر میں رہے جب تک مقامی عدالت معاملے کا فیصلہ نہ کر دے۔ اگر عدالت اُسے بےگناہ قرار دے تو وہ اُس وقت کے امامِ اعظم کی موت تک اُس شہر میں رہے۔ اِس کے بعد اُسے اپنے اُس شہر اور گھر کو واپس جانے کی اجازت ہے جس سے وہ فرار ہو کر آیا ہے۔“ wNn یہ شہر تمام اسرائیلیوں اور اسرائیل میں رہنے والے اجنبیوں کے لئے مقرر کئے گئے۔ جس سے بھی غیرارادی طور پر کوئی ہلاک ہوا اُسے اِن میں پناہ لینے کی اجازت تھی۔ اِن میں وہ اُس وقت تک بدلہ لینے والوں سے محفوظ رہتا تھا جب تک مقامی عدالت فیصلہ نہیں کر دیتی تھی۔ mدریائے یردن کے مشرق میں اُنہوں نے بصر کو چن لیا جو یریحو سے کافی دُور میدانِ مرتفع میں ہے اور روبن کے قبیلے کی ملکیت ہے۔ ملکِ جِلعاد میں رامات جو جد کے قبیلے کا ہے اور بسن میں جولان جو منسّی کے قبیلے کا ہے چنا گیا۔ Cqچنانچہ اسرائیلیوں نے رب کی یہ بات مان کر اپنے علاقوں میں سے شہر اور چراگاہیں الگ کر کے لاویوں کو دے دیں۔p)جو اُس وقت سَیلا میں جمع تھے۔ لاویوں نے کہا، ”رب نے موسیٰ کی معرفت حکم دیا تھا کہ ہمیں بسنے کے لئے شہر اور ریوڑوں کو چَرانے کے لئے چراگاہیں دی جائیں۔“o پھر لاوی کے قبیلے کے آبائی گھرانوں کے سربراہ اِلی عزر امام، یشوع بن نون اور اسرائیل کے باقی قبیلوں کے آبائی گھرانوں کے سربراہوں کے پاس آئے R<$uCمراری کے گھرانے کو اُس کے کنبوں کے مطابق روبن، جد اور زبولون کے قبیلوں کے 12 شہر مل گئے۔tجیرسون کے گھرانے کو اِشکار، آشر، نفتالی اور منسّی کے قبیلوں کے 13 شہر دیئے گئے۔ یہ منسّی کا وہ علاقہ تھا جو دریائے یردن کے مشرق میں ملکِ بسن میں تھا۔ s باقی قہاتیوں کو دان، افرائیم اور مغربی منسّی کے قبیلوں کے 10 شہر مل گئے۔r5قرعہ ڈالا گیا تو لاوی کے گھرانے قہات کو اُس کے کنبوں کے مطابق پہلا حصہ مل گیا۔ پہلے ہارون کے کنبے کو یہوداہ، شمعون اور بن یمین کے قبیلوں کے 13 شہر دیئے گئے۔ E  "-8CNYdoz(3>IT_ju%0;FQ\gr} ' ( ) * + , - . / ' ( ) * + , - . / 0 1 2 3                                                   ! " # $ % & ' ( ) * + , -    y{ پہلا شہر عناقیوں کے باپ کا شہر قِریَت اربع تھا جو یہوداہ کے پہاڑی علاقے میں ہے اور جس کا موجودہ نام حبرون ہے۔ اُس کی چراگاہیں بھی دی گئیں،kxQ قرعہ ڈالتے وقت لاوی کے گھرانے قہات میں سے ہارون کے کنبے کو پہلا حصہ مل گیا۔ اُسے یہوداہ اور شمعون کے قبیلوں کے یہ شہر دیئے گئے:kwQ قرعہ ڈالتے وقت لاوی کے گھرانے قہات میں سے ہارون کے کنبے کو پہلا حصہ مل گیا۔ اُسے یہوداہ اور شمعون کے قبیلوں کے یہ شہر دیئے گئے:v یوں اسرائیلیوں نے قرعہ ڈال کر لاویوں کو مذکورہ شہر اور اُن کے گرد و نواح کی چراگاہیں دے دیں۔ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے موسیٰ کی معرفت حکم دیا تھا۔ zuT. 5z7iاِن کے علاوہ بن یمین کے قبیلے کے چار شہر اُس کی ملکیت میں آئے یعنی جِبعون، جِبع، عنتوت اور علمون۔S~!عین، یوطہ اور بیت شمس کے شہر بھی مل گئے۔ اُسے یہوداہ اور شمعون کے قبیلوں کے کُل 9 شہر اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے۔};حولون، دبیر،#|Cیتیر، اِستموع،{5 ہارون کے کنبے کا یہ شہر پناہ کا شہر بھی تھا جس میں ہر وہ شخص پناہ لے سکتا تھا جس سے کوئی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا تھا۔ اِس کے علاوہ ہارون کے کنبے کو لِبناہ،z  لیکن حبرون کے ارد گرد کی آبادیاں اور کھیت کالب بن یفُنّہ کی ملکیت رہے۔ E%(tcقبضیم اور بیت حورون۔ اِن چار شہروں کی چراگاہیں بھی مل گئیں۔ymاِن میں افرائیم کے پہاڑی علاقے کا شہر سِکم شامل تھا جس میں ہر وہ شخص پناہ لے سکتا تھا جس سے کوئی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا تھا، پھر جزر،.Wلاوی کے قبیلے کے گھرانے قہات کے باقی کنبوں کو قرعہ ڈالتے وقت افرائیم کے قبیلے کے شہر مل گئے۔kQغرض ہارون کے کنبے کو 13 شہر اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے۔7iاِن کے علاوہ بن یمین کے قبیلے کے چار شہر اُس کی ملکیت میں آئے یعنی جِبعون، جِبع، عنتوت اور علمون۔ G2dGvgغرض قہات کے باقی کنبوں کو کُل 10 شہر اُن کی چراگاہوں سمیت ملے۔ ;منسّی کے مغربی حصے سے اُنہیں دو شہر تعنک اور جات رِمّون اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے۔Jدان کے قبیلے نے بھی اُنہیں چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے یعنی اِلتقیہ، جِبّتون، ایالون اور جات رِمّون۔Jدان کے قبیلے نے بھی اُنہیں چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے یعنی اِلتقیہ، جِبّتون، ایالون اور جات رِمّون۔ a%a@ {اِسی طرح اُسے آشر کے قبیلے کے بھی چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے گئے: مِسال، عبدون، خِلقت اور رحوب۔1 ]اِشکار کے قبیلے نے اُسے چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے: قِسیون، دابرت، یرموت اور عین جنیم۔1 ]اِشکار کے قبیلے نے اُسے چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے: قِسیون، دابرت، یرموت اور عین جنیم۔m Uلاوی کے قبیلے کے گھرانے جیرسون کو منسّی کے مشرقی حصے کے دو شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے گئے: ملکِ بسن میں جولان جس میں ہر وہ شخص پناہ لے سکتا تھا جس سے کوئی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا تھا، اور بعستراہ۔ < zo"اب رہ گیا لاوی کے قبیلے کا گھرانا مراری۔ اُسے زبولون کے قبیلے کے چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے: یُقنعام، قرتاہ، دِمنہ اور نہلال۔q]!غرض جیرسون کے گھرانے کو 13 شہر اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے۔.W نفتالی کے قبیلے نے تین شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے: گلیل کا قادس جس میں ہر وہ شخص پناہ لے سکتا تھا جس سے کوئی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا تھا، پھر حمات دور اور قرتان۔@ {اِسی طرح اُسے آشر کے قبیلے کے بھی چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے گئے: مِسال، عبدون، خِلقت اور رحوب۔ :D:H &جد کے قبیلے نے اُسے چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے: ملکِ جِلعاد کا رامات جس میں ہر وہ شخص پناہ لے سکتا تھا جس سے کوئی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا تھا، پھر محنائم، حسبون اور یعزیر۔:o%اِسی طرح اُسے روبن کے قبیلے کے بھی چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے: بصر، یہض، قدیمات اور مِفعت۔:o$اِسی طرح اُسے روبن کے قبیلے کے بھی چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے: بصر، یہض، قدیمات اور مِفعت۔zo#اب رہ گیا لاوی کے قبیلے کا گھرانا مراری۔ اُسے زبولون کے قبیلے کے چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے: یُقنعام، قرتاہ، دِمنہ اور نہلال۔ @;A@}u+یوں رب نے اسرائیلیوں کو وہ پورا ملک دے دیا جس کا وعدہ اُس نے اُن کے باپ دادا سے قَسم کھا کر کیا تھا۔ وہ اُس پر قبضہ کر کے اُس میں رہنے لگے۔C*ہر شہر کے ارد گرد چراگاہیں تھیں۔0[)اسرائیل کے مختلف علاقوں میں جو لاویوں کے شہر اُن کی چراگاہوں سمیت تھے اُن کی کُل تعداد 48 تھی۔vg(غرض مراری کے گھرانے کو کُل 12 شہر اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے۔H 'جد کے قبیلے نے اُسے چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے: ملکِ جِلعاد کا رامات جس میں ہر وہ شخص پناہ لے سکتا تھا جس سے کوئی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا تھا، پھر محنائم، حسبون اور یعزیر۔ %.%6gآپ نے کافی عرصے سے آج تک اپنے بھائیوں کو ترک نہیں کیا بلکہ بالکل وہی کچھ کیا ہے جو رب کی مرضی تھی۔=uکہا، ”جو بھی حکم رب کے خادم موسیٰ نے آپ کو دیا تھا اُسے آپ نے پورا کیا۔ اور آپ نے میری ہر بات مانی ہے۔  پھر یشوع نے روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کے مردوں کو اپنے پاس بُلا کر6g-جو اچھے وعدے رب نے اسرائیل سے کئے تھے اُن میں سے ایک بھی نامکمل نہ رہا بلکہ سب کے سب پورے ہو گئے۔ #,اور رب نے چاروں طرف امن و امان مہیا کیا جس طرح اُس نے اُن کے باپ دادا سے قَسم کھا کر وعدہ کیا تھا۔ اُسی کی مدد سے اسرائیلی تمام دشمنوں پر غالب آئے تھے۔ FiF !یہ کہہ کر یشوع نے اُنہیں برکت دے کر رُخصت کر دیا، اور وہ اپنے گھر چلے گئے۔ لیکن خبردار، احتیاط سے اُن ہدایات پر چلتے رہیں جو رب کے خادم موسیٰ نے آپ کو دے دیں۔ رب اپنے خدا سے پیار کریں، اُس کی تمام راہوں پر چلیں، اُس کے احکام مانیں، اُس کے ساتھ لپٹے رہیں، اور پورے دل و جان سے اُس کی خدمت کریں۔“!اب رب آپ کے خدا نے آپ کے بھائیوں کو موعودہ ملک دے دیا ہے، اور وہ سلامتی کے ساتھ اُس میں رہ رہے ہیں۔ اِس لئے اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے گھر واپس چلے جائیں، اُس ملک میں جو رب کے خادم موسیٰ نے آپ کو دریائے یردن کے پار دے دیا ہے۔ ne#Eکہا، ”آپ بڑی دولت کے ساتھ اپنے گھر لوٹ رہے ہیں۔ آپ کو بڑے ریوڑ، سونا، چاندی، لوہا اور بہت سے کپڑے مل گئے ہیں۔ جب آپ اپنے گھر پہنچیں گے تو مالِ غنیمت اُن کے ساتھ تقسیم کریں جو گھر میں رہ گئے ہیں۔“"منسّی کے آدھے قبیلے کو موسیٰ سے ملکِ بسن میں زمین مل گئی تھی۔ دوسرے حصے کو یشوع سے زمین مل گئی تھی، یعنی دریائے یردن کے مغرب میں جہاں باقی قبیلے آباد ہوئے تھے۔ منسّی کے مردوں کو رُخصت کرتے وقت یشوع نے اُنہیں برکت دے کر  & %' یہ مرد چلتے چلتے دریائے یردن کے مغرب میں ایک جگہ پہنچے جس کا نام گلیلوت تھا۔ وہاں یعنی ملکِ کنعان میں ہی اُنہوں نے ایک بڑی اور شاندار قربان گاہ بنائی۔V$' پھر روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کے مرد باقی اسرائیلیوں کو سَیلا میں چھوڑ کر ملکِ جِلعاد کی طرف روانہ ہوئے جو دریائے یردن کے مشرق میں ہے۔ وہاں اُن کے اپنے علاقے تھے جن میں اُن کے قبیلے رب کے اُس حکم کے مطابق آباد ہوئے تھے جو اُس نے موسیٰ کی معرفت دیا تھا۔ t&AtI) اُس کے ساتھ 10 آدمی یعنی ہر مغربی قبیلے کا ایک نمائندہ تھا۔ ہر ایک اپنے آبائی گھرانے اور کنبے کا سربراہ تھا۔a(= لیکن پہلے اُنہوں نے اِلی عزر امام کے بیٹے فینحاس کو ملکِ جِلعاد کو بھیجا جہاں روبن، جد اور منسّی کا آدھا قبیلہ آباد تھے۔ ' تب اسرائیل کی پوری جماعت مشرقی قبیلوں سے لڑنے کے لئے سَیلا میں جمع ہوئی۔G&  اسرائیلیوں کو خبر دی گئی، ”روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے نے کنعان کی سرحد پر گلیلوت میں قربان گاہ بنا لی ہے۔ یہ قربان گاہ دریائے یردن کے مغرب میں یعنی ہمارے ہی علاقے میں ہے!“ _K,کیا یہ کافی نہیں تھا کہ ہم سے فغور کے بُت کی پوجا کرنے کا گناہ سرزد ہوا؟ ہم تو آج تک پورے طور پر اُس گناہ سے پاک صاف نہیں ہوئے گو اُس وقت رب کی جماعت کو وبا کی صورت میں سزا مل گئی تھی۔3+a”رب کی پوری جماعت آپ سے پوچھتی ہے کہ آپ اسرائیل کے خدا سے بےوفا کیوں ہو گئے ہیں؟ آپ نے رب سے اپنا منہ پھیر کر یہ قربان گاہ کیوں بنائی ہے؟ اِس سے آپ نے رب سے سرکشی کی ہے۔g*Iجِلعاد میں پہنچ کر اُنہوں نے مشرقی قبیلوں سے بات کی۔ . اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا ملک ناپاک ہے اور آپ اِس لئے اُس میں رب کی خدمت نہیں کر سکتے تو ہمارے پاس رب کے ملک میں آئیں جہاں رب کی سکونت گاہ ہے، اور ہماری زمینوں میں شریک ہو جائیں۔ لیکن رب سے یا ہم سے سرکشی مت کرنا۔ رب ہمارے خدا کی قربان گاہ کے علاوہ اپنے لئے کوئی اَور قربان گاہ نہ بنائیں!'-Iتو پھر آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ دوبارہ رب سے اپنا منہ پھیر کر دُور ہو رہے ہیں۔ دیکھیں، اگر آپ آج رب سے سرکشی کریں تو کل وہ اسرائیل کی پوری جماعت کے ساتھ ناراض ہو گا۔ 31a”رب قادرِ مطلق خدا، ہاں رب قادرِ مطلق خدا حقیقت جانتا ہے، اور اسرائیل بھی یہ بات جان لے! نہ ہم سرکش ہوئے ہیں، نہ رب سے بےوفا۔ اگر ہم جھوٹ بولیں تو آج ہی ہمیں مار ڈالیں!!0=روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کے مردوں نے اسرائیلی کنبوں کے سربراہوں کو جواب دیا،f/Gکیا اسرائیل کی پوری جماعت پر اللہ کا غضب نازل نہ ہوا جب عکن بن زارح نے مالِ غنیمت میں سے کچھ چوری کیا جو رب کے لئے مخصوص تھا؟ اُس کے گناہ کی سزا صرف اُس تک ہی محدود نہ رہی بلکہ اَور بھی ہلاک ہوئے۔“ 8a8%3Eحقیقت میں ہم نے یہ قربان گاہ اِس لئے تعمیر کی کہ ہم ڈرتے ہیں کہ مستقبل میں کسی دن آپ کی اولاد ہماری اولاد سے کہے، ’آپ کا رب اسرائیل کے خدا کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟21ہم نے یہ قربان گاہ اِس لئے نہیں بنائی کہ رب سے دُور ہو جائیں۔ ہم اُس پر کوئی بھی قربانی چڑھانا نہیں چاہتے، نہ بھسم ہونے والی قربانیاں، نہ غلہ کی نذریں اور نہ ہی سلامتی کی قربانیاں۔ اگر ہم جھوٹ بولیں تو رب خود ہماری عدالت کرے۔ L5یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ قربان گاہ بنائی، بھسم ہونے والی قربانیاں یا ذبح کی کوئی اَور قربانی چڑھانے کے لئے نہیںH4 آخر رب نے ہمارے اور آپ کے درمیان دریائے یردن کی سرحد مقرر کی ہے۔ چنانچہ آپ کو رب کی عبادت کرنے کا کوئی حق نہیں!‘ ایسا کرنے سے آپ کی اولاد ہماری اولاد کو رب کی خدمت کرنے سے روکے گی۔ 66gبلکہ آپ کو اور آنے والی نسلوں کو اِس بات کی یاد دلانے کے لئے کہ ہمیں بھی رب کے خیمے میں بھسم ہونے والی قربانیاں، ذبح کی قربانیاں اور سلامتی کی قربانیاں چڑھانے کا حق ہے۔ یہ قربان گاہ ہمارے اور آپ کے درمیان گواہ رہے گی۔ اب آپ کی اولاد کبھی بھی ہماری اولاد سے نہیں کہہ سکے گی، ’آپ کو رب کی جماعت کے حقوق حاصل نہیں۔‘ 17]اور اگر وہ کسی وقت یہ بات کرے تو ہماری اولاد کہہ سکے گی، ’یہ قربان گاہ دیکھیں جو رب کی قربان گاہ کی ہوبہو نقل ہے۔ ہمارے باپ دادا نے اِسے بنایا تھا، لیکن اِس لئے نہیں کہ ہم اِس پر بھسم ہونے والی قربانیاں اور ذبح کی قربانیاں چڑھائیں بلکہ آپ کو اور ہمیں گواہی دینے کے لئے کہ ہمیں مل کر رب کی عبادت کرنے کا حق ہے۔‘ u9eجب فینحاس اور اسرائیلی جماعت کے کنبوں کے سربراہوں نے جِلعاد میں روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کی یہ باتیں سنیں تو وہ مطمئن ہوئے۔8 حالات کبھی بھی یہاں تک نہ پہنچیں کہ ہم رب سے سرکشی کر کے اپنا منہ اُس سے پھیر لیں۔ نہیں، ہم نے یہ قربان گاہ بھسم ہونے والی قربانیاں، غلہ کی نذریں اور ذبح کی قربانیاں چڑھانے کے لئے نہیں بنائی۔ ہم صرف رب اپنے خدا کی سکونت گاہ کے سامنے کی قربان گاہ پر ہی اپنی قربانیاں پیش کرنا چاہتے ہیں۔“ E  !,7BMXcny)4?JU`ju$/:EP[fq|    ! " #  $  %  &  '   ! " #  $  %  &  '  ( ) * + , - . / 0 1 2 3 4 5 6 7 8 9 :  ; !< "=  > ? @ A B C D E  F  G  H  I  J K L M  N O P Q R S T U  V  W  X  Y  Z [ \ ] ^ _ ` a b c w<i!باقی اسرائیلیوں کو یہ بات پسند آئی، اور وہ اللہ کی تمجید کر کے روبن اور جد سے جنگ کرنے اور اُن کا علاقہ تباہ کرنے کے ارادے سے باز آئے۔1;] اِس کے بعد فینحاس اور باقی اسرائیلی سردار روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کو ملکِ جِلعاد میں چھوڑ کر ملکِ کنعان میں لوٹ آئے۔ وہاں اُنہوں نے سب کچھ بتایا جو ہوا تھا۔&:Gفینحاس نے اُن سے کہا، ”اب ہم جانتے ہیں کہ رب آئندہ بھی ہمارے درمیان رہے گا، کیونکہ آپ اُس سے بےوفا نہیں ہوئے ہیں۔ آپ نے اسرائیلیوں کو رب کی سزا سے بچا لیا ہے۔“ X?+تو اُس نے اسرائیل کے تمام بزرگوں، سرداروں، قاضیوں اور نگہبانوں کو اپنے پاس بُلا کر کہا، ”اب مَیں بوڑھا ہو گیا ہوں۔> اب اسرائیلی کافی دیر سے سلامتی سے اپنے ملک میں رہتے تھے، کیونکہ رب نے اُنہیں ارد گرد کے دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھا۔ جب یشوع بہت بوڑھا ہو گیا تھا(=K"روبن اور جد کے قبیلوں نے نئی قربان گاہ کا نام گواہ رکھا، کیونکہ اُنہوں نے کہا، ”یہ قربان گاہ ہمارے اور دوسرے قبیلوں کے درمیان گواہ ہے کہ رب ہمارا بھی خدا ہے۔“ !Bلیکن رب آپ کا خدا آپ کے آگے آگے چلتے ہوئے اُنہیں بھی نکال کر بھگا دے گا۔ آپ اُن کی زمینوں پر قبضہ کر لیں گے جس طرح رب آپ کے خدا نے وعدہ کیا ہے۔IA یاد رکھیں کہ مَیں نے مشرق میں دریائے یردن سے لے کر مغرب میں سمندر تک سارا ملک آپ کے قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ بہت سی قوموں پر مَیں نے فتح پائی، لیکن چند ایک اب تک باقی رہ گئی ہیں۔[@1آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رب نے اِس علاقے کی تمام قوموں کے ساتھ کیا کچھ کیا ہے۔ رب آپ کے خدا ہی نے آپ کے لئے جنگ کی۔ 2kAF} رب نے آپ کے آگے آگے چل کر بڑی بڑی اور طاقت ور قومیں نکال دی ہیں۔ آج تک آپ کے سامنے کوئی نہیں کھڑا رہ سکا۔sEaرب اپنے خدا کے ساتھ یوں لپٹے رہنا جس طرح آج تک لپٹے رہے ہیں۔MDاُن دیگر قوموں سے رشتہ مت باندھنا جو اب تک ملک میں باقی رہ گئی ہیں۔ اُن کے بُتوں کے نام اپنی زبان پر نہ لانا، نہ اُن کے نام لے کر قَسم کھانا۔ نہ اُن کی خدمت کرنا، نہ اُنہیں سجدہ کرنا۔JCاب پوری ہمت سے ہر بات پر عمل کریں جو موسیٰ کی شریعت کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ نہ دائیں اور نہ بائیں طرف ہٹیں۔ 'nFI اگر آپ اُس سے دُور ہو کر اُن دیگر قوموں سے لپٹ جائیں جو اب تک ملک میں باقی ہیں اور اُن کے ساتھ رشتہ باندھیں5He چنانچہ سنجیدگی سے دھیان دیں کہ آپ رب اپنے خدا سے پیار کریں، کیونکہ آپ کی زندگی اِسی پر منحصر ہے۔UG% آپ میں سے ایک شخص ہزار دشمنوں کو بھگا دیتا ہے، کیونکہ رب آپ کا خدا خود آپ کے لئے لڑتا ہے جس طرح اُس نے وعدہ کیا تھا۔ kKQآج مَیں وہاں جا رہا ہوں جہاں کسی نہ کسی دن دنیا کے ہر شخص کو جانا ہوتا ہے۔ لیکن آپ نے پورے دل و جان سے جان لیا ہے کہ جو بھی وعدہ رب آپ کے خدا نے آپ کے ساتھ کیا وہ پورا ہوا ہے۔ ایک بھی ادھورا نہیں رہ گیا۔jJO تو رب آپ کا خدا یقیناً اِن قوموں کو آپ کے آگے سے نہیں نکالے گا۔ اِس کے بجائے یہ آپ کو پھنسانے کے لئے پھندا اور جال بنیں گے۔ یہ یقیناً آپ کی پیٹھوں کے لئے کوڑے اور آنکھوں کے لئے کانٹے بن جائیں گے۔ آخر میں آپ اُس اچھے ملک میں سے مٹ جائیں گے جو رب آپ کے خدا نے آپ کو دے دیا ہے۔ mMاگر آپ اُس عہد کو توڑیں جو اُس نے آپ کے ساتھ باندھا ہے اور دیگر معبودوں کی پوجا کر کے اُنہیں سجدہ کریں تو پھر رب کا پورا غضب آپ پر نازل ہو گا اور آپ جلد ہی اُس اچھے ملک میں سے مٹ جائیں گے جو اُس نے آپ کو دے دیا ہے۔“ Lلیکن جس طرح رب نے ہر وعدہ پورا کیا ہے بالکل اُسی طرح وہ تمام آفتیں آپ پر نازل کرے گا جن کے بارے میں اُس نے آپ کو خبردار کیا ہے اگر آپ اُس کے تابع نہ رہیں۔ پھر وہ آپ کو اُس اچھے ملک میں سے مٹا دے گا جو اُس نے آپ کو دے دیا ہے۔ ;Q;Pلیکن مَیں تمہارے باپ ابراہیم کو وہاں سے لے کر یہاں لایا اور اُسے پورے ملکِ کنعان میں سے گزرنے دیا۔ مَیں نے اُسے بہت اولاد دی۔ مَیں نے اُسے اسحاق دیا{Oqپھر یشوع اسرائیلی قوم سے مخاطب ہوا۔ ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’قدیم زمانے میں تمہارے باپ دادا دریائے فرات کے پار بستے اور دیگر معبودوں کی پوجا کرتے تھے۔ ابراہیم اور نحور کا باپ تارح بھی وہاں آباد تھا۔,N Uپھر یشوع نے اسرائیل کے تمام قبیلوں کو سِکم شہر میں جمع کیا۔ اُس نے اسرائیل کے بزرگوں، سرداروں، قاضیوں اور نگہبانوں کو بُلایا، اور وہ مل کر اللہ کے حضور حاضر ہوئے۔ (^KSچلتے چلتے تمہارے باپ دادا بحرِ قُلزم پہنچ گئے۔ لیکن مصری اپنے رتھوں اور گھڑسواروں سے اُن کا تعاقب کرنے لگے۔FRبعد میں مَیں نے موسیٰ اور ہارون کو مصر بھیج دیا اور ملک پر بڑی مصیبتیں نازل کر کے تمہیں وہاں سے نکال لایا۔TQ#اور اسحاق کو یعقوب اور عیسو۔ عیسو کو مَیں نے پہاڑی علاقہ سعیر عطا کیا، لیکن یعقوب اپنے بیٹوں کے ساتھ مصر چلا گیا۔ 22MUآخرکار مَیں نے تمہیں اُن اموریوں کے ملک میں پہنچایا جو دریائے یردن کے مشرق میں آباد تھے۔ گو اُنہوں نے تم سے جنگ کی، لیکن مَیں نے اُنہیں تمہارے ہاتھ میں کر دیا۔ تمہارے آگے آگے چل کر مَیں نے اُنہیں نیست و نابود کر دیا، اِس لئے تم اُن کے ملک پر قبضہ کر سکے۔yTmتمہارے باپ دادا نے مدد کے لئے رب کو پکارا، اور مَیں نے اُن کے اور مصریوں کے درمیان اندھیرا پیدا کیا۔ مَیں سمندر اُن پر چڑھا لایا، اور وہ اُس میں غرق ہو گئے۔ تمہارے باپ دادا نے اپنی ہی آنکھوں سے دیکھا کہ مَیں نے مصریوں کے ساتھ کیا کچھ کیا۔ تم بڑے عرصے تک ریگستان میں گھومتے پھرے۔  kXQ پھر تم دریائے یردن کو پار کر کے یریحو کے پاس پہنچ گئے۔ اِس شہر کے باشندے اور اموری، فرِزّی، کنعانی، حِتّی، جرجاسی، حِوّی اور یبوسی تمہارے خلاف لڑتے رہے، لیکن مَیں نے اُنہیں تمہارے قبضے میں کر دیا۔uWe لیکن مَیں بلعام کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں تھا بلکہ وہ تمہیں برکت دینے پر مجبور ہوا۔ یوں مَیں نے تمہیں اُس کے ہاتھ سے محفوظ رکھا۔vVg موآب کے بادشاہ بلق بن صفور نے بھی اسرائیل کے ساتھ جنگ چھیڑی۔ اِس مقصد کے تحت اُس نے بلعام بن بعور کو بُلایا تاکہ وہ تم پر لعنت بھیجے۔ ??Z) مَیں نے تمہیں بیج بونے کے لئے زمین دی جسے تیار کرنے کے لئے تمہیں محنت نہ کرنی پڑی۔ مَیں نے تمہیں شہر دیئے جو تمہیں تعمیر کرنے نہ پڑے۔ اُن میں رہ کر تم انگور اور زیتون کے ایسے باغوں کا پھل کھاتے ہو جو تم نے نہیں لگائے تھے‘۔“"Y? مَیں نے تمہارے آگے زنبور بھیج دیئے جنہوں نے اموریوں کے دو بادشاہوں کو ملک سے نکال دیا۔ یہ سب کچھ تمہاری اپنی تلوار اور کمان سے نہیں ہوا بلکہ میرے ہی ہاتھ سے۔ofxflrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|GLPSW` c g j l nquyGLPSW` c g j l nquy !#%),. 1!3"5#6$7%9'<(?)B*F+I,K-M.P/S0U1X2Z4\5`6d7h8l9o:r;u~?ABC DEFGHIJ"K$L'M+N/O2P6Q9R;S<T>UAVDWHYJZM[P\S]W^Z_]`aaebicldoerfvgzh~ijk l m opqrstu#v%w( tl\Sلیکن اگر رب کی خدمت کرنا آپ کو بُرا لگے تو آج ہی فیصلہ کریں کہ کس کی خدمت کریں گے، اُن دیوتاؤں کی جن کی پوجا آپ کے باپ دادا نے دریائے فرات کے پار کی یا اموریوں کے دیوتاؤں کی جن کے ملک میں آپ رہ رہے ہیں۔ لیکن جہاں تک میرا اور میرے خاندان کا تعلق ہے ہم رب ہی کی خدمت کریں گے۔“[ یشوع نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ”چنانچہ رب کا خوف مانیں اور پوری وفاداری کے ساتھ اُس کی خدمت کریں۔ اُن بُتوں کو نکال پھینکیں جن کی پوجا آپ کے باپ دادا دریائے فرات کے پار اور مصر میں کرتے رہے۔ اب رب ہی کی خدمت کریں! _s`aیہ سن کر یشوع نے کہا، ”آپ رب کی خدمت کر ہی نہیں سکتے، کیونکہ وہ قدوس اور غیور خدا ہے۔ وہ آپ کی سرکشی اور گناہوں کو معاف نہیں کرے گا۔_اور رب ہی نے ہمارے آگے آگے چل کر اِس ملک میں آباد اموریوں اور باقی قوموں کو نکال دیا۔ ہم بھی اُسی کی خدمت کریں گے، کیونکہ وہی ہمارا خدا ہے!“F^رب ہمارا خدا ہی ہمارے باپ دادا کو مصر کی غلامی سے نکال لایا اور ہماری آنکھوں کے سامنے ایسے عظیم نشان پیش کئے۔ جب ہمیں بہت قوموں میں سے گزرنا پڑا تو اُسی نے ہر وقت ہماری حفاظت کی۔]5عوام نے جواب دیا، ”ایسا کبھی نہ ہو کہ ہم رب کو ترک کر کے دیگر معبودوں کی پوجا کریں۔ zNNzPdیشوع نے کہا، ”تو پھر اپنے درمیان موجود بُتوں کو تباہ کر دیں اور اپنے دلوں کو رب اسرائیل کے خدا کے تابع رکھیں۔“|csپھر یشوع نے کہا، ”آپ خود اِس کے گواہ ہیں کہ آپ نے رب کی خدمت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“ اُنہوں نے جواب دیا، ”جی ہاں، ہم اِس کے گواہ ہیں!“|bsلیکن اسرائیلیوں نے اصرار کیا، ”جی نہیں، ہم رب کی خدمت کریں گے!“/aYبےشک وہ آپ پر مہربانی کرتا رہا ہے، لیکن اگر آپ رب کو ترک کر کے اجنبی معبودوں کی پوجا کریں تو وہ آپ کے خلاف ہو کر آپ پر بلائیں لائے گا اور آپ کو نیست و نابود کر دے گا۔“ znzEhاُس نے تمام لوگوں سے کہا، ”اِس پتھر کو دیکھیں! یہ گواہ ہے، کیونکہ اِس نے سب کچھ سن لیا ہے جو رب نے ہمیں بتا دیا ہے۔ اگر آپ کبھی اللہ کا انکار کریں تو یہ تمہارے خلاف گواہی دے گا۔“ggIاللہ کی شریعت کی کتاب میں درج کئے۔ پھر اُس نے ایک بڑا پتھر لے کر اُسے اُس بلوط کے سائے میں کھڑا کیا جو رب کے مقدِس کے پاس تھا۔ yرب اُن کے ساتھ تھا، اِس لئے وہ پہاڑی علاقے پر قبضہ کر سکے۔ لیکن وہ سمندر کے ساتھ کے میدانی علاقے میں آباد لوگوں کو نکال نہ سکے۔ وجہ یہ تھی کہ اِن لوگوں کے پاس لوہے کے رتھ تھے۔= wپھر یہوداہ کے فوجیوں نے غزہ، اسقلون اور عقرون کے شہروں پر اُن کے گرد و نواح کی آبادیوں سمیت فتح پائی۔ {یہوداہ کا قبیلہ اپنے بھائیوں شمعون کے قبیلے کے ساتھ آگے بڑھا۔ اُنہوں نے کنعانی شہر صِفت پر حملہ کیا اور اُسے اللہ کے لئے مخصوص کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اِس لئے اُس کا نام حُرمہ یعنی اللہ کے لئے تباہی پڑا۔ H%0;FQ\gr}&0:DNXblv%0;FQ\gr} e f g h i j k l  m e f g h i j k l  m !n o  p  q  r  s  t  u  v   w   x   y   z   {  |  }  ~                                   !  "  #  $                                  $Q> yافرائیم اور منسّی کے قبیلے بیت ایل پر قبضہ کرنے کے لئے نکلے (بیت ایل کا پرانا نام لُوز تھا)۔ جب اُنہوں نے اپنے جاسوسوں کو شہر کی تفتیش کرنے کے لئے بھیجا تو رب اُن کے ساتھ تھا۔O لیکن بن یمین کا قبیلہ یروشلم کے رہنے والے یبوسیوں کو نکال نہ سکا۔ آج تک یبوسی وہاں بن یمینیوں کے ساتھ آباد ہیں۔X -موسیٰ کے وعدے کے مطابق کالب کو حبرون شہر مل گیا۔ اُس نے اُس میں سے عناق کے تین بیٹوں کو اُن کے گھرانوں سمیت نکال دیا۔   اُس نے اُنہیں اندر جانے کا راستہ دکھایا، اور اُنہوں نے اُس میں گھس کر تمام باشندوں کو تلوار سے مار ڈالا سوائے مذکورہ آدمی اور اُس کے خاندان کے۔ 1اُن کے جاسوسوں کی ملاقات ایک آدمی سے ہوئی جو شہر سے نکل رہا تھا۔ اُنہوں نے اُس سے کہا، ”ہمیں شہر میں داخل ہونے کا راستہ دکھائیں تو ہم آپ پر رحم کریں گے۔“> yافرائیم اور منسّی کے قبیلے بیت ایل پر قبضہ کرنے کے لئے نکلے (بیت ایل کا پرانا نام لُوز تھا)۔ جب اُنہوں نے اپنے جاسوسوں کو شہر کی تفتیش کرنے کے لئے بھیجا تو رب اُن کے ساتھ تھا۔ T4 T8  mاِسی طرح افرائیم کے قبیلے نے بھی جزر کے باشندوں کو نہ نکالا، اور یہ کنعانی اُن کے درمیان آباد رہے۔u  gبعد میں جب اسرائیل کی طاقت بڑھ گئی تو اِن کنعانیوں کو بیگار میں کام کرنا پڑا۔ لیکن اسرائیلیوں نے اُس وقت بھی اُنہیں ملک سے نہ نکالا۔'  Kلیکن منسّی نے ہر شہر کے باشندے نہ نکالے۔ بیت شان، تعنک، دور، اِبلیعام، مجِدّو اور اُن کے گرد و نواح کی آبادیاں رہ گئیں۔ کنعانی پورے عزم کے ساتھ اُن میں ٹکے رہے۔H  بعد میں وہ حِتّیوں کے ملک میں گیا جہاں اُس نے ایک شہر تعمیر کر کے اُس کا نام لُوز رکھا۔ یہ نام آج تک رائج ہے۔  H3 c!نفتالی کے قبیلے نے بیت شمس اور بیت عنات کے باشندوں کو نہ نکالا بلکہ وہ بھی کنعانیوں کے درمیان رہنے لگے۔ لیکن بیت شمس اور بیت عنات کے باشندوں کو بیگار میں کام کرنا پڑا۔m W اِس وجہ سے آشر کے لوگ کنعانی باشندوں کے درمیان رہنے لگے۔>  yآشر کے قبیلے نے نہ عکّو کے باشندوں کو نکالا، نہ صیدا، احلاب، اکزیب، حلبہ، افیق یا رحوب کے باشندوں کو۔r  aزبولون کے قبیلے نے بھی قطرون اور نہلال کے باشندوں کو نہ نکالا بلکہ یہ اُن کے درمیان آباد رہے، البتہ اُنہیں بیگار میں کام کرنا پڑا۔  j Q$اموریوں کی سرحد درۂ عقربیم سے لے کر سلع سے پرے تک تھی۔  #اموری پورے عزم کے ساتھ حِرس پہاڑ، ایالون اور سعلبیم میں ٹکے رہے۔ لیکن جب افرائیم اور منسّی کی طاقت بڑھ گئی تو اموریوں کو بیگار میں کام کرنا پڑا۔c C"دان کے قبیلے نے میدانی علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش تو کی، لیکن اموریوں نے اُنہیں آنے نہ دیا بلکہ پہاڑی علاقے تک محدود رکھا۔ 5@5 اور مَیں نے حکم دیا، ’اِس ملک کی قوموں کے ساتھ عہد مت باندھنا بلکہ اُن کی قربان گاہوں کو گرا دینا۔‘ لیکن تم نے میری نہ سنی۔ یہ تم نے کیا کِیا؟< uرب کا فرشتہ جِلجال سے چڑھ کر بوکیم پہنچا۔ وہاں اُس نے اسرائیلیوں سے کہا، ”مَیں تمہیں مصر سے نکال کر اُس ملک میں لایا جس کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر تمہارے باپ دادا سے کیا تھا۔ اُس وقت مَیں نے کہا کہ مَیں تمہارے ساتھ اپنا عہد کبھی نہیں توڑوں گا۔ t+Qیشوع کے قوم کو رُخصت کرنے کے بعد ہر ایک قبیلہ اپنے علاقے پر قبضہ کرنے کے لئے روانہ ہوا تھا۔Dیہی وجہ ہے کہ اُس جگہ کا نام بوکیم یعنی رونے والے پڑ گیا۔ پھر اُنہوں نے وہاں رب کے حضور قربانیاں پیش کیں۔[1رب کے فرشتے کی یہ بات سن کر اسرائیلی خوب روئے۔*Oاِس لئے اب مَیں تمہیں بتاتا ہوں کہ مَیں اُنہیں تمہارے آگے سے نہیں نکالوں گا۔ وہ تمہارے پہلوؤں میں کانٹے بنیں گے، اور اُن کے دیوتا تمہارے لئے پھندا بنے رہیں گے۔“ jej# جب ہم عصر اسرائیلی سب مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملے تو نئی نسل اُبھر آئی جو نہ تو رب کو جانتی، نہ اُن کاموں سے واقف تھی جو رب نے اسرائیل کے لئے کئے تھے۔_9 اُسے تِمنت حِرس میں اُس کی اپنی موروثی زمین میں دفنایا گیا۔ (یہ شہر افرائیم کے پہاڑی علاقے میں جعس پہاڑ کے شمال میں ہے۔)ymپھر رب کا خادم یشوع بن نون انتقال کر گیا۔ اُس کی عمر 110 سال تھی۔1جب تک یشوع اور وہ بزرگ زندہ رہے جنہوں نے وہ عظیم کام دیکھے ہوئے تھے جو رب نے اسرائیلیوں کے لئے کئے تھے اُس وقت تک اسرائیلی رب کی وفاداری سے خدمت کرتے رہے۔ eLe کیونکہ اُنہوں نے اُس کی خدمت چھوڑ کر بعل دیوتا اور عستارات دیوی کی پوجا کی۔O رب اپنے باپ دادا کے خدا کو ترک کر دیا جو اُنہیں مصر سے نکال لایا تھا۔ وہ گرد و نواح کی قوموں کے دیگر معبودوں کے پیچھے لگ گئے اور اُن کی پوجا بھی کرنے لگے۔ اِس سے رب کا غضب اُن پر بھڑکا،0[ اُس وقت وہ ایسی حرکتیں کرنے لگے جو رب کو بُری لگیں۔ اُنہوں نے بعل دیوتا کے بُتوں کی پوجا کر کے "تو رب اُن کے درمیان قاضی برپا کرتا جو اُنہیں لُوٹنے والوں کے ہاتھ سے بچاتے۔!/جب بھی اسرائیلی لڑنے کے لئے نکلے تو رب کا ہاتھ اُن کے خلاف تھا۔ نتیجتاً وہ ہارتے گئے جس طرح اُس نے قَسم کھا کر فرمایا تھا۔ جب وہ اِس طرح بڑی مصیبت میں تھے\ 3رب یہ دیکھ کر اسرائیلیوں سے ناراض ہوا اور اُنہیں ڈاکوؤں کے حوالے کر دیا جنہوں نے اُن کا مال لُوٹا۔ اُس نے اُنہیں ارد گرد کے دشمنوں کے ہاتھ بیچ ڈالا، اور وہ اُن کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ رہے۔ ~$%لیکن جب بھی وہ دشمن کے ظلم اور دباؤ تلے کراہنے لگتے تو رب کو اُن پر ترس آ جاتا، اور وہ کسی قاضی کو برپا کرتا اور اُس کی مدد کر کے اُنہیں بچاتا۔ جتنے عرصے تک قاضی زندہ رہتا اُتنی دیر تک اسرائیلی دشمنوں کے ہاتھ سے محفوظ رہتے۔~#wلیکن وہ اُن کی نہ سنتے بلکہ زنا کر کے دیگر معبودوں کے پیچھے لگے اور اُن کی پوجا کرتے رہتے۔ گو اُن کے باپ دادا رب کے احکام کے تابع رہے تھے، لیکن وہ خود بڑی جلدی سے اُس راہ سے ہٹ جاتے جس پر اُن کے باپ دادا چلے تھے۔ ZE<Z^'7اِس لئے مَیں اُن قوموں کو نہیں نکالوں گا جو یشوع کی موت سے لے کر آج تک ملک میں رہ گئی ہیں۔ یہ قومیں اِس میں آباد رہیں گی،&اِس لئے اللہ کو اسرائیل پر بڑا غصہ آیا۔ اُس نے کہا، ”اِس قوم نے وہ عہد توڑ دیا ہے جو مَیں نے اِس کے باپ دادا سے باندھا تھا۔ یہ میری نہیں سنتی،7%iلیکن اُس کے مرنے پر وہ دوبارہ اپنی پرانی راہوں پر چلنے لگتے، بلکہ جب وہ مُڑ کر دیگر معبودوں کی پیروی اور پوجا کرنے لگتے تو اُن کی روِش باپ دادا کی روِش سے بھی بُری ہوتی۔ وہ اپنی شریر حرکتوں اور ہٹ دھرم راہوں سے باز آنے کے لئے تیار ہی نہ ہوتے۔ 1xV+'نیز، وہ نئی نسل کو جنگ کرنا سکھانا چاہتا تھا، کیونکہ وہ جنگ کرنے سے ناواقف تھی۔ ذیل کی قومیں کنعان میں رہ گئی تھیں:l* Uرب نے کئی ایک قوموں کو ملکِ کنعان میں رہنے دیا تاکہ اُن تمام اسرائیلیوں کو آزمائے جو خود کنعان کی جنگوں میں شریک نہیں ہوئے تھے۔5)eچنانچہ رب نے اِن قوموں کو نہ یشوع کے حوالے کیا، نہ فوراً نکالا بلکہ اُنہیں ملک میں ہی رہنے دیا۔ K(اور مَیں اُن سے اسرائیلیوں کو آزما کر دیکھوں گا کہ آیا وہ اپنے باپ دادا کی طرح رب کی راہ پر چلیں گے یا نہیں۔“ 33=/uنہ صرف یہ بلکہ وہ اِن قوموں سے اپنے بیٹے بیٹیوں کا رشتہ باندھ کر اُن کے دیوتاؤں کی پوجا بھی کرنے لگے۔A.}چنانچہ اسرائیلی کنعانیوں، حِتّیوں، اموریوں، فرِزّیوں، حِوّیوں اور یبوسیوں کے درمیان ہی آباد ہو گئے۔/-Yاُن سے رب اسرائیلیوں کو آزمانا چاہتا تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا یہ میرے اُن احکام پر عمل کرتے ہیں یا نہیں جو مَیں نے موسیٰ کی معرفت اُن کے باپ دادا کو دیئے تھے۔,فلستی اُن کے پانچ حکمرانوں سمیت، تمام کنعانی، صیدانی اور لبنان کے پہاڑی علاقے میں رہنے والے حِوّی جو بعل حرمون پہاڑ سے لے کر لبو حمات تک آباد تھے۔  27 لیکن جب اُنہوں نے مدد کے لئے رب کو پکارا تو اُس نے اُن کے لئے ایک نجات دہندہ برپا کیا۔ کالب کے چھوٹے بھائی غُتنی ایل بن قنز نے اُنہیں دشمن کے ہاتھ سے بچایا۔}1uتب رب کا غضب اُن پر نازل ہوا، اور اُس نے اُنہیں مسوپتامیہ کے بادشاہ کوشن رِسعتیَم کے حوالے کر دیا۔ اسرائیلی آٹھ سال تک کوشن کے غلام رہے۔\03اسرائیلیوں نے ایسی حرکتیں کیں جو رب کی نظر میں بُری تھیں۔ رب کو بھول کر اُنہوں نے بعل دیوتا اور یسیرت دیوی کی خدمت کی۔ : :a6= عجلون نے عمونیوں اور عمالیقیوں کے ساتھ مل کر اسرائیلیوں سے جنگ کی اور اُنہیں شکست دی۔ اُس نے کھجوروں کے شہر پر قبضہ کیا،h5K تو اسرائیلی دوبارہ وہ کچھ کرنے لگے جو رب کی نظر میں بُرا تھا۔ اِس لئے اُس نے موآب کے بادشاہ عجلون کو اسرائیل پر غالب آنے دیا۔4 تب ملک میں چالیس سال تک امن و امان قائم رہا۔ لیکن جب غُتنی ایل بن قنز فوت ہوا\33 اُس وقت غُتنی ایل پر رب کا روح نازل ہوا، اور وہ اسرائیل کا قاضی بن گیا۔ جب وہ جنگ کرنے کے لئے نکلا تو رب نے مسوپتامیہ کے بادشاہ کو شن رِسعتیَم کو اُس کے حوالے کر دیا، اور وہ اُس پر غالب آ گیا۔ 9اِہود نے اپنے لئے ایک دو دھاری تلوار بنا لی جو تقریباً ڈیڑھ فٹ لمبی تھی۔ جاتے وقت اُس نے اُسے اپنی کمر کے دائیں طرف باندھ کر اپنے لباس میں چھپا لیا۔S8!اسرائیلیوں نے دوبارہ مدد کے لئے رب کو پکارا، اور دوبارہ اُس نے اُنہیں نجات دہندہ عطا کیا یعنی بن یمین کے قبیلے کا اِہود بن جیرا جو بائیں ہاتھ سے کام کرنے کا عادی تھا۔ اِسی شخص کو اسرائیلیوں نے عجلون بادشاہ کے پاس بھیج دیا تاکہ وہ اُسے خراج کے پیسے ادا کرے۔T7#اور اسرائیل 18 سال تک اُس کی غلامی میں رہا۔ A>;wپھر اِہود نے اُن آدمیوں کو رُخصت کر دیا جنہوں نے اُس کے ساتھ خراج اُٹھا کر اُسے دربار تک پہنچایا تھا۔;:qجب وہ عجلون کے دربار میں پہنچ گیا تو اُس نے موآب کے بادشاہ کو خراج پیش کیا۔ عجلون بہت موٹا آدمی تھا۔ ##Y<-اِہود بھی وہاں سے روانہ ہوا، لیکن جِلجال کے بُتوں کے قریب وہ مُڑ کر عجلون کے پاس واپس گیا۔ عجلون بالاخانے میں بیٹھا تھا جو زیادہ ٹھنڈا تھا اور اُس کے ذاتی استعمال کے لئے مخصوص تھا۔ اِہود نے اندر جا کر بادشاہ سے کہا، ”میری آپ کے لئے خفیہ خبر ہے۔“ بادشاہ نے کہا، ”خاموش!“ باقی تمام حاضرین کمرے سے چلے گئے تو اِہود نے کہا، ”جو خبر میرے پاس آپ کے لئے ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے!“ یہ سن کر عجلون کھڑا ہونے لگا، !#!~>wلیکن اِہود نے اُسی لمحے اپنے بائیں ہاتھ سے کمر کے دائیں طرف بندھی ہوئی تلوار کو پکڑ کر اُسے میان سے نکالا اور عجلون کے پیٹ میں دھنسا دیا۔Y=-اِہود بھی وہاں سے روانہ ہوا، لیکن جِلجال کے بُتوں کے قریب وہ مُڑ کر عجلون کے پاس واپس گیا۔ عجلون بالاخانے میں بیٹھا تھا جو زیادہ ٹھنڈا تھا اور اُس کے ذاتی استعمال کے لئے مخصوص تھا۔ اِہود نے اندر جا کر بادشاہ سے کہا، ”میری آپ کے لئے خفیہ خبر ہے۔“ بادشاہ نے کہا، ”خاموش!“ باقی تمام حاضرین کمرے سے چلے گئے تو اِہود نے کہا، ”جو خبر میرے پاس آپ کے لئے ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے!“ یہ سن کر عجلون کھڑا ہونے لگا، yqytAcتھوڑی دیر کے بعد بادشاہ کے نوکروں نے آ کر دیکھا کہ دروازوں پر کنڈی لگی ہے۔ اُنہوں نے ایک دوسرے سے کہا، ”وہ حاجت رفع کر رہے ہوں گے،“)@Mاِہود نے کمرے کے دروازوں کو بند کر کے کنڈی لگائی اور ساتھ والے کمرے میں سے نکل کر چلا گیا۔^?7تلوار اِتنی دھنس گئی کہ اُس کا دستہ بھی چربی میں غائب ہو گیا اور اُس کی نوک ٹانگوں میں سے نکلی۔ تلوار کو اُس میں چھوڑ کر s&DGوہاں افرائیم کے پہاڑی علاقے میں اُس نے نرسنگا پھونک دیا تاکہ اسرائیلی لڑنے کے لئے جمع ہو جائیں۔ وہ اکٹھے ہوئے اور اُس کی راہنمائی میں وادیِ یردن میں اُتر گئے۔CCنوکروں کے جھجکنے کی وجہ سے اِہود بچ نکلا اور جِلجال کے بُتوں سے گزر کر سعیرہ پہنچ گیا جہاں وہ محفوظ تھا۔ B اِس لئے کچھ دیر کے لئے ٹھہرے۔ لیکن دروازہ نہ کھلا۔ انتظار کرتے کرتے وہ تھک گئے، لیکن بےسود، بادشاہ نے دروازہ نہ کھولا۔ آخرکار اُنہوں نے چابی ڈھونڈ کر دروازوں کو کھول دیا اور دیکھا کہ مالک کی لاش فرش پر پڑی ہوئی ہے۔ .`.bH?اِہود کے دور کے بعد اسرائیل کا ایک اور نجات دہندہ اُبھر آیا، شمجر بن عنات۔ اُس نے بَیل کے آنکس سے 600 فلستیوں کو مار ڈالا۔ G#اُس دن اسرائیل نے موآب کو زیر کر دیا، اور 80 سال تک ملک میں امن و امان قائم رہا۔0F[اُس وقت اُنہوں نے موآب کے 10,000 طاقت ور اور جنگ کرنے کے قابل آدمیوں کو مار ڈالا۔ ایک بھی نہ بچا۔E3اِہود بولا، ”میرے پیچھے ہو لیں، کیونکہ اللہ نے آپ کے دشمن موآب کو آپ کے حوالے کر دیا ہے۔“ چنانچہ وہ اُس کے پیچھے پیچھے وادی میں اُتر گئے۔ پہلے اُنہوں نے دریائے یردن کے کم گہرے مقاموں پر قبضہ کر کے کسی کو دریا پار کرنے نہ دیا۔ E  !,7BMXcny)4>IT_ju%0;EP[fq|                                                                                                     s`siJMاِس لئے رب نے اُنہیں کنعان کے بادشاہ یابین کے حوالے کر دیا۔ یابین کا دار الحکومت حصور تھا، اور اُس کے پاس 900 لوہے کے رتھ تھے۔ اُس کے لشکر کا سردار سیسرا تھا جو ہروست ہگوئیم میں رہتا تھا۔ یابین نے 20 سال اسرائیلیوں پر بہت ظلم کیا، اِس لئے اُنہوں نے مدد کے لئے رب کو پکارا۔I 5جب اِہود فوت ہوا تو اسرائیلی دوبارہ ایسی حرکتیں کرنے لگے جو رب کے نزدیک بُری تھیں۔ KKIT_ju%0;FP[fq|                                                             ! "! #" $# %$ &% '& ('  ( ) * + , - . /  0  1  2  3  4 5 6 7 8 wiتب جدعون نے کہا، ”اگر مجھ پر تیرے کرم کی نظر ہو تو مجھے کوئی الٰہی نشان دکھا تاکہ ثابت ہو جائے کہ واقعی رب ہی میرے ساتھ بات کر رہا ہے۔3aرب نے جواب دیا، ”مَیں تیرے ساتھ ہوں گا، اور تُو مِدیانیوں کو یوں مارے گا جیسے ایک ہی آدمی کو۔“/Yلیکن جدعون نے اعتراض کیا، ”اے رب، مَیں اسرائیل کو کس طرح بچاؤں؟ میرا خاندان منسّی کے قبیلے کا سب سے کمزور خاندان ہے، اور مَیں اپنے باپ کے گھر میں سب سے چھوٹا ہوں۔“ ))dCرب کے فرشتے نے کہا، ”گوشت اور بےخمیری روٹی کو لے کر اِس پتھر پر رکھ دے، پھر شوربہ اُس پر اُنڈیل دے۔“ جدعون نے ایسا ہی کیا۔(Kجدعون چلا گیا۔ اُس نے بکری کا بچہ ذبح کر کے تیار کیا اور پورے 16 کلو گرام میدے سے بےخمیری روٹی بنائی۔ پھر گوشت کو ٹوکری میں رکھ کر اور اُس کا شوربہ الگ برتن میں ڈال کر وہ سب کچھ رب کے فرشتے کے پاس لایا اور اُسے بلوط کے سائے میں پیش کیا۔?yمَیں ابھی جا کر قربانی تیار کرتا ہوں اور پھر واپس آ کر اُسے تجھے پیش کروں گا۔ اُس وقت تک روانہ نہ ہو جانا۔“ رب نے کہا، ”ٹھیک ہے، مَیں تیری واپسی کا انتظار کر کے ہی جاؤں گا۔“ #لیکن رب اُس سے ہم کلام ہوا اور کہا، ”تیری سلامتی ہو۔ مت ڈر، تُو نہیں مرے گا۔“/پھر جدعون کو یقین آیا کہ یہ واقعی رب کا فرشتہ تھا، اور وہ بول اُٹھا، ”ہائے رب قادرِ مطلق! مجھ پر افسوس، کیونکہ مَیں نے رب کے فرشتے کو رُوبرُو دیکھا ہے۔“Kرب کے فرشتے کے ہاتھ میں لاٹھی تھی۔ اب اُس نے لاٹھی کے سرے سے گوشت اور بےخمیری روٹی کو چھو دیا۔ اچانک پتھر سے آگ بھڑک اُٹھی اور خوراک بھسم ہو گئی۔ ساتھ ساتھ رب کا فرشتہ اوجھل ہو گیا۔ &g&=uاِس کے بعد اُسی پہاڑی قلعے کی چوٹی پر رب اپنے خدا کے لئے صحیح قربان گاہ بنا دے۔ یسیرت کے کھمبے کی کٹی ہوئی لکڑی اور بَیل کو اُس پر رکھ کر مجھے بھسم ہونے والی قربانی پیش کر۔“#Aاُسی رات رب جدعون سے ہم کلام ہوا، ”اپنے باپ کے بَیلوں میں سے دوسرے بَیل کو جو سات سال کا ہے چن لے۔ پھر اپنے باپ کی وہ قربان گاہ گرا دے جس پر بعل دیوتا کو قربانیاں چڑھائی جاتی ہیں، اور یسیرت دیوی کا وہ کھمبا کاٹ ڈال جو ساتھ کھڑا ہے۔nWوہیں جدعون نے رب کے لئے قربان گاہ بنائی اور اُس کا نام ’رب سلامت ہے‘ رکھا۔ یہ آج تک ابی عزر کے خاندان کے شہر عُفرہ میں موجود ہے۔ GJGyاُنہوں نے ایک دوسرے سے پوچھا، ”کس نے یہ کیا؟“ جب وہ اِس بات کی تفتیش کرنے لگے تو کسی نے اُنہیں بتایا کہ جدعون بن یوآس نے یہ سب کچھ کیا ہے۔_9صبح کے وقت جب شہر کے لوگ اُٹھے تو دیکھا کہ بعل کی قربان گاہ ڈھا دی گئی ہے اور یسیرت دیوی کا ساتھ والا کھمبا کاٹ دیا گیا ہے۔ اِن کی جگہ ایک نئی قربان گاہ بنائی گئی ہے جس پر بَیل کو چڑھایا گیا ہے۔Oچنانچہ جدعون نے اپنے دس نوکروں کو ساتھ لے کر وہ کچھ کیا جس کا حکم رب نے اُسے دیا تھا۔ لیکن وہ اپنے خاندان اور شہر کے لوگوں سے ڈرتا تھا، اِس لئے اُس نے یہ کام دن کے بجائے رات کے وقت کیا۔ L L9m چونکہ جدعون نے بعل کی قربان گاہ گرا دی تھی اِس لئے اُس کا نام یرُبعل یعنی ’بعل اُس سے لڑے‘ پڑ گیا۔#Aلیکن یوآس نے اُن سے جو اُس کے سامنے کھڑے تھے کہا، ”کیا آپ بعل کے دفاع میں لڑنا چاہتے ہیں؟ جو بھی بعل کے لئے لڑے گا اُسے کل صبح تک مار دیا جائے گا۔ اگر بعل واقعی خدا ہے تو وہ خود اپنے دفاع میں لڑے جب کوئی اُس کی قربان گاہ کو ڈھا دے۔“Lتب وہ یوآس کے گھر گئے اور تقاضا کیا، ”اپنے بیٹے کو گھر سے نکال لائیں۔ لازم ہے کہ وہ مر جائے، کیونکہ اُس نے بعل کی قربان گاہ کو گرا کر ساتھ والا یسیرت دیوی کا کھمبا بھی کاٹ ڈالا ہے۔“ +#+5#e$جدعون نے اللہ سے دعا کی، ”اگر تُو واقعی اسرائیل کو اپنے وعدے کے مطابق میرے ذریعے بچانا چاہتا ہے;"q#ساتھ ساتھ اُس نے اپنے قاصدوں کو منسّی کے قبیلے اور آشر، زبولون اور نفتالی کے قبیلوں کے پاس بھی بھیج دیا۔ تب وہ بھی آئے اور جدعون کے مردوں کے ساتھ مل کر اُس کے پیچھے ہو لئے۔]!5"پھر رب کا روح جدعون پر نازل ہوا۔ اُس نے نرسنگا پھونک کر ابی عزر کے خاندان کے مردوں کو اپنے پیچھے ہو لینے کے لئے بُلایا۔x k!کچھ دیر کے بعد تمام مِدیانی، عمالیقی اور دوسری مشرقی قومیں جمع ہوئیں اور دریائے یردن کو پار کر کے اپنے ڈیرے میدانِ یزرعیل میں لگائے۔ AYA%#&وہی کچھ ہوا جس کی درخواست جدعون نے کی تھی۔ اگلے دن جب وہ صبح سویرے اُٹھا تو اُون اوس سے تر تھی۔ جب اُس نے اُسے نچوڑا تو اِتنا پانی تھا کہ برتن بھر گیا۔#$A%تو مجھے یقین دلا۔ مَیں رات کو تازہ کتری ہوئی اُون گندم گاہنے کے فرش پر رکھ دوں گا۔ کل صبح اگر صرف اُون پر اوس پڑی ہو اور ارد گرد کا سارا فرش خشک ہو تو مَیں جان لوں گا کہ واقعی تُو اپنے وعدے کے مطابق اسرائیل کو میرے ذریعے بچائے گا۔“ gsga( ?صبح سویرے یرُبعل یعنی جدعون اپنے تمام لوگوں کو ساتھ لے کر حرود چشمے کے پاس آیا۔ وہاں اُنہوں نے اپنے ڈیرے لگائے۔ مِدیانیوں نے اپنی خیمہ گاہ اُن کے شمال میں مورہ پہاڑ کے دامن میں لگائی ہوئی تھی۔#'A(اُس رات اللہ نے ایسا ہی کیا۔ صرف اُون خشک رہی جبکہ ارد گرد کے سارے فرش پر اوس پڑی تھی۔ & 'پھر جدعون نے اللہ سے کہا، ”مجھ سے غصے نہ ہو جانا اگر مَیں تجھ سے ایک بار پھر درخواست کروں۔ مجھے ایک آخری دفعہ اُون کے ذریعے تیری مرضی جانچنے کی اجازت دے۔ اِس دفعہ اُون خشک رہے اور ارد گرد کے سارے فرش پر اوس پڑی ہو۔“ H|H0+[لیکن رب نے دوبارہ جدعون سے بات کی، ”ابھی تک زیادہ لوگ ہیں! اِن کے ساتھ اُتر کر چشمے کے پاس جا۔ وہاں مَیں اُنہیں جانچ کر اُن کو مقرر کروں گا جنہیں تیرے ساتھ جانا ہے۔“*'اِس لئے لشکرگاہ میں اعلان کر کہ جو ڈر کے مارے پریشان ہو وہ اپنے گھر واپس چلا جائے۔“ جدعون نے یوں کیا تو 22,000 مرد واپس چلے گئے جبکہ 10,000 جدعون کے پاس رہے۔f)Gرب نے جدعون سے کہا، ”تیرے پاس زیادہ لوگ ہیں! مَیں اِس قسم کے بڑے لشکر کو مِدیانیوں پر فتح نہیں دوں گا، ورنہ اسرائیلی میرے سامنے ڈینگیں مار کر کہیں گے، ’ہم نے اپنی ہی طاقت سے اپنے آپ کو بچایا ہے!‘ {T.#پھر رب نے جدعون سے فرمایا، ”مَیں اِن 300 چاٹنے والے آدمیوں کے ذریعے اسرائیل کو بچا کر مِدیانیوں کو تیرے حوالے کر دوں گا۔ باقی تمام مردوں کو فارغ کر۔ وہ سب اپنے اپنے گھر واپس چلے جائیں۔“-5300 آدمیوں نے اپنا ہاتھ پانی سے بھر کر اُسے چاٹ لیا جبکہ باقی سب پینے کے لئے جھک گئے۔,}چنانچہ جدعون اپنے آدمیوں کے ساتھ چشمے کے پاس اُتر آیا۔ رب نے اُسے حکم دیا، ”جو بھی اپنا ہاتھ پانی سے بھر کر اُسے کُتے کی طرح چاٹ لے اُسے ایک طرف کھڑا کر۔ دوسری طرف اُنہیں کھڑا کر جو گھٹنے ٹیک کر پانی پیتے ہیں۔“ 1 لیکن اگر تُو اِس سے ڈرتا ہے تو پہلے اپنے نوکر فُوراہ کے ساتھ اُتر کر|0s جب رات ہوئی تو رب جدعون سے ہم کلام ہوا، ”اُٹھ، مِدیانی خیمہ گاہ کے پاس اُتر کر اُس پر حملہ کر، کیونکہ مَیں اُسے تیرے ہاتھ میں دے دوں گا۔r/_چنانچہ جدعون نے باقی تمام آدمیوں کو فارغ کر دیا۔ صرف مقررہ 300 مرد رہ گئے۔ اب یہ دوسروں کی خوراک اور نرسنگے اپنے پاس رکھ کر جنگ کے لئے تیار ہوئے۔ اُس وقت مِدیانی خیمہ گاہ اسرائیلیوں کے نیچے وادی میں تھی۔   k3Q مِدیانی، عمالیقی اور مشرق کے دیگر فوجی ٹڈیوں کے دَل کی طرح وادی میں پھیلے ہوئے تھے۔ اُن کے اونٹ ساحل کی ریت کی طرح بےشمار تھے۔2{ وہ باتیں سن لے جو وہاں کے لوگ کہہ رہے ہیں۔ تب اُن پر حملہ کرنے کی جرٲت بڑھ جائے گی۔“ جدعون فوراہ کے ساتھ خیمہ گاہ کے کنارے کے پاس اُتر آیا۔ 53دوسرے نے جواب دیا، ”اِس کا صرف یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ اسرائیلی مرد جدعون بن یوآس کی تلوار غالب آئے گی! اللہ اُسے مِدیانیوں اور پوری لشکرگاہ پر فتح دے گا۔“4 جدعون دبے پاؤں دشمن کے اِتنے قریب پہنچ گیا کہ اُن کی باتیں سن سکتا تھا۔ عین اُس وقت ایک فوجی دوسرے کو اپنا خواب سنا رہا تھا، ”مَیں نے خواب میں دیکھا کہ جَو کی بڑی روٹی لُڑھکتی لُڑھکتی ہماری خیمہ گاہ میں اُتر آئی۔ یہاں وہ اِتنی شدت سے خیمے سے ٹکرا گئی کہ خیمہ اُلٹ کر زمین بوس ہو گیا۔“ e7Eاُس نے اپنے 300 مردوں کو سَو سَو کے تین گروہوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کو ایک نرسنگا اور ایک گھڑا دے دیا۔ ہر گھڑے میں مشعل تھی۔56eخواب اور اُس کی تعبیر سن کر جدعون نے اللہ کو سجدہ کیا۔ پھر اُس نے اسرائیلی خیمہ گاہ میں واپس آ کر اعلان کیا، ”اُٹھیں! رب نے مِدیانی لشکرگاہ کو تمہارے حوالے کر دیا ہے۔“ 68gاُس نے حکم دیا، ”جو کچھ مَیں کروں گا اُس پر غور کر کے وہی کچھ کریں۔ پوری خیمہ گاہ کو گھیر لیں اور عین وہی کچھ کریں جو مَیں کروں گا۔ جب مَیں اپنے سَو لوگوں کے ساتھ خیمہ گاہ کے کنارے پہنچوں گا تو ہم اپنے نرسنگوں کو بجا دیں گے۔ یہ سنتے ہی آپ بھی یہی کچھ کریں اور ساتھ ساتھ نعرہ لگائیں، ’رب کے لئے اور جدعون کے لئے‘!“ RRp:[تقریباً آدھی رات کو جدعون اپنے سَو مردوں کے ساتھ مِدیانی خیمہ گاہ کے کنارے پہنچ گیا۔ تھوڑی دیر پہلے پہرے دار بدل گئے تھے۔ اچانک اسرائیلیوں نے اپنے نرسنگوں کو بجایا اور اپنے گھڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔69gاُس نے حکم دیا، ”جو کچھ مَیں کروں گا اُس پر غور کر کے وہی کچھ کریں۔ پوری خیمہ گاہ کو گھیر لیں اور عین وہی کچھ کریں جو مَیں کروں گا۔ جب مَیں اپنے سَو لوگوں کے ساتھ خیمہ گاہ کے کنارے پہنچوں گا تو ہم اپنے نرسنگوں کو بجا دیں گے۔ یہ سنتے ہی آپ بھی یہی کچھ کریں اور ساتھ ساتھ نعرہ لگائیں، ’رب کے لئے اور جدعون کے لئے‘!“ LLo=Yجدعون کے 300 آدمی اپنے نرسنگے بجاتے رہے جبکہ رب نے خیمہ گاہ میں ایسی گڑبڑ پیدا کی کہ لوگ ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔ آخرکار پورا لشکر بیت سِطّہ، صریرات اور ابیل محولہ کی سرحد تک فرار ہوا جو طبّات کے قریب ہے۔< لیکن وہ خیمہ گاہ میں داخل نہ ہوئے بلکہ وہیں اُس کے ارد گرد کھڑے رہے۔ دشمن میں بڑی افرا تفری مچ گئی۔ چیختے چلّاتے سب بھاگ جانے کی کوشش کرنے لگے۔1;]فوراً سَو سَو کے دوسرے دو گروہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اپنے دہنے ہاتھ میں نرسنگا اور بائیں ہاتھ میں بھڑکتی مشعل پکڑ کر وہ نعرہ لگاتے رہے، ”رب کے لئے اور جدعون کے لئے!“ j6jH? اُس نے اپنے قاصدوں کے ذریعے افرائیم کے پورے پہاڑی علاقے کے باشندوں کو بھی پیغام بھیج دیا، ”اُتر آئیں اور مِدیانیوں کو بھاگ جانے سے روکیں! بیت بارہ تک اُن تمام جگہوں پر قبضہ کر لیں جہاں دشمن دریائے یردن کو پا پیادہ پار کر سکتا ہے۔“ افرائیمی مان گئے،F>پھر جدعون نے نفتالی، آشر اور پورے منسّی کے مردوں کو بُلا لیا، اور اُنہوں نے مل کر مِدیانیوں کا تعاقب کیا۔ [IT_ju$/:EP[fq| : ; < = > ? @  A B : ; < = > ? @  A B C D E F G H  I  J  K  L  M N O P Q R S T U V W X Y Z [ \ ] ^ _  ` !a "b #c   d  e  f  g  h  i  j  k  l  m  n  o  p  q  r  s  t  u  v  w  x  y  z  {  |  }  ~ llV+اسرائیلیوں نے جدعون کے پاس آ کر کہا، ”آپ نے ہمیں مِدیانیوں سے بچا لیا ہے، اِس لئے ہم پر حکومت کریں، آپ، آپ کے بعد آپ کا بیٹا اور اُس کے بعد آپ کا پوتا۔“bU?تب زبح اور ضلمُنّع نے کہا، ”آپ ہی ہمیں مار دیں! کیونکہ جیسا آدمی ویسی اُس کی طاقت!“ جدعون نے کھڑے ہو کر اُنہیں تلوار سے مار ڈالا اور اُن کے اونٹوں کی گردنوں پر لگے تعویذ اُتار کر اپنے پاس رکھے۔Tپھر وہ اپنے پہلوٹھے یتر سے مخاطب ہو کر بولا، ”اِن کو مار ڈالو!“ لیکن یتر اپنی تلوار میان سے نکالنے سے جھجکا، کیونکہ وہ ابھی بچہ تھا اور ڈرتا تھا۔ ;M ;MYاسرائیلیوں نے کہا، ”ہم خوشی سے بالی دیں گے۔“ ایک چادر زمین پر بچھا کر ہر ایک نے ایک ایک بالی اُس پر پھینک دی۔=Xuمیری صرف ایک گزارش ہے۔ ہر ایک مجھے اپنے لُوٹے ہوئے مال میں سے ایک ایک بالی دے دے۔“ بات یہ تھی کہ دشمن کے تمام افراد نے سونے کی بالیاں پہن رکھی تھیں، کیونکہ وہ اسماعیلی تھے۔/WYلیکن جدعون نے جواب دیا، ”نہ مَیں آپ پر حکومت کروں گا، نہ میرا بیٹا۔ رب ہی آپ پر حکومت کرے گا۔ 7P7\%اُس وقت مِدیان نے ایسی شکست کھائی کہ بعد میں اسرائیل کے لئے خطرے کا باعث نہ رہا۔ اور جتنی دیر جدعون زندہ رہا یعنی 40 سال تک ملک میں امن و امان قائم رہا۔U[%اِس سونے سے جدعون نے ایک افود بنا کر اُسے اپنے آبائی شہر عُفرہ میں کھڑا کیا جہاں وہ اُس کے اور تمام خاندان کے لئے پھندا بن گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ پورا اسرائیل زنا کر کے بُت کی پوجا کرنے لگا۔SZ!سونے کی اِن بالیوں کا وزن تقریباً 20 کلو گرام تھا۔ اِس کے علاوہ اسرائیلیوں نے مختلف تعویذ، کان کے آویزے، ارغوانی رنگ کے شاہی لباس اور اونٹوں کی گردنوں میں لگی قیمتی زنجیریں بھی دے دیں۔ ILhIb"رب اپنے خدا کو بھول گئے جس نے اُنہیں ارد گرد کے دشمنوں سے بچا لیا تھا۔Ma!جدعون کے مرتے ہی اسرائیلی دوبارہ زنا کر کے بعل کے بُتوں کی پوجا کرنے لگے۔ وہ بعل بریت کو اپنا خاص دیوتا بنا کرA`} جدعون عمر رسیدہ تھا جب فوت ہوا۔ اُسے ابی عزریوں کے شہر عُفرہ میں اُس کے باپ یوآس کی قبر میں دفنایا گیا۔`_;اُس کی ایک داشتہ بھی تھی جو سِکم شہر میں رہائش پذیر تھی اور جس کے ایک بیٹا پیدا ہوا۔ جدعون نے بیٹے کا نام ابی مَلِک رکھا۔I^ اُس کی بہت سی بیویاں اور 70 بیٹے تھے۔e]Eجنگ کے بعد جدعون بن یوآس دوبارہ عُفرہ میں رہنے لگا۔ (=$eC ”سِکم شہر کے تمام باشندوں سے پوچھیں، کیا آپ اپنے آپ پر جدعون کے 70 بیٹوں کی حکومت زیادہ پسند کریں گے یا ایک ہی شخص کی؟ یاد رہے کہ مَیں آپ کا خونی رشتے دار ہوں!“gd K ایک دن یرُبعل یعنی جدعون کا بیٹا ابی مَلِک اپنے ماموؤں اور ماں کے باقی رشتے داروں سے ملنے کے لئے سِکم گیا۔ اُس نے اُن سے کہا،Tc##اُنہوں نے یرُبعل یعنی جدعون کے خاندان کو بھی اُس احسان کے لئے کوئی مہربانی نہ دکھائی جو جدعون نے اُن پر کیا تھا۔ EEh اُنہیں اپنے ساتھ لے کر وہ عُفرہ پہنچا جہاں باپ کا خاندان رہتا تھا۔ وہاں اُس نے اپنے تمام بھائیوں یعنی جدعون کے 70 بیٹوں کو ایک ہی پتھر پر قتل کر دیا۔ صرف یوتام جو جدعون کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا کہیں چھپ کر بچ نکلا۔g اُنہوں نے اُسے بعل بریت دیوتا کے مندر سے چاندی کے 70 سکے بھی دے دیئے۔ اِن پیسوں سے ابی مَلِک نے اپنے ارد گرد آوارہ اور بدمعاش آدمیوں کا گروہ جمع کیا۔f3 ابی مَلِک کے ماموؤں نے سِکم کے تمام باشندوں کے سامنے یہ باتیں دہرائیں۔ سِکم کے لوگوں نے سوچا، ”ابی مَلِک ہمارا بھائی ہے“ اِس لئے وہ اُس کے پیچھے لگ گئے۔ }}.kW ایک دن درختوں نے فیصلہ کیا کہ ہم پر کوئی بادشاہ ہونا چاہئے۔ وہ اُسے چننے اور مسح کرنے کے لئے نکلے۔ پہلے اُنہوں نے زیتون کے درخت سے بات کی، ’ہمارے بادشاہ بن جائیں!‘7ji جب یوتام کو اِس کی اطلاع ملی تو وہ گرزیم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور اونچی آواز سے چلّایا، ”اے سِکم کے باشندو، سنیں میری بات! سنیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ کی بھی سنے۔i اِس کے بعد سِکم اور بیت مِلّو کے تمام لوگ اُس بلوط کے سائے میں جمع ہوئے جو سِکم کے ستون کے پاس تھا۔ وہاں اُنہوں نے ابی مَلِک کو اپنا بادشاہ مقرر کیا۔ Nho پھر درختوں نے انگور کی بیل سے بات کی، ’آئیں، ہمارے بادشاہ بن جائیں!‘bn? لیکن انجیر کے درخت نے جواب دیا، ’کیا مَیں اپنا میٹھا اور اچھا پھل لانے سے باز آؤں تاکہ درختوں پر حکومت کروں؟ ہرگز نہیں!‘m! اِس کے بعد درختوں نے انجیر کے درخت سے بات کی، ’آئیں، ہمارے بادشاہ بن جائیں!‘l) لیکن زیتون کے درخت نے جواب دیا، ’کیا مَیں اپنا تیل پیدا کرنے سے باز آؤں جس کی اللہ اور انسان اِتنی قدر کرتے ہیں تاکہ درختوں پر حکومت کروں؟ ہرگز نہیں!‘ Or} کانٹےدار جھاڑی نے جواب دیا، ’اگر تم واقعی مجھے مسح کر کے اپنا بادشاہ بنانا چاہتے ہو تو آؤ اور میرے سائے میں پناہ لو۔ اگر تم ایسا نہیں کرنا چاہتے تو جھاڑی سے آگ نکل کر لبنان کے دیودار کے درختوں کو بھسم کر دے‘۔“q3 آخرکار درخت کانٹےدار جھاڑی کے پاس آئے اور کہا، ’آئیں اور ہمارے بادشاہ بن جائیں!‘ p لیکن انگور کی بیل نے جواب دیا، ’کیا مَیں اپنا رس پیدا کرنے سے باز آؤں جس سے اللہ اور انسان خوش ہو جاتے ہیں تاکہ درختوں پر حکومت کروں؟ ہرگز نہیں!‘ :1t] میرے باپ نے آپ کی خاطر جنگ کی۔ آپ کو مِدیانیوں سے بچانے کے لئے اُس نے اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔Bs یوتام نے بات جاری رکھ کر کہا، ”اب مجھے بتائیں، کیا آپ نے وفاداری اور سچائی کا اظہار کیا جب آپ نے ابی مَلِک کو اپنا بادشاہ بنا لیا؟ کیا آپ نے جدعون اور اُس کے خاندان کے ساتھ اچھا سلوک کیا؟ کیا آپ نے اُس پر شکرگزاری کا وہ اظہار کیا جس کے لائق وہ تھا؟ 4c4+wQ لیکن اگر ایسا نہیں تھا تو اللہ کرے کہ ابی مَلِک سے آگ نکل کر آپ سب کو بھسم کر دے جو سِکم اور بیت مِلّو میں رہتے ہیں! اور آگ آپ سے نکل کر ابی مَلِک کو بھی بھسم کر دے!“v9 اب سنیں! اگر آپ نے جدعون اور اُس کے خاندان کے ساتھ وفاداری اور سچائی کا اظہار کیا ہے تو پھر اللہ کرے کہ ابی مَلِک آپ کے لئے خوشی کا باعث ہو اور آپ اُس کے لئے۔vug لیکن آج آپ جدعون کے گھرانے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ آپ نے اُس کے 70 بیٹوں کو ایک ہی پتھر پر ذبح کر کے اُس کی لونڈی کے بیٹے ابی مَلِک کو سِکم کا بادشاہ بنا لیا ہے، اور یہ صرف اِس لئے کہ وہ آپ کا رشتے دار ہے۔ X<{s یوں اللہ نے اُسے اِس کی سزا دی کہ اُس نے اپنے بھائیوں یعنی جدعون کے 70 بیٹوں کو قتل کیا تھا۔ سِکم کے باشندوں کو بھی سزا ملی، کیونکہ اُنہوں نے اِس میں ابی مَلِک کی مدد کی تھی۔zzo لیکن پھر اللہ نے ایک بُری روح بھیج دی جس نے ابی مَلِک اور سِکم کے باشندوں میں نااتفاقی پیدا کر دی۔ نتیجے میں سِکم کے لوگوں نے بغاوت کی۔Zy/ ابی مَلِک کی اسرائیل پر حکومت تین سال تک رہی۔$xC یہ کہہ کر یوتام نے بھاگ کر بیر میں پناہ لی، کیونکہ وہ اپنے بھائی ابی مَلِک سے ڈرتا تھا۔ JJh~K انگور کی فصل پک گئی تھی۔ لوگ شہر سے نکلے اور اپنے باغوں میں انگور توڑ کر اُن سے رس نکالنے لگے۔ پھر اُنہوں نے اپنے دیوتا کے مندر میں جشن منایا۔ جب وہ خوب کھا پی رہے تھے تو ابی مَلِک پر لعنت کرنے لگے۔}3 اُن دنوں میں ایک آدمی اپنے بھائیوں کے ساتھ سِکم آیا جس کا نام جعل بن عبد تھا۔ سِکم کے لوگوں سے اُس کا اچھا خاصا تعلق بن گیا، اور وہ اُس پر اعتبار کرنے لگے۔&|G اُس وقت سِکم کے لوگ ارد گرد کی چوٹیوں پر چڑھ کر ابی مَلِک کی تاک میں بیٹھ گئے۔ جو بھی وہاں سے گزرا اُسے اُنہوں نے لُوٹ لیا۔ اِس بات کی خبر ابی مَلِک تک پہنچ گئی۔ oftc جعل بن عبد کی بات سن کر سِکم کا سردار زبول بڑے غصے میں آ گیا۔ کاش شہر کا انتظام میرے ہاتھ میں ہوتا! پھر مَیں ابی مَلِک کو جلد ہی نکال دیتا۔ مَیں اُسے چیلنج دیتا کہ آؤ، اپنے فوجیوں کو جمع کر کے ہم سے لڑو!“  جعل بن عبد نے کہا، ”سِکم کا ابی مَلِک کے ساتھ کیا واسطہ کہ ہم اُس کے تابع رہیں؟ وہ تو صرف یرُبعل کا بیٹا ہے، جس کا نمائندہ زبول ہے۔ اُس کی خدمت مت کرنا بلکہ سِکم کے بانی حمور کے لوگوں کی! ہم ابی مَلِک کی خدمت کیوں کریں؟ # vg "یہ سن کر ابی مَلکِ رات کے وقت اپنے فوجیوں سمیت روانہ ہوا۔ اُس نے اُنہیں چار گروہوں میں تقسیم کیا جو سِکم کو گھیر کر تاک میں بیٹھ گئے۔% !صبح سویرے جب سورج طلوع ہو گا تو شہر پر حملہ کریں۔ جب جعل اپنے آدمیوں کے ساتھ آپ کے خلاف لڑنے آئے گا تو اُس کے ساتھ وہ کچھ کریں جو آپ مناسب سمجھتے ہیں۔“7 اب ایسا کریں کہ رات کے وقت اپنے فوجیوں سمیت اِدھر آئیں اور کھیتوں میں تاک میں رہیں۔7i اپنے قاصدوں کی معرفت اُس نے ابی مَلِک کو چپکے سے اطلاع دی، ”جعل بن عبد اپنے بھائیوں کے ساتھ سِکم آ گیا ہے جہاں وہ پورے شہر کو آپ کے خلاف کھڑے ہو جانے کے لئے اُکسا رہا ہے۔ ! %لیکن جعل کو تسلی نہ ہوئی۔ وہ دوبارہ بول اُٹھا، ”دیکھو، لوگ دنیا کی ناف سے اُتر رہے ہیں۔ اور ایک اَور گروہ رمّالوں کے بلوط سے ہو کر آ رہا ہے۔“3a $اُنہیں دیکھ کر جعل نے زبول سے کہا، ”دیکھو، لوگ پہاڑوں کی چوٹیوں سے اُتر رہے ہیں!“ زبول نے جواب دیا، ”نہیں، نہیں، جو آپ کو آدمی لگ رہے ہیں وہ صرف پہاڑوں کے سائے ہیں۔“[1 #صبح کے وقت جب جعل گھر سے نکل کر شہر کے دروازے میں کھڑا ہوا تو ابی مَلِک اور اُس کے فوجی اپنی چھپنے کی جگہوں سے نکل آئے۔ Z Z4 c )پھر ابی مَلِک ارُومہ چلا گیا جبکہ زبول نے پیچھے رہ کر جعل اور اُس کے بھائیوں کو شہر سے نکال دیا۔t c (لیکن وہ ہار گیا، اور ابی مَلِک نے شہر کے دروازے تک اُس کا تعاقب کیا۔ بھاگتے بھاگتے سِکم کے بہت سے افراد راستے میں گر کر ہلاک ہو گئے۔ { 'تب جعل سِکم کے مردوں کے ساتھ شہر سے نکلا اور ابی مَلِک سے لڑنے لگا۔n W &پھر زبول نے اُس سے کہا، ”اب تیری بڑی بڑی باتیں کہاں رہیں؟ کیا تُو نے نہیں کہا تھا، ’ابی مَلِک کون ہے کہ ہم اُس کے تابع رہیں؟‘ اب یہ لوگ آ گئے ہیں جن کا مذاق تُو نے اُڑایا۔ جا، شہر سے نکل کر اُن سے لڑ!“ i]ip[ +تو اُس نے اپنی فوج کو تین گروہوں میں تقسیم کیا۔ یہ گروہ دوبارہ سِکم کو گھیر کر گھات میں بیٹھ گئے۔ جب لوگ شہر سے نکلے تو ابی مَلِک اپنے گروہ کے ساتھ چھپنے کی جگہ سے نکل آیا اور شہر کے دروازے میں کھڑا ہو گیا۔ باقی دو گروہ میدان میں موجود افراد پر ٹوٹ پڑے اور سب کو ہلاک کر دیا۔ 9 *اگلے دن سِکم کے لوگ شہر سے نکل کر میدان میں آنا چاہتے تھے۔ جب ابی مَلِک کو یہ خبر ملی | |  -پھر ابی مَلِک نے شہر پر حملہ کیا۔ لوگ پورا دن لڑتے رہے، لیکن آخرکار ابی مَلِک نے شہر پر قبضہ کر کے تمام باشندوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اُس نے شہر کو تباہ کیا اور کھنڈرات پر نمک بکھیر کر اُس کی حتمی تباہی ظاہر کر دی۔p[ ,تو اُس نے اپنی فوج کو تین گروہوں میں تقسیم کیا۔ یہ گروہ دوبارہ سِکم کو گھیر کر گھات میں بیٹھ گئے۔ جب لوگ شہر سے نکلے تو ابی مَلِک اپنے گروہ کے ساتھ چھپنے کی جگہ سے نکل آیا اور شہر کے دروازے میں کھڑا ہو گیا۔ باقی دو گروہ میدان میں موجود افراد پر ٹوٹ پڑے اور سب کو ہلاک کر دیا۔ mDm{q 1فوجیوں نے بھی شاخیں کاٹیں اور پھر ابی مَلِک کے پیچھے لگ کر مندر کے پاس واپس آئے۔ وہاں اُنہوں نے تمام لکڑی تہہ خانے کی چھت پر جمع کر کے اُسے جلا دیا۔ یوں سِکم کے بُرج کے تقریباً 1,000 مرد و خواتین سب بھسم ہو گئے۔ ; 0تو وہ اپنے فوجیوں سمیت ضلمون پہاڑ پر چڑھ گیا۔ وہاں اُس نے کلہاڑی سے شاخ کاٹ کر اپنے کندھوں پر رکھ لی اور اپنے فوجیوں کو حکم دیا، ”جلدی کرو! سب ایسا ہی کرو۔“1_ /جب ابی مَلِک کو پتا چلا8k .جب سِکم کے بُرج کے رہنے والوں کو یہ اطلاع ملی تو وہ ایل بریت دیوتا کے مندر کے تہہ خانے میں چھپ گئے۔ =[n=  5تو ایک عورت نے چکّی کا اوپر کا پاٹ اُس کے سر پر پھینک دیا، اور وہ پھٹ گیا۔7 4ابی مَلِک لڑتے لڑتے بُرج کے دروازے کے قریب پہنچ گیا۔ وہ اُسے جلانے کی کوشش کرنے لگاiM 3لیکن شہر کے بیچ میں ایک مضبوط بُرج تھا۔ تمام مرد و خواتین اُس میں فرار ہوئے اور بُرج کے دروازوں پر کنڈی لگا کر چھت پر چڑھ گئے۔!= 2وہاں سے ابی مَلِک تیبض کے خلاف بڑھ گیا۔ اُس نے شہر کا محاصرہ کر کے اُس پر قبضہ کر لیا۔ _|*_G  9اور اللہ نے سِکم کے باشندوں کو بھی اُن کی شریر حرکتوں کی مناسب سزا دی۔ یوتام بن یرُبعل کی لعنت پوری ہوئی۔ E 8یوں اللہ نے ابی مَلِک کو اُس بدی کا بدلہ دیا جو اُس نے اپنے 70 بھائیوں کو قتل کر کے اپنے باپ کے خلاف کی تھی۔ 7جب فوجیوں نے دیکھا کہ ابی مَلِک مر گیا ہے تو وہ اپنے اپنے گھر چلے گئے۔{ 6جلدی سے ابی مَلِک نے اپنے سلاح بردار کو بُلایا۔ اُس نے کہا، ”اپنی تلوار کھینچ کر مجھے مار دو! ورنہ لوگ کہیں گے کہ ایک عورت نے مجھے مار ڈالا۔“ چنانچہ نوجوان نے اپنی تلوار اُس کے بدن میں سے گزار دی اور وہ مر گیا۔ E  !,7BMXcny)4?JT_ju$/:EP[fq|          !  "  #  $  %          !  "  #  $  %  &  '  (  )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8  9                                                                                   ;H;g!I جب یائیر انتقال کر گیا تو اُسے قامون میں دفنایا گیا۔x k یائیر کے 30 بیٹے تھے۔ ہر بیٹے کا ایک ایک گدھا اور جِلعاد میں ایک ایک آبادی تھی۔ آج تک اِن کا نام ’حووت یائیر‘ یعنی یائیر کی بستیاں ہے۔#A اُس کے بعد جِلعاد کا رہنے والا یائیر قاضی بن گیا۔ اُس نے 22 سال اسرائیل کی راہنمائی کی۔  تولع 23 سال اسرائیل کا قاضی رہا۔ پھر وہ فوت ہوا اور سمیر میں دفنایا گیا۔( M ابی مَلِک کی موت کے بعد تولع بن فُوّہ بن دودو اسرائیل کو بچانے کے لئے اُٹھا۔ وہ اِشکار کے قبیلے سے تھا اور افرائیم کے پہاڑی علاقے کے شہر سمیر میں رہائش پذیر تھا۔ ?$ اُسی سال کے دوران اِن قوموں نے جِلعاد میں اسرائیلیوں کے اُس علاقے پر قبضہ کیا جس میں پرانے زمانے میں اموری آباد تھے اور جو دریائے یردن کے مشرق میں تھا۔ فلستی اور عمونی 18 سال تک اسرائیلیوں کو کچلتے اور دباتے رہے۔!#= تب اُس کا غضب اُن پر نازل ہوا، اور اُس نے اُنہیں فلستیوں اور عمونیوں کے حوالے کر دیا۔="u یائیر کی موت کے بعد اسرائیلی دوبارہ ایسی حرکتیں کرنے لگے جو رب کو بُری لگیں۔ وہ کئی دیوتاؤں کے پیچھے لگ گئے جن میں بعل دیوتا، عستارات دیوی اور شام، صیدا، موآب، عمونیوں اور فلستیوں کے دیوتا شامل تھے۔ یوں وہ رب کی پرستش اور خدمت کرنے سے باز آئے۔ N( صیدانی، عمالیقی اور ماعونی تم پر ظلم کرتے تھے اور تم مدد کے لئے مجھے پکارنے لگے تو کیا مَیں نے تمہیں نہ بچایا؟e'E رب نے جواب میں کہا، ”جب مصری، اموری، عمونی، فلستی،&{ تو آخرکار اُنہوں نے مدد کے لئے رب کو پکارا اور اقرار کیا، ”ہم نے تیرا گناہ کیا ہے۔ اپنے خدا کو ترک کر کے ہم نے بعل کے بُتوں کی پوجا کی ہے۔“{%q نہ صرف یہ بلکہ عمونیوں نے دریائے یردن کو پار کر کے یہوداہ، بن یمین اور افرائیم کے قبیلوں پر بھی حملہ کیا۔ جب اسرائیلی بڑی مصیبت میں تھے #nwO, وہ اجنبی معبودوں کو اپنے بیچ میں سے نکال کر رب کی دوبارہ خدمت کرنے لگے۔ تب وہ اسرائیل کا دُکھ برداشت نہ کر سکا۔s+a لیکن اسرائیلیوں نے رب سے فریاد کی، ”ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ جو کچھ بھی تُو مناسب سمجھتا ہے وہ ہمارے ساتھ کر۔ لیکن تُو ہی ہمیں آج بچا۔“1*] جاؤ، اُن دیوتاؤں کے سامنے چیختے چلّاتے رہو جنہیں تم نے چن لیا ہے! وہی تمہیں مصیبت سے نکالیں۔“Y)- اِس کے باوجود تم بار بار مجھے ترک کر کے دیگر معبودوں کی پوجا کرتے رہے ہو۔ اِس لئے اب سے مَیں تمہاری مدد نہیں کروں گا۔ !!0/ ] اُس وقت جِلعاد میں ایک زبردست سورما بنام اِفتاح تھا۔ باپ کا نام جِلعاد تھا جبکہ ماں کسبی تھی۔..W جِلعاد کے راہنماؤں نے اعلان کیا، ”ہمیں ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو ہمارے آگے چل کر عمونیوں پر حملہ کرے۔ جو کوئی ایسا کرے وہ جِلعاد کے تمام باشندوں کا سردار بنے گا۔“ u-e اُن دنوں میں عمونی اپنے فوجیوں کو جمع کر کے جِلعاد میں خیمہ زن ہوئے۔ جواب میں اسرائیلی بھی جمع ہوئے اور مِصفاہ میں اپنے خیمے لگائے۔ aha4  اُنہوں نے گزارش کی، ”آئیں، عمونیوں سے لڑنے میں ہماری راہنمائی کریں۔“x3k تو جِلعاد کے بزرگ اِفتاح کو واپس لانے کے لئے ملکِ طوب میں آئے۔]25 جب کچھ دیر کے بعد عمونی فوج اسرائیل سے لڑنے آئیp1[ اور وہ وہاں سے ہجرت کر کے ملکِ طوب میں جا بسا۔ وہاں کچھ آوارہ لوگ اُس کے پیچھے ہو لئے جو اُس کے ساتھ اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے رہے۔@0{ لیکن باپ کی بیوی کے بیٹے بھی تھے۔ جب بالغ ہوئے تو اُنہوں نے اِفتاح سے کہا، ”ہم میراث تیرے ساتھ نہیں بانٹیں گے، کیونکہ تُو ہمارا سگا بھائی نہیں ہے۔“ اُنہوں نے اُسے بھگا دیا، --$8C اُنہوں نے جواب دیا، ”رب ہمارا گواہ ہے! وہی ہمیں سزا دے اگر ہم اپنا وعدہ پورا نہ کریں۔“s7a اِفتاح نے پوچھا، ”اگر مَیں آپ کے ساتھ عمونیوں کے خلاف لڑوں اور رب مجھے اُن پر فتح دے تو کیا آپ واقعی مجھے اپنا حکمران بنا لیں گے؟“+6Q بزرگوں نے جواب دیا، ”ہم اِس لئے آپ کے پاس واپس آئے ہیں کہ آپ عمونیوں کے ساتھ جنگ میں ہماری مدد کریں۔ اگر آپ ایسا کریں تو ہم آپ کو پورے جِلعاد کا حکمران بنا لیں گے۔5} لیکن اِفتاح نے اعتراض کیا، ”آپ اِس وقت میرے پاس کیوں آئے ہیں جب مصیبت میں ہیں؟ آپ ہی نے مجھ سے نفرت کر کے مجھے باپ کے گھر سے نکال دیا تھا۔“ xx3;a بادشاہ نے جواب دیا، ”جب اسرائیلی مصر سے نکلے تو اُنہوں نے ارنون، یبوق اور یردن کے دریاؤں کے درمیان کا علاقہ مجھ سے چھین لیا۔ اب اُسے جھگڑا کئے بغیر مجھے واپس کر دو۔“U:% پھر اِفتاح نے عمونی بادشاہ کے پاس اپنے قاصدوں کو بھیج کر پوچھا، ”ہمارا آپ سے کیا واسطہ کہ آپ ہم سے لڑنے آئے ہیں؟“t9c یہ سن کر اِفتاح جِلعاد کے بزرگوں کے ساتھ مِصفاہ گیا۔ وہاں لوگوں نے اُسے اپنا سردار اور فوج کا کمانڈر بنا لیا۔ مِصفاہ میں اُس نے رب کے حضور وہ تمام باتیں دہرائیں جن کا فیصلہ اُس نے بزرگوں کے ساتھ کیا تھا۔ G2Gg?I قادس سے اُنہوں نے ادوم کے بادشاہ کے پاس قاصد بھیج کر گزارش کی، ’ہمیں اپنے ملک میں سے گزرنے دیں۔‘ لیکن اُس نے انکار کیا۔ پھر اسرائیلیوں نے موآب کے بادشاہ سے درخواست کی، لیکن اُس نے بھی اپنے ملک میں سے گزرنے کی اجازت نہ دی۔ اِس پر ہماری قوم کچھ دیر کے لئے قادس میں رہی۔M> حقیقت یہ ہے کہ جب ہماری قوم مصر سے نکلی تو وہ ریگستان میں سے گزر کر بحرِ قُلزم اور وہاں سے ہو کر قادس پہنچ گئی۔|=s کہا، ”اسرائیل نے نہ تو موآبیوں سے اور نہ عمونیوں سے زمین چھینی۔{<q پھر اِفتاح نے اپنے قاصدوں کو دوبارہ عمونی بادشاہ کے پاس بھیج کرofflrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|y.z1{3|5}7~8:=?ADGKOSy.z1{3|5}7~8:=?ADGKOSVY\behkortw{~ !$(,/48;?ADGJNQTWZ^cgjloruy~ ¶ öĶŶƶǶȶɶ ʶ$˶'Ͷ)ζ,϶/ж2Ѷ4Ҷ7Ӷ9Զ<ն>ֶA׶DضGٶKڶO۶SܶVݶX޶Z߶^cgjmpsvy{} cxcA وہاں سے اسرائیلیوں نے حسبون کے رہنے والے اموری بادشاہ سیحون کو پیغام بھجوایا، ’ہمیں اپنے ملک میں سے گزرنے دیں تاکہ ہم اپنے ملک میں داخل ہو سکیں۔‘@ آخرکار وہ ریگستان میں واپس جا کر ادوم اور موآب کے جنوب میں چلتے چلتے موآب کے مشرقی کنارے پر پہنچی، وہاں جہاں دریائے ارنون اُس کی سرحد ہے۔ لیکن وہ موآب کے علاقے میں داخل نہ ہوئے بلکہ دریا کے مشرق میں خیمہ زن ہوئے۔ D  یہ تمام علاقہ جنوب میں دریائے ارنون سے لے کر شمال میں دریائے یبوق تک اور مشرق کے ریگستان سے لے کر مغرب میں دریائے یردن تک ہمارے قبضے میں آ گیا۔C لیکن رب اسرائیل کے خدا نے سیحون اور اُس کے تمام فوجیوں کو اسرائیل کے حوالے کر دیا۔ اُنہوں نے اُنہیں شکست دے کر اموریوں کے پورے ملک پر قبضہ کر لیا۔XB+ لیکن سیحون کو شک ہوا۔ اُسے یقین نہیں تھا کہ وہ ملک میں سے گزر کر آگے بڑھیں گے۔ اُس نے نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنے فوجیوں کو جمع کر کے یہض شہر میں خیمہ زن ہوا اور اسرائیلیوں کے ساتھ لڑنے لگا۔ YG- کیا آپ اپنے آپ کو موآبی بادشاہ بلق بن صفور سے بہتر سمجھتے ہیں؟ اُس نے تو اسرائیل سے لڑنے بلکہ جھگڑنے تک کی ہمت نہ کی۔nFW آپ بھی سمجھتے ہیں کہ جسے آپ کے دیوتا کموس نے آپ کے آگے سے نکال دیا ہے اُس کے ملک پر قبضہ کرنے کا آپ کا حق ہے۔ اِسی طرح جسے رب ہمارے خدا نے ہمارے آگے آگے نکال دیا ہے اُس کے ملک پر قبضہ کرنے کا حق ہمارا ہے۔]E5 دیکھیں، رب اسرائیل کے خدا نے اپنی قوم کے آگے آگے اموریوں کو نکال دیا ہے۔ تو پھر آپ کا اِس ملک پر قبضہ کرنے کا کیا حق ہے؟ XiJM لیکن عمونی بادشاہ نے اِفتاح کے پیغام پر دھیان نہ دیا۔@I{ چنانچہ مَیں نے آپ سے غلط سلوک نہیں کیا بلکہ آپ ہی میرے ساتھ غلط سلوک کر رہے ہیں۔ کیونکہ مجھ سے جنگ چھیڑنا غلط ہے۔ رب جو منصف ہے وہی آج اسرائیل اور عمون کے جھگڑے کا فیصلہ کرے!“`H; اب اسرائیلی 300 سال سے حسبون اور عروعیر کے شہروں میں اُن کے گرد و نواح کی آبادیوں سمیت آباد ہیں اور اِسی طرح دریائے ارنون کے کنارے پر کے شہروں میں۔ آپ نے اِس دوران اِن جگہوں پر قبضہ کیوں نہ کیا؟ RvNg پھر اِفتاح عمونیوں سے لڑنے گیا، اور رب نے اُسے اُن پر فتح دی۔:Mo اور مَیں صحیح سلامت لوٹوں تو جو کچھ بھی پہلے میرے گھر کے دروازے سے نکل کر مجھ سے ملے وہ تیرے لئے مخصوص کیا جائے گا۔ مَیں اُسے بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کروں گا۔“L پہلے اُس نے رب کے سامنے قَسم کھائی، ”اگر تُو مجھے عمونیوں پر فتح دے$KC پھر رب کا روح اِفتاح پر نازل ہوا، اور وہ جِلعاد اور منسّی میں سے گزر گیا، پھر جِلعاد کے مِصفاہ کے پاس واپس آیا۔ وہاں سے وہ اپنی فوج لے کر عمونیوں سے لڑنے نکلا۔ [[aQ= #اپنی بیٹی کو دیکھ کر وہ رنج کے مارے اپنے کپڑے پھاڑ کر چیخ اُٹھا، ”ہائے میری بیٹی! تُو نے مجھے خاک میں دبا کر تباہ کر دیا ہے، کیونکہ مَیں نے رب کے سامنے ایسی قَسم کھائی ہے جو بدلی نہیں جا سکتی۔“3Pa "اِس کے بعد اِفتاح مِصفاہ واپس چلا گیا۔ وہ ابھی گھر کے قریب تھا کہ اُس کی اکلوتی بیٹی دف بجاتی اور ناچتی ہوئی گھر سے نکل آئی۔ اِفتاح کا کوئی اَور بیٹا یا بیٹی نہیں تھی۔O !اِفتاح نے عروعیر میں دشمن کو شکست دی اور اِسی طرح مِنّیت اور ابیل کرامیم تک مزید بیس شہروں پر قبضہ کر لیا۔ یوں اسرائیل نے عمون کو زیر کر دیا۔ bT? &اِفتاح نے اجازت دی۔ پھر بیٹی دو ماہ کے لئے اپنی سہیلیوں کے ساتھ پہاڑوں میں چلی گئی اور اپنی غیرشادی شدہ حالت پر ماتم کیا۔wSi %لیکن میری ایک گزارش ہے۔ مجھے دو ماہ کی مہلت دیں تاکہ مَیں اپنی سہیلیوں کے ساتھ پہاڑوں میں جا کر اپنی غیرشادی شدہ حالت پر ماتم کروں۔“HR  $بیٹی نے کہا، ”ابو، آپ نے قَسم کھا کر رب سے وعدہ کیا ہے، اِس لئے لازم ہے کہ میرے ساتھ وہ کچھ کریں جس کی قَسم آپ نے کھائی ہے۔ آخر اُسی نے آپ کو دشمن سے بدلہ لینے کی کامیابی بخش دی ہے۔  ;W 3 عمونیوں پر فتح کے بعد افرائیم کے قبیلے کے آدمی جمع ہوئے اور دریائے یردن کو پار کر کے اِفتاح کے پاس آئے جو صفون میں تھا۔ اُنہوں نے شکایت کی، ”آپ کیوں ہمیں بُلائے بغیر عمونیوں سے لڑنے گئے؟ اب ہم آپ کو آپ کے گھر سمیت جلا دیں گے!“LV (کہ اسرائیل کی جوان عورتیں سالانہ چار دن کے لئے اپنے گھروں سے نکل کر اِفتاح کی بیٹی کی یاد میں جشن مناتی ہیں۔ qU] 'پھر وہ اپنے باپ کے پاس واپس آئی، اور اُس نے اپنی قَسم کا وعدہ پورا کیا۔ بیٹی غیرشادی شدہ تھی۔ اُس وقت سے اسرائیل میں دستور رائج ہے zXZ+ افرائیمیوں نے جواب دیا، ”تم جو جِلعاد میں رہتے ہو بس افرائیم اور منسّی کے قبیلوں سے نکلے ہوئے بھگوڑے ہو۔“ تب اِفتاح نے جِلعاد کے مردوں کو جمع کیا اور افرائیمیوں سے لڑ کر اُنہیں شکست دی۔pY[ جب مَیں نے دیکھا کہ آپ مدد نہیں کریں گے تو اپنی جان خطرے میں ڈال کر آپ کے بغیر ہی عمونیوں سے لڑنے گیا۔ اور رب نے مجھے اُن پر فتح بخشی۔ اب مجھے بتائیں کہ آپ کیوں میرے پاس آ کر مجھ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں؟“X اِفتاح نے اعتراض کیا، ”جب میری اور میری قوم کا عمونیوں کے ساتھ سخت جھگڑا چھڑ گیا تو مَیں نے آپ کو بُلایا، لیکن آپ نے مجھے اُن کے ہاتھ سے نہ بچایا۔ jj^{ اِفتاح کے بعد اِبضان اسرائیل کا قاضی بنا۔ وہ بیت لحم میں آباد تھا،0][ اِفتاح نے چھ سال اسرائیل کی راہنمائی کی۔ جب فوت ہوا تو اُسے جِلعاد کے کسی شہر میں دفنایا گیا۔S\! تو جِلعاد کے مرد کہتے، ”تو پھر لفظ ’شبولیت‘ بولیں۔“ اگر وہ افرائیمی ہوتا تو اِس کے بجائے ”سبولیت“ کہتا۔ پھر جِلعادی اُسے پکڑ کر وہیں مار ڈالتے۔ اُس وقت کُل 42,000 افرائیمی ہلاک ہوئے۔[ پھر جِلعاد یوں نے دریائے یردن کے کم گہرے مقاموں پر قبضہ کر لیا۔ جب کوئی گزرنا چاہتا تو وہ پوچھتے، ”کیا آپ افرائیمی ہیں؟“ اگر وہ انکار کرتا BCBgcI پھر عبدون بن ہِلیل قاضی بنا۔ وہ شہر فِرعاتون کا تھا۔pb[ جب وہ کوچ کر گیا تو اُسے زبولون کے ایالون میں دفن کیا گیا۔>aw اُس کے بعد ایلون قاضی بنا۔ وہ زبولون کے قبیلے سے تھا اور 10 سال کے دوران اسرائیل کی راہنمائی کرتا رہا۔_`9 پھر وہ انتقال کر گیا اور بیت لحم میں دفنایا گیا۔9_m اور اُس کے 30 بیٹے اور 30 بیٹیاں تھیں۔ اُس کی تمام بیٹیاں شادی شدہ تھیں اور اِس وجہ سے باپ کے گھر میں نہیں رہتی تھیں۔ لیکن اُسے 30 بیٹوں کے لئے بیویاں مل گئی تھیں، اور سب اُس کے گھر میں رہتے تھے۔ اِبضان نے سات سال کے دوران اسرائیل کی راہنمائی کی۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`ku%0;FQ\gr}                                      !  "  #  $  %  &  '  (                                                                                                    Y0DIYlgS اُس وقت ایک آدمی صُرعہ شہر میں رہتا تھا جس کا نام منوحہ تھا۔ دان کے قبیلے کا یہ آدمی بےاولاد تھا، کیونکہ اُس کی بیوی بانجھ تھی۔wf k پھر اسرائیلی دوبارہ ایسی حرکتیں کرنے لگے جو رب کو بُری لگیں۔ اِس لئے اُس نے اُنہیں فلستیوں کے حوالے کر دیا جو اُنہیں 40 سال دباتے رہے۔heK پھر وہ بھی جاں بحق ہو گیا، اور اُسے عمالیقیوں کے پہاڑی علاقے کے شہر فِرعاتون میں دفنایا گیا، جو اُس وقت افرائیم کا حصہ تھا۔ Ld اُس کے 40 بیٹے اور 30 پوتے تھے جو 70 گدھوں پر سفر کیا کرتے تھے۔ عبدون نے آٹھ سال کے دوران اسرائیل کی راہنمائی کی۔ nnj/ کیونکہ جو بیٹا پیدا ہو گا وہ پیدائش سے ہی اللہ کے لئے مخصوص ہو گا۔ لازم ہے کہ اُس کے بال کبھی نہ کاٹے جائیں۔ یہی بچہ اسرائیل کو فلستیوں سے بچانے لگے گا۔“xik مَے یا کوئی اَور نشہ آور چیز مت پینا، نہ کوئی ناپاک چیز کھانا۔uhe ایک دن رب کا فرشتہ منوحہ کی بیوی پر ظاہر ہوا اور کہا، ”گو تجھ سے بچے پیدا نہیں ہو سکتے، اب تُو حاملہ ہو گی، اور تیرے بیٹا پیدا ہو گا۔ `bl? لیکن اُس نے مجھے بتایا، ’تُو حاملہ ہو گی، اور تیرے بیٹا پیدا ہو گا۔ اب مَے یا کوئی اَور نشہ آور چیز مت پینا، نہ کوئی ناپاک چیز کھانا۔ کیونکہ بیٹا پیدائش سے ہی موت تک اللہ کے لئے مخصوص ہو گا‘۔“k3 بیوی اپنے شوہر منوحہ کے پاس گئی اور اُسے سب کچھ بتایا، ”اللہ کا ایک بندہ میرے پاس آیا۔ وہ اللہ کا فرشتہ لگ رہا تھا، یہاں تک کہ مَیں سخت گھبرا گئی۔ مَیں نے اُس سے نہ پوچھا کہ وہ کہاں سے ہے، اور خود اُس نے مجھے اپنا نام نہ بتایا۔  soa فرشتے کو دیکھ کر وہ جلدی سے منوحہ کے پاس آئی اور اُسے اطلاع دی، ”جو آدمی پچھلے دنوں میں میرے پاس آیا وہ دوبارہ مجھ پر ظاہر ہوا ہے!“Ln اللہ نے اُس کی سنی اور اپنے فرشتے کو دوبارہ اُس کی بیوی کے پاس بھیج دیا۔ اُس وقت وہ شوہر کے بغیر کھیت میں تھی۔#mA یہ سن کر منوحہ نے رب سے دعا کی، ”اے رب، براہِ کرم مردِ خدا کو دوبارہ ہمارے پاس بھیج تاکہ وہ ہمیں سکھائے کہ ہم اُس بیٹے کے ساتھ کیا کریں جو پیدا ہونے والا ہے۔“ 6rg رب کے فرشتے نے جواب دیا، ”لازم ہے کہ تیری بیوی اُن تمام چیزوں سے پرہیز کرے جن کا ذکر مَیں نے کیا۔|qs پھر منوحہ نے سوال کیا، ”جب آپ کی پیش گوئی پوری ہو جائے گی تو ہمیں بیٹے کے طرزِ زندگی اور سلوک کے سلسلے میں کن کن باتوں کا خیال کرنا ہے؟“Gp  منوحہ اُٹھ کر اپنی بیوی کے پیچھے پیچھے فرشتے کے پاس آیا۔ اُس نے پوچھا، ”کیا آپ وہی آدمی ہیں جس نے پچھلے دنوں میں میری بیوی سے بات کی تھی؟“ فرشتے نے جواب دیا، ”جی، مَیں ہی تھا۔“ WWu3 اب تک منوحہ نے یہ بات نہیں پہچانی تھی کہ مہمان اصل میں رب کا فرشتہ ہے۔ فرشتے نے جواب دیا، ”خواہ تُو مجھے روکے بھی مَیں کچھ نہیں کھاؤں گا۔ لیکن اگر تُو کچھ کرنا چاہے تو بکری کا بچہ رب کو بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کر۔“}tu منوحہ نے رب کے فرشتے سے گزارش کی، ”مہربانی کر کے تھوڑی دیر ہمارے پاس ٹھہریں تاکہ ہم بکری کا بچہ ذبح کر کے آپ کے لئے کھانا تیار کر سکیں۔“s وہ انگور کی کوئی بھی پیداوار نہ کھائے۔ نہ وہ مَے، نہ کوئی اَور نشہ آور چیز پیئے۔ ناپاک چیزیں کھانا بھی منع ہے۔ وہ میری ہر ہدایت پر عمل کرے۔“ &~lyS جب آگ کے شعلے آسمان کی طرف بلند ہوئے تو رب کا فرشتہ شعلے میں سے اوپر چڑھ کر اوجھل ہو گیا۔ منوحہ اور اُس کی بیوی منہ کے بل گر گئے۔x پھر منوحہ نے ایک بڑے پتھر پر رب کو بکری کا بچہ اور غلہ کی نذر پیش کی۔ تب رب نے منوحہ اور اُس کی بیوی کے دیکھتے دیکھتے ایک حیرت انگیز کام کیا۔w7 فرشتے نے سوال کیا، ”تُو میرا نام کیوں جاننا چاہتا ہے؟ وہ تو تیری سمجھ سے باہر ہے۔“Vv' منوحہ نے اُس سے پوچھا، ”آپ کا کیا نام ہے؟ کیونکہ جب آپ کی یہ باتیں پوری ہو جائیں گی تو ہم آپ کی عزت کرنا چاہیں گے۔“ ?~9 اللہ کا روح پہلی بار محنے دان میں جو صُرعہ اور اِستال کے درمیان ہے اُس پر نازل ہوا۔ U}% کچھ دیر کے بعد منوحہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ بیوی نے اُس کا نام سمسون رکھا۔ بچہ بڑا ہوتا گیا، اور رب نے اُسے برکت دی۔#|A لیکن اُس کی بیوی نے اعتراض کیا، ”اگر رب ہمیں مار ڈالنا چاہتا تو وہ ہماری قربانی قبول نہ کرتا۔ پھر نہ وہ ہم پر یہ سب کچھ ظاہر کرتا، نہ ہمیں ایسی باتیں بتاتا۔“{ وہ پکار اُٹھا، ”ہائے، ہم مر جائیں گے، کیونکہ ہم نے اللہ کو دیکھا ہے!“=zu جب رب کا فرشتہ دوبارہ منوحہ اور اُس کی بیوی پر ظاہر نہ ہوا تو منوحہ کو سمجھ آئی کہ رب کا فرشتہ ہی تھا۔ _;?_\3اُس کے والدین نے جواب دیا، ”کیا آپ کے رشتے داروں اور قوم میں کوئی قابلِ قبول عورت نہیں ہے؟ آپ کو نامختون اور بےدین فلستیوں کے پاس جا کر اُن میں سے کوئی عورت ڈھونڈنے کی کیا ضرورت تھی؟“ لیکن سمسون بضد رہا، ”اُسی کے ساتھ میری شادی کرائیں! وہی مجھے ٹھیک لگتی ہے۔“xkاپنے گھر لوٹ کر اُس نے اپنے والدین کو بتایا، ”مجھے تِمنت کی ایک فلستی عورت پسند آئی ہے۔ اُس کے ساتھ میرا رشتہ باندھنے کی کوشش کریں۔“A ایک دن سمسون تِمنت میں فلستیوں کے پاس ٹھہرا ہوا تھا۔ وہاں اُس نے ایک فلستی عورت دیکھی جو اُسے پسند آئی۔ mUتب اللہ کا روح اِتنے زور سے سمسون پر نازل ہوا کہ اُس نے اپنے ہاتھوں سے شیر کو یوں پھاڑ ڈالا، جس طرح عام آدمی بکری کے چھوٹے بچے کو پھاڑ ڈالتا ہے۔ لیکن اُس نے اپنے والدین کو اِس کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔Rچنانچہ سمسون اپنے ماں باپ سمیت تِمنت کے لئے روانہ ہوا۔ جب وہ تِمنت کے انگور کے باغوں کے قریب پہنچے تو سمسون اپنے ماں باپ سے الگ ہو گیا۔ اچانک ایک جوان شیرببر دہاڑتا ہوا اُس پر ٹوٹ پڑا۔1اُس کے ماں باپ کو معلوم نہیں تھا کہ یہ سب کچھ رب کی طرف سے ہے جو فلستیوں سے لڑنے کا موقع تلاش کر رہا تھا۔ کیونکہ اُس وقت فلستی اسرائیل پر حکومت کر رہے تھے۔ b3a سمسون نے اُس میں ہاتھ ڈال کر شہد کو نکال لیا اور اُسے کھاتے ہوئے چلا۔ جب وہ اپنے ماں باپ کے پاس پہنچا تو اُس نے اُنہیں بھی کچھ دیا، مگر یہ نہ بتایا کہ کہاں سے مل گیا ہے۔iMکچھ دیر کے بعد وہ شادی کرنے کے لئے دوبارہ تِمنت گئے۔ شہر پہنچنے سے پہلے سمسون راستے سے ہٹ کر شیرببر کی لاش کو دیکھنے گیا۔ وہاں کیا دیکھتا ہے کہ شہد کی مکھیوں نے شیر کے پنجر میں اپنا چھتا بنا لیا ہے۔/آگے نکل کر وہ تِمنت پہنچ گیا۔ مذکورہ فلستی عورت سے بات ہوئی اور وہ اُسے ٹھیک لگی۔ 1 ] سمسون نے اُن سے کہا، ”مَیں آپ سے پہیلی پوچھتا ہوں۔ اگر آپ ضیافت کے سات دنوں کے دوران اِس کا حل بتا سکیں تو مَیں آپ کو کتان کے 30 قیمتی کُرتے اور 30 شاندار سوٹ دے دوں گا۔u e جب دُلھن کے گھر والوں کو پتا چلا کہ سمسون تِمنت پہنچ گیا ہے تو اُنہوں نے اُس کے پاس 30 جوان آدمی بھیج دیئے کہ اُس کے ساتھ خوشی منائیں۔nW تِمنت پہنچ کر سمسون کا باپ دُلھن کے خاندان سے ملا جبکہ سمسون نے دُولھے کی حیثیت سے ایسی ضیافت کی جس طرح اُس زمانے میں دستور تھا۔  { qچوتھے دن اُنہوں نے دُلھن کے پاس جا کر اُسے دھمکی دی، ”اپنے شوہر کو ہمیں پہیلی کا مطلب بتانے پر اُکساؤ، ورنہ ہم تمہیں تمہارے خاندان سمیت جلا دیں گے۔ کیا تم لوگوں نے ہمیں صرف اِس لئے دعوت دی کہ ہمیں لُوٹ لو؟“[ 1سمسون نے کہا، ”کھانے والے میں سے کھانا نکلا اور زورآور میں سے مٹھاس۔“ تین دن گزر گئے۔ جوان پہیلی کا مطلب نہ بتا سکے۔  لیکن اگر آپ مجھے اِس کا صحیح مطلب نہ بتا سکیں تو آپ کو مجھے 30 قیمتی کُرتے اور 30 شاندار سوٹ دینے پڑیں گے۔“ اُنہوں نے جواب دیا، ”اپنی پہیلی سنائیں۔“ a=ضیافت کے پورے ہفتے کے دوران دُلھن اُس کے سامنے روتی رہی۔ ساتویں دن سمسون دُلھن کی التجاؤں سے اِتنا تنگ آ گیا کہ اُس نے اُسے پہیلی کا حل بتا دیا۔ تب دُلھن نے پُھرتی سے سب کچھ فلستیوں کو سنا دیا۔دُلھن سمسون کے پاس گئی اور آنسو بہا بہا کر کہنے لگی، ”تُو مجھے پیار نہیں کرتا! حقیقت میں تُو مجھ سے نفرت کرتا ہے۔ تُو نے میری قوم کے لوگوں سے پہیلی پوچھی ہے لیکن مجھے اِس کا مطلب نہیں بتایا۔“ سمسون نے جواب دیا، ”مَیں نے اپنے ماں باپ کو بھی اِس کا مطلب نہیں بتایا تو تجھے کیوں بتاؤں؟“ + پھر رب کا روح اُس پر نازل ہوا۔ اُس نے اسقلون شہر میں جا کر 30 فلستیوں کو مار ڈالا اور اُن کے لباس لے کر اُن آدمیوں کو دے دیئے جنہوں نے اُسے پہیلی کا مطلب بتا دیا تھا۔ اِس کے بعد وہ بڑے غصے میں اپنے ماں باپ کے گھر چلا گیا۔Qسورج کے غروب ہونے سے پہلے پہلے شہر کے مردوں نے سمسون کو پہیلی کا مطلب بتایا، ”کیا کوئی چیز شہد سے زیادہ میٹھی اور شیرببر سے زیادہ زورآور ہوتی ہے؟“ سمسون نے یہ سن کر کہا، ”آپ نے میری جوان گائے لے کر ہل چلایا ہے، ورنہ آپ کبھی بھی پہیلی کا حل نہ نکال سکتے۔“ nUn اُس نے کہا، ”یہ نہیں ہو سکتا! مَیں نے بیٹی کی شادی آپ کے شہ بالے سے کرا دی ہے۔ اصل میں مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب آپ اُس سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ لیکن کوئی بات نہیں۔ اُس کی چھوٹی بہن سے شادی کر لیں۔ وہ زیادہ خوب صورت ہے۔“U 'کچھ دن گزر گئے۔ جب گندم کی کٹائی ہونے لگی تو سمسون بکری کا بچہ اپنے ساتھ لے کر اپنی بیوی سے ملنے گیا۔ سُسر کے گھر پہنچ کر اُس نے بیوی کے کمرے میں جانے کی درخواست کی۔ لیکن باپ نے انکار کیا۔'Iلیکن اُس کی بیوی کی شادی سمسون کے شہ بالے سے کرائی گئی جو 30 جوان فلستیوں میں سے ایک تھا۔ 7aY-اور پھر مشعلوں کو جلا کر لومڑیوں کو فلستیوں کے اناج کے کھیتوں میں بھگا دیا۔ کھیتوں میں پڑے پُولے اُس اناج سمیت بھسم ہوئے جو اب تک کاٹا نہیں گیا تھا۔ انگور اور زیتون کے باغ بھی تباہ ہو گئے۔Rوہاں سے نکل کر اُس نے 300 لومڑیوں کو پکڑ لیا۔ دو دو کی دُموں کو باندھ کر اُس نے ہر جوڑے کی دُموں کے ساتھ مشعل لگا دیEسمسون بولا، ”اِس دفعہ مَیں فلستیوں سے خوب بدلہ لوں گا، اور کوئی نہیں کہہ سکے گا کہ مَیں حق پر نہیں ہوں۔“ )nZ/وہ اِتنے زور سے اُن پر ٹوٹ پڑا کہ بےشمار فلستی ہلاک ہوئے۔ پھر وہ اُس جگہ سے اُتر کر عیطام کی چٹان کے غار میں رہنے لگا۔7iتب سمسون نے اُن سے کہا، ”یہ تم نے کیا کِیا ہے! جب تک مَیں نے پورا بدلہ نہ لیا مَیں نہیں رُکوں گا۔“S!فلستیوں نے دریافت کیا کہ یہ کس کا کام ہے۔ پتا چلا کہ سمسون نے یہ سب کچھ کیا ہے، اور کہ وجہ یہ ہے کہ تِمنت میں اُس کے سُسر نے اُس کی بیوی کو اُس سے چھین کر اُس کے شہ بالے کو دے دیا ہے۔ یہ سن کر فلستی تِمنت گئے اور سمسون کے سُسر کو اُس کی بیٹی سمیت پکڑ کر جلا دیا۔ YLY*O تب یہوداہ کے 3,000 مرد عیطام پہاڑ کے غار کے پاس آئے اور سمسون سے کہا، ”یہ آپ نے ہمارے ساتھ کیا کِیا؟ آپ کو تو پتا ہے کہ فلستی ہم پر حکومت کرتے ہیں۔“ سمسون نے جواب دیا، ”مَیں نے اُن کے ساتھ صرف وہ کچھ کیا جو اُنہوں نے میرے ساتھ کیا تھا۔“A} یہوداہ کے باشندوں نے پوچھا، ”کیا وجہ ہے کہ آپ ہم سے لڑنے آئے ہیں؟“ فلستیوں نے جواب دیا، ”ہم سمسون کو پکڑنے آئے ہیں تاکہ اُس کے ساتھ وہ کچھ کریں جو اُس نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔“0[ جواب میں فلستی فوج یہوداہ کے قبائلی علاقے میں داخل ہوئی۔ وہاں وہ لحی شہر کے پاس خیمہ زن ہوئے۔  سمسون ابھی لحی سے دُور تھا کہ فلستی نعرے لگاتے ہوئے اُس کی طرف دوڑے آئے۔ تب رب کا رُوح بڑے زور سے اُس پر نازل ہوا۔ اُس کے بازوؤں سے بندھے ہوئے رسّے سَن کے جلے ہوئے دھاگے جیسے کمزور ہو گئے، اور وہ پگھل کر ہاتھوں سے گر گئے۔7i اُنہوں نے جواب دیا، ”ہم آپ کو ہرگز قتل نہیں کریں گے بلکہ آپ کو صرف باندھ کر اُن کے حوالے کر دیں گے۔“ چنانچہ وہ اُسے دو تازہ تازہ رسّوں سے باندھ کر فلستیوں کے پاس لے گئے۔ یہوداہ کے مرد بولے، ”ہم آپ کو باندھ کر فلستیوں کے حوالے کرنے آئے ہیں۔“ سمسون نے کہا، ”ٹھیک ہے، لیکن قَسم کھائیں کہ آپ خود مجھے قتل نہیں کریں گے۔“ ~l~M$سمسون کو وہاں بڑی پیاس لگی۔ اُس نے رب کو پکار کر کہا، ”تُو ہی نے اپنے خادم کے ہاتھ سے اسرائیل کو یہ بڑی نجات دلائی ہے۔ لیکن اب مَیں پیاس سے مر کر نامختون دشمن کے ہاتھ میں آ جاؤں گا۔“,#Sاِس کے بعد اُس نے گدھے کا یہ جبڑا پھینک دیا۔ اُس جگہ کا نام رامت لحی یعنی جبڑا پہاڑی پڑ گیا۔i"Mاُس وقت اُس نے نعرہ لگایا، ”گدھے کے جبڑے سے مَیں نے اُن کے ڈھیر لگائے ہیں! گدھے کے جبڑے سے مَیں نے ہزار مردوں کو مار ڈالا ہے!“!کہیں سے گدھے کا تازہ جبڑا پکڑ کر اُس نے اُس کے ذریعے ہزار افراد کو مار ڈالا۔ y!y$' Eایک دن سمسون فلستی شہر غزہ میں آیا۔ وہاں وہ ایک کسبی کو دیکھ کر اُس کے گھر میں داخل ہوا۔l&Sفلستیوں کے دور میں سمسون 20 سال تک اسرائیل کا قاضی رہا۔ l%Sتب اللہ نے لحی میں زمین کو چھیدا، اور گڑھے سے پانی پھوٹ نکلا۔ سمسون اُس کا پانی پی کر دوبارہ تازہ دم ہو گیا۔ یوں اُس چشمے کا نام عین ہقّورے یعنی پکارنے والے کا چشمہ پڑ گیا۔ آج بھی وہ لحی میں موجود ہے۔ E  "-8CNYcny)4>IT_ju%0;FQ\gr}                                      ! " # $ % &  ' ( ) * + , - .  /  0  1  2  3 4 5 6 7 8 9 : ; < = > ? @ A B C D E  F G H I J K L M  N  O  P `Q)سمسون اب تک کسبی کے گھر میں سو رہا تھا۔ لیکن آدھی رات کو وہ اُٹھ کر شہر کے دروازے کے پاس گیا اور دونوں کواڑوں کو کنڈے اور دروازے کے دونوں بازوؤں سمیت اُکھاڑ کر اپنے کندھوں پر رکھ لیا۔ یوں چلتے چلتے وہ سب کچھ اُس پہاڑی کی چوٹی پر لے گیا جو حبرون کے مقابل ہے۔(3جب شہر کے باشندوں کو اطلاع ملی کہ سمسون شہر میں ہے تو اُنہوں نے کسبی کے گھر کو گھیر لیا۔ ساتھ ساتھ وہ رات کے وقت شہر کے دروازے پر تاک میں رہے۔ فیصلہ یہ ہوا، ”رات کے وقت ہم کچھ نہیں کریں گے، جب پَو پھٹے گی تب اُسے مار ڈالیں گے۔“ ;8?;,{چنانچہ دلیلہ نے سمسون سے سوال کیا، ”مجھے اپنی بڑی طاقت کا بھید بتائیں۔ کیا آپ کو کسی ایسی چیز سے باندھا جا سکتا ہے جسے آپ توڑ نہیں سکتے؟“u+eیہ سن کر فلستی سردار اُس کے پاس آئے اور کہنے لگے، ”سمسون کو اُکسائیں کہ وہ آپ کو اپنی بڑی طاقت کا بھید بتائے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کس طرح اُس پر غالب آ کر اُسے یوں باندھ سکیں کہ وہ ہمارے قبضے میں رہے۔ اگر آپ یہ معلوم کر سکیں تو ہم میں سے ہر ایک آپ کو چاندی کے 1,100 سکے دے گا۔“D*کچھ دیر کے بعد سمسون ایک عورت کی محبت میں گرفتار ہو گیا جو وادیِ سورق میں رہتی تھی۔ اُس کا نام دلیلہ تھا۔ &x/ کچھ فلستی آدمی ساتھ والے کمرے میں چھپ گئے۔ پھر دلیلہ چلّا اُٹھی، ”سمسون، فلستی آپ کو پکڑنے آئے ہیں!“ یہ سن کر سمسون نے نسوں کو یوں توڑ دیا جس طرح ڈوری ٹوٹ جاتی ہے جب آگ میں سے گزرتی ہے۔ چنانچہ اُس کی طاقت کا پول نہ کھلا۔*.Oفلستی سرداروں نے دلیلہ کو سات تازہ نسیں مہیا کر دیں، اور اُس نے سمسون کو اُن سے باندھ لیا۔V-'سمسون نے جواب دیا، ”اگر مجھے جانوروں کی سات تازہ نسوں سے باندھا جائے تو پھر مَیں عام آدمی جیسا کمزور ہو جاؤں گا۔“ q+q62g دلیلہ نے نئے رسّے لے کر اُسے اُن سے باندھ لیا۔ اِس مرتبہ بھی فلستی ساتھ والے کمرے میں چھپ گئے تھے۔ پھر دلیلہ چلّا اُٹھی، ”سمسون، فلستی آپ کو پکڑنے آئے ہیں!“ لیکن اِس بار بھی سمسون نے رسّوں کو یوں توڑ لیا جس طرح عام آدمی ڈوری کو توڑ لیتا ہے۔U1% سمسون نے جواب دیا، ”اگر مجھے غیراستعمال شدہ رسّوں سے باندھا جائے تو پھر ہی مَیں عام آدمی جیسا کمزور ہو جاؤں گا۔“x0k دلیلہ کا منہ لٹک گیا۔ ”آپ نے جھوٹ بول کر مجھے بےوقوف بنایا ہے۔ اب آئیں، مہربانی کر کے مجھے بتائیں کہ آپ کو کس طرح باندھا جا سکتا ہے۔“ H@4{جب سمسون سو رہا تھا تو دلیلہ نے ایسا ہی کیا۔ اُس کی سات زُلفوں کو تانے کے ساتھ بُن کر اُس نے اُسے شٹل کے ذریعے کھڈی کے ساتھ لگایا۔ پھر وہ چلّا اُٹھی، ”سمسون، فلستی آپ کو پکڑنے آئے ہیں!“ سمسون جاگ اُٹھا اور اپنے بالوں کو شٹل سمیت کھڈی سے نکال لیا۔43c دلیلہ نے شکایت کی، ”آپ بار بار جھوٹ بول کر میرا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ اب مجھے بتائیں کہ آپ کو کس طرح باندھا جا سکتا ہے۔“ سمسون نے جواب دیا، ”لازم ہے کہ آپ میری سات زُلفوں کو کھڈی کے تانے کے ساتھ بُنیں۔ پھر ہی عام آدمی جیسا کمزور ہو جاؤں گا۔“ ^^7پھر اُس نے اُسے کھل کر بات بتائی، ”مَیں پیدائش ہی سے اللہ کے لئے مخصوص ہوں، اِس لئے میرے بالوں کو کبھی نہیں کاٹا گیا۔ اگر سر کو منڈوایا جائے تو میری طاقت جاتی رہے گی اور مَیں ہر دوسرے آدمی جیسا کمزور ہو جاؤں گا۔“Q6روز بہ روز وہ اپنی باتوں سے اُس کی ناک میں دم کرتی رہی۔ آخرکار سمسون اِتنا تنگ آ گیا کہ اُس کا جینا دوبھر ہو گیا۔@5{یہ دیکھ کر دلیلہ نے منہ پھُلا کر ملامت کی، ”آپ کس طرح دعویٰ کر سکتے ہیں کہ مجھ سے محبت رکھتے ہیں؟ اب آپ نے تین مرتبہ میرا مذاق اُڑا کر مجھے اپنی بڑی طاقت کا بھید نہیں بتایا۔“ =x=79iدلیلہ نے سمسون کا سر اپنی گود میں رکھ کر اُسے سُلا دیا۔ پھر اُس نے ایک آدمی کو بُلا کر سمسون کی سات زُلفوں کو منڈوایا۔ یوں وہ اُسے پست کرنے لگی، اور اُس کی طاقت جاتی رہی۔8دلیلہ نے جان لیا کہ اب سمسون نے مجھے پوری حقیقت بتائی ہے۔ اُس نے فلستی سرداروں کو اطلاع دی، ”آؤ، کیونکہ اِس مرتبہ اُس نے مجھے اپنے دل کی ہر بات بتائی ہے۔“ یہ سن کر وہ مقررہ چاندی اپنے ساتھ لے کر دلیلہ کے پاس آئے۔ uW<)لیکن ہوتے ہوتے اُس کے بال دوبارہ بڑھنے لگے۔;#فلستیوں نے اُسے پکڑ کر اُس کی آنکھیں نکال دیں۔ پھر وہ اُسے غزہ لے گئے جہاں اُسے پیتل کی زنجیروں سے باندھا گیا۔ وہاں وہ قیدخانے کی چکّی پیسا کرتا تھا۔o:Yپھر وہ چلّا اُٹھی، ”سمسون، فلستی آپ کو پکڑنے آئے ہیں!“ سمسون جاگ اُٹھا اور سوچا، ”مَیں پہلے کی طرح اب بھی اپنے آپ کو بچا کر بندھن کو توڑ دوں گا۔“ افسوس، اُسے معلوم نہیں تھا کہ رب نے اُسے چھوڑ دیا ہے۔  | k>Qسمسون کو دیکھ کر عوام نے دجون کی تمجید کر کے کہا، ”ہمارے دیوتا نے ہمارے دشمن کو ہمارے حوالے کر دیا ہے! جس نے ہمارے ملک کو تباہ کیا اور ہم میں سے اِتنے لوگوں کو مار ڈالا وہ اب ہمارے قابو میں آ گیا ہے!“={ایک دن فلستی سردار بڑا جشن منانے کے لئے جمع ہوئے۔ اُنہوں نے اپنے دیوتا دجون کو جانوروں کی بہت سی قربانیاں پیش کر کے اپنی فتح کی خوشی منائی۔ وہ بولے، ”ہمارے دیوتا نے ہمارے دشمن سمسون کو ہمارے حوالے کر دیا ہے۔“ g|\gqA]عمارت مردوں اور عورتوں سے بھری تھی۔ فلستی سردار بھی سب آئے ہوئے تھے۔ صرف چھت پر سمسون کا تماشا دیکھنے والے تقریباً 3,000 افراد تھے۔@3سمسون اُس لڑکے سے مخاطب ہوا جو اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُس کی راہنمائی کر رہا تھا، ”مجھے چھت کو اُٹھانے والے ستونوں کے پاس لے جاؤ تاکہ مَیں اُن کا سہارا لوں۔“?{اِس قسم کی باتیں کرتے کرتے اُن کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ تب وہ چلّانے لگے، ”سمسون کو بُلاؤ تاکہ وہ ہمارے دلوں کو بہلائے۔“ چنانچہ اُسے اُن کی تفریح کے لئے جیل سے لایا گیا اور دو ستونوں کے درمیان کھڑا کر دیا گیا۔ ffoDYاور دعا کی، ”مجھے فلستیوں کے ساتھ مرنے دے!“ اچانک ستون ہل گئے اور چھت دھڑام سے فلستیوں کے تمام سرداروں اور باقی لوگوں پر گر گئی۔ اِس طرح سمسون نے پہلے کی نسبت مرتے وقت کہیں زیادہ فلستیوں کو مار ڈالا۔pC[یہ کہہ کر سمسون نے اُن دو مرکزی ستونوں کو پکڑ لیا جن پر چھت کا پورا وزن تھا۔ اُن کے درمیان کھڑے ہو کر اُس نے پوری طاقت سے زور لگایا/BYپھر سمسون نے دعا کی، ”اے رب قادرِ مطلق، مجھے یاد کر۔ بس ایک دفعہ اَور مجھے پہلے کی طرح قوت عطا فرما تاکہ مَیں ایک ہی وار سے فلستیوں سے اپنی آنکھوں کا بدلہ لے سکوں۔“ ee,GSایک دن اُس نے اپنی ماں سے بات کی، ”آپ کے چاندی کے 1,100 سکے چوری ہو گئے تھے، نا؟ اُس وقت آپ نے میرے سامنے ہی چور پر لعنت بھیجی تھی۔ اب دیکھیں، وہ پیسے میرے پاس ہیں۔ مَیں ہی چور ہوں۔“ یہ سن کر ماں نے جواب دیا، ”میرے بیٹے، رب تجھے برکت دے!“}F wافرائیم کے پہاڑی علاقے میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام میکاہ تھا۔gEIسمسون کے بھائی اور باقی گھر والے آئے اور اُس کی لاش کو اُٹھا کر اُس کے باپ منوحہ کی قبر کے پاس لے گئے۔ وہاں یعنی صُرعہ اور اِستال کے درمیان اُنہوں نے اُسے دفنایا۔ سمسون 20 سال اسرائیل کا قاضی رہا۔ 2K_اُس زمانے میں اسرائیل کا کوئی بادشاہ نہیں تھا بلکہ ہر کوئی وہی کچھ کرتا جو اُسے درست لگتا تھا۔JJکیونکہ اُس کا اپنا مقدِس تھا۔ اُس نے مزید بُت اور ایک افود بھی بنوایا اور پھر ایک بیٹے کو اپنا امام بنا لیا۔!I=چنانچہ جب بیٹے نے پیسے واپس کر دیئے تو ماں نے اُس کے 200 سکے سنار کے پاس لے جا کر لکڑی کا تراشا اور ڈھالا ہوا بُت بنوایا۔ میکاہ نے یہ بُت اپنے گھر میں کھڑا کیا،=Huمیکاہ نے اُسے تمام پیسے واپس کر دیئے، اور ماں نے اعلان کیا، ”اب سے یہ چاندی رب کے لئے مخصوص ہو! مَیں آپ کے لئے تراشا اور ڈھالا ہوا بُت بنوا کر چاندی آپ کو واپس کر دیتی ہوں۔“ *Ve6*O  میکاہ بولا، ”یہاں میرے پاس اپنا گھر بنا کر میرے باپ اور امام بنیں۔ تب آپ کو سال میں چاندی کے دس سکے اور ضرورت کے مطابق کپڑے اور خوراک ملے گی۔“+NQ میکاہ نے پوچھا، ”آپ کہاں سے آئے ہیں؟“ جوان نے جواب دیا، ”مَیں لاوی ہوں۔ مَیں یہوداہ کے شہر بیت لحم کا رہنے والا ہوں لیکن رہائش کی کسی اَور جگہ کی تلاش میں ہوں۔“mMUاب وہ شہر کو چھوڑ کر رہائش کی کوئی اَور جگہ تلاش کرنے لگا۔ افرائیم کے پہاڑی علاقے میں سے سفر کرتے کرتے وہ میکاہ کے گھر پہنچ گیا۔&LGاُن دنوں میں لاوی کے قبیلے کا ایک جوان آدمی یہوداہ کے قبیلے کے شہر بیت لحم میں آباد تھا۔ fS 3اُن دنوں میں اسرائیل کا بادشاہ نہیں تھا۔ اور اب تک دان کے قبیلے کو اپنا کوئی قبائلی علاقہ نہیں ملا تھا، اِس لئے اُس کے لوگ کہیں آباد ہونے کی تلاش میں رہے۔~Rw ”اب رب مجھ پر مہربانی کرے گا، کیونکہ لاوی میرا امام بن گیا ہے۔“ DQ اُس نے اُسے امام مقرر کر کے سوچا،P' لاوی متفق ہوا۔ وہ وہاں آباد ہوا، اور میکاہ نے اُس کے ساتھ بیٹوں کا سا سلوک کیا۔ ^R^V9لاوی نے اُنہیں اپنی کہانی سنائی، ”میکاہ نے مجھے نوکری دے کر اپنا امام بنا لیا ہے۔“MUتو اُنہوں نے دیکھا کہ جوان لاوی بیت لحم کی بولی بولتا ہے۔ اُس کے پاس جا کر اُنہوں نے پوچھا، ”کون آپ کو یہاں لایا ہے؟ آپ یہاں کیا کرتے ہیں؟ اور آپ کا اِس گھر میں رہنے کا کیا مقصد ہے؟“*TOاُنہوں نے اپنے خاندانوں میں سے صُرعہ اور اِستال کے پانچ تجربہ کار فوجیوں کو چن کر اُنہیں ملک کی تفتیش کرنے کے لئے بھیج دیا۔ یہ مرد افرائیم کے پہاڑی علاقے میں سے گزر کر میکاہ کے گھر کے پاس پہنچ گئے۔ جب وہ وہاں رات کے لئے ٹھہرے ہوئے تھے y;y>Xwلاوی نے اُنہیں تسلی دی، ”سلامتی سے آگے بڑھیں۔ آپ کے سفر کا مقصد رب کو قبول ہے، اور وہ آپ کے ساتھ ہے۔“AW}پھر اُنہوں نے اُس سے گزارش کی، ”اللہ سے دریافت کریں کہ کیا ہمارے سفر کا مقصد پورا ہو جائے گا یا نہیں؟“ p5Zeوہ پانچ جاسوس صُرعہ اور اِستال واپس چلے گئے۔ جب وہاں پہنچے تو دوسروں نے پوچھا، ”سفر کیسا رہا؟“ Yتب یہ پانچ آدمی آگے نکلے اور سفر کرتے کرتے لیّس پہنچ گئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ صیدانیوں کی طرح پُرسکون اور بےفکر زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئی نہیں تھا جو اُنہیں دباتا یا اُن پر ظلم کرتا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر اُن پر حملہ کیا جائے تو اُن کا اتحادی شہر صیدا اُن سے اِتنی دُور ہے کہ اُن کی مدد نہیں کر سکے گا، اور قریب کوئی اتحادی نہیں ہے جو اُن کا ساتھ دے۔ ?@?}^u راستے میں اُنہوں نے اپنی لشکرگاہ یہوداہ کے شہر قِریَت یعریم کے قریب لگائی۔ اِس لئے یہ جگہ آج تک محنے دان یعنی دان کی خیمہ گاہ کہلاتی ہے۔t]c دان کے قبیلے کے 600 مسلح آدمی صُرعہ اور اِستال سے روانہ ہوئے۔$\C وہاں کے لوگ بےفکر ہیں اور حملے کی توقع ہی نہیں کرتے۔ اور زمین وسیع اور زرخیز ہے، اُس میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔ اللہ آپ کو وہ ملک دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔“[5 جاسوسوں نے جواب میں کہا، ”آئیں، ہم جنگ کے لئے نکلیں! ہمیں ایک بہترین علاقہ مل گیا ہے۔ آپ کیوں جھجک رہے ہیں؟ جلدی کریں، ہم نکلیں اور اُس ملک پر قبضہ کر لیں! [\}.[Ocجب لاوی باہر کھڑے مردوں کے پاس گیا تو اِن پانچوں نے گھس کر تراشا اور ڈھالا ہوا بُت، افود اور باقی بُت چھین لئے۔Lbجبکہ باقی 600 مسلح مرد گیٹ پر کھڑے رہے۔ra_پانچوں نے میکاہ کے گھر میں داخل ہو کر جوان لاوی کو سلام کیاf`Gجن پانچ مردوں نے لیّس کی تفتیش کی تھی اُنہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا، ”کیا آپ کو معلوم ہے کہ اِن گھروں میں ایک افود، ایک تراشا اور ڈھالا ہوا بُت اور دیگر کئی بُت ہیں؟ اب سوچ لیں کہ کیا کِیا جائے۔“ _; وہاں سے وہ افرائیم کے پہاڑی علاقے میں داخل ہوئے اور چلتے چلتے میکاہ کے گھر پہنچ گئے۔ H'gIپھر دان کے مرد روانہ ہوئے۔ اُن کے بال بچے، مویشی اور قیمتی مال و متاع اُن کے آگے آگے تھا۔0f[یہ سن کر امام خوش ہوا۔ وہ افود، تراشا ہوا بُت اور باقی بُتوں کو لے کر مسافروں میں شریک ہو گیا۔Ze/اُنہوں نے کہا، ”چپ! کوئی بات نہ کرو بلکہ ہمارے ساتھ جا کر ہمارے باپ اور امام بنو۔ ہمارے ساتھ جاؤ گے تو پورے قبیلے کے امام بنو گے۔ کیا یہ ایک ہی خاندان کی خدمت کرنے سے کہیں بہتر نہیں ہو گا؟“Wd)یہ دیکھ کر لاوی چیخنے لگا، ”کیا کر رہے ہو!“ zzEjمیکاہ نے جواب دیا، ”تم لوگوں نے میرے بُتوں کو چھین لیا گو مَیں نے اُنہیں خود بنوایا ہے۔ میرے امام کو بھی ساتھ لے گئے ہو۔ میرے پاس کچھ نہیں رہا تو اب تم پوچھتے ہو کہ کیا بات ہے؟“Si!جب وہ سامنے نظر آئے تو میکاہ اور اُس کے ساتھیوں نے چیختے چلّاتے اُنہیں رُکنے کو کہا۔ دان کے مردوں نے پیچھے دیکھ کر میکاہ سے کہا، ”کیا بات ہے؟ اپنے اِن لوگوں کو بُلا کر کیوں لے آئے ہو؟“bh?جب میکاہ کو بات کا پتا چلا تو وہ اپنے پڑوسیوں کو جمع کر کے اُن کے پیچھے دوڑا۔ اِتنے میں دان کے لوگ گھر سے دُور نکل چکے تھے۔ I Imاُس کے بُت دان کے قبضے میں رہے، اور امام بھی اُن میں ٹک گیا۔ پھر وہ لیّس کے علاقے میں داخل ہوئے جس کے باشندے پُرسکون اور بےفکر زندگی گزار رہے تھے۔ دان کے فوجی اُن پر ٹوٹ پڑے اور سب کو تلوار سے قتل کر کے شہر کو بھسم کر دیا۔)lMیہ کہہ کر اُنہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ میکاہ نے جان لیا کہ مَیں اپنے تھوڑے آدمیوں کے ساتھ اُن کا مقابلہ نہیں کر سکوں گا، اِس لئے وہ مُڑ کر اپنے گھر واپس چلا گیا۔qk]دان کے افراد بولے، ”خاموش! خبردار، ہمارے کچھ لوگ تیز مزاج ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ غصے میں آ کر تم کو تمہارے خاندان سمیت مار ڈالیں۔“ E  !,7BMXcny)4?JU`ku%0;FQ\gr}  R  S T U V W X Y Z  R  S T U V W X Y Z  [  \  ]  ^  _ ` a b c d e f g h i j k l m n o p q  r s t u v w x y  z  {  |  }  ~                          xxmpUوہاں اُنہوں نے تراشا ہوا بُت رکھ کر پوجا کے انتظام پر یونتن مقرر کیا جو موسیٰ کے بیٹے جیرسوم کی اولاد میں سے تھا۔ جب یونتن فوت ہوا تو اُس کی اولاد قوم کی جلاوطنی تک دان کے قبیلے میں یہی خدمت کرتی رہی۔&oGاور اُنہوں نے اُس کا نام اپنے قبیلے کے بانی کے نام پر دان رکھا (دان اسرائیل کا بیٹا تھا)۔inMکسی نے بھی اُن کی مدد نہ کی، کیونکہ صیدا بہت دُور تھا، اور قریب کوئی اتحادی نہیں تھا جو اُن کا ساتھ دیتا۔ یہ شہر بیت رحوب کی وادی میں تھا۔ دان کے افراد شہر کو از سرِ نو تعمیر کر کے اُس میں آباد ہوئے۔ n  s لیکن ایک دن عورت مرد سے ناراض ہوئی اور میکے واپس چلی گئی۔ چار ماہ کے بعد]r 7اُس زمانے میں جب اسرائیل کا کوئی بادشاہ نہیں تھا ایک لاوی نے اپنے گھر میں داشتہ رکھی جو یہوداہ کے شہر بیت لحم کی رہنے والی تھی۔ آدمی افرائیم کے پہاڑی علاقے کے کسی دُوردراز کونے میں آباد تھا۔qمیکاہ کا بنوایا ہوا بُت تب تک دان میں رہا جب تک اللہ کا گھر سَیلا میں تھا۔ qnq5veچوتھے دن لاوی صبح سویرے اُٹھ کر اپنی داشتہ کے ساتھ روانہ ہونے کی تیاریاں کرنے لگا۔ لیکن سُسر اُسے روک کر بولا، ”پہلے تھوڑا بہت کھا کر تازہ دم ہو جائیں، پھر چلے جانا۔“@u{کہ اُس نے اُسے جانے نہ دیا۔ داماد کو تین دن وہاں ٹھہرنا پڑا جس دوران سُسر نے اُس کی خوب مہمان نوازی کی۔tلاوی دو گدھے اور اپنے نوکر کو لے کر بیت لحم کے لئے روانہ ہوا تاکہ داشتہ کا غصہ ٹھنڈا کر کے اُسے واپس آنے پر آمادہ کرے۔ جب اُس کی ملاقات داشتہ سے ہوئی تو وہ اُسے اپنے باپ کے گھر میں لے گئی۔ اُسے دیکھ کر سُسر اِتنا خوش ہوا .RVy'پانچویں دن آدمی صبح سویرے اُٹھا اور جانے کے لئے تیار ہوا۔ سُسر نے زور دیا، ”پہلے کچھ کھانا کھا کر تازہ دم ہو جائیں۔ آپ دوپہر کے وقت بھی جا سکتے ہیں۔“ چنانچہ دونوں کھانے کے لئے بیٹھ گئے۔Xx+مہمان جانے کی تیاریاں کرنے تو لگا، لیکن سُسرنے اُسے ایک اَور رات ٹھہرنے پر مجبور کیا۔ چنانچہ وہ ہار مان کر رُک گیا۔Nwدونوں دوبارہ کھانے پینے کے لئے بیٹھ گئے۔ سُسر نے کہا، ”براہِ کرم ایک اَور رات یہاں ٹھہر کر اپنا دل بہلائیں۔“ fzf{ لیکن اب لاوی کسی بھی صورت میں ایک اَور رات ٹھہرنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اپنے گدھوں پر زِین کس کر اپنی بیوی اور نوکر کے ساتھ روانہ ہوا۔ چلتے چلتے دن ڈھلنے لگا۔ وہ یبوس یعنی یروشلم کے قریب پہنچ گئے تھے۔ شہر کو دیکھ کر نوکر نے مالک سے کہا، ”آئیں، ہم یبوسیوں کے اِس شہر میں جا کر وہاں رات گزاریں۔“z دوپہر کے وقت لاوی اپنی بیوی اور نوکر کے ساتھ جانے کے لئے اُٹھا۔ سُسر اعتراض کرنے لگا، ”اب دیکھیں، دن ڈھلنے والا ہے۔ رات ٹھہر کر اپنا دل بہلائیں۔ بہتر ہے کہ آپ کل صبح سویرے ہی اُٹھ کر گھر کے لئے روانہ ہو جائیں۔“ }7 لیکن لاوی نے اعتراض کیا، ”نہیں، یہ اجنبیوں کا شہر ہے۔ ہمیں ایسی جگہ رات نہیں گزارنا چاہئے جو اسرائیلی نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ ہم آگے جا کر جِبعہ کی طرف بڑھیں۔| لیکن اب لاوی کسی بھی صورت میں ایک اَور رات ٹھہرنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اپنے گدھوں پر زِین کس کر اپنی بیوی اور نوکر کے ساتھ روانہ ہوا۔ چلتے چلتے دن ڈھلنے لگا۔ وہ یبوس یعنی یروشلم کے قریب پہنچ گئے تھے۔ شہر کو دیکھ کر نوکر نے مالک سے کہا، ”آئیں، ہم یبوسیوں کے اِس شہر میں جا کر وہاں رات گزاریں۔“ :پھر اندھیرے میں ایک بوڑھا آدمی وہاں سے گزرا۔ اصل میں وہ افرائیم کے پہاڑی علاقے کا رہنے والا تھا اور جِبعہ میں اجنبی تھا، کیونکہ باقی باشندے بن یمینی تھے۔ اب وہ کھیت میں اپنے کام سے فارغ ہو کر شہر میں واپس آیا تھا۔b?اور راستے سے ہٹ کر شہر میں داخل ہوئے۔ لیکن کوئی اُن کی مہمان نوازی نہیں کرنا چاہتا تھا، اِس لئے وہ شہر کے چوک میں رُک گئے۔0[چنانچہ وہ آگے نکلے۔ جب سورج غروب ہونے لگا تو وہ بن یمین کے قبیلے کے شہر جِبعہ کے قریب پہنچ گئےB~ اگر ہم جلدی کریں تو ہو سکتا ہے کہ جِبعہ یا اُس سے آگے رامہ تک پہنچ سکیں۔ وہاں آرام سے رات گزار سکیں گے۔“ -fS-"?حالانکہ ہمارے پاس کھانے کی تمام چیزیں موجود ہیں۔ گدھوں کے لئے بھوسا اور چارا ہے، اور ہمارے لئے بھی کافی روٹی اور مَے ہے۔ ہمیں کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔“لاوی نے جواب دیا، ”ہم یہوداہ کے بیت لحم سے آئے ہیں اور افرائیم کے پہاڑی علاقے کے ایک دُوردراز کونے تک سفر کر رہے ہیں۔ وہاں میرا گھر ہے اور وہیں سے مَیں روانہ ہو کر بیت لحم چلا گیا تھا۔ اِس وقت مَیں رب کے گھر جا رہا ہوں۔ لیکن یہاں جِبعہ میں کوئی نہیں جو ہماری مہمان نوازی کرنے کے لئے تیار ہو،'مسافروں کو چوک میں دیکھ کر اُس نے پوچھا، ”آپ کہاں سے آئے اور کہاں جا رہے ہیں؟“ zoوہ یوں کھانے کی رفاقت سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ جِبعہ کے کچھ شریر مرد گھر کو گھیر کر دروازے کو زور سے کھٹکھٹانے لگے۔ وہ چلّائے، ”اُس آدمی کو باہر لا جو تیرے گھر میں ٹھہرا ہوا ہے تاکہ ہم اُس سے زیادتی کریں!“I وہ مسافروں کو اپنے گھر لے گیا اور گدھوں کو چارا کھلایا۔ مہمانوں نے اپنے پاؤں دھو کر کھانا کھایا اور مَے پی۔1بوڑھے نے کہا، ”پھر مَیں آپ کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ اگر آپ کو کوئی چیز درکار ہو تو مَیں اُسے مہیا کروں گا۔ ہر صورت میں چوک میں رات مت گزارنا۔“ LLx kلیکن باہر کے مردوں نے اُس کی نہ سنی۔ تب لاوی اپنی داشتہ کو پکڑ کر باہر لے گیا اور اُس کے پیچھے دروازہ بند کر دیا۔ شہر کے آدمی پوری رات اُس کی بےحرمتی کرتے رہے۔ جب پَو پھٹنے لگی تو اُنہوں نے اُسے فارغ کر دیا۔9 mاِس سے پہلے مَیں اپنی کنواری بیٹی اور مہمان کی داشتہ کو باہر لے آتا ہوں۔ اُن ہی سے زیادتی کریں۔ جو جی چاہے اُن کے ساتھ کریں، لیکن آدمی کے ساتھ ایسی شرم ناک حرکت نہ کریں۔“wiبوڑھا آدمی باہر گیا تاکہ اُنہیں سمجھائے، ”نہیں، بھائیو، ایسا شیطانی عمل مت کرنا۔ یہ اجنبی میرا مہمان ہے۔ ایسی شرم ناک حرکت مت کرنا! --A}جب پہنچا تو اُس نے چھری لے کر عورت کی لاش کو 12 ٹکڑوں میں کاٹ لیا، پھر اُنہیں اسرائیل کی ہر جگہ بھیج دیا۔] 5وہ بولا، ”آٹھو، ہم چلتے ہیں۔“ لیکن داشتہ نے جواب نہ دیا۔ یہ دیکھ کر آدمی نے اُسے گدھے پر لاد لیا اور اپنے گھر چلا گیا۔  تو لاوی جاگ اُٹھا اور سفر کرنے کی تیاریاں کرنے لگا۔ جب دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہے کہ داشتہ سامنے زمین پر پڑی ہے اور ہاتھ دہلیز پر رکھے ہیں۔ 7سورج کے طلوع ہونے سے پہلے عورت اُس گھر کے پاس واپس آئی جس میں شوہر ٹھہرا ہوا تھا۔ دروازے تک تو وہ پہنچ گئی لیکن پھر گر کر وہیں کی وہیں پڑی رہی۔ جب دن چڑھ گیا {TC{Dاسرائیلی قبیلوں کے سردار بھی آئے۔ اُنہوں نے مل کر ایک بڑی فوج تیار کی، تلواروں سے لیس 4,00,000 مرد جمع ہوئے۔  تمام اسرائیلی ایک دل ہو کر مِصفاہ میں رب کے حضور جمع ہوئے۔ شمال کے دان سے لے کر جنوب کے بیرسبع تک سب آئے۔ دریائے یردن کے پار جِلعاد سے بھی لوگ آئے۔(Kجس نے بھی یہ دیکھا اُس نے گھبرا کر کہا، ”ایسا جرم ہمارے درمیان کبھی نہیں ہوا۔ جب سے ہم مصر سے نکل کر آئے ہیں ایسی حرکت دیکھنے میں نہیں آئی۔ اب لازم ہے کہ ہم غور سے سوچیں اور ایک دوسرے سے مشورہ کر کے اگلے قدم کے بارے میں فیصلہ کریں۔“   یہ دیکھ کر شہر کے مردوں نے میرے میزبان کے گھر کو گھیر لیا تاکہ مجھے قتل کریں۔ مَیں تو بچ گیا، لیکن میری داشتہ سے اِتنی زیادتی ہوئی کہ وہ مر گئی۔مقتولہ کے شوہر نے اُنہیں اپنی کہانی سنائی، ”مَیں اپنی داشتہ کے ساتھ جِبعہ میں آ ٹھہرا جو بن یمینیوں کے علاقے میں ہے۔ ہم وہاں رات گزارنا چاہتے تھے۔^7بن یمینیوں کو اِس جماعت کے بارے میں اطلاع ملی۔ اسرائیلیوں نے پوچھا، ”ہمیں بتائیں کہ یہ ہیبت ناک جرم کس طرح سرزد ہوا؟“ R-RW) جب تک جِبعہ کو مناسب سزا نہ دی جائے۔ لازم ہے کہ ہم فوراً شہر پر حملہ کریں اور اِس کے لئے قرعہ ڈال کر رب سے ہدایت لیں۔4cتمام مرد ایک دل ہو کر کھڑے ہوئے۔ سب کا فیصلہ تھا، ”ہم میں سے کوئی بھی اپنے گھر واپس نہیں جائے گاa=اِس پر آپ سب یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے مردو، اب لازم ہے کہ آپ ایک دوسرے سے مشورہ کر کے فیصلہ کریں کہ کیا کرنا چاہئے۔“2_یہ دیکھ کر مَیں نے اُس کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے یہ ٹکڑے اسرائیل کی میراث کی ہر جگہ بھیج دیئے تاکہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے کہ ہمارے ملک میں کتنا گھنونا جرم سرزد ہوا ہے۔ '[@'% اب جِبعہ کے اِن شریر آدمیوں کو ہمارے حوالے کریں تاکہ ہم اُنہیں سزائے موت دے کر اسرائیل میں سے بُرائی مٹا دیں۔“ لیکن بن یمینی اِس کے لئے تیار نہ ہوئے۔*O راستے میں اُنہوں نے بن یمین کے ہر کنبے کو پیغام بھجوایا، ”آپ کے درمیان گھنونا جرم ہوا ہے۔jO یوں تمام اسرائیلی متحد ہو کر جِبعہ سے لڑنے کے لئے گئے۔!= ہم یہ فیصلہ بھی کریں کہ کون کون ہماری فوج کے لئے کھانے پینے کا بندوبست کرائے گا۔ اِس کام کے لئے ہم میں سے ہر دسواں آدمی کافی ہے۔ باقی سب لوگ سیدھے جِبعہ سے لڑنے جائیں تاکہ اُس شرم ناک جرم کا مناسب بدلہ لیں جو اسرائیل میں ہوا ہے۔“ q  دوسری طرف اسرائیل کے 4,00,000 فوجی کھڑے ہوئے، اور ہر ایک کے پاس تلوار تھی۔ اِن فوجیوں میں سے 700 ایسے مرد بھی تھے جو اپنے بائیں ہاتھ سے فلاخن چلانے کی اِتنی مہارت رکھتے تھے کہ پتھر بال جیسے چھوٹے نشانے پر بھی لگ جاتا تھا۔Nاُسی دن اُنہوں نے اپنی فوج کا بندوبست کیا۔ جِبعہ کے 700 تجربہ کار فوجیوں کے علاوہ تلواروں سے لیس 26,000 افراد تھے۔ وہ پورے قبائلی علاقے سے آ کر جِبعہ میں جمع ہوئے تاکہ اسرائیلیوں سے لڑیں۔ .$$Cیہ دیکھ کر بن یمینی شہر سے نکلے اور اُن پر ٹوٹ پڑے۔ نتیجے میں 22,000 اسرائیلی شہید ہو گئے۔u#eپھر وہ حملہ کے لئے نکلے اور ترتیب سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔"اگلے دن اسرائیلی روانہ ہوئے اور جِبعہ کے قریب پہنچ کر اپنی لشکرگاہ لگائی۔24%تب یہ مرد نکل کر شہر پر ٹوٹ پڑے اور تلوار سے تمام باشندوں کو مار ڈالا،3y$تب بن یمینیوں نے جان لیا کہ دشمن ہم پر غالب آ گئے ہیں۔ کیونکہ اسرائیلی فوج نے اپنے بھاگ جانے سے اُنہیں جِبعہ سے دُور کھینچ لیا تھا تاکہ شہر کے ارد گرد گھات میں بیٹھے مردوں کو شہر پر حملہ کرنے کا موقع مہیا کریں۔>2w#اُس دن اسرائیلیوں نے رب کی مدد سے فتح پا کر تلوار سے لیس 25,100 بن یمینی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ ,,f6G'پھر منصوبے کے مطابق آگ لگا کر دھوئیں کا بڑا بادل پیدا کیا تاکہ بھاگنے والے اسرائیلیوں کو اشارہ مل جائے کہ وہ مُڑ کر بن یمینیوں کا مقابلہ کریں۔ اُس وقت تک بن یمینیوں نے تقریباً 30 اسرائیلیوں کو مار ڈالا تھا، اور اُن کا خیال تھا کہ ہم اُنہیں پہلے کی طرح شکست دے رہے ہیں۔f5G&پھر منصوبے کے مطابق آگ لگا کر دھوئیں کا بڑا بادل پیدا کیا تاکہ بھاگنے والے اسرائیلیوں کو اشارہ مل جائے کہ وہ مُڑ کر بن یمینیوں کا مقابلہ کریں۔ اُس وقت تک بن یمینیوں نے تقریباً 30 اسرائیلیوں کو مار ڈالا تھا، اور اُن کا خیال تھا کہ ہم اُنہیں پہلے کی طرح شکست دے رہے ہیں۔ c9A*تب اُنہوں نے مشرق کے ریگستان کی طرف فرار ہونے کی کوشش کی۔ لیکن اب وہ مرد بھی اُن کا تعاقب کرنے لگے جنہوں نے گھات میں بیٹھ کر جِبعہ پر حملہ کیا تھا۔ یوں اسرائیلیوں نے مفروروں کو گھیر کر مار ڈالا۔r8_)تو اسرائیل کے مرد رُک گئے اور پلٹ کر اُن کا سامنا کرنے لگے۔ بن یمینی سخت گھبرا گئے، کیونکہ اُنہوں نے جان لیا کہ ہم تباہ ہو گئے ہیں۔m7U(اچانک اُن کے پیچھے دھوئیں کا بادل آسمان کی طرف اُٹھنے لگا۔ جب بن یمینیوں نے مُڑ کر دیکھا کہ شہر کے کونے کونے سے دھواں نکل رہا ہے =7==.اِس طرح بن یمین کے کُل 25,000 تلوار سے لیس اور تجربہ کار فوجی مارے گئے۔p<[-جو بچ گئے وہ ریگستان کی چٹان رِمّون کی طرف بھاگ نکلے۔ لیکن اسرائیلیوں نے راستے میں اُن کے 5,000 افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اِس کے بعد اُنہوں نے جِدوم تک اُن کا تعاقب کیا۔ مزید 2,000 بن یمینی ہلاک ہوئے۔_;9,اُس وقت بن یمین کے 18,000 تجربہ کار فوجی ہلاک ہوئے۔c:A+تب اُنہوں نے مشرق کے ریگستان کی طرف فرار ہونے کی کوشش کی۔ لیکن اب وہ مرد بھی اُن کا تعاقب کرنے لگے جنہوں نے گھات میں بیٹھ کر جِبعہ پر حملہ کیا تھا۔ یوں اسرائیلیوں نے مفروروں کو گھیر کر مار ڈالا۔ q@ جب اسرائیلی مِصفاہ میں جمع ہوئے تھے تو سب نے قَسم کھا کر کہا تھا، ”ہم کبھی بھی اپنی بیٹیوں کا کسی بن یمینی مرد کے ساتھ رشتہ نہیں باندھیں گے۔“C?0تب اسرائیلی تعاقب کرنے سے باز آ کر بن یمین کے قبائلی علاقے میں واپس آئے۔ وہاں اُنہوں نے جگہ بہ جگہ جا کر سب کچھ موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ جو بھی اُنہیں ملا وہ تلوار کی زد میں آ گیا، خواہ انسان تھا یا حیوان۔ ساتھ ساتھ اُنہوں نے تمام شہروں کو آگ لگا دی۔ >/صرف 600 مرد بچ کر رِمّون کی چٹان تک پہنچ گئے۔ وہاں وہ چار مہینے تک ٹکے رہے۔ !a!DDپھر وہ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے، ”جب ہم مِصفاہ میں رب کے حضور جمع ہوئے تو ہماری قوم میں سے کون کون اجتماع میں شریک نہ ہوا؟“ کیونکہ اُس وقت اُنہوں نے قَسم کھا کر اعلان کیا تھا، ”جس نے یہاں رب کے حضور آنے سے انکار کیا اُسے ضرور سزائے موت دی جائے گی۔“?Cyاگلے دن وہ صبح سویرے اُٹھے اور قربان گاہ بنا کر اُس پر بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں چڑھائیں۔1B]”اے رب، اسرائیل کے خدا، ہماری قوم کا ایک پورا قبیلہ مٹ گیا ہے! یہ مصیبت اسرائیل پر کیوں آئی؟“A1اب وہ بیت ایل چلے گئے اور شام تک اللہ کے حضور بیٹھے رہے۔ رو رو کر اُنہوں نے دعا کی، \AQ3Ha یہ بات فوجیوں کو گننے سے پتا چلی، کیونکہ گنتے وقت یبیس جِلعاد کا کوئی بھی شخص فوج میں نہیں تھا۔lGSلیکن ہو سکتا ہے کوئی خاندان مِصفاہ کے اجتماع میں نہ آیا ہو۔ آؤ، ہم پتا کریں۔“ معلوم ہوا کہ یبیس جِلعاد کے باشندے نہیں آئے تھے۔F)اب ہم اُن تھوڑے بچے کھچے آدمیوں کو بیویاں کس طرح مہیا کر سکتے ہیں؟ ہم نے تو رب کے حضور قَسم کھائی ہے کہ اپنی بیٹیوں کا اُن کے ساتھ رشتہ نہیں باندھیں گے۔ E;اب اسرائیلیوں کو بن یمینیوں پر افسوس ہوا۔ اُنہوں نے کہا، ”ایک پورا قبیلہ مٹ گیا ہے۔ |$!p|pM[پھر بن یمین کے 600 مرد ریگستان سے واپس آئے، اور اُن کے ساتھ یبیس جِلعاد کی کنواریوں کی شادی ہوئی۔ لیکن یہ سب کے لئے کافی نہیں تھیں۔-LU وہاں سے اُنہوں نے اپنے قاصدوں کو رِمّون کی چٹان کے پاس بھیج کر بن یمینیوں کے ساتھ صلح کر لی۔>Rنعومی نے جواب میں کہا، ”بہت اچھا۔ بیٹی، ایسا ہی کریں۔ اُس کی نوکرانیوں کے ساتھ رہنے کا یہ فائدہ ہے کہ آپ محفوظ رہیں گی۔ کسی اَور کے کھیت میں جائیں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی آپ کو تنگ کرے۔“kQروت بولی، ”اُس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ کہیں اَور نہ جانا بلکہ کٹائی کے اختتام تک میرے مزدوروں کے پیچھے پیچھے بالیں جمع کرنا۔“ymنعومی پکار اُٹھی، ”رب اُسے برکت دے! وہ تو ہمارا قریبی رشتے دار ہے، اور شریعت کے مطابق اُس کا حق ہے کہ وہ ہماری مدد کرے۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ اللہ ہم پر اور ہمارے مرحوم شوہروں پر رحم کرنے سے باز نہیں آیا!“ tcاب دیکھیں، جس آدمی کی نوکرانیوں کے ساتھ آپ نے بالیں چنی ہیں وہ ہمارا قریبی رشتے دار ہے۔ آج شام کو بوعز گاہنے کی جگہ پر جَو پھٹکے گا۔ ایک دن نعومی روت سے مخاطب ہوئی، ”بیٹی، مَیں آپ کے لئے گھر کا بندوبست کرنا چاہتی ہوں، ایسی جگہ جہاں آپ کی ضروریات آئندہ بھی پوری ہوتی رہیں گی۔%چنانچہ روت جَو اور گندم کی کٹائی کے پورے موسم میں بوعز کی نوکرانیوں کے پاس جاتی اور بچی ہوئی بالیں چنتی۔ شام کو وہ اپنی ساس کے گھر واپس چلی جاتی تھی۔ ?V? وہ اپنی ساس کی ہدایت کے مطابق تیار ہوئی اور شام کے وقت گاہنے کی جگہ پر پہنچی۔~ wروت نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے۔ جو کچھ بھی آپ نے کہا ہے مَیں کروں گی۔“\ 3تو دیکھ لیں کہ بوعز سونے کے لئے کہاں لیٹ جاتا ہے۔ پھر جب وہ سو جائے گا تو وہاں جائیں اور کمبل کو اُس کے پیروں سے اُتار کر اُن کے پاس لیٹ جائیں۔ باقی جو کچھ کرنا ہے وہ آپ کو اُسی وقت بتائے گا۔“Fتو سن لیں، اچھی طرح نہا کر خوشبودار تیل لگا لیں اور اپنا سب سے خوب صورت لباس پہن لیں۔ پھر گاہنے کی جگہ جائیں۔ لیکن اُسے پتا نہ چلے کہ آپ آئی ہیں۔ جب وہ کھانے پینے سے فارغ ہو جائیں ~>~<s اُس نے پوچھا، ”کون ہے؟“ روت نے جواب دیا، ”آپ کی خادمہ روت۔ میری ایک گزارش ہے۔ چونکہ آپ میرے قریبی رشتے دار ہیں اِس لئے آپ کا حق ہے کہ میری ضروریات پوری کریں۔ مہربانی کر کے اپنے لباس کا دامن مجھ پر بچھا کر ظاہر کریں کہ میرے ساتھ شادی کریں گے۔“ 1آدھی رات کو بوعز گھبرا گیا۔ ٹٹول ٹٹول کر اُسے پتا چلا کہ پیروں کے پاس عورت پڑی ہے۔ 9وہاں بوعز کھانے پینے اور خوشی منانے کے بعد جو کے ڈھیر کے پاس لیٹ کر سو گیا۔ پھر روت چپکے سے اُس کے پاس آئی۔ اُس کے پیروں سے کمبل ہٹا کر وہ اُن کے پاس لیٹ گئی۔  آپ کی بات سچ ہے کہ مَیں آپ کا قریبی رشتے دار ہوں اور یہ میرا حق ہے کہ آپ کی ضروریات پوری کروں۔ لیکن ایک اَور آدمی ہے جس کا آپ سے زیادہ قریبی رشتہ ہے۔P بیٹی، اب فکر نہ کریں۔ مَیں ضرور آپ کی یہ گزارش پوری کروں گا۔ آخر تمام مقامی لوگ جان گئے ہیں کہ آپ شریف عورت ہیں۔2_ بوعز بولا، ”بیٹی، رب آپ کو برکت دے! اب آپ نے اپنے سُسرال سے وفاداری کا پہلے کی نسبت زیادہ اظہار کیا ہے، کیونکہ آپ جوان آدمیوں کے پیچھے نہ لگیں، خواہ غریب ہوں یا امیر۔ xkچنانچہ روت بوعز کے پیروں کے پاس لیٹی رہی۔ لیکن وہ صبح منہ اندھیرے اُٹھ کر چلی گئی تاکہ کوئی اُسے پہچان نہ سکے، کیونکہ بوعز نے کہا تھا، ”کسی کو پتا نہ چلے کہ کوئی عورت یہاں گاہنے کی جگہ پر میرے پاس آئی ہے۔“mU رات کے لئے یہاں ٹھہریں! کل مَیں اُس آدمی سے بات کروں گا۔ اگر وہ آپ سے شادی کر کے رشتے داری کا حق ادا کرنا چاہے تو ٹھیک ہے۔ اگر نہیں تو رب کی قَسم، مَیں یہ ضرور کروں گا۔ آپ صبح کے وقت تک یہیں لیٹی رہیں۔“ Eروت بولی، ”جَو کے یہ دانے بھی اُس کی طرف سے ہیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مَیں خالی ہاتھ آپ کے پاس واپس آؤں۔“Mجب روت گھر پہنچی تو ساس نے پوچھا، ”بیٹی، وقت کیسا رہا؟“ روت نے اُسے سب کچھ سنایا جو بوعز نے جواب میں کیا تھا۔Jروت کے جانے سے پہلے بوعز بولا، ”اپنی چادر بچھا دیں!“ پھر اُس نے کوئی برتن چھ دفعہ جَو کے دانوں سے بھر کر چادر میں ڈال دیا اور اُسے روت کے سر پر رکھ دیا۔ پھر وہ شہر میں واپس چلا گیا۔ ;]5تو بوعز نے شہر کے دس بزرگوں کو بھی ساتھ بٹھایا۔/ [بوعز شہر کے دروازے کے پاس جا کر بیٹھ گیا جہاں بزرگ فیصلے کیا کرتے تھے۔ کچھ دیر کے بعد وہ رشتے دار وہاں سے گزرا جس کا ذکر بوعز نے روت سے کیا تھا۔ بوعز اُس سے مخاطب ہوا، ”دوست، اِدھر آئیں۔ میرے پاس بیٹھ جائیں۔“ رشتے دار اُس کے پاس بیٹھ گیایہ سن کر نعومی نے روت کو تسلی دی، ”بیٹی، جب تک کوئی نتیجہ نہ نکلے یہاں ٹھہر جائیں۔ اب یہ آدمی آرام نہیں کرے گا بلکہ آج ہی معاملے کا حل نکالے گا۔“ $.$یہ زمین ہمارے خاندان کا موروثی حصہ ہے، اِس لئے مَیں نے مناسب سمجھا کہ آپ کو اطلاع دوں تاکہ آپ یہ زمین خرید لیں۔ بیت لحم کے بزرگ اور ساتھ بیٹھے راہنما اِس کے گواہ ہوں گے۔ لازم ہے کہ یہ زمین ہمارے خاندان کا حصہ رہے، اِس لئے بتائیں کہ کیا آپ اِسے خرید کر چھڑائیں گے؟ آپ کا سب سے قریبی رشتہ ہے، اِس لئے یہ آپ ہی کا حق ہے۔ اگر آپ زمین خریدنا نہ چاہیں تو یہ میرا حق بنے گا۔“ رشتے دار نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، مَیں اِسے خرید کر چھڑاؤں گا۔“Nپھر اُس نے رشتے دار سے بات کی، ”نعومی ملکِ موآب سے واپس آ کر اپنے شوہر اِلی مَلِک کی زمین فروخت کرنا چاہتی ہے۔ MM\3اُس زمانے میں اگر ایسے کسی معاملے میں کوئی زمین خریدنے کا اپنا حق کسی دوسرے کو منتقل کرنا چاہتا تھا تو وہ اپنی چپل اُتار کر اُسے دے دیتا تھا۔ اِس طریقے سے فیصلہ قانونی طور پر طے ہو جاتا تھا۔یہ سن کر رشتے دار نے کہا، ”پھر مَیں اِسے خریدنا نہیں چاہتا، کیونکہ ایسا کرنے سے میری موروثی زمین کو نقصان پہنچے گا۔ آپ ہی اِسے خرید کر چھڑائیں۔“=uپھر بوعز بولا، ”اگر آپ نعومی سے زمین خریدیں تو آپ کو اُس کی موآبی بہو روت سے شادی کرنی پڑے گی تاکہ مرحوم شوہر کی جگہ اولاد پیدا کریں جو اُس کا نام رکھ کر یہ زمین سنبھالیں۔“ofdflrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| $&*-/1469 $&*-/1469=@DHMQTVY] _ c f i mqux{~  !!$"'#/$2%6&9'=(A*D+H,L-P.S/V0X1\2^3a4d5f6h7k8n9q:s;v?@B C DEFGHIJK L"M%N'O)P+Q.R1S4T7U:V=W@XCYFZJ[O]S^V_[``acbech 8B! ساتھ ہی مَیں نے محلون کی بیوہ موآبی عورت روت سے شادی کرنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ محلون کے نام سے بیٹا پیدا ہو۔ یوں مرحوم کی موروثی زمین خاندان سے چھن نہیں جائے گی، اور اُس کا نام ہمارے خاندان اور بیت لحم کے باشندوں میں قائم رہے گا۔ آج آپ سب گواہ ہیں!“O  تب بوعز نے بزرگوں اور باقی لوگوں کے سامنے اعلان کیا، ”آج آپ گواہ ہیں کہ مَیں نے نعومی سے سب کچھ خرید لیا ہے جو اُس کے مرحوم شوہر اِلی مَلِک اور اُس کے دو بیٹوں کلیون اور محلون کا تھا۔Dچنانچہ روت کے زیادہ قریبی رشتے دار نے اپنی چپل اُتار کر بوعز کو دے دی اور کہا، ”آپ ہی زمین کو خرید لیں۔“ a3$a چنانچہ روت بوعز کی بیوی بن گئی۔ اور رب کی مرضی سے روت شادی کے بعد حاملہ ہوئی۔ جب اُس کے بیٹا ہوا7#i وہ آپ اور آپ کی بیوی کو اُتنی اولاد بخشے جتنی تمر اور یہوداہ کے بیٹے فارص کے خاندان کو بخشی تھی۔“`"; بزرگوں اور شہر کے دروازے پر بیٹھے دیگر مردوں نے اِس کی تصدیق کی، ”ہم گواہ ہیں! رب آپ کے گھر میں آنے والی اِس عورت کو اُن برکتوں سے نوازے جن سے اُس نے راخل اور لیاہ کو نوازا، جن سے تمام اسرائیلی نکلے۔ رب کرے کہ آپ کی دولت اور عزت اِفراتہ یعنی بیت لحم میں بڑھتی جائے۔ ea'=نعومی بچے کو اپنی گود میں بٹھا کر اُسے پالنے لگی۔?&yاُس سے آپ تازہ دم ہو جائیں گی، اور بُڑھاپے میں وہ آپ کو سہارا دے گا۔ کیونکہ آپ کی بہو جو آپ کو پیار کرتی ہے اور جس کی قدر و قیمت سات بیٹوں سے بڑھ کر ہے اُسی نے اُسے جنم دیا ہے!“T%#تو بیت لحم کی عورتوں نے نعومی سے کہا، ”رب کی تمجید ہو! آپ کو یہ بچہ عطا کرنے سے اُس نے ایسا شخص مہیا کیا ہے جو آپ کا خاندان سنبھالے گا۔ اللہ کرے کہ اُس کی شہرت پورے اسرائیل میں پھیل جائے۔ `<O/  اِلقانہ کی دو بیویاں تھیں۔ ایک کا نام حَنّہ تھا اور دوسری کا فنِنّہ۔ فنِنّہ کے بچے تھے، لیکن حنّہ بےاولاد تھی۔.  افرائیم کے پہاڑی علاقے کے شہر راماتائم صوفیم یعنی رامہ میں ایک اِفرائیمی رہتا تھا جس کا نام اِلقانہ بن یروحام بن اِلیہو بن توخو بن صوف تھا۔$-Eیسّی اور داؤد۔ ,;بوعز، عوبید،!+?نحسون، سلمون،"*Aرام، عمی نداب،`);ذیل میں فارص کا داؤد تک نسب نامہ ہے: فارص، حصرون،(#پڑوسی عورتوں نے اُس کا نام عوبید یعنی خدمت کرنے والا رکھا۔ اُنہوں نے کہا، ”نعومی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے!“ عوبید داؤد بادشاہ کے باپ یسّی کا باپ تھا۔ ?d?M2  حَنّہ کو بھی گوشت ملتا، لیکن جہاں دوسروں کو ایک حصہ ملتا وہاں اُسے دو حصے ملتے تھے۔ کیونکہ اِلقانہ اُس سے بہت محبت رکھتا تھا، اگرچہ اب تک رب کی مرضی نہیں تھی کہ حنّہ کے بچے پیدا ہوں۔P1  ہر سال اِلقانہ اپنی قربانی پیش کرنے کے بعد قربانی کے گوشت کے ٹکڑے فنِنّہ اور اُس کے بیٹے بیٹیوں میں تقسیم کرتا۔0 - اِلقانہ ہر سال اپنے خاندان سمیت سفر کر کے سَیلا کے مقدِس کے پاس جاتا تاکہ وہاں رب الافواج کے حضور قربانی گزرانے اور اُس کی پرستش کرے۔ اُن دنوں میں عیلی امام کے دو بیٹے حُفنی اور فینحاس سَیلا میں امام کی خدمت انجام دیتے تھے۔ D& r6 a ایک دن جب وہ سَیلا میں تھے تو حنّہ کھانے پینے کے بعد اُٹھ کر رب کے مقدِس کے پاس گئی۔ وہاں عیلی امام دروازے کے پاس کرسی پر بیٹھا تھا۔5 ) پھر اِلقانہ پوچھتا، ”حنّہ، تُو کیوں رو رہی ہے؟ تُو کھانا کیوں نہیں کھا رہی؟ اُداس ہونے کی کیا ضرورت؟ مَیں تو ہوں۔ کیا یہ دس بیٹوں سے کہیں بہتر نہیں؟“4 1 سال بہ سال ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔ جب بھی وہ رب کے مقدِس کے پاس جاتے تو فنِنّہ حَنّہ کو اِتنا تنگ کرتی کہ وہ اُس کی باتیں سن سن کر رو پڑتی اور کھا پی نہ سکتی۔83 m فنِنّہ کی حَنّہ سے دشمنی تھی، اِس لئے وہ ہر سال حنّہ کے بانجھ پن کا مذاق اُڑا کر اُسے تنگ کرتی تھی۔ Z\}9 w حَنّہ بڑی دیر تک یوں دعا کرتی رہی۔ عیلی اُس کے منہ پر غور کرنے لگاz8 q اُس نے قَسم کھائی، ”اے رب الافواج، میری بُری حالت پر نظر ڈال کر مجھے یاد کر! اپنی خادمہ کو مت بھولنا بلکہ بیٹا عطا فرما! اگر تُو ایسا کرے تو مَیں اُسے تجھے واپس کر دوں گی۔ اے رب، اُس کی پوری زندگی تیرے لئے مخصوص ہو گی! اِس کا نشان یہ ہو گا کہ اُس کے بال کبھی نہیں کٹوائے جائیں گے۔“"7 A حنّہ داخل ہوئی اور شدید پریشانی کے عالم میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ رب سے دعا کرتے کرتے 717= 3 یہ نہ سمجھیں کہ مَیں نکمی عورت ہوں، بلکہ مَیں بڑے غم اور اذیت میں دعا کر رہی تھی۔“W< + حنّہ نے جواب دیا، ”میرے آقا، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ مَیں نے نہ مَے، نہ کوئی اَور نشہ آور چیز چکھی ہے۔ بات یہ ہے کہ مَیں بڑی رنجیدہ ہوں، اِس لئے رب کے حضور اپنے دل کی آہ و زاری اُنڈیل دی ہے۔%; G اِس لئے اُس نے اُسے جھڑکتے ہوئے کہا، ”تُو کب تک نشے میں دُھت رہے گی؟ مَے پینے سے باز آ!“": A تو دیکھا کہ حنّہ کے ہونٹ تو ہل رہے ہیں لیکن آواز سنائی نہیں دے رہی، کیونکہ حنّہ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی۔ لیکن عیلی کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ نشے میں دُھت ہے، KLTKA  اِلقانہ اور حنّہ کے بیٹا پیدا ہوا۔ حنّہ نے اُس کا نام سموایل یعنی ’اُس کا نام اللہ ہے‘ رکھا، کیونکہ اُس نے کہا، ”مَیں نے اُسے رب سے مانگا۔“,@ U اگلے دن پورا خاندان صبح سویرے اُٹھا۔ اُنہوں نے مقدِس میں جا کر رب کی پرستش کی، پھر رامہ واپس چلے گئے جہاں اُن کا گھر تھا۔ اور رب نے حنّہ کو یاد کر کے اُس کی دعا سنی۔D?  حنّہ نے کہا، ”اپنی خادمہ پر آپ کی نظرِ کرم ہو۔“ پھر اُس نے جا کر کچھ کھایا، اور اُس کا چہرہ اُداس نہ رہا۔0> ] یہ سن کر عیلی نے جواب دیا، ”سلامتی سے اپنے گھر چلی جا! اسرائیل کا خدا تیری درخواست پوری کرے۔“ G'2=HS^it} '1;EOYcmw$/:EP[fq|  % & ' ( ) * + ,  % & ' ( ) * + , -  .   /   0   1   2   3   4   5   6   7   8   9   :   ;   <   =   >   ?   @   A   B   C   D   E   F   G   H   I   J  K  L  M  N  O  P  Q   R   S   T   U   V  W  X  Y  Z  [  \  ]  ^  _  `  a  b  c  d  e  f  g  h   i  !j  "k ('D K اِلقانہ نے جواب دیا، ”وہ کچھ کر جو تجھے مناسب لگے۔ بچے کا دودھ چھڑانے تک یہاں رہ۔ لیکن رب اپنا کلام قائم رکھے۔“ چنانچہ حَنّہ بچے کے دودھ چھڑانے تک گھر میں رہی۔C % لیکن حنّہ نہ گئی۔ اُس نے اپنے شوہر سے کہا، ”جب بچہ دودھ پینا چھوڑ دے گا تب ہی مَیں اُسے لے کر رب کے حضور پیش کروں گی۔ اُس وقت سے وہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔“TB % اگلے سال اِلقانہ خاندان کے ساتھ معمول کے مطابق سَیلا گیا تاکہ رب کو سالانہ قربانی پیش کرے اور اپنی مَنت پوری کرے۔ +H  اُس وقت مَیں نے التماس کی تھی کہ رب مجھے بیٹا عطا کرے، اور رب نے میری سنی ہے۔`G = حنّہ نے کہا، ”میرے آقا، آپ کی حیات کی قَسم، مَیں وہی عورت ہوں جو کچھ سال پہلے یہاں آپ کی موجودگی میں کھڑی دعا کر رہی تھی۔F  بیل کو قربان گاہ پر چڑھانے کے بعد اِلقانہ اور حنّہ بچے کو عیلی کے پاس لے گئے۔XE - جب سموایل نے دودھ پینا چھوڑ دیا تو حَنّہ اُسے سَیلا میں رب کے مقدِس کے پاس لے گئی، گو بچہ ابھی چھوٹا تھا۔ قربانیوں کے لئے اُس کے پاس تین بَیل، میدے کے تقریباً 16 کلو گرام اور مَے کی مشک تھی۔ 11]L5 ڈینگیں مارنے سے باز آؤ! گستاخ باتیں مت بکو! کیونکہ رب ایسا خدا ہے جو سب کچھ جانتا ہے، وہ تمام اعمال کو تول کر پرکھتا ہے۔K7 رب جیسا قدوس کوئی نہیں ہے، تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔ ہمارے خدا جیسی کوئی چٹان نہیں ہے۔OJ  وہاں حنّہ نے یہ گیت گایا، ”میرا دل رب کی خوشی مناتا ہے، کیونکہ اُس نے مجھے قوت عطا کی ہے۔ میرا منہ دلیری سے اپنے دشمنوں کے خلاف بات کرتا ہے، کیونکہ مَیں تیری نجات کے باعث باغ باغ ہوں۔uI g چنانچہ اب مَیں اپنا وعدہ پورا کر کے بیٹے کو رب کو واپس کر دیتی ہوں۔ عمر بھر وہ رب کے لئے مخصوص ہو گا۔“ تب اُس نے رب کے حضور سجدہ کیا۔ t<XP رب ہی غریب اور امیر بنا دیتا ہے، وہی زیر کرتا اور وہی سرفراز کرتا ہے۔`O; رب ایک کو مرنے دیتا اور دوسرے کو زندہ ہونے دیتا ہے۔ وہ ایک کو پاتال میں اُترنے دیتا اور دوسرے کو وہاں سے نکل آنے دیتا ہے۔4Nc جو پہلے سیر تھے وہ روٹی ملنے کے لئے مزدوری کرتے ہیں جبکہ جو پہلے بھوکے تھے وہ سیر ہو گئے ہیں۔ بےاولاد عورت کے سات بچے پیدا ہوئے ہیں جبکہ وافر بچوں کی ماں مُرجھا رہی ہے۔M اب بڑوں کی کمانیں ٹوٹ گئی ہیں جبکہ گرنے والے قوت سے کمربستہ ہو گئے ہیں۔ ::WS)  جو رب سے لڑنے کی جرٲت کریں وہ پاش پاش ہو جائیں گے۔ رب آسمان سے اُن کے خلاف گرج کر دنیا کی انتہا تک سب کی عدالت کرے گا۔ وہ اپنے بادشاہ کو تقویت اور اپنے مسح کئے ہوئے خادم کو قوت عطا کرے گا۔“oRY  وہ اپنے وفادار پیروکاروں کے پاؤں محفوظ رکھے گا جبکہ شریر تاریکی میں چپ ہو جائیں گے۔ کیونکہ انسان اپنی طاقت سے کامیاب نہیں ہوتا۔tQc وہ خاک میں دبے آدمی کو کھڑا کرتا ہے اور راکھ میں لیٹے ضرورت مند کو سرفراز کرتا ہے، پھر اُنہیں رئیسوں کے ساتھ عزت کی کرسی پر بٹھا دیتا ہے۔ کیونکہ دنیا کی بنیادیں رب کی ہیں، اور اُسی نے اُن پر زمین رکھی ہے۔ 55rV_  نہ امام کی حیثیت سے اپنے فرائض صحیح طور پر ادا کرتے تھے۔ کیونکہ جب بھی کوئی آدمی اپنی قربانی پیش کر کے رفاقتی کھانے کے لئے گوشت اُبالتا تو عیلی کے بیٹے اپنے نوکر کو وہاں بھیج دیتے۔ یہ نوکر سہ شاخہ کانٹاfUG  لیکن عیلی کے بیٹے بدمعاش تھے۔ نہ وہ رب کو جانتے تھے،hTK  پھر اِلقانہ اور حنّہ رامہ میں اپنے گھر واپس چلے گئے۔ لیکن اُن کا بیٹا عیلی امام کے پاس رہا اور مقدِس میں رب کی خدمت کرنے لگا۔ **#XA نہ صرف یہ بلکہ کئی بار نوکر اُس وقت بھی آ جاتا جب جانور کی چربی ابھی قربان گاہ پر جلانی ہوتی تھی۔ پھر وہ تقاضا کرتا، ”مجھے امام کے لئے کچا گوشت دے دو! اُسے اُبلا گوشت منظور نہیں بلکہ صرف کچا گوشت، کیونکہ وہ اُسے بھوننا چاہتا ہے۔“+WQ دیگ میں ڈال کر گوشت کا ہر وہ ٹکڑا اپنے مالکوں کے پاس لے جاتا جو کانٹے سے لگ جاتا۔ یہی اُن کا تمام اسرائیلیوں کے ساتھ سلوک تھا جو سَیلامیں قربانیاں چڑھانے آتے تھے۔ o0o=\u ہر سال جب اُس کی ماں خاوند کے ساتھ قربانی پیش کرنے کے لئے سَیلا آتی تو وہ نیا چوغہ سی کر اُسے دے دیتی۔?[y لیکن چھوٹا سموایل رب کے حضور خدمت کرتا رہا۔ اُسے بھی دوسرے اماموں کی طرح کتان کا بالاپوش دیا گیا تھا۔9Zm اِن جوان اماموں کا یہ گناہ رب کی نظر میں نہایت سنگین تھا، کیونکہ وہ رب کی قربانیاں حقیر جانتے تھے۔LY قربانی پیش کرنے والا اعتراض کرتا، ”پہلے تو رب کے لئے چربی جلانا ہے، اِس کے بعد ہی جو جی چاہے لے لیں۔“ پھر نوکر بدتمیزی کرتا، ”نہیں، اُسے ابھی دے دو، ورنہ مَیں زبردستی لے لوں گا۔“ }u}t^c اور واقعی، رب نے حنّہ کو مزید تین بیٹے اور دو بیٹیاں عطا کیں۔ یہ بچے گھر میں رہے، لیکن سموایل رب کے حضور خدمت کرتے کرتے جوان ہو گیا۔] اور روانہ ہونے سے پہلے عیلی سموایل کے ماں باپ کو برکت دے کر اِلقانہ سے کہتا، ”حنّہ نے رب سے بچہ مانگ لیا اور جب ملا تو اُسے رب کو واپس کر دیا۔ اب رب آپ کو اِس بچے کی جگہ مزید بچے دے۔“ اِس کے بعد وہ اپنے گھر چلے جاتے۔ a5 بیٹو، ایسا مت کرنا! جو باتیں آپ کے بارے میں رب کی قوم میں پھیل گئی ہیں وہ اچھی نہیں۔g`I اُس نے اُنہیں سمجھایا بھی تھا، ”آپ ایسی حرکتیں کیوں کر رہے ہیں؟ مجھے تمام لوگوں سے آپ کے شریر کاموں کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔}_u عیلی اُس وقت بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ بیٹوں کا تمام اسرائیل کے ساتھ بُرا سلوک اُس کے کانوں تک پہنچ گیا تھا، بلکہ یہ بھی کہ بیٹے اُن عورتوں سے ناجائز تعلقات رکھتے ہیں جو ملاقات کے خیمے کے دروازے پر خدمت کرتی ہیں۔ E+dQ ایک دن ایک نبی عیلی کے پاس آیا اور کہا، ”رب فرماتا ہے، ’کیا جب تیرا باپ ہارون اور اُس کا گھرانا مصر کے بادشاہ کے غلام تھے تو مَیں نے اپنے آپ کو اُس پر ظاہر نہ کیا؟>cw لیکن سموایل اُن سے فرق تھا۔ جتنا وہ بڑا ہوتا گیا اُتنی اُس کی رب اور انسان کے سامنے قبولیت بڑھتی گئی۔ube دیکھیں، اگر انسان کسی دوسرے انسان کا گناہ کرے تو ہو سکتا ہے اللہ دونوں کا درمیانی بن کر قصوروار شخص پر رحم کرے۔ لیکن اگر کوئی رب کا گناہ کرے تو پھر کون اُس کا درمیانی بن کر اُسے بچائے گا؟“ لیکن عیلی کے بیٹوں نے باپ کی نہ سنی، کیونکہ رب کی مرضی تھی کہ اُنہیں سزائے موت مل جائے۔ >'>efE تو پھر تم لوگ ذبح اور غلہ کی وہ قربانیاں حقیر کیوں جانتے ہو جو مجھے ہی پیش کی جاتی ہیں اور جو مَیں نے اپنی سکونت گاہ کے لئے مقرر کی تھیں؟ عیلی، تُو اپنے بیٹوں کا مجھ سے زیادہ احترام کرتا ہے۔ تم تو میری قوم اسرائیل کی ہر قربانی کے بہترین حصے کھا کھا کر موٹے ہو گئے ہو۔‘Ue% گو اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے لیکن مَیں نے مقرر کیا کہ اُسی کے گھرانے کے مرد میرے امام بن کر قربان گاہ کے سامنے خدمت کریں، بخور جلائیں اور میرے حضور امام کا بالاپوش پہنیں۔ ساتھ ساتھ مَیں نے اُنہیں قربان گاہ پر جلنے والی قربانیوں کا ایک حصہ ملنے کا حق دے دیا۔ ghI اِس لئے سن! ایسے دن آ رہے ہیں جب مَیں تیری اور تیرے گھرانے کی طاقت یوں توڑ ڈالوں گا کہ گھر کا کوئی بھی بزرگ نہیں پایا جائے گا۔#gA چنانچہ رب جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے، ’وعدہ تو مَیں نے کیا تھا کہ لاوی کے قبیلے کا تیرا گھرانا ہمیشہ ہی امام کی خدمت سرانجام دے گا۔ لیکن اب مَیں اعلان کرتا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا! کیونکہ جو میرا احترام کرتے ہیں اُن کا مَیں احترام کروں گا، لیکن جو مجھے حقیر جانتے ہیں اُنہیں حقیر جانا جائے گا۔  jkO "تیرے بیٹے حُفنی اور فینحاس دونوں ایک ہی دن ہلاک ہو جائیں گے۔ اِس نشان سے تجھے یقین آئے گا کہ جو کچھ مَیں نے فرمایا ہے وہ سچ ہے۔Bj !مَیں تم میں سے ہر ایک کو تو اپنی خدمت سے نکال کر ہلاک نہیں کروں گا جب تیری آنکھیں دُھندلی سی پڑ جائیں گی اور تیری جان ہلکان ہو جائے گی۔ لیکن تیری تمام اولاد غیرطبعی موت مرے گی۔pi[  اور تُو مقدِس میں مصیبت دیکھے گا حالانکہ مَیں اسرائیل کے ساتھ بھلائی کرتا رہوں گا۔ تیرے گھر میں کبھی بھی بزرگ نہیں پایا جائے گا۔ Bx#B]n 7 چھوٹا سموایل عیلی کے زیرِ نگرانی رب کے حضور خدمت کرتا تھا۔ اُن دنوں میں رب کی طرف سے بہت کم پیغام یا رویائیں ملتی تھیں۔Qm $اُس وقت تیرے گھر کے بچے ہوئے تمام افراد اُس امام کے سامنے جھک جائیں گے اور پیسے اور روٹی مانگ کر التماس کریں گے، ’مجھے امام کی کوئی نہ کوئی ذمہ داری دیں تاکہ روٹی کا ٹکڑا مل جائے‘۔“ l #تب مَیں اپنے لئے ایک امام کھڑا کروں گا جو وفادار رہے گا۔ جو بھی میرا دل اور میری جان چاہے گی وہی وہ کرے گا۔ مَیں اُس کے گھر کی مضبوط بنیادیں رکھوں گا، اور وہ ہمیشہ تک میرے مسح کئے ہوئے خادم کے حضور آتا جاتا رہے گا۔ q6]qhqK کہ اچانک رب نے آواز دی، ”سموایل!“ سموایل نے جواب دیا، ”جی، مَیں ابھی آتا ہوں۔“ وہ بھاگ کر عیلی کے پاس گیا اور کہا، ”جی جناب، مَیں حاضر ہوں۔ آپ نے مجھے بُلایا؟“ عیلی بولا، ”نہیں، مَیں نے تمہیں نہیں بُلایا۔ واپس جا کر دوبارہ لیٹ جاؤ۔“ چنانچہ سموایل دوبارہ لیٹ گیا۔Up% سموایل بھی لیٹ گیا تھا۔ وہ رب کے مقدِس میں سو رہا تھا جہاں عہد کا صندوق پڑا تھا۔ شمع دان اب تک رب کے حضور جل رہا تھاFo ایک رات عیلی جس کی آنکھیں اِتنی کمزور ہو گئی تھیں کہ دیکھنا تقریباً ناممکن تھا معمول کے مطابق سو گیا تھا۔ sy لیکن رب نے ایک بار پھر آواز دی، ”سموایل!“ لڑکا دوبارہ اُٹھا اور عیلی کے پاس جا کر بولا، ”جی جناب، مَیں حاضر ہوں۔ آپ نے مجھے بُلایا؟“ عیلی نے جواب دیا، ”نہیں بیٹا، مَیں نے تمہیں نہیں بُلایا۔ دوبارہ سو جاؤ۔“hrK کہ اچانک رب نے آواز دی، ”سموایل!“ سموایل نے جواب دیا، ”جی، مَیں ابھی آتا ہوں۔“ وہ بھاگ کر عیلی کے پاس گیا اور کہا، ”جی جناب، مَیں حاضر ہوں۔ آپ نے مجھے بُلایا؟“ عیلی بولا، ”نہیں، مَیں نے تمہیں نہیں بُلایا۔ واپس جا کر دوبارہ لیٹ جاؤ۔“ چنانچہ سموایل دوبارہ لیٹ گیا۔ wJwIv  اِس لئے اُس نے لڑکے کو بتایا، ”اب دوبارہ لیٹ جاؤ، لیکن اگلی دفعہ جب آواز سنائی دے تو تمہیں کہنا ہے، ’اے رب، فرما۔ تیرا خادم سن رہا ہے‘۔“ سموایل ایک بار پھر اپنے بستر پر لیٹ گیا۔u چنانچہ رب نے تیسری بار آواز دی، ”سموایل!“ ایک اَور مرتبہ سموایل اُٹھ کھڑا ہوا اور عیلی کے پاس جا کر بولا، ”جی جناب، مَیں حاضر ہوں۔ آپ نے مجھے بُلایا؟“ یہ سن کر عیلی نے جان لیا کہ رب سموایل سے ہم کلام ہو رہا ہے۔2t_ اُس وقت سموایل رب کی آواز نہیں پہچان سکتا تھا، کیونکہ ابھی اُسے رب کا کوئی پیغام نہیں ملا تھا۔ Q!'QRy  اُس وقت مَیں شروع سے لے کر آخر تک وہ تمام باتیں پوری کروں گا جو مَیں نے عیلی اور اُس کے گھرانے کے بارے میں کی ہیں۔vxg  پھر رب سموایل سے ہم کلام ہوا، ”دیکھ، مَیں اسرائیل میں اِتنا ہول ناک کام کروں گا کہ جسے بھی اِس کی خبر ملے گی اُس کے کان بجنے لگیں گے۔[w1  رب آ کر وہاں کھڑا ہوا اور پہلے کی طرح پکارا، ”سموایل! سموایل!“ لڑکے نے جواب دیا، ”اے رب، فرما۔ تیرا خادم سن رہا ہے۔“ >lV>|# اِس کے بعد سموایل صبح تک اپنے بستر پر لیٹا رہا۔ پھر وہ معمول کے مطابق اُٹھا اور رب کے گھر کے دروازے کھول دیئے۔ وہ عیلی کو اپنی رویا بتانے سے ڈرتا تھا،{ مَیں نے قَسم کھائی ہے کہ عیلی کے گھرانے کا قصور نہ ذبح اور نہ غلہ کی کسی قربانی سے دُور کیا جا سکتا ہے بلکہ اِس کا کفارہ کبھی بھی نہیں دیا جا سکے گا!“z  مَیں عیلی کو آگاہ کر چکا ہوں کہ اُس کا گھرانا ہمیشہ تک میری عدالت کا نشانہ بنا رہے گا۔ کیونکہ گو اُسے صاف معلوم تھا کہ اُس کے بیٹے اپنی غلط حرکتوں سے میرا غضب اپنے آپ پر لائیں گے توبھی اُس نے اُنہیں کرنے دیا اور نہ روکا۔ ILM5 سموایل جوان ہوتا گیا، اور رب اُس کے ساتھ تھا۔ اُس نے سموایل کی ہر بات پوری ہونے دی۔{q پھر سموایل نے اُسے کھل کر سب کچھ بتا دیا اور ایک بات بھی نہ چھپائی۔ عیلی نے کہا، ”وہی رب ہے۔ جو کچھ اُس کی نظر میں ٹھیک ہے اُسے وہ کرے۔“y~m عیلی نے پوچھا، ”رب نے تمہیں کیا بتایا ہے؟ کوئی بھی بات مجھ سے مت چھپانا! اللہ تمہیں سخت سزا دے اگر تم ایک لفظ بھی مجھ سے پوشیدہ رکھو۔“3}a لیکن عیلی نے اُسے بُلا کر کہا، ”سموایل، میرے بیٹے!“ سموایل نے جواب دیا، ”جی، مَیں حاضر ہوں۔“ GY9GnW پہلے فلستیوں نے اسرائیلیوں پر حملہ کیا۔ لڑتے لڑتے اُنہوں نے اسرائیل کو شکست دی۔ تقریباً 4,000 اسرائیلی میدانِ جنگ میں ہلاک ہوئے۔  یوں سموایل کا کلام سَیلا سے نکل کر پورے اسرائیل میں پھیل گیا۔ ایک دن اسرائیل کی فلستیوں کے ساتھ جنگ چھڑ گئی۔ اسرائیلیوں نے لڑنے کے لئے نکل کر ابن عزر کے پاس اپنی لشکرگاہ لگائی جبکہ فلستیوں نے افیق کے پاس اپنے ڈیرے ڈالے۔ اگلے سالوں میں بھی رب سَیلا میں اپنے کلام سے سموایل پر ظاہر ہوتا رہا۔ #A پورے اسرائیل نے دان سے لے کر بیرسبع تک جان لیا کہ رب نے اپنے نبی سموایل کی تصدیق کی ہے۔ eE جب عہد کا صندوق لشکرگاہ میں پہنچا تو اسرائیلی نہایت خوش ہو کر بلند آواز سے نعرے لگانے لگے۔ اِتنا شور مچ گیا کہ زمین ہل گئی۔ چنانچہ عہد کا صندوق جس کے اوپر رب الافواج کروبی فرشتوں کے درمیان تخت نشین ہے سَیلا سے لایا گیا۔ عیلی کے دو بیٹے حُفنی اور فینحاس بھی ساتھ آئے۔T# فوج لشکرگاہ میں واپس آئی تو اسرائیل کے بزرگ سوچنے لگے، ”رب نے فلستیوں کو ہم پر کیوں فتح پانے دی؟ آؤ، ہم رب کے عہد کا صندوق سَیلا سے لے آئیں تاکہ وہ ہمارے ساتھ چل کر ہمیں دشمن سے بچائے۔“ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr|  $m   n  o  p  q  r  s  t  u  $m   n  o  p  q  r  s  t  u   v   w   x   y   z  {  |  }  ~                                                                                                                        v g ہم پر افسوس! کون ہمیں اِن طاقت ور دیوتاؤں سے بچائے گا؟ کیونکہ اِن ہی نے ریگستان میں مصریوں کو ہر قسم کی بلا سے مار کر ہلاک کر دیا تھا۔l S تو وہ گھبرا کر چلّائے، ”اُن کا دیوتا اُن کی لشکرگاہ میں آ گیا ہے۔ ہائے، ہمارا ستیاناس ہو گیا ہے! پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا ہے۔8k یہ سن کر فلستی چونک اُٹھے اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے، ”یہ کیسا شور ہے جو اسرائیلی لشکرگاہ میں ہو رہا ہے؟“ جب پتا چلا کہ رب کے عہد کا صندوق اسرائیلی لشکرگاہ میں آ گیا ہے H   عیلی کے دو بیٹے حُفنی اور فینحاس بھی اُسی دن ہلاک ہوئے، اور اللہ کے عہد کا صندوق فلستیوں کے قبضے میں آ گیا۔I   آپس میں ایسی باتیں کرتے کرتے فلستی لڑنے کے لئے نکلے اور اسرائیل کو شکست دی۔ ہر طرف قتل عام نظر آیا، اور 30,000 پیادے اسرائیلی کام آئے۔ باقی سب فرار ہو کر اپنے اپنے گھروں میں چھپ گئے۔| s  بھائیو، اب دلیر ہو اور مردانگی دکھاؤ، ورنہ ہم اُسی طرح عبرانیوں کے غلام بن جائیں گے جیسے وہ اب تک ہمارے غلام تھے۔ مردانگی دکھا کر لڑو!“ . .nW  عیلی سڑک کے کنارے اپنی کرسی پر بیٹھا تھا۔ وہ اب اندھا ہو چکا تھا، کیونکہ اُس کی عمر 98 سال تھی۔ وہ بڑی بےچینی سے راستے پر دھیان دے رہا تھا تاکہ جنگ کی کوئی تازہ خبر مل جائے، کیونکہ اُسے اِس بات کی بڑی فکر تھی کہ اللہ کا صندوق لشکرگاہ میں ہے۔ جب وہ آدمی شہر میں داخل ہوا اور لوگوں کو سارا ماجرا سنایا تو پورا شہر چلّانے لگا۔ جب عیلی نے شور سنا تو اُس نے پوچھا، ”یہ کیا شور ہے؟“ بن یمینی دوڑ کر عیلی کے پاس آیا اور بولا،\3  اُسی دن بن یمین کے قبیلے کا ایک آدمی میدانِ جنگ سے بھاگ کر سَیلا پہنچ گیا۔ اُس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور سر پر خاک تھی۔ nW عیلی سڑک کے کنارے اپنی کرسی پر بیٹھا تھا۔ وہ اب اندھا ہو چکا تھا، کیونکہ اُس کی عمر 98 سال تھی۔ وہ بڑی بےچینی سے راستے پر دھیان دے رہا تھا تاکہ جنگ کی کوئی تازہ خبر مل جائے، کیونکہ اُسے اِس بات کی بڑی فکر تھی کہ اللہ کا صندوق لشکرگاہ میں ہے۔ جب وہ آدمی شہر میں داخل ہوا اور لوگوں کو سارا ماجرا سنایا تو پورا شہر چلّانے لگا۔ جب عیلی نے شور سنا تو اُس نے پوچھا، ”یہ کیا شور ہے؟“ بن یمینی دوڑ کر عیلی کے پاس آیا اور بولا، [[/Y ”مَیں میدانِ جنگ سے آیا ہوں۔ آج ہی مَیں وہاں سے فرار ہوا۔“ عیلی نے پوچھا، ”بیٹا، کیا ہوا؟“nW عیلی سڑک کے کنارے اپنی کرسی پر بیٹھا تھا۔ وہ اب اندھا ہو چکا تھا، کیونکہ اُس کی عمر 98 سال تھی۔ وہ بڑی بےچینی سے راستے پر دھیان دے رہا تھا تاکہ جنگ کی کوئی تازہ خبر مل جائے، کیونکہ اُسے اِس بات کی بڑی فکر تھی کہ اللہ کا صندوق لشکرگاہ میں ہے۔ جب وہ آدمی شہر میں داخل ہوا اور لوگوں کو سارا ماجرا سنایا تو پورا شہر چلّانے لگا۔ جب عیلی نے شور سنا تو اُس نے پوچھا، ”یہ کیا شور ہے؟“ بن یمینی دوڑ کر عیلی کے پاس آیا اور بولا، { عہد کے صندوق کا ذکر سنتے ہی عیلی اپنی کرسی پر سے پیچھے کی طرف گر گیا۔ چونکہ وہ بوڑھا اور بھاری بھرکم تھا اِس لئے اُس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ وہیں مقدِس کے دروازے کے پاس ہی مر گیا۔ وہ 40 سال اسرائیل کا قاضی رہا تھا۔gI قاصد نے جواب دیا، ”اسرائیلی فلستیوں کے سامنے فرار ہوئے۔ فوج کو ہر طرف شکست ماننی پڑی، اور آپ کے دونوں بیٹے حُفنی اور فینحاس بھی مارے گئے ہیں۔ افسوس، اللہ کا صندوق بھی دشمن کے قبضے میں آ گیا ہے۔“   اُس کی جان نکلنے لگی تو دائیوں نے اُس کی حوصلہ افزائی کر کے کہا، ”ڈرو مت! تمہارے بیٹا پیدا ہوا ہے۔“ لیکن ماں نے نہ جواب دیا، نہ بات پر دھیان دیا۔q] اُس وقت عیلی کی بہو یعنی فینحاس کی بیوی کا پاؤں بھاری تھا اور بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ جب اُس نے سنا کہ اللہ کا صندوق دشمن کے ہاتھ میں آ گیا ہے اور کہ سُسر اور شوہر دونوں مر گئے ہیں تو اُسے اِتنا سخت صدمہ پہنچا کہ وہ شدید دردِ زہ میں مبتلا ہو گئی۔ وہ جھک گئی، اور بچہ پیدا ہوا۔ ^c^e G فلستی اللہ کا صندوق ابن عزر سے اشدود شہر میں لے گئے۔- کیونکہ وہ اللہ کے صندوق کے چھن جانے اور سُسر اور شوہر کی موت کے باعث نہایت بےدل ہو گئی تھی۔ اُس نے کہا، ”بیٹے کا نام یکبود یعنی ’جلال کہاں رہا‘ ہے، کیونکہ اللہ کے صندوق کے چھن جانے سے اللہ کا جلال اسرائیل سے جاتا رہا ہے۔“ - کیونکہ وہ اللہ کے صندوق کے چھن جانے اور سُسر اور شوہر کی موت کے باعث نہایت بےدل ہو گئی تھی۔ اُس نے کہا، ”بیٹے کا نام یکبود یعنی ’جلال کہاں رہا‘ ہے، کیونکہ اللہ کے صندوق کے چھن جانے سے اللہ کا جلال اسرائیل سے جاتا رہا ہے۔“ 5y5.W یہی وجہ ہے کہ آج تک دجون کا کوئی بھی پجاری یا مہمان اشدود کے مندر کی دہلیز پر قدم نہیں رکھتا۔0[ لیکن اگلے دن جب صبح سویرے آئے تو دجون دوبارہ منہ کے بل رب کے صندوق کے سامنے پڑا ہوا تھا۔ لیکن اِس مرتبہ بُت کا سر اور ہاتھ ٹوٹ کر دہلیز پر پڑے تھے۔ صرف دھڑ رہ گیا تھا۔Z/ اگلے دن صبح سویرے جب اشدود کے باشندے مندر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ دجون کا مجسمہ منہ کے بل رب کے صندوق کے سامنے ہی پڑا ہے۔ اُنہوں نے دجون کو اُٹھا کر دوبارہ اُس کی جگہ پر کھڑا کیا۔ وہاں اُنہوں نے اُسے اپنے دیوتا دجون کے مندر میں بُت کے قریب رکھ دیا۔  + اُنہوں نے تمام فلستی حکمرانوں کو اکٹھا کر کے پوچھا، ”ہم اسرائیل کے خدا کے صندوق کے ساتھ کیا کریں؟“ اُنہوں نے مشورہ دیا، ”اُسے جات شہر میں لے جائیں۔“?y جب اشدود کے لوگوں نے اِس کی وجہ جان لی تو وہ بولے، ”لازم ہے کہ اسرائیل کے خدا کا صندوق ہمارے پاس نہ رہے۔ کیونکہ اُس کا ہم پر اور ہمارے دیوتا دجون پر دباؤ ناقابلِ برداشت ہے۔“vg پھر رب نے اشدود اور گرد و نواح کے دیہاتوں پر سخت دباؤ ڈال کر باشندوں کو پریشان کر دیا۔ اُن میں اچانک اذیت ناک پھوڑوں کی وبا پھیل گئی۔ J"  تب اُنہوں نے عہد کا صندوق آگے عقرون بھیج دیا۔ لیکن صندوق ابھی پہنچنے والا تھا کہ عقرون کے باشندے چیخنے لگے، ”وہ اسرائیل کے خدا کا صندوق ہمارے پاس لائے ہیں تاکہ ہمیں ہلاک کر دیں!“$!C  لیکن جب عہد کا صندوق جات میں چھوڑا گیا تو رب کا دباؤ اُس شہر پر بھی آ گیا۔ بڑی افرا تفری پیدا ہوئی، کیونکہ چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک سب کو اذیت ناک پھوڑے نکل آئے۔ -b% A اللہ کا صندوق اب سات مہینے فلستیوں کے پاس رہا تھا۔+$Q  جو مرنے سے بچا اُسے کم از کم پھوڑے نکل آئے۔ چاروں طرف لوگوں کی چیخ پکار فضا میں بلند ہوئی۔ #;  تمام فلستی حکمرانوں کو دوبارہ بُلایا گیا، اور عقرونیوں نے تقاضا کیا کہ صندوق کو شہر سے دُور کیا جائے۔ وہ بولے، ”اِسے وہاں واپس بھیجا جائے جہاں سے آیا ہے، ورنہ یہ ہمیں بلکہ پوری قوم کو ہلاک کر ڈالے گا۔“ کیونکہ شہر پر رب کا سخت دباؤ حاوی ہو گیا تھا۔ مہلک وبا کے باعث اُس میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔ aa_'9 پجاریوں اور رمّالوں نے جواب دیا، ”اگر آپ اُسے واپس بھیجیں تو ویسے مت بھیجنا بلکہ قصور کی قربانی ساتھ بھیجنا۔ تب آپ کو شفا ملے گی، اور آپ جان لیں گے کہ وہ آپ کو سزا دینے سے کیوں نہیں باز آیا۔“8&k آخرکار اُنہوں نے اپنے تمام پجاریوں اور رمّالوں کو بُلا کر اُن سے مشورہ کیا، ”اب ہم رب کے صندوق کا کیا کریں؟ ہمیں بتائیں کہ اِسے کس طرح اِس کے اپنے ملک میں واپس بھیجیں۔“ @)7 سونے کے یہ پھوڑے اور ملک کو تباہ کرنے والے چوہے بنا کر اسرائیل کے دیوتا کا احترام کریں۔ شاید وہ یہ دیکھ کر آپ، آپ کے دیوتاؤں اور ملک کو سزا دینے سے باز آئے۔<(s فلستیوں نے پوچھا، ”ہم اُسے کس قسم کی قصور کی قربانی بھیجیں؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”فلستیوں کے پانچ حکمران ہیں، اِس لئے سونے کے پانچ پھوڑے اور پانچ چوہے بنوائیں، کیونکہ آپ سب اِس ایک ہی وبا کی زد میں آئے ہوئے ہیں، خواہ حکمران ہوں، خواہ رعایا۔ !!++ اب بَیل گاڑی بنا کر اُس کے آگے دو گائیں جوتیں۔ ایسی گائیں ہوں جن کے دودھ پینے والے بچے ہوں اور جن پر اب تک جوا نہ رکھا گیا ہو۔ گائیوں کو بَیل گاڑی کے آگے جوتیں، لیکن اُن کے بچوں کو ساتھ جانے نہ دیں بلکہ اُنہیں کہیں بند رکھیں۔?*y آپ کیوں پرانے زمانے کے مصریوں اور اُن کے بادشاہ کی طرح اَڑ جائیں؟ کیونکہ اُس وقت اللہ نے مصریوں کو اِتنی سخت مصیبت میں ڈال دیا کہ آخرکار اُنہیں اسرائیلیوں کو جانے دینا پڑا۔ CCA.}  فلستیوں نے ایسا ہی کیا۔ اُنہوں نے دو گائیں نئی بَیل گاڑی میں جوت کر اُن کے چھوٹے بچوں کو کہیں بند رکھا۔5-e  غور کریں کہ وہ کون سا راستہ اختیار کریں گی۔ اگر اسرائیل کے بیت شمس کی طرف چلیں تو پھر معلوم ہو گا کہ رب ہم پر یہ بڑی مصیبت لایا ہے۔ لیکن اگر وہ کہیں اَور چلیں تو مطلب ہو گا کہ اسرائیل کے دیوتا نے ہمیں سزا نہیں دی بلکہ سب کچھ اتفاق سے ہوا ہے۔“;,q پھر رب کا صندوق بَیل گاڑی پر رکھا جائے اور اُس کے ساتھ ایک تھیلا جس میں سونے کی وہ چیزیں ہوں جو آپ قصور کی قربانی کے طور پر بھیج رہے ہیں۔ اِس کے بعد گائیوں کو کھلا چھوڑ دیں۔ RKRB1  اُس وقت بیت شمس کے باشندے نیچے وادی میں گندم کی فصل کاٹ رہے تھے۔ عہد کا صندوق دیکھ کر وہ نہایت خوش ہوئے۔/0Y  جب گائیوں کو چھوڑ دیا گیا تو وہ ڈکراتی ڈکراتی سیدھی بیت شمس کے راستے پر آ گئیں اور نہ دائیں، نہ بائیں طرف ہٹیں۔ فلستیوں کے سردار بیت شمس کی سرحد تک اُن کے پیچھے چلے۔1/]  پھر اُنہوں نے عہد کا صندوق اُس تھیلے سمیت جس میں سونے کے چوہے اور پھوڑے تھے بَیل گاڑی پر رکھا۔ Wz4o یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد فلستی سردار اُسی دن عقرون واپس چلے گئے۔V3' لاوی کے قبیلے کے کچھ مردوں نے رب کے صندوق کو بَیل گاڑی سے اُٹھا کر سونے کی چیزوں کے تھیلے سمیت پتھر پر رکھ دیا۔ اُس دن بیت شمس کے لوگوں نے رب کو بھسم ہونے والی اور ذبح کی قربانیاں پیش کیں۔%2E بَیل گاڑی ایک کھیت تک پہنچی جس کا مالک بیت شمس کا رہنے والا یشوع تھا۔ وہاں وہ ایک بڑے پتھر کے پاس رُک گئی۔ لوگوں نے بَیل گاڑی کی لکڑی ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُسے جلا دیا اور گائیوں کو ذبح کر کے رب کو بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کیا۔ 88C7 لیکن رب نے بیت شمس کے باشندوں کو سزا دی، کیونکہ اُن میں سے بعض نے عہد کے صندوق میں نظر ڈالی تھی۔ اُس وقت 70 افراد ہلاک ہوئے۔ رب کی یہ سخت سزا دیکھ کر بیت شمس کے لوگ ماتم کرنے لگے۔k6Q اِس کے علاوہ اُنہوں نے ہر شہر اور اُس کے گرد و نواح کی آبادیوں کے لئے سونے کا ایک ایک چوہا بنا لیا تھا۔ جس بڑے پتھر پر عہد کا صندوق رکھا گیا وہ آج تک یشوع بیت شمسی کے کھیت میں اِس بات کی گواہی دیتا ہے۔5 فلستیوں نے اپنا قصور دُور کرنے کے لئے ہر ایک شہر کے لئے سونے کا ایک پھوڑا بنا لیا تھا یعنی اشدود، غزہ، اسقلون، جات اور عقرون کے لئے ایک ایک پھوڑا۔ ! : یہ سن کر قِریَت یعریم کے مرد آئے اور رب کا صندوق اپنے شہر میں لے گئے۔ وہاں اُنہوں نے اُسے ابی نداب کے گھر میں رکھ دیا جو پہاڑی پر تھا۔ ابی نداب کے بیٹے اِلی عزر کو مخصوص کیا گیا تاکہ وہ عہد کے صندوق کی پہرہ داری کرے۔}9u آخر میں اُنہوں نے قِریَت یعریم کے باشندوں کو پیغام بھیجا، ”فلستیوں نے رب کا صندوق واپس کر دیا ہے۔ اب آئیں اور اُسے اپنے پاس لے جائیں!“ [81 وہ بولے، ”کون اِس مُقدّس خدا کے حضور قائم رہ سکتا ہے؟ یہ ہمارے بس کی بات نہیں، لیکن ہم رب کا صندوق کس کے پاس بھیجیں؟“ R6=g اسرائیلیوں نے اُس کی بات مان لی۔ وہ بعل اور عستارات کے بُتوں کو پھینک کر صرف رب کی خدمت کرنے لگے۔</ پھر سموایل نے تمام اسرائیلیوں سے کہا، ”اگر آپ واقعی رب کے پاس واپس آنا چاہتے ہیں تو اجنبی معبودوں اور عستارات دیوی کے بُت دُور کر دیں۔ پورے دل کے ساتھ رب کے تابع ہو کر اُسی کی خدمت کریں۔ پھر ہی وہ آپ کو فلستیوں سے بچائے گا۔“ ; عہد کا صندوق 20 سال کے طویل عرصے تک قِریَت یعریم میں پڑا رہا۔ اِس دوران تمام اسرائیل ماتم کرتا رہا، کیونکہ لگتا تھا کہ رب نے اُنہیں ترک کر دیا ہے۔ z+cze@E فلستی حکمرانوں کو پتا چلا کہ اسرائیلی مِصفاہ میں جمع ہوئے ہیں تو وہ اُن سے لڑنے کے لئے آئے۔ یہ سن کر اسرائیلی سخت گھبرا گئےD? چنانچہ وہ سب مِصفاہ میں جمع ہوئے۔ توبہ کا اظہار کر کے اُنہوں نے کنوئیں سے پانی نکال کر رب کے حضور اُنڈیل دیا۔ ساتھ ساتھ اُنہوں نے پورا دن روزہ رکھا اور اقرار کیا، ”ہم نے رب کا گناہ کیا ہے۔“ وہاں مِصفاہ میں سموایل نے اسرائیلیوں کے لئے کچہری لگائی۔Q> تب سموایل نے اعلان کیا، ”پورے اسرائیل کو مِصفاہ میں جمع کریں تو مَیں وہاں رب سے دعا کر کے آپ کی سفارش کروں گا۔“ i.!i4Cc  سموایل ابھی قربانی پیش کر رہا تھا کہ فلستی وہاں پہنچ کر اسرائیلیوں پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوئے۔ لیکن اُس دن رب نے زور سے کڑکتی ہوئی آواز سے فلستیوں کو اِتنا دہشت زدہ کر دیا کہ وہ درہم برہم ہو گئے اور اسرائیلی آسانی سے اُنہیں شکست دے سکے۔ B  تب سموایل نے بھیڑ کا دودھ پیتا بچہ چن کر رب کو بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کیا۔ ساتھ ساتھ وہ رب سے التماس کرتا رہا۔ اور رب نے اُس کی سنی۔NA اور سموایل سے منت کی، ”دعا کرتے رہیں! رب ہمارے خدا سے التماس کرنے سے نہ رُکیں تاکہ وہ ہمیں فلستیوں سے بچائے۔“ <rF_  اِس طرح فلستیوں کو مغلوب کیا گیا، اور وہ دوبارہ اسرائیل کے علاقے میں نہ گھسے۔ جب تک سموایل جیتا رہا فلستیوں پر رب کا سخت دباؤ رہا۔PE  اِس فتح کی یاد میں سموایل نے مِصفاہ اور شین کے درمیان ایک بڑا پتھر نصب کر دیا۔ اُس نے پتھر کا نام ابن عزر یعنی ’مدد کا پتھر‘ رکھا۔ کیونکہ اُس نے کہا، ”یہاں تک رب نے ہماری مدد کی ہے۔“@D{  اسرائیلیوں نے مِصفاہ سے نکل کر بیت کار کے نیچے تک دشمن کا تعاقب کیا۔ راستے میں بہت سے فلستی ہلاک ہوئے۔ ZzXJ+ اِس کے بعد وہ دوبارہ رامہ اپنے گھر واپس آ جاتا جہاں مستقل کچہری تھی۔ وہاں اُس نے رب کے لئے قربان گاہ بھی بنائی تھی۔ \I3 ہر سال وہ بیت ایل، جِلجال اور مِصفاہ کا دورہ کرتا، کیونکہ اِن تین جگہوں پر وہ اسرائیلیوں کے لئے کچہری لگایا کرتا تھا۔fHG سموایل اپنے جیتے جی اسرائیل کا قاضی اور راہنما رہا۔9Gm اور عقرون سے لے کر جات تک جتنی اسرائیلی آبادیاں فلستیوں کے ہاتھ میں آ گئی تھیں وہ سب اُن کی زمینوں سمیت دوبارہ اسرائیل کے قبضے میں آ گئیں۔ اموریوں کے ساتھ بھی صلح ہو گئی۔ sFIO اُنہوں نے کہا، ”دیکھیں، آپ بوڑھے ہو گئے ہیں اور آپ کے بیٹے آپ کے نمونے پر نہیں چلتے۔ اب ہم پر بادشاہ مقرر کریں تاکہ وہ ہماری اُس طرح راہنمائی کرے جس طرح دیگر اقوام میں دستور ہے۔“vNg پھر اسرائیل کے بزرگ مل کر سموایل کے پاس آئے، جو رامہ میں تھا۔M لیکن وہ باپ کے نمونے پر نہیں چلتے بلکہ رشوت کھا کر غلط فیصلے کرتے تھے۔L9 بڑے کا نام یوایل تھا اور چھوٹے کا ابیاہ۔ دونوں بیرسبع میں لوگوں کی کچہری لگاتے تھے۔ K  جب سموایل بوڑھا ہوا تو اُس نے اپنے دو بیٹوں کو اسرائیل کے قاضی مقرر کیا۔ E  "-8CNYcny(3>IT_ju$/:EP[fq|                                                                                                                                                                           s0&s/SY  اُن کی بات مان لے، لیکن سنجیدگی سے اُنہیں اُن پر حکومت کرنے والے بادشاہ کے حقوق سے آگاہ کر۔“jRO جب سے مَیں اُنہیں مصر سے نکال لایا وہ مجھے چھوڑ کر دیگر معبودوں کی خدمت کرتے آئے ہیں۔ اور اب وہ تجھ سے بھی یہی سلوک کر رہے ہیں۔Q+ رب نے جواب دیا، ”جو کچھ بھی وہ تجھ سے مانگتے ہیں اُنہیں دے دے۔ اِس سے وہ تجھے رد نہیں کر رہے بلکہ مجھے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ مَیں اُن کا بادشاہ رہوں۔LP جب بزرگوں نے راہنمائی کے لئے بادشاہ کا تقاضا کیا تو سموایل نہایت ناخوش ہوا۔ چنانچہ اُس نے رب سے ہدایت مانگی۔ b0V[  کچھ اُس کی فوج کے جنرل اور کپتان بنیں گے، کچھ اُس کے کھیتوں میں ہل چلانے اور فصلیں کاٹنے پر مجبور ہو جائیں گے، اور بعض کو اُس کے ہتھیار اور رتھ کا سامان بنانا پڑے گا۔eUE  وہ بولا، ”جو بادشاہ آپ پر حکومت کرے گا اُس کے یہ حقوق ہوں گے: وہ آپ کے بیٹوں کی بھرتی کر کے اُنہیں اپنے رتھوں اور گھوڑوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری دے گا۔ اُنہیں اُس کے رتھوں کے آگے آگے دوڑنا پڑے گا۔T/  سموایل نے بادشاہ کا تقاضا کرنے والوں کو سب کچھ کہہ سنایا جو رب نے اُسے بتایا تھا۔ 7B[ وہ آپ کی بھیڑبکریوں کا دسواں حصہ طلب کرے گا، اور آپ خود اُس کے غلام ہوں گے۔Z- آپ کے نوکر نوکرانیاں، آپ کے موٹے تازے بَیل اور گدھے اُسی کے استعمال میں آئیں گے۔Y5 بادشاہ آپ کے اناج اور انگور کا دسواں حصہ لے کر اپنے افسروں اور ملازموں کو دے دے گا۔3Xa وہ آپ کے کھیتوں اور آپ کے انگور اور زیتون کے باغوں کا بہترین حصہ چن کر اپنے ملازموں کو دے دے گا۔EW  بادشاہ آپ کی بیٹیوں کو آپ سے چھین لے گا تاکہ وہ اُس کے لئے کھانا پکائیں، روٹی بنائیں اور خوشبو تیار کریں۔ kq ` رب نے جواب دیا، ”اُن کا تقاضا پورا کر، اُن پر بادشاہ مقرر کر!“ پھر سموایل نے اسرائیل کے مردوں سے کہا، ”ہر ایک اپنے اپنے شہر واپس چلا جائے۔“ N_ سموایل نے رب کے حضور یہ باتیں دہرائیں۔v^g کیونکہ پھر ہی ہم دیگر قوموں کی مانند ہوں گے۔ پھر ہمارا بادشاہ ہماری راہنمائی کرے گا اور جنگ میں ہمارے آگے آگے چل کر دشمن سے لڑے گا۔“]- لیکن لوگوں نے سموایل کی بات نہ مانی بلکہ کہا، ”نہیں، توبھی ہم بادشاہ چاہتے ہیں،t\c تب آپ پچھتا کر کہیں گے، ’ہم نے بادشاہ کا تقاضا کیوں کیا؟‘ لیکن جب آپ رب کے حضور چیختے چلّاتے مدد چاہیں گے تو وہ آپ کی نہیں سنے گا۔“ c{ ایک دن ساؤل کے باپ قیس کی گدھیاں گم ہو گئیں۔ یہ دیکھ کر اُس نے اپنے بیٹے ساؤل کو حکم دیا، ”نوکر کو اپنے ساتھ لے کر گدھیوں کو ڈھونڈ لائیں۔“,bS قیس کا بیٹا ساؤل جوان اور خوب صورت تھا بلکہ اسرائیل میں کوئی اَور اِتنا خوب صورت نہیں تھا۔ ساتھ ساتھ وہ اِتنا لمبا تھا کہ باقی سب لوگ صرف اُس کے کندھوں تک آتے تھے۔~a y بن یمین کے قبائلی علاقے میں ایک بن یمینی بنام قیس رہتا تھا جس کا اچھا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ باپ کا نام ابی ایل بن صرور بن بکورت بن افیخ تھا۔ sqszeo چلتے چلتے وہ صوف کے قریب پہنچ گئے۔ ساؤل نے نوکر سے کہا، ”آؤ، ہم گھر واپس چلیں، ایسا نہ ہو کہ والد گدھیوں کی نہیں بلکہ ہماری فکر کریں۔“ d دونوں آدمی افرائیم کے پہاڑی علاقے اور سلیسہ کے علاقے میں سے گزرے، لیکن بےسود۔ پھر اُنہوں نے سعلیم کے علاقے میں کھوج لگایا، لیکن وہاں بھی گدھیاں نہ ملیں۔ اِس کے بعد وہ بن یمین کے علاقے میں گھومتے پھرے، لیکن بےفائدہ۔ qh] نوکر نے جواب دیا، ”کوئی بات نہیں، میرے پاس چاندی کا چھوٹا سکہ ہے۔ یہ مَیں مردِ خدا کو دے دوں گا تاکہ بتائے کہ ہم کس طرف ڈھونڈیں۔“Eg ساؤل نے پوچھا، ”لیکن ہم اُسے کیا دیں؟ ہمارا کھانا ختم ہو گیا ہے، اور ہمارے پاس اُس کے لئے تحفہ نہیں ہے۔“{fq لیکن نوکر نے کہا، ”اِس شہر میں ایک مردِ خدا ہے۔ لوگ اُس کی بڑی عزت کرتے ہیں، کیونکہ جو کچھ بھی وہ کہتا ہے وہ پورا ہو جاتا ہے۔ کیوں نہ ہم اُس کے پاس جائیں؟ شاید وہ ہمیں بتائے کہ گدھیوں کو کہاں ڈھونڈنا چاہئے۔“ Ri ساؤل نے کہا، ”ٹھیک ہے، چلیں۔“ وہ شہر کی طرف چل پڑے تاکہ مردِ خدا سے بات کریں۔ جب پہاڑی ڈھلان پر شہر کی طرف چڑھ رہے تھے تو کچھ لڑکیاں پانی بھرنے کے لئے نکلیں۔ آدمیوں نے اُن سے پوچھا، ”کیا غیب بین شہر میں ہے؟“ (پرانے زمانے میں نبی غیب بین کہلاتا تھا۔ اگر کوئی اللہ سے کچھ معلوم کرنا چاہتا تو کہتا، ”آؤ، ہم غیب بین کے پاس چلیں۔“) Rj ساؤل نے کہا، ”ٹھیک ہے، چلیں۔“ وہ شہر کی طرف چل پڑے تاکہ مردِ خدا سے بات کریں۔ جب پہاڑی ڈھلان پر شہر کی طرف چڑھ رہے تھے تو کچھ لڑکیاں پانی بھرنے کے لئے نکلیں۔ آدمیوں نے اُن سے پوچھا، ”کیا غیب بین شہر میں ہے؟“ (پرانے زمانے میں نبی غیب بین کہلاتا تھا۔ اگر کوئی اللہ سے کچھ معلوم کرنا چاہتا تو کہتا، ”آؤ، ہم غیب بین کے پاس چلیں۔“) Rk ساؤل نے کہا، ”ٹھیک ہے، چلیں۔“ وہ شہر کی طرف چل پڑے تاکہ مردِ خدا سے بات کریں۔ جب پہاڑی ڈھلان پر شہر کی طرف چڑھ رہے تھے تو کچھ لڑکیاں پانی بھرنے کے لئے نکلیں۔ آدمیوں نے اُن سے پوچھا، ”کیا غیب بین شہر میں ہے؟“ (پرانے زمانے میں نبی غیب بین کہلاتا تھا۔ اگر کوئی اللہ سے کچھ معلوم کرنا چاہتا تو کہتا، ”آؤ، ہم غیب بین کے پاس چلیں۔“) UU'lI لڑکیوں نے جواب دیا، ”جی، وہ ابھی ابھی پہنچا ہے، کیونکہ شہر کے لوگ آج پہاڑی پر قربانیاں چڑھا کر عید منا رہے ہیں۔ اگر جلدی کریں تو پہاڑی پر چڑھنے سے پہلے اُس سے ملاقات ہو جائے گی۔ اُس وقت تک ضیافت شروع نہیں ہو گی جب تک غیب بین پہنچ نہ جائے۔ کیونکہ اُسے پہلے کھانے کو برکت دینا ہے، پھر ہی مہمانوں کو کھانا کھانے کی اجازت ہے۔ اب جائیں، کیونکہ اِسی وقت آپ اُس سے بات کر سکتے ہیں۔“ XUXynm چنانچہ ساؤل اور نوکر شہر کی طرف بڑھے۔ شہر کے دروازے پر ہی سموایل سے ملاقات ہو گئی جو وہاں سے نکل کر قربان گاہ کی پہاڑی پر چڑھنے کو تھا۔'mI لڑکیوں نے جواب دیا، ”جی، وہ ابھی ابھی پہنچا ہے، کیونکہ شہر کے لوگ آج پہاڑی پر قربانیاں چڑھا کر عید منا رہے ہیں۔ اگر جلدی کریں تو پہاڑی پر چڑھنے سے پہلے اُس سے ملاقات ہو جائے گی۔ اُس وقت تک ضیافت شروع نہیں ہو گی جب تک غیب بین پہنچ نہ جائے۔ کیونکہ اُسے پہلے کھانے کو برکت دینا ہے، پھر ہی مہمانوں کو کھانا کھانے کی اجازت ہے۔ اب جائیں، کیونکہ اِسی وقت آپ اُس سے بات کر سکتے ہیں۔“ 6qg اب جب سموایل نے شہر کے دروازے سے نکلتے ہوئے ساؤل کو دیکھا تو رب سموایل سے ہم کلام ہوا، ”دیکھ، یہی وہ آدمی ہے جس کا ذکر مَیں نے کل کیا تھا۔ یہی میری قوم پر حکومت کرے گا۔“Ip ”کل مَیں اِسی وقت ملکِ بن یمین کا ایک آدمی تیرے پاس بھیج دوں گا۔ اُسے مسح کر کے میری قوم اسرائیل پر بادشاہ مقرر کر۔ وہ میری قوم کو فلستیوں سے بچائے گا۔ کیونکہ مَیں نے اپنی قوم کی مصیبت پر دھیان دیا ہے، اور مدد کے لئے اُس کی چیخیں مجھ تک پہنچ گئی ہیں۔“To# رب سموایل کو ایک دن پہلے پیغام دے چکا تھا، :t جہاں تک تین دن سے گم شدہ گدھیوں کا تعلق ہے، اُن کی فکر نہ کریں۔ وہ تو مل گئی ہیں۔ ویسے آپ اور آپ کے باپ کے گھرانے کو اسرائیل کی ہر قیمتی چیز حاصل ہے۔“5se سموایل نے جواب دیا، ”مَیں ہی غیب بین ہوں۔ آئیں، اُس پہاڑی پر چلیں جس پر ضیافت ہو رہی ہے، کیونکہ آج آپ میرے مہمان ہیں۔ کل مَیں صبح سویرے آپ کو آپ کے دل کی بات بتا دوں گا۔Br وہیں شہر کے دروازے پر ساؤل سموایل سے مخاطب ہوا، ”مہربانی کر کے مجھے بتائیے کہ غیب بین کا گھر کہاں ہے؟“ ++Fw خانسامے کو اُس نے حکم دیا، ”اب گوشت کا وہ ٹکڑا لے آؤ جو مَیں نے تمہیں دے کر کہا تھا کہ اُسے الگ رکھنا ہے۔“v7 سموایل ساؤل کو نوکر سمیت اُس ہال میں لے گیا جس میں ضیافت ہو رہی تھی۔ تقریباً 30 مہمان تھے، لیکن سموایل نے دونوں آدمیوں کو سب سے عزت والی کرسیوں پر بٹھا دیا۔euE ساؤل نے پوچھا، ”یہ کس طرح؟ مَیں تو اسرائیل کے سب سے چھوٹے قبیلے بن یمین کا ہوں، اور میرا خاندان قبیلے میں سب سے چھوٹا ہے۔“ >#a>z9 اگلے دن جب پَو پھٹنے لگی تو سموایل نے نیچے سے ساؤل کو جو چھت پر سو رہا تھا آواز دی، ”اُٹھیں! مَیں آپ کو رُخصت کروں۔“ ساؤل جاگ اُٹھا اور وہ مل کر روانہ ہوئے۔>yw ضیافت کے بعد وہ پہاڑی سے اُتر کر شہر واپس آئے، اور سموایل اپنے گھر کی چھت پر ساؤل سے بات چیت کرنے لگا۔Yx- خانسامے نے قربانی کی ران لا کر اُسے ساؤل کے سامنے رکھ دیا۔ سموایل بولا، ”یہ آپ کے لئے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اب کھائیں، کیونکہ دوسروں کو دعوت دیتے وقت مَیں نے یہ گوشت آپ کے لئے اور اِس موقع کے لئے الگ کر لیا تھا۔“ چنانچہ ساؤل نے اُس دن سموایل کے ساتھ کھانا کھایا۔ | { پھر سموایل نے کُپّی لے کر ساؤل کے سر پر زیتون کا تیل اُنڈیل دیا اور اُسے بوسہ دے کر کہا، ”رب نے آپ کو اپنی خاص ملکیت پر راہنما مقرر کیا ہے۔C{ جب وہ شہر کے کنارے پر پہنچے تو سموایل نے ساؤل سے کہا، ”اپنے نوکر کو آگے بھیجیں۔“ جب نوکر چلا گیا تو سموایل بولا، ”ٹھہر جائیں، کیونکہ مجھے آپ کو اللہ کا ایک پیغام سنانا ہے۔“ FF ~ آپ آگے جا کر تبور کے بلوط کے درخت کے پاس پہنچیں گے۔ وہاں تین آدمی آپ سے ملیں گے جو اللہ کی عبادت کرنے کے لئے بیت ایل جا رہے ہوں گے۔ ایک کے پاس تین چھوٹی بکریاں، دوسرے کے پاس تین روٹیاں اور تیسرے کے پاس مَے کی مشک ہو گی۔'}I میرے پاس سے چلے جانے کے بعد جب آپ بن یمین کی سرحد کے شہر ضلضخ کے قریب راخل کی قبر کے پاس سے گزریں گے تو آپ کی ملاقات دو آدمیوں سے ہو گی۔ وہ آپ سے کہیں گے، ’جو گدھیاں آپ ڈھونڈنے گئے وہ مل گئی ہیں۔ اور اب آپ کے باپ گدھیوں کی نہیں بلکہ آپ کی فکر کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مَیں کس طرح اپنے بیٹے کا پتا کروں؟‘ E رب کا روح آپ پر بھی نازل ہو گا، اور آپ اُن کے ساتھ نبوّت کریں گے۔ اُس وقت آپ فرق شخص میں تبدیل ہو جائیں گے۔dC اِس کے بعد آپ اللہ کے جِبعہ جائیں گے جہاں فلستیوں کی چوکی ہے۔ شہر میں داخل ہوتے وقت آپ کی ملاقات نبیوں کے ایک جلوس سے ہو گی جو اُس وقت پہاڑی کی قربان گاہ سے اُتر رہا ہو گا۔ اُن کے آگے آگے ستار، دف، بانسریاں اور سرود بجانے والے چلیں گے، اور وہ نبوّت کی حالت میں ہوں گے۔~w وہ آپ کو سلام کہہ کر دو روٹیاں دیں گے۔ اُن کی یہ روٹیاں قبول کریں۔ @ ساؤل روانہ ہونے کے لئے سموایل کے پاس سے مُڑا تو اللہ نے اُس کا دل تبدیل کر دیا۔ جن بھی نشانوں کی پیش گوئی سموایل نے کی تھی وہ اُسی دن پوری ہوئی۔hK پھر میرے آگے جِلجال چلے جائیں۔ مَیں بھی آؤں گا اور وہاں بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں پیش کروں گا۔ لیکن آپ کو سات دن میرا انتظار کرنا ہے۔ پھر مَیں آ کر آپ کو بتا دوں گا کہ آگے کیا کرنا ہے۔“<s جب یہ تمام نشان وجود میں آئیں گے تو وہ کچھ کریں جو آپ کے ذہن میں آ جائے، کیونکہ اللہ آپ کے ساتھ ہو گا۔ |~w نبوّت کرنے کے اختتام پر ساؤل پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں قربان گاہ تھی۔cA ایک مقامی آدمی نے جواب دیا، ”کون اِن کا باپ ہے؟“ بعد میں یہ محاورہ بن گیا، ”کیا ساؤل کو بھی نبیوں میں شمار کیا جاتا ہے؟“`; کچھ لوگ وہاں تھے جو بچپن سے اُس سے واقف تھے۔ ساؤل کو یوں نبیوں کے درمیان نبوّت کرتے ہوئے دیکھ کر وہ آپس میں کہنے لگے، ”قیس کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا ساؤل کو بھی نبیوں میں شمار کیا جاتا ہے؟“3 جب ساؤل اور اُس کا نوکر جِبعہ پہنچے تو وہاں اُن کی ملاقات مذکورہ نبیوں کے جلوس سے ہوئی۔ اللہ کا روح ساؤل پر نازل ہوا، اور وہ اُن کے درمیان نبوّت کرنے لگا۔ ^X  کچھ دیر کے بعد سموایل نے عوام کو بُلا کر مِصفاہ میں رب کے حضور جمع کیا۔  ساؤل نے جواب دیا، ”خیر، اُس نے کہا کہ گدھیاں مل گئی ہیں۔“ لیکن جو کچھ سموایل نے بادشاہ بننے کے بارے میں بتایا تھا اُس کا ذکر اُس نے نہ کیا۔U % چچا بولا، ”اچھا؟ اُس نے آپ کو کیا بتایا؟“F  جب ساؤل نوکر سمیت وہاں پہنچا تو اُس کے چچا نے پوچھا، ”آپ کہاں تھے؟“ ساؤل نے جواب دیا، ”ہم گم شدہ گدھیوں کو ڈھونڈنے کے لئے نکلے تھے۔ لیکن جب وہ نہ ملیں تو ہم سموایل کے پاس گئے۔“ u3u:o یہ کہہ کر سموایل نے تمام قبیلوں کو رب کے حضور پیش کیا۔ قرعہ ڈالا گیا تو بن یمین کے قبیلے کو چنا گیا۔(K لیکن گو مَیں نے تمہیں تمہاری تمام مصیبتوں اور تنگیوں سے چھٹکارا دیا توبھی تم نے اپنے خدا کو مسترد کر دیا۔ کیونکہ تم نے اصرار کیا کہ ہم پر بادشاہ مقرر کرو! اب اپنے اپنے قبیلوں اور خاندانوں کی ترتیب کے مطابق رب کے حضور کھڑے ہو جاؤ‘۔“ 5 اُس نے کہا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’مَیں اسرائیل کو مصر سے نکال لایا۔ مَیں نے تمہیں مصریوں اور اُن تمام سلطنتوں سے بچایا جو تم پر ظلم کر رہی تھیں۔  کچھ لوگ دوڑ کر اُسے سامان میں سے نکال کر عوام کے پاس لے آئے۔ جب وہ لوگوں میں کھڑا ہوا تو اِتنا لمبا تھا کہ باقی سب لوگ صرف اُس کے کندھوں تک آتے تھے۔J اُنہوں نے رب سے دریافت کیا، ”کیا ساؤل یہاں پہنچ چکا ہے؟“ رب نے جواب دیا، ”وہ سامان کے بیچ میں چھپ گیا ہے۔“R پھر سموایل نے بن یمین کے قبیلے کے سارے خاندانوں کو رب کے حضور پیش کیا۔ مطری کے خاندان کو چنا گیا۔ یوں قرعہ ڈالتے ڈالتے ساؤل بن قیس کو چنا گیا۔ لیکن جب ساؤل کو ڈھونڈا گیا تو وہ غائب تھا۔ E  "-7BMXcny)4?JU_ju$/:EP[fq|                                                                                                       !  "  #  $  %   &  '  (  )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8  9  :  ;  <  = &&?y ساؤل بھی اپنے گھر چلا گیا جو جِبعہ میں تھا۔ کچھ فوجی اُس کے ساتھ چلے جن کے دلوں کو اللہ نے چھو دیا تھا۔ سموایل نے بادشاہ کے حقوق تفصیل سے سنائے۔ اُس نے سب کچھ کتاب میں لکھ دیا اور اُسے رب کے مقدِس میں محفوظ رکھا۔ پھر اُس نے عوام کو رُخصت کر دیا۔  سموایل نے کہا، ”یہ آدمی دیکھو جسے رب نے چن لیا ہے۔ عوام میں اُس جیسا کوئی نہیں ہے!“ تمام لوگ خوشی کے مارے ”بادشاہ زندہ باد!“ کا نعرہ لگاتے رہے۔ Ng$NR ناحس نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، لیکن اِس شرط پر کہ مَیں ہر ایک کی دہنی آنکھ نکال کر تمام اسرائیل کی بےعزتی کروں گا!“? { کچھ دیر کے بعد عمونی بادشاہ ناحس نے اپنی فوج لے کر یبیس جِلعاد کا محاصرہ کیا۔ یبیس کے تمام افراد نے اُس سے گزارش کی، ”ہمارے ساتھ معاہدہ کریں تو ہم آئندہ آپ کے تابع رہیں گے۔“% لیکن ایسے شریر لوگ بھی تھے جنہوں نے اُس کا مذاق اُڑا کر پوچھا، ”بھلا یہ کس طرح ہمیں بچا سکتا ہے؟“ وہ اُسے حقیر جانتے تھے اور اُسے تحفے پیش کرنے کے لئے بھی تیار نہ ہوئے۔ لیکن ساؤل اُن کی باتیں نظرانداز کر کے خاموش ہی رہا۔ ddiM تب ساؤل پر اللہ کا روح نازل ہوا، اور اُسے سخت غصہ آیا۔}u اُس وقت ساؤل اپنے بَیلوں کو کھیتوں سے واپس لا رہا تھا۔ اُس نے پوچھا، ”کیا ہوا ہے؟ لوگ کیوں رو رہے ہیں؟“ اُسے قاصدوں کا پیغام سنایا گیا۔F قاصد ساؤل کے شہر جِبعہ بھی پہنچ گئے۔ جب مقامی لوگوں نے اُن کا پیغام سنا تو پورا شہر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔a= یبیس کے بزرگوں نے درخواست کی، ”ہمیں ایک ہفتے کی مہلت دیجئے تاکہ ہم اپنے قاصدوں کو اسرائیل کی ہر جگہ بھیجیں۔ اگر کوئی ہمیں بچانے کے لئے نہ آئے تو ہم ہتھیار ڈال کر شہر کو آپ کے حوالے کر دیں گے۔“ #A بزق کے قریب ساؤل نے فوج کا جائزہ لیا۔ یہوداہ کے 30,000 افراد تھے اور باقی قبیلوں کے 3,00,000۔|s اُس نے بَیلوں کا جوڑا لے کر اُنہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ پھر قاصدوں کو یہ ٹکڑے پکڑا کر اُس نے اُنہیں یہ پیغام دے کر اسرائیل کی ہر جگہ بھیج دیا، ”جو ساؤل اور سموایل کے پیچھے چل کر عمونیوں سے لڑنے نہیں جائے گا اُس کے بَیل اِسی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں گے!“ یہ خبر سن کر لوگوں پر رب کی دہشت طاری ہو گئی، اور سب کے سب ایک دل ہو کر عمونیوں سے لڑنے کے لئے نکلے۔ ;;Y!- اگلے دن صبح سویرے ساؤل نے فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے پہلے اُنہوں نے تین سمتوں سے دشمن کی لشکرگاہ پر حملہ کیا۔ دوپہر تک اُنہوں نے عمونیوں کو مار مار کر ختم کر دیا۔ جو تھوڑے بہت لوگ بچ گئے وہ یوں تتر بتر ہو گئے کہ دو بھی اکٹھے نہ رہے۔V ' اُنہوں نے عمونیوں کو اطلاع دی، ”کل ہم ہتھیار ڈال کر شہر کے دروازے کھول دیں گے۔ پھر وہ کچھ کریں جو آپ کو ٹھیک لگے۔“  اُنہوں نے یبیس جِلعاد کے قاصدوں کو واپس بھیج کر بتایا، ”کل دوپہر سے پہلے پہلے آپ کو بچا لیا جائے گا۔“ وہاں کے باشندے یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئے۔ $$8$k پھر سموایل نے اعلان کیا، ”آؤ، ہم جِلجال جا کر دوبارہ اِس کی تصدیق کریں کہ ساؤل ہمارا بادشاہ ہے۔“ # لیکن ساؤل نے اُنہیں روک دیا۔ اُس نے کہا، ”نہیں، آج تو ہم کسی بھی بھائی کو سزائے موت نہیں دیں گے، کیونکہ اِس دن رب نے اسرائیل کو رِہائی بخشی ہے!“ " فتح کے بعد لوگ سموایل کے پاس آ کر کہنے لگے، ”وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے اعتراض کیا کہ ساؤل ہم پر حکومت کرے؟ اُنہیں لے آئیں تاکہ ہم اُنہیں مار دیں۔“ #`'; اب یہی آپ کے آگے آگے چل کر آپ کی راہنمائی کرے گا۔ مَیں خود بوڑھا ہوں، اور میرے بال سفید ہو گئے ہیں جبکہ میرے بیٹے آپ کے درمیان ہی رہتے ہیں۔ مَیں جوانی سے لے کر آج تک آپ کی راہنمائی کرتا آیا ہوں۔+& S تب سموایل تمام اسرائیل سے مخاطب ہوا، ”مَیں نے آپ کی ہر بات مان کر آپ پر بادشاہ مقرر کیا ہے۔*%O چنانچہ تمام لوگوں نے جِلجال جا کر رب کے حضور اِس کی تصدیق کی کہ ساؤل ہمارا بادشاہ ہے۔ اِس کے بعد اُنہوں نے رب کے حضور سلامتی کی قربانیاں پیش کر کے بڑا جشن منایا۔ E) اجتماع نے جواب دیا، ”نہ آپ نے ہم سے غلط فائدہ اُٹھایا، نہ ہم پر ظلم کیا ہے۔ آپ نے کبھی بھی رشوت نہیں لی۔“D( اب مَیں حاضر ہوں۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو رب اور اُس کے مسح کئے ہوئے بادشاہ کے سامنے اِس کی گواہی دیں۔ کیا مَیں نے کسی کا بَیل یا گدھا لُوٹ لیا؟ کیا مَیں نے کسی سے غلط فائدہ اُٹھایا یا کسی پر ظلم کیا؟ کیا مَیں نے کبھی کسی سے رشوت لے کر غلط فیصلہ کیا ہے؟ اگر ایسا ہوا تو مجھے بتائیں! پھر مَیں سب کچھ واپس کر دوں گا۔“ &$&z,o اب یہاں رب کے تختِ عدالت کے سامنے کھڑے ہو جائیں تو مَیں آپ کو اُن تمام بھلائیوں کی یاد دلاؤں گا جو رب نے آپ اور آپ کے باپ دادا سے کی ہیں۔R+ سموایل نے بات جاری رکھی، ”رب خود موسیٰ اور ہارون کو اسرائیل کے راہنما بنا کر آپ کے باپ دادا کو مصر سے نکال لایا۔* سموایل بولا، ”آج رب اور اُس کا مسح کیا ہوا بادشاہ گواہ ہیں کہ آپ کو مجھ پر الزام لگانے کا کوئی سبب نہ ملا۔“ عوام نے کہا، ”جی، ایسا ہی ہے۔“ VV:.o لیکن جلد ہی وہ رب اپنے خدا کو بھول گئے، اِس لئے اُس نے اُنہیں دشمن کے حوالے کر دیا۔ کبھی حصور شہر کے بادشاہ کا کمانڈر سیسرا اُن سے لڑا، کبھی فلستی اور کبھی موآب کا بادشاہ۔h-K آپ کا باپ یعقوب مصر آیا۔ جب مصری اُس کی اولاد کو دبانے لگے تو اُنہوں نے چیختے چلّاتے رب سے مدد مانگی۔ تب اُس نے موسیٰ اور ہارون کو بھیج دیا تاکہ وہ پوری قوم کو مصر سے نکال کر یہاں اِس ملک میں لائیں۔ mg0I اور ہر بار رب نے کسی نہ کسی کو بھیج دیا، کبھی جدعون، کبھی برق، کبھی اِفتاح اور کبھی سموایل کو۔ اُن آدمیوں کی معرفت اللہ نے آپ کو ارد گرد کے تمام دشمنوں سے بچایا، اور ملک میں امن و امان قائم ہو گیا۔/ ہر دفعہ آپ کے باپ دادا نے چیختے چلّاتے رب سے مدد مانگی اور اقرار کیا، ’ہم نے گناہ کیا ہے، کیونکہ ہم نے رب کو ترک کر کے بعل اور عستارات کے بُتوں کی پوجا کی ہے۔ لیکن اب ہمیں دشمنوں سے بچا! پھر ہم صرف تیری ہی خدمت کریں گے۔‘ 83k چنانچہ رب کا خوف مانیں، اُس کی خدمت کریں اور اُس کی سنیں۔ سرکش ہو کر اُس کے احکام کی خلاف ورزی مت کرنا۔ اگر آپ اور آپ کا بادشاہ رب سے وفادار رہیں گے تو وہ آپ کے ساتھ ہو گا۔,2S اب وہ بادشاہ دیکھیں جسے آپ مانگ رہے تھے! رب نے آپ کی خواہش پوری کر کے اُسے آپ پر مقرر کیا ہے۔=1u لیکن جب عمونی بادشاہ ناحس آپ سے لڑنے آیا تو آپ میرے پاس آ کر تقاضا کرنے لگے کہ ہمارا اپنا بادشاہ ہو جو ہم پر حکومت کرے، حالانکہ آپ جانتے تھے کہ رب ہمارا خدا ہمارا بادشاہ ہے۔ >|6s اِس وقت گندم کی کٹائی کا موسم ہے۔ گو اِن دنوں میں بارش نہیں ہوتی، لیکن مَیں دعا کروں گا تو رب گرجتے بادل اور بارش بھیجے گا۔ تب آپ جان لیں گے کہ آپ نے بادشاہ کا تقاضا کرتے ہوئے رب کے نزدیک کتنی بُری بات کی ہے۔“(5K اب کھڑے ہو کر دیکھیں کہ رب کیا کرنے والا ہے۔ وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہی بڑا معجزہ کرے گا۔4 لیکن اگر آپ اُس کے تابع نہ رہیں اور سرکش ہو کر اُس کے احکام کی خلاف ورزی کریں تو وہ آپ کی مخالفت کرے گا، جس طرح اُس نے آپ کے باپ دادا کی بھی مخالفت کی۔ 91 سموایل نے لوگوں کو تسلی دے کر کہا، ”مت ڈریں۔ بےشک آپ سے غلطی ہوئی ہے، لیکن آئندہ خیال رکھیں کہ آپ رب سے دُور نہ ہو جائیں بلکہ پورے دل سے اُس کی خدمت کریں۔%8E سب نے سموایل سے التماس کی، ”رب اپنے خدا سے دعا کر کے ہماری سفارش کریں تاکہ ہم مر نہ جائیں۔ کیونکہ بادشاہ کا تقاضا کرنے سے ہم نے اپنے گناہوں میں اضافہ کیا ہے۔“x7k سموایل نے پکار کر رب سے دعا کی، اور اُس دن رب نے گرجتے بادل اور بارش بھیج دی۔ یہ دیکھ کر اجتماع سخت گھبرا کر سموایل اور رب سے ڈرنے لگا۔ e8tOef=G لیکن دھیان سے رب کا خوف مانیں اور پورے دل اور وفاداری سے اُس کی خدمت کریں۔ یاد رہے کہ اُس نے آپ کے لئے کتنے عظیم کام کئے ہیں۔!<= جہاں تک میرا تعلق ہے، مَیں اِس میں رب کا گناہ نہیں کروں گا کہ آپ کی سفارش کرنے سے باز آؤں۔ اور آئندہ بھی مَیں آپ کو اچھے اور صحیح راستے کی تعلیم دیتا رہوں گا۔@;{ رب اپنے عظیم نام کی خاطر اپنی قوم کو نہیں چھوڑے گا، کیونکہ اُس نے آپ کو اپنی قوم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔D: بےمعنی بُتوں کے پیچھے مت پڑنا۔ نہ وہ فائدے کا باعث ہیں، نہ آپ کو بچا سکتے ہیں۔ اُن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ .W.2@_ اُس نے اپنی فوج کے لئے 3,000 اسرائیلی چن لئے۔ جنگ لڑنے کے قابل باقی آدمیوں کو اُس نے فارغ کر دیا۔ 2,000 فوجیوں کی ڈیوٹی مِکماس اور بیت ایل کے پہاڑی علاقے میں لگائی گئی جہاں ساؤل خود تھا۔ باقی 1,000 افراد یونتن کے پاس بن یمین کے شہر جِبعہ میں تھے۔p? ] ساؤل 30 سال کا تھا جب تخت نشین ہوا۔ دو سال حکومت کرنے کے بعد%>E لیکن اگر آپ غلط کام کرنے پر تُلے رہیں تو آپ اپنے بادشاہ سمیت دنیا میں سے مٹ جائیں گے۔“ nBW تمام اسرائیل میں خبر پھیل گئی، ”ساؤل نے جِبعہ کی فلستی چوکی کو تباہ کر دیا ہے، اور اب اسرائیل فلستیوں کی خاص نفرت کا نشانہ بن گیا ہے۔“ ساؤل نے تمام مردوں کو فلستیوں سے لڑنے کے لئے جِلجال میں بُلایا۔|As ایک دن یونتن نے جِبعہ کی فلستی چوکی پر حملہ کر کے اُسے شکست دی۔ جلد ہی یہ خبر دوسرے فلستیوں تک پہنچ گئی۔ ساؤل نے ملک کے کونے کونے میں قاصد بھیج دیئے، اور وہ نرسنگا بجاتے بجاتے لوگوں کو یونتن کی فتح سناتے گئے۔ T?Ey کچھ اِتنے ڈر گئے کہ وہ دریائے یردن کو پار کر کے جد اور جِلعاد کے علاقے میں چلے گئے۔ ساؤل اب تک جِلجال میں تھا، لیکن جو آدمی اُس کے ساتھ رہے تھے وہ خوف کے مارے تھرتھرا رہے تھے۔ZD/ اسرائیلیوں نے دیکھا کہ ہم بڑے خطرے میں آ گئے ہیں، اور دشمن ہم پر بہت دباؤ ڈال رہا ہے تو پریشانی کے عالم میں کچھ غاروں اور دراڑوں میں اور کچھ پتھروں کے درمیان یا قبروں اور حوضوں میں چھپ گئے۔JC فلستی بھی اسرائیلیوں سے لڑنے کے لئے جمع ہوئے۔ اُن کے 30,000 رتھ، 6,000 گھڑسوار اور ساحل کی ریت جیسے بےشمار پیادہ فوجی تھے۔ اُنہوں نے بیت آون کے مشرق میں مِکماس کے قریب اپنے خیمے لگائے۔ wQw%IE لیکن سموایل نے پوچھا، ”آپ نے کیا کِیا؟“ ساؤل نے جواب دیا، ”لوگ منتشر ہو رہے تھے، اور آپ وقت پر نہ آئے۔ جب مَیں نے دیکھا کہ فلستی مِکماس کے قریب جمع ہو رہے ہیں-HU وہ ابھی اِس کام سے فارغ ہی ہوا تھا کہ سموایل پہنچ گیا۔ ساؤل اُسے خوش آمدید کہنے کے لئے نکلا۔=Gu تو ساؤل نے حکم دیا، ”بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں لے آؤ۔“ پھر اُس نے خود قربانیاں پیش کیں۔jFO سموایل نے ساؤل کو ہدایت دی تھی کہ سات دن میرا انتظار کریں۔ لیکن سات دن گزر گئے، اور سموایل نہ آیا۔ ساؤل کے فوجی منتشر ہونے لگے __5Le لیکن اب آپ کی بادشاہت قائم نہیں رہے گی۔ چونکہ آپ نے اُس کی نہ سنی اِس لئے رب نے کسی اَور کو چن کر اپنی قوم کا راہنما مقرر کیا ہے، ایک ایسے آدمی کو جو اُس کی سوچ رکھے گا۔“ K سموایل بولا، ”یہ کیسی احمقانہ حرکت تھی! آپ نے رب اپنے خدا کا حکم نہ مانا۔ رب تو آپ اور آپ کی اولاد کو ہمیشہ کے لئے اسرائیل پر مقرر کرنا چاہتا تھا۔SJ! تو مَیں نے سوچا، ’فلستی یہاں جِلجال میں آ کر مجھ پر حملہ کرنے کو ہیں، حالانکہ مَیں نے ابھی رب سے دعا نہیں کی کہ وہ ہم پر مہربانی کرے۔‘ اِس لئے مَیں نے جرٲت کر کے خود قربانیاں پیش کیں۔“ b.bHP دوسرا بیت حورون کی طرف اور تیسرا اُس پہاڑی سلسلے کی طرف جہاں سے وادیِ ضبوعیم اور ریگستان دیکھا جا سکتا ہے۔IO کچھ دیر کے بعد فلستیوں کے تین دستے ملک کو لُوٹنے کے لئے نکلے۔ ایک سُعال کے علاقے کے شہر عُفرہ کی طرف چل پڑا،4Nc ساؤل، یونتن اور اُن کی فوج بن یمین کے شہر جِبعہ میں ٹک گئے جبکہ فلستی مِکماس کے پاس خیمہ زن تھے۔IM پھر سموایل جِلجال سے چلا گیا۔ بچے ہوئے اسرائیلی ساؤل کے پیچھے دشمن سے لڑنے گئے۔ وہ جِلجال سے روانہ ہو کر جِبعہ پہنچ گئے۔ جب ساؤل نے وہاں فوج کا جائزہ لیا تو بس 600 افراد رہ گئے تھے۔ :#O\:xUk فلستیوں نے مِکماس کے درے پر قبضہ کر کے وہاں چوکی قائم کی تھی۔ #TA نتیجے میں اُس دن ساؤل اور یونتن کے سوا کسی بھی اسرائیلی کے پاس تلوار یا نیزہ نہیں تھا۔oSY فلستی ہلوں، کدالوں، کانٹوں اور کلہاڑیوں کو تیز کرنے کے لئے اور آنکسوں کی نوک ٹھیک کرنے کے لئے چاندی کے سکے کی دو تہائی لیتے تھے۔PR اپنے ہلوں، کدالوں، کلہاڑیوں یا درانتیوں کو تیز کروانے کے لئے تمام اسرائیلیوں کو فلستیوں کے پاس جانا پڑتا تھا۔YQ- اُن دنوں میں پورے ملکِ اسرائیل میں لوہار نہیں تھا، کیونکہ فلستی نہیں چاہتے تھے کہ اسرائیلی تلواریں یا نیزے بنائیں۔ A"X? اخیاہ امام بھی ساتھ تھا جو امام کا بالاپوش پہنے ہوئے تھا۔ اخیاہ یکبود کے بھائی اخی طوب کا بیٹا تھا۔ اُس کا دادا فینحاس اور پردادا عیلی تھا، جو پرانے زمانے میں سَیلا میں رب کا امام تھا۔ کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ یونتن چلا گیا ہے۔BW ساؤل اُس وقت انار کے درخت کے سائے میں بیٹھا تھا جو جِبعہ کے قریب کے مجرون میں تھا۔ 600 مرد اُس کے پاس تھے۔uV g ایک دن یونتن نے اپنے جوان سلاح بردار سے کہا، ”آؤ، ہم پرلی طرف جائیں جہاں فلستی فوج کی چوکی ہے۔“ لیکن اُس نے اپنے باپ کو اطلاع نہ دی۔ E   +6ALWbmx'2=HS^it$/:EP[fq|   ?  @  A  B  C  D  E  F  G   ?  @  A  B  C  D  E  F  G  H  I  J  K  L  M  N  O  P  Q  R  S  T  U   V  W  X  Y  Z  [  \  ]   ^   _   `   a   b  c  d  e  f  g  h  i  j  k  l  m  n  o  p  q  r  s  t   u  !v  "w  #x  $y  %z  &{  '|  (}  )~  *  +  ,  -  . s Z فلستی چوکی تک پہنچنے کے لئے یونتن نے ایک تنگ راستہ اختیار کیا جو دو کڑاڑوں کے درمیان سے گزرتا تھا۔ پہلے کا نام بوصیص تھا، اور وہ شمال میں مِکماس کے مقابل تھا۔ دوسرے کا نام سنہ تھا، اور وہ جنوب میں جِبع کے مقابل تھا۔ Y فلستی چوکی تک پہنچنے کے لئے یونتن نے ایک تنگ راستہ اختیار کیا جو دو کڑاڑوں کے درمیان سے گزرتا تھا۔ پہلے کا نام بوصیص تھا، اور وہ شمال میں مِکماس کے مقابل تھا۔ دوسرے کا نام سنہ تھا، اور وہ جنوب میں جِبع کے مقابل تھا۔ T7T_^9  اگر وہ ہمیں دیکھ کر پکاریں، ’رُک جاؤ، ورنہ ہم تمہیں مار دیں گے!‘ تو ہم اپنے منصوبے سے باز آ کر اُن کے پاس نہیں جائیں گے۔*]O یونتن بولا، ”ٹھیک ہے۔ پھر ہم یوں دشمنوں کی طرف بڑھتے جائیں گے، کہ ہم اُنہیں صاف نظر آئیں۔T\# اُس کا سلاح بردار بولا، ”جو کچھ آپ ٹھیک سمجھتے ہیں، وہی کریں۔ ضرور جائیں۔ جو کچھ بھی آپ کہیں گے، مَیں حاضر ہوں۔“?[y یونتن نے اپنے جوان سلاح بردار سے کہا، ”آؤ، ہم پرلی طرف جائیں جہاں اِن نامختونوں کی چوکی ہے۔ شاید رب ہماری مدد کرے، کیونکہ اُس کے نزدیک کوئی فرق نہیں کہ ہم زیادہ ہوں یا کم۔“ eaE  چوکی کے فوجیوں نے دونوں کو چیلنج کیا، ”آؤ، ہمارے پاس آؤ تو ہم تمہیں سبق سکھائیں گے۔“ یہ سن کر یونتن نے اپنے سلاح بردار کو آواز دی، ”آؤ، میرے پیچھے چلو! رب نے اُنہیں اسرائیل کے حوالے کر دیا ہے۔“\`3  چنانچہ وہ چلتے چلتے فلستی چوکی کو نظر آئے۔ فلستی شور مچانے لگے، ”دیکھو، اسرائیلی اپنے چھپنے کے بلوں سے نکل رہے ہیں!“ _  لیکن اگر وہ پکاریں، ’آؤ، ہمارے پاس آ جاؤ!‘ تو ہم ضرور اُن کے پاس چڑھ جائیں گے۔ کیونکہ یہ اِس کا نشان ہو گا کہ رب اُنہیں ہمارے قبضے میں کر دے گا۔“ ddjdO اچانک پوری فوج میں دہشت پھیل گئی، نہ صرف لشکرگاہ بلکہ کھلے میدان میں بھی۔ چوکی کے مرد اور لُوٹنے والے دستے بھی تھرتھرانے لگے۔ ساتھ ساتھ زلزلہ آیا۔ رب نے تمام فلستی فوجیوں کے دلوں میں دہشت پیدا کی۔Kc اِس پہلے حملے کے دوران اُنہوں نے تقریباً 20 آدمیوں کو مار ڈالا۔ اُن کی لاشیں آدھ ایکڑ زمین پر بکھری پڑی تھیں۔[b1  دونوں اپنے ہاتھوں اور پیروں کے بل چڑھتے چڑھتے چوکی تک جا پہنچے۔ جب یونتن آگے آگے چل کر فلستیوں کے پاس پہنچ گیا تو وہ اُس کے سامنے گرتے گئے۔ ساتھ ساتھ سلاح بردار پیچھے سے لوگوں کو مارتا گیا۔ #h لیکن ساؤل ابھی اخیاہ سے بات کر رہا تھا کہ فلستی لشکرگاہ میں ہنگامہ اور شور بہت زیادہ بڑھ گیا۔ ساؤل نے امام سے کہا، ”کوئی بات نہیں، رہنے دیں۔“6gg ساؤل نے اخیاہ کو حکم دیا، ”عہد کا صندوق لے آئیں۔“ کیونکہ وہ اُن دنوں میں اسرائیلی کیمپ میں تھا۔lfS ساؤل نے فوراً حکم دیا، ”فوجیوں کو گن کر معلوم کرو کہ کون چلا گیا ہے۔“ معلوم ہوا کہ یونتن اور اُس کا سلاح بردار موجود نہیں ہیں۔/eY ساؤل کے جو پہرے دار جِبعہ سے دشمن کی حرکتوں پر غور کر رہے تھے اُنہوں نے اچانک دیکھا کہ فلستی فوج میں ہل چل مچ گئی ہے، افرا تفری کبھی اِس طرف، کبھی اُس طرف بڑھ رہی ہے۔ JJ!l= لڑتے لڑتے میدانِ جنگ بیت آون تک پھیل گیا۔ اِس طرح رب نے اُس دن اسرائیلیوں کو بچا لیا۔k# اِن کے علاوہ جو اسرائیلی افرائیم کے پہاڑی علاقے میں اِدھر اُدھر چھپ گئے تھے، جب اُنہیں خبر ملی کہ فلستی بھاگ رہے ہیں تو وہ بھی اُن کا تعاقب کرنے لگے۔`j; فلستیوں نے کافی اسرائیلیوں کو اپنی فوج میں شامل کر لیا تھا۔ اب یہ لوگ فلستیوں کو چھوڑ کر ساؤل اور یونتن کے پیچھے ہو لئے۔i وہ اپنے 600 افراد کو لے کر فوراً دشمن پر ٹوٹ پڑا۔ جب اُن تک پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ فلستی ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں، اور ہر طرف ہنگامہ ہی ہنگامہ ہے۔ No تمام لوگ جب اُن کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ اُن سے شہد ٹپک رہا ہے۔ لیکن کسی نے تھوڑا بھی لے کر کھانے کی جرٲت نہ کی، کیونکہ سب ساؤل کی لعنت سے ڈرتے تھے۔tnc پوری فوج جنگل میں داخل ہوئی تو وہاں زمین پر شہد کے چھتے تھے۔.mW اُس دن اسرائیلی سخت لڑائی کے باعث بڑی مصیبت میں تھے۔ اِس لئے ساؤل نے قَسم کھا کر کہا، ”اُس پر لعنت جو شام سے پہلے کھانا کھائے۔ پہلے مَیں اپنے دشمن سے انتقام لوں گا، پھر ہی سب کھا پی سکتے ہیں۔“ اِس وجہ سے کسی نے روٹی کو ہاتھ تک نہ لگایا۔offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|ejfkglhniqjtkwlzm|n~opqr sejfkglhniqjtkwlzm|n~opqr stvwxyz!{$|'})~,.0369=@BEILPUXZ^adhloruwz}  $'+-0257:=@DILPSVY\^behlps»uûxĻ}żƼǼȼɼ ʼ ˼̼ͼμϼмѼ"Ҽ%Ӽ)Լ,ּ/׼2ؼ4ټ6 r3 یونتن نے جواب دیا، ”میرے باپ نے ملک کو مصیبت میں ڈال دیا ہے! دیکھو، اِس تھوڑے سے شہد کو چکھنے سے میری آنکھیں کتنی چمک اُٹھیں اور مَیں کتنا تازہ دم ہو گیا۔q7 کسی نے دیکھ کر یونتن کو بتایا، ”آپ کے باپ نے فوج سے قَسم کھلا کر اعلان کیا ہے کہ اُس پر لعنت جو اِس دن کچھ کھائے۔ اِسی وجہ سے ہم سب اِتنے نڈھال ہو گئے ہیں۔“p! یونتن کو لعنت کا علم نہ تھا، اِس لئے اُس نے اپنی لاٹھی کا سرا کسی چھتے میں ڈال کر اُسے چاٹ لیا۔ اُس کی آنکھیں فوراً چمک اُٹھیں، اور وہ تازہ دم ہو گیا۔ $u7  پھر وہ لُوٹے ہوئے ریوڑوں پر ٹوٹ پڑے۔ اُنہوں نے جلدی جلدی بھیڑبکریوں، گائےبَیلوں اور بچھڑوں کو ذبح کیا۔ بھوک کی شدت کی وجہ سے اُنہوں نے خون کو صحیح طور سے نکلنے نہ دیا بلکہ جانوروں کو زمین پر چھوڑ کر گوشت کو خون سمیت کھانے لگے۔Nt اُس دن اسرائیلی فلستیوں کو مِکماس سے مار مار کر ایالون تک پہنچ گئے۔ لیکن شام کے وقت وہ نہایت نڈھال ہو گئے تھے۔s بہتر ہوتا کہ ہمارے لوگ دشمن سے لُوٹے ہوئے مال میں سے کچھ نہ کچھ کھا لیتے۔ لیکن اِس حالت میں ہم فلستیوں کو کس طرح زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں؟“ |@|@w{ "پھر تمام آدمیوں کے پاس جا کر اُنہیں بتا دینا، ’اپنے جانوروں کو میرے پاس لے آئیں تاکہ اُنہیں پتھر پر ذبح کر کے کھائیں۔ ورنہ آپ خون آلودہ گوشت کھا کر رب کا گناہ کریں گے‘۔“ سب مان گئے۔ اُس شام وہ ساؤل کے پاس آئے اور اپنے جانوروں کو پتھر پر ذبح کیا۔w 2بیوی کا نام اخی نوعم بنت اخی معض تھا۔ ساؤل کی فوج کا کمانڈر ابنیر تھا، جو ساؤل کے چچا نیر کا بیٹا تھا۔2_ 1ساؤل کے تین بیٹے تھے، یونتن، اِسوی اور ملکی شوع۔ اُس کی بڑی بیٹی میرب اور چھوٹی بیٹی میکل تھی۔xk 0وہ نہایت بہادر تھا۔ اُس نے عمالیقیوں کو بھی شکست دی اور یوں اسرائیل کو اُن تمام دشمنوں سے بچا لیا جو بار بار ملک کی لُوٹ مار کرتے تھے۔8k /جب ساؤل تخت نشین ہوا تو وہ ملک کے ارد گرد کے تمام دشمنوں سے لڑا۔ اِن میں موآب، عمون، ادوم، ضوباہ کے بادشاہ اور فلستی شامل تھے۔ اور جہاں بھی جنگ چھڑی وہاں اُس نے فتح پائی۔ refI  رب الافواج فرماتا ہے، ’مَیں عمالیقیوں کا میری قوم کے ساتھ سلوک نہیں بھول سکتا۔ اُس وقت جب اسرائیلی مصر سے نکل کر کنعان کی طرف سفر کر رہے تھے تو عمالیقیوں نے راستہ بند کر دیا تھا۔{  s ایک دن سموایل نے ساؤل کے پاس آ کر اُس سے بات کی، ”رب ہی نے مجھے آپ کو مسح کر کے اسرائیل پر مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب رب کا پیغام سن لیں!  4ساؤل کے جیتے جی فلستیوں سے سخت جنگ جاری رہی۔ اِس لئے جب بھی کوئی بہادر اور لڑنے کے قابل آدمی نظر آیا تو ساؤل نے اُسے اپنی فوج میں بھرتی کر لیا۔  3ساؤل کا باپ قیس اور ابنیر کا باپ نیر سگے بھائی تھے جن کا باپ ابی ایل تھا۔ -y-zo عمالیقیوں کے شہر کے پاس پہنچ کر ساؤل وادی میں تاک میں بیٹھ گیا۔K  ساؤل نے اپنے فوجیوں کو بُلا کر طلائم میں اُن کا جائزہ لیا۔ کُل 2,00,000 پیادے فوجی تھے، نیز یہوداہ کے 10,000 افراد۔  اب وقت آ گیا ہے کہ تُو اُن پر حملہ کرے۔ سب کچھ تباہ کر کے میرے حوالے کر دے۔ کچھ بھی بچنے نہ دے، بلکہ تمام مردوں، عورتوں، بچوں شیرخواروں سمیت، گائےبَیلوں، بھیڑبکریوں، اونٹوں اور گدھوں کو موت کے گھاٹ اُتار دے‘۔“ d پوری قوم کو تلوار سے مارا گیا، صرف اُن کا بادشاہ اجاج زندہ پکڑا گیا۔+Q تب ساؤل نے عمالیقیوں پر حملہ کر کے اُنہیں حویلہ سے لے کر مصر کی مشرقی سرحد شُور تک شکست دی۔iM لیکن پہلے اُس نے قینیوں کو خبر بھیجی، ”عمالیقیوں سے الگ ہو کر اُن کے پاس سے چلے جائیں، ورنہ آپ اُن کے ساتھ ہلاک ہو جائیں گے۔ کیونکہ جب اسرائیلی مصر سے نکل کر ریگستان میں سفر کر رہے تھے تو آپ نے اُن پر مہربانی کی تھی۔“ یہ خبر ملتے ہی قینی عمالیقیوں سے الگ ہو کر چلے گئے۔ dG  ”مجھے دُکھ ہے کہ مَیں نے ساؤل کو بادشاہ بنا لیا ہے، کیونکہ اُس نے مجھ سے دُور ہو کر میرا حکم نہیں مانا۔“ سموایل کو اِتنا غصہ آیا کہ وہ پوری رات بلند آواز سے رب سے فریاد کرتا رہا۔<u  پھر رب سموایل سے ہم کلام ہوا،Y-  ساؤل اور اُس کے فوجیوں نے اُسے زندہ چھوڑ دیا۔ اِسی طرح سب سے اچھی بھیڑبکریوں، گائےبَیلوں، موٹے تازے بچھڑوں اور چیدہ بھیڑ کے بچوں کو بھی چھوڑ دیا گیا۔ جو بھی اچھا تھا بچ گیا، کیونکہ اسرائیلیوں کا دل نہیں کرتا تھا کہ تندرست اور موٹے تازے جانوروں کو ہلاک کریں۔ اُنہوں نے صرف اُن تمام کمزور جانوروں کو ختم کیا جن کی قدر و قیمت نہ تھی۔ ^B سموایل نے پوچھا، ”جانوروں کا یہ شور کہاں سے آ رہا ہے؟ بھیڑبکریاں ممیا رہی اور گائےبَیل ڈکرا رہے ہیں۔“ ;  جب سموایل جِلجال پہنچا تو ساؤل نے کہا، ”مبارک ہو! مَیں نے رب کا حکم پورا کر دیا ہے۔“zo  اگلے دن وہ اُٹھ کر ساؤل سے ملنے گیا۔ کسی نے اُسے بتایا، ”ساؤل کرمل چلا گیا۔ وہاں اپنے لئے یادگار کھڑا کر کے وہ آگے جِلجال چلا گیا ہے۔“ ssa سموایل نے کہا، ”جب آپ تمام قوم کے راہنما بن گئے تو احساسِ کمتری کا شکار تھے۔ توبھی رب نے آپ کو مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ بنا دیا۔A} سموایل بولا، ”خاموش! پہلے وہ بات سن لیں جو رب نے مجھے پچھلی رات فرمائی۔“ ساؤل نے جواب دیا، ”بتائیں۔“  ساؤل نے جواب دیا، ”یہ عمالیقیوں کے ہاں سے لائے گئے ہیں۔ فوجیوں نے سب سے اچھے گائےبَیلوں اور بھیڑبکریوں کو زندہ چھوڑ دیا تاکہ اُنہیں رب آپ کے خدا کے حضور قربان کریں۔ لیکن ہم نے باقی سب کو رب کے حوالے کر کے مار دیا۔“ qq/ ساؤل نے اعتراض کیا، ”لیکن مَیں نے ضرور رب کی سنی۔ جس مقصد کے لئے رب نے مجھے بھیجا وہ مَیں نے پورا کر دیا ہے، کیونکہ مَیں عمالیق کے بادشاہ اجاج کو گرفتار کر کے یہاں لے آیا اور باقی سب کو موت کے گھاٹ اُتار کر رب کے حوالے کر دیا۔C اب مجھے بتائیں کہ آپ نے رب کی کیوں نہ سنی؟ آپ لُوٹے ہوئے مال پر کیوں ٹوٹ پڑے؟ یہ تو رب کے نزدیک گناہ ہے۔“&G اور اُس نے آپ کو بھیج کر حکم دیا، ’جا اور عمالیقیوں کو پورے طور پر ہلاک کر کے میرے حوالے کر۔ اُس وقت تک اِن شریر لوگوں سے لڑتا رہ جب تک وہ سب کے سب مٹ نہ جائیں۔‘ ,f,6 g سرکشی غیب دانی کے گناہ کے برابر ہے اور غرور بُت پرستی کے گناہ سے کم نہیں ہوتا۔ آپ نے رب کا حکم رد کیا ہے، اِس لئے اُس نے آپ کو رد کر کے بادشاہ کا عُہدہ آپ سے چھین لیا ہے۔“gI لیکن سموایل نے جواب دیا، ”رب کو کیا بات زیادہ پسند ہے، آپ کی بھسم ہونے والی اور ذبح کی قربانیاں یا یہ کہ آپ اُس کی سنتے ہیں؟ سننا قربانی سے کہیں بہتر اور دھیان دینا مینڈھے کی چربی سے کہیں عمدہ ہے۔+Q میرے فوجی لُوٹے ہوئے مال میں سے صرف سب سے اچھی بھیڑبکریاں اور گائےبَیل چن کر لے آئے، کیونکہ وہ اُنہیں یہاں جِلجال میں رب آپ کے خدا کے حضور قربان کرنا چاہتے تھے۔“ E  "-8CMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr}  0  1  2  3  4           0  1  2  3  4                                                                         !  "  #                                                                  ---`$; سموایل مُڑ کر وہاں سے چلنے لگا، لیکن ساؤل نے اُس کے چوغے کا دامن اِتنے زور سے پکڑ لیا کہ وہ پھٹ کر اُس کے ہاتھ میں رہ گیا۔#+ لیکن سموایل نے جواب دیا، ”مَیں آپ کے ساتھ واپس نہیں چلوں گا۔ آپ نے رب کا کلام رد کیا ہے، اِس لئے رب نے آپ کو رد کر کے بادشاہ کا عُہدہ آپ سے چھین لیا ہے۔“O" لیکن اب مہربانی کر کے مجھے معاف کریں اور میرے ساتھ واپس آئیں تاکہ مَیں آپ کی موجودگی میں رب کی پرستش کر سکوں۔“|!s تب ساؤل نے اقرار کیا، ”مجھ سے گناہ ہوا ہے۔ مَیں نے آپ کی ہدایت اور رب کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ مَیں نے لوگوں سے ڈر کر اُن کی بات مان لی۔ 88' ساؤل نے دوبارہ منت کی، ”بےشک مَیں نے گناہ کیا ہے۔ لیکن براہِ کرم کم از کم میری قوم کے بزرگوں اور اسرائیل کے سامنے تو میری عزت کریں۔ میرے ساتھ واپس آئیں تاکہ مَیں آپ کی موجودگی میں رب آپ کے خدا کی پرستش کر سکوں۔“x&k جو اسرائیل کی شان و شوکت ہے وہ نہ جھوٹ بولتا، نہ کبھی اپنی سوچ کو بدلتا ہے، کیونکہ وہ انسان نہیں کہ ایک بات کہہ کر بعد میں اُسے بدلے۔“A%} سموایل بولا، ”جس طرح کپڑا پھٹ کر آپ کے ہاتھ میں رہ گیا بالکل اُسی طرح رب نے آج ہی اسرائیل پر آپ کا اختیار آپ سے چھین کر کسی اَور کو دے دیا ہے، ایسے شخص کو جو آپ سے کہیں بہتر ہے۔ Ta@T}+u "پھر وہ رامہ واپس چلا گیا، اور ساؤل اپنے گھر گیا جو جِبعہ میں تھا۔h*K !لیکن سموایل بولا، ”تیری تلوار سے بےشمار مائیں اپنے بچوں سے محروم ہو گئی ہیں۔ اب تیری ماں بھی بےاولاد ہو جائے گی۔“ یہ کہہ کر سموایل نے وہیں جِلجال میں رب کے حضور اجاج کو تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔)5  پھر سموایل نے اعلان کیا، ”عمالیق کے بادشاہ اجاج کو میرے پاس لے آؤ!“ اجاج اطمینان سے سموایل کے پاس آیا، کیونکہ اُس نے سوچا، ”بےشک موت کا خطرہ ٹل گیا ہے۔“(1 تب سموایل مان گیا اور ساؤل کے ساتھ دوسروں کے پاس واپس آیا۔ ساؤل نے رب کی پرستش کی، - ' ایک دن رب سموایل سے ہم کلام ہوا، ”تُو کب تک ساؤل کا ماتم کرے گا؟ مَیں نے تو اُسے رد کر کے بادشاہ کا عُہدہ اُس سے لے لیا ہے۔ اب مینڈھے کا سینگ زیتون کے تیل سے بھر کر بیت لحم چلا جا۔ وہاں ایک آدمی سے مل جس کا نام یسّی ہے۔ کیونکہ مَیں نے اُس کے بیٹوں میں سے ایک کو چن لیا ہے کہ وہ نیا بادشاہ بن جائے۔“ , #اِس کے بعد سموایل جیتے جی ساؤل سے کبھی نہ ملا، کیونکہ وہ ساؤل کا ماتم کرتا رہا۔ لیکن رب کو دُکھ تھا کہ مَیں نے ساؤل کو اسرائیل پر کیوں مقرر کیا۔ NfN0# سموایل مان گیا۔ جب وہ بیت لحم پہنچ گیا تو لوگ چونک اُٹھے۔ لرزتے لرزتے شہر کے بزرگ اُس سے ملنے آئے اور پوچھا، ”خیریت تو ہے کہ آپ ہمارے پاس آ گئے ہیں؟“%/E یسّی کو دعوت دے کہ وہ قربانی کی ضیافت میں شریک ہو جائے۔ آگے مَیں تجھے بتاؤں گا کہ کیا کرنا ہے۔ مَیں تجھے دکھاؤں گا کہ کس بیٹے کو میرے لئے مسح کر کے چن لینا ہے۔“m.U لیکن سموایل نے اعتراض کیا، ”مَیں کس طرح جا سکتا ہوں؟ ساؤل یہ سن کر مجھے مار ڈالے گا۔“ رب نے جواب دیا، ”ایک جوان گائے اپنے ساتھ لے کر لوگوں کو بتا دے کہ مَیں اِسے رب کے حضور قربان کرنے کے لئے آیا ہوں۔ 2+ جب یسّی اپنے بیٹوں سمیت قربانی کی ضیافت کے لئے آیا تو سموایل کی نظر اِلیاب پر پڑی۔ اُس نے سوچا، ”بےشک یہ وہ ہے جسے رب مسح کر کے بادشاہ بنانا چاہتا ہے۔“1 سموایل نے اُنہیں تسلی دے کر کہا، ”خیریت ہے۔ مَیں رب کے حضور قربانی پیش کرنے کے لئے آیا ہوں۔ اپنے آپ کو رب کے لئے مخصوص و مُقدّس کریں اور پھر میرے ساتھ قربانی کی ضیافت میں شریک ہو جائیں۔“ سموایل نے یسّی اور اُس کے بیٹوں کو بھی دعوت دی اور اُنہیں اپنے آپ کو مخصوص و مُقدّس کرنے کو کہا۔ g{5  اِس کے بعد یسّی نے تیسرے بیٹے سمّہ کو پیش کیا۔ لیکن یہ بھی نہیں چنا گیا تھا۔h4K پھر یسّی نے اپنے دوسرے بیٹے ابی نداب کو بُلا کر سموایل کے سامنے سے گزرنے دیا۔ سموایل بولا، ”نہیں، رب نے اِسے بھی نہیں چنا۔“3% لیکن رب نے فرمایا، ”اِس کی شکل و صورت اور لمبے قد سے متاثر نہ ہو، کیونکہ یہ مجھے نامنظور ہے۔ مَیں انسان کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ کیونکہ انسان ظاہری صورت پر غور کر کے فیصلہ کرتا ہے جبکہ رب کو ہر ایک کا دل صاف صاف نظر آتا ہے۔“ 5 5g7I  آخرکار سموایل نے پوچھا، ”اِن کے علاوہ کوئی اَور بیٹا تو نہیں ہے؟“ یسّی نے جواب دیا، ”سب سے چھوٹا بیٹا ابھی باقی رہ گیا ہے، لیکن وہ باہر کھیتوں میں بھیڑبکریوں کی نگرانی کر رہا ہے۔“ سموایل نے کہا، ”اُسے فوراً بُلا لیں۔ اُس کے آنے تک ہم کھانے کے لئے نہیں بیٹھیں گے۔“\63  یوں یسّی نے اپنے سات بیٹوں کو ایک ایک کر کے سموایل کے سامنے سے گزرنے دیا۔ اِن میں سے کوئی رب کا چنا ہوا بادشاہ نہ نکلا۔ S=:u لیکن رب کے روح نے ساؤل کو چھوڑ دیا تھا۔ اِس کے بجائے رب کی طرف سے ایک بُری روح اُسے دہشت زدہ کرنے لگی۔n9W  سموایل نے تیل سے بھرا ہوا مینڈھے کا سینگ لے کر اُسے داؤد کے سر پر اُنڈیل دیا۔ سب بھائی موجود تھے۔ اُسی وقت رب کا روح داؤد پر نازل ہوا اور اُس کی ساری عمر اُس پر ٹھہرا رہا۔ پھر سموایل رامہ واپس چلا گیا۔78i  چنانچہ یسّی چھوٹے کو بُلا کر اندر لے آیا۔ یہ بیٹا گورا تھا۔ اُس کی آنکھیں خوب صورت اور شکل و صورت قابلِ تعریف تھی۔ رب نے سموایل کو بتایا، ”یہی ہے۔ اُٹھ کر اِسے مسح کر۔“ vBv=9 ساؤل نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، ایسا ہی کرو۔ کسی کو بُلا لاؤ جو ساز بجانے میں ماہر ہو۔“%<E ہمارا آقا اپنے خادموں کو حکم دے کہ وہ کسی کو ڈھونڈ لائیں جو سرود بجا سکے۔ جب بھی اللہ کی طرف سے یہ بُری روح آپ پر آئے تو وہ اپنا ساز بجا کر آپ کو سکون دلائے گا۔“:;o ایک دن ساؤل کے ملازموں نے اُس سے کہا، ”اللہ کی طرف سے ایک بُری روح آپ کے دل میں دہشت پیدا کر رہی ہے۔ h@K یہ سن کر یسّی نے روٹی، مَے کا مشکیزہ اور ایک جوان بکری گدھے پر لاد کر داؤد کے حوالے کر دی اور اُسے ساؤل کے دربار میں بھیج دیا۔y?m ساؤل نے فوراً اپنے قاصدوں کو یسّی کے پاس بھیج کر اُسے اطلاع دی، ”اپنے بیٹے داؤد کو جو بھیڑبکریوں کو سنبھالتا ہے میرے پاس بھیج دینا۔“y>m ایک ملازم بولا، ”مَیں نے ایک آدمی کو دیکھا ہے جو خوب بجا سکتا ہے۔ وہ بیت لحم کے رہنے والے یسّی کا بیٹا ہے۔ وہ نہ صرف مہارت سے سرود بجا سکتا ہے بلکہ بڑا جنگجو بھی ہے۔ یہ بھی اُس کی ایک خوبی ہے کہ وہ ہر موقع پر سمجھ داری سے بات کر سکتا ہے۔ اور وہ خوب صورت بھی ہے۔ رب اُس کے ساتھ ہے۔“ c 3QcjD Q ایک دن فلستیوں نے اپنی فوج کو یہوداہ کے شہر سوکہ کے قریب جمع کیا۔ وہ اِفس دمیم میں خیمہ زن ہوئے جو سوکہ اور عزیقہ کے درمیان ہے۔^C7 اور جب بھی بُری روح ساؤل پر آتی تو داؤد اپنا سرود بجانے لگتا۔ تب ساؤل کو سکون ملتا اور بُری روح اُس پر سے دُور ہو جاتی۔ TB# ساؤل نے یسّی کو اطلاع بھیجی، ”داؤد مجھے بہت پسند آیا ہے، اِس لئے اُسے مستقل طور پر میری خدمت کرنے کی اجازت دیں۔“qA] اِس طرح داؤد ساؤل کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ وہ بادشاہ کو بہت پسند آیا بلکہ ساؤل کو اِتنا پیارا لگا کہ اُسے اپنا سلاح بردار بنا لیا۔ g-gtIc اور پنڈلیوں پر بکتر۔ کندھوں پر پیتل کی شمشیر لٹکی ہوئی تھی۔IT_ju%0;EP[fq|                                                                                 !  "  #  $  %  &  '  (  )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3  4  5  6  7  8  9  :                                           xxh %جس رب نے مجھے شیر اور ریچھ کے پنجے سے بچا لیا ہے وہ مجھے اِس فلستی کے ہاتھ سے بھی بچائے گا۔“ ساؤل بولا، ”ٹھیک ہے، جائیں اور رب آپ کے ساتھ ہو۔“/gY $اِس طرح آپ کے خادم نے کئی شیروں اور ریچھوں کو مار ڈالا ہے۔ یہ نامختون بھی اُن کی طرح ہلاک ہو جائے گا، کیونکہ اُس نے زندہ خدا کی فوج کی بدنامی کر کے اُسے چیلنج کیا ہے۔Ff #تو مَیں اُس کے پیچھے جاتا اور اُسے مار مار کر بھیڑ کو اُس کے منہ سے چھڑا لیتا تھا۔ اگر شیر یا ریچھ جواب میں مجھ پر حملہ کرتا تو مَیں اُس کے سر کے بالوں کو پکڑ کر اُسے مار دیتا تھا۔ n7n l )جالوت داؤد کی جانب بڑھا۔ ڈھال کو اُٹھانے والا اُس کے آگے آگے چل رہا تھا۔7ki (اُس نے ندی سے پانچ چِکنے چِکنے پتھر چن کر اُنہیں اپنی چرواہے کی تھیلی میں ڈال لیا۔ پھر چرواہے کی اپنی لاٹھی اور فلاخن پکڑ کر وہ دیو سے لڑنے کے لئے اسرائیلی صفوں سے نکلا۔\j3 'پھر داؤد نے ساؤل کی تلوار باندھ کر چلنے کی کوشش کی۔ لیکن اُسے بہت مشکل لگ رہا تھا۔ اُس نے ساؤل سے کہا، ”مَیں یہ چیزیں پہن کر نہیں لڑ سکتا، کیونکہ مَیں اِن کا عادی نہیں ہوں۔“ اُنہیں اُتار کرfiG &اُس نے داؤد کو اپنا زرہ بکتر اور پیتل کا خود پہنایا۔ yZry`p; -داؤد نے جواب دیا، ”آپ تلوار، نیزہ اور شمشیر لے کر میرا مقابلہ کرنے آئے ہیں، لیکن مَیں رب الافواج کا نام لے کر آتا ہوں، اُسی کا نام جو اسرائیلی فوج کا خدا ہے۔ کیونکہ آپ نے اُسی کو چیلنج کیا ہے۔o ,چلّایا، ”اِدھر آ تاکہ مَیں تیرا گوشت پرندوں اور جنگلی جانوروں کو کھلاؤں۔“dnC +وہ گرجا، ”کیا مَیں کُتا ہوں کہ تُو لاٹھی لے کر میرا مقابلہ کرنے آیا ہے؟“ اپنے دیوتاؤں کے نام لے کر وہ داؤد پر لعنت بھیج کر"m? *اُس نے حقارت آمیز نظروں سے داؤد کا جائزہ لیا، کیونکہ وہ گورا اور خوب صورت نوجوان تھا۔ zs 0جالوت داؤد پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھا، اور داؤد بھی اُس کی طرف دوڑا۔"r? /سب جو یہاں موجود ہیں پہچان لیں گے کہ رب کو ہمیں بچانے کے لئے تلوار یا نیزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ خود ہی جنگ کر رہا ہے، اور وہی آپ کو ہمارے قبضے میں کر دے گا۔“\q3 .آج ہی رب آپ کو میرے ہاتھ میں کر دے گا، اور مَیں آپ کا سر قلم کر دوں گا۔ اِسی دن مَیں فلستی فوجیوں کی لاشیں پرندوں اور جنگلی جانوروں کو کھلا دوں گا۔ تب تمام دنیا جان لے گی کہ اسرائیل کا خدا ہے۔ UUhuK 2یوں داؤد فلاخن اور پتھر سے فلستی دیو پر غالب آیا۔ تب اُس نے جالوت کی طرف دوڑ کر اُسی کی تلوار میان سے کھینچ کر دیو کا سر کاٹ ڈالا۔ جب فلستیوں نے دیکھا کہ ہمارا پہلوان ہلاک ہو گیا ہے تو وہ بھاگ نکلے۔;tq 1چلتے چلتے اُس نے اپنی تھیلی سے پتھر نکالا اور اُسے فلاخن میں رکھ کر زور سے چلایا۔ پتھر اُڑتا اُڑتا دیو کے ماتھے پر جا لگا۔ وہ کھوپڑی میں دھنس گیا، اور دیو منہ کے بل گر گیا۔ zzx 5پھر اسرائیلیوں نے واپس آ کر فلستیوں کی چھوڑی ہوئی لشکرگاہ کو لُوٹ لیا۔ w 4اسرائیل اور یہوداہ کے مرد فتح کے نعرے لگا لگا کر فلستیوں پر ٹوٹ پڑے۔ اُن کا تعاقب کرتے کرتے وہ جات اور عقرون کے دروازوں تک پہنچ گئے۔ جو راستہ شعریم سے جات اور عقرون تک جاتا ہے اُس پر ہر طرف فلستیوں کی لاشیں نظر آئیں۔hvK 3یوں داؤد فلاخن اور پتھر سے فلستی دیو پر غالب آیا۔ تب اُس نے جالوت کی طرف دوڑ کر اُسی کی تلوار میان سے کھینچ کر دیو کا سر کاٹ ڈالا۔ جب فلستیوں نے دیکھا کہ ہمارا پہلوان ہلاک ہو گیا ہے تو وہ بھاگ نکلے۔ IZ4IQ} :ساؤل نے پوچھا، ”آپ کا باپ کون ہے؟“ داؤد نے جواب دیا، ”مَیں بیت لحم کے رہنے والے آپ کے خادم یسّی کا بیٹا ہوں۔“ R| 9جب داؤد دیو کا سر قلم کر کے واپس آیا تو ابنیر اُسے بادشاہ کے پاس لایا۔ داؤد ابھی جالوت کا سر اُٹھائے پھر رہا تھا۔={w 8بادشاہ بولا، ”پھر پتا کریں!“"z? 7جب داؤد جالوت سے لڑنے گیا تو ساؤل نے فوج کے کمانڈر ابنیر سے پوچھا، ”اِس جوان آدمی کا باپ کون ہے؟“ ابنیر نے جواب دیا، ”آپ کی حیات کی قَسم، مجھے معلوم نہیں۔“"y? 6بعد میں داؤد جالوت کا سر یروشلم کو لے آیا۔ دیو کے ہتھیار اُس نے اپنے خیمے میں رکھ لئے۔ @L عہد کی تصدیق کے لئے یونتن نے اپنا چوغہ اُتار کر اُسے اپنے زرہ بکتر، تلوار، کمان اور پیٹی سمیت داؤد کو دے دیا۔ ; اور یونتن نے داؤد سے عہد باندھا، کیونکہ وہ داؤد کو اپنی جان کے برابر عزیز رکھتا تھا۔!= اُس دن سے ساؤل نے داؤد کو اپنے دربار میں رکھ لیا اور اُسے باپ کے گھر واپس جانے نہ دیا۔~ + اِس گفتگو کے بعد داؤد کی ملاقات بادشاہ کے بیٹے یونتن سے ہوئی۔ اُن میں فوراً گہری دوستی پیدا ہو گئی، اور یونتن داؤد کو اپنی جان کے برابر عزیز رکھنے لگا۔ $$) اور ناچتے ناچتے وہ گاتی رہیں، ”ساؤل نے تو ہزار ہلاک کئے جبکہ داؤد نے دس ہزار۔“5 جب داؤد فلستیوں کو شکست دینے سے واپس آیا تو تمام شہروں سے عورتیں نکل کر ساؤل بادشاہ سے ملنے آئیں۔ دف اور ساز بجاتے ہوئے وہ خوشی کے گیت گا گا کر ناچنے لگیں۔3 جہاں بھی ساؤل نے داؤد کو لڑنے کے لئے بھیجا وہاں وہ کامیاب ہوا۔ یہ دیکھ کر ساؤل نے اُسے فوج کا بڑا افسر بنا دیا۔ یہ بات عوام اور ساؤل کے افسروں کو پسند آئی۔ 22^7  اُس وقت سے ساؤل داؤد کو شک کی نظر سے دیکھنے لگا۔iM ساؤل بڑے غصے میں آ گیا، کیونکہ عورتوں کا گیت اُسے نہایت بُرا لگا۔ اُس نے سوچا، ”اُن کی نظر میں داؤد نے دس ہزار ہلاک کئے جبکہ مَیں نے صرف ہزار۔ اب صرف یہ بات رہ گئی ہے کہ اُسے بادشاہ مقرر کیا جائے۔“ L  اگلے دن اللہ نے دوبارہ ساؤل پر بُری روح آنے دی، اور وہ گھر کے اندر وجد کی حالت میں آ گیا۔ داؤد معمول کے مطابق ساز بجانے لگا تاکہ بادشاہ کو سکون ملے۔ ساؤل کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ اچانک اُس نے اُسے پھینک کر داؤد کو دیوار کے ساتھ چھید ڈالنے کی کوشش کی۔ لیکن داؤد ایک طرف ہٹ کر بچ نکلا۔ ایک اَور دفعہ ایسا ہوا، لیکن داؤد پھر بچ گیا۔ 6 g  یہ دیکھ کر ساؤل داؤد سے ڈرنے لگا، کیونکہ اُس نے جان لیا کہ رب مجھے چھوڑ کر داؤد کا حامی بن گیا ہے۔L  اگلے دن اللہ نے دوبارہ ساؤل پر بُری روح آنے دی، اور وہ گھر کے اندر وجد کی حالت میں آ گیا۔ داؤد معمول کے مطابق ساز بجانے لگا تاکہ بادشاہ کو سکون ملے۔ ساؤل کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ اچانک اُس نے اُسے پھینک کر داؤد کو دیوار کے ساتھ چھید ڈالنے کی کوشش کی۔ لیکن داؤد ایک طرف ہٹ کر بچ نکلا۔ ایک اَور دفعہ ایسا ہوا، لیکن داؤد پھر بچ گیا۔   لیکن اسرائیل اور یہوداہ کے باقی لوگ داؤد سے بہت محبت رکھتے تھے، کیونکہ وہ ہر جنگ میں نکلتے وقت سے لے کر گھر واپس آتے وقت تک اُن کے آگے آگے چلتا تھا۔ ) جب ساؤل نے دیکھا کہ داؤد کو کتنی زیادہ کامیابی ہوئی ہے تو وہ اُس سے مزید ڈر گیا۔  اور جو کچھ بھی وہ کرتا اُس میں کامیاب رہتا، کیونکہ رب اُس کے ساتھ تھا۔e E  آخرکار اُس نے داؤد کو دربار سے دُور کر کے ہزار فوجیوں پر مقرر کر دیا۔ اِن آدمیوں کے ساتھ داؤد مختلف جنگوں کے لئے نکلتا رہا۔ jO توبھی شادی کی تیاریاں کی گئیں۔ لیکن جب مقررہ وقت آ گیا تو ساؤل نے میرب کی شادی ایک اَور آدمی بنام عدری ایل محولاتی سے کروا دی۔oY لیکن داؤد نے اعتراض کیا، ”مَیں کون ہوں کہ بادشاہ کا داماد بنوں؟ اسرائیل میں تو میرے خاندان اور آبائی کنبے کی کوئی حیثیت نہیں۔“ ایک دن ساؤل نے داؤد سے بات کی، ”مَیں اپنی بڑی بیٹی میرب کا رشتہ آپ کے ساتھ باندھنا چاہتا ہوں۔ لیکن پہلے ثابت کریں کہ آپ اچھے فوجی ہیں، جو رب کی جنگوں میں خوب حصہ لے۔“ لیکن دل ہی دل میں ساؤل نے سوچا، ”خود تو مَیں داؤد پر ہاتھ نہیں اُٹھاؤں گا، بہتر ہے کہ وہ فلستیوں کے ہاتھوں مارا جائے۔“ xGxnW پھر اُس نے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ وہ چپکے سے داؤد کو بتائیں، ”سنیں، آپ بادشاہ کو پسند ہیں، اور اُس کے تمام افسر بھی آپ کو پیار کرتے ہیں۔ آپ ضرور بادشاہ کی پیش کش قبول کر کے اُس کا داماد بن جائیں۔“Y- اُس نے سوچا، ”اب مَیں بیٹی کا رشتہ اُس کے ساتھ باندھ کر اُسے یوں پھنسا دوں گا کہ وہ فلستیوں سے لڑتے لڑتے مر جائے گا۔“ داؤد سے اُس نے کہا، ”آج آپ کو میرا داماد بننے کا دوبارہ موقع ملے گا۔“5e اِتنے میں ساؤل کی چھوٹی بیٹی میکل داؤد سے محبت کرنے لگی۔ جب ساؤل کو اِس کی خبر ملی تو وہ خوش ہوا۔ ee9 ساؤل نے اُنہیں پھر داؤد کے پاس بھیج کر اُسے اطلاع دی، ”بادشاہ مَہر کے لئے پیسے نہیں مانگتا بلکہ یہ کہ آپ اُن کے دشمنوں سے بدلہ لے کر 100 فلستیوں کو قتل کر دیں۔ ثبوت کے طور پر آپ کو اُن کا ختنہ کر کے جِلد کا کٹا ہوا حصہ بادشاہ کے پاس لانا پڑے گا۔“ شرط کا مقصد یہ تھا کہ داؤد فلستیوں کے ہاتھوں مارا جائے۔wi ملازموں نے بادشاہ کے پاس واپس جا کر اُسے داؤد کے الفاظ بتائے۔zo لیکن داؤد نے اعتراض کیا، ”کیا آپ کی دانست میں بادشاہ کا داماد بننا چھوٹی سی بات ہے؟ مَیں تو غریب آدمی ہوں، اور میری کوئی حیثیت نہیں۔“ ts تب وہ داؤد سے اَور بھی ڈرنے لگا۔ اِس کے بعد وہ جیتے جی داؤد کا دشمن بنا رہا۔7 ساؤل کو ماننا پڑا کہ رب داؤد کے ساتھ ہے اور کہ میری بیٹی میکل اُسے بہت پیار کرتی ہے۔[1 اُس نے اپنے آدمیوں کے ساتھ نکل کر 200 فلستیوں کو مار دیا۔ لاشوں کا ختنہ کر کے وہ جِلد کے کُل 200 ٹکڑے بادشاہ کے پاس لایا تاکہ بادشاہ کا داماد بنے۔ یہ دیکھ کر ساؤل نے اُس کی شادی میکل سے کروا دی۔ جب داؤد کو یہ خبر ملی تو اُسے ساؤل کی پیش کش پسند آئی۔ مقررہ وقت سے پہلے mU اِس لئے اُس نے اُسے آگاہ کیا، ”میرا باپ آپ کو مار دینے کے مواقع ڈھونڈ رہا ہے۔ کل صبح خبردار رہیں۔ کہیں چھپ کر میرا انتظار کریں۔V ) اب ساؤل نے اپنے بیٹے یونتن اور تمام ملازموں کو صاف بتایا کہ داؤد کو ہلاک کرنا ہے۔ لیکن داؤد یونتن کو بہت پیارا تھا،M اُن دنوں میں فلستی سردار اسرائیل سے لڑتے رہے۔ لیکن جب بھی وہ جنگ کے لئے نکلے تو داؤد ساؤل کے باقی افسروں کی نسبت زیادہ کامیاب ہوتا تھا۔ نتیجے میں اُس کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی۔ NNU% اگلی صبح جب یونتن نے اپنے باپ سے بات کی تو اُس نے داؤد کی سفارش کر کے کہا، ”بادشاہ اپنے خادم داؤد کا گناہ نہ کریں، کیونکہ اُس نے آپ کا گناہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ آپ کے لئے فائدہ مند رہا ہے۔U% پھر مَیں اپنے باپ کے ساتھ شہر سے نکل کر آپ کے قریب سے گزروں گا۔ وہاں مَیں اُن سے آپ کا معاملہ چھیڑ کر معلوم کروں گا کہ وہ کیا ارادہ رکھتے ہیں۔ جو کچھ بھی وہ کہیں گے مَیں آپ کو بتا دوں گا۔“ Xd"C بعد میں یونتن نے داؤد کو بُلا کر اُسے سب کچھ بتایا، پھر اُسے ساؤل کے پاس لایا۔ تب داؤد پہلے کی طرح بادشاہ کی خدمت کرنے لگا۔=!u یونتن کی باتیں سن کر ساؤل مان گیا۔ اُس نے وعدہ کیا، ”رب کی حیات کی قَسم، داؤد کو مارا نہیں جائے گا۔“$ C اُسی نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر فلستی کو مار ڈالا، اور رب نے اُس کے وسیلے سے تمام اسرائیل کو بڑی نجات بخشی۔ اُس وقت آپ خود بھی سب کچھ دیکھ کر خوش ہوئے۔ تو پھر آپ گناہ کر کے اُس جیسے بےقصور آدمی کو کیوں بلاوجہ مروانا چاہتے ہیں؟“ )3i%M  اچانک ساؤل نے نیزے کو پھینک کر داؤد کو دیوار کے ساتھ چھید ڈالنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ایک طرف ہٹ گیا اور نیزہ اُس کے قریب سے گزر کر دیوار میں دھنس گیا۔ داؤد بھاگ گیا اور اُس رات ساؤل کے ہاتھ سے بچ گیا۔r$_  لیکن ایک دن جب ساؤل اپنا نیزہ پکڑے گھر میں بیٹھا تھا تو اللہ کی بھیجی ہوئی بُری روح اُس پر غالب آئی۔ اُس وقت داؤد سرود بجا رہا تھا۔S#! ایک بار پھر جنگ چھڑ گئی، اور داؤد نکل کر فلستیوں سے لڑا۔ اِس دفعہ بھی اُس نے اُنہیں یوں شکست دی کہ وہ فرار ہو گئے۔ "1t" ) جب ساؤل کے آدمی داؤد کو پکڑنے کے لئے آئے تو میکل نے کہا، ”وہ بیمار ہے۔“A(}  میکل نے داؤد کی چارپائی پر بُت رکھ کر اُس کے سر پر بکریوں کے بال لگا دیئے اور باقی حصے پر کمبل بچھا دیا۔9'm  چنانچہ داؤد گھر کی کھڑکی میں سے نکلا، اور میکل نے اُترنے میں اُس کی مدد کی۔ تب داؤد بھاگ کر بچ گیا۔K&  ساؤل نے فوراً اپنے آدمیوں کو داؤد کے گھر کے پاس بھیج دیا تاکہ وہ مکان کی پہرہ داری کر کے داؤد کو صبح کے وقت قتل کر دیں۔ لیکن داؤد کی بیوی میکل نے اُس کو آگاہ کر دیا، ”آج رات کو ہی یہاں سے چلے جائیں، ورنہ آپ نہیں بچیں گے بلکہ کل صبح ہی مار دیئے جائیں گے۔“ .T2,_ ساؤل نے اپنی بیٹی کو بہت جھڑکا، ”تُو نے مجھے اِس طرح دھوکا دے کر میرے دشمن کی فرار ہونے میں مدد کیوں کی؟ تیری ہی وجہ سے وہ بچ گیا۔“ میکل نے جواب دیا، ”اُس نے مجھے دھمکی دی کہ مَیں تجھے قتل کر دوں گا اگر تُو فرار ہونے میں میری مدد نہ کرے۔“V+' جب وہ داؤد کو لے جانے کے لئے آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اُس کی چارپائی پر بُت پڑا ہے جس کے سر پر بکریوں کے بال لگے ہیں۔N* فوجیوں نے ساؤل کو اطلاع دی تو اُس نے اُنہیں حکم دیا، ”اُسے چارپائی سمیت ہی میرے پاس لے آؤ تاکہ اُسے مار دوں۔“ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq|                                                     !  "  #   $   %   &   '   (  )  *  +  ,  -  .  /  0  1  2  3   4  5  6  7  8  9  :  ;   <   =   >   ?   @  A  B  C  D  E  F  G  H  I  J  K  L  M  N  O  P  Q  R   S  !T  "U h@/{ اُس نے فوراً اپنے آدمیوں کو اُسے پکڑنے کے لئے بھیج دیا۔ جب وہ پہنچے تو دیکھا کہ نبیوں کا پورا گروہ وہاں نبوّت کر رہا ہے، اور سموایل خود اُن کی راہنمائی کر رہا ہے۔ اُنہیں دیکھتے ہی اللہ کا روح ساؤل کے آدمیوں پر نازل ہوا، اور وہ بھی نبوّت کرنے لگے۔u.e ساؤل کو اطلاع دی گئی، ”داؤد رامہ کے نیوت میں ٹھہرا ہوا ہے۔“-3 اِس طرح داؤد بچ نکلا۔ وہ رامہ میں سموایل کے پاس فرار ہوا اور اُسے سب کچھ سنایا جو ساؤل نے اُس کے ساتھ کیا تھا۔ پھر دونوں مل کر نیوت چلے گئے۔ وہاں وہ ٹھہرے۔ ]A2} ساؤل ابھی نیوت نہیں پہنچا تھا کہ اللہ کا روح اُس پر بھی نازل ہوا، اور وہ نبوّت کرتے کرتے نیوت پہنچ گیا۔P1 آخر میں ساؤل خود رامہ کے لئے روانہ ہوا۔ چلتے چلتے وہ سیکو کے بڑے حوض پر پہنچا۔ وہاں اُس نے لوگوں سے پوچھا، ”داؤد اور سموایل کہاں ہیں؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”رامہ کی آبادی نیوت میں۔“K0 ساؤل کو اِس بات کی خبر ملی تو اُس نے مزید آدمیوں کو رامہ بھیج دیا۔ لیکن وہ بھی وہاں پہنچتے ہی نبوّت کرنے لگے۔ ساؤل نے تیسری بار آدمیوں کو بھیج دیا، لیکن یہی کچھ اُن کے ساتھ بھی ہوا۔  u f4 I اب داؤد رامہ کے نیوت سے بھی بھاگ گیا۔ چپکے سے وہ یونتن کے پاس آیا اور پوچھا، ”مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے؟ میرا کیا قصور ہے؟ مجھ سے آپ کے باپ کے خلاف کیا جرم سرزد ہوا ہے کہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں؟“3 وہاں وہ اپنے کپڑوں کو اُتار کر سموایل کے سامنے نبوّت کرتا رہا۔ نبوّت کرتے کرتے وہ زمین پر لیٹ گیا اور وہاں پورے دن اور پوری رات پڑا رہا۔ اِسی وجہ سے یہ قول مشہور ہوا، ”کیا ساؤل کو بھی نبیوں میں شمار کیا جاتا ہے؟“ oo6# لیکن داؤد نے قَسم کھا کر اصرار کیا، ”ظاہر ہے کہ آپ کو اِس کے بارے میں علم نہیں۔ آپ کے باپ کو صاف معلوم ہے کہ مَیں آپ کو پسند ہوں۔ وہ تو سوچتے ہوں گے، ’یونتن کو اِس بات کا علم نہ ہو، ورنہ وہ دُکھ محسوس کرے گا۔‘ لیکن رب کی اور آپ کی جان کی قَسم، مَیں بڑے خطرے میں ہوں، اور موت سے بچنا مشکل ہی ہے۔“u5e یونتن نے اعتراض کیا، ”یہ کبھی نہیں ہو سکتا! آپ نہیں مریں گے۔ میرا باپ تو مجھے ہمیشہ سب کچھ بتا دیتا ہے، خواہ بات بڑی ہو یا چھوٹی۔ تو پھر وہ ایسا کوئی منصوبہ مجھ سے کیوں چھپائے؟ آپ کی یہ بات سراسر غلط ہے۔“ zl9S اگر آپ کے باپ میرا پتا کریں تو اُنہیں کہہ دینا، ’داؤد نے بڑے زور سے مجھ سے اپنے شہر بیت لحم کو جانے کی اجازت مانگی۔ اُسے بڑی جلدی تھی، کیونکہ اُس کا پورا خاندان اپنی سالانہ قربانی چڑھانا چاہتا ہے۔‘_89 تب داؤد نے اپنا منصوبہ پیش کیا۔ ”کل نئے چاند کی عید ہے، اور بادشاہ توقع کریں گے کہ مَیں اُن کی ضیافت میں شریک ہوں۔ لیکن اِس مرتبہ مجھے پرسوں شام تک باہر کھلے میدان میں چھپا رہنے کی اجازت دیں۔7 یونتن نے کہا، ”مجھے بتائیں کہ مَیں کیا کروں تو مَیں اُسے کروں گا۔“ !b!=<u  یونتن نے جواب دیا، ”فکر نہ کریں، مَیں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ جب بھی مجھے اشارہ مل جائے کہ میرا باپ آپ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو مَیں ضرور آپ کو فوراً اطلاع دوں گا۔“o;Y براہِ کرم مجھ پر مہربانی کر کے یاد رکھیں کہ آپ نے رب کے سامنے اپنے خادم سے عہد باندھا ہے۔ اگر مَیں واقعی قصوروار ٹھہروں تو آپ خود مجھے مار ڈالیں۔ لیکن کسی صورت میں بھی مجھے اپنے باپ کے حوالے نہ کریں۔“':I اگر آپ کے باپ جواب دیں کہ ٹھیک ہے تو پھر معلوم ہو گا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ لیکن اگر وہ بڑے غصے میں آ جائیں تو یقین جانیں کہ وہ مجھے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ k8?k  تو یونتن نے داؤد سے کہا، ”رب اسرائیل کے خدا کی قَسم، پرسوں اِس وقت تک مَیں اپنے باپ سے بات معلوم کر لوں گا۔ اگر وہ آپ کے بارے میں اچھی سوچ رکھے اور مَیں آپ کو اطلاع نہ دوں >  یونتن نے جواب میں کہا، ”آئیں ہم نکل کر کھلے میدان میں جائیں۔“ دونوں نکلے=  داؤد نے پوچھا، ”اگر آپ کے باپ غصے میں جواب دیں تو کون مجھے خبر پہنچائے گا؟“ T+T4Bc میرے خاندان پر بھی ہمیشہ تک مہربانی کریں۔ وہ کبھی بھی آپ کی مہربانی سے محروم نہ ہو جائے، اُس وقت بھی نہیں جب رب نے آپ کے تمام دشمنوں کو رُوئے زمین پر سے مٹا دیا ہو گا۔“A1 لیکن درخواست ہے کہ میرے جیتے جی مجھ پر رب کی سی مہربانی کریں تاکہ مَیں مر نہ جاؤں۔Q@  تو رب مجھے سخت سزا دے۔ لیکن اگر مجھے پتا چلے کہ میرا باپ آپ کو مار دینے پر تُلا ہوا ہے تو مَیں آپ کو اِس کی اطلاع بھی دوں گا۔ اِس صورت میں مَیں آپ کو نہیں روکوں گا بلکہ آپ کو سلامتی سے جانے دوں گا۔ رب اُسی طرح آپ کے ساتھ ہو جس طرح وہ پہلے میرے باپ کے ساتھ تھا۔ nI\NF اِس لئے پرسوں شام کے وقت کھلے میدان میں وہاں چلے جائیں جہاں پہلے چھپ گئے تھے۔ پتھر کے ڈھیر کے قریب بیٹھ جائیں۔iEM پھر یونتن نے اپنا منصوبہ پیش کیا۔ ”کل تو نئے چاند کی عید ہے۔ جلدی سے پتا چلے گا کہ آپ نہیں آئے، کیونکہ آپ کی کرسی خالی رہے گی۔!D= وہ بولا، ”قَسم کھائیں کہ آپ یہ عہد اُتنے پختہ ارادے سے قائم رکھیں گے جتنی آپ مجھ سے محبت رکھتے ہیں۔“ کیونکہ یونتن داؤد کو اپنی جان کے برابر عزیز رکھتا تھا۔C چنانچہ یونتن نے داؤد سے عہد باندھ کر کہا، ”رب داؤد کے دشمنوں سے بدلہ لے۔“ z,yz{Iq لیکن اگر مَیں لڑکے کو بتا دوں، ’تیر پرلی طرف پڑے ہیں‘ تو آپ کو فوراً ہجرت کرنی پڑے گی۔ اِس صورت میں رب خود آپ کو یہاں سے بھیج رہا ہو گا۔/HY پھر مَیں لڑکے کو تیروں کو لے آنے کے لئے بھیج دوں گا۔ اگر مَیں اُسے بتا دوں، ’تیر اُرلی طرف پڑے ہیں، اُنہیں جا کر لے آؤ‘ تو آپ خوف کھائے بغیر چھپنے کی جگہ سے نکل کر میرے پاس آ سکیں گے۔ رب کی حیات کی قَسم، اِس صورت میں کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔PG اُس وقت مَیں گھر سے نکل کر تین تیر پتھر کے ڈھیر کی طرف چلاؤں گا گویا مَیں کسی چیز کو نشانہ بنا کر مشق کر رہا ہوں۔ &u &vNg لیکن اگلے دن جب داؤد کی جگہ پھر خالی رہی تو ساؤل نے یونتن سے پوچھا، ”یسّی کا بیٹا نہ تو کل، نہ آج ضیافت میں شریک ہوا ہے۔ کیا وجہ ہے؟“DM اُس دن ساؤل نے بات نہ چھیڑی، کیونکہ اُس نے سوچا، ”داؤد کسی وجہ سے ناپاک ہو گیا ہو گا، اِس لئے نہیں آیا۔“^L7 معمول کے مطابق وہ دیوار کے پاس بیٹھ گیا۔ ابنیر اُس کے ساتھ بیٹھا تھا اور یونتن اُس کے مقابل۔ لیکن داؤد کی جگہ خالی رہی۔'KI چنانچہ داؤد کھلے میدان میں چھپ گیا۔ نئے چاند کی عید آئی تو بادشاہ ضیافت کے لئے بیٹھ گیا۔J لیکن جو باتیں ہم نے آج آپس میں کی ہیں رب خود ہمیشہ تک اِن کا گواہ رہے۔“ |n|Q یہ سن کر ساؤل آپے سے باہر ہو گیا۔ وہ گرجا، ”حرام زادے! مجھے خوب معلوم ہے کہ تُو نے داؤد کا ساتھ دیا ہے۔ شرم کی بات ہے، تیرے لئے اور تیری ماں کے لئے۔\P3 اُس نے کہا، ’مہربانی کر کے مجھے جانے دیں، کیونکہ میرا خاندان ایک خاص قربانی چڑھا رہا ہے، اور میرے بھائی نے مجھے آنے کا حکم دیا ہے۔ اگر آپ کو منظور ہو تو براہِ کرم مجھے اپنے بھائیوں کے پاس جانے کی اجازت دیں۔‘ یہی وجہ ہے کہ وہ بادشاہ کی ضیافت میں شریک نہیں ہوا۔“O یونتن نے جواب دیا، ”داؤد نے بڑے زور سے مجھ سے بیت لحم جانے کی اجازت مانگی۔ }'} U "بڑے غصے کے عالم میں وہ کھڑا ہوا اور چلا گیا۔ اُس دن اُس نے کھانا کھانے سے انکار کیا۔ اُسے بہت دُکھ تھا کہ میرا باپ داؤد کی اِتنی بےعزتی کر رہا ہے۔T- !جواب میں ساؤل نے اپنا نیزہ زور سے یونتن کی طرف پھینک دیا تاکہ اُسے مار ڈالے۔ یہ دیکھ کر یونتن نے جان لیا کہ ساؤل داؤد کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔zSo  یونتن نے کہا، ”کیوں؟ اُس نے کیا کِیا جو سزائے موت کے لائق ہے؟“UR% جب تک یسّی کا بیٹا زندہ ہے تب تک نہ تُو اور نہ تیری بادشاہت قائم رہے گی۔ اب جا، اُسے لے آ، کیونکہ اُسے مرنا ہی ہے۔“ c&c0Y[ &جلدی کرو، بھاگ کر آگے نکلو اور نہ رُکو!“ پھر لڑکا تیر کو اُٹھا کر اپنے مالک کے پاس واپس آ گیا۔X} %جب لڑکا تیر کے قریب پہنچ گیا تو یونتن نے آواز دی، ”تیر پرلی طرف ہے۔W $اُس نے لڑکے کو حکم دیا، ”چلو، اُس طرف بھاگنا شروع کرو جس طرف مَیں تیروں کو چلاؤں گا تاکہ تجھے معلوم ہو کہ وہ کہاں ہیں۔“ چنانچہ لڑکا دوڑنے لگا، اور یونتن نے تیر اِتنے زور سے چلایا کہ وہ اُس سے آگے کہیں دُور جا گرا۔VV' #اگلے دن یونتن صبح کے وقت گھر سے نکل کر کھلے میدان میں اُس جگہ آ گیا جہاں داؤد سے ملنا تھا۔ ایک لڑکا اُس کے ساتھ تھا۔ qjq-\U )لڑکا چلا گیا تو داؤد پتھر کے ڈھیر کے جنوب سے نکل کر یونتن کے پاس آیا۔ تین مرتبہ وہ یونتن کے سامنے منہ کے بل جھک گیا۔ ایک دوسرے کو چوم کر دونوں خوب روئے، خاص کر داؤد۔D[ (پھر یونتن نے کمان اور تیروں کو لڑکے کے سپرد کر کے اُسے حکم دیا، ”جاؤ، سامان لے کر شہر میں واپس چلے جاؤ۔“Z 'وہ نہیں جانتا تھا کہ اِس کے پیچھے کیا مقصد ہے۔ صرف یونتن اور داؤد کو علم تھا۔ )^ داؤد نوب میں اخی مَلِک امام کے پاس گیا۔ اخی مَلِک کانپتے ہوئے اُس سے ملنے کے لئے آیا اور پوچھا، ”آپ اکیلے کیوں آئے ہیں؟ کوئی آپ کے ساتھ نہیں۔“S]! *پھر یونتن بولا، ”سلامتی سے جائیں! اور کبھی وہ وعدے نہ بھولیں جو ہم نے رب کی قَسم کھا کر ایک دوسرے سے کئے ہیں۔ یہ عہد آپ کے اور میرے اور آپ کی اور میری اولاد کے درمیان ہمیشہ قائم رہے۔ رب خود ہمارا گواہ ہے۔“ پھر داؤد روانہ ہوا، اور یونتن شہر کو واپس چلا گیا۔ 6ag امام نے جواب دیا، ”میرے پاس عام روٹی نہیں ہے۔ مَیں آپ کو صرف رب کے لئے مخصوص شدہ روٹی دے سکتا ہوں۔ شرط یہ ہے کہ آپ کے آدمی پچھلے دنوں میں عورتوں سے ہم بستر نہ ہوئے ہوں۔“B` اب مجھے ذرا بتائیں کہ کھانے کے لئے کیا مل سکتا ہے؟ مجھے پانچ روٹیاں دے دیں، یا جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے۔“k_Q داؤد نے جواب دیا، ”بادشاہ نے مجھے ایک خاص ذمہ داری دی ہے جس کا ذکر تک کرنا منع ہے۔ کسی کو بھی اِس کے بارے میں جاننا نہیں چاہئے۔ مَیں نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا ہے کہ فلاں فلاں جگہ پر میرا انتظار کریں۔ qddC اُس وقت ساؤل کے چرواہوں کا ادومی انچارج دوئیگ وہاں تھا۔ وہ کسی مجبوری کے باعث رب کے حضور ٹھہرا ہوا تھا۔ اُس کی موجودگی میںc پھر امام نے داؤد کو مخصوص شدہ روٹیاں دیں یعنی وہ روٹیاں جو ملاقات کے خیمے میں رب کے حضور رکھی جاتی تھیں اور اُسی دن تازہ روٹیوں سے تبدیل ہوئی تھیں۔wbi داؤد نے اُسے تسلی دے کر کہا، ”فکر نہ کریں۔ پہلے کی طرح ہمیں اِس مہم کے دوران بھی عورتوں سے دُور رہنا پڑا ہے۔ میرے فوجی عام مہموں کے لئے بھی اپنے آپ کو پاک رکھتے ہیں، تو اِس دفعہ وہ کہیں زیادہ پاک صاف ہیں۔“ zz2f_  اخی مَلِک نے جواب دیا، ”جی ہے۔ وادیِ ایلہ میں آپ کے ہاتھوں مارے گئے فلستی مرد جالوت کی تلوار میرے پاس ہے۔ وہ ایک کپڑے میں لپٹی میرے بالاپوش کے پیچھے پڑی ہے۔ اگر آپ اُسے اپنے ساتھ لے جانا چاہیں تو لے جائیں۔ میرے پاس کوئی اَور ہتھیار نہیں ہے۔“ داؤد نے کہا، ”اِس قسم کی تلوار کہیں اَور نہیں ملتی۔ مجھے دے دیں۔“Le داؤد نے اخی مَلِک سے پوچھا، ”کیا آپ کے پاس کوئی نیزہ یا تلوار ہے؟ مجھے بادشاہ کی مہم کے لئے اِتنی جلدی سے نکلنا پڑا کہ اپنی تلوار یا کوئی اَور ہتھیار ساتھ لانے کے لئے فرصت نہ ملی۔“ 96o92j_  اچانک وہ پاگل آدمی کا روپ بھر کر اُن کے درمیان عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگا۔ شہر کے دروازے کے پاس جا کر اُس نے اُس پر بےتُکے سے نشان لگائے اور اپنی داڑھی پر رال ٹپکنے دی۔{iq  یہ سن کر داؤد گھبرا گیا اور جات کے بادشاہ اَکیس سے بہت ڈرنے لگا۔Eh  لیکن اَکیس کے ملازموں نے بادشاہ کو آگاہ کیا، ”کیا یہ ملک کا بادشاہ داؤد نہیں ہے؟ اِسی کے بارے میں اسرائیلی ناچ کر گیت گاتے ہیں، ’ساؤل نے ہزار ہلاک کئے جبکہ داؤد نے دس ہزار‘۔“Fg  اُسی دن داؤد آگے نکلا تاکہ ساؤل سے بچ سکے۔ اسرائیل کو چھوڑ کر وہ فلستی شہر جات کے بادشاہ اَکیس کے پاس گیا۔ !3m ; اِس طرح داؤد جات سے بچ نکلا اور عدُلام کے غار میں چھپ گیا۔ جب اُس کے بھائیوں اور باپ کے گھرانے کو اِس کی خبر ملی تو وہ بیت لحم سے آ کر وہاں اُس کے ساتھ جا ملے۔jlO کیا میرے پاس پاگلوں کی کمی ہے کہ تم اِس کو میرے سامنے لے آئے ہو تاکہ اِس طرح کی حرکتیں کرے؟ کیا مجھے ایسے مہمان کی ضرورت ہے؟“ [k1 یہ دیکھ کر اَکیس نے اپنے ملازموں کو جھڑکا، ”تم اِس آدمی کو میرے پاس کیوں لے آئے ہو؟ تم خود دیکھ سکتے ہو کہ یہ پاگل ہے۔ NNMp وہ اپنے ماں باپ کو بادشاہ کے پاس لے آیا، اور وہ اُتنی دیر تک وہاں ٹھہرے جتنی دیر داؤد اپنے پہاڑی قلعے میں رہا۔bo? داؤد عدُلام سے روانہ ہو کر ملکِ موآب کے شہر مِصفاہ چلا گیا۔ اُس نے موآبی بادشاہ سے گزارش کی، ”میرے ماں باپ کو اُس وقت تک یہاں پناہ دیں جب تک مجھے پتا نہ ہو کہ اللہ میرے لئے کیا ارادہ رکھتا ہے۔“wni اَور لوگ بھی جلدی سے اُس کے گرد جمع ہو گئے، ایسے جو کسی مصیبت میں پھنسے ہوئے تھے یا اپنا قرض ادا نہیں کر سکتے تھے اور ایسے بھی جن کا دل تلخی سے بھرا ہوا تھا۔ ہوتے ہوتے داؤد تقریباً 400 افراد کا راہنما بن گیا۔ E  "-8CNYcny(3>IT_ju$/:EP[fq|  $W  %X  &Y  'Z  ([  )\  *]   ^  _  $W  %X  &Y  'Z  ([  )\  *]   ^  _  `  a  b  c  d  e   f   g   h   i   j  k  l   m  n  o  p  q  r  s  t   u   v   w   x   y  z  {  |  }  ~                                                                 AeA s; وہ پکار اُٹھا، ”بن یمین کے مردو! سنیں، کیا یسّی کا بیٹا آپ سب کو کھیت اور انگور کے باغ دے گا؟ کیا وہ فوج میں آپ کو ہزار ہزار اور سَو سَو افراد پر مقرر کرے گا؟{rq ساؤل کو اطلاع دی گئی کہ داؤد اور اُس کے آدمی دوبارہ یہوداہ میں پہنچ گئے ہیں۔ اُس وقت ساؤل اپنا نیزہ پکڑے جھاؤ کے اُس درخت کے سائے میں بیٹھا تھا جو جِبعہ کی پہاڑی پر تھا۔ ساؤل کے ارد گرد اُس کے ملازم کھڑے تھے۔q+ ایک دن جاد نبی نے داؤد سے کہا، ”یہاں پہاڑی قلعے میں مت رہیں بلکہ دوبارہ یہوداہ کے علاقے میں واپس چلے جائیں۔“ داؤد اُس کی سن کر حارت کے جنگل میں جا بسا۔ u3  دوئیگ ادومی ساؤل کے افسروں کے ساتھ وہاں کھڑا تھا۔ اب وہ بول اُٹھا، ”مَیں نے یسّی کے بیٹے کو دیکھا ہے۔ اُس وقت وہ نوب میں اخی مَلِک بن اخی طوب سے ملنے آیا۔Gt لگتا ہے کہ آپ اِس کی اُمید رکھتے ہیں، ورنہ آپ یوں میرے خلاف سازش نہ کرتے۔ کیونکہ آپ میں سے کسی نے بھی مجھے یہ نہیں بتایا کہ میرے اپنے بیٹے نے اِس آدمی کے ساتھ عہد باندھا ہے۔ آپ کو میری فکر تک نہیں، ورنہ مجھے اطلاع دیتے کہ یونتن نے میرے ملازم داؤد کو اُبھارا ہے کہ وہ میری تاک میں بیٹھ جائے۔ کیونکہ آج تو ایسا ہی ہو رہا ہے۔“ H/xY  جب پہنچے تو ساؤل بولا، ”اخی طوب کے بیٹے، سنیں۔“ اخی مَلِک نے جواب دیا، ”جی میرے آقا، حکم۔“8wk  بادشاہ نے فوراً اخی مَلِک بن اخی طوب اور اُس کے باپ کے پورے خاندان کو بُلایا۔ سب نوب میں امام تھے۔xvk  اخی مَلِک نے رب سے دریافت کیا کہ داؤد کا اگلا قدم کیا ہو۔ ساتھ ساتھ اُس نے اُسے سفر کے لئے کھانا اور فلستی مرد جالوت کی تلوار بھی دی۔“ 6zg اخی مَلِک بولا، ”لیکن میرے آقا، کیا ملازموں میں سے کوئی اَور آپ کے داماد داؤد جیسا وفادار ثابت ہوا ہے؟ وہ تو آپ کے محافظ دستے کا کپتان اور آپ کے گھرانے کا معزز ممبر ہے۔jyO  ساؤل نے الزام لگا کر کہا، ”آپ نے یسّی کے بیٹے داؤد کے ساتھ میرے خلاف سازشیں کیوں کی ہیں؟ بتائیں، آپ نے اُسے روٹی اور تلوار کیوں دی؟ آپ نے اللہ سے دریافت کیوں کیا کہ داؤد آگے کیا کرے؟ آپ ہی کی مدد سے وہ سرکش ہو کر میری تاک میں بیٹھ گیا ہے، کیونکہ آج تو ایسا ہی ہو رہا ہے۔“ w.w3}a اُس نے ساتھ کھڑے اپنے محافظوں کو حکم دیا، ”جا کر اماموں کو مار دو، کیونکہ یہ بھی داؤد کے اتحادی ہیں۔ گو اِن کو معلوم تھا کہ داؤد مجھ سے بھاگ رہا ہے توبھی اِنہوں نے مجھے اطلاع نہ دی۔“ لیکن محافظوں نے رب کے اماموں کو مار ڈالنے سے انکار کیا۔|! لیکن بادشاہ بولا، ”اخی مَلِک، تجھے اور تیرے باپ کے پورے خاندان کو مرنا ہے۔“7{i اور یہ پہلی بار نہیں تھا کہ مَیں نے اُس کے لئے اللہ سے ہدایت مانگی۔ اِس معاملے میں بادشاہ مجھ اور میرے خاندان پر الزام نہ لگائے۔ مَیں نے تو کسی سازش کا ذکر تک نہیں سنا۔“ ~~q] اور اُسے اطلاع دی کہ ساؤل نے رب کے اماموں کو قتل کر دیا ہے۔-U صرف ایک ہی شخص بچ گیا، ابیاتر جو اخی مَلِک بن اخی طوب کا بیٹا تھا۔ وہ بھاگ کر داؤد کے پاس آیا9 پھر اُس نے جا کر اماموں کے شہر نوب کے تمام باشندوں کو مار ڈالا۔ شہر کے مرد، عورتیں، بچے شیرخواروں سمیت، گائےبَیل، گدھے اور بھیڑبکریاں سب اُس دن ہلاک ہوئے۔6~g تب بادشاہ نے دوئیگ ادومی کو حکم دیا، ”پھر تم ہی اماموں کو مار دو۔“ دوئیگ نے اُن کے پاس جا کر اُن سب کو قتل کر دیا۔ کتان کا بالاپوش پہننے والے کُل 85 آدمی اُس دن مارے گئے۔ 33gI داؤد نے رب سے دریافت کیا، ”کیا مَیں جا کر فلستیوں پر حملہ کروں؟“ رب نے جواب دیا، ”جا، فلستیوں پر حملہ کر کے قعیلہ کو بچا۔“+ S ایک دن داؤد کو خبر ملی کہ فلستی قعیلہ شہر پر حملہ کر کے گاہنے کی جگہوں سے اناج لُوٹ رہے ہیں۔oY اب میرے ساتھ رہیں اور مت ڈریں۔ جو آدمی آپ کو قتل کرنا چاہتا ہے وہ مجھے بھی قتل کرنا چاہتا ہے۔ آپ میرے ساتھ رہ کر محفوظ رہیں گے۔“ <s داؤد نے کہا، ”اُس دن جب مَیں نے دوئیگ ادومی کو وہاں دیکھا تو مجھے معلوم تھا کہ وہ ضرور ساؤل کو خبر پہنچائے گا۔ یہ میرا ہی قصور ہے کہ آپ کے باپ کا پورا خاندان ہلاک ہو گیا ہے۔ 00 1 وہاں قعیلہ میں ابیاتر داؤد کے لوگوں میں شامل ہوا۔ اُس کے پاس امام کا بالاپوش تھا۔7 چنانچہ داؤد اپنے آدمیوں کے ساتھ قعیلہ چلا گیا۔ اُس نے فلستیوں پر حملہ کر کے اُنہیں بڑی شکست دی اور اُن کی بھیڑبکریوں کو چھین کر قعیلہ کے باشندوں کو بچایا۔`; تب داؤد نے رب سے دوبارہ ہدایت مانگی، اور دوبارہ اُسے یہی جواب ملا، ”قعیلہ کو جا! مَیں فلستیوں کو تیرے حوالے کر دوں گا۔“'I لیکن داؤد کے آدمی اعتراض کرنے لگے، ”ہم پہلے سے یہاں یہوداہ میں لوگوں کی مخالفت سے ڈرتے ہیں۔ جب ہم قعیلہ جا کر فلستیوں پر حملہ کریں گے تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟“    لیکن داؤد کو پتا چلا کہ ساؤل اُس کے خلاف تیاریاں کر رہا ہے۔ اُس نے ابیاتر امام سے کہا، ”امام کا بالاپوش لے آئیں تاکہ ہم رب سے ہدایت مانگیں۔“c A وہ اپنی پوری فوج کو جمع کر کے جنگ کے لئے تیاریاں کرنے لگا تاکہ اُتر کر قعیلہ کا محاصرہ کرے جس میں داؤد اب تک ٹھہرا ہوا تھا۔ 5 جب ساؤل کو خبر ملی کہ داؤد قعیلہ شہر میں ٹھہرا ہوا ہے تو اُس نے سوچا، ”اللہ نے اُسے میرے حوالے کر دیا ہے، کیونکہ اب وہ فصیل دار شہر میں جا کر پھنس گیا ہے۔“ mU  پھر داؤد نے مزید دریافت کیا، ”کیا شہر کے بزرگ مجھے اور میرے لوگوں کو ساؤل کے حوالے کر دیں گے؟“ رب نے کہا، ”ہاں، وہ کر دیں گے۔“  کیا شہر کے باشندے مجھے ساؤل کے حوالے کر دیں گے؟ کیا ساؤل واقعی آئے گا؟ اے رب، اسرائیل کے خدا، اپنے خادم کو بتا!“ رب نے جواب دیا، ”ہاں، وہ آئے گا۔“d C  پھر اُس نے دعا کی، ”اے رب اسرائیل کے خدا، مجھے خبر ملی ہے کہ ساؤل میری وجہ سے قعیلہ پر حملہ کر کے اُسے برباد کرنا چاہتا ہے۔ XX3 اُس وقت یونتن نے داؤد کے پاس آ کر اُس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اللہ پر بھروسا رکھے۔(K ایک دن جب داؤد حورِش کے قریب تھا تو اُسے اطلاع ملی کہ ساؤل آپ کو ہلاک کرنے کے لئے نکلا ہے۔&G اب داؤد بیابان کے پہاڑی قلعوں اور دشتِ زیف کے پہاڑی علاقے میں رہنے لگا۔ ساؤل تو مسلسل اُس کا کھوج لگاتا رہا، لیکن اللہ ہمیشہ داؤد کو ساؤل کے ہاتھ سے بچاتا رہا۔.W  لہٰذا داؤد اپنے تقریباً 600 آدمیوں کے ساتھ قعیلہ سے چلا گیا اور اِدھر اُدھر پھرنے لگا۔ جب ساؤل کو اطلاع ملی کہ داؤد قعیلہ سے نکل کر بچ گیا ہے تو وہاں جانے سے باز آیا۔ nn دشتِ زیف میں آباد کچھ لوگ ساؤل کے پاس آ گئے جو اُس وقت جِبعہ میں تھا۔ اُنہوں نے کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ داؤد کہاں چھپ گیا ہے۔ وہ حورش کے پہاڑی قلعوں میں ہے، اُس پہاڑی پر جس کا نام حکیلہ ہے اور جو یشیمون کے جنوب میں ہے۔2_ دونوں نے رب کے حضور عہد باندھا۔ پھر یونتن اپنے گھر چلا گیا جبکہ داؤد وہاں حورِش میں ٹھہرا رہا۔L اُس نے کہا، ”ڈریں مت۔ میرے باپ کا ہاتھ آپ تک نہیں پہنچے گا۔ ایک دن آپ ضرور اسرائیل کے بادشاہ بن جائیں گے، اور میرا رُتبہ آپ کے بعد ہی آئے گا۔ میرا باپ بھی اِس حقیقت سے خوب واقف ہے۔“ (i(:o ہر جگہ کا کھوج لگائیں جہاں وہ چھپ جاتا ہے۔ جب آپ کو ساری تفصیلات معلوم ہوں تو میرے پاس آئیں۔ پھر مَیں آپ کے ساتھ وہاں پہنچوں گا۔ اگر وہ واقعی وہاں کہیں ہو تو مَیں اُسے ضرور ڈھونڈ نکالوں گا، خواہ مجھے پورے یہوداہ کی چھان بین کیوں نہ کرنی پڑے۔“{ اب واپس جا کر مزید تیاریاں کریں۔ پتا کریں کہ وہ کہاں آتا جاتا ہے اور کس نے اُسے وہاں دیکھا ہے۔ کیونکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ بہت چالاک ہے۔|s ساؤل نے جواب دیا، ”رب آپ کو برکت بخشے کہ آپ کو مجھ پر ترس آیا ہے۔! اے بادشاہ، جب بھی آپ کا دل چاہے آئیں تو ہم اُسے پکڑ کر آپ کے حوالے کر دیں گے۔“ _9 زیف کے آدمی واپس چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد ساؤل بھی اپنی فوج سمیت وہاں کے لئے نکلا۔ اُس وقت داؤد اور اُس کے لوگ دشتِ معون میں یشیمون کے جنوب میں تھے۔ جب داؤد کو اطلاع ملی کہ ساؤل اُس کا تعاقب کر رہا ہے تو وہ ریگستان کے مزید جنوب میں چلا گیا، وہاں جہاں بڑی چٹان نظر آتی ہے۔ لیکن ساؤل کو پتا چلا اور وہ فوراً ریگستان میں داؤد کے پیچھے گیا۔ _9 زیف کے آدمی واپس چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد ساؤل بھی اپنی فوج سمیت وہاں کے لئے نکلا۔ اُس وقت داؤد اور اُس کے لوگ دشتِ معون میں یشیمون کے جنوب میں تھے۔ جب داؤد کو اطلاع ملی کہ ساؤل اُس کا تعاقب کر رہا ہے تو وہ ریگستان کے مزید جنوب میں چلا گیا، وہاں جہاں بڑی چٹان نظر آتی ہے۔ لیکن ساؤل کو پتا چلا اور وہ فوراً ریگستان میں داؤد کے پیچھے گیا۔ SGSx k داؤد وہاں سے چلا گیا اور عین جدی کے پہاڑی قلعوں میں رہنے لگا۔ I ساؤل کو داؤد کو چھوڑنا پڑا، اور وہ فلستیوں سے لڑنے گیا۔ اُس وقت سے پہاڑی کا نام ”علیٰحدگی کی چٹان“ پڑ گیا۔(K کہ اچانک قاصد ساؤل کے پاس پہنچا جس نے کہا، ”جلدی آئیں! فلستی ہمارے ملک میں گھس آئے ہیں۔“5e چلتے چلتے ساؤل داؤد کے قریب ہی پہنچ گیا۔ آخرکار صرف ایک پہاڑی اُن کے درمیان رہ گئی۔ ساؤل پہاڑی کے ایک دامن میں تھا جبکہ داؤد اپنے لوگوں سمیت دوسرے دامن میں بھاگتا ہوا بادشاہ سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ساؤل ابھی اُنہیں گھیر کر پکڑنے کو تھا <P<J# چلتے چلتے وہ بھیڑوں کے کچھ باڑوں سے گزرنے لگے۔ وہاں ایک غار کو دیکھ کر ساؤل اندر گیا تاکہ اپنی حاجت رفع کرے۔ اتفاق سے داؤد اور اُس کے آدمی اُسی غار کے پچھلے حصے میں چھپے بیٹھے تھے۔B" وہ تمام اسرائیل کے 3,000 چیدہ فوجیوں کو لے کر پہاڑی بکریوں کی چٹانوں کے لئے روانہ ہوا تاکہ داؤد کو پکڑ لے۔,! U جب ساؤل فلستیوں کا تعاقب کرنے سے واپس آیا تو اُسے خبر ملی کہ داؤد عین جدی کے ریگستان میں ہے۔ 9h9+&Q اُس نے اپنے آدمیوں سے کہا، ”رب نہ کرے کہ مَیں اپنے آقا کے ساتھ ایسا سلوک کر کے رب کے مسح کئے ہوئے بادشاہ کو ہاتھ لگاؤں۔ کیونکہ رب نے خود اُسے مسح کر کے چن لیا ہے۔“%} لیکن جب اپنے لوگوں کے پاس پہنچا تو اُس کا ضمیر اُسے ملامت کرنے لگا۔$ داؤد کے آدمیوں نے آہستہ سے اُس سے کہا، ”رب نے تو آپ سے وعدہ کیا تھا، ’مَیں تیرے دشمن کو تیرے حوالے کر دوں گا، اور تُو جو جی چاہے اُس کے ساتھ کر سکے گا۔‘ اب یہ وقت آ گیا ہے!“ داؤد رینگتے رینگتے آگے ساؤل کے قریب پہنچ گیا۔ چپکے سے اُس نے ساؤل کے لباس کے کنارے کا ٹکڑا کاٹ لیا اور پھر واپس آ گیا۔ b b:)o  بولا، ”جب لوگ آپ کو بتاتے ہیں کہ داؤد آپ کو نقصان پہنچانے پر تُلا ہوا ہے تو آپ کیوں دھیان دیتے ہیں؟u(e جب وہ کچھ فاصلے پر تھا تو داؤد بھی نکلا اور پکار اُٹھا، ”اے بادشاہ سلامت، اے میرے آقا!“ ساؤل نے پیچھے دیکھا تو داؤد منہ کے بل جھک کرc'A یہ کہہ کر داؤد نے اُن کو سمجھایا اور اُنہیں ساؤل پر حملہ کرنے سے روک دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ساؤل غار سے نکل کر آگے چلنے لگا۔ b+?  میرے باپ، یہ دیکھیں جو میرے ہاتھ میں ہے! آپ کے لباس کا یہ ٹکڑا مَیں کاٹ سکا، اور پھر بھی مَیں نے آپ کو ہلاک نہ کیا۔ اب جان لیں کہ نہ مَیں آپ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہوں، نہ مَیں نے آپ کا گناہ کیا ہے۔ پھر بھی آپ میرا تعاقب کرتے ہوئے مجھے مار ڈالنے کے درپَے ہیں۔*  آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔ غار میں آپ اللہ کی مرضی سے میرے قبضے میں آ گئے تھے۔ میرے لوگوں نے زور دیا کہ مَیں آپ کو مار دوں، لیکن مَیں نے آپ کو نہ چھیڑا۔ مَیں بولا، ’مَیں کبھی بھی بادشاہ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا، کیونکہ رب نے خود اُسے مسح کر کے چن لیا ہے۔‘ 9(A9/ رب ہمارا منصف ہو۔ وہی ہم دونوں کا فیصلہ کرے۔ وہ میرے معاملے پر دھیان دے، میرے حق میں بات کرے اور مجھے بےالزام ٹھہرا کر آپ کے ہاتھ سے بچائے۔“c.A اسرائیل کا بادشاہ کس کے خلاف نکل آیا ہے؟ جس کا تعاقب آپ کر رہے ہیں اُس کی تو کوئی حیثیت نہیں۔ وہ مُردہ کُتا یا پِسّو ہی ہے۔d-C  قدیم قول یہی بات بیان کرتا ہے، ’بدکاروں سے بدکاری پیدا ہوتی ہے۔‘ میری نیت تو صاف ہے، اِس لئے مَیں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔l,S  رب خود فیصلہ کرے کہ کس سے غلطی ہو رہی ہے، آپ سے یا مجھ سے۔ وہی آپ سے میرا بدلہ لے۔ لیکن خود مَیں کبھی آپ پر ہاتھ نہیں اُٹھاؤں گا۔ @q 3 جب کسی کا دشمن اُس کے قبضے میں آ جاتا ہے تو وہ اُسے جانے نہیں دیتا۔ لیکن آپ نے ایسا ہی کیا۔ رب آپ کو اُس مہربانی کا اجر دے جو آپ نے آج مجھ پر کی ہے۔]25 آج آپ نے اپنا میرے ساتھ اچھا سلوک ثابت کیا ہے، کیونکہ گو رب نے مجھے آپ کے حوالے کر دیا تھا توبھی آپ نے مجھے ہلاک نہ کیا۔K1 اُس نے کہا، ”آپ مجھ سے زیادہ راست باز ہیں۔ آپ نے مجھ سے اچھا سلوک کیا جبکہ مَیں آپ سے بُرا سلوک کرتا رہا ہوں۔<0s داؤد خاموش ہوا تو ساؤل نے پوچھا، ”داؤد میرے بیٹے، کیا آپ کی آواز ہے؟“ اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ bBQbk6Q داؤد نے قَسم کھا کر ساؤل سے وعدہ کیا۔ پھر ساؤل اپنے گھر چلا گیا جبکہ داؤد نے اپنے لوگوں کے ساتھ ایک پہاڑی قلعے میں پناہ لے لی۔ m5U چنانچہ رب کی قَسم کھا کر مجھ سے وعدہ کریں کہ نہ آپ میری اولاد کو ہلاک کریں گے، نہ میرے آبائی گھرانے میں سے میرا نام مٹا دیں گے۔“:4o اب مَیں جانتا ہوں کہ آپ ضرور بادشاہ بن جائیں گے، اور کہ آپ کے ذریعے اسرائیل کی بادشاہی قائم رہے گی۔ E  !,7ALWbmx(2=HS^it$/:EP[fq|                                                                                                                                                      !  "  #  $  %  &  '  (  )  *  + mm;8q معون میں کالب کے خاندان کا ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام نابال تھا۔ وہ نہایت امیر تھا۔ کرمل کے قریب اُس کی 3,000 بھیڑیں اور 1,000 بکریاں تھیں۔ بیوی کا نام ابی جیل تھا۔ وہ ذہین بھی تھی اور خوب صورت بھی۔ اُس کے مقابلے میں نابال سخت مزاج اور کمینہ تھا۔ ایک دن نابال اپنی بھیڑوں کے بال کترنے کے لئے کرمل آیا۔ جب داؤد کو خبر ملیP7  اُن دنوں میں سموایل فوت ہوا۔ تمام اسرائیل رامہ میں جنازے کے لئے جمع ہوا۔ اُس کا ماتم کرتے ہوئے اُنہوں نے اُسے اُس کی خاندانی قبر میں دفن کیا۔ اُن دنوں میں داؤد دشتِ فاران میں چلا گیا۔ ;9q معون میں کالب کے خاندان کا ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام نابال تھا۔ وہ نہایت امیر تھا۔ کرمل کے قریب اُس کی 3,000 بھیڑیں اور 1,000 بکریاں تھیں۔ بیوی کا نام ابی جیل تھا۔ وہ ذہین بھی تھی اور خوب صورت بھی۔ اُس کے مقابلے میں نابال سخت مزاج اور کمینہ تھا۔ ایک دن نابال اپنی بھیڑوں کے بال کترنے کے لئے کرمل آیا۔ جب داؤد کو خبر ملی \\><w اُسے بتانا، ’اللہ آپ کو طویل زندگی عطا کرے۔ آپ کی، آپ کے خاندان کی اور آپ کی تمام ملکیت کی سلامتی ہو۔;9 تو اُس نے 10 جوانوں کو بھیج کر کہا، ”کرمل جا کر نابال سے ملیں اور اُسے میرا سلام دیں۔;:q معون میں کالب کے خاندان کا ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام نابال تھا۔ وہ نہایت امیر تھا۔ کرمل کے قریب اُس کی 3,000 بھیڑیں اور 1,000 بکریاں تھیں۔ بیوی کا نام ابی جیل تھا۔ وہ ذہین بھی تھی اور خوب صورت بھی۔ اُس کے مقابلے میں نابال سخت مزاج اور کمینہ تھا۔ ایک دن نابال اپنی بھیڑوں کے بال کترنے کے لئے کرمل آیا۔ جب داؤد کو خبر ملی iK?  داؤد کے آدمی نابال کے پاس گئے۔ اُسے داؤد کا سلام دے کر اُنہوں نے اُس کا پیغام دیا اور پھر جواب کا انتظار کیا۔S>! اپنے لوگوں سے خود پوچھ لیں! وہ اِس کی تصدیق کریں گے۔ آج آپ خوشی منا رہے ہیں، اِس لئے میرے جوانوں پر مہربانی کریں۔ جو کچھ آپ خوشی سے دے سکتے ہیں وہ اُنہیں اور اپنے بیٹے داؤد کو دے دیں‘۔“<=s سنا ہے کہ بھیڑوں کے بال کترنے کا وقت آ گیا ہے۔ کرمل میں آپ کے چرواہے ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے۔ اُس پورے عرصے میں نہ اُنہیں ہماری طرف سے کوئی نقصان پہنچا، نہ کوئی چیز چوری ہوئی۔ ] ];Cq  تب داؤد نے حکم دیا، ”اپنی تلواریں باندھ لو!“ سب نے اپنی تلواریں باندھ لیں۔ اُس نے بھی ایسا کیا اور پھر 400 افراد کے ساتھ کرمل کے لئے روانہ ہوا۔ باقی 200 مرد سامان کے پاس رہے۔^B7  داؤد کے آدمی چلے گئے اور داؤد کو سب کچھ بتا دیا۔ A  مَیں اپنی روٹی، اپنا پانی اور کترنے والوں کے لئے ذبح کیا گیا گوشت لے کر ایسے آوارہ پھرنے والوں کو کیوں دے دوں؟ کیا پتا ہے کہ یہ کہاں سے آئے ہیں۔“o@Y  لیکن نابال نے کرخت لہجے میں کہا، ”یہ داؤد کون ہے؟ کون ہے یسّی کا بیٹا؟ آج کل بہت سے ایسے غلام ہیں جو اپنے مالک سے بھاگے ہوئے ہیں۔ ZF جب بھی ہم اُن کے قریب تھے تو وہ دن رات چاردیواری کی طرح ہماری حفاظت کرتے رہے۔DE حالانکہ اُن لوگوں کا ہمارے ساتھ سلوک ہمیشہ اچھا رہا ہے۔ ہم اکثر ریوڑوں کو چَرانے کے لئے اُن کے قریب پھرتے رہے، توبھی اُنہوں نے ہمیں کبھی نقصان نہ پہنچایا، نہ کوئی چیز چوری کی۔ZD/ اِتنے میں نابال کے ایک نوکر نے اُس کی بیوی کو اطلاع دی، ”داؤد نے ریگستان میں سے اپنے قاصدوں کو نابال کے پاس بھیجا تاکہ اُسے مبارک باد دیں۔ لیکن اُس نے جواب میں گرج کر اُنہیں گالیاں دی ہیں،of Pflrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|ۼ<ܼ?ݼB޼F߼INQUY\^adfjۼ<ܼ?ݼB޼F߼INQUY\^adfjmpsuxz}   #&) + / 3 6 8 9 < ? C F I L N Q T W Z ] a d g i l o q t v y | ! " # $ % & ' ( ) * + ,! -# .% /( 0+ 1/ 22 35 48 5: 6= 7@ 8C :H ;K U ?X @\ A` Bd Ci Dl Eo Fs Gw H| I J K L M O qPq[I1 اُس نے اپنے نوکروں کو حکم دیا، ”میرے آگے نکل جاؤ، مَیں تمہارے پیچھے پیچھے آؤں گی۔“ اپنے شوہر کو اُس نے کچھ نہ بتایا۔H# جتنی جلدی ہو سکا ابی جیل نے کچھ سامان اکٹھا کیا جس میں 200 روٹیاں، مَے کی دو مشکیں، کھانے کے لئے تیار کی گئی پانچ بھیڑیں، بُھنے ہوئے اناج کے ساڑھے 27 کلو گرام، کشمش کی 100 اور انجیر کی 200 ٹکیاں شامل تھیں۔ سب کچھ گدھوں پر لاد کرG# اب سوچ لیں کہ کیا کِیا جائے! کیونکہ ہمارا مالک اور اُس کے تمام گھر والے بڑے خطرے میں ہیں۔ وہ خود اِتنا شریر ہے کہ اُس سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔“ $rL! اللہ مجھے سخت سزا دے اگر مَیں کل صبح تک اُس کے ایک آدمی کو بھی زندہ چھوڑ دوں!“.KW داؤد تو ابھی تک بڑے غصے میں تھا، کیونکہ وہ سوچ رہا تھا، ”اِس آدمی کی مدد کرنے کا کیا فائدہ تھا! ہم ریگستان میں اُس کے ریوڑوں کی حفاظت کرتے رہے اور اُس کی کوئی بھی چیز گم نہ ہونے دی۔ توبھی اُس نے ہماری نیکی کے جواب میں ہماری بےعزتی کی ہے۔XJ+ جب ابی جیل پہاڑ کی آڑ میں اُترنے لگی تو داؤد اپنے آدمیوں سمیت اُس کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آیا۔ پھر اُن کی ملاقات ہوئی۔ @@\N3 داؤد کو دیکھ کر ابی جیل جلدی سے گدھے پر سے اُتر کر اُس کے سامنے منہ کے بل جھک گئی۔ اُس نے کہا، ”میرے آقا، مجھے ہی قصوروار ٹھہرائیں۔ مہربانی کر کے اپنی خادمہ کو بولنے دیں اور اُس کی بات سنیں۔\M3 داؤد کو دیکھ کر ابی جیل جلدی سے گدھے پر سے اُتر کر اُس کے سامنے منہ کے بل جھک گئی۔ اُس نے کہا، ”میرے آقا، مجھے ہی قصوروار ٹھہرائیں۔ مہربانی کر کے اپنی خادمہ کو بولنے دیں اور اُس کی بات سنیں۔ J0Q[ اب گزارش ہے کہ جو برکت ہمیں ملی ہے اُس میں آپ بھی شریک ہوں۔ جو چیزیں آپ کی خادمہ لائی ہے اُنہیں قبول کر کے اُن جوانوں میں تقسیم کر دیں جو میرے آقا کے پیچھے ہو لئے ہیں۔tPc لیکن رب کی اور آپ کی حیات کی قَسم، رب نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے بدلہ لینے اور قاتل بننے سے بچایا ہے۔ اور اللہ کرے کہ جو بھی آپ سے دشمنی رکھتے اور آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اُنہیں نابال کی سی سزا مل جائے۔:Oo میرے مالک اُس شریر آدمی نابال پر زیادہ دھیان نہ دیں۔ اُس کے نام کا مطلب احمق ہے اور وہ ہے ہی احمق۔ افسوس، میری اُن آدمیوں سے ملاقات نہیں ہوئی جو آپ نے ہمارے پاس بھیجے تھے۔ [|Ts جب رب اپنے تمام وعدے پورے کر کے آپ کو اسرائیل کا بادشاہ بنا دے گا\S3 جب کوئی آپ کا تعاقب کر کے آپ کو مار دینے کی کوشش کرے تو رب آپ کا خدا آپ کی جان جانداروں کی تھیلی میں محفوظ رکھے گا۔ لیکن آپ کے دشمنوں کی جان وہ فلاخن کے پتھر کی طرح دُور پھینک کر ہلاک کر دے گا۔AR} جو بھی غلطی ہوئی ہے اپنی خادمہ کو معاف کیجئے۔ رب ضرور میرے آقا کا گھرانا ہمیشہ تک قائم رکھے گا، کیونکہ آپ رب کے دشمنوں سے لڑتے ہیں۔ وہ آپ کو جیتے جی غلطیاں کرنے سے بچائے رکھے۔ MW !آپ کی بصیرت مبارک ہے! آپ مبارک ہیں، کیونکہ آپ نے مجھے اِس دن اپنے ہاتھوں سے بدلہ لے کر قاتل بننے سے روک دیا ہے۔,VS  داؤد بہت خوش ہوا۔ ”رب اسرائیل کے خدا کی تعریف ہو جس نے آج آپ کو مجھ سے ملنے کے لئے بھیج دیا۔_U9 تو کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئے گی جو ٹھوکر کا باعث ہو۔ میرے آقا کا ضمیر صاف ہو گا، کیونکہ آپ بدلہ لے کر قاتل نہیں بنے ہوں گے۔ گزارش ہے کہ جب رب آپ کو کامیابی دے تو اپنی خادمہ کو بھی یاد کریں۔“ IZ $جب ابی جیل اپنے گھر پہنچی تو دیکھا کہ بہت رونق ہے، کیونکہ نابال بادشاہ کی سی ضیافت کر کے خوشیاں منا رہا تھا۔ چونکہ وہ نشے میں دُھت تھا اِس لئے ابی جیل نے اُسے اُس وقت کچھ نہ بتایا۔zYo #داؤد نے ابی جیل کی پیش کردہ چیزیں قبول کر کے اُسے رُخصت کیا اور کہا، ”سلامتی سے جائیں۔ مَیں نے آپ کی سنی اور آپ کی بات منظور کر لی ہے۔“X "رب اسرائیل کے خدا کی قَسم جس نے مجھے آپ کو نقصان پہنچانے سے روک دیا، کل صبح نابال کے تمام آدمی ہلاک ہوتے اگر آپ اِتنی جلدی سے مجھ سے ملنے نہ آتیں۔“ oo`]; 'جب داؤد کو نابال کی موت کی خبر مل گئی تو وہ پکارا، ”رب کی تعریف ہو جس نے میرے لئے نابال سے لڑ کر میری بےعزتی کا بدلہ لیا ہے۔ اُس کی مہربانی ہے کہ مَیں غلط کام کرنے سے بچ گیا ہوں جبکہ نابال کی بُرائی اُس کے اپنے سر پر آ گئی ہے۔“ کچھ دیر کے بعد داؤد نے اپنے لوگوں کو ابی جیل کے پاس بھیجا تاکہ وہ داؤد کی اُس کے ساتھ شادی کی درخواست پیش کریں۔C\ &دس دن کے بعد رب نے اُسے مرنے دیا۔c[A %اگلی صبح جب نابال ہوش میں آ گیا تو ابی جیل نے اُسے سب کچھ کہہ سنایا۔ یہ سنتے ہی نابال کو دورہ پڑ گیا، اور وہ پتھر سا بن گیا۔ ?H6(aK +اب داؤد کی دو بیویاں تھیں، کیونکہ پہلے اُس کی شادی اخی نوعم سے ہوئی تھی جو یزرعیل سے تھی۔` *وہ جلدی سے تیار ہوئی اور گدھے پر بیٹھ کر داؤد کے ملازموں کے ساتھ روانہ ہوئی۔ پانچ نوکرانیاں اُس کے ساتھ چلی گئیں۔ یوں ابی جیل داؤد کی بیوی بن گئی۔s_a )ابی جیل کھڑی ہوئی، پھر منہ کے بل جھک کر بولی، ”مَیں اُن کی خدمت میں حاضر ہوں۔ مَیں اپنے مالک کے خادموں کے پاؤں دھونے تک تیار ہوں۔“=^u (چنانچہ اُس کے ملازم کرمل میں ابی جیل کے پاس جا کر بولے، ”داؤد نے ہمیں شادی کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔“ ,dS یہ سن کر ساؤل اسرائیل کے 3,000 چیدہ فوجیوں کو لے کر دشتِ زیف میں گیا تاکہ داؤد کو ڈھونڈ نکالے۔dc E ایک دن دشتِ زیف کے کچھ باشندے دوبارہ جِبعہ میں ساؤل کے پاس آ گئے۔ اُنہوں نے بادشاہ کو بتایا، ”ہم جانتے ہیں کہ داؤد کہاں چھپ گیا ہے۔ وہ اُس پہاڑی پر ہے جو حکیلہ کہلاتی ہے اور یشیمون کے مقابل ہے۔“b ,جہاں تک ساؤل کی بیٹی میکل کا تعلق تھا ساؤل نے اُسے داؤد سے لے کر اُس کی دوبارہ شادی فلتی ایل بن لَیس سے کروائی تھی جو جلّیم کا رہنے والا تھا۔ ygm یہ سن کر داؤد خود نکل کر چپکے سے اُس جگہ گیا جہاں ساؤل کا کیمپ تھا۔ اُس کو معلوم ہوا کہ ساؤل اور اُس کا کمانڈر ابنیر بن نیر کیمپ کے عین بیچ میں سو رہے ہیں جبکہ باقی آدمی دائرہ بنا کر اُن کے ارد گرد سو رہے ہیں۔~fw تو اُس نے اپنے لوگوں کو معلوم کرنے کے لئے بھیجا۔ اُنہوں نے واپس آ کر اُسے اطلاع دی کہ بادشاہ واقعی اپنی فوج سمیت ریگستان میں پہنچ گیا ہے۔_e9 حکیلہ پہاڑی پر یشیمون کے مقابل وہ رُک گئے۔ جو راستہ پہاڑ پر سے گزرتا ہے اُس کے پاس اُنہوں نے اپنا کیمپ لگایا۔ داؤد اُس وقت ریگستان میں چھپ گیا تھا۔ جب اُسے خبر ملی کہ ساؤل میرا تعاقب کر رہا ہے SS8ik چنانچہ دونوں رات کے وقت کیمپ میں گھس آئے۔ سوئے ہوئے فوجیوں اور ابنیر سے گزر کر وہ ساؤل تک پہنچ گئے جو زمین پر لیٹا سو رہا تھا۔ اُس کا نیزہ سر کے قریب زمین میں گڑا ہوا تھا۔mhU دو مرد داؤد کے ساتھ تھے، اخی مَلِک حِتّی اور ابی شے بن ضرویاہ۔ ضرویاہ یوآب کا بھائی تھا۔ داؤد نے پوچھا، ”کون میرے ساتھ کیمپ میں گھس کر ساؤل کے پاس جائے گا؟“ ابی شے نے جواب دیا، ”مَیں ساتھ جاؤں گا۔“ gAl}  رب کی حیات کی قَسم، رب خود ساؤل کی موت مقرر کرے گا، خواہ وہ بوڑھا ہو کر مر جائے، خواہ جنگ میں لڑتے ہوئے۔Bk  داؤد بولا، ”نہ کرو! اُسے مت مارنا، کیونکہ جو رب کے مسح کئے ہوئے خادم کو ہاتھ لگائے وہ قصوروار ٹھہرے گا۔j% ابی شے نے آہستہ سے داؤد سے کہا، ”آج اللہ نے آپ کے دشمن کو آپ کے قبضے میں کر دیا ہے۔ اگر اجازت ہو تو مَیں اُسے اُس کے اپنے نیزے سے زمین کے ساتھ چھید دوں۔ مَیں اُسے ایک ہی وار میں مار دوں گا۔ دوسرے وار کی ضرورت ہی نہیں ہو گی۔“ q~ow  داؤد وادی کو پار کر کے پہاڑی پر چڑھ گیا۔ جب ساؤل سے فاصلہ کافی تھا!n=  چنانچہ وہ دونوں چیزیں اپنے ساتھ لے کر چپکے سے چلے گئے۔ کیمپ میں کسی کو بھی پتا نہ چلا، کوئی نہ جاگا۔ سب سوئے رہے، کیونکہ رب نے اُنہیں گہری نیند سُلا دیا تھا۔fmG  رب مجھے اِس سے محفوظ رکھے کہ مَیں اُس کے مسح کئے ہوئے خادم کو نقصان پہنچاؤں۔ نہیں، ہم کچھ اَور کریں گے۔ اُس کا نیزہ اور پانی کی صراحی پکڑ لو۔ آؤ، ہم یہ چیزیں اپنے ساتھ لے کر یہاں سے نکل جاتے ہیں۔“ ?qy داؤد نے طنزاً جواب دیا، ”کیا آپ مرد نہیں ہیں؟ اور اسرائیل میں کون آپ جیسا ہے؟ تو پھر آپ نے اپنے بادشاہ کی صحیح حفاظت کیوں نہ کی جب کوئی اُسے قتل کرنے کے لئے کیمپ میں گھس آیا؟.pW تو داؤد نے فوج اور ابنیر کو اونچی آواز سے پکار کر کہا، ”اے ابنیر، کیا آپ مجھے جواب نہیں دیں گے؟“ ابنیر پکارا، ”آپ کون ہیں کہ بادشاہ کو اِس طرح کی اونچی آواز دیں؟“ Ht داؤد نے جواب دیا، ”جی، بادشاہ سلامت۔ میرے آقا، آپ میرا تعاقب کیوں کر رہے ہیں؟ مَیں تو آپ کا خادم ہوں۔ مَیں نے کیا کِیا؟ مجھ سے کیا جرم سرزد ہوا ہے؟s/ تب ساؤل نے داؤد کی آواز پہچان لی۔ وہ پکارا، ”میرے بیٹے داؤد، کیا آپ کی آواز ہے؟“4rc جو آپ نے کیا وہ ٹھیک نہیں ہے۔ رب کی حیات کی قَسم، آپ اور آپ کے آدمی سزائے موت کے لائق ہیں، کیونکہ آپ نے اپنے مالک کی حفاظت نہ کی، گو وہ رب کا مسح کیا ہوا بادشاہ ہے۔ خود دیکھ لیں، جو نیزہ اور پانی کی صراحی بادشاہ کے سر کے پاس تھے وہ کہاں ہیں؟“ 66Kv ایسا نہ ہو کہ مَیں وطن سے اور رب کے حضور سے دُور مر جاؤں۔ اسرائیل کا بادشاہ پِسّو کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے کیوں نکل آیا ہے؟ وہ تو پہاڑوں میں میرا شکار تیتر کے شکار کی طرح کر رہے ہیں۔“wui گزارش ہے کہ میرا آقا اور بادشاہ اپنے خادم کی بات سنے۔ اگر رب نے آپ کو میرے خلاف اُکسایا ہو تو وہ میری غلہ کی نذر قبول کرے۔ لیکن اگر انسان اِس کے پیچھے ہیں تو رب کے سامنے اُن پر لعنت! اپنی حرکتوں سے اُنہوں نے مجھے میری موروثی زمین سے نکال دیا ہے اور نتیجے میں مَیں رب کی قوم میں نہیں رہ سکتا۔ حقیقت میں وہ کہہ رہے ہیں، ’جاؤ، دیگر معبودوں کی پوجا کرو!‘ ^+yQ رب ہر اُس شخص کو اجر دیتا ہے جو انصاف کرتا اور وفادار رہتا ہے۔ آج رب نے آپ کو میرے حوالے کر دیا، لیکن مَیں نے اُس کے مسح کئے ہوئے بادشاہ کو ہاتھ لگانے سے انکار کیا۔*xO داؤد نے جواب میں کہا، ”بادشاہ کا نیزہ یہاں میرے پاس ہے۔ آپ کا کوئی جوان آ کر اُسے لے جائے۔w7 تب ساؤل نے اقرار کیا، ”مَیں نے گناہ کیا ہے۔ داؤد میرے بیٹے، واپس آئیں۔ اب سے مَیں آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کروں گا، کیونکہ آج میری جان آپ کی نظر میں قیمتی تھی۔ مَیں بڑی بےوقوفی کر گیا ہوں، اور مجھ سے بڑی غلطی ہوئی ہے۔“ BB#| C اِس تجربے کے بعد داؤد سوچنے لگا، ”اگر مَیں یہیں ٹھہر جاؤں تو کسی دن ساؤل مجھے مار ڈالے گا۔ بہتر ہے کہ اپنی حفاظت کے لئے فلستیوں کے ملک میں چلا جاؤں۔ تب ساؤل پورے اسرائیل میں میرا کھوج لگانے سے باز آئے گا، اور مَیں محفوظ رہوں گا۔“{ ساؤل نے جواب دیا، ”میرے بیٹے داؤد، رب آپ کو برکت دے۔ آئندہ آپ کو بڑی کامیابی حاصل ہو گی۔“ اِس کے بعد داؤد نے اپنی راہ لی اور ساؤل اپنے گھر چلا گیا۔ }zu اور میری دعا ہے کہ جتنی قیمتی آپ کی جان آج میری نظر میں تھی، اُتنی قیمتی میری جان بھی رب کی نظر میں ہو۔ وہی مجھے ہر مصیبت سے بچائے رکھے۔“ E  "-8CNYdoz )4?JU`kv%0;FQ\gr}                                                                                                                                                                    !  "  #  $  %  &  ' qkOq:o ایک دن داؤد نے اَکیس سے بات کی، ”اگر آپ کی نظرِ کرم مجھ پر ہے تو مجھے دیہات کی کسی آبادی میں رہنے کی اجازت دیں۔ کیا ضرورت ہے کہ مَیں یہاں آپ کے ساتھ دار الحکومت میں رہوں؟“3 جب ساؤل کو خبر ملی کہ داؤد نے جات میں پناہ لی ہے تو وہ اُس کا کھوج لگانے سے باز آیا۔~+ اُن کے خاندان ساتھ تھے۔ داؤد کی دو بیویاں اخی نوعم یزرعیلی اور نابال کی بیوہ ابی جیل کرملی بھی ساتھ تھیں۔ اَکیس نے اُنہیں جات شہر میں رہنے کی اجازت دی۔} چنانچہ وہ اپنے 600 آدمیوں کو لے کر جات کے بادشاہ اَکیس بن معوک کے پاس چلا گیا۔ 9-9 صِقلاج سے داؤد اپنے آدمیوں کے ساتھ مختلف جگہوں پر حملہ کرنے کے لئے نکلتا رہا۔ کبھی وہ جسوریوں پر دھاوا بولتے، کبھی جرزیوں یا عمالیقیوں پر۔ یہ قبیلے قدیم زمانے سے یہوداہ کے جنوب میں شور اور مصر کی سرحد تک رہتے تھے۔eE داؤد ایک سال اور چار مہینے فلستی ملک میں ٹھہرا رہا۔O اَکیس متفق ہوا۔ اُس دن اُس نے اُسے صِقلاج شہر دے دیا۔ یہ شہر اُس وقت سے یہوداہ کے بادشاہوں کی ملکیت میں رہا ہے۔ 3b3+Q  تو وہ پوچھتا، ”آج آپ نے کس پر چھاپہ مارا؟“ پھر داؤد جواب دیتا، ”یہوداہ کے جنوبی علاقے پر،“ یا ”یرحمئیلیوں کے جنوبی علاقے پر،“ یا ”قینیوں کے جنوبی علاقے پر۔“/  جب بھی کوئی مقام داؤد کے قبضے میں آ جاتا تو وہ کسی بھی مرد یا عورت کو زندہ نہ رہنے دیتا لیکن بھیڑبکریوں، گائےبَیلوں، گدھوں، اونٹوں اور کپڑوں کو اپنے ساتھ صِقلاج لے جاتا۔ جب بھی داؤد کسی حملے سے واپس آ کر بادشاہ اَکیس سے ملتا 9m  اَکیس نے داؤد پر پورا بھروسا کیا، کیونکہ اُس نے سوچا، ”اب داؤد کو ہمیشہ تک میری خدمت میں رہنا پڑے گا، کیونکہ ایسی حرکتوں سے اُس کی اپنی قوم اُس سے سخت متنفر ہو گئی ہے۔“ !  جب بھی داؤد کسی آبادی پر حملہ کرتا تو وہ تمام باشندوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیتا اور نہ مرد، نہ عورت کو زندہ چھوڑ کر جات لاتا۔ کیونکہ اُس نے سوچا، ”ایسا نہ ہو کہ فلستیوں کو پتا چلے کہ مَیں اصل میں اسرائیلی آبادیوں پر حملہ نہیں کر رہا۔“ جتنا وقت داؤد نے فلستی ملک میں گزارا وہ ایسا ہی کرتا رہا۔   داؤد نے جواب دیا، ”ضرور۔ اب آپ خود دیکھیں گے کہ آپ کا خادم کیا کرنے کے قابل ہے!“ اَکیس بولا، ”ٹھیک ہے۔ پوری جنگ کے دوران آپ میرے محافظ ہوں گے۔“0 ] اُن دنوں میں فلستی اسرائیل سے لڑنے کے لئے اپنی فوجیں جمع کرنے لگے۔ اَکیس نے داؤد سے بھی بات کی، ”توقع ہے کہ آپ اپنے فوجیوں سمیت میرے ساتھ مل کر جنگ کے لئے نکلیں گے۔“ %Nj%] 5 اُس نے رب سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہ ملا، نہ خواب، نہ مُقدّس قرعہ ڈالنے سے اور نہ نبیوں کی معرفت۔a = فلستیوں کی بڑی فوج دیکھ کر وہ سخت دہشت کھانے لگا۔` ; اب فلستیوں نے اپنی لشکرگاہ شونیم کے پاس لگائی جبکہ ساؤل نے تمام اسرائیلیوں کو جمع کر کے جِلبوعہ کے پاس اپنا کیمپ لگایا۔. W اُس وقت سموایل انتقال کر چکا تھا، اور پورے اسرائیل نے اُس کا ماتم کر کے اُسے اُس کے آبائی شہر رامہ میں دفنایا تھا۔ اُن دنوں میں اسرائیل میں مُردوں سے رابطہ کرنے والے اور غیب دان نہیں تھے، کیونکہ ساؤل نے اُنہیں پورے ملک سے نکال دیا تھا۔ SScA ساؤل بھیس بدل کر دو آدمیوں کے ساتھ عین دور کے لئے روانہ ہوا۔ رات کے وقت وہ جادوگرنی کے پاس پہنچ گیا اور بولا، ”مُردوں سے رابطہ کر کے اُس روح کو پاتال سے بُلا دیں جس کا نام مَیں آپ کو بتاتا ہوں۔“B تب ساؤل نے اپنے ملازموں کو حکم دیا، ”میرے لئے مُردوں سے رابطہ کرنے والی ڈھونڈو تاکہ مَیں جا کر اُس سے معلومات حاصل کر لوں۔“ ملازموں نے جواب دیا، ”عین دور میں ایسی عورت ہے۔“ %E  جب سموایل عورت کو نظر آیا تو وہ چیخ اُٹھی، ”آپ نے مجھے کیوں دھوکا دیا؟ آپ تو ساؤل ہیں!“  عورت نے پوچھا، ”مَیں کس کو بُلاؤں؟ ساؤل نے جواب دیا، ”سموایل کو بُلا دیں۔“  تب ساؤل نے کہا، ”رب کی حیات کی قَسم، آپ کو یہ کرنے کے لئے سزا نہیں ملے گی۔“S!  جادوگرنی نے اعتراض کیا، ”کیا آپ مجھے مروانا چاہتے ہیں؟ آپ کو پتا ہے کہ ساؤل نے تمام غیب دانوں اور مُردوں سے رابطہ کرنے والوں کو ملک میں سے مٹا دیا ہے۔ آپ مجھے کیوں پھنسانا چاہتے ہیں؟“ 5e ساؤل نے پوچھا، ”اُس کی شکل و صورت کیسی ہے؟“ جادوگرنی نے کہا، ”چوغے میں لپٹا ہوا بوڑھا آدمی ہے۔“ یہ سن کر ساؤل نے جان لیا کہ سموایل ہی ہے۔ وہ منہ کے بل زمین پر جھک گیا۔,S  ساؤل نے اُسے تسلی دے کر کہا، ”ڈریں مت۔ بتائیں تو سہی، کیا دیکھ رہی ہیں؟“ عورت نے جواب دیا، ”مجھے ایک روح نظر آ رہی ہے جو چڑھتی چڑھتی زمین میں سے نکل کر آ رہی ہے۔“ F لیکن سموایل نے کہا، ”رب خود ہی تجھے چھوڑ کر تیرا دشمن بن گیا ہے تو پھر مجھ سے دریافت کرنے کا کیا فائدہ ہے؟7 سموایل بولا، ”تُو نے مجھے پاتال سے بُلوا کر کیوں مضطرب کر دیا ہے؟“ ساؤل نے جواب دیا، ”مَیں بڑی مصیبت میں ہوں۔ فلستی مجھ سے لڑ رہے ہیں، اور اللہ نے مجھے ترک کر دیا ہے۔ نہ وہ نبیوں کی معرفت مجھے ہدایت دیتا ہے، نہ خواب کے ذریعے۔ اِس لئے مَیں نے آپ کو بُلوایا ہے تاکہ آپ مجھے بتائیں کہ مَیں کیا کروں۔“   رب تجھے اسرائیل سمیت فلستیوں کے حوالے کر دے گا۔ کل ہی تُو اور تیرے بیٹے یہاں میرے پاس پہنچیں گے۔ رب تیری پوری فوج بھی فلستیوں کے قبضے میں کر دے گا۔“eE جب رب نے تجھے عمالیقیوں پر اُس کا سخت غضب نازل کرنے کا حکم دیا تھا تو تُو نے اُس کی نہ سنی۔ اب تجھے اِس کی سزا بھگتنی پڑے گی۔  رب اِس وقت تیرے ساتھ وہ کچھ کر رہا ہے جس کی پیش گوئی اُس نے میری معرفت کی تھی۔ اُس نے تیرے ہاتھ سے بادشاہی چھین کر کسی اَور یعنی داؤد کو دے دی ہے۔ !!@{ اب ذرا میری بھی سنیں۔ مجھے اجازت دیں کہ مَیں آپ کو کچھ کھانا کھلاؤں تاکہ آپ تقویت پا کر واپس جا سکیں۔“ جب جادوگرنی نے ساؤل کے پاس جا کر دیکھا کہ اُس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں تو اُس نے کہا، ”جناب، مَیں نے آپ کا حکم مان کر اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔  یہ سن کر ساؤل سخت گھبرا گیا، اور وہ گر کر زمین پر دراز ہو گیا۔ جسم کی پوری طاقت ختم ہو گئی تھی، کیونکہ اُس نے پچھلے پورے دن اور رات روزہ رکھا تھا۔ ;! s فلستیوں نے اپنی فوجوں کو افیق کے پاس جمع کیا، جبکہ اسرائیلیوں کی لشکرگاہ یزرعیل کے چشمے کے پاس تھی۔[ 1 پھر اُس نے کھانا ساؤل اور اُس کے ملازموں کے سامنے رکھ دیا، اور اُنہوں نے کھایا۔ پھر وہ اُسی رات دوبارہ روانہ ہو گئے۔  جادوگرنی کے پاس موٹا تازہ بچھڑا تھا۔ اُسے اُس نے جلدی سے ذبح کروا کر تیار کیا۔ اُس نے کچھ آٹا بھی لے کر گوندھا اور اُس سے بےخمیری روٹی بنائی۔E لیکن ساؤل نے انکار کیا، ”مَیں کچھ نہیں کھاؤں گا۔“ تب اُس کے آدمیوں نے عورت کے ساتھ مل کر اُسے بہت سمجھایا، اور آخرکار اُس نے اُن کی سنی۔ وہ زمین سے اُٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ V#' یہ دیکھ کر فلستی کمانڈروں نے پوچھا، ”یہ اسرائیلی کیوں ساتھ جا رہے ہیں؟“ اَکیس نے جواب دیا، ”یہ داؤد ہے، جو پہلے اسرائیلی بادشاہ ساؤل کا فوجی افسر تھا اور اب کافی دیر سے میرے ساتھ ہے۔ جب سے وہ ساؤل کو چھوڑ کر میرے پاس آیا ہے مَیں نے اُس میں عیب نہیں دیکھا۔“"! فلستی سردار جنگ کے لئے نکلنے لگے۔ اُن کے پیچھے سَو سَو اور ہزار ہزار سپاہیوں کے گروہ ہو لئے۔ آخر میں داؤد اور اُس کے آدمی بھی اَکیس کے ساتھ چلنے لگے۔ [4[U%% کیا یہ وہی داؤد نہیں جس کے بارے میں اسرائیلی ناچتے ہوئے گاتے تھے، ’ساؤل نے ہزار ہلاک کئے جبکہ داؤد نے دس ہزار‘؟“H$ لیکن فلستی کمانڈر غصے سے بولے، ”اُسے اُس شہر واپس بھیج دیں جو آپ نے اُس کے لئے مقرر کیا ہے! کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ہمارے ساتھ نکل کر اچانک ہم پر ہی حملہ کر دے۔ کیا اپنے مالک سے صلح کرانے کا کوئی بہتر طریقہ ہے کہ وہ اپنے مالک کو ہمارے کٹے ہوئے سر پیش کرے؟ <2<X(+ داؤد نے پوچھا، ”مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے؟ کیا آپ نے اُس دن سے مجھ میں نقص پایا ہے جب سے مَیں آپ کی خدمت کرنے لگا ہوں؟ مَیں اپنے مالک اور بادشاہ کے دشمنوں سے لڑنے کے لئے کیوں نہیں نکل سکتا؟“'' اِس لئے مہربانی کر کے سلامتی سے لوٹ جائیں اور کچھ نہ کریں جو اُنہیں بُرا لگے۔“J& چنانچہ اَکیس نے داؤد کو بُلا کر کہا، ”رب کی حیات کی قَسم، آپ دیانت دار ہیں، اور میری خواہش تھی کہ آپ اسرائیل سے لڑنے کے لئے میرے ساتھ نکلیں، کیونکہ جب سے آپ میری خدمت کرنے لگے ہیں مَیں نے آپ میں عیب نہیں دیکھا۔ لیکن افسوس، آپ سرداروں کو پسند نہیں ہیں۔ u+e  داؤد اور اُس کے آدمیوں نے ایسا ہی کیا۔ اگلے دن وہ صبح سویرے اُٹھ کر فلستی ملک میں واپس چلے گئے جبکہ فلستی یزرعیل کے لئے روانہ ہوئے۔ b*?  چنانچہ کل صبح سویرے اُٹھ کر اپنے آدمیوں کے ساتھ روانہ ہو جانا۔ جب دن چڑھے تو دیر نہ کرنا بلکہ جلدی سے اپنے گھر چلے جانا۔“)/  اَکیس نے جواب دیا، ”میرے نزدیک تو آپ اللہ کے فرشتے جیسے اچھے ہیں۔ لیکن فلستی کمانڈر اِس بات پر بضد ہیں کہ آپ اسرائیل سے لڑنے کے لئے ہمارے ساتھ نہ نکلیں۔ %/ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے، اِتنے روئے کہ آخرکار رونے کی سکت ہی نہ رہی۔:.o چنانچہ جب داؤد اور اُس کے آدمی واپس آئے تو دیکھا کہ شہر بھسم ہو گیا ہے اور تمام بال بچے چھن گئے ہیں۔l-S وہ تمام باشندوں کو چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ لیکن کوئی ہلاک نہیں ہوا تھا بلکہ وہ سب کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔), O تیسرے دن جب داؤد صِقلاج پہنچا تو دیکھا کہ شہر کا ستیاناس ہو گیا ہے۔ اُن کی غیرموجودگی میں عمالیقیوں نے دشتِ نجب میں آ کر صِقلاج پر بھی حملہ کیا تھا۔ شہر کو جلا کر dE2 اُس نے ابیاتر بن ابی ملک کو حکم دیا، ”قرعہ ڈالنے کے لئے امام کا بالاپوش لے آئیں۔“ جب امام بالاپوش لے آیا1 داؤد کی جان بڑے خطرے میں آ گئی، کیونکہ اُس کے مرد غم کے مارے آپس میں اُسے سنگسار کرنے کی باتیں کرنے لگے۔ کیونکہ بیٹے بیٹیوں کے چھن جانے کے باعث سب سخت رنجیدہ تھے۔ لیکن داؤد نے رب اپنے خدا میں پناہ لے کر تقویت پائی۔0+ داؤد کی دو بیویوں اخی نوعم یزرعیلی اور ابی جیل کرملی کو بھی اسیر کر لیا گیا تھا۔ <s<35a  تب داؤد اپنے 600 مردوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ چلتے چلتے وہ بسور ندی کے پاس پہنچ گئے۔ 200 افراد اِتنے نڈھال ہو گئے تھے کہ وہ وہیں رُک گئے۔ باقی 400 مرد ندی کو پار کر کے آگے بڑھے۔34a  تب داؤد اپنے 600 مردوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ چلتے چلتے وہ بسور ندی کے پاس پہنچ گئے۔ 200 افراد اِتنے نڈھال ہو گئے تھے کہ وہ وہیں رُک گئے۔ باقی 400 مرد ندی کو پار کر کے آگے بڑھے۔R3 تو داؤد نے رب سے دریافت کیا، ”کیا مَیں لٹیروں کا تعاقب کروں؟ کیا مَیں اُن کو جا لوں گا؟“ رب نے جواب دیا، ”اُن کا تعاقب کر! تُو نہ صرف اُنہیں جا لے گا بلکہ اپنے لوگوں کو بچا بھی لے گا۔“ 7F8  داؤد نے پوچھا، ”تمہارا مالک کون ہے، اور تم کہاں کے ہو؟“ اُس نے جواب دیا، ”مَیں مصری غلام ہوں، اور ایک عمالیقی میرا مالک ہے۔ جب مَیں سفر کے دوران بیمار ہو گیا تو اُس نے مجھے یہاں چھوڑ دیا۔ اب مَیں تین دن سے یہاں پڑا ہوں۔m7U  انجیر کی ٹکی کا ٹکڑا اور کشمش کی دو ٹکیاں کھلائیں۔ تب اُس کی جان میں جان آ گئی۔ اُسے تین دن اور رات سے نہ کھانا، نہ پانی ملا تھا۔E6  راستے میں اُنہیں کھلے میدان میں ایک مصری آدمی ملا اور اُسے داؤد کے پاس لا کر کچھ پانی پلایا اور کچھ روٹی، :) داؤد نے سوال کیا، ”کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہ لٹیرے کس طرف گئے ہیں؟“ مصری نے جواب دیا، ”پہلے اللہ کی قَسم کھا کر وعدہ کریں کہ آپ مجھے نہ ہلاک کریں گے، نہ میرے مالک کے حوالے کریں گے۔ پھر مَیں آپ کو اُن کے پاس لے جاؤں گا۔“Q9 پہلے ہم نے کریتیوں یعنی فلستیوں کے جنوبی علاقے اور پھر یہوداہ کے علاقے پر حملہ کیا تھا، خاص کر یہوداہ کے جنوبی حصے پر جہاں کالب کی اولاد آباد ہے۔ شہر صِقلاج کو ہم نے بھسم کر دیا تھا۔“ 1=] داؤد نے سب کچھ چھڑا لیا جو عمالیقیوں نے لُوٹ لیا تھا۔ اُس کی دو بیویاں بھی صحیح سلامت مل گئیں۔M< صبح سویرے جب ابھی تھوڑی روشنی تھی داؤد نے اُن پر حملہ کیا۔ لڑتے لڑتے اگلے دن کی شام ہو گئی۔ دشمن ہار گیا اور سب کے سب ہلاک ہوئے۔ صرف 400 جوان بچ گئے جو اونٹوں پر سوار ہو کر فرار ہو گئے۔e;E چنانچہ وہ داؤد کو عمالیقی لٹیروں کے پاس لے گیا۔ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ عمالیقی اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے بڑا جشن منا رہے ہیں۔ وہ ہر طرف کھانا کھاتے اور مَے پیتے ہوئے نظر آ رہے تھے، کیونکہ جو مال اُنہوں نے فلستیوں اور یہوداہ کے علاقے سے لُوٹ لیا تھا وہ بہت زیادہ تھا۔ N@7 جب داؤد اپنے آدمیوں کے ساتھ واپس آ رہا تھا تو جو 200 آدمی نڈھال ہونے کے باعث بسور ندی سے آگے نہ جا سکے وہ بھی اُن سے آملے۔ داؤد نے سلام کر کے اُن کا حال پوچھا۔0?[ عمالیقیوں کے گائےبَیل اور بھیڑبکریاں داؤد کا حصہ بن گئیں، اور اُس کے لوگوں نے اُنہیں اپنے ریوڑوں کے آگے آگے ہانک کر کہا، ”یہ لُوٹے ہوئے مال میں سے داؤد کا حصہ ہے۔“.>W نہ بچہ نہ بزرگ، نہ بیٹا نہ بیٹی، نہ مال یا کوئی اَور لُوٹی ہوئی چیز رہی جو داؤد واپس نہ لایا۔ ]]DC تو پھر ہم آپ کی بات کس طرح مانیں؟ جو پیچھے رہ کر سامان کی حفاظت کر رہا تھا اُسے بھی اُتنا ہی ملے گا جتنا کہ اُسے جو دشمن سے لڑنے گیا تھا۔ ہم یہ سب کچھ برابر برابر تقسیم کریں گے۔“B} لیکن داؤد نے انکار کیا۔ ”نہیں، میرے بھائیو، ایسا مت کرنا! یہ سب کچھ رب کی طرف سے ہے۔ اُسی نے ہمیں محفوظ رکھ کر حملہ آور لٹیروں پر فتح بخشی۔RA لیکن باقی آدمیوں میں کچھ شرارتی لوگ بڑبڑانے لگے، ”یہ ہمارے ساتھ لڑنے کے لئے آگے نہ نکلے، اِس لئے اِنہیں لُوٹے ہوئے مال کا حصہ پانے کا حق نہیں۔ بس وہ اپنے بال بچوں کو لے کر چلے جائیں۔“ G$/9DOZep{  +6ALWbmx$.8BLV`jt~     )   *   +   ,  -  .  /  0     )   *   +   ,  -  .  /  0  1  2  3   4   5   6   7   8  9  :  ;  <  =  >  ?  @  A  B  C  D  E  F  G  H  I  J   K  L  M  N  O  P  Q  R   S   T   U   V   W  X   Y   Z   [   \   ]   ^   _   `   a   b   c   d   e   f   g   h   i   j   k   l   m   n   o %Yp7%H رکل، حُرمہ، بورعسان، عتاک اور حبرون۔ اِس کے علاوہ اُس نے تحفے یرحمئیلیوں، قینیوں اور باقی اُن تمام شہروں کو بھیج دیئے جن میں وہ کبھی ٹھہرا تھا۔ 6Gi عروعیر، سِفموت، اِستموع،F یہ تحفے اُس نے ذیل کے شہروں میں بھیج دیئے: بیت ایل، رامات نجب، یتیر،_E9 صِقلاج واپس پہنچنے پر داؤد نے لُوٹے ہوئے مال کا ایک حصہ یہوداہ کے بزرگوں کے پاس بھیج دیا جو اُس کے دوست تھے۔ ساتھ ساتھ اُس نے پیغام بھیجا، ”آپ کے لئے یہ تحفہ رب کے دشمنوں سے لُوٹ لیا گیا ہے۔“#DA اُس وقت سے یہ اصول بن گیا۔ داؤد نے اِسے اسرائیلی قانون کا حصہ بنا دیا جو آج تک جاری ہے۔ K % اِتنے میں فلستیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی تھی۔ لڑتے لڑتے اسرائیلی فرار ہونے لگے، لیکن بہت سے لوگ جِلبوعہ کے پہاڑی سلسلے پر شہید ہو گئے۔J رکل، حُرمہ، بورعسان، عتاک اور حبرون۔ اِس کے علاوہ اُس نے تحفے یرحمئیلیوں، قینیوں اور باقی اُن تمام شہروں کو بھیج دیئے جن میں وہ کبھی ٹھہرا تھا۔ I رکل، حُرمہ، بورعسان، عتاک اور حبرون۔ اِس کے علاوہ اُس نے تحفے یرحمئیلیوں، قینیوں اور باقی اُن تمام شہروں کو بھیج دیئے جن میں وہ کبھی ٹھہرا تھا۔ =@=O1 جب سلاح بردار نے دیکھا کہ میرا مالک مر گیا ہے تو وہ بھی اپنی تلوار پر گر کر مر گیا۔"N? اُس نے اپنے سلاح بردار کو حکم دیا، ”اپنی تلوار میان سے کھینچ کر مجھے مار ڈال، ورنہ یہ نامختون مجھے چھید کر بےعزت کریں گے۔“ لیکن سلاح بردار نے انکار کیا، کیونکہ وہ بہت ڈرا ہوا تھا۔ آخر میں ساؤل اپنی تلوار لے کر خود اُس پر گر گیا۔:Mo جبکہ لڑائی ساؤل کے ارد گرد عروج تک پہنچ گئی۔ پھر وہ تیراندازوں کا نشانہ بن کر بُری طرح زخمی ہو گیا۔IT_ju$/:EP[fq|    q   r   s  t  u  v  w  x  y    q   r   s  t  u  v  w  x  y  z   {   |   }   ~                                                                                                                   !  "  #  L)M اُس پوری رات کے دوران ابنیر اور اُس کے آدمی چلتے گئے۔ دریائے یردن کی وادی میں سے گزر کر اُنہوں نے دریا کو پار کیا اور پھر گہری گھاٹی میں سے ہو کر محنائم پہنچ گئے۔;q اُس نے نرسنگا بجا دیا، اور اُس کے آدمی رُک کر دوسروں کا تعاقب کرنے سے باز آئے۔ یوں لڑائی ختم ہو گئی۔q ] یوآب نے جواب دیا، ”رب کی حیات کی قَسم، اگر آپ لڑنے کا حکم نہ دیتے تو میرے لوگ آج صبح ہی اپنے بھائیوں کا تعاقب کرنے سے باز آ جاتے۔“ J~ y ساؤل کے بیٹے اِشبوست اور داؤد کے درمیان یہ جنگ بڑی دیر تک جاری رہی۔ لیکن آہستہ آہستہ داؤد زور پکڑتا گیا جبکہ اِشبوست کی طاقت کم ہوتی گئی۔.W  یوآب اور اُس کے ساتھیوں نے عساہیل کی لاش اُٹھا کر اُسے بیت لحم میں اُس کے باپ کی قبر میں دفن کیا۔ پھر اُسی رات اپنا سفر جاری رکھ کر وہ پَو پھٹتے وقت حبرون پہنچ گئے۔  اِس کے مقابلے میں ابنیر کے 360 آدمی ہلاک ہوئے تھے۔ سب بن یمین کے قبیلے کے تھے۔5 یوآب بھی ابنیر اور اُس کے لوگوں کو چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ جب اُس نے اپنے آدمیوں کو جمع کر کے گنا تو معلوم ہوا کہ عساہیل کے علاوہ داؤد کے 19 آدمی مارے گئے ہیں۔ 9LD96g جتنی دیر تک اِشبوست اور داؤد کے درمیان جنگ رہی، اُتنی دیر تک ابنیر ساؤل کے گھرانے کا وفادار رہا۔% چھٹے کا نام اِترعام تھا۔ اُس کی ماں عِجلہ تھی۔ یہ چھ بیٹے حبرون میں پیدا ہوئے۔4c چوتھے کا نام ادونیاہ تھا۔ اُس کی ماں حجیت تھی۔ پانچواں بیٹا صفطیاہ تھا۔ اُس کی ماں ابی طال تھی۔ پھر کلاب پیدا ہوا جس کی ماں نابال کی بیوہ ابی جیل کرملی تھی۔ تیسرا بیٹا ابی سلوم تھا۔ اُس کی ماں معکہ تھی جو جسور کے بادشاہ تلمی کی بیٹی تھی۔0[ حبرون میں داؤد کے بعض بیٹے پیدا ہوئے۔ پہلے کا نام امنون تھا۔ اُس کی ماں اخی نوعم یزرعیلی تھی۔ ]],S ابنیر بڑے غصے میں آ کر گرجا، ”کیا مَیں یہوداہ کا کُتا ہوں کہ آپ مجھے ایسا رویہ دکھاتے ہیں؟ آج تک مَیں آپ کے باپ کے گھرانے اور اُس کے رشتے داروں اور دوستوں کے لئے لڑتا رہا ہوں۔ میری ہی وجہ سے آپ اب تک داؤد کے ہاتھ سے بچے رہے ہیں۔ کیا یہ اِس کا معاوضہ ہے؟ کیا ایک ایسی عورت کے سبب سے آپ مجھے مجرم ٹھہرا رہے ہیں؟oY لیکن ایک دن اِشبوست ابنیر سے ناراض ہوا، کیونکہ وہ ساؤل مرحوم کی ایک داشتہ سے ہم بستر ہو گیا تھا۔ عورت کا نام رِصفہ بنت ایّاہ تھا۔ اِشبوست نے شکایت کی، ”آپ نے میرے باپ کی داشتہ سے ایسا سلوک کیوں کیا؟“ |>|>w  اللہ مجھے سخت سزا دے اگر اب سے ہر ممکن کوشش نہ کروں کہ داؤد پورے اسرائیل اور یہوداہ پر بادشاہ بن جائے، شمال میں دان سے لے کر جنوب میں بیرسبع تک۔ آخر رب نے خود قَسم کھا کر داؤد سے وعدہ کیا ہے کہ مَیں بادشاہی ساؤل کے گھرانے سے چھین کر تجھے دوں گا۔“>w  اللہ مجھے سخت سزا دے اگر اب سے ہر ممکن کوشش نہ کروں کہ داؤد پورے اسرائیل اور یہوداہ پر بادشاہ بن جائے، شمال میں دان سے لے کر جنوب میں بیرسبع تک۔ آخر رب نے خود قَسم کھا کر داؤد سے وعدہ کیا ہے کہ مَیں بادشاہی ساؤل کے گھرانے سے چھین کر تجھے دوں گا۔“ SqUS~ w داؤد نے اِشبوست کے پاس بھی قاصد بھیج کر تقاضا کیا، ”مجھے میری بیوی میکل جس سے شادی کرنے کے لئے مَیں نے سَو فلستیوں کو مارا واپس کر دیں۔“:o  داؤد نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، مَیں آپ کے ساتھ معاہدہ کرتا ہوں۔ لیکن ایک ہی شرط پر، آپ ساؤل کی بیٹی میکل کو جو میری بیوی ہے میرے گھر پہنچائیں، ورنہ مَیں آپ سے نہیں ملوں گا۔“Z/  ابنیر نے داؤد کو پیغام بھیجا، ”ملک کس کا ہے؟ میرے ساتھ معاہدہ کر لیں تو مَیں پورے اسرائیل کو آپ کے ساتھ ملا دوں گا۔“   یہ سن کر اِشبوست ابنیر سے اِتنا ڈر گیا کہ مزید کچھ کہنے کی جرٲت جاتی رہی۔  5O +$Q اب قدم اُٹھانے کا وقت آ گیا ہے! کیونکہ رب نے داؤد سے وعدہ کیا ہے، ’اپنے خادم داؤد سے مَیں اپنی قوم اسرائیل کو فلستیوں اور باقی تمام دشمنوں کے ہاتھ سے بچاؤں گا‘۔“<#s ابنیر نے اسرائیل کے بزرگوں سے بھی بات کی، ”آپ تو کافی دیر سے چاہتے ہیں کہ داؤد آپ کا بادشاہ بن جائے۔""? لیکن فلتی ایل اُسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ روتے روتے بحوریم تک اپنی بیوی کے پیچھے چلتا رہا۔ تب ابنیر نے اُس سے کہا، ”اب جاؤ! واپس چلے جاؤ!“ تب وہ واپس چلا۔G! اِشبوست مان گیا۔ اُس نے حکم دیا کہ میکل کو اُس کے موجودہ شوہر فلطی ایل بن لَیس سے لے کر داؤد کو بھیجا جائے۔ I?Ir'_ پھر ابنیر نے داؤد سے کہا، ”اب مجھے اجازت دیں۔ مَیں اپنے آقا اور بادشاہ کے لئے تمام اسرائیل کو جمع کر لوں گا تاکہ وہ آپ کے ساتھ عہد باندھ کر آپ کو اپنا بادشاہ بنا لیں۔ پھر آپ اُس پورے ملک پر حکومت کریں گے جس طرح آپ کا دل چاہتا ہے۔“ پھر داؤد نے ابنیر کو سلامتی سے رُخصت کر دیا۔&! بیس آدمی ابنیر کے ساتھ حبرون پہنچ گئے۔ اُن کا استقبال کر کے داؤد نے ضیافت کی۔&%G یہی بات ابنیر نے بن یمین کے بزرگوں کے پاس جا کر بھی کی۔ اِس کے بعد وہ حبرون میں داؤد کے پاس آیا تاکہ اُس کے سامنے اسرائیل اور بن یمین کے بزرگوں کا فیصلہ پیش کرے۔ \\$*C یوآب فوراً بادشاہ کے پاس گیا اور بولا، ”آپ نے یہ کیا کِیا ہے؟ جب ابنیر آپ کے پاس آیا تو آپ نے اُسے کیوں سلامتی سے رُخصت کیا؟ اب اُسے پکڑنے کا موقع جاتا رہا ہے۔) جب یوآب اپنے آدمیوں کے ساتھ شہر میں داخل ہوا تو اُسے اطلاع دی گئی، ”ابنیر بن نیر بادشاہ کے پاس تھا، اور بادشاہ نے اُسے سلامتی سے رُخصت کر دیا ہے۔“d(C تھوڑی دیر کے بعد یوآب داؤد کے آدمیوں کے ساتھ کسی لڑائی سے واپس آیا۔ اُن کے پاس بہت سا لُوٹا ہوا مال تھا۔ لیکن ابنیرحبرون میں داؤد کے پاس نہیں تھا، کیونکہ داؤد نے اُسے سلامتی سے رُخصت کر دیا تھا۔ ,} یوآب نے دربار سے نکل کر قاصدوں کو ابنیر کے پیچھے بھیج دیا۔ وہ ابھی سفر کرتے کرتے سیرہ کے حوض پر سے گزر رہا تھا کہ قاصد اُس کے پاس پہنچ گئے۔ اُن کی دعوت پر وہ اُن کے ساتھ واپس گیا۔ لیکن بادشاہ کو اِس کا علم نہ تھا۔f+G آپ تو اُسے جانتے ہیں۔ حقیقت میں وہ اِس لئے آیا کہ آپ کو منوا کر آپ کے آنے جانے اور باقی کاموں کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔“ iir._ جب داؤد کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے اعلان کیا، ”مَیں رب کے سامنے قَسم کھاتا ہوں کہ بےقصور ہوں۔ میرا ابنیر کی موت میں ہاتھ نہیں تھا۔ اِس ناتے سے مجھ پر اور میری بادشاہی پر کبھی بھی الزام نہ لگایا جائے،-5 جب ابنیر دوبارہ حبرون میں داخل ہونے لگا تو یوآب شہر کے دروازے میں اُس کا استقبال کر کے اُسے ایک طرف لے گیا جیسے وہ اُس کے ساتھ کوئی خفیہ بات کرنا چاہتا ہو۔ لیکن اچانک اُس نے اپنی تلوار کو میان سے کھینچ کر ابنیر کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ اِس طرح یوآب نے اپنے بھائی عساہیل کا بدلہ لے کر ابنیر کو مار ڈالا۔ ;0q یوں یوآب اور اُس کے بھائی ابی شے نے اپنے بھائی عساہیل کا بدلہ لیا۔ اُنہوں نے ابنیر کو اِس لئے قتل کیا کہ اُس نے عساہیل کو جِبعون کے قریب لڑتے وقت موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔%/E کیونکہ یوآب اور اُس کے باپ کا گھرانا قصوروار ہیں۔ رب اُسے اور اُس کے باپ کے گھرانے کو مناسب سزا دے۔ اب سے ابد تک اُس کی ہر نسل میں کوئی نہ کوئی ہو جسے ایسے زخم لگ جائیں جو بھر نہ پائیں، کسی کو کوڑھ لگ جائے، کسی کو بےساکھیوں کی مدد سے چلنا پڑے، کوئی غیرطبعی موت مر جائے، یا کسی کو خوراک کی مسلسل کمی رہے۔“ GRGZ3/ !پھر داؤد نے ابنیر کے بارے میں ماتمی گیت گایا،*2O  داؤد نے یوآب اور اُس کے ساتھیوں کو حکم دیا، ”اپنے کپڑے پھاڑ دو اور ٹاٹ اوڑھ کر ابنیر کا ماتم کرو!“ جنازے کا بندوبست حبرون میں کیا گیا۔ داؤد خود جنازے کے عین پیچھے چلا۔ قبر پر بادشاہ اونچی آواز سے رو پڑا، اور باقی سب لوگ بھی رونے لگے۔*1O داؤد نے یوآب اور اُس کے ساتھیوں کو حکم دیا، ”اپنے کپڑے پھاڑ دو اور ٹاٹ اوڑھ کر ابنیر کا ماتم کرو!“ جنازے کا بندوبست حبرون میں کیا گیا۔ داؤد خود جنازے کے عین پیچھے چلا۔ قبر پر بادشاہ اونچی آواز سے رو پڑا، اور باقی سب لوگ بھی رونے لگے۔ ?$6C $بادشاہ کا یہ رویہ لوگوں کو بہت پسند آیا۔ ویسے بھی داؤد کا ہر عمل لوگوں کو پسند آتا تھا۔D5 #داؤد نے جنازے کے دن روزہ رکھا۔ سب نے منت کی کہ وہ کچھ کھائے، لیکن اُس نے قَسم کھا کر کہا، ”اللہ مجھے سخت سزا دے اگر مَیں سورج کے غروب ہونے سے پہلے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی کھا لوں۔“u4e "”ہائے، ابنیرکیوں بےدین کی طرح مارا گیا؟ تیرے ہاتھ بندھے ہوئے نہ تھے، تیرے پاؤں زنجیروں میں جکڑے ہوئے نہ تھے۔ جس طرح کوئی شریروں کے ہاتھ میں آ کر مر جاتا ہے اُسی طرح تُو ہلاک ہوا۔“ تب تمام لوگ مزید روئے۔ ZHBZd: E جب ساؤل کے بیٹے اِشبوست کو اطلاع ملی کہ ابنیرکو حبرون میں قتل کیا گیا ہے تو وہ ہمت ہار گیا، اور تمام اسرائیل سخت گھبرا گیا۔N9 'مجھے ابھی ابھی مسح کر کے بادشاہ بنایا گیا ہے، اِس لئے میری اِتنی طاقت نہیں کہ ضرویاہ کے اِن دو بیٹوں یوآب اور ابی شے کو کنٹرول کروں۔ رب اُنہیں اُن کی اِس شریر حرکت کی مناسب سزا دے!“ 08[ &داؤد نے اپنے درباریوں سے کہا، ”کیا آپ کو سمجھ نہیں آئی کہ آج اسرائیل کا بڑا سورما فوت ہوا ہے؟47c %یوں تمام حاضرین بلکہ تمام اسرائیلیوں نے جان لیا کہ بادشاہ کا ابنیر کو قتل کرنے میں ہاتھ نہ تھا۔ =6<g اگرچہ اُس کے باشندوں کو ہجرت کر کے جِتّیم میں بسنا پڑا جہاں وہ آج تک پردیسی کی حیثیت سے رہتے ہیں۔?;y اِشبوست کے دو آدمی تھے جن کے نام بعنہ اور ریکاب تھے۔ جب کبھی اِشبوست کے فوجی چھاپہ مارنے کے لئے نکلتے تو یہ دو بھائی اُن پر مقرر تھے۔ اُن کا باپ رِمّون بن یمین کے قبائلی علاقے کے شہر بیروت کا رہنے والا تھا۔ بیروت بھی بن یمین میں شمار کیا جاتا ہے، m>U ایک دن رِمّون بیروتی کے بیٹے ریکاب اور بعنہ دوپہر کے وقت اِشبوست کے گھر گئے۔ گرمی عروج پر تھی، اِس لئے اِشبوست آرام کر رہا تھا۔= یونتن کا ایک بیٹا زندہ رہ گیا تھا جس کا نام مفی بوست تھا۔ پانچ سال کی عمر میں یزرعیل سے خبر آئی تھی کہ ساؤل اور یونتن مارے گئے ہیں۔ تب اُس کی آیا اُسے لے کر کہیں پناہ لینے کے لئے بھاگ گئی تھی۔ لیکن جلدی کی وجہ سے مفی بوست گر کر لنگڑا ہو گیا تھا۔ اُس وقت سے اُس کی دونوں ٹانگیں مفلوج تھیں۔ B? دونوں آدمی یہ بہانہ پیش کر کے گھر کے اندرونی کمرے میں گئے کہ ہم کچھ اناج لے جانے کے لئے آئے ہیں۔ جب اِشبوست کے کمرے میں پہنچے تو وہ چارپائی پر لیٹا سو رہا تھا۔ یہ دیکھ کر اُنہوں نے اُس کے پیٹ میں تلوار گھونپ دی اور پھر اُس کا سر کاٹ کر وہاں سے سلامتی سے نکل آئے۔ پوری رات سفر کرتے کرتے وہ دریائے یردن کی وادی میں سے گزر کر   A' حبرون پہنچ گئے۔ وہاں اُنہوں نے داؤد کو اِشبوست کا سر دکھا کر کہا، ”یہ دیکھیں، ساؤل کے بیٹے اِشبوست کا سر۔ آپ کا دشمن ساؤل بار بار آپ کو مار دینے کی کوشش کرتا رہا، لیکن آج رب نے اُس سے اور اُس کی اولاد سے آپ کا بدلہ لیا ہے۔“B@ دونوں آدمی یہ بہانہ پیش کر کے گھر کے اندرونی کمرے میں گئے کہ ہم کچھ اناج لے جانے کے لئے آئے ہیں۔ جب اِشبوست کے کمرے میں پہنچے تو وہ چارپائی پر لیٹا سو رہا تھا۔ یہ دیکھ کر اُنہوں نے اُس کے پیٹ میں تلوار گھونپ دی اور پھر اُس کا سر کاٹ کر وہاں سے سلامتی سے نکل آئے۔ پوری رات سفر کرتے کرتے وہ دریائے یردن کی وادی میں سے گزر کر vZv`D;  اب تم شریر لوگوں نے اِس سے بڑھ کر کیا۔ تم نے بےقصور آدمی کو اُس کے اپنے گھر میں اُس کی اپنی چارپائی پر قتل کر دیا ہے۔ تو کیا میرا فرض نہیں کہ تم کو اِس قتل کی سزا دے کر تمہیں ملک میں سے مٹا دوں؟“|Cs  جس آدمی نے مجھے اُس وقت صِقلاج میں ساؤل کی موت کی اطلاع دی وہ بھی سمجھتا تھا کہ مَیں داؤد کو اچھی خبر پہنچا رہا ہوں۔ لیکن مَیں نے اُسے پکڑ کر سزائے موت دے دی۔ یہی تھا وہ اجر جو اُسے ایسی خبر پہنچانے کے عوض ملا!"B?  لیکن داؤد نے جواب دیا، ”رب کی حیات کی قَسم جس نے فدیہ دے کر مجھے ہر مصیبت سے بچایا ہے، `r`BG ماضی میں بھی جب ساؤل بادشاہ تھا تو آپ ہی فوجی مہموں میں اسرائیل کی قیادت کرتے رہے۔ اور رب نے آپ سے وعدہ بھی کیا ہے کہ تُو میری قوم اسرائیل کا چرواہا بن کر اُس پر حکومت کرے گا۔“HF اُس وقت اسرائیل کے تمام قبیلے حبرون میں داؤد کے پاس آئے اور کہا، ”ہم آپ ہی کی قوم اور آپ ہی کے رشتے دار ہیں۔ E  داؤد نے دونوں کو مار دینے کا حکم دیا۔ اُس کے ملازموں نے اُنہیں مار کر اُن کے ہاتھوں اور پیروں کو کاٹ ڈالا اور اُن کی لاشوں کو حبرون کے تالاب کے قریب کہیں لٹکا دیا۔ اِشبوست کے سر کو اُنہوں نے ابنیر کی قبر میں دفنایا۔ IlIJ9 پہلے ساڑھے سات سال وہ صرف یہوداہ کا بادشاہ تھا اور اُس کا دار الحکومت حبرون رہا۔ باقی 33 سال وہ یروشلم میں رہ کر یہوداہ اور اسرائیل دونوں پر حکومت کرتا رہا۔I} داؤد 30 سال کی عمر میں بادشاہ بن گیا۔ اُس کی حکومت 40 سال تک جاری رہی۔ H جب اسرائیل کے تمام بزرگ حبرون پہنچے تو داؤد بادشاہ نے رب کے حضور اُن کے ساتھ عہد باندھا، اور اُنہوں نے اُسے مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ بنا دیا۔ ((L توبھی داؤد نے صیون کے قلعے پر قبضہ کر لیا جو آج کل ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔@K{ بادشاہ بننے کے بعد داؤد اپنے فوجیوں کے ساتھ یروشلم گیا تاکہ اُس پر حملہ کرے۔ وہاں اب تک یبوسی آباد تھے۔ داؤد کو دیکھ کر یبوسیوں نے اُس کا مذاق اُڑایا، ”آپ ہمارے شہر میں کبھی داخل نہیں ہو پائیں گے! آپ کو روکنے کے لئے ہمارے لنگڑے اور اندھے کافی ہیں۔“ اُنہیں پورا یقین تھا کہ داؤد شہر میں کسی بھی طریقے سے نہیں آ سکے گا۔ rO_  یوں داؤد زور پکڑتا گیا، کیونکہ رب الافواج اُس کے ساتھ تھا۔mNU  یروشلم پر فتح پانے کے بعد داؤد قلعے میں رہنے لگا۔ اُس نے اُسے ’داؤد کا شہر‘ قرار دیا اور اُس کے ارد گرد شہر کو بڑھانے لگا۔ یہ تعمیری کام ارد گرد کے چبوتروں سے شروع ہوا اور ہوتے ہوتے قلعے تک پہنچ گیا۔{Mq جس دن اُنہوں نے شہر پر حملہ کیا اُس نے اعلان کیا، ”جو بھی یبوسیوں پر فتح پانا چاہے اُسے پانی کی سرنگ میں سے گزر کر شہر میں گھسنا پڑے گا تاکہ اُن لنگڑوں اور اندھوں کو مارے جن سے میری جان نفرت کرتی ہے۔“ اِس لئے آج تک کہا جاتا ہے، ”لنگڑوں اور اندھوں کو گھر میں جانے کی اجازت نہیں۔“ XAU اِلی سمع، اِلیَدع اور اِلی فلط۔   ?   @   A 5z5fG  داؤد نے یہ چیزیں رب کے لئے مخصوص کر دیں۔ جہاں بھی وہ دوسری قوموں پر غالب آیا وہاں کی سونا چاندی اُس نے رب کے لئے مخصوص کر دی۔9m  تو اُس نے اپنے بیٹے یورام کو داؤد کے پاس بھیجا تاکہ اُسے سلام کہے۔ یورام نے داؤد کو ہدد عزر پر فتح کے لئے مبارک باد دی، کیونکہ ہدد عزر تُوعی کا دشمن تھا، اور اُن کے درمیان جنگ رہی تھی۔ یورام نے داؤد کو سونے، چاندی اور پیتل کے تحفے بھی پیش کئے۔/  جب حمات کے بادشاہ تُوعی کو اطلاع ملی کہ داؤد نے ہدد عزر کی پوری فوج پر فتح پائی ہے ہدد عزر کے دو شہروں بطاہ اور بیروتی سے اُس نے کثرت کا پیتل چھین لیا۔of flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| Q R S T U$ V' W* X, Y. Z0 [3 \6 ]: ^< _> Q R S T U$ V' W* X, Y. Z0 [3 \6 ]: ^< _> `? aA bD cG dJ eL fO gU iX j[ k_ la mc ng oj pn qq rs sy t| u~ v w x y z { | } ~  ! & * - / 2 4 6 9 < @ C E G J M O S X Z ] a c f i l p r u x | ~          $ ( + - 0 2 4 7 9 < ? C E H L O Q S W Y \ ^ t8[JtR! جتنی دیر داؤد پورے اسرائیل پر حکومت کرتا رہا اُتنی دیر تک اُس نے دھیان دیا کہ قوم کے ہر ایک شخص کو انصاف مل جائے۔  داؤد نے ادوم کے پورے ملک میں اپنی فوجی چوکیاں قائم کیں، اور تمام ادومی داؤد کے تابع ہو گئے۔ داؤد جہاں بھی جاتا رب اُس کی مدد کر کے اُسے فتح بخشتا۔Y-  جب داؤد نے نمک کی وادی میں ادومیوں پر فتح پائی تو اُس کی شہرت مزید پھیل گئی۔ اُس جنگ میں دشمن کے 18,000 افراد ہلاک ہوئے۔D  یوں ادوم، موآب، عمون، فلستیہ، عمالیق اور ضوباہ کے بادشاہ ہدد عزر بن رحوب کی سونا چاندی رب کو پیش کی گئی۔ n5<#&A ایک آدمی کو بُلایا گیا جو ساؤل کے گھرانے کا ملازم تھا۔ اُس کا نام ضیبا تھا۔ داؤد نے سوال کیا، ”کیا آپ ضیبا ہیں؟“ ضیبا نے جواب دیا، ”جی، آپ کا خادم حاضر ہے۔“u% g ایک دن داؤد پوچھنے لگا، ”کیا ساؤل کے خاندان کا کوئی فرد بچ گیا ہے؟ مَیں یونتن کی خاطر اُس پر اپنی مہربانی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔“+$Q بنایاہ بن یہویدع داؤد کے خاص دستے بنام کریتی و فلیتی کا کپتان تھا۔ داؤد کے بیٹے امام تھے۔ # صدوق بن اخی طوب اور اخی مَلِک بن ابیاتر امام تھے۔ سرایاہ میرمنشی تھا۔" یوآب بن ضرویاہ فوج پر مقرر تھا۔ یہوسفط بن اخی لود بادشاہ کا مشیرِ خاص تھا۔ ~`*; یونتن کے جس بیٹے کا ذکر ضیبا نے کیا وہ مفی بوست تھا۔ جب اُسے داؤد کے سامنے لایا گیا تو اُس نے منہ کے بل جھک کر اُس کی عزت کی۔ داؤد نے کہا، ”مفی بوست!“ اُس نے جواب دیا، ”جی، آپ کا خادم حاضر ہے۔“N) داؤد نے اُسے فوراً دربار میں بُلا لیا۔6(g داؤد نے پوچھا، ”وہ کہاں ہے؟“ ضیبا نے جواب دیا، ”وہ لو دبار میں مکیر بن عمی ایل کے ہاں رہتا ہے۔“s'a بادشاہ نے دریافت کیا، ”کیا ساؤل کے خاندان کا کوئی فرد زندہ رہ گیا ہے؟ مَیں اُس پر اللہ کی مہربانی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔“ ضیبا نے کہا، ”یونتن کا ایک بیٹا اب تک زندہ ہے۔ وہ دونوں ٹانگوں سے مفلوج ہے۔“ :$9:{-q داؤد نے ساؤل کے پرانے ملازم ضیبا کو بُلا کر اُسے ہدایت دی، ”مَیں نے آپ کے مالک کے پوتے کو ساؤل اور اُس کے خاندان کی تمام ملکیت دے دی ہے۔g,I مفی بوست نے دوبارہ جھک کر بادشاہ کی تعظیم کی، ”مَیں کون ہوں کہ آپ مجھ جیسے مُردہ کُتے پر دھیان دے کر ایسی مہربانی فرمائیں!“X++ داؤد بولا، ”ڈریں مت۔ آج مَیں آپ کے باپ یونتن کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کر کے آپ پر اپنی مہربانی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ اب سنیں! مَیں آپ کو آپ کے دادا ساؤل کی تمام زمینیں واپس کر دیتا ہوں۔ اِس کے علاوہ مَیں چاہتا ہوں کہ آپ روزانہ میرے ساتھ کھانا کھایا کریں۔“ |7|7/i ضیبا نے جواب دیا، ”مَیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ جو بھی حکم آپ دیں گے مَیں کرنے کے لئے تیار ہوں۔“E. اب آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اپنے بیٹوں اور نوکروں کے ساتھ اُس کے کھیتوں کو سنبھالیں تاکہ اُس کا خاندان زمینوں کی پیداوار سے گزارہ کر سکے۔ لیکن مفی بوست خود یہاں رہ کر میرے بیٹوں کی طرح میرے ساتھ کھانا کھایا کرے گا۔“ (ضیبا کے 15 بیٹے اور 20 نوکر تھے)۔ &]&2  کچھ دیر کے بعد عمونیوں کا بادشاہ فوت ہوا، اور اُس کا بیٹا حنون تخت نشین ہوا۔19 اُس دن سے ضیبا کے گھرانے کے تمام افراد مفی بوست کے ملازم ہو گئے۔ مفی بوست خود جو دونوں ٹانگوں سے مفلوج تھا یروشلم میں رہائش پذیر ہوا اور روزانہ داؤد بادشاہ کے ساتھ کھانا کھاتا رہا۔ اُس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا جس کا نام میکا تھا۔ 09 اُس دن سے ضیبا کے گھرانے کے تمام افراد مفی بوست کے ملازم ہو گئے۔ مفی بوست خود جو دونوں ٹانگوں سے مفلوج تھا یروشلم میں رہائش پذیر ہوا اور روزانہ داؤد بادشاہ کے ساتھ کھانا کھاتا رہا۔ اُس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا جس کا نام میکا تھا۔ CdC45 تو اُس ملک کے بزرگ حنون بادشاہ کے کان میں منفی باتیں بھرنے لگے، ”کیا داؤد نے اِن آدمیوں کو واقعی صرف اِس لئے بھیجا ہے کہ وہ افسوس کر کے آپ کے باپ کا احترام کریں؟ ہرگز نہیں! یہ صرف بہانہ ہے۔ اصل میں یہ جاسوس ہیں جو ہمارے دار الحکومت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اُس پر قبضہ کر سکیں۔“3+ داؤد نے سوچا، ”ناحس نے ہمیشہ مجھ پر مہربانی کی تھی، اِس لئے اب مَیں بھی اُس کے بیٹے حنون پر مہربانی کروں گا۔“ اُس نے باپ کی وفات کا افسوس کرنے کے لئے حنون کے پاس وفد بھیجا۔ لیکن جب داؤد کے سفیر عمونیوں کے دربار میں پہنچ گئے 26_ جب داؤد کو اِس کی خبر ملی تو اُس نے اپنے قاصدوں کو اُن سے ملنے کے لئے بھیجا تاکہ اُنہیں بتائیں، ”یریحو میں اُس وقت تک ٹھہرے رہیں جب تک آپ کی داڑھیاں دوبارہ بحال نہ ہو جائیں۔“ کیونکہ وہ اپنی داڑھیوں کی وجہ سے بڑی شرمندگی محسوس کر رہے تھے۔H5 چنانچہ حنون نے داؤد کے آدمیوں کو پکڑوا کر اُن کی داڑھیوں کا آدھا حصہ منڈوا دیا اور اُن کے لباس کو کمر سے لے کر پاؤں تک کاٹ کر اُتروایا۔ اِسی حالت میں بادشاہ نے اُنہیں فارغ کر دیا۔ *?*[91 عمونی اپنے دار الحکومت ربّہ سے نکل کر شہر کے دروازے کے سامنے ہی صف آرا ہوئے جبکہ اُن کے اَرامی اتحادی ضوباہ اور رحوب ملکِ طوب اور معکہ کے مردوں سمیت کچھ فاصلے پر کھلے میدان میں کھڑے ہو گئے۔28_ جب داؤد کو اِس کا علم ہوا تو اُس نے یوآب کو پوری فوج کے ساتھ اُن کا مقابلہ کرنے کے لئے بھیج دیا۔=7u عمونیوں کو خوب معلوم تھا کہ اِس حرکت سے ہم داؤد کے دشمن بن گئے ہیں۔ اِس لئے اُنہوں نے کرائے پر کئی جگہوں سے فوجی طلب کئے۔ بیت رحوب اور ضوباہ کے 20,000 اَرامی پیادہ سپاہی، معکہ کا بادشاہ 1,000 فوجیوں سمیت اور ملکِ طوب کے 12,000 سپاہی اُن کی مدد کرنے آئے۔  ]<5 ایک دوسرے سے الگ ہونے سے پہلے یوآب نے ابی شے سے کہا، ”اگر شام کے فوجی مجھ پر غالب آنے لگیں تو میرے پاس آ کر میری مدد کرنا۔ لیکن اگر آپ عمونیوں پر قابو نہ پا سکیں تو مَیں آ کر آپ کی مدد کروں گا۔;+ باقی آدمیوں کو اُس نے اپنے بھائی ابی شے کے حوالے کر دیا تاکہ وہ عمونیوں سے لڑیں۔S:! جب یوآب نے جان لیا کہ سامنے اور پیچھے دونوں طرف سے حملے کا خطرہ ہے تو اُس نے اپنی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ سب سے اچھے فوجیوں کے ساتھ وہ خود شام کے سپاہیوں سے لڑنے کے لئے تیار ہوا۔ " @ جب شام کے فوجیوں کو شکست کی بےعزتی کا احساس ہوا تو وہ دوبارہ جمع ہو گئے۔Y?- یہ دیکھ کر عمونی ابی شے سے فرار ہو کر شہر میں داخل ہوئے۔ پھر یوآب عمونیوں سے لڑنے سے باز آیا اور یروشلم واپس چلا گیا۔>7 یوآب نے اپنی فوج کے ساتھ شام کے فوجیوں پر حملہ کیا تو وہ اُس کے سامنے سے بھاگنے لگے۔Z=/ حوصلہ رکھیں! ہم دلیری سے اپنی قوم اور اپنے خدا کے شہروں کے لئے لڑیں۔ اور رب وہ کچھ ہونے دے جو اُس کی نظر میں ٹھیک ہے۔“ v_C9 لیکن اُنہیں دوبارہ شکست مان کر فرار ہونا پڑا۔ اِس دفعہ اُن کے 700 رتھ بانوں کے علاوہ 40,000 پیادہ سپاہی ہلاک ہوئے۔ داؤد نے فوج کے کمانڈر سوبک کو اِتنا زخمی کر دیا کہ وہ میدانِ جنگ میں ہلاک ہو گیا۔@B{ جب داؤد کو خبر ملی تو اُس نے اسرائیل کے تمام لڑنے کے قابل آدمیوں کو جمع کیا اور دریائے یردن کو پار کر کے حلام پہنچ گیا۔ شام کے فوجی صف آرا ہو کر اسرائیلیوں کا مقابلہ کرنے لگے۔BA ہدد عزر نے دریائے فرات کے پار مسوپتامیہ میں آباد اَرامیوں کو بُلایا تاکہ وہ اُس کی مدد کریں۔ پھر سب حلام پہنچ گئے۔ ہدد عزر کی فوج پر مقرر افسر سوبک اُن کی راہنمائی کر رہا تھا۔ zE q بہار کا موسم آ گیا، وہ وقت جب بادشاہ جنگ کے لئے نکلتے ہیں۔ داؤد بادشاہ نے بھی اپنے فوجیوں کو لڑنے کے لئے بھیج دیا۔ یوآب کی راہنمائی میں اُس کے افسر اور پوری فوج عمونیوں سے لڑنے کے لئے روانہ ہوئے۔ وہ دشمن کو تباہ کر کے دار الحکومت ربّہ کا محاصرہ کرنے لگے۔ داؤد خود یروشلم میں رہا۔BD جو اَرامی بادشاہ پہلے ہدد عزر کے تابع تھے اُنہوں نے اب ہار مان کر اسرائیلیوں سے صلح کر لی اور اُن کے تابع ہو گئے۔ اُس وقت سے اَرامیوں نے عمونیوں کی مدد کرنے کی پھر جرٲت نہ کی۔ 0G[ داؤد نے کسی کو اُس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بھیج دیا۔ واپس آ کر اُس نے اطلاع دی، ”عورت کا نام بت سبع ہے۔ وہ اِلعام کی بیٹی اور اُوریاہ حِتّی کی بیوی ہے۔“2F_ ایک دن وہ دوپہر کے وقت سو گیا۔ جب شام کے وقت جاگ اُٹھا تو محل کی چھت پرٹہلنے لگا۔ اچانک اُس کی نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنے صحن میں نہا رہی تھی۔ عورت نہایت خوب صورت تھی۔ 1Y>Jw یہ سنتے ہی داؤد نے یوآب کو پیغام بھیجا، ”اُوریاہ حِتّی کو میرے پاس بھیج دیں!“ یوآب نے اُسے بھیج دیا۔TI# کچھ دیر کے بعد اُسے معلوم ہوا کہ میرا پاؤں بھاری ہو گیا ہے۔ اُس نے داؤد کو اطلاع دی، ”میرا پاؤں بھاری ہو گیا ہے۔“KH تب داؤد نے قاصدوں کو بت سبع کے پاس بھیجا تاکہ اُسے محل میں لے آئیں۔ عورت آئی تو داؤد اُس سے ہم بستر ہوا۔ پھر بت سبع اپنے گھر واپس چلی گئی۔ (تھوڑی دیر پہلے اُس نے وہ رسم ادا کی تھی جس کا تقاضا شریعت ماہواری کے بعد کرتی ہے تاکہ عورت دوبارہ پاک صاف ہو جائے)۔ 2UM% لیکن اُوریاہ اپنے گھر نہ گیا بلکہ رات کے لئے بادشاہ کے محافظوں کے ساتھ ٹھہرا رہا جو محل کے دروازے کے پاس سوتے تھے۔PL پھر اُس نے اُوریاہ کو بتایا، ”اب اپنے گھر جائیں اور پاؤں دھو کر آرام کریں۔“ اُوریاہ ابھی محل سے دُور نہیں گیا تھا کہ ایک ملازم نے اُس کے پیچھے بھاگ کر اُسے بادشاہ کی طرف سے تحفہ دیا۔JK جب اُوریاہ دربار میں پہنچا تو داؤد نے اُس سے یوآب اور فوج کا حال معلوم کیا اور پوچھا کہ جنگ کس طرح چل رہی ہے؟ &OG اُوریاہ نے جواب دیا، ”عہد کا صندوق اور اسرائیل اور یہوداہ کے فوجی جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں۔ یوآب اور بادشاہ کے افسر بھی کھلے میدان میں ٹھہرے ہوئے ہیں تو کیا مناسب ہے کہ مَیں اپنے گھر جا کر آرام سے کھاؤں پیؤں اور اپنی بیوی سے ہم بستر ہو جاؤں؟ ہرگز نہیں! آپ کی حیات کی قَسم، مَیں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔“ N داؤد کو اِس بات کا پتا چلا تو اُس نے اگلے دن اُسے دوبارہ بُلایا۔ اُس نے پوچھا، ”کیا بات ہے؟ آپ تو بڑی دُور سے آئے ہیں۔ آپ اپنے گھر کیوں نہ گئے؟“ AS9 اُس میں لکھا تھا، ”اُوریاہ کو سب سے اگلی صف میں کھڑا کریں، جہاں لڑائی سب سے سخت ہوتی ہے۔ پھر اچانک پیچھے کی طرف ہٹ کر اُسے چھوڑ دیں تاکہ دشمن اُسے مار دے۔“yRm اگلے دن صبح داؤد نے یوآب کو خط لکھ کر اُوریاہ کے ہاتھ بھیج دیا۔OQ شام کے وقت داؤد نے اُسے کھانے کی دعوت دی۔ اُس نے اُسے اِتنی مَے پلائی کہ اُوریاہ نشے میں دُھت ہو گیا، لیکن اِس مرتبہ بھی وہ اپنے گھر نہ گیا بلکہ دوبارہ محل میں محافظوں کے ساتھ سو گیا۔lPS داؤد نے اُسے کہا، ”ایک اَور دن یہاں ٹھہریں۔ کل مَیں آپ کو واپس جانے دوں گا۔“ چنانچہ اُوریاہ ایک اَور دن یروشلم میں ٹھہرا رہا۔ ]K9]XX+ تو ہو سکتا ہے وہ غصے ہو کر کہے، ’آپ شہر کے اِتنے قریب کیوں گئے؟ کیا آپ کو معلوم نہ تھا کہ دشمن فصیل سے تیر چلائیں گے؟AW} داؤد کو یہ پیغام پہنچانے والے کو اُس نے بتایا، ”جب آپ بادشاہ کو تفصیل سے لڑائی کا سارا سلسلہ سنائیں گےJV یوآب نے لڑائی کی پوری رپورٹ بھیج دی۔GU جب عمونیوں نے شہر سے نکل کر اُن پر حملہ کیا تو کچھ اسرائیلی شہید ہوئے۔ اُوریاہ حِتّی بھی اُن میں شامل تھا۔fTG یہ پڑھ کر یوآب نے اُوریاہ کو ایک ایسی جگہ پر کھڑا کیا جس کے بارے میں اُسے علم تھا کہ دشمن کے سب سے زبردست فوجی وہاں لڑتے ہیں۔ DZ! قاصد روانہ ہوا۔ جب یروشلم پہنچا تو اُس نے داؤد کو یوآب کا پورا پیغام سنا دیا،8Yk کیا آپ کو یاد نہیں کہ قدیم زمانے میں جدعون کے بیٹے ابی مَلِک کے ساتھ کیا ہوا؟ تیبض شہر میں ایک عورت ہی نے اُسے مار ڈالا۔ اور وجہ یہ تھی کہ وہ قلعے کے اِتنے قریب آ گیا تھا کہ عورت دیوار پر سے چکّی کا اوپر کا پاٹ اُس پر پھینک سکی۔ شہر کی فصیل کے اِس قدر قریب لڑنے کی کیا ضرورت تھی؟‘ اگر بادشاہ آپ پر ایسے الزامات لگائیں تو جواب میں بس اِتنا ہی کہہ دینا، ’اُوریاہ حِتّی بھی مارا گیا ہے‘۔“ :]o داؤد نے جواب دیا، ”یوآب کو بتا دینا کہ یہ معاملہ آپ کو ہمت ہارنے نہ دے۔ جنگ تو ایسی ہی ہوتی ہے۔ کبھی کوئی یہاں تلوار کا لقمہ ہو جاتا ہے، کبھی وہاں۔ پورے عزم کے ساتھ شہر سے جنگ جاری رکھ کر اُسے تباہ کر دیں۔ یہ کہہ کر یوآب کی حوصلہ افزائی کریں۔“m\U لیکن افسوس کہ پھر کچھ تیرانداز ہم پر فصیل پر سے تیر برسانے لگے۔ آپ کے کچھ خادم کھیت آئے اور اُوریاہ حِتّی بھی اُن میں شامل ہے۔“>[w ”دشمن ہم سے زیادہ طاقت ور تھے۔ وہ شہر سے نکل کر کھلے میدان میں ہم پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن ہم نے اُن کا سامنا یوں کیا کہ وہ پیچھے ہٹ گئے، بلکہ ہم نے اُن کا تعاقب شہر کے دروازے تک کیا۔ E  ",7BMXcny)4?JT_ju%0;FQ\gr}   C   D   E   F   G   H   I   J   K   C   D   E   F   G   H   I   J   K   L  M  N  O  P  Q   R   S   T   U   V   W   X   Y   Z   [   \   ]   ^   _   `   a   b   c   d   e   f   g  h  i  j  k  l   m   n   o   p   q   r   s   t   u   v   w   x   y   z   {   |   }   ~                   %yq{%Sa! امیر کی بہت بھیڑبکریاں اور گائےبَیل تھے،r` a رب نے ناتن نبی کو داؤد کے پاس بھیج دیا۔ بادشاہ کے پاس پہنچ کر وہ کہنے لگا، ”کسی شہر میں دو آدمی رہتے تھے۔ ایک امیر تھا، دوسرا غریب۔_ ماتم کا وقت پورا ہوا تو داؤد نے اُسے اپنے گھر بُلا کر اُس سے شادی کر لی۔ پھر اُس کے بیٹا پیدا ہوا۔ لیکن داؤد کی یہ حرکت رب کو نہایت بُری لگی۔ ^ جب بت سبع کو اطلاع ملی کہ اُوریاہ نہیں رہا تو اُس نے اُس کا ماتم کیا۔ ggc{ ایک دن امیر کے ہاں مہمان آیا۔ جب اُس کے لئے کھانا پکانا تھا تو امیر کا دل نہیں کرتا تھا کہ اپنے ریوڑ میں سے کسی جانور کو ذبح کرے، اِس لئے اُس نے غریب آدمی سے اُس کی ننھی سی بھیڑ لے کر اُسے مہمان کے لئے تیار کیا۔“b لیکن غریب کے پاس کچھ نہیں تھا، صرف بھیڑ کی ننھی سی بچی جو اُس نے خرید رکھی تھی۔ غریب اُس کی پرورش کرتا رہا، اور وہ گھر میں اُس کے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑی ہوتی گئی۔ وہ اُس کی پلیٹ سے کھاتی، اُس کے پیالے سے پیتی اور رات کو اُس کے بازوؤں میں سو جاتی۔ غرض بھیڑ غریب کے لئے بیٹی کی سی حیثیت رکھتی تھی۔ =<'fI ناتن نے داؤد سے کہا، ”آپ ہی وہ آدمی ہیں! رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’مَیں نے تجھے مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ بنا دیا، اور مَیں ہی نے تجھے ساؤل سے محفوظ رکھا۔}eu لازم ہے کہ وہ بھیڑ کی بچی کے عوض غریب کو بھیڑ کے چار بچے دے۔ یہی اُس کی مناسب سزا ہے، کیونکہ اُس نے ایسی حرکت کر کے غریب پر ترس نہ کھایا۔“?dy یہ سن کر داؤد کو بڑا غصہ آیا۔ وہ پکارا، ”رب کی حیات کی قَسم، جس آدمی نے یہ کیا وہ سزائے موت کے لائق ہے۔ _i9 چونکہ تُو نے مجھے حقیر جان کر اُوریاہ حِتّی کی بیوی کو اُس سے چھین لیا اِس لئے آئندہ تلوار تیرے گھرانے سے نہیں ہٹے گی۔‘-hU اب مجھے بتا کہ تُو نے میری مرضی کو حقیر جان کر ایسی حرکت کیوں کی ہے جس سے مجھے نفرت ہے؟ تُو نے اُوریاہ حِتّی کو قتل کروا کے اُس کی بیوی کو چھین لیا ہے۔ ہاں، تُو قاتل ہے، کیونکہ تُو نے حکم دیا کہ اُوریاہ کو عمونیوں سے لڑتے لڑتے مروانا ہے۔Jg ساؤل کا گھرانا اُس کی بیویوں سمیت مَیں نے تجھے دے دیا۔ ہاں، پورا اسرائیل اور یہوداہ بھی تیرے تحت آ گئے ہیں۔ اور اگر یہ تیرے لئے کم ہوتا تو مَیں تجھے مزید دینے کے لئے بھی تیار ہوتا۔ Zl/ تب داؤد نے اقرار کیا، ”مَیں نے رب کا گناہ کیا ہے۔“ ناتن نے جواب دیا، ”رب نے آپ کو معاف کر دیا ہے اور آپ نہیں مریں گے۔Yk- تُو نے چپکے سے گناہ کیا، لیکن جو کچھ مَیں جواب میں ہونے دوں گا وہ علانیہ اور پورے اسرائیل کے دیکھتے دیکھتے ہو گا‘۔“zjo رب فرماتا ہے، ’مَیں ہونے دوں گا کہ تیرے اپنے خاندان میں سے مصیبت تجھ پر آئے گی۔ تیرے دیکھتے دیکھتے مَیں تیری بیویوں کو تجھ سے چھین کر تیرے قریب کے آدمی کے حوالے کر دوں گا، اور وہ علانیہ اُن سے ہم بستر ہو گا۔ 'pp[ گھر کے بزرگ اُس کے ارد گرد کھڑے کوشش کرتے رہے کہ وہ فرش سے اُٹھ جائے، لیکن بےفائدہ۔ وہ اُن کے ساتھ کھانے کے لئے بھی تیار نہیں تھا۔+oQ داؤد نے اللہ سے التماس کی کہ بچے کو بچنے دے۔ روزہ رکھ کر وہ رات کے وقت ننگے فرش پر سونے لگا۔"n? تب ناتن اپنے گھر چلا گیا۔ پھر رب نے بت سبع کے بیٹے کو چھو دیا، اور وہ سخت بیمار ہو گیا۔Um% لیکن اِس حرکت سے آپ نے رب کے دشمنوں کو کفر بکنے کا موقع فراہم کیا ہے، اِس لئے بت سبع سے ہونے والا بیٹا مر جائے گا۔“ r! لیکن داؤد نے دیکھا کہ ملازم دھیمی آواز میں ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ اُس نے پوچھا، ”کیا بیٹا مر گیا ہے؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”جی، وہ مر گیا ہے۔“`q; ساتویں دن بیٹا فوت ہو گیا۔ داؤد کے ملازموں نے اُسے خبر پہنچانے کی جرٲت نہ کی، کیونکہ اُنہوں نے سوچا، ”جب بچہ ابھی زندہ تھا تو ہم نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی، لیکن اُس نے ہماری ایک بھی نہ سنی۔ اب اگر بچے کی موت کی خبر دیں تو خطرہ ہے کہ وہ کوئی نقصان دہ قدم اُٹھائے۔“ rhuK داؤد نے جواب دیا، ”جب تک بچہ زندہ تھا تو مَیں روزہ رکھ کر روتا رہا۔ خیال یہ تھا کہ شاید رب مجھ پر رحم کر کے اُسے زندہ چھوڑ دے۔t9 اُس کے ملازم حیران ہوئے اور بولے، ”جب بچہ زندہ تھا تو آپ روزہ رکھ کر روتے رہے۔ اب بچہ جاں بحق ہو گیا ہے تو آپ اُٹھ کر دوبارہ کھانا کھا رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے؟“gsI یہ سن کر داؤد فرش پر سے اُٹھ گیا۔ وہ نہایا اور جسم کو خوشبودار تیل سے مَل کر صاف کپڑے پہن لئے۔ پھر اُس نے رب کے گھر میں جا کر اُس کی پرستش کی۔ اِس کے بعد وہ محل میں واپس گیا اور کھانا منگوا کر کھایا۔ O1x] اِس لئے اُس نے ناتن نبی کی معرفت اطلاع دی کہ اُس کا نام یدیدیاہ یعنی ’رب کو پیارا‘ رکھا جائے۔Jw پھر داؤد نے اپنی بیوی بت سبع کے پاس جا کر اُسے تسلی دی اور اُس سے ہم بستر ہوا۔ تب اُس کے ایک اَور بیٹا پیدا ہوا۔ داؤد نے اُس کا نام سلیمان یعنی امن پسند رکھا۔ یہ بچہ رب کو پیارا تھا،_v9 لیکن جب وہ کوچ کر گیا ہے تو اب روزہ رکھنے کا کیا فائدہ؟ کیا مَیں اِس سے اُسے واپس لا سکتا ہوں؟ ہرگز نہیں! ایک دن مَیں خود ہی اُس کے پاس پہنچوں گا۔ لیکن اُس کا یہاں میرے پاس واپس آنا ناممکن ہے۔“ P6|g چنانچہ داؤد فوج کے باقی افراد کو لے کر ربّہ پہنچا۔ جب شہر پر حملہ کیا تو وہ اُس کے قبضے میں آ گیا۔I{ چنانچہ اب فوج کے باقی افراد کو لا کر خود شہر پر قبضہ کر لیں۔ ورنہ لوگ سمجھیں گے کہ مَیں ہی شہر کا فاتح ہوں۔“:zo اُس نے داؤد کو اطلاع دی، ”مَیں نے ربّہ پر حملہ کر کے اُس جگہ پر قبضہ کر لیا ہے جہاں پانی دست یاب ہے۔nyW اب تک یوآب عمونی دار الحکومت ربّہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ پھر وہ شہر کے ایک حصے بنام ’شاہی شہر‘ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ N~ اُس کے باشندوں کو غلام بنا لیا۔ اُنہیں پتھر کاٹنے کی آریاں، لوہے کی کدالیں اور کلہاڑیاں دی گئیں تاکہ وہ مزدوری کریں اور بھٹوں پر کام کریں۔ یہی سلوک باقی عمونی شہروں کے باشندوں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ جنگ کے اختتام پر داؤد پوری فوج کے ساتھ یروشلم لوٹ آیا۔ Z}/ داؤد نے حنون بادشاہ کا تاج اُس کے سر سے اُتار کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ سونے کے اِس تاج کا وزن 34 کلو گرام تھا، اور اُس میں ایک بیش قیمت جوہر جڑا ہوا تھا۔ داؤد نے شہر سے بہت سا لُوٹا ہوا مال لے کر o+%o2_ امنون کا ایک دوست تھا جس کا نام یوندب تھا۔ وہ داؤد کے بھائی سِمعہ کا بیٹا تھا اور بڑا ذہین تھا۔ وہ تمر کو اِتنی شدت سے چاہنے لگا کہ رنجش کے باعث بیمار ہو گیا، کیونکہ تمر کنواری تھی، اور امنون کو اُس کے قریب آنے کا کوئی راستہ نظر نہ آیا۔Q  داؤد کے بیٹے ابی سلوم کی خوب صورت بہن تھی جس کا نام تمر تھا۔ اُس کا سوتیلا بھائی امنون تمر سے شدید محبت کرنے لگا۔ { یوندب نے اپنے دوست کو مشورہ دیا، ”بستر پر لیٹ جائیں اور ایسا ظاہر کریں گویا بیمار ہیں۔ جب آپ کے والد آپ کا حال پوچھنے آئیں گے تو اُن سے درخواست کرنا، ’میری بہن تمر آ کر مجھے مریضوں کا کھانا کھلائے۔ وہ میرے سامنے کھانا تیار کرے تاکہ مَیں اُسے دیکھ کر اُس کے ہاتھ سے کھانا کھاؤں‘۔“wi اُس نے امنون سے پوچھا، ”بادشاہ کے بیٹے، کیا مسئلہ ہے؟ روز بہ روز آپ زیادہ بجھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کیا آپ مجھے نہیں بتائیں گے کہ بات کیا ہے؟“ امنون بولا، ”مَیں ابی سلوم کی بہن تمر سے شدید محبت کرتا ہوں۔“ ^7 تمر نے امنون کے پاس آ کر اُس کی موجودگی میں میدہ گوندھا اور کھانا تیار کر کے پکایا۔ امنون بستر پر لیٹا اُسے دیکھتا رہا۔M داؤد نے تمر کو اطلاع دی، ”آپ کا بھائی امنون بیمار ہے۔ اُس کے پاس جا کر اُس کے لئے مریضوں کا کھانا تیار کریں۔“sa چنانچہ امنون نے بستر پر لیٹ کر بیمار ہونے کا بہانہ کیا۔ جب بادشاہ اُس کا حال پوچھنے آیا تو امنون نے گزارش کی، ”میری بہن تمر میرے پاس آئے اور میرے سامنے مریضوں کا کھانا بنا کر مجھے اپنے ہاتھ سے کھلائے۔“ <<F  وہ پکاری، ”نہیں، میرے بھائی! میری عصمت دری نہ کریں۔ ایسا عمل اسرائیل میں منع ہے۔ ایسی بےدین حرکت مت کرنا!. W جب وہ اُسے کھانا کھلانے لگی تو امنون نے اُسے پکڑ کر کہا، ”آ میری بہن، میرے ساتھ ہم بستر ہو!“5 تو اُس نے تمر سے کہا، ”کھانے کو میرے سونے کے کمرے میں لے آئیں تاکہ مَیں آپ کے ہاتھ سے کھا سکوں۔“ تمر کھانے کو لے کر سونے کے کمرے میں اپنے بھائی کے پاس آئی۔#A جب کھانا پک گیا تو تمر نے اُسے امنون کے پاس لا کر پیش کیا۔ لیکن اُس نے کھانے سے انکار کر دیا۔ اُس نے حکم دیا، ”تمام نوکر کمرے سے باہر نکل جائیں!“ جب سب چلے گئے N3 a لیکن پھر اچانک اُس کی محبت سخت نفرت میں بدل گئی۔ پہلے تو وہ تمر سے شدید محبت کرتا تھا، لیکن اب وہ اِس سے بڑھ کر اُس سے نفرت کرنے لگا۔ اُس نے حکم دیا، ”اُٹھ، دفع ہو جا!“z o لیکن امنون نے اُس کی نہ سنی بلکہ اُسے پکڑ کر اُس کی عصمت دری کی۔. W اور ایسی بےحرمتی کے بعد مَیں کہاں جاؤں؟ جہاں تک آپ کا تعلق ہے اسرائیل میں آپ کی بُری طرح بدنامی ہو جائے گی، اور سب سمجھیں گے کہ آپ نہایت شریر آدمی ہیں۔ آپ بادشاہ سے بات کیوں نہیں کرتے؟ یقیناً وہ آپ کو مجھ سے شادی کرنے سے نہیں روکیں گے۔“ ?y نوکر تمر کو باہر لے گیا اور پھر اُس کے پیچھے دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی۔ تمر ایک لمبے بازوؤں والا فراک پہنے ہوئے تھی۔ بادشاہ کی تمام کنواری بیٹیاں یہی لباس پہنا کرتی تھیں۔O اُس نے اپنے نوکر کو بُلا کر حکم دیا، ”اِس عورت کو یہاں سے نکال دو اور اِس کے پیچھے دروازہ بند کر کے کنڈی لگاؤ!“ تمر نے التماس کی، ”ہائے، ایسا مت کرنا۔ اگر آپ مجھے نکالیں گے تو یہ پہلے گناہ سے زیادہ سنگین جرم ہو گا۔“ لیکن امنون اُس کی سننے کے لئے تیار نہ تھا۔  beE جب داؤد کو اِس واقعے کی خبر ملی تو اُسے سخت غصہ آیا۔$C جب گھر پہنچ گئی تو ابی سلوم نے اُس سے پوچھا، ”میری بہن، کیا امنون نے آپ سے زیادتی کی ہے؟ اب خاموش ہو جائیں۔ وہ تو آپ کا بھائی ہے۔ اِس معاملے کو حد سے زیادہ اہمیت مت دینا۔“ اُس وقت سے تمر اکیلی ہی اپنے بھائی ابی سلوم کے گھر میں رہی۔r_ بڑی رنجش کے عالم میں اُس نے اپنا یہ لباس پھاڑ کر اپنے سر پر راکھ ڈال لی۔ پھر اپنا ہاتھ سر پر رکھ کر وہ چیختی چلّاتی وہاں سے چلی گئی۔ CiC"? وہ داؤد بادشاہ کے پاس بھی گیا اور کہا، ”اِن دنوں میں مَیں اپنی بھیڑوں کے بال کترا رہا ہوں۔ بادشاہ اور اُن کے افسروں کو بھی میرے ساتھ خوشی منانے کی دعوت ہے۔“]5 دو سال گزر گئے۔ ابی سلوم کی بھیڑیں افرائیم کے قریب کے بعل حصور میں لائی گئیں تاکہ اُن کے بال کترے جائیں۔ اِس موقع پر ابی سلوم نے بادشاہ کے تمام بیٹوں کو دعوت دی کہ وہ وہاں ضیافت میں شریک ہوں۔2_ ابی سلوم نے امنون سے ایک بھی بات نہ کی۔ نہ اُس نے اُس پر کوئی الزام لگایا، نہ کوئی اچھی بات کی، کیونکہ تمر کی عصمت دری کی وجہ سے وہ اپنے بھائی سے سخت نفرت کرنے لگا تھا۔ rZ8k لیکن ابی سلوم اِتنا زور دیتا رہا کہ داؤد نے امنون کو باقی بیٹوں سمیت بعل حصور جانے کی اجازت دے دی۔# آخرکار ابی سلوم نے درخواست کی، ”اگر آپ ہمارے ساتھ جا نہ سکیں تو پھر کم از کم میرے بھائی امنون کو آنے دیں۔“ بادشاہ نے پوچھا، ”خاص کر امنون کو کیوں؟“  لیکن داؤد نے انکار کیا، ”نہیں، میرے بیٹے، ہم سب تو نہیں آ سکتے۔ اِتنے لوگ آپ کے لئے بوجھ کا باعث بن جائیں گے۔“ ابی سلوم بہت اصرار کرتا رہا، لیکن داؤد نے دعوت کو قبول نہ کیا بلکہ اُسے برکت دے کر رُخصت کرنا چاہتا تھا۔ R\W) وہ ابھی راستے میں ہی تھے کہ افواہ داؤد تک پہنچی، ”ابی سلوم نے آپ کے تمام بیٹوں کو قتل کر دیا ہے۔ ایک بھی نہیں بچا۔“r_ ملازموں نے ایسا ہی کیا۔ اُنہوں نے امنون کو مار ڈالا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کے دوسرے بیٹے اُٹھ کر اپنے خچروں پر سوار ہوئے اور بھاگ گئے۔*O ضیافت سے پہلے ابی سلوم نے اپنے ملازموں کو حکم دیا، ”سنیں! جب امنون مَے پی پی کر خوش ہو جائے گا تو مَیں آپ کو امنون کو مارنے کا حکم دوں گا۔ پھر آپ کو اُسے مار ڈالنا ہے۔ ڈریں مت، کیونکہ مَیں ہی نے آپ کو یہ حکم دیا ہے۔ مضبوط اور دلیر ہوں!“ 'I !لہٰذا اِس خبر کو اِتنی اہمیت نہ دیں کہ تمام بیٹے ہلاک ہوئے ہیں۔ صرف امنون مر گیا ہو گا۔“oY پھر داؤد کا بھتیجا یوندب بول اُٹھا، ”میرے آقا، آپ نہ سوچیں کہ اُنہوں نے تمام شہزادوں کو مار ڈالا ہے۔ صرف امنون مر گیا ہو گا، کیونکہ جب سے اُس نے تمر کی عصمت دری کی اُس وقت سے ابی سلوم کا یہی ارادہ تھا۔a= بادشاہ اُٹھا اور اپنے کپڑے پھاڑ کر فرش پر لیٹ گیا۔ اُس کے درباری بھی دُکھ میں اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر اُس کے پاس کھڑے رہے۔ KS1$_ &وہاں وہ تین سال تک رہا۔t#c %داؤد بڑی دیر تک امنون کا ماتم کرتا رہا۔ لیکن ابی سلوم نے فرار ہو کر جسور کے بادشاہ تلمی بن عمی ہود کے پاس پناہ لی جو اُس کا نانا تھا۔E" $وہ ابھی اپنی بات ختم کر ہی رہا تھا کہ شہزادے اندر آئے اور خوب رو پڑے۔ بادشاہ اور اُس کے افسر بھی رونے لگے۔'!I #تب یوندب نے بادشاہ سے کہا، ”لو، بادشاہ کے بیٹے آ رہے ہیں، جس طرح آپ کے خادم نے کہا تھا۔“= u "اِتنے میں ابی سلوم فرار ہو گیا تھا۔ پھر یروشلم کی فصیل پر کھڑے پہرے دار نے اچانک دیکھا کہ مغرب سے لوگوں کا بڑا گروہ شہر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ پہاڑی کے دامن میں چلے آ رہے تھے۔ E  !,7BMXcny)4?JT_ju%0;FQ\gr}                                                         !  "  #  $  %  &  '                                                                   !                J}O( بادشاہ کے پاس جا کر اُس سے بات کریں۔“ پھر یوآب نے عورت کو لفظ بہ لفظ وہ کچھ سکھایا جو اُسے بادشاہ کو بتانا تھا۔A'} اِس لئے اُس نے تقوع سے ایک دانش مند عورت کو بُلایا۔ یوآب نے اُسے ہدایت دی، ”ماتم کا روپ بھریں جیسے آپ دیر سے کسی کا ماتم کر رہی ہوں۔ ماتم کے کپڑے پہن کر خوشبودار تیل مت لگانا۔&  یوآب بن ضرویاہ کو معلوم ہوا کہ بادشاہ اپنے بیٹے ابی سلوم کو چاہتا ہے،2%_ 'پھر ایک وقت آ گیا کہ داؤد کا امنون کے لئے دُکھ دُور ہو گیا، اور اُس کا ابی سلوم پر غصہ تھم گیا۔ ~V~+1 اور میرے دو بیٹے تھے۔ ایک دن وہ باہر کھیت میں ایک دوسرے سے اُلجھ پڑے۔ اور چونکہ کوئی موجود نہیں تھا جو دونوں کو الگ کرتا اِس لئے ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔5*e داؤد نے دریافت کیا، ”کیا مسئلہ ہے؟“ عورت نے جواب دیا، ”مَیں بیوہ ہوں، میرا شوہر فوت ہو گیا ہے۔&)G داؤد کے دربار میں آ کر عورت نے اوندھے منہ جھک کر التماس کی، ”اے بادشاہ، میری مدد کریں!“ ~'~%-E بادشاہ نے عورت سے کہا، ”اپنے گھر چلی جائیں اور فکر نہ کریں۔ مَیں معاملہ حل کر دوں گا۔“U,% اُس وقت سے پورا کنبہ میرے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ وہ تقاضا کرتے ہیں کہ مَیں اپنے بیٹے کو اُن کے حوالے کروں۔ وہ کہتے ہیں، ’اُس نے اپنے بھائی کو مار دیا ہے، اِس لئے ہم بدلے میں اُسے سزائے موت دیں گے۔ اِس طرح وارث بھی نہیں رہے گا۔‘ یوں وہ میری اُمید کی آخری کرن کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اگر میرا یہ بیٹا بھی مر جائے تو میرے شوہر کا نام قائم نہیں رہے گا، اور اُس کا خاندان رُوئے زمین پر سے مٹ جائے گا۔“ 0  عورت کو تسلی نہ ہوئی۔ اُس نے گزارش کی، ”اے بادشاہ، براہِ کرم رب اپنے خدا کی قَسم کھائیں کہ آپ کسی کو بھی موت کا بدلہ نہیں لینے دیں گے۔ ورنہ نقصان میں اضافہ ہو گا اور میرا دوسرا بیٹا بھی ہلاک ہو جائے گا۔“ داؤد نے جواب دیا، ”رب کی حیات کی قَسم، آپ کے بیٹے کا ایک بال بھی بیکا نہیں ہو گا۔“A/}  داؤد نے اصرار کیا، ”اگر کوئی آپ کو تنگ کرے تو اُسے میرے پاس لے آئیں۔ پھر وہ آئندہ آپ کو نہیں ستائے گا!“.+  لیکن عورت نے گزارش کی، ”اے بادشاہ، ڈر ہے کہ لوگ پھر بھی مجھے مجرم ٹھہرائیں گے اگر میرے بیٹے کو سزائے موت نہ دی جائے۔ آپ پر تو وہ الزام نہیں لگائیں گے۔“ WW>2w  تب عورت نے کہا، ”آپ خود کیوں اللہ کی قوم کے خلاف ایسا ارادہ رکھتے ہیں جسے آپ نے ابھی ابھی غلط قرار دیا ہے؟ آپ نے خود فرمایا ہے کہ یہ ٹھیک نہیں، اور یوں آپ نے اپنے آپ کو ہی مجرم ٹھہرایا ہے۔ کیونکہ آپ نے اپنے بیٹے کو رد کر کے اُسے واپس آنے نہیں دیا۔c1A  پھر عورت اصل بات پر آ گئی، ”میرے آقا، براہِ کرم اپنی خادمہ کو ایک اَور بات کرنے کی اجازت دیں۔“ بادشاہ بولا، ”کریں بات۔“ @4{ اے بادشاہ میرے آقا، مَیں اِس وقت اِس لئے آپ کے حضور آئی ہوں کہ میرے لوگ مجھے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مَیں نے سوچا، مَیں بادشاہ سے بات کرنے کی جرٲت کروں گی، شاید وہ میری سنیں3y بےشک ہم سب کو کسی وقت مرنا ہے۔ ہم سب زمین پر اُنڈیلے گئے پانی کی مانند ہیں جسے زمین جذب کر لیتی ہے اور جو دوبارہ جمع نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اللہ ہماری زندگی کو بلاوجہ مٹا نہیں دیتا بلکہ ایسے منصوبے تیار رکھتا ہے جن کے ذریعے مردود شخص بھی اُس کے پاس واپس آ سکے اور اُس سے دُور نہ رہے۔ !H7 یہ سب کچھ سن کر داؤد بول اُٹھا، ”اب مجھے ایک بات بتائیں۔ اِس کا صحیح جواب دیں۔“ عورت نے جواب دیا، ”جی میرے آقا، بات فرمایئے۔“ داؤد نے پوچھا، ”کیا یوآب نے آپ سے یہ کام کروایا؟“C6 خیال یہ تھا کہ اگر بادشاہ معاملہ حل کر دیں تو پھر مجھے دوبارہ سکون ملے گا، کیونکہ آپ اچھی اور بُری باتوں کا امتیاز کرنے میں اللہ کے فرشتے جیسے ہیں۔ رب آپ کا خدا آپ کے ساتھ ہو۔“[51 اور مجھے اُس آدمی سے بچائیں جو مجھے اور میرے بیٹے کو اُس موروثی زمین سے محروم رکھنا چاہتا ہے جو اللہ نے ہمیں دے دی ہے۔  =9u کیونکہ وہ آپ کو یہ بات براہِ راست نہیں پیش کرنا چاہتا تھا۔ لیکن میرے آقا کو اللہ کے فرشتے کی سی حکمت حاصل ہے۔ جو کچھ بھی ملک میں وقوع میں آتا ہے اُس کا آپ کو پتا چل جاتا ہے۔“\83 عورت پکاری، ”بادشاہ کی حیات کی قَسم، جو کچھ بھی میرے آقا فرماتے ہیں وہ نشانے پر لگ جاتا ہے، خواہ بندہ بائیں یا دائیں طرف ہٹنے کی کوشش کیوں نہ کرے۔ جی ہاں، آپ کے خادم یوآب نے مجھے آپ کے حضور بھیج دیا۔ اُس نے مجھے لفظ بہ لفظ سب کچھ بتایا جو مجھے آپ کو عرض کرنا تھا، hh{<q یوآب روانہ ہو کر جسور چلا گیا اور وہاں سے ابی سلوم کو واپس لایا۔-;U یوآب اوندھے منہ جھک گیا اور بولا، ”رب بادشاہ کو برکت دے! میرے آقا، آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ مَیں آپ کو منظور ہوں، کیونکہ آپ نے اپنے خادم کی درخواست کو پورا کیا ہے۔“e:E داؤد نے یوآب کو بُلا کر اُس سے کہا، ”ٹھیک ہے، مَیں آپ کی درخواست پوری کروں گا۔ جائیں، میرے بیٹے ابی سلوم کو واپس لے آئیں۔“ CC8?k سال میں وہ ایک ہی مرتبہ اپنے بال کٹواتا تھا، کیونکہ اِتنے میں اُس کے بال حد سے زیادہ وزنی ہو جاتے تھے۔ جب اُنہیں تولا جاتا تو اُن کا وزن تقریباً سوا دو کلو گرام ہوتا تھا۔ > پورے اسرائیل میں ابی سلوم جیسا خوب صورت آدمی نہیں تھا۔ سب اُس کی خاص تعریف کرتے تھے، کیونکہ سر سے لے کر پاؤں تک اُس میں کوئی نقص نظر نہیں آتا تھا۔l=S لیکن جب وہ یروشلم پہنچے تو بادشاہ نے حکم دیا، ”اُسے اپنے گھر میں رہنے کی اجازت ہے، لیکن وہ کبھی مجھے نظر نہ آئے۔“ چنانچہ ابی سلوم اپنے گھر میں دوبارہ رہنے لگا، لیکن بادشاہ سے کبھی ملاقات نہ ہو سکی۔ p\p+CQ تب ابی سلوم نے اپنے نوکروں کو حکم دیا، ”دیکھو، یوآب کا کھیت میرے کھیت سے ملحق ہے، اور اُس میں جَو کی فصل پک رہی ہے۔ جاؤ، اُسے آگ لگا دو!“ نوکر گئے اور ایسا ہی کیا۔5Be پھر اُس نے یوآب کو اطلاع بھیجی کہ وہ اُس کی سفارش کرے۔ لیکن یوآب نے آنے سے انکار کیا۔ ابی سلوم نے اُسے دوبارہ بُلانے کی کوشش کی، لیکن اِس بار بھی یوآب اُس کے پاس نہ آیا۔A{ دو سال گزر گئے، پھر بھی ابی سلوم کو بادشاہ سے ملنے کی اجازت نہ ملی۔ @; ابی سلوم کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بیٹی کا نام تمر تھا اور وہ نہایت خوب صورت تھی۔ ""wEi  ابی سلوم نے جواب دیا، ”دیکھیں، آپ نہیں آئے جب مَیں نے آپ کو بُلایا۔ کیونکہ مَیں چاہتا ہوں کہ آپ بادشاہ کے پاس جا کر اُن سے پوچھیں کہ مجھے جسور سے کیوں لایا گیا۔ بہتر ہوتا کہ مَیں وہیں رہتا۔ اب بادشاہ مجھ سے ملیں یا اگر وہ اب تک مجھے قصوروار ٹھہراتے ہیں تو مجھے سزائے موت دیں۔“_D9 جب کھیت میں آگ لگ گئی تو یوآب بھاگ کر ابی سلوم کے پاس آیا اور شکایت کی، ”آپ کے نوکروں نے میرے کھیت کو آگ کیوں لگائی ہے؟“ ##LH روزانہ وہ صبح سویرے اُٹھ کر شہر کے دروازے پر جاتا۔ جب کبھی کوئی شخص اِس مقصد سے شہر میں داخل ہوتا کہ بادشاہ اُس کے کسی مقدمے کا فیصلہ کرے تو ابی سلوم اُس سے مخاطب ہو کر پوچھتا، ”آپ کس شہر سے ہیں؟“ اگر وہ جواب دیتا، ”مَیں اسرائیل کے فلاں قبیلے سے ہوں،“=G w کچھ دیر کے بعد ابی سلوم نے رتھ اور گھوڑے خریدے اور ساتھ ساتھ 50 محافظ بھی رکھے جو اُس کے آگے آگے دوڑیں۔HF !یوآب نے بادشاہ کے پاس جا کر اُسے یہ پیغام پہنچایا۔ پھر داؤد نے اپنے بیٹے کو بُلایا۔ ابی سلوم اندر آیا اور بادشاہ کے سامنے اوندھے منہ جھک گیا۔ پھر بادشاہ نے ابی سلوم کو بوسہ دیا۔ ,E,L% یہ اُس کا اُن تمام اسرائیلیوں کے ساتھ سلوک تھا جو اپنے مقدمے بادشاہ کو پیش کرنے کے لئے آتے تھے۔ یوں اُس نے اسرائیلیوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کر لیا۔Yw جب فلستی شہر جات کا آدمی اِتّی داؤد کے سامنے سے گزرنے لگا تو بادشاہ اُس سے مخاطب ہوا، ”آپ ہمارے ساتھ کیوں جائیں؟ نہیں، واپس چلے جائیں اور نئے بادشاہ کے ساتھ رہیں۔ آپ تو غیرملکی ہیں اور اِس لئے اسرائیل میں رہتے ہیں کہ آپ کو جلاوطن کر دیا گیا ہے۔7Xi اُس نے اپنے تمام پیروکاروں کو آگے نکلنے دیا، پہلے شاہی دستے کریتی و فلیتی کو، پھر اُن 600 جاتی آدمیوں کو جو اُس کے ساتھ جات سے یہاں آئے تھے اور آخر میں باقی تمام لوگوں کو۔ H H?\y تب داؤد مان گیا۔ ”چلو، پھر آگے نکلیں!“ چنانچہ اِتّی اپنے لوگوں اور اُن کے خاندانوں کے ساتھ آگے نکلا۔[ لیکن اِتّی نے اعتراض کیا، ”میرے آقا، رب اور بادشاہ کی حیات کی قَسم، مَیں آپ کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا، خواہ مجھے اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے۔“hZK آپ کو یہاں آئے تھوڑی دیر ہوئی ہے، تو کیا مناسب ہے کہ آپ کو دوبارہ میری وجہ سے کبھی اِدھر کبھی اُدھر گھومنا پڑے؟ کیا پتا ہے کہ مجھے کہاں کہاں جانا پڑے۔ اِس لئے واپس چلے جائیں، اور اپنے ہم وطنوں کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں۔ رب آپ پر اپنی مہربانی اور وفاداری کا اظہار کرے۔“ I^ صدوق امام اور تمام لاوی بھی داؤد کے ساتھ شہر سے نکل آئے تھے۔ لاوی عہد کا صندوق اُٹھائے چل رہے تھے۔ اب اُنہوں نے اُسے شہر سے باہر زمین پر رکھ دیا، اور ابیاتر وہاں قربانیاں چڑھانے لگا۔ لوگوں کے شہر سے نکلنے کے پورے عرصے کے دوران وہ قربانیاں چڑھاتا رہا۔1]] آخر میں داؤد نے وادیِ قدرون کو پار کر کے ریگستان کی طرف رُخ کیا۔ گرد و نواح کے تمام لوگ بادشاہ کو اُس کے پیروکاروں سمیت روانہ ہوتے ہوئے دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ xak جہاں تک آپ کا تعلق ہے، اپنے بیٹے اخی معض کو ساتھ لے کر صحیح سلامت شہر میں واپس چلے جائیں۔ ابیاتر اور اُس کا بیٹا یونتن بھی ساتھ جائیں۔r`_ لیکن اگر وہ فرمائے کہ تُو مجھے پسند نہیں ہے، تو مَیں یہ بھی برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ وہ میرے ساتھ وہ کچھ کرے جو اُسے مناسب لگے۔l_S پھر داؤد صدوق سے مخاطب ہوا، ”اللہ کا صندوق شہر میں واپس لے جائیں۔ اگر رب کی نظرِ کرم مجھ پر ہوئی تو وہ کسی دن مجھے شہر میں واپس لا کر عہد کے صندوق اور اُس کی سکونت گاہ کو دوبارہ دیکھنے کی اجازت دے گا۔ d9 داؤد روتے روتے زیتون کے پہاڑ پر چڑھنے لگا۔ اُس کا سر ڈھانپا ہوا تھا، اور وہ ننگے پاؤں چل رہا تھا۔ باقی سب کے سر بھی ڈھانپے ہوئے تھے، سب روتے روتے چڑھنے لگے۔c} چنانچہ صدوق اور ابیاتر عہد کا صندوق شہر میں واپس لے جا کر وہیں رہے۔]b5 مَیں خود ریگستان میں دریائے یردن کی اُس جگہ رُک جاؤں گا جہاں ہم آسانی سے دریا کو پار کر سکیں گے۔ وہاں آپ مجھے یروشلم کے حالات کے بارے میں پیغام بھیج سکتے ہیں۔ مَیں آپ کے انتظار میں رہوں گا۔“ 99g !داؤد نے اُس سے کہا، ”اگر آپ میرے ساتھ جائیں تو آپ صرف بوجھ کا باعث بنیں گے۔f  چلتے چلتے داؤد پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گیا جہاں اللہ کی پرستش کی جاتی تھی۔ وہاں حوسی ارکی اُس سے ملنے آیا۔ اُس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اور سر پر خاک تھی۔e/ راستے میں داؤد کو اطلاع دی گئی، ”اخی تُفل بھی ابی سلوم کے ساتھ مل گیا ہے۔“ یہ سن کر داؤد نے دعا کی، ”اے رب، بخش دے کہ اخی تُفل کے مشورے ناکام ہو جائیں۔“ p>pJi #آپ اکیلے نہیں ہوں گے۔ دونوں امام صدوق اور ابیاتر بھی یروشلم میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ دربار میں جو بھی منصوبے باندھے جائیں گے وہ اُنہیں بتائیں۔ صدوق کا بیٹا اخی معض اور ابیاتر کا بیٹا یونتن مجھے ہر خبر پہنچائیں گے، کیونکہ وہ بھی شہر میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔“>hw "بہتر ہے کہ آپ لوٹ کر شہر میں جائیں اور ابی سلوم سے کہیں، ’اے بادشاہ، مَیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ پہلے مَیں آپ کے باپ کی خدمت کرتا تھا، اور اب آپ ہی کی خدمت کروں گا۔‘ اگر آپ ایسا کریں تو آپ اخی تُفل کے مشورے ناکام بنانے میں میری بڑی مدد کریں گے۔ E  !,7BMXcny)4?JT_ju%0;FP[fq|                                                                    !  "  #  $  %                                           !  !  !   !  !  !  !  !  !  !  !   !   !   !   !   !  !  !  !  ! |2|2k_ %تب داؤد کا دوست حوسی واپس چلا گیا۔ وہ اُس وقت پہنچ گیا جب ابی سلوم یروشلم میں داخل ہو رہا تھا۔ Jj $آپ اکیلے نہیں ہوں گے۔ دونوں امام صدوق اور ابیاتر بھی یروشلم میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ دربار میں جو بھی منصوبے باندھے جائیں گے وہ اُنہیں بتائیں۔ صدوق کا بیٹا اخی معض اور ابیاتر کا بیٹا یونتن مجھے ہر خبر پہنچائیں گے، کیونکہ وہ بھی شہر میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔“ r%mE بادشاہ نے پوچھا، ”آپ اِن چیزوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں؟“ ضیبا نے جواب دیا، ”گدھے بادشاہ کے خاندان کے لئے ہیں، وہ اِن پر بیٹھ کر سفر کریں۔ روٹی اور پھل جوانوں کے لئے ہیں، اور مَے اُن کے لئے جو ریگستان میں چلتے چلتے تھک جائیں۔“ l  داؤد ابھی پہاڑ کی چوٹی سے کچھ آگے نکل گیا تھا کہ مفی بوست کا ملازم ضیبا اُس سے ملنے آیا۔ اُس کے پاس دو گدھے تھے جن پر زِینیں کسی ہوئی تھیں۔ اُن پر 200 روٹیاں، کشمش کی 100 ٹکیاں، 100 تازہ پھل اور مَے کی ایک مشک لدی ہوئی تھی۔ ,A,p جب داؤد بادشاہ بحوریم کے قریب پہنچا تو ایک آدمی وہاں سے نکل کر اُس پر لعنتیں بھیجنے لگا۔ آدمی کا نام سِمعی بن جیرا تھا، اور وہ ساؤل کا رشتے دار تھا۔Yo- یہ سن کر داؤد بولا، ”آج ہی مفی بوست کی تمام ملکیت آپ کے نام منتقل کی جاتی ہے!“ ضیبا نے کہا، ”مَیں آپ کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکتا ہوں۔ رب کرے کہ مَیں اپنے آقا اور بادشاہ کا منظورِ نظر رہوں۔“^n7 بادشاہ نے سوال کیا، ”آپ کے پرانے مالک کا پوتا مفی بوست کہاں ہے؟“ ضیبا نے کہا، ”وہ یروشلم میں ٹھہرا ہوا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ آج اسرائیلی مجھے بادشاہ بنا دیں گے، کیونکہ مَیں ساؤل کا پوتا ہوں۔“ 'sI یہ تیرا ہی قصور تھا کہ ساؤل اور اُس کا خاندان تباہ ہوئے۔ اب رب تجھے جو ساؤل کی جگہ تخت نشین ہو گیا ہے اِس کی مناسب سزا دے رہا ہے۔ اُس نے تیرے بیٹے ابی سلوم کو تیری جگہ تخت نشین کر کے تجھے تباہ کر دیا ہے۔ قاتل کو صحیح معاوضہ مل گیا ہے!“yrm لعنت کرتے کرتے سِمعی چیخ رہا تھا، ”چل، دفع ہو جا! قاتل! بدمعاش!kqQ وہ داؤد اور اُس کے افسروں پر پتھر بھی پھینکنے لگا، اگرچہ داؤد کے بائیں اور دائیں ہاتھ اُس کے محافظ اور بہترین فوجی چل رہے تھے۔ NNVv'  پھر داؤد تمام افسروں سے بھی مخاطب ہوا، ”جبکہ میرا اپنا بیٹا مجھے قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو ساؤل کا یہ رشتے دار ایسا کیوں نہ کرے؟ اِسے چھوڑ دو، کیونکہ رب نے اِسے یہ کرنے کا حکم دیا ہے۔Eu  لیکن بادشاہ نے اُسے روک دیا، ”میرا آپ اور آپ کے بھائی یوآب سے کیا واسطہ؟ نہیں، اُسے لعنت کرنے دیں۔ ہو سکتا ہے رب نے اُسے یہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو پھر ہم کون ہیں کہ اُسے روکیں۔“ t  ابی شے بن ضرویاہ بادشاہ سے کہنے لگا، ”یہ کیسا مُردہ کُتا ہے جو میرے آقا بادشاہ پر لعنت کرے؟ مجھے اجازت دیں، تو مَیں جا کر اُس کا سر قلم کر دوں۔“ ?|`?X{+ تھوڑی دیر کے بعد داؤد کا دوست حوسی ارکی ابی سلوم کے دربار میں حاضر ہو کر پکارا، ”بادشاہ زندہ باد! بادشاہ زندہ باد!“Bz اِتنے میں ابی سلوم اپنے پیروکاروں کے ساتھ یروشلم میں داخل ہوا تھا۔ اخی تُفل بھی اُن کے ساتھ مل گیا تھا۔|ys سب تھکے ماندے دریائے یردن کو پہنچ گئے۔ وہاں داؤد تازہ دم ہو گیا۔x+  داؤد اور اُس کے لوگوں نے سفر جاری رکھا۔ سِمعی قریب کی پہاڑی ڈھلان پر اُس کے برابر چلتے چلتے اُس پر لعنتیں بھیجتا اور پتھر اور مٹی کے ڈھیلے پھینکتا رہا۔w{  شاید رب میری مصیبت کا لحاظ کر کے سِمعی کی لعنتیں برکت میں بدل دے۔“ ??!= پھر ابی سلوم اخی تُفل سے مخاطب ہوا، ”آگے کیا کرنا چاہئے؟ مجھے اپنا مشورہ پیش کریں۔“~/ دوسرے، اگر کسی کی خدمت کرنی ہے تو کیا داؤد کے بیٹے کی خدمت کرنا مناسب نہیں ہے؟ جس طرح مَیں آپ کے باپ کی خدمت کرتا رہا ہوں اُسی طرح اب آپ کی خدمت کروں گا۔“v}g حوسی نے جواب دیا، ”نہیں، جس آدمی کو رب اور تمام اسرائیلیوں نے مقرر کیا ہے، وہی میرا مالک ہے، اور اُسی کی خدمت میں مَیں حاضر رہوں گا۔|{ یہ سن کر ابی سلوم نے اُس سے طنزاً کہا، ”یہ کیسی وفاداری ہے جو آپ اپنے دوست داؤد کو دکھا رہے ہیں؟ آپ اپنے دوست کے ساتھ روانہ کیوں نہ ہوئے؟“ hK اُس وقت اخی تُفل کا ہر مشورہ اللہ کے فرمان جیسا مانا جاتا تھا۔ داؤد اور ابی سلوم دونوں یوں ہی اُس کے مشوروں کی قدر کرتے تھے۔ } ابی سلوم مان گیا، اور محل کی چھت پر اُس کے لئے خیمہ لگایا گیا۔ اُس میں وہ پورے اسرائیل کے دیکھتے دیکھتے اپنے باپ کی داشتاؤں سے ہم بستر ہوا۔}u اخی تُفل نے جواب دیا، ”آپ کے باپ نے اپنی کچھ داشتاؤں کو محل سنبھالنے کے لئے یہاں چھوڑ دیا ہے۔ اُن کے ساتھ ہم بستر ہو جائیں۔ پھر تمام اسرائیل کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے اپنے باپ کی ایسی بےعزتی کی ہے کہ صلح کا راستہ بند ہو گیا ہے۔ یہ دیکھ کر سب جو آپ کے ساتھ ہیں مضبوط ہو جائیں گے۔“ ~~p[ یہ مشورہ ابی سلوم اور اسرائیل کے تمام بزرگوں کو پسند آیا۔ اور باقی تمام لوگوں کو آپ کے پاس واپس لاؤں گا۔ جو آدمی آپ پکڑنا چاہتے ہیں اُس کی موت پر سب واپس آ جائیں گے۔ اور قوم میں امن و امان قائم ہو جائے گا۔“' مَیں اُس پر حملہ کروں گا جب وہ تھکاماندہ اور بےدل ہے۔ تب وہ گھبرا جائے گا، اور اُس کے تمام فوجی بھاگ جائیں گے۔ نتیجتاً مَیں صرف بادشاہ ہی کو مار دوں گا^ 9 اخی تُفل نے ابی سلوم کو ایک اَور مشورہ بھی دیا۔ ”مجھے اجازت دیں تو مَیں 12,000 فوجیوں کے ساتھ اِسی رات داؤد کا تعاقب کروں۔ aK  حوسی نے جواب دیا، ”جو مشورہ اخی تُفل نے دیا ہے وہ اِس دفعہ ٹھیک نہیں۔ حوسی آیا تو ابی سلوم نے اُس کے سامنے اخی تُفل کا منصوبہ بیان کر کے پوچھا، ”آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ہمیں ایسا کرنا چاہئے، یا آپ کی کوئی اَور رائے ہے؟“1 تاہم ابی سلوم نے کہا، ”پہلے ہم حوسی ارکی سے بھی مشورہ لیں۔ کوئی اُسے بُلا لائے۔“ 6# A  غالباً وہ اِس وقت بھی گہری کھائی یا کہیں اَور چھپ گیا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ وہاں سے نکل کر آپ کے دستوں پر حملہ کرے اور ابتدا ہی میں آپ کے تھوڑے بہت افراد مر جائیں۔ پھر افواہ پھیل جائے گی کہ ابی سلوم کے دستوں میں قتلِ عام شروع ہو گیا ہے۔F  آپ تو اپنے والد اور اُن کے آدمیوں سے واقف ہیں۔ وہ سب ماہر فوجی ہیں۔ وہ اُس ریچھنی کی سی شدت سے لڑیں گے جس سے اُس کے بچے چھین لئے گئے ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ آپ کا باپ تجربہ کار فوجی ہے۔ امکان نہیں کہ وہ رات کو اپنے فوجیوں کے درمیان گزارے گا۔ & G  یہ پیشِ نظر رکھ کر مَیں آپ کو ایک اَور مشورہ دیتا ہوں۔ شمال میں دان سے لے کر جنوب میں بیرسبع تک لڑنے کے قابل تمام اسرائیلیوں کو بُلائیں۔ اِتنے جمع کریں کہ وہ ساحل کی ریت کی مانند ہوں گے، اور آپ خود اُن کے آگے چل کر لڑنے کے لئے نکلیں۔P   یہ سن کر آپ کے تمام افراد ڈر کے مارے بےدل ہو جائیں گے، خواہ وہ شیرببر جیسے بہادر کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ تمام اسرائیل جانتا ہے کہ آپ کا باپ بہترین فوجی ہے اور کہ اُس کے ساتھی بھی دلیر ہیں۔ WW^7 ابی سلوم اور تمام اسرائیلیوں نے کہا، ”حوسی کا مشورہ اخی تُفل کے مشورے سے بہتر ہے۔“ حقیقت میں اخی تُفل کا مشورہ کہیں بہتر تھا، لیکن رب نے اُسے ناکام ہونے دیا تاکہ ابی سلوم کو مصیبت میں ڈالے۔  اگر داؤد کسی شہر میں پناہ لے تو تمام اسرائیلی فصیل کے ساتھ رسّے لگا کر پورے شہر کو وادی میں گھسیٹ لے جائیں گے۔ پتھر پر پتھر باقی نہیں رہے گا!“9m  پھر ہم داؤد کا کھوج لگا کر اُس پر حملہ کریں گے۔ ہم اُس طرح اُس پر ٹوٹ پڑیں گے جس طرح اوس زمین پر گرتی ہے۔ سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے، اور نہ وہ اور نہ اُس کے آدمی بچ پائیں گے۔ + اُس نے کہا، ”اب فوراً داؤد کو اطلاع دیں کہ کسی صورت میں بھی اِس رات کو دریائے یردن کی اُس جگہ پر نہ گزاریں جہاں لوگ دریا کو پار کرتے ہیں۔ لازم ہے کہ آپ آج ہی دریا کو عبور کر لیں، ورنہ آپ تمام ساتھیوں سمیت برباد ہو جائیں گے۔“H حوسی نے دونوں اماموں صدوق اور ابیاتر کو وہ منصوبہ بتایا جو اخی تُفل نے ابی سلوم اور اسرائیل کے بزرگوں کو پیش کیا تھا۔ ساتھ ساتھ اُس نے اُنہیں اپنے مشورے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ 7iM لیکن ایک جوان نے اُنہیں دیکھا اور بھاگ کر ابی سلوم کو اطلاع دی۔ دونوں جلدی جلدی وہاں سے چلے گئے اور ایک آدمی کے گھر میں چھپ گئے جو بحوریم میں رہتا تھا۔ اُس کے صحن میں کنواں تھا۔ اُس میں وہ اُتر گئے۔E یونتن اور اخی معض یروشلم سے باہر کے چشمے عین راجل کے پاس انتظار کر رہے تھے، کیونکہ وہ شہر میں داخل ہو کر کسی کو نظر آنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ ایک نوکرانی شہر سے نکل آئی اور اُنہیں حوسی کا پیغام دے دیا تاکہ وہ آگے نکل کر اُسے داؤد تک پہنچائیں۔ P"PN ابی سلوم کے سپاہی اُس گھر میں پہنچے اور عورت سے پوچھنے لگے، ”اخی معض اور یونتن کہاں ہیں؟“ عورت نے جواب دیا، ”وہ آگے نکل چکے ہیں، کیونکہ وہ ندی کو پار کرنا چاہتے تھے۔“ سپاہی دونوں آدمیوں کا کھوج لگاتے لگاتے تھک گئے۔ آخرکار وہ خالی ہاتھ یروشلم لوٹ گئے۔Z/ آدمی کی بیوی نے کنوئیں کے منہ پر کپڑا بچھا کر اُس پر اناج کے دانے بکھیر دیئے تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ وہاں کنواں ہے۔ ulS داؤد اور اُس کے تمام ساتھی جلد ہی روانہ ہوئے اور اُسی رات دریائے یردن کو عبور کیا۔ پَو پھٹتے وقت ایک بھی پیچھے نہیں رہ گیا تھا۔ جب چلے گئے تو اخی معض اور یونتن کنوئیں سے نکل کر سیدھے داؤد بادشاہ کے پاس چلے گئے تاکہ اُسے پیغام سنائیں۔ اُنہوں نے کہا، ”لازم ہے کہ آپ دریا کو فوراً پار کریں!“ پھر اُنہوں نے داؤد کو اخی تُفل کا پورا منصوبہ بتایا۔ zszO اُس نے عماسا کو فوج پر مقرر کیا تھا، کیونکہ یوآب تو داؤد کے ساتھ تھا۔ عماسا ایک اسماعیلی بنام اِترا کا بیٹا تھا۔ اُس کی ماں ابی جیل بنت ناحس تھی، اور وہ یوآب کی ماں ضرویاہ کی بہن تھی۔"? جب داؤد محنائم پہنچ گیا تو ابی سلوم اسرائیلی فوج کے ساتھ دریائے یردن کو پار کرنے لگا۔  جب اخی تُفل نے دیکھا کہ میرا مشورہ رد کیا گیا ہے تو وہ اپنے گدھے پر زِین کس کر اپنے وطنی شہر واپس چلا گیا۔ وہاں اُس نے گھر کے تمام معاملات کا بندوبست کیا، پھر جا کر پھانسی لے لی۔ اُسے اُس کے باپ کی قبر میں دفنایا گیا۔ W]W)M شہد، دہی، بھیڑبکریاں اور گائے کے دودھ کا پنیر مہیا کیا۔ کیونکہ اُنہوں نے سوچا، ”یہ لوگ ریگستان میں چلتے چلتے ضرور بھوکے، پیاسے اور تھکے ماندے ہو گئے ہوں گے۔“ U% تینوں نے داؤد اور اُس کے لوگوں کو بستر، باسن، مٹی کے برتن، گندم، جَو، میدہ، اناج کے بُھنے ہوئے دانے، لوبیا، مسور،,S جب داؤد محنائم پہنچا تو تین آدمیوں نے اُس کا استقبال کیا۔ سوبی بن ناحس عمونیوں کے دار الحکومت ربّہ سے، مکیر بن عمی ایل لو دبار سے اور برزلی جِلعادی راجلیم سے آئے۔p[ ابی سلوم اور اُس کے ساتھیوں نے ملکِ جِلعاد میں پڑاؤ ڈالا۔ c! پھر اُس نے اُنہیں تین حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصے پر یوآب کو، دوسرے پر اُس کے بھائی ابی شے بن ضرویاہ کو اور تیسرے پر اِتّی جاتی کو مقرر کیا۔ اُس نے فوجیوں کو بتایا، ”مَیں خود بھی آپ کے ساتھ لڑنے کے لئے نکلوں گا۔“  / داؤد نے اپنے فوجیوں کا معائنہ کر کے ہزار ہزار اور سَو سَو افراد پر آدمی مقرر کئے۔ rrP# بادشاہ نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، جو کچھ آپ کو معقول لگتا ہے وہی کروں گا۔“ وہ شہر کے دروازے پر کھڑا ہوا، اور تمام مرد سَو سَو اور ہزار ہزار کے گروہوں میں اُس کے سامنے سے گزر کر باہر نکلے۔6"g لیکن اُنہوں نے اعتراض کیا، ”ایسا نہ کریں! اگر ہمیں بھاگنا بھی پڑے یا ہمارا آدھا حصہ مارا بھی جائے تو ابی سلوم کے فوجیوں کے لئے اِتنا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وہ آپ ہی کو پکڑنا چاہتے ہیں، کیونکہ آپ اُن کے نذدیک ہم میں سے 10,000 افراد سے زیادہ اہم ہیں۔ چنانچہ بہتر ہے کہ آپ شہر ہی میں رہیں اور وہاں سے ہماری حمایت کریں۔“ \b'? لڑائی پورے جنگل میں پھیلتی گئی۔ یہ جنگل اِتنا خطرناک تھا کہ اُس دن تلوار کی نسبت زیادہ لوگ اُس کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔& اور داؤد کے فوجیوں نے مخالفوں کو شکستِ فاش دی۔ اُن کے 20,000 افراد ہلاک ہوئے۔&%G داؤد کے لوگ کھلے میدان میں اسرائیلیوں سے لڑنے گئے۔ افرائیم کے جنگل میں اُن کی ٹکر ہوئی،v$g یوآب، ابی شے اور اِتّی کو اُس نے حکم دیا، ”میری خاطر جوان ابی سلوم سے نرمی سے پیش آنا!“ تمام فوجیوں نے تینوں کمانڈروں سے یہ بات سنی۔ gfhg}*u  یوآب پکارا، ”کیا آپ نے اُسے دیکھا؟ تو اُسے وہیں کیوں نہ مار دیا؟ پھر مَیں آپ کو انعام کے طور پر چاندی کے دس سکے اور ایک کمربند دے دیتا۔“z)o  جن آدمیوں نے یہ دیکھا اُن میں سے ایک یوآب کے پاس گیا اور اطلاع دی، ”مَیں نے ابی سلوم کو دیکھا ہے۔ وہ بلوط کے ایک درخت میں لٹکا ہوا ہے۔“('  اچانک داؤد کے کچھ فوجیوں کو ابی سلوم نظر آیا۔ وہ خچر پر سوار بلوط کے ایک بڑے درخت کے سائے میں سے گزرنے لگا تو اُس کے بال درخت کی شاخوں میں اُلجھ گئے۔ اُس کا خچر آگے نکل گیا جبکہ ابی سلوم وہیں آسمان و زمین کے درمیان لٹکا رہا۔ ww,i  اور اگر مَیں چپکے سے بھی اُسے قتل کرتا توبھی اِس کی خبر کسی نہ کسی وقت بادشاہ کے کانوں تک پہنچتی۔ کیونکہ کوئی بھی بات بادشاہ سے پوشیدہ نہیں رہتی۔ اگر مجھے اِس صورت میں پکڑا جاتا تو آپ میری حمایت نہ کرتے۔“+  لیکن آدمی نے اعتراض کیا، ”اگر آپ مجھے چاندی کے ہزار سکے بھی دیتے توبھی مَیں بادشاہ کے بیٹے کو ہاتھ نہ لگاتا۔ ہمارے سنتے سنتے بادشاہ نے آپ، ابی شے اور اِتّی کو حکم دیا، ’میری خاطر ابی سلوم کو نقصان نہ پہنچائیں۔‘ v|0s باقی اسرائیلی اپنے اپنے گھر بھاگ گئے۔ یوآب کے آدمیوں نے ابی سلوم کی لاش کو ایک گہرے گڑھے میں پھینک کر اُس پر پتھروں کا بڑا ڈھیر لگا دیا۔#/A تب یوآب نے نرسنگا بجا دیا، اور اُس کے فوجی دوسروں کا تعاقب کرنے سے باز آ کر واپس آ گئے۔. پھر یوآب کے دس سلاح برداروں نے ابی سلوم کو گھیر کر اُسے ہلاک کر دیا۔-{ یوآب بولا، ”میرا وقت مزید ضائع مت کرو۔“ اُس نے تین نیزے لے کر ابی سلوم کے دل میں گھونپ دیئے جب وہ ابھی زندہ حالت میں درخت سے لٹکا ہوا تھا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq|  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !   !  !!  !"  !#  !$  !%  !&  !'   !(   !)   !*   !+   !,  !-  !.  !/  !0  !1  !2  !3  !4  !5  !6  !7  !8  !9  !:  !;  !<  !=  !>   !?  !!@   !A  !B  !C  !D  !E  !F  !G  !H   !I   !J   !K   !L   !M  !N  !O  !P  !Q  !R  !S  !T  !U  !V  !W  !X  !Y rr\33 لیکن یوآب نے انکار کیا، ”جو پیغام آپ کو بادشاہ تک پہنچانا ہے وہ اُس کے لئے خوش خبری نہیں ہے، کیونکہ اُس کا بیٹا مر گیا ہے۔ کسی اَور وقت مَیں ضرور آپ کو اُس کے پاس بھیج دوں گا، لیکن آج نہیں۔“[21 اخی معض بن صدوق نے یوآب سے درخواست کی، ”مجھے دوڑ کر بادشاہ کو خوش خبری سنانے دیں کہ رب نے اُسے دشمنوں سے بچا لیا ہے۔“K1 کچھ دیر پہلے ابی سلوم اِس خیال سے بادشاہ کی وادی میں اپنی یاد میں ایک ستون کھڑا کر چکا تھا کہ میرا کوئی بیٹا نہیں ہے جو میرا نام قائم رکھے۔ آج تک یہ ’ابی سلوم کی یادگار‘ کہلاتا ہے۔ CC?5y لیکن اخی معض خوش نہیں تھا۔ وہ اصرار کرتا رہا، ”کچھ بھی ہو جائے، مہربانی کر کے مجھے اُس کے پیچھے دوڑنے دیں!“ ایک اَور بار یوآب نے اُسے روکنے کی کوشش کی، ”بیٹے، آپ جانے کے لئے کیوں تڑپتے ہیں؟ جو خبر پہنچانی ہے اُس کے لئے آپ کو انعام نہیں ملے گا۔“v4g اُس نے ایتھوپیا کے ایک آدمی کو حکم دیا، ”جائیں اور بادشاہ کو بتائیں۔“ آدمی یوآب کے سامنے اوندھے منہ جھک گیا اور پھر دوڑ کر چلا گیا۔ <Y7- اُس وقت داؤد شہر کے باہر اور اندر والے دروازوں کے درمیان بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔ جب پہرے دار دروازے کے اوپر کی فصیل پر چڑھا تو اُسے ایک تنہا آدمی نظر آیا جو دوڑتا ہوا اُن کی طرف آ رہا تھا۔@6{ اخی معض نے جواب دیا، ”کوئی بات نہیں۔ کچھ بھی ہو جائے، مَیں ہر صورت میں دوڑ کر بادشاہ کے پاس جانا چاہتا ہوں۔“ تب یوآب نے اُسے جانے دیا۔ اخی معض نے دریائے یردن کے کھلے میدان کا راستہ لیا، اِس لئے وہ ایتھوپیا کے آدمی سے پہلے بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔ @@89k لیکن اِتنے میں پہرے دار کو ایک اَور آدمی نظر آیا جو شہر کی طرف دوڑتا ہوا آ رہا تھا۔ اُس نے شہر کے دروازے کے دربان کو آواز دی، ”ایک اَور آدمی دوڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ بھی اکیلا ہی آ رہا ہے۔“ داؤد نے کہا، ”وہ بھی اچھی خبر لے کر آ رہا ہے۔“8{ پہرے دار نے آواز دے کر بادشاہ کو اطلاع دی۔ داؤد بولا، ”اگر اکیلا ہو تو ضرور خوش خبری لے کر آ رہا ہو گا۔“ یہ آدمی بھاگتا بھاگتا قریب آ گیا، 66; دُور سے اخی معض نے بادشاہ کو آواز دی، ”بادشاہ کی سلامتی ہو!“ وہ اوندھے منہ بادشاہ کے سامنے جھک کر بولا، ”رب آپ کے خدا کی تمجید ہو! اُس نے آپ کو اُن لوگوں سے بچا لیا ہے جو میرے آقا اور بادشاہ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔“2:_ پھر پہرے دار پکارا، ”لگتا ہے کہ پہلا آدمی اخی معض بن صدوق ہے، کیونکہ وہی یوں چلتا ہے۔“ داؤد کو تسلی ہوئی، ”اخی معض اچھا بندہ ہے۔ وہ ضرور اچھی خبر لے کر آ رہا ہو گا۔“ j >; پھر ایتھوپیا کا آدمی پہنچ گیا۔ اُس نے کہا، ”میرے بادشاہ، میری خوش خبری سنیں! آج رب نے آپ کو اُن سب لوگوں سے نجات دلائی ہے جو آپ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔“=3 بادشاہ نے حکم دیا، ”ایک طرف ہو کر میرے پاس کھڑے ہو جائیں!“ اخی معض نے ایسا ہی کیا۔< داؤد نے پوچھا، ”اور میرا بیٹا ابی سلوم؟ کیا وہ محفوظ ہے؟“ اخی معض نے جواب دیا، ”جب یوآب نے مجھے اور بادشاہ کے دوسرے خادم کو آپ کے پاس رُخصت کیا تو اُس وقت بڑی افرا تفری تھی۔ مجھے تفصیل سے معلوم نہ ہوا کہ کیا ہو رہا ہے۔“ aba}@u !یہ سن کر بادشاہ لرز اُٹھا۔ شہر کے دروازے کے اوپر کی فصیل پر ایک کمرا تھا۔ اب بادشاہ روتے روتے سیڑھیوں پر چڑھنے لگا اور چیختے چلّاتے اُس کمرے میں چلا گیا، ”ہائے میرے بیٹے ابی سلوم! میرے بیٹے، میرے بیٹے ابی سلوم! کاش مَیں ہی تیری جگہ مر جاتا۔ ہائے ابی سلوم، میرے بیٹے، میرے بیٹے!“ ?/  بادشاہ نے سوال کیا، ”اور میرا بیٹا ابی سلوم؟ کیا وہ محفوظ ہے؟“ ایتھوپیا کے آدمی نے جواب دیا، ”میرے آقا، جس طرح اُس کے ساتھ ہوا ہے، اُس طرح آپ کے تمام دشمنوں کے ساتھ ہو جائے، اُن سب کے ساتھ جو آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں!“ {x{{D} بادشاہ ابھی کمرے میں بیٹھا تھا۔ اپنے منہ کو ڈھانپ کر وہ چیختا چلّاتا رہا، ”ہائے میرے بیٹے ابی سلوم! ہائے ابی سلوم، میرے بیٹے، میرے بیٹے!“wCi اُس دن داؤد کے آدمی چوری چوری شہر میں گھس آئے، ایسے لوگوں کی طرح جو میدانِ جنگ سے فرار ہونے پر شرماتے ہوئے چپکے سے شہر میں آ جاتے ہیں۔yBm جب فوجیوں کو خبر ملی کہ بادشاہ اپنے بیٹے کا ماتم کر رہا ہے تو فتح پانے پر اُن کی ساری خوشی کافور ہو گئی۔ ہر طرف ماتم اور غم کا سماں تھا۔A  یوآب کو اطلاع دی گئی، ”بادشاہ روتے روتے ابی سلوم کا ماتم کر رہا ہے۔“ F7 جو آپ سے نفرت کرتے ہیں اُن سے آپ محبت رکھتے ہیں جبکہ جو آپ سے پیار کرتے ہیں اُن سے آپ نفرت کرتے ہیں۔ آج آپ نے صاف ظاہر کر دیا ہے کہ آپ کے کمانڈر اور دستے آپ کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ ہاں، آج مَیں نے جان لیا ہے کہ اگر ابی سلوم زندہ ہوتا تو آپ خوش ہوتے، خواہ ہم باقی تمام لوگ ہلاک کیوں نہ ہو جاتے۔PE تب یوآب اُس کے پاس جا کر اُسے سمجھانے لگا، ”آج آپ کے خادموں نے نہ صرف آپ کی جان بچائی ہے بلکہ آپ کے بیٹوں، بیٹیوں، بیویوں اور داشتاؤں کی جان بھی۔ توبھی آپ نے اُن کا منہ کالا کر دیا ہے۔ &x&NH تب داؤد اُٹھا اور شہر کے دروازے کے پاس اُتر آیا۔ جب فوجیوں کو بتایا گیا کہ بادشاہ شہر کے دروازے میں بیٹھا ہے تو وہ سب اُس کے سامنے جمع ہوئے۔ اِتنے میں اسرائیلی اپنے گھر بھاگ گئے تھے۔G اب اُٹھ کر باہر جائیں اور اپنے خادموں کی حوصلہ افزائی کریں۔ رب کی قَسم، اگر آپ باہر نہ نکلیں گے تو رات تک ایک بھی آپ کے ساتھ نہیں رہے گا۔ پھر آپ پر ایسی مصیبت آئے گی جو آپ کی جوانی سے لے کر آج تک آپ پر نہیں آئی ہے۔“ IJ  اب جب ابی سلوم جسے ہم نے مسح کر کے بادشاہ بنایا تھا مر گیا ہے تو آپ بادشاہ کو واپس لانے سے کیوں جھجکتے ہیں؟“sIa  اسرائیل کے تمام قبیلوں میں لوگ آپس میں بحث مباحثہ کرنے لگے، ”داؤد بادشاہ نے ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچایا، اور اُسی نے ہمیں فلستیوں کے ہاتھ سے آزاد کر دیا۔ لیکن ابی سلوم کی وجہ سے وہ ملک سے ہجرت کر گیا ہے۔ f#f9Lm  آپ میرے بھائی، میرے قریبی رشتے دار ہیں۔ تو پھر آپ بادشاہ کو واپس لانے میں آخر میں کیوں آ رہے ہیں؟“YK-  داؤد نے صدوق اور ابیاتر اماموں کی معرفت یہوداہ کے بزرگوں کو اطلاع دی، ”یہ بات مجھ تک پہنچ گئی ہے کہ تمام اسرائیل اپنے بادشاہ کا استقبال کر کے اُسے محل میں واپس لانا چاہتا ہے۔ تو پھر آپ کیوں دیر کر رہے ہیں؟ کیا آپ مجھے واپس لانے میں سب سے آخر میں آنا چاہتے ہیں؟ ?nT?O تب داؤد یروشلم واپس چلنے لگا۔ جب وہ دریائے یردن تک پہنچا تو یہوداہ کے لوگ جِلجال میں آئے تاکہ اُس سے ملیں اور اُسے دریا کے دوسرے کنارے تک پہنچائیں۔N' اِس طرح داؤد یہوداہ کے تمام دلوں کو جیت سکا، اور سب کے سب اُس کے پیچھے لگ گئے۔ اُنہوں نے اُسے پیغام بھیجا، ”واپس آئیں، آپ بھی اور آپ کے تمام لوگ بھی۔“M  اور ابی سلوم کے کمانڈر عماسا کو دونوں اماموں نے داؤد کا یہ پیغام پہنچایا، ”سنیں، آپ میرے بھتیجے ہیں، اِس لئے اب سے آپ ہی یوآب کی جگہ میری فوج کے کمانڈر ہوں گے۔ اللہ مجھے سخت سزا دے اگر مَیں اپنا یہ وعدہ پورا نہ کروں۔“ PwRi وہ جلدی سے دریا کو عبور کر کے اُس کے پاس آئے تاکہ بادشاہ کے گھرانے کو دریا کے دوسرے کنارے تک پہنچائیں اور ہر طرح سے بادشاہ کو خوش رکھیں۔ داؤد دریا کو پار کرنے کو تھا کہ سِمعی اوندھے منہ اُس کے سامنے گر گیا۔8Qk بن یمین کے قبیلے کے ہزار آدمی اُس کے ساتھ تھے۔ ساؤل کا پرانا نوکر ضیبا بھی اپنے 15 بیٹوں اور 20 نوکروں سمیت اُن میں شامل تھا۔ بادشاہ کے یردن کے کنارے تک پہنچنے سے پہلے پہلے,PS بن یمینی شہر بحوریم کا سِمعی بن جیرا بھی بھاگ کر یہوداہ کے آدمیوں کے ساتھ داؤد سے ملنے آیا۔ DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| d g i k m p s v {    d g i k m p s v {           ! # ' * , 0 3 5 7 9 ; > @ D F H J L O R U X [ _ b d g j l n r t v y { ~              # ) . 4 9 ? D I N R U W Z !\ "^ #` $b %e &n 'v (y )} * , - . / 0 1 2 3 4 5 6 7! 8$ 9' :+ ;/ B)bM "لیکن برزلی نے انکار کیا، ”میری زندگی کے تھوڑے دن باقی ہیں، مَیں کیوں یروشلم میں جا بسوں؟'w  اُس نے اندھیرے کو اپنی چھپنے کی جگہ بنایا، بارش کے کالے اور گھنے بادل خیمے کی طرح اپنے ارد گرد لگائے۔&}  وہ کروبی فرشتے پر سوار ہوا اور اُڑ کر ہَوا کے پَروں پر منڈلانے لگا۔&%G  آسمان کو جھکا کر وہ نازل ہوا۔ جب اُتر آیا تو اُس کے پاؤں کے نیچے اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔*$O  اُس کی ناک سے دھواں نکل آیا، اُس کے منہ سے بھسم کرنے والے شعلے اور دہکتے کوئلے بھڑک اُٹھے۔ E8`E+.Q جس دن مَیں مصیبت میں پھنس گیا اُس دن اُنہوں نے مجھ پر حملہ کیا، لیکن رب میرا سہارا بنا رہا۔3-a اُس نے مجھے میرے زبردست دشمن سے بچایا، اُن سے جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں، جن پر مَیں غالب نہ آ سکا۔1,] بلندیوں پر سے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُس نے مجھے پکڑ لیا، گہرے پانی میں سے کھینچ کر مجھے نکال لایا۔T+# رب نے ڈانٹا تو سمندر کی وادیاں ظاہر ہوئیں، جب وہ غصے میں گرجا تو اُس کے دم کے جھونکوں سے زمین کی بنیادیں نظر آئیں۔D* اُس نے اپنے تیر چلا دیئے تو دشمن تتر بتر ہو گئے۔ اُس کی بجلی اِدھر اُدھر گرتی گئی تو اُن میں ہل چل مچ گئی۔ jx,+j=4u اِس لئے رب نے مجھے میری راست بازی کا اجر دیا، کیونکہ اُس کی آنکھوں کے سامنے ہی مَیں پاک صاف ثابت ہوا۔s3a اُس کے سامنے ہی مَیں بےالزام رہا، گناہ کرنے سے باز رہا ہوں۔2 اُس کے تمام احکام میرے سامنے رہے ہیں، مَیں اُس کے فرمانوں سے نہیں ہٹا۔ 1; کیونکہ مَیں رب کی راہوں پر چلتا رہا ہوں، مَیں بدی کر نے سے اپنے خدا سے دُور نہیں ہوا۔$0C رب مجھے میری راست بازی کا اجر دیتا ہے۔ میرے ہاتھ صاف ہیں، اِس لئے وہ مجھے برکت دیتا ہے۔/ اُس نے مجھے تنگ جگہ سے نکال کر چھٹکارا دیا، کیونکہ وہ مجھ سے خوش تھا۔ 5|M-9U کیونکہ تیرے ساتھ مَیں فوجی دستے پر حملہ کر سکتا، اپنے خدا کے ساتھ دیوار کو پھلانگ سکتا ہوں۔y8m اے رب، تُو ہی میرا چراغ ہے، رب ہی میرے اندھیرے کو روشن کرتا ہے۔/7Y تُو پست حالوں کو نجات دیتا ہے، اور تیری آنکھیں مغروروں پر لگی رہتی ہیں تاکہ اُنہیں پست کریں۔56e جو پاک ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک پاک ہے۔ لیکن جو کج رَو ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک بھی کج رَوی کا ہے۔G5 اے اللہ، جو وفادار ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک وفاداری کا ہے، جو بےالزام ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک بےالزام ہے۔ as?+ $اے رب، تُو نے مجھے اپنی نجات کی ڈھال بخش دی ہے، تیری نرمی نے مجھے بڑا بنا دیا ہے۔+>Q #وہ میرے ہاتھوں کو جنگ کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ اب میرے بازو پیتل کی کمان کو بھی تان لیتے ہیں۔%=E "وہ میرے پاؤں کو ہرن کی سی پُھرتی عطا کرتا، مجھے مضبوطی سے میری بلندیوں پر کھڑا کرتا ہے۔x<k !اللہ مجھے قوت سے کمربستہ کرتا، وہ میری راہ کو کامل کر دیتا ہے۔p;[  کیونکہ رب کے سوا کون خدا ہے؟ ہمارے خدا کے سوا کون چٹان ہے؟:1 اللہ کی راہ کامل ہے، رب کا فرمان خالص ہے۔ جو بھی اُس میں پناہ لے اُس کی وہ ڈھال ہے۔ E   +6ALWbmx(3>IT_ju$/:EP[fq|  !  !  !   !   !   !   !   !  !  !  !  !   !   !   !   !   !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !   !  !!  "!  #!  $!  %!  &!  '!  (!  )!  *!  +!  ,!  -!  .!  /!  0!  1!  2!  3!   !  !  !  !  !  !  !  !   !   !   !   !   !  !  !  !  !  !  !  !  !  !  !4 %4BQ`o~"1@O^m| />M\kz  #V     ,   ( 9   p N  $ h    #V     ,   ( 9   p N  $ h      B     !  !Z  !   ! +   ". E  "u ]   " r  #  -#G  #  #  $  $_  '$   *$ 5  (%1 M  %x h  %  &  &J  &  &  '   'b   ' 9  ' T   *(7 _  (~ l  ( }  3)  ()P  )  *)   *"  #*h  *   *   +: 7  + L   + e , } ,S qE(DK )تُو نے میرے دشمنوں کو میرے سامنے سے بھگا دیا، اور مَیں نے نفرت کرنے والوں کو تباہ کر دیا۔>Cw (کیونکہ تُو نے مجھے جنگ کرنے کے لئے قوت سے کمربستہ کر دیا، تُو نے میرے مخالفوں کو میرے سامنے جھکا دیا۔:Bo 'مَیں نے اُنہیں تباہ کر کے یوں پاش پاش کر دیا کہ دوبارہ اُٹھ نہ سکے بلکہ گر کر میرے پاؤں تلے پڑے رہے۔(AK &مَیں نے اپنے دشمنوں کا تعاقب کر کے اُنہیں کچل دیا، مَیں باز نہ آیا جب تک وہ ختم نہ ہو گئے۔ @ %تُو میرے قدموں کے لئے راستہ بنا دیتا ہے، اِس لئے میرے ٹخنے نہیں ڈگمگاتے۔ S2@ZSfIG .وہ ہمت ہار کر کانپتے ہوئے اپنے قلعوں سے نکل آتے ہیں۔H/ -پردیسی دبک کر میری خوشامد کرتے ہیں۔ جوں ہی مَیں بات کرتا ہوں تو وہ میری سنتے ہیں۔bG? ,تُو نے مجھے میری قوم کے جھگڑوں سے بچا کر اقوام پر میری حکومت قائم رکھی ہے۔ جس قوم سے مَیں ناواقف تھا وہ میری خدمت کرتی ہے۔nFW +مَیں نے اُنہیں چُور چُور کر کے گرد کی طرح ہَوا میں اُڑا دیا۔ مَیں نے اُنہیں گلی میں مٹی کی طرح پاؤں تلے روند کر ریزہ ریزہ کر دیا۔JE *وہ مدد کے لئے چیختے چلّاتے رہے، لیکن بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ رب کو پکارتے رہے، لیکن اُس نے جواب نہ دیا۔ gjcNA 3کیونکہ رب اپنے بادشاہ کو بڑی نجات دیتا ہے، وہ اپنے مسح کئے ہوئے بادشاہ داؤد اور اُس کی اولاد پر ہمیشہ تک مہربان رہے گا۔“ %ME 2اے رب، اِس لئے مَیں اقوام میں تیری حمد و ثنا کروں گا، تیرے نام کی تعریف میں گیت گاؤں گا۔\L3 1اور مجھے میرے دشمنوں سے چھٹکارا دیتا ہے۔ یقیناً تُو مجھے میرے مخالفوں پر سرفراز کرتا، مجھے ظالموں سے بچائے رکھتا ہے۔qK] 0وہی خدا ہے جو میرا انتقام لیتا، اقوام کو میرے تابع کر دیتاJ% /رب زندہ ہے! میری چٹان کی تمجید ہو! میرے خدا کی تعظیم ہو جو میری نجات کی چٹان ہے۔ @KV@R وہ صبح کی روشنی کی مانند ہے، اُس طلوعِ آفتاب کی مانند جب بادل چھائے نہیں ہوتے۔ جب اُس کی کرنیں بارش کے بعد زمین پر پڑتی ہیں تو پودے پھوٹ نکلتے ہیں۔‘qQ] اسرائیل کے خدا نے فرمایا، اسرائیل کی چٹان مجھ سے ہم کلام ہوئی، ’جو انصاف سے حکومت کرتا ہے، جو اللہ کا خوف مان کر حکمرانی کرتا ہے،wPi رب کے روح نے میری معرفت بات کی، اُس کا فرمان میری زبان پر تھا۔7O k درجِ ذیل داؤد کے آخری الفاظ ہیں: ”داؤد بن یسّی کا فرمان جسے اللہ نے سرفراز کیا، جسے یعقوب کے خدا نے مسح کر کے بادشاہ بنا دیا تھا، اور جس کی تعریف اسرائیل کے گیت کرتے ہیں، U/ لوگ اُنہیں لوہے کے اوزار یا نیزے کے دستے سے جمع کر کے وہیں کے وہیں جلا دیتے ہیں۔“rT_ لیکن بےدین خاردار جھاڑیوں کی مانند ہیں جو ہَوا کے جھونکوں سے اِدھر اُدھر بکھر گئی ہیں۔ کانٹوں کی وجہ سے کوئی بھی ہاتھ نہیں لگاتا۔dSC یقیناً میرا گھرانا مضبوطی سے اللہ کے ساتھ ہے، کیونکہ اُس نے میرے ساتھ ابدی عہد باندھا ہے، ایسا عہد جس کا ہر پہلو منظم اور محفوظ ہے۔ وہ میری نجات تکمیل تک پہنچائے گا اور میری ہر آرزو پوری کرے گا۔ ZZFW  اِن تین افسروں میں سے دوسری جگہ پر اِلی عزر بن دودو بن اخوحی آتا تھا۔ ایک جنگ میں جب اُنہوں نے فلستیوں کو چیلنج دیا تھا اور اسرائیلی بعد میں پیچھے ہٹ گئے تو اِلی عزر داؤد کے ساتھXV+ درجِ ذیل داؤد کے سورماؤں کی فہرست ہے۔ جو تین افسر یوآب کے بھائی ابی شے کے عین بعد آتے تھے اُن میں یوشیب بشیبت تحکمونی پہلے نمبر پر آتا تھا۔ ایک بار اُس نے اپنے نیزے سے 800 آدمیوں کو مار دیا۔ zuFzHZ  لیکن سمّہ کھیت کے درمیان تک بڑھ گیا اور وہاں لڑتے لڑتے فلستیوں کو شکست دی۔ رب نے اُس کی معرفت بڑی فتح بخشی۔+YQ  اُس کے بعد تیسری جگہ پر سمّہ بن اجی ہراری آتا تھا۔ ایک مرتبہ فلستی لحی کے قریب مسور کے کھیت میں اسرائیل کے خلاف لڑ رہے تھے۔ اسرائیلی فوجی اُن کے سامنے بھاگنے لگے،X  فلستیوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ اُس دن وہ فلستیوں کو مارتے مارتے اِتنا تھک گیاکہ آخرکار تلوار اُٹھا نہ سکا بلکہ ہاتھ تلوار کے ساتھ جم گیا۔ رب نے اُس کی معرفت بڑی فتح بخشی۔ باقی دستے صرف لاشوں کو لُوٹنے کے لئے لوٹ آئے۔ I3\a ایک اَور جنگ کے دوران داؤد عدُلام کے غار کے پہاڑی قلعے میں تھا جبکہ فلستی فوج نے وادیِ رفائیم میں اپنی لشکرگاہ لگائی تھی۔ اُن کے دستوں نے بیت لحم پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ فصل کا موسم تھا۔ داؤد کے تیس اعلیٰ افسروں میں سے تین اُس سے ملنے آئے۔3[a  ایک اَور جنگ کے دوران داؤد عدُلام کے غار کے پہاڑی قلعے میں تھا جبکہ فلستی فوج نے وادیِ رفائیم میں اپنی لشکرگاہ لگائی تھی۔ اُن کے دستوں نے بیت لحم پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ فصل کا موسم تھا۔ داؤد کے تیس اعلیٰ افسروں میں سے تین اُس سے ملنے آئے۔ }:}9^m یہ سن کر تینوں افسر فلستیوں کی لشکرگاہ پر حملہ کر کے اُس میں گھس گئے اور لڑتے لڑتے بیت لحم کے حوض تک پہنچ گئے۔ اُس سے کچھ پانی بھر کر وہ اُسے داؤد کے پاس لے آئے۔ لیکن اُس نے پینے سے انکار کر دیا بلکہ اُسے قربانی کے طور پر اُنڈیل کر رب کو پیش کیاB] داؤد کو شدید پیاس لگی، اور وہ کہنے لگا، ”کون میرے لئے بیت لحم کے دروازے پر کے حوض سے کچھ پانی لائے گا؟“ }g`I یوآب بن ضرویاہ کا بھائی ابی شے مذکورہ تین سورماؤں پر مقرر تھا۔ ایک دفعہ اُس نے اپنے نیزے سے 300 آدمیوں کو مار ڈالا۔ تینوں کی نسبت اُس کی دُگنی عزت کی جاتی تھی، لیکن وہ خود اُن میں گنا نہیں جاتا تھا۔_y اور بولا، ”رب نہ کرے کہ مَیں یہ پانی پیؤں۔ اگر ایسا کرتا تو اُن آدمیوں کا خون پیتا جو اپنی جان پر کھیل کر پانی لائے ہیں۔“ اِس لئے وہ اُسے پینا نہیں چاہتا تھا۔ یہ اِن تین سورماؤں کے زبردست کاموں کی ایک مثال ہے۔ Mb بنایاہ بن یہویدع بھی زبردست فوجی تھا۔ وہ قبضئیل کا رہنے والا تھا، اور اُس نے بہت دفعہ اپنی مردانگی دکھائی۔ موآب کے دو بڑے سورما اُس کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ ایک بار جب بہت برف پڑ گئی تو اُس نے ایک حوض میں اُتر کر ایک شیرببر کو مار ڈالا جو اُس میں گر گیا تھا۔gaI یوآب بن ضرویاہ کا بھائی ابی شے مذکورہ تین سورماؤں پر مقرر تھا۔ ایک دفعہ اُس نے اپنے نیزے سے 300 آدمیوں کو مار ڈالا۔ تینوں کی نسبت اُس کی دُگنی عزت کی جاتی تھی، لیکن وہ خود اُن میں گنا نہیں جاتا تھا۔ ve' تیس افسروں کے دیگر مردوں کی نسبت اُس کی زیادہ عزت کی جاتی تھی، لیکن وہ مذکورہ تین آدمیوں میں گنا نہیں جاتا تھا۔ داؤد نے اُسے اپنے محافظوں پر مقرر کیا۔ d; ایسی بہادری دکھانے کی بنا پر بنایاہ بن یہویدع مذکورہ تین آدمیوں کے برابر مشہور ہوا۔c ایک اَور موقع پر اُس کا واسطہ ایک دیو جیسے مصری سے پڑا۔ مصری کے ہاتھ میں نیزہ تھا جبکہ اُس کے پاس صرف لاٹھی تھی۔ لیکن بنایاہ نے اُس پر حملہ کر کے اُس کے ہاتھ سے نیزہ چھین لیا اور اُسے اُس کے اپنے ہتھیار سے مار ڈالا۔ H~@|4 n  اِلیَحبا سعلبونی، بنی یسین، یونتن بن سمّہ ہراری، اخی آم بن سرار ہراری،Em ابی علبون عرباتی، عزماوت برحومی،Ll بنایاہ فِرعاتونی، نحلے جعس کا ہِدّی،rk_ حِلِب بن بعنہ نطوفاتی، بن یمینی شہر جِبعہ کا اِتی بن ریبی،;js ضلمون اخوحی، مَہری نطوفاتی،Ai عنتوت کا ابی عزر، مبونی حوساتی،Ih خِلِص فلطی، تقوع کا عیرا بن عِقّیس،7gk سمّہ حرودی، اِلیقہ حرودی،4fc ذیل کے آدمی بادشاہ کے 30 سورماؤں میں شامل تھے۔ یوآب کا بھائی عساہیل، بیت لحم کا اِلحنان بن دودو، sv { ایک بار پھر رب کو اسرائیل پر غصہ آیا، اور اُس نے داؤد کو اُنہیں مصیبت میں ڈالنے پر اُکسا کر اُس کے ذہن میں مردم شماری کرنے کا خیال ڈال دیا۔]u5 'اور اُوریاہ حِتّی۔ آدمیوں کی کُل تعداد 37 تھی۔ 1t_ &عیرا اِتری، جریب اِتریlsS %صِلِق عمونی، یوآب بن ضرویاہ کا سلاح بردار نحری بیروتی،Gr $ضوباہ کا اِجال بن ناتن، بانی جادی،1q_ #حصرو کرملی، فعری اربی،ipM "اِلی فلط بن احسبی معکاتی، اِلی عام بن اخی تُفل جلونی، o !اِلیَحبا سعلبونی، بنی یسین، یونتن بن سمّہ ہراری، اخی آم بن سرار ہراری، *J*y3 لیکن بادشاہ یوآب اور فوج کے بڑے افسروں کے اعتراضات کے باوجود اپنی بات پر ڈٹا رہا۔ چنانچہ وہ دربار سے روانہ ہو کر اسرائیل کے مردوں کی فہرست تیار کرنے لگے۔Ox لیکن یوآب نے اعتراض کیا، ”اے بادشاہ میرے آقا، کاش رب آپ کا خدا آپ کے دیکھتے دیکھتے فوجیوں کی تعداد سَو گُنا بڑھائے۔ لیکن میرے آقا اور بادشاہ اُن کی مردم شماری کیوں کرنا چاہتے ہیں؟“_w9 چنانچہ داؤد نے فوج کے کمانڈر یوآب کو حکم دیا، ”دان سے لے کر بیرسبع تک اسرائیل کے تمام قبیلوں میں سے گزرتے ہوئے جنگ کرنے کے قابل مردوں کو گن لیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ اُن کی کُل تعداد کیا ہے۔“  V[} یوں پورے ملک میں سفر کرتے کرتے وہ 9 مہینوں اور 20 دنوں کے بعد یروشلم واپس آئے۔w|i اور قلعہ بند شہر صور اور حِوّیوں اور کنعانیوں کے تمام شہروں تک پہنچ گئے۔ آخرکار اُنہوں نے یہوداہ کے جنوب کی مردم شماری بیرسبع تک کی۔F{ جِلعاد اور حِتّیوں کے ملک کے شہر قادس تک پہنچے۔ پھر آگے بڑھتے بڑھتے وہ دان اور صیدا کے گرد و نواح کے علاقے\z3 دریائے یردن کو عبور کر کے اُنہوں نے عروعیر اور وادیِ ارنون کے بیچ کے شہر میں شروع کیا۔ وہاں سے وہ جد اور یعزیر سے ہو کر  ;-U  ”داؤد کے پاس جا کر اُسے بتا دینا، ’رب تجھے تین سزائیں پیش کرتا ہے۔ اِن میں سے ایک چن لے‘۔“#A  اگلے دن جب داؤد صبح کے وقت اُٹھا تو اُس کے غیب بین جاد نبی کو رب کی طرف سے پیغام مل گیا،&G  لیکن اب داؤد کا ضمیر اُس کو ملامت کرنے لگا۔ اُس نے رب سے دعا کی، ”مجھ سے سنگین گناہ سرزد ہوا ہے۔ اے رب، اب اپنے خادم کا قصور معاف کر۔ مجھ سے بڑی حماقت ہوئی ہے۔“p~[  یوآب نے بادشاہ کو مردم شماری کی پوری رپورٹ پیش کی۔ اسرائیل میں تلوار چلانے کے قابل 8 لاکھ افراد تھے جبکہ یہوداہ کے 5 لاکھ مرد تھے۔ G*5@KValw&1<GR]hs~$.8BLV`jt~  !  !  !  !  !  !  !   !  !!  !  !  !  !  !  !  !   !  !!  "!  #!  $!  %!  &!  '!   !  !  !  !  !  !  !  !   !   !   "   "   "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "   "   "   "   "   "   "   "   "   "   "   "   "   "   "   "   "   "   "!   ""   "#   "$   "%   "&   "'   "(   ")   "*   "+   ",   "- ee7i داؤد نے جواب دیا، ”ہائے، مَیں کیا کہوں؟ مَیں بہت پریشان ہوں۔ لیکن آدمیوں کے ہاتھ میں پڑنے کی نسبت بہتر ہے کہ مَیں رب ہی کے ہاتھ میں پڑ جاؤں، کیونکہ اُس کا رحم عظیم ہے۔“\3  جاد داؤد کے پاس گیا اور اُسے رب کا پیغام سنا دیا۔ اُس نے سوال کیا، ”آپ کس سزا کو ترجیح دیتے ہیں؟ اپنے ملک میں سات سال کے دوران کال؟ یا یہ کہ آپ کے دشمن آپ کو بھگا کر تین ماہ تک آپ کا تعاقب کرتے رہیں؟ یا یہ کہ آپ کے ملک میں تین دن تک وبا پھیل جائے؟ دھیان سے اِس کے بارے میں سوچیں تاکہ مَیں اُسے آپ کا جواب پہنچا سکوں جس نے مجھے بھیجا ہے۔“ K لیکن جب وبا کا فرشتہ چلتے چلتے یروشلم تک پہنچ گیا اور اُس پر ہاتھ اُٹھانے لگا تو رب نے لوگوں کی مصیبت کو دیکھ کر ترس کھایا اور تباہ کرنے والے فرشتے کو حکم دیا، ”بس کر! اب باز آ۔“ اُس وقت رب کا فرشتہ وہاں کھڑا تھا جہاں ارَوناہ یبوسی اپنا اناج گاہتا تھا۔9m تب رب نے اسرائیل میں وبا پھیلنے دی۔ وہ اُسی صبح شروع ہوئی اور تین دن تک لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارتی گئی۔ شمال میں دان سے لے کر جنوب میں بیرسبع تک کُل 70,000 افراد ہلاک ہوئے۔ ''[ 1 جب ارَوناہ نے بادشاہ اور اُس کے درباریوں کو اپنی طرف چڑھتا ہوا دیکھا تو وہ نکل کر بادشاہ کے سامنے اوندھے منہ جھک گیا۔) چنانچہ داؤد چڑھ کر گاہنے کی جگہ کے پاس آیا جس طرح رب نے جاد کی معرفت فرمایا تھا۔]5 اُسی دن جاد داؤد کے پاس آیا اور اُس سے کہا، ”ارَوناہ یبوسی کی گاہنے کی جگہ کے پاس جا کر اُس پر رب کی قربان گاہ بنا لے۔“zo جب داؤد نے فرشتے کو لوگوں کو مارتے ہوئے دیکھا تو اُس نے رب سے التماس کی، ”مَیں ہی نے گناہ کیا ہے، یہ میرا ہی قصور ہے۔ اِن بھیڑوں سے کیا غلطی ہوئی ہے؟ براہِ کرم اِن کو چھوڑ کر مجھے اور میرے خاندان کو سزا دے۔“ p&p2 _ بادشاہ سلامت، مَیں خوشی سے آپ کو یہ سب کچھ دے دیتا ہوں۔ دعا ہے کہ آپ رب اپنے خدا کو پسند آئیں۔“s a ارَوناہ نے کہا، ”میرے آقا اور بادشاہ، جو کچھ آپ کو اچھا لگے اُسے لے کر چڑھائیں۔ یہ بَیل بھسم ہونے والی قربانی کے لئے حاضر ہیں۔ اور اناج کو گاہنے اور بَیلوں کو جوتنے کا سامان قربان گاہ پر رکھ کر جلا دیں۔_ 9 اُس نے پوچھا، ”میرے آقا اور بادشاہ میرے پاس کیوں آ گئے؟“ داؤد نے جواب دیا، ”مَیں آپ کی گاہنے کی جگہ خریدنا چاہتا ہوں تاکہ رب کے لئے قربان گاہ تعمیر کروں۔ کیونکہ یہ کرنے سے وبا رُک جائے گی۔“ TA*TR # داؤد بادشاہ بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ اُسے ہمیشہ سردی لگتی تھی، اور اُس پر مزید بستر ڈالنے سے کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا۔! اُس نے وہاں رب کی تعظیم میں قربان گاہ تعمیر کر کے اُس پر بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں چڑھائیں۔ تب رب نے ملک کے لئے دعا سن کر وبا کو روک دیا۔ ; q لیکن بادشاہ نے انکار کیا، ”نہیں، مَیں ضرور ہر چیز کی پوری قیمت ادا کروں گا۔ مَیں رب اپنے خدا کو ایسی کوئی بھسم ہونے والی قربانی پیش نہیں کروں گا جو مجھے مفت میں مل جائے۔“ چنانچہ داؤد نے بَیلوں سمیت گاہنے کی جگہ چاندی کے 50 سکوں کے عوض خرید لی۔ m W اب سے وہ اُس کی خدمت میں حاضر ہوتی اور اُس کی دیکھ بھال کرتی رہی۔ لڑکی نہایت خوب صورت تھی، لیکن بادشاہ نے کبھی اُس سے صحبت نہ کی۔c C چنانچہ وہ پورے ملک میں کسی خوب صورت لڑکی کی تلاش کرنے لگے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے ابی شاگ شونیمی کو چن کر بادشاہ کے پاس لایا گیا۔[ 3 یہ دیکھ کر ملازموں نے بادشاہ سے کہا، ”اگر اجازت ہو تو ہم بادشاہ کے لئے ایک نوجوان کنواری ڈھونڈ لیں جو آپ کی خدمت میں حاضر رہے اور آپ کی دیکھ بھال کرے۔ لڑکی آپ کے ساتھ لیٹ کر آپ کو گرم رکھے۔“ vv  اُن دنوں میں ادونیاہ بادشاہ بننے کی سازش کرنے لگا۔ وہ داؤد کی بیوی حجیت کا بیٹا تھا۔ یوں وہ ابی سلوم کا سوتیلا بھائی اور اُس کے مرنے پر داؤد کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ شکل و صورت کے لحاظ سے لوگ اُس کی بڑی تعریف کیا کرتے تھے، اور بچپن سے اُس کے باپ نے اُسے کبھی نہیں ڈانٹا تھا کہ تُو کیا کر رہا ہے۔ اب ادونیاہ اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کر کے اعلان کرنے لگا، ”مَیں ہی بادشاہ بنوں گا۔“ اِس مقصد کے تحت اُس نے اپنے لئے رتھ اور گھوڑے خرید کر 50 آدمیوں کو رکھ لیا تاکہ وہ جہاں بھی جائے اُس کے آگے آگے چلتے رہیں۔ vv  اُن دنوں میں ادونیاہ بادشاہ بننے کی سازش کرنے لگا۔ وہ داؤد کی بیوی حجیت کا بیٹا تھا۔ یوں وہ ابی سلوم کا سوتیلا بھائی اور اُس کے مرنے پر داؤد کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ شکل و صورت کے لحاظ سے لوگ اُس کی بڑی تعریف کیا کرتے تھے، اور بچپن سے اُس کے باپ نے اُسے کبھی نہیں ڈانٹا تھا کہ تُو کیا کر رہا ہے۔ اب ادونیاہ اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کر کے اعلان کرنے لگا، ”مَیں ہی بادشاہ بنوں گا۔“ اِس مقصد کے تحت اُس نے اپنے لئے رتھ اور گھوڑے خرید کر 50 آدمیوں کو رکھ لیا تاکہ وہ جہاں بھی جائے اُس کے آگے آگے چلتے رہیں۔ 5u { ایک دن ادونیاہ نے عین راجل چشمے کے قریب کی چٹان زُحلت کے پاس ضیافت کی۔ کافی بھیڑبکریاں، گائےبَیل اور موٹے تازے بچھڑے ذبح کئے گئے۔ ادونیاہ نے بادشاہ کے تمام بیٹوں اور یہوداہ کے تمام شاہی افسروں کو دعوت دی تھی۔< u لیکن صدوق امام، بنایاہ بن یہویدع اور ناتن نبی اُس کے ساتھ نہیں تھے، نہ سِمعی، ریعی یا داؤد کے محافظ۔G  اُس نے یوآب بن ضرویاہ اور ابیاتر امام سے بات کی تو وہ اُس کے ساتھی بن کر اُس کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہوئے۔    B  آپ کی اور آپ کے بیٹے سلیمان کی زندگی بڑے خطرے میں ہے۔ اِس لئے لازم ہے کہ آپ میرے مشورے پر فوراً عمل کریں۔: q تب ناتن سلیمان کی ماں بت سبع سے ملا اور بولا، ”کیا یہ خبر آپ تک نہیں پہنچی کہ حجیت کے بیٹے ادونیاہ نے اپنے آپ کو بادشاہ بنا لیا ہے؟ اور ہمارے آقا داؤد کو اِس کا علم تک نہیں!o [ کچھ لوگوں کو جان بوجھ کر اِس میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اُن میں اُس کا بھائی سلیمان، ناتن نبی، بنایاہ اور داؤد کے محافظ شامل تھے۔ 33* Q بت سبع کمرے میں داخل ہو کر بادشاہ کے سامنے منہ کے بل جھک گئی۔ داؤد نے پوچھا، ”کیا بات ہے؟“  بت سبع فوراً بادشاہ کے پاس گئی جو سونے کے کمرے میں لیٹا ہوا تھا۔ اُس وقت تو وہ بہت عمر رسیدہ ہو چکا تھا، اور ابی شاگ اُس کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔& I آپ کی بادشاہ سے گفتگو ابھی ختم نہیں ہو گی کہ مَیں داخل ہو کر آپ کی بات کی تصدیق کروں گا۔“e G داؤد بادشاہ کے پاس جا کر اُسے بتا دینا، ’اے میرے آقا اور بادشاہ، کیا آپ نے قَسم کھا کر مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تیرا بیٹا سلیمان میرے بعد تخت نشین ہو گا؟ تو پھر ادونیاہ کیوں بادشاہ بن گیا ہے؟‘ xt! e اُس نے ضیافت کے لئے بہت سے گائےبَیل، موٹے تازے بچھڑے اور بھیڑبکریاں ذبح کر کے تمام شہزادوں کو دعوت دی ہے۔ ابیاتر امام اور فوج کا کمانڈر یوآب بھی اِن میں شامل ہیں، لیکن آپ کے خادم سلیمان کو دعوت نہیں ملی۔  / لیکن اب ادونیاہ بادشاہ بن بیٹھا ہے اور میرے آقا اور بادشاہ کو اِس کا علم تک نہیں۔g K بت سبع نے کہا، ”میرے آقا، آپ نے تو رب اپنے خدا کی قَسم کھا کر مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تیرا بیٹا سلیمان میرے بعد تخت نشین ہو گا۔   $ - بت سبع ابھی بادشاہ سے بات کر ہی رہی تھی کہ داؤد کو اطلاع دی گئی کہ ناتن نبی آپ سے ملنے آیا ہے۔ نبی کمرے میں داخل ہو کر بادشاہ کے سامنے اوندھے منہ جھک گیا۔e# G اگر آپ نے جلد ہی قدم نہ اُٹھایا تو آپ کے کوچ کر جانے کے فوراً بعد مَیں اور میرا بیٹا ادونیاہ کا نشانہ بن کر مجرم ٹھہریں گے۔“s" c اے بادشاہ میرے آقا، اِس وقت تمام اسرائیل کی آنکھیں آپ پر لگی ہیں۔ سب آپ سے یہ جاننے کے لئے تڑپتے ہیں کہ آپ کے بعد کون تخت نشین ہو گا۔ <:<z' q کیونکہ آج اُس نے عین راجل جا کر بہت سے گائےبَیل، موٹے تازے بچھڑے اور بھیڑبکریوں کو ذبح کیا ہے۔ ضیافت کے لئے اُس نے تمام شہزادوں، تمام فوجی افسروں اور ابیاتر امام کو دعوت دی ہے۔ اِس وقت وہ اُس کے ساتھ کھانا کھا کھا کر اور مَے پی پی کر نعرہ لگا رہے ہیں، ’ادونیاہ بادشاہ زندہ باد!‘&& I پھر اُس نے کہا، ”میرے آقا، لگتا ہے کہ آپ اِس حق میں ہیں کہ ادونیاہ آپ کے بعد تخت نشین ہو۔% - بت سبع ابھی بادشاہ سے بات کر ہی رہی تھی کہ داؤد کو اطلاع دی گئی کہ ناتن نبی آپ سے ملنے آیا ہے۔ نبی کمرے میں داخل ہو کر بادشاہ کے سامنے اوندھے منہ جھک گیا۔ (+  بادشاہ بولا، ”رب کی حیات کی قَسم جس نے فدیہ دے کر مجھے ہر مصیبت سے بچایا ہے،%* G جواب میں داؤد نے کہا، ”بت سبع کو بُلائیں!“ وہ واپس آئی اور بادشاہ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔e) G میرے آقا، کیا آپ نے واقعی اِس کا حکم دیا ہے؟ کیا آپ نے اپنے خادموں کو اطلاع دیئے بغیر فیصلہ کیا ہے کہ یہ شخص بادشاہ بنے گا؟“k( S کچھ لوگوں کو جان بوجھ کر دعوت نہیں دی۔ اُن میں مَیں آپ کا خادم، صدوق امام، بنایاہ بن یہویدع اور آپ کا خادم سلیمان بھی شامل ہیں۔ +~q/ _ !تو بادشاہ اُن سے مخاطب ہوا، ”میرے بیٹے سلیمان کو میرے خچر پر بٹھائیں۔ پھر میرے افسروں کو ساتھ لے کر اُسے جیحون چشمے تک پہنچا دیں۔). O پھر داؤد نے حکم دیا، ”صدوق امام، ناتن نبی اور بنایاہ بن یہویدع کو بُلا لائیں۔“ تینوں آئے- # یہ سن کر بت سبع اوندھے منہ جھک گئی اور کہا، ”میرا مالک داؤد بادشاہ زندہ باد!“:, q آپ کا بیٹا سلیمان میرے بعد بادشاہ ہو گا بلکہ آج ہی میرے تخت پر بیٹھ جائے گا۔ ہاں، آج ہی مَیں وہ وعدہ پورا کروں گا جو مَیں نے رب اسرائیل کے خدا کی قَسم کھا کر آپ سے کیا تھا۔“ <<_3 ; %اور جس طرح رب آپ کے ساتھ رہا اُسی طرح وہ سلیمان کے ساتھ بھی ہو، بلکہ وہ اُس کے تخت کو آپ کے تخت سے کہیں زیادہ سربلند کرے!“02 ] $بنایاہ بن یہویدع نے جواب دیا، ”آمین، ایسا ہی ہو! رب میرے آقا کا خدا اِس فیصلے پر اپنی برکت دے۔E1  #اِس کے بعد میرے بیٹے کے ساتھ یہاں واپس آ جانا۔ وہ محل میں داخل ہو کر میرے تخت پر بیٹھ جائے اور میری جگہ حکومت کرے، کیونکہ مَیں نے اُسے اسرائیل اور یہوداہ کا حکمران مقرر کیا ہے۔“`0 = "وہاں صدوق اور ناتن اُسے مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ بنا دیں۔ نرسنگے کو بجا بجا کر نعرہ لگانا، ’سلیمان بادشاہ زندہ باد!‘ OPO}6 w (تمام لوگ بانسری بجاتے اور خوشی مناتے ہوئے سلیمان کے پیچھے چلنے لگے۔ جب وہ دوبارہ یروشلم میں داخل ہوا تو اِتنا شور تھا کہ زمین لرز اُٹھی۔5 # 'صدوق کے پاس تیل سے بھرا مینڈھے کا وہ سینگ تھا جو مُقدّس خیمے میں پڑا رہتا تھا۔ اب اُس نے یہ تیل لے کر سلیمان کو مسح کیا۔ پھر نرسنگا بجایا گیا اور لوگ مل کر نعرہ لگانے لگے، ”سلیمان بادشاہ زندہ باد! سلیمان بادشاہ زندہ باد!“4 ' &پھر صدوق امام، ناتن نبی، بنایاہ بن یہویدع اور بادشاہ کے محافظ کریتیوں اور فلیتیوں نے سلیمان کو بادشاہ کے خچر پر بٹھا کر اُسے جیحون چشمے تک پہنچا دیا۔ 39 c +یونتن نے جواب دیا، ”افسوس، ایسا نہیں ہے۔ ہمارے آقا داؤد بادشاہ نے سلیمان کو بادشاہ بنا دیا ہے۔8 { *وہ ابھی یہ بات کر ہی رہا تھا کہ ابیاتر کا بیٹا یونتن پہنچ گیا۔ یوآب بولا، ”ہمارے پاس آئیں۔ آپ جیسے لائق آدمی اچھی خبر لے کر آ رہے ہوں گے۔“y7 o )لوگوں کی یہ آوازیں ادونیاہ اور اُس کے مہمانوں تک بھی پہنچ گئیں۔ تھوڑی دیر پہلے وہ کھانے سے فارغ ہوئے تھے۔ نرسنگے کی آواز سن کر یوآب چونک اُٹھا اور پوچھا، ”یہ کیا ہے؟ شہر سے اِتنا شور کیوں سنائی دے رہا ہے؟“ >|>;< u .اب سلیمان تخت پر بیٹھ چکا ہے،P;  -جیحون چشمے کے پاس صدوق امام اور ناتن نبی نے اُسے مسح کر کے بادشاہ بنا دیا۔ پھر وہ خوشی مناتے ہوئے شہر میں واپس چلے گئے۔ پورے شہر میں ہل چل مچ گئی۔ یہی وہ شور ہے جو آپ کو سنائی دے رہا ہے۔,: U ,اُس نے اُسے صدوق امام، ناتن نبی، بنایاہ بن یہویدع اور بادشاہ کے محافظ کریتیوں اور فلیتیوں کے ساتھ جیحون چشمے کے پاس بھیج دیا ہے۔ سلیمان بادشاہ کے خچر پر سوار تھا۔ Q"Q3? c 1یونتن کے منہ سے یہ خبر سن کر ادونیاہ کے تمام مہمان گھبرا گئے۔ سب اُٹھ کر چاروں طرف منتشر ہو گئے۔> ) 0اور کہا، ’رب اسرائیل کے خدا کی تمجید ہو جس نے میرے بیٹوں میں سے ایک کو میری جگہ تخت پر بٹھا دیا ہے۔ اُس کا شکر ہے کہ مَیں اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ سکا‘۔“Z= 1 /اور درباری ہمارے آقا داؤد بادشاہ کو مبارک باد دینے کے لئے اُس کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں، ’آپ کا خدا کرے کہ سلیمان کا نام آپ کے نام سے بھی زیادہ مشہور ہو جائے۔ اُس کا تخت آپ کے تخت سے کہیں زیادہ سربلند ہو۔‘ بادشاہ نے اپنے بستر پر جھک کر اللہ کی پرستش کی XpB ] 4سلیمان نے وعدہ کیا، ”اگر وہ لائق ثابت ہو تو اُس کا ایک بال بھی بیکا نہیں ہو گا۔ لیکن جب بھی اُس میں بدی پائی جائے وہ ضرور مرے گا۔“}A w 3کسی نے سلیمان کے پاس جا کر اُسے اطلاع دی، ”ادونیاہ کو سلیمان بادشاہ سے خوف ہے، اِس لئے وہ قربان گاہ کے سینگوں سے لپٹے ہوئے کہہ رہا ہے، ’سلیمان بادشاہ پہلے قَسم کھائے کہ وہ مجھے موت کے گھاٹ نہیں اُتارے گا‘۔“$@ E 2ادونیاہ سلیمان سے خوف کھا کر مُقدّس خیمے کے پاس گیا اور قربان گاہ کے سینگوں سے لپٹ گیا۔ TTIT_ju%0;FQ\gr}   +"9   !"/   ""0   #"1   $"2   %"3   &"4   '"5   ("6   )"7   *"   !"/   ""0   #"1   $"2   %"3   &"4   '"5   ("6   )"7   *"8   +"9   ,":   -";   ."<   /"=   0">   1"?   2"@   3"A   4"B   5"C   "D  "E  "F  "G  "H  "I  "J  "K   "L   "M   "N   "O   "P  "Q  "R  "S  "T  "U  "V  "W  "X  "Y  "Z  "[  "\  "]  "^  "_  "`  "a  "b   "c  !"d  ""e  #"f  $"g  %"h  &"i  '"j  ("k  )"l  *"m  +"n  ,"o  -"p  ."q   "r  "s  "t jLO  لیکن آپ اُس کا جرم نظرانداز نہ کریں بلکہ اُس کی مناسب سزا دیں۔ آپ دانش مند ہیں، اِس لئے آپ ضرور سزا دینے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ڈھونڈ نکالیں گے۔ وہ بوڑھا تو ہے، لیکن دھیان دیں کہ وہ طبعی موت نہ مرے۔“aK= بحوریم کے بن یمینی سِمعی بن جیرا پر بھی دھیان دیں۔ جس دن مَیں ہجرت کرتے ہوئے محنائم سے گزر رہا تھا تو اُس نے مجھ پر لعنتیں بھیجیں۔ لیکن میری واپسی پر وہ دریائے یردن پر مجھ سے ملنے آیا اور مَیں نے رب کی قَسم کھا کر اُس سے وعدہ کیا کہ اُسے موت کے گھاٹ نہیں اُتاروں گا۔ p5 p|Qs بلکہ میری آپ سے گزارش ہے۔“ بت سبع نے جواب دیا، ”تو پھر بتائیں!“P'  ایک دن داؤد کی بیوی حجیت کا بیٹا ادونیاہ سلیمان کی ماں بت سبع کے پاس آیا۔ بت سبع نے پوچھا، ”کیا آپ امن پسند ارادہ رکھ کر آئے ہیں؟“ ادونیاہ بولا، ”جی،O  سلیمان اپنے باپ داؤد کے بعد تخت نشین ہوا۔ اُس کی حکومت مضبوطی سے قائم ہوئی۔N#  وہ کُل 40 سال تک اسرائیل کا بادشاہ رہا، سات سال حبرون میں اور 33 سال یروشلم میں۔GM  پھر داؤد مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا۔ اُسے یروشلم کے اُس حصے میں دفن کیا گیا جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ ..U) بت سبع راضی ہوئی، ”چلیں، ٹھیک ہے۔ مَیں آپ کا یہ معاملہ بادشاہ کو پیش کروں گی۔“;Tq ادونیاہ نے کہا، ”مَیں ابی شاگ شونیمی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم سلیمان بادشاہ کے سامنے میری سفارش کریں تاکہ بات بن جائے۔ اگر آپ بات کریں تو وہ انکار نہیں کرے گا۔“ S اب میری آپ سے درخواست ہے۔ اِس سے انکار نہ کریں۔“ بت سبع بولی، ”بتائیں۔“dRC ادونیاہ نے کہا، ”آپ تو جانتی ہیں کہ اصل میں بادشاہ بننے کا حق میرا تھا۔ اور یہ تمام اسرائیل کی توقع بھی تھی۔ لیکن اب تو حالات بدل گئے ہیں۔ میرا بھائی بادشاہ بن گیا ہے، کیونکہ یہی رب کی مرضی تھی۔ r$rX بت سبع بولی، ”اپنے بھائی ادونیاہ کو ابی شاگ شونیمی سے شادی کرنے دیں۔“"W? اُس نے اپنا معاملہ پیش کیا، ”میری آپ سے ایک چھوٹی سی گزارش ہے۔ اِس سے انکار نہ کریں۔“ بادشاہ نے جواب دیا، ”امی، بتائیں اپنی بات، مَیں انکار نہیں کروں گا۔“XV+ چنانچہ بت سبع سلیمان بادشاہ کے پاس گئی تاکہ اُسے ادونیاہ کا معاملہ پیش کرے۔ جب دربار میں پہنچی تو بادشاہ کھڑے ہو کر اُس سے ملنے آیا اور اُس کے سامنے جھک گیا۔ پھر وہ دوبارہ تخت پر بیٹھ گیا اور حکم دیا کہ ماں کے لئے بھی تخت رکھا جائے۔ بادشاہ کے دہنے ہاتھ بیٹھ کر  !Z= پھر سلیمان بادشاہ نے رب کی قَسم کھا کر کہا، ”اِس درخواست سے ادونیاہ نے اپنی موت پر مُہر لگائی ہے۔ اللہ مجھے سخت سزا دے اگر مَیں اُسے موت کے گھاٹ نہ اُتاروں۔rY_ یہ سن کر سلیمان بھڑک اُٹھا، ”ادونیاہ کی ابی شاگ سے شادی!! یہ کیسی بات ہے جو آپ پیش کر رہی ہیں؟ اگر آپ یہ چاہتی ہیں تو کیوں نہ براہِ راست تقاضا کریں کہ ادونیاہ میری جگہ تخت پر بیٹھ جائے۔ آخر وہ میرا بڑا بھائی ہے، اور ابیاتر امام اور یوآب بن ضرویاہ بھی اُس کا ساتھ دے رہے ہیں۔“ b\? پھر سلیمان بادشاہ نے بنایاہ بن یہویدع کو حکم دیا کہ وہ ادونیاہ کو موت کے گھاٹ اُتار دے۔ چنانچہ وہ نکلا اور اُسے مار ڈالا۔[ رب کی قَسم جس نے میری تصدیق کر کے مجھے میرے باپ داؤد کے تخت پر بٹھا دیا اور اپنے وعدے کے مطابق میرے لئے گھر تعمیر کیا ہے، ادونیاہ کو آج ہی مرنا ہے!“ LL;^q یہ کہہ کر سلیمان نے ابیاتر کا رب کے حضور امام کی خدمت سرانجام دینے کا حق منسوخ کر دیا۔ یوں رب کی وہ پیش گوئی پوری ہوئی جو اُس نے سَیلا میں عیلی کے گھرانے کے بارے میں کی تھی۔q]] ابیاتر امام سے بادشاہ نے کہا، ”اب یہاں سے چلے جائیں۔ عنتوت میں اپنے گھر میں رہیں اور وہاں اپنی زمینیں سنبھالیں۔ گو آپ سزائے موت کے لائق ہیں توبھی مَیں اِس وقت آپ کو نہیں مار دوں گا، کیونکہ آپ میرے باپ داؤد کے سامنے رب قادرِ مطلق کے عہد کا صندوق اُٹھائے ہر جگہ اُن کے ساتھ گئے۔ آپ میرے باپ کے تمام تکلیف دہ اور مشکل ترین لمحات میں شریک رہے ہیں۔“ HR` سلیمان بادشاہ کو اطلاع دی گئی، ”یوآب بھاگ کر رب کے مُقدّس خیمے میں گیا ہے۔ اب وہ وہاں قربان گاہ کے پاس کھڑا ہے۔“ یہ سن کر سلیمان نے بنایاہ بن یہویدع کو حکم دیا، ”جاؤ، یوآب کو مار دو!“4_c یوآب کو جلد ہی پتا چلا کہ ادونیاہ اور ابیاتر سے کیا کچھ ہوا ہے۔ وہ ابی سلوم کی سازشوں میں تو شریک نہیں ہوا تھا لیکن بعد میں ادونیاہ کا ساتھی بن گیا تھا۔ اِس لئے اب وہ بھاگ کر رب کے مُقدّس خیمے میں داخل ہوا اور قربان گاہ کے سینگوں کو پکڑ لیا۔ aa b; تب بادشاہ نے حکم دیا، ”چلو، اُس کی مرضی! اُسے وہیں مار کر دفن کر دو تاکہ مَیں اور میرے باپ کا گھرانا اُن قتلوں کے جواب دہ نہ ٹھہریں جو اُس نے بلاوجہ کئے ہیں۔wai بنایاہ رب کے خیمے میں جا کر یوآب سے مخاطب ہوا، ”بادشاہ فرماتا ہے کہ خیمے سے نکل آؤ!“ لیکن یوآب نے جواب دیا، ”نہیں، اگر مرنا ہے تو یہیں مروں گا۔“ بنایاہ بادشاہ کے پاس واپس آیا اور اُسے یوآب کا جواب سنایا۔ ~MS~Qe "تب بنایاہ نے مُقدّس خیمے میں جا کر یوآب کو مار دیا۔ اُسے یہوداہ کے بیابان میں اُس کی اپنی زمین میں دفنا دیا گیا۔vdg !یوآب اور اُس کی اولاد ہمیشہ تک اِن قتلوں کے قصوروار ٹھہریں۔ لیکن رب داؤد، اُس کی اولاد، گھرانے اور تخت کو ہمیشہ تک سلامتی عطا کرے۔“/cY  رب اُسے اُن دو آدمیوں کے قتل کی سزا دے جو اُس سے کہیں زیادہ شریف اور اچھے تھے یعنی اسرائیلی فوج کا کمانڈر ابنیر بن نیر اور یہوداہ کی فوج کا کمانڈر عماسا بن یتر۔ یوآب نے دونوں کو تلوار سے مار ڈالا، حالانکہ میرے باپ کو اِس کا علم نہیں تھا۔ 2h %یقین جانیں کہ جوں ہی آپ شہر کے دروازے سے نکل کر وادیِ قدرون کو پار کریں گے تو آپ کو مار دیا جائے گا۔ تب آپ خود اپنی موت کے ذمہ دار ٹھہریں گے۔“+gQ $اِس کے بعد بادشاہ نے سِمعی کو بُلا کر اُسے حکم دیا، ”یہاں یروشلم میں اپنا گھر بنا کر رہنا۔ آئندہ آپ کو شہر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے، خواہ آپ کہیں بھی جانا چاہیں۔Jf #یوآب کی جگہ بادشاہ نے بنایاہ بن یہویدع کو فوج کا کمانڈر بنا دیا۔ ابیاتر کا عُہدہ اُس نے صدوق امام کو دے دیا۔ ??^l7 )سلیمان کو خبر ملی کہ سِمعی جات جا کر لوٹ آیا ہے۔k9 (وہ فوراً اپنے گدھے پر زِین کس کر غلاموں کو ڈھونڈنے کے لئے جات میں اَکیس کے پاس چلا گیا۔ دونوں غلام اب تک وہیں تھے تو سِمعی اُنہیں پکڑ کر یروشلم واپس لے آیا۔Lj 'تین سال یوں ہی گزر گئے۔ لیکن ایک دن اُس کے دو غلام بھاگ گئے۔ چلتے چلتے وہ جات کے بادشاہ اَکیس بن معکہ کے پاس پہنچ گئے۔ کسی نے سِمعی کو اطلاع دی، ”آپ کے غلام جات میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔“iiM &سِمعی نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، جو کچھ میرے آقا نے فرمایا ہے مَیں کروں گا۔“ سِمعی دیر تک بادشاہ کے حکم کے مطابق یروشلم میں رہا۔ )Xo+ ,پھر بادشاہ نے کہا، ”آپ خوب جانتے ہیں کہ آپ نے میرے باپ داؤد کے ساتھ کتنا بُرا سلوک کیا۔ اب رب آپ کو اِس کی سزا دے گا۔n/ +لیکن اب آپ نے اپنی قَسم توڑ کر میرے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ آپ نے کیوں کیا ہے؟“Sm! *تب اُس نے اُسے بُلا کر پوچھا، ”کیا مَیں نے آپ کو آگاہ کر کے نہیں کہا تھا کہ یقین جانیں کہ جوں ہی آپ یروشلم سے نکلیں گے آپ کو مار دیا جائے گا، خواہ آپ کہیں بھی جانا چاہیں۔ اور کیا آپ نے جواب میں رب کی قَسم کھا کر نہیں کہا تھا، ’ٹھیک ہے، مَیں ایسا ہی کروں گا؟‘ R-zr q سلیمان فرعون کی بیٹی سے شادی کر کے مصری بادشاہ کا داماد بن گیا۔ شروع میں اُس کی بیوی شہر کے اُس حصے میں رہتی تھی جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا تھا۔ کیونکہ اُس وقت نیا محل، رب کا گھر اور شہر کی فصیل زیرِ تعمیر تھے۔!q= .پھر بادشاہ نے بنایاہ بن یہویدع کو حکم دیا کہ وہ سِمعی کو مار دے۔ بنایاہ نے اُسے باہر لے جا کر تلوار سے مار دیا۔ یوں سلیمان کی اسرائیل پر حکومت مضبوط ہو گئی۔ *pO -لیکن سلیمان بادشاہ کو وہ برکت دیتا رہے گا، اور داؤد کا تخت رب کے حضور ابد تک قائم رہے گا۔“ 'u{ ایک دن بادشاہ جِبعون گیا اور وہاں بھسم ہونے والی 1,000 قربانیاں چڑھائیں، کیونکہ اُس شہر کی اونچی جگہ قربانیاں چڑھانے کا سب سے اہم مرکز تھی۔Ht سلیمان رب سے پیار کرتا تھا اور اِس لئے اپنے باپ داؤد کی تمام ہدایات کے مطابق زندگی گزارتا تھا۔ لیکن وہ بھی جانوروں کی اپنی قربانیاں اور بخور ایسے ہی مقاموں پر رب کو پیش کرتا تھا۔Us% اُن دنوں میں رب کے نام کا گھر تعمیر نہیں ہوا تھا، اِس لئے اسرائیلی اپنی قربانیاں مختلف اونچی جگہوں پر چڑھاتے تھے۔ O/xY اے رب میرے خدا، تُو نے اپنے خادم کو میرے باپ داؤد کی جگہ تخت پر بٹھا دیا ہے۔ لیکن مَیں ابھی چھوٹا بچہ ہوں جسے اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر سنبھالنے کا تجربہ نہیں ہوا۔,wS سلیمان نے جواب دیا، ”تُو میرے باپ داؤد پر بڑی مہربانی کر چکا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ تیرا خادم وفاداری، انصاف اور خلوص دلی سے تیرے حضور چلتا رہا۔ تیری اُس پر مہربانی آج تک جاری رہی ہے، کیونکہ تُو نے اُس کا بیٹا اُس کی جگہ تخت نشین کر دیا ہے۔}vu جب وہ وہاں ٹھہرا ہوا تھا تو رب خواب میں اُس پر ظاہر ہوا اور فرمایا، ”تیرا دل کیا چاہتا ہے؟ مجھے بتا دے تو مَیں تیری خواہش پوری کروں گا۔“ ~&~*|O  اِس لئے اُس نے جواب دیا، ”مَیں خوش ہوں کہ تُو نے نہ عمر کی درازی، نہ دولت اور نہ اپنے دشمنوں کی ہلاکت بلکہ امتیاز کرنے کی صلاحیت مانگی ہے تاکہ سن کر انصاف کر سکے۔J{  سلیمان کی یہ درخواست رب کو پسند آئی،)zM  چنانچہ مجھے سننے والا دل عطا فرما تاکہ مَیں تیری قوم کا انصاف کروں اور صحیح اور غلط باتوں میں امتیاز کر سکوں۔ کیونکہ کون تیری اِس عظیم قوم کا انصاف کر سکتا ہے؟“Vy' توبھی تیرے خادم کو تیری چنی ہوئی قوم کے بیچ میں کھڑا کیا گیا ہے، اِتنی عظیم قوم کے درمیان کہ اُسے گنا نہیں جا سکتا۔ fG اگر تُو میری راہوں پر چلتا رہے اور اپنے باپ داؤد کی طرح میرے احکام کے مطابق زندگی گزارے تو پھر مَیں تیری عمر دراز کروں گا۔“s~a  بلکہ تجھے وہ کچھ بھی دے دوں گا جو تُو نے نہیں مانگا، یعنی دولت اور عزت۔ تیرے جیتے جی کوئی اَور بادشاہ تیرے برابر نہیں پایا جائے گا۔}  اِس لئے مَیں تیری درخواست پوری کر کے تجھے اِتنا دانش مند اور سمجھ دار بنا دوں گا کہ اُتنا نہ ماضی میں کوئی تھا، نہ مستقبل میں کبھی کوئی ہو گا۔ ~Z '~%E دو دن کے بعد اِس کے بھی بچہ ہوا۔ ہم اکیلی ہی تھیں، ہمارے سوا گھر میں کوئی اَور نہیں تھا۔b? ایک بات کرنے لگی، ”میرے آقا، ہم دونوں ایک ہی گھر میں بستی ہیں۔ کچھ دیر پہلے اِس کی موجودگی میں گھر میں میرے بچہ پیدا ہوا۔J ایک دن دو کسبیاں بادشاہ کے پاس آئیں۔"? سلیمان جاگ اُٹھا تو معلوم ہوا کہ مَیں نے خواب دیکھا ہے۔ وہ یروشلم کو واپس چلا گیا اور رب کے عہد کے صندوق کے سامنے کھڑا ہوا۔ وہاں اُس نے بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں پیش کیں، پھر بڑی ضیافت کی جس میں تمام درباری شریک ہوئے۔ rHrr_ صبح کے وقت جب مَیں اپنے بیٹے کو دودھ پلانے کے لئے اُٹھی تو دیکھا کہ اُس سے جان نکل گئی ہے۔ لیکن جب دن مزید چڑھا اور مَیں غور سے اُسے دیکھ سکی تو کیا دیکھتی ہوں کہ یہ وہ بچہ نہیں ہے جسے مَیں نے جنم دیا ہے!“\3 راتوں رات اِسے معلوم ہوا کہ بیٹا مر گیا ہے۔ مَیں ابھی گہری نیند سو رہی تھی۔ یہ دیکھ کر اِس نے میرے بچے کو اُٹھایا اور اپنے مُردے بیٹے کو میری گود میں رکھ دیا۔ پھر وہ میرے بیٹے کے ساتھ سو گئی۔4c ایک رات کو میری ساتھی کا بچہ مر گیا۔ ماں نے سوتے میں کروٹیں بدلتے بدلتے اپنے بچے کو دبا دیا تھا۔ OO}O+ Q تب اُس نے حکم دیا، ”زندہ بچے کو برابر کے دو حصوں میں کاٹ کر ہر عورت کو ایک ایک حصہ دے دیں۔“| s ٹھیک ہے، پھر میرے پاس تلوار لے آئیں!“ اُس کے پاس تلوار لائی گئی۔N پھر بادشاہ بولا، ”سیدھی سی بات یہ ہے کہ دونوں ہی دعویٰ کرتی ہیں کہ زندہ بچہ میرا ہے اور مُردہ بچہ دوسری کا ہے۔-U دوسری عورت نے اُس کی بات کاٹ کر کہا، ”ہرگز نہیں! یہ جھوٹ ہے۔ میرا بیٹا زندہ ہے اور تیرا تو مر گیا ہے۔“ پہلی عورت چیخ اُٹھی، ”کبھی بھی نہیں! زندہ بچہ میرا اور مُردہ بچہ تیرا ہے۔“ ایسی باتیں کرتے کرتے دونوں بادشاہ کے سامنے جھگڑتی رہیں۔ 1/1z o یہ دیکھ کر بادشاہ نے حکم دیا، ”رُکیں! بچے پر تلوار مت چلائیں بلکہ اُسے پہلی عورت کو دے دیں جو چاہتی ہے کہ زندہ رہے۔ وہی اُس کی ماں ہے۔“M  یہ سن کر بچے کی حقیقی ماں نے جس کا دل اپنے بیٹے کے لئے تڑپتا تھا بادشاہ سے التماس کی، ”نہیں میرے آقا، اُسے مت ماریں! براہِ کرم اُسے اِسی کو دے دیجئے۔“ لیکن دوسری عورت بولی، ”ٹھیک ہے، اُسے کاٹ دیں۔ اگر یہ میرا نہیں ہو گا تو کم از کم تیرا بھی نہیں ہو گا۔“ PrhP%E ضلعوں پر مقرر افسروں کا سردار: عزریاہ بن ناتن، بادشاہ کا قریبی مشیر: امام زبود بن ناتن،lS فوج کا کمانڈر: بنایاہ بن یہویدع، امام: صدوق اور ابیاتر،3 میرمنشی: سیسہ کے بیٹے اِلی حورف اور اخیاہ، بادشاہ کا مشیرِ خاص: یہوسفط بن اخی لود،gI یہ اُس کے اعلیٰ افسر تھے: امامِ اعظم: عزریاہ بن صدوق،S # اب سلیمان پورے اسرائیل پر حکومت کرتا تھا۔4 c جلد ہی سلیمان کے اِس فیصلے کی خبر پورے ملک میں پھیل گئی، اور لوگوں پر بادشاہ کا خوف چھا گیا، کیونکہ اُنہوں نے جان لیا کہ اللہ نے اُسے انصاف کرنے کی خاص حکمت عطا کی ہے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr}  "v  "w  "x  "y   "z   "{   "|   "}   "  "v  "w  "x  "y   "z   "{   "|   "}   "~  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "   "  "  "  "  "  "  "  "   "   "   "   "   "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "   "  !"  ""   "  "  "  "  "  "  "  "   "   "   " /q /  سلیمان کی بیٹی طافت کا شوہر بن ابی نداب: ساحلی شہر دور کا پہاڑی علاقہ،Q  بن حصد: ارُبّوت، سوکہ اور حِفر کا علاقہ،a=  بن دِقر: مقص، سعلبیم، بیت شمس اور ایلون بیت حنان،3 درجِ ذیل اِن افسروں اور اُن کے علاقوں کی فہرست ہے۔ بن حور: افرائیم کا پہاڑی علاقہ،ue سلیمان نے ملکِ اسرائیل کو بارہ ضلعوں میں تقسیم کر کے ہر ضلع پر ایک افسر مقرر کیا تھا۔ اِن افسروں کی ایک ذمہ داری یہ تھی کہ دربار کی ضروریات پوری کریں۔ ہر افسر کو سال میں ایک ماہ کی ضروریات پوری کرنی تھیں۔sa محل کا انچارج: اخی سر، بےگاریوں کا انچارج: ادونیرام بن عبدا ,T,P یہوسفط بن فروح: اِشکار کا قبائلی علاقہ،X+ بعنہ بن حوسی: آشر کا قبائلی علاقہ اور بعلوت،wi سلیمان کی بیٹی باسمت کا شوہر اخی معض: نفتالی کا قبائلی علاقہ،7k اخی نداب بن عِدّو: محنائم،6g  بن جبر: جِلعاد میں رامات کا علاقہ بشمول یائیر بن منسّی کی بستیاں، پھر بسن میں ارجوب کا علاقہ۔ اِس میں 60 ایسے فصیل دار شہر شامل تھے جن کے دروازوں پر پیتل کے کنڈے لگے تھے،4c  بعنہ بن اخی لود: تعنک، مجِدّو اور اُس بیت شان کا پورا علاقہ جو ضرتان کے پڑوس میں یزرعیل کے نیچے واقع ہے، نیز بیت شان سے لے کر ابیل محولہ تک کا پورا علاقہ بشمول یُقمعام، ||"7 سلیمان دریائے فرات سے لے کر فلستیوں کے علاقے اور مصری سرحد تک تمام ممالک پر حکومت کرتا تھا۔ اُس کے جیتے جی یہ ممالک اُس کے تابع رہے اور اُسے خراج دیتے تھے۔!{ اُس زمانے میں اسرائیل اور یہوداہ کے لوگ ساحل کی ریت کی مانند بےشمار تھے۔ لوگوں کو کھانے اور پینے کی سب چیزیں دست یاب تھیں، اور وہ خوش تھے۔  جبر بن اُوری: جِلعاد کا وہ علاقہ جس پر پہلے اموری بادشاہ سیحون اور بسن کے بادشاہ عوج کی حکومت تھی۔ اِس پورے علاقے پر صرف یہی ایک افسر مقرر تھا۔O سِمعی بن ایلہ: بن یمین کا قبائلی علاقہ، 4<2%_ جتنے ممالک دریائے فرات کے مغرب میں تھے اُن سب پر سلیمان کی حکومت تھی، یعنی تِفسَح سے لے کر غزہ تک۔ کسی بھی پڑوسی ملک سے اُس کا جھگڑا نہیں تھا، بلکہ سب کے ساتھ صلح تھی۔t$c 10 موٹے تازے بَیل، چراگاہوں میں پلے ہوئے 20 عام بَیل، 100 بھیڑبکریاں، اور اِس کے علاوہ ہرن، غزال، مِرگ اور مختلف قسم کے موٹے تازے مرغ۔H# سلیمان کے دربار کی روزانہ ضروریات یہ تھیں: تقریباً 5,000 کلو گرام باریک میدہ، تقریباً 10,000 کلو گرام عام میدہ، h(K بارہ ضلعوں پر مقرر افسر باقاعدگی سے سلیمان بادشاہ اور اُس کے دربار کی ضروریات پوری کرتے رہے۔ ہر ایک کو سال میں ایک ماہ کے لئے سب کچھ مہیا کرنا تھا۔ اُن کی محنت کی وجہ سے دربار میں کوئی کمی نہ ہوئی۔' اپنے رتھوں کے گھوڑوں کے لئے سلیمان نے 4,000 تھان بنوائے۔ اُس کے 12,000 گھوڑے تھے۔Q& اُس کے جیتے جی پورے یہوداہ اور اسرائیل میں صلح سلامتی رہی۔ شمال میں دان سے لے کر جنوب میں بیرسبع تک ہر ایک سلامتی سے انگور کی اپنی بیل اور انجیر کے اپنے درخت کے سائے میں بیٹھ سکتا تھا۔ 3 ^3O-  اُس نے 3,000 کہاوتیں اور 1,005 گیت لکھ دیئے۔<,s اِس لحاظ سے کوئی بھی اُس کے برابر نہیں تھا۔ وہ ایتان اِزراحی اور محول کے بیٹوں ہیمان، کلکول اور دردع پر بھی سبقت لے گیا تھا۔ اُس کی شہرت ارد گرد کے تمام ممالک میں پھیل گئی۔+% اُس کی حکمت اسرائیل کے مشرق میں رہنے والے اور مصر کے عالموں سے کہیں زیادہ تھی۔**O اللہ نے سلیمان کو بہت زیادہ حکمت اور سمجھ عطا کی۔ اُسے ساحل کی ریت جیسا وسیع علم حاصل ہوا۔p)[ بادشاہ کی ہدایت کے مطابق وہ رتھوں کے گھوڑوں اور دوسرے گھوڑوں کے لئے درکار جَو اور بھوسا براہِ راست اُن کے تھانوں تک پہنچاتے تھے۔ 3?3Q0  صور کا بادشاہ حیرام ہمیشہ داؤد کا اچھا دوست رہا تھا۔ جب اُسے خبر ملی کہ داؤد کے بعد سلیمان کو مسح کر کے بادشاہ بنایا گیا ہے تو اُس نے اپنے سفیروں کو اُسے مبارک باد دینے کے لئے بھیج دیا۔3/a "چنانچہ تمام ممالک کے بادشاہوں نے اپنے سفیروں کو سلیمان کے پاس بھیج دیا تاکہ اُس کی حکمت سنیں۔ =.u !وہ تفصیل سے مختلف قسم کے پودوں کے بارے میں بات کر سکتا تھا، لبنان میں دیودار کے بڑے درخت سے لے کر چھوٹے پودے زوفا تک جو دیوار کی دراڑوں میں اُگتا ہے۔ وہ مہارت سے چوپایوں، پرندوں، رینگنے والے جانوروں اور مچھلیوں کی تفصیلات بھی بیان کر سکتا تھا۔   J3 اب حالات فرق ہیں: رب میرے خدا نے مجھے پورا سکون عطا کیا ہے۔ چاروں طرف نہ کوئی مخالف نظر آتا ہے، نہ کوئی خطرہ۔Z2/ ”آپ جانتے ہیں کہ میرے باپ داؤد رب اپنے خدا کے نام کے لئے گھر تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ اُن کے بس کی بات نہیں تھی، کیونکہ اُن کے جیتے جی ارد گرد کے ممالک اُن سے جنگ کرتے رہے۔ گو رب نے داؤد کو تمام دشمنوں پر فتح بخشی تھی، لیکن لڑتے لڑتے وہ رب کا گھر نہ بنا سکے۔G1 تب سلیمان نے حیرام کو پیغام بھیجا، d5C اب گزارش ہے کہ آپ کے لکڑہارے لبنان میں میرے لئے دیودار کے درخت کاٹ دیں۔ میرے لوگ اُن کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ آپ کے لوگوں کی مزدوری مَیں ہی ادا کروں گا۔ جو کچھ بھی آپ کہیں گے مَیں اُنہیں دوں گا۔ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں صیدا کے لکڑہاروں جیسے ماہر نہیں ہیں۔“x4k اِس لئے مَیں رب اپنے خدا کے نام کے لئے گھر تعمیر کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ میرے باپ داؤد کے جیتے جی رب نے اُن سے وعدہ کیا تھا، ’تیرے جس بیٹے کو مَیں تیرے بعد تخت پر بٹھاؤں گا وہی میرے نام کے لئے گھر بنائے گا۔‘ 37a سلیمان کو حیرام نے جواب بھیجا، ”مجھے آپ کا پیغام مل گیا ہے، اور مَیں آپ کی ضرور مدد کروں گا۔ دیودار اور جونیپر کی جتنی لکڑی آپ کو چاہئے وہ مَیں آپ کے پاس پہنچا دوں گا۔"6? جب حیرام کو سلیمان کا پیغام ملا تو وہ بہت خوش ہو کر بول اُٹھا، ”آج رب کی حمد ہو جس نے داؤد کو اِس بڑی قوم پر حکومت کرنے کے لئے اِتنا دانش مند بیٹا عطا کیا ہے!“ yAyD:  معاوضے میں سلیمان اُسے سالانہ تقریباً 32,50,000 کلو گرام گندم اور تقریباً 4,40,000 لٹر زیتون کا تیل بھیجتا رہا۔%9E  چنانچہ حیرام نے سلیمان کو دیودار اور جونیپر کی اُتنی لکڑی مہیا کی جتنی اُسے ضرورت تھی۔8  میرے لوگ درختوں کے تنے لبنان کے پہاڑی علاقے سے نیچے ساحل تک لائیں گے جہاں ہم اُن کے بیڑے باندھ کر سمندر پر اُس جگہ پہنچا دیں گے جو آپ مقرر کریں گے۔ وہاں ہم تنوں کے رسّے کھول دیں گے، اور آپ اُنہیں لے جا سکیں گے۔ معاوضے میں آپ مجھے اِتنی خوراک مہیا کریں کہ میرے دربار کی ضروریات پوری ہو جائیں۔“ [[5<e  سلیمان بادشاہ نے لبنان میں یہ کام کرنے کے لئے اسرائیل میں سے 30,000 آدمیوں کی بیگار پر بھرتی کی۔ اُس نے ادونیرام کو اُن پر مقرر کیا۔ ہر ماہ وہ باری باری 10,000 افراد کو لبنان میں بھیجتا رہا۔ یوں ہر مزدور ایک ماہ لبنان میں اور دو ماہ گھر میں رہتا۔h;K  اِس کے علاوہ سلیمان اور حیرام نے آپس میں صلح کا معاہدہ کیا۔ یوں رب نے سلیمان کو حکمت عطا کی جس طرح اُس نے اُس سے وعدہ کیا تھا۔ fGJf`@; بادشاہ کے حکم پر وہ کانوں سے بہترین پتھر کے بڑے بڑے ٹکڑے نکال لائے اور اُنہیں تراش کر رب کے گھر کی بنیاد کے لئے تیار کیا۔A? اُن لوگوں پر 3,300 نگران مقرر تھے۔5>e سلیمان نے 80,000 آدمیوں کو کانوں میں لگایا تاکہ وہ پتھر نکالیں۔ 70,000 افراد یہ پتھر یروشلم لاتے تھے۔5=e سلیمان بادشاہ نے لبنان میں یہ کام کرنے کے لئے اسرائیل میں سے 30,000 آدمیوں کی بیگار پر بھرتی کی۔ اُس نے ادونیرام کو اُن پر مقرر کیا۔ ہر ماہ وہ باری باری 10,000 افراد کو لبنان میں بھیجتا رہا۔ یوں ہر مزدور ایک ماہ لبنان میں اور دو ماہ گھر میں رہتا۔ vvkEQ عمارت کی دیواروں میں کھڑکیاں تھیں جن پر جنگلے لگے تھے۔ D; سامنے ایک برآمدہ بنایا گیا جو عمارت جتنا چوڑا یعنی 30 فٹ اور آگے کی طرف 15 فٹ لمبا تھا۔kCQ عمارت کی لمبائی 90 فٹ، چوڑائی 30 فٹ اور اونچائی 45 فٹ تھی۔iB O سلیمان نے اپنی حکومت کے چوتھے سال کے دوسرے مہینے زیب میں رب کے گھر کی تعمیر شروع کی۔ اسرائیل کو مصر سے نکلے 480 سال گزر چکے تھے۔A- جبل کے کاری گروں نے سلیمان اور حیرام کے کاری گروں کی مدد کی۔ اُنہوں نے مل کر پتھر کے بڑے بڑے ٹکڑے اور لکڑی کو تراش کر رب کے گھر کی تعمیر کے لئے تیار کیا۔ --@G{ نچلی منزل کی اندرونی دیوار کی چوڑائی ساڑھے 7 فٹ تھی، درمیانی منزل کی 9 فٹ اور اوپر کی منزل کی ساڑھے 10 فٹ۔ یعنی درمیانی منزل کی عمارت والی دیوار نچلی کی دیوار کی نسبت کم موٹی اور اوپر والی منزل کی عمارت والی دیوار درمیانی منزل کی دیوار کی نسبت کم موٹی تھی۔ یوں اِس ڈھانچے کی چھتوں کے شہتیروں کو عمارت کی دیوار توڑ کر اُس میں لگانے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اُنہیں عمارت کی دیوار پر ہی رکھا گیا۔ F عمارت سے باہر آ کر سلیمان نے دائیں بائیں کی دیواروں اور پچھلی دیوار کے ساتھ ایک ڈھانچا کھڑا کیا جس کی تین منزلیں تھیں اور جس میں مختلف کمرے تھے۔of flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| =6 >9 ?< @? AB BE CG DJ FL GQ HU IX JZ K\ L^ =6 >9 ?< @? AB BE CG DJ FL GQ HU IX JZ K\ L^ M` Nb Oe Ph Ql Ro Sr Tu Ux V| W X Y Z [ \ ^ _ `" a% b( c- d0 e3 f5 g7 h: i< j@ kE lG nJ oO pS qW s[ t` ud vh wi xk yn zr {u |y }{ ~        # ' + / 2 5 8 ; = @ D G I L O S W Y [ ^ ` b d g k n p r u x { ~      gZ*JO  یوں سلیمان نے عمارت کو تکمیل تک پہنچایا۔ چھت کو دیودار کے شہتیروں اور تختوں سے بنایا گیا۔ I اِس ڈھانچے میں داخل ہونے کے لئے عمارت کی دہنی دیوار میں دروازہ بنایا گیا۔ وہاں سے ایک سیڑھی پرستار کو درمیانی اور اوپر کی منزل تک پہنچاتی تھی۔H% جو پتھر رب کے گھر کی تعمیر کے لئے استعمال ہوئے اُنہیں پتھر کی کان کے اندر ہی تراش کر تیار کیا گیا۔ اِس لئے جب اُنہیں زیرِ تعمیر عمارت کے پاس لا کر جوڑا گیا تو نہ ہتھوڑوں، نہ چھینی نہ لوہے کے کسی اَور اوزار کی آواز سنائی دی۔ B$BNO جب عمارت کی دیواریں اور چھت مکمل ہوئیں N  تب مَیں اسرائیل کے درمیان رہوں گا اور اپنی قوم کو کبھی ترک نہیں کروں گا۔“bM?  ”جہاں تک میری سکونت گاہ کا تعلق ہے جو تُو میرے لئے بنا رہا ہے، اگر تُو میرے تمام احکام اور ہدایات کے مطابق زندگی گزارے تو مَیں تیرے لئے وہ کچھ کروں گا جس کا وعدہ مَیں نے تیرے باپ داؤد سے کیا ہے۔AL  ایک دن رب سلیمان سے ہم کلام ہوا،.KW  جو ڈھانچا عمارت کے تینوں طرف کھڑا کیا گیا اُسے دیودار کے شہتیروں سے عمارت کی باہر والی دیوار کے ساتھ جوڑا گیا۔ اُس کی تینوں منزلوں کی اونچائی ساڑھے سات سات فٹ تھی۔ f@^ftSc عمارت کی تمام اندرونی دیواروں پر دیودار کے تختے یوں لگے تھے کہ کہیں بھی پتھر نظر نہ آیا۔ تختوں پر تُونبے اور پھول کندہ کئے گئے تھے۔ R جو حصہ سامنے رہ گیا اُسے مُقدّس کمرا مقرر کیا گیا۔ اُس کی لمبائی 60 فٹ تھی۔MQ اب تک عمارت کا ایک ہی کمرا تھا، لیکن اب اُس نے دیودار کے تختوں سے فرش سے لے کر چھت تک دیوار کھڑی کر کے پچھلے حصے میں الگ کمرا بنا دیا جس کی لمبائی 30 فٹ تھی۔ یہ مُقدّس ترین کمرا بن گیا۔JpW[ چنانچہ عمارت کی تمام اندرونی دیواروں، چھت اور فرش پر سونا منڈھا گیا، اور اِسی طرح مُقدّس ترین کمرے کے سامنے کی قربان گاہ پر بھی۔{Vq بلکہ عمارت کے سامنے والے کمرے کی دیواروں، چھت اور فرش پر بھی سونا منڈھا گیا۔ مُقدّس ترین کمرے کے دروازے پر سونے کی زنجیریں لگائی گئیں۔dUC اِس کمرے کی لمبائی 30 فٹ، چوڑائی 30 فٹ اور اونچائی 30 فٹ تھی۔ سلیمان نے اِس کی تمام دیواروں اور فرش پر خالص سونا چڑھایا۔ مُقدّس ترین کمرے کے سامنے دیودار کی قربان گاہ تھی۔ اُس پر بھی سونا منڈھا گیاXT+ پچھلے کمرے میں رب کے عہد کا صندوق رکھنا تھا۔ E  !,7BMWbmx(3>IT_ju$/:EP[fq|   "  "  "  "  "  "   "  "  "   "  "  "  "  "  "   "  "  "  "  "  "  "  "   "   "   "   "   "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "   "  !"  ""  #"  $"  %"  &"   "  "  "  "  "  "  "  "   "   "   "   "   "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  "  # #.[Y ہر ایک کا قد 15 فٹ تھا۔(ZK دونوں شکل و صورت میں ایک جیسے تھے۔ ہر ایک کے دو پَر تھے، اور ہر پَر کی لمبائی ساڑھے سات سات فٹ تھی۔ چنانچہ ایک پَر کے سرے سے دوسرے پَر کے سرے تک کا فاصلہ 15 فٹ تھا۔(YK دونوں شکل و صورت میں ایک جیسے تھے۔ ہر ایک کے دو پَر تھے، اور ہر پَر کی لمبائی ساڑھے سات سات فٹ تھی۔ چنانچہ ایک پَر کے سرے سے دوسرے پَر کے سرے تک کا فاصلہ 15 فٹ تھا۔YX- پھر سلیمان نے زیتون کی لکڑی سے دو کروبی فرشتے بنوائے جنہیں مُقدّس ترین کمرے میں رکھا گیا۔ اِن مجسموں کا قد 15 فٹ تھا۔ si[`1 سلیمان نے مُقدّس ترین کمرے کا دروازہ زیتون کی لکڑی سے بنوایا۔ اُس کے دو کواڑ تھے، اور چوکھٹ کی لکڑی کے پانچ کونے تھے۔S_! دونوں کمروں کے فرش پر بھی سونا منڈھا گیا۔0^[ مُقدّس اور مُقدّس ترین کمروں کی دیواروں پر کروبی فرشتے، کھجور کے درخت اور پھول کندہ کئے گئے۔E] اِن فرشتوں پر بھی سونا منڈھا گیا۔A\} اُنہیں مُقدّس ترین کمرے میں یوں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا کیا گیا کہ ہر فرشتے کا ایک پَر دوسرے کے پَر سے لگتا جبکہ دائیں اور بائیں طرف ہر ایک کا دوسرا پَر دیوار کے ساتھ لگتا تھا۔ d ud d #اِن کواڑوں پر بھی کروبی فرشتے، کھجور کے درخت اور پھول کندہ کئے گئے تھے۔ پھر اُن پر سونا یوں منڈھا گیا کہ وہ اچھی طرح اِن بیل بوٹوں کے ساتھ لگ گیا۔'cI "اِس دروازے کے دو کواڑ جونیپر کی لکڑی کے بنے ہوئے تھے۔ دونوں کواڑ دیوار تک گھوم سکتے تھے۔[b1 !سلیمان نے عمارت میں داخل ہونے والے دروازے کے لئے بھی زیتون کی لکڑی سے چوکھٹ بنوائی، لیکن اُس کی لکڑی کے چار کونے تھے۔}au  دروازے کے کواڑوں پر کروبی فرشتے، کھجور کے درخت اور پھول کندہ کئے گئے۔ اِن کواڑوں پر بھی فرشتوں اور کھجور کے درختوں سمیت سونا منڈھا گیا۔ VP_h ; جو محل سلیمان نے بنوایا وہ 13 سال کے بعد مکمل ہوا۔g &اور اُس کی حکومت کے گیارھویں سال کے آٹھویں مہینے بُول میں عمارت مکمل ہوئی۔ سب کچھ نقشے کے عین مطابق بنا۔ اِس کام پر کُل سات سال صَرف ہوئے۔ f+ %رب کے گھر کی بنیاد سلیمان کی حکومت کے چوتھے سال کے دوسرے مہینے زیب میں ڈالی گئی، e $عمارت کے سامنے ایک اندرونی صحن بنایا گیا جس کی چاردیواری یوں تعمیر ہوئی کہ پتھر کے ہر تین ردّوں کے بعد دیودار کے شہتیروں کا ایک ردّا لگایا گیا۔ XX$iC اُس کی ایک عمارت کا نام ’لبنان کا جنگل‘ تھا۔ عمارت کی لمبائی 150 فٹ، چوڑائی 75 فٹ اور اونچائی 45 فٹ تھی۔ نچلی منزل ایک بڑا ہال تھا جس کے دیودار کی لکڑی کے 45 ستون تھے۔ پندرہ پندرہ ستونوں کو تین قطاروں میں کھڑا کیا گیا تھا۔ ستونوں پر شہتیر تھے جن پر دوسری منزل کے فرش کے لئے دیودار کے تختے لگائے گئے تھے۔ دوسری منزل کے مختلف کمرے تھے، اور چھت بھی دیودار کی لکڑی سے بنائی گئی تھی۔ qXqckA ہال کی دونوں لمبی دیواروں میں تین تین کھڑکیاں تھیں، اور ایک دیوار کی کھڑکیاں دوسری دیوار کی کھڑکیوں کے بالکل مقابل تھیں۔$jC اُس کی ایک عمارت کا نام ’لبنان کا جنگل‘ تھا۔ عمارت کی لمبائی 150 فٹ، چوڑائی 75 فٹ اور اونچائی 45 فٹ تھی۔ نچلی منزل ایک بڑا ہال تھا جس کے دیودار کی لکڑی کے 45 ستون تھے۔ پندرہ پندرہ ستونوں کو تین قطاروں میں کھڑا کیا گیا تھا۔ ستونوں پر شہتیر تھے جن پر دوسری منزل کے فرش کے لئے دیودار کے تختے لگائے گئے تھے۔ دوسری منزل کے مختلف کمرے تھے، اور چھت بھی دیودار کی لکڑی سے بنائی گئی تھی۔ >`Xn+ اُس نے دیوان بھی تعمیر کیا جو دیوانِ عدل کہلاتا تھا۔ اُس میں اُس کا تخت تھا، اور وہاں وہ لوگوں کی عدالت کرتا تھا۔ دیوان کی چاروں دیواروں پر فرش سے لے کر چھت تک دیودار کے تختے لگے ہوئے تھے۔Zm/ اِس کے علاوہ سلیمان نے ستونوں کا ہال بنوایا جس کی لمبائی 75 فٹ اور چوڑائی 45 فٹ تھی۔ ہال کے سامنے ستونوں کا برآمدہ تھا۔>lw اِن دیواروں کے تین تین دروازے بھی ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ اُن کی چوکھٹوں کی لکڑی کے چار چار کونے تھے۔ ))3ra  اِن پر اعلیٰ قسم کے پتھروں کی دیواریں کھڑی کی گئیں۔ دیواروں میں دیودار کے شہتیر بھی لگائے گئے۔)qM  بنیادوں کے لئے عمدہ قسم کے بڑے بڑے پتھر استعمال ہوئے۔ کچھ کی لمبائی 12 اور کچھ کی 15 فٹ تھی۔:po  یہ تمام عمارتیں بنیادوں سے لے کر چھت تک اور باہر سے لے کر بڑے صحن تک اعلیٰ قسم کے پتھروں سے بنی ہوئی تھیں، ایسے پتھروں سے جو چاروں طرف آری سے ناپ کے عین مطابق کاٹے گئے تھے۔1o] دیوان کے پیچھے صحن تھا جس میں بادشاہ کا رہائشی محل تھا۔ محل کا ڈیزائن دیوان جیسا تھا۔ اُس کی مصری بیوی فرعون کی بیٹی کا محل بھی ڈیزائن میں دیوان سے مطابقت رکھتا تھا۔ >u1 اُس کی ماں اسرائیلی قبیلے نفتالی کی بیوہ تھی جبکہ اُس کا باپ صور کا رہنے والا اور پیتل کا کاری گر تھا۔ حیرام بڑی حکمت، سمجھ داری اور مہارت سے پیتل کی ہر چیز بنا سکتا تھا۔ اِس قسم کا کام کرنے کے لئے وہ سلیمان بادشاہ کے پاس آیا۔t}  پھر سلیمان بادشاہ نے صور کے ایک آدمی کو بُلایا جس کا نام حیرام تھا۔>sw  بڑے صحن کی چاردیواری یوں بنائی گئی کہ پتھروں کے ہر تین ردّوں کے بعد دیودار کے شہتیروں کا ایک ردّا لگایا گیا تھا۔ جو اندرونی صحن رب کے گھر کے ارد گرد تھا اُس کی چاردیواری بھی اِسی طرح ہی بنائی گئی، اور اِسی طرح رب کے گھر کے برآمدے کی دیواریں بھی۔ bxyk اِن زنجیروں کے اوپر حیرام نے ہر بالائی حصے کو پیتل کے 200 اناروں سے سجایا جو دو قطاروں میں لگائے گئے۔ پھر بالائی حصے ستونوں پر لگائے گئے۔ بالائی حصوں کی سوسن کے پھول کی سی شکل تھی، اور یہ پھول 6 فٹ اونچے تھے۔'xI ہر بالائی حصے کو ایک دوسرے کے ساتھ خوب صورتی سے ملائی گئی سات زنجیروں سے آراستہ کیا گیا۔w1 پھر اُس نے ہر ستون کے لئے پیتل کا بالائی حصہ ڈھال دیا جس کی اونچائی ساڑھے 7 فٹ تھی۔v/ پہلے اُس نے پیتل کے دو ستون ڈھال دیئے۔ ہر ستون کی اونچائی 27 فٹ اور گھیرا 18 فٹ تھا۔ x{k اِن زنجیروں کے اوپر حیرام نے ہر بالائی حصے کو پیتل کے 200 اناروں سے سجایا جو دو قطاروں میں لگائے گئے۔ پھر بالائی حصے ستونوں پر لگائے گئے۔ بالائی حصوں کی سوسن کے پھول کی سی شکل تھی، اور یہ پھول 6 فٹ اونچے تھے۔xzk اِن زنجیروں کے اوپر حیرام نے ہر بالائی حصے کو پیتل کے 200 اناروں سے سجایا جو دو قطاروں میں لگائے گئے۔ پھر بالائی حصے ستونوں پر لگائے گئے۔ بالائی حصوں کی سوسن کے پھول کی سی شکل تھی، اور یہ پھول 6 فٹ اونچے تھے۔ pO حوض کے کنارے کے نیچے تُونبوں کی دو قطاریں تھیں۔ فی فٹ تقریباً 6 تُونبے تھے۔ تُونبے اور حوض مل کر ڈھالے گئے تھے۔#~A اِس کے بعد حیرام نے پیتل کا بڑا گول حوض ڈھال دیا جس کا نام ’سمندر‘ رکھا گیا۔ اُس کی اونچائی ساڑھے 7 فٹ، اُس کا منہ 15 فٹ چوڑا اور اُس کا گھیرا تقریباً 45 فٹ تھا۔[}1 بالائی حصے سوسن نما تھے۔ چنانچہ کام مکمل ہوا۔| حیرام نے دونوں ستون رب کے گھر کے برآمدے کے سامنے کھڑے کئے۔ دہنے ہاتھ کے ستون کا نام اُس نے ’یکین‘ اور بائیں ہاتھ کے ستون کا نام ’بوعز‘ رکھا۔ ]xQ]p[ پھر حیرام نے پانی کے باسن اُٹھانے کے لئے پیتل کی ہتھ گاڑیاں بنائیں۔ ہر گاڑی کی لمبائی 6 فٹ، چوڑائی 6 فٹ اور اونچائی ساڑھے 4 فٹ تھی۔#A حوض کا کنارہ پیالے بلکہ سوسن کے پھول کی طرح باہر کی طرف مُڑا ہوا تھا۔ اُس کی دیوار تقریباً تین انچ موٹی تھی، اور حوض میں پانی کے تقریباً 44,000 لٹر سما جاتے تھے۔ حوض کو بَیلوں کے 12 مجسموں پر رکھا گیا۔ تین بَیلوں کا رُخ شمال کی طرف، تین کا رُخ مغرب کی طرف، تین کا رُخ جنوب کی طرف اور تین کا رُخ مشرق کی طرف تھا۔ اُن کے پچھلے حصے حوض کی طرف تھے، اور حوض اُن کے کندھوں پر پڑا تھا۔ qq#A ہر گاڑی کے چار پہئے اور دو دُھرے تھے۔ یہ بھی پیتل کے تھے۔ چاروں کونوں پر پیتل کے ایسے ٹکڑے لگے تھے جن پر باسن رکھے جاتے تھے۔ یہ ٹکڑے بھی سہروں سے سجے ہوئے تھے۔vg فریم کے بیرونی پہلو شیرببروں، بَیلوں اور کروبی فرشتوں سے سجے ہوئے تھے۔ شیروں اور بَیلوں کے اوپر اور نیچے پیتل کے سہرے لگے ہوئے تھے۔kQ ہر گاڑی کا اوپر کا حصہ سریوں سے مضبوط کیا گیا فریم تھا۔ VV  "گاڑیوں کے چار کونوں پر دستے لگے تھے جو فریم کے ساتھ مل کر ڈھالے گئے تھے۔>w !پہئے رتھوں کے پہیوں کی مانند تھے۔ اُن کے دُھرے، کنارے، تار اور نابھیں سب کے سب پیتل سے ڈھالے گئے تھے۔iM  گاڑی کے فریم کے نیچے مذکورہ چار پہئے تھے جو دُھروں سے جُڑے تھے۔ دُھرے فریم کے ساتھ ہی ڈھل گئے تھے۔ ہر پہیہ سوا دو فٹ چوڑا تھا۔jO فریم کے اندر جس جگہ باسن کو رکھا جاتا تھا وہ گول تھی۔ اُس کی اونچائی ڈیڑھ فٹ تھی، اور اُس کا منہ سوا دو فٹ چوڑا تھا۔ اُس کے بیرونی پہلو پر چیزیں کندہ کی گئی تھیں۔ گاڑی کا فریم گول نہیں بلکہ چورس تھا۔ lD  &حیرام نے ہر گاڑی کے لئے پیتل کا باسن ڈھال دیا۔ ہر باسن 6 فٹ چوڑا تھا، اور اُس میں 880 لٹر پانی سما جاتا تھا۔  %حیرام نے دسوں گاڑیوں کو ایک ہی سانچے میں ڈھالا، اِس لئے سب ایک جیسی تھیں۔F  $ہر گاڑی کے اوپر کا کنارہ نو انچ اونچا تھا۔ کونوں پر لگے دستے اور فریم کے پہلو ہر جگہ کروبی فرشتوں، شیرببروں اور کھجور کے درختوں سے سجے ہوئے تھے۔ چاروں طرف سہرے بھی کندہ کئے گئے۔F  #ہر گاڑی کے اوپر کا کنارہ نو انچ اونچا تھا۔ کونوں پر لگے دستے اور فریم کے پہلو ہر جگہ کروبی فرشتوں، شیرببروں اور کھجور کے درختوں سے سجے ہوئے تھے۔ چاروں طرف سہرے بھی کندہ کئے گئے۔ nnN +10 ہتھ گاڑیاں، اِن پر کے پانی کے 10 باسن،]5 *زنجیروں کے اوپر لگے انار (فی بالائی حصہ 200 عدد)،7 )دو ستون، ستونوں پر لگے پیالہ نما بالائی حصے، بالائی حصوں پر لگی زنجیروں کا ڈیزائن،6g (حیرام نے باسن، بیلچے اور چھڑکاؤ کے کٹورے بھی بنائے۔ یوں اُس نے رب کے گھر میں وہ سارا کام مکمل کیا جس کے لئے سلیمان بادشاہ نے اُسے بُلایا تھا۔ اُس نے ذیل کی چیزیں بنائیں:} 'اُس نے پانچ گاڑیاں رب کے گھر کے دائیں ہاتھ اور پانچ اُس کے بائیں ہاتھ کھڑی کیں۔ حوض بنام سمندر کو اُس نے رب کے گھر کے جنوب مشرق میں رکھ دیا۔ 7i /اِس سامان کے لئے سلیمان بادشاہ نے اِتنا زیادہ پیتل استعمال کیا کہ اُس کا کُل وزن معلوم نہ ہو سکا۔|s .بادشاہ نے اُسے وادیِ یردن میں سُکات اور ضرتان کے درمیان ڈھلوایا۔ وہاں ایک فونڈری تھی جہاں حیرام نے گارے کے سانچے بنا کر ہر چیز ڈھال دی۔zo -بالٹیاں، بیلچے اور چھڑکاؤ کے کٹورے۔ یہ تمام سامان جو حیرام نے سلیمان کے حکم پر رب کے گھر کے لئے بنایا پیتل سے ڈھال کر پالش کیا گیا تھا۔dC ,حوض بنام سمندر، اِسے اُٹھانے والے بَیل کے 12 مجسمے، kk)M 2خالص سونے کے باسن، چراغ کو کترنے کے اوزار، چھڑکاؤ کے کٹورے اور پیالے، جلتے ہوئے کوئلے کے لئے خالص سونے کے برتن، مُقدّس ترین کمرے اور بڑے ہال کے دروازوں کے قبضے۔hK 1خالص سونے کے 10 شمع دان جو مُقدّس ترین کمرے کے سامنے رکھے گئے، پانچ دروازے کے دہنے ہاتھ اور پانچ اُس کے بائیں ہاتھ، سونے کے وہ پھول جن سے شمع دان آراستہ تھے، سونے کے چراغ اور بتی کو بجھانے کے اوزار،xk 0رب کے گھر کے اندر کے لئے سلیمان نے درجِ ذیل سامان بنوایا: سونے کی قربان گاہ، سونے کی وہ میز جس پر رب کے لئے مخصوص روٹیاں پڑی رہتی تھیں،  # پھر سلیمان نے اسرائیل کے تمام بزرگوں اور قبیلوں اور کنبوں کے تمام سرپرستوں کو اپنے پاس یروشلم میں بُلایا، کیونکہ رب کے عہد کا صندوق اب تک یروشلم کے اُس حصے میں تھا جو ’داؤد کا شہر‘ یا صیون کہلاتا ہے۔ سلیمان چاہتا تھا کہ قوم کے نمائندے حاضر ہوں جب صندوق کو وہاں سے رب کے گھر میں پہنچایا جائے۔%E 3رب کے گھر کی تکمیل پر سلیمان بادشاہ نے وہ سونا چاندی اور باقی تمام قیمتی چیزیں رب کے گھر کے خزانوں میں رکھوا دیں جو اُس کے باپ داؤد نے رب کے لئے مخصوص کی تھیں۔ E   +6ALWbmx'2=HS^it$/:EP[fq|  #  #  #  #  #   #  !#  "#  ##  #  #  #  #  #   #  !#  "#  ##  $#  %#  &#  '#  (#  )#  *#  +#  ,#  -#  .#  /#  0#  1#  2#  3#   #  #  #  #  #  #  #!  #"   ##   #$   #%   #&   #'  #(  #)  #*  #+  #,  #-  #.  #/  #0  #1  #2  #3  #4  #5  #6  #7  #8  #9   #:  !#;  "#<  ##=  $#>  %#?  &#@  '#A  (#B  )#C  *#D  +#E  ,#F ' وہاں صندوق کے سامنے سلیمان بادشاہ اور باقی تمام جمع ہوئے اسرائیلیوں نے اِتنی بھیڑبکریاں اور گائےبَیل قربان کئے کہ اُن کی تعداد گنی نہیں جا سکتی تھی۔hK رب کے گھر میں لائے۔ لاویوں کے ساتھ مل کر اُنہوں نے ملاقات کے خیمے کو بھی اُس کے تمام مُقدّس سامان سمیت رب کے گھر میں پہنچایا۔Z/ جب سب جمع ہوئے تو امام رب کے صندوق کو اُٹھا کر' چنانچہ اسرائیل کے تمام مرد سال کے ساتویں مہینے اِتانیم میں سلیمان بادشاہ کے پاس یروشلم میں جمع ہوئے۔ اِسی مہینے میں جھونپڑیوں کی عید منائی جاتی تھی۔ 57{5B#  صندوق میں صرف پتھر کی وہ دو تختیاں تھیں جن کو موسیٰ نے حورب یعنی کوہِ سینا کے دامن میں اُس میں رکھ دیا تھا، اُس وقت جب رب نے مصر سے نکلے ہوئے اسرائیلیوں کے ساتھ عہد باندھا تھا۔0"[ توبھی اُٹھانے کی یہ لکڑیاں اِتنی لمبی تھیں کہ اُن کے سرے سامنے والے یعنی مُقدّس کمرے سے نظر آتے تھے۔ لیکن وہ باہر سے دیکھے نہیں جا سکتے تھے۔ آج تک وہ وہیں موجود ہیں۔! فرشتوں کے پَر پورے صندوق پر اُس کی اُٹھانے کی لکڑیوں سمیت پھیلے رہے۔E  اماموں نے رب کے عہد کا صندوق پچھلے یعنی مُقدّس ترین کمرے میں لا کر کروبی فرشتوں کے پَروں کے نیچے رکھ دیا۔ II*'O  یقیناً مَیں نے تیرے لئے عظیم سکونت گاہ بنائی ہے، ایک مقام جو تیری ابدی سکونت کے لائق ہے۔“%&E  یہ دیکھ کر سلیمان نے دعا کی، ”رب نے فرمایا ہے کہ مَیں گھنے بادل کے اندھیرے میں رہوں گا۔,%S  جب امام مُقدّس کمرے سے نکل کر صحن میں آئے تو رب کا گھر ایک بادل سے بھر گیا۔ امام اپنی خدمت انجام نہ دے سکے، کیونکہ رب کا گھر اُس کے جلال کے بادل سے معمور ہو گیا تھا۔,$S  جب امام مُقدّس کمرے سے نکل کر صحن میں آئے تو رب کا گھر ایک بادل سے بھر گیا۔ امام اپنی خدمت انجام نہ دے سکے، کیونکہ رب کا گھر اُس کے جلال کے بادل سے معمور ہو گیا تھا۔ ,T+1 میرے باپ داؤد کی بڑی خواہش تھی کہ رب اسرائیل کے خدا کے نام کی تعظیم میں گھر بنائے۔*/ ’جس دن مَیں اپنی قوم اسرائیل کو مصر سے نکال لایا اُس دن سے لے کر آج تک مَیں نے کبھی نہ فرمایا کہ اسرائیلی قبیلوں کے کسی شہر میں میرے نام کی تعظیم میں گھر بنایا جائے۔ لیکن مَیں نے داؤد کو اپنی قوم اسرائیل کا بادشاہ بنایا ہے۔‘T)# ”رب اسرائیل کے خدا کی تعریف ہو جس نے وہ وعدہ پورا کیا ہے جو اُس نے میرے باپ داؤد سے کیا تھا۔ کیونکہ اُس نے فرمایا،P( پھر بادشاہ نے مُڑ کر رب کے گھر کے سامنے کھڑی اسرائیل کی پوری جماعت کی طرف رُخ کیا۔ اُس نے اُنہیں برکت دے کر کہا، KQwK(/K اُس میں مَیں نے اُس صندوق کے لئے مقام تیار کر رکھا ہے جس میں شریعت کی تختیاں پڑی ہیں، اُس عہد کی تختیاں جو رب نے ہمارے باپ دادا سے مصر سے نکالتے وقت باندھا تھا۔“t.c اور واقعی، رب نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ مَیں رب کے وعدے کے عین مطابق اپنے باپ داؤد کی جگہ اسرائیل کا بادشاہ بن کر تخت پر بیٹھ گیا ہوں۔ اور اب مَیں نے رب اسرائیل کے خدا کے نام کی تعظیم میں گھر بھی بنایا ہے۔_-9 لیکن تُو نہیں بلکہ تیرا بیٹا ہی اُسے بنائے گا۔‘+,Q لیکن رب نے اعتراض کیا، ’مَیں خوش ہوں کہ تُو میرے نام کی تعظیم میں گھر تعمیر کرنا چاہتا ہے، xp2[ تُو نے اپنے خادم داؤد سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا ہے۔ جو بات تُو نے اپنے منہ سے میرے باپ سے کی وہ تُو نے اپنے ہاتھ سے آج ہی پوری کی ہے۔1/ دعا کی، ”اے رب اسرائیل کے خدا، تجھ جیسا کوئی خدا نہیں ہے، نہ آسمان اور نہ زمین پر۔ تُو اپنا وہ عہد قائم رکھتا ہے جسے تُو نے اپنی قوم کے ساتھ باندھا ہے اور اپنی مہربانی اُن سب پر ظاہر کرتا ہے جو پورے دل سے تیری راہ پر چلتے ہیں۔f0G پھر سلیمان اسرائیل کی پوری جماعت کے دیکھتے دیکھتے رب کی قربان گاہ کے سامنے کھڑا ہوا۔ اُس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر S7~S'5I لیکن کیا اللہ واقعی زمین پر سکونت کرے گا؟ نہیں، تُو تو بلندترین آسمان میں بھی سما نہیں سکتا! تو پھر یہ مکان جو مَیں نے بنایا ہے کس طرح تیری سکونت گاہ بن سکتا ہے؟54e اے اسرائیل کے خدا، اب براہِ کرم اپنا یہ وعدہ پورا کر جو تُو نے اپنے خادم میرے باپ داؤد سے کیا ہے۔E3 اے رب اسرائیل کے خدا، اب اپنی دوسری بات بھی پوری کر جو تُو نے اپنے خادم داؤد سے کی تھی۔ کیونکہ تُو نے میرے باپ سے وعدہ کیا تھا، ’اگر تیری اولاد تیری طرح اپنے چال چلن پر دھیان دے کر میرے حضور چلتی رہے تو اسرائیل پر اُس کی حکومت ہمیشہ تک قائم رہے گی۔‘ @8# جب ہم اِس مقام کی طرف رُخ کر کے دعا کریں تو اپنے خادم اور اپنی قوم کی التجا سن۔ آسمان پر اپنے تخت سے ہماری سن۔ اور جب سنے گا تو ہمارے گناہوں کو معاف کر!s7a کہ براہِ کرم دن رات اِس عمارت کی نگرانی کر! کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں تُو نے خود فرمایا، ’یہاں میرا نام سکونت کرے گا۔‘ چنانچہ اپنے خادم کی گزارش سن جو مَیں اِس مقام کی طرف رُخ کئے ہوئے کرتا ہوں۔<6s اے رب میرے خدا، توبھی اپنے خادم کی دعا اور التجا سن جب مَیں آج تیرے حضور پکارتے ہوئے التماس کرتا ہوں @@m;U !ہو سکتا ہے کسی وقت تیری قوم اسرائیل تیرا گناہ کرے اور نتیجے میں دشمن کے سامنے شکست کھائے۔ اگر اسرائیلی آخرکار تیرے پاس لوٹ آئیں اور تیرے نام کی تمجید کر کے یہاں اِس گھر میں تجھ سے دعا اور التماس کریںe:E  تو براہِ کرم آسمان پر سے سن کر اپنے خادموں کا انصاف کر۔ قصوروار کو مجرم ٹھہرا کر اُس کے اپنے سر پر وہ کچھ آنے دے جو اُس سے سرزد ہوا ہے، اور بےقصور کو بےالزام قرار دے کر اُس کی راست بازی کا بدلہ دے۔b9? اگر کسی پر الزام لگایا جائے اور اُسے یہاں تیری قربان گاہ کے سامنے لایا جائے تاکہ حلف اُٹھا کر وعدہ کرے کہ مَیں بےقصور ہوں e=E #ہو سکتا ہے اسرائیلی تیرا اِتنا سنگین گناہ کریں کہ کال پڑے اور بڑی دیر تک بارش نہ برسے۔ اگر وہ آخرکار اِس گھر کی طرف رُخ کر کے تیرے نام کی تمجید کریں اور تیری سزا کے باعث اپنا گناہ چھوڑ کر لوٹ آئیں< "تو آسمان پر سے اُن کی فریاد سن لینا۔ اپنی قوم اسرائیل کا گناہ معاف کر کے اُنہیں دوبارہ اُس ملک میں واپس لانا جو تُو نے اُن کے باپ دادا کو دے دیا تھا۔ YO@ &اگر کوئی اسرائیلی یا تیری پوری قوم اُس کا سبب جان کر اپنے ہاتھوں کو اِس گھر کی طرف بڑھائے اور تجھ سے التماس کرے(?K %ہو سکتا ہے اسرائیل میں کال پڑ جائے، اناج کی فصل کسی بیماری، پھپھوندی، ٹڈیوں یا کیڑوں سے متاثر ہو جائے، یا دشمن کسی شہر کا محاصرہ کرے۔ جو بھی مصیبت یا بیماری ہو،w>i $تو آسمان پر سے اُن کی فریاد سن لینا۔ اپنے خادموں اور اپنی قوم اسرائیل کو معاف کر، کیونکہ تُو ہی اُنہیں اچھی راہ کی تعلیم دیتا ہے۔ تب اُس ملک پر دوبارہ بارش برسا دے جو تُو نے اپنی قوم کو میراث میں دے دیا ہے۔ <*<jDO *توبھی وہ تیرے عظیم نام، تیری بڑی قدرت اور تیرے زبردست کاموں کے بارے میں سن کر آئیں گے اور اِس گھر کی طرف رُخ کر کے دعا کریں گے۔BC )آئندہ پردیسی بھی تیرے نام کے سبب سے دُوردراز ممالک سے آئیں گے۔ اگرچہ وہ تیری قوم اسرائیل کے نہیں ہوں گےNB (پھر جتنی دیر وہ اُس ملک میں زندگی گزاریں گے جو تُو نے ہمارے باپ دادا کو دیا تھا اُتنی دیر وہ تیرا خوف مانیں گے۔:Ao 'تو آسمان پر اپنے تخت سے اُن کی فریاد سن لینا۔ اُنہیں معاف کر کے وہ کچھ کر جو ضروری ہے۔ ہر ایک کو اُس کی تمام حرکتوں کا بدلہ دے، کیونکہ صرف تُو ہی ہر انسان کے دل کو جانتا ہے۔ rPr G -تو آسمان پر سے اُن کی دعا اور التماس سن کر اُن کے حق میں انصاف قائم رکھنا۔JF ,ہو سکتا ہے تیری قوم کے مرد تیری ہدایت کے مطابق اپنے دشمن سے لڑنے کے لئے نکلیں۔ اگر وہ تیرے چنے ہوئے شہر اور اُس عمارت کی طرف رُخ کر کے دعا کریں جو مَیں نے تیرے نام کے لئے تعمیر کی ہے,ES +تب آسمان پر سے اُن کی فریاد سن لینا۔ جو بھی درخواست وہ پیش کریں وہ پوری کرنا تاکہ دنیا کی تمام اقوام تیرا نام جان کر تیری قوم اسرائیل کی طرح ہی تیرا خوف مانیں اور جان لیں کہ جو عمارت مَیں نے تعمیر کی ہے اُس پر تیرے ہی نام کا ٹھپا لگا ہے۔ I! /شاید وہ جلاوطنی میں توبہ کر کے دوبارہ تیری طرف رجوع کریں اور تجھ سے التماس کریں، ’ہم نے گناہ کیا ہے، ہم سے غلطی ہوئی ہے، ہم نے بےدین حرکتیں کی ہیں۔‘bH? .ہو سکتا ہے وہ تیرا گناہ کریں، ایسی حرکتیں تو ہم سب سے سرزد ہوتی رہتی ہیں، اور نتیجے میں تُو ناراض ہو کر اُنہیں دشمن کے حوالے کر دے جو اُنہیں قید کر کے اپنے کسی دُوردراز یا قریبی ملک میں لے جائے۔ pL 2اور اپنی قوم کے گناہوں کو معاف کر دینا۔ جس بھی جرم سے اُنہوں نے تیرا گناہ کیا ہے وہ معاف کر دینا۔ بخش دے کہ اُنہیں گرفتار کرنے والے اُن پر رحم کریں۔ K; 1تو آسمان پر اپنے تخت سے اُن کی دعا اور التماس سن لینا۔ اُن کے حق میں انصاف قائم کرنا، J 0اگر وہ ایسا کر کے دشمن کے ملک میں اپنے پورے دل و جان سے دوبارہ تیری طرف رجوع کریں اور تیری طرف سے باپ دادا کو دیئے گئے ملک، تیرے چنے ہوئے شہر اور اُس عمارت کی طرف رُخ کر کے دعا کریں جو مَیں نے تیرے نام کے لئے تعمیر کی ہے RTRO 5کیونکہ تُو، اے رب قادرِ مطلق نے اسرائیل کو دنیا کی تمام قوموں سے الگ کر کے اپنی خاص ملکیت بنا لیا ہے۔ ہمارے باپ دادا کو مصر سے نکالتے وقت تُو نے موسیٰ کی معرفت اِس حقیقت کا اعلان کیا۔“zNo 4اے اللہ، تیری آنکھیں میری التجاؤں اور تیری قوم اسرائیل کی فریادوں کے لئے کھلی رہیں۔ جب بھی وہ مدد کے لئے تجھے پکاریں تو اُن کی سن لینا!*MO 3کیونکہ یہ تیری ہی قوم کے افراد ہیں، تیری ہی میراث جسے تُو مصر کے بھڑکتے بھٹے سے نکال لایا۔ A\ AGS 9جس طرح رب ہمارا خدا ہمارے باپ دادا کے ساتھ تھا اُسی طرح وہ ہمارے ساتھ بھی رہے۔ نہ وہ ہمیں چھوڑے، نہ ترک کرےLR 8”رب کی تمجید ہو جس نے اپنے وعدے کے عین مطابق اپنی قوم اسرائیل کو آرام و سکون فراہم کیا ہے۔ جتنے بھی خوب صورت وعدے اُس نے اپنے خادم موسیٰ کی معرفت کئے ہیں وہ سب کے سب پورے ہو گئے ہیں۔Q 7اب وہ اسرائیل کی پوری جماعت کے سامنے کھڑا ہوا اور بلند آواز سے اُسے برکت دی، P 6اِس دعا کے بعد سلیمان کھڑا ہوا، کیونکہ دعا کے دوران اُس نے رب کی قربان گاہ کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکے اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھائے ہوئے تھے۔ .K.W- =لیکن لازم ہے کہ آپ رب ہمارے خدا کے پورے دل سے وفادار رہیں۔ ہمیشہ اُس کی ہدایات اور احکام کے مطابق زندگی گزاریں، بالکل اُسی طرح جس طرح آپ آج کر رہے ہیں۔“V1 <تب تمام اقوام جان لیں گی کہ رب ہی خدا ہے اور کہ اُس کے سوا کوئی اَور معبود نہیں ہے۔|Us ;رب کے حضور میری یہ فریاد دن رات رب ہمارے خدا کے قریب رہے تاکہ وہ میرا اور اپنی قوم کا انصاف قائم رکھے اور ہماری روزانہ ضروریات پوری کرے۔T :بلکہ ہمارے دلوں کو اپنی طرف مائل کرے تاکہ ہم اُس کی تمام راہوں پر چلیں اور اُن تمام احکام اور ہدایات کے تابع رہیں جو اُس نے ہمارے باپ دادا کو دی ہیں۔ PPTY# ?پھر بادشاہ اور تمام اسرائیل نے رب کے حضور قربانیاں پیش کر کے رب کے گھر کو مخصوص کیا۔ اِس سلسلے میں سلیمان نے 22,000 گائےبَیلوں اور 1,20,000 بھیڑبکریوں کو سلامتی کی قربانیوں کے طور پر ذبح کیا۔TX# >پھر بادشاہ اور تمام اسرائیل نے رب کے حضور قربانیاں پیش کر کے رب کے گھر کو مخصوص کیا۔ اِس سلسلے میں سلیمان نے 22,000 گائےبَیلوں اور 1,20,000 بھیڑبکریوں کو سلامتی کی قربانیوں کے طور پر ذبح کیا۔ V[' Aعید 14 دن تک منائی گئی۔ پہلے ہفتے میں سلیمان اور تمام اسرائیل نے رب کے گھر کی مخصوصیت منائی اور دوسرے ہفتے میں جھونپڑیوں کی عید۔ بہت زیادہ لوگ شریک ہوئے۔ وہ دُوردراز علاقوں سے یروشلم آئے تھے، شمال میں لبو حمات سے لے کر جنوب میں اُس وادی تک جو مصر کی سرحد تھی۔Z @اُسی دن بادشاہ نے صحن کا درمیانی حصہ قربانیاں چڑھانے کے لئے مخصوص کیا۔ وجہ یہ تھی کہ پیتل کی قربان گاہ اِتنی قربانیاں پیش کرنے کے لئے چھوٹی تھی، کیونکہ بھسم ہونے والی قربانیوں اور غلہ کی نذروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اِس کے علاوہ سلامتی کی بےشمار قربانیوں کی چربی کو بھی جلانا تھا۔ 00^7 اُس وقت رب دوبارہ اُس پر ظاہر ہوا، اُس طرح جس طرح وہ جِبعون میں اُس پر ظاہر ہوا تھا۔A]  چنانچہ سلیمان نے رب کے گھر اور شاہی محل کو تکمیل تک پہنچایا۔ جو کچھ بھی اُس نے ٹھان لیا تھا وہ پورا ہوا۔e\E Bدو ہفتوں کے بعد سلیمان نے اسرائیلیوں کو رُخصت کیا۔ بادشاہ کو برکت دے کر وہ اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ سب شادمان اور دل سے خوش تھے کہ رب نے اپنے خادم داؤد اور اپنی قوم اسرائیل پر اِتنی مہربانی کی ہے۔ CTC ` جہاں تک تیرا تعلق ہے، اپنے باپ داؤد کی طرح دیانت داری اور راستی سے میرے حضور چلتا رہ۔ کیونکہ اگر تُو میرے تمام احکام اور ہدایات کی پیروی کرتا رہے(_K اُس نے سلیمان سے کہا، ”جو دعا اور التجا تُو نے میرے حضور کی اُسے مَیں نے سن کر اِس عمارت کو جو تُو نے بنائی ہے اپنے لئے مخصوص و مُقدّس کر لیا ہے۔ اُس میں مَیں اپنا نام ابد تک قائم رکھوں گا۔ میری آنکھیں اور دل ابد تک وہاں حاضر رہیں گے۔ %bE لیکن خبردار! اگر تُو یا تیری اولاد مجھ سے دُور ہو کر میرے دیئے گئے احکام اور ہدایات کے تابع نہ رہے بلکہ دیگر معبودوں کی طرف رجوع کر کے اُن کی خدمت اور پرستش کرے?ay تو مَیں تیری اسرائیل پر حکومت ہمیشہ تک قائم رکھوں گا۔ پھر میرا وہ وعدہ قائم رہے گا جو مَیں نے تیرے باپ داؤد سے کیا تھا کہ اسرائیل پر تیری اولاد کی حکومت ہمیشہ تک قائم رہے گی۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%/:EP[fq|  .#H  /#I  0#J  1#K  2#L  3#M  4#N  5#O  6#P  .#H  /#I  0#J  1#K  2#L  3#M  4#N  5#O  6#P  7#Q  8#R  9#S  :#T  ;#U  <#V  =#W  >#X  ?#Y  @#Z  A#[  B#\   #]  #^  #_  #`  #a  #b  #c  #d  #e  #f  #g  #h  #i  #j  #k  #l  #m  #n  #o  #p  #q  #r  #s  #t  #u  #v  #w  #x   #y  #z  #{  #|  #}  #~  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  # FZd/ اِس شاندار گھر کی بُری حالت دیکھ کر یہاں سے گزرنے والے تمام لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے، اور وہ اپنی حقارت کا اظہار کر کے پوچھیں گے، ’رب نے اِس ملک اور اِس گھر سے ایسا سلوک کیوں کیا؟‘6cg تو مَیں اسرائیل کو اُس ملک میں سے مٹا دوں گا جو مَیں نے اُن کو دے دیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ مَیں اِس گھر کو بھی رد کر دوں گا جو مَیں نے اپنے نام کے لئے مخصوص و مُقدّس کر لیا ہے۔ اُس وقت اسرائیل تمام اقوام میں مذاق اور لعن طعن کا نشانہ بن جائے گا۔ :2:|gs اُس دوران صور کا بادشاہ حیرام سلیمان کو دیودار اور جونیپر کی اُتنی لکڑی اور اُتنا سونا بھیجتا رہا جتنا سلیمان چاہتا تھا۔ جب عمارتیں تکمیل تک پہنچ گئیں تو سلیمان نے حیرام کو معاوضے میں گلیل کے 20 شہر دے دیئے۔ufe رب کے گھر اور شاہی محل کو تعمیر کرنے میں 20 سال صَرف ہوئے تھے۔Je تب لوگ جواب دیں گے، ’اِس لئے کہ گو رب اُن کا خدا اُن کے باپ دادا کو مصر سے نکال کر یہاں لایا توبھی یہ لوگ اُسے ترک کر کے دیگر معبودوں سے چمٹ گئے ہیں۔ چونکہ وہ اُن کی پرستش اور خدمت کرنے سے باز نہ آئے اِس لئے رب نے اُنہیں اِس ساری مصیبت میں ڈال دیا ہے‘۔“ FgHFbk? سلیمان نے اپنے تعمیری کام کے لئے بیگاری لگائے۔ ایسے ہی لوگوں کی مدد سے اُس نے نہ صرف رب کا گھر، اپنا محل، ارد گرد کے چبوترے اور یروشلم کی فصیل بنوائی بلکہ تینوں شہر حصور، مجِدّو اور جزر کو بھی۔j+ بات یہ تھی کہ حیرام نے اسرائیل کے بادشاہ کو تقریباً 4,000 کلو گرام سونا بھیجا تھا۔i1 اُس نے سوال کیا، ”میرے بھائی، یہ کیسے شہر ہیں جو آپ نے مجھے دیئے ہیں؟“ اور اُس نے اُس علاقے کا نام کابول یعنی ’کچھ بھی نہیں‘ رکھا۔ یہ نام آج تک رائج ہے۔h% لیکن جب حیرام اُن کا معائنہ کرنے کے لئے صور سے گلیل آیا تو وہ اُسے پسند نہ آئے۔ ZjZtnc بعلات اور ریگستان کے شہر تدمور میں بہت سا تعمیری کام کرایا۔m% اب سلیمان نے جزر کا شہر دوبارہ تعمیر کیا۔ اِس کے علاوہ اُس نے نشیبی بیت حورون،l جزر شہر پر مصر کے بادشاہ فرعون نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا۔ اُس کے کنعانی باشندوں کو قتل کر کے اُس نے پورے شہر کو جلا دیا تھا۔ جب سلیمان کی فرعون کی بیٹی سے شادی ہوئی تو مصری بادشاہ نے جہیزکے طور پر اُسے یہ علاقہ دے دیا۔ 'pI جن آدمیوں کی سلیمان نے بیگار پر بھرتی کی وہ اسرائیلی نہیں تھے بلکہ اموری، حِتّی، فرِزّی، حِوّی اور یبوسی یعنی کنعان کے پہلے باشندوں کی وہ اولاد تھے جو باقی رہ گئے تھے۔ ملک پر قبضہ کرتے وقت اسرائیلی اِن قوموں کو پورے طور پر مٹا نہ سکے، اور آج تک اِن کی اولاد کو اسرائیل کے لئے بےگار میں کام کرنا پڑتا ہے۔Lo سلیمان نے اپنے گوداموں کے لئے اور اپنے رتھوں اور گھوڑوں کو رکھنے کے لئے بھی شہر بنوائے۔ جو کچھ بھی وہ یروشلم، لبنان یا اپنی سلطنت کی کسی اَور جگہ بنوانا چاہتا تھا وہ اُس نے بنوایا۔ hhirM لیکن سلیمان نے اسرائیلیوں میں سے کسی کو بھی ایسے کام کرنے پر مجبور نہ کیا بلکہ وہ اُس کے فوجی، سرکاری افسر، فوج کے افسر اور رتھوں کے فوجی بن گئے، اور اُنہیں اُس کے رتھوں اور گھوڑوں پر مقرر کیا گیا۔'qI جن آدمیوں کی سلیمان نے بیگار پر بھرتی کی وہ اسرائیلی نہیں تھے بلکہ اموری، حِتّی، فرِزّی، حِوّی اور یبوسی یعنی کنعان کے پہلے باشندوں کی وہ اولاد تھے جو باقی رہ گئے تھے۔ ملک پر قبضہ کرتے وقت اسرائیلی اِن قوموں کو پورے طور پر مٹا نہ سکے، اور آج تک اِن کی اولاد کو اسرائیل کے لئے بےگار میں کام کرنا پڑتا ہے۔ ,,0u[ سلیمان سال میں تین بار رب کو بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں پیش کرتا تھا۔ وہ اُنہیں رب کے گھر کی اُس قربان گاہ پر چڑھاتا تھا جو اُس نے رب کے لئے بنوائی تھی۔ ساتھ ساتھ وہ بخور بھی جلاتا تھا۔ یوں اُس نے رب کے گھر کو تکمیل تک پہنچایا۔t9 جب فرعون کی بیٹی یروشلم کے پرانے حصے بنام ’داؤد کا شہر‘ سے اُس محل میں منتقل ہوئی جو سلیمان نے اُس کے لئے تعمیر کیا تھا تو وہ ارد گرد کے چبوترے بنوانے لگا۔ysm سلیمان کے تعمیری کام پر بھی 550 اسرائیلی مقرر تھے جو ضلعوں پر مقرر افسروں کے تابع تھے۔ یہ لوگ تعمیری کام کرنے والوں کی نگرانی کرتے تھے۔ gg%xE اُنہوں نے اوفیر تک سفر کیا اور وہاں سے تقریباً 14,000 کلو گرام سونا سلیمان کے پاس لے آئے۔ :wo حیرام بادشاہ نے اُسے تجربہ کار ملاح بھیجے تاکہ وہ سلیمان کے آدمیوں کے ساتھ مل کر جہازوں کو چلائیں۔.vW اِس کے علاوہ سلیمان بادشاہ نے بحری جہازوں کا بیڑا بھی بنوایا۔ اِس کام کا مرکز ایلات کے قریب شہر عِصیون جابر تھا۔ یہ بندرگاہ ملکِ ادوم میں بحرِ قُلزم کے ساحل پر ہے۔ 'q'V{' سلیمان اُس کے ہر سوال کا جواب دے سکا۔ کوئی بھی بات اِتنی پیچیدہ نہیں تھی کہ بادشاہ اُس کا مطلب ملکہ کو بتا نہ سکتا۔lzS وہ نہایت بڑے قافلے کے ساتھ یروشلم پہنچی جس کے اونٹ بلسان، کثرت کے سونے اور قیمتی جواہر سے لدے ہوئے تھے۔ ملکہ کی سلیمان سے ملاقات ہوئی تو اُس نے اُس سے وہ تمام مشکل سوالات پوچھے جو اُس کے ذہن میں تھے۔ y  سلیمان کی شہرت سبا کی ملکہ تک پہنچ گئی۔ جب اُس نے اُس کے بارے میں سنا اور یہ بھی کہ اُس نے رب کے نام کے لئے کیا کچھ کیا ہے تو وہ سلیمان سے ملنے کے لئے روانہ ہوئی تاکہ اُسے مشکل پہیلیاں پیش کر کے اُس کی دانش مندی جانچ لے۔ xUE~ وہ بول اُٹھی، ”واقعی، جو کچھ مَیں نے اپنے ملک میں آپ کے شاہکاروں اور حکمت کے بارے میں سنا تھا وہ درست ہے۔}9 اُس نے بادشاہ کی میزوں پر کے مختلف کھانے دیکھے اور یہ کہ اُس کے افسر کس ترتیب سے اُس پر بٹھائے جاتے تھے۔ اُس نے بیروں کی خدمت، اُن کی شاندار وردیوں اور ساقیوں پر بھی غور کیا۔ جب اُس نے اِن باتوں کے علاوہ بھسم ہونے والی وہ قربانیاں بھی دیکھیں جو سلیمان رب کے گھر میں چڑھاتا تھا تو ملکہ ہکا بکا رہ گئی۔| سبا کی ملکہ سلیمان کی وسیع حکمت اور اُس کے نئے محل سے بہت متاثر ہوئی۔ >v>W) رب آپ کے خدا کی تمجید ہو جس نے آپ کو پسند کر کے اسرائیل کے تخت پر بٹھایا ہے۔ رب اسرائیل سے ابدی محبت رکھتا ہے، اِسی لئے اُس نے آپ کو بادشاہ بنا دیا ہے تاکہ انصاف اور راست بازی قائم رکھیں۔“Y- آپ کے لوگ کتنے مبارک ہیں! آپ کے افسر کتنے مبارک ہیں جو مسلسل آپ کے سامنے کھڑے رہتے اور آپ کی دانش بھری باتیں سنتے ہیں! جب تک مَیں نے خود آ کر یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا مجھے یقین نہیں آتا تھا۔ بلکہ حقیقت میں مجھے آپ کے بارے میں آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا۔ آپ کی حکمت اور دولت اُن رپورٹوں سے کہیں زیادہ ہے جو مجھ تک پہنچی تھیں۔ ll{ جتنی قیمتی لکڑی اُن دنوں میں درآمد ہوئی اُتنی آج تک کبھی یہوداہ میں نہیں لائی گئی۔ اِس لکڑی سے بادشاہ نے رب کے گھر اور اپنے محل کے لئے کٹہرے بنوائے۔ یہ موسیقاروں کے سرود اور ستار بنانے کے لئے بھی استعمال ہوئی۔U% حیرام کے جہاز اوفیر سے نہ صرف سونا لائے بلکہ اُنہوں نے قیمتی لکڑی اور جواہر بھی بڑی مقدار میں اسرائیل تک پہنچائے۔3a پھر ملکہ نے سلیمان کو تقریباً 4,000 کلو گرام سونا، بہت زیادہ بلسان اور جواہر دیئے۔ بعد میں کبھی بھی اُتنا بلسان اسرائیل میں نہیں لایا گیا جتنا اُس وقت سبا کی ملکہ لائی۔ NN@{ اِس میں وہ ٹیکس شامل نہیں تھے جو اُسے سوداگروں، تاجروں، عرب بادشاہوں اور ضلعوں کے افسروں سے ملتے تھے۔ جو سونا سلیمان کو سالانہ ملتا تھا اُس کا وزن تقریباً 23,000 کلو گرام تھا۔_9 سلیمان بادشاہ نے اپنی طرف سے سبا کی ملکہ کو بہت سے تحفے دیئے۔ نیز، جو کچھ بھی ملکہ چاہتی تھی یا اُس نے مانگا وہ اُسے دیا گیا۔ پھر وہ اپنے نوکر چاکروں اور افسروں کے ہمراہ اپنے وطن واپس چلی گئی۔ G5 e سلیمان بادشاہ نے 200 بڑی اور 300 چھوٹی ڈھالیں بنوائیں۔ اُن پر سونا منڈھا گیا۔ ہر بڑی ڈھال کے لئے تقریباً 7 کلو گرام سونا استعمال ہوا اور ہر چھوٹی ڈھال کے لئے تقریباً ساڑھے 3 کلو گرام۔ سلیمان نے اُنہیں ’لبنان کا جنگل‘ نامی محل میں محفوظ رکھا۔5e سلیمان بادشاہ نے 200 بڑی اور 300 چھوٹی ڈھالیں بنوائیں۔ اُن پر سونا منڈھا گیا۔ ہر بڑی ڈھال کے لئے تقریباً 7 کلو گرام سونا استعمال ہوا اور ہر چھوٹی ڈھال کے لئے تقریباً ساڑھے 3 کلو گرام۔ سلیمان نے اُنہیں ’لبنان کا جنگل‘ نامی محل میں محفوظ رکھا۔ kQkb ? تخت کی پشت کا اوپر کا حصہ گول تھا، اور اُس کے ہر بازو کے ساتھ شیرببر کا مجسمہ تھا۔ تخت کچھ اونچا تھا، اور بادشاہ چھ پائے والی سیڑھی پر چڑھ کر اُس پر بیٹھتا تھا۔ دائیں اور بائیں طرف ہر پائے پر شیرببر کا مجسمہ تھا۔ اِس قسم کا تخت کسی اَور سلطنت میں نہیں پایا جاتا تھا۔+ Q اِن کے علاوہ بادشاہ نے ہاتھی دانت سے آراستہ ایک بڑا تخت بنوایا جس پر خالص سونا چڑھایا گیا۔ R  سلیمان کے تمام پیالے سونے کے تھے، بلکہ ’لبنان کا جنگل‘ نامی محل میں تمام برتن خالص سونے کے تھے۔ کوئی بھی چیز چاندی کی نہیں تھی، کیونکہ سلیمان کے زمانے میں چاندی کی کوئی قدر نہیں تھی۔b ? تخت کی پشت کا اوپر کا حصہ گول تھا، اور اُس کے ہر بازو کے ساتھ شیرببر کا مجسمہ تھا۔ تخت کچھ اونچا تھا، اور بادشاہ چھ پائے والی سیڑھی پر چڑھ کر اُس پر بیٹھتا تھا۔ دائیں اور بائیں طرف ہر پائے پر شیرببر کا مجسمہ تھا۔ اِس قسم کا تخت کسی اَور سلطنت میں نہیں پایا جاتا تھا۔ s<s! سال بہ سال جو بھی سلیمان کے دربار میں آتا وہ کوئی نہ کوئی تحفہ لاتا۔ یوں اُسے سونے چاندی کے برتن، قیمتی لباس، ہتھیار، بلسان، گھوڑے اور خچر ملتے رہے۔.W پوری دنیا اُس سے ملنے کی کوشش کرتی رہی تاکہ وہ حکمت سن لے جو اللہ نے اُس کے دل میں ڈال دی تھی۔}u سلیمان کی دولت اور حکمت دنیا کے تمام بادشاہوں سے کہیں زیادہ تھی۔@{ بادشاہ کے اپنے بحری جہاز تھے جو حیرام کے جہازوں کے ساتھ مل کر مختلف جگہوں پر جاتے تھے۔ ہر تین سال کے بعد وہ سونے چاندی، ہاتھی دانت، بندروں اور موروں سے لدے ہوئے واپس آتے تھے۔ #!#T# بادشاہ اپنے گھوڑے مصر اور قوے یعنی کلِکیہ سے درآمد کرتا تھا۔ اُس کے تاجر اِن جگہوں پر جا کر اُنہیں خرید لاتے تھے۔"? بادشاہ کی سرگرمیوں کے باعث چاندی پتھر جیسی عام ہو گئی اور دیودار کی قیمتی لکڑی یہوداہ کے مغرب کے نشیبی پہاڑی علاقے کی انجیرتوت کی سستی لکڑی جیسی عام ہو گئی۔[1 سلیمان کے 1,400 رتھ اور 12,000 گھوڑے تھے۔ کچھ اُس نے رتھوں کے لئے مخصوص کئے گئے شہروں میں اور کچھ یروشلم میں اپنے پاس رکھے۔  لیکن سلیمان بہت سی غیرملکی خواتین سے محبت کرتا تھا۔ فرعون کی بیٹی کے علاوہ اُس کی شادی موآبی، عمونی، ادومی، صیدانی اور حِتّی عورتوں سے ہوئی۔oY بادشاہ کے رتھ مصر سے درآمد ہوتے تھے۔ ہر رتھ کی قیمت چاندی کے 600 سکے اور ہر گھوڑے کی قیمت چاندی کے 150 سکے تھی۔ سلیمان کے تاجر یہ گھوڑے برآمد کرتے ہوئے تمام حِتّی اور اَرامی بادشاہوں تک بھی پہنچاتے تھے۔ pa}p  جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اُنہوں نے اُس کا دل دیگر معبودوں کی طرف مائل کر دیا۔ یوں وہ بُڑھاپے میں اپنے باپ داؤد کی طرح پورے دل سے رب کا وفادار نہ رہا`; اُس کی شاہی خاندانوں سے تعلق رکھنے والی 700 بیویاں اور 300 داشتائیں تھیں۔ اِن عورتوں نے آخرکار اُس کا دل رب سے دُور کر دیا۔1 اِن قوموں کے بارے میں رب نے اسرائیلیوں کو حکم دیا تھا، ”نہ تم اِن کے گھروں میں جاؤ اور نہ یہ تمہارے گھروں میں آئیں، ورنہ یہ تمہارے دل اپنے دیوتاؤں کی طرف مائل کر دیں گے۔“ توبھی سلیمان بڑے پیار سے اپنی اِن بیویوں سے لپٹا رہا۔ la= ایسے مندر اُس نے اپنی تمام غیرملکی بیویوں کے لئے تعمیر کئے تاکہ وہ اپنے دیوتاؤں کو بخور اور ذبح کی قربانیاں پیش کر سکیں۔ یروشلم کے مشرق میں سلیمان نے ایک پہاڑی پر دو مندر بنائے، ایک موآب کے گھنونے دیوتا کموس کے لئے اور ایک عمون کے گھنونے دیوتا مَلِک یعنی ملکوم کے لئے۔C غرض اُس نے ایسا کام کیا جو رب کو ناپسند تھا۔ وہ وفاداری نہ رہی جس سے اُس کے باپ داؤد نے رب کی خدمت کی تھی۔ بلکہ صیدانیوں کی دیوی عستارات اور عمونیوں کے دیوتا ملکوم کی پوجا کرنے لگا۔ ,vDA!} لیکن تیرے باپ داؤد کی خاطر مَیں یہ تیرے جیتے جی نہیں کروں گا بلکہ بادشاہی کو تیرے بیٹے ہی سے چھینوں گا۔. W اِس لئے رب نے اُس سے کہا، ”چونکہ تُو میرے عہد اور احکام کے مطابق زندگی نہیں گزارتا، اِس لئے مَیں بادشاہی کو تجھ سے چھین کر تیرے کسی افسر کو دوں گا۔ یہ بات یقینی ہے۔2_ گو اُس نے اُسے دیگر معبودوں کی پوجا کرنے سے صاف منع کیا تھا توبھی سلیمان نے اُس کا حکم نہ مانا۔P رب کو سلیمان پر بڑا غصہ آیا، کیونکہ وہ اسرائیل کے خدا سے دُور ہو گیا تھا، حالانکہ رب اُس پر دو بار ظاہر ہوا تھا۔ C%' وہ چھ ماہ تک اپنے فوجیوں کے ساتھ ہر جگہ پھرا اور تمام ادومی مردوں کو مارتا گیا۔$ وہ یوں سلیمان کا دشمن بن گیا کہ چند سال پہلے جب داؤد نے ادوم کو شکست دی تو اُس کا فوجی کمانڈر یوآب میدانِ جنگ میں پڑی تمام اسرائیلی لاشوں کو دفنانے کے لئے ادوم آیا۔ جہاں بھی گیا وہاں اُس نے ہر ادومی مرد کو مار ڈالا۔5#e پھر رب نے ادوم کے شاہی خاندان میں سے ایک آدمی بنام ہدد کو برپا کیا جو سلیمان کا سخت مخالف بن گیا۔"{ اور مَیں پوری مملکت اُس کے ہاتھ سے نہیں لوں گا بلکہ اپنے خادم داؤد اور اپنے چنے ہوئے شہر یروشلم کی خاطر اُس کے لئے ایک قبیلہ چھوڑ دوں گا۔“ &I&j)O اِس بہن کے بیٹا پیدا ہوا جس کا نام جنوبت رکھا گیا۔ تحفنیس نے اُسے شاہی محل میں پالا جہاں وہ فرعون کے بیٹوں کے ساتھ پروان چڑھا۔/(Y ہدد فرعون کو اِتنا پسند آیا کہ اُس نے اُس کی شادی اپنی بیوی ملکہ تحفنیس کی بہن کے ساتھ کرائی۔~'w راستے میں اُنہیں دشتِ فاران کے ملکِ مِدیان سے گزرنا پڑا۔ وہاں وہ مزید کچھ آدمیوں کو جمع کر سکے اور سفر کرتے کرتے مصر پہنچ گئے۔ ہدد مصر کے بادشاہ فرعون کے پاس گیا تو اُس نے اُسے گھر، کچھ زمین اور خوراک مہیا کی۔3&a ہدد اُس وقت بچ گیا اور اپنے باپ کے چند ایک سرکاری افسروں کے ساتھ فرار ہو کر مصر میں پناہ لے سکا۔ E  !,7BMXcmx(3>IT_ju%0;EP[fq|  #  #  #  #  #  #  #  #   #  #  #  #  #  #  #  #  #   #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  !#  "#  ##  $#  %#  &#  '#  (#  )#  *#  +#   #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  # UUM, اللہ نے ایک اَور آدمی کو بھی سلیمان کے خلاف برپا کیا۔ اُس کا نام رِزون بن اِلیَدع تھا۔ پہلے وہ ضوباہ کے بادشاہ ہدد عزر کی خدمت انجام دیتا تھا، لیکن ایک دن اُس نے اپنے مالک سے بھاگ کر(+K فرعون نے اعتراض کیا، ”یہاں کیا کمی ہے کہ تم اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہو؟“ ہدد نے جواب دیا، ”مَیں کسی بھی چیز سے محروم نہیں رہا، لیکن پھر بھی مجھے جانے دیجئے۔“**O ایک دن ہدد کو خبر ملی کہ داؤد اور اُس کا کمانڈر یوآب فوت ہو گئے ہیں۔ تب اُس نے فرعون سے اجازت مانگی، ”مَیں اپنے ملک لوٹ جانا چاہتا ہوں، براہِ کرم مجھے جانے دیں۔“ jj/) سلیمان کا ایک سرکاری افسر بھی اُس کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس کا نام یرُبعام بن نباط تھا، اور وہ افرائیم کے شہر صریدہ کا تھا۔ اُس کی ماں صروعہ بیوہ تھی۔..W ہوتے ہوتے وہ پورے شام کا حکمران بن گیا۔ وہ اسرائیلیوں سے نفرت کرتا تھا اور سلیمان کے جیتے جی اسرائیل کا خاص دشمن بنا رہا۔ ہدد کی طرح وہ بھی اسرائیل کو تنگ کرتا رہا۔E- کچھ آدمیوں کو اپنے گرد جمع کیا اور ڈاکوؤں کے جتھے کا سرغنہ بن گیا۔ جب داؤد نے ضوباہ کو شکست دے دی تو رِزون اپنے آدمیوں کے ساتھ دمشق گیا اور وہاں آباد ہو کر اپنی حکومت قائم کر لی۔ B8f3G اخیاہ نے اپنی چادر کو پکڑ کر بارہ ٹکڑوں میں پھاڑ لیا2/ ایک دن یرُبعام شہر سے نکل رہا تھا تو اُس کی ملاقات سَیلا کے نبی اخیاہ سے ہوئی۔ اخیاہ نئی چادر اوڑھے پھر رہا تھا۔ کھلے میدان میں جہاں کوئی اَور نظر نہ آیا1 اُس نے دیکھا کہ یرُبعام ماہر اور محنتی جوان ہے، اِس لئے اُس نے اُسے افرائیم اور منسّی کے قبیلوں کے تمام بےگار میں کام کرنے والوں پر مقرر کیا۔:0o جب یرُبعام باغی ہوا تو اُن دنوں میں سلیمان ارد گرد کے چبوترے اور فصیل کا آخری حصہ تعمیر کر رہا تھا۔ xc5A ایک ہی قبیلہ اُس کے پاس رہے گا، اور یہ بھی صرف اُس کے باپ داؤد اور اُس شہر کی خاطر جسے مَیں نے تمام قبیلوں میں سے چن لیا ہے۔4 اور یرُبعام سے کہا، ”چادر کے دس ٹکڑے اپنے پاس رکھیں! کیونکہ رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’اِس وقت مَیں اسرائیل کی بادشاہی کو سلیمان سے چھیننے والا ہوں۔ جب ایسا ہو گا تو مَیں اُس کے دس قبیلے تیرے حوالے کر دوں گا۔ ~7w "لیکن مَیں اِس وقت پوری بادشاہی سلیمان کے ہاتھ سے نہیں چھینوں گا۔ اپنے خادم داؤد کی خاطر جسے مَیں نے چن لیا اور جو میرے احکام اور ہدایات کے تابع رہا مَیں سلیمان کے جیتے جی یہ نہیں کروں گا۔ وہ خود بادشاہ رہے گا،^67 !اِس طرح مَیں سلیمان کو سزا دوں گا، کیونکہ وہ اور اُس کے لوگ مجھے ترک کر کے صیدانیوں کی دیوی عستارات کی، موآبیوں کے دیوتا کموس کی اور عمونیوں کے دیوتا ملکوم کی پوجا کرنے لگے ہیں۔ وہ میری راہوں پر نہیں چلتے بلکہ وہی کچھ کرتے ہیں جو مجھے بالکل ناپسند ہے۔ جس طرح داؤد میرے احکام اور ہدایات کی پیروی کرتا تھا اُس طرح اُس کا بیٹا نہیں کرتا۔ lt>lN: %لیکن تجھے، اے یرُبعام، مَیں اسرائیل پر بادشاہ بنا دوں گا۔ جو کچھ بھی تیرا جی چاہتا ہے اُس پر تُو حکومت کرے گا۔29_ $صرف ایک قبیلہ سلیمان کے بیٹے کے سپرد رہے گا تاکہ میرے خادم داؤد کا چراغ ہمیشہ میرے حضور یروشلم میں جلتا رہے، اُس شہر میں جو مَیں نے اپنے نام کی سکونت کے لئے چن لیا ہے۔8 #لیکن اُس کے بیٹے سے مَیں بادشاہی چھین کر دس قبیلے تیرے حوالے کر دوں گا۔ &0&= (اِس کے بعد سلیمان نے یرُبعام کو مروانے کی کوشش کی، لیکن یرُبعام نے فرار ہو کر مصر کے بادشاہ سیسق کے پاس پناہ لی۔ وہاں وہ سلیمان کی موت تک رہا۔,<S 'یوں مَیں سلیمان کے گناہ کے باعث داؤد کی اولاد کو سزا دوں گا، اگرچہ یہ ابدی سزا نہیں ہو گی۔“;3 &اُس وقت اگر تُو میرے خادم داؤد کی طرح میری ہر بات مانے گا، میری راہوں پر چلے گا اور میرے احکام اور ہدایات کے تابع رہ کر وہ کچھ کرے گا جو مجھے پسند ہے تو پھر مَیں تیرے ساتھ رہوں گا۔ پھر مَیں تیرا شاہی خاندان اُتنا ہی قائم و دائم کر دوں گا جتنا مَیں نے داؤد کا کیا ہے، اور اسرائیل تیرے ہی حوالے رہے گا۔ 6H6CB یرُبعام بن نباط یہ خبر سنتے ہی مصر سے جہاں اُس نے سلیمان بادشاہ سے بھاگ کر پناہ لی تھی اسرائیل واپس آیا۔&A I رحبعام سِکم گیا، کیونکہ وہاں تمام اسرائیلی اُسے بادشاہ مقرر کرنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔@ +جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں دفن کیا گیا جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ پھر اُس کا بیٹا رحبعام تخت نشین ہوا۔ ? *سلیمان 40 سال پورے اسرائیل پر حکومت کرتا رہا۔ اُس کا دار الحکومت یروشلم تھا۔4>c )سلیمان کی زندگی اور حکمت کے بارے میں مزید باتیں ’سلیمان کے اعمال‘ کی کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔ h1E] رحبعام نے جواب دیا، ”مجھے تین دن کی مہلت دیں، پھر دوبارہ میرے پاس آئیں۔“ چنانچہ لوگ چلے گئے۔oDY ”جو جوا آپ کے باپ نے ہم پر ڈال دیا تھا اُسے اُٹھانا مشکل تھا، اور جو وقت اور پیسے ہمیں بادشاہ کی خدمت میں صَرف کرنے تھے وہ ناقابلِ برداشت تھے۔ اب دونوں کو کم کر دیں۔ پھر ہم خوشی سے آپ کی خدمت کریں گے۔“!C= اسرائیلیوں نے اُسے بُلایا تاکہ اُس کے ساتھ سِکم جائیں۔ جب پہنچا تو اسرائیل کی پوری جماعت یرُبعام کے ساتھ مل کر رحبعام سے ملنے گئی۔ اُنہوں نے بادشاہ سے کہا، VH' لیکن رحبعام نے بزرگوں کا مشورہ رد کر کے اُس کی خدمت میں حاضر اُن جوانوں سے مشورہ کیا جو اُس کے ساتھ پروان چڑھے تھے۔4Gc بزرگوں نے جواب دیا، ”ہمارا مشورہ ہے کہ اِس وقت اُن کا خادم بن کر اُن کی خدمت کریں اور اُنہیں نرم جواب دیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو وہ ہمیشہ آپ کے وفادار خادم بنے رہیں گے۔“+FQ پھر رحبعام بادشاہ نے اُن بزرگوں سے مشورہ کیا جو سلیمان کے جیتے جی بادشاہ کی خدمت کرتے رہے تھے۔ اُس نے پوچھا، ”آپ کا کیا خیال ہے؟ مَیں اِن لوگوں کو کیا جواب دوں؟“ 5Ke بےشک جو جوا اُس نے آپ پر ڈال دیا اُسے اُٹھانا مشکل تھا، لیکن میرا جوا اَور بھی بھاری ہو گا۔ جہاں میرے باپ نے آپ کو کوڑے لگائے وہاں مَیں آپ کی بچھوؤں سے تادیب کروں گا‘!“TJ# جو جوان اُس کے ساتھ پروان چڑھے تھے اُنہوں نے کہا، ”اچھا، یہ لوگ تقاضا کر رہے ہیں کہ آپ کے باپ کا جوا ہلکا کیا جائے؟ اُنہیں بتا دینا، ’میری چھوٹی اُنگلی میرے باپ کی کمر سے زیادہ موٹی ہے!dIC اُس نے پوچھا، ”مَیں اِس قوم کو کیا جواب دوں؟ یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ مَیں وہ جوا ہلکا کر دوں جو میرے باپ نے اُن پر ڈال دیا۔“ HZgHO1 یوں رب کی مرضی پوری ہوئی کہ رحبعام لوگوں کی بات نہیں مانے گا۔ کیونکہ اب رب کی وہ پیش گوئی پوری ہوئی جو سَیلا کے نبی اخیاہ نے یرُبعام بن نباط کو بتائی تھی۔{Nq اُس نے اُنہیں جوانوں کا جواب دیا، ”بےشک جو جوا میرے باپ نے آپ پر ڈال دیا اُسے اُٹھانا مشکل تھا، لیکن میرا جوا اَور بھی بھاری ہو گا۔ جہاں میرے باپ نے آپ کو کوڑے لگائے وہاں مَیں آپ کی بچھوؤں سے تادیب کروں گا!“qM] تو بادشاہ نے اُنہیں سخت جواب دیا۔ بزرگوں کا مشورہ رد کر کے"L? تین دن کے بعد جب یرُبعام تمام اسرائیلیوں کے ساتھ رحبعام کا فیصلہ سننے کے لئے واپس آیا  Q صرف یہوداہ کے قبیلے کے شہروں میں رہنے والے اسرائیلی رحبعام کے تحت رہے۔pP[ جب اسرائیلیوں نے دیکھا کہ بادشاہ ہماری بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے تو اُنہوں نے اُس سے کہا، ”نہ ہمیں داؤد سے میراث میں کچھ ملے گا، نہ یسّی کے بیٹے سے کچھ ملنے کی اُمید ہے۔ اے اسرائیل، سب اپنے اپنے گھر واپس چلیں! اے داؤد، اب اپنا گھر خود سنبھال لو!“ یہ کہہ کر وہ سب چلے گئے۔ WWwTi جب خبر شمالی اسرائیل میں پھیلی کہ یرُبعام مصر سے واپس آ گیا ہے تو لوگوں نے قومی اجلاس منعقد کر کے اُسے بُلایا اور وہاں اُسے اپنا بادشاہ بنا لیا۔ صرف یہوداہ کا قبیلہ رحبعام اور اُس کے گھرانے کا وفادار رہا۔3Sa یوں اسرائیل کے شمالی قبیلے داؤد کے شاہی گھرانے سے الگ ہو گئے اور آج تک اُس کی حکومت نہیں مانتے۔sRa پھر رحبعام بادشاہ نے بےگاریوں پر مقرر افسر ادونیرام کو شمالی قبیلوں کے پاس بھیج دیا، لیکن اُسے دیکھ کر تمام لوگوں نے اُسے سنگسار کیا۔ تب رحبعام جلدی سے اپنے رتھ پر سوار ہوا اور بھاگ کر یروشلم پہنچ گیا۔ ]]8Wk ”یہوداہ کے بادشاہ رحبعام بن سلیمان، یہوداہ اور بن یمین کے تمام افراد اور باقی لوگوں کو اطلاع دے،vVg لیکن عین اُس وقت مردِ خدا سمعیاہ کو اللہ کی طرف سے پیغام ملا،jUO جب رحبعام یروشلم پہنچا تو اُس نے یہوداہ اور بن یمین کے قبیلوں کے چیدہ چیدہ فوجیوں کو اسرائیل سے جنگ کرنے کے لئے بُلایا۔ 1,80,000 مرد جمع ہوئے تاکہ رحبعام بن سلیمان کے لئے اسرائیل پر دوبارہ قابو پائیں۔ Z7 لیکن دل میں اندیشہ رہا کہ کہیں اسرائیل دوبارہ داؤد کے گھرانے کے ہاتھ میں نہ آ جائے۔Y{ یرُبعام افرائیم کے پہاڑی علاقے کے شہر سِکم کو مضبوط کر کے وہاں آباد ہوا۔ بعد میں اُس نے فنوایل شہر کی بھی قلعہ بندی کی اور وہاں منتقل ہوا۔OX ’رب فرماتا ہے کہ اپنے اسرائیلی بھائیوں سے جنگ مت کرنا۔ ہر ایک اپنے اپنے گھر واپس چلا جائے، کیونکہ جو کچھ ہوا ہے وہ میرے حکم پر ہوا ہے‘۔“ تب وہ رب کی سن کر اپنے اپنے گھر واپس چلے گئے۔ && ] ایک بُت اُس نے جنوبی شہر بیت ایل میں کھڑا کیا اور دوسرا شمالی شہر دان میں۔]\5 اپنے افسروں کے مشورے پر اُس نے سونے کے دو بچھڑے بنوائے۔ لوگوں کے سامنے اُس نے اعلان کیا، ”ہر قربانی کے لئے یروشلم جانا مشکل ہے! اے اسرائیل دیکھ، یہ تیرے دیوتا ہیں جو تجھے مصر سے نکال لائے۔“d[C اُس نے سوچا، ”لوگ باقاعدگی سے یروشلم آتے جاتے ہیں تاکہ وہاں رب کے گھر میں اپنی قربانیاں پیش کریں۔ اگر یہ سلسلہ توڑا نہ جائے تو آہستہ آہستہ اُن کے دل دوبارہ یہوداہ کے بادشاہ رحبعام کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ آخرکار وہ مجھے قتل کر کے رحبعام کو اپنا بادشاہ بنا لیں گے۔“ /_# اِس کے علاوہ یرُبعام نے بہت سی اونچی جگہوں پر مندر بنوائے۔ اُنہیں سنبھالنے کے لئے اُس نے ایسے لوگ مقرر کئے جو لاوی کے قبیلے کے نہیں بلکہ عام لوگ تھے۔M^ یوں یرُبعام نے اسرائیلیوں کو گناہ کرنے پر اُکسایا۔ لوگ دان تک سفر کیا کرتے تھے تاکہ وہاں کے بُت کی پوجا کریں۔ ttGa !چنانچہ یرُبعام کے مقرر کردہ دن یعنی آٹھویں مہینے کے پندرھویں دن اسرائیلیوں نے بیت ایل میں عید منائی۔ تمام مہمانوں کے سامنے یرُبعام قربان گاہ پر چڑھ گیا تاکہ قربانیاں پیش کرے۔ =`u اُس نے ایک نئی عید بھی رائج کی جو یہوداہ میں منانے والی جھونپڑیوں کی عید کی مانند تھی۔ یہ عید آٹھویں ماہ کے پندرھویں دن منائی جاتی تھی۔ بیت ایل میں اُس نے خود قربان گاہ پر جا کر اپنے بنوائے ہوئے بچھڑوں کو قربانیاں پیش کیں، اور وہیں اُس نے اپنے اُن مندروں کے اماموں کو مقرر کیا جو اُس نے اونچی جگہوں پر تعمیر کئے تھے۔ )cM بلند آواز سے وہ قربان گاہ سے مخاطب ہوا، ”اے قربان گاہ! اے قربان گاہ! رب فرماتا ہے، ’داؤد کے گھرانے سے بیٹا پیدا ہو گا جس کا نام یوسیاہ ہو گا۔ تجھ پر وہ اُن اماموں کو قربان کر دے گا جو اونچی جگہوں کے مندروں میں خدمت کرتے اور یہاں قربانیاں پیش کرنے کے لئے آتے ہیں۔ تجھ پر انسانوں کی ہڈیاں جلائی جائیں گی‘۔“wb k وہ ابھی قربان گاہ کے پاس کھڑا اپنی قربانیاں پیش کرنا ہی چاہتا تھا کہ ایک مردِ خدا آن پہنچا۔ رب نے اُسے یہوداہ سے بیت ایل بھیج دیا تھا۔ =eu یرُبعام بادشاہ اب تک قربان گاہ کے پاس کھڑا تھا۔ جب اُس نے بیت ایل کی قربان گاہ کے خلاف مردِ خدا کی بات سنی تو وہ ہاتھ سے اُس کی طرف اشارہ کر کے گرجا، ”اُسے پکڑو!“ لیکن جوں ہی بادشاہ نے اپنا ہاتھ بڑھایا وہ سوکھ گیا، اور وہ اُسے واپس نہ کھینچ سکا۔]d5 پھر مردِ خدا نے الٰہی نشان بھی پیش کیا۔ اُس نے اعلان کیا، ”ایک نشان ثابت کرے گا کہ رب میری معرفت بات کر رہا ہے! یہ قربان گاہ پھٹ جائے گی، اور اِس پر موجود چربی ملی راکھ زمین پر بکھر جائے گی۔“  chA تب یرُبعام بادشاہ نے مردِ خدا کو دعوت دی، ”آئیں، میرے گھر میں کھانا کھا کر تازہ دم ہو جائیں۔ مَیں آپ کو تحفہ بھی دوں گا۔“>gw تب بادشاہ التماس کرنے لگا، ”رب اپنے خدا کا غصہ ٹھنڈا کر کے میرے لئے دعا کریں تاکہ میرا ہاتھ بحال ہو جائے۔“ مردِ خدا نے اُس کی شفاعت کی تو یرُبعام کا ہاتھ فوراً بحال ہو گیا۔qf] اُسی لمحے قربان گاہ پھٹ گئی اور اُس پر موجود راکھ زمین پر بکھر گئی۔ بالکل وہی کچھ ہوا جس کا اعلان مردِ خدا نے رب کی طرف سے کیا تھا۔ FF5le بیت ایل میں ایک بوڑھا نبی رہتا تھا۔ جب اُس کے بیٹے اُس دن گھر واپس آئے تو اُنہوں نے اُسے سب کچھ کہہ سنایا جو مردِ خدا نے بیت ایل میں کیا اور یرُبعام بادشاہ کو بتایا تھا۔wki یہ کہہ کر وہ فرق راستہ اختیار کر کے اپنے گھر کے لئے روانہ ہوا۔uje کیونکہ رب نے مجھے حکم دیا ہے، ’راستے میں نہ کچھ کھا اور نہ کچھ پی۔ اور واپس جاتے وقت وہ راستہ نہ لے جس پر سے تُو بیت ایل پہنچا ہے‘۔“ i لیکن اُس نے انکار کیا، ”مَیں آپ کے پاس نہیں آؤں گا، چاہے آپ مجھے اپنی ملکیت کا آدھا حصہ کیوں نہ دیں۔ مَیں یہاں نہ روٹی کھاؤں گا، نہ کچھ پیؤں گا۔ K=$pC بزرگ نبی نے اُسے دعوت دی، ”آئیں، میرے ساتھ۔ مَیں گھر میں آپ کو کچھ کھانا کھلاتا ہوں۔“bo? مردِ خدا کو ڈھونڈنے گیا۔ چلتے چلتے مردِ خدا بلوط کے درخت کے سائے میں بیٹھا نظر آیا۔ بزرگ نے پوچھا، ”کیا آپ وہی مردِ خدا ہیں جو یہوداہ سے بیت ایل آئے تھے؟“ اُس نے جواب دیا، ”جی، مَیں وہی ہوں۔“$nC باپ نے حکم دیا، ”میرے گدھے پر جلدی سے زِین کسو!“ بیٹوں نے ایسا کیا تو وہ اُس پر بیٹھ کر1m] باپ نے پوچھا، ”وہ کس طرف گیا؟“ بیٹوں نے اُسے وہ راستہ بتایا جو یہوداہ کے مردِ خدا نے لیا تھا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq|  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  !#   #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  #  $  $  !$  "$   $  $  $  $  $  $  $  $   $   $   $   $   $  $  $  $  $  $  $  $  $ f1=f t لیکن مردِ خدا اُس کے ساتھ واپس گیا اور اُس کے گھر میں کچھ کھایا اور پیا۔Fs بزرگ نبی نے اعتراض کیا، ”مَیں بھی آپ جیسا نبی ہوں! ایک فرشتے نے مجھے رب کا نیا پیغام پہنچا کر کہا، ’اُسے اپنے ساتھ گھر لے جا کر روٹی کھلا اور پانی پلا‘۔“ بزرگ جھوٹ بول رہا تھا،pr[ کیونکہ رب نے مجھے حکم دیا، ’راستے میں نہ کچھ کھا اور نہ کچھ پی۔ اور واپس جاتے وقت وہ راستہ نہ لے جس پر سے تُو بیت ایل پہنچا ہے‘۔“Kq لیکن مردِ خدا نے انکار کیا، ”نہیں، نہ مَیں آپ کے ساتھ واپس جا سکتا ہوں، نہ مجھے یہاں کھانے پینے کی اجازت ہے۔ nzNnx کھانے کے بعد بزرگ کے گدھے پر زِین کسا گیا اور مردِ خدا کو اُس پر بٹھایا گیا۔Hw گو اُس نے فرمایا تھا کہ یہاں نہ کچھ کھا اور نہ کچھ پی توبھی تُو نے واپس آ کر یہاں روٹی کھائی اور پانی پیا ہے۔ اِس لئے مرتے وقت تجھے تیرے باپ دادا کی قبر میں دفنایا نہیں جائے گا‘۔“(vK اُس نے بلند آواز سے یہوداہ کے مردِ خدا سے کہا، ”رب فرماتا ہے، ’تُو نے رب کے کلام کی خلاف ورزی کی ہے! جو حکم رب تیرے خدا نے تجھے دیا تھا وہ تُو نے نظرانداز کیا ہے۔u وہ ابھی وہاں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ بزرگ پر رب کا کلام نازل ہوا۔ i{M جب بزرگ کو خبر ملی تو اُس نے کہا، ”وہی مردِ خدا ہے جس نے رب کے فرمان کی خلاف ورزی کی۔ اب وہ کچھ ہوا ہے جو رب نے اُسے فرمایا تھا یعنی اُس نے اُسے شیرببر کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اُسے پھاڑ کر مار ڈالے۔“#zA کچھ لوگ وہاں سے گزرے۔ جب اُنہوں نے لاش کو راستے میں پڑے اور شیرببر کو اُس کے پاس کھڑے دیکھا تو اُنہوں نے بیت ایل جہاں بزرگ نبی رہتا تھا آ کر لوگوں کو اطلاع دی۔Sy! وہ دوبارہ روانہ ہوا تو راستے میں ایک شیرببر نے اُس پر حملہ کر کے اُسے مار ڈالا۔ لیکن اُس نے لاش کو نہ چھیڑا بلکہ وہ وہیں راستے میں پڑی رہی جبکہ گدھا اور شیر دونوں ہی اُس کے پاس کھڑے رہے۔ Gz<s اُس نے لاش کو اپنی خاندانی قبر میں دفن کیا، اور لوگوں نے ”ہائے، میرے بھائی“ کہہ کر اُس کا ماتم کیا۔I~ بزرگ نبی نے لاش کو اُٹھا کر اپنے گدھے پر رکھا اور اُسے بیت ایل لایا تاکہ اُس کا ماتم کر کے اُسے وہاں دفنائے۔N} اور وہ اُس پر بیٹھ کر روانہ ہوا۔ جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ لاش اب تک راستے میں پڑی ہے اور گدھا اور شیر دونوں ہی اُس کے پاس کھڑے ہیں۔ شیرببر نے نہ لاش کو چھیڑا اور نہ گدھے کو پھاڑا تھا۔d|C بزرگ نے اپنے بیٹوں کو گدھے پر زِین کسنے کا حکم دیا، eemU !اِن واقعات کے باوجود یرُبعام اپنی شریر حرکتوں سے باز نہ آیا۔ عام لوگوں کو امام بنانے کا سلسلہ جاری رہا۔ جو کوئی بھی امام بننا چاہتا اُسے وہ اونچی جگہوں کے مندروں میں خدمت کرنے کے لئے مخصوص کرتا تھا۔! کیونکہ جو باتیں اُس نے رب کے حکم پر بیت ایل کی قربان گاہ اور سامریہ کے شہروں کی اونچی جگہوں کے مندروں کے بارے میں کی ہیں وہ یقیناً پوری ہو جائیں گی۔“ جنازے کے بعد بزرگ نبی نے اپنے بیٹوں سے کہا، ”جب مَیں کوچ کر جاؤں گا تو مجھے مردِ خدا کی قبر میں دفنانا۔ میری ہڈیوں کو اُس کی ہڈیوں کے پاس ہی رکھیں۔ K^7 اُس کے پاس دس روٹیاں، کچھ بسکٹ اور شہد کا مرتبان لے جائیں۔ وہ آدمی آپ کو ضرور بتا دے گا کہ لڑکے کے ساتھ کیا ہو جائے گا۔“iM تب یرُبعام نے اپنی بیوی سے کہا، ”جا کر اپنا بھیس بدلیں تاکہ کوئی نہ پہچانے کہ آپ میری بیوی ہیں۔ پھر سَیلا جائیں۔ وہاں اخیاہ نبی رہتا ہے جس نے مجھے اطلاع دی تھی کہ مَیں اِس قوم کا بادشاہ بن جاؤں گا۔V ) ایک دن یرُبعام کا بیٹا ابیاہ بہت بیمار ہوا۔1] "یرُبعام کے گھرانے کے اِس سنگین گناہ کی وجہ سے وہ آخرکار تباہ ہوا اور رُوئے زمین پر سے مٹ گیا۔ WMWr _ جب اخیاہ نے عورت کے قدموں کی آہٹ سنی تو بولا، ”یرُبعام کی بیوی، اندر آئیں! روپ بھرنے کی کیا ضرورت؟ مجھے آپ کو بُری خبر پہنچانی ہے۔1 لیکن رب نے اُسے آگاہ کر دیا، ”یرُبعام کی بیوی تجھ سے ملنے آ رہی ہے تاکہ اپنے بیمار بیٹے کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔ لیکن وہ اپنا بھیس بدل کر آئے گی تاکہ اُسے پہچانا نہ جائے۔“ پھر رب نے نبی کو بتایا کہ اُسے کیا جواب دینا ہے۔ چنانچہ یرُبعام کی بیوی اپنا بھیس بدل کر روانہ ہوئی اور چلتے چلتے سَیلا میں اخیاہ کے گھر پہنچ گئی۔ اخیاہ عمر رسیدہ ہونے کے باعث دیکھ نہیں سکتا تھا۔ +m+> w  جو تجھ سے پہلے تھے اُن کی نسبت تُو نے کہیں زیادہ بدی کی، کیونکہ تُو نے بُت ڈھال کر اپنے لئے دیگر معبود بنائے ہیں اور یوں مجھے طیش دلایا۔ چونکہ تُو نے اپنا منہ مجھ سے پھیر لیا  مَیں نے بادشاہی کو داؤد کے گھرانے سے چھین کر تجھے دے دیا۔ لیکن افسوس، تُو میرے خادم داؤد کی طرح زندگی نہیں گزارتا جو میرے احکام کے تابع رہ کر پورے دل سے میری پیروی کرتا رہا اور ہمیشہ وہ کچھ کرتا تھا جو مجھے پسند تھا۔ } جائیں، یرُبعام کو رب اسرائیل کے خدا کی طرف سے پیغام دیں، ’مَیں نے تجھے لوگوں میں سے چن کر کھڑا کیا اور اپنی قوم اسرائیل پر بادشاہ بنا دیا۔ v\RvX+  پھر اخیاہ نے یرُبعام کی بیوی سے کہا، ”آپ اپنے گھر واپس چلی جائیں۔ جوں ہی آپ شہر میں داخل ہوں گی لڑکا فوت ہو جائے گا۔  تم میں سے جو شہر میں مریں گے اُنہیں کُتے کھا جائیں گے، اور جو کھلے میدان میں مریں گے اُنہیں پرندے چٹ کر جائیں گے۔ کیونکہ یہ رب کا فرمان ہے‘۔“ ;  اِس لئے مَیں تیرے خاندان کو مصیبت میں ڈال دوں گا۔ اسرائیل میں مَیں یرُبعام کے تمام مردوں کو ہلاک کر دوں گا، خواہ وہ بچے ہوں یا بالغ۔ جس طرح گوبر کو جھاڑو دے کر دُور کیا جاتا ہے اُسی طرح یرُبعام کے گھرانے کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ I رب اسرائیل پر ایک بادشاہ مقرر کرے گا جو یرُبعام کے خاندان کو ہلاک کرے گا۔ آج ہی سے یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا۔J  پورا اسرائیل اُس کا ماتم کر کے اُسے دفن کرے گا۔ وہ آپ کے خاندان کا واحد فرد ہو گا جسے صحیح طور سے دفنایا جائے گا۔ کیونکہ رب اسرائیل کے خدا نے صرف اُسی میں کچھ پایا جو اُسے پسند تھا۔ "_A} یرُبعام کی بیوی تِرضہ میں اپنے گھر واپس چلی گئی۔ اور گھر کے دروازے میں داخل ہوتے ہی اُس کا بیٹا مر گیا۔?y یوں وہ اسرائیل کو اُن گناہوں کے باعث ترک کرے گا جو یرُبعام نے کئے اور اسرائیل کو کرنے پر اُکسایا ہے۔“Z/ رب اسرائیل کو بھی سزا دے گا، کیونکہ وہ یسیرت دیوی کے کھمبے بنا کر اُن کی پوجا کرتے ہیں۔ چونکہ وہ رب کو طیش دلاتے رہے ہیں، اِس لئے وہ اُنہیں مارے گا، اور وہ پانی میں سرکنڈے کی طرح ہل جائیں گے۔ رب اُنہیں اِس اچھے ملک سے اُکھاڑ کر دریائے فرات کے پار منتشر کر دے گا۔ )/Y یرُبعام 22 سال بادشاہ رہا۔ جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُس کا بیٹا ندب تخت نشین ہوا۔W) باقی جو کچھ یرُبعام کی زندگی کے بارے میں لکھا ہے وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ اُس کتاب میں پڑھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح حکومت کرتا تھا اور اُس نے کون کون سی جنگیں کیں۔S! تمام اسرائیل نے اُسے دفنا کر اُس کا ماتم کیا۔ سب کچھ ویسے ہوا جیسے رب نے اپنے خادم اخیاہ نبی کی معرفت فرمایا تھا۔ GJ لیکن یہوداہ کے باشندے بھی ایسی حرکتیں کرتے تھے جو رب کو ناپسند تھیں۔ اپنے گناہوں سے وہ اُسے طیش دلاتے رہے، کیونکہ اُن کے یہ گناہ اُن کے باپ دادا کے گناہوں سے کہیں زیادہ سنگین تھے۔5e یہوداہ میں رحبعام بن سلیمان حکومت کرتا تھا۔ اُس کی ماں نعمہ عمونی تھی۔ 41 سال کی عمر میں وہ تخت نشین ہوا اور 17 سال بادشاہ رہا۔ اُس کا دار الحکومت یروشلم تھا، وہ شہر جسے رب نے تمام اسرائیلی قبیلوں میں سے چن لیا تاکہ اُس میں اپنا نام قائم کرے۔ _+_H رب کے گھر اور شاہی محل کے تمام خزانے لُوٹ لئے۔ سونے کی وہ ڈھالیں بھی چھین لی گئیں جو سلیمان نے بنوائی تھیں۔ ; رحبعام بادشاہ کی حکومت کے پانچویں سال میں مصر کے بادشاہ سیسق نے یروشلم پر حملہ کر کے#A یہاں تک کہ مندروں میں جسم فروش مرد اور عورتیں تھے۔ غرض، اُنہوں نے اُن قوموں کے تمام گھنونے رسم و رواج اپنا لئے جن کو رب نے اسرائیلیوں کے آگے آگے نکال دیا تھا۔ اُنہوں نے بھی اونچی جگہوں پر مندر بنائے۔ ہر اونچی پہاڑی پر اور ہر گھنے درخت کے سائے میں اُنہوں نے مخصوص پتھر یا یسیرت دیوی کے کھمبے کھڑے کئے، % ! دونوں بادشاہوں رحبعام اور یرُبعام کے جیتے جی اُن کے درمیان جنگ جاری رہی۔\ 3 باقی جو کچھ رحبعام بادشاہ کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔{q جب بھی بادشاہ رب کے گھر میں جاتا تب محافظ یہ ڈھالیں اُٹھا کر ساتھ لے جاتے۔ اِس کے بعد وہ اُنہیں پہرے داروں کے کمرے میں واپس لے جاتے تھے۔xk اِن کی جگہ رحبعام نے پیتل کی ڈھالیں بنوائیں اور اُنہیں اُن محافظوں کے افسروں کے سپرد کیا جو شاہی محل کے دروازے کی پہرہ داری کرتے تھے۔ ;D;% ابیاہ سے وہی گناہ سرزد ہوئے جو اُس کے باپ نے کئے تھے، اور وہ پورے دل سے رب اپنے خدا کا وفادار نہ رہا۔ گو وہ اِس میں اپنے پردادا داؤد سے فرق تھا,$S وہ تین سال بادشاہ رہا، اور اُس کا دار الحکومت یروشلم تھا۔ اُس کی ماں معکہ بنت ابی سلوم تھی۔$# E ابیاہ اسرائیل کے بادشاہ یرُبعام بن نباط کی حکومت کے 18ویں سال میں یہوداہ کا بادشاہ بنا۔`"; جب رحبعام مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔ اُس کی ماں نعمہ عمونی تھی۔ پھر رحبعام کا بیٹا ابیاہ تخت نشین ہوا۔ aM) باقی جو کچھ ابیاہ کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ ( رحبعام اور یرُبعام کے درمیان کی جنگ ابیاہ کی حکومت کے دوران بھی جاری رہی۔#'A کیونکہ داؤد نے وہ کچھ کیا تھا جو رب کو پسند تھا۔ جیتے جی وہ رب کے احکام کے تابع رہا، سوائے اُس جرم کے جب اُس نے اُوریاہ حِتّی کے سلسلے میں غلط قدم اُٹھائے تھے۔c&A توبھی رب اُس کے خدا نے ابیاہ کا یروشلم میں چراغ جلنے دیا۔ داؤد کی خاطر اُس نے اُسے جانشین عطا کیا اور یروشلم کو قائم رکھا،of (flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|   ! % ) , / 3 5 7 : = B E H   ! % ) , / 3 5 7 : = B E H K O Q T W Z ] _ a c e h l p t x {          ! % ) - 0 3 5 7 9 < > A C F J L P S V Z ] ` c e h n q s v y }            ! # ' ) + / 2 5 8 : = ? A E H K N P R !V "Y #[ $] %_ &a 'b r~-w  اپنے پردادا داؤد کی طرح آسا بھی وہ کچھ کرتا رہا جو رب کو پسند تھا۔],5  اُس کی حکومت کا دورانیہ 41 سال تھا، اور اُس کا دار الحکومت یروشلم تھا۔ ماں کا نام معکہ تھا، اور وہ ابی سلوم کی بیٹی تھی۔+  آسا اسرائیل کے بادشاہ یرُبعام کے 20یں سال میں یہوداہ کا بادشاہ بن گیا۔*{ جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں دفن کیا گیا جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ پھر اُس کا بیٹا آسا تخت نشین ہوا۔ };0q افسوس کہ اُس نے اونچی جگہوں کے مندروں کو دُور نہ کیا۔ توبھی آسا جیتے جی پورے دل سے رب کا وفادار رہا۔d/C  اور گو اُس کی ماں بادشاہ کی ماں ہونے کے باعث بہت اثر و رسوخ رکھتی تھی، تاہم آسا نے یہ عُہدہ ختم کر دیا جب ماں نے یسیرت دیوی کا گھنونا کھمبا بنوا لیا۔ آسا نے یہ بُت کٹوا کر وادیِ قدرون میں جلا دیا۔.)  اُس نے اُن جسم فروش مردوں اور عورتوں کو نکال دیا جو مندروں میں نام نہاد خدمت کرتے تھے اور اُن تمام بُتوں کو تباہ کر دیا جو اُس کے باپ دادا نے بنائے تھے۔ 3 3 ایک دن بعشا بادشاہ نے یہوداہ پر حملہ کر کے رامہ شہر کی قلعہ بندی کی۔ مقصد یہ تھا کہ نہ کوئی یہوداہ کے ملک میں داخل ہو سکے، نہ کوئی وہاں سے نکل سکے۔23 یہوداہ کے بادشاہ آسا اور اسرائیل کے بادشاہ بعشا کے درمیان زندگی بھر جنگ جاری رہی۔I1 سونا چاندی اور باقی جتنی چیزیں اُس کے باپ اور اُس نے رب کے لئے مخصوص کی تھیں اُن سب کو وہ رب کے گھر میں لایا۔ E  !,7BMXcnx(3>IT_ju$/:EP[fq|  $  $  $  $  $  $  $  $!  $  $  $  $  $  $  $  $  $!  $"   $#  $$  $%  $&  $'  $(  $)  $*   $+   $,   $-   $.   $/  $0  $1  $2  $3  $4  $5  $6  $7  $8  $9  $:  $;  $<  $=  $>  $?  $@  $A   $B  !$C  "$D   $E  $F  $G  $H  $I  $J  $K  $L   $M   $N   $O   $P   $Q  $R  $S  $T  $U  $V  $W  $X  $Y  $Z  $[  $\  $]  $^ ?n5W ”میرا آپ کے ساتھ عہد ہے جس طرح میرے باپ کا آپ کے باپ کے ساتھ عہد تھا۔ گزارش ہے کہ آپ سونے چاندی کا یہ تحفہ قبول کر کے اسرائیل کے بادشاہ بعشا کے ساتھ اپنا عہد منسوخ کر دیں تاکہ وہ میرے ملک سے نکل جائے۔“=4u جواب میں آسا نے شام کے بادشاہ بن ہدد کے پاس وفد بھیجا۔ بن ہدد کا باپ طاب رِمّون بن حزیون تھا، اور اُس کا دار الحکومت دمشق تھا۔ آسا نے رب کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں کا تمام بچا ہوا سونا اور چاندی وفد کے سپرد کر کے دمشق کے بادشاہ کو پیغام بھیجا، &7G جب بعشا کو اِس کی خبر ملی تو وہ رامہ کی قلعہ بندی کرنے سے باز آیا اور تِرضہ واپس چلا گیا۔66g بن ہدد متفق ہوا۔ اُس نے اپنے فوجی افسروں کو اسرائیل کے شہروں پر حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا تو اُنہوں نے عِیون، دان، ابیل بیت معکہ، تمام کِنّرت اور نفتالی پر قبضہ کر لیا۔ FF 9 باقی جو کچھ آسا کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ اُس میں اُس کی کامیابیوں اور اُس کے تعمیر کئے گئے شہروں کا ذکر ہے۔ بُڑھاپے میں اُس کے پاؤں کو بیماری لگ گئی۔'8I پھر آسا بادشاہ نے یہوداہ کے تمام مردوں کی بھرتی کر کے اُنہیں رامہ بھیج دیا تاکہ وہ اُن تمام پتھروں اور شہتیروں کو اُٹھا کر لے جائیں جن سے بعشا بادشاہ رامہ کی قلعہ بندی کرنا چاہتا تھا۔ تمام مردوں کو وہاں جانا پڑا، ایک کو بھی چھٹی نہ ملی۔ اِس سامان سے آسا نے بن یمین کے شہر جِبع اور مِصفاہ کی قلعہ بندی کی۔ <9 اُس کا طرزِ زندگی رب کو پسند نہیں تھا، کیونکہ وہ اپنے باپ کے نمونے پر چلتا رہا۔ جو بدی یرُبعام نے اسرائیل کو کرنے پر اُکسایا تھا اُس سے ندب بھی دُور نہ ہوا۔a;= ندب بن یرُبعام یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکومت کے دوسرے سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اُس کی حکومت کا دورانیہ دو سال تھا۔5:e جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا یہوسفط اُس کی جگہ تخت نشین ہوا۔ G5>e ایک دن جب ندب اسرائیلی فوج کے ساتھ فلستی شہر جِبّتون کا محاصرہ کئے ہوئے تھا تو اِشکار کے قبیلے کے بعشا بن اخیاہ نے اُس کے خلاف سازش کر کے اُسے مار ڈالا اور خود اسرائیل کا بادشاہ بن گیا۔ یہ یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکومت کے تیسرے سال میں ہوا۔5=e ایک دن جب ندب اسرائیلی فوج کے ساتھ فلستی شہر جِبّتون کا محاصرہ کئے ہوئے تھا تو اِشکار کے قبیلے کے بعشا بن اخیاہ نے اُس کے خلاف سازش کر کے اُسے مار ڈالا اور خود اسرائیل کا بادشاہ بن گیا۔ یہ یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکومت کے تیسرے سال میں ہوا۔   KA باقی جو کچھ ندب کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔U@% کیونکہ جو گناہ یرُبعام نے کئے اور اسرائیل کو کرنے پر اُکسایا تھا اُن سے اُس نے رب اسرائیل کے خدا کو طیش دلایا تھا۔H? تخت پر بیٹھتے ہی بعشا نے یرُبعام کے پورے خاندان کو مروا دیا۔ اُس نے ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑا۔ یوں وہ بات پوری ہوئی جو رب نے سَیلا کے رہنے والے اپنے خادم اخیاہ کی معرفت فرمائی تھی۔ lC !بعشا بن اخیاہ یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکومت کے تیسرے سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اُس کی حکومت کا دورانیہ 24 سال تھا، اور اُس کا دار الحکومت تِرضہ رہا۔ اُس کے اور یہوداہ کے بادشاہ آسا کے درمیان زندگی بھر جنگ جاری رہی۔B  بعشا بن اخیاہ یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکومت کے تیسرے سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اُس کی حکومت کا دورانیہ 24 سال تھا، اور اُس کا دار الحکومت تِرضہ رہا۔ اُس کے اور یہوداہ کے بادشاہ آسا کے درمیان زندگی بھر جنگ جاری رہی۔ npF[ ”پہلے تُو کچھ نہیں تھا، لیکن مَیں نے تجھے خاک میں سے اُٹھا کر اپنی قوم اسرائیل کا حکمران بنا دیا۔ توبھی تُو نے یرُبعام کے نمونے پر چل کر میری قوم اسرائیل کو گناہ کرنے پر اُکسایا اور مجھے طیش دلایا ہے۔mE W ایک دن رب نے یاہو بن حنانی کو بعشا کے پاس بھیج کر فرمایا،D7 "لیکن وہ بھی ایسا کام کرتا تھا جو رب کو ناپسند تھا، کیونکہ اُس نے یرُبعام کے نمونے پر چل کر وہ گناہ جاری رکھے جو کرنے پر یرُبعام نے اسرائیل کو اُکسایا تھا۔ a* a;Jq جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے تِرضہ میں دفن کیا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا ایلہ تخت نشین ہوا۔I باقی جو کچھ بعشا کی حکومت کے دوران ہوا، جو کچھ اُس نے کیا اور جو کامیابیاں اُسے حاصل ہوئیں وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہیں۔aH= خاندان کے جو افراد شہر میں مریں گے اُنہیں کُتے کھا جائیں گے، اور جو کھلے میدان میں مریں گے اُنہیں پرندے چٹ کر جائیں گے۔“mGU اِس لئے مَیں تیرے گھرانے کے ساتھ وہی کچھ کروں گا جو یرُبعام بن نباط کے گھرانے کے ساتھ کیا تھا۔ بعشا کی پوری نسل ہلاک ہو جائے گی۔ +8+ L ایلہ بن بعشا یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکومت کے 26ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اُس کی حکومت کے دو سال کے دوران اُس کا دار الحکومت تِرضہ رہا۔DK رب کی سزا کا جو پیغام حنانی کے بیٹے یاہو نبی نے بعشا اور اُس کے خاندان کو سنایا اُس کی دو وجوہات تھیں۔ پہلے، بعشا نے یرُبعام کے خاندان کی طرح وہ کچھ کیا جو رب کو ناپسند تھا اور اُسے طیش دلایا۔ دوسرے، اُس نے یرُبعام کے پورے خاندان کو ہلاک کر دیا تھا۔ //wPi  یوں وہی کچھ ہوا جو رب نے یاہو نبی کی معرفت بعشا کو فرمایا تھا۔O{  تخت پر بیٹھتے ہی زِمری نے بعشا کے پورے خاندان کو ہلاک کر دیا۔ اُس نے کسی بھی مرد کو زندہ نہ چھوڑا، خواہ وہ دُور کا رشتے دار تھا، خواہ دوست۔\N3  تو زِمری نے اندر جا کر اُسے مار ڈالا۔ پھر وہ خود تخت پر بیٹھ گیا۔ یہ یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکومت کے 27ویں سال میں ہوا۔oMY  ایلہ کا ایک افسر بنام زِمری تھا۔ زِمری رتھوں کے آدھے حصے پر مقرر تھا۔ اب وہ بادشاہ کے خلاف سازشیں کرنے لگا۔ ایک دن ایلہ تِرضہ میں محل کے انچارج ارضہ کے گھر میں بیٹھا مَے پی رہا تھا۔ جب نشے میں دُھت ہوا nnYS- زِمری یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکومت کے 27ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ لیکن تِرضہ میں اُس کی حکومت صرف سات دن تک قائم رہی۔ اُس وقت اسرائیلی فوج فلستی شہر جِبّتون کا محاصرہ کر رہی تھی۔MR باقی جو کچھ ایلہ کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔`Q;  کیونکہ بعشا اور اُس کے بیٹے ایلہ سے سنگین گناہ سرزد ہوئے تھے، اور ساتھ ساتھ اُنہوں نے اسرائیل کو بھی یہ کرنے پر اُکسایا تھا۔ اپنے باطل دیوتاؤں سے اُنہوں نے رب اسرائیل کے خدا کو طیش دلایا تھا۔ aCa^V7 جب زِمری کو پتا چلا کہ شہر دوسروں کے قبضے میں آ گیا ہے تو اُس نے محل کے بُرج میں جا کر اُسے آگ لگائی۔ یوں وہ جل کر مر گیا۔ U تب عُمری تمام فوجیوں کے ساتھ جِبّتون کو چھوڑ کر تِرضہ کا محاصرہ کرنے لگا۔(TK جب فوج میں خبر پھیل گئی کہ زِمری نے بادشاہ کے خلاف سازش کر کے اُسے قتل کیا ہے تو تمام اسرائیلیوں نے لشکرگاہ میں آ کر اُسی دن اپنے کمانڈر عُمری کو بادشاہ بنا دیا۔ [Z1 لیکن عُمری کا فرقہ تِبنی کے فرقے کی نسبت زیادہ طاقت ور نکلا۔ چنانچہ تِبنی مر گیا اور عُمری پوری قوم پر بادشاہ بن گیا۔XY+ زِمری کی موت کے بعد اسرائیلی دو فرقوں میں بٹ گئے۔ ایک فرقہ تِبنی بن جینت کو بادشاہ بنانا چاہتا تھا، دوسرا عُمری کو۔NX جو کچھ زِمری کی حکومت کے دوران ہوا اور جو سازشیں اُس نے کیں وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہیں۔^W7 اِس طرح اُسے بھی مناسب سزا مل گئی، کیونکہ اُس نے بھی وہ کچھ کیا تھا جو رب کو ناپسند تھا۔ یرُبعام کے نمونے پر چل کر اُس نے وہ تمام گناہ کئے جو یرُبعام نے کئے اور اسرائیل کو کرنے پر اُکسایا تھا۔ =]u لیکن عُمری نے بھی وہی کچھ کیا جو رب کو ناپسند تھا، بلکہ اُس نے ماضی کے بادشاہوں کی نسبت زیادہ بدی کی۔V\' اِس کے بعد اُس نے ایک آدمی بنام سِمر کو چاندی کے 6,000 سکے دے کر اُس سے سامریہ پہاڑی خرید لی اور وہاں اپنا نیا دار الحکومت تعمیر کیا۔ پہلے مالک سِمر کی یاد میں اُس نے شہر کا نام سامریہ رکھا۔ [ عُمری یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکومت کے 31ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اُس کی حکومت کا دورانیہ 12 سال تھا۔ پہلے چھ سال دار الحکومت تِرضہ رہا۔ E` جب عُمری مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے سامریہ میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا اخی اب تخت نشین ہوا۔_' باقی جو کچھ عُمری کی حکومت کے دوران ہوا، جو کچھ اُس نے کیا اور جو کامیابیاں اُسے حاصل ہوئیں وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔M^ اُس نے یرُبعام بن نباط کے نمونے پر چل کر وہ تمام گناہ کئے جو یرُبعام نے کئے اور اسرائیل کو کرنے پر اُکسایا تھا۔ نتیجے میں اسرائیلی رب اپنے خدا کو اپنے باطل دیوتاؤں سے طیش دلاتے رہے۔ %ecE یرُبعام کے نمونے پر چلنا اُس کے لئے کافی نہیں تھا بلکہ اُس نے اِس سے بڑھ کر صیدا کے بادشاہ اِتبعال کی بیٹی ایزبل سے شادی بھی کی۔ نتیجے میں وہ اُس کے دیوتا بعل کے سامنے جھک کر اُس کی پوجا کرنے لگا۔Fb اخی اب نے بھی ایسے کام کئے جو رب کو ناپسند تھے، بلکہ ماضی کے بادشاہوں کی نسبت اُس کے گناہ زیادہ سنگین تھے۔ a اخی اب بن عُمری یہوداہ کے بادشاہ آسا کے 38ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اُس کی حکومت کا دورانیہ 22 سال تھا، اور اُس کا دار الحکومت سامریہ رہا۔ 0S0e9 !اخی اب نے یسیرت دیوی کا بُت بھی بنوا دیا۔ یوں اُس نے اپنے گھنونے کاموں سے ماضی کے تمام اسرائیلی بادشاہوں کی نسبت کہیں زیادہ رب اسرائیل کے خدا کو طیش دلایا۔)dM  سامریہ میں اُس نے بعل کا مندر تعمیر کیا اور دیوتا کے لئے قربان گاہ بنا کر اُس میں رکھ دیا۔ 8l81h_ پھر رب نے الیاس سے کہا،Ug ' ایک دن الیاس نبی نے جو جِلعاد کے شہر تِشبی کا تھا اخی اب بادشاہ سے کہا، ”رب اسرائیل کے خدا کی قَسم جس کی خدمت مَیں کرتا ہوں، آنے والے سالوں میں نہ اوس، نہ بارش پڑے گی جب تک مَیں نہ کہوں۔“7fi "اخی اب کی حکومت کے دوران بیت ایل کے رہنے والے حی ایل نے یریحو شہر کو نئے سرے سے تعمیر کیا۔ جب اُس کی بنیاد رکھی گئی تو اُس کا سب سے بڑا بیٹا ابیرام مر گیا، اور جب اُس نے شہر کے دروازے لگا دیئے تو اُس کے سب سے چھوٹے بیٹے سجوب کو اپنی جان دینی پڑی۔ یوں رب کی وہ بات پوری ہوئی جو اُس نے یشوع بن نون کی معرفت فرمائی تھی۔ _Kb_Fn تو رب دوبارہ الیاس سے ہم کلام ہوا،6mg اِس پورے عرصے میں بارش نہ ہوئی، اِس لئے ندی آہستہ آہستہ سوکھ گئی۔ جب اُس کا پانی بالکل ختم ہو گیاl صبح و شام کوّے اُسے روٹی اور گوشت پہنچاتے رہے، اور پانی وہ ندی سے پیتا تھا۔)kM الیاس رب کی سن کر روانہ ہوا اور وادیِ کریت میں رہنے لگا جس کی ندی دریائے یردن میں بہتی ہے۔%jE پانی تُو ندی سے پی سکتا ہے، اور مَیں نے کوّوں کو تجھے وہاں کھانا کھلانے کا حکم دیا ہے۔“1i] ”یہاں سے چلا جا! مشرق کی طرف سفر کر کے وادیِ کریت میں چھپ جا جس کی ندی دریائے یردن میں بہتی ہے۔ ,Aq}  وہ ابھی پانی لانے جا رہی تھی کہ الیاس نے اُس کے پیچھے آواز دے کر کہا، ”میرے لئے روٹی کا ٹکڑا بھی لانا!“p#  چنانچہ الیاس صارپت کے لئے روانہ ہوا۔ سفر کرتے کرتے وہ شہر کے دروازے کے پاس پہنچ گیا۔ وہاں ایک بیوہ جلانے کے لئے لکڑیاں چن کر جمع کر رہی تھی۔ اُسے بُلا کر الیاس نے کہا، ”ذرا کسی برتن میں پانی بھر کر مجھے تھوڑا سا پلائیں۔“Po  ”یہاں سے روانہ ہو کر صیدا کے شہر صارپت میں جا بس۔ مَیں نے وہاں کی ایک بیوہ کو تجھے کھانا کھلانے کا حکم دیا ہے۔“  ]s5  الیاس نے اُسے تسلی دی، ”ڈریں مت! بےشک وہ کچھ کریں جو آپ نے کہا ہے۔ لیکن پہلے میرے لئے چھوٹی سی روٹی بنا کر میرے پاس لے آئیں۔ پھر جو باقی رہ گیا ہو اُس سے اپنے اور اپنے بیٹے کے لئے روٹی بنائیں۔orY  یہ سن کر بیوہ رُک گئی اور بولی، ”رب آپ کے خدا کی قَسم، میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ بس، ایک برتن میں مٹھی بھر میدہ اور دوسرے میں تھوڑا سا تیل رہ گیا ہے۔ اب مَیں جلانے کے لئے چند ایک لکڑیاں چن رہی ہوں تاکہ اپنے اور اپنے بیٹے کے لئے آخری کھانا پکاؤں۔ اِس کے بعد ہماری موت یقینی ہے۔“ (.(vy عورت نے جا کر ویسا ہی کیا جیسا الیاس نے اُسے کہا تھا۔ واقعی میدہ اور تیل کبھی ختم نہ ہوا۔ روز بہ روز الیاس، بیوہ اور اُس کے بیٹے کے لئے کھانا دست یاب رہا۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے الیاس کی معرفت فرمایا تھا۔uy عورت نے جا کر ویسا ہی کیا جیسا الیاس نے اُسے کہا تھا۔ واقعی میدہ اور تیل کبھی ختم نہ ہوا۔ روز بہ روز الیاس، بیوہ اور اُس کے بیٹے کے لئے کھانا دست یاب رہا۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے الیاس کی معرفت فرمایا تھا۔Nt کیونکہ رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’جب تک رب بارش برسنے نہ دے تب تک میدے اور تیل کے برتن خالی نہیں ہوں گے‘۔“ Jy! الیاس نے جواب میں کہا، ”اپنے بیٹے کو مجھے دے دیں۔“ وہ لڑکے کو عورت کی گود میں سے اُٹھا کر چھت پر اپنے کمرے میں لے گیا اور وہاں اُسے چارپائی پر رکھ کر+xQ تب بیوہ الیاس سے شکایت کرنے لگی، ”مردِ خدا، میرا آپ کے ساتھ کیا واسطہ؟ آپ تو صرف اِس مقصد سے یہاں آئے ہیں کہ رب کو میرے گناہ کی یاد دلا کر میرے بیٹے کو مار ڈالیں!“2w_ ایک دن بیوہ کا بیٹا بیمار ہو گیا۔ اُس کی طبیعت بہت خراب ہوئی، اور ہوتے ہوتے اُس کی جان نکل گئی۔ E  !,7BMXbmx(3>IT_it$/:EP[fq|  $`  $a  $b  $c   $d  !$e  "$f   $g  $h  $`  $a  $b  $c   $d  !$e  "$f   $g  $h  $i  $j  $k  $l  $m  $n   $o   $p   $q   $r   $s  $t  $u  $v  $w  $x  $y  $z  ${  $|  $}  $~   $  $  $  $  $  $  $  $   $   $   $   $   $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $   $  !$  "$  #$  $$  %$  &$  >}w الیاس اُسے اُٹھا کر نیچے لے آیا اور اُسے اُس کی ماں کو واپس دے کر بولا، ”دیکھیں، آپ کا بیٹا زندہ ہے!“g|I رب نے الیاس کی سنی، اور لڑکے کی جان اُس میں واپس آئی۔i{M وہ تین بار لاش پر دراز ہوا اور ساتھ ساتھ رب سے التماس کرتا رہا، ”اے رب میرے خدا، براہِ کرم بچے کی جان کو اُس میں واپس آنے دے!“z دعا کرنے لگا، ”اے رب میرے خدا، تُو نے اِس بیوہ کو جس کا مہمان مَیں ہوں ایسی مصیبت میں کیوں ڈال دیا ہے؟ تُو نے اُس کے بیٹے کو مرنے کیوں دیا؟“ $X# اِس لئے اخی اب نے محل کے انچارج عبدیاہ کو بُلایا۔ (عبدیاہ رب کا خوف مانتا تھا۔,S چنانچہ الیاس اخی اب سے ملنے کے لئے اسرائیل چلا گیا۔ اُس وقت سامریہ کال کی سخت گرفت میں تھا، - بہت دن گزر گئے۔ پھر کال کے تیسرے سال میں رب الیاس سے ہم کلام ہوا، ”اب جا کر اپنے آپ کو اخی اب کے سامنے پیش کر۔ مَیں بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دوں گا۔“X~+ عورت نے جواب دیا، ”اب مَیں نے جان لیا ہے کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں اور کہ جو کچھ آپ رب کی طرف سے بولتے ہیں وہ سچ ہے۔“ ))/Y اُنہوں نے مقرر کیا کہ اخی اب کہاں جائے گا اور عبدیاہ کہاں، پھر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔A} اب اخی اب نے عبدیاہ کو حکم دیا، ”پورے ملک میں سے گزر کر تمام چشموں اور وادیوں کا معائنہ کریں۔ شاید کہیں کچھ گھاس مل جائے جو ہم اپنے گھوڑوں اور خچروں کو کھلا کر اُنہیں بچا سکیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہمیں کھانے کی قلت کے باعث کچھ جانوروں کو ذبح کرنا پڑے۔“[1 جب ایزبل نے رب کے تمام نبیوں کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی تو عبدیاہ نے 100 نبیوں کو دو غاروں میں چھپا دیا تھا۔ ہر غار میں 50 نبی رہتے تھے، اور عبدیاہ اُنہیں کھانے پینے کی چیزیں پہنچاتا رہتا تھا۔) D  رب آپ کے خدا کی قَسم، بادشاہ نے اپنے بندوں کو ہر قوم اور ملک میں بھیج دیا ہے تاکہ آپ کو ڈھونڈ نکالیں۔ اور جہاں جواب ملا کہ الیاس یہاں نہیں ہے وہاں لوگوں کو قَسم کھانی پڑی کہ ہم الیاس کا کھوج لگانے میں ناکام رہے ہیں۔"?  عبدیاہ نے اعتراض کیا، ”مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے کہ آپ مجھے اخی اب سے مروانا چاہتے ہیں؟%E الیاس نے جواب دیا، ”جی، مَیں ہی ہوں۔ جائیں، اپنے مالک کو اطلاع دیں کہ الیاس آ گیا ہے۔“ چلتے چلتے عبدیاہ کو اچانک الیاس اُس کی طرف آتے ہوا نظر آیا۔ جب عبدیاہ نے اُسے پہچانا تو وہ منہ کے بل جھک کر بولا، ”میرے آقا الیاس، کیا آپ ہی ہیں؟“ mlmK   کیا میرے آقا تک یہ خبر نہیں پہنچی کہ جب ایزبل رب کے نبیوں کو قتل کر رہی تھی تو مَیں نے کیا کِیا؟ مَیں دو غاروں میں پچاس پچاس نبیوں کو چھپا کر اُنہیں کھانے پینے کی چیزیں پہنچاتا رہا۔, S  عین ممکن ہے کہ جب مَیں آپ کو چھوڑ کر چلا جاؤں تو رب کا روح آپ کو اُٹھا کر کسی نامعلوم جگہ لے جائے۔ اگر بادشاہ میری یہ اطلاع سن کر یہاں آئے اور آپ کو نہ پائے تو مجھے مار ڈالے گا۔ یاد رہے کہ مَیں جوانی سے لے کر آج تک رب کا خوف مانتا آیا ہوں۔   اور اب آپ چاہتے ہیں کہ مَیں بادشاہ کے پاس جا کر اُسے بتاؤں کہ الیاس یہاں ہے؟ +O0[ الیاس کو دیکھتے ہی اخی اب بولا، ”اے اسرائیل کو مصیبت میں ڈالنے والے، کیا آپ واپس آ گئے ہیں؟“2_ تب عبدیاہ چلا گیا اور بادشاہ کو الیاس کی خبر پہنچائی۔ یہ سن کر اخی اب الیاس سے ملنے کے لئے آیا۔X + الیاس نے کہا، ”رب الافواج کی حیات کی قَسم جس کی خدمت مَیں کرتا ہوں، آج مَیں اپنے آپ کو ضرور بادشاہ کو پیش کروں گا۔“Q  اور اب آپ چاہتے ہیں کہ مَیں اخی اب کے پاس جا کر اُسے اطلاع دوں کہ الیاس یہاں آ گیا ہے؟ وہ مجھے ضرور مار ڈالے گا۔“ (K اخی اب مان گیا۔ اُس نے تمام اسرائیلیوں اور نبیوں کو بُلایا۔ جب وہ کرمل پہاڑ پر جمع ہو گئےT# اب مَیں آپ کو چیلنج دیتا ہوں، تمام اسرائیل کو بُلا کر کرمل پہاڑ پر جمع کریں۔ ساتھ ساتھ بعل دیوتا کے 450 نبیوں کو اور ایزبل کی میز پر شریک ہونے والے یسیرت دیوی کے 400 نبیوں کو بھی بُلائیں۔“!= الیاس نے اعتراض کیا، ”مَیں تو اسرائیل کے لئے مصیبت کا باعث نہیں بنا بلکہ آپ اور آپ کے باپ کا گھرانا۔ آپ رب کے احکام چھوڑ کر بعل کے بُتوں کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ U% الیاس نے بات جاری رکھی، ”رب کے نبیوں میں سے صرف مَیں ہی باقی رہ گیا ہوں۔ دوسری طرف بعل دیوتا کے یہ 450 نبی کھڑے ہیں۔wi تو الیاس اُن کے سامنے جا کھڑا ہوا اور کہا، ”آپ کب تک کبھی اِس طرف، کبھی اُس طرف لنگڑاتے رہیں گے؟ اگر رب خدا ہے تو صرف اُسی کی پیروی کریں، لیکن اگر بعل واحد خدا ہے تو اُسی کے پیچھے لگ جائیں۔“ لوگ خاموش رہے۔ 0 پھر آپ اپنے دیوتا کا نام پکاریں جبکہ مَیں رب کا نام پکاروں گا۔ جو معبود قربانی کو جلا کر جواب دے گا وہی خدا ہے۔“ تمام لوگ بولے، ”آپ ٹھیک کہتے ہیں۔“L اب دو بَیل لے آئیں۔ بعل کے نبی ایک کو پسند کریں اور پھر اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنی قربان گاہ کی لکڑیوں پر رکھ دیں۔ لیکن وہ لکڑیوں کو آگ نہ لگائیں۔ مَیں دوسرے بَیل کو تیار کر کے اپنی قربان گاہ کی لکڑیوں پر رکھ دوں گا۔ لیکن مَیں بھی اُنہیں آگ نہیں لگاؤں گا۔ eE اُنہوں نے بَیلوں میں سے ایک کو چن کر اُسے تیار کیا، پھر بعل کا نام پکارنے لگے۔ صبح سے لے کر دوپہر تک وہ مسلسل چیختے چلّاتے رہے، ”اے بعل، ہماری سن!“ ساتھ ساتھ وہ اُس قربان گاہ کے ارد گرد ناچتے رہے جو اُنہوں نے بنائی تھی۔ لیکن نہ کوئی آواز سنائی دی، نہ کسی نے جواب دیا۔<s پھر الیاس نے بعل کے نبیوں سے کہا، ”شروع کریں، کیونکہ آپ بہت ہیں۔ ایک بَیل کو چن کر اُسے تیار کریں۔ لیکن اُسے آگ مت لگانا بلکہ اپنے دیوتا کا نام پکاریں تاکہ وہ آگ بھیج دے۔“ *BK*5 دوپہر گزر گئی، اور وہ شام کے اُس وقت تک وجد میں رہے جب غلہ کی نذر پیش کی جاتی ہے۔ لیکن کوئی آواز نہ سنائی دی۔ نہ کسی نے جواب دیا، نہ اُن کے تماشے پر توجہ دی۔sa تب وہ مزید اونچی آواز سے چیخنے چلّانے لگے۔ معمول کے مطابق وہ چھریوں اور نیزوں سے اپنے آپ کو زخمی کرنے لگے، یہاں تک کہ خون بہنے لگا۔:o دوپہر کے وقت الیاس اُن کا مذاق اُڑانے لگا، ”زیادہ اونچی آواز سے بولیں! شاید وہ سوچوں میں غرق ہو یا اپنی حاجت رفع کرنے کے لئے ایک طرف گیا ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کہیں سفر کر رہا ہو۔ یا شاید وہ گہری نیند سو گیا ہو اور اُسے جگانے کی ضرورت ہے۔“ 'I  اِن بارہ پتھروں کو لے کر الیاس نے رب کے نام کی تعظیم میں قربان گاہ بنائی۔ اِس کے ارد گرد اُس نے اِتنا چوڑا گڑھا کھودا کہ اُس میں تقریباً 15 لٹر پانی سما سکتا تھا۔@{ اُس نے یعقوب سے نکلے ہر قبیلے کے لئے ایک ایک پتھر چن لیا۔ (بعد میں رب نے یعقوب کا نام اسرائیل رکھا تھا)۔"? پھر الیاس اسرائیلیوں سے مخاطب ہوا، ”آئیں، سب یہاں میرے پاس آئیں!“ سب قریب آئے۔ وہاں رب کی ایک قربان گاہ تھی جو گرائی گئی تھی۔ اب الیاس نے وہ دوبارہ کھڑی کی۔ $!# #آخرکار اِتنا پانی تھا کہ اُس نے چاروں طرف قربان گاہ سے ٹپک کر گڑھے کو بھر دیا۔  "جب اُنہوں نے ایسا کیا تو اُس نے دوبارہ ایسا کرنے کا حکم دیا، پھر تیسری بار۔E !پھر اُس نے قربان گاہ پر لکڑیوں کا ڈھیر لگایا اور بَیل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے لکڑیوں پر رکھ دیا۔ اِس کے بعد اُس نے حکم دیا، ”چار گھڑے پانی سے بھر کر قربانی اور لکڑیوں پر اُنڈیل دیں!“ %%o#Y %اے رب، میری دعا سن! میری سن تاکہ یہ لوگ جان لیں کہ تُو، اے رب، خدا ہے اور کہ تُو ہی اُن کے دلوں کو دوبارہ اپنی طرف مائل کر رہا ہے۔“d"C $شام کے وقت جب غلہ کی نذر پیش کی جاتی ہے الیاس نے قربان گاہ کے پاس جا کر بلند آواز سے دعا کی، ”اے رب، اے ابراہیم، اسحاق اور اسرائیل کے خدا، آج لوگوں پر ظاہر کر کہ اسرائیل میں تُو ہی خدا ہے اور کہ مَیں تیرا خادم ہوں۔ ثابت کر کہ مَیں نے یہ سب کچھ تیرے حکم کے مطابق کیا ہے۔ 0G' )پھر الیاس نے اخی اب سے کہا، ”اب جا کر کچھ کھائیں اور پئیں، کیونکہ موسلادھار بارش کا شور سنائی دے رہا ہے۔“Q& (پھر الیاس نے اُنہیں حکم دیا، ”بعل کے نبیوں کو پکڑ لیں۔ ایک بھی بچنے نہ پائے!“ لوگوں نے اُنہیں پکڑ لیا تو الیاس اُنہیں نیچے وادیِ قیسون میں لے گیا اور وہاں سب کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔%# 'یہ دیکھ کر اسرائیلی اوندھے منہ گر کر پکارنے لگے، ”رب ہی خدا ہے! رب ہی خدا ہے!“4$c &اچانک آسمان سے رب کی آگ نازل ہوئی۔ آگ نے نہ صرف قربانی اور لکڑی کو بھسم کر دیا بلکہ قربان گاہ کے پتھروں اور اُس کے نیچے کی مٹی کو بھی۔ گڑھے میں پانی بھی ایک دم سوکھ گیا۔ x)k +اپنے نوکر کو اُس نے حکم دیا، ”جاؤ، سمندر کی طرف دیکھو۔“ نوکر گیا اور سمندر کی طرف دیکھا، پھر واپس آ کر الیاس کو اطلاع دی، ”کچھ بھی نظر نہیں آتا۔“ لیکن الیاس نے اُسے دوبارہ دیکھنے کے لئے بھیج دیا۔ اِس دفعہ بھی کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ سات بار الیاس نے نوکر کو دیکھنے کے لئے بھیجا۔ ( *چنانچہ اخی اب کھانے پینے کے لئے چلا گیا جبکہ الیاس کرمل پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا۔ وہاں اُس نے جھک کر اپنے سر کو دونوں گھٹنوں کے بیچ میں چھپا لیا۔ 3+a -نوکر اطلاع دینے چلا گیا تو جلد ہی آندھی آئی، آسمان پر کالے کالے بادل چھا گئے اور موسلادھار بارش برسنے لگی۔ اخی اب جلدی سے رتھ پر سوار ہو کر یزرعیل کے لئے روانہ ہو گیا۔l*S ,آخرکار جب نوکر ساتویں دفعہ گیا تو اُس نے واپس آ کر اطلاع دی، ”ایک چھوٹا سا بادل سمندر میں سے نکل کر اوپر چڑھ رہا ہے۔ وہ آدمی کے ہاتھ کے برابر ہے۔“ تب الیاس نے حکم دیا، ”جاؤ، اخی اب کو اطلاع دو، ’گھوڑوں کو فوراً رتھ میں جوت کر گھر چلے جائیں، ورنہ بارش آپ کو روک لے گی‘۔“ QCBQm/U الیاس سخت ڈر گیا اور اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ گیا۔ چلتے چلتے وہ یہوداہ کے شہر بیرسبع تک پہنچ گیا۔ وہاں وہ اپنے نوکر کو چھوڑ کر}.u تب ایزبل نے قاصد کو الیاس کے پاس بھیج کر اُسے اطلاع دی، ”دیوتا مجھے سخت سزا دیں اگر مَیں کل اِس وقت تک آپ کو اُن نبیوں کی سی سزا نہ دوں۔“P-  اخی اب نے ایزبل کو سب کچھ سنایا جو الیاس نے کہا تھا، یہ بھی کہ اُس نے بعل کے نبیوں کو کس طرح تلوار سے مار دیا تھا۔e,E .اُس وقت رب نے الیاس کو خاص طاقت دی۔ سفر کے لئے کمربستہ ہو کر وہ اخی اب کے رتھ کے آگے آگے دوڑ کر اُس سے پہلے یزرعیل پہنچ گیا۔ o21 جب اُس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ سرہانے کے قریب کوئلوں پر بنائی گئی روٹی اور پانی کی صراحی پڑی ہے۔ اُس نے روٹی کھائی، پانی پیا اور دوبارہ سو گیا۔71i پھر وہ جھاڑی کے سائے میں لیٹ کر سو گیا۔ اچانک ایک فرشتے نے اُسے چھو کر کہا، ”اُٹھ، کھانا کھا لے!“ 0 آگے ریگستان میں جا نکلا۔ ایک دن کے سفر کے بعد وہ سینک کی جھاڑی کے پاس پہنچ گیا اور اُس کے سائے میں بیٹھ کر دعا کرنے لگا، ”اے رب، مجھے مرنے دے۔ بس اب کافی ہے۔ میری جان لے لے، کیونکہ مَیں اپنے باپ دادا سے بہتر نہیں ہوں۔“ g5I  وہاں وہ رات گزارنے کے لئے ایک غار میں چلا گیا۔ غار میں رب اُس سے ہم کلام ہوا۔ اُس نے پوچھا، ”الیاس، تُو یہاں کیا کر رہا ہے؟“74i تب الیاس نے اُٹھ کر دوبارہ کھانا کھایا اور پانی پیا۔ اِس خوراک نے اُسے اِتنی تقویت دی کہ وہ چالیس دن اور چالیس رات سفر کرتے کرتے اللہ کے پہاڑ حورب یعنی سینا تک پہنچ گیا۔n3W لیکن رب کا فرشتہ ایک بار پھر آیا اور اُسے ہاتھ لگا کر کہا، ”اُٹھ، کھانا کھا لے، ورنہ آگے کا لمبا سفر تیرے بس کی بات نہیں ہو گی۔“ $ $a8=  اِس کے بعد زلزلہ آیا، لیکن رب زلزلے میں نہیں تھا۔~7w  جواب میں رب نے فرمایا، ”غار سے نکل کر پہاڑ پر رب کے سامنے کھڑا ہو جا!“ پھر رب وہاں سے گزرا۔ اُس کے آگے آگے بڑی اور زبردست آندھی آئی جس نے پہاڑوں کو چیر کر چٹانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ لیکن رب آندھی میں نہیں تھا۔r6_  الیاس نے جواب دیا، ”مَیں نے رب، آسمانی لشکروں کے خدا کی خدمت کرنے کی سرتوڑ کوشش کی ہے، کیونکہ اسرائیلیوں نے تیرے عہد کو ترک کر دیا ہے۔ اُنہوں نے تیری قربان گاہوں کو گرا کر تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کر دیا ہے۔ مَیں اکیلا ہی بچا ہوں، اور وہ مجھے بھی مار ڈالنے کے درپَے ہیں۔“ ##r:_ الیاس نے جواب دیا، ”مَیں نے رب، آسمانی لشکروں کے خدا کی خدمت کرنے کی سرتوڑ کوشش کی ہے، کیونکہ اسرائیلیوں نے تیرے عہد کو ترک کر دیا ہے۔ اُنہوں نے تیری قربان گاہوں کو گرا کر تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کر دیا ہے۔ مَیں اکیلا ہی بچا ہوں، اور وہ مجھے بھی مار ڈالنے کے درپَے ہیں۔“c9A  زلزلے کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ وہاں سے گزری، لیکن رب آگ میں بھی نہیں تھا۔ پھر نرم ہَوا کی دھیمی دھیمی آواز سنائی دی۔ یہ آواز سن کر الیاس نے اپنے چہرے کو چادر سے ڈھانپ لیا اور نکل کر غار کے منہ پر کھڑا ہو گیا۔ ایک آواز اُس سے مخاطب ہوئی، ”الیاس، تُو یہاں کیا کر رہا ہے؟“ K= جو حزائیل کی تلوار سے بچ جائے گا اُسے یاہو مار دے گا، اور جو یاہو کی تلوار سے بچ جائے گا اُسے الیشع مار دے گا۔}<u اِسی طرح یاہو بن نِمسی کو مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ قرار دے اور ابیل محولہ کے رہنے والے الیشع بن سافط کو مسح کر کے اپنا جانشین مقرر کر۔$;C رب نے جواب میں کہا، ”ریگستان میں اُس راستے سے ہو کر واپس جا جس نے تجھے یہاں پہنچایا ہے۔ پھر دمشق چلا جا۔ وہاں حزائیل کو تیل سے مسح کر کے شام کا بادشاہ قرار دے۔ 779?m الیاس وہاں سے چلا گیا۔ اسرائیل میں واپس آ کر اُسے الیشع بن سافط ملا جو بَیلوں کی بارہ جوڑیوں کی مدد سے ہل چلا رہا تھا۔ خود وہ بارھویں جوڑی کے ساتھ چل رہا تھا۔ الیاس نے اُس کے پاس آ کر اپنی چادر اُس کے کندھوں پر ڈال دی اور رُکے بغیر آگے نکل گیا۔> لیکن مَیں نے اپنے لئے اسرائیل میں 7,000 افراد کو بچا لیا ہے، اُن تمام لوگوں کو جو اب تک نہ بعل دیوتا کے سامنے جھکے، نہ اُس کے بُت کو بوسہ دیا ہے۔“ E  !,7BMXbmx(3>HS^it$/:EP[fq|  ($  )$  *$  +$  ,$  -$  .$   $  $  ($  )$  *$  +$  ,$  -$  .$   $  $  $  $  $  $  $  $   $   $   $   $   $  $  $  $  $  $  $  $  $   $  $  $  $  $  $  $  $   $   $   $   $   $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $  $   $  !$  "$  #$  $$  %$  &$  '$  ($  )$ ^6^TA# تب الیشع واپس چلا گیا۔ بَیلوں کی ایک جوڑی کو لے کر اُس نے دونوں کو ذبح کیا۔ ہل چلانے کا سامان اُس نے گوشت پکانے کے لئے جلا دیا۔ جب گوشت تیار تھا تو اُس نے اُسے لوگوں میں تقسیم کر کے اُنہیں کھلا دیا۔ اِس کے بعد الیشع الیاس کے پیچھے ہو کر اُس کی خدمت کرنے لگا۔ F@ الیشع فوراً اپنے بَیلوں کو چھوڑ کر الیاس کے پیچھے بھاگا۔ اُس نے کہا، ”پہلے مجھے اپنے ماں باپ کو بوسہ دے کر خیرباد کہنے دیجئے۔ پھر مَیں آپ کے پیچھے ہو لوں گا۔“ الیاس نے جواب دیا، ”چلیں، واپس جائیں۔ لیکن وہ کچھ یاد رہے جو مَیں نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔“  GE اسرائیل کے بادشاہ نے جواب دیا، ”میرے آقا اور بادشاہ، آپ کی مرضی۔ مَیں اور جو کچھ میرا ہے آپ کی ملکیت ہے۔“nDW ”اب سے آپ کا سونا، چاندی، خواتین اور بیٹے میرے ہی ہیں۔“C اُس نے اپنے قاصدوں کو شہر میں بھیج کر اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کو اطلاع دی،`B = ایک دن شام کے بادشاہ بن ہدد نے اپنی پوری فوج کو جمع کیا۔ 32 اتحادی بادشاہ بھی اپنے رتھوں اور گھوڑوں کو لے کر آئے۔ اِس بڑی فوج کے ساتھ بن ہدد نے سامریہ کا محاصرہ کر کے اسرائیل سے جنگ کا اعلان کیا۔ +^H7 تب اخی اب بادشاہ نے ملک کے تمام بزرگوں کو بُلا کر اُن سے بات کی، ”دیکھیں یہ آدمی کتنا بُرا ارادہ رکھتا ہے۔ جب اُس نے میری خواتین، بیٹوں، سونے اور چاندی کا تقاضا کیا تو مَیں نے انکار نہ کیا۔“=Gu اب غور کریں! کل اِس وقت مَیں اپنے ملازموں کو آپ کے پاس بھیج دوں گا، اور وہ آپ کے محل اور آپ کے افسروں کے گھروں کی تلاشی لیں گے۔ جو کچھ بھی آپ کو پیارا ہے اُسے وہ لے جائیں گے۔“QF تھوڑی دیر کے بعد قاصد بن ہدد کی نئی خبر لے کر آئے، ”مَیں نے آپ سے سونے، چاندی، خواتین اور بیٹوں کا تقاضا کیا ہے۔ T1TNK  تو اُس نے اخی اب کو فوراً خبر بھیج دی، ”دیوتا مجھے سخت سزا دیں اگر مَیں سامریہ کو نیست و نابود نہ کر دوں۔ اِتنا بھی نہیں رہے گا کہ میرا ہر فوجی مٹھی بھر خاک اپنے ساتھ واپس لے جا سکے!“J  چنانچہ بادشاہ نے قاصدوں سے کہا، ”میرے آقا بادشاہ کو جواب دینا، جو کچھ آپ نے پہلی مرتبہ مانگ لیا وہ مَیں آپ کو دینے کے لئے تیار ہوں، لیکن یہ آخری تقاضا مَیں پورا نہیں کر سکتا۔“ جب قاصدوں نے بن ہدد کو یہ خبر پہنچائیKI بزرگوں اور باقی لوگوں نے مل کر مشورہ دیا، ”اُس کی نہ سنیں، اور جو کچھ وہ مانگتا ہے اُس پر راضی نہ ہو جائیں۔“ L L^N7  اِس دوران ایک نبی اخی اب بادشاہ کے پاس آیا اور کہا، ”رب فرماتا ہے، ’کیا تجھے دشمن کی یہ بڑی فوج نظر آ رہی ہے؟ توبھی مَیں اِسے آج ہی تیرے حوالے کر دوں گا۔ تب تُو جان لے گا کہ مَیں ہی رب ہوں‘۔“nMW  جب بن ہدد کو یہ اطلاع ملی تو وہ لشکرگاہ میں اپنے اتحادی بادشاہوں کے ساتھ مَے پی رہا تھا۔ اُس نے اپنے افسروں کو حکم دیا، ”حملہ کرنے کے لئے تیاریاں کرو!“ چنانچہ وہ شہر پر حملہ کرنے کی تیاریاں کرنے لگے۔\L3  اسرائیل کے بادشاہ نے قاصدوں کو جواب دیا، ”اُسے بتا دینا کہ جو ابھی جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے وہ فتح کے نعرے نہ لگائے۔“ vjPO چنانچہ اخی اب نے ضلعوں پر مقرر افسروں کے جوانوں کو بُلایا۔ 232 افراد تھے۔ پھر اُس نے باقی اسرائیلیوں کو جمع کیا۔ 7,000 افراد تھے۔O اخی اب نے سوال کیا، ”رب یہ کس کے وسیلے سے کرے گا؟“ نبی نے جواب دیا، ”رب فرماتا ہے کہ ضلعوں پر مقرر افسروں کے جوان یہ فتح پائیں گے۔“ بادشاہ نے مزید پوچھا، ”لڑائی میں کون پہلا قدم اُٹھائے؟“ نبی نے کہا، ”تُو ہی۔“ H$HXR+ دوپہر کو وہ لڑنے کے لئے نکلے۔ ضلعوں پر مقرر افسروں کے جوان سب سے آگے تھے۔ بن ہدد اور 32 اتحادی بادشاہ لشکرگاہ میں بیٹھے نشے میں دُھت مَے پی رہے تھے کہ اچانک شہر کا جائزہ لینے کے لئے بن ہدد کے بھیجے گئے سپاہی اندر آئے اور کہنے لگے، ”سامریہ سے آدمی نکل رہے ہیں۔“XQ+ دوپہر کو وہ لڑنے کے لئے نکلے۔ ضلعوں پر مقرر افسروں کے جوان سب سے آگے تھے۔ بن ہدد اور 32 اتحادی بادشاہ لشکرگاہ میں بیٹھے نشے میں دُھت مَے پی رہے تھے کہ اچانک شہر کا جائزہ لینے کے لئے بن ہدد کے بھیجے گئے سپاہی اندر آئے اور کہنے لگے، ”سامریہ سے آدمی نکل رہے ہیں۔“ 2N2DV اُس وقت اسرائیل کا بادشاہ جنگ کے لئے نکلا اور گھوڑوں اور رتھوں کو تباہ کر کے اَرامیوں کو زبردست شکست دی۔U فوراً اُن پر حملہ کر دیا۔ اور جس بھی دشمن کا مقابلہ ہوا اُسے مارا گیا۔ تب شام کی پوری فوج بھاگ گئی۔ اسرائیلیوں نے اُن کا تعاقب کیا، لیکن شام کا بادشاہ بن ہدد گھوڑے پر سوار ہو کر چند ایک گھڑسواروں کے ساتھ بچ نکلا۔IT لیکن اُنہیں یہ کرنے کا موقع نہ ملا، کیونکہ اسرائیل کے ضلعوں پر مقرر افسروں اور باقی فوجیوں نے شہر سے نکل کر.SW بن ہدد نے حکم دیا، ”ہر صورت میں اُنہیں زندہ پکڑیں، خواہ وہ امن پسند ارادہ رکھتے ہوں یا نہ۔“ 9h9,YS لیکن ہمارا ایک اَور مشورہ بھی ہے۔ 32 بادشاہوں کو ہٹا کر اُن کی جگہ اپنے افسروں کو مقرر کریں۔{Xq شام کے بادشاہ کو بھی مشورہ دیا گیا۔ اُس کے بڑے افسروں نے خیال پیش کیا، ”اسرائیلیوں کے دیوتا پہاڑی دیوتا ہیں، اِس لئے وہ ہم پر غالب آ گئے ہیں۔ لیکن اگر ہم میدانی علاقے میں اُن سے لڑیں تو ہر صورت میں جیتیں گے۔W# بعد میں مذکورہ نبی دوبارہ اسرائیل کے بادشاہ کے پاس آیا۔ وہ بولا، ”اب مضبوط ہو کر بڑے دھیان سے سوچیں کہ آنے والے دنوں میں کیا کیا تیاریاں کرنی چاہئیں، کیونکہ اگلے بہار کے موسم میں شام کا بادشاہ دوبارہ آپ پر حملہ کرے گا۔“ ]&[G جب بہار کا موسم آیا تو وہ شام کے فوجیوں کو جمع کر کے اسرائیل سے لڑنے کے لئے افیق شہر گیا۔Z9 پھر ایک نئی فوج تیار کریں جو تباہ شدہ پرانی فوج جیسی طاقت ور ہو۔ اُس کے اُتنے ہی رتھ اور گھوڑے ہوں جتنے پہلے تھے۔ پھر جب ہم میدانی علاقے میں اُن سے لڑیں گے تو اُن پر ضرور غالب آئیں گے۔“ بادشاہ اُن کی بات مان کر تیاریاں کرنے لگا۔ 00)]M پھر مردِ خدا نے اخی اب کے پاس آ کر کہا، ”رب فرماتا ہے، ’شام کے لوگ خیال کرتے ہیں کہ رب پہاڑی دیوتا ہے اِس لئے میدانی علاقے میں ناکام رہے گا۔ چنانچہ مَیں اُن کی زبردست فوج کو تیرے حوالے کر دوں گا۔ تب تُو جان لے گا کہ مَیں ہی رب ہوں‘۔“\9 اسرائیلی فوج بھی لڑنے کے لئے جمع ہوئی۔ کھانے پینے کی اشیا کا بندوبست کیا گیا، اور وہ دشمن سے لڑنے کے لئے نکلے۔ جب وہاں پہنچے تو اُنہوں نے اپنے خیموں کو دو جگہوں پر لگایا۔ یہ دو گروہ شام کی وسیع فوج کے مقابلے میں بکریوں کے دو چھوٹے ریوڑوں جیسے لگ رہے تھے، کیونکہ پورا میدان شام کے فوجیوں سے بھرا تھا۔ &_G باقی فرار ہو کر افیق شہر میں گھس گئے۔ تقریباً 27,000 آدمی تھے۔ لیکن اچانک شہر کی فصیل اُن پر گر گئی، تو وہ بھی ہلاک ہو گئے۔ بن ہدد بادشاہ بھی افیق میں فرار ہوا تھا۔ اب وہ کبھی اِس کمرے میں، کبھی اُس میں کھسک کر چھپنے کی کوشش کر رہا تھا۔W^) سات دن تک دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا رہیں۔ ساتویں دن لڑائی کا آغاز ہوا۔ اسرائیلی اِس مرتبہ بھی شام کی فوج پر غالب آئے۔ اُس دن اُنہوں نے اُن کے ایک لاکھ پیادہ فوجیوں کو مار دیا۔ (aK  چنانچہ بن ہدد کے افسر ٹاٹ اوڑھ کر اور اپنی گردنوں میں رسّے ڈال کر اسرائیل کے بادشاہ کے پاس آئے۔ اُنہوں نے کہا، ”آپ کا خادم بن ہدد گزارش کرتا ہے کہ مجھے زندہ چھوڑ دیں۔“ اخی اب نے سوال کیا، ”کیا وہ اب تک زندہ ہے؟ وہ تو میرا بھائی ہے!“l`S پھر اُس کے افسروں نے اُسے مشورہ دیا، ”سنا ہے کہ اسرائیل کے بادشاہ نرم دل ہوتے ہیں۔ کیوں نہ ہم ٹاٹ اوڑھ کر اور اپنی گردنوں میں رسّے ڈال کر اسرائیل کے بادشاہ کے پاس جائیں؟ شاید وہ آپ کو زندہ چھوڑ دے۔“ EE7bi !جب بن ہدد کے افسروں نے جان لیا کہ اخی اب کا رُجحان کس طرف ہے تو اُنہوں نے جلدی سے اِس کی تصدیق کی، ”جی، بن ہدد آپ کا بھائی ہے!“ اخی اب نے حکم دیا، ”جا کر اُسے بُلا لائیں۔“ تب بن ہدد نکل آیا، اور اخی اب نے اُسے اپنے رتھ پر سوار ہونے کی دعوت دی۔ sda #اُس وقت رب نے نبیوں میں سے ایک کو ہدایت کی، ”جا کر اپنے ساتھی کو کہہ دے کہ وہ تجھے مارے۔“ نبی نے ایسا کیا، لیکن ساتھی نے انکار کیا۔xck "بن ہدد نے اخی اب سے کہا، ”مَیں آپ کو وہ تمام شہر واپس کر دیتا ہوں جو میرے باپ نے آپ کے باپ سے چھین لئے تھے۔ آپ ہمارے دار الحکومت دمشق میں تجارتی مراکز بھی قائم کر سکتے ہیں، جس طرح میرے باپ نے پہلے سامریہ میں کیا تھا۔“ اخی اب بولا، ”ٹھیک ہے۔ اِس کے بدلے میں مَیں آپ کو رِہا کر دوں گا۔“ اُنہوں نے معاہدہ کیا، پھر اخی اب نے شام کے بادشاہ کو رِہا کر دیا۔ ggI &تب نبی نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی تاکہ اُسے پہچانا نہ جائے، پھر راستے کے کنارے پر اخی اب بادشاہ کے انتظار میں کھڑا ہو گیا۔kfQ %نبی کی ملاقات کسی اَور سے ہوئی تو اُس نے اُس سے بھی کہا، ”مہربانی کر کے مجھے ماریں!“ اُس آدمی نے نبی کو مار مار کر زخمی کر دیا۔be? $پھر نبی بولا، ”چونکہ آپ نے رب کی نہیں سنی، اِس لئے جوں ہی آپ مجھ سے چلے جائیں گے شیرببر آپ کو پھاڑ ڈالے گا۔“ اور ایسا ہی ہوا۔ جب ساتھی وہاں سے نکلا تو شیرببر نے اُس پر حملہ کر کے اُسے پھاڑ ڈالا۔ :io (لیکن مَیں اِدھر اُدھر مصروف رہا، اور اِتنے میں قیدی غائب ہو گیا۔“ اخی اب بادشاہ نے جواب دیا، ”آپ نے خود اپنے بارے میں فیصلہ دیا ہے۔ اب آپ کو اِس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔“4hc 'جب بادشاہ وہاں سے گزرا تو نبی چلّا کر اُس سے مخاطب ہوا، ”جناب، مَیں میدانِ جنگ میں لڑ رہا تھا کہ اچانک کسی آدمی نے میرے پاس آ کر اپنے قیدی کو میرے حوالے کر دیا۔ اُس نے کہا، ’اِس کی نگرانی کرنا۔ اگر یہ کسی بھی وجہ سے بھاگ جائے تو آپ کو اُس کی جان کے عوض اپنی جان دینی پڑے گی یا آپ کو ایک من چاندی ادا کرنی پڑے گی۔‘ 9l9 +اسرائیل کا بادشاہ بڑے غصے اور بدمزاجی کے عالم میں سامریہ میں اپنے محل میں چلا گیا۔ ky *نبی نے کہا، ”رب فرماتا ہے، ’مَیں نے مقرر کیا تھا کہ بن ہدد کو میرے لئے مخصوص کر کے ہلاک کرنا ہے، لیکن تُو نے اُسے رِہا کر دیا ہے۔ اب اُس کی جگہ تُو ہی مرے گا، اور اُس کی قوم کی جگہ تیری قوم کو نقصان پہنچے گا‘۔“Cj )پھر نبی نے جلدی سے پٹی کو اپنی آنکھوں پر سے اُتار دیا، اور بادشاہ نے پہچان لیا کہ یہ نبیوں میں سے ایک ہے۔ **Ho لیکن نبُوت نے جواب دیا، ”اللہ نہ کرے کہ مَیں آپ کو وہ موروثی زمین دوں جو میرے باپ دادا نے میرے سپرد کی ہے!“dnC ایک دن اخی اب نے نبُوت سے بات کی، ”انگور کا آپ کا باغ میرے محل کے قریب ہی ہے۔ اُسے مجھے دے دیں، کیونکہ مَیں اُس میں سبزیاں لگانا چاہتا ہوں۔ معاوضے میں مَیں آپ کو اُس سے اچھا انگور کا باغ دے دوں گا۔ لیکن اگر آپ پیسے کو ترجیح دیں تو آپ کو اُس کی پوری رقم ادا کر دوں گا۔“m 9 اِس کے بعد ایک اَور قابلِ ذکر بات ہوئی۔ یزرعیل میں سامریہ کے بادشاہ اخی اب کا ایک محل تھا۔ محل کی زمین کے ساتھ ساتھ انگور کا باغ تھا۔ مالک کا نام نبُوت تھا۔ dd]r5 اخی اب نے جواب دیا، ”یزرعیل کا رہنے والا نبُوت مجھے انگور کا باغ نہیں دینا چاہتا۔ گو مَیں اُسے پیسے دینا چاہتا تھا بلکہ اُسے اِس کی جگہ کوئی اَور باغ دینے کے لئے تیار تھا توبھی وہ بضد رہا۔“]q5 اُس کی بیوی ایزبل اُس کے پاس آئی اور پوچھنے لگی، ”کیا بات ہے؟ آپ کیوں اِتنے بےزار ہیں کہ کھانا بھی نہیں کھانا چاہتے؟“Vp' اخی اب بڑے غصے میں اپنے گھر واپس چلا گیا۔ وہ بےزار تھا کہ نبُوت اپنے باپ دادا کی موروثی زمین بیچنا نہیں چاہتا۔ وہ پلنگ پر لیٹ گیا اور اپنا منہ دیوار کی طرف کر کے کھانا کھانے سے انکار کیا۔ %uE  خطوں میں ذیل کی خبر لکھی تھی، ”شہر میں اعلان کریں کہ ایک دن کا روزہ رکھا جائے۔ جب لوگ اُس دن جمع ہو جائیں گے تو نبُوت کو لوگوں کے سامنے عزت کی کرسی پر بٹھا دیں۔Wt) اُس نے اخی اب کے نام خطوط لکھ کر اُن پر بادشاہ کی مُہر لگائی اور اُنہیں نبُوت کے شہر کے بزرگوں اور شرفا کو بھیج دیا۔s3 ایزبل بولی، ”کیا آپ اسرائیل کے بادشاہ ہیں کہ نہیں؟ اب اُٹھیں! کھائیں، پئیں اور اپنا دل بہلائیں۔ مَیں ہی آپ کو نبُوت یزرعیلی کا انگور کا باغ دلا دوں گی۔“ EtEUx%  اُنہوں نے روزے کے دن کا اعلان کیا۔ جب لوگ مقررہ دن جمع ہوئے تو نبُوت کو لوگوں کے سامنے عزت کی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔Sw!  یزرعیل کے بزرگوں اور شرفا نے ایسا ہی کیا۔v  لیکن اُس کے مقابل دو بدمعاشوں کو بٹھا دینا۔ اجتماع کے دوران یہ آدمی سب کے سامنے نبُوت پر الزام لگائیں، ’اِس شخص نے اللہ اور بادشاہ پر لعنت بھیجی ہے! ہم اِس کے گواہ ہیں۔‘ پھر اُسے شہر سے باہر لے جا کر سنگسار کریں۔“ b4{c یہ خبر ملتے ہی ایزبل نے اخی اب سے بات کی، ”جائیں، نبُوت یزرعیلی کے اُس باغ پر قبضہ کریں جو وہ آپ کو بیچنے سے انکار کر رہا تھا۔ اب وہ آدمی زندہ نہیں رہا بلکہ مر گیا ہے۔“z7 پھر شہر کے بزرگوں نے ایزبل کو اطلاع دی، ”نبُوت مر گیا ہے، اُسے سنگسار کیا گیا ہے۔“y/  پھر دو بدمعاش آئے اور اُس کے مقابل بیٹھ گئے۔ اجتماع کے دوران یہ آدمی سب کے سامنے نبُوت پر الزام لگانے لگے، ”اِس شخص نے اللہ اور بادشاہ پر لعنت بھیجی ہے! ہم اِس کے گواہ ہیں۔“ تب نبُوت کو شہر سے باہر لے جا کر سنگسار کر دیا گیا۔ p)P اُسے بتا دینا، ’رب فرماتا ہے کہ تُو نے ایک آدمی کو بلاوجہ قتل کر کے اُس کی ملکیت پر قبضہ کر لیا ہے۔ رب فرماتا ہے کہ جہاں کُتوں نے نبُوت کا خون چاٹا ہے وہاں وہ تیرا خون بھی چاٹیں گے‘۔“~! ”اسرائیل کے بادشاہ اخی اب جو سامریہ میں رہتا ہے سے ملنے جا۔ اِس وقت وہ نبُوت کے انگور کے باغ میں ہے، کیونکہ وہ اُس پر قبضہ کرنے کے لئے وہاں پہنچا ہے۔D} تب رب الیاس تِشبی سے ہم کلام ہوا، | یہ سن کر اخی اب فوراً نبُوت کے انگور کے باغ پر قبضہ کرنے کے لئے روانہ ہوا۔ #a#:o اب سنیں رب کا فرمان، ’مَیں تجھے یوں مصیبت میں ڈال دوں گا کہ تیرا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ مَیں اسرائیل میں سے تیرے خاندان کے ہر مرد کو مٹا دوں گا، خواہ وہ بالغ ہو یا بچہ۔1 جب الیاس اخی اب کے پاس پہنچا تو بادشاہ بولا، ”میرے دشمن، کیا آپ نے مجھے ڈھونڈ نکالا ہے؟“ الیاس نے جواب دیا، ”جی، مَیں نے آپ کو ڈھونڈ نکالا ہے، کیونکہ آپ نے اپنے آپ کو بدی کے ہاتھ میں بیچ کر ایسا کام کیا ہے جو رب کو ناپسند ہے۔ q] اخی اب کے خاندان میں سے جو شہر میں مریں گا اُنہیں کُتے کھا جائیں گے، اور جو کھلے میدان میں مریں گے اُنہیں پرندے چٹ کر جائیں گے‘۔“3a ایزبل پر بھی رب کی سزا آئے گی۔ رب فرماتا ہے، ’کُتے یزرعیل کی فصیل کے پاس ایزبل کو کھا جائیں گے۔B تُو نے مجھے بڑا طیش دلایا اور اسرائیل کو گناہ کرنے پر اُکسایا ہے۔ اِس لئے میرا تیرے گھرانے کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو مَیں نے یرُبعام بن نباط اور بعشا بن اخیاہ کے ساتھ کیا ہے۔‘ Q تب رب دوبارہ الیاس تِشبی سے ہم کلام ہوا،+ جب اخی اب نے الیاس کی یہ باتیں سنیں تو اُس نے اپنے کپڑے پھاڑ کر ٹاٹ اوڑھ لیا۔ روزہ رکھ کر وہ غمگین حالت میں پھرتا رہا۔ ٹاٹ اُس نے سوتے وقت بھی نہ اُتارا۔V' سب سے گھنونی بات یہ تھی کہ وہ بُتوں کے پیچھے لگا رہا، بالکل اُن اموریوں کی طرح جنہیں رب نے اسرائیل سے نکال دیا تھا۔5 اور یہ حقیقت ہے کہ اخی اب جیسا خراب شخص کوئی نہیں تھا۔ کیونکہ ایزبل کے اُکسانے پر اُس نے اپنے آپ کو بدی کے ہاتھ میں بیچ کر ایسا کام کیا جو رب کو ناپسند تھا۔ E   +6ALWbmx(3>IT^it$/:EP[fq|  +$   $  $  $  $  $  $  $  $  +$   $  $  $  $  $  $  $  $   $   $   $   $   $  $  $  $  $  $  $  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %   %  %  %  %  %  %  %  %   %   %   %   %   %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %!  %"  %#  %$  %%  %&  %'  %(   %)  !%*  "%+  #%,  $%-  %%.  &%/  '%0 I_B  اُس وقت اسرائیل کے بادشاہ نے اپنے افسروں سے بات کی، ”دیکھیں، رامات جِلعاد ہمارا ہی شہر ہے۔ تو پھر ہم کیوں کچھ نہیں کر رہے؟ ہمیں اُسے شام کے بادشاہ کے قبضے سے چھڑوانا چاہئے۔“  تیسرے سال یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط اسرائیل کے بادشاہ اخی اب سے ملنے گیا۔Y  / تین سال تک شام اور اسرائیل کے درمیان صلح رہی۔3 a ”کیا تُو نے غور کیا ہے کہ اخی اب نے اپنے آپ کو میرے سامنے کتنا پست کر دیا ہے؟ چونکہ اُس نے اپنی عاجزی کا اظہار کیا ہے اِس لئے مَیں اُس کے جیتے جی اُس کے خاندان کو مذکورہ مصیبت میں نہیں ڈالوں گا بلکہ اُس وقت جب اُس کا بیٹا تخت پر بیٹھے گا۔“ ,lS اسرائیل کے بادشاہ نے تقریباً 400 نبیوں کو بُلا کر اُن سے پوچھا، ”کیا مَیں رامات جِلعاد پر حملہ کروں یا اِس ارادے سے باز رہوں؟“ نبیوں نے جواب دیا، ”جی کریں، کیونکہ رب اُسے بادشاہ کے حوالے کر دے گا۔“b? لیکن مہربانی کر کے پہلے رب کی مرضی معلوم کر لیں۔“k Q اُس نے یہوسفط سے سوال کیا، ”کیا آپ میرے ساتھ رامات جِلعاد جائیں گے تاکہ اُس پر قبضہ کریں؟“ یہوسفط نے جواب دیا، ”جی ضرور۔ ہم تو بھائی ہیں۔ میری قوم کو اپنی قوم اور میرے گھوڑوں کو اپنے گھوڑے سمجھیں! gG/gD  تب اسرائیل کے بادشاہ نے کسی ملازم کو بُلا کر حکم دیا، ”میکایاہ بن اِملہ کو فوراً ہمارے پاس پہنچا دینا!“# اسرائیل کا بادشاہ بولا، ”ہاں، ایک تو ہے جس کے ذریعے ہم رب کی مرضی معلوم کر سکتے ہیں۔ لیکن مَیں اُس سے نفرت کرتا ہوں، کیونکہ وہ میرے بارے میں کبھی بھی اچھی پیش گوئی نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ بُری پیش گوئیاں سناتا ہے۔ اُس کا نام میکایاہ بن اِملہ ہے۔“ یہوسفط نے اعتراض کیا، ”بادشاہ ایسی بات نہ کہے!“5e لیکن یہوسفط مطمئن نہ ہوا۔ اُس نے پوچھا، ”کیا یہاں رب کا کوئی نبی نہیں جس سے ہم دریافت کر سکیں؟“ ^l^   دوسرے نبی بھی اِس قسم کی پیش گوئیاں کر رہے تھے، ”رامات جِلعاد پر حملہ کریں، کیونکہ آپ ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔ رب شہر کو آپ کے حوالے کر دے گا۔“-  ایک نبی بنام صِدقیاہ بن کنعانہ نے اپنے لئے لوہے کے سینگ بنا کر اعلان کیا، ”رب فرماتا ہے کہ اِن سینگوں سے تُو شام کے فوجیوں کو مار مار کر ہلاک کر دے گا۔“sa  اخی اب اور یہوسفط اپنے شاہی لباس پہنے ہوئے سامریہ کے دروازے کے قریب اپنے اپنے تخت پر بیٹھے تھے۔ یہ ایسی کھلی جگہ تھی جہاں اناج گاہا جاتا تھا۔ تمام 400 نبی وہاں اُن کے سامنے اپنی پیش گوئیاں پیش کر رہے تھے۔ wK لیکن میکایاہ نے اعتراض کیا، ”رب کی حیات کی قَسم، مَیں بادشاہ کو صرف وہی کچھ بتاؤں گا جو رب مجھے فرمائے گا۔“  جس ملازم کو میکایاہ کو بُلانے کے لئے بھیجا گیا تھا اُس نے راستے میں اُسے سمجھایا، ”دیکھیں، باقی تمام نبی مل کر کہہ رہے ہیں کہ بادشاہ کو کامیابی حاصل ہو گی۔ آپ بھی ایسی ہی باتیں کریں، آپ بھی فتح کی پیش گوئی کریں!“ kUkfG بادشاہ ناراض ہوا، ”مجھے کتنی دفعہ آپ کو سمجھانا پڑے گا کہ آپ قَسم کھا کر مجھے رب کے نام میں صرف وہ کچھ سنائیں جو حقیقت ہے۔“'I جب میکایاہ اخی اب کے سامنے کھڑا ہوا تو بادشاہ نے پوچھا، ”میکایاہ، کیا ہم رامات جِلعاد پر حملہ کریں یا مَیں اِس ارادے سے باز رہوں؟“ میکایاہ نے جواب دیا، ”اُس پر حملہ کریں، کیونکہ رب شہر کو آپ کے حوالے کر کے آپ کو کامیابی بخشے گا۔“ k|k) لیکن میکایاہ نے اپنی بات جاری رکھی، ”رب کا فرمان سنیں! مَیں نے رب کو اُس کے تخت پر بیٹھے دیکھا۔ آسمان کی پوری فوج اُس کے دائیں اور بائیں ہاتھ کھڑی تھی۔r_ اسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط سے کہا، ”لو، کیا مَیں نے آپ کو نہیں بتایا تھا کہ یہ شخص ہمیشہ میرے بارے میں بُری پیش گوئیاں کرتا ہے؟“{ تب میکایاہ نے جواب میں کہا، ”مجھے تمام اسرائیل گلہ بان سے محروم بھیڑبکریوں کی طرح پہاڑوں پر بکھرا ہوا نظر آیا۔ پھر رب مجھ سے ہم کلام ہوا، ’اِن کا کوئی مالک نہیں ہے۔ ہر ایک سلامتی سے اپنے گھر واپس چلا جائے‘۔“ N u6Nd C اے بادشاہ، رب نے آپ پر آفت لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اِس لئے اُس نے جھوٹی روح کو آپ کے اِن تمام نبیوں کے منہ میں ڈال دیا ہے۔“;q رب نے سوال کیا، ’کس طرح؟‘ روح نے جواب دیا، ’مَیں نکل کر اُس کے تمام نبیوں پر یوں قابو پاؤں گی کہ وہ جھوٹ ہی بولیں گے۔‘ رب نے فرمایا، ’تُو کامیاب ہو گی۔ جا اور یوں ہی کر!‘ آخرکار ایک روح رب کے سامنے کھڑی ہوئی اور کہنے لگی، ’مَیں اُسے اُکساؤں گی۔‘r_ رب نے پوچھا، ’کون اخی اب کو رامات جِلعاد پر حملہ کرنے پر اُکسائے گا تاکہ وہ وہاں جا کر مر جائے؟‘ ایک نے یہ مشورہ دیا، دوسرے نے وہ۔ 0mK$ اُنہیں بتا دینا، ’اِس آدمی کو جیل میں ڈال کر میرے صحیح سلامت واپس آنے تک کم سے کم روٹی اور پانی دیا کریں‘۔“?#y تب اخی اب بادشاہ نے حکم دیا، ”میکایاہ کو شہر پر مقرر افسر امون اور میرے بیٹے یوآس کے پاس واپس بھیج دو!\"3 میکایاہ نے جواب دیا، ”جس دن آپ کبھی اِس کمرے میں، کبھی اُس میں کھسک کر چھپنے کی کوشش کریں گے اُس دن آپ کو پتا چلے گا۔“l!S تب صِدقیاہ بن کنعانہ نے آگے بڑھ کر میکایاہ کے منہ پر تھپڑ مارا اور بولا، ”رب کا روح کس طرح مجھ سے نکل گیا تاکہ تجھ سے بات کرے؟“  P' جنگ سے پہلے اخی اب نے یہوسفط سے کہا، ”مَیں اپنا بھیس بدل کر میدانِ جنگ میں جاؤں گا۔ لیکن آپ اپنا شاہی لباس نہ اُتاریں۔“ چنانچہ اسرائیل کا بادشاہ اپنا بھیس بدل کر میدانِ جنگ میں آیا۔V&' اِس کے بعد اسرائیل کا بادشاہ اخی اب اور یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط مل کر رامات جِلعاد پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔%) میکایاہ بولا، ”اگر آپ صحیح سلامت واپس آئیں تو مطلب ہو گا کہ رب نے میری معرفت بات نہیں کی۔“ پھر وہ ساتھ کھڑے لوگوں سے مخاطب ہوا، ”تمام لوگ دھیان دیں!“ 88%*E !تو دشمنوں کو معلوم ہوا کہ یہ اخی اب بادشاہ نہیں ہے، اور وہ اُس کا تعاقب کرنے سے باز آئے۔)  جب لڑائی چھڑ گئی تو رتھوں کے افسر یہوسفط پر ٹوٹ پڑے، کیونکہ اُنہوں نے کہا، ”یقیناً یہی اسرائیل کا بادشاہ ہے!“ لیکن جب یہوسفط مدد کے لئے چلّا اُٹھا( شام کے بادشاہ نے رتھوں پر مقرر اپنے 32 افسروں کو حکم دیا تھا، ”صرف اور صرف بادشاہ پر حملہ کریں۔ کسی اَور سے مت لڑنا، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔“ O6Oc-A $جب سورج غروب ہونے لگا تو اسرائیلی فوج میں بلند آواز سے اعلان کیا گیا، ”ہر ایک اپنے شہر اور اپنے علاقے میں واپس چلا جائے!“F, #لیکن چونکہ اُس پورے دن شدید قسم کی لڑائی جاری رہی، اِس لئے بادشاہ اپنے رتھ میں ٹیک لگا کر دشمن کے مقابل کھڑا رہا۔ خون زخم سے رتھ کے فرش پر ٹپکتا رہا، اور شام کے وقت اخی اب مر گیا۔|+s "لیکن کسی نے خاص نشانہ باندھے بغیر اپنا تیر چلایا تو وہ اخی اب کو ایسی جگہ جا لگا جہاں زرہ بکتر کا جوڑ تھا۔ بادشاہ نے اپنے رتھ بان کو حکم دیا، ”رتھ کو موڑ کر مجھے میدانِ جنگ سے باہر لے جاؤ! مجھے چوٹ لگ گئی ہے۔“ wcw1 (جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُس کا بیٹا اخزیاہ تخت نشین ہوا۔^07 'باقی جو کچھ اخی اب کی حکومت کے دوران ہوا وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ اُس میں بادشاہ کا تعمیر کردہ ہاتھی دانت کا محل اور وہ شہر بیان کئے گئے ہیں جن کی قلعہ بندی اُس نے کی۔$/C &شاہی رتھ کو سامریہ کے ایک تالاب کے پاس لایا گیا جہاں کسبیوں کی نہانے کی جگہ تھی۔ وہاں اُسے دھویا گیا۔ کُتے بھی آ کر خون کو چاٹنے لگے۔ یوں رب کا فرمان پورا ہوا۔r._ %بادشاہ کی موت کے بعد اُس کی لاش کو سامریہ لا کر دفنایا گیا۔ qOYqh5K ,یہوسفط اور اسرائیل کے بادشاہ کے درمیان صلح قائم رہی۔y4m +وہ ہر کام میں اپنے باپ آسا کے نمونے پر چلتا اور وہ کچھ کرتا رہا جو رب کو پسند تھا۔ لیکن اُس نے بھی اونچے مقاموں کے مندروں کو ختم نہ کیا۔ ایسی جگہوں پر جانوروں کو قربان کرنے اور بخور جلانے کا انتظام جاری رہا۔r3_ *اُس وقت اُس کی عمر 35 سال تھی۔ اُس کا دار الحکومت یروشلم رہا، اور اُس کی حکومت کا دورانیہ 25 سال تھا۔ ماں کا نام عزوبہ بنت سِلحی تھا۔-2U )آسا کا بیٹا یہوسفط اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کی حکومت کے چوتھے سال میں یہوداہ کا بادشاہ بنا۔ zBz"9? 0یہوسفط نے بحری جہازوں کا بیڑا بنوایا تاکہ وہ تجارت کر کے اوفیر سے سونا لائیں۔ لیکن وہ کبھی استعمال نہ ہوئے بلکہ اپنی ہی بندرگاہ عِصیون جابر میں تباہ ہو گئے۔87 /اُس وقت ملکِ ادوم کا بادشاہ نہ تھا بلکہ یہوداہ کا ایک افسر اُس پر حکمرانی کرتا تھا۔+7Q .جو جسم فروش مرد اور عورتیں آسا کے زمانے میں بچ گئے تھے اُنہیں یہوسفط نے ملک میں سے مٹا دیا۔ 6 -باقی جو کچھ یہوسفط کی حکومت کے دوران ہوا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ اُس کی کامیابیاں اور جنگیں سب اُس میں بیان کی گئی ہیں۔ )<M 3اخی اب کا بیٹا اخزیاہ یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط کی حکومت کے 17ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ وہ دو سال تک اسرائیل پر حکمران رہا۔ سامریہ اُس کا دار الحکومت تھا۔#;A 2جب یہوسفط مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا یہورام تخت نشین ہوا۔:3 1تباہ ہونے سے پہلے اسرائیل کے بادشاہ اخزیاہ بن اخی اب نے یہوسفط سے درخواست کی تھی کہ اسرائیل کے کچھ لوگ جہازوں پر ساتھ چلیں۔ لیکن یہوسفط نے انکار کیا تھا۔ }? y اخی اب کی موت کے بعد موآب کا ملک باغی ہو کر اسرائیل کے تابع نہ رہا۔+>Q 5اپنے باپ کی طرح بعل دیوتا کی خدمت اور پوجا کرنے سے اُس نے رب، اسرائیل کے خدا کو طیش دلایا۔ :=o 4جو کچھ اُس نے کیا وہ رب کو ناپسند تھا، کیونکہ وہ اپنے ماں باپ اور یرُبعام بن نباط کے نمونے پر چلتا رہا، اُسی یرُبعام کے نمونے پر جس نے اسرائیل کو گناہ کرنے پر اُکسایا تھا۔ }}xA m تب رب کے فرشتے نے الیاس تِشبی کو حکم دیا، ”اُٹھ، سامریہ کے بادشاہ کے قاصدوں سے ملنے جا۔ اُن سے پوچھ، ’آپ دریافت کرنے کے لئے عقرون کے دیوتا بعل زبوب کے پاس کیوں جا رہے ہیں؟ کیا اسرائیل میں کوئی خدا نہیں ہے؟@  سامریہ کے شاہی محل کے بالاخانے کی ایک دیوار میں جنگلا لگا تھا۔ ایک دن اخزیاہ بادشاہ جنگلے کے ساتھ لگ گیا تو وہ ٹوٹ گیا اور بادشاہ زمین پر گر کر بہت زخمی ہوا۔ اُس نے قاصدوں کو فلستی شہر عقرون بھیج کر کہا، ”جا کر عقرون کے دیوتا بعل زبوب سے پتا کریں کہ میری صحت بحال ہو جائے گی کہ نہیں۔“ GG/C [ اُس کا پیغام سن کر قاصد بادشاہ کے پاس واپس گئے۔ اُس نے پوچھا، ”آپ اِتنی جلدی واپس کیوں آئے؟“B  چنانچہ رب فرماتا ہے کہ اے اخزیاہ، جس بستر پر تُو پڑا ہے اُس سے تُو کبھی نہیں اُٹھنے کا۔ تُو یقیناً مر جائے گا‘۔“ الیاس جا کر قاصدوں سے ملا۔ dE # اخزیاہ نے پوچھا، ”یہ کس قسم کا آدمی تھا جس نے آپ سے مل کر آپ کو یہ بات بتائی؟“D - اُنہوں نے جواب دیا، ”ایک آدمی ہم سے ملنے آیا جس نے ہمیں آپ کے پاس واپس بھیج کر آپ کو یہ خبر پہنچانے کو کہا، ’رب فرماتا ہے کہ تُو اپنے بارے میں دریافت کرنے کے لئے اپنے بندوں کو عقرون کے دیوتا بعل زبوب کے پاس کیوں بھیج رہا ہے؟ کیا اسرائیل میں کوئی خدا نہیں ہے؟ چونکہ تُو نے یہ کیا ہے اِس لئے جس بستر پر تُو پڑا ہے اُس سے تُو کبھی نہیں اُٹھنے کا۔ تُو یقیناً مر جائے گا‘۔“ nnAH  الیاس نے جواب دیا، ”اگر مَیں مردِ خدا ہوں تو آسمان سے آگ نازل ہو کر آپ اور آپ کے 50 فوجیوں کو بھسم کر دے۔“ فوراً آسمان سے آگ نازل ہوئی اور افسر کو اُس کے لوگوں سمیت بھسم کر دیا۔WG + فوراً اُس نے ایک افسر کو 50 فوجیوں سمیت الیاس کے پاس بھیج دیا۔ جب فوجی الیاس کے پاس پہنچے تو وہ ایک پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھا تھا۔ افسر بولا، ”اے مردِ خدا، بادشاہ کہتے ہیں کہ نیچے اُتر آئیں!“nF Y اُنہوں نے جواب دیا، ”اُس کے لمبے بال تھے، اور کمر میں چمڑے کی پیٹی بندھی ہوئی تھی۔“ بادشاہ بول اُٹھا، ”یہ تو الیاس تِشبی تھا!“ xx\J 5 الیاس نے دوبارہ پکارا، ”اگر مَیں مردِ خدا ہوں تو آسمان سے آگ نازل ہو کر آپ اور آپ کے 50 فوجیوں کو بھسم کر دے۔“ فوراً آسمان سے اللہ کی آگ نازل ہوئی اور افسر کو اُس کے 50 فوجیوں سمیت بھسم کر دیا۔$I E بادشاہ نے ایک اَور افسر کو الیاس کے پاس بھیج دیا۔ اُس کے ساتھ بھی 50 فوجی تھے۔ اُس کے پاس پہنچ کر افسر بولا، ”اے مردِ خدا، بادشاہ کہتے ہیں کہ فوراً اُتر آئیں۔“ LdML}M w تب رب کے فرشتے نے الیاس سے کہا، ”اِس سے مت ڈرنا بلکہ اِس کے ساتھ اُتر جا!“ چنانچہ الیاس اُٹھا اور افسر کے ساتھ اُتر کر بادشاہ کے پاس گیا۔L # دیکھیں، آگ نے آسمان سے نازل ہو کر پہلے دو افسروں کو اُن کے آدمیوں سمیت بھسم کر دیا ہے۔ لیکن براہِ کرم ہمارے ساتھ ایسا نہ کریں۔ میری جان کی قدر کریں۔“K - پھر بادشاہ نے تیسری بار ایک افسر کو 50 فوجیوں کے ساتھ الیاس کے پاس بھیج دیا۔ لیکن یہ افسر الیاس کے پاس اوپر چڑھ آیا اور اُس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر التماس کرنے لگا، ”اے مردِ خدا، میری اور اپنے اِن 50 خادموں کی جانوں کی قدر کریں۔ F)4?JU`kv#-7AKU_ju%0;FQ\gq|   )%2  *%3  +%4  ,%5  -%6  .%7  /%8  0%9  1%:  )%2  *%3  +%4  ,%5  -%6  .%7  /%8  0%9  1%:  2%;  3%<  4%=  5%>  %?   %@   %A   %B   %C   %D   %E   %F   %G   %H   %I   %J   %K   %L   %M   %N   %O   %P   %Q  %R  %S  %T  %U  %V  %W  %X   %Y   %Z   %[   %\   %]  %^  %_  %`  %a  %b  %c  %d  %e  %f  %g  %h  %i   %j  %k  %l  %m  %n  %o  %p  %q   %r   %s   %t   %u   %v  %w bO A وایسا ہی ہوا جیسا رب نے الیاس کی معرفت فرمایا تھا، اخزیاہ مر گیا۔ چونکہ اُس کا بیٹا نہیں تھا اِس لئے اُس کا بھائی یہورام یہوداہ کے بادشاہ یورام بن یہوسفط کی حکومت کے دوسرے سال میں تخت نشین ہوا۔]N 7 اُس نے بادشاہ سے کہا، ”رب فرماتا ہے، ’تُو نے اپنے قاصدوں کو عقرون کے دیوتا بعل زبوب سے دریافت کرنے کے لئے کیوں بھیجا؟ کیا اسرائیل میں کوئی خدا نہیں ہے؟ چونکہ تُو نے یہ کیا ہے اِس لئے جس بستر پر تُو پڑا ہے اُس سے تُو کبھی نہیں اُٹھنے کا۔ تُو یقیناً مر جائے گا‘۔“ /R راستے میں الیاس الیشع سے کہنے لگا، ”یہیں ٹھہر جائیں، کیونکہ رب نے مجھے بیت ایل بھیجا ہے۔“ لیکن الیشع نے انکار کیا، ”رب اور آپ کی حیات کی قَسم، مَیں آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔“ چنانچہ دونوں چلتے چلتے بیت ایل پہنچ گئے۔gQ K پھر وہ دن آیا جب رب نے الیاس کو آندھی میں آسمان پر اُٹھا لیا۔ اُس دن الیاس اور الیشع جِلجال شہر سے روانہ ہو کر سفر کر رہے تھے۔bP A باقی جو کچھ اخزیاہ کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔ jT دوبارہ الیاس اپنے ساتھی سے کہنے لگا، ”الیشع، یہیں ٹھہر جائیں، کیونکہ رب نے مجھے یریحو بھیجا ہے۔“ الیشع نے جواب دیا، ”رب اور آپ کی حیات کی قَسم، مَیں آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔“ چنانچہ دونوں چلتے چلتے یریحو پہنچ گئے۔S نبیوں کا جو گروہ وہاں رہتا تھا وہ شہر سے نکل کر اُن سے ملنے آیا۔ الیشع سے مخاطب ہو کر اُنہوں نے پوچھا، ”کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج رب آپ کے آقا کو آپ کے پاس سے اُٹھا لے جائے گا؟“ الیشع نے جواب دیا، ”جی، مجھے پتا ہے۔ خاموش!“ H)H]W5 پچاس نبی بھی اُن کے ساتھ چل پڑے۔ جب الیاس اور الیشع دریائے یردن کے کنارے پر پہنچے تو دوسرے اُن سے کچھ دُور کھڑے ہو گئے۔qV] الیاس تیسری بار الیشع سے کہنے لگا، ”یہیں ٹھہر جائیں، کیونکہ رب نے مجھے دریائے یردن کے پاس بھیجا ہے۔“ الیشع نے جواب دیا، ”رب اور آپ کی حیات کی قَسم، مَیں آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔“ چنانچہ دونوں آگے بڑھے۔^U7 نبیوں کا جو گروہ وہاں رہتا تھا اُس نے بھی الیشع کے پاس آ کر اُس سے پوچھا، ”کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج رب آپ کے آقا کو آپ کے پاس سے اُٹھا لے جائے گا؟“ الیشع نے جواب دیا، ”جی، مجھے پتا ہے۔ خاموش!“ 33[Z1  الیاس بولا، ”جو درخواست آپ نے کی ہے اُسے پورا کرنا مشکل ہے۔ اگر آپ مجھے اُس وقت دیکھ سکیں گے جب مجھے آپ کے پاس سے اُٹھا لیا جائے گا تو مطلب ہو گا کہ آپ کی درخواست پوری ہو گئی ہے، ورنہ نہیں۔“ZY/  دوسرے کنارے پر پہنچ کر الیاس نے الیشع سے کہا، ”میرے آپ کے پاس سے اُٹھا لئے جانے سے پہلے مجھے بتائیں کہ آپ کے لئے کیا کروں؟“ الیشع نے جواب دیا، ”مجھے آپ کی روح کا دُگنا حصہ میراث میں ملے۔“ X الیاس نے اپنی چادر اُتار کر اُسے لپیٹ لیا اور اُس کے ساتھ پانی پر مارا۔ پانی تقسیم ہوا، اور دونوں آدمی خشک زمین پر چلتے ہوئے دریا میں سے گزر گئے۔ yC^ چادر کو پانی پر مار کر وہ بولا، ”رب اور الیاس کا خدا کہاں ہے؟“ پانی تقسیم ہوا اور وہ بیچ میں سے گزر گیا۔]3  الیاس کی چادر زمین پر گر گئی تھی۔ الیشع اُسے اُٹھا کر دریائے یردن کے پاس واپس چلا۔:\o  یہ دیکھ کر الیشع چلّا اُٹھا، ”ہائے میرے باپ، میرے باپ! اسرائیل کے رتھ اور اُس کے گھوڑے!“ الیاس الیشع کی نظروں سے اوجھل ہوا تو الیشع نے غم کے مارے اپنے کپڑوں کو پھاڑ ڈالا۔E[  دونوں آپس میں باتیں کرتے ہوئے چل رہے تھے کہ اچانک ایک آتشیں رتھ نظر آیا جسے آتشیں گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ رتھ نے دونوں کو الگ کر دیا، اور الیاس کو آندھی میں آسمان پر اُٹھا لیا گیا۔ ~G` بولے، ”ہمارے 50 طاقت ور آدمی خدمت کے لئے حاضر ہیں۔ اگر اجازت ہو تو ہم اُنہیں بھیج دیں گے تاکہ وہ آپ کے آقا کو تلاش کریں۔ ہو سکتا ہے رب کے روح نے اُسے اُٹھا کر کسی پہاڑ یا وادی میں رکھ چھوڑا ہو۔“ الیشع نے منع کرنے کی کوشش کی، ”نہیں، اُنہیں مت بھیجنا۔“~_w یریحو سے آئے نبی اب تک دریا کے مغربی کنارے پر کھڑے تھے۔ جب اُنہوں نے الیشع کو اپنے پاس آتے ہوئے دیکھا تو پکار اُٹھے، ”الیاس کی روح الیشع پر ٹھہری ہوئی ہے!“ وہ اُس سے ملنے گئے اور اوندھے منہ اُس کے سامنے جھک کر rrncW ایک دن یریحو کے آدمی الیشع کے پاس آ کر شکایت کرنے لگے، ”ہمارے آقا، آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ اِس شہر میں اچھا گزارہ ہوتا ہے۔ لیکن پانی خراب ہے، اور نتیجے میں بہت دفعہ بچے ماں کے پیٹ میں ہی مر جاتے ہیں۔“Hb ہمت ہار کر وہ یریحو واپس آئے جہاں الیشع ٹھہرا ہوا تھا۔ اُس نے کہا، ”کیا مَیں نے نہیں کہا تھا کہ نہ جائیں؟“La لیکن اُنہوں نے یہاں تک اصرار کیا کہ آخرکار وہ مان گیا اور کہا، ”چلو، اُنہیں بھیج دیں۔“ اُنہوں نے 50 آدمیوں کو بھیج دیا جو تین دن تک الیاس کا کھوج لگاتے رہے۔ لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا۔ . f اُسی لمحے پانی بحال ہو گیا۔ الیشع کے کہنے کے مطابق یہ آج تک ٹھیک رہا ہے۔ e تو وہ اُسے لے کر شہر سے نکلا اور چشمے کے پاس گیا۔ وہاں اُس نے نمک کو پانی میں ڈال دیا اور ساتھ ساتھ کہا، ”رب فرماتا ہے کہ مَیں نے اِس پانی کو بحال کر دیا ہے۔ اب سے یہ کبھی موت یا بچوں کے ضائع ہونے کا باعث نہیں بنے گا۔“Nd الیشع نے حکم دیا، ”ایک غیراستعمال شدہ برتن میں نمک ڈال کر اُسے میرے پاس لے آئیں۔“ جب برتن اُس کے پاس لایا گیا #iA الیاس آگے نکلا اور چلتے چلتے کرمل پہاڑ کے پاس آیا۔ وہاں سے واپس آ کر سامریہ پہنچ گیا۔ h الیشع مُڑ گیا اور اُن پر نظر ڈال کر رب کے نام میں اُن پر لعنت بھیجی۔ تب دو ریچھنیاں جنگل سے نکل کر لڑکوں پر ٹوٹ پڑیں اور کُل 42 لڑکوں کو پھاڑ ڈالا۔Wg) یریحو سے الیشع بیت ایل کو واپس چلا گیا۔ جب وہ راستے پر چلتے ہوئے شہر سے گزر رہا تھا تو کچھ لڑکے شہر سے نکل آئے اور اُس کا مذاق اُڑا کر چلّانے لگے، ”اوئے گنجے، اِدھر آ! اوئے گنجے، اِدھر آ!“ pl[ توبھی وہ یرُبعام بن نباط کے اُن گناہوں کے ساتھ لپٹا رہا جو کرنے پر یرُبعام نے اسرائیل کو اُکسایا تھا۔ وہ کبھی اُن سے دُور نہ ہوا۔k' اُس کا چال چلن رب کو ناپسند تھا، اگرچہ وہ اپنے ماں باپ کی نسبت کچھ بہتر تھا۔ کیونکہ اُس نے بعل دیوتا کا وہ ستون دُور کر دیا جو اُس کے باپ نے بنوایا تھا۔j / اخی اب کا بیٹا یورام یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط کے 18ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اُس کی حکومت کا دورانیہ 12 سال تھا اور اُس کا دار الحکومت سامریہ رہا۔of flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| )g *i +l ,o -r .u /x 0{ 1 2 3 4 6 7 8 )g *i +l ,o -r .u /x 0{ 1 2 3 4 6 7 8 9 : ; < = >$ ?' @* A- B1 C5 D9 E< F? GA HC IE JH KJ LM NO OR PT QW RZ S^ T` Uc Vf Wi Xl Zo [q \s ]u ^w _{ `~ a b c d e f g i j k l m" n& o) p+ q. r0 s3 t6 u9 v; w= x@ yB zE {G |J }N ~R U X [ ^ a d g j k m o q s u w x z | ~         _}ou تب یورام بادشاہ نے سامریہ سے نکل کر تمام اسرائیلیوں کی بھرتی کی۔gnI لیکن جب اخی اب فوت ہوا تو موآب کا بادشاہ تابع نہ رہا۔3ma موآب کا بادشاہ میسا بھیڑیں رکھتا تھا، اور سالانہ اُسے بھیڑ کے ایک لاکھ بچے اور ایک لاکھ مینڈھے اُن کی اُون سمیت اسرائیل کے بادشاہ کو خراج کے طور پر ادا کرنے پڑتے تھے۔ +q5 ہم کس راستے سے جائیں؟“ یورام نے جواب دیا، ”ہم ادوم کے ریگستان سے ہو کر جائیں گے۔“Qp ساتھ ساتھ اُس نے یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط کو اطلاع دی، ”موآب کا بادشاہ سرکش ہو گیا ہے۔ کیا آپ میرے ساتھ اُس سے لڑنے جائیں گے؟“ یہوسفط نے جواب بھیجا، ”جی، مَیں آپ کے ساتھ جاؤں گا۔ ہم تو بھائی ہیں۔ میری قوم کو اپنی قوم اور میرے گھوڑوں کو اپنے گھوڑے سمجھیں۔ Ns  اسرائیل کا بادشاہ بولا، ”ہائے، رب ہمیں اِس لئے یہاں بُلا لایا ہے کہ ہم تینوں بادشاہوں کو موآب کے حوالے کرے۔“'rI  چنانچہ اسرائیل کا بادشاہ یہوداہ کے بادشاہ کے ساتھ مل کر روانہ ہوا۔ ملکِ ادوم کا بادشاہ بھی ساتھ تھا۔ اپنے منصوبے کے مطابق اُنہوں نے ریگستان کا راستہ اختیار کیا۔ لیکن چونکہ وہ سیدھے نہیں بلکہ متبادل راستے سے ہو کر گئے اِس لئے سات دن کے سفر کے بعد اُن کے پاس پانی نہ رہا، نہ اُن کے لئے، نہ جانوروں کے لئے۔ . u  یہوسفط بولا، ”رب کا کلام اُس کے پاس ہے۔“ تینوں بادشاہ الیشع کے پاس گئے۔Nt  لیکن یہوسفط نے سوال کیا، ”کیا یہاں رب کا کوئی نبی نہیں ہے جس کی معرفت ہم رب کی مرضی جان سکیں؟“ اسرائیل کے بادشاہ کے کسی افسر نے جواب دیا، ”ایک تو ہے، الیشع بن سافط جو الیاس کا قریبی شاگرد تھا، وہ اُس کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے کی خدمت انجام دیا کرتا تھا۔“ *twc الیشع نے کہا، ”رب الافواج کی حیات کی قَسم جس کی خدمت مَیں کرتا ہوں، اگر یہوداہ کا بادشاہ یہاں موجود نہ ہوتا تو پھر مَیں آپ کا لحاظ نہ کرتا بلکہ آپ کی طرف دیکھتا بھی نہ۔ لیکن مَیں یہوسفط کا خیال کرتا ہوں،Rv  لیکن الیشع نے اسرائیل کے بادشاہ سے کہا، ”میرا آپ کے ساتھ کیا واسطہ؟ اگر کوئی بات ہو تو اپنے ماں باپ کے نبیوں کے پاس جائیں۔“ اسرائیل کے بادشاہ نے جواب دیا، ”نہیں، ہم اِس لئے یہاں آئے ہیں کہ رب ہی ہم تینوں کو یہاں بُلا لایا ہے تاکہ ہمیں موآب کے حوالے کرے۔“ /N/{ لیکن یہ رب کے نزدیک کچھ نہیں ہے، وہ موآب کو بھی تمہارے حوالے کر دے گا۔wzi گو تم نہ ہَوا اور نہ بارش دیکھو گے توبھی وادی پانی سے بھر جائے گی۔ پانی اِتنا ہو گا کہ تم، تمہارے ریوڑ اور باقی تمام جانور پی سکیں گے۔y) اور اُس نے اعلان کیا، ”رب فرماتا ہے کہ اِس وادی میں ہر طرف گڑھوں کی کھدائی کرو۔.xW اِس لئے کسی کو بُلائیں جو سرود بجا سکے۔“ کوئی سرود بجانے لگا تو رب کا ہاتھ الیشع پر آ ٹھہرا، 5~e اِتنے میں تمام موآبیوں کو پتا چل گیا تھا کہ تینوں بادشاہ ہم سے لڑنے آ رہے ہیں۔ چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک جو بھی اپنی تلوار چلا سکتا تھا اُسے بُلا کر سرحد کی طرف بھیجا گیا۔u}e اگلی صبح تقریباً اُس وقت جب غلہ کی نذر پیش کی جاتی ہے ملکِ ادوم کی طرف سے سیلاب آیا، اور نتیجے میں وادی کے تمام گڑھے پانی سے بھر گئے۔!|= تم تمام قلعہ بند اور مرکزی شہروں پر فتح پاؤ گے۔ تم ملک کے تمام اچھے درختوں کو کاٹ کر تمام چشموں کو بند کرو گے اور تمام اچھے کھیتوں کو پتھروں سے خراب کرو گے۔“ 61T6/ لیکن جب وہ اسرائیلی لشکرگاہ کے قریب پہنچے تو اسرائیلی اُن پر ٹوٹ پڑے اور اُنہیں مار کر بھگا دیا۔ پھر اُنہوں نے اُن کے ملک میں داخل ہو کر موآب کو شکست دی۔Y- موآبی چلّانے لگے، ”یہ تو خون ہے! تینوں بادشاہوں نے آپس میں لڑ کر ایک دوسرے کو مار دیا ہو گا۔ آؤ، ہم اُن کو لُوٹ لیں!“K صبح سویرے جب موآبی لڑنے کے لئے تیار ہوئے تو طلوعِ آفتاب کی سرخ روشنی میں وادی کا پانی خون کی طرح سرخ نظر آیا۔ ccS! جب موآب کے بادشاہ نے جان لیا کہ مَیں شکست کھا رہا ہوں تو اُس نے تلواروں سے لیس 700 آدمیوں کو اپنے ساتھ لیا اور ادوم کے بادشاہ کے قریب دشمن کا محاصرہ توڑ کر نکلنے کی کوشش کی، لیکن بےفائدہ۔B چلتے چلتے اُنہوں نے تمام شہروں کو برباد کیا۔ جب بھی وہ کسی اچھے کھیت سے گزرے تو ہر سپاہی نے ایک پتھر اُس پر پھینک دیا۔ یوں تمام کھیت پتھروں سے بھر گئے۔ اسرائیلیوں نے تمام چشموں کو بھی بند کر دیا اور ہر اچھے درخت کو کاٹ ڈالا۔ آخر میں صرف قیرحراست قائم رہا۔ لیکن فلاخن چلانے والے اُس کا محاصرہ کر کے اُس پر حملہ کرنے لگے۔ @@\ 5 ایک دن ایک بیوہ الیشع کے پاس آئی جس کا شوہر جب زندہ تھا نبیوں کے گروہ میں شامل تھا۔ بیوہ چیختی چلّاتی الیشع سے مخاطب ہوئی، ”آپ جانتے ہیں کہ میرا شوہر جو آپ کی خدمت کرتا تھا اللہ کا خوف مانتا تھا۔ اب جب وہ فوت ہو گیا ہے تو اُس کا ایک ساہوکار آ کر دھمکی دے رہا ہے کہ اگر قرض ادا نہ کیا گیا تو مَیں تیرے دو بیٹوں کو غلام بنا کر لے جاؤں گا۔“\3 پھر اُس نے اپنے پہلوٹھے کو جسے اُس کے بعد بادشاہ بننا تھا لے کر فصیل پر اپنے دیوتا کے لئے قربان کر کے جلا دیا۔ تب اسرائیلیوں پر بڑا غضب نازل ہوا، اور وہ شہر کو چھوڑ کر اپنے ملک واپس چلے گئے۔ 0\3 پھر اپنے بیٹوں کے ساتھ گھر میں جا کر دروازے پر کنڈی لگائیں۔ تیل کا اپنا برتن لے کر تمام خالی برتنوں میں تیل اُنڈیلتی جائیں۔ جب ایک بھر جائے تو اُسے ایک طرف رکھ کر دوسرے کو بھرنا شروع کریں۔“:o الیشع بولا، ”جائیں، اپنی تمام پڑوسنوں سے خالی برتن مانگیں۔ لیکن دھیان رکھیں کہ تھوڑے برتن نہ ہوں! الیشع نے پوچھا، ”مَیں کس طرح آپ کی مدد کروں؟ بتائیں، گھر میں آپ کے پاس کیا ہے؟“ بیوہ نے جواب دیا، ”کچھ نہیں، صرف زیتون کے تیل کا چھوٹا سا برتن۔“ VVr _ جب بیوہ نے مردِ خدا کے پاس جا کر اُسے اطلاع دی تو الیشع نے کہا، ”اب جا کر تیل کو بیچ دیں اور قرضے کے پیسے جمع کرائیں۔ جو بچ جائے اُسے آپ اور آپ کے بیٹے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔“ - برتنوں میں تیل ڈلتے ڈلتے سب لبالب بھر گئے۔ ماں بولی، ”مجھے ایک اَور برتن دے دو“ تو ایک لڑکے نے جواب دیا، ”اَور کوئی نہیں ہے۔“ تب تیل کا سلسلہ رُک گیا۔ ! بیوہ نے جا کر ایسا ہی کیا۔ وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ گھر میں گئی اور دروازے پر کنڈی لگائی۔ بیٹے اُسے خالی برتن دیتے گئے اور ماں اُن میں تیل اُنڈیلتی گئی۔ ;;vg  ایک دن جب الیشع آیا تو وہ اپنے کمرے میں جا کر بستر پر لیٹ گیا۔)  کیوں نہ ہم اُس کے لئے چھت پر چھوٹا سا کمرا بنا کر اُس میں چارپائی، میز، کرسی اور شمع دان رکھیں۔ پھر جب بھی وہ ہمارے پاس آئے تو وہ اُس میں ٹھہر سکتا ہے۔“Y -  ایک دن عورت نے اپنے شوہر سے بات کی، ”مَیں نے جان لیا ہے کہ جو آدمی ہمارے ہاں آتا رہتا ہے وہ اللہ کا مُقدّس پیغمبر ہے۔P  ایک دن الیشع شونیم گیا۔ وہاں ایک امیر عورت رہتی تھی جس نے زبردستی اُسے اپنے گھر بٹھا کر کھانا کھلایا۔ بعد میں جب کبھی الیشع وہاں سے گزرتا تو وہ کھانے کے لئے اُس عورت کے گھر ٹھہر جاتا۔ MIkM/ بعد میں الیشع نے جیحازی سے بات کی، ”ہم اُس کے لئے کیا کریں؟“ جیحازی نے جواب دیا، ”ایک بات تو ہے۔ اُس کا کوئی بیٹا نہیں، اور اُس کا شوہر کافی بوڑھا ہے۔“Z/  تو الیشع نے جیحازی سے کہا، ”اُسے بتا دینا کہ آپ نے ہمارے لئے بہت تکلیف اُٹھائی ہے۔ اب ہم آپ کے لئے کیا کچھ کریں؟ کیا ہم بادشاہ یا فوج کے کمانڈر سے بات کر کے آپ کی سفارش کریں؟“ عورت نے جواب دیا، ”نہیں، اِس کی ضرورت نہیں۔ مَیں اپنے ہی لوگوں کے درمیان رہتی ہوں۔“3a  اُس نے اپنے نوکر جیحازی سے کہا، ”شونیمی میزبان کو بُلا لاؤ۔“ جب وہ آ کر اُس کے سامنے کھڑی ہوئی E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr|  %y  %z  %{  %|  %}  %~  %  %  %  %y  %z  %{  %|  %}  %~  %  %  %  %  %  %   %  %  %  %  %  %  %  %   %   %   %   %   %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %   %  !%  "%  #%  $%  %%  &%  '%  (%  )%  *%  +%  ,%   %  %  %  %  %  %  %  %   %   %   %   %   % Ob? بچہ پروان چڑھا، اور ایک دن وہ گھر سے نکل کر کھیت میں اپنے باپ کے پاس گیا جو فصل کی کٹائی کرنے والوں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ لیکن ایسا ہی ہوا۔ کچھ دیر کے بعد عورت کا پاؤں بھاری ہو گیا، اور عین ایک سال کے بعد اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا الیشع نے کہا تھا۔4c ”اگلے سال اِسی وقت آپ کا اپنا بیٹا آپ کی گود میں ہو گا۔“ شونیمی عورت نے اعتراض کیا، ”نہیں نہیں، میرے آقا۔ مردِ خدا ایسی باتیں کر کے اپنی خادمہ کو جھوٹی تسلی مت دیں۔“-U الیشع بولا، ”اُسے واپس بُلاؤ۔“ عورت واپس آ کر دروازے میں کھڑی ہو گئی۔ الیشع نے اُس سے کہا، i usi اور اپنے شوہر کو بُلوا کر کہا، ”ذرا ایک نوکر اور ایک گدھی میرے پاس بھیج دیں۔ مجھے فوراً مردِ خدا کے پاس جانا ہے۔ مَیں جلد ہی واپس آ جاؤں گی۔“~w ماں لڑکے کی لاش کو لے کر چھت پر چڑھ گئی۔ مردِ خدا کے کمرے میں جا کر اُس نے اُسے اُس کے بستر پر لٹا دیا۔ پھر دروازے کو بند کر کے وہ باہر نکلی'I نوکر اُسے اُٹھا کر لے گیا، اور وہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھا رہا۔ لیکن دوپہر کو وہ مر گیا۔\3 اچانک لڑکا چیخنے لگا، ”ہائے میرا سر، ہائے میرا سر!“ باپ نے کسی ملازم کو بتایا، ”لڑکے کو اُٹھا کر ماں کے پاس لے جاؤ۔“ " چلتے چلتے وہ کرمل پہاڑ کے پاس پہنچ گئے جہاں مردِ خدا الیشع تھا۔ اُسے دُور سے دیکھ کر الیشع جیحازی سے کہنے لگا، ”دیکھو، شونیم کی عورت آ رہی ہے!nW گدھی پر زِین کس کر اُس نے نوکر کو حکم دیا، ”گدھی کو تیز چلا تاکہ ہم جلدی پہنچ جائیں۔ جب مَیں کہوں گی تب ہی رُکنا ہے، ورنہ نہیں۔“hK شوہر نے حیران ہو کر پوچھا، ”آج اُس کے پاس کیوں جانا ہے؟ نہ تو نئے چاند کی عید ہے، نہ سبت کا دن۔“ بیوی نے کہا، ”سب خیریت ہے۔“ ue لیکن جوں ہی وہ پہاڑ کے پاس پہنچ گئی تو الیشع کے سامنے گر کر اُس کے پاؤں سے چمٹ گئی۔ یہ دیکھ کر جیحازی اُسے ہٹانے کے لئے قریب آیا، لیکن مردِ خدا بولا، ”چھوڑ دو! کوئی بات اِسے بہت تکلیف دے رہی ہے، لیکن رب نے وجہ مجھ سے چھپائے رکھی ہے۔ اُس نے مجھے اِس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔“  بھاگ کر اُس کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ کیا آپ، آپ کا شوہر اور بچہ ٹھیک ہیں؟“ جیحازی نے جا کر اُس کا حال پوچھا تو عورت نے جواب دیا، ”جی، سب ٹھیک ہے۔“ ("% لیکن ماں نے اعتراض کیا، ”رب کی اور آپ کی حیات کی قَسم، آپ کے بغیر مَیں گھر واپس نہیں جاؤں گی۔“ چنانچہ الیشع بھی اُٹھا اور عورت کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔U!% تب الیشع نے نوکر کو حکم دیا، ”جیحازی، سفر کے لئے کمربسہ ہو کر میری لاٹھی کو لے لو اور بھاگ کر شونیم پہنچو۔ اگر راستے میں کسی سے ملو تو اُسے سلام تک نہ کرنا، اور اگر کوئی سلام کہے تو اُسے جواب مت دینا۔ جب وہاں پہنچو گے تو میری لاٹھی لڑکے کے چہرے پر رکھ دینا۔“{ q پھر شونیمی عورت بول اُٹھی، ”میرے آقا، کیا مَیں نے آپ سے بیٹے کی درخواست کی تھی؟ کیا مَیں نے نہیں کہا تھا کہ مجھے غلط اُمید نہ دلائیں؟“ 00O& "پھر وہ لڑکے پر لیٹ گیا، یوں کہ اُس کا منہ بچے کے منہ سے، اُس کی آنکھیں بچے کی آنکھوں سے اور اُس کے ہاتھ بچے کے ہاتھوں سے لگ گئے۔ اور جوں ہی وہ لڑکے پر جھک گیا تو اُس کا جسم گرم ہونے لگا۔~%w !وہ اکیلا ہی اندر گیا اور دروازے پر کنڈی لگا کر رب سے دعا کرنے لگا۔$  جب الیشع پہنچ گیا تو لڑکا اب تک مُردہ حالت میں اُس کے بستر پر پڑا تھا۔o#Y جیحازی بھاگ بھاگ کر اُن سے پہلے پہنچ گیا اور لاٹھی کو لڑکے کے چہرے پر رکھ دیا۔ لیکن کچھ نہ ہوا۔ نہ کوئی آواز سنائی دی، نہ کوئی حرکت ہوئی۔ وہ الیشع کے پاس واپس آیا اور بولا، ”لڑکا ابھی تک مُردہ ہی ہے۔“ **/)Y %وہ آئی اور الیشع کے سامنے اوندھے منہ جھک گئی، پھر اپنے بیٹے کو اُٹھا کر کمرے سے باہر چلی گئی۔( $الیشع نے جیحازی کو آواز دے کر کہا، ”شونیمی عورت کو بُلا لاؤ۔“ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو الیشع بولا، ”آئیں، اپنے بیٹے کو اُٹھا کر لے جائیں۔“'' #الیشع کھڑا ہوا اور گھر میں اِدھر اُدھر پھرنے لگا۔ پھر وہ ایک اَور مرتبہ لڑکے پر لیٹ گیا۔ اِس دفعہ لڑکے نے سات بار چھینکیں مار کر اپنی آنکھیں کھول دیں۔ .+W 'ایک آدمی باہر نکل کر کھلے میدان میں کدو ڈھونڈنے گیا۔ کہیں ایک بیل نظر آئی جس پر کدو جیسی کوئی سبزی لگی تھی۔ اِن کدوؤں سے اپنی چادر بھر کر وہ واپس آیا اور اُنہیں کاٹ کاٹ کر دیگ میں ڈال دیا، حالانکہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ کیا چیز ہے۔M* &الیشع جِلجال کو لوٹ آیا۔ اُن دنوں میں ملک کال کی گرفت میں تھا۔ ایک دن جب نبیوں کا گروہ اُس کے سامنے بیٹھا تھا تو اُس نے اپنے نوکر کو حکم دیا، ”بڑی دیگ لے کر نبیوں کے لئے کچھ پکا لو۔“ $.C *ایک اَور موقع پر کسی آدمی نے بعل سلیسہ سے آ کر مردِ خدا کو نئی فصل کے جَو کی 20 روٹیاں اور کچھ اناج دے دیا۔ الیشع نے جیحازی کو حکم دیا، ”اِسے لوگوں کو کھلا دو۔“--U )الیشع نے حکم دیا، ”مجھے کچھ میدہ لا کر دیں۔“ پھر اُسے دیگ میں ڈال کر بولا، ”اب اِسے لوگوں کو کھلا دیں۔“ اب کھانا کھانے کے قابل تھا اور اُنہیں نقصان نہ پہنچا سکا۔, (سالن پک کر نبیوں میں تقسیم ہوا۔ لیکن اُسے چکھتے ہی وہ چیخنے لگے، ”مردِ خدا، سالن میں زہر ہے! اِسے کھا کر بندہ مر جائے گا۔“ وہ اُسے بالکل نہ کھا سکے۔ nn0 ,اور ایسا ہی ہوا۔ جب نوکر نے آدمیوں میں کھانا تقسیم کیا تو اُنہوں نے جی بھر کر کھایا، بلکہ کچھ کھانا بچ بھی گیا۔ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے فرمایا تھا۔ {/q +جیحازی حیران ہو کر بولا، ”یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ تو 100 آدمیوں کے لئے کافی نہیں ہے۔“ لیکن الیشع نے اصرار کیا، ”اِسے لوگوں میں تقسیم کر دو، کیونکہ رب فرماتا ہے کہ وہ جی بھر کر کھائیں گے بلکہ کچھ بچ بھی جائے گا۔“ 'R'[31 ایک دن اُس نے اپنی مالکن سے بات کی، ”کاش میرا آقا اُس نبی سے ملنے جاتا جو سامریہ میں رہتا ہے۔ وہ اُسے ضرور شفا دیتا۔“H2 نعمان کے گھر میں ایک اسرائیلی لڑکی رہتی تھی۔ کسی وقت جب شام کے فوجیوں نے اسرائیل پر چھاپہ مارا تھا تو وہ اُسے گرفتار کر کے یہاں لے آئے تھے۔ اب لڑکی نعمان کی بیوی کی خدمت کرتی تھی۔*1 Q اُس وقت شام کی فوج کا کمانڈر نعمان تھا۔ بادشاہ اُس کی بہت قدر کرتا تھا، اور دوسرے بھی اُس کی خاص عزت کرتے تھے، کیونکہ رب نے اُس کی معرفت شام کے دشمنوں پر فتح بخشی تھی۔ لیکن زبردست فوجی ہونے کے باوجود وہ سنگین جِلدی بیماری کا مریض تھا۔ A6} جو خط وہ ساتھ لے کر گیا اُس میں لکھا تھا، ”جو آدمی آپ کو یہ خط پہنچا رہا ہے وہ میرا خادم نعمان ہے۔ مَیں نے اُسے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ اُسے اُس کی جِلدی بیماری سے شفا دیں۔“z5o بادشاہ بولا، ”ضرور جائیں اور اُس نبی سے ملیں۔ مَیں آپ کے ہاتھ اسرائیل کے بادشاہ کو سفارشی خط بھیج دوں گا۔“ چنانچہ نعمان روانہ ہوا۔ اُس کے پاس تقریباً 340 کلو گرام چاندی، 68 کلو گرام سونا اور 10 قیمتی سوٹ تھے۔n4W یہ سن کر نعمان نے بادشاہ کے پاس جا کر لڑکی کی بات دہرائی۔ D$Dv9g  تب نعمان اپنے رتھ پر سوار الیشع کے گھر کے دروازے پر پہنچ گیا۔c8A جب الیشع کو خبر ملی کہ بادشاہ نے گھبرا کر اپنے کپڑے پھاڑ لئے ہیں تو اُس نے یورام کو پیغام بھیجا، ”آپ نے اپنے کپڑے کیوں پھاڑ لئے؟ آدمی کو میرے پاس بھیج دیں تو وہ جان لے گا کہ اسرائیل میں نبی ہے۔“X7+ خط پڑھ کر یورام نے رنجش کے مارے اپنے کپڑے پھاڑے اور پکارا، ”اِس آدمی نے مریض کو میرے پاس بھیج دیا ہے تاکہ مَیں اُسے شفا دوں! کیا مَیں اللہ ہوں کہ کسی کو جان سے ماروں یا اُسے زندہ کروں؟ اب غور کریں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح میرے ساتھ جھگڑنے کا موقع ڈھونڈ رہا ہے۔“ @@&;G  یہ سن کر نعمان کو غصہ آیا اور وہ یہ کہہ کر چلا گیا، ”مَیں نے سوچا کہ وہ کم از کم باہر آ کر مجھ سے ملے گا۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ میرے سامنے کھڑے ہو کر رب اپنے خدا کا نام پکارتا اور اپنا ہاتھ بیمار جگہ کے اوپر ہلا ہلا کر مجھے شفا دیتا۔:  الیشع خود نہ نکلا بلکہ کسی کو باہر بھیج کر اطلاع دی، ”جا کر سات بار دریائے یردن میں نہا لیں۔ پھر آپ کے جسم کو شفا ملے گی اور آپ پاک صاف ہو جائیں گے۔“ =+  لیکن اُس کے ملازموں نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی۔ ”ہمارے آقا، اگر نبی آپ سے کسی مشکل کام کا تقاضا کرتا تو کیا آپ وہ کرنے کے لئے تیار نہ ہوتے؟ اب جبکہ اُس نے صرف یہ کہا ہے کہ نہا کر پاک صاف ہو جائیں تو آپ کو یہ ضرور کرنا چاہئے۔“O<  کیا دمشق کے دریا ابانہ اور فرفر تمام اسرائیلی دریاؤں سے بہتر نہیں ہیں؟ اگر نہانے کی ضرورت ہے تو مَیں کیوں نہ اُن میں نہا کر پاک صاف ہو جاؤں؟“ یوں بڑبڑاتے ہوئے وہ بڑے غصے میں چلا گیا۔ 1Q1@3 لیکن الیشع نے انکار کیا، ”رب کی حیات کی قَسم جس کی خدمت مَیں کرتا ہوں، مَیں کچھ نہیں لوں گا۔“ نعمان اصرار کرتا رہا، توبھی وہ کچھ لینے کے لئے تیار نہ ہوا۔t?c تب نعمان اپنے تمام ملازموں کے ساتھ مردِ خدا کے پاس واپس گیا۔ اُس کے سامنے کھڑے ہو کر اُس نے کہا، ”اب مَیں جان گیا ہوں کہ اسرائیل کے خدا کے سوا پوری دنیا میں خدا نہیں ہے۔ ذرا اپنے خادم سے تحفہ قبول کریں۔“3>a آخرکار نعمان مان گیا اور یردن کی وادی میں اُتر گیا۔ دریا پر پہنچ کر اُس نے سات بار اُس میں ڈُبکی لگائی اور واقعی اُس کا جسم لڑکے کے جسم جیسا صحت مند اور پاک صاف ہو گیا۔   5Be لیکن رب مجھے ایک بات کے لئے معاف کرے۔ جب میرا بادشاہ پوجا کرنے کے لئے رِمّون کے مندر میں جاتا ہے تو میرے بازو کا سہارا لیتا ہے۔ یوں مجھے بھی اُس کے ساتھ جھک جانا پڑتا ہے جب وہ بُت کے سامنے اوندھے منہ جھک جاتا ہے۔ رب میری یہ حرکت معاف کر دے۔“6Ag آخرکار نعمان مان گیا۔ اُس نے کہا، ”ٹھیک ہے، لیکن مجھے ذرا ایک کام کرنے کی اجازت دیں۔ مَیں یہاں سے اِتنی مٹی اپنے گھر لے جانا چاہتا ہوں جتنی دو خچر اُٹھا کر لے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ آئندہ مَیں اُس پر رب کو بھسم ہونے والی اور ذبح کی قربانیاں چڑھانا چاہتا ہوں۔ اب سے مَیں کسی اَور معبود کو قربانیاں پیش نہیں کروں گا۔ qE] چنانچہ جیحازی نعمان کے پیچھے بھاگا۔ جب نعمان نے اُسے دیکھا تو وہ رتھ سے اُتر کر جیحازی سے ملنے گیا اور پوچھا، ”کیا سب خیریت ہے؟“9Dm تو کچھ دیر کے بعد الیشع کا نوکر جیحازی سوچنے لگا، ”میرے آقا نے شام کے اِس بندے نعمان پر حد سے زیادہ نرم دلی کا اظہار کیا ہے۔ چاہئے تو تھا کہ وہ اُس کے تحفے قبول کر لیتا۔ رب کی حیات کی قَسم، مَیں اُس کے پیچھے دوڑ کر کچھ نہ کچھ اُس سے لے لوں گا۔“lCS الیشع نے جواب دیا، ”سلامتی سے جائیں۔“ نعمان روانہ ہوا ^zGo نعمان بولا، ”ضرور، بلکہ 68 کلو گرام چاندی لے لیں۔“ اِس بات پر وہ بضد رہا۔ اُس نے 68 کلو گرام چاندی بوریوں میں لپیٹ لی، دو سوٹ چن لئے اور سب کچھ اپنے دو نوکروں کو دے دیا تاکہ وہ سامان جیحازی کے آگے آگے لے چلیں۔F7 جیحازی نے جواب دیا، ”جی، سب خیریت ہے۔ میرے آقا نے مجھے آپ کو اطلاع دینے بھیجا ہے کہ ابھی ابھی نبیوں کے گروہ کے دو جوان افرائیم کے پہاڑی علاقے سے میرے پاس آئے ہیں۔ مہربانی کر کے اُنہیں 34 کلو گرام چاندی اور دو قیمتی سوٹ دے دیں۔“ zz J لیکن الیشع نے اعتراض کیا، ”کیا میری روح تمہارے ساتھ نہیں تھی جب نعمان اپنے رتھ سے اُتر کر تم سے ملنے آیا؟ کیا آج چاندی، کپڑے، زیتون اور انگور کے باغ، بھیڑبکریاں، گائےبَیل، نوکر اور نوکرانیاں حاصل کرنے کا وقت تھا؟rI_ پھر وہ جا کر الیشع کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ الیشع نے پوچھا، ”جیحازی، تم کہاں سے آئے ہو؟“ اُس نے جواب دیا، ”مَیں کہیں نہیں گیا تھا۔“Hy جب وہ اُس پہاڑ کے دامن میں پہنچے جہاں الیشع رہتا تھا تو جیحازی نے سامان نوکروں سے لے کر اپنے گھر میں رکھ چھوڑا، پھر دونوں کو رُخصت کر دیا۔ ~~wNi کسی نے گزارش کی، ”براہِ کرم ہمارے ساتھ چلیں۔“ نبی راضی ہو کرsMa کیوں نہ ہم دریائے یردن پر جائیں اور ہر آدمی وہاں سے شہتیر لے آئے تاکہ ہم رہنے کی نئی جگہ بنا سکیں۔“ الیشع بولا، ”ٹھیک ہے، جائیں۔“aL ? ایک دن کچھ نبی الیشع کے پاس آ کر شکایت کرنے لگے، ”جس تنگ جگہ پر ہم آپ کے پاس آ کر ٹھہرے ہیں اُس میں ہمارے لئے رہنا مشکل ہے۔(KK اب نعمان کی جِلدی بیماری ہمیشہ تک تمہیں اور تمہاری اولاد کو لگی رہے گی۔“ جب جیحازی کمرے سے نکلا تو جِلدی بیماری اُسے لگ چکی تھی۔ وہ برف کی طرح سفید ہو گیا تھا۔ uc4R' الیشع بولا، ”اِسے پانی سے نکال لو!“ آدمی نے اپنا ہاتھ بڑھا کر لوہے کو پکڑ لیا۔+QQ الیشع نے سوال کیا، ”لوہا کہاں پانی میں گرا؟“ آدمی نے اُسے جگہ دکھائی تو نبی نے کسی درخت سے شاخ کاٹ کر پانی میں پھینک دی۔ اچانک لوہا پانی کی سطح پر آ کر تیرنے لگا۔P کاٹتے کاٹتے اچانک کسی کی کلہاڑی کا لوہا پانی میں گر گیا۔ وہ چلّا اُٹھا، ”ہائے میرے آقا! یہ میرا نہیں تھا، مَیں نے تو اُسے کسی سے اُدھار لیا تھا۔“O اُن کے ساتھ روانہ ہوا۔ دریائے یردن کے پاس پہنچتے ہی وہ درخت کاٹنے لگے۔ (.(U  تب اسرائیل کا بادشاہ اپنے لوگوں کو مذکورہ جگہ پر بھیجتا اور وہاں سے گزرنے سے محتاط رہتا تھا۔ ایسا نہ صرف ایک یا دو دفعہ بلکہ کئی مرتبہ ہوا۔^T7  تو فوراً مردِ خدا اسرائیل کے بادشاہ کو آگاہ کرتا، ”فلاں جگہ سے مت گزرنا، کیونکہ شام کے فوجی وہاں گھات میں بیٹھے ہیں۔“lSS شام اور اسرائیل کے درمیان جنگ تھی۔ جب کبھی بادشاہ اپنے افسروں سے مشورہ کر کے کہتا، ”ہم فلاں فلاں جگہ اپنی لشکرگاہ لگا لیں گے“ ixi X  بادشاہ نے حکم دیا، ”جائیں، اُس کا پتا کریں تاکہ ہم اپنے فوجیوں کو بھیج کر اُسے پکڑ لیں۔“ بادشاہ کو اطلاع دی گئی کہ الیشع دوتین نامی شہر میں ہے۔cWA  کسی افسر نے جواب دیا، ”میرے آقا اور بادشاہ، ہم میں سے کوئی نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل کا نبی الیشع اسرائیل کے بادشاہ کو وہ باتیں بھی بتا دیتا ہے جو آپ اپنے سونے کے کمرے میں بیان کرتے ہیں۔“V5  آخرکار شام کے بادشاہ نے بہت رنجیدہ ہو کر اپنے افسروں کو بُلایا اور پوچھا، ”کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ ہم میں سے کون اسرائیل کے بادشاہ کا ساتھ دیتا ہے؟“ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr}  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %   %  %  %  %  %  %  %  %   %   %   %   %   %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %  %   %  !%   %  %  %  %  %  %  %  %   %   %   %   %   %  %  %  %  %  %  %  &   &  &  & 6G[ لیکن الیشع نے اُسے تسلی دی، ”ڈرو مت! جو ہمارے ساتھ ہیں وہ اُن کی نسبت کہیں زیادہ ہیں جو دشمن کے ساتھ ہیں۔“cZA جب الیشع کا نوکر صبح سویرے جاگ اُٹھا اور گھر سے نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ پورا شہر ایک بڑی فوج سے گھرا ہوا ہے جس میں رتھ اور گھوڑے بھی شامل ہیں۔ اُس نے الیشع سے کہا، ”ہائے میرے آقا، ہم کیا کریں؟“FY اُس نے فوراً ایک بڑی فوج رتھوں اور گھوڑوں سمیت وہاں بھیج دی۔ اُنہوں نے رات کے وقت پہنچ کر شہر کو گھیر لیا۔ LLv^g پھر الیشع اُن کے پاس گیا اور کہا، ”یہ راستہ صحیح نہیں۔ آپ غلط شہر کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ میرے پیچھے ہو لیں تو مَیں آپ کو اُس آدمی کے پاس پہنچا دوں گا جسے آپ ڈھونڈ رہے ہیں۔“ یہ کہہ کر وہ اُنہیں سامریہ لے گیا۔`]; جب دشمن الیشع کی طرف بڑھنے لگا تو اُس نے دعا کی، ”اے رب، اِن کو اندھا کر دے!“ رب نے الیشع کی سنی اور اُنہیں اندھا کر دیا۔R\ پھر اُس نے دعا کی، ”اے رب، نوکر کی آنکھیں کھول تاکہ وہ دیکھ سکے۔“ رب نے الیشع کے نوکر کی آنکھیں کھول دیں تو اُس نے دیکھا کہ پہاڑ پر الیشع کے ارد گرد آتشیں گھوڑے اور رتھ پھیلے ہوئے ہیں۔ -aU لیکن الیشع نے منع کیا، ”ایسا مت کریں۔ کیا آپ اپنے جنگی قیدیوں کو مار دیتے ہیں؟ نہیں، اُنہیں کھانا کھلائیں، پانی پلائیں اور پھر اُن کے مالک کے پاس واپس بھیج دیں۔“y`m جب اسرائیل کے بادشاہ نے اپنے دشمنوں کو دیکھا تو اُس نے الیشع سے پوچھا، ”میرے باپ، کیا مَیں اُنہیں مار دوں؟ کیا مَیں اُنہیں مار دوں؟“M_ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو الیشع نے دعا کی، ”اے رب، فوجیوں کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ دیکھ سکیں۔“ تب رب نے اُن کی آنکھیں کھول دیں، اور اُنہیں معلوم ہوا کہ ہم سامریہ میں پھنس گئے ہیں۔ gdI نتیجے میں شہر میں شدید کال پڑا۔ آخر میں گدھے کا سر چاندی کے 80 سکوں میں اور کبوتر کی مٹھی بھر بیٹ چاندی کے 5 سکوں میں ملتی تھی۔Bc کچھ دیر کے بعد شام کا بادشاہ بن ہدد اپنی پوری فوج جمع کر کے اسرائیل پر چڑھ آیا اور سامریہ کا محاصرہ کیا۔Yb- چنانچہ بادشاہ نے اُن کے لئے بڑی ضیافت کا اہتمام کیا اور کھانے پینے سے فارغ ہونے پر اُنہیں اُن کے مالک کے پاس واپس بھیج دیا۔ اِس کے بعد اسرائیل پر شام کی طرف سے لُوٹ مار کے چھاپے بند ہو گئے۔ aaAg} پھر بھی مجھے بتائیں، مسئلہ کیا ہے؟“ عورت بولی، ”اِس عورت نے مجھ سے کہا تھا، ’آئیں، آج آپ اپنے بیٹے کو قربان کریں تاکہ ہم اُسے کھا لیں، تو پھر کل ہم میرے بیٹے کو کھا لیں گے۔‘Vf' بادشاہ نے جواب دیا، ”اگر رب آپ کی مدد نہیں کرتا تو مَیں کس طرح آپ کی مدد کروں؟ نہ مَیں گاہنے کی جگہ جا کر آپ کو اناج دے سکتا ہوں، نہ انگور کا رس نکالنے کی جگہ جا کر آپ کو رس پہنچا سکتا ہوں۔|es ایک دن اسرائیل کا بادشاہ یورام شہر کی فصیل پر سیر کر رہا تھا تو ایک عورت نے اُس سے التماس کی، ”اے میرے آقا اور بادشاہ، میری مدد کیجئے۔“ **j9 اُس نے پکارا، ”اللہ مجھے سخت سزا دے اگر مَیں الیشع بن سافط کا آج ہی سر قلم نہ کروں!“i+ یہ سن کر بادشاہ نے رنجش کے مارے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ چونکہ وہ ابھی تک فصیل پر کھڑا تھا اِس لئے سب لوگوں کو نظر آیا کہ کپڑوں کے نیچے وہ ٹاٹ پہنے ہوئے تھا۔h! چنانچہ ہم نے میرے بیٹے کو پکا کر کھا لیا۔ اگلے دن مَیں نے اُس سے کہا، ’اب اپنے بیٹے کو دے دیں تاکہ اُسے بھی کھا لیں۔‘ لیکن اُس نے اُسے چھپائے رکھا۔“ 33Ik  اُس نے ایک آدمی کو الیشع کے پاس بھیجا اور خود بھی اُس کے پیچھے چل پڑا۔ الیشع اُس وقت گھر میں تھا، اور شہر کے بزرگ اُس کے پاس بیٹھے تھے۔ بادشاہ کا قاصد ابھی راستے میں تھا کہ الیشع بزرگوں سے کہنے لگا، ”اب دھیان کریں، اِس قاتل بادشاہ نے کسی کو میرا سر قلم کرنے کے لئے بھیج دیا ہے۔ اُسے اندر آنے نہ دیں بلکہ دروازے پر کنڈی لگائیں۔ اُس کے پیچھے پیچھے اُس کے مالک کے قدموں کی آہٹ بھی سنائی دے رہی ہے۔“ $m E تب الیشع بولا، ”رب کا فرمان سنیں! رب فرماتا ہے کہ کل اِسی وقت شہر کے دروازے پر ساڑھے 5 کلو گرام بہترین میدہ اور 11 کلو گرام جَو چاندی کے ایک سکے کے لئے بِکے گا۔“Il !الیشع ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ قاصد پہنچ گیا اور اُس کے پیچھے بادشاہ بھی۔ بادشاہ بولا، ”رب ہی نے ہمیں اِس مصیبت میں پھنسا دیا ہے۔ مَیں مزید اُس کی مدد کے انتظار میں کیوں رہوں؟“ \R\ro_ شہر سے باہر دروازے کے قریب کوڑھ کے چار مریض بیٹھے تھے۔ اب یہ آدمی ایک دوسرے سے کہنے لگے، ”ہم یہاں بیٹھ کر موت کا انتظار کیوں کریں؟*nO جس افسر کے بازو کا سہارا بادشاہ لیتا تھا وہ مردِ خدا کی بات سن کر بول اُٹھا، ”یہ ناممکن ہے، خواہ رب آسمان کے دریچے کیوں نہ کھول دے۔“ الیشع نے جواب دیا، ”آپ اپنی آنکھوں سے اِس کا مشاہدہ کریں گے، لیکن خود اُس میں سے کچھ نہ کھائیں گے۔“ --5qe شام کے دُھندلکے میں وہ روانہ ہوئے۔ لیکن جب لشکرگاہ کے کنارے تک پہنچے تو ایک بھی آدمی نظر نہ آیا۔p' شہر میں کال ہے۔ اگر اُس میں جائیں تو بھوکے مر جائیں گے، لیکن یہاں رہنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو کیوں نہ ہم شام کی لشکرگاہ میں جا کر اپنے آپ کو اُن کے حوالے کریں۔ اگر وہ ہمیں زندہ رہنے دیں تو اچھا رہے گا، اور اگر وہ ہمیں قتل بھی کر دیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہاں رہ کر بھی ہمیں مرنا ہی ہے۔“ sss3 ڈر کے مارے وہ شام کے دُھندلکے میں فرار ہو گئے تھے۔ اُن کے خیمے، گھوڑے، گدھے بلکہ پوری لشکرگاہ پیچھے رہ گئی تھی جبکہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ گئے تھے۔irM کیونکہ رب نے شام کے فوجیوں کو رتھوں، گھوڑوں اور ایک بڑی فوج کا شور سنا دیا تھا۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے، ”اسرائیل کے بادشاہ نے حِتّی اور مصری بادشاہوں کو اُجرت پر بُلایا تاکہ وہ ہم پر حملہ کریں!“ N&uG  لیکن پھر وہ آپس میں کہنے لگے، ”جو کچھ ہم کر رہے ہیں ٹھیک نہیں۔ آج خوشی کا دن ہے، اور ہم یہ خوش خبری دوسروں تک نہیں پہنچا رہے۔ اگر ہم صبح تک انتظار کریں تو قصوروار ٹھہریں گے۔ آئیں، ہم فوراً واپس جا کر بادشاہ کے گھرانے کو اطلاع دیں۔“.tW جب کوڑھی لشکرگاہ میں داخل ہوئے تو اُنہوں نے ایک خیمے میں جا کر جی بھر کر کھانا کھایا اور مَے پی۔ پھر اُنہوں نے سونا، چاندی اور کپڑے اُٹھا کر کہیں چھپا دیئے۔ وہ واپس آ کر کسی اَور خیمے میں گئے اور اُس کا سامان جمع کر کے اُسے بھی چھپا دیا۔ ^'^Ew  دروازے کے پہرے داروں نے آواز دے کر دوسروں کو خبر پہنچائی تو شہر کے اندر بادشاہ کے گھرانے کو اطلاع دی گئی۔Uv%  چنانچہ وہ شہر کے دروازے کے پاس گئے اور پہرے داروں کو آواز دے کر اُنہیں سب کچھ سنایا، ”ہم شام کی لشکرگاہ میں گئے تو وہاں نہ کوئی دکھائی دیا، نہ کسی کی آواز سنائی دی۔ گھوڑے اور گدھے بندھے ہوئے تھے اور خیمے ترتیب سے کھڑے تھے، لیکن آدمی ایک بھی موجود نہیں تھا!“ llx  گو رات کا وقت تھا توبھی بادشاہ نے اُٹھ کر اپنے افسروں کو بُلایا اور کہا، ”مَیں آپ کو بتاتا ہوں کہ شام کے فوجی کیا کر رہے ہیں۔ وہ تو خوب جانتے ہیں کہ ہم بھوکوں مر رہے ہیں۔ اب وہ اپنی لشکرگاہ کو چھوڑ کر کھلے میدان میں چھپ گئے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی خالی لشکرگاہ کو دیکھ کر شہر سے ضرور نکلیں گے اور پھر ہم اُنہیں زندہ پکڑ کر شہر میں داخل ہو جائیں گے۔“ KwK(zK چنانچہ دو رتھوں کو گھوڑوں سمیت تیار کیا گیا، اور بادشاہ نے اُنہیں شام کی لشکرگاہ میں بھیج دیا۔ رتھ بانوں کو اُس نے حکم دیا، ”جائیں اور پتا کریں کہ کیا ہوا ہے۔“y  لیکن ایک افسر نے مشورہ دیا، ”بہتر ہے کہ ہم چند ایک آدمیوں کو پانچ بچے ہوئے گھوڑوں کے ساتھ لشکرگاہ میں بھیجیں۔ اگر وہ پکڑے جائیں تو کوئی بات نہیں۔ کیونکہ اگر وہ یہاں رہیں تو پھر بھی اُنہیں ہمارے ساتھ مرنا ہی ہے۔“ p|[ تب سامریہ کے باشندے شہر سے نکل آئے اور شام کی لشکرگاہ میں جا کر سب کچھ لُوٹ لیا۔ یوں وہ کچھ پورا ہوا جو رب نے فرمایا تھا کہ ساڑھے 5 کلو گرام بہترین میدہ اور 11 کلو گرام جَو چاندی کے ایک سکے کے لئے بِکے گا۔a{= وہ روانہ ہوئے اور شام کے فوجیوں کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ راستے میں ہر طرف کپڑے اور سامان بکھرا پڑا تھا، کیونکہ فوجیوں نے بھاگتے بھاگتے سب کچھ پھینک کر راستے میں چھوڑ دیا تھا۔ اسرائیلی رتھ سوار دریائے یردن تک پہنچے اور پھر بادشاہ کے پاس واپس آ کر سب کچھ کہہ سنایا۔ #9#~ کیونکہ الیشع نے بادشاہ کو بتایا تھا، ”کل اِسی وقت شہر کے دروازے پر ساڑھے 5 کلو گرام بہترین میدہ اور 11 کلو گرام جَو چاندی کے ایک سکے کے لئے بِکے گا۔“C} جس افسر کے بازو کا سہارا بادشاہ لیتا تھا اُسے اُس نے دروازے کی نگرانی کرنے کے لئے بھیج دیا تھا۔ لیکن جب لوگ باہر نکلے تو افسر اُن کی زد میں آ کر اُن کے پیروں تلے کچلا گیا۔ یوں ویسا ہی ہوا جیسا مردِ خدا نے اُس وقت کہا تھا جب بادشاہ اُس کے گھر آیا تھا۔ ~~O  ایک دن الیشع نے اُس عورت کو جس کا بیٹا اُس نے زندہ کیا تھا مشورہ دیا، ”اپنے خاندان کو لے کر عارضی طور پر بیرونِ ملک چلی جائیں، کیونکہ رب نے حکم دیا ہے کہ ملک میں سات سال تک کال ہو گا۔“C اب یہ پیش گوئی پوری ہوئی، کیونکہ بےقابو لوگوں نے اُسے شہر کے دروازے پر پاؤں تلے کچل دیا، اور وہ مر گیا۔ dC افسر نے اعتراض کیا تھا، ”یہ ناممکن ہے، خواہ رب آسمان کے دریچے کیوں نہ کھول دے۔“ اور مردِ خدا نے جواب دیا تھا، ”آپ اپنی آنکھوں سے اِس کا مشاہدہ کریں گے، لیکن خود اُس میں سے کچھ نہیں کھائیں گے۔“ =8H عین اُس وقت جب وہ دربار میں پہنچی تو بادشاہ مردِ خدا الیشع کے نوکر جیحازی سے گفتگو کر رہا تھا۔ بادشاہ نے اُس سے درخواست کی تھی، ”مجھے وہ تمام بڑے کام سنا دو جو الیشع نے کئے ہیں۔“} سات سال گزر گئے تو وہ اُس ملک سے واپس آئی۔ لیکن کسی اَور نے اُس کے گھر اور زمین پر قبضہ کر رکھا تھا، اِس لئے وہ مدد کے لئے بادشاہ کے پاس گئی۔?y شونیم کی عورت نے مردِ خدا کی بات مان لی۔ اپنے خاندان کو لے کر وہ چلی گئی اور سات سال فلستی ملک میں رہی۔ #A اور اب جب جیحازی سنا رہا تھا کہ الیشع نے مُردہ لڑکے کو کس طرح زندہ کر دیا تو اُس کی ماں اندر آ کر بادشاہ سے التماس کرنے لگی، ”گھر اور زمین واپس ملنے میں میری مدد کیجئے۔“ اُسے دیکھ کر جیحازی نے بادشاہ سے کہا، ”میرے آقا اور بادشاہ، یہ وہی عورت ہے اور یہ اُس کا وہی بیٹا ہے جسے الیشع نے زندہ کر دیا تھا۔“ 9m ایک دن الیشع دمشق آیا۔ اُس وقت شام کا بادشاہ بن ہدد بیمار تھا۔ جب اُسے اطلاع ملی کہ مردِ خدا آیا ہے-U بادشاہ نے عورت سے سوال کیا، ”کیا یہ صحیح ہے؟“ عورت نے تصدیق میں اُسے دوبارہ سب کچھ سنایا۔ تب اُس نے عورت کا معاملہ کسی درباری افسر کے سپرد کر کے حکم دیا، ”دھیان دیں کہ اِسے پوری ملکیت واپس مل جائے! اور جتنے پیسے قبضہ کرنے والا عورت کی غیرموجودگی میں زمین کی فصلوں سے کما سکا وہ بھی عورت کو دے دیئے جائیں۔“ + +q ]  الیشع نے جواب دیا، ”جائیں اور اُسے اطلاع دیں، ’آپ ضرور شفا پائیں گے۔‘ لیکن رب نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ وہ حقیقت میں مر جائے گا۔“H   حزائیل 40 اونٹوں پر دمشق کی بہترین پیداوار لاد کر الیشع سے ملنے گیا۔ اُس کے پاس پہنچ کر وہ اُس کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا، ”آپ کے بیٹے شام کے بادشاہ بن ہدد نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا مَیں اپنی بیماری سے شفا پاؤں گا یا نہیں؟“ تو اُس نے اپنے افسر حزائیل کو حکم دیا، ”مردِ خدا کے لئے تحفہ لے کر اُسے ملنے جائیں۔ وہ رب سے دریافت کرے کہ کیا مَیں بیماری سے شفا پاؤں گا یا نہیں؟“ AeJA   حزائیل بولا، ”مجھ جیسے کُتے کی کیا حیثیت ہے کہ اِتنا بڑا کام کروں؟“ الیشع نے کہا، ”رب نے مجھے دکھا دیا ہے کہ آپ شام کے بادشاہ بن جائیں گے۔“ )  حزائیل نے پوچھا، ”میرے آقا، آپ کیوں رو رہے ہیں؟“ الیشع نے جواب دیا، ”مجھے معلوم ہے کہ آپ اسرائیلیوں کو کتنا نقصان پہنچائیں گے۔ آپ اُن کی قلعہ بند آبادیوں کو آگ لگا کر اُن کے جوانوں کو تلوار سے قتل کر دیں گے، اُن کے چھوٹے بچوں کو زمین پر پٹخ دیں گے اور اُن کی حاملہ عورتوں کے پیٹ چیر ڈالیں گے۔“ )  الیشع خاموش ہو گیا اور ٹکٹکی باندھ کر بڑی دیر تک اُسے گھورتا رہا، پھر رونے لگا۔ }u یہورام بن یہوسفط اسرائیل کے بادشاہ یورام کی حکومت کے پانچویں سال میں یہوداہ کا بادشاہ بنا۔ شروع میں وہ اپنے باپ کے ساتھ حکومت کرتا تھا۔ لیکن اگلے دن حزائیل نے کمبل لے کر پانی میں بھگو دیا اور اُسے بادشاہ کے منہ پر رکھ دیا۔ بادشاہ کا سانس رُک گیا اور وہ مر گیا۔ پھر حزائیل تخت نشین ہوا۔6g اِس کے بعد حزائیل چلا گیا اور اپنے مالک کے پاس واپس آیا۔ بادشاہ نے پوچھا، ”الیشع نے آپ کو کیا بتایا؟“ حزائیل نے جواب دیا، ”اُس نے مجھے یقین دلایا کہ آپ شفا پائیں گے۔“ A_ A9m یہورام کی حکومت کے دوران ادومیوں نے بغاوت کی اور یہوداہ کی حکومت کو رد کر کے اپنا بادشاہ مقرر کیا۔7 توبھی وہ اپنے خادم داؤد کی خاطر یہوداہ کو تباہ نہیں کرنا چاہتا تھا، کیونکہ اُس نے داؤد سے وعدہ کیا تھا کہ تیرا اور تیری اولاد کا چراغ ہمیشہ تک جلتا رہے گا۔;q اُس کی شادی اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کی بیٹی سے ہوئی تھی، اور وہ اسرائیل کے بادشاہوں اور خاص کر اخی اب کے خاندان کے بُرے نمونے پر چلتا رہا۔ اُس کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔5 یہورام 32 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور وہ یروشلم میں رہ کر 8 سال تک حکومت کرتا رہا۔ u9Xu_9 باقی جو کچھ یہورام کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوادہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔]5 اِس وجہ سے ملکِ ادوم آج تک دوبارہ یہوداہ کی حکومت کے تحت نہیں آیا۔ اُسی وقت لِبناہ شہر بھی سرکش ہو کر خود مختار ہو گیا۔C تب یہورام اپنے تمام رتھوں کو لے کر صعیر کے قریب آیا۔ جب جنگ چھڑ گئی تو ادومیوں نے اُسے اور اُس کے رتھوں پر مقرر افسروں کو گھیر لیا۔ رات کو بادشاہ گھیرنے والوں کی صفوں کو توڑنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن اُس کے فوجی اُسے چھوڑ کر اپنے اپنے گھر بھاگ گئے۔ %%mU وہ 22 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا اور یروشلم میں رہ کر ایک سال بادشاہ رہا۔ اُس کی ماں عتلیاہ اسرائیل کے بادشاہ عُمری کی پوتی تھی۔8k اخزیاہ بن یہورام اسرائیل کے بادشاہ یورام بن اخی اب کی حکومت کے 12ویں سال میں یہوداہ کا بادشاہ بنا۔*O جب یہورام مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا اخزیاہ تخت نشین ہوا۔ kk*O اور میدانِ جنگ کو چھوڑ کر یزرعیل واپس آیا تاکہ زخم بھر جائیں۔ جب وہ وہاں ٹھہرا ہوا تھا تو یہوداہ کا بادشاہ اخزیاہ بن یہورام اُس کا حال پوچھنے کے لئے یزرعیل آیا۔ #A ایک دن اخزیاہ بادشاہ یورام بن اخی اب کے ساتھ مل کر رامات جِلعاد گیا تاکہ شام کے بادشاہ حزائیل سے لڑے۔ جب جنگ چھڑ گئی تو یورام شام کے فوجیوں کے ہاتھوں زخمی ہوا<s اخزیاہ بھی اخی اب کے خاندان کے بُرے نمونے پر چل پڑا۔ اخی اب کے گھرانے کی طرح اُس کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اُس کا رشتہ اخی اب کے خاندان کے ساتھ بندھ گیا تھا۔ [[j O وہاں کُپّی لے کر یاہو کے سر پر تیل اُنڈیل دیں اور کہیں، ’رب فرماتا ہے کہ مَیں تجھے تیل سے مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ بنا دیتا ہوں۔‘ اِس کے بعد دیر نہ کریں بلکہ فوراً دروازے کو کھول کر بھاگ جائیں!“}u وہاں پہنچ کر یاہو بن یہوسفط بن نِمسی کو تلاش کریں۔ جب اُس سے ملاقات ہو تو اُسے اُس کے ساتھیوں سے الگ کر کے کسی اندرونی کمرے میں لے جائیں۔2 a ایک دن الیشع نبی نے نبیوں کے گروہ میں سے ایک کو بُلا کر کہا، ”سفر کے لئے کمربستہ ہو کر رامات جِلعاد کے لئے روانہ ہو جائیں۔ زیتون کے تیل کی یہ کُپّی اپنے ساتھ لے جائیں۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr}  &  &  &  &   &   &   &   &   &  &  &  &  &   &   &   &   &   &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &   &  &  &  &!  &"  &#  &$  &%  &&  &'  &(  &)  &*  &+  &,  &-  &.  &/  &0  &1  &2  &3  &4  &5  &6  &7  &8  &9  &:  &;  &<  &=  !&>  "&?  #&@  $&A  %&B   &C  &D  &E  &F  &G  &H  &I C<#s یاہو کھڑا ہوا اور اُس کے ساتھ گھر میں گیا۔ وہاں نبی نے یاہو کے سر پر تیل اُنڈیل کر کہا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’مَیں نے تجھے مسح کر کے اپنی قوم کا بادشاہ بنا دیا ہے۔Y"- جب وہاں پہنچا تو فوجی افسر مل کر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ اُن کے قریب گیا اور بولا، ”میرے پاس کمانڈر کے لئے پیغام ہے۔“ یاہو نے سوال کیا، ”ہم میں سے کس کے لئے؟“ نبی نے جواب دیا، ”آپ ہی کے لئے۔“]!5 چنانچہ جوان نبی رامات جِلعاد کے لئے روانہ ہوا۔ T&# میرا اخی اب کے خاندان کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو مَیں نے یرُبعام بن نباط اور بعشا بن اخیاہ کے خاندانوں کے ساتھ کیا۔K% اخی اب کا پورا گھرانا تباہ ہو جائے گا۔ مَیں اُس کے خاندان کے ہر مرد کو ہلاک کر دوں گا، خواہ وہ بالغ ہو یا بچہ۔r$_ تجھے اپنے مالک اخی اب کے پورے خاندان کو ہلاک کرنا ہے۔ یوں مَیں اُن نبیوں کا انتقام لوں گا جو میری خدمت کرتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں۔ ہاں، مَیں رب کے اُن تمام خادموں کا بدلہ لوں گا جنہیں ایزبل نے قتل کیا ہے۔ f)G لیکن اُس کے ساتھی اِس جواب سے مطمئن نہ ہوئے، ”جھوٹ! صحیح بات بتائیں۔“ پھر یاہو نے اُنہیں کھل کر بات بتائی، ”آدمی نے کہا، ’رب فرماتا ہے کہ مَیں نے تجھے مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ بنا دیا ہے‘۔“u(e جب یاہو نکل کر اپنے ساتھی افسروں کے پاس واپس آیا تو اُنہوں نے پوچھا، ”کیا سب خیریت ہے؟ یہ دیوانہ آپ سے کیا چاہتا تھا؟“ یاہو بولا، ”خیر، آپ تو اِس قسم کے لوگوں کو جانتے ہیں کہ کس طرح کی گپیں ہانکتے ہیں۔“'{ جہاں تک ایزبل کا تعلق ہے اُسے دفنایا نہیں جائے گا بلکہ کُتے اُسے یزرعیل کی زمین پر کھا جائیں گے‘۔“ یہ کہہ کر نبی دروازہ کھول کر بھاگ گیا۔ dd{+q یاہو بن یہوسفط بن نِمسی فوراً یورام بادشاہ کو تخت سے اُتارنے کے منصوبے باندھنے لگا۔ یورام اُس وقت پوری اسرائیلی فوج سمیت رامات جِلعاد کے قریب دمشق کے بادشاہ حزائیل سے لڑ رہا تھا۔ لیکن شہر کا دفاع کرتے کرتے*- یہ سن کر افسروں نے جلدی جلدی اپنی چادروں کو اُتار کر اُس کے سامنے سیڑھیوں پر بچھا دیا۔ پھر وہ نرسنگا بجا بجا کر نعرہ لگانے لگے، ”یاہو بادشاہ زندہ باد!“  - پھر وہ رتھ پر سوار ہو کر یزرعیل چلا گیا جہاں یورام آرام کر رہا تھا۔ اُس وقت یہوداہ کا بادشاہ اخزیاہ بھی یورام سے ملنے کے لئے یزرعیل آیا ہوا تھا۔l,S بادشاہ شام کے فوجیوں کے ہاتھوں زخمی ہو گیا تھا اور میدانِ جنگ کو چھوڑ کر یزرعیل واپس آیا تھا تاکہ زخم بھر جائیں۔ اب یاہو نے اپنے ساتھی افسروں سے کہا، ”اگر آپ واقعی میرے ساتھ ہیں تو کسی کو بھی شہر سے نکلنے نہ دیں، ورنہ خطرہ ہے کہ کوئی یزرعیل جا کر بادشاہ کو اطلاع دے دے۔“ J/ گھڑسوار شہر سے نکلا اور یاہو کے پاس آ کر کہا، ”بادشاہ پوچھتے ہیں کہ کیا سب خیریت ہے؟“ یاہو نے جواب دیا، ”اِس سے آپ کا کیا واسطہ؟ آئیں، میرے پیچھے ہو لیں۔“ بُرج پر کے پہرے دار نے بادشاہ کو اطلاع دی، ”قاصد اُن تک پہنچ گیا ہے، لیکن وہ واپس نہیں آ رہا۔“t.c جب یزرعیل کے بُرج پر کھڑے پہرے دار نے یاہو کے غول کو شہر کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو اُس نے بادشاہ کو اطلاع دی۔ یورام نے حکم دیا، ”ایک گھڑسوار کو اُن کی طرف بھیج کر اُن سے معلوم کریں کہ سب خیریت ہے یا نہیں۔“ ''1} بُرج پر کے پہرے دار نے یہ دیکھ کر بادشاہ کو اطلاع دی، ”ہمارا قاصد اُن تک پہنچ گیا ہے، لیکن یہ بھی واپس نہیں آ رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ اُن کا راہنما یاہو بن نِمسی ہے، کیونکہ وہ اپنے رتھ کو دیوانے کی طرح چلا رہا ہے۔“P0 تب بادشاہ نے ایک اَور گھڑسوار کو بھیج دیا۔ یاہو کے پاس پہنچ کر اُس نے بھی کہا، ”بادشاہ پوچھتے ہیں کہ کیا سب خیریت ہے؟“ یاہو نے جواب دیا، ”اِس سے آپ کا کیا واسطہ؟ میرے پیچھے ہو لیں۔“ ^4 یورام بادشاہ چلّا اُٹھا، ”اے اخزیاہ، غداری!“ اور مُڑ کر بھاگنے لگا۔'3I یاہو کو پہچان کر یورام نے پوچھا، ”یاہو، کیا سب خیریت ہے؟“ یاہو بولا، ”خیریت کیسے ہو سکتی ہے جب تیری ماں ایزبل کی بُت پرستی اور جادوگری ہر طرف پھیلی ہوئی ہے؟“s2a یورام نے حکم دیا، ”میرے رتھ کو تیار کرو!“ پھر وہ اور یہوداہ کا بادشاہ اپنے اپنے رتھ میں سوار ہو کر یاہو سے ملنے کے لئے شہر سے نکلے۔ اُن کی ملاقات اُس باغ کے پاس ہوئی جو نبُوت یزرعیلی سے چھین لیا گیا تھا۔ //C6 یاہو نے اپنے ساتھ والے افسر بِدقر سے کہا، ”اِس کی لاش اُٹھا کر اُس باغ میں پھینک دیں جو نبُوت یزرعیلی سے چھین لیا گیا تھا۔ کیونکہ وہ دن یاد کریں جب ہم دونوں اپنے رتھوں کو اِس کے باپ اخی اب کے پیچھے چلا رہے تھے اور رب نے اخی اب کے بارے میں اعلان کیا،5 یاہو نے فوراً اپنی کمان کھینچ کر تیر چلایا جو سیدھا یورام کے کندھوں کے درمیان یوں لگا کہ دل میں سے گزر گیا۔ بادشاہ ایک دم اپنے رتھ میں گر پڑا۔ c8A جب یہوداہ کے بادشاہ اخزیاہ نے یہ دیکھا تو وہ بیت گان کا راستہ لے کر فرار ہو گیا۔ یاہو اُس کا تعاقب کرتے ہوئے چلّایا، ”اُسے بھی مار دو!“ اِبلیعام کے قریب جہاں راستہ جور کی طرف چڑھتا ہے اخزیاہ اپنے رتھ میں چلتے چلتے زخمی ہوا۔ وہ بچ تو نکلا لیکن مجِدّو پہنچ کر مر گیا۔o7Y ’یقین جان کہ کل نبُوت اور اُس کے بیٹوں کا قتل مجھ سے چھپا نہ رہا۔ اِس کا معاوضہ مَیں تجھے نبُوت کی اِسی زمین پر دوں گا۔‘ چنانچہ اب یورام کو اُٹھا کر اُس زمین پر پھینک دیں تاکہ رب کی بات پوری ہو جائے۔“ onAoN< جب یاہو محل کے گیٹ میں داخل ہوا تو ایزبل چلّائی، ”اے زِمری جس نے اپنے مالک کو قتل کر دیا ہے، کیا سب خیریت ہے؟“);M اِس کے بعد یاہو یزرعیل چلا گیا۔ جب ایزبل کو اطلاع ملی تو اُس نے اپنی آنکھوں میں سُرمہ لگا کر اپنے بالوں کو خوب صورتی سے سنوارا اور پھر کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔: اخزیاہ یورام بن اخی اب کی حکومت کے 11ویں سال میں یہوداہ کا بادشاہ بن گیا تھا۔y9m اُس کے ملازم لاش کو رتھ پر رکھ کر یروشلم لائے۔ وہاں اُسے یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔ v!v ? "پھر یاہو محل میں داخل ہوا اور کھایا اور پیا۔ اِس کے بعد اُس نے حکم دیا، ”کوئی جائے اور اُس لعنتی عورت کو دفن کرے، کیونکہ وہ بادشاہ کی بیٹی تھی۔“>) !تو یاہو نے اُنہیں حکم دیا، ”اُسے نیچے پھینک دو!“ تب اُنہوں نے ملکہ کو نیچے پھینک دیا۔ وہ اِتنے زور سے زمین پر گری کہ خون کے چھینٹے دیوار اور گھوڑوں پر پڑ گئے۔ یاہو اور اُس کے لوگوں نے اپنے رتھوں کو اُس کے اوپر سے گزرنے دیا۔[=1 یاہو نے اوپر دیکھ کر آواز دی، ”کون میرے ساتھ ہے، کون؟“ دو یا تین خواجہ سراؤں نے کھڑکی سے باہر دیکھ کر اُس پر نظر ڈالی 68Bk %اُس کی لاش یزرعیل کی زمین پر گوبر کی طرح پڑی رہے گی تاکہ کوئی یقین سے نہ کہہ سکے کہ وہ کہاں ہے‘۔“ YA- $یاہو کے پاس واپس جا کر اُنہوں نے اُسے آگاہ کیا۔ تب اُس نے کہا، ”اب سب کچھ پورا ہوا ہے جو رب نے اپنے خادم الیاس تِشبی کی معرفت فرمایا تھا، ’یزرعیل کی زمین پر کُتے ایزبل کی لاش کھا جائیں گے۔F@ #لیکن جب ملازم اُسے دفن کرنے کے لئے باہر نکلے تو دیکھا کہ صرف اُس کی کھوپڑی، ہاتھ اور پاؤں باقی رہ گئے ہیں۔ ]E5 اپنے مالک کے سب سے اچھے اور لائق بیٹے کو چن کر اُسے اُس کے باپ کے تخت پر بٹھا دیں۔ پھر اپنے مالک کے خاندان کے لئے لڑیں!“&DG ”آپ کے مالک کے بیٹے آپ کے پاس ہیں۔ آپ قلعہ بند شہر میں رہتے ہیں، اور آپ کے پاس ہتھیار، رتھ اور گھوڑے بھی ہیں۔ اِس لئے مَیں آپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ یہ خط پڑھتے ہیPC  سامریہ میں اخی اب کے 70 بیٹے تھے۔ اب یاہو نے خط لکھ کر سامریہ بھیج دیئے۔ یزرعیل کے افسروں، شہر کے بزرگوں اور اخی اب کے بیٹوں کے سرپرستوں کو یہ خط مل گئے، اور اُن میں ذیل کی خبر لکھی تھی، R!RKG اِس لئے محل کے انچارج، سامریہ پر مقرر افسر، شہر کے بزرگوں اور اخی اب کے بیٹوں کے سرپرستوں نے یاہو کو پیغام بھیجا، ”ہم آپ کے خادم ہیں اور جو کچھ آپ کہیں گے ہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم کسی کو بادشاہ مقرر نہیں کریں گے۔ جو کچھ آپ مناسب سمجھتے ہیں وہ کریں۔“[F1 لیکن سامریہ کے بزرگ بےحد سہم گئے اور آپس میں کہنے لگے، ”اگر دو بادشاہ اُس کا مقابلہ نہ کر سکے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟“ I} جب خط اُن کے پاس پہنچ گیا تو اِن آدمیوں نے 70 کے 70 شہزادوں کو ذبح کر دیا اور اُن کے سروں کو ٹوکروں میں رکھ کر یزرعیل میں یاہو کے پاس بھیج دیا۔yHm یہ پڑھ کر یاہو نے ایک اَور خط لکھ کر سامریہ بھیجا۔ اُس میں لکھا تھا، ”اگر آپ واقعی میرے ساتھ ہیں اور میرے تابع رہنا چاہتے ہیں تو اپنے مالک کے بیٹوں کے سروں کو کاٹ کر کل اِس وقت تک یزرعیل میں میرے پاس لے آئیں۔“ کیونکہ اخی اب کے 70 بیٹے سامریہ کے بڑوں کے پاس رہ کر پرورش پا رہے تھے۔ &&K# اگلے دن یاہو صبح کے وقت نکلا اور دروازے کے پاس کھڑے ہو کر لوگوں سے مخاطب ہوا، ”یورام کی موت کے ناتے سے آپ بےالزام ہیں۔ مَیں ہی نے اپنے مالک کے خلاف منصوبے باندھ کر اُسے مار ڈالا۔ لیکن کس نے اِن تمام بیٹوں کا سر قلم کر دیا؟>Jw ایک قاصد نے یاہو کے پاس آ کر اطلاع دی، ”وہ بادشاہ کے بیٹوں کے سر لے کر آئے ہیں۔“ تب یاہو نے حکم دیا، ”شہر کے دروازے پر اُن کے دو ڈھیر لگا دو اور اُنہیں صبح تک وہیں رہنے دو۔“   N پھر وہ سامریہ کے لئے روانہ ہوا۔ راستے میں جب بیت عِقد روئیم کے قریب پہنچ گیاM اِس کے بعد یاہو نے یزرعیل میں رہنے والے اخی اب کے باقی تمام رشتے داروں، بڑے افسروں، قریبی دوستوں اور پجاریوں کو ہلاک کر دیا۔ ایک بھی نہ بچا۔?Ly چنانچہ آج جان لیں کہ جو کچھ بھی رب نے اخی اب اور اُس کے خاندان کے بارے میں فرمایا ہے وہ پورا ہو جائے گا۔ جس کا اعلان رب نے اپنے خادم الیاس کی معرفت کیا ہے وہ اُس نے کر لیا ہے۔“ ZSZuPe تب یاہو نے حکم دیا، ”اُنہیں زندہ پکڑو!“ اُنہوں نے انہیں زندہ پکڑ کر بیت عِقد کے حوض کے پاس مار ڈالا۔ 42 آدمیوں میں سے ایک بھی نہ بچا۔)OM تو اُس کی ملاقات یہوداہ کے بادشاہ اخزیاہ کے چند ایک رشتے داروں سے ہوئی۔ یاہو نے پوچھا، ”آپ کون ہیں؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”ہم اخزیاہ کے رشتے دار ہیں اور سامریہ کا سفر کر رہے ہیں۔ وہاں ہم بادشاہ اور ملکہ کے بیٹوں سے ملنا چاہتے ہیں۔“ rRR پھر یاہو نے کہا، ”آئیں میرے ساتھ اور میری رب کے لئے جد و جہد دیکھیں۔“ چنانچہ یوندب یاہو کے ساتھ سامریہ چلا گیا۔ Q اُس جگہ کو چھوڑ کر یاہو آگے نکلا۔ چلتے چلتے اُس کی ملاقات یوندب بن ریکاب سے ہوئی جو اُس سے ملنے آ رہا تھا۔ یاہو نے سلام کر کے کہا، ”کیا آپ کا دل میرے بارے میں مخلص ہے جیسا کہ میرا دل آپ کے بارے میں ہے؟“ یوندب نے جواب دیا، ”جی ہاں۔“ یاہو بولا، ”اگر ایسا ہے، تو میرے ساتھ ہاتھ ملائیں۔“ یوندب نے اُس کے ساتھ ہاتھ ملایا تو یاہو نے اُسے اپنے رتھ پر سوار ہونے دیا۔ uTe اِس کے بعد یاہو نے تمام لوگوں کو جمع کر کے اعلان کیا، ”اخی اب نے بعل دیوتا کی پرستش تھوڑی کی ہے۔ مَیں کہیں زیادہ اُس کی پوجا کروں گا!S5 سامریہ پہنچ کر یاہو نے اخی اب کے خاندان کے جتنے افراد اب تک بچ گئے تھے ہلاک کر دیئے۔ جس طرح رب نے الیاس کو فرمایا تھا اُسی طرح اخی اب کا پورا گھرانا مٹ گیا۔ eeV اُس نے پورے اسرائیل میں قاصد بھیج کر اعلان کیا، ”بعل دیوتا کے لئے مُقدّس عید منائیں!“ چنانچہ بعل کے تمام پجاری آئے، اور ایک بھی اجتماع سے دُور نہ رہا۔ اِتنے جمع ہوئے کہ بعل کا مندر ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھر گیا۔ U اب جا کر بعل کے تمام نبیوں، خدمت گزاروں اور پجاریوں کو بُلا لائیں۔ خیال کریں کہ ایک بھی دُور نہ رہے، کیونکہ مَیں بعل کو بڑی قربانی پیش کروں گا۔ جو بھی آنے سے انکار کرے اُسے سزائے موت دی جائے گی۔“ اِس طرح یاہو نے بعل کے خدمت گزاروں کے لئے جال بچھا دیا تاکہ وہ اُس میں پھنس کر ہلاک ہو جائیں۔ BuBQY پھر یاہو اور یوندب بن ریکاب بعل کے مندر میں داخل ہوئے، اور یاہو نے بعل کے خدمت گزاروں سے کہا، ”دھیان دیں کہ یہاں آپ کے ساتھ رب کا کوئی خادم موجود نہ ہو۔ صرف بعل کے پجاری ہونے چاہئیں۔“ZX/ یاہو نے عید کے کپڑوں کے انچارج کو حکم دیا، ”بعل کے تمام پجاریوں کو عید کے لباس دے دینا۔“ چنانچہ سب کو لباس دیئے گئے۔W اُس نے پورے اسرائیل میں قاصد بھیج کر اعلان کیا، ”بعل دیوتا کے لئے مُقدّس عید منائیں!“ چنانچہ بعل کے تمام پجاری آئے، اور ایک بھی اجتماع سے دُور نہ رہا۔ اِتنے جمع ہوئے کہ بعل کا مندر ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھر گیا۔ 3D3 [ جوں ہی یاہو بھسم ہونے والی قربانی کو چڑھانے سے فارغ ہوا تو اُس نے اپنے محافظوں اور افسروں کو حکم دیا، ”اندر جا کر سب کو مار دینا۔ ایک بھی بچنے نہ پائے۔“ وہ داخل ہوئے اور اپنی تلواروں کو کھینچ کر سب کو مار ڈالا۔ لاشوں کو اُنہوں نے باہر پھینک دیا۔ پھر وہ مندر کے سب سے اندر والے کمرے میں گئے8Zk دونوں آدمی سامنے گئے تاکہ ذبح کی اور بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کریں۔ اِتنے میں یاہو کے 80 آدمی باہر مندر کے ارد گرد کھڑے ہو گئے۔ یاہو نے اُنہیں حکم دے کر کہا تھا، ”خبردار! جو پوجا کرنے والوں میں سے کسی کو بچنے دے اُسے سزائے موت دی جائے گی۔“ =%_E توبھی وہ یرُبعام بن نباط کے اُن گناہوں سے باز نہ آیا جو کرنے پر یرُبعام نے اسرائیل کو اُکسایا تھا۔ بیت ایل اور دان میں قائم سونے کے بچھڑوں کی پوجا ختم نہ ہوئی۔m^U اِس طرح یاہو نے اسرائیل میں بعل دیوتا کی پوجا ختم کر دی۔t]c اور بعل کا ستون بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ بعل کا پورا مندر ڈھا دیا گیا، اور وہ جگہ بیت الخلا بن گئی۔ آج تک وہ اِس کے لئے استعمال ہوتا ہے۔X\+ جہاں بُت تھا۔ اُسے اُنہوں نے نکال کر جلا دیا Jk4JfbG یاہو کی حکومت کے دوران رب اسرائیل کا علاقہ چھوٹا کرنے لگا۔ شام کے بادشاہ حزائیل نے اسرائیل کے اُس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا3aa لیکن یاہو نے پورے دل سے رب اسرائیل کے خدا کی شریعت کے مطابق زندگی نہ گزاری۔ وہ اُن گناہوں سے باز آنے کے لئے تیار نہیں تھا جو کرنے پر یرُبعام نے اسرائیل کو اُکسایا تھا۔` ایک دن رب نے یاہو سے کہا، ”جو کچھ مجھے پسند ہے اُسے تُو نے اچھی طرح سرانجام دیا ہے، کیونکہ تُو نے اخی اب کے گھرانے کے ساتھ سب کچھ کیا ہے جو میری مرضی تھی۔ اِس وجہ سے تیری اولاد چوتھی پشت تک اسرائیل پر حکومت کرتی رہے گی۔“ feG #وہ 28 سال سامریہ میں بادشاہ رہا۔ وہاں وہ دفن بھی ہوا۔ جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُس کا بیٹا یہوآخز تخت نشین ہوا۔ d "باقی جو کچھ یاہو کی حکومت کے دوران ہوا، جو اُس نے کیا اور جو کامیابیاں اُسے حاصل ہوئیں وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔c !جو دریائے یردن کے مشرق میں تھا۔ جد، روبن اور منسّی کا علاقہ جِلعاد بسن سے لے کر دریائے ارنون پر واقع عروعیر تک شام کے بادشاہ کے ہاتھ میں آ گیا۔ E  !,7BMXcny)4?IT_ju%/:EP[fq|  &K  &L  &M  &N  &O  &P  &Q  &R  &  &K  &L  &M  &N  &O  &P  &Q  &R  &S  &T  &U  &V  &W  &X  &Y  &Z  &[  &\  &]  &^  &_  &`  &a  &b  !&c  "&d  #&e  $&f   &g  &h  &i  &j  &k  &l  &m  &n  &o  &p  &q  &r  &s  &t  &u  &v  &w  &x  &y  &z  &{   &|  &}  &~  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  & Sh/ لیکن اخزیاہ کی سگی بہن یہوسبع نے اخزیاہ کے چھوٹے بیٹے یوآس کو چپکے سے اُن شہزادوں میں سے نکال لیا جنہیں قتل کرنا تھا اور اُسے اُس کی دایہ کے ساتھ ایک سٹور میں چھپا دیا جس میں بستر وغیرہ محفوظ رکھے جاتے تھے۔ اِس طرح وہ بچ گیا۔?g { جب اخزیاہ کی ماں عتلیاہ کو معلوم ہوا کہ میرا بیٹا مر گیا ہے تو وہ اخزیاہ کی تمام اولاد کو قتل کرنے لگی۔ffG $وہ 28 سال سامریہ میں بادشاہ رہا۔ وہاں وہ دفن بھی ہوا۔ جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُس کا بیٹا یہوآخز تخت نشین ہوا۔ )hkK اُنہیں ہدایت کی، ”اگلے سبت کے دن آپ میں سے جتنے ڈیوٹی پر آئیں گے وہ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں۔ ایک حصہ شاہی محل پر پہرا دے،"j? عتلیاہ کی حکومت کے ساتویں سال میں یہویدع امام نے سَو سَو سپاہیوں پر مقرر افسروں، کریتی نامی دستوں اور شاہی محافظوں کو رب کے گھر میں بُلا لیا۔ وہاں اُس نے قَسم کھلا کر اُن سے عہد باندھا۔ پھر اُس نے بادشاہ کے بیٹے یوآس کو پیش کر کےSi! بعد میں یوآس کو رب کے گھر میں منتقل کیا گیا جہاں وہ اُس کے ساتھ اُن چھ سالوں کے دوران چھپا رہا جب عتلیاہ ملکہ تھی۔ $7uU$-oU سَو سَو سپاہیوں پر مقرر افسروں نے ایسا ہی کیا۔ اگلے سبت کے دن وہ سب اپنے فوجیوں سمیت یہویدع امام کے پاس آئے۔ وہ بھی آئے جو ڈیوٹی پر تھے اور وہ بھی جن کی اب چھٹی تھی۔n3 وہ اُس کے ارد گرد دائرہ بنا کر اپنے ہتھیاروں کو پکڑے رکھیں اور جہاں بھی وہ جائے اُسے گھیرے رکھیں۔ جو بھی اِس دائرے میں گھسنے کی کوشش کرے اُسے مار ڈالنا۔“>mw دوسرے دو گروہ جو سبت کے دن ڈیوٹی نہیں کرتے اُنہیں رب کے گھر میں آ کر یوآس بادشاہ کی پہرہ داری کرنی ہے۔El دوسرا صور نامی دروازے پر اور تیسرا شاہی محافظوں کے پیچھے کے دروازے پر۔ یوں آپ رب کے گھر کی حفاظت کریں گے۔ [A[r% پھر یہویدع بادشاہ کے بیٹے یوآس کو باہر لایا اور اُس کے سر پر تاج رکھ کر اُسے قوانین کی کتاب دے دی۔ یوں یوآس کو بادشاہ بنا دیا گیا۔ اُنہوں نے اُسے مسح کر کے تالیاں بجائیں اور بلند آواز سے نعرہ لگانے لگے، ”بادشاہ زندہ باد!“Iq پھر محافظ ہتھیاروں کو ہاتھ میں پکڑے بادشاہ کے گرد کھڑے ہو گئے۔ قربان گاہ اور رب کے گھر کے درمیان اُن کا دائرہ رب کے گھر کی جنوبی دیوار سے لے کر اُس کی شمالی دیوار تک پھیلا ہوا تھا۔;pq امام نے افسروں کو داؤد بادشاہ کے وہ نیزے اور ڈھالیں دیں جو اب تک رب کے گھر میں محفوظ رکھی ہوئی تھیں۔ MRMt} وہاں پہنچ کر وہ کیا دیکھتی ہے کہ نیا بادشاہ اُس ستون کے پاس کھڑا ہے جہاں بادشاہ رواج کے مطابق کھڑا ہوتا ہے، اور وہ افسروں اور تُرم بجانے والوں سے گھرا ہوا ہے۔ تمام اُمّت بھی ساتھ کھڑی تُرم بجا بجا کر خوشی منا رہی ہے۔ عتلیاہ رنجش کے مارے اپنے کپڑے پھاڑ کر چیخ اُٹھی، ”غداری، غداری!“*sO جب محافظوں اور باقی لوگوں کا شور عتلیاہ تک پہنچا تو وہ رب کے گھر کے صحن میں اُن کے پاس آئی۔ eSew9 پھر یہویدع نے بادشاہ اور قوم کے ساتھ مل کر رب سے عہد باندھ کر وعدہ کیا کہ ہم رب کی قوم رہیں گے۔ اِس کے علاوہ بادشاہ نے یہویدع کی معرفت قوم سے بھی عہد باندھا۔Gv وہ عتلیاہ کو پکڑ کر اُس راستے پر لے گئے جس پر چلتے ہوئے گھوڑے محل کے پاس پہنچتے ہیں۔ وہاں اُسے مار دیا گیا۔)uM یہویدع امام نے سَو سَو فوجیوں پر مقرر اُن افسروں کو بُلایا جن کے سپرد فوج کی گئی تھی اور اُنہیں حکم دیا، ”اُسے باہر لے جائیں، کیونکہ مناسب نہیں کہ اُسے رب کے گھر کے پاس مارا جائے۔ اور جو بھی اُس کے پیچھے آئے اُسے تلوار سے مار دینا۔“ ly% یہویدع سَو سَو فوجیوں پر مقرر افسروں، کریتی نامی دستوں، محل کے محافظوں اور باقی پوری اُمّت کے ہمراہ جلوس نکال کر بادشاہ کو رب کے گھر سے محل میں لے گیا۔ وہ محافظوں کے دروازے سے ہو کر داخل ہوئے۔ بادشاہ شاہی تخت پر بیٹھ گیا،x اِس کے بعد اُمّت کے تمام لوگ بعل کے مندر پر ٹوٹ پڑے اور اُسے ڈھا دیا۔ اُس کی قربان گاہوں اور بُتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُنہوں نے بعل کے پجاری متان کو قربان گاہوں کے سامنے ہی مار ڈالا۔ رب کے گھر پر پہرے دار کھڑے کرنے کے بعد :*:P~ توبھی اونچی جگہوں کے مندر دُور نہ کئے گئے۔ عوام معمول کے مطابق وہاں اپنی قربانیاں پیش کرتے اور بخور جلاتے رہے۔} جب تک یہویدع اُس کی راہنمائی کرتا تھا یوآس وہ کچھ کرتا رہا جو رب کو پسند تھا۔4| e وہ اسرائیل کے بادشاہ یاہو کی حکومت کے ساتویں سال میں یہوداہ کا بادشاہ بنا، اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ 40 سال تھا۔ اُس کی ماں ضِبیاہ بیرسبع کی رہنے والی تھی۔K{ یوآس سات سال کا تھا جب تخت نشین ہوا۔ Rz اور تمام اُمّت خوشی مناتی رہی۔ یوں یروشلم شہر کو سکون ملا، کیونکہ عتلیاہ کو محل کے پاس تلوار سے مار دیا گیا تھا۔ u2_ لیکن یوآس کی حکومت کے 23 ویں سال میں اُس نے دیکھا کہ اب تک رب کے گھر کی دراڑوں کی مرمت نہیں ہوئی۔L یہ تمام پیسے اماموں کے سپرد کئے جائیں۔ اِن سے آپ کو جہاں بھی ضرورت ہے رب کے گھر کی دراڑوں کی مرمت کروانی ہے۔“ ایک دن یوآس نے اماموں کو حکم دیا، ”رب کے لئے مخصوص جتنے بھی پیسے رب کے گھر میں لائے جاتے ہیں اُن سب کو جمع کریں، چاہے وہ مردم شماری کے ٹیکس یا کسی مَنت کے ضمن میں دیئے گئے ہوں، چاہے رضاکارانہ طور پر ادا کئے گئے ہوں۔ nN امام مان گئے کہ اب سے ہم لوگوں سے ہدیہ نہیں لیں گے اور کہ اِس کے بدلے ہمیں رب کے گھر کی مرمت نہیں کروانی پڑے گی۔ تب اُس نے یہویدع اور باقی اماموں کو بُلا کر پوچھا، ”آپ رب کے گھر کی مرمت کیوں نہیں کرا رہے؟ اب سے آپ کو اِن پیسوں سے آپ کی اپنی ضروریات پوری کرنے کی اجازت نہیں بلکہ تمام پیسے رب کے گھر کی مرمت کے لئے استعمال کرنے ہیں۔“ cA جب کبھی پتا چلتا کہ صندوق بھر گیا ہے تو بادشاہ کا میرمنشی اور امامِ اعظم آتے اور تمام پیسے گن کر تھیلیوں میں ڈال دیتے تھے۔$C پھر یہویدع امام نے ایک صندوق لے کر اُس کے ڈھکنے میں سوراخ بنا دیا۔ اِس صندوق کو اُس نے قربان گاہ کے پاس رکھ دیا، اُس دروازے کے دہنی طرف جس میں سے پرستار رب کے گھر کے صحن میں داخل ہوتے تھے۔ جب لوگ اپنے ہدیہ جات رب کے گھر میں پیش کرتے تو دروازے کی پہرہ داری کرنے والے امام تمام پیسوں کو صندوق میں ڈال دیتے۔ -U راج اور پتھر تراشنے والے شامل تھے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے یہ پیسے دراڑوں کی مرمت کے لئے درکار لکڑی اور تراشے ہوئے پتھروں کے لئے بھی استعمال کئے۔ باقی جتنے اخراجات رب کے گھر کو بحال کرنے کے لئے ضروری تھے وہ سب اِن پیسوں سے پورے کئے گئے۔nW پھر یہ گنے ہوئے پیسے اُن ٹھیکے داروں کو دیئے جاتے جن کے سپرد رب کے گھر کی مرمت کا کام کیا گیا تھا۔ اِن پیسوں سے وہ مرمت کرنے والے کاری گروں کی اُجرت ادا کرتے تھے۔ اِن میں بڑھئی، عمارت پر کام کرنے والے، ^ 7 محض وہ پیسے جو قصور اور گناہ کی قربانیوں کے لئے ملتے تھے رب کے گھر کی مرمت کے لئے استعمال نہ ہوئے۔ وہ اماموں کا حصہ رہے۔6 g ٹھیکے داروں سے حساب نہ لیا گیا جب اُنہیں کاری گروں کو پیسے دینے تھے، کیونکہ وہ قابلِ اعتماد تھے۔  یہ صرف اور صرف ٹھیکے داروں کو دیئے گئے تاکہ وہ رب کے گھر کی مرمت کر سکیں۔dC لیکن اِن ہدیہ جات سے سونے یا چاندی کی چیزیں نہ بنوائی گئیں، نہ چاندی کے باسن، بتی کترنے کے اوزار، چھڑکاؤ کے کٹورے یا تُرم۔ ^^  یہ دیکھ کر یہوداہ کے بادشاہ یوآس نے اُن تمام ہدیہ جات کو اکٹھا کیا جو اُس کے باپ دادا یہوسفط، یہورام اور اخزیاہ نے رب کے گھر کے لئے مخصوص کئے تھے۔ اُس نے وہ بھی جمع کئے جو اُس نے خود رب کے گھر کے لئے مخصوص کئے تھے۔ یہ چیزیں اُس سارے سونے کے ساتھ ملا کر جو رب کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں میں تھا اُس نے سب کچھ حزائیل کو بھیج دیا۔ تب حزائیل یروشلم کو چھوڑ کر چلا گیا۔  اُن دنوں میں شام کے بادشاہ حزائیل نے جات پر حملہ کر کے اُس پر قبضہ کر لیا۔ اِس کے بعد وہ مُڑ کر یروشلم کی طرف بڑھنے لگا تاکہ اُس پر بھی حملہ کرے۔ ,5K قاتلوں کے نام یوزبد بن سِمعات اور یہوزبد بن شومیر تھے۔ یوآس کو یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا اَمصیاہ تخت نشین ہوا۔ sa ایک دن اُس کے افسروں نے اُس کے خلاف سازش کر کے اُسے قتل کر دیا جب وہ بیت مِلّو کے پاس اُس راستے پر تھا جو سِلّا کی طرف اُتر جاتا تھا۔P باقی جو کچھ یوآس کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا اُس کا ذکر ’شاہانِ یہوداہ‘ کی کتاب میں کیا گیا ہے۔ papmU اِس وجہ سے رب اسرائیل سے بہت ناراض ہوا، اور وہ شام کے بادشاہ حزائیل اور اُس کے بیٹے بن ہدد کے وسیلے سے اُنہیں بار بار دباتا رہا۔hK اُس کا چال چلن رب کو ناپسند تھا، کیونکہ وہ بھی یرُبعام بن نباط کے بُرے نمونے پر چلتا رہا۔ اُس نے وہ گناہ جاری رکھے جو کرنے پر یرُبعام نے اسرائیل کو اُکسایا تھا۔ اُس بُت پرستی سے وہ کبھی باز نہ آیا۔/ [ یہوآخز بن یاہو یہوداہ کے بادشاہ یوآس بن اخزیاہ کی حکومت کے 23ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اُس کی حکومت کا دورانیہ 17 سال تھا، اور اُس کا دار الحکومت سامریہ رہا۔ 7 توبھی وہ اُن گناہوں سے باز نہ آئے جو کرنے پر یرُبعام نے اُنہیں اُکسایا تھا بلکہ اُن کی یہ بُت پرستی جاری رہی۔ یسیرت دیوی کا بُت بھی سامریہ سے ہٹایا نہ گیا۔kQ رب نے کسی کو بھیج دیا جس نے اُنہیں شام کے ظلم سے آزاد کروایا۔ اِس کے بعد وہ پہلے کی طرح سکون کے ساتھ اپنے گھروں میں رہ سکتے تھے۔y لیکن پھر یہوآخز نے رب کا غضب ٹھنڈا کیا، اور رب نے اُس کی منتیں سنیں، کیونکہ اُسے معلوم تھا کہ شام کا بادشاہ اسرائیل پر کتنا ظلم کر رہا ہے۔ ~b>w جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے سامریہ میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا یہوآس تخت نشین ہوا۔+ باقی جو کچھ یہوآخز کی حکومت کے دوران ہوا، جو کچھ اُس نے کیا اور جو کامیابیاں اُسے حاصل ہوئیں وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔~w آخر میں یہوآخز کے صرف 50 گھڑسوار، 10 رتھ اور 10,000 پیادہ سپاہی رہ گئے۔ فوج کا باقی حصہ شام کے بادشاہ نے تباہ کر دیا تھا۔ اُس نے اسرائیلی فوجیوں کو کچل کر یوں اُڑا دیا تھا جس طرح دُھول اناج کو گاہتے وقت اُڑ جاتی ہے۔of flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| # & ) + - / 1 4 6 8 < ? B E # & ) + - / 1 4 6 8 < ? B E G I K N P R T V Y [ _ b e h k o r t w y ~           " % ) - / 2 5 7 : > A D G K N R U W Y \ _ b d i m p r u x z | ~           ! # ' , / 2 5 8 : = ? B D G I M P R V YMy باقی جو کچھ یہوآس کی حکومت کے دوران ہوا، جو کچھ اُس نے کیا اور جو کامیابیاں اُسے حاصل ہوئیں وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہیں۔ اُس میں اُس کی یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ کے ساتھ جنگ کا ذکر بھی ہے۔ یہوآس کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔ وہ اُن گناہوں سے باز نہ آیا جو کرنے پر یرُبعام بن نباط نے اسرائیل کو اُکسایا تھا بلکہ یہ بُت پرستی جاری رہی۔#A یہوآس بن یہوآخز یہوداہ کے بادشاہ یوآس کی حکومت کے 37ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ &5e الیشع نے اُسے حکم دیا، ”ایک کمان اور کچھ تیر لے آئیں۔“ بادشاہ کمان اور تیر الیشع کے پاس لے آیا۔  یہوآس کے دورِ حکومت میں الیشع شدید بیمار ہو گیا۔ جب وہ مرنے کو تھا تو اسرائیل کا بادشاہ یہوآس اُس سے ملنے آیا۔ اُس کے اوپر جھک کر وہ خوب رو پڑا اور چلّایا، ”ہائے، میرے باپ، میرے باپ۔ اسرائیل کے رتھ اور اُس کے گھوڑے!“V' جب یہوآس مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے سامریہ میں شاہی قبر میں دفنایا گیا۔ پھر یرُبعام دوم تخت پر بیٹھ گیا۔ ,jX"+ پھر اُس نے بادشاہ کو حکم دیا، ”اب باقی تیروں کو پکڑیں۔“ بادشاہ نے اُنہیں پکڑ لیا۔ پھر الیشع بولا، ”اِن کو زمین پر پٹخ دیں۔“ بادشاہ نے تین مرتبہ تیروں کو زمین پر پٹخ دیا اور پھر رُک گیا۔>!w پھر اُس نے حکم دیا، ”مشرقی کھڑکی کو کھول دیں۔“ بادشاہ نے اُسے کھول دیا۔ الیشع نے کہا، ”تیر چلائیں!“ بادشاہ نے تیر چلایا۔ الیشع پکارا، ”یہ رب کا فتح دلانے والا تیر ہے، شام پر فتح کا تیر! آپ افیق کے پاس شام کی فوج کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔“P  پھر الیشع بولا، ”کمان کو پکڑیں۔“ جب بادشاہ نے کمان کو پکڑ لیا تو الیشع نے اپنے ہاتھ اُس کے ہاتھوں پر رکھ دیئے۔ w%i ایک دن کسی کا جنازہ ہو رہا تھا تو اچانک یہ لٹیرے نظر آئے۔ ماتم کرنے والے لاش کو قریب کی الیشع کی قبر میں پھینک کر بھاگ گئے۔ لیکن جوں ہی لاش الیشع کی ہڈیوں سے ٹکرائی اُس میں جان آ گئی اور وہ آدمی کھڑا ہو گیا۔h$K تھوڑی دیر کے بعد الیشع فوت ہوا اور اُسے دفن کیا گیا۔ اُن دنوں میں موآبی لٹیرے ہر سال موسمِ بہار کے دوران ملک میں گھس آتے تھے۔}#u یہ دیکھ کرمردِ خدا غصے ہو گیا اور بولا، ”آپ کو تیروں کو پانچ یا چھ مرتبہ زمین پر پٹخنا چاہئے تھا۔ اگر ایسا کرتے تو شام کی فوج کو شکست دے کر مکمل طور پر تباہ کر دیتے۔ لیکن اب آپ اُسے صرف تین مرتبہ شکست دیں گے۔“ E E?)y تب یہوآس بن یہوآخز نے بن ہدد سے وہ اسرائیلی شہر دوبارہ چھین لئے جن پر بن ہدد کے باپ حزائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔ تین بار یہوآس نے بن ہدد کو شکست دے کر اسرائیلی شہر واپس لے لئے۔ ({ جب شام کا بادشاہ حزائیل فوت ہوا تو اُس کا بیٹا بن ہدد تخت نشین ہوا۔w'i توبھی رب کو اپنی قوم پر ترس آیا۔ اُس نے اُن پر رحم کیا، کیونکہ اُسے وہ عہد یاد رہا جو اُس نے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے باندھا تھا۔ آج تک وہ اُنہیں تباہ کرنے یا اپنے حضور سے خارج کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔v&g یہوآخز کے جیتے جی شام کا بادشاہ حزائیل اسرائیل کو دباتا رہا۔ }TL}K- لیکن اُس نے بھی اونچی جگہوں کے مندروں کو دُور نہ کیا۔ عام لوگ اب تک وہاں قربانیاں چڑھاتے اور بخور جلاتے رہے۔4,c جو کچھ اَمصیاہ نے کیا وہ رب کو پسند تھا، اگرچہ وہ اُتنی وفاداری سے رب کی پیروی نہیں کرتا تھا جتنی اُس کے باپ داؤد نے کی تھی۔ ہر کام میں وہ اپنے باپ یوآس کے نمونے پر چلا،L+ اُس وقت وہ 25 سال کا تھا۔ وہ یروشلم میں رہ کر 29 سال حکومت کرتا رہا۔ اُس کی ماں یہوعدان یروشلم کی رہنے والی تھی۔(* M اَمصیاہ بن یوآس اسرائیل کے بادشاہ یہوآس بن یہوآخز کے دوسرے سال میں یہوداہ کا بادشاہ بنا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\fq|   &  &  &  &  &  &  &  &  &   &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &   &  &  &  &  &  &  &  &   &   &   &   &   &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &   &  &  &  &  &  &  &  &   &   &   &   &   &  &  & B9Bs/a لیکن اُن کے بیٹوں کو اُس نے زندہ رہنے دیا اور یوں موسوی شریعت کے تابع رہا جس میں رب فرماتا ہے، ”والدین کو اُن کے بچوں کے جرائم کے سبب سے سزائے موت نہ دی جائے، نہ بچوں کو اُن کے والدین کے جرائم کے سبب سے۔ اگر کسی کو سزائے موت دینی ہو تو اُس گناہ کے سبب سے جو اُس نے خود کیا ہے۔“C. جوں ہی اَمصیاہ کے پاؤں مضبوطی سے جم گئے اُس نے اُن افسروں کو سزائے موت دی جنہوں نے باپ کو قتل کر دیا تھا۔ 42c  لیکن اسرائیل کے بادشاہ یہوآس نے جواب دیا، ”لبنان میں ایک کانٹےدار جھاڑی نے دیودار کے ایک درخت سے بات کی، ’میرے بیٹے کے ساتھ اپنی بیٹی کا رشتہ باندھو۔‘ لیکن اُسی وقت لبنان کے جنگلی جانوروں نے اُس کے اوپر سے گزر کر اُسے پاؤں تلے کچل ڈالا۔U1% اِس فتح کے بعد اَمصیاہ نے اسرائیل کے بادشاہ یہوآس بن یہوآخز کو پیغام بھیجا، ”آئیں، ہم ایک دوسرے کا مقابلہ کریں!“P0 اَمصیاہ نے ادومیوں کو نمک کی وادی میں شکست دی۔ اُس وقت اُن کے 10,000 فوجی اُس سے لڑنے آئے تھے۔ جنگ کے دوران اُس نے سلع شہر پر قبضہ کر لیا اور اُس کا نام یُقتئیل رکھا۔ یہ نام آج تک رائج ہے۔ ZF5#  اسرائیل کی فوج نے یہوداہ کی فوج کو شکست دی، اور ہر ایک اپنے اپنے گھر بھاگ گیا۔4  لیکن اَمصیاہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا، اِس لئے یہوآس اپنی فوج لے کر یہوداہ پر چڑھ آیا۔ بیت شمس کے پاس اُس کا یہوداہ کے بادشاہ کے ساتھ مقابلہ ہوا۔"3?  ملکِ ادوم پر فتح پانے کے سبب سے آپ کا دل مغرور ہو گیا ہے۔ لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے گھر میں رہ کر فتح میں حاصل ہوئی شہرت کا مزہ لینے پر اکتفا کریں۔ آپ ایسی مصیبت کو کیوں دعوت دیتے ہیں جو آپ اور یہوداہ کی تباہی کا باعث بن جائے؟“ bE7 جتنا بھی سونا، چاندی اور قیمتی سامان رب کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں میں تھا اُسے اُس نے پورے کا پورا چھین لیا۔ لُوٹا ہوا مال اور بعض یرغمالیوں کو لے کر وہ سامریہ واپس چلا گیا۔6/  اسرائیل کے بادشاہ یہوآس نے یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ بن یوآس بن اخزیاہ کو وہیں بیت شمس میں گرفتار کر لیا۔ پھر وہ یروشلم گیا اور شہر کی فصیل افرائیم نامی دروازے سے کونے کے دروازے تک گرا دی۔ اِس حصے کی لمبائی تقریباً 600 فٹ تھی۔ }r?:y اسرائیل کے بادشاہ یہوآس بن یہوآخز کی موت کے بعد یہوداہ کا بادشاہ اَمصیاہ بن یوآس مزید 15 سال جیتا رہا۔9 جب یہوآس مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے سامریہ میں اسرائیل کے بادشاہوں کی قبر میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا یرُبعام دوم تخت نشین ہوا۔8y باقی جو کچھ یہوآس کی حکومت کے دوران ہوا، جو کچھ اُس نے کیا اور جو کامیابیاں اُسے حاصل ہوئیں وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہیں۔ اُس میں اُس کی یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ کے ساتھ جنگ کا ذکر بھی ہے۔ @Q@2>_ یہوداہ کے تمام لوگوں نے اَمصیاہ کے بیٹے عُزیّاہ کو باپ کے تخت پر بٹھا دیا۔ اُس کی عمر 16 سال تھیp=[ اُس کی لاش گھوڑے پر اُٹھا کر یروشلم لائی گئی جہاں اُسے شہر کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔c<A ایک دن لوگ یروشلم میں اُس کے خلاف سازش کرنے لگے۔ آخرکار اُس نے فرار ہو کر لکیس میں پناہ لی، لیکن سازش کرنے والوں نے اپنے لوگوں کو اُس کے پیچھے بھیجا، اور وہ وہاں اُسے قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔+;Q باقی جو کچھ اَمصیاہ کی حکومت کے دوران ہوا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ fAG اُس کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔ وہ اُن گناہوں سے باز نہ آیا جو کرنے پر نباط کے بیٹے یرُبعام اوّل نے اسرائیل کو اُکسایا تھا۔&@G یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ بن یوآس کے 15ویں سال میں یرُبعام بن یہوآس اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اُس کی حکومت کا دورانیہ 41 سال تھا، اور اُس کا دار الحکومت سامریہ رہا۔9?m جب اُس کا باپ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا۔ بادشاہ بننے کے بعد عُزیّاہ نے ایلات شہر پر قبضہ کر کے اُسے دوبارہ یہوداہ کا حصہ بنا لیا۔ اُس نے شہر میں بہت تعمیری کام کروایا۔ \iT\tDc رب نے کبھی نہیں کہا تھا کہ مَیں اسرائیل قوم کا نام و نشان مٹا دوں گا، اِس لئے اُس نے اُنہیں یرُبعام بن یہوآس کے وسیلے سے نجات دلائی۔C کیونکہ رب نے اسرائیل کی نہایت بُری حالت پر دھیان دیا تھا۔ اُسے معلوم تھا کہ چھوٹے بڑے سب ہلاک ہونے والے ہیں اور کہ اُنہیں چھڑانے والا کوئی نہیں ہے۔B! یرُبعام دوم لبو حمات سے لے کر بحیرۂ مُردار تک اُن تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر سکا جو پہلے اسرائیل کے تھے۔ یوں وہ وعدہ پورا ہوا جو رب اسرائیل کے خدا نے اپنے خادم جات حِفر کے رہنے والے نبی یونس بن امِتّی کی معرفت کیا تھا۔ ?K5G g عُزیّاہ بن اَمصیاہ اسرائیل کے بادشاہ یرُبعام دوم کی حکومت کے 27ویں سال میں یہوداہ کا بادشاہ بنا۔pF[ جب یرُبعام مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے سامریہ میں بادشاہوں کی قبر میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا زکریاہ تخت نشین ہوا۔ =Eu باقی جو کچھ یرُبعام دوم کی حکومت کے دوران ہوا، جو کچھ اُس نے کیا اور جو جنگی کامیابیاں اُسے حاصل ہوئیں اُن کا ذکر ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں ہوا ہے۔ اُس میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اُس نے کس طرح دمشق اور حمات پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔  uKe ایک دن رب نے بادشاہ کو سزا دی کہ اُسے کوڑھ لگ گیا۔ عُزیّاہ جیتے جی اِس بیماری سے شفا نہ پا سکا، اور اُسے علیٰحدہ گھر میں رہنا پڑا۔ اُس کے بیٹے یوتام کو محل پر مقرر کیا گیا، اور وہی اُمّت پر حکومت کرنے لگا۔3Ja لیکن اونچی جگہوں کو دُور نہ کیا گیا، اور عام لوگ وہاں اپنی قربانیاں چڑھاتے اور بخور جلاتے رہے۔iIM اپنے باپ اَمصیاہ کی طرح اُس کا چال چلن رب کو پسند تھا،\H3 اُس وقت اُس کی عمر 16 سال تھی، اور وہ یروشلم میں رہ کر 52 سال حکومت کرتا رہا۔ اُس کی ماں یکولیاہ یروشلم کی رہنے والی تھی۔ +9Nm زکریاہ بن یرُبعام یہوداہ کے بادشاہ عُزیّاہ کی حکومت کے 38ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اُس کا دار الحکومت بھی سامریہ تھا، لیکن چھ ماہ کے بعد اُس کی حکومت ختم ہو گئی۔ M; جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا یوتام تخت نشین ہوا۔QL باقی جو کچھ عُزیّاہ کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ <xMR  یوں رب کا وہ وعدہ پورا ہوا جو اُس نے یاہو سے کیا تھا، ”تیری اولاد چوتھی پشت تک اسرائیل پر حکومت کرتی رہے گی۔“@Q{  باقی جو کچھ زکریاہ کی حکومت کے دوران ہوا اُس کا ذکر ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں کیا گیا ہے۔6Pg  سلّوم بن یبیس نے اُس کے خلاف سازش کر کے اُسے سب کے سامنے قتل کیا۔ پھر وہ اُس کی جگہ بادشاہ بن گیا۔O  اپنے باپ دادا کی طرح زکریاہ کا چال چلن بھی رب کو ناپسند تھا۔ وہ اُن گناہوں سے باز نہ آیا جو کرنے پر یرُبعام بن نباط نے اسرائیل کو اُکسایا تھا۔ d MdeUE باقی جو کچھ سلّوم کی حکومت کے دوران ہوا اور جو سازشیں اُس نے کیں وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔;Tq پھر مناحم بن جادی نے تِرضہ سے آ کر سلّوم کو سامریہ میں قتل کر دیا۔ اِس کے بعد وہ خود تخت پر بیٹھ گیا۔pS[  سلّوم بن یبیس یہوداہ کے بادشاہ عُزیّاہ کے 39ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ وہ سامریہ میں رہ کر صرف ایک ماہ تک تخت پر بیٹھ سکا۔ "W? مناحم بن جادی یہوداہ کے بادشاہ عُزیّاہ کی حکومت کے 39ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ سامریہ اُس کا دار الحکومت تھا، اور اُس کی حکومت کا دورانیہ 10 سال تھا۔aV= اُس وقت مناحم نے تِرضہ سے آ کر شہر تِفسَح کو اُس کے تمام باشندوں اور گرد و نواح کے علاقے سمیت تباہ کیا۔ وجہ یہ تھی کہ اُس کے باشندے اپنے دروازوں کو کھول کر اُس کے تابع ہو جانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جواب میں مناحم نے اُن کو مارا اور تمام حاملہ عورتوں کے پیٹ چیر ڈالے۔ >Yw مناحم کے دورِ حکومت میں اسور کا بادشاہ پُول یعنی تِگلت پِل ایسر ملک سے لڑنے آیا۔ مناحم نے اُسے 34,000 کلو گرام چاندی دے دی تاکہ وہ اُس کی حکومت مضبوط کرنے میں مدد کرے۔ تب اسور کا بادشاہ اسرائیل کو چھوڑ کر اپنے ملک واپس چلا گیا۔ چاندی کے یہ پیسے مناحم نے امیر اسرائیلیوں سے جمع کئے۔ ہر ایک کو چاندی کے 50 سکے ادا کرنے پڑے۔mXU اُس کا چال چلن رب کو ناپسند تھا، اور وہ زندگی بھر اُن گناہوں سے باز نہ آیا جو کرنے پر یرُبعام بن نباط نے اسرائیل کو اُکسایا تھا۔ XX\ جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُس کا بیٹا فِقَحیاہ تخت پر بیٹھ گیا۔O[ باقی جو کچھ مناحم کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔>Zw مناحم کے دورِ حکومت میں اسور کا بادشاہ پُول یعنی تِگلت پِل ایسر ملک سے لڑنے آیا۔ مناحم نے اُسے 34,000 کلو گرام چاندی دے دی تاکہ وہ اُس کی حکومت مضبوط کرنے میں مدد کرے۔ تب اسور کا بادشاہ اسرائیل کو چھوڑ کر اپنے ملک واپس چلا گیا۔ چاندی کے یہ پیسے مناحم نے امیر اسرائیلیوں سے جمع کئے۔ ہر ایک کو چاندی کے 50 سکے ادا کرنے پڑے۔ AAZ_/ ایک دن فوج کے اعلیٰ افسر فِقَح بن رملیاہ نے اُس کے خلاف سازش کی۔ جِلعاد کے 50 آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر اُس نے فِقَحیاہ کو سامریہ کے محل کے بُرج میں مار ڈالا۔ اُس وقت دو اَور افسر بنام ارجوب اور اریہ بھی اُس کی زد میں آ کر مر گئے۔ اِس کے بعد فِقَح تخت پر بیٹھ گیا۔^^7 فِقَحیاہ کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔ وہ اُن گناہوں سے باز نہ آیا جو کرنے پر یرُبعام بن نباط نے اسرائیل کو اُکسایا تھا۔{]q فِقَحیاہ بن مناحم یہوداہ کے بادشاہ عُزیّاہ کے 50ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ سامریہ میں رہ کر اُس کی حکومت کا دورانیہ دو سال تھا۔ ??Xb+ فِقَح کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔ وہ اُن گناہوں سے باز نہ آیا جو کرنے پر یرُبعام بن نباط نے اسرائیل کو اُکسایا تھا۔xak فِقَح بن رملیاہ یہوداہ کے بادشاہ عُزیّاہ کی حکومت کے 52ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ سامریہ میں رہ کر وہ 20 سال تک حکومت کرتا رہا۔e`E باقی جو کچھ فِقَحیاہ کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔ ll9dm ایک دن ہوسیع بن ایلہ نے فِقَح کے خلاف سازش کر کے اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ پھر وہ خود تخت پر بیٹھ گیا۔ یہ یہوداہ کے بادشاہ یوتام بن عُزیّاہ کی حکومت کے 20ویں سال میں ہوا۔Sc! فِقَح کے دورِ حکومت میں اسور کے بادشاہ تِگلت پِل ایسر نے اسرائیل پر حملہ کیا۔ ذیل کے تمام شہر اُس کے قبضے میں آ گئے: عِیون، ابیل بیت معکہ، یانوح، قادس اور حصور۔ جِلعاد اور گلیل کے علاقے بھی نفتالی کے پورے قبائلی علاقے سمیت اُس کی گرفت میں آ گئے۔ اسور کا بادشاہ اِن تمام جگہوں میں آباد لوگوں کو گرفتار کر کے اپنے ملک اسور لے گیا۔ &-w:&i #توبھی اونچی جگہوں کے مندر ہٹائے نہ گئے۔ لوگ وہاں اپنی قربانیاں چڑھانے اور بخور جلانے سے باز نہ آئے۔ یوتام نے رب کے گھر کا بالائی دروازہ تعمیر کیا۔uhe "وہ اپنے باپ عُزیّاہ کی طرح وہ کچھ کرتا رہا جو رب کو پسند تھا۔Ag} !وہ 25 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور یروشلم میں رہ کر 16 سال حکومت کرتا رہا۔ اُس کی ماں یروسہ بنت صدوق تھی۔2f_  عُزیّاہ کا بیٹا یوتام اسرائیل کے بادشاہ فِقَح کی حکومت کے دوسرے سال میں یہوداہ کا بادشاہ بنا۔Oe باقی جو کچھ فِقَح کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ (f90m ] آخز بن یوتام اسرائیل کے بادشاہ فِقَح بن رملیاہ کی حکومت کے 17ویں سال میں یہوداہ کا بادشاہ بنا۔)lM &جب یوتام مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا آخز تخت پر بیٹھ گیا۔ >kw %اُن دنوں میں رب شام کے بادشاہ رضین اور فِقَح بن رملیاہ کو یہوداہ کے خلاف بھیجنے لگا تاکہ اُس سے لڑیں۔Tj# $باقی جو کچھ یوتام کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں قلم بند ہے۔ hBp آخز بخور جلا کر اپنی قربانیاں اونچے مقاموں، پہاڑیوں کی چوٹیوں اور ہر گھنے درخت کے سائے میں چڑھاتا تھا۔o} کیونکہ اُس نے اسرائیل کے بادشاہوں کا چال چلن اپنایا، یہاں تک کہ اُس نے اپنے بیٹے کو قربانی کے طور پر جلا دیا۔ یوں وہ اُن قوموں کے گھنونے رسم و رواج ادا کرنے لگا جنہیں رب نے اسرائیلیوں کے آگے ملک سے نکال دیا تھا۔n اُس وقت آخز 20 سال کا تھا، اور وہ یروشلم میں رہ کر 16 سال حکومت کرتا رہا۔ وہ اپنے باپ داؤد کے نمونے پر نہ چلا بلکہ وہ کچھ کرتا رہا جو رب کو ناپسند تھا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq|  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &  &   &  !&  "&  #&  $&  %&  &&   &  &  &  &  &  &  &  &   &   &   &   &   &  &  &  &  &  &  &  '   '  '  '  '  '  '  '  '   '   '   '   '   '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  ' 1r] اُن ہی دنوں میں رضین نے ایلات پر دوبارہ قبضہ کر کے شام کا حصہ بنا لیا۔ یہوداہ کے لوگوں کو وہاں سے نکال کر اُس نے وہاں ادومیوں کو بسا دیا۔ یہ ادومی آج تک وہاں آباد ہیں۔Hq ایک دن شام کا بادشاہ رضین اور اسرائیل کا بادشاہ فِقَح بن رملیاہ یروشلم پر حملہ کرنے کے لئے یہوداہ میں گھس آئے۔ اُنہوں نے شہر کا محاصرہ تو کیا لیکن اُس پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے۔ mmu  تِگلت پِل ایسر راضی ہو گیا۔ اُس نے دمشق پر حملہ کر کے شہر پر قبضہ کر لیا اور اُس کے باشندوں کو گرفتار کر کے قیر کو لے گیا۔ رضین کو اُس نے قتل کر دیا۔}tu ساتھ ساتھ آخز نے وہ چاندی اور سونا جمع کیا جو رب کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں میں تھا اور اُسے تحفے کے طور پر اسور کے بادشاہ کو بھیج دیا۔{sq آخز نے اپنے قاصدوں کو اسور کے بادشاہ تِگلت پِل ایسر کے پاس بھیج کر اُسے اطلاع دی، ”مَیں آپ کا خادم اور بیٹا ہوں۔ مہربانی کر کے آئیں اور مجھے شام اور اسرائیل کے بادشاہوں سے بچائیں جو مجھ پر حملہ کر رہے ہیں۔“ x7  جب بادشاہ واپس آیا تو اُس نے نئی قربان گاہ کا معائنہ کیا۔ پھر اُس کی سیڑھی پر چڑھ کرw  جب اُوریاہ کو ہدایات ملیں تو اُس نے اُن ہی کے مطابق یروشلم میں ایک قربان گاہ بنائی۔ آخز کے دمشق سے واپس آنے سے پہلے پہلے اُسے تیار کر لیا گیا۔qv]  آخز بادشاہ اسور کے بادشاہ تِگلت پِل ایسر سے ملنے کے لئے دمشق گیا۔ وہاں ایک قربان گاہ تھی جس کا نمونہ آخز نے بنا کر اُوریاہ امام کو بھیج دیا۔ ساتھ ساتھ اُس نے ڈیزائن کی تمام تفصیلات بھی یروشلم بھیج دیں۔ }}Iz رب کے گھر اور نئی قربان گاہ کے درمیان اب تک پیتل کی پرانی قربان گاہ تھی۔ اب آخز نے اُسے اُٹھا کر رب کے گھر کے سامنے سے منتقل کر کے نئی قربان گاہ کے پیچھے یعنی شمال کی طرف رکھوا دیا۔2y_  اُس نے خود قربانیاں اُس پر پیش کیں۔ بھسم ہونے والی قربانی اور غلہ کی نذر جلا کر اُس نے مَے کی نذر قربان گاہ پر اُنڈیل دی اور سلامتی کی قربانیوں کا خون اُس پر چھڑک دیا۔ n|W اُوریاہ امام نے ویسا ہی کیا جیسا بادشاہ نے اُسے حکم دیا۔a{= اُوریاہ امام کو اُس نے حکم دیا، ”اب سے آپ کو تمام قربانیوں کو نئی قربان گاہ پر پیش کرنا ہے۔ اِن میں صبح و شام کی روزانہ قربانیاں بھی شامل ہیں اور بادشاہ اور اُمّت کی مختلف قربانیاں بھی، مثلاً بھسم ہونے والی قربانیاں اور غلہ اور مَے کی نذریں۔ قربانیوں کے تمام خون کو بھی صرف نئی قربان گاہ پر چھڑکنا ہے۔ آئندہ پیتل کی پرانی قربان گاہ صرف میرے ذاتی استعمال کے لئے ہو گی جب مجھے اللہ سے کچھ دریافت کرنا ہو گا۔“ ]]~! اُس نے اسور کے بادشاہ کو خوش رکھنے کے لئے ایک اَور کام بھی کیا۔ اُس نے رب کے گھر سے وہ چبوترا دُور کر دیا جس پر بادشاہ کا تخت رکھا جاتا تھا اور وہ دروازہ بند کر دیا جو بادشاہ رب کے گھر میں داخل ہونے کے لئے استعمال کرتا تھا۔} لیکن آخز بادشاہ رب کے گھر میں مزید تبدیلیاں بھی لایا۔ ہتھ گاڑیوں کے جن فریموں پر باسن رکھے جاتے تھے اُنہیں توڑ کر اُس نے باسنوں کو دُور کر دیا۔ اِس کے علاوہ اُس نے ’سمندر‘ نامی بڑے حوض کو پیتل کے اُن بَیلوں سے اُتار دیا جن پر وہ شروع سے پڑا تھا اور اُسے پتھر کے ایک چبوترے پر رکھوا دیا۔ !3 !H ہوسیع کا چال چلن رب کو ناپسند تھا، لیکن اسرائیل کے اُن بادشاہوں کی نسبت جو اُس سے پہلے تھے وہ کچھ بہتر تھا۔ - ہوسیع بن ایلہ یہوداہ کے بادشاہ آخز کی حکومت کے 12ویں سال میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ سامریہ اُس کا دار الحکومت رہا، اور اُس کی حکومت کا دورانیہ 9 سال تھا۔&G جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا حِزقیاہ تخت نشین ہوا۔ I باقی جو کچھ آخز کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ (K سلمنسر پورے ملک میں سے گزر کر سامریہ تک پہنچ گیا۔ تین سال تک اُسے شہر کا محاصرہ کرنا پڑا،y لیکن چند سال کے بعد وہ سرکش ہو گیا۔ اُس نے خراج کا سالانہ سلسلہ بند کر کے اپنے سفیروں کو مصر کے بادشاہ سو کے پاس بھیجا تاکہ اُس سے مدد حاصل کرے۔ جب اسور کے بادشاہ کو پتا چلا تو اُس نے اُسے پکڑ کر جیل میں ڈال دیا۔hK ایک دن اسور کے بادشاہ سلمنسر نے اسرائیل پر حملہ کیا۔ تب ہوسیع شکست مان کر اُس کے تابع ہو گیا۔ اُسے اسور کو خراج ادا کرنا پڑا۔ ]C یہ سب کچھ اِس لئے ہوا کہ اسرائیلیوں نے رب اپنے خدا کا گناہ کیا تھا، حالانکہ وہ اُنہیں مصری بادشاہ فرعون کے قبضے سے رِہا کر کے مصر سے نکال لایا تھا۔ وہ دیگر معبودوں کی پوجا کرتے9 لیکن آخرکار وہ ہوسیع کی حکومت کے نویں سال میں کامیاب ہوا اور شہر پر قبضہ کر کے اسرائیلیوں کو جلاوطن کر دیا۔ اُنہیں اسور لا کر اُس نے کچھ خلح کے علاقے میں، کچھ جوزان کے دریائے خابور کے کنارے پر اور کچھ مادیوں کے شہروں میں بسائے۔ a =  ہر پہاڑی کی چوٹی پر اور ہر گھنے درخت کے سائے میں اُنہوں نے پتھر کے اپنے دیوتاؤں کے ستون اور یسیرت دیوی کے کھمبے کھڑے کئے۔K   اسرائیلیوں کو رب اپنے خدا کے خلاف بہت ترکیبیں سوجھیں جو ٹھیک نہیں تھیں۔ سب سے چھوٹی چوکی سے لے کر بڑے سے بڑے قلعہ بند شہر تک اُنہوں نے اپنے تمام شہروں کی اونچی جگہوں پر مندر بنائے۔$C اور اُن قوموں کے رسم و رواج کی پیروی کرتے جن کو رب نے اُن کے آگے سے نکال دیا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ اُن رسموں سے بھی لپٹے رہے جو اسرائیل کے بادشاہوں نے شروع کی تھیں۔ P=Pi M  بار بار رب نے اپنے نبیوں اور غیب بینوں کو اسرائیل اور یہوداہ کے پاس بھیجا تھا تاکہ اُنہیں آگاہ کریں، ”اپنی شریر راہوں سے باز آؤ۔ میرے احکام اور قواعد کے تابع رہو۔ اُس پوری شریعت کی پیروی کرو جو مَیں نے تمہارے باپ دادا کو اپنے خادموں یعنی نبیوں کے وسیلے سے دے دی تھی۔“p [  وہ بُتوں کی پرستش کرتے رہے اگرچہ رب نے اِس سے منع کیا تھا۔L   ہر اونچی جگہ پر وہ بخور جلا دیتے تھے، بالکل اُن اقوام کی طرح جنہیں رب نے اُن کے آگے سے نکال دیا تھا۔ غرض اسرائیلیوں سے بہت سی ایسی شریر حرکتیں سرزد ہوئیں جن کو دیکھ کر رب کو غصہ آیا۔ }u اُنہوں نے اُس کے احکام اور اُس عہد کو رد کیا جو اُس نے اُن کے باپ دادا سے باندھا تھا۔ جب بھی اُس نے اُنہیں کسی بات سے آگاہ کیا تو اُنہوں نے اُسے حقیر جانا۔ بےکار بُتوں کی پیروی کرتے کرتے وہ خود بےکار ہو گئے۔ وہ گرد و نواح کی قوموں کے نمونے پر چل پڑے حالانکہ رب نے اِس سے منع کیا تھا۔]5 لیکن وہ سننے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ اپنے باپ دادا کی طرح اَڑ گئے، کیونکہ وہ بھی رب اپنے خدا پر بھروسا نہیں کرتے تھے۔ y5 اپنے بیٹے بیٹیوں کو اُنہوں نے اپنے بُتوں کے لئے قربان کر کے جلا دیا۔ نجومیوں سے مشورہ لینا اور جادوگری کرنا عام ہو گیا۔ غرض اُنہوں نے اپنے آپ کو بدی کے ہاتھ میں بیچ کر ایسا کام کیا جو رب کو ناپسند تھا اور جو اُسے غصہ دلاتا رہا۔ رب اپنے خدا کے تمام احکام کو مسترد کر کے اُنہوں نے اپنے لئے بچھڑوں کے دو مجسمے ڈھال لئے اور یسیرت دیوی کا کھمبا کھڑا کر دیا۔ وہ سورج، چاند بلکہ آسمان کے پورے لشکر کے سامنے جھک گئے اور بعل دیوتا کی پرستش کرنے لگے۔ ! پھر رب نے پوری کی پوری قوم کو رد کر دیا۔ اُنہیں تنگ کر کے وہ اُنہیں لٹیروں کے حوالے کرتا رہا، اور ایک دن اُس نے اُنہیں بھی اپنے حضور سے خارج کر دیا۔- لیکن یہوداہ کے افراد بھی رب اپنے خدا کے احکام کے تابع رہنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ وہ بھی اُن بُرے رسم و رواج کی پیروی کرتے رہے جو اسرائیل نے شروع کئے تھے۔[1 تب رب کا غضب اسرائیل پر نازل ہوا، اور اُس نے اُنہیں اپنے حضور سے خارج کر دیا۔ صرف یہوداہ کا قبیلہ ملک میں باقی رہ گیا۔ vfva= یہی وجہ ہے کہ جوکچھ رب نے اپنے خادموں یعنی نبیوں کی معرفت فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔ اُس نے اُنہیں اپنے حضور سے خارج کر دیا، اور دشمن اُنہیں قیدی بنا کر اسور لے گیا جہاں وہ آج تک زندگی گزارتے ہیں۔ اسرائیلی یرُبعام کے بُرے نمونے پر چلتے رہے اور کبھی اِس سے باز نہ آئے۔' رب نے خود اسرائیل کے شمالی قبیلوں کو داؤد کے گھرانے سے الگ کر دیا تھا، اور اُنہوں نے یرُبعام بن نباط کو اپنا بادشاہ بنا لیا تھا۔ لیکن یرُبعام نے اسرائیل کو ایک سنگین گناہ کرنے پر اُکسا کر رب کی پیروی کرنے سے دُور کئے رکھا۔ [1 لیکن آتے وقت وہ رب کی پرستش نہیں کرتے تھے، اِس لئے رب نے اُن کے درمیان شیرببر بھیج دیئے جنہوں نے کئی ایک کو پھاڑ ڈالا۔iM اسور کے بادشاہ نے بابل، کوتہ، عَوّا، حمات اور سِفروائم سے لوگوں کو اسرائیل میں لا کر سامریہ کے اسرائیلیوں سے خالی کئے گئے شہروں میں آباد کیا۔ یہ لوگ سامریہ پر قبضہ کر کے اُس کے شہروں میں بسنے لگے۔ OO یہ سن کر اسور کے بادشاہ نے حکم دیا، ”سامریہ سے یہاں لائے گئے اماموں میں سے ایک کو چن لو جو اپنے وطن لوٹ کر وہاں دوبارہ آباد ہو جائے اور لوگوں کو سکھائے کہ اُس ملک کا دیوتا اپنی پوجا کے لئے کن کن باتوں کا تقاضا کرتا ہے۔“/ اسور کے بادشاہ کو اطلاع دی گئی، ”جن لوگوں کو آپ نے جلاوطن کر کے سامریہ کے شہروں میں آباد کیا ہے وہ نہیں جانتے کہ اُس ملک کا دیوتا کن کن باتوں کا تقاضا کرتا ہے۔ نتیجے میں اُس نے اُن کے درمیان شیرببر بھیج دیئے ہیں جو اُنہیں پھاڑ رہے ہیں۔ اور وجہ یہی ہے کہ وہ اُس کی صحیح پوجا کرنے سے واقف نہیں ہیں۔“ 7i بابل کے باشندوں نے سُکات بنات کے بُت، کوتہ کے لوگوں نے نیرگل کے مجسمے، حمات والوں نے اسیما کے بُتJ لیکن ساتھ ساتھ وہ اپنے ذاتی دیوتاؤں کی پوجا بھی کرتے رہے۔ شہر بہ شہر ہر قوم نے اپنے اپنے بُت بنا کر اُن تمام اونچی جگہوں کے مندروں میں کھڑے کئے جو سامریہ کے لوگوں نے بنا چھوڑے تھے۔eE تب ایک امام جلاوطنی سے واپس آیا۔ بیت ایل میں آباد ہو کر اُس نے نئے باشندوں کو سکھایا کہ رب کی مناسب عبادت کس طرح کی جاتی ہے۔ ~!w !وہ رب کی عبادت بھی کرتے اور ساتھ ساتھ اپنے دیوتاؤں کی اُن قوموں کے رواجوں کے مطابق عبادت بھی کرتے تھے جن میں سے اُنہیں یہاں لایا گیا تھا۔@ {  غرض سب رب کی پرستش کے ساتھ ساتھ اپنے دیوتاؤں کی پوجا بھی کرتے اور اپنے لوگوں میں سے مختلف قسم کے افراد کو چن کر پجاری مقرر کرتے تھے تاکہ وہ اونچی جگہوں کے مندروں کو سنبھالیں۔#A اور عَوّا کے لوگوں نے نبحاز اور ترتاق کے مجسمے کھڑے کئے۔ سفروائم کے باشندے اپنے بچوں کو اپنے دیوتاؤں ادرمَّلِک اور عنمَّلِک کے لئے قربان کر کے جلا دیتے تھے۔ B# #کیونکہ رب نے اسرائیل کی قوم کے ساتھ عہد باندھ کر اُسے حکم دیا تھا، ”دوسرے کسی بھی معبود کی عبادت مت کرنا! اُن کے سامنے جھک کر اُن کی خدمت مت کرنا، نہ اُنہیں قربانیاں پیش کرنا۔"% "یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ سامریہ کے باشندے اپنے اُن پرانے رواجوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور صرف رب کی پرستش کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ وہ اُس کی ہدایات اور احکام کی پروا نہیں کرتے اور اُس شریعت کی پیروی نہیں کرتے جو رب نے یعقوب کی اولاد کو دی تھی۔ (رب نے یعقوب کا نام اسرائیل میں بدل دیا تھا۔) H)'M 'صرف اور صرف رب اپنے خدا کی عبادت کرو۔ وہی تمہیں تمہارے تمام دشمنوں کے ہاتھ سے بچا لے گا۔“%&E &وہ عہد مت بھولنا جو مَیں نے تمہارے ساتھ باندھ لیا ہے، اور دیگر معبودوں کی پرستش نہ کرو۔% %لازم ہے کہ تم دھیان سے اُن تمام ہدایات، احکام اور قواعد کی پیروی کرو جو مَیں نے تمہارے لئے قلم بند کر دیئے ہیں۔ کسی اَور دیوتا کی پوجا مت کرنا۔$y $صرف رب کی پرستش کرو جو بڑی قدرت اور عظیم کام دکھا کر تمہیں مصر سے نکال لایا۔ صرف اُسی کے سامنے جھک جاؤ، صرف اُسی کو اپنی قربانیاں پیش کرو۔ a~q,] اپنے باپ داؤد کی طرح اُس نے ایسا کام کیا جو رب کو پسند تھا۔D+ اُس وقت اُس کی عمر 25 سال تھی، اور وہ یروشلم میں رہ کر 29 سال حکومت کرتا رہا۔ اُس کی ماں ابی بنت زکریاہ تھی۔2* a اسرائیل کے بادشاہ ہوسیع بن ایلہ کی حکومت کے تیسرے سال میں حِزقیاہ بن آخز یہوداہ کا بادشاہ بنا۔_)9 )چنانچہ رب کی عبادت کے ساتھ ہی سامریہ کے نئے باشندے اپنے بُتوں کی پوجا کرتے رہے۔ آج تک اُن کی اولاد یہی کچھ کرتی آئی ہے۔ (1 (لیکن لوگ یہ سننے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ اپنے پرانے رسم و رواج کے ساتھ لپٹے رہے۔ &&e/E وہ رب کے ساتھ لپٹا رہا اور اُس کی پیروی کرنے سے کبھی بھی باز نہ آیا۔ وہ اُن احکام پر عمل کرتا رہا جو رب نے موسیٰ کو دیئے تھے۔I. حِزقیاہ رب اسرائیل کے خدا پر بھروسا رکھتا تھا۔ یہوداہ میں نہ اِس سے پہلے اور نہ اِس کے بعد ایسا بادشاہ ہوا۔ -; اُس نے اونچی جگہوں کے مندروں کو گرا دیا، پتھر کے اُن ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جن کی پوجا کی جاتی تھی اور یسیرت دیوی کے کھمبوں کو کاٹ ڈالا۔ پیتل کا جو سانپ موسیٰ نے بنایا تھا اُسے بھی بادشاہ نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، کیونکہ اسرائیلی اُن ایام تک اُس کے سامنے بخور جلانے آتے تھے۔ (سانپ نخُشتان کہلاتا تھا۔) +2Q  حِزقیاہ کی حکومت کے چوتھے سال میں اور اسرائیل کے بادشاہ ہوسیع کی حکومت کے ساتویں سال میں اسور کے بادشاہ سلمنسر نے اسرائیل پر حملہ کیا۔ سامریہ شہر کا محاصرہ کر کے1y فلستیوں کو اُس نے سب سے چھوٹی چوکی سے لے کر بڑے سے بڑے قلعہ بند شہر تک شکست دی اور اُنہیں مارتے مارتے غزہ شہر اور اُس کے علاقے تک پہنچ گیا۔0 اِس لئے رب اُس کے ساتھ رہا۔ جب بھی وہ کسی مقصد کے لئے نکلا تو اُسے کامیابی حاصل ہوئی۔ چنانچہ وہ اسور کی حکومت سے آزاد ہو گیا اور اُس کے تابع نہ رہا۔ XX5'  یہ سب کچھ اِس لئے ہوا کہ وہ رب اپنے خدا کے تابع نہ رہے بلکہ اُس کے اُن کے ساتھ بندھے ہوئے عہد کو توڑ کر اُن تمام احکام کے فرماں بردار نہ رہے جو رب کے خادم موسیٰ نے اُنہیں دیئے تھے۔ نہ وہ اُن کی سنتے اور نہ اُن پر عمل کرتے تھے۔4  اسور کے بادشاہ نے اسرائیلیوں کو جلاوطن کر کے کچھ خلح کے علاقے میں، کچھ جوزان کے دریائے خابور کے کنارے پر اور کچھ مادیوں کے شہروں میں بسائے۔3  وہ تین سال کے بعد اُس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہ حِزقیاہ کی حکومت کے چھٹے سال اور اسرائیل کے بادشاہ ہوسیع کی حکومت کے نویں سال میں ہوا۔ k  k87 حِزقیاہ نے اُسے وہ تمام چاندی دے دی جو رب کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں میں پڑی تھی۔y7m جب اسور کا بادشاہ لکیس کے آس پاس پہنچا تو یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ نے اُسے اطلاع دی، ”مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ مجھے چھوڑ دیں تو جو کچھ بھی آپ مجھ سے طلب کریں گے مَیں آپ کو ادا کروں گا۔“ تب سنحیرب نے حِزقیاہ سے چاندی کے تقریباً 10,000 کلو گرام اور سونے کے تقریباً 1,000 کلو گرام مانگ لیا۔r6_  حِزقیاہ بادشاہ کی حکومت کے 14ویں سال میں اسور کے بادشاہ سنحیرب نے یہوداہ کے تمام قلعہ بند شہروں پر دھاوا بول کر اُن پر قبضہ کر لیا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0:EP[fq|  '  '  '   '  !'!  "'"  #'#  $'$  %'%  '  '  '   '  !'!  "'"  #'#  $'$  %'%  &'&  '''  ('(  )')   '*  '+  ',  '-  '.  '/  '0  '1   '2   '3   '4   '5   '6  '7  '8  '9  ':  ';  '<  '=  '>  '?  '@  'A  'B  'C  'D  'E  'F  'G  'H   'I  !'J  "'K  #'L  $'M  %'N   'O  'P  'Q  'R  'S  'T  'U  'V   'W   'X   'Y   'Z   '[  '\  ']  '^  '_  '`  'a YYT:# پھر بھی اسور کا بادشاہ مطمئن نہ ہوا۔ اُس نے اپنے سب سے اعلیٰ افسروں کو بڑی فوج کے ساتھ لکیس سے یروشلم کو بھیجا (اُن کی اپنی زبان میں افسروں کے عُہدوں کے نام ترتان، رب سارس اور ربشاقی تھے)۔ یروشلم پہنچ کر وہ اُس نالے کے پاس رُک گئے جو پانی کو اوپر والے تالاب تک پہنچاتا ہے (یہ تالاب اُس راستے پر ہے جو دھوبیوں کے گھاٹ تک لے جاتا ہے)۔K9 سونے کا تقاضا پورا کرنے کے لئے اُس نے رب کے گھر کے دروازوں اور چوکھٹوں پر لگا سونا اُتروا کر اُسے اسور کے بادشاہ کو بھیج دیا۔ یہ سونا اُس نے خود دروازوں اور چوکھٹوں پر چڑھوایا تھا۔ {=q تم سمجھتے ہو کہ خالی باتیں کرنا فوجی حکمتِ عملی اور طاقت کے برابر ہے۔ یہ کیسی بات ہے؟ تم کس پر اعتماد کر رہے ہو کہ مجھ سے سرکش ہو گئے ہو؟J< ربشاقی نے اُن کے ہاتھ حِزقیاہ کو پیغام بھیجا، ”اسور کے عظیم بادشاہ فرماتے ہیں، تمہارا بھروسا کس چیز پر ہے؟=;u اِن تین اسوری افسروں نے اطلاع دی کہ بادشاہ ہم سے ملنے آئے، لیکن حِزقیاہ نے محل کے انچارج اِلیاقیم بن خِلقیاہ، میرمنشی شِبناہ اور مشیرِ خاص یوآخ بن آسف کو اُن کے پاس بھیجا۔ E? شاید تم کہو، ’ہم رب اپنے خدا پر توکل کرتے ہیں۔‘ لیکن یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ حِزقیاہ نے تو اُس کی بےحرمتی کی ہے۔ کیونکہ اُس نے اونچی جگہوں کے مندروں اور قربان گاہوں کو ڈھا کر یہوداہ اور یروشلم سے کہا ہے کہ صرف یروشلم کی قربان گاہ کے سامنے پرستش کریں۔Z>/ کیا تم مصر پر بھروسا کرتے ہو؟ وہ تو ٹوٹا ہوا سرکنڈا ہی ہے۔ جو بھی اُس پر ٹیک لگائے اُس کا ہاتھ وہ چیر کر زخمی کر دے گا۔ یہی کچھ اُن سب کے ساتھ ہو جائے گا جو مصر کے بادشاہ فرعون پر بھروسا کریں! UB% شاید تم سمجھتے ہو کہ مَیں رب کی مرضی کے بغیر ہی اِس جگہ پر حملہ کرنے آیا ہوں تاکہ سب کچھ برباد کروں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے! رب نے خود مجھے کہا کہ اِس ملک پر دھاوا بول کر اِسے تباہ کر دے۔“eAE تم میرے آقا اسور کے بادشاہ کے سب سے چھوٹے افسر کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لہٰذا مصر کے رتھوں پر بھروسا رکھنے کا کیا فائدہ؟#@A آؤ، میرے آقا اسور کے بادشاہ سے سودا کرو۔ مَیں تمہیں 2,000 گھوڑے دوں گا بشرطیکہ تم اُن کے لئے سوار مہیا کر سکو۔ لیکن افسوس، تمہارے پاس اِتنے گھڑسوار ہیں ہی نہیں! \\=Du لیکن ربشاقی نے جواب دیا، ”کیا تم سمجھتے ہو کہ میرے مالک نے یہ پیغام صرف تمہیں اور تمہارے مالک کو بھیجا ہے؟ ہرگز نہیں! وہ چاہتے ہیں کہ تمام لوگ یہ باتیں سن لیں۔ کیونکہ وہ بھی تمہاری طرح اپنا فضلہ کھانے اور اپنا پیشاب پینے پر مجبور ہو جائیں گے۔“_C9 یہ سن کر اِلیاقیم بن خِلقیاہ، شِبناہ اور یوآخ نے ربشاقی کی تقریر میں دخل دے کر کہا، ”براہِ کرم اَرامی زبان میں اپنے خادموں کے ساتھ گفتگو کیجئے، کیونکہ ہم یہ اچھی طرح بول لیتے ہیں۔ عبرانی زبان استعمال نہ کریں، ورنہ شہر کی فصیل پر کھڑے لوگ آپ کی باتیں سن لیں گے۔“ p[G1 بےشک وہ تمہیں تسلی دلانے کی کوشش کر کے کہتا ہے، ’رب ہمیں ضرور چھٹکارا دے گا، یہ شہر کبھی بھی اسوری بادشاہ کے قبضے میں نہیں آئے گا۔‘ لیکن اِس قسم کی باتوں سے تسلی پا کر رب پر بھروسا مت کرنا۔!F= بادشاہ فرماتے ہیں کہ حِزقیاہ تمہیں دھوکا نہ دے۔ وہ تمہیں میرے ہاتھ سے بچا نہیں سکتا۔gEI پھر وہ فصیل کی طرف مُڑ کر بلند آواز سے عبرانی زبان میں عوام سے مخاطب ہوا، ”سنو، شہنشاہ، اسور کے بادشاہ کے فرمان پر دھیان دو! 6[6!I=  پھر کچھ دیر کے بعد مَیں تمہیں ایک ایسے ملک میں لے جاؤں گا جو تمہارے اپنے ملک کی مانند ہو گا۔ اُس میں بھی اناج، نئی مَے، روٹی اور انگور کے باغ، زیتون کے درخت اور شہد ہے۔ غرض، موت کی راہ اختیار نہ کرنا بلکہ زندگی کی راہ۔ حِزقیاہ کی مت سننا۔ جب وہ کہتا ہے، ’رب ہمیں بچائے گا‘ تو وہ تمہیں دھوکا دے رہا ہے۔!H= حِزقیاہ کی باتیں نہ مانو بلکہ اسور کے بادشاہ کی۔ کیونکہ وہ فرماتے ہیں، میرے ساتھ صلح کرو اور شہر سے نکل کر میرے پاس آ جاؤ۔ پھر تم میں سے ہر ایک انگور کی اپنی بیل اور انجیر کے اپنے درخت کا پھل کھائے گا اور اپنے حوض کا پانی پیئے گا۔ poZM/ $فصیل پر کھڑے لوگ خاموش رہے۔ اُنہوں نے کوئی جواب نہ دیا، کیونکہ بادشاہ نے حکم دیا تھا کہ جواب میں ایک لفظ بھی نہ کہیں۔/LY #نہیں، کوئی بھی دیوتا اپنا ملک مجھ سے بچا نہ سکا۔ تو پھر رب یروشلم کو کس طرح مجھ سے بچائے گا؟“}Ku "حمات اور ارفاد کے دیوتا کہاں رہ گئے ہیں؟ سفروائم، ہینع اور عِوّا کے دیوتا کیا کر سکے؟ اور کیا کسی دیوتا نے سامریہ کو میری گرفت سے بچایا؟ J !کیا دیگر اقوام کے دیوتا اپنے ملکوں کو شاہِ اسور سے بچانے کے قابل رہے ہیں؟ gP5 ساتھ ساتھ اُس نے محل کے انچارج اِلیاقیم، میرمنشی شِبناہ اور اماموں کے بزرگوں کو آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی کے پاس بھیجا۔ سب ٹاٹ کے ماتمی لباس پہنے ہوئے تھے۔&O I یہ باتیں سن کر حِزقیاہ نے اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ کا ماتمی لباس پہن کر رب کے گھر میں گیا۔N% %پھر محل کا انچارج اِلیاقیم بن خِلقیاہ، میرمنشی شِبناہ اور مشیرِ خاص یوآخ بن آسف رنجش کے مارے اپنے لباس پھاڑ کر حِزقیاہ کے پاس واپس گئے۔ دربار میں پہنچ کر اُنہوں نے بادشاہ کو سب کچھ کہہ سنایا جو ربشاقی نے اُنہیں کہا تھا۔ $!R= لیکن شاید رب آپ کے خدا نے ربشاقی کی وہ تمام باتیں سنی ہوں جو اُس کے آقا اسور کے بادشاہ نے زندہ خدا کی توہین میں بھیجی ہیں۔ ہو سکتا ہے رب آپ کا خدا اُس کی باتیں سن کر اُسے سزا دے۔ براہِ کرم ہمارے لئے جو اب تک بچے ہوئے ہیں دعا کریں۔“XQ+ نبی کے پاس پہنچ کر اُنہوں نے حِزقیاہ کا پیغام سنایا، ”آج ہم بڑی مصیبت میں ہیں۔ سزا کے اِس دن اسوریوں نے ہماری سخت بےعزتی کی ہے۔ ہمارا حال دردِ زہ میں مبتلا اُس عورت کا سا ہے جس کے پیٹ سے بچہ نکلنے کو ہے، لیکن جو اِس لئے نہیں نکل سکتا کہ ماں کی طاقت جاتی رہی ہے۔ s]V5 ربشاقی یروشلم کو چھوڑ کر اسور کے بادشاہ کے پاس واپس چلا گیا جو اُس وقت لکیس سے روانہ ہو کر لِبناہ پر چڑھائی کر رہا تھا۔ U دیکھ، مَیں اُس کا ارادہ بدل دوں گا۔ وہ افواہ سن کر اِتنا مضطرب ہو جائے گا کہ اپنے ہی ملک واپس چلا جائے گا۔ وہاں مَیں اُسے تلوار سے مروا دوں گا‘۔“T تو نبی نے جواب دیا، ”اپنے آقا کو بتا دینا کہ رب فرماتا ہے، ’اُن دھمکیوں سے خوف مت کھا جو اسوری بادشاہ کے ملازموں نے میری اہانت کر کے دی ہیں۔qS] جب حِزقیاہ کے افسروں نے یسعیاہ کو بادشاہ کا پیغام پہنچایا Y  تم تو سن چکے ہو کہ اسور کے بادشاہوں نے جہاں بھی گئے کیا کچھ کیا ہے۔ ہر ملک کو اُنہوں نے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ تو پھر تم کس طرح بچ جاؤ گے؟\X3  ”جس دیوتا پر تم بھروسا رکھتے ہو اُس سے فریب نہ کھاؤ جب وہ کہتا ہے کہ یروشلم کبھی اسوری بادشاہ کے قبضے میں نہیں آئے گا۔"W?  پھر سنحیرب کو اطلاع ملی، ”ایتھوپیا کا بادشاہ تِرہاقہ آپ سے لڑنے آ رہا ہے۔“ تب اُس نے اپنے قاصدوں کو دوبارہ یروشلم بھیج دیا تاکہ حِزقیاہ کو پیغام پہنچائیں، D"pD(]K اُس نے رب سے دعا کی، ”اے رب اسرائیل کے خدا جو کروبی فرشتوں کے درمیان تخت نشین ہے، تُو اکیلا ہی دنیا کے تمام ممالک کا خدا ہے۔ تُو ہی نے آسمان و زمین کو خلق کیا ہے۔.\W خط ملنے پر حِزقیاہ نے اُسے پڑھ لیا اور پھر رب کے گھر کے صحن میں گیا۔ خط کو رب کے سامنے بچھا کر[  دھیان دو، اب حمات، ارفاد، سفروائم شہر، ہینع اور عِوّا کے بادشاہ کہاں ہیں؟“EZ  کیا جوزان، حاران اور رِصف کے دیوتا اُن کی حفاظت کر پائے؟ کیا ملکِ عدن میں تلسّار کے باشندے بچ سکے؟ نہیں، کوئی بھی دیوتا اُن کی مدد نہ کر سکا جب میرے باپ دادا نے اُنہیں تباہ کیا۔ IWUIa اے رب ہمارے خدا، اب مَیں تجھ سے التماس کرتا ہوں کہ ہمیں اسوری بادشاہ کے ہاتھ سے بچا تاکہ دنیا کے تمام ممالک جان لیں کہ تُو اے رب، واحد خدا ہے۔“~`w وہ تو اُن کے بُتوں کو آگ میں پھینک کر بھسم کر سکتے تھے، کیونکہ وہ زندہ نہیں بلکہ صرف انسان کے ہاتھوں سے بنے ہوئے لکڑی اور پتھر کے بُت تھے۔#_A اے رب، یہ بات سچ ہے کہ اسوری بادشاہوں نے اِن قوموں کو اُن کے ملکوں سمیت تباہ کر دیا ہے۔~^w اے رب، میری سن! اپنی آنکھیں کھول کر دیکھ! سنحیرب کی اُن باتوں پر دھیان دے جو اُس نے اِس مقصد سے ہم تک پہنچائی ہیں کہ زندہ خدا کی اہانت کرے۔ Jd کیا تُو نہیں جانتا کہ کس کو گالیاں دیں اور کس کی اہانت کی ہے؟ کیا تجھے نہیں معلوم کہ تُو نے کس کے خلاف آواز بلند کی ہے؟ جس کی طرف تُو غرور کی نظر سے دیکھ رہا ہے وہ اسرائیل کا قدوس ہے!c اب رب کا اُس کے خلاف فرمان سن، کنواری صیون بیٹی تجھے حقیر جانتی ہے، ہاں یروشلم بیٹی اپنا سر ہلا ہلا کر حقارت آمیز نظر سے تیرے پیچھے دیکھتی ہے۔{bq پھر یسعیاہ بن آموص نے حِزقیاہ کو پیغام بھیجا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ مَیں نے اسوری بادشاہ سنحیرب کے بارے میں تیری دعا سنی ہے۔ 00Hf مَیں نے غیرملکوں میں کنوئیں کھدوا کر اُن کا پانی پی لیا ہے۔ میرے تلووں تلے مصر کی تمام ندیاں خشک ہو گئیں۔‘e{ اپنے قاصدوں کے ذریعے تُو نے رب کی اہانت کی ہے۔ تُو ڈینگیں مار کر کہتا ہے، ’مَیں اپنے بےشمار رتھوں سے پہاڑوں کی چوٹیوں اور لبنان کی انتہا تک چڑھ گیا ہوں۔ مَیں دیودار کے بڑے بڑے اور جونیپر کے بہترین درختوں کو کاٹ کر لبنان کے دُورترین کونوں تک، اُس کے سب سے گھنے جنگل تک پہنچ گیا ہوں۔ Fh اِسی لئے اُن کے باشندوں کی طاقت جاتی رہی، وہ گھبرائے اور شرمندہ ہوئے۔ وہ گھاس کی طرح کمزور تھے، چھت پر اُگنے والی اُس ہریالی کی مانند جو تھوڑی دیر کے لئے پھلتی پھولتی تو ہے، لیکن لُو چلتے وقت ایک دم مُرجھا جاتی ہے۔6gg اے اسوری بادشاہ، کیا تُو نے نہیں سنا کہ بڑی دیر سے مَیں نے یہ سب کچھ مقرر کیا؟ قدیم زمانے میں ہی مَیں نے اِس کا منصوبہ باندھ لیا، اور اب مَیں اِسے وجود میں لایا۔ میری مرضی تھی کہ تُو قلعہ بند شہروں کو خاک میں ملا کر پتھر کے ڈھیروں میں بدل دے۔ ::~kw اے حِزقیاہ، مَیں اِس نشان سے تجھے تسلی دلاؤں گا کہ اِس سال اور آنے والے سال تم وہ کچھ کھاؤ گے جو کھیتوں میں خود بخود اُگے گا۔ لیکن تیسرے سال تم بیج بو کر فصلیں کاٹو گے اور انگور کے باغ لگا کر اُن کا پھل کھاؤ گے۔j تیرا طیش اور غرور دیکھ کر مَیں تیری ناک میں نکیل اور تیرے منہ میں لگام ڈال کر تجھے اُس راستے پر سے واپس گھسیٹ لے جاؤں گا جس پر سے تُو یہاں آ پہنچا ہے۔*iO مَیں تو تجھ سے خوب واقف ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تُو کہاں ٹھہرا ہوا ہے، اور تیرا آنا جانا مجھ سے پوشیدہ نہیں رہتا۔ مجھے پتا ہے کہ تُو میرے خلاف کتنے طیش میں آ گیا ہے۔ ''loS !جس راستے سے بادشاہ یہاں آیا اُسی راستے پر سے وہ اپنے ملک واپس چلا جائے گا۔ اِس شہر میں وہ گھسنے نہیں پائے گا۔ یہ رب کا فرمان ہے۔enE  جہاں تک اسوری بادشاہ کا تعلق ہے رب فرماتا ہے کہ وہ اِس شہر میں داخل نہیں ہو گا۔ وہ ایک تیر تک اُس میں نہیں چلائے گا۔ نہ وہ ڈھال لے کر اُس پر حملہ کرے گا، نہ شہر کی فصیل کے ساتھ مٹی کا ڈھیر لگائے گا۔m کیونکہ یروشلم سے قوم کا بقیہ نکل آئے گا، اور کوہِ صیون کا بچا کھچا حصہ دوبارہ ملک میں پھیل جائے گا۔ رب الافواج کی غیرت یہ کچھ سرانجام دے گی۔vlg یہوداہ کے بچے ہوئے باشندے ایک بار پھر جڑ پکڑ کر پھل لائیں گے۔ #aO#osY %ایک دن جب وہ اپنے دیوتا نِسروک کے مندر میں پوجا کر رہا تھا تو اُس کے بیٹوں ادرمَّلِک اور شراضر نے اُسے تلوار سے قتل کر دیا اور فرار ہو کر ملکِ اراراط میں پناہ لی۔ پھر اُس کا بیٹا اسرحدون تخت نشین ہوا۔ 5re $یہ دیکھ کر سنحیرب اپنے خیمے اُکھاڑ کر اپنے ملک واپس چلا گیا۔ نینوہ شہر پہنچ کر وہ وہاں ٹھہر گیا۔q #اُسی رات رب کا فرشتہ نکل آیا اور اسوری لشکرگاہ میں سے گزر کر 1,85,000 فوجیوں کو مار ڈالا۔ جب لوگ صبح سویرے اُٹھے تو چاروں طرف لاشیں ہی لاشیں نظر آئیں۔p1 "کیونکہ مَیں اپنی اور اپنے خادم داؤد کی خاطر اِس شہر کا دفاع کر کے اِسے بچاؤں گا۔“ ;w;3wa اِتنے میں یسعیاہ چلا گیا تھا۔ لیکن وہ ابھی اندرونی صحن سے نکلا نہیں تھا کہ اُسے رب کا کلام ملا،v ”اے رب، یاد کر کہ مَیں وفاداری اور خلوص دلی سے تیرے سامنے چلتا رہا ہوں، کہ مَیں وہ کچھ کرتا آیا ہوں جو تجھے پسند ہے۔“ پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔nuW یہ سن کر حِزقیاہ نے اپنا منہ دیوار کی طرف پھیر کر دعا کی،t  اُن دنوں میں حِزقیاہ اِتنا بیمار ہوا کہ مرنے کی نوبت آ پہنچی۔ آموص کا بیٹا یسعیاہ نبی اُس سے ملنے آیا اور کہا، ”رب فرماتا ہے کہ اپنے گھر کا بندوبست کر لے، کیونکہ تجھے مرنا ہے۔ تُو اِس بیماری سے شفا نہیں پائے گا۔“ qEqPz پھر یسعیاہ نے حکم دیا، ”انجیر کی ٹکی لا کر بادشاہ کے ناسور پر باندھ دو!“ جب ایسا کیا گیا تو حِزقیاہ کو شفا ملی۔6yg مَیں تیری زندگی میں 15 سال کا اضافہ کروں گا۔ ساتھ ساتھ مَیں تجھے اور اِس شہر کو اسور کے بادشاہ سے بچا لوں گا۔ مَیں اپنی اور اپنے خادم داؤد کی خاطر شہر کا دفاع کروں گا‘۔“}xu ”میری قوم کے راہنما حِزقیاہ کے پاس واپس جا کر اُسے بتا دینا کہ رب تیرے باپ داؤد کا خدا فرماتا ہے، ’مَیں نے تیری دعا سن لی اور تیرے آنسو دیکھے ہیں۔ مَیں تجھے شفا دوں گا۔ پرسوں تُو دوبارہ رب کے گھر میں جائے گا۔ l;}q  حِزقیاہ نے جواب دیا، ”یہ کروانا کہ سایہ دس درجے آگے چلے آسان کام ہے۔ نہیں، وہ دس درجے پیچھے جائے۔“[|1  یسعیاہ نے جواب دیا، ”رب دھوپ گھڑی کا سایہ دس درجے آگے کرے گا یا دس درجے پیچھے۔ اِس سے آپ جان لیں گے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ آپ کیا چاہتے ہیں، کیا سایہ دس درجے آگے چلے یا دس درجے پیچھے؟“1{] پہلے حِزقیاہ نے یسعیاہ سے پوچھا تھا، ”رب مجھے کون سا نشان دے گا جس سے مجھے یقین آئے کہ وہ مجھے شفا دے گا اور کہ مَیں پرسوں دوبارہ رب کے گھر کی عبادت میں شریک ہوں گا؟“ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr}  'c  'd  'e  'f  'g  'h  'i  'j  'k  'c  'd  'e  'f  'g  'h  'i  'j  'k  'l  'm   'n  !'o  "'p  #'q  $'r  %'s   't  'u  'v  'w  'x  'y  'z  '{   '|   '}   '~   '   '  '  '  '  '  '  '  '  '   '  '  '  '  '  '  '  '   '   '   '   '   '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '   '  '  '  '  ' JFdJ'  حِزقیاہ نے وفد کا استقبال کر کے اُسے وہ تمام خزانے دکھائے جو ذخیرہ خانے میں محفوظ رکھے گئے تھے یعنی تمام سونا چاندی، بلسان کا تیل اور باقی قیمتی تیل۔ اُس نے اسلحہ خانہ اور باقی سب کچھ بھی دکھایا جو اُس کے خزانوں میں تھا۔ پورے محل اور پورے ملک میں کوئی خاص چیز نہ رہی جو اُس نے اُنہیں نہ دکھائی۔^7  تھوڑی دیر کے بعد بابل کے بادشاہ مرودک بلَدان بن بلَدان نے حِزقیاہ کی بیماری کی خبر سن کر وفد کے ہاتھ خط اور تحفے بھیجے۔6~g  تب یسعیاہ نبی نے رب سے دعا کی، اور رب نے آخز کی بنائی ہوئی دھوپ گھڑی کا سایہ دس درجے پیچھے کر دیا۔ ``J تب یسعیاہ نے کہا، ”رب کا فرمان سنیں!8k یسعیاہ بولا، ”اُنہوں نے محل میں کیا کچھ دیکھا؟“ حِزقیاہ نے کہا، ”اُنہوں نے محل میں سب کچھ دیکھ لیا ہے۔ میرے خزانوں میں کوئی چیز نہ رہی جو مَیں نے اُنہیں نہیں دکھائی۔“! تب یسعیاہ نبی حِزقیاہ بادشاہ کے پاس آیا اور پوچھا، ”اِن آدمیوں نے کیا کہا؟ کہاں سے آئے ہیں؟“ حِزقیاہ نے جواب دیا، ”دُوردراز ملک بابل سے آئے ہیں۔“ sa حِزقیاہ بولا، ”رب کا جو پیغام آپ نے مجھے دیا ہے وہ ٹھیک ہے۔“ کیونکہ اُس نے سوچا، ”بڑی بات یہ ہے کہ میرے جیتے جی امن و امان ہو گا۔“tc تیرے بیٹوں میں سے بھی بعض چھین لئے جائیں گے، ایسے جو اب تک پیدا نہیں ہوئے۔ تب وہ خواجہ سرا بن کر شاہِ بابل کے محل میں خدمت کریں گے۔“dC ایک دن آنے والا ہے کہ تیرے محل کا تمام مال چھین لیا جائے گا۔ جتنے بھی خزانے تُو اور تیرے باپ دادا نے آج تک جمع کئے ہیں اُن سب کو دشمن بابل لے جائے گا۔ رب فرماتا ہے کہ ایک بھی چیز پیچھے نہیں رہے گی۔ CK   منسّی 12 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ 55 سال تھا۔ اُس کی ماں حِفصیباہ تھی۔ جب حِزقیاہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُس کا بیٹا منسّی تخت نشین ہوا۔ 9m باقی جو کچھ حِزقیاہ کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کامیابیاں اُسے حاصل ہوئیں وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہیں۔ وہاں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اُس نے کس طرح تالاب بنوا کر وہ سرنگ کھدوائی جس کے ذریعے چشمے کا پانی شہر تک پہنچتا ہے۔  > w اونچی جگہوں کے جن مندروں کو اُس کے باپ حِزقیاہ نے ڈھا دیا تھا اُنہیں اُس نے نئے سرے سے تعمیر کیا۔ اُس نے بعل دیوتا کی قربان گاہیں بنوائیں اور یسیرت دیوی کا کھمبا کھڑا کیا، بالکل اُسی طرح جس طرح اسرائیل کے بادشاہ اخی اب نے کیا تھا۔ اِن کے علاوہ وہ سورج، چاند بلکہ آسمان کے پورے لشکر کو سجدہ کر کے اُن کی خدمت کرتا تھا۔r _ منسّی کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔ اُس نے اُن قوموں کے قابلِ گھن رسم و رواج اپنا لئے جنہیں رب نے اسرائیلیوں کے آگے سے نکال دیا تھا۔ /9 یہاں تک کہ اُس نے اپنے بیٹے کو بھی قربان کر کے جلا دیا۔ جادوگری اور غیب دانی کرنے کے علاوہ وہ مُردوں کی رُوحوں سے رابطہ کرنے والوں اور رمّالوں سے بھی مشورہ کرتا تھا۔ غرض اُس نے بہت کچھ کیا جو رب کو ناپسند تھا اور اُسے طیش دلایا۔E  لیکن منسّی نے پروا نہ کی بلکہ رب کے گھر کے دونوں صحنوں میں آسمان کے پورے لشکر کے لئے قربان گاہیں بنوائیں۔  اُس نے رب کے گھر میں بھی اپنی قربان گاہیں کھڑی کیں، حالانکہ رب نے اِس مقام کے بارے میں فرمایا تھا، ”مَیں یروشلم میں اپنا نام قائم کروں گا۔“ R اگر اسرائیلی احتیاط سے میرے اُن تمام احکام کی پیروی کریں جو موسیٰ نے شریعت میں اُنہیں دیئے تو مَیں کبھی نہیں ہونے دوں گا کہ اسرائیلیوں کو اُس ملک سے جلاوطن کر دیا جائے جو مَیں نے اُن کے باپ دادا کو عطا کیا تھا۔“*O یسیرت دیوی کا کھمبا بنوا کر اُس نے اُسے رب کے گھر میں کھڑا کیا، حالانکہ رب نے داؤد اور اُس کے بیٹے سلیمان سے کہا تھا، ”اِس گھر اور اِس شہر یروشلم میں جو مَیں نے تمام اسرائیلی قبیلوں میں سے چن لیا ہے مَیں اپنا نام ابد تک قائم رکھوں گا۔ D}  ”یہوداہ کے بادشاہ منسّی سے قابلِ گھن گناہ سرزد ہوئے ہیں۔ اُس کی حرکتیں ملک میں اسرائیل سے پہلے رہنے والے اموریوں کی نسبت کہیں زیادہ شریر ہیں۔ اپنے بُتوں سے اُس نے یہوداہ کے باشندوں کو گناہ کرنے پر اُکسایا ہے۔mU  آخرکار رب نے اپنے خادموں یعنی نبیوں کی معرفت اعلان کیا،H  لیکن لوگ رب کے تابع نہ رہے، اور منسّی نے اُنہیں ایسے غلط کام کرنے پر اُکسایا جو اُن قوموں سے بھی سرزد نہیں ہوئے تھے جنہیں رب نے ملک میں داخل ہوتے وقت اُن کے آگے سے تباہ کر دیا تھا۔ SHSq] اُس وقت مَیں اپنی میراث کا بچا کھچا حصہ بھی ترک کر دوں گا۔ مَیں اُنہیں اُن کے دشمنوں کے حوالے کر دوں گا جو اُن کی لُوٹ مار کریں گے۔0[  مَیں یروشلم کو اُسی ناپ سے ناپوں گا جس سے سامریہ کو ناپ چکا ہوں۔ مَیں اُسے اُس ترازو میں رکھ کر تولوں گا جس میں اخی اب کا گھرانا تول چکا ہوں۔ جس طرح برتن صفائی کرتے وقت پونچھ کر اُلٹے رکھے جاتے ہیں اُسی طرح مَیں یروشلم کا صفایا کر دوں گا۔{  چنانچہ رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’مَیں یروشلم اور یہوداہ پر ایسی آفت نازل کروں گا کہ جسے بھی اِس کی خبر ملے گی اُس کے کان بجنے لگیں گے۔ FfF3 باقی جو کچھ منسّی کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ اُس میں اُس کے گناہوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔q] لیکن منسّی نے نہ صرف یہوداہ کے باشندوں کو بُت پرستی اور ایسے کام کرنے پر اُکسایا جو رب کو ناپسند تھے بلکہ اُس نے بےشمار بےقصور لوگوں کو قتل بھی کیا۔ اُن کے خون سے یروشلم ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھر گیا۔!= اور وجہ یہی ہو گی کہ اُن سے ایسی حرکتیں سرزد ہوئی ہیں جو مجھے ناپسند ہیں۔ اُس دن سے لے کر جب اُن کے باپ دادا مصر سے نکل آئے آج تک وہ مجھے طیش دلاتے رہے ہیں‘۔“ ' رب اپنے باپ دادا کے خدا کو اُس نے ترک کیا، اور وہ اُس کی راہوں پر نہیں چلتا تھا۔U% وہ ہر طرح سے اپنے باپ کے بُرے نمونے پر چل کر اُن بُتوں کی خدمت اور پوجا کرتا رہا جن کی پوجا اُس کا باپ کرتا آیا تھا۔ اپنے باپ منسّی کی طرح امون ایسا غلط کام کرتا رہا جو رب کو ناپسند تھا۔fG امون 22 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور دو سال تک یروشلم میں حکومت کرتا رہا۔ اُس کی ماں مسلّمت بنت حروص یُطبہ کی رہنے والی تھی۔|s جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے اُس کے محل کے باغ میں دفنایا گیا جو عُزّا کا باغ کہلاتا ہے۔ پھر اُس کا بیٹا امون تخت نشین ہوا۔ &m0&# یوسیاہ 8 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں رہ کر اُس کی حکومت کا دورانیہ 31 سال تھا۔ اُس کی ماں جدیدہ بنت عدایاہ بُصقت کی رہنے والی تھی۔-"U اُسے عُزّا کے باغ میں اُس کی اپنی قبر میں دفن کیا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا یوسیاہ تخت نشین ہوا۔ [!1 باقی جو کچھ امون کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔) M لیکن اُمّت نے تمام سازش کرنے والوں کو مار ڈالا اور امون کے بیٹے یوسیاہ کو بادشاہ بنا دیا۔ ایک دن امون کے کچھ افسروں نے اُس کے خلاف سازش کر کے اُسے محل میں قتل کر دیا۔ Y+YN& ”امامِ اعظم خِلقیاہ کے پاس جا کر اُسے بتا دینا کہ اُن تمام پیسوں کو گن لیں جو دربانوں نے لوگوں سے جمع کئے ہیں۔W%) اپنی حکومت کے 18ویں سال میں یوسیاہ بادشاہ نے اپنے میرمنشی سافن بن اصلیاہ بن مسُلّام کو رب کے گھر کے پاس بھیج کر کہا،v$g یوسیاہ وہ کچھ کرتا رہا جو رب کو پسند تھا۔ وہ ہر بات میں اپنے باپ داؤد کے اچھے نمونے پر چلتا رہا اور اُس سے نہ دائیں، نہ بائیں طرف ہٹا۔ "g"()K ٹھیکے داروں کو اخراجات کا حساب کتاب دینے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ قابلِ اعتماد ہیں۔“(% پھر پیسے اُن ٹھیکے داروں کو دے دیں جو رب کے گھر کی مرمت کروا رہے ہیں تاکہ وہ کاری گروں، تعمیر کرنے والوں اور راجوں کی اُجرت ادا کر سکیں۔ اِن پیسوں سے وہ دراڑوں کو ٹھیک کرنے کے لئے درکار لکڑی اور تراشے ہوئے پتھر بھی خریدیں۔'% پھر پیسے اُن ٹھیکے داروں کو دے دیں جو رب کے گھر کی مرمت کروا رہے ہیں تاکہ وہ کاری گروں، تعمیر کرنے والوں اور راجوں کی اُجرت ادا کر سکیں۔ اِن پیسوں سے وہ دراڑوں کو ٹھیک کرنے کے لئے درکار لکڑی اور تراشے ہوئے پتھر بھی خریدیں۔ HHx-k  کتاب کی باتیں سن کر بادشاہ نے رنجیدہ ہو کر اپنے کپڑے پھاڑ لئے۔m,U  پھر سافن نے بادشاہ کو بتایا، ”خِلقیاہ نے مجھے ایک کتاب دی ہے۔“ کتاب کو کھول کر وہ بادشاہ کی موجودگی میں اُس کی تلاوت کرنے لگا۔ +  تب سافن بادشاہ کے پاس گیا اور اُسے اطلاع دی، ”ہم نے رب کے گھر میں جمع شدہ پیسے مرمت پر مقرر ٹھیکے داروں اور باقی کام کرنے والوں کو دے دیئے ہیں۔“9*m جب میرمنشی سافن خِلقیاہ کے پاس پہنچا تو امامِ اعظم نے اُسے ایک کتاب دکھا کر کہا، ”مجھے رب کے گھر میں شریعت کی کتاب ملی ہے۔“ اُس نے اُسے سافن کو دے دیا جس نے اُسے پڑھ لیا۔ /{  ”جا کر میری اور قوم بلکہ تمام یہوداہ کی خاطر رب سے اِس کتاب میں درج باتوں کے بارے میں دریافت کریں۔ رب کا جو غضب ہم پر نازل ہونے والا ہے وہ نہایت سخت ہے، کیونکہ ہمارے باپ دادا نہ کتاب کے فرمانوں کے تابع رہے، نہ اُن ہدایات کے مطابق زندگی گزاری ہے جو اُس میں ہمارے لئے درج کی گئی ہیں۔“b.?  اُس نے خِلقیاہ امام، اخی قام بن سافن، عکبور بن میکایاہ، میرمنشی سافن اور اپنے خاص خادم عسایاہ کو بُلا کر اُنہیں حکم دیا، 91m خُلدہ نے اُنہیں جواب دیا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ جس آدمی نے تمہیں بھیجا ہے اُسے بتا دینا، ’رب فرماتا ہے کہ مَیں اِس شہر اور اُس کے باشندوں پر آفت نازل کروں گا۔ وہ تمام باتیں پوری ہو جائیں گی جو یہوداہ کے بادشاہ نے کتاب میں پڑھی ہیں۔S0! چنانچہ خِلقیاہ امام، اخی قام، عکبور، سافن اور عسایاہ خُلدہ نبیہ کو ملنے گئے۔ خُلدہ کا شوہر سلّوم بن تِقَوہ بن خرخس رب کے گھر کے کپڑے سنبھالتا تھا۔ وہ یروشلم کے نئے علاقے میں رہتے تھے۔ CL3 کیونکہ میری قوم نے مجھے ترک کر کے دیگر معبودوں کو قربانیاں پیش کی ہیں اور اپنے ہاتھوں سے بُت بنا کر مجھے طیش دلایا ہے۔ میرا غضب اِس مقام پر نازل ہو جائے گا اور کبھی ختم نہیں ہو گا۔‘92m خُلدہ نے اُنہیں جواب دیا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ جس آدمی نے تمہیں بھیجا ہے اُسے بتا دینا، ’رب فرماتا ہے کہ مَیں اِس شہر اور اُس کے باشندوں پر آفت نازل کروں گا۔ وہ تمام باتیں پوری ہو جائیں گی جو یہوداہ کے بادشاہ نے کتاب میں پڑھی ہیں۔ 5# تیرا دل نرم ہو گیا ہے۔ جب تجھے پتا چلا کہ مَیں نے اِس مقام اور اِس کے باشندوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ لعنتی اور تباہ ہو جائیں گے تو تُو نے اپنے آپ کو رب کے سامنے پست کر دیا۔ تُو نے رنجیدہ ہو کر اپنے کپڑے پھاڑ لئے اور میرے حضور پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ رب فرماتا ہے کہ یہ دیکھ کر مَیں نے تیری سنی ہے۔4 لیکن یہوداہ کے بادشاہ کے پاس جائیں جس نے آپ کو رب سے دریافت کرنے کے لئے بھیجا ہے اور اُسے بتا دیں کہ رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’میری باتیں سن کر *w8i رب کے گھر میں گیا۔ سب لوگ چھوٹے سے لے کر بڑے تک اُس کے ساتھ گئے یعنی یہوداہ کے آدمی، یروشلم کے باشندے، امام اور نبی۔ وہاں پہنچ کر جماعت کے سامنے عہد کی اُس پوری کتاب کی تلاوت کی گئی جو رب کے گھر میں ملی تھی۔h7 M تب بادشاہ یہوداہ اور یروشلم کے تمام بزرگوں کو بُلا کرg6I جب تُو میرے کہنے پر مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملے گا تو سلامتی سے دفن ہو گا۔ جو آفت مَیں شہر پر نازل کروں گا وہ تُو خود نہیں دیکھے گا‘۔“ افسر بادشاہ کے پاس واپس گئے اور اُسے خُلدہ کا جواب سنا دیا۔ aN: اب بادشاہ نے امامِ اعظم خِلقیاہ، دوسرے درجے پر مقرر اماموں اور دربانوں کو حکم دیا، ”رب کے گھر میں سے وہ تمام چیزیں نکال دیں جو بعل دیوتا، یسیرت دیوی اور آسمان کے پورے لشکر کی پوجا کے لئے استعمال ہوئی ہیں۔“ پھر اُس نے یہ سارا سامان یروشلم کے باہر وادیِ قدرون کے کھلے میدان میں جلا دیا اور اُس کی راکھ اُٹھا کر بیت ایل لے گیا۔91 پھر بادشاہ نے ستون کے پاس کھڑے ہو کر رب کے حضور عہد باندھا اور وعدہ کیا، ”ہم رب کی پیروی کریں گے، ہم پورے دل و جان سے اُس کے احکام اور ہدایات پوری کر کے اِس کتاب میں درج عہد کی باتیں قائم رکھیں گے۔“ پوری قوم عہد میں شریک ہوئی۔ <3 یسیرت دیوی کا کھمبا یوسیاہ نے رب کے گھر سے نکال کر شہر کے باہر وادیِ قدرون میں جلا دیا۔ پھر اُس نے اُسے پیس کر اُس کی راکھ غریب لوگوں کی قبروں پر بکھیر دی۔t;c اُس نے اُن بُت پرست پجاریوں کو بھی ہٹا دیا جنہیں یہوداہ کے بادشاہوں نے یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کے گرد و نواح کے مندروں میں قربانیاں پیش کرنے کے لئے مقرر کیا تھا۔ یہ پجاری نہ صرف بعل دیوتا کو اپنے نذرانے پیش کرتے تھے بلکہ سورج، چاند، جھرمٹوں اور آسمان کے پورے لشکر کو بھی۔ //>% پھر یوسیاہ تمام اماموں کو یروشلم واپس لایا۔ ساتھ ساتھ اُس نے یہوداہ کے شمال میں جِبع سے لے کر جنوب میں بیرسبع تک اونچی جگہوں کے اُن تمام مندروں کی بےحرمتی کی جہاں امام پہلے قربانیاں پیش کرتے تھے۔ یروشلم کے اُس دروازے کے پاس بھی دو مندر تھے جو شہر کے سردار یشوع کے نام سے مشہور تھا۔ اِن کو بھی یوسیاہ نے ڈھا دیا۔ (شہر میں داخل ہوتے وقت یہ مندر بائیں طرف نظر آتے تھے۔)4=c رب کے گھر کے پاس ایسے مکان تھے جو جسم فروش مردوں اور عورتوں کے لئے بنائے گئے تھے۔ اُن میں عورتیں یسیرت دیوی کے لئے کپڑے بھی بُنتی تھیں۔ اب بادشاہ نے اُن کو بھی گرا دیا۔ @  بن ہنوم کی وادی کی قربان گاہ بنام توفت کو بھی بادشاہ نے ڈھا دیا تاکہ آئندہ کوئی بھی اپنے بیٹے یا بیٹی کو جلا کر مَلِک دیوتا کو قربان نہ کر سکے۔G?  جن اماموں نے اونچی جگہوں پر خدمت کی تھی اُنہیں یروشلم میں رب کے حضور قربانیاں پیش کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن وہ باقی اماموں کی طرح بےخمیری روٹی کے لئے مخصوص روٹی کھا سکتے تھے۔ EFE}Bu  آخز بادشاہ نے اپنی چھت پر ایک کمرا بنایا تھا جس کی چھت پر بھی مختلف بادشاہوں کی بنی ہوئی قربان گاہیں تھیں۔ اب یوسیاہ نے اِن کو بھی ڈھا دیا اور اُن دو قربان گاہوں کو بھی جو منسّی نے رب کے گھر کے دو صحنوں میں کھڑی کی تھیں۔ اِن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُس نے ملبہ وادیِ قدرون میں پھینک دیا۔6Ag  گھوڑے کے جو مجسمے یہوداہ کے بادشاہوں نے سورج دیوتا کی تعظیم میں کھڑے کئے تھے اُنہیں بھی یوسیاہ نے گرا دیا اور اُن کے رتھوں کو جلا دیا۔ یہ گھوڑے رب کے گھر کے صحن میں دروازے کے ساتھ کھڑے تھے، وہاں جہاں درباری افسر بنام ناتن مَلِک کا کمرا تھا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;EP[fq|  '  '   '   '   '   '   '  '  '  '  '   '   '   '   '   '  '  '  '  '  '  '  '   '  '  '  '  '  '  '  '   '   '   '   '   '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '  '   '  !'  "'  #'  $'  %'   '  '  '  '  '  '  '  '   '   '   '   '   '  '  '  '  '  ' D% یوسیاہ نے دیوتاؤں کے لئے مخصوص کئے گئے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے یسیرت دیوی کے کھمبے کٹوا دیئے اور مقامات پر انسانی ہڈیاں بکھیر کر اُن کی بےحرمتی کی۔tCc  نیز، بادشاہ نے یروشلم کے مشرق میں اونچی جگہوں کے مندروں کی بےحرمتی کی۔ یہ مندر ہلاکت کے پہاڑ کے جنوب میں تھے، اور سلیمان بادشاہ نے اُنہیں تعمیر کیا تھا۔ اُس نے اُنہیں صیدا کی شرم ناک دیوی عستارات، موآب کے مکروہ دیوتا کموس اور عمون کے قابلِ گھن دیوتا ملکوم کے لئے بنایا تھا۔ }Eu بیت ایل میں اب تک اونچی جگہ پر وہ مندر اور قربان گاہ پڑی تھی جو یرُبعام بن نباط نے تعمیر کی تھی۔ یرُبعام ہی نے اسرائیل کو گناہ کرنے پر اُکسایا تھا۔ جب یوسیاہ نے دیکھا کہ جس پہاڑ پر قربان گاہ ہے اُس کی ڈھلانوں پر بہت سی قبریں ہیں تو اُس نے حکم دیا کہ اُن کی ہڈیاں نکال کر قربان گاہ پر جلا دی جائیں۔ یوں قربان گاہ کی بےحرمتی بالکل اُسی طرح ہوئی جس طرح رب نے مردِ خدا کی معرفت فرمایا تھا۔ اِس کے بعد یوسیاہ نے مندر اور قربان گاہ کو گرا دیا۔ اُس نے یسیرت دیوی کا مجسمہ کوٹ کوٹ کر آخر میں سب کچھ جلا دیا۔ }Fu بیت ایل میں اب تک اونچی جگہ پر وہ مندر اور قربان گاہ پڑی تھی جو یرُبعام بن نباط نے تعمیر کی تھی۔ یرُبعام ہی نے اسرائیل کو گناہ کرنے پر اُکسایا تھا۔ جب یوسیاہ نے دیکھا کہ جس پہاڑ پر قربان گاہ ہے اُس کی ڈھلانوں پر بہت سی قبریں ہیں تو اُس نے حکم دیا کہ اُن کی ہڈیاں نکال کر قربان گاہ پر جلا دی جائیں۔ یوں قربان گاہ کی بےحرمتی بالکل اُسی طرح ہوئی جس طرح رب نے مردِ خدا کی معرفت فرمایا تھا۔ اِس کے بعد یوسیاہ نے مندر اور قربان گاہ کو گرا دیا۔ اُس نے یسیرت دیوی کا مجسمہ کوٹ کوٹ کر آخر میں سب کچھ جلا دیا۔ F`H; یہ سن کر بادشاہ نے حکم دیا، ”اِسے چھوڑ دو! کوئی بھی اِس کی ہڈیوں کو نہ چھیڑے۔“ چنانچہ اُس کی اور اُس نبی کی ہڈیاں بچ گئیں جو سامریہ سے اُس سے ملنے آیا اور بعد میں اُس کی قبر میں دفنایا گیا تھا۔6Gg پھر یوسیاہ کو ایک اَور قبر نظر آئی۔ اُس نے شہر کے باشندوں سے پوچھا، ”یہ کس کی قبر ہے؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”یہ یہوداہ کے اُس مردِ خدا کی قبر ہے جس نے بیت ایل کی قربان گاہ کے بارے میں عین وہ پیش گوئی کی تھی جو آج آپ کے وسیلے سے پوری ہوئی ہے۔“ kKQ یروشلم میں آ کر بادشاہ نے حکم دیا، ”پوری قوم رب اپنے خدا کی تعظیم میں فسح کی عید منائے، جس طرح عہد کی کتاب میں فرمایا گیا ہے۔“&JG اِن مندروں کے پجاریوں کو اُس نے اُن کی اپنی اپنی قربان گاہوں پر سزائے موت دی اور پھر انسانی ہڈیاں اُن پر جلا کر اُن کی بےحرمتی کی۔ اِس کے بعد وہ یروشلم لوٹ گیا۔EI جس طرح یوسیاہ نے بیت ایل کے مندر کو تباہ کیا اُسی طرح اُس نے سامریہ کے تمام شہروں کے مندروں کے ساتھ کیا۔ اُنہیں اونچی جگہوں پر بنا کر اسرائیل کے بادشاہوں نے رب کو طیش دلایا تھا۔ @@3Na یوسیاہ اُن تمام ہدایات کے تابع رہا جو شریعت کی اُس کتاب میں درج تھیں جو خِلقیاہ امام کو رب کے گھر میں ملی تھی۔ چنانچہ اُس نے مُردوں کی روحوں سے رابطہ کرنے والوں، رمّالوں، گھریلو بُتوں، دوسرے بُتوں اور باقی تمام مکروہ چیزوں کو ختم کر دیا۔'MI یوسیاہ کی حکومت کے 18ویں سال میں پہلی دفعہ رب کی تعظیم میں ایسی عید یروشلم میں منائی گئی۔ZL/ اُس زمانے سے لے کر جب قاضی اسرائیل کی راہنمائی کرتے تھے یوسیاہ کے دنوں تک فسح کی عید اِس طرح نہیں منائی گئی تھی۔ اسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہوں کے ایام میں بھی ایسی عید نہیں منائی گئی تھی۔ LP توبھی رب یہوداہ پر اپنے غصے سے باز نہ آیا، کیونکہ منسّی نے اپنی غلط حرکتوں سے اُسے حد سے زیادہ طیش دلایا تھا۔HO نہ یوسیاہ سے پہلے، نہ اُس کے بعد اُس جیسا کوئی بادشاہ ہوا جس نے اُس طرح پورے دل، پوری جان اور پوری طاقت کے ساتھ رب کے پاس واپس آ کر موسوی شریعت کے ہر فرمان کے مطابق زندگی گزاری ہو۔ B%B_R9 باقی جو کچھ یوسیاہ کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔WQ) اِسی لئے رب نے فرمایا، ”جو کچھ مَیں نے اسرائیل کے ساتھ کیا وہی کچھ یہوداہ کے ساتھ بھی کروں گا۔ مَیں اُسے اپنے حضور سے خارج کر دوں گا۔ اپنے چنے ہوئے شہر یروشلم کو مَیں رد کروں گا اور ساتھ ساتھ اُس گھر کو بھی جس کے بارے میں مَیں نے کہا، ’وہاں میرا نام ہو گا‘۔“ T@T{ یوسیاہ کے ملازم اُس کی لاش رتھ پر رکھ کر مجِدّو سے یروشلم لے آئے جہاں اُسے اُس کی اپنی قبر میں دفن کیا گیا۔ پھر اُمّت نے اُس کے بیٹے یہوآخز کو مسح کر کے باپ کے تخت پر بٹھا دیا۔(SK یوسیاہ کی حکومت کے دوران مصر کا بادشاہ نکوہ فرعون دریائے فرات کے لئے روانہ ہوا تاکہ اسور کے بادشاہ سے لڑے۔ راستے میں یوسیاہ اُس سے لڑنے کے لئے نکلا۔ لیکن جب مجِدّو کے قریب اُن کا ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ ہوا تو نکوہ نے اُسے مار دیا۔ -w-FW !نکوہ فرعون نے ملکِ حمات کے شہر رِبلہ میں اُسے گرفتار کر لیا، اور اُس کی حکومت ختم ہوئی۔ ملکِ یہوداہ کو خراج کے طور پر تقریباً 3,400 کلو گرام چاندی اور 34 کلو گرام سونا ادا کرنا پڑا۔~Vw  اپنے باپ دادا کی طرح وہ بھی ایسا کام کرتا رہا جو رب کو ناپسند تھا۔U یہوآخز 23 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ تین ماہ تھا۔ اُس کی ماں حموطل بنت یرمیاہ لِبناہ کی رہنے والی تھی۔of flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| ] a d f h k o s w z } ! " # ] a d f h k o s w z } ! " # $ % & ' ( ) * +# ,& -) .- // 01 13 25 38 4: 5< 6> 7@ 8B :D ;E K ?N @P AR BT CW E[ F^ Gb Hf Ih Jk Ko Lr Mu Ny O| P Q R S U V W X, Y2 Z8 [B \H ]Q ^W `Y a\ bc ck ds ey f} g h i j k m n" o# p& q, r2 s9 t< u? vE wI xN yR zU {Y |b ~j r w     % * . g[I %باپ دادا کی طرح اُس کا چال چلن بھی رب کو ناپسند تھا۔ xZk $یہویقیم 25 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور وہ یروشلم میں رہ کر 11 سال حکومت کرتا رہا۔ اُس کی ماں زبودہ بنت فدایاہ روماہ کی رہنے والی تھی۔6Yg #مطلوبہ چاندی اور سونے کی رقم ادا کرنے کے لئے یہویقیم نے لوگوں سے خاص ٹیکس لیا۔ اُمّت کو اپنی دولت کے مطابق پیسے دینے پڑے۔ اِس طریقے سے یہویقیم فرعون کو خراج ادا کر سکا۔?Xy "یہوآخز کی جگہ فرعون نے یوسیاہ کے ایک اَور بیٹے کو تخت پر بٹھایا۔ اُس کے نام اِلیاقیم کو اُس نے یہویقیم میں بدل دیا۔ یہوآخز کو وہ اپنے ساتھ مصر لے گیا جہاں وہ بعد میں مرا بھی۔ ^{ یہ آفتیں اِس لئے یہوداہ پر آئیں کہ رب نے اِن کا حکم دیا تھا۔ وہ منسّی کے سنگین گناہوں کی وجہ سے یہوداہ کو اپنے حضور سے خارج کرنا چاہتا تھا۔]) تب رب نے بابل، شام، موآب اور عمون سے ڈاکوؤں کے جتھے بھیج دیئے تاکہ اُسے تباہ کریں۔ ویسا ہی ہوا جس طرح رب نے اپنے خادموں یعنی نبیوں کی معرفت فرمایا تھا۔\  یہویقیم کی حکومت کے دوران بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے یہوداہ پر حملہ کیا۔ نتیجے میں یہویقیم اُس کے تابع ہو گیا۔ لیکن تین سال کے بعد وہ سرکش ہو گیا۔ l 7l9bm اُس وقت مصر کا بادشاہ دوبارہ اپنے ملک سے نکل نہ سکا، کیونکہ بابل کے بادشاہ نے مصر کی سرحد بنام وادیِ مصر سے لے کر دریائے فرات تک کا سارا علاقہ مصر کے قبضے سے چھین لیا تھا۔ a جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُس کا بیٹا یہویاکین تخت نشین ہوا۔Q` باقی جو کچھ یہویقیم کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ ’شاہانِ یہوداہ کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔p_[ وہ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہ کر سکا کہ منسّی نے یروشلم کو بےقصور لوگوں کے خون سے بھر دیا تھا۔ رب یہ معاف کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ YkY[f1  نبوکدنضر خود شہر کے محاصرے کے دوران پہنچ گیا۔0e[  اُس کی حکومت کے دوران بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کی فوج یروشلم تک بڑھ کر اُس کا محاصرہ کرنے لگی۔d}  اپنے باپ کی طرح یہویاکین بھی ایسا کام کرتا رہا جو رب کو ناپسند تھا۔ c یہویاکین 18 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ تین ماہ تھا۔ اُس کی ماں نحُشتا بنت اِلناتن یروشلم کی رہنے والی تھی۔ GGWh)  جس کا اعلان رب نے پہلے کیا تھا وہ اب پورا ہوا، نبوکدنضر نے رب کے گھر اور شاہی محل کے تمام خزانے چھین لئے۔ اُس نے سونے کا وہ سارا سامان بھی لُوٹ لیا جو سلیمان نے رب کے گھر کے لئے بنوایا تھا۔Zg/  تب یہویاکین نے شکست مان کر اپنے آپ کو اپنی ماں، ملازموں، افسروں اور درباریوں سمیت بابل کے بادشاہ کے حوالے کر دیا۔ بادشاہ نے اُسے گرفتار کر لیا۔ یہ نبوکدنضر کی حکومت کے آٹھویں سال میں ہوا۔ k اُس نے فوجیوں کے 7,000 افراد اور 1,000 دست کاروں اور دھاتوں کا کام کرنے والوں کو جلاوطن کر کے بابل میں بسا دیا۔ یہ سب ماہر اور جنگ کرنے کے قابل آدمی تھے۔ojY نبوکدنضر یہویاکین کو بھی قیدی بنا کر بابل لے گیا اور اُس کی ماں، بیویوں، درباریوں اور ملک کے تمام اثر و رسوخ رکھنے والوں کو بھی۔fiG اور جتنے کھاتے پیتے لوگ یروشلم میں تھے اُن سب کو بادشاہ نے جلاوطن کر دیا۔ اُن میں تمام افسر، فوجی، دست کار اور دھاتوں کا کام کرنے والے شامل تھے، کُل 10,000 افراد۔ اُمّت کے صرف غریب لوگ پیچھے رہ گئے۔ + o رب یروشلم اور یہوداہ کے باشندوں سے اِتنا ناراض ہوا کہ آخر میں اُس نے اُنہیں اپنے حضور سے خارج کر دیا۔ ایک دن صِدقیاہ بابل کے بادشاہ سے سرکش ہوا، wni یہویقیم کی طرح صِدقیاہ ایسا کام کرتا رہا جو رب کو ناپسند تھا۔ m صِدقیاہ 21 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ 11 سال تھا۔ اُس کی ماں حموطل بنت یرمیاہ لِبناہ شہر کی رہنے والی تھی۔Ql یروشلم میں بابل کے بادشاہ نے یہویاکین کی جگہ اُس کے چچا متنیاہ کو تخت پر بٹھا کر اُس کا نام صِدقیاہ میں بدل دیا۔ .4rc لیکن پھر کال نے شہر میں زور پکڑا، اور عوام کے لئے کھانے کی چیزیں نہ رہیں۔ چوتھے مہینے کے نویں دن`q; صِدقیاہ کی حکومت کے 11ویں سال تک یروشلم قائم رہا۔Np  اِس لئے شاہِ بابل نبوکدنضر تمام فوج کو اپنے ساتھ لے کر دوبارہ یروشلم پہنچا تاکہ اُس پر حملہ کرے۔ صِدقیاہ کی حکومت کے نویں سال میں بابل کی فوج یروشلم کا محاصرہ کرنے لگی۔ یہ کام دسویں مہینے کے دسویں دن شروع ہوا۔ پورے شہر کے ارد گرد بادشاہ نے پُشتے بنوائے۔ n0BnPu اور وہ خود گرفتار ہو گیا۔ پھر اُسے رِبلہ میں شاہِ بابل کے پاس لایا گیا، اور وہیں صِدقیاہ پر فیصلہ صادر کیا گیا۔jtO لیکن بابل کی فوج نے بادشاہ کا تعاقب کر کے اُسے یریحو کے میدان میں پکڑ لیا۔ اُس کے فوجی اُس سے الگ ہو کر چاروں طرف منتشر ہو گئے،Ls بابل کے فوجیوں نے فصیل میں رخنہ ڈال دیا۔ اُسی رات صِدقیاہ اپنے تمام فوجیوں سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوا، اگرچہ شہر دشمن سے گھرا ہوا تھا۔ وہ فصیل کے اُس دروازے سے نکلے جو شاہی باغ کے ساتھ ملحق دو دیواروں کے بیچ میں تھا۔ وہ وادیِ یردن کی طرف بھاگنے لگے، *iyM  اُس نے اپنے تمام فوجیوں سے شہر کی فصیل کو بھی گرا دیا۔x5  رب کے گھر، شاہی محل اور یروشلم کے تمام مکانوں کو جلا دیا۔ ہر بڑی عمارت بھسم ہو گئی۔w9 شاہِ بابل نبوکدنضر کی حکومت کے 19ویں سال میں بادشاہ کا خاص افسر نبوزرادان یروشلم پہنچا۔ وہ شاہی محافظوں پر مقرر تھا۔ پانچویں مہینے کے ساتویں دن اُس نے آ کرv صِدقیاہ کے دیکھتے دیکھتے اُس کے بیٹوں کو قتل کیا گیا۔ اِس کے بعد فوجیوں نے اُس کی آنکھیں نکال کر اُسے پیتل کی زنجیروں میں جکڑ لیا اور بابل لے گئے۔ A|}  بابل کے فوجیوں نے رب کے گھر میں جا کر پیتل کے دونوں ستونوں، پانی کے باسنوں کو اُٹھانے والی ہتھ گاڑیوں اور سمندر نامی پیتل کے حوض کو توڑ دیا اور سارا پیتل اُٹھا کر بابل لے گئے۔c{A  لیکن نبوزرادان نے سب سے نچلے طبقے کے بعض لوگوں کو ملکِ یہوداہ میں چھوڑ دیا تاکہ وہ انگور کے باغوں اور کھیتوں کو سنبھالیں۔)zM  پھر نبوزرادان نے سب کو جلاوطن کر دیا جو یروشلم اور یہوداہ میں پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ بھی اُن میں شامل تھے جو جنگ کے دوران غداری کر کے شاہِ بابل کے پیچھے لگ گئے تھے۔ }}\3 جب دونوں ستونوں، سمندر نامی حوض اور باسنوں کو اُٹھانے والی ہتھ گاڑیوں کا پیتل تڑوایا گیا تو وہ اِتنا وزنی تھا کہ اُسے تولا نہ جا سکا۔ سلیمان بادشاہ نے یہ چیزیں رب کے گھر کے لئے بنوائی تھیں۔~/ خالص سونے اور چاندی کے برتن بھی اِس میں شامل تھے یعنی جلتے ہوئے کوئلے کے برتن اور چھڑکاؤ کے کٹورے۔ شاہی محافظوں کا افسر سارا سامان اُٹھا کر بابل لے گیا۔}} وہ رب کے گھر کی خدمت سرانجام دینے کے لئے درکار سامان بھی لے گئے یعنی بالٹیاں، بیلچے، بتی کترنے کے اوزار، برتن اور پیتل کا باقی سارا سامان۔ ==9 نبوزرادان اِن سب کو الگ کر کے صوبہ حمات کے شہر رِبلہ لے گیا جہاں بابل کا بادشاہ تھا۔*O شہر کے بچے ہوؤں میں سے اُس افسر کو جو شہر کے فوجیوں پر مقرر تھا، صِدقیاہ بادشاہ کے پانچ مشیروں، اُمّت کی بھرتی کرنے والے افسر اور شہر میں موجود اُس کے 60 مردوں کو۔ شاہی محافظوں کے افسر نبوزرادان نے ذیل کے قیدیوں کو الگ کر دیا: امامِ اعظم سرایاہ، اُس کے بعد آنے والا امام صفنیاہ، رب کے گھر کے تین دربانوں،fG ہر ستون کی اونچائی 27 فٹ تھی۔ اُن کے بالائی حصوں کی اونچائی ساڑھے چار فٹ تھی، اور وہ پیتل کی جالی اور اناروں سے سجے ہوئے تھے۔ `~E جب فوج کے بچے ہوئے افسروں اور اُن کے دستوں کو خبر ملی کہ جدلیاہ کو گورنر مقرر کیا گیا ہے تو وہ مِصفاہ میں اُس کے پاس آئے۔ افسروں کے نام اسمٰعیل بن نتنیاہ، یوحنان بن قریح، سرایاہ بن تنحومت نطوفاتی اور یازنیاہ بن معکاتی تھے۔ اُن کے فوجی بھی ساتھ آئے۔^7 جن لوگوں کو بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے یہوداہ میں پیچھے چھوڑ دیا تھا، اُن پر اُس نے جدلیاہ بن اخی قام بن سافن مقرر کیا۔3 وہاں نبوکدنضر نے اُنہیں سزائے موت دی۔ یوں یہوداہ کے باشندوں کو جلاوطن کر دیا گیا۔ NHNv g یہ دیکھ کر یہوداہ کے تمام باشندے چھوٹے سے لے کر بڑے تک فوجی افسروں سمیت ہجرت کر کے مصر چلے گئے، کیونکہ وہ بابل کے انتقام سے ڈرتے تھے۔<s لیکن اُس سال کے ساتویں مہینے میں اسمٰعیل بن نتنیاہ بن اِلی سمع نے دس ساتھیوں کے ساتھ مِصفاہ آ کر دھوکے سے جدلیاہ کو قتل کیا۔ اسمٰعیل شاہی نسل کا تھا۔ جدلیاہ کے علاوہ اُنہوں نے اُس کے ساتھ رہنے والے یہوداہ اور بابل کے تمام لوگوں کو بھی قتل کیا۔tc جدلیاہ نے قَسم کھا کر اُن سے وعدہ کیا، ”بابل کے افسروں سے مت ڈرنا! ملک میں رہ کر بابل کے بادشاہ کی خدمت کریں تو آپ کی سلامتی ہو گی۔“ H(3>IT_ju%0;FQ\gpz$.8BLV`jt~   '   '  '  '  '  '  '  '  '   '   '  '  '  '  '  '  '  '   '   '   '   '   '  '  '  '  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (   (!   ("   (#   ($   (%   (&   ('   ((   ()   (*   (+   (,   (-   !(.   "(/   #(0   $(1   %(2   &(3   '(4   ((5   )(6 11E  بادشاہ نے مقرر کیا کہ یہویاکین کو عمر بھر اِتنا وظیفہ ملتا رہے کہ اُس کی روزمرہ ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ g I یہویاکین کو قیدیوں کے کپڑے اُتارنے کی اجازت ملی، اور اُسے زندگی بھر بادشاہ کی میز پر باقاعدگی سے شریک ہونے کا شرف حاصل رہا۔h K اُس نے اُس سے نرم باتیں کر کے اُسے عزت کی ایسی کرسی پر بٹھایا جو بابل میں جلاوطن کئے گئے باقی بادشاہوں کی نسبت زیادہ اہم تھی۔+ Q یہوداہ کے بادشاہ یہویاکین کی جلاوطنی کے 37ویں سال میں اَویل مرودک بابل کا بادشاہ بنا۔ اُسی سال کے 12ویں مہینے کے 27ویں دن اُس نے یہویاکین کو قیدخانے سے آزاد کر دیا۔ 7b|&A7g K نمرود بھی کوش کا بیٹا تھا۔ وہ زمین پر پہلا سورما تھا۔ 5 کوش کے بیٹے سبا، حویلہ، سبتہ، رعماہ اور سبتکہ تھے۔ رعماہ کے بیٹے سبا اور ددان تھے۔P  حام کے بیٹے کوش، مصر، فوط اور کنعان تھے۔  یاوان کے بیٹے اِلیسہ اور ترسیس تھے۔ کِتّی اور رودانی بھی اُس کی اولاد ہیں۔S # جُمر کے بیٹے اشکناز، ریفت اور تُجرمہ تھے۔} w یافت کے بیٹے جُمر، ماجوج، مادی، یاوان، تُوبل، مسک اور تیراس تھے۔c C اور نوح تھی۔ نوح کے تین بیٹے سِم، حام اور یافت تھے۔) Q حنوک، متوسلح، لمک،0 _ قینان، مہلل ایل، یارد،< y نوح تک آدم کی اولاد سیت، انوس، #4X!k#j  Q عِبر کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ایک کا نام فلج یعنی تقسیم تھا، کیونکہ اُن ایام میں دنیا تقسیم ہوئی۔ فلج کے بھائی کا نام یُقطان تھا۔W + ارفکسد کا بیٹا سلح اور سلح کا بیٹا عِبر تھا۔2 a سِم کے بیٹے عیلام، اسور، ارفکسد، لُود اور اَرام تھے۔ اَرام کے بیٹے عُوض، حول، جتر اور مسک تھے۔4 g اروادی، صماری اور حماتی۔) Q حِوّی، عرقی، سینی،/ ] یبوسی، اموری، جرجاسی،{ s کنعان کا پہلوٹھا صیدا تھا۔ کنعان اِن قوموں کا باپ بھی تھا: حِتّیY / فتروسی، کسلوحی (جن سے فلستی نکلے) اور کفتوری۔m W مصر ذیل کی قوموں کا باپ تھا: لودی، عنامی، لہابی، نفتوحی، Co<_7Cj, Q یطور، نفیس اور قِدمہ تھے۔ سب اسمٰعیل کے ہاں پیدا ہوئے۔B+  مِشماع، دُومہ، مسنا، حدد، تیما،8* m اُن کی درجِ ذیل اولاد تھی: اسمٰعیل کا پہلوٹھا نبایوت تھا۔ اُس کے باقی بیٹے قیدار، ادبئیل، مِبسام،N)  ابراہیم کے بیٹے اسحاق اور اسمٰعیل تھے۔2( c اور ابرام یعنی ابراہیم۔%' I سروج، نحور، تارح#& E عِبر، فلج، رعو،O%  سِم کا یہ نسب نامہ ہے: سِم، ارفکسد، سلح،b$ A اوفیر، حویلہ اور یوباب تھے۔ یہ سب اُس کے بیٹے تھے۔0# _ عیبال، ابی مائیل، سبا،1" a ہدورام، اُوزال، دِقلہ،Z! 1 یُقطان کے بیٹے الموداد، سلف، حصرماوت، اِراخ، uZ2 1 %رعوایل کے بیٹے نحت، زارح، سمّہ اور مِزّہ تھے۔"1 A $اِلی فز کے بیٹے تیمان، اومر، صفی، جعتام، قنز اور عمالیق تھے۔ عمالیق کی ماں تِمنع تھی۔n0 Y #عیسَو کے بیٹے اِلی فز، رعوایل، یعوس، یعلام اور قورح تھے۔y/ o "ابراہیم کے بیٹے اسحاق کے دو بیٹے پیدا ہوئے، عیسَو اور اسرائیل۔. ; !جبکہ مِدیان کے بیٹے عیفہ، عِفر، حنوک، ابیداع اور اِلدعا تھے۔ سب قطورہ کی اولاد تھے۔d- E ابراہیم کی داشتہ قطورہ کے بیٹے زِمران، یُقسان، مدان، مِدیان، اِسباق اور سوخ تھے۔ یُقسان کے دو بیٹے سبا اور ددان پیدا ہوئے ~]}8 w +اِس سے پہلے کہ اسرائیلیوں کا کوئی بادشاہ تھا ذیل کے بادشاہ یکے بعد دیگرے ملکِ ادوم میں حکومت کرتے تھے: بالع بن بعور جو دنہابا شہر کا تھا۔7 - *ایصر کے تین بیٹے بِلہان، زعوان اور عقان تھے۔ دیسان کے دو بیٹے عُوض اور اران تھے۔"6 A )عنہ کے ایک بیٹا دیسون پیدا ہوا۔ دیسون کے چار بیٹے حمران، اِشبان، یِتران اور کران تھے۔$5 E (سوبل کے بیٹے علیان، مانحت، عیبال، سفی اور اونام تھے۔ صِبعون کے بیٹے ایّاہ اور عنہ تھے۔v4 i 'لوطان کے دو بیٹے حوری اور ہومام تھے۔ (تِمنع لوطان کی بہن تھی۔)3 { &سعیر کے بیٹے لوطان، سوبل، صِبعون، عنہ، دیسون، ایصر اور دیسان تھے۔ CMJ+B U 5قنز، تیمان، مِبصار،4A g 4اُہلی بامہ، ایلہ، فینون،p@ ] 3پھر ہدد مر گیا۔ ادومی قبیلوں کے سردار تِمنع، علیاہ، یتیت،%? G 2اُس کی موت پر ہدد جو فاعُو شہر کا تھا۔ (بیوی کا نام مہیطب ایل بنت مطرِد بنت میزاہاب تھا۔)@>  1اُس کی موت پر بعل حنان بن عکبور۔j= Q 0اُس کی موت پر ساؤل جو دریائے فرات پر رحوبوت شہر کا تھا۔O<  /اُس کی موت پر سملہ جو مسرِقہ شہر کا تھا۔ ; = .اُس کی موت پر ہدد بن بدد جس نے ملکِ موآب میں مِدیانیوں کو شکست دی۔ وہ عویت شہر کا تھا۔Z: 1 -اُس کی موت پر حُشام جو تیمانیوں کے ملک کا تھا۔]9 7 ,اُس کی موت پر یوباب بن زارح جو بُصرہ شہر کا تھا۔ ] ]HH فارص کے دو بیٹے حصرون اور حمول تھے۔TG# یہوداہ کے مزید دو بیٹے اُس کی بہو تمر سے پیدا ہوئے۔ اُن کے نام فارص اور زارح تھے۔ یوں یہوداہ کے کُل پانچ بیٹے تھے۔BF یہوداہ کی شادی کنعانی عورت سے ہوئی جو سوع کی بیٹی تھی۔ اُن کے تین بیٹے عیر، اونان اور سیلہ پیدا ہوئے۔ یہوداہ کا پہلوٹھا عیر رب کے نزدیک شریر تھا، اِس لئے اُس نے اُسے مرنے دیا۔WE) دان، یوسف، بن یمین، نفتالی، جد اور آشر تھے۔}D w اسرائیل کے بارہ بیٹے روبن، شمعون، لاوی، یہوداہ، اِشکار، زبولون،]C 7 6مجدی ایل اور عِرام تھے۔ یہی ادوم کے سردار تھے۔ )| pP)$QE نتنی ایل، ردّی،sPa  بڑے سے لے کر چھوٹے تک یسّی کے بیٹے اِلیاب، ابی نداب، سِمعا،QO  بوعز عوبید کا اور عوبید یسّی کا باپ تھا۔SN!  نحسون سلمون کا اور سلمون بوعز کا باپ تھا۔M+  رام کے ہاں عمی نداب اور عمی نداب کے ہاں یہوداہ کے قبیلے کے سردار نحسون پیدا ہوا۔mLU  حصرون کے تین بیٹے یرحمئیل، رام اور کلوبی یعنی کالب تھے۔CK ایتان کے بیٹے کا نام عزریاہ تھا۔DJ کرمی بن زِمری کا بیٹا وہی عکر یعنی عکن تھا جس نے اُس لُوٹے ہوئے مال میں سے کچھ لیا جو رب کے لئے مخصوص تھا۔sIa زارح کے پانچ بیٹے زِمری، ایتان، ہیمان، کلکول اور دارع تھے۔ ;VW' حور اُوری کا اور اُوری بضلی ایل کا باپ تھا۔ V عزوبہ کے وفات پانے پر کالب نے اِفرات سے شادی کی۔ اُن کے بیٹا حور پیدا ہوا۔CU کالب بن حصرون کی بیوی عزوبہ کے ہاں بیٹی بنام یریعوت پیدا ہوئی۔ یریعوت کے بیٹے یشر، سوباب اور اردون تھے۔pT[ ابی جیل کے ایک بیٹا عماسا پیدا ہوا۔ باپ یتر اسمٰعیلی تھا۔'SI اُن کی دو بہنیں ضرویاہ اور ابی جیل تھیں۔ ضرویاہ کے تین بیٹے ابی شے، یوآب اور عساہیل تھے۔LR اوضم اور داؤد تھے۔ کُل سات بھائی تھے۔ F   *4>HR\fpz(3>IT_ju%0;FQ\gr}   +(8   ,(9   -(:   .(;   /(<   0(=   1(>   2(?   3(@   4(   +(8   ,(9   -(:   .(;   /(<   0(=   1(>   2(?   3(@   4(A   5(B   6(C   (D  (E  (F  (G  (H  (I  (J  (K   (L   (M   (N   (O   (P  (Q  (R  (S  (T  (U  (V  (W  (X  (Y  (Z  ([  (\  (]  (^  (_  (`  (a  (b   (c  !(d  "(e  #(f  $(g  %(h  &(i  '(j  ((k  )(l  *(m  +(n  ,(o  -(p  .(q  /(r  0(s  1(t  2(u  3(v  4(w  5(x  6(y  7(z   ({  (|  (} 3Ya سجوب کا بیٹا وہ یائیر تھا جس کی جِلعاد کے علاقے میں 23 بستیاں بنام ’یائیر کی بستیاں‘ تھیں۔ لیکن بعد میں جسور اور شام کے فوجیوں نے اُن پر قبضہ کر لیا۔ اُس وقت اُنہیں قنات بھی گرد و نواح کے علاقے سمیت حاصل ہوا۔ اُن دنوں میں کُل 60 آبادیاں اُن کے ہاتھ میں آ گئیں۔ اِن کے تمام باشندے جِلعاد کے باپ مکیر کی اولاد تھے۔bX? 60 سال کی عمر میں کالب کے باپ حصرون نے دوبارہ شادی کی۔ بیوی جِلعاد کے باپ مکیر کی بیٹی تھی۔ اِس رشتے سے بیٹا سجوب پیدا ہوا۔ 33-\U حصرون کے پہلوٹھے یرحمئیل کے بیٹے بڑے سے لے کر چھوٹے تک رام، بونہ، اورن، اوضم اور اخیاہ تھے۔a[= حصرون جس کی بیوی ابیاہ تھی فوت ہوا تو کالب اور اِفراتہ کے ہاں بیٹا اشحور پیدا ہوا۔ بعد میں اشحور تقوع شہر کا بانی بن گیا۔3Za سجوب کا بیٹا وہ یائیر تھا جس کی جِلعاد کے علاقے میں 23 بستیاں بنام ’یائیر کی بستیاں‘ تھیں۔ لیکن بعد میں جسور اور شام کے فوجیوں نے اُن پر قبضہ کر لیا۔ اُس وقت اُنہیں قنات بھی گرد و نواح کے علاقے سمیت حاصل ہوا۔ اُن دنوں میں کُل 60 آبادیاں اُن کے ہاتھ میں آ گئیں۔ اِن کے تمام باشندے جِلعاد کے باپ مکیر کی اولاد تھے۔ +'c}  سمّی کے بھائی یدع کے دو بیٹے یتر اور یونتن تھے۔ یتر بےاولاد مر گیا،b- لیکن افائم کے ہاں بیٹا یِسعی پیدا ہوا۔ یِسعی سیسان کا اور سیسان اخلی کا باپ تھا۔haK ندب کے دو بیٹے سلد اور افائم تھے۔ سلد بےاولاد مر گیا،v`g ابی سور کی بیوی ابی ہیل کے دو بیٹے اخبان اور مولِد پیدا ہوئے۔_ اونام کے دو بیٹے سمّی اور یدع تھے۔ سمّی کے دو بیٹے ندب اور ابی سور تھے۔k^Q یرحمئیل کے پہلوٹھے رام کے بیٹے معض، یمین اور عیقر تھے۔d]C یرحمئیل کی دوسری بیوی عطارہ کا ایک بیٹا اونام تھا۔ Fu`FFk (اِلعاسہ کے سِسمی، سِسمی کے سلّوم،Hj 'عزریاہ کے خِلِص، خِلِص کے اِلعاسہ،?i{ &عوبید کے یاہو، یاہو کے عزریاہ،Ah %زبد کے اِفلال، اِفلال کے عوبید،Tg# $عتّی کے ہاں ناتن پیدا ہوا اور ناتن کے زبد،[f1 #سیسان کے بیٹے نہیں تھے بلکہ بیٹیاں۔ ایک بیٹی کی شادی اُس نے اپنے مصری غلام یرخع سے کروائی۔ اُن کے بیٹا عتّی پیدا ہوا۔[e1 "سیسان کے بیٹے نہیں تھے بلکہ بیٹیاں۔ ایک بیٹی کی شادی اُس نے اپنے مصری غلام یرخع سے کروائی۔ اُن کے بیٹا عتّی پیدا ہوا۔d !لیکن یونتن کے دو بیٹے فلت اور زازا پیدا ہوئے۔ سب یرحمئیل کی اولاد تھے۔ :u:]s5 0کالب کی دوسری داشتہ معکہ کے بیٹے شِبر، تِرحنہ،krQ /یہدی کے بیٹے رجم، یوتام، جیسان، فلط، عیفہ اور شعف تھے۔)qM .کالب کی داشتہ عیفہ کے بیٹے حاران، موضا اور جازز پیدا ہوئے۔ حاران کے بیٹے کا نام جازز تھا۔Dp -سمّی معون کا اور معون بیت صور کا۔vog ,سمع کے بیٹے رحم کے ہاں یرقعام پیدا ہوا۔ رِقم سمّی کا باپ تھا،`n; +حبرون کے چار بیٹے قورح، تفّوح، رِقم اور سمع تھے۔Qm *ذیل میں یرحمئیل کے بھائی کالب کی اولاد ہے: اُس کا پہلوٹھا میسا زیف کا باپ تھا اور دوسرا بیٹا مریسہ حبرون کا باپ۔Pl )سلّوم کے یقمیاہ اور یقمیاہ کے اِلی سمع۔ 72376yg 6سلما سے ذیل کے گھرانے نکلے: بیت لحم کے باشندے، نطوفاتی، عطرات بیت یوآب، مانحت کا آدھا حصہ، صُرعی7xi 5اور قِریَت یعریم کے خاندان اِتری، فوتی، سُماتی اور مِسراعی۔ اِن سے صُرعتی اور اِستالی نکلے ہیں۔w 4قِریَت یعریم کے باپ سوبل سے یہ گھرانے نکلے: ہرائی، مانحت کا آدھا حصہbv? 3بیت لحم کا باپ سلما اور بیت جادر کا باپ خارِف تھے۔u' 2سب کالب کی اولاد تھے۔ اِفراتہ کے پہلوٹھے حور کے بیٹے قِریَت یعریم کا باپ سوبل،Jt 1شعف (مدمناہ کا باپ) اور سِوا (مکیناہ اور جِبعہ کا باپ) پیدا ہوئے۔ کالب کی ایک بیٹی بھی تھی جس کا نام عکسہ تھا۔ 8}) پانچواں سفطیاہ تھا جس کی ماں ابی طال تھی۔ چھٹا اِترعام تھا جس کی ماں عِجلہ تھی۔S|! تیسرا ابی سلوم تھا۔ اُس کی ماں معکہ تھی جو جسور کے بادشاہ تلمی کی بیٹی تھی۔ چوتھا ادونیاہ تھا جس کی ماں حجیت تھی۔ {  حبرون میں داؤد بادشاہ کے درجِ ذیل بیٹے پیدا ہوئے: پہلوٹھا امنون تھا جس کی ماں اخی نوعم یزرعیلی تھی۔ دوسرا دانیال تھا جس کی ماں ابی جیل کرملی تھی۔]z5 7اور یعبیض میں آباد منشیوں کے خاندان تِرعاتی، سِمعاتی اور سوکاتی۔ یہ سب قینی تھے جو ریکابیوں کے باپ حمات سے نکلے تھے۔ '}u  تمر اُن کی بہن تھی۔ اِن کے علاوہ داؤد کی داشتاؤں کے بیٹے بھی تھے۔`; اِلی سمع، اِلیَدع اور اِلی فلط۔ کُل نو بیٹے تھے۔&I نوجہ، نفج، یفیع،hK مزید بیٹے بھی پیدا ہوئے، اِبحار، اِلی سوع، اِلی فلط،2_ اُس دوران اُس کی بیوی بُت سبع بنت عمی ایل کے چار بیٹے سِمعا، سوباب، ناتن اور سلیمان پیدا ہوئے۔(~K داؤد کے یہ چھ بیٹے اُن ساڑھے سات سالوں کے دوران پیدا ہوئے جب حبرون اُس کا دار الحکومت تھا۔ اِس کے بعد وہ یروشلم میں منتقل ہوا اور وہاں مزید 33 سال حکومت کرتا رہا۔ >ix0>  یہویاکین کو بابل میں جلاوطن کر دیا گیا۔ اُس کے سات بیٹے سیالتی ایل،i M یہویقیم یہویاکین کا اور یہویاکین صِدقیاہ کا باپ تھا۔ / یوسیاہ کے چار بیٹے بڑے سے لے کر چھوٹے تک یوحنان، یہویقیم، صِدقیاہ اور سلّوم تھے۔E منسّی کے امون اور امون کے یوسیاہ۔_9  یوتام کے آخز، آخز کے حِزقیاہ، حِزقیاہ کے منسّی،  یوآس کے اَمصیاہ، اَمصیاہ کے عزریاہ یعنی عُزیّاہ، عُزیّاہ کے یوتام،gI  یہوسفط کے یہورام، یہورام کے اخزیاہ، اخزیاہ کے یوآس،!  سلیمان کے ہاں رحبعام پیدا ہوا، رحبعام کے ابیاہ، ابیاہ کے آسا، آسا کے یہوسفط، 40[ سکنیاہ کے بیٹے کا نام سمعیاہ تھا۔ سمعیاہ کے چھ بیٹے حطّوش، اِجال، بریح، نعریاہ اور سافط تھے۔eE حننیاہ کے دو بیٹے فلطیاہ اور یسعیاہ تھے۔ یسعیاہ رفایاہ کا باپ تھا، رفایاہ ارنان کا، ارنان عبدیاہ کا اور عبدیاہ سکنیاہ کا۔ باقی پانچ بیٹوں کے نام حسوبہ، اوہل، برکیاہ، حسدیاہ اور یوسب حسد تھے۔a = فدایاہ کے دو بیٹے زرُبابل اور سِمعی تھے۔ زرُبابل کے دو بیٹے مسُلّام اور حننیاہ تھے۔ ایک بیٹی بنام سلومیت بھی پیدا ہوئی۔r _ مَلکِرام، فدایاہ، شیناضّر، یقمیاہ، ہوسمع اور ندبیاہ تھے۔ FmF=u اِفراتہ کا پہلوٹھا حور بیت لحم کا باپ تھا۔ اُس کے دو بیٹے جدور کا باپ فنوایل اور حوسہ کا باپ عزر تھے۔3 عیطام کے تین بیٹے یزرعیل، اِسمع اور اِدباس تھے۔ اُن کی بہن کا نام ہَضلَلفونی تھا۔B ریایاہ بن سوبل کے ہاں یحت، یحت کے اخومی اور اخومی کے لاہد پیدا ہوا۔ یہ صُرعتی خاندانوں کے باپ دادا تھے۔g K فارص، حصرون، کرمی، حور اور سوبل یہوداہ کی اولاد تھے۔)M اِلیوعینی کے سات بیٹے ہوداویاہ، اِلیاسب، فلایاہ، عقّوب، یوحنان، دلایاہ اور عنانی تھے۔ ym نعریاہ کے تین بیٹے اِلیوعینی، حِزقیاہ اور عزری قام پیدا ہوئے۔ 0G.W  یعبیض کی اپنے بھائیوں کی نسبت زیادہ عزت تھی۔ اُس کی ماں نے اُس کا نام یعبیض یعنی ’وہ تکلیف دیتا ہے‘ رکھا، کیونکہ اُس نے کہا، ”پیدا ہوتے وقت مجھے بڑی تکلیف ہوئی۔“ قوض کے بیٹے عنوب اور ہضّوبیبہ تھے۔ اُس سے اخرخیل بن حروم کے خاندان بھی نکلے۔P حیلاہ کے بیٹے ضرت، صُحر اور اِتنان تھے۔eE نعرہ کے بیٹے اخوزّام، حِفر، تیمنی اور ہخَستری تھے۔eE تقوع کے باپ اشحور کی دو بیویاں حیلاہ اور نعرہ تھیں۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr}  (  (  (  (   (   (   (   (   (  (  (  (  (   (   (   (   (   (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (   (  (  (  (  (  (  (  (   (   (   (   (   (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (   (  !(  "(  #(  $(  %(  &(  '(  ((  )(  *(  +(   (  (  (  (  (  ( (f ;  قنز کے بیٹے غُتنی ایل اور سرایاہ تھے۔ غُتنی ایل کے بیٹوں کے نام حتت اور معوناتی تھے۔>w  اِستون کے بیٹے بیت رفا، فاسح اور تخِنّہ تھے۔ تخِنّہ ناحس شہر کا باپ تھا جس کی اولاد ریکہ میں آباد ہے۔jO  سوخہ کے بھائی کلوب محیر کا اور محیر اِستون کا باپ تھا۔gI  یعبیض نے بلند آواز سے اسرائیل کے خدا سے التماس کی، ”کاش تُو مجھے برکت دے کر میرا علاقہ وسیع کر دے۔ تیرا ہاتھ میرے ساتھ ہو، اور مجھے نقصان سے بچا تاکہ مجھے تکلیف نہ پہنچے۔“ اور اللہ نے اُس کی سنی۔ om"U یہلّل ایل کے چار بیٹے زیف، زیفہ، تیریاہ اور اسرایل تھے۔! کالب بن یفُنّہ کے بیٹے عیرو، ایلہ اور نعم تھے۔ ایلہ کا بیٹا قنز تھا۔  معوناتی عُفرہ کا باپ تھا۔ سرایاہ یوآب کا باپ تھا جو ’وادیِ کاری گر‘ کا بانی تھا۔ آبادی کا یہ نام اِس لئے پڑ گیا کہ اُس کے باشندے کاری گر تھے۔ !#= عزرہ کے چار بیٹے یتر، مِرِد، عِفر اور یلون تھے۔ مِرِد کی شادی مصری بادشاہ فرعون کی بیٹی بِتیاہ سے ہوئی۔ اُس کے تین بچے مریم، سمّی اور اِسباح پیدا ہوئے۔ اِسباح اِستموع کا باپ تھا۔ مِرِد کی دوسری بیوی یہوداہ کی تھی، اور اُس کے تین بیٹے جدور کا باپ یِرد، سوکہ کا باپ حِبر اور زنوح کا باپ یقوتی ایل تھے۔ }%}$&C سیمون کے بیٹے امنون، رِنّہ، بن حنان اور تیلون تھے۔ یِسعی کے بیٹے زوحت اور بن زوحت تھے۔2%_ ہودیاہ کی بیوی نحم کی بہن تھی۔ اُس کا ایک بیٹا قعیلہ جرمی کا باپ اور دوسرا اِستموع معکاتی تھا۔!$= عزرہ کے چار بیٹے یتر، مِرِد، عِفر اور یلون تھے۔ مِرِد کی شادی مصری بادشاہ فرعون کی بیٹی بِتیاہ سے ہوئی۔ اُس کے تین بچے مریم، سمّی اور اِسباح پیدا ہوئے۔ اِسباح اِستموع کا باپ تھا۔ مِرِد کی دوسری بیوی یہوداہ کی تھی، اور اُس کے تین بیٹے جدور کا باپ یِرد، سوکہ کا باپ حِبر اور زنوح کا باپ یقوتی ایل تھے۔ U;Uf,G مِشماع کے حموایل، حموایل کے زکور اور زکور کے سِمعی۔z+o ساؤل کے ہاں سلّوم پیدا ہوا، سلّوم کے مِبسام، مِبسام کے مِشماع،h*K شمعون کے بیٹے یموایل، یمین، یریب، زارح اور ساؤل تھے۔u)e وہ نتاعیم اور جدیرہ میں رہ کر کمہار اور بادشاہ کے ملازم تھے۔e(E یوقیم، کوزیبا کے باشندے، اور یوآس اور ساراف جو قدیم روایت کے مطابق موآب پر حکمرانی کرتے تھے لیکن بعد میں بیت لحم واپس آئے۔u'e سیلہ بن یہوداہ کی درجِ ذیل اولاد تھی: لیکہ کا باپ عیر، مریسہ کا باپ لعدہ، بیت اشبیع میں آباد باریک کتان کا کام کرنے والوں کے خاندان، @)[21  نیز عیطام، عین، رِمّون، توکن اور عسن میں بھی۔11] بیت مرکبوت، حصار سوسیم، بیت بِری اور شعریم۔ داؤد کی حکومت تک یہ قبیلہ اِن جگہوں میں آباد تھا،20a بتوایل، حُرمہ، صِقلاج،*/Q بِلہاہ، عضم، تولد،;.q ذیل کے شہر اُن کے گرد و نواح کی آبادیوں سمیت شمعون کا قبائلی علاقہ تھا: بیرسبع، مولادہ، حصار سوعال،}-u سِمعی کے 16 بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں، لیکن اُس کے بھائیوں کے کم بچے پیدا ہوئے۔ نتیجے میں شمعون کا قبیلہ یہوداہ کے قبیلے کی نسبت چھوٹا رہا۔ "=Ma"/9Y 'اِس لئے وہ اپنے ریوڑوں کو چَرانے کی جگہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے وادی کے مشرق میں جدور تک پھیل گئے۔8 &درجِ بالا آدمی اپنے خاندانوں کے سرپرست تھے۔ اُن کے خاندان بہت بڑھ گئے،g7I %زیزا بن شِفعی بن الّون بن یدایاہ بن سِمری بن سمعیاہ۔6y $اِلیوعینی، یعقوبہ، یشوخایہ، عسایاہ، عدی ایل، یسیمی ایل، بنایاہ،[51 #یوایل، یاہو بن یوسِبیاہ بن سرایاہ بن عسی ایل،4 "شمعون کے خاندانوں کے درجِ ذیل سرپرست تھے: مسوباب، یملیک، یوشہ بن اَمصیاہ،?3y !اِن پانچ آبادیوں کے گرد و نواح کے دیہات بھی بعل تک شامل تھے۔ ہر مقام کے اپنے اپنے تحریری نسب نامے تھے۔ ++m<U *ایک دن شمعون کے 500 آدمی یِسعی کے چار بیٹوں فلطیاہ، نعریاہ، رفایاہ اور عُزی ایل کی راہنمائی میں سعیر کے پہاڑی علاقے میں گھس آئے۔v;g )لیکن حِزقیاہ بادشاہ کے ایام میں شمعون کے مذکورہ سرپرستوں نے وہاں کے رہنے والے حامیوں اور معونیوں پر حملہ کیا اور اُن کے تنبوؤں کو تباہ کر کے سب کو مار دیا۔ ایک بھی نہ بچا۔ پھر وہ خود وہاں آباد ہوئے۔ اب اُن کے ریوڑوں کے لئے کافی چراگاہیں تھیں۔ آج تک وہ اِسی علاقے میں رہتے ہیں۔f:G (وہاں اُنہیں اچھی اور شاداب چراگاہیں مل گئیں۔ علاقہ کھلا، پُرسکون اور آرام دہ بھی تھا۔ پہلے حام کی کچھ اولاد وہاں آباد تھی، eNee?E یہوداہ دیگر بھائیوں کی نسبت زیادہ طاقت ور تھا، اور اُس سے قوم کا بادشاہ نکلا۔ توبھی یوسف کو پہلوٹھے کا موروثی حق حاصل تھا۔?> { اسرائیل کا پہلوٹھا روبن تھا۔ لیکن چونکہ اُس نے اپنے باپ کی داشتہ سے ہم بستر ہونے سے باپ کی بےحرمتی کی تھی اِس لئے پہلوٹھے کا موروثی حق اُس کے بھائی یوسف کے بیٹوں کو دیا گیا۔ اِسی وجہ سے نسب ناموں میں روبن کو پہلوٹھے کی حیثیت سے بیان نہیں کیا گیا۔k=Q +وہاں اُنہوں نے اُن عمالیقیوں کو ہلاک کر دیا جنہوں نے بچ کر وہاں پناہ لی تھی۔ پھر وہ خود وہاں رہنے لگے۔ آج تک وہ وہیں آباد ہیں۔ Dy DCE اور بالع بن عزز بن سمع بن یوایل۔ روبن کا قبیلہ عروعیر سے لے کر نبو اور بعل معون تک کے علاقے میں آباد ہوا۔DD اُن کے نسب ناموں میں اُس کے بھائی اُن کے خاندانوں کے مطابق درج کئے گئے ہیں، سرِفہرست یعی ایل، پھر زکریاہFC بعل کے بئیرہ۔ بئیرہ کو اسور کے بادشاہ تِگلت پِل ایسر نے جلاوطن کر دیا۔ بئیرہ روبن کے قبیلے کا سرپرست تھا۔dBC سِمعی کے میکاہ، میکاہ کے ریایاہ، ریایاہ کے بعل اورrA_ یوایل کے ہاں سمعیاہ پیدا ہوا، سمعیاہ کے جوج، جوج کے سِمعی،@ اسرائیل کے پہلوٹھے روبن کے چار بیٹے حنوک، فلّو، حصرون اور کرمی تھے۔ K I  اُس کا سربراہ یوایل تھا، پھر سافم، یعنی اور سافط۔ وہ سب بسن میں آباد تھے۔{Hq  جد کا قبیلہ روبن کے قبیلے کے پڑوسی ملک بسن میں سلکہ تک آباد تھا۔1G]  ساؤل کے ایام میں اُنہوں نے ہاجریوں سے لڑ کر اُنہیں ہلاک کر دیا اور خود اُن کی آبادیوں میں رہنے لگے۔ یوں جِلعاد کے مشرق کا پورا علاقہ روبن کے قبیلے کی ملکیت میں آ گیا۔~Fw  مشرق کی طرف وہ اُس ریگستان کے کنارے تک پھیل گئے جو دریائے فرات سے شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ جِلعاد میں اُن کے ریوڑوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔ yT8HyKN یہ تمام خاندان یہوداہ کے بادشاہ یوتام اور اسرائیل کے بادشاہ یرُبعام کے زمانے میں نسب ناموں میں درج کئے گئے۔lMS جد کا قبیلہ جِلعاد اور بسن کے علاقوں کی آبادیوں میں آباد تھا۔ شارون سے لے کر سرحد تک کی پوری چراگاہیں بھی اُن کے قبضے میں تھیں۔eLE اخی بن عبدی ایل بن جونی اِن خاندانوں کا سرپرست تھا۔0K[ یہ سات آدمی ابی خیل بن حوری بن یاروح بن جِلعاد بن میکائیل بن یسیسی بن یحدو بن بوز کے بیٹے تھے۔(JK  اُن کے بھائی اُن کے خاندانوں سمیت میکائیل، مسُلّام، سبع، یوری، یعکان، زیع اور عِبر تھے۔ fRG اُنہوں نے اُن سے بہت کچھ لُوٹ لیا: 50,000 اونٹ، 2,50,000 بھیڑبکریاں اور 2,000 گدھے۔ ساتھ ساتھ اُنہوں نے 1,00,000 لوگوں کو قید بھی کر لیا۔cQA لڑتے وقت اُنہوں نے اللہ سے مدد کے لئے فریاد کی، تو اُس نے اُن کی سن کر ہاجریوں کو اُن کے اتحادیوں سمیت اُن کے حوالے کر دیا۔bP? اُنہوں نے ہاجریوں، یطور، نفیس اور نودب سے جنگ کی۔ O روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کے 44,760 فوجی تھے۔ سب لڑنے کے قابل اور تجربہ کار آدمی تھے، ایسے لوگ جو تیر چلا سکتے اور ڈھال اور تلوار سے لیس تھے۔ %U اُن کے خاندانی سرپرست عِفر، یِسعی، اِلی ایل، عزری ایل، یرمیاہ، ہوداویاہ اور یحدی ایل تھے۔ سب ماہر فوجی، مشہور آدمی اور خاندانی سربراہ تھے۔TT# منسّی کا آدھا قبیلہ بہت بڑا تھا۔ اُس کے لوگ بسن سے لے کر بعل حرمون اور سنیر یعنی حرمون کے پہاڑی سلسلے تک پھیل گئے۔Sy میدانِ جنگ میں بےشمار دشمن مارے گئے، کیونکہ جنگ اللہ کی تھی۔ جب تک اسرائیلیوں کو اسور میں جلاوطن نہ کر دیا گیا وہ اِس علاقے میں آباد رہے۔ FfYG قہات کے بیٹے عمرام، اِضہار، حبرون اور عُزی ایل تھے۔QX  لاوی کے بیٹے جیرسون، قہات اور مراری تھے۔W+ یہ دیکھ کر اسرائیل کے خدا نے اسور کے بادشاہ تِگلت پِل ایسر کو اُن کے خلاف برپا کیا جس نے روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کو جلاوطن کر دیا۔ وہ اُنہیں خلح، دریائے خابور، ہارا اور دریائے جوزن کو لے گیا جہاں وہ آج تک آباد ہیں۔ V/ لیکن یہ مشرقی قبیلے اپنے باپ دادا کے خدا سے بےوفا ہو گئے۔ وہ زنا کر کے ملک کے اُن اقوام کے دیوتاؤں کے پیچھے لگ گئے جن کو اللہ نے اُن کے آگے سے مٹا دیا تھا۔ 44>]4\b3  اُس کے ہاں امریاہ پیدا ہوا، امریاہ کے اخی طوب،Fa  اور یوحنان کے عزریاہ۔ یہی عزریاہ رب کے اُس گھر کا پہلا امامِ اعظم تھا جو سلیمان نے یروشلم میں بنوایا تھا۔I`  اخی معض کے عزریاہ، عزریاہ کے یوحنانD_ اخی طوب کے صدوق، صدوق کے اخی معض،K^ مرایوت کے امریاہ، امریاہ کے اخی طوب،H] عُزّی کے زرحیاہ، زرحیاہ کے مرایوت،@\} ابی سوع کے بُقی، بُقی کے عُزّی،e[E اِلی عزر کے ہاں فینحاس پیدا ہوا، فینحاس کے ابی سوع،HZ عمرام کے بیٹے ہارون اور موسیٰ تھے۔ بیٹی کا نام مریم تھا۔ ہارون کے بیٹے ندب، ابیہو، اِلی عزر اور اِتمر تھے۔ E   +6ALWbmx'2=HS^it$/:EP[fq|  (   (   (   (   (   (  (  (  (  (   (   (   (   (   (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (   (  (  (  (  (  (  (  (   (   (   (   (   (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (  (   (  !(  "(  #(  $(  %(  &(  '(  ((  ))  *)  +)  ,)  -)  .)  /)  0)  1)  2) inH+i>jw مراری کے دو بیٹے محلی اور مُوشی تھے۔ ذیل میں لاوی کے خاندانوں کی فہرست اُن کے بانیوں کے مطابق درج ہے۔miU قہات کے چار بیٹے عمرام، اِضہار، حبرون اور عُزی ایل تھے۔Nh جیرسوم کے دو بیٹے لِبنی اور سِمعی تھے۔Yg- لاوی کے تین بیٹے جیرسوم، قہات اور مراری تھے۔Pf جب رب نے نبوکدنضر کے ہاتھ سے یروشلم اور پورے یہوداہ کے باشندوں کو جلاوطن کر دیا تو یہوصدق بھی اُن میں شامل تھا۔Oe عزریاہ کے سرایاہ اور سرایاہ کے یہوصدق۔Ld  سلّوم کے خِلقیاہ، خِلقیاہ کے عزریاہ،@c}  اخی طوب کے صدوق، صدوق کے سلّوم، I&SIr نحت کے اِلیاب، اِلیاب کے یروحام، یروحام کے اِلقانہ اور اِلقانہ کے سموایل۔tqc اور اِلقانہ تھے۔ اِلقانہ کے ہاں ضوفی پیدا ہوا، ضوفی کے نحت،?p{ اِلقانہ کے بیٹے عماسی، اخی موت o اسّیر کے تحت، تحت کے اُوری ایل، اُوری ایل کے عُزیّاہ اور عُزیّاہ کے ساؤل۔mnU اسّیر کے اِلقانہ، اِلقانہ کے ابی آسف، ابی آسف کے اسّیر،zmo قہات کے ہاں عمی نداب پیدا ہوا، عمی نداب کے قورح، قورح کے اسّیر،wli زِمّہ کے یوآخ، یوآخ کے عِدّو، عِدّو کے زارح اور زارح کے یتری۔pk[ جیرسوم کے ہاں لِبنی پیدا ہوا، لِبنی کے یحت، یحت کے زِمّہ،  w  اِس سے پہلے کہ سلیمان نے رب کا گھر بنوایا یہ لوگ اپنی خدمت ملاقات کے خیمے کے سامنے سرانجام دیتے تھے۔ وہ سب کچھ مقررہ ہدایات کے مطابق ادا کرتے تھے۔ivM جب عہد کا صندوق یروشلم میں لایا گیا تاکہ آئندہ وہاں رہے تو داؤد بادشاہ نے کچھ لاویوں کو رب کے گھر میں گیت گانے کی ذمہ داری دی۔fuG عُزّہ کے سِمعا، سِمعا کے حجیاہ اور حجیاہ کے عسایاہ۔t مراری کے ہاں محلی پیدا ہوا، محلی کے لِبنی، لِبنی کے سِمعی، سِمعی کے عُزّہ،]s5 سموایل کا پہلا بیٹا یوایل اور دوسرا ابیاہ تھا۔ RZpR7k )بن اِتنی بن زارح بن عدایاہ?{ (بن میکائیل بن بعسیاہ بن ملکیاہ~7 'ہیمان کے دہنے ہاتھ آسف کھڑا ہوتا تھا۔ اُس کا پورا نام یہ تھا: آسف بن برکیاہ بن سِمعاL} &بن اِضہار بن قہات بن لاوی بن اسرائیل۔E| %بن تحت بن اسّیر بن ابی آسف بن قورحP{ $بن اِلقانہ بن یوایل بن عزریاہ بن صفنیاہDz #بن صوف بن اِلقانہ بن محت بن عماسیOy "بن اِلقانہ بن یروحام بن اِلی ایل بن توخ x !ذیل میں اُن کے نام اُن کے بیٹوں کے ناموں سمیت درج ہیں۔ قہات کے خاندان کا ہیمان پہلا گلوکار تھا۔ اُس کا پورا نام یہ تھا: ہیمان بن یوایل بن سموایل S]+S  0دوسرے لاویوں کو اللہ کی سکونت گاہ میں باقی ماندہ ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔F /بن محلی بن مُوشی بن مراری بن لاوی۔/[ .بن امصی بن بانی بن سمرA -بن حسبیاہ بن اَمصیاہ بن خِلقیاہiM ,ہیمان کے بائیں ہاتھ ایتان کھڑا ہوتا تھا۔ وہ مراری کے خاندان کا فرد تھا۔ اُس کا پورا نام یہ تھا: ایتان بن قیسی بن عبدی بن ملّوک5g +بن یحت بن جیرسوم بن لاوی۔7k *بن ایتان بن زِمّہ بن سِمعی HaHD  5اخی طوب کے صدوق، صدوق کے اخی معض۔l S 4زرحیاہ کے مرایوت، مرایوت کے امریاہ، امریاہ کے اخی طوب،` ; 3ابی سوع کے بُقی، بُقی کے عُزّی، عُزّی کے زرحیاہ،  2ہارون کے ہاں اِلی عزر پیدا ہوا، اِلی عزر کے فینحاس، فینحاس کے ابی سوع، 1لیکن صرف ہارون اور اُس کی اولاد بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرتے اور بخور کی قربان گاہ پر بخور جلاتے تھے۔ وہی مُقدّس ترین کمرے میں ہر خدمت سرانجام دیتے تھے۔ اسرائیل کا کفارہ دینا اُن ہی کی ذمہ داری تھی۔ وہ سب کچھ عین اُن ہدایات کے مطابق ادا کرتے تھے جو اللہ کے خادم موسیٰ نے اُنہیں دی تھیں۔ ?~i?'K ;عسن، اور بیت شمس۔; :حولون، دبیر،vg 9حبرون اُن شہروں میں شامل تھا جن میں ہر وہ پناہ لے سکتا تھا جس کے ہاتھوں غیرارادی طور پر کوئی ہلاک ہوا ہو۔ حبرون کے علاوہ ہارون کی اولاد کو ذیل کے مقام اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے گئے: لِبناہ، یتیر، اِستموع،vg 8لیکن گرد و نواح کے کھیت اور دیہات کالب بن یفُنّہ کو دیئے گئے۔ym 7اُسے یہوداہ کے قبیلے سے حبرون شہر اُس کی چراگاہوں سمیت مل گیا۔  6ذیل میں وہ آبادیاں اور چراگاہیں درج ہیں جو لاویوں کو قرعہ ڈال کر دی گئیں۔ قرعہ ڈالتے وقت پہلے ہارون کے بیٹے قہات کی اولاد کو جگہیں مل گئیں۔ % ~%W) @یوں اسرائیلیوں نے قرعہ ڈال کر لاویوں کو مذکورہ شہر دے دیئے۔ سب یہوداہ، شمعون اور بن یمین کے قبائلی علاقوں میں تھے۔{q ?مراری کی اولاد کو روبن، جد اور زبولون کے قبیلوں کے 12 شہر مل گئے۔ >جیرسوم کی اولاد کو اِشکار، آشر، نفتالی اور منسّی کے قبیلوں کے 13 شہر دیئے گئے۔ یہ منسّی کا وہ علاقہ تھا جو دریائے یردن کے مشرق میں ملکِ بسن میں تھا۔vg =قہات کے باقی خاندانوں کو منسّی کے مغربی حصے کے دس شہر مل گئے۔q] <بن یمین کے قبیلے سے اُنہیں جِبعون، جِبع، علِمِت اور عنتوت اُن کی چراگاہوں سمیت دیئے گئے۔ اِس طرح ہارون کے خاندان کو 13 شہر مل گئے۔ o%Z&o3a Fقہات کے باقی کنبوں کو منسّی کے مغربی حصے کے دو شہر عانیر اور بلعام اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے۔1_ Eایالون اور جات رِمّون۔,U Dیُقمعام، بیت حورون،{q Cاِن میں افرائیم کے پہاڑی علاقے کا شہر سِکم شامل تھا جس میں ہر وہ پناہ لے سکتا تھا جس سے کوئی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا ہوتا تھا، پھر جزر،- Bقہات کے چند ایک خاندانوں کو افرائیم کے قبیلے سے شہر اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے۔W) Aیوں اسرائیلیوں نے قرعہ ڈال کر لاویوں کو مذکورہ شہر دے دیئے۔ سب یہوداہ، شمعون اور بن یمین کے قبائلی علاقوں میں تھے۔ H#vQHQ% Nروبن کے قبیلے سے ریگستان کا بصر، یہض، قدیمات اور مِفعت (یہ شہر دریائے یردن کے مشرق میں یریحو کے مقابل واقع ہیں)۔>$w Mمراری کے باقی خاندانوں کو ذیل کے شہر اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے: زبولون کے قبیلے سے رِمّون اور تبور۔o#Y Lاور نفتالی کے قبیلے سے گلیل کا قادس، حمون اور قِریَتائم۔""A Kحقوق اور رحوب۔=!w Jآشر کے قبیلے سے مِسال، عبدون،& I Iرامات اور عانیم۔A Hاِشکار کے قبیلے سے قادس، دابرت،Y- Gجیرسوم کی اولاد کو ذیل کے شہر بھی اُن کی چراگاہوں سمیت مل گئے: منسّی کے مشرقی حصے سے جولان جو بسن میں ہے اور عستارات۔ E   +6ALWbmx(3>IT^it$/:EP[fq|  4)  5)  6)  7)  8)  9)  :)  ;)  <)  4)  5)  6)  7)  8)  9)  :)  ;)  <)  =)  >)  ?)  @)  A)  B)  C)  D)  E)  F)  G)  H)  I)  J)!  K)"  L)#  M)$  N)%  O)&  P)'  Q)(   ))  )*  )+  ),  )-  ).  )/  )0   )1   )2   )3   )4   )5  )6  )7  )8  )9  ):  );  )<  )=  )>  )?  )@  )A  )B  )C  )D  )E  )F  )G   )H  !)I  ")J  #)K  $)L  %)M  &)N  ')O +C^*7 تولع کے پانچ بیٹے عُزّی، رفایاہ، یری ایل، یحمی، اِبسام اور سموایل تھے۔ سب اپنے خاندانوں کے سرپرست تھے۔ نسب ناموں کے مطابق داؤد کے زمانے میں تولع کے خاندان کے 22,600 افراد جنگ کرنے کے قابل تھے۔g) K اِشکار کے چار بیٹے تولع، فُوّہ، یسوب اور سِمرون تھے۔((M Qحسبون اور یعزیر۔ P' Pجد کے قبیلے سے جِلعاد کا رامات، محنائم،Q& Oروبن کے قبیلے سے ریگستان کا بصر، یہض، قدیمات اور مِفعت (یہ شہر دریائے یردن کے مشرق میں یریحو کے مقابل واقع ہیں)۔ .-@._.9 بن یمین کے تین بیٹے بالع، بِکر اور یدیع ایل تھے۔,-S اِشکار کے قبیلے کے خاندانوں کے کُل 87,000 آدمی جنگ کرنے کے قابل تھے۔ سب نسب ناموں میں درج تھے۔i,M نسب ناموں کے مطابق اُن کے 36,000 افراد جنگ کرنے کے قابل تھے۔ اِن کی تعداد اِس لئے زیادہ تھی کہ عُزّی کی اولاد کے بہت بال بچے تھے۔O+ عُزّی کا بیٹا اِزرحیاہ تھا جو اپنے چار بھائیوں میکائیل، عبدیاہ، یوایل اور یِسیاہ کے ساتھ خاندانی سرپرست تھا۔ N"N3  سب اپنے خاندانوں کے سرپرست تھے۔ اُن کے 17,200 جنگ کرنے کے قابل مرد تھے۔,2S  بِلہان بن یدیع ایل کے سات بیٹے یعوس، بن یمین، اِہود، کنعانہ، زیتان، ترسیس اور اخی سحر تھے۔1-  اُن کے نسب ناموں میں اُن کے سرپرست اور 20,200 جنگ کرنے کے قابل مرد بیان کئے گئے ہیں۔10] بِکر کے 9 بیٹے زمیرہ، یوآس، اِلی عزر، اِلیوعینی، عُمری، یریموت، ابیاہ، عنتوت اور علِمِت تھے۔%/E بالع کے پانچ بیٹے اِصبون، عُزّی، عُزی ایل، یریموت اور عیری تھے۔ سب اپنے خاندانوں کے سرپرست تھے۔ اُن کے نسب ناموں کے مطابق اُن کے 22,034 مرد جنگ کرنے کے قابل تھے۔ na 9 اُولام کے بیٹے کا نام بدان تھا۔ یہی جِلعاد بن مکیر بن منسّی کی اولاد تھے۔38a مکیر کی بیوی معکہ کے مزید دو بیٹے فِرس اور شِرس پیدا ہوئے۔ شِرس کے دو بیٹے اُولام اور رِقم تھے۔ 7 مکیر نے حُفّیوں اور سُفّیوں کی ایک عورت سے شادی کی۔ بہن کا نام معکہ تھا۔ مکیر کے دوسرے بیٹے کا نام صلافحاد تھا جس کے ہاں صرف بیٹیاں پیدا ہوئیں۔6 منسّی کی اَرامی داشتہ کے دو بیٹے اسری ایل اور جِلعاد کا باپ مکیر پیدا ہوئے۔5#  نفتالی کے چار بیٹے یحصی ایل، جونی، یصر اور سلّوم تھے۔ سب بِلہاہ کی اولاد تھے۔c4A  سُفّی اور حُفّی عیر کی اور حُشی احیر کی اولاد تھے۔ fm5fK> اُن کا باپ افرائیم کافی عرصے تک اُن کا ماتم کرتا رہا، اور اُس کے رشتے دار اُس سے ملنے آئے تاکہ اُسے تسلی دیں۔4=c تحت کے زبد اور زبد کے سوتلح۔ افرائیم کے مزید دو بیٹے عزر اور اِلعد تھے۔ یہ دو مرد ایک دن جات گئے تاکہ وہاں کے ریوڑ لُوٹ لیں۔ لیکن مقامی لوگوں نے اُنہیں پکڑ کر مار ڈالا۔(<K افرائیم کے ہاں سوتلح پیدا ہوا، سوتلح کے بِرد، بِرد کے تحت، تحت کے اِلعدہ، اِلعدہ کے تحت،h;K سمیدع کے چار بیٹے اخیان، سِکم، لِقحی اور انیعام تھے۔y:m جِلعاد کی بہن مولکت کے تین بیٹے اِشہود، ابی عزر اور محلاہ تھے۔ 5yt5IT_ju$/:EP[fq|   )Q  )R  )S  )T  )U  )V  )W  )X   )Y   )Q  )R  )S  )T  )U  )V  )W  )X   )Y   )Z   )[   )\   )]  )^  )_  )`  )a  )b  )c  )d  )e  )f  )g  )h  )i  )j  )k  )l  )m  )n  )o   )p  !)q  ")r  #)s  $)t  %)u  &)v  ')w  ()x   )y  )z  ){  )|  )}  )~  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  ) y`1y4tc $آخز کا بیٹا یہوعدہ تھا جس کے تین بیٹے علِمِت، عزماوت اور زِمری تھے۔ زِمری کے ہاں موضا پیدا ہوا،dsC #میکاہ کے چار بیٹے فیتون، مَلِک، تاریع اور آخز تھے۔[r1 "یونتن مری بعل کا باپ تھا اور مری بعل میکاہ کا۔1q] !نیر قیس کا باپ تھا اور قیس ساؤل کا۔ ساؤل کے چار بیٹے یونتن، ملکی شوع، ابی نداب اور اِشبعل تھے۔1p]  اور مِقلوت تھے۔ مِقلوت کا بیٹا سِماہ تھا۔ وہ بھی اپنے رشتے داروں کے ساتھ یروشلم میں رہتے تھے۔&oI جدور، اخیو، زِکرtnc بڑے سے لے کر چھوٹے تک اُن کے بیٹے عبدون، صور، قیس، بعل، ندب، {K qy _ تمام اسرائیل شاہانِ اسرائیل کی کتاب کے نسب ناموں میں درج ہے۔ پھر یہوداہ کے باشندوں کو بےوفائی کے باعث بابل میں جلاوطن کر دیا گیا۔:xo (اُولام کے بیٹے تجربہ کار فوجی تھے جو مہارت سے تیر چلا سکتے تھے۔ اُن کے بہت سے بیٹے اور پوتے تھے، کُل 150 افراد۔ تمام مذکورہ آدمی اُن کے خاندانوں سمیت بن یمین کی اولاد تھے۔ w5 'اصیل کے بھائی عیشق کے تین بیٹے بڑے سے لے کر چھوٹے تک اُولام، یعوس اور اِلی فلط تھے۔ v &اصیل کے چھ بیٹے عزری قام، بوکرو، اِسمٰعیل، سعریاہ، عبدیاہ اور حنان تھے۔u} %موضا کے بِنعہ، بِنعہ کے رافہ، رافہ کے اِلعاسہ اور اِلعاسہ کے اصیل۔ todt~ زارح کے خاندان کا یعوایل۔ یہوداہ کے اِن خاندانوں کی کُل تعداد 690 تھی۔d}C سَیلا کے خاندان کا پہلوٹھا عسایاہ اور اُس کے بیٹے۔| یہوداہ کے قبیلے کے درجِ ذیل خاندانی سرپرست وہاں آباد ہوئے: عوتی بن عمی ہود بن عُمری بن اِمری بن بانی۔ بانی فارص بن یہوداہ کی اولاد میں سے تھا۔{ یہوداہ، بن یمین، افرائیم اور منسّی کے قبیلوں کے کچھ لوگ یروشلم میں جا بسے۔zzo جو لوگ پہلے واپس آ کر دوبارہ شہروں میں اپنی موروثی زمین پر رہنے لگے وہ امام، لاوی، رب کے گھر کے خدمت گار اور باقی چند ایک اسرائیلی تھے۔ @.W جو امام جلاوطنی سے واپس آ کر یروشلم میں آباد ہوئے وہ ذیل میں درج ہیں: یدعیاہ، یہویریب، یکین،ym نسب ناموں کے مطابق بن یمین کے اِن خاندانوں کی کُل تعداد 956 تھی۔\3 بن یمین کے قبیلے کے درجِ ذیل خاندانی سرپرست یروشلم میں آباد ہوئے: سَلّو بن مسُلّام بن ہوداویاہ بن سنوآہ۔ اِبنیاہ بن یروحام۔ ایلہ بن عُزّی بن مِکری۔ مسُلّام بن سفطیاہ بن رعوایل بن اِبنیاہ۔\3 بن یمین کے قبیلے کے درجِ ذیل خاندانی سرپرست یروشلم میں آباد ہوئے: سَلّو بن مسُلّام بن ہوداویاہ بن سنوآہ۔ اِبنیاہ بن یروحام۔ ایلہ بن عُزّی بن مِکری۔ مسُلّام بن سفطیاہ بن رعوایل بن اِبنیاہ۔ cdC بقبقر، حِرس، جلال، متنیاہ بن میکا بن زِکری بن آسف،dC جو لاوی جلاوطنی سے واپس آ کر یروشلم میں آباد ہوئے وہ درجِ ذیل ہیں: مراری کے خاندان کا سمعیاہ بن حسوب بن عزری قام بن حسبیاہ،;q اماموں کے اِن خاندانوں کی کُل تعداد 1,760 تھی۔ اُن کے مرد رب کے گھر میں خدمت سرانجام دینے کے قابل تھے۔@{ عدایاہ بن یروحام بن فشحور بن ملکیاہ اور معسی بن عدی ایل بن یحزیراہ بن مسُلّام بن مسِلِّمِت بن اِمّیر۔- اللہ کے گھر کا انچارج عزریاہ بن خِلقیاہ بن مسُلّام بن صدوق بن مرایوت بن اخی طوب، +lT # آج تک اُس کا خاندان رب کے گھر کے مشرق میں شاہی دروازے کی پہرہ داری کرتا ہے۔ یہ دربان لاویوں کے خیموں کے افراد تھے۔; q ذیل کے دربان بھی واپس آئے: سلّوم، عقّوب، طلمون، اخی مان اور اُن کے بھائی۔ سَلّوم اُن کا انچارج تھا۔Q عبدیاہ بن سمعیاہ بن جلال بن یدوتون اور برکیاہ بن آسا بن اِلقانہ۔ برکیاہ نطوفاتیوں کی آبادیوں کا رہنے والا تھا۔ 6G6} u بعد میں زکریاہ بن مسلمیاہ ملاقات کے خیمے کے دروازے کا دربان تھا۔  قدیم زمانے میں فینحاس بن اِلی عزر اُن پر مقرر تھا، اور رب اُس کے ساتھ تھا۔5 e سلّوم بن قورے بن ابی آسف بن قورح اپنے بھائیوں کے ساتھ قورح کے خاندان کا تھا۔ جس طرح اُن کے باپ دادا کی ذمہ داری رب کی خیمہ گاہ میں ملاقات کے خیمے کے دروازے کی پہرہ داری کرنی تھی اِسی طرح اُن کی ذمہ داری مقدِس کے دروازے کی پہرہ داری کرنی تھی۔ #q] لاوی کے اکثر لوگ یروشلم میں نہیں رہتے تھے بلکہ باری باری ایک ہفتے کے لئے دیہات سے یروشلم آتے تھے تاکہ وہاں اپنی خدمت سرانجام دیں۔}u یہ دربان رب کے گھر کے چاروں طرف کے دروازوں کی پہرہ داری کرتے تھے۔&G وہ اور اُن کی اولاد پہلے رب کے گھر یعنی ملاقات کے خیمے کے دروازوں پر پہرہ داری کرتے تھے۔/Y کُل 212 مردوں کو دربان کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اُن کے نام اُن کی مقامی جگہوں کے نسب ناموں میں درج تھے۔ داؤد اور سموایل غیب بین نے اُن کے باپ دادا کو یہ ذمہ داری دی تھی۔ 0)70 بعض دربان عبادت کا سامان سنبھالتے تھے۔ جب بھی اُسے استعمال کے لئے اندر اور بعد میں دوبارہ باہر لایا جاتا تو وہ ہر چیز کو گن کر چیک کرتے تھے۔nW اور رات کو بھی اللہ کے گھر کے ارد گرد گزارتے تھے، کیونکہ اُن ہی کو اُس کی حفاظت کرنا اور صبح کے وقت اُس کے دروازوں کو کھولنا تھا۔S! صرف دربانوں کے چار انچارج مسلسل یروشلم میں رہتے تھے۔ یہ چار لاوی اللہ کے گھر کے کمروں اور خزانوں کو بھی سنبھالتے fdf)M قہات کے خاندان کے بعض لاویوں کے ہاتھ میں وہ روٹیاں بنانے کا انتظام تھا جو ہر ہفتے کے دن کو رب کے لئے مخصوص کر کے رب کے گھر کے مُقدّس کمرے کی میز پر رکھی جاتی تھیں۔M قوراح کے خاندان کا لاوی متِتیاہ جو سلّوم کا پہلوٹھا تھا قربانی کے لئے مستعمل روٹی بنانے کا انتظام چلاتا تھا۔nW لیکن بلسان کے تیلوں کو تیار کرنا اماموں کی ذمہ داری تھی۔'I بعض باقی سامان اور مقدِس میں موجود چیزوں کو سنبھالتے تھے۔ رب کے گھر میں مستعمل باریک میدہ، مَے، زیتون کا تیل، بخور اور بلسان کے مختلف تیل بھی اِن میں شامل تھے۔ u &مِقلوت کا بیٹا سِماہ تھا۔ وہ بھی اپنے بھائیوں کے مقابل یروشلم میں رہتے تھے۔H %جدور، اخیو، زکریاہ اور مِقلوت تھے۔}u $بڑے سے لے کر چھوٹے تک اُن کے بیٹے عبدون، صور، قیس، بعل، نیر، ندب، #جِبعون کا باپ یعی ایل جِبعون میں رہتا تھا۔ اُس کی بیوی کا نام معکہ تھا۔+ "لاویوں کے یہ تمام خاندانی سرپرست نسب ناموں میں درج تھے اور یروشلم میں رہتے تھے۔_9 !موسیقار بھی لاوی تھے۔ اُن کے سربراہ باقی تمام خدمت میں حصہ نہیں لیتے تھے، کیونکہ اُنہیں ہر وقت اپنی ہی خدمت سرانجام دینے کے لئے تیار رہنا پڑتا تھا۔ اِس لئے وہ رب کے گھر کے کمروں میں رہتے تھے۔ K? $ ,اصیل کے چھ بیٹے عزری قام، بوکرو، اسمٰعیل، سعریاہ، عبدیاہ اور حنان تھے۔ # +موضا کے بِنعہ، بِنعہ کے رفایاہ، رفایاہ کے اِلعاسہ اور اِلعاسہ کے اصیل۔6"g *آخز کا بیٹا یعرہ تھا۔ یعرہ کے تین بیٹے علِمِت، عزماوت اور زِمری تھے۔ زِمری کے ہاں موضا پیدا ہوا،d!C )میکاہ کے چار بیٹے فیتون، مَلِک، تحریع اور آخز تھے۔[ 1 (یونتن مری بعل کا باپ تھا اور مری بعل میکاہ کا۔1] 'نیر قیس کا باپ تھا اور قیس ساؤل کا۔ ساؤل کے چار بیٹے یونتن، ملکی شوع، ابی نداب اور اِشبعل تھے۔ ;*'O جبکہ لڑائی ساؤل کے ارد گرد عروج تک پہنچ گئی۔ پھر وہ تیراندازوں کا نشانہ بن کر زخمی ہو گیا۔>&w پھر فلستی ساؤل اور اُس کے بیٹوں یونتن، ابی نداب اور ملکی شوع کے پاس جا پہنچے۔ تینوں بیٹے ہلاک ہو گئے،% { جِلبوعہ کے پہاڑی سلسلے پر فلستیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ لڑتے لڑتے اسرائیلی فرار ہونے لگے، لیکن بہت لوگ وہیں شہید ہو گئے۔ DiD* یوں اُس دن ساؤل، اُس کے تین بیٹے اور اُس کا تمام گھرانا ہلاک ہو گئے۔)1 جب سلاح بردار نے دیکھا کہ میرا مالک مر گیا ہے تو وہ بھی اپنی تلوار پر گر کر مر گیا۔(! اُس نے اپنے سلاح بردار کو حکم دیا، ”اپنی تلوار میان سے کھینچ کر مجھے مار ڈال! ورنہ یہ نامختون مجھے بےعزت کریں گے۔“ لیکن سلاح بردار نے انکار کیا، کیونکہ وہ بہت ڈرا ہوا تھا۔ آخر میں ساؤل اپنی تلوار لے کر خود اُس پر گر گیا۔ -} تو اُنہوں نے ساؤل کا سر کاٹ کر اُس کا زرہ بکتر اُتار لیا اور قاصدوں کو اپنے پورے ملک میں بھیج کر اپنے بُتوں اور اپنی قوم کو فتح کی اطلاع دی۔,} اگلے دن فلستی لاشوں کو لُوٹنے کے لئے دوبارہ میدانِ جنگ میں آ گئے۔ جب اُنہیں جِلبوعہ کے پہاڑی سلسلے پر ساؤل اور اُس کے تینوں بیٹے مُردہ ملےq+] جب میدانِ یزرعیل کے اسرائیلیوں کو خبر ملی کہ اسرائیلی فوج بھاگ گئی اور ساؤل اپنے بیٹوں سمیت مارا گیا ہے تو وہ اپنے شہروں کو چھوڑ کر بھاگ نکلے، اور فلستی چھوڑے ہوئے شہروں پر قبضہ کر کے اُن میں بسنے لگے۔ (D0 تو شہر کے تمام لڑنے کے قابل آدمی بیت شان کے لئے روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچ کر وہ ساؤل اور اُس کے بیٹوں کی لاشوں کو اُتار کر یبیس لے گئے جہاں اُنہوں نے اُن کی ہڈیوں کو یبیس کے بڑے درخت کے سائے میں دفنایا۔ اُنہوں نے روزہ رکھ کر پورے ہفتے تک اُن کا ماتم کیا۔ /; جب یبیس جِلعاد کے باشندوں کو خبر ملی کہ فلستیوں نے ساؤل کی لاش کے ساتھ کیا کچھ کیا ہےT.# ساؤل کا زرہ بکتر اُنہوں نے اپنے دیوتاؤں کے مندر میں محفوظ کر لیا اور اُس کے سر کو دجون دیوتا کے مندر میں لٹکا دیا۔ E  !,7BMXcny(3>HS^it$/:EP[fq|  )  )  !)  ")  #)  $)  %)  &)  ')  )  )  !)  ")  #)  $)  %)  &)  ')  ()  ))  *)  +)  ,)   )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )   )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  !)  ")  #)  $)  %)  &)  ')  ()  )) 11;3 s اُس وقت تمام اسرائیل حبرون میں داؤد کے پاس آیا اور کہا، ”ہم آپ ہی کی قوم اور آپ ہی کے رشتے دار ہیں۔“b2? حالانکہ اُسے رب سے دریافت کرنا چاہئے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ رب نے اُسے سزائے موت دے کر سلطنت کو داؤد بن یسّی کے حوالے کر دیا۔ &1G ساؤل کو اِس لئے مارا گیا کہ وہ رب کا وفادار نہ رہا۔ اُس نے اُس کی ہدایات پر عمل نہ کیا، یہاں تک کہ اُس نے مُردوں کی روح سے رابطہ کرنے والی جادوگرنی سے مشورہ کیا، 5C5 6 بادشاہ بننے کے بعد داؤد تمام اسرائیلیوں کے ساتھ یروشلم گیا تاکہ اُس پر حملہ کرے۔ اُس زمانے میں اُس کا نام یبوس تھا، اور یبوسی اُس میں بستے تھے۔b5? جب اسرائیل کے تمام بزرگ حبرون پہنچے تو داؤد بادشاہ نے رب کے حضور اُن کے ساتھ عہد باندھا، اور اُنہوں نے اُسے مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ بنا دیا۔ یوں رب کا سموایل کی معرفت کیا ہوا وعدہ پورا ہوا۔S4! ماضی میں بھی جب ساؤل بادشاہ تھا تو آپ ہی فوجی مہموں میں اسرائیل کی قیادت کرتے رہے۔ اور رب آپ کے خدا نے آپ سے وعدہ بھی کیا ہے کہ تُو میری قوم اسرائیل کا چرواہا بن کر اُس پر حکومت کرے گا۔“ m!9= یروشلم پر فتح پانے کے بعد داؤد قلعے میں رہنے لگا۔ اُس نے اُسے ’داؤد کا شہر‘ قرار دیاa8= یبوس پر حملہ کرنے سے پہلے داؤد نے کہا تھا، ”جو بھی یبوسیوں پر حملہ کرنے میں راہنمائی کرے وہ فوج کا کمانڈر بنے گا۔“ تب یوآب بن ضرویاہ نے پہلے شہر پر چڑھائی کی۔ چنانچہ اُسے کمانڈر مقرر کیا گیا۔*7O داؤد کو دیکھ کر یبوسیوں نے اُس سے کہا، ”آپ ہمارے شہر میں کبھی داخل نہیں ہو پائیں گے!“ توبھی داؤد نے صیون کے قلعے پر قبضہ کر لیا جو آج کل ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ 0g?0 = جو تین افسر یوآب کے بھائی ابی شے کے عین بعد آتے تھے اُن میں یسوبعام حکمونی پہلے نمبر پر آتا تھا۔ ایک بار اُس نے اپنے نیزے سے 300 آدمیوں کو مار دیا۔$<C درجِ ذیل داؤد کے سورماؤں کی فہرست ہے۔ پورے اسرائیل کے ساتھ اُنہوں نے مضبوطی سے اُس کی بادشاہی کی حمایت کر کے داؤد کو رب کے فرمان کے مطابق اپنا بادشاہ بنا دیا۔r;_ یوں داؤد زور پکڑتا گیا، کیونکہ رب الافواج اُس کے ساتھ تھا۔ :; اور اُس کے ارد گرد شہر کو بڑھانے لگا۔ داؤد کا یہ تعمیری کام ارد گرد کے چبوتروں سے شروع ہوا اور چاروں طرف پھیلتا گیا جبکہ یوآب نے شہر کا باقی حصہ بحال کر دیا۔ 5xL5@! لیکن اِلی عزر داؤد کے ساتھ کھیت کے بیچ میں فلستیوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ فلستیوں کو مارتے مارتے اُنہوں نے کھیت کا دفاع کر کے رب کی مدد سے بڑی فتح پائی۔(?K یہ فَس دَمّیم میں داؤد کے ساتھ تھا جب فلستی وہاں لڑنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔ میدانِ جنگ میں جَو کا کھیت تھا، اور لڑتے لڑتے اسرائیلی فلستیوں کے سامنے بھاگنے لگے۔> اِن تین افسروں میں سے دوسری جگہ پر اِلی عزر بن دودو بن اخوحی آتا تھا۔ gB% ایک اَور جنگ کے دوران داؤد عدُلام کے غار کے پہاڑی قلعے میں تھا جبکہ فلستی فوج نے وادیِ رفائیم میں اپنی لشکرگاہ لگائی تھی۔ اُن کے دستوں نے بیت لحم پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ داؤد کے تیس اعلیٰ افسروں میں سے تین اُس سے ملنے آئے۔A% ایک اَور جنگ کے دوران داؤد عدُلام کے غار کے پہاڑی قلعے میں تھا جبکہ فلستی فوج نے وادیِ رفائیم میں اپنی لشکرگاہ لگائی تھی۔ اُن کے دستوں نے بیت لحم پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ داؤد کے تیس اعلیٰ افسروں میں سے تین اُس سے ملنے آئے۔ }:}9Dm یہ سن کر تینوں افسر فلستیوں کی لشکرگاہ پر حملہ کر کے اُس میں گھس گئے اور لڑتے لڑتے بیت لحم کے حوض تک پہنچ گئے۔ اُس سے کچھ پانی بھر کر وہ اُسے داؤد کے پاس لے آئے۔ لیکن اُس نے پینے سے انکار کر دیا بلکہ اُسے قربانی کے طور پر اُنڈیل کر رب کو پیش کیاBC داؤد کو شدید پیاس لگی، اور وہ کہنے لگا، ”کون میرے لئے بیت لحم کے دروازے پر کے حوض سے کچھ پانی لائے گا؟“  y UF% یوآب کا بھائی ابی شے مذکورہ تین سورماؤں پر مقرر تھا۔ ایک دفعہ اُس نے اپنے نیزے سے 300 آدمیوں کو مار ڈالا۔ تینوں کی نسبت اُس کی زیادہ عزت کی جاتی تھی، لیکن وہ خود اِن میں گنا نہیں جاتا تھا۔E اور بولا، ”اللہ نہ کرے کہ مَیں یہ پانی پیؤں۔ اگر ایسا کرتا تو اُن آدمیوں کا خون پیتا جو اپنی جان پر کھیل کر پانی لائے ہیں۔“ اِس لئے وہ اُسے پینا نہیں چاہتا تھا۔ یہ اِن تین سورماؤں کے زبردست کاموں کی ایک مثال ہے۔ MH بنایاہ بن یہویدع بھی زبردست فوجی تھا۔ وہ قبضئیل کا رہنے والا تھا، اور اُس نے بہت دفعہ اپنی مردانگی دکھائی۔ موآب کے دو بڑے سورما اُس کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ ایک بار جب بہت برف پڑ گئی تو اُس نے ایک حوض میں اُتر کر ایک شیرببر کو مار ڈالا جو اُس میں گر گیا تھا۔UG% یوآب کا بھائی ابی شے مذکورہ تین سورماؤں پر مقرر تھا۔ ایک دفعہ اُس نے اپنے نیزے سے 300 آدمیوں کو مار ڈالا۔ تینوں کی نسبت اُس کی زیادہ عزت کی جاتی تھی، لیکن وہ خود اِن میں گنا نہیں جاتا تھا۔ i'iK' تیس افسروں کے دیگر مردوں کی نسبت اُس کی زیادہ عزت کی جاتی تھی، لیکن وہ مذکورہ تین آدمیوں میں گنا نہیں جاتا تھا۔ داؤد نے اُسے اپنے محافظوں پر مقرر کیا۔ J; ایسی بہادری دکھانے کی بنا پر بنایاہ بن یہویدع مذکورہ تین آدمیوں کے برابر مشہور ہوا۔UI% ایک اَور موقع پر اُس کا واسطہ ایک مصری سے پڑا جس کا قد ساڑھے سات فٹ تھا۔ مصری کے ہاتھ میں کھڈی کے شہتیر جیسا بڑا نیزہ تھا جبکہ اُس کے اپنے پاس صرف لاٹھی تھی۔ لیکن بنایاہ نے اُس پر حملہ کر کے اُس کے ہاتھ سے نیزہ چھین لیا اور اُسے اُس کے اپنے ہتھیار سے مار ڈالا۔ SK0}4S9Vo $حِفر مکیراتی، اخیاہ فلونی،MU #اخی آم بن سکار ہراری، اِلی فل بن اُور،RT "ہشیم جِزونی کے بیٹے، یونتن بن شجی ہراری،FS !عزماوت بحرومی، اِلیَحبا سعلبونی،ER نحلے جعس کا حوری، ابی ایل عرباتی،hQK بن یمینی شہر جِبعہ کا اِتی بن ریبی، بنایاہ فِرعاتونیNP مَہری نطوفاتی، حِلِد بن بعنہ نطوفاتی،7Ok سِبکی حوساتی، عیلی اخوحی،SN! تقوع کا عیرا بن عِقّیس، عنتوت کا ابی عزر،7Mk سمّوت ہروری، خِلِص فلونی،1L] ذیل کے آدمی بادشاہ کے سورماؤں میں شامل تھے۔ یوآب کا بھائی عساہیل، بیت لحم کا اِلحنان بن دودو، @uj@Oa /اِلی ایل، عوبید اور یعسی ایل مضوبائی۔ }`u .اِلی ایل محاوی، اِلنعم کے بیٹے یریبی اور یوساویاہ، یِتمہ موآبی،U_% -یدیع ایل بن سِمری، اُس کا بھائی یوخا تیضی،p^[ ,عُزیّاہ عستراتی، حوتام عروعیری کے بیٹے سماع اور یعی ایل،8]m +حنان بن معکہ، یوسفط مِتنی،x\k *ادینہ بن سیزا (روبن کے قبیلے کا یہ سردار 30 فوجیوں پر مقرر تھا)،:[q )اُوریاہ حِتّی، زبد بن اخلی،3Zc (عیرا اِتری، جریب اِتری،lYS 'صِلِق عمونی، یوآب بن ضرویاہ کا سلاح بردار نحری بیروتی،MX &ناتن کا بھائی یوایل، مِبخار بن ہاجری،8Wm %حصرو کرملی، نعری بن اِزبی، qd] اُن کا راہنما اخی عزر، پھر یوآس (دونوں سماعہ جِبعاتی کے بیٹے تھے)، یزی ایل اور فلط (دونوں ازماوت کے بیٹے تھے)، براکہ، یاہو عنتوتی،Tc# اور بہترین تیرانداز تھے، کیونکہ یہ نہ صرف دہنے بلکہ بائیں ہاتھ سے بھی مہارت سے تیر اور فلاخن کا پتھر چلا سکتے تھے۔ اِن آدمیوں میں سے درجِ ذیل بن یمین کے قبیلے اور ساؤل کے خاندان سے تھے۔b ! ذیل کے آدمی صِقلاج میں داؤد کے ساتھ مل گئے، اُس وقت جب وہ ساؤل بن قیس سے چھپا رہتا تھا۔ یہ اُن فوجیوں میں سے تھے جو جنگ میں داؤد کے ساتھ مل کر لڑتے تھے 3(vhg اِن کے علاوہ یروحام جدوری کے بیٹے یوعیلہ اور زبدیاہ بھی تھے۔g9 قورح کے خاندان میں سے اِلقانہ، یِسیاہ، عزرایل، یوعزر اور یسوبعام داؤد کے ساتھ تھے۔efE اِلعوزی، یریموت، بعلیاہ، سمریاہ اور سفطیاہ خروفی۔Ie اِسماعیاہ جِبعونی جو داؤد کے 30 افسروں کا ایک سورما اور لیڈر تھا، یرمیاہ، یحزی ایل، یوحنان، یوزبد جدیراتی،  }V..nY یرمیاہ اور مکبنّائی۔%mG یوحنان، اِلزبد،$lE عتّی، اِلی ایل،'kK مِسمنّہ، یرمیاہ،vjg اُن کا لیڈر عزر ذیل کے دس آدمیوں پر مقرر تھا: عبدیاہ، اِلیاب،\i3 جد کے قبیلے سے بھی کچھ بہادر اور تجربہ کار فوجی ساؤل سے الگ ہو کر داؤد کے ساتھ مل گئے جب وہ ریگستان کے قلعے میں تھا۔ یہ مرد مہارت سے ڈھال اور نیزہ استعمال کر سکتے تھے۔ اُن کے چہرے شیرببر کے چہروں کی مانند تھے، اور وہ پہاڑی علاقے میں غزالوں کی طرح تیز چل سکتے تھے۔ nnq} بن یمین اور یہوداہ کے قبیلوں کے کچھ مرد داؤد کے پہاڑی قلعے میں آئے۔hpK اِن ہی نے بہار کے موسم میں دریائے یردن کو پار کیا، جب وہ کناروں سے باہر آ گیا تھا، اور مشرق اور مغرب کی وادیوں کو بند کر رکھا۔o5 جد کے یہ مرد سب اعلیٰ فوجی افسر بن گئے۔ اُن میں سے سب سے کمزور آدمی سَو عام فوجیوں کا مقابلہ کر سکتا تھا جبکہ سب سے طاقت ور آدمی ہزار کا مقابلہ کر سکتا تھا۔ $rC داؤد باہر نکل کر اُن سے ملنے گیا اور پوچھا، ”کیا آپ سلامتی سے میرے پاس آئے ہیں؟ کیا آپ میری مدد کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو مَیں آپ کا اچھا ساتھی رہوں گا۔ لیکن اگر آپ مجھے دشمنوں کے حوالے کرنے کے لئے آئے ہیں حالانکہ مجھ سے کوئی بھی ظلم نہیں ہوا ہے تو ہمارے باپ دادا کا خدا اِسے دیکھ کر آپ کو سزا دے۔“ 8sk پھر روح القدس 30 افسروں کے راہنما عماسی پر نازل ہوا، اور اُس نے کہا، ”اے داؤد، ہم تیرے ہی لوگ ہیں۔ اے یسّی کے بیٹے، ہم تیرے ساتھ ہیں۔ سلامتی، سلامتی تجھے حاصل ہو، اور سلامتی اُنہیں حاصل ہو جو تیری مدد کرتے ہیں۔ کیونکہ تیرا خدا تیری مدد کرے گا۔“ یہ سن کر داؤد نے اُنہیں قبول کر کے اپنے چھاپہ مار دستوں پر مقرر کیا۔of flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| 9 > C G O U W [ ] b g m t y ~ 9 > C G O U W [ ] b g m t y ~       $ ' * - 0 3 6 9 = @ B D F H K V a d h n q r s t w }       ! $ ( , 3 6 9 = @ C G K Q V ] c h l o s v x {           " % ( , / 1 3 7 : > B E G J M O S V Y llt منسّی کے قبیلے کے کچھ مرد بھی ساؤل سے الگ ہو کر داؤد کے پاس آئے۔ اُس وقت وہ فلستیوں کے ساتھ مل کر ساؤل سے لڑنے جا رہا تھا، لیکن بعد میں اُسے میدانِ جنگ میں آنے کی اجازت نہ ملی۔ کیونکہ فلستی سرداروں نے آپس میں مشورہ کرنے کے بعد اُسے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ خطرہ ہے کہ یہ ہمیں میدانِ جنگ میں چھوڑ کر اپنے پرانے مالک ساؤل سے دوبارہ مل جائے۔ پھر ہم تباہ ہو جائیں گے۔ nu;wq روز بہ روز لوگ داؤد کی مدد کرنے کے لئے آتے رہے، اور ہوتے ہوتے اُس کی فوج اللہ کی فوج جیسی بڑی ہو گئی۔uve اُنہوں نے لُوٹنے والے عمالیقی دستوں کو پکڑنے میں داؤد کی مدد کی، کیونکہ وہ سب دلیر اور قابل فوجی تھے۔ سب اُس کی فوج میں افسر بن گئے۔u جب داؤد صِقلاج واپس جا رہا تھا تو منسّی کے قبیلے کے درجِ ذیل افسر ساؤل سے الگ ہو کر اُس کے ساتھ ہو لئے: عدنہ، یوزبد، یدی ایل، میکائیل، یوزبد، اِلیہو اور ضِلّتی۔ منسّی میں ہر ایک کو ہزار ہزار فوجیوں پر مقرر کیا گیا تھا۔ E  "-8CMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr}  +)  ,)  -)  .)  /)   )  )  )  )  +)  ,)  -)  .)  /)   )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  )  *  *  !*  "*  #*  $*  %*  &*  '*  (*   *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *   *  *  *  *  *  *  *  *   *   *! Rz-}U صدوق نامی ایک دلیر اور جوان فوجی بھی شامل تھا۔ اُس کے ساتھ اُس کے اپنے خاندان کے 22 افسر تھے۔|' اُن میں ہارون کے خاندان کا سرپرست یہویَدع بھی شامل تھا جس کے ساتھ 3,700 آدمی تھے۔;{s لاوی کے قبیلے کے 4,600 مرد تھے۔Rz شمعون کے قبیلے کے 7,100 تجربہ کار فوجی تھے۔eyE یہوداہ کے قبیلے کے ڈھال اور نیزے سے لیس 6,800 مرد تھے۔mxU درجِ ذیل اُن تمام فوجیوں کی فہرست ہے جو حبرون میں داؤد کے پاس آئے تاکہ اُسے ساؤل کی جگہ بادشاہ بنائیں، جس طرح رب نے حکم دیا تھا۔ 949X+ !زبولون کے قبیلے کے 50,000 تجربہ کار فوجی تھے۔ وہ ہر ہتھیار سے لیس اور پوری وفاداری سے داؤد کے لئے لڑنے کے لئے تیار تھے۔U% اِشکار کے قبیلے کے 200 افسر اپنے دستوں کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ وقت کی ضرورت سمجھ کر جانتے تھے کہ اسرائیل کو کیا کرنا ہے۔#A منسّی کے آدھے قبیلے کے 18,000 مرد تھے۔ اُنہیں داؤد کو بادشاہ بنانے کے لئے چن لیا گیا تھا۔1 افرائیم کے قبیلے کے 20,800 فوجی تھے۔ سب اپنے خاندانوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے تھے۔H~ ساؤل کے قبیلے بن یمین کے بھی 3,000 مرد تھے، لیکن اِس قبیلے کے اکثر فوجی اب تک ساؤل کے خاندان کے ساتھ لپٹے رہے۔ g  &سب ترتیب سے حبرون آئے تاکہ پورے عزم کے ساتھ داؤد کو پورے اسرائیل کا بادشاہ بنائیں۔ باقی تمام اسرائیلی بھی متفق تھے کہ داؤد ہمارا بادشاہ بن جائے۔]5 %دریائے یردن کے مشرق میں آباد قبیلوں روبن، جد اور منسّی کے آدھے حصے کے 1,20,000 مرد تھے۔ ہر ایک ہر قسم کے ہتھیار سے لیس تھا۔jO $آشر کے قبیلے کے 40,000 مرد تھے جو سب لڑنے کے لئے تیار تھے۔lS #دان کے قبیلے کے 28,600 مرد تھے جو سب لڑنے کے لئے مستعد تھے۔% "نفتالی کے قبیلے کے 1,000 افسر تھے۔ اُن کے تحت ڈھال اور نیزے سے مسلح 37,000 آدمی تھے۔ m9 m/  [ داؤد نے تمام افسروں سے مشورہ کیا۔ اُن میں ہزار ہزار اور سَو سَو فوجیوں پر مقرر افسر شامل تھے۔ % (قریب کے رہنے والوں نے بھی اِس میں اُن کی مدد کی۔ اِشکار، زبولون اور نفتالی تک کے لوگ اپنے گدھوں، اونٹوں، خچروں اور بَیلوں پر کھانے کی چیزیں لاد کر وہاں پہنچے۔ میدہ، انجیر اور کشمش کی ٹکیاں، مَے، تیل، بَیل اور بھیڑبکریاں بڑی مقدار میں حبرون لائی گئیں، کیونکہ تمام اسرائیلی خوشی منا رہے تھے۔ C 'یہ فوجی تین دن تک داؤد کے پاس رہے جس دوران اُن کے قبائلی بھائی اُنہیں کھانے پینے کی چیزیں مہیا کرتے رہے۔ 7Tk Q پوری جماعت متفق ہوئی، کیونکہ یہ منصوبہ سب کو درست لگا۔_ 9 پھر ہم اپنے خدا کے عہد کا صندوق دوبارہ اپنے پاس واپس لائیں، کیونکہ ساؤل کے دورِ حکومت میں ہم اُس کی فکر نہیں کرتے تھے۔“E  پھر اُس نے اسرائیل کی پوری جماعت سے کہا، ”اگر آپ کو منظور ہو اور رب ہمارے خدا کی مرضی ہو تو آئیں ہم پورے ملک کے اسرائیلی بھائیوں کو دعوت دیں کہ آ کر ہمارے ساتھ جمع ہو جائیں۔ وہ امام اور لاوی بھی شریک ہوں جو اپنے اپنے شہروں اور چراگاہوں میں بستے ہیں۔ BaB1 قِریَت یعریم پہنچ کر لوگوں نے اللہ کے صندوق کو ابی نداب کے گھر سے نکال کر ایک نئی بَیل گاڑی پر رکھ دیا، اور عُزّہ اور اخیو اُسے یروشلم کی طرف لے جانے لگے۔vg پھر وہ اُن کے ساتھ یہوداہ کے بعلہ یعنی قِریَت یعریم گیا تاکہ رب خدا کا صندوق اُٹھا کر یروشلم لے جائیں، وہی صندوق جس پر رب کے نام کا ٹھپا لگا ہے اور جہاں وہ صندوق کے اوپر کروبی فرشتوں کے درمیان تخت نشین ہے۔!= چنانچہ داؤد نے پورے اسرائیل کو جنوب میں مصر کے سیحور سے لے کر شمال میں لبو حمات تک بُلایا تاکہ سب مل کر اللہ کے عہد کا صندوق قِریَت یعریم سے یروشلم لے جائیں۔ lz\llS اُسی لمحے رب کا غضب اُس پر نازل ہوا، کیونکہ اُس نے عہد کے صندوق کو چھونے کی جرٲت کی تھی۔ وہیں اللہ کے حضور عُزّہ گر کر ہلاک ہوا۔/ وہ گندم گاہنے کی ایک جگہ پر پہنچ گئے جس کے مالک کا نام کیدون تھا۔ وہاں بَیل اچانک بےقابو ہو گئے۔ عُزّہ نے جلدی سے عہد کا صندوق پکڑ لیا تاکہ وہ گر نہ جائے۔ داؤد اور تمام اسرائیلی گاڑی کے پیچھے چل پڑے۔ سب اللہ کے حضور پورے زور سے خوشی منانے لگے۔ جونیپر کی لکڑی کے مختلف ساز بھی بجائے جا رہے تھے۔ فضا ستاروں، سرودوں، دفوں، جھانجھوں اور تُرموں کی آوازوں سے گونج اُٹھی۔ `~R وہاں وہ تین ماہ تک پڑا رہا۔ اِن تین مہینوں کے دوران رب نے عوبید ادوم کے گھرانے اور اُس کی پوری ملکیت کو برکت دی۔ ^7 چنانچہ اُس نے فیصلہ کیا کہ ہم عہد کا صندوق یروشلم نہیں لے جائیں گے بلکہ اُسے عوبید ادوم جاتی کے گھر میں محفوظ رکھیں گے۔6g اُس دن داؤد کو اللہ سے خوف آیا۔ اُس نے سوچا، ”مَیں کس طرح اللہ کا صندوق اپنے پاس پہنچا سکوں گا؟“b? داؤد کو بڑا رنج ہوا کہ رب کا غضب عُزّہ پر یوں ٹوٹ پڑا ہے۔ اُس وقت سے اُس جگہ کا نام پرض عُزّہ یعنی ’عُزّہ پر ٹوٹ پڑنا‘ ہے۔ *Hm*@} اِلی سمع، بعل یدع اور اِلی فلط۔&I نوجہ، نفج، یفیع،7k اِبحار، اِلی سوع، اِلفلط،ue جو بیٹے وہاں پیدا ہوئے وہ یہ تھے: سموع، سوباب، ناتن، سلیمان،R یروشلم میں جا بسنے کے بعد داؤد نے مزید بیویوں سے شادی کی۔ نتیجے میں یروشلم میں اُس کے کئی بیٹے بیٹیاں پیدا ہوئے۔Z/ یوں داؤد نے جان لیا کہ رب نے مجھے اسرائیل کا بادشاہ بنا کر میری بادشاہی اپنی قوم اسرائیل کی خاطر بہت سرفراز کر دی ہے۔ } ایک دن صور کے بادشاہ حیرام نے داؤد کے پاس وفد بھیجا۔ راج اور بڑھئی بھی ساتھ تھے۔ اُن کے پاس دیودار کی لکڑی تھی تاکہ داؤد کے لئے محل بنائیں۔ ;!q  تو داؤد نے رب سے دریافت کیا، ”کیا مَیں فلستیوں پر حملہ کروں؟ کیا تُو مجھے اُن پر فتح بخشے گا؟“ رب نے جواب دیا، ”ہاں، اُن پر حملہ کر! مَیں اُنہیں تیرے قبضے میں کر دوں گا۔“k Q  جب فلستی اسرائیل میں پہنچ کر وادیِ رفائیم میں پھیل گئےp[ جب فلستیوں کو اطلاع ملی کہ داؤد کو مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ بنایا گیا ہے تو اُنہوں نے اپنے فوجیوں کو اسرائیل میں بھیج دیا تاکہ اُسے پکڑ لیں۔ جب داؤد کو پتا چل گیا تو وہ اُن کا مقابلہ کرنے کے لئے گیا۔ >a$=  ایک بار پھر فلستی آ کر وادیِ رفائیم میں پھیل گئے۔#)  فلستی اپنے دیوتاؤں کو چھوڑ کر بھاگ گئے، اور داؤد نے اُنہیں جلا دینے کا حکم دیا۔#"A  چنانچہ داؤد اپنے فوجیوں کو لے کر بعل پراضیم گیا۔ وہاں اُس نے فلستیوں کو شکست دی۔ بعد میں اُس نے گواہی دی، ”جتنے زور سے بند کے ٹوٹ جانے پر پانی اُس سے پھوٹ نکلتا ہے اُتنے زور سے آج اللہ میرے وسیلے سے دشمن کی صفوں میں سے پھوٹ نکلا ہے۔“ چنانچہ اُس جگہ کا نام بعل پراضیم یعنی ’پھوٹ نکلنے کا مالک‘ پڑ گیا۔ mm&(G داؤد کی شہرت تمام ممالک میں پھیل گئی۔ رب نے تمام قوموں کے دلوں میں داؤد کا خوف ڈال دیا۔ 3'a داؤد نے ایسا ہی کیا اور نتیجے میں فلستیوں کو شکست دے کر جِبعون سے لے کر جزر تک اُن کا تعاقب کیا۔& جب اُن درختوں کی چوٹیوں سے قدموں کی چاپ سنائی دے تو خبردار! یہ اِس کا اشارہ ہو گا کہ اللہ خود تیرے آگے آگے چل کر فلستیوں کو مارنے کے لئے نکل آیا ہے۔“%- اِس دفعہ جب داؤد نے اللہ سے دریافت کیا تو اُس نے جواب دیا، ”اِس مرتبہ اُن کا سامنا مت کرنا بلکہ اُن کے پیچھے جا کر بکا کے درختوں کے سامنے اُن پر حملہ کر۔ m,U بادشاہ نے ہارون اور باقی لاویوں کی اولاد کو بھی بُلایا۔m+U اِس کے بعد داؤد نے تمام اسرائیل کو یروشلم بُلایا تاکہ وہ مل کر رب کا صندوق اُس جگہ لے جائیں جو اُس نے اس کے لئے تیار کر رکھی تھی۔K* پھر اُس نے حکم دیا، ”سوائے لاویوں کے کسی کو بھی اللہ کا صندوق اُٹھانے کی اجازت نہیں۔ کیونکہ رب نے اِن ہی کو رب کا صندوق اُٹھانے اور ہمیشہ کے لئے اُس کی خدمت کرنے کے لئے چن لیا ہے۔“-) W یروشلم کے اُس حصے میں جس کا نام ’داؤد کا شہر‘ پڑ گیا تھا داؤد نے اپنے لئے چند عمارتیں بنوائیں۔ اُس نے اللہ کے صندوق کے لئے بھی ایک جگہ تیار کر کے وہاں خیمہ لگا دیا۔ ('u#3A  داؤد نے دونوں اماموں صدوق اور ابیاتر کو مذکورہ چھ لاوی سرپرستوں سمیت اپنے پاس بُلا کرY2-  عُزی ایل کے خاندان سے عمی نداب 112 مردوں سمیت۔S1!  حبرون کے خاندان سے اِلی ایل 80 مردوں سمیت،V0' اِلی صفن کے خاندان سے سمعیاہ 200 مردوں سمیت،Q/ جیرسوم کے خاندان سے یوایل 130 مردوں سمیت،Q. مراری کے خاندان سے عسایاہ 220 مردوں سمیت،T-# درجِ ذیل اُن لاوی سرپرستوں کی فہرست ہے جو اپنے رشتے داروں کو لے کر آئے۔ قہات کے خاندان سے اُوری ایل 120 مردوں سمیت، ;;T6# تب اماموں اور لاویوں نے اپنے آپ کو مخصوص و مُقدّس کر کے رب اسرائیل کے خدا کے صندوق کو یروشلم لانے کے لئے تیار کیا۔~5w  پہلی مرتبہ جب ہم نے اُسے یہاں لانے کی کوشش کی تو یہ آپ لاویوں کے ذریعے نہ ہوا، اِس لئے رب ہمارے خدا کا قہر ہم پر ٹوٹ پڑا۔ اُس وقت ہم نے اُس سے دریافت نہیں کیا تھا کہ اُسے اُٹھا کر لے جانے کا کیا مناسب طریقہ ہے۔“g4I  اُن سے کہا، ”آپ لاویوں کے سربراہ ہیں۔ لازم ہے کہ آپ اپنے قبائلی بھائیوں کے ساتھ اپنے آپ کو مخصوص و مُقدّس کر کے رب اسرائیل کے خدا کے صندوق کو اُس جگہ لے جائیں جو مَیں نے اُس کے لئے تیار کر رکھی ہے۔  9 اِس ذمہ داری کے لئے لاویوں نے ذیل کے آدمیوں کو مقرر کیا: ہیمان بن یوایل، اُس کا بھائی آسف بن برکیاہ اور مراری کے خاندان کا ایتان بن قوسایاہ۔ 8 داؤد نے لاوی سربراہوں کو یہ حکم بھی دیا، ”اپنے قبیلے میں سے ایسے آدمیوں کو چن لیں جو ساز، ستار، سرود اور جھانجھ بجاتے ہوئے خوشی کے گیت گائیں۔“p7[ پھر لاوی اللہ کے صندوق کو اُٹھانے کی لکڑیوں سے اپنے کندھوں پر یوں ہی رکھ کر چل پڑے جس طرح موسیٰ نے رب کے کلام کے مطابق فرمایا تھا۔ |K|K= متِتیاہ، اِلی فلیہو، مِقنیاہ، عوبید ادوم، یعی ایل اور عززیاہ کو سمینیت کے طرز پر سرود بجانے کے لئے چنا گیا۔I< زکریاہ، عَزی ایل، سمیراموت، یحی ایل، عُنّی، اِلیاب، معسیاہ اور بنایاہ کو علاموت کے طرز پر ستار بجانا تھا۔!;= ہیمان، آسف اور ایتان گلوکار تھے، اور اُنہیں پیتل کے جھانجھ بجانے کی ذمہ داری دی گئی۔?:y دوسرے مقام پر اُن کے یہ بھائی آئے: زکریاہ، یعزی ایل، سمیراموت، یحی ایل، عُنّی، اِلیاب، بنایاہ، معسیاہ، متِتیاہ، اِلی فلیہو، مِقنیاہ، عوبید ادوم اور یعی ایل۔ یہ دربان تھے۔ E  !,7BMWbmx(3>IT_ju$/:EP[fq|   *#   *$  *%  *&  *'  *(   *)  **  *+   *#   *$  *%  *&  *'  *(   *)  **  *+  *,  *-  *.  */  *0   *1   *2   *3   *4   *5  *6  *7  *8  *9  *:  *;  *<  *=  *>  *?  *@  *A  *B  *C  *D  *E   *F  *G  *H  *I  *J  *K  *L  *M   *N   *O   *P   *Q   *R  *S  *T  *U  *V  *W  *X  *Y  *Z  *[  *\  *]  *^  *_  *`  *a  *b  *c  *d   *e  !*f  "*g xvx{@q برکیاہ، اِلقانہ، عوبید ادوم اور یحیاہ عہد کے صندوق کے دربان تھے۔ سبنیاہ، یوسفط، نتنی ایل، عماسی، زکریاہ، بنایاہ اور اِلی عزر کو تُرم بجا کر اللہ کے صندوق کے آگے آگے چلنے کی ذمہ داری دی گئی۔ ساتوں امام تھے۔{?q برکیاہ، اِلقانہ، عوبید ادوم اور یحیاہ عہد کے صندوق کے دربان تھے۔ سبنیاہ، یوسفط، نتنی ایل، عماسی، زکریاہ، بنایاہ اور اِلی عزر کو تُرم بجا کر اللہ کے صندوق کے آگے آگے چلنے کی ذمہ داری دی گئی۔ ساتوں امام تھے۔> کننیاہ نے لاویوں کی کوائر کی راہنمائی کی، کیونکہ وہ اِس میں ماہر تھا۔ 8Ck داؤد باریک کتان کا لباس پہنے ہوئے تھا، اور اِس طرح عہد کا صندوق اُٹھانے والے لاوی، گلوکار اور کوائر کا لیڈر کننیاہ بھی۔ اِس کے علاوہ داؤد کتان کا بالاپوش پہنے ہوئے تھا۔hBK جب ظاہر ہوا کہ اللہ عہد کے صندوق کو اُٹھانے والے لاویوں کی مدد کر رہا ہے تو سات جوان سانڈوں اور سات مینڈھوں کو قربان کیا گیا۔&AG پھر داؤد، اسرائیل کے بزرگ اور ہزار ہزار فوجیوں پر مقرر افسر خوشی مناتے ہوئے نکل کر عوبید ادوم کے گھر گئے تاکہ رب کے عہد کا صندوق وہاں سے لے کر یروشلم پہنچائیں۔ ::^G7 اِس کے بعد داؤد نے قوم کو رب کے نام سے برکت دے کرF 1 اللہ کا صندوق اُس تنبو کے درمیان میں رکھا گیا جو داؤد نے اُس کے لئے لگوایا تھا۔ پھر اُنہوں نے اللہ کے حضور بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں پیش کیں۔>Ew رب کا عہد کا صندوق داؤد کے شہر میں داخل ہوا تو داؤد کی بیوی میکل بنت ساؤل کھڑکی میں سے جلوس کو دیکھ رہی تھی۔ جب بادشاہ کودتا اور ناچتا ہوا نظر آیا تو میکل نے اُسے حقیر جانا۔ D} تمام اسرائیلی خوشی کے نعرے لگا لگا کر، نرسنگے اور تُرم پھونک پھونک کر اور جھانجھ، ستار اور سرود بجا بجا کر رب کے عہد کا صندوق یروشلم لائے۔ cx5 K; بنایاہ اور یحزی ایل اماموں کی ذمہ داری اللہ کے عہد کے صندوق کے سامنے تُرم بجانا تھی۔?Jy اُن کا سربراہ آسف جھانجھ بجاتا تھا۔ اُس کا نائب زکریاہ تھا۔ پھر یعی ایل، سمیراموت، یحی ایل، متِتیاہ، اِلیاب، بنایاہ، عوبید ادوم اور یعی ایل تھے جو ستار اور سرود بجاتے تھے۔gII اُس نے کچھ لاویوں کو رب کے صندوق کے سامنے خدمت کرنے کی ذمہ داری دی۔ اُنہیں رب اسرائیل کے خدا کی تمجید اور حمد و ثنا کرنی تھی۔H- ہر اسرائیلی مرد اور عورت کو ایک روٹی، کھجور کی ایک ٹکی اور کشمش کی ایک ٹکی دے دی۔ e"e(QK  جو معجزے اُس نے کئے اُنہیں یاد کرو۔ اُس کے الٰہی نشان اور اُس کے منہ کے فیصلے دہراتے رہو۔|Ps  رب اور اُس کی قدرت کی دریافت کرو، ہر وقت اُس کے چہرے کے طالب رہو۔jOO  اُس کے مُقدّس نام پر فخر کرو۔ رب کے طالب دل سے خوش ہوں۔N  ساز بجا کر اُس کی مدح سرائی کرو۔ اُس کے تمام عجائب کے بارے میں لوگوں کو بتاؤ۔ M ”رب کا شکر کرو اور اُس کا نام پکارو! اقوام میں اُس کے کاموں کا اعلان کرو۔ZL/ اُس دن داؤد نے پہلی دفعہ آسف اور اُس کے ساتھی لاویوں کے حوالے ذیل کا گیت کر کے اُنہیں رب کی ستائش کرنے کی ذمہ داری دی۔ 9(~[V1 اُس نے اُسے یعقوب کے لئے قائم کیا تاکہ وہ اُس کے مطابق زندگی گزارے، اُس نے تصدیق کی کہ یہ میرا اسرائیل سے ابدی عہد ہے۔&UG یہ وہ عہد ہے جو اُس نے ابراہیم سے باندھا، وہ وعدہ جو اُس نے قَسم کھا کر اسحاق سے کیا تھا۔$TC وہ ہمیشہ اپنے عہد کا خیال رکھتا ہے، اُس کلام کا جو اُس نے ہزار پشتوں کے لئے فرمایا تھا۔fSG وہی رب ہمارا خدا ہے، وہی پوری دنیا کی عدالت کرتا ہے۔CR  تم جو اُس کے خادم اسرائیل کی اولاد اور یعقوب کے فرزند ہو، جو اُس کے برگزیدہ لوگ ہو، تمہیں سب کچھ یاد رہے! \j4~]w قوموں میں اُس کا جلال اور تمام اُمّتوں میں اُس کے عجائب بیان کرو۔\ اے پوری دنیا، رب کی تمجید میں گیت گا! روز بہ روز اُس کی نجات کی خوش خبری سنا۔[ ’میرے مسح کئے ہوئے خادموں کو مت چھیڑنا، میرے نبیوں کو نقصان مت پہنچانا۔‘ Z; لیکن اللہ نے اُن پر کسی کو ظلم کرنے نہ دیا، اور اُن کی خاطر اُس نے بادشاہوں کو ڈانٹا،kYQ اب تک وہ مختلف قوموں اور سلطنتوں میں گھومتے پھرتے تھے۔X{ اُس وقت وہ تعداد میں کم اور تھوڑے ہی تھے بلکہ ملک میں اجنبی ہی تھے۔ W; ساتھ ساتھ اُس نے فرمایا، ’مَیں تجھے ملکِ کنعان دوں گا۔ یہ تیری میراث کا حصہ ہو گا۔‘ yv;!c= پوری دنیا اُس کے سامنے لرز اُٹھے۔ یقیناً دنیا مضبوطی سے قائم ہے اور نہیں ڈگمگائے گی۔/bY رب کے نام کو جلال دو۔ قربانی لے کر اُس کے حضور آؤ۔ مُقدّس لباس سے آراستہ ہو کر رب کو سجدہ کرو۔a اے قوموں کے قبیلو، رب کی تمجید کرو، رب کے جلال اور قدرت کی ستائش کرو۔w`i اُس کے حضور شان و شوکت، اُس کی سکونت گاہ میں قدرت اور جلال ہے۔_ کیونکہ دیگر قوموں کے تمام معبود بُت ہی ہیں جبکہ رب نے آسمان کو بنایا۔^ کیونکہ رب عظیم اور ستائش کے بہت لائق ہے۔ وہ تمام معبودوں سے مہیب ہے۔ MqMKh #اُس سے التماس کرو، ’اے ہماری نجات کے خدا، ہمیں بچا! ہمیں جمع کر کے دیگر قوموں کے ہاتھ سے چھڑا۔ تب ہی ہم تیرے مُقدّس نام کی ستائش کریں گے اور تیرے قابلِ تعریف کاموں پر فخر کریں گے۔‘pg[ "رب کا شکر کرو، کیونکہ وہ بھلا ہے، اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔9fm !پھر جنگل کے درخت رب کے سامنے شادیانہ بجائیں گے، کیونکہ وہ آ رہا ہے، وہ زمین کی عدالت کرنے آ رہا ہے۔!e=  سمندر اور جو کچھ اُس میں ہے خوشی سے گرج اُٹھے، میدان اور جو کچھ اُس میں ہے باغ باغ ہو۔ d آسمان شادمان ہو، اور زمین جشن منائے۔ قوموں میں کہا جائے کہ رب بادشاہ ہے۔ PKPl 'لیکن صدوق امام اور اُس کے ساتھی اماموں کو داؤد نے رب کی اُس سکونت گاہ کے پاس چھوڑ دیا جو جِبعون کی پہاڑی پر تھی۔0k[ &اِس گروہ میں عوبید ادوم اور مزید 68 لاوی شامل تھے۔ عوبید ادوم بن یدوتون اور حوسہ دربان بن گئے۔j} %داؤد نے آسف اور اُس کے ساتھی لاویوں کو رب کے عہد کے صندوق کے سامنے چھوڑ کر کہا، ”آئندہ یہاں باقاعدگی سے روزانہ کی ضروری خدمت کرتے جائیں۔“,iS $ازل سے ابد تک رب، اسرائیل کے خدا کی حمد ہو!“ تب پوری قوم نے ”آمین“ اور ”رب کی حمد ہو“ کہا۔ o *اُن کے پاس تُرم، جھانجھ اور باقی ایسے ساز تھے جو اللہ کی تعریف میں گائے جانے والے گیتوں کے ساتھ بجائے جاتے تھے۔ یدوتون کے بیٹوں کو دربان بنایا گیا۔-nU )داؤد نے ہیمان، یدوتون اور مزید کچھ چیدہ لاویوں کو بھی جِبعون میں اُن کے پاس چھوڑ دیا۔ وہاں اُن کی خاص ذمہ داری رب کی حمد و ثنا کرنا تھی، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔4mc (کیونکہ لازم تھا کہ وہ وہاں ہر صبح اور شام کو بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کریں اور باقی تمام ہدایات پر عمل کریں جو رب کی طرف سے اسرائیل کے لئے شریعت میں بیان کی گئی ہیں۔ 8'Os لیکن اُسی رات اللہ ناتن سے ہم کلام ہوا،3ra ناتن نے بادشاہ کی حوصلہ افزائی کی، ”جو کچھ بھی آپ کرنا چاہتے ہیں وہ کریں۔ اللہ آپ کے ساتھ ہے۔“Vq ) داؤد بادشاہ سلامتی سے اپنے محل میں رہنے لگا۔ ایک دن اُس نے ناتن نبی سے بات کی، ”دیکھیں، مَیں یہاں دیودار کے محل میں رہتا ہوں جبکہ رب کے عہد کا صندوق اب تک تنبو میں پڑا ہے۔ یہ مناسب نہیں!“Dp +جشن کے بعد سب لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ داؤد بھی اپنے گھر لوٹا تاکہ اپنے خاندان کو برکت دے کر سلام کرے۔ \8A\av= جس دوران مَیں تمام اسرائیلیوں کے ساتھ اِدھر اُدھر پھرتا رہا کیا مَیں نے اسرائیل کے اُن راہنماؤں سے کبھی اِس ناتے سے شکایت کی جنہیں مَیں نے اپنی قوم کی گلہ بانی کرنے کا حکم دیا تھا؟ کیا مَیں نے اُن میں سے کسی سے کہا کہ تم نے میرے لئے دیودار کا گھر کیوں نہیں بنایا؟‘sua آج تک مَیں کسی مکان میں نہیں رہا۔ جب سے مَیں اسرائیلیوں کو مصر سے نکال لایا اُس وقت سے مَیں خیمے میں رہ کر جگہ بہ جگہ پھرتا رہا ہوں۔Dt ”میرے خادم داؤد کے پاس جا کر اُسے بتا دے کہ رب فرماتا ہے، ’تُو میری رہائش کے لئے مکان تعمیر نہیں کرے گا۔ SS{xq جہاں بھی تُو نے قدم رکھا وہاں مَیں تیرے ساتھ رہا ہوں۔ تیرے دیکھتے دیکھتے مَیں نے تیرے تمام دشمنوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اب مَیں تیرا نام سرفراز کر دوں گا، وہ دنیا کے سب سے عظیم آدمیوں کے ناموں کے برابر ہی ہو گا۔*wO چنانچہ میرے خادم داؤد کو بتا دے، ’رب الافواج فرماتا ہے کہ مَیں ہی نے تجھے چراگاہ میں بھیڑوں کی گلہ بانی کرنے سے فارغ کر کے اپنی قوم اسرائیل کا بادشاہ بنا دیا ہے۔ <mo</{Y  جب تُو بوڑھا ہو کر کوچ کر جائے گا اور اپنے باپ دادا سے جا ملے گا تو مَیں تیری جگہ تیرے بیٹوں میں سے ایک کو تخت پر بٹھا دوں گا۔ اُس کی بادشاہی کو مَیں مضبوط بنا دوں گا۔zzo  اُس وقت سے جب مَیں قوم پر قاضی مقرر کرتا تھا۔ مَیں تیرے دشمنوں کو خاک میں ملا دوں گا۔ آج مَیں فرماتا ہوں کہ رب ہی تیرے لئے گھر بنائے گا۔y  اور مَیں اپنی قوم اسرائیل کے لئے ایک وطن مہیا کروں گا، پودے کی طرح اُنہیں یوں لگا دوں گا کہ وہ جڑ پکڑ کر محفوظ رہیں گے اور کبھی بےچین نہیں ہوں گے۔ بےدین قومیں اُنہیں اُس طرح نہیں دبائیں گی جس طرح ماضی میں کیا کرتی تھیں، sm ناتن نے داؤد کے پاس جا کر اُسے سب کچھ سنایا جو رب نے اُسے رویا میں بتایا تھا۔7~i مَیں اُسے اپنے گھرانے اور اپنی بادشاہی پر ہمیشہ قائم رکھوں گا، اُس کا تخت ہمیشہ مضبوط رہے گا‘۔“}  مَیں اُس کا باپ ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہو گا۔ میری نظرِ کرم ساؤل پر نہ رہی، لیکن مَیں کبھی نہیں ہونے دوں گا کہ وہ تیرے بیٹے سے دُور ہو جائے۔ |  وہی میرے لئے گھر تعمیر کرے گا، اور مَیں اُس کا تخت ابد تک قائم رکھوں گا۔ WWvg اور اب اے اللہ، تُو مجھے اَور بھی زیادہ عطا کرنے کو ہے، کیونکہ تُو نے اپنے خادم کے گھرانے کے مستقبل کے بارے میں بھی وعدہ کیا ہے۔ اے رب خدا، تُو نے یوں مجھ پر نگاہ ڈالی ہے گویا کہ مَیں کوئی بہت اہم بندہ ہوں۔+Q تب داؤد عہد کے صندوق کے پاس گیا اور رب کے حضور بیٹھ کر دعا کرنے لگا، ”اے رب خدا، مَیں کون ہوں اور میرا خاندان کیا حیثیت رکھتا ہے کہ تُو نے مجھے یہاں تک پہنچایا ہے؟ 6/Y اے رب، تجھ جیسا کوئی نہیں ہے۔ ہم نے اپنے کانوں سے سن لیا ہے کہ تیرے سوا کوئی اَور خدا نہیں ہے۔a= لیکن مَیں مزید کیا کہوں جب تُو نے یوں اپنے خادم کی عزت کی ہے؟ اے رب، تُو تو اپنے خادم کو جانتا ہے۔ تُو نے اپنے خادم کی خاطر اور اپنی مرضی کے مطابق یہ عظیم کام کر کے اِن عظیم وعدوں کی اطلاع دی ہے۔a= لیکن مَیں مزید کیا کہوں جب تُو نے یوں اپنے خادم کی عزت کی ہے؟ اے رب، تُو تو اپنے خادم کو جانتا ہے۔ تُو نے اپنے خادم کی خاطر اور اپنی مرضی کے مطابق یہ عظیم کام کر کے اِن عظیم وعدوں کی اطلاع دی ہے۔ E  "-8CNYdny)4?JU`kv%0;FP[fq|  $*i  %*j  &*k  '*l  (*m  )*n  **o  +*p   *q  $*i  %*j  &*k  '*l  (*m  )*n  **o  +*p   *q  *r  *s  *t  *u  *v  *w  *x   *y   *z   *{   *|   *}  *~  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *   *  *  *  *  *  *  *  *   *   *   *   *   *  *  *  *  *   *  *  *  *  *  *  *  *   *   *   *   *   *  *  *  *  * X+ چنانچہ اے رب، جو بات تُو نے اپنے خادم اور اُس کے گھرانے کے بارے میں کی ہے اُسے ابد تک قائم رکھ اور اپنا وعدہ پورا کر۔ اے رب، تُو اسرائیل کو ہمیشہ کے لئے اپنی قوم بنا کر اُن کا خدا بن گیا ہے۔dC دنیا میں کون سی قوم تیری اُمّت اسرائیل کی مانند ہے؟ تُو نے اِسی ایک قوم کا فدیہ دے کر اُسے غلامی سے چھڑایا اور اپنی قوم بنا لیا۔ تُو نے اسرائیل کے واسطے بڑے اور ہیبت ناک کام کر کے اپنے نام کی شہرت پھیلا دی۔ ہمیں مصر سے رِہا کر کے تُو نے قوموں کو ہمارے آگے سے نکال دیا۔ P  اے رب، تُو ہی خدا ہے۔ تُو نے اپنے خادم سے اِن اچھی چیزوں کا وعدہ کیا ہے۔K  اے میرے خدا، تُو نے اپنے خادم کے کان کو اِس بات کے لئے کھول دیا ہے۔ تُو ہی نے فرمایا، ’مَیں تیرے لئے گھر تعمیر کروں گا۔‘ صرف اِسی لئے تیرے خادم نے یوں تجھ سے دعا کرنے کی جرٲت کی ہے۔]5 تب وہ مضبوط رہے گا اور تیرا نام ابد تک مشہور رہے گا۔ پھر لوگ تسلیم کریں گے کہ اسرائیل کا خدا رب الافواج واقعی اسرائیل کا خدا ہے، اور تیرے خادم داؤد کا گھرانا بھی ابد تک تیرے حضور قائم رہے گا۔ WNWsa داؤد نے شمالی شام کے شہر ضوباہ کے بادشاہ ہدد عزر کو بھی حمات کے قریب ہرا دیا جب ہدد عزر دریائے فرات پر قابو پانے کے لئے نکل آیا تھا۔  اُس نے موآبیوں پر بھی فتح پائی، اور وہ اُس کے تابع ہو کر اُسے خراج دینے لگے۔k  S پھر ایسا وقت آیا کہ داؤد نے فلستیوں کو شکست دے کر اُنہیں اپنے تابع کر لیا اور جات شہر پر گرد و نواح کی آبادیوں سمیت قبضہ کر لیا۔+ Q اب تُو اپنے خادم کے گھرانے کو برکت دینے پر راضی ہو گیا ہے تاکہ وہ ہمیشہ تک تیرے سامنے قائم رہے۔ کیونکہ تُو ہی نے اُسے برکت دی ہے، اِس لئے وہ ابد تک مبارک رہے گا۔“ 1 پھر اُس نے دمشق کے علاقے میں اپنی فوجی چوکیاں قائم کیں۔ اَرامی اُس کے تابع ہو گئے اور اُسے خراج دیتے رہے۔ جہاں بھی داؤد گیا وہاں رب نے اُسے کامیابی بخشی۔F جب دمشق کے اَرامی باشندے ضوباہ کے بادشاہ ہدد عزر کی مدد کرنے آئے تو داؤد نے اُن کے 22,000 افراد ہلاک کر دیئے۔sa داؤد نے 1,000 رتھوں، 7،000 گھڑسواروں اور 20,000 پیادہ سپاہیوں کو گرفتار کر لیا۔ رتھوں کے 100 گھوڑوں کو اُس نے اپنے لئے محفوظ رکھا جبکہ باقیوں کی اُس نے کونچیں کاٹ دیں تاکہ وہ آئندہ جنگ کے لئے استعمال نہ ہو سکیں۔ YnY7i  جب حمات کے بادشاہ تُوعی کو اطلاع ملی کہ داؤد نے ضوباہ کے بادشاہ ہدد عزر کی پوری فوج پر فتح پائی ہےV' ہدد عزر کے دو شہروں کون اور طبحت سے اُس نے کثرت کا پیتل چھین لیا۔ بعد میں سلیمان نے یہ پیتل رب کے گھر میں ’سمندر‘ نامی پیتل کا حوض، ستون اور پیتل کا مختلف سامان بنانے کے لئے استعمال کیا۔ سونے کی جو ڈھالیں ہدد عزر کے افسروں کے پاس تھیں اُنہیں داؤد یروشلم لے گیا۔ )1))  ابی شے بن ضرویاہ نے نمک کی وادی میں ادومیوں پر فتح پا کر 18,000 افراد ہلاک کر دیئے۔iM  داؤد نے یہ چیزیں رب کے لئے مخصوص کر دیں۔ جہاں بھی وہ دوسری قوموں پر غالب آیا وہاں کی سونا چاندی اُس نے رب کے لئے مخصوص کر دیا۔ یوں ادوم، موآب، عمون، فلستیہ اور عمالیق کی سونا چاندی رب کو پیش کی گئی۔K  تو اُس نے اپنے بیٹے ہدورام کو داؤد کے پاس بھیجا تاکہ اُسے سلام کہے۔ ہدورام نے داؤد کو ہدد عزر پر فتح کے لئے مبارک باد دی، کیونکہ ہدد عزر تُوعی کا دشمن تھا، اور اُن کے درمیان جنگ رہی تھی۔ ہدورام نے داؤد کو سونے، چاندی اور پیتل کے بہت سے تحفے بھی پیش کئے۔ ::C بنایاہ بن یہویدع داؤد کے خاص دستے بنام کریتی اور فلیتی کا کپتان مقرر تھا۔ داؤد کے بیٹے اعلیٰ افسر تھے۔  صدوق بن اخی طوب اور ابی مَلِک بن ابیاتر امام تھے۔ شَوشا میرمنشی تھا۔ یوآب بن ضرویاہ فوج پر مقرر تھا۔ یہوسفط بن اخی لود بادشاہ کا مشیرِ خاص تھا۔R جتنی دیر داؤد پورے اسرائیل پر حکومت کرتا رہا اُتنی دیر تک اُس نے دھیان دیا کہ قوم کے ہر ایک شخص کو انصاف مل جائے۔   اُس نے ادوم کے پورے ملک میں اپنی فوجی چوکیاں قائم کیں، اور تمام ادومی داؤد کے تابع ہو گئے۔ داؤد جہاں بھی جاتا رب اُس کی مدد کر کے اُسے فتح بخشتا۔ l^7 داؤد نے سوچا، ”ناحس نے ہمیشہ مجھ پر مہربانی کی تھی، اِس لئے اب مَیں بھی اُس کے بیٹے حنون پر مہربانی کروں گا۔“ اُس نے باپ کی وفات کا افسوس کرنے کے لئے حنون کے پاس وفد بھیجا۔ لیکن جب داؤد کے سفیر عمونیوں کے دربار میں پہنچ گئے تاکہ حنون کے سامنے افسوس کا اظہار کریں  کچھ دیر کے بعد عمونیوں کا بادشاہ ناحس فوت ہوا، اور اُس کا بیٹا تخت نشین ہوا۔ 1 ] چنانچہ حنون نے داؤد کے آدمیوں کو پکڑوا کر اُن کی داڑھیاں منڈوا دیں اور اُن کے لباس کو کمر سے لے کر پاؤں تک کاٹ کر اُتروایا۔ اِسی حالت میں بادشاہ نے انہیں فارغ کر دیا۔ تو اُس ملک کے بزرگ حنون بادشاہ کے کان میں منفی باتیں بھرنے لگے، ”کیا داؤد نے اِن آدمیوں کو واقعی صرف اِس لئے بھیجا ہے کہ وہ افسوس کر کے آپ کے باپ کا احترام کریں؟ ہرگز نہیں! یہ صرف بہانہ ہے۔ اصل میں یہ جاسوس ہیں جو ہمارے ملک کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اُس پر قبضہ کر سکیں۔“ Jf"G عمونیوں کو خوب معلوم تھا کہ اِس حرکت سے ہم داؤد کے دشمن بن گئے ہیں۔ اِس لئے حنون اور عمونیوں نے مسوپتامیہ، اَرام معکہ اور ضوباہ کو چاندی کے 34,000 کلو گرام بھیج کر کرائے پر رتھ اور رتھ سوار منگوائے۔2!_ جب داؤد کو اِس کی خبر ملی تو اُس نے اپنے قاصدوں کو اُن سے ملنے کے لئے بھیجا تاکہ اُنہیں بتائیں، ”یریحو میں اُس وقت تک ٹھہرے رہیں جب تک آپ کی داڑھیاں دوبارہ بحال نہ ہو جائیں۔“ کیونکہ وہ اپنی داڑھیوں کی وجہ سے بڑی شرمندگی محسوس کر رہے تھے۔ %-  عمونی اپنے دار الحکومت ربّہ سے نکل کر شہر کے دروازے کے سامنے ہی صف آرا ہوئے جبکہ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے بادشاہ کچھ فاصلے پر کھلے میدان میں کھڑے ہو گئے۔2$_ جب داؤد کو اِس کا علم ہوا تو اُس نے یوآب کو پوری فوج کے ساتھ اُن کا مقابلہ کرنے کے لئے بھیج دیا۔f#G یوں انہیں 32,000 رتھ اُن کے سواروں سمیت مل گئے۔ معکہ کا بادشاہ بھی اپنے دستوں کے ساتھ اُن سے متحد ہوا۔ میدبا کے قریب اُنہوں نے اپنی لشکرگاہ لگائی۔ عمونی بھی اپنے شہروں سے نکل کر جنگ کے لئے جمع ہوئے۔  ](5  ایک دوسرے سے الگ ہونے سے پہلے یوآب نے ابی شے سے کہا، ”اگر شام کے فوجی مجھ پر غالب آنے لگیں تو میرے پاس آ کر میری مدد کرنا۔ لیکن اگر آپ عمونیوں پر قابو نہ پا سکیں تو مَیں آ کر آپ کی مدد کروں گا۔'+  باقی آدمیوں کو اُس نے اپنے بھائی ابی شے کے حوالے کر دیا تاکہ وہ عمونیوں سے لڑیں۔S&!  جب یوآب نے جان لیا کہ سامنے اور پیچھے دونوں طرف سے حملے کا خطرہ ہے تو اُس نے اپنی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ سب سے اچھے فوجیوں کے ساتھ وہ خود شام کے سپاہیوں سے لڑنے کے لئے تیار ہوا۔ R"Rh,K جب شام کے فوجیوں کو شکست کی بےعزتی کا احساس ہوا تو اُنہوں نے دریائے فرات کے پار مسوپتامیہ میں آباد اَرامیوں کے پاس قاصد بھیجے تاکہ وہ بھی لڑنے میں مدد کریں۔ ہدد عزر کا کمانڈر سوفک اُن پر مقرر ہوا۔>+w یہ دیکھ کر عمونی بھی اُس کے بھائی ابی شے سے فرار ہو کر شہر میں داخل ہوئے۔ تب یوآب یروشلم واپس چلا گیا۔*7 یوآب نے اپنی فوج کے ساتھ شام کے فوجیوں پر حملہ کیا تو وہ اُس کے سامنے سے بھاگنے لگے۔Z)/  حوصلہ رکھیں! ہم دلیری سے اپنی قوم اور اپنے خدا کے شہروں کے لئے لڑیں۔ اور رب وہ کچھ ہونے دے جو اُس کی نظر میں ٹھیک ہے۔“ 6n64/c جو اَرامی پہلے ہدد عزر کے تابع تھے اُنہوں نے اب ہار مان کر اسرائیلیوں سے صلح کرلی اور اُن کے تابع ہو گئے۔ اُس وقت سے اَرامیوں نے عمونیوں کی مدد کرنے کی پھر جرٲت نہ کی۔ .7 لیکن اُنہیں دوبارہ شکست مان کر فرار ہونا پڑا۔ اِس دفعہ اُن کے 7,000 رتھ بانوں کے علاوہ 40,000 پیادہ سپاہی ہلاک ہوئے۔ داؤد نے فوج کے کمانڈر سوفک کو بھی مار ڈالا۔l-S جب داؤد کو خبر ملی تو اُس نے اسرائیل کے تمام لڑنے کے قابل آدمیوں کو جمع کیا اور دریائے یردن کو پار کر کے اُن کے مقابل صف آرا ہوا۔ جب وہ یوں اُن سے لڑنے کے لئے تیار ہوا تو اَرامی اُس کا مقابلہ کرنے لگے۔ ?Z1/ داؤد نے حنون بادشاہ کا تاج اُس کے سر سے اُتار کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ سونے کے اِس تاج کا وزن 34 کلو گرام تھا، اور اُس میں ایک بیش قیمت جوہر جڑا ہوا تھا۔ داؤد نے شہر سے بہت سا لُوٹا ہوا مال لے کر=0 w بہار کا موسم آ گیا، وہ وقت جب بادشاہ جنگ کے لئے نکلتے ہیں۔ تب یوآب نے فوج لے کر عمونیوں کا ملک تباہ کر دیا۔ لڑتے لڑتے وہ ربّہ تک پہنچ گیا اور اُس کا محاصرہ کرنے لگا۔ لیکن داؤد خود یروشلم میں رہا۔ پھر یوآب نے ربّہ کو بھی شکست دے کر خاک میں ملا دیا۔ W?3y اِس کے بعد اسرائیلیوں کو جزر کے قریب فلستیوں سے لڑنا پڑا۔ وہاں سِبکی حوساتی نے رفا دیو کی اولاد میں سے ایک آدمی کو مار ڈالا جس کا نام سفی تھا۔ یوں فلستیوں کو تابع کر لیا گیا۔%2E اُس کے باشندوں کو غلام بنا لیا۔ اُنہیں پتھر کاٹنے کی آریاں، لوہے کی کدالیں اور کلہاڑیاں دی گئیں تاکہ وہ مزدوری کریں۔ یہی سلوک باقی عمونی شہروں کے باشندوں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ جنگ کے اختتام پر داؤد پوری فوج کے ساتھ یروشلم لوٹ آیا۔ ||75 جات کے یہ دیو رفا کی اولاد تھے، اور وہ داؤد اور اُس کے فوجیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ +6Q جب وہ اسرائیلیوں کا مذاق اُڑانے لگا تو داؤد کے بھائی سِمعا کے بیٹے یونتن نے اُسے مار ڈالا۔(5K ایک اَور دفعہ جات کے پاس لڑائی ہوئی۔ فلستیوں کا ایک فوجی جو رفا کی نسل کا تھا بہت لمبا تھا۔ اُس کے ہاتھوں اور پیروں کی چھ چھ اُنگلیاں یعنی مل کر 24 اُنگلیاں تھیں۔4 اُن سے ایک اَور لڑائی کے دوران اِلحنان بن یائیر نے جاتی جالوت کے بھائی لحمیکو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اُس کا نیزہ کھڈی کے شہتیر جیسا بڑا تھا۔ $L$: لیکن یوآب نے اعتراض کیا، ”اے بادشاہ میرے آقا، کاش رب اپنے فوجیوں کی تعداد سَو گُنا بڑھا دے۔ کیونکہ یہ تو سب آپ کے خادم ہیں۔ لیکن میرے آقا اُن کی مردم شماری کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ اسرائیل آپ کے سبب سے کیوں قصوروار ٹھہرے؟“9 داؤد نے یوآب اور قوم کے بزرگوں کو حکم دیا، ”دان سے لے کر بیرسبع تک اسرائیل کے تمام قبیلوں میں سے گزرتے ہوئے جنگ کرنے کے قابل مردوں کو گن لیں۔ پھر واپس آ کر مجھے اطلاع دیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ اُن کی کُل تعداد کیا ہے۔“08 ] ایک دن ابلیس اسرائیل کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا اور داؤد کو اسرائیل کی مردم شماری کرنے پر اُکسایا۔ ^^>{ اللہ کو داؤد کی یہ حرکت بُری لگی، اِس لئے اُس نے اسرائیل کو سزا دی۔^=7 حالانکہ یوآب نے لاوی اور بن یمین کے قبیلوں کو مردم شماری میں شامل نہیں کیا تھا، کیونکہ اُسے یہ کام کرنے سے گھن آتی تھی۔p<[ وہاں اُس نے داؤد کو مردم شماری کی پوری رپورٹ پیش کی۔ اسرائیل میں 11,00,000 تلوار چلانے کے قابل افراد تھے جبکہ یہوداہ کے 4,70,000 مرد تھے۔D; لیکن بادشاہ یوآب کے اعتراضات کے باوجود اپنی بات پر ڈٹا رہا۔ چنانچہ یوآب دربار سے روانہ ہوا اور پورے اسرائیل میں سے گزر کر اُس کی مردم شماری کی۔ اِس کے بعد وہ یروشلم واپس آ گیا۔ a%a4Bc  جاد داؤد کے پاس گیا اور اُسے رب کا پیغام سنا دیا۔ اُس نے سوال کیا، ”آپ کس سزا کو ترجیح دیتے ہیں؟-AU  ”داؤد کے پاس جا کر اُسے بتا دینا، ’رب تجھے تین سزائیں پیش کرتا ہے۔ اِن میں سے ایک چن لے‘۔“X@+  تب رب داؤد کے غیب بین جاد نبی سے ہم کلام ہوا،W?) تب داؤد نے اللہ سے دعا کی، ”مجھ سے سنگین گناہ سرزد ہوا ہے۔ اب اپنے خادم کا قصور معاف کر۔ مجھ سے بڑی حماقت ہوئی ہے۔“ g|Es تب رب نے اسرائیل میں وبا پھیلنے دی۔ ملک میں 70,000 افراد ہلاک ہوئے۔KD  داؤد نے جواب دیا، ”ہائے مَیں کیا کہوں؟ مَیں بہت پریشان ہوں۔ لیکن آدمیوں کے ہاتھوں میں پڑ جانے کی نسبت بہتر ہے کہ ہم رب ہی کے ہاتھوں میں پڑ جائیں، کیونکہ اُس کا رحم نہایت عظیم ہے۔“C%  سات سال کے دوران کال؟ یا یہ کہ آپ کے دشمن تین ماہ تک آپ کو تلوار سے مار مار کر آپ کا تعاقب کرتے رہیں؟ یا یہ کہ رب کی تلوار اسرائیل میں سے گزرے؟ اِس صورت میں رب کا فرشتہ ملک میں وبا پھیلا کر پورے اسرائیل کا ستیاناس کر دے گا۔“ llGy داؤد نے اپنی نگاہ اُٹھا کر رب کے فرشتے کو آسمان و زمین کے درمیان کھڑے دیکھا۔ اپنی تلوار میان سے کھینچ کر اُس نے اُسے یروشلم کی طرف بڑھایا تھا کہ داؤد بزرگوں سمیت منہ کے بل گر گیا۔ سب ٹاٹ کا لباس اوڑھے ہوئے تھے۔ F اللہ نے اپنے فرشتے کو یروشلم کو تباہ کرنے کے لئے بھی بھیجا۔ لیکن فرشتہ ابھی اِس کے لئے تیار ہو رہا تھا کہ رب نے لوگوں کی مصیبت کو دیکھ کر ترس کھایا اور تباہ کرنے والے فرشتے کو حکم دیا، ”بس کر! اب باز آ۔“ اُس وقت رب کا فرشتہ وہاں کھڑا تھا جہاں اُرنان یعنی ارَوناہ یبوسی اپنا اناج گاہتا تھا۔ -;J) چنانچہ داؤد چڑھ کر گاہنے کی جگہ کے پاس آیا جس طرح رب نے جاد کی معرفت فرمایا تھا۔nIW پھر رب کے فرشتے نے جاد کی معرفت داؤد کو پیغام بھیجا، ”ارَوناہ یبوسی کی گاہنے کی جگہ کے پاس جا کر اُس پر رب کی قربان گاہ بنا لے۔“OH داؤد نے اللہ سے التماس کی، ”مَیں ہی نے حکم دیا کہ لڑنے کے قابل مردوں کو گنا جائے۔ مَیں ہی نے گناہ کیا ہے، یہ میرا ہی قصور ہے۔ اِن بھیڑوں سے کیا غلطی ہوئی ہے؟ اے رب میرے خدا، براہِ کرم اِن کو چھوڑ کر مجھے اور میرے خاندان کو سزا دے۔ اپنی قوم سے وبا دُور کر!“ E  "-8CNYdoy)4?JU`kv%0;FQ\gr}  *   *  *  *  *  *  *  *  *  *   *  *  *  *  *  *  *  *   *  *  *  *  *  *  *  *   *   *   *   *   *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *   *  *  *  *  *  *  *  *   *   *   *   *   *  *  *  *  *  *  *   *  *  *  *  *  *  *  *   *   *   *  #.MW داؤد نے اُس سے کہا، ”مجھے اپنی گاہنے کی جگہ دے دیں تاکہ مَیں یہاں رب کے لئے قربان گاہ تعمیر کروں۔ کیونکہ یہ کرنے سے وبا رُک جائے گی۔ مجھے اِس کی پوری قیمت بتائیں۔“eLE اِتنے میں داؤد آ پہنچا۔ اُسے دیکھتے ہی ارَوناہ گاہنے کی جگہ کو چھوڑ کر اُس سے ملنے گیا اور اُس کے سامنے اوندھے منہ جھک گیا۔pK[ اُس وقت ارَوناہ اپنے چار بیٹوں کے ساتھ گندم گاہ رہا تھا۔ جب اُس نے پیچھے دیکھا تو فرشتہ نظر آیا۔ ارَوناہ کے بیٹے بھاگ کر چھپ گئے۔ aa}Ou لیکن داؤد بادشاہ نے انکار کیا، ”نہیں، مَیں ضرور ہر چیز کی پوری قیمت ادا کروں گا۔ جو آپ کی ہے اُسے مَیں لے کر رب کو پیش نہیں کروں گا، نہ مَیں ایسی کوئی بھسم ہونے والی قربانی چڑھاؤں گا جو مجھے مفت میں مل جائے۔“N/ ارَوناہ نے داؤد سے کہا، ”میرے آقا اور بادشاہ، اِسے لے کر وہ کچھ کریں جو آپ کو اچھا لگے۔ دیکھیں، مَیں آپ کو اپنے بَیلوں کو بھسم ہونے والی قربانیوں کے لئے دے دیتا ہوں۔ اناج کو گاہنے کا سامان قربان گاہ پر رکھ کر جلا دیں۔ میرا اناج غلہ کی نذر کے لئے حاضر ہے۔ مَیں خوشی سے آپ کو یہ سب کچھ دے دیتا ہوں۔“ cAS} یوں داؤد نے جان لیا کہ رب نے ارَوناہ یبوسی کی گہنے کی جگہ پر میری سنی جب مَیں نے یہاں قربانیاں چڑھائیں۔R7 پھر رب نے موت کے فرشتے کو حکم دیا، اور اُس نے اپنی تلوار کو دوبارہ میان میں ڈال دیا۔zQo اُس نے وہاں رب کی تعظیم میں قربان گاہ تعمیر کر کے اُس پر بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں چڑھائیں۔ جب اُس نے رب سے التماس کی تو رب نے اُس کی سنی اور جواب میں آسمان سے بھسم ہونے والی قربانی پر آگ بھیج دی۔zPo چنانچہ داؤد نے ارَوناہ کو اُس جگہ کے لئے سونے کے 600 سکے دے دیئے۔ /V [ اِس لئے داؤد نے فیصلہ کیا، ”رب ہمارے خدا کا گھر گاہنے کی اِس جگہ پر ہو گا، اور یہاں وہ قربان گاہ بھی ہو گی جس پر اسرائیل کے لئے بھسم ہونے والی قربانی جلائی جاتی ہے۔“DU لیکن اب داؤد میں وہاں جا کر رب کے حضور اُس کی مرضی دریافت کرنے کی جرٲت نہ رہی، کیونکہ رب کے فرشتے کی تلوار کو دیکھ کر اُس پر اِتنی شدید دہشت طاری ہوئی کہ وہ جا ہی نہیں سکتا تھا۔ vTg اُس وقت رب کا وہ مُقدّس خیمہ جو موسیٰ نے ریگستان میں بنوایا تھا جِبعون کی پہاڑی پر تھا۔ قربانیوں کو جلانے کی قربان گاہ بھی وہیں تھی۔ , , w تمام ذمہ داریاں قرعہ ڈال کر اِن مختلف گروہوں میں تقسیم کی گئیں، کیونکہ اِلی عزر اور اِتمر دونوں خاندانوں کے بہت سارے ایسے افسر تھے جو پہلے سے مقدِس میں رب کی خدمت کرتے تھے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;EP[fq|   *  *  *  *  *  *  *  *  *   *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  *  +  +  +  +  +  +  +  +   +   +  +  +  +  +  +  +  +   +   +   +   +   +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  +!  +"  +#  +$  +%  +&  +'   +(  +)  +*  ++  +,  +-  +.  +/   +0   +1   +2   +3   +4  +5  +6  +7  +8  +9 xK]3*O اماموں کو اِسی ترتیب کے مطابق رب کے گھر میں آ کر اپنی خدمت سرانجام دینی تھی، اُن ہدایات کے مطابق جو رب اسرائیل کے خدا نے اُنہیں اُن کے باپ ہارون کی معرفت دی تھیں۔/[ 23۔ دلایاہ، 24۔ معزیاہ۔'K 21۔ یکین، 22۔ جمول،/[ 19۔ فتحیاہ، 20۔ یحزقیل،)O 17۔ حزیر، 18۔ فِضیض،-W 15۔ بِلجہ، 16۔ اِمّیر،-W  13۔ خُفّاہ، 14۔ یسباب،-W  11۔ اِلیاسب، 12۔ یقیم،*Q  9۔ یشوع، 10۔ سکنیاہ،'K  7۔ ہقوض، 8۔ ابیاہ،-W  5۔ ملکیاہ، 6۔ میامین،+S 3۔ حارِم، 4۔ سعوریم، k9m\k"{ مراری کی اولاد میں سے محلی اور مُوشی، اُس کے بیٹے یعزیاہ کی اولاد،j!O میکاہ کا بھائی یِسیاہ، یِسیاہ کی اولاد میں سے زکریاہ،s a عُزی ایل کی اولاد میں سے میکاہ، میکاہ کی اولاد میں سے سمیر،) حبرون کی اولاد میں سے بڑے سے لے کر چھوٹے تک یریاہ، امریاہ، یحزی ایل اور یقمعام،r_ اِضہار کی اولاد میں سے سلومیت، سلومیت کی اولاد میں سے یحت،T# رحبیاہ کی اولاد میں سے یِسیاہ سرپرست تھا،C ذیل کے لاویوں کے مزید خاندانی سرپرست ہیں: عمرام کی اولاد میں سے سوبائیل، سوبائیل کی اولاد میں سے یحدیاہ f#f9&m مُوشی کی اولاد میں سے محلی، عِدر اور یریموت بھی لاویوں کے اِن مزید خاندانی سرپرستوں میں شامل تھے۔0%[ محلی کی اولاد میں سے اِلی عزر اور قیس۔ اِلی عزر بےاولاد تھا جبکہ قیس کے ہاں یرحمئیل پیدا ہوا۔0$[ محلی کی اولاد میں سے اِلی عزر اور قیس۔ اِلی عزر بےاولاد تھا جبکہ قیس کے ہاں یرحمئیل پیدا ہوا۔r#_ مراری کے بیٹے یعزیاہ کی اولاد میں سے سوہم، زکور اور عِبری،  Y( / داؤد نے فوج کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ آسف، ہیمان اور یدوتون کی اولاد کو ایک خاص خدمت کے لئے الگ کر دیا۔ اُنہیں نبوّت کی روح میں سرود، ستار اور جھانجھ بجانا تھا۔ ذیل کے آدمیوں کو مقرر کیا گیا:r'_ اماموں کی طرح اُن کی ذمہ داریاں بھی قرعہ اندازی سے مقرر کی گئیں۔ اِس سلسلے میں سب سے چھوٹے بھائی کے خاندان کے ساتھ اور سب سے بڑے بھائی کے خاندان کے ساتھ سلوک برابر تھا۔ اِس کارروائی کے لئے بھی داؤد بادشاہ، صدوق، اخی مَلِک اور اماموں اور لاویوں کے خاندانی سرپرست حاضر تھے۔ [[*+O ہیمان کے خاندان سے ہیمان کے بیٹے بُقیاہ، متنیاہ، عُزی ایل، سبوایل، یریموت، حننیاہ، حنانی، اِلیاتہ، جِدّالتی، روممتی عزر، یسبقاشہ، ملّوتی، ہوتیر اور محازیوت۔M* یدوتون کے خاندان سے یدوتون کے بیٹے جدلیاہ، ضری، یسعیاہ، سِمعی، حسبیاہ، اور متِتیاہ۔ اُن کا باپ گروہ کا راہنما تھا، اور وہ نبوّت کی روح میں رب کی حمد و ثنا کرتے ہوئے ستار بجاتا تھا۔")? آسف کے خاندان سے آسف کے بیٹے زکور، یوسف، نتنیاہ اور اسرے لاہ۔ اُن کا باپ گروہ کا راہنما تھا، اور وہ بادشاہ کی ہدایات کے مطابق نبوّت کی روح میں ساز بجاتا تھا۔ u&u-.U اپنے بھائیوں سمیت جو رب کی تعظیم میں گیت گاتے تھے اُن کی کُل تعداد 288 تھی۔ سب کے سب ماہر تھے۔(-K یہ سب اپنے اپنے باپ یعنی آسف، یدوتون اور ہیمان کی راہنمائی میں ساز بجاتے تھے۔ جب کبھی رب کے گھر میں گیت گائے جاتے تھے تو یہ موسیقار ساتھ ساتھ جھانجھ، ستار اور سرود بجاتے تھے۔ وہ اپنی خدمت بادشاہ کی ہدایات کے مطابق سرانجام دیتے تھے۔*,O اِن سب کا باپ ہیمان داؤد بادشاہ کا غیب بین تھا۔ اللہ نے ہیمان سے وعدہ کیا تھا کہ مَیں تیری طاقت بڑھا دوں گا، اِس لئے اُس نے اُسے 14 بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کی تھیں۔  / اُن کی مختلف ذمہ داریاں بھی قرعہ کے ذریعے مقرر کی گئیں۔ اِس میں سب کے ساتھ سلوک ایک جیسا تھا، خواہ جوان تھے یا بوڑھے، خواہ اُستاد تھے یا شاگرد۔ '0I  قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '1I  قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '2I  قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '3I  قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '4I  قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '5I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '6I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '7I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '8I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '9I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ ':I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ ';I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '<I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '=I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '>I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '?I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ '@I قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ 'AI قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ 'BI قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ 'CI قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ 'DI قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ 'EI قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ 'FI قرعہ ڈال کر 24 گروہوں کو مقرر کیا گیا۔ ہر گروہ کے بارہ بارہ آدمی تھے۔ یوں ذیل کے آدمیوں کے گروہوں نے تشکیل پائی: 1۔ آسف کے خاندان کا یوسف، 2۔ جدلیاہ، 3۔ زکور، 4۔ ضری، 5۔ نتنیاہ، 6۔ بُقیاہ، 7۔ یسرے لاہ، 8۔ یسعیاہ، 9۔ متنیاہ 10۔ سِمعی، 11۔ عزرایل، 12۔ حسبیاہ، 13۔ سوبائیل، 14۔ متِتیاہ، 15۔ یریموت، 16۔ حننیاہ، 17۔ یسبقاشہ، 18۔ حنانی، 19۔ ملّوتی، 20۔ اِلیاتہ، 21۔ ہوتیر، 22۔ جِدّالتی، 23۔ محازیوت، 24۔ روممتی عزر۔ ہر گروہ میں راہنما کے بیٹے اور کچھ رشتے دار شامل تھے۔ of wflrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| ^ a c f i o s y        ^ a c f i o s y          " & ( + . / 0 1 2 3 4 5 !6 "7 #8 $9 %: &; '< (= )> *? +@ ,A -B .C /D 0E 1F 3J 4M 5Q 6T 8X 9] :a ;c n ?w @| A~ B C D E F G H I J K M N O" P% Q( R, S. T1 U3 V7 W; X? YC ZF [I \M ]O ^Q _S `V aY b[ c^ db fe gh hi ij jk kn lr mt nw o| p q r s t u v 5>Jw عوبید ادوم بھی دربان تھا۔ اللہ نے اُسے برکت دے کر آٹھ بیٹے دیئے تھے۔ بڑے سے لے کر چھوٹے تک اُن کے نام سمعیاہ، یہوزبد، یوآخ، سکار، نتنی ایل، عمی ایل، اِشکار اور فعولّتی تھے۔HI عیلام، یوحنان اور اِلیہو عینی تھے۔H# مسلمیاہ کے سات بیٹے بڑے سے لے کر چھوٹے تک زکریاہ، یدیع ایل، زبدیاہ، یتنی ایل،/G [ رب کے گھر کے صحن کے دروازوں پر پہرہ داری کرنے کے گروہ بھی مقرر کئے گئے۔ اُن میں ذیل کے آدمی شامل تھے: قورح کے خاندان کا فرد مسلمیاہ بن قورے جو آسف کی اولاد میں سے تھا۔   M اُن کے نام عُتنی، رفائیل، عوبید اور اِلزبد تھے۔ سمعیاہ کے رشتے دار اِلیہو اور سمکیاہ بھی گروہ میں شامل تھے، کیونکہ وہ بھی خاص حیثیت رکھتے تھے۔#LA سمعیاہ بن عوبید ادوم کے بیٹے خاندانی سربراہ تھے، کیونکہ وہ کافی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔>Kw عوبید ادوم بھی دربان تھا۔ اللہ نے اُسے برکت دے کر آٹھ بیٹے دیئے تھے۔ بڑے سے لے کر چھوٹے تک اُن کے نام سمعیاہ، یہوزبد، یوآخ، سکار، نتنی ایل، عمی ایل، اِشکار اور فعولّتی تھے۔ g>Qw  دوسرے بیٹے بڑے سے لے کر چھوٹے تک خِلقیاہ، طبلیاہ اور زکریاہ تھے۔ حوسہ کے کُل 13 بیٹے اور رشتے دار تھے۔$PC  مراری کے خاندان کا فرد حوسہ کے چار بیٹے سِمری، خِلقیاہ، طبلیاہ اور زکریاہ تھے۔ حوسہ نے سِمری کو خدمت کے گروہ کا سربراہ بنا دیا تھا اگرچہ وہ پہلوٹھا نہیں تھا۔oOY  مسلمیاہ کے بیٹے اور رشتے دار کُل 18 آدمی تھے۔ سب لائق تھے۔{Nq عوبید ادوم سے نکلے یہ تمام آدمی لائق تھے۔ وہ اپنے بیٹوں اور رشتے داروں سمیت کُل 62 افراد تھے اور سب مہارت سے اپنی خدمت سرانجام دیتے تھے۔ wwT یوں جب قرعہ ڈالا گیا تو مسلمیاہ کے خاندان کا نام مشرقی دروازے کی پہرہ داری کرنے کے لئے نکلا۔ زکریاہ بن مسلمیاہ کے خاندان کا نام شمالی دروازے کی پہرہ داری کرنے کے لئے نکلا۔ زکریاہ اپنے دانا مشوروں کے لئے مشہور تھا۔~Sw  قرعہ اندازی سے مقرر کیا گیا کہ کون سا گروہ صحن کے کس دروازے کی پہرہ داری کرے۔ اِس سلسلے میں بڑے اور چھوٹے خاندانوں میں امتیاز نہ کیا گیا۔wRi  دربانوں کے اِن گروہوں میں خاندانی سرپرست اور تمام آدمی شامل تھے۔ باقی لاویوں کی طرح یہ بھی رب کے گھر میں اپنی خدمت سرانجام دیتے تھے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq|  +;  +<  +=  +>  +?  +@  +A  +B  +C  +;  +<  +=  +>  +?  +@  +A  +B  +C  +D  +E  +F   +G  +H  +I  +J  +K  +L  +M  +N   +O   +P   +Q   +R   +S  +T  +U  +V  +W  +X  +Y  +Z  +[  +\  +]  +^  +_  +`  +a  +b  +c  +d  +e   +f   +g  +h  +i  +j  +k  +l  +m  +n   +o   +p   +q   +r   +s  +t  +u  +v  +w  +x  +y  +z  +{  +|  +}  +~  + tt#XA رب کے گھر کے صحن کے مغربی دروازے پر چھ لاوی پہرہ دیتے تھے، چار راستے پر اور دو صحن میں۔CW روزانہ مشرقی دروازے پر چھ لاوی پہرہ دیتے تھے، شمالی اور جنوبی دروازوں پر چار چار افراد اور گودام پر دو۔V1 جب مغربی دروازے اور سلکت دروازے کے لئے قرعہ ڈالا گیا تو سُفّیم اور حوسہ کے نام نکلے۔ سلکت دروازہ چڑھنے والے راستے پر ہے۔ پہرہ داری کی خدمت یوں بانٹی گئی:{Uq جب قرعہ جنوبی دروازے کی پہرہ داری کے لئے ڈالا گیا تو عوبید ادوم کا نام نکلا۔ اُس کے بیٹوں کو گودام کی پہرہ داری کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ CuC] عمرام، اِضہار، حبرون اور عُزی ایل کے خاندانوں کی یہ ذمہ داریاں تھیں:\{ دو بھائی زیتام اور یوایل رب کے گھر کے خزانوں کی پہرہ داری کرتے تھے۔ وہ یحی ایل کے خاندان کے سرپرست تھے اور یوں لعدان جیرسونی کی اولاد تھے۔[{ دو بھائی زیتام اور یوایل رب کے گھر کے خزانوں کی پہرہ داری کرتے تھے۔ وہ یحی ایل کے خاندان کے سرپرست تھے اور یوں لعدان جیرسونی کی اولاد تھے۔Z7 دوسرے کچھ لاوی اللہ کے گھر کے خزانوں اور رب کے لئے مخصوص کی گئی چیزیں سنبھالتے تھے۔Y یہ سب دربانوں کے گروہ تھے۔ سب قورح اور مراری کے خاندانوں کی اولاد تھے۔ |3|3aa یہ چیزیں جنگوں میں لُوٹے ہوئے مال میں سے لے کر رب کے گھر کو مضبوط کرنے کے لئے مخصوص کی گئی تھیں۔``; سلومیت اپنے بھائیوں کے ساتھ اُن مُقدّس چیزوں کو سنبھالتا تھا جو داؤد بادشاہ، خاندانی سرپرستوں، ہزار ہزار اور سَو سَو فوجیوں پر مقرر افسروں اور دوسرے اعلیٰ افسروں نے رب کے لئے مخصوص کی تھیں۔_ جیرسوم کے بھائی اِلی عزر کا بیٹا رحبیاہ تھا۔ رحبیاہ کا بیٹا یسعیاہ، یسعیاہ کا بیٹا یورام، یورام کا بیٹا زِکری اور زِکری کا بیٹا سلومیت تھا۔]^5 سبوایل بن جیرسوم بن موسیٰ خزانوں کا نگران تھا۔ *cO اِضہار کے خاندان کے افراد یعنی کننیاہ اور اُس کے بیٹوں کو رب کے گھر سے باہر کی ذمہ داریاں دی گئیں۔ اُنہیں نگرانوں اور قاضیوں کی حیثیت سے اسرائیل پر مقرر کیا گیا۔Kb اِن میں وہ سامان بھی شامل تھا جو سموایل غیب بین، ساؤل بن قیس، ابنیر بن نیر اور یوآب بن ضرویاہ نے مقدِس کے لئے مخصوص کیا تھا۔ سلومیت اور اُس کے بھائی اِن تمام چیزوں کو سنبھالتے تھے۔ Me داؤد بادشاہ کی حکومت کے 40ویں سال میں نسب ناموں کی تحقیق کی گئی تاکہ حبرون کے خاندان کے بارے میں معلومات حاصل ہو جائیں۔ پتا چلا کہ اُس کے کئی لائق رُکن جِلعاد کے علاقے کے شہر یعزیر میں آباد ہیں۔ یریاہ اُن کا سرپرست تھا۔/dY حبرون کے خاندان کے افراد یعنی حسبیاہ اور اُس کے بھائیوں کو دریائے یردن کے مغرب کے علاقے کو سنبھالنے کی ذمہ داری دی گئی۔ وہاں وہ رب کے گھر سے متعلق کاموں کے علاوہ بادشاہ کی خدمت بھی سرانجام دیتے تھے۔ اِن لائق آدمیوں کی کُل تعداد 1,700 تھی۔ FF-g W درجِ ذیل اُن خاندانی سرپرستوں، ہزار ہزار اور سَو سَو فوجیوں پر مقرر افسروں اور سرکاری افسروں کی فہرست ہے جو بادشاہ کے ملازم تھے۔ فوج 12 گروہوں پر مشتمل تھی، اور ہر گروہ کے 24,000 افراد تھے۔ ہر گروہ کی ڈیوٹی سال میں ایک ماہ کے لئے لگتی تھی۔f  داؤد بادشاہ نے اُسے روبن، جد اور منسّی کے مشرقی علاقے کو سنبھالنے کی ذمہ داری دی۔ یریاہ کی اِس خدمت میں اُس کے خاندان کے مزید 2,700 افراد بھی شامل تھے۔ سب لائق اور اپنے اپنے خاندانوں کے سرپرست تھے۔ اُس علاقے میں وہ رب کے گھر سے متعلق کاموں کے علاوہ بادشاہ کی خدمت بھی سرانجام دیتے تھے۔ tD Y:nq پانچواں ماہ: سمہوت اِزراخی۔/mY چوتھا ماہ: یوآب کا بھائی عساہیل۔ اُس کی موت کے بعد عساہیل کا بیٹا زبدیاہ اُس کی جگہ مقرر ہوا۔clA یہ داؤد کے بہترین دستے بنام ’تیس‘ پر مقرر تھا اور خود زبردست فوجی تھا۔ اُس کے گروہ کا اعلیٰ افسر اُس کا بیٹا عمی زبد تھا۔Nk تیسرا ماہ: یہویدع امام کا بیٹا بنایاہ۔j} دوسرا ماہ: دودی احوخی۔ اُس کے گروہ کے اعلیٰ افسر کا نام مِقلوت تھا۔'iI وہ فارص کے خاندان کا تھا اور اُس گروہ پر مقرر تھا جس کی ڈیوٹی پہلے مہینے کے لئے لگتی تھی۔h جو افسر اِن گروہوں پر مقرر تھے وہ یہ تھے: پہلا ماہ: یسوبعام بن زبدی ایل۔ 9rb9w لاوی کا قبیلہ: حسبیاہ بن قموایل۔ ہارون کے خاندان کا سرپرست صدوق تھا۔Jv ذیل کے آدمی اسرائیلی قبیلوں کے سرپرست تھے: روبن کا قبیلہ: اِلی عزر بن زِکری۔ شمعون کا قبیلہ: سفطیاہ بن معکہ۔duC بارھواں ماہ: غُتنی ایل کے خاندان کا خِلدی نطوفاتی۔itM گیارھواں ماہ: اِفرائیم کے قبیلے کا بنایاہ فِرعاتونی۔Ws)  دسواں ماہ: زارح کے خاندان کا مَہری نطوفاتی۔Yr-  نواں ماہ: بن یمین کے قبیلے کا ابی عزر عنتوتی۔Wq)  آٹھواں ماہ: زارح کے خاندان کا سِبکی حوساتی۔Hp  ساتواں ماہ: خِلِص فلونی اِفرائیمی۔@o}  چھٹا ماہ: عیرا بن عِقّیس تقوعی۔ oK| دان کا قبیلہ: عزرایل بن یروحام۔ یہ بارہ لوگ اسرائیلی قبیلوں کے سربراہ تھے۔/{Y مشرقی منسّی کا قبیلہ جو جِلعاد میں تھا: یِدّو بن زکریاہ۔ بن یمین کا قبیلہ: یعسی ایل بن ابنیر۔ z افرائیم کا قبیلہ: ہوسیع بن عززیاہ۔ مغربی منسّی کا قبیلہ: یوایل بن فدایاہ۔y زبولون کا قبیلہ: اِسماعیاہ بن عبدیاہ۔ نفتالی کا قبیلہ: یریموت بن عزری ایل۔ x یہوداہ کا قبیلہ: داؤد کا بھائی اِلیہو۔ اِشکار کا قبیلہ: عُمری بن میکائیل۔ /~Y نیز، یوآب بن ضرویاہ نے مردم شماری کو شروع تو کیا لیکن اُسے اختتام تک نہیں پہنچایا تھا، کیونکہ اللہ کا غضب مردم شماری کے باعث اسرائیل پر نازل ہوا تھا۔ نتیجے میں داؤد بادشاہ کی تاریخی کتاب میں اسرائیلیوں کی کُل تعداد کبھی نہیں درج ہوئی۔E} جتنے اسرائیلی مردوں کی عمر 20 سال یا اِس سے کم تھی اُنہیں داؤد نے شمار نہیں کیا، کیونکہ رب نے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ مَیں اسرائیلیوں کو آسمان پر کے ستاروں جیسا بےشمار بنا دوں گا۔ k  بعل حنان جدری زیتون اور انجیرتوت کے اُن باغوں پر مقرر تھا جو مغرب کے نشیبی پہاڑی علاقے میں تھے۔ یوآس زیتون کے تیل کے گوداموں کی نگرانی کرتا تھا۔@{ سِمعی راماتی انگور کے باغوں کی نگرانی کرتا جبکہ زبدی شِفمی اِن باغوں کی مَے کے گوداموں کا انچارج تھا۔wi عزری بن کلوب شاہی زمینوں کی کاشت کاری کرنے والوں پر مقرر تھا۔) عزماوت بن عدی ایل یروشلم کے شاہی گوداموں کا انچارج تھا۔ جو گودام دیہی علاقے، باقی شہروں، گاؤں اور قلعوں میں تھے اُن کو یونتن بن عُزیّاہ سنبھالتا تھا۔  +jO !اخی تُفل داؤد کا مشیر جبکہ حوسی ارکی داؤد کا دوست تھا۔\3  داؤد کا سمجھ دار اور عالم چچا یونتن بادشاہ کا مشیر تھا۔ یحی ایل بن حکمونی بادشاہ کے بیٹوں کی تربیت کے لئے ذمہ دار تھا۔xk اور یازیز ہاجری بھیڑبکریوں پر۔ یہ سب شاہی ملکیت کے نگران تھے۔tc اوبل اسمٰعیلی اونٹوں پر مقرر تھا، یحدیاہ مرونوتی گدھیوں پرy شارون کے میدان میں چرنے والے گائےبَیل سطری شارونی کے زیرِ نگرانی تھے جبکہ سافط بن عدلی وادیوں میں چرنے والے گائےبَیلوں کو سنبھالتا تھا۔ HFHz  q داؤد نے اسرائیل کے تمام بزرگوں کو یروشلم بُلایا۔ اِن میں قبیلوں کے سرپرست، فوجی ڈویژنوں پر مقرر افسر، ہزار ہزار اور سَو سَو فوجیوں پر مقرر افسر، شاہی ملکیت اور ریوڑوں کے انچارج، بادشاہ کے بیٹوں کی تربیت کرنے والے افسر، درباری، ملک کے سورما اور باقی تمام صاحبِ حیثیت شامل تھے۔6g "اخی تُفل کے بعد یہویدع بن بنایاہ اور ابیاتر بادشاہ کے مشیر بن گئے۔ یوآب شاہی فوج کا کمانڈر تھا۔  p [ لیکن پھر اللہ مجھ سے ہم کلام ہوا، ’میرے نام کے لئے مکان بنانا تیرا کام نہیں ہے، کیونکہ تُو نے جنگجو ہوتے ہوئے بہت خون بہایا ہے۔‘q ] داؤد بادشاہ اُن کے سامنے کھڑے ہو کر اُن سے مخاطب ہوا، ”میرے بھائیو اور میری قوم، میری بات پر دھیان دیں! کافی دیر سے مَیں ایک ایسا مکان تعمیر کرنا چاہتا تھا جس میں رب کے عہد کا صندوق مستقل طور پر رکھا جا سکے۔ آخر یہ تو ہمارے خدا کی چوکی ہے۔ اِس مقصد سے مَیں تیاریاں کرنے لگا۔ [ 1 رب نے مجھے بہت بیٹے عطا کئے ہیں۔ اُن میں سے اُس نے مقرر کیا کہ سلیمان میرے بعد تخت پر بیٹھ کر رب کی اُمّت پر حکومت کرے۔  رب اسرائیل کے خدا نے میرے پورے خاندان میں سے مجھے چن کر ہمیشہ کے لئے اسرائیل کا بادشاہ بنا دیا، کیونکہ اُس کی مرضی تھی کہ یہوداہ کا قبیلہ حکومت کرے۔ یہوداہ کے خاندانوں میں سے اُس نے میرے باپ کے خاندان کو چن لیا، اور اِسی خاندان میں سے اُس نے مجھے پسند کر کے پورے اسرائیل کا بادشاہ بنا دیا۔ xx اب میری ہدایت پر دھیان دیں، پورا اسرائیل یعنی رب کی جماعت اور ہمارا خدا اِس کے گواہ ہیں۔ رب اپنے خدا کے تمام احکام کے تابع رہیں! پھر آئندہ بھی یہ اچھا ملک آپ کی ملکیت اور ہمیشہ تک آپ کی اولاد کی موروثی زمین رہے گا۔N اگر وہ آج کی طرح آئندہ بھی میرے احکام اور ہدایات پر عمل کرتا رہے تو مَیں اُس کی بادشاہی ابد تک قائم رکھوں گا۔‘)M رب نے مجھے بتایا، ’تیرا بیٹا سلیمان ہی میرا گھر اور اُس کے صحن تعمیر کرے گا۔ کیونکہ مَیں نے اُسے چن کر فرمایا ہے کہ وہ میرا بیٹا ہو گا اور مَیں اُس کا باپ ہوں گا۔ %%P  یاد رہے، رب نے آپ کو اِس لئے چن لیا ہے کہ آپ اُس کے لئے مُقدّس گھر تعمیر کریں۔ مضبوط رہ کر اِس کام میں لگے رہیں!“  اے سلیمان میرے بیٹے، اپنے باپ کے خدا کو تسلیم کر کے پورے دل و جان اور خوشی سے اُس کی خدمت کریں۔ کیونکہ رب تمام دلوں کی تحقیق کر لیتا ہے، اور وہ ہمارے خیالوں کے تمام منصوبوں سے واقف ہے۔ اُس کے طالب رہیں تو آپ اُسے پا لیں گے۔ لیکن اگر آپ اُسے ترک کریں تو وہ آپ کو ہمیشہ کے لئے رد کر دے گا۔ 7^7#A  رب کے گھر کے صحن، اُس کے ارد گرد کے کمرے اور وہ کمرے جن میں رب کے لئے مخصوص کئے گئے سامان کو محفوظ رکھنا تھا۔ داؤد نے روح کی ہدایت سے یہ پورا نقشہ تیار کیا تھا۔7  پھر داؤد نے اپنے بیٹے سلیمان کو رب کے گھر کا نقشہ دے دیا جس میں تمام تفصیلات درج تھیں یعنی اُس کے برآمدے، خزانوں کے کمرے، بالاخانے، اندرونی کمرے، وہ مُقدّس ترین کمرا جس میں عہد کے صندوق کو اُس کے کفارے کے ڈھکنے سمیت رکھنا تھا، f  سونے کی وہ میزیں جن پر رب کے لئے مخصوص روٹیاں رکھنی تھیں، چاندی کی میزیں،dC سونے اور چاندی کے چراغ دان اور اُن کے چراغ (مختلف چراغ دانوں کے وزن فرق تھے، کیونکہ ہر ایک کا وزن اُس کے مقصد پر منحصر تھا)،O اُس نے مقرر کیا کہ مختلف چیزوں کے لئے کتنا سونا اور کتنی چاندی استعمال کرنی ہے۔ اِن میں ذیل کی چیزیں شامل تھیں:'  اُس نے رب کے گھر کی خدمت کے لئے درکار اماموں اور لاویوں کے گروہوں کو بھی مقرر کیا، اور ساتھ ساتھ رب کے گھر میں باقی تمام ذمہ داریاں بھی۔ اِس کے علاوہ اُس نے رب کے گھر کی خدمت کے لئے درکار تمام سامان کی فہرست بھی تیار کی تھی۔ C{ CE داؤد نے کہا، ”مَیں نے یہ تمام تفصیلات ویسے ہی قلم بند کر دی ہیں جیسے رب نے مجھے حکمت اور سمجھ عطا کی ہے۔“kQ اور بخور جلانے کی قربان گاہ پر منڈھا ہوا خالص سونا۔ داؤد نے رب کے رتھ کا نقشہ بھی سلیمان کے حوالے کر دیا، یعنی اُن کروبی فرشتوں کا نقشہ جو اپنے پَروں کو پھیلا کر رب کے عہد کے صندوق کو ڈھانپ دیتے ہیں۔} خالص سونے کے کانٹے، چھڑکاؤ کے کٹورے اور صراحی، سونے چاندی کے پیالے F  "-8CNYdny)4?JT_ju%0;FQ\gr}  +  +  +  +  +  +   +  !+  "+   +  +  +  +  +   +  !+  "+   +  +  +  +  +  +  +  +   +   +   +   +   +  +  +  +  +  +  +  +  +   +  +  +  +  +  +  +  +   +   +   +   +   +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  +  + +  +  +  +  +  +  +  +   +   +   + ^7 خدمت کے لئے مقرر اماموں اور لاویوں کے گروہ بھی آپ کا سہارا بن کر رب کے گھر میں اپنی خدمت سرانجام دیں گے۔ تعمیر کے لئے جتنے بھی ماہر کاری گروں کی ضرورت ہے وہ خدمت کے لئے تیار کھڑے ہیں۔ بزرگوں سے لے کر عام لوگوں تک سب آپ کی ہر ہدایت کی تعمیل کرنے کے لئے مستعد ہیں۔“ xk پھر وہ اپنے بیٹے سلیمان سے مخاطب ہوا، ”مضبوط اور دلیر ہوں! ڈریں مت اور ہمت مت ہارنا، کیونکہ رب خدا میرا خدا آپ کے ساتھ ہے۔ نہ وہ آپ کو چھوڑے گا، نہ ترک کرے گا بلکہ رب کے گھر کی تکمیل تک آپ کی مدد کرتا رہے گا۔ ;lS مَیں پوری جاں فشانی سے اپنے خدا کے گھر کی تعمیر کے لئے سامان جمع کر چکا ہوں۔ اِس میں سونا چاندی، پیتل، لوہا، لکڑی، عقیقِ احمر، مختلف جڑے ہوئے جواہر اور پچی کاری کے مختلف پتھر بڑی مقدار میں شامل ہیں۔A  پھر داؤد دوبارہ پوری جماعت سے مخاطب ہوا، ”اللہ نے میرے بیٹے سلیمان کو چن کر مقرر کیا ہے کہ وہ اگلا بادشاہ بنے۔ لیکن وہ ابھی جوان اور ناتجربہ کار ہے، اور یہ تعمیری کام بہت وسیع ہے۔ اُسے تو یہ محل انسان کے لئے نہیں بنانا ہے بلکہ رب ہمارے خدا کے لئے۔ $" کچھ کاری گروں کے باقی کاموں کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ اب مَیں آپ سے پوچھتا ہوں، آج کون میری طرح خوشی سے رب کے کام کے لئے کچھ دینے کو تیار ہے؟“]!5 یعنی تقریباً 1,00,000 کلو گرام خالص سونا اور 235 کلو گرام خالص چاندی۔ مَیں چاہتا ہوں کہ یہ کمروں کی دیواروں پر چڑھائی جائے۔w i اور چونکہ مجھ میں اپنے خدا کا گھر بنانے کے لئے بوجھ ہے اِس لئے مَیں نے اِن چیزوں کے علاوہ اپنے ذاتی خزانوں سے بھی سونا اور چاندی دی ہے u%e جس کے پاس جواہر تھے اُس نے اُنہیں یحی ایل جیرسونی کے حوالے کر دیا جو خزانچی تھا اور جس نے اُنہیں رب کے گھر کے خزانے میں محفوظ کر لیا۔$ اُس دن رب کے گھر کے لئے تقریباً 1,70,000 کلو گرام سونا، سونے کے 10,000 سکے، 3,40,000 کلو گرام چاندی، 6,10,000 کلو گرام پیتل اور 34,00,000 کلو گرام لوہا جمع ہوا۔5#e یہ سن کر وہاں حاضر خاندانی سرپرستوں، قبیلوں کے بزرگوں، ہزار ہزار اور سَو سَو فوجیوں پر مقرر افسروں اور بادشاہ کے اعلیٰ سرکاری افسروں نے خوشی سے کام کے لئے ہدیئے دیئے۔  7(i  اے رب، عظمت، قدرت، جلال اور شان و شوکت تیرے ہی ہیں، کیونکہ جو کچھ بھی آسمان اور زمین میں ہے وہ تیرا ہی ہے۔ اے رب، سلطنت تیرے ہاتھ میں ہے، اور تُو تمام چیزوں پر سرفراز ہے۔`';  اِس کے بعد داؤد نے پوری جماعت کے سامنے رب کی تمجید کر کے کہا، ”اے رب ہمارے باپ اسرائیل کے خدا، ازل سے ابد تک تیری حمد ہو۔x&k  پوری قوم اِس فراخ دلی کو دیکھ کر خوش ہوئی، کیونکہ سب نے دلی خوشی اور فیاضی سے اپنے ہدیئے رب کو پیش کئے۔ داؤد بادشاہ بھی نہایت خوش ہوا۔ ,h6,, اپنے باپ دادا کی طرح ہم بھی تیرے نزدیک پردیسی اور غیرشہری ہیں۔ دنیا میں ہماری زندگی سائے کی طرح عارضی ہے، اور موت سے بچنے کی کوئی اُمید نہیں۔.+W میری اور میری قوم کی کیا حیثیت ہے کہ ہم اِتنی فیاضی سے یہ چیزیں دے سکے؟ آخر ہماری تمام ملکیت تیری طرف سے ہے۔ جو کچھ بھی ہم نے تجھے دے دیا وہ ہمیں تیرے ہاتھ سے ملا ہے۔*  اے ہمارے خدا، یہ دیکھ کر ہم تیری ستائش اور تیرے جلالی نام کی تعریف کرتے ہیں۔)y  دولت اور عزت تجھ سے ملتی ہے، اور تُو سب پر حکمران ہے۔ تیرے ہاتھ میں طاقت اور قدرت ہے، اور ہر انسان کو تُو ہی طاقت ور اور مضبوط بنا سکتا ہے۔ A.} اے میرے خدا، مَیں جانتا ہوں کہ تُو انسان کا دل چانچ لیتا ہے، کہ دیانت داری تجھے پسند ہے۔ جو کچھ بھی مَیں نے دیا ہے وہ مَیں نے خوشی سے اور اچھی نیت سے دیا ہے۔ اب مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہے کہ یہاں حاضر تیری قوم نے بھی اِتنی فیاضی سے تجھے ہدیئے دیئے ہیں۔V-' اے رب ہمارے خدا، ہم نے یہ سارا تعمیری سامان اِس لئے اکٹھا کیا ہے کہ تیرے مُقدّس نام کے لئے گھر بنایا جائے۔ لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ پہلے سے تیرے ہاتھ سے حاصل ہوا ہے۔ یہ پہلے سے تیرا ہی ہے۔ 19 پھر داؤد نے پوری جماعت سے کہا، ”آئیں، رب اپنے خدا کی ستائش کریں!“ چنانچہ سب رب اپنے باپ دادا کے خدا کی تمجید کر کے رب اور بادشاہ کے سامنے منہ کے بل جھک گئے۔ 0; میرے بیٹے سلیمان کی بھی مدد کر تاکہ وہ پورے دل و جان سے تیرے احکام اور ہدایات پر عمل کرے اور اُس محل کو تکمیل تک پہنچا سکے جس کے لئے مَیں نے تیاریاں کی ہیں۔“-/U اے رب ہمارے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور اسرائیل کے خدا، گزارش ہے کہ تُو ہمیشہ تک اپنی قوم کے دلوں میں ایسی ہی تڑپ قائم رکھ۔ عطا کر کہ اُن کے دل تیرے ساتھ لپٹے رہیں۔ ^3 اُس دن اُنہوں نے رب کے حضور کھاتے پیتے ہوئے بڑی خوشی منائی۔ پھر اُنہوں نے دوبارہ اِس کی تصدیق کی کہ داؤد کا بیٹا سلیمان ہمارا بادشاہ ہے۔ تیل سے اُسے مسح کر کے اُنہوں نے اُسے رب کے حضور بادشاہ اور صدوق کو امام قرار دیا۔27 اگلے دن تمام اسرائیل کے لئے بھسم ہونے والی بہت سی قربانیاں اُن کی مَے کی نذروں سمیت رب کو پیش کی گئیں۔ اِس کے لئے 1,000 جوان بَیلوں، 1,000 مینڈھوں اور 1,000 بھیڑ کے بچوں کو چڑھایا گیا۔ ساتھ ساتھ ذبح کی بےشمار قربانیاں بھی پیش کی گئیں۔ *K!7= داؤد بن یسّی کُل 40 سال تک اسرائیل کا بادشاہ رہا، 7 سال حبرون میں اور 33 سال یروشلم میں۔06[ اسرائیل کے دیکھتے دیکھتے رب نے سلیمان کو بہت سرفراز کیا۔ اُس نے اُس کی سلطنت کو ایسی شان و شوکت سے نوازا جو ماضی میں اسرائیل کے کسی بھی بادشاہ کو حاصل نہیں ہوئی تھی۔'5I تمام اعلیٰ افسر، بڑے بڑے فوجی اور داؤد کے باقی بیٹوں نے بھی اپنی تابع داری کا اظہار کیا۔R4 یوں سلیمان اپنے باپ داؤد کی جگہ رب کے تخت پر بیٹھ گیا۔ اُسے کامیابی حاصل ہوئی، اور تمام اسرائیل اُس کے تابع رہا۔ [; اِن میں اُس کی حکومت اور اثر و رسوخ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، نیز وہ کچھ جو اُس کے ساتھ، اسرائیل کے ساتھ اور گرد و نواح کے ممالک کے ساتھ ہوا۔ : باقی جو کچھ داؤد کی حکومت کے دوران ہوا وہ تینوں کتابوں ’سموایل غیب بین کی تاریخ،‘ ’ناتن نبی کی تاریخ‘ اور ’جاد غیب بین کی تاریخ‘ میں درج ہے۔/9Y وہ بہت عمر رسیدہ اور عمر، دولت اور عزت سے آسودہ ہو کر انتقال کر گیا۔ پھر سلیمان تخت نشین ہوا۔!8= داؤد بن یسّی کُل 40 سال تک اسرائیل کا بادشاہ رہا، 7 سال حبرون میں اور 33 سال یروشلم میں۔ %E28%? عہد کا صندوق اُس میں نہیں تھا، کیونکہ داؤد نے اُسے قِریَت یعریم سے یروشلم لا کر ایک خیمے میں رکھ دیا تھا جو اُس نے وہاں اُس کے لئے تیار کر رکھا تھا۔v> iپھر سلیمان اُن کے ساتھ جِبعون کی اُس پہاڑی پر گیا جہاں اللہ کا ملاقات کا خیمہ تھا، وہی جو رب کے خادم موسیٰ نے ریگستان میں بنوایا تھا۔= ایک دن سلیمان نے تمام اسرائیل کو اپنے پاس بُلایا۔ اُن میں ہزار ہزار اور سَو سَو فوجیوں پر مقرر افسر، قاضی، تمام بزرگ اور کنبوں کے سرپرست شامل تھے۔7< mسلیمان بن داؤد کی حکومت مضبوط ہو گئی۔ رب اُس کا خدا اُس کے ساتھ تھا، اور وہ اُس کی طاقت بڑھاتا رہا۔ ^ 5^SC #سلیمان نے جواب دیا، ”تُو میرے باپ داؤد پر بڑی مہربانی کر چکا ہے، اور اب تُو نے اُس کی جگہ مجھے تخت پر بٹھا دیا ہے۔QB اُسی رات رب سلیمان پر ظاہر ہوا اور فرمایا، ”تیرا دل کیا چاہتا ہے؟ مجھے بتا دے تو مَیں تیری خواہش پوری کروں گا۔“$A Eوہاں رب کے حضور سلیمان نے پیتل کی اُس قربان گاہ پر بھسم ہونے والی 1,000 قربانیاں چڑھائیں۔J@ لیکن پیتل کی جو قربان گاہ بضلی ایل بن اُوری بن حور نے بنائی تھی وہ اب تک جِبعون میں رب کے خیمے کے سامنے تھی۔ اب سلیمان اور اسرائیل اُس کے سامنے جمع ہوئے تاکہ رب کی مرضی دریافت کریں۔ [[3F c اللہ نے سلیمان سے کہا، ”مَیں خوش ہوں کہ تُو دل سے یہی کچھ چاہتا ہے۔ تُو نے نہ مال و دولت، نہ عزت، نہ اپنے دشمنوں کی ہلاکت اور نہ عمر کی درازی بلکہ حکمت اور سمجھ مانگی ہے تاکہ میری اُس قوم کا انصاف کر سکے جس پر مَیں نے تجھے بادشاہ بنا دیا ہے۔[E 3 مجھے حکمت اور سمجھ عطا فرما تاکہ مَیں اِس قوم کی راہنمائی کر سکوں۔ کیونکہ کون تیری اِس عظیم قوم کا انصاف کر سکتا ہے؟“ D  تُو نے مجھے ایک ایسی قوم پر بادشاہ بنا دیا ہے جو زمین کی خاک کی طرح بےشمار ہے۔ چنانچہ اے رب خدا، وہ وعدہ پورا کر جو تُو نے میرے باپ داؤد سے کیا ہے۔ ZI 1سلیمان کے 1,400 رتھ اور 12,000 گھوڑے تھے۔ کچھ اُس نے رتھوں کے لئے مخصوص کئے گئے شہروں میں اور کچھ یروشلم میں اپنے پاس رکھے۔qH _ اِس کے بعد سلیمان جِبعون کی اُس پہاڑی سے اُترا جس پر ملاقات کا خیمہ تھا اور یروشلم واپس چلا گیا جہاں وہ اسرائیل پر حکومت کرتا تھا۔}G w اِس لئے مَیں تیری یہ درخواست پوری کر کے تجھے حکمت اور سمجھ عطا کروں گا۔ ساتھ ساتھ مَیں تجھے اُتنا مال و دولت اور اُتنی عزت دوں گا جتنی نہ ماضی میں کسی بادشاہ کو حاصل تھی، نہ مستقبل میں کبھی کسی کو حاصل ہو گی۔“ ""M {پھر سلیمان نے رب کے لئے گھر اور اپنے لئے شاہی محل بنانے کا حکم دیا۔nL Yبادشاہ کے رتھ مصر سے درآمد ہوتے تھے۔ ہر رتھ کی قیمت چاندی کے 600 سکے اور ہر گھوڑے کی قیمت چاندی کے 150 سکے تھی۔ سلیمان کے تاجر یہ گھوڑے برآمد کرتے ہوئے تمام حِتّی اور اَرامی بادشاہوں تک بھی پہنچاتے تھے۔ SK #بادشاہ اپنے گھوڑے مصر اور قوے یعنی کلِکیہ سے درآمد کرتا تھا۔ اُس کے تاجر اِن جگہوں پر جا کر اُنہیں خرید لاتے تھے۔J بادشاہ کی سرگرمیوں کے باعث چاندی پتھر جیسی عام ہو گئی اور دیودار کی قیمتی لکڑی مغرب کے نشیبی پہاڑی علاقے کی انجیرتوت کی سستی لکڑی جیسی عام ہو گئی۔ mm0O[اُس نے صور کے بادشاہ حیرام کو اطلاع دی، ”جس طرح آپ میرے باپ داؤد کو دیودار کی لکڑی بھیجتے رہے جب وہ اپنے لئے محل بنا رہے تھے اُسی طرح مجھے بھی دیودار کی لکڑی بھیجیں۔[N1اِس کے لئے اُس نے 1,50,000 آدمیوں کی بھرتی کی۔ 80,000 کو اُس نے پہاڑی کانوں میں لگایا تاکہ وہ پتھر نکالیں جبکہ 70,000 افراد کی ذمہ داری یہ پتھر یروشلم لانا تھی۔ اِن سب پر سلیمان نے 3,600 نگران مقرر کئے۔ Mfwعمارت کا سب سے اندرونی کمرا بنام مُقدّس ترین کمرا عمارت جیسا چوڑا یعنی 30 فٹ تھا۔ اُس کی لمبائی بھی 30 فٹ تھی۔ اِس کمرے کی تمام دیواروں پر 20,000 کلو گرام سے زائد سونا منڈھا گیا۔ %%Wi) جب دونوں فرشتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مُقدّس ترین کمرے میں کھڑا کیا گیا تو اُن کے چار پَروں کی مل کر لمبائی 30 فٹ تھی۔ ہر ایک کے دو پَر تھے، اور ہر پَر کی لمبائی ساڑھے سات سات فٹ تھی۔ اُنہیں مُقدّس ترین کمرے میں یوں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا کیا گیا کہ ہر فرشتے کا ایک پَر دوسرے کے پَر سے لگتا جبکہ دائیں اور بائیں طرف ہر ایک کا دوسرا پَر دیوار کے ساتھ لگتا تھا۔ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے بڑے ہال کی طرف دیکھتے تھے۔ %%Wj) جب دونوں فرشتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مُقدّس ترین کمرے میں کھڑا کیا گیا تو اُن کے چار پَروں کی مل کر لمبائی 30 فٹ تھی۔ ہر ایک کے دو پَر تھے، اور ہر پَر کی لمبائی ساڑھے سات سات فٹ تھی۔ اُنہیں مُقدّس ترین کمرے میں یوں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا کیا گیا کہ ہر فرشتے کا ایک پَر دوسرے کے پَر سے لگتا جبکہ دائیں اور بائیں طرف ہر ایک کا دوسرا پَر دیوار کے ساتھ لگتا تھا۔ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے بڑے ہال کی طرف دیکھتے تھے۔ %%Wk) جب دونوں فرشتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مُقدّس ترین کمرے میں کھڑا کیا گیا تو اُن کے چار پَروں کی مل کر لمبائی 30 فٹ تھی۔ ہر ایک کے دو پَر تھے، اور ہر پَر کی لمبائی ساڑھے سات سات فٹ تھی۔ اُنہیں مُقدّس ترین کمرے میں یوں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا کیا گیا کہ ہر فرشتے کا ایک پَر دوسرے کے پَر سے لگتا جبکہ دائیں اور بائیں طرف ہر ایک کا دوسرا پَر دیوار کے ساتھ لگتا تھا۔ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے بڑے ہال کی طرف دیکھتے تھے۔ nاِن بالائی حصوں کو زنجیروں سے سجایا گیا جن سے سَو انار لٹکے ہوئے تھے۔m/سلیمان نے دو ستون ڈھلوا کر رب کے گھر کے دروازے کے سامنے کھڑے کئے۔ ہر ایک 27 فٹ لمبا تھا، اور ہر ایک پر ایک بالائی حصہ رکھا گیا جس کی اونچائی ساڑھے 7 فٹ تھی۔?lyمُقدّس ترین کمرے کے دروازے پر سلیمان نے باریک کتان سے بُنا ہوا پردہ لگوایا۔ وہ نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے سے سجا ہوا تھا، اور اُس پر کروبی فرشتوں کی تصویریں تھیں۔ //Erحوض کے کنارے کے نیچے بَیلوں کی دو قطاریں تھیں۔ فی فٹ تقریباً 6 بَیل تھے۔ بَیل اور حوض مل کر ڈھالے گئے تھے۔q7اِس کے بعد اُس نے پیتل کا بڑا گول حوض ڈھلوایا جس کا نام ’سمندر‘ رکھا گیا۔ اُس کی اونچائی ساڑھے 7 فٹ، اُس کا منہ 15 فٹ چوڑا اور اُس کا گھیرا تقریباً 45 فٹ تھا۔1p _سلیمان نے پیتل کی ایک قربان گاہ بھی بنوائی جس کی لمبائی 30 فٹ، چوڑائی 30 فٹ اور اونچائی 15 فٹ تھی۔-oUدونوں ستونوں کو سلیمان نے رب کے گھر کے دروازے کے دائیں اور بائیں طرف کھڑا کیا۔ دہنے ہاتھ کے ستون کا نام اُس نے ’یکین‘ اور بائیں ہاتھ کے ستون کا نام ’بوعز‘ رکھا۔ QxQ#tAحوض کا کنارہ پیالے بلکہ سوسن کے پھول کی طرح باہر کی طرف مُڑا ہوا تھا۔ اُس کی دیوار تقریباً تین انچ موٹی تھی، اور حوض میں پانی کے تقریباً 66,000 لٹر سما جاتے تھے۔sحوض کو بَیلوں کے 12 مجسموں پر رکھا گیا۔ تین بَیلوں کا رُخ شمال کی طرف، تین کا رُخ مغرب کی طرف، تین کا رُخ جنوب کی طرف اور تین کا رُخ مشرق کی طرف تھا۔ اُن کے پچھلے حصے حوض کی طرف تھے، اور حوض اُن کے کندھوں پر پڑا تھا۔ -wدس میزیں بھی بنا کر رب کے گھر میں رکھی گئیں، پانچ کو دائیں طرف اور پانچ کو بائیں طرف۔ اِن چیزوں کے علاوہ سلیمان نے چھڑکاؤ کے سونے کے 100 کٹورے بنوائے۔dvCسلیمان نے سونے کے 10 شمع دان مقررہ تفصیلات کے مطابق بنوا کر رب کے گھر میں رکھ دیئے، پانچ کو دائیں طرف اور پانچ کو بائیں طرف۔guIسلیمان نے 10 باسن ڈھلوائے۔ پانچ کو رب کے گھر کے دائیں ہاتھ اور پانچ کو اُس کے بائیں ہاتھ کھڑا کیا گیا۔ اِن باسنوں میں گوشت کے وہ ٹکڑے دھوئے جاتے جنہیں بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر جلانا تھا۔ لیکن ’سمندر‘ نامی حوض اماموں کے استعمال کے لئے تھا۔ اُس میں وہ نہاتے تھے۔ "b$"]|5 زنجیروں کے اوپر لگے انار (فی بالائی حصہ 200 عدد)،{7 دو ستون، ستونوں پر لگے پیالہ نما بالائی حصے، بالائی حصوں پر لگی زنجیروں کا ڈیزائن،:zo حیرام نے باسن، بیلچے اور چھڑکاؤ کے کٹورے بھی بنائے۔ یوں اُس نے اللہ کے گھر میں وہ سارا کام مکمل کیا جس کے لئے سلیمان بادشاہ نے اُسے بُلایا تھا۔ اُس نے ذیل کی چیزیں بنائیں:eyE ’سمندر‘ نامی حوض کو صحن کے جنوب مشرق میں رکھا گیا۔2x_ پھر سلیمان نے وہ اندرونی صحن بنوایا جس میں صرف اماموں کو داخل ہونے کی اجازت تھی۔ اُس نے بڑا صحن بھی اُس کے دروازوں سمیت بنوایا۔ دروازوں کے کواڑوں پر پیتل چڑھایا گیا۔ NWW7iاِس سامان کے لئے سلیمان بادشاہ نے اِتنا زیادہ پیتل استعمال کیا کہ اُس کا کُل وزن معلوم نہ ہو سکا۔|sبادشاہ نے اُسے وادیِ یردن میں سُکات اور ضرتان کے درمیان ڈھلوایا۔ وہاں ایک فونڈری تھی جہاں حیرام نے گارے سے سانچے بنا کر ہر چیز ڈھال دی۔saبالٹیاں، بیلچے، گوشت کے کانٹے۔ تمام سامان جو حیرام ابی نے سلیمان کے حکم پر رب کے گھر کے لئے بنایا پیتل سے ڈھال کر پالش کیا گیا تھا۔d~Cحوض بنام سمندر، اِسے اُٹھانے والے بَیل کے 12 مجسمے،H} ہتھ گاڑیاں، اِن پر کے پانی کے باسن، tPt'Iچراغ کو کترنے کے خالص سونے کے اوزار، چھڑکاؤ کے خالص سونے کے کٹورے اور پیالے، جلتے ہوئے کوئلے کے لئے خالص سونے کے برتن، مُقدّس ترین کمرے اور بڑے ہال کے دروازے۔ -Uخالص سونے کے وہ پھول جن سے شمع دان آراستہ تھے، خالص سونے کے چراغ اور بتی کو بجھانے کے اوزار،(Kخالص سونے کے وہ شمع دان اور چراغ جن کو قواعد کے مطابق مُقدّس ترین کمرے کے سامنے جلنا تھا،{اللہ کے گھر کے اندر کے لئے سلیمان نے درجِ ذیل سامان بنوایا: سونے کی قربان گاہ، سونے کی وہ میزیں جن پر رب کے لئے مخصوص روٹیاں پڑی رہتی تھیں، #پھر سلیمان نے اسرائیل کے تمام بزرگوں اور قبیلوں اور کنبوں کے تمام سرپرستوں کو اپنے پاس یروشلم میں بُلایا، کیونکہ رب کے عہد کا صندوق اب تک یروشلم کے اُس حصے میں تھا جو ’داؤد کا شہر‘ یا صیون کہلاتا ہے۔ سلیمان چاہتا تھا کہ قوم کے نمائندے حاضر ہوں جب صندوق کو وہاں سے رب کے گھر میں پہنچایا جائے۔ /رب کے گھر کی تکمیل پر سلیمان نے وہ سونا چاندی اور باقی تمام قیمتی چیزیں رب کے گھر کے خزانوں میں رکھوا دیں جو اُس کے باپ داؤد نے اللہ کے لئے مخصوص کی تھیں۔  #وہاں صندوق کے سامنے سلیمان بادشاہ اور باقی تمام جمع شدہ اسرائیلیوں نے اِتنی بھیڑبکریاں اور گائےبَیل قربان کئے کہ اُن کی تعداد گنی نہیں جا سکتی تھی۔h Kرب کے گھر میں لائے۔ اماموں کے ساتھ مل کر اُنہوں نے ملاقات کے خیمے کو بھی اُس کے تمام مُقدّس سامان سمیت رب کے گھر میں پہنچایا۔Z /جب سب جمع ہوئے تو لاوی رب کے صندوق کو اُٹھا کرzoچنانچہ اسرائیل کے تمام مرد سال کے ساتویں مہینے میں بادشاہ کے پاس یروشلم میں جمع ہوئے۔ اِسی مہینے میں جھونپڑیوں کی عید منائی جاتی تھی۔ 57{5B صندوق میں صرف پتھر کی وہ دو تختیاں تھیں جن کو موسیٰ نے حورب یعنی کوہِ سینا کے دامن میں اُس میں رکھ دیا تھا، اُس وقت جب رب نے مصر سے نکلے ہوئے اسرائیلیوں کے ساتھ عہد باندھا تھا۔0[ توبھی اُٹھانے کی یہ لکڑیاں اِتنی لمبی تھیں کہ اُن کے سرے سامنے والے یعنی مُقدّس کمرے سے نظر آتے تھے۔ لیکن وہ باہر سے دیکھے نہیں جا سکتے تھے۔ آج تک وہ وہیں موجود ہیں۔ فرشتوں کے پَر پورے صندوق پر اُس کی اُٹھانے کی لکڑیوں سمیت پھیلے رہے۔E اماموں نے رب کے عہد کا صندوق پچھلے یعنی مُقدّس ترین کمرے میں لا کر کروبی فرشتوں کے پَروں کے نیچے رکھ دیا۔ G  لاویوں کے تمام گلوکار بھی حاضر تھے۔ اُن کے راہنما آسف، ہیمان اور یدوتون اپنے بیٹوں اور رشتے داروں سمیت سب باریک کتان کے لباس پہنے ہوئے قربان گاہ کے مشرق میں کھڑے تھے۔ وہ جھانجھ، ستار اور سرود بجا رہے تھے، جبکہ اُن کے ساتھ 120 امام تُرم پھونک رہے تھے۔*O پھر امام مُقدّس کمرے سے نکل کر صحن میں آئے۔ جتنے امام آئے تھے اُن سب نے اپنے آپ کو پاک صاف کیا ہوا تھا، خواہ اُس وقت اُن کے گروہ کی رب کے گھر میں ڈیوٹی تھی یا نہیں۔ VhV5مَیں نے تیرے لئے عظیم سکونت گاہ بنائی ہے، ایک مقام جو تیری ابدی سکونت کے لائق ہے۔“$ Eیہ دیکھ کر سلیمان نے دعا کی، ”رب نے فرمایا ہے کہ مَیں گھنے بادل کے اندھیرے میں رہوں گا۔Eامام رب کے گھر میں اپنی خدمت انجام نہ دے سکے، کیونکہ اللہ کا گھر اُس کے جلال کے بادل سے معمور ہو گیا تھا۔ # گانے والے اور تُرم بجانے والے مل کر رب کی ستائش کر رہے تھے۔ تُرموں، جھانجھوں اور باقی سازوں کے ساتھ اُنہوں نے بلند آواز سے رب کی تمجید میں گیت گایا، ”وہ بھلا ہے، اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔“ تب رب کا گھر ایک بادل سے بھر گیا۔ ,T ’جس دن مَیں اپنی قوم کو مصر سے نکال لایا اُس دن سے لے کر آج تک مَیں نے نہ کبھی فرمایا کہ اسرائیلی قبیلوں کے کسی شہر میں میرے نام کی تعظیم میں گھر بنایا جائے، نہ کسی کو میری قوم اسرائیل پر حکومت کرنے کے لئے مقرر کیا۔T#”رب اسرائیل کے خدا کی تعریف ہو جس نے وہ وعدہ پورا کیا ہے جو اُس نے میرے باپ داؤد سے کیا تھا۔ کیونکہ اُس نے فرمایا،Pپھر بادشاہ نے مُڑ کر رب کے گھر کے سامنے کھڑی اسرائیل کی پوری جماعت کی طرف رُخ کیا۔ اُس نے اُنہیں برکت دے کر کہا، Dtc اور واقعی، رب نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ مَیں رب کے وعدے کے عین مطابق اپنے باپ داؤد کی جگہ اسرائیل کا بادشاہ بن کر تخت پر بیٹھ گیا ہوں۔ اور اب مَیں نے رب اسرائیل کے خدا کے نام کی تعظیم میں گھر بھی بنایا ہے۔_9 لیکن تُو نہیں بلکہ تیرا بیٹا ہی اُسے بنائے گا۔‘+Qلیکن رب نے اعتراض کیا، ’مَیں خوش ہوں کہ تُو میرے نام کی تعظیم میں گھر تعمیر کرنا چاہتا ہے،1میرے باپ داؤد کی بڑی خواہش تھی کہ رب اسرائیل کے خدا کے نام کی تعظیم میں گھر بنائے۔8kلیکن اب مَیں نے یروشلم کو اپنے نام کی سکونت گاہ اور داؤد کو اپنی قوم اسرائیل کا بادشاہ بنایا ہے۔‘ e5eL  اُس نے اِس موقع کے لئے پیتل کا ایک چبوترہ بنوا کر اُسے بیرونی صحن کے بیچ میں رکھوا دیا تھا۔ چبوترہ ساڑھے 7 فٹ لمبا، ساڑھے 7 فٹ چوڑا اور ساڑھے 4 فٹ اونچا تھا۔ اب سلیمان اُس پر چڑھ کر پوری جماعت کے دیکھتے دیکھتے جھک گیا۔ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اُٹھا کرa= پھر سلیمان نے اسرائیل کی پوری جماعت کے دیکھتے دیکھتے رب کی قربان گاہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھائے۔b? اُس میں مَیں نے وہ صندوق رکھ دیا ہے جس میں شریعت کی تختیاں پڑی ہیں، اُس عہد کی تختیاں جو رب نے اسرائیلیوں سے باندھا تھا۔“ bVbp"[تُو نے اپنے خادم داؤد سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا ہے۔ جو بات تُو نے اپنے منہ سے میرے باپ سے کی وہ تُو نے اپنے ہاتھ سے آج ہی پوری کی ہے۔&!Gاُس نے دعا کی، ”اے رب اسرائیل کے خدا، تجھ جیسا کوئی خدا نہیں ہے، نہ آسمان اور نہ زمین پر۔ تُو اپنا وہ عہد قائم رکھتا ہے جسے تُو نے اپنی قوم کے ساتھ باندھا ہے اور اپنی مہربانی اُن سب پر ظاہر کرتا ہے جو پورے دل سے تیری راہ پر چلتے ہیں۔ eD%لیکن کیا اللہ واقعی زمین پر انسان کے درمیان سکونت کرے گا؟ نہیں، تُو تو بلندترین آسمان میں بھی سما نہیں سکتا! تو پھر یہ مکان جو مَیں نے بنایا ہے کس طرح تیری سکونت گاہ بن سکتا ہے؟*$Oاے رب اسرائیل کے خدا، اب براہِ کرم اپنا یہ وعدہ پورا کر جو تُو نے اپنے خادم داؤد سے کیا ہے۔i#Mاے رب اسرائیل کے خدا، اب اپنی دوسری بات بھی پوری کر جو تُو نے اپنے خادم داؤد سے کی تھی۔ کیونکہ تُو نے میرے باپ سے وعدہ کیا تھا، ’اگر تیری اولاد تیری طرح اپنے چال چلن پر دھیان دے کر میری شریعت کے مطابق میرے حضور چلتی رہے تو اسرائیل پر اُس کی حکومت ہمیشہ تک قائم رہے گی۔‘ E(/جب ہم اِس مقام کی طرف رُخ کر کے دعا کریں تو اپنے خادم اور اپنی قوم کی التجائیں سن۔ آسمان پر اپنے تخت سے ہماری سن۔ اور جب سنے گا تو ہمارے گناہوں کو معاف کر!s'aکہ براہِ کرم دن رات اِس عمارت کی نگرانی کر! کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں تُو نے خود فرمایا، ’یہاں میرا نام سکونت کرے گا۔‘ چنانچہ اپنے خادم کی گزارش سن جو مَیں اِس مقام کی طرف رُخ کئے ہوئے کرتا ہوں۔7&iاے رب میرے خدا، توبھی اپنے خادم کی دعا اور التجا سن جب مَیں تیرے حضور پکارتے ہوئے التماس کرتا ہوں E  !,7BMWbmx(3>IT_ju$/:EP[fq|  ,  ,  ,  ,  , ,  , , ,  ,  ,  ,  ,  , ,  , , , , , , , ,  ,  ,  ,  ,  , ,! ," ,# ,$ ,% ,& ,' ,( ,) ,* ,+ ,, ,- ,. ,/ ,0 ,1 ,2  ,3 !,4 ",5 #,6 $,7 %,8 &,9 ',: (,; ),< *,=  ,> ,? ,@ ,A ,B ,C ,D ,E  ,F  ,G  ,H  ,I  ,J ,K ,L ,M ,N ,O ,P ,Q ,R BBs+aہو سکتا ہے کسی وقت تیری قوم اسرائیل تیرا گناہ کرے اور نتیجے میں دشمن کے سامنے شکست کھائے۔ اگر اسرائیلی آخرکار تیرے پاس لوٹ آئیں اور تیرے نام کی تمجید کر کے یہاں اِس گھر میں تیرے حضور دعا اور التماس کریں]*5تو براہِ کرم آسمان پر سے سن کر اپنے خادموں کا انصاف کر۔ قصوروار کو سزا دے کر اُس کے اپنے سر پر وہ کچھ آنے دے جو اُس سے سرزد ہوا ہے، اور بےقصور کو بےالزام قرار دے کر اُس کی راست بازی کا بدلہ دے۔b)?اگر کسی پر الزام لگایا جائے اور اُسے یہاں تیری قربان گاہ کے سامنے لایا جائے تاکہ حلف اُٹھا کر وعدہ کرے کہ مَیں بےقصور ہوں nne-Eہو سکتا ہے اسرائیلی تیرا اِتنا سنگین گناہ کریں کہ کال پڑے اور بڑی دیر تک بارش نہ برسے۔ اگر وہ آخرکار اِس گھر کی طرف رُخ کر کے تیرے نام کی تمجید کریں اور تیری سزا کے باعث اپنا گناہ چھوڑ کر لوٹ آئیں%,Eتو آسمان پر سے اُن کی فریاد سن لینا۔ اپنی قوم اسرائیل کا گناہ معاف کر کے اُنہیں دوبارہ اُس ملک میں واپس لانا جو تُو نے اُنہیں اور اُن کے باپ دادا کو دے دیا تھا۔ YO0اگر کوئی اسرائیلی یا تیری پوری قوم اُس کا سبب جان کر اپنے ہاتھوں کو اِس گھر کی طرف بڑھائے اور تجھ سے التماس کرے(/Kہو سکتا ہے اسرائیل میں کال پڑ جائے، اناج کی فصل کسی بیماری، پھپھوندی، ٹڈیوں یا کیڑوں سے متاثر ہو جائے، یا دشمن کسی شہر کا محاصرہ کرے۔ جو بھی مصیبت یا بیماری ہو،w.iتو آسمان پر سے اُن کی فریاد سن لینا۔ اپنے خادموں اور اپنی قوم اسرائیل کو معاف کر، کیونکہ تُو ہی اُنہیں اچھی راہ کی تعلیم دیتا ہے۔ تب اُس ملک پر دوبارہ بارش برسا دے جو تُو نے اپنی قوم کو میراث میں دے دیا ہے۔ 43c آئندہ پردیسی بھی تیرے عظیم نام، تیری بڑی قدرت اور تیرے زبردست کاموں کے سبب سے آئیں گے اور اِس گھر کی طرف رُخ کر کے دعا کریں گے۔ اگرچہ وہ تیری قوم اسرائیل کے نہیں ہوں گےz2oپھر جتنی دیر وہ اُس ملک میں زندگی گزاریں گے جو تُو نے ہمارے باپ دادا کو دیا تھا اُتنی دیر وہ تیرا خوف مان کر تیری راہوں پر چلتے رہیں گے۔1تو آسمان پر اپنے تخت سے اُن کی فریاد سن لینا۔ اُنہیں معاف کر کے ہر ایک کو اُس کی تمام حرکتوں کا بدلہ دے، کیونکہ صرف تُو ہی ہر انسان کے دل کو جانتا ہے۔ lJl 6#تو آسمان پر سے اُن کی دعا اور التماس سن کر اُن کے حق میں انصاف قائم رکھنا۔J5"ہو سکتا ہے تیری قوم کے مرد تیری ہدایت کے مطابق اپنے دشمن سے لڑنے کے لئے نکلیں۔ اگر وہ تیرے چنے ہوئے شہر اور اُس عمارت کی طرف رُخ کر کے دعا کریں جو مَیں نے تیرے نام کے لئے تعمیر کی ہے24_!توبھی آسمان پر سے اُن کی فریاد سن لینا۔ جو بھی درخواست وہ پیش کریں وہ پوری کرنا تاکہ دنیا کی تمام اقوام تیرا نام جان کر تیری قوم اسرائیل کی طرح ہی تیرا خوف مانیں اور جان لیں کہ جو عمارت مَیں نے تعمیر کی ہے اُس پر تیرے ہی نام کا ٹھپا لگا ہے۔ 8!%شاید وہ جلاوطنی میں توبہ کر کے دوبارہ تیری طرف رجوع کریں اور تجھ سے التماس کریں، ’ہم نے گناہ کیا ہے، ہم سے غلطی ہوئی ہے، ہم نے بےدین حرکتیں کی ہیں۔‘Y7-$ہو سکتا ہے وہ تیرا گناہ کریں، ایسی حرکتیں تو ہم سب سے سرزد ہوتی رہتی ہیں، اور نتیجے میں تُو ناراض ہو کر اُنہیں دشمن کے حوالے کر دے جو اُنہیں قید کر کے کسی دُوردراز یا قریبی ملک میں لے جائے۔ i~+;Q(اے میرے خدا، تیری آنکھیں اور تیرے کان اُن دعاؤں کے لئے کھلے رہیں جو اِس جگہ پر کی جاتی ہیں۔g:I'تو آسمان پر اپنے تخت سے اُن کی دعا اور التماس سن لینا۔ اُن کے حق میں انصاف قائم کرنا، اور اپنی قوم کے گناہوں کو معاف کر دینا۔9!&اگر وہ ایسا کر کے اپنی قید کے ملک میں اپنے پورے دل و جان سے دوبارہ تیری طرف رجوع کریں اور تیری طرف سے باپ دادا کو دیئے گئے ملک، تیرے چنے ہوئے شہر اور اُس عمارت کی طرف رُخ کر کے دعا کریں جو مَیں نے تیرے نام کے لئے تعمیر کی ہے ??{کہ امام اُس میں داخل نہ ہو سکے۔!> ?سلیمان کی اِس دعا کے اختتام پر آگ نے آسمان پر سے نازل ہو کر بھسم ہونے والی اور ذبح کی قربانیوں کو بھسم کر دیا۔ ساتھ ساتھ رب کا گھر اُس کے جلال سے یوں معمور ہواD=*اے رب خدا، اپنے مسح کئے ہوئے خادم کو رد نہ کر بلکہ اُس شفقت کو یاد کر جو تُو نے اپنے خادم داؤد پر کی ہے۔“ K<)اے رب خدا، اُٹھ کر اپنی آرام گاہ کے پاس آ، تُو اور عہد کا صندوق جو تیری قدرت کا اظہار ہے۔ اے رب خدا، تیرے امام نجات سے ملبّس ہو جائیں، اور تیرے ایمان دار تیری بھلائی کی خوشی منائیں۔ ^^ B;پھر بادشاہ اور تمام قوم نے رب کے حضور قربانیاں پیش کر کے اللہ کے گھر کو مخصوص کیا۔ اِس سلسلے میں سلیمان نے 22,000 گائےبَیلوں اور 1,20,000 بھیڑبکریوں کو قربان کیا۔ A;پھر بادشاہ اور تمام قوم نے رب کے حضور قربانیاں پیش کر کے اللہ کے گھر کو مخصوص کیا۔ اِس سلسلے میں سلیمان نے 22,000 گائےبَیلوں اور 1,20,000 بھیڑبکریوں کو قربان کیا۔V@'جب اسرائیلیوں نے دیکھا کہ آسمان پر سے آگ نازل ہوئی ہے اور گھر رب کے جلال سے معمور ہو گیا ہے تو وہ منہ کے بل جھک کر رب کی حمد و ثنا کر کے گیت گانے لگے، ”وہ بھلا ہے، اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔“ Cامام اور لاوی اپنی اپنی ذمہ داریوں کے مطابق کھڑے تھے۔ لاوی اُن سازوں کو بجا رہے تھے جو داؤد نے رب کی ستائش کرنے کے لئے بنوائے تھے۔ ساتھ ساتھ وہ حمد کا وہ گیت گا رہے تھے جو اُنہوں نے داؤد سے سیکھا تھا، ”اُس کی شفقت ابدی ہے۔“ لاویوں کے مقابل امام تُرم بجا رہے تھے جبکہ باقی تمام لوگ کھڑے تھے۔ uDeسلیمان نے صحن کا درمیانی حصہ قربانیاں چڑھانے کے لئے مخصوص کیا۔ وجہ یہ تھی کہ پیتل کی قربان گاہ اِتنی قربانیاں پیش کرنے کے لئے چھوٹی تھی، کیونکہ بھسم ہونے والی قربانیوں اور غلہ کی نذروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اِس کے علاوہ سلامتی کی بےشمار قربانیوں کی چربی کو بھی جلانا تھا۔ :Eoعید 14 دنوں تک منائی گئی۔ پہلے ہفتے میں سلیمان اور تمام اسرائیل نے قربان گاہ کی مخصوصیت منائی اور دوسرے ہفتے میں جھونپڑیوں کی عید۔ اِس عید میں بہت زیادہ لوگ شریک ہوئے۔ وہ دُوردراز علاقوں سے یروشلم آئے تھے، شمال میں لبو حمات سے لے کر جنوب میں اُس وادی تک جو مصر کی سرحد تھی۔ آخری دن پوری جماعت نے اختتامی جشن منایا۔ ssKG یہ ساتویں ماہ کے 23ویں دن وقوع پذیر ہوا۔ اِس کے بعد سلیمان نے اسرائیلیوں کو رُخصت کیا۔ سب شادمان اور دل سے خوش تھے کہ رب نے داؤد، سلیمان اور اپنی قوم اسرائیل پر اِتنی مہربانی کی ہے۔:Fo عید 14 دنوں تک منائی گئی۔ پہلے ہفتے میں سلیمان اور تمام اسرائیل نے قربان گاہ کی مخصوصیت منائی اور دوسرے ہفتے میں جھونپڑیوں کی عید۔ اِس عید میں بہت زیادہ لوگ شریک ہوئے۔ وہ دُوردراز علاقوں سے یروشلم آئے تھے، شمال میں لبو حمات سے لے کر جنوب میں اُس وادی تک جو مصر کی سرحد تھی۔ آخری دن پوری جماعت نے اختتامی جشن منایا۔ :HBJ جب کبھی مَیں بارش کا سلسلہ روکوں، یا فصلیں خراب کرنے کے لئے ٹڈیاں بھیجوں یا اپنی قوم میں وبا پھیلنے دوںnIW ایک رات رب اُس پر ظاہر ہوا اور کہا، ”مَیں نے تیری دعا کو سن کر طے کر لیا ہے کہ یہ گھر وہی جگہ ہو جہاں تم مجھے قربانیاں پیش کر سکو۔BH چنانچہ سلیمان نے رب کے گھر اور شاہی محل کو تکمیل تک پہنچایا۔ جو کچھ بھی اُس نے ٹھان لیا تھا وہ پورا ہوا۔ sMکیونکہ مَیں نے اِس گھر کو چن کر مخصوص و مُقدّس کر رکھا ہے تاکہ میرا نام ہمیشہ تک یہاں قائم رہے۔ میری آنکھیں اور دل ہمیشہ اِس میں حاضر رہیں گے۔0L[اب سے جب بھی یہاں دعا مانگی جائے تو میری آنکھیں کھلی رہیں گی اور میرے کان اُس پر دھیان دیں گے۔ K تو اگر میری قوم جو میرے نام سے کہلاتی ہے اپنے آپ کو پست کرے اور دعا کر کے میرے چہرے کی طالب ہو اور اپنی شریر راہوں سے باز آئے تو پھر مَیں آسمان پر سے اُس کی سن کر اُس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا اور ملک کو بحال کروں گا۔ Pلیکن خبردار! اگر تُو مجھ سے دُور ہو کر میرے دیئے گئے احکام اور ہدایات کو ترک کرے بلکہ دیگر معبودوں کی طرف رجوع کر کے اُن کی خدمت اور پرستش کرےFOتو مَیں تیری اسرائیل پر حکومت قائم رکھوں گا۔ پھر میرا وہ وعدہ قائم رہے گا جو مَیں نے تیرے باپ داؤد سے عہد باندھ کر کیا تھا کہ اسرائیل پر تیری اولاد کی حکومت ہمیشہ تک قائم رہے گی۔bN?جہاں تک تیرا تعلق ہے، اپنے باپ داؤد کی طرح میرے حضور چلتا رہ۔ کیونکہ اگر تُو میرے تمام احکام اور ہدایات کی پیروی کرتا رہے !,RSاِس شاندار گھر کی بُری حالت دیکھ کر یہاں سے گزرنے والے تمام لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے، اور وہ پوچھیں گے، ’رب نے اِس ملک اور اِس گھر سے ایسا سلوک کیوں کیا؟‘[Q1تو مَیں اسرائیل کو جڑ سے اُکھاڑ کر اُس ملک سے نکال دوں گا جو مَیں نے اُن کو دے دیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ مَیں اِس گھر کو بھی رد کر دوں گا جو مَیں نے اپنے نام کے لئے مخصوص و مُقدّس کر لیا ہے۔ اُس وقت مَیں اسرائیل کو تمام اقوام میں مذاق اور لعن طعن کا نشانہ بنا دوں گا۔ G-G Vایک فوجی مہم کے دوران اُس نے حمات ضوباہ پر حملہ کر کے اُس پر قبضہ کر لیا۔]U5اِس کے بعد سلیمان نے وہ آبادیاں نئے سرے سے تعمیر کیں جو حیرام نے اُسے دے دی تھیں۔ اِن میں اُس نے اسرائیلیوں کو بسا دیا۔tT eرب کے گھر اور شاہی محل کو تعمیر کرنے میں 20 سال صَرف ہوئے تھے۔OSتب لوگ جواب دیں گے، ’اِس لئے کہ گو رب اُن کے باپ دادا کا خدا اُنہیں مصر سے نکال کر یہاں لایا توبھی یہ لوگ اُسے ترک کر کے دیگر معبودوں سے چمٹ گئے ہیں۔ چونکہ وہ اُن کی پرستش اور خدمت کرنے سے باز نہ آئے اِس لئے اُس نے اُنہیں اِس ساری مصیبت میں ڈال دیا ہے‘۔“ )X7اور اِسی طرح بالائی اور نشیبی بیت حورون اور بعلات میں بھی۔ اِن شہروں کے لئے اُس نے فصیل اور کنڈے والے دروازے بنوائے۔ سلیمان نے اپنے گوداموں کے لئے اور اپنے رتھوں اور گھوڑوں کو رکھنے کے لئے بھی شہر بنوائے۔ جو کچھ بھی وہ یروشلم، لبنان یا اپنی سلطنت کی کسی اَور جگہ بنوانا چاہتا تھا وہ اُس نے بنوایا۔SW!اِس کے علاوہ اُس نے حمات کے علاقے میں گودام کے شہر بنائے۔ ریگستان کے شہر تدمور میں اُس نے بہت سا تعمیری کام کرایا Y7اور اِسی طرح بالائی اور نشیبی بیت حورون اور بعلات میں بھی۔ اِن شہروں کے لئے اُس نے فصیل اور کنڈے والے دروازے بنوائے۔ سلیمان نے اپنے گوداموں کے لئے اور اپنے رتھوں اور گھوڑوں کو رکھنے کے لئے بھی شہر بنوائے۔ جو کچھ بھی وہ یروشلم، لبنان یا اپنی سلطنت کی کسی اَور جگہ بنوانا چاہتا تھا وہ اُس نے بنوایا۔ 'ZIجن آدمیوں کی سلیمان نے بیگار پر بھرتی کی وہ اسرائیلی نہیں تھے بلکہ حِتّی، اموری، فرِزّی، حِوّی اور یبوسی یعنی کنعان کے پہلے باشندوں کی وہ اولاد تھے جو باقی رہ گئے تھے۔ ملک پر قبضہ کرتے وقت اسرائیلی اِن قوموں کو پورے طور پر مٹا نہ سکے، اور آج تک اِن کی اولاد کو اسرائیل کے لئے بےگار میں کام کرنا پڑتا ہے۔ &\G لیکن سلیمان نے اسرائیلیوں کو ایسے کام کرنے پر مجبور نہ کیا بلکہ وہ اُس کے فوجی اور رتھوں کے فوجیوں کے افسر بن گئے، اور اُنہیں رتھوں اور گھوڑوں پر مقرر کیا گیا۔'[Iجن آدمیوں کی سلیمان نے بیگار پر بھرتی کی وہ اسرائیلی نہیں تھے بلکہ حِتّی، اموری، فرِزّی، حِوّی اور یبوسی یعنی کنعان کے پہلے باشندوں کی وہ اولاد تھے جو باقی رہ گئے تھے۔ ملک پر قبضہ کرتے وقت اسرائیلی اِن قوموں کو پورے طور پر مٹا نہ سکے، اور آج تک اِن کی اولاد کو اسرائیل کے لئے بےگار میں کام کرنا پڑتا ہے۔ LLG_  اُس وقت سے سلیمان رب کو رب کے گھر کے بڑے ہال کے سامنے کی قربان گاہ پر بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرتا تھا۔h^K فرعون کی بیٹی یروشلم کے پرانے حصے بنام ’داؤد کا شہر‘ سے اُس محل میں منتقل ہوئی جو سلیمان نے اُس کے لئے تعمیر کیا تھا، کیونکہ سلیمان نے کہا، ”لازم ہے کہ میری اہلیہ اسرائیل کے بادشاہ داؤد کے محل میں نہ رہے۔ چونکہ رب کا صندوق یہاں سے گزرا ہے، اِس لئے یہ جگہ مُقدّس ہے۔“y]m سلیمان کے تعمیری کام پر بھی 250 اسرائیلی مقرر تھے جو ضلعوں پر مقرر افسروں کے تابع تھے۔ یہ لوگ تعمیری کام کرنے والوں کی نگرانی کرتے تھے۔ d`C جو کچھ بھی موسیٰ نے روزانہ کی قربانیوں کے متعلق فرمایا تھا اُس کے مطابق بادشاہ قربانیاں چڑھاتا تھا۔ اِن میں وہ قربانیاں بھی شامل تھیں جو سبت کے دن، نئے چاند کی عید پر اور سال کی تین بڑی عیدوں پر یعنی فسح کی عید، ہفتوں کی عید اور جھونپڑیوں کی عید پر پیش کی جاتی تھیں۔ [[ b;جو بھی حکم داؤد نے اماموں، لاویوں اور خزانوں کے متعلق دیا تھا وہ اُنہوں نے پورا کیا۔}auسلیمان نے اماموں کے مختلف گروہوں کو وہ ذمہ داریاں سونپیں جو اُس کے باپ داؤد نے مقرر کی تھیں۔ لاویوں کی ذمہ داریاں بھی مقرر کی گئیں۔ اُن کی ایک ذمہ داری رب کی حمد و ثنا کرنے میں پرستاروں کی راہنمائی کرنی تھی۔ نیز، اُنہیں روزانہ کی ضروریات کے مطابق اماموں کی مدد کرنی تھی۔ رب کے گھر کے دروازوں کی پہرہ داری بھی لاویوں کی ایک خدمت تھی۔ ہر دروازے پر ایک الگ گروہ کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ یہ بھی مردِ خدا داؤد کی ہدایات کے مطابق ہوا۔ OZOueeوہاں حیرام بادشاہ نے اپنے جہاز اور تجربہ کار ملاح بھیجے تاکہ وہ سلیمان کے آدمیوں کے ساتھ مل کر جہازوں کو چلائیں۔ اُنہوں نے اوفیر تک سفر کیا اور وہاں سے سلیمان کے لئے تقریباً 15,000 کلو گرام سونا لے کر آئے۔ dبعد میں سلیمان عِصیون جابر اور ایلات گیا۔ یہ شہر ادوم کے ساحل پر واقع تھے۔"c?یوں سلیمان کے تمام منصوبے رب کے گھر کی بنیاد رکھنے سے لے کر اُس کی تکمیل تک پورے ہوئے۔ h{hq سبا کی ملکہ سلیمان کی حکمت اور اُس کے نئے محل سے بہت متاثر ہوئی۔Ng سلیمان اُس کے ہر سوال کا جواب دے سکا۔ کوئی بھی بات اِتنی پیچیدہ نہیں تھی کہ وہ اُس کا مطلب ملکہ کو بتا نہ سکتا۔f % سلیمان کی شہرت سبا کی ملکہ تک پہنچ گئی۔ جب اُس نے اُس کے بارے میں سنا تو وہ سلیمان سے ملنے کے لئے روانہ ہوئی تاکہ اُسے مشکل پہیلیاں پیش کر کے اُس کی دانش مندی جانچ لے۔ وہ نہایت بڑے قافلے کے ساتھ یروشلم پہنچی جس کے اونٹ بلسان، کثرت کے سونے اور قیمتی جواہر سے لدے ہوئے تھے۔ ملکہ کی سلیمان سے ملاقات ہوئی تو اُس نے اُس سے وہ تمام مشکل سوالات پوچھے جو اُس کے ذہن میں تھے۔ Ej وہ بول اُٹھی، ”واقعی، جو کچھ مَیں نے اپنے ملک میں آپ کے شاہکاروں اور حکمت کے بارے میں سنا تھا وہ درست ہے۔>iw اُس نے بادشاہ کی میزوں پر کے مختلف کھانے دیکھے اور یہ کہ اُس کے افسر کس ترتیب سے اُس پر بٹھائے جاتے تھے۔ اُس نے بیروں کی خدمت، اُن کی شاندار وردیوں اور ساقیوں کی شاندار وردیوں پر بھی غور کیا۔ جب اُس نے اِن باتوں کے علاوہ بھسم ہونے والی وہ قربانیاں بھی دیکھیں جو سلیمان رب کے گھر میں چڑھاتا تھا تو ملکہ ہکا بکا رہ گئی۔ yYl- آپ کے لوگ کتنے مبارک ہیں! آپ کے افسر کتنے مبارک ہیں جو مسلسل آپ کے سامنے کھڑے رہتے اور آپ کی دانش بھری باتیں سنتے ہیں!k جب تک مَیں نے خود آ کر یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا مجھے یقین نہیں آتا تھا۔ لیکن حقیقت میں مجھے آپ کی زبردست حکمت کے بارے میں آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا۔ وہ اُن رپورٹوں سے کہیں زیادہ ہے جو مجھ تک پہنچی تھیں۔ :no پھر ملکہ نے سلیمان کو تقریباً 4,000 کلو گرام سونا، بہت زیادہ بلسان اور جواہر دے دیئے۔ پہلے کبھی بھی اُتنا بلسان اسرائیل میں نہیں لایا گیا تھا جتنا اُس وقت سبا کی ملکہ لائی۔]m5 رب آپ کے خدا کی تمجید ہو جس نے آپ کو پسند کر کے اپنے تخت پر بٹھایا تاکہ رب اپنے خدا کی خاطر حکومت کریں۔ آپ کا خدا اسرائیل سے محبت رکھتا ہے، اور وہ اُسے ابد تک قائم رکھنا چاہتا ہے، اِسی لئے اُس نے آپ کو اُن کا بادشاہ بنا دیا ہے تاکہ انصاف اور راست بازی قائم رکھیں۔“ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv&0;FQ\gr}  ,T ,U ,V ,W ,X ,Y ,Z ,[  ,\  ,T ,U ,V ,W ,X ,Y ,Z ,[  ,\  ,]  ,^  ,_  ,` ,a ,b ,c ,d ,e   ,f  ,g  ,h  ,i  ,j  ,k  ,l  ,m  ,n  ,o  ,p  ,q  ,r  ,s  ,t  ,u  ,v  ,w  ,x  ,y  ,z  ,{  ,|  ,}  ,~  ,  ,  ,  ,  ,  ,   ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,   , ,p% جتنی قیمتی لکڑی اُن دنوں میں یہوداہ میں درآمد ہوئی اُتنی پہلے کبھی وہاں لائی نہیں گئی تھی۔ اِس لکڑی سے بادشاہ نے رب کے گھر اور اپنے محل کے لئے سیڑھیاں بنوائیں۔ یہ موسیقاروں کے سرود اور ستار بنانے کے لئے بھی استعمال ہوئی۔Po حیرام اور سلیمان کے آدمی اوفیر سے نہ صرف سونا لائے بلکہ اُنہوں نے قیمتی لکڑی اور جواہر بھی اسرائیل تک پہنچائے۔ 7{sq اِس میں وہ ٹیکس شامل نہیں تھے جو اُسے سوداگروں، تاجروں، عرب بادشاہوں اور ضلعوں کے افسروں سے ملتے تھے۔ یہ اُسے سونا اور چاندی دیتے تھے۔r  جو سونا سلیمان کو سالانہ ملتا تھا اُس کا وزن تقریباً 23,000 کلو گرام تھا۔Eq سلیمان بادشاہ نے اپنی طرف سے سبا کی ملکہ کو بہت سے تحفے دیئے۔ یہ اُن چیزوں سے زیادہ تھے جو ملکہ اپنے ملک سے اُس کے پاس لائی تھی۔ جو بھی ملکہ چاہتی تھی یا اُس نے مانگا وہ اُسے دیا گیا۔ پھر وہ اپنے نوکر چاکروں اور افسروں کے ہمراہ اپنے وطن واپس چلی گئی۔ V&uG سلیمان بادشاہ نے 200 بڑی اور 300 چھوٹی ڈھالیں بنوائیں۔ اُن پر سونا منڈھا گیا۔ ہر بڑی ڈھال کے لئے تقریباً 7 کلو گرام سونا استعمال ہوا اور ہر چھوٹی ڈھال کے لئے ساڑھے 3 کلو گرام۔ سلیمان نے اُنہیں ’لبنان کا جنگل‘ نامی محل میں محفوظ رکھا۔&tG سلیمان بادشاہ نے 200 بڑی اور 300 چھوٹی ڈھالیں بنوائیں۔ اُن پر سونا منڈھا گیا۔ ہر بڑی ڈھال کے لئے تقریباً 7 کلو گرام سونا استعمال ہوا اور ہر چھوٹی ڈھال کے لئے ساڑھے 3 کلو گرام۔ سلیمان نے اُنہیں ’لبنان کا جنگل‘ نامی محل میں محفوظ رکھا۔ hQhewE اُس کے ہر بازو کے ساتھ شیرببر کا مجسمہ تھا۔ تخت کچھ اونچا تھا، اور بادشاہ چھ پائے والی سیڑھی پر چڑھ کر اُس پر بیٹھتا تھا۔ دائیں اور بائیں طرف ہر پائے پر شیرببر کا مجسمہ تھا۔ پاؤں کے لئے سونے کی چوکی بنائی گئی تھی۔ اِس قسم کا تخت کسی اَور سلطنت میں نہیں پایا جاتا تھا۔+vQ اِن کے علاوہ بادشاہ نے ہاتھی دانت سے آراستہ ایک بڑا تخت بنوایا جس پر خالص سونا چڑھایا گیا۔ Ry سلیمان کے تمام پیالے سونے کے تھے، بلکہ ’لبنان کا جنگل‘ نامی محل میں تمام برتن خالص سونے کے تھے۔ کوئی بھی چیز چاندی کی نہیں تھی، کیونکہ سلیمان کے زمانے میں چاندی کی کوئی قدر نہیں تھی۔exE اُس کے ہر بازو کے ساتھ شیرببر کا مجسمہ تھا۔ تخت کچھ اونچا تھا، اور بادشاہ چھ پائے والی سیڑھی پر چڑھ کر اُس پر بیٹھتا تھا۔ دائیں اور بائیں طرف ہر پائے پر شیرببر کا مجسمہ تھا۔ پاؤں کے لئے سونے کی چوکی بنائی گئی تھی۔ اِس قسم کا تخت کسی اَور سلطنت میں نہیں پایا جاتا تھا۔ a>xa}! سال بہ سال جو بھی سلیمان کے دربار میں آتا وہ کوئی نہ کوئی تحفہ لاتا۔ یوں اُسے سونے چاندی کے برتن، قیمتی لباس، ہتھیار، بلسان، گھوڑے اور خچر ملتے رہے۔B| دنیا کے تمام بادشاہ اُس سے ملنے کی کوشش کرتے رہے تاکہ وہ حکمت سن لیں جو اللہ نے اُس کے دل میں ڈال دی تھی۔}{u سلیمان کی دولت اور حکمت دنیا کے تمام بادشاہوں سے کہیں زیادہ تھی۔>zw بادشاہ کے اپنے بحری جہاز تھے جو حیرام کے بندوں کے ساتھ مل کر مختلف جگہوں پر جاتے تھے۔ ہر تین سال کے بعد وہ سونے چاندی، ہاتھی دانت، بندروں اور موروں سے لدے ہوئے واپس آتے تھے۔ ~~p[ بادشاہ کے گھوڑے مصر اور دیگر کئی ملکوں سے درآمد ہوتے تھے۔ بادشاہ کی سرگرمیوں کے باعث چاندی پتھر جیسی عام ہو گئی اور دیودار کی قیمتی لکڑی مغرب کے نشیبی پہاڑی علاقے کی انجیرتوت کی سستی لکڑی جیسی عام ہو گئی۔M سلیمان اُن تمام بادشاہوں کا حکمران تھا جو دریائے فرات سے لے کر فلستیوں کے ملک کی مصری سرحد تک حکومت کرتے تھے۔&~G گھوڑوں اور رتھوں کو رکھنے کے لئے سلیمان کے 4,000 تھان تھے۔ اُس کے 12,000 گھوڑے تھے۔ کچھ اُس نے رتھوں کے لئے مخصوص کئے گئے شہروں میں اور کچھ یروشلم میں اپنے پاس رکھے۔ x& I رحبعام سِکم گیا، کیونکہ وہاں تمام اسرائیلی اُسے بادشاہ مقرر کرنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔  جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں دفن کیا گیا جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ پھر اُس کا بیٹا رحبعام تخت نشین ہوا۔ != سلیمان 40 سال کے دوران پورے اسرائیل پر حکومت کرتا رہا۔ اُس کا دار الحکومت یروشلم تھا۔ سلیمان کی زندگی کے بارے میں مزید باتیں شروع سے لے کر آخر تک ’ناتن نبی کی تاریخ،‘ سَیلا کے رہنے والے نبی اخیاہ کی کتاب ’اخیاہ کی نبوّت‘ اور یرُبعام بن نباط سے متعلق کتاب ’عِدّو غیب بین کی رویائیں‘ میں درج ہیں۔ 9oY ”جو جوا آپ کے باپ نے ہم پر ڈال دیا تھا اُسے اُٹھانا مشکل تھا، اور جو وقت اور پیسے ہمیں بادشاہ کی خدمت میں صَرف کرنے تھے وہ ناقابلِ برداشت تھے۔ اب دونوں کو کم کر دیں۔ پھر ہم خوشی سے آپ کی خدمت کریں گے۔“!= اسرائیلیوں نے اُسے بُلایا تاکہ اُس کے ساتھ سِکم جائیں۔ جب پہنچا تو اسرائیل کی پوری جماعت یرُبعام کے ساتھ مل کر رحبعام سے ملنے گئی۔ اُنہوں نے بادشاہ سے کہا،C یرُبعام بن نباط یہ خبر سنتے ہی مصر سے جہاں اُس نے سلیمان بادشاہ سے بھاگ کر پناہ لی تھی اسرائیل واپس آیا۔ K@ { بزرگوں نے جواب دیا، ”ہمارا مشورہ ہے کہ اِس وقت اُن سے مہربانی سے پیش آ کر اُن سے اچھا سلوک کریں اور نرم جواب دیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو وہ ہمیشہ آپ کے وفادار خادم بنے رہیں گے۔“+ Q پھر رحبعام بادشاہ نے اُن بزرگوں سے مشورہ کیا جو سلیمان کے جیتے جی بادشاہ کی خدمت کرتے رہے تھے۔ اُس نے پوچھا، ”آپ کا کیا خیال ہے؟ مَیں اِن لوگوں کو کیا جواب دوں؟“1 ] رحبعام نے جواب دیا، ”مجھے تین دن کی مہلت دیں، پھر دوبارہ میرے پاس آئیں۔“ چنانچہ لوگ چلے گئے۔ &>R جو جوان اُس کے ساتھ پروان چڑھے تھے اُنہوں نے کہا، ”اچھا، یہ لوگ تقاضا کر رہے ہیں کہ آپ کے باپ کا جوا ہلکا کیا جائے؟ انہیں بتا دینا، ’میری چھوٹی اُنگلی میرے باپ کی کمر سے زیادہ موٹی ہے!d C اُس نے پوچھا، ”مَیں اِس قوم کو کیا جواب دوں؟ یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ مَیں وہ جوا ہلکا کر دوں جو میرے باپ نے اُن پر ڈال دیا۔“V ' لیکن رحبعام نے بزرگوں کا مشورہ رد کر کے اُس کی خدمت میں حاضر اُن جوانوں سے مشورہ کیا جو اُس کے ساتھ پروان چڑھے تھے۔of flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| x y z" {% |( ~+ - 0 3 6 8 ; ? B C x y z" {% |( ~+ - 0 3 6 8 ; ? B C D E G J M P R V X Y Z \ _ ` b e h j l n p s u w y }        $ ' + . 2 4 7 : < ? B E F H J M R V Y [ ^ ` c g j k o r v x { }         " $ & ) - 1 4 7 : < ? B C E I L N R T .!.{q اُس نے اُنہیں جوانوں کا جواب دیا، ”بےشک جو جوا میرے باپ نے آپ پر ڈال دیا اُسے اُٹھانا مشکل تھا، لیکن میرا جوا اَور بھی بھاری ہو گا۔ جہاں میرے باپ نے آپ کو کوڑے لگائے وہاں مَیں آپ کی بچھوؤں سے تادیب کروں گا!“q] تو بادشاہ نے اُنہیں سخت جواب دیا۔ بزرگوں کا مشورہ رد کر کے"? تین دن کے بعد جب یرُبعام تمام اسرائیلیوں کے ساتھ رحبعام کا فیصلہ سننے کے لئے واپس آیا5e بےشک جو جوا اُس نے آپ پر ڈال دیا اُسے اُٹھانا مشکل تھا، لیکن میرا جوا اَور بھی بھاری ہو گا۔ جہاں میرے باپ نے آپ کو کوڑے لگائے وہاں مَیں آپ کی بچھوؤں سے تادیب کروں گا‘!“ aa  صرف یہوداہ کے قبیلے کے شہروں میں رہنے والے اسرائیلی رحبعام کے تحت رہے۔p[ جب اسرائیلیوں نے دیکھا کہ بادشاہ ہماری بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے تو اُنہوں نے اُس سے کہا، ”نہ ہمیں داؤد سے میراث میں کچھ ملے گا، نہ یسّی کے بیٹے سے کچھ ملنے کی اُمید ہے۔ اے اسرائیل، سب اپنے اپنے گھر واپس چلیں! اے داؤد، اب اپنا گھر خود سنبھال لو!“ یہ کہہ کر وہ سب چلے گئے۔1 یوں رب کی مرضی پوری ہوئی کہ رحبعام لوگوں کی بات نہیں مانے گا۔ کیونکہ اب رب کی وہ پیش گوئی پوری ہوئی جو سَیلا کے نبی اخیاہ نے یرُبعام بن نباط کو بتائی تھی۔ ~~W + جب رحبعام یروشلم پہنچا تو اُس نے یہوداہ اور بن یمین کے قبیلوں کے چیدہ چیدہ فوجیوں کو اسرائیل سے جنگ کرنے کے لئے بُلایا۔ 1,80,000 مرد جمع ہوئے تاکہ رحبعام کے لئے اسرائیل پر دوبارہ قابو پائیں۔5e یوں اسرائیل کے شمالی قبیلے داؤد کے شاہی گھرانے سے الگ ہو گئے اور آج تک اُس کی حکومت نہیں مانتے۔ jO پھر رحبعام بادشاہ نے بےگاریوں پر مقرر افسر ادونیرام کو شمالی قبیلوں کے پاس بھیج دیا، لیکن اُسے دیکھ کر لوگوں نے اُسے سنگسار کیا۔ تب رحبعام جلدی سے اپنے رتھ پر سوار ہوا اور بھاگ کر یروشلم پہنچ گیا۔ AvA2 a ادورائیم، لکیس، عزیقہ،&I جات، مریسہ، زیف،1_ بیت صور، سوکہ، عدُلام،/[ بیت لحم، عیطام، تقوع،/ رحبعام کا دار الحکومت یروشلم رہا۔ یہوداہ میں اُس نے ذیل کے شہروں کی قلعہ بندی کی:>w ’رب فرماتا ہے کہ اپنے بھائیوں سے جنگ مت کرنا۔ ہر ایک اپنے اپنے گھر واپس چلا جائے، کیونکہ جو کچھ ہوا ہے وہ میرے حکم پر ہوا ہے‘۔“ تب وہ رب کی سن کر یرُبعام سے لڑنے سے باز آئے۔"? ”یہوداہ کے بادشاہ رحبعام بن سلیمان اور یہوداہ اور بن یمین کے تمام افراد کو اطلاع دے،r_ لیکن عین اُس وقت مردِ خدا سمعیاہ کو رب کی طرف سے پیغام ملا، x!$= گو امام اور لاوی تمام اسرائیل میں بکھرے رہتے تھے توبھی اُنہوں نے رحبعام کا ساتھ دیا۔u#e اور ساتھ ساتھ اُن میں ڈھالیں اور نیزے بھی رکھے۔ اِس طرح اُس نے اُنہیں بہت مضبوط بنا کر یہوداہ اور بن یمین پر اپنی حکومت محفوظ کر لی۔C" مضبوط کر کے رحبعام نے ہر شہر پر افسر مقرر کئے۔ اُن میں اُس نے خوراک، زیتون کے تیل اور مَے کا ذخیرہ کر لیا! صُرعہ، ایالون اور حبرون۔ یہوداہ اور بن یمین کے اِن قلعہ بند شہروں کو yyO' لاویوں کی طرح تمام قبیلوں کے بہت سے ایسے لوگ یہوداہ میں منتقل ہوئے جو پورے دل سے رب اسرائیل کے خدا کے طالب رہے تھے۔ وہ یروشلم آئے تاکہ رب اپنے باپ دادا کے خدا کو قربانیاں پیش کر سکیں۔& اُن کی جگہ اُس نے اپنے ذاتی امام مقرر کئے جو اونچی جگہوں پر کے مندروں کو سنبھالتے ہوئے بکرے کے دیوتاؤں اور بچھڑے کے بُتوں کی خدمت کرتے تھے۔*%O اپنی چراگاہوں اور ملکیت کو چھوڑ کر وہ یہوداہ اور یروشلم میں آباد ہوئے، کیونکہ یرُبعام اور اُس کے بیٹوں نے اُنہیں امام کی حیثیت سے رب کی خدمت کرنے سے روک دیا تھا۔ zO+ بعد میں رحبعام کی معکہ بنت ابی سلوم سے شادی ہوئی۔ اِس رشتے سے چار بیٹے ابیاہ، عتّی، زیزا اور سلومیت پیدا ہوئے۔`*; محلت کے تین بیٹے یعوس، سمریاہ اور زہم پیدا ہوئے۔c)A رحبعام کی شادی محلت سے ہوئی جو یریموت اور ابی خیل کی بیٹی تھی۔ یریموت داؤد کا بیٹا اور ابی خیل اِلیاب بن یسّی کی بیٹی تھی۔8(k یہوداہ کی سلطنت نے ایسے لوگوں سے تقویت پائی۔ وہ رحبعام بن سلیمان کے لئے تین سال تک مضبوطی کا سبب تھے، کیونکہ تین سال تک یہوداہ داؤد اور سلیمان کے اچھے نمونے پر چلتا رہا۔ '".? رحبعام نے اپنے بیٹوں سے بڑی سمجھ داری کے ساتھ سلوک کیا، کیونکہ اُس نے اُنہیں الگ الگ کر کے یہوداہ اور بن یمین کے پورے قبائلی علاقے اور تمام قلعہ بند شہروں میں بسا دیا۔ ساتھ ساتھ وہ اُنہیں کثرت کی خوراک اور بیویاں مہیا کرتا رہا۔ Q- اُس نے معکہ کے پہلوٹھے ابیاہ کو اُس کے بھائیوں کا سربراہ بنا دیا اور مقرر کیا کہ یہ بیٹا میرے بعد بادشاہ بنے گا۔,{ رحبعام کی 18 بیویاں اور 60 داشتائیں تھیں۔ اِن کے کُل 28 بیٹے اور 60 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ لیکن معکہ بنت ابی سلوم رحبعام کو سب سے زیادہ پیاری تھی۔ Hj(2K یکے بعد دیگرے یہوداہ کے قلعہ بند شہروں پر قبضہ کرتے کرتے مصری بادشاہ یروشلم تک پہنچ گیا۔_19 اُس کی فوج بہت بڑی تھی۔ 1,200 رتھوں کے علاوہ 60,000 گھڑسوار اور لبیا، سُکّیوں کے ملک اور ایتھوپیا کے بےشمار پیادہ سپاہی تھے۔Z0/ اُن کی رب سے بےوفائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ رحبعام کی حکومت کے پانچویں سال میں مصر کے بادشاہ سیسق نے یروشلم پر حملہ کیا۔4/ e جب رحبعام کی سلطنت زور پکڑ کر مضبوط ہو گئی تو اُس نے تمام اسرائیل سمیت رب کی شریعت کو ترک کر دیا۔ R/4Y یہ پیغام سن کر رحبعام اور یہوداہ کے بزرگوں نے بڑی انکساری کے ساتھ تسلیم کیا کہ رب ہی عادل ہے۔*3O تب سمعیاہ نبی رحبعام اور یہوداہ کے اُن بزرگوں کے پاس آیا جنہوں نے سیسق کے آگے آگے بھاگ کر یروشلم میں پناہ لی تھی۔ اُس نے اُن سے کہا، ”رب فرماتا ہے، ’تم نے مجھے ترک کر دیا ہے، اِس لئے اب مَیں تمہیں ترک کر کے سیسق کے حوالے کر دوں گا‘۔“ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr}  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,   ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,   ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  ,  , , , , , , , ,  ,  , ;\Y;7/ مصر کے بادشاہ سیسق نے یروشلم پر حملہ کرتے وقت رب کے گھر اور شاہی محل کے تمام خزانے لُوٹ لئے۔ سونے کی وہ ڈھالیں بھی چھین لی گئیں جو سلیمان نے بنوائی تھیں۔6y لیکن وہ اِس قوم کو ضرور اپنے تابع کر رکھے گا۔ تب وہ سمجھ لیں گے کہ میری خدمت کرنے اور دیگر ممالک کے بادشاہوں کی خدمت کرنے میں کیا فرق ہے۔“ 5; اُن کی یہ عاجزی دیکھ کر رب نے سمعیاہ سے کہا، ”چونکہ اُنہوں نے بڑی خاک ساری سے اپنا غلط رویہ تسلیم کر لیا ہے اِس لئے مَیں اُنہیں تباہ نہیں کروں گا بلکہ جلد ہی اُنہیں رِہا کروں گا۔ میرا غضب سیسق کے ذریعے یروشلم پر نازل نہیں ہو گا۔ X:+ چونکہ رحبعام نے بڑی انکساری سے اپنا غلط رویہ تسلیم کیا اِس لئے رب کا اُس پر غضب ٹھنڈا ہو گیا، اور وہ پورے طور پر تباہ نہ ہوا۔ در حقیقت یہوداہ میں اب تک کچھ نہ کچھ پایا جاتا تھا جو اچھا تھا۔{9q جب بھی بادشاہ رب کے گھر میں جاتا تب محافظ یہ ڈھالیں اُٹھا کر ساتھ لے جاتے۔ اِس کے بعد وہ اُنہیں پہرے داروں کے کمرے میں واپس لے جاتے تھے۔x8k اِن کی جگہ رحبعام نے پیتل کی ڈھالیں بنوائیں اور اُنہیں اُن محافظوں کے افسروں کے سپرد کیا جو شاہی محل کے دروازے کی پہرہ داری کرتے تھے۔ \\ < رحبعام نے اچھی زندگی نہ گزاری، کیونکہ وہ پورے دل سے رب کا طالب نہ رہا تھا۔; رحبعام کی سلطنت نے دوبارہ تقویت پائی، اور یروشلم میں رہ کر وہ اپنی حکومت جاری رکھ سکا۔ 41 سال کی عمر میں وہ تخت نشین ہوا تھا، اور وہ 17 سال بادشاہ رہا۔ اُس کا دار الحکومت یروشلم تھا، وہ شہر جسے رب نے تمام اسرائیلی قبیلوں میں سے چن لیا تاکہ اُس میں اپنا نام قائم کرے۔ اُس کی ماں نعمہ عمونی تھی۔ YH? ; ابیاہ اسرائیل کے بادشاہ یرُبعام اوّل کی حکومت کے 18ویں سال میں یہوداہ کا بادشاہ بنا۔ > جب رحبعام مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں دفنایا گیا جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ پھر اُس کا بیٹا ابیاہ تخت نشین ہوا۔ #=A باقی جو کچھ رحبعام کی حکومت کے دوران شروع سے لے کر آخر تک ہوا وہ سمعیاہ نبی اور غیب بین عِدّو کی تاریخی کتاب میں بیان ہے۔ وہاں اُس کے نسب نامے کا ذکر بھی ہے۔ دونوں بادشاہوں رحبعام اور یرُبعام کے جیتے جی اُن کے درمیان جنگ جاری رہی۔ hBK پھر ابیاہ نے افرائیم کے پہاڑی علاقے کے پہاڑ صمریم پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا، ”یرُبعام اور تمام اسرائیلیو، میری بات سنیں!vAg 4,00,000 تجربہ کار فوجیوں کو جمع کر کے ابیاہ یرُبعام سے لڑنے کے لئے نکلا۔ یرُبعام 8,00,000 تجربہ کار فوجیوں کے ساتھ اُس کے مقابل صف آرا ہوا۔&@G وہ تین سال بادشاہ رہا، اور اُس کا دار الحکومت یروشلم تھا۔ اُس کی ماں معکہ بنت اُوری ایل جِبعہ کی رہنے والی تھی۔ ایک دن ابیاہ اور یرُبعام کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ 9R9E% اُس کے ارد گرد کچھ بدمعاش جمع ہوئے اور رحبعام بن سلیمان کی مخالفت کرنے لگے۔ اُس وقت وہ جوان اور ناتجربہ کار تھا، اِس لئے اُن کا صحیح مقابلہ نہ کر سکا۔ D; توبھی سلیمان بن داؤد کا ملازم یرُبعام بن نباط اپنے مالک کے خلاف اُٹھ کر باغی ہو گیا۔C کیا آپ کو نہیں معلوم کہ رب اسرائیل کے خدا نے داؤد سے نمک کا ابدی عہد باندھ کر اُسے اور اُس کی اولاد کو ہمیشہ کے لئے اسرائیل کی سلطنت عطا کی ہے؟ 77EF اور اب آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ ہم رب کی بادشاہی پر فتح پا سکتے ہیں، اُسی بادشاہی پر جو داؤد کی اولاد کے ہاتھ میں ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی فوج بہت ہی بڑی ہے، اور کہ سونے کے بچھڑے آپ کے ساتھ ہیں، وہی بُت جو یرُبعام نے آپ کی پوجا کے لئے تیار کر رکھے ہیں۔  H لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے رب ہی ہمارا خدا ہے۔ ہم نے اُسے ترک نہیں کیا۔ صرف ہارون کی اولاد ہی ہمارے امام ہیں۔ صرف یہ اور لاوی رب کی خدمت کرتے ہیں۔@G{ لیکن آپ نے رب کے اماموں یعنی ہارون کی اولاد کو لاویوں سمیت ملک سے نکال کر اُن کی جگہ ایسے پجاری خدمت کے لئے مقرر کئے جیسے بُت پرست قوموں میں پائے جاتے ہیں۔ جو بھی چاہتا ہے کہ اُسے مخصوص کر کے امام بنایا جائے اُسے صرف ایک جوان بَیل اور سات مینڈھے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اِن نام نہاد خداؤں کا پجاری بننے کے لئے کافی ہے۔ 7bJ? چنانچہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ وہی ہمارا راہنما ہے، اور اُس کے امام تُرم بجا کر آپ سے لڑنے کا اعلان کریں گے۔ اسرائیل کے مردو، خبردار! رب اپنے باپ دادا کے خدا سے مت لڑنا۔ یہ جنگ آپ جیت ہی نہیں سکتے!“EI یہی صبح شام اُسے بھسم ہونے والی قربانیاں اور خوشبودار بخور پیش کرتے ہیں۔ پاک میز پر رب کے لئے مخصوص روٹیاں رکھنا اور سونے کے شمع دان کے چراغ جلانا اِن ہی کی ذمہ داری رہی ہے۔ غرض، ہم رب اپنے خدا کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں جبکہ آپ نے اُسے ترک کر دیا ہے۔ RR6Mg اور یہوداہ کے مردوں نے جنگ کا نعرہ لگایا۔ جب اُن کی آوازیں بلند ہوئیں تو اللہ نے یرُبعام اور تمام اسرائیلیوں کو شکست دے کر ابیاہ اور یہوداہ کی فوج کے سامنے سے بھگا دیا۔L1 اچانک یہوداہ کے فوجیوں کو پتا چلا کہ دشمن سامنے اور پیچھے سے ہم پر حملہ کر رہا ہے۔ چیختے چلّاتے ہوئے اُنہوں نے رب سے مدد مانگی۔ اماموں نے اپنے تُرم بجائےQK اِتنے میں یرُبعام نے چپکے سے کچھ دستوں کو یہوداہ کی فوج کے پیچھے بھیج دیا تاکہ وہاں تاک میں بیٹھ جائیں۔ یوں اُس کی فوج کا ایک حصہ یہوداہ کی فوج کے سامنے اور دوسرا حصہ اُس کے پیچھے تھا۔ XX(RK ابیاہ کے جیتے جی یرُبعام دوبارہ تقویت نہ پا سکا، اور تھوڑی دیر کے بعد رب نے اُسے مار دیا۔TQ# ابیاہ نے یرُبعام کا تعاقب کرتے کرتے اُس سے تین شہر گرد و نواح کی آبادیوں سمیت چھین لئے، بیت ایل، یسانہ اور عفرون۔XP+ اُس وقت اسرائیل کی بڑی بےعزتی ہوئی جبکہ یہوداہ کو تقویت ملی۔ کیونکہ وہ رب اپنے باپ دادا کے خدا پر بھروسا رکھتے تھے۔EO ابیاہ اور اُس کے لوگ اُنہیں بڑا نقصان پہنچا سکے۔ اسرائیل کے 5,00,000 تجربہ کار فوجی میدانِ جنگ میں مارے گئے۔|Ns اسرائیلی فرار ہوئے، لیکن اللہ نے اُنہیں یہوداہ کے حوالے کر دیا۔ Mx zVoآسا وہ کچھ کرتا رہا جو رب اُس کے خدا کے نزدیک اچھا اور ٹھیک تھا۔iU Oجب ابیاہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں دفنایا گیا جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ پھر اُس کا بیٹا آسا تخت نشین ہوا۔ آسا کی حکومت کے تحت ملک میں 10 سال تک امن و امان قائم رہا۔QT باقی جو کچھ ابیاہ کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا اور کہا، وہ عِدّو نبی کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔ /SY اُس کے مقابلے میں ابیاہ کی طاقت بڑھتی گئی۔ اُس کی 14 بیویوں کے 22 بیٹے اور 16 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ Yیہوداہ کے تمام شہروں سے اُس نے بخور کی قربان گاہیں اور اونچی جگہوں کے مندر دُور کر دیئے۔ چنانچہ اُس کی حکومت کے دوران بادشاہی میں سکون رہا۔\X3ساتھ ساتھ اُس نے یہوداہ کے باشندوں کو ہدایت دی کہ وہ رب اپنے باپ دادا کے خدا کے طالب ہوں اور اُس کے احکام کے تابع رہیں۔,WSاُس نے اجنبی معبودوں کی قربان گاہوں کو اونچی جگہوں کے مندروں سمیت گرا کر دیوتاؤں کے لئے مخصوص کئے گئے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور یسیرت دیوی کے کھمبے کاٹ ڈالے۔ g[Iبادشاہ نے یہوداہ کے باشندوں سے کہا، ”آئیں، ہم اِن شہروں کی قلعہ بندی کریں! ہم اِن کے ارد گرد فصیلیں بنا کر اُنہیں بُرجوں، دروازوں اور کنڈوں سے مضبوط کریں۔ کیونکہ اب تک ملک ہمارے ہاتھ میں ہے۔ چونکہ ہم رب اپنے خدا کے طالب رہے ہیں اِس لئے اُس نے ہمیں چاروں طرف صلح سلامتی مہیا کی ہے۔“ چنانچہ قلعہ بندی کا کام شروع ہوا بلکہ تکمیل تک پہنچ سکا۔vZgامن و امان کے اِن سالوں کے دوران آسا یہوداہ میں کئی شہروں کی قلعہ بندی کر سکا۔ جنگ کا خطرہ نہیں تھا، کیونکہ رب نے اُسے سکون مہیا کیا۔ ;;)^M آسا اُس کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلا۔ وادیِ صفاتہ میں دونوں فوجیں لڑنے کے لئے صف آرا ہوئیں۔c]A ایک دن ایتھوپیا کے بادشاہ زارح نے یہوداہ پر حملہ کیا۔ اُس کے بےشمار فوجی اور 300 رتھ تھے۔ بڑھتے بڑھتے وہ مریسہ تک پہنچ گیا۔-\Uآسا کی فوج میں بڑی ڈھالوں اور نیزوں سے لیس یہوداہ کے 3,00,000 افراد تھے۔ اِس کے علاوہ چھوٹی ڈھالوں اور کمانوں سے مسلح بن یمین کے 2,80,000 افراد تھے۔ سب تجربہ کار فوجی تھے۔ "`? تب رب نے آسا اور یہوداہ کے دیکھتے دیکھتے دشمن کو شکست دی۔ ایتھوپیا کے فوجی فرار ہوئے،\_3 آسا نے رب اپنے خدا سے التماس کی، ”اے رب، صرف تُو ہی بےبسوں کو طاقت وروں کے حملوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اے رب ہمارے خدا، ہماری مدد کر! کیونکہ ہم تجھ پر بھروسا رکھتے ہیں۔ تیرا ہی نام لے کر ہم اِس بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلے ہیں۔ اے رب، تُو ہی ہمارا خدا ہے۔ ایسا نہ ہونے دے کہ انسان تیری مرضی کی خلاف ورزی کرنے میں کامیاب ہو جائے۔“ GyMGcاِس مہم کے دوران اُنہوں نے گلہ بانوں کی خیمہ گاہوں پر بھی حملہ کیا اور اُن سے کثرت کی بھیڑبکریاں اور اونٹ لُوٹ کر اپنے ساتھ یروشلم لے آئے۔ (bKوہ جرار کے ارد گرد کے شہروں پر بھی قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے، کیونکہ مقامی لوگوں میں رب کی دہشت پھیل گئی تھی۔ نتیجے میں اِن شہروں سے بھی بہت سا مال چھین لیا گیا۔a اور آسا نے اپنے فوجیوں کے ساتھ جرار تک اُن کا تعاقب کیا۔ دشمن کے اِتنے افراد ہلاک ہوئے کہ اُس کی فوج بعد میں بحال نہ ہو سکی۔ رب خود اور اُس کی فوج نے دشمن کو تباہ کر دیا تھا۔ یہوداہ کے مردوں نے بہت سا مال لُوٹ لیا۔ 5!5hgKلیکن جب کبھی وہ مصیبت میں پھنس جاتے تو دوبارہ رب اسرائیل کے خدا کے پاس لوٹ آتے۔ وہ اُسے تلاش کرتے اور نتیجے میں اُسے پا لیتے۔Wf)لمبے عرصے تک اسرائیلی حقیقی خدا کے بغیر زندگی گزارتے رہے۔ نہ کوئی امام تھا جو اُنہیں اللہ کی راہ سکھاتا، نہ شریعت۔-eUاور وہ آسا سے ملنے کے لئے نکلا اور کہا، ”اے آسا اور یہوداہ اور بن یمین کے تمام باشندو، میری بات سنو! رب تمہارے ساتھ ہے اگر تم اُسی کے ساتھ رہو۔ اگر تم اُس کے طالب رہو تو اُسے پا لو گے۔ لیکن جب بھی تم اُسے ترک کرو تو وہ تم ہی کو ترک کرے گا۔Pd اللہ کا روح عزریاہ بن عودید پر نازل ہوا، ql-jUلیکن جہاں تک تمہارا تعلق ہے، مضبوط ہو اور ہمت نہ ہارو۔ اللہ ضرور تمہاری محنت کا اجر دے گا۔“i}ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ اور ایک شہر دوسرے کے ساتھ لڑتا رہتا تھا۔ اِس کے پیچھے اللہ کا ہاتھ تھا۔ وہی اُنہیں ہر قسم کی مصیبت میں ڈالتا رہا۔ hاُس زمانے میں سفر کرنا خطرناک ہوتا تھا، کیونکہ امن و امان کہیں نہیں تھا۔ Ik جب آسا نے عودید کے بیٹے عزریاہ نبی کی پیش گوئی سنی تو اُس کا حوصلہ بڑھ گیا، اور اُس نے اپنے پورے علاقے کے گھنونے بُتوں کو دُور کر دیا۔ اِس میں یہوداہ اور بن یمین کے علاوہ افرائیم کے پہاڑی علاقے کے وہ شہر شامل تھے جن پر اُس نے قبضہ کر لیا تھا۔ ساتھ ساتھ اُس نے اُس قربان گاہ کی مرمت کروائی جو رب کے گھر کے دروازے کے سامنے تھی۔ )j)o5 اُنہوں نے عہد باندھا، ’ہم پورے دل و جان سے رب اپنے باپ دادا کے خدا کے طالب رہیں گے۔n3 وہاں اُنہوں نے لُوٹے ہوئے مال میں سے رب کو 700 بَیل اور 7,000 بھیڑبکریاں قربان کر دیں۔m آسا بادشاہ کی حکومت کے 15ویں سال اور تیسرے مہینے میں سب یروشلم میں جمع ہوئے۔~lw پھر اُس نے یہوداہ اور بن یمین کے تمام لوگوں کو یروشلم بُلایا۔ اُن اسرائیلیوں کو بھی دعوت ملی جو افرائیم، منسّی اور شمعون کے قبائلی علاقوں سے منتقل ہو کر یہوداہ میں آباد ہوئے تھے۔ کیونکہ بےشمار لوگ یہ دیکھ کر کہ رب آسا کا خدا اُس کے ساتھ ہے اسرائیل سے نکل کر یہوداہ میں جا بسے تھے۔ *dr!یہ عہد تمام یہوداہ کے لئے خوشی کا باعث تھا، کیونکہ اُنہوں نے پورے دل سے قَسم کھا کر اُسے باندھا تھا۔ اور چونکہ وہ پورے دل سے خدا کے طالب تھے اِس لئے وہ اُسے پا بھی سکے۔ نتیجے میں رب نے اُنہیں چاروں طرف امن و امان مہیا کیا۔Bqبلند آواز سے اُنہوں نے قَسم کھا کر رب سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔ ساتھ ساتھ تُرم اور نرسنگے بجتے رہے۔Rp اور جو رب اسرائیل کے خدا کا طالب نہیں رہے گا اُسے سزائے موت دی جائے گی، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت۔‘ kvk_v9آسا کی حکومت کے 35ویں سال تک جنگ دوبارہ نہ چھڑی۔ Iu سونا چاندی اور باقی جتنی چیزیں اُس کے باپ اور اُس نے رب کے لئے مخصوص کی تھیں اُن سب کو وہ رب کے گھر میں لایا۔Xt+افسوس کہ اُس نے اسرائیل کی اونچی جگہوں کے مندروں کو دُور نہ کیا۔ توبھی آسا اپنے جیتے جی پورے دل سے رب کا وفادار رہا۔sآسا کی ماں معکہ بادشاہ کی ماں ہونے کے باعث بہت اثر و رسوخ رکھتی تھی۔ لیکن آسا نے یہ عُہدہ ختم کر دیا جب ماں نے یسیرت دیوی کا گھنونا کھمبا بنوا لیا۔ آسا نے یہ بُت کٹوا کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور وادیِ قدرون میں جلا دیا۔ bbOxجواب میں آسا نے شام کے بادشاہ بن ہدد کے پاس وفد بھیجا جس کا دار الحکومت دمشق تھا۔ اُس نے رب کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں کی سونا چاندی وفد کے سپرد کر کے دمشق کے بادشاہ کو پیغام بھیجا،Gw آسا کی حکومت کے 36ویں سال میں اسرائیل کے بادشاہ بعشا نے یہوداہ پر حملہ کر کے رامہ شہر کی قلعہ بندی کی۔ مقصد یہ تھا کہ نہ کوئی یہوداہ کے ملک میں داخل ہو سکے، نہ کوئی وہاں سے نکل سکے۔ ,({Kجب بعشا کو اِس کی خبر ملی تو اُس نے رامہ کی قلعہ بندی کرنے سے باز آ کر اپنی یہ مہم چھوڑ دی۔^z7بن ہدد متفق ہوا۔ اُس نے اپنے فوجی افسروں کو اسرائیل کے شہروں پر حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا تو اُنہوں نے عِیون، دان، ابیل مائم اور نفتالی کے اُن تمام شہروں پر قبضہ کر لیا جن میں شاہی گودام تھے۔nyW”میرا آپ کے ساتھ عہد ہے جس طرح میرے باپ کا آپ کے باپ کے ساتھ عہد تھا۔ گزارش ہے کہ آپ سونے چاندی کا یہ تحفہ قبول کر کے اسرائیل کے بادشاہ بعشا کے ساتھ اپنا عہد منسوخ کر دیں تاکہ وہ میرے ملک سے نکل جائے۔“ E  #.9CNYdoz )4?JU`kv%0;FQ\gr|  ,  , , ,  , , , , ,  ,  , , ,  , , , , , , , ,  ,  ,  ,  ,  , , , , , , ,  , , , , , , , ,  ,  -  -  -  - -  - - - - - - - -  -  -  -  -  - - - - - - -  - - - - - - - -  -  -!  -"  -#  -$ eBeY}-اُس وقت حنانی غیب بین یہوداہ کے بادشاہ آسا کو ملنے آیا۔ اُس نے کہا، ”افسوس کہ آپ نے رب اپنے خدا پر اعتماد نہ کیا بلکہ اَرام کے بادشاہ پر، کیونکہ اِس کا بُرا نتیجہ نکلا ہے۔ رب شام کے بادشاہ کی فوج کو آپ کے حوالے کرنے کے لئے تیار تھا، لیکن اب یہ موقع جاتا رہا ہے۔:|oپھر آسا بادشاہ نے یہوداہ کے تمام مردوں کی بھرتی کر کے اُنہیں رامہ بھیج دیا تاکہ وہ اُن تمام پتھروں اور شہتیروں کو اُٹھا کر لے جائیں جن سے بعشا بادشاہ رامہ کی قلعہ بندی کرنا چاہتا تھا۔ اِس سامان سے آسا نے جِبع اور مِصفاہ شہروں کی قلعہ بندی کی۔ 33Q رب تو اپنی نظر پوری رُوئے زمین پر دوڑاتا رہتا ہے تاکہ اُن کی تقویت کرے جو پوری وفاداری سے اُس سے لپٹے رہتے ہیں۔ آپ کی احمقانہ حرکت کی وجہ سے آپ کو اب سے متواتر جنگیں تنگ کرتی رہیں گی۔“t~cکیا آپ بھول گئے ہیں کہ ایتھوپیا اور لبیا کی کتنی بڑی فوج آپ سے لڑنے آئی تھی؟ اُن کے ساتھ کثرت کے رتھ اور گھڑسوار بھی تھے۔ لیکن اُس وقت آپ نے رب پر اعتماد کیا، اور جواب میں اُس نے اُنہیں آپ کے حوالے کر دیا۔ __lS حکومت کے 41ویں سال میں آسا مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا۔} حکومت کے 39ویں سال میں اُس کے پاؤں کو بیماری لگ گئی۔ گو اُس کی بُری حالت تھی توبھی اُس نے رب کو تلاش نہ کیا بلکہ صرف ڈاکٹروں کے پیچھے پڑ گیا۔iM باقی جو کچھ شروع سے لے کر آخر تک آسا کی حکومت کے دوران ہوا وہ ’شاہانِ یہوداہ و اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔<s یہ سن کر آسا غصے سے لال پیلا ہو گیا۔ آپے سے باہر ہو کر اُس نے حکم دیا کہ نبی کو گرفتار کر کے اُس کے پاؤں کاٹھ میں ٹھونکو۔ اُس وقت سے آسا اپنی قوم کے کئی لوگوں پر ظلم کرنے لگا۔ ""F آسا کے بعد اُس کا بیٹا یہوسفط تخت نشین ہوا۔ اُس نے یہوداہ کی طاقت بڑھائی تاکہ وہ اسرائیل کا مقابلہ کر سکے۔اُس نے یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے اپنے لئے چٹان میں قبر تراشی تھی۔ اب اُسے اِس میں دفن کیا گیا۔ جنازے کے وقت لوگوں نے لاش کو ایک پلنگ پر لٹایا دیا جو بلسان کے تیل اور مختلف قسم کے خوشبودار مرہموں سے ڈھانپا گیا تھا۔ پھر اُس کے احترام میں لکڑی کا زبردست ڈھیر جلایا گیا۔ +(+y mاِسی لئے رب نے یہوداہ پر یہوسفط کی حکومت کو طاقت ور بنا دیا۔ لوگ تمام یہوداہ سے آ کر اُسے تحفے دیتے رہے، اور اُسے بڑی دولت اور عزت ملی۔/Yاسرائیل کے بادشاہوں کے برعکس وہ اپنے باپ کے خدا کا طالب رہا اور اُس کے احکام پر عمل کرتا رہا۔,Sرب یہوسفط کے ساتھ تھا، کیونکہ وہ داؤد کے نمونے پر چلتا تھا اور بعل دیوتاؤں کے پیچھے نہ لگا۔q]یہوداہ کے تمام قلعہ بند شہروں میں اُس نے دستے بٹھائے۔ یہوداہ کے پورے قبائلی علاقے میں اُس نے چوکیاں تیار کر رکھیں اور اِسی طرح افرائیم کے اُن شہروں میں بھی جو اُس کے باپ آسا نے اسرائیل سے چھین لئے تھے۔ XX) Mاُن کے ساتھ 9 لاوی بنام سمعیاہ، نتنیاہ، زبدیاہ، عساہیل، سمیراموت، یہونتن، ادونیاہ، طوبیاہ، اور طوب ادونیاہ تھے۔ اماموں کی طرف سے اِلی سمع اور یہورام ساتھ گئے۔u eاپنی حکومت کے تیسرے سال کے دوران یہوسفط نے اپنے ملازموں کو یہوداہ کے تمام شہروں میں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو رب کی شریعت کی تعلیم دیں۔ اِن افسروں میں بن خیل، عبدیاہ، زکریاہ، نتنی ایل اور میکایاہ شامل تھے۔~ wرب کی راہوں پر چلتے چلتے اُسے بڑا حوصلہ ہوا اور نتیجے میں اُس نے اونچی جگہوں کے مندروں اور یسیرت دیوی کے کھمبوں کو یہوداہ سے دُور کر دیا۔ 4I4L ساتھ ساتھ اُس نے یہوداہ کے شہروں میں ضروریاتِ زندگی کے بڑے ذخیرے جمع کئے اور یروشلم میں تجربہ کار فوجی رکھے۔7i یوں یہوسفط کی طاقت بڑھتی گئی۔ یہوداہ کی کئی جگہوں پر اُس نے قلعے اور شاہی گودام کے شہر تعمیر کئے۔I  خراج کے طور پر اُسے فلستیوں سے ہدیئے اور چاندی ملتی تھی، جبکہ عرب اُسے 7,700 مینڈھے اور 7,700 بکرے دیا کرتے تھے۔9m اُس وقت یہوداہ کے پڑوسی ممالک پر رب کا خوف چھا گیا، اور اُنہوں نے یہوسفط سے جنگ کرنے کی جرٲت نہ کی۔3 a رب کی شریعت کی کتاب اپنے ساتھ لے کر اِن آدمیوں نے یہوداہ میں شہر بہ شہر جا کر لوگوں کو تعلیم دی۔  a=اُس کے علاوہ یہوزبد تھا جس کے 1,80,000 مسلح آدمی تھے۔I بن یمین کے قبیلے کا کمانڈر اِلیَدع تھا جو زبردست فوجی تھا۔ اُس کے تحت کمان اور ڈھالوں سے لیس 2,00,000 فوجی تھے۔Y-اور عمسیاہ بن زِکری جس کے تحت 2,00,000 افراد تھے۔ عمسیاہ نے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر رب کی خدمت کے لئے وقف کر دیا تھا۔_9اُس کے علاوہ یوحنان تھا جس کے تحت 2,80,000 افراد تھےdCیہوسفط کی فوج کو کنبوں کے مطابق ترتیب دیا گیا تھا۔ یہوداہ کے قبیلے کا کمانڈر عدنہ تھا۔ اُس کے تحت 3,00,000 تجربہ کار فوجی تھے۔  کچھ سال کے بعد وہ اخی اب سے ملنے کے لئے سامریہ گیا۔ اسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط اور اُس کے ساتھیوں کے لئے بہت سی بھیڑبکریاں اور گائےبَیل ذبح کئے۔ پھر اُس نے یہوسفط کو اپنے ساتھ رامات جِلعاد سے جنگ کرنے پر اُکسایا۔Q غرض یہوسفط کو بڑی دولت اور عزت حاصل ہوئی۔ اُس نے اپنے پہلوٹھے کی شادی اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کی بیٹی سے کرائی۔سب فوج میں بادشاہ کی خدمت سرانجام دیتے تھے۔ اُن میں وہ فوجی نہیں شمار کئے جاتے تھے جنہیں بادشاہ نے پورے یہوداہ کے قلعہ بند شہروں میں رکھا ہوا تھا۔ hKاسرائیل کے بادشاہ نے 400 نبیوں کو بُلا کر اُن سے پوچھا، ”کیا ہم رامات جِلعاد پر حملہ کریں یا مَیں اِس ارادے سے باز رہوں؟“ نبیوں نے جواب دیا، ”جی، کریں، کیونکہ اللہ اُسے بادشاہ کے حوالے کر دے گا۔“b?لیکن مہربانی کر کے پہلے رب کی مرضی معلوم کر لیں۔“}uاخی اب نے یہوسفط سے سوال کیا، ”کیا آپ میرے ساتھ رامات جِلعاد جائیں گے تاکہ اُس پر قبضہ کریں؟“ اُس نے جواب دیا، ”جی ضرور، ہم تو بھائی ہیں، میری قوم کو اپنی قوم سمجھیں! ہم آپ کے ساتھ مل کر لڑنے کے لئے نکلیں گے۔ gG/gDتب اسرائیل کے بادشاہ نے کسی ملازم کو بُلا کر حکم دیا، ”میکایاہ بن اِملہ کو فوراً ہمارے پاس پہنچا دینا!“#اسرائیل کا بادشاہ بولا، ”ہاں، ایک تو ہے جس کے ذریعے ہم رب کی مرضی معلوم کر سکتے ہیں۔ لیکن مَیں اُس سے نفرت کرتا ہوں، کیونکہ وہ میرے بارے میں کبھی بھی اچھی پیش گوئی نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ بُری پیش گوئیاں سناتا ہے۔ اُس کا نام میکایاہ بن اِملہ ہے۔“ یہوسفط نے اعتراض کیا، ”بادشاہ ایسی بات نہ کہے!“5eلیکن یہوسفط مطمئن نہ ہوا۔ اُس نے پوچھا، ”کیا یہاں رب کا کوئی نبی نہیں جس سے ہم دریافت کر سکیں؟“ ^l^ " دوسرے نبی بھی اِس قسم کی پیش گوئیاں کر رہے تھے، ”رامات جِلعاد پر حملہ کریں، کیونکہ آپ ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔ رب شہر کو آپ کے حوالے کر دے گا۔“!- ایک نبی بنام صِدقیاہ بن کنعانہ نے اپنے لئے لوہے کے سینگ بنا کر اعلان کیا، ”رب فرماتا ہے کہ اِن سینگوں سے تُو شام کے فوجیوں کو مار مار کر ہلاک کر دے گا۔“s a اخی اب اور یہوسفط اپنے شاہی لباس پہنے ہوئے سامریہ کے دروازے کے قریب اپنے اپنے تخت پر بیٹھے تھے۔ یہ ایسی کھلی جگہ تھی جہاں اناج گاہا جاتا تھا۔ تمام 400 نبی وہاں اُن کے سامنے اپنی پیش گوئیاں پیش کر رہے تھے۔ wM$ لیکن میکایاہ نے اعتراض کیا، ”رب کی حیات کی قَسم، مَیں بادشاہ کو صرف وہی کچھ بتاؤں گا جو میرا خدا فرمائے گا۔“# جس ملازم کو میکایاہ کو بُلانے کے لئے بھیجا گیا تھا اُس نے راستے میں اُسے سمجھایا، ”دیکھیں، باقی تمام نبی مل کر کہہ رہے ہیں کہ بادشاہ کو کامیابی حاصل ہو گی۔ آپ بھی ایسی ہی باتیں کریں، آپ بھی فتح کی پیش گوئی کریں!“ Q;Qf&Gبادشاہ ناراض ہوا، ”مجھے کتنی دفعہ آپ کو سمجھانا پڑے گا کہ آپ قَسم کھا کر مجھے رب کے نام میں صرف وہ کچھ سنائیں جو حقیقت ہے۔“A%}جب میکایاہ اخی اب کے سامنے کھڑا ہوا تو بادشاہ نے پوچھا، ”میکایاہ، کیا ہم رامات جِلعاد پر حملہ کریں یا مَیں اِس ارادے سے باز رہوں؟“ میکایاہ نے جواب دیا، ”اُس پر حملہ کریں، کیونکہ اُنہیں آپ کے حوالے کر دیا جائے گا، اور آپ کو کامیابی حاصل ہو گی۔“ k|k))لیکن میکایاہ نے اپنی بات جاری رکھی، ”رب کا فرمان سنیں! مَیں نے رب کو اُس کے تخت پر بیٹھے دیکھا۔ آسمان کی پوری فوج اُس کے دائیں اور بائیں ہاتھ کھڑی تھی۔r(_اسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط سے کہا، ”لو، کیا مَیں نے آپ کو نہیں بتایا تھا کہ یہ شخص ہمیشہ میرے بارے میں بُری پیش گوئیاں کرتا ہے؟“'{تب میکایاہ نے جواب میں کہا، ”مجھے تمام اسرائیل گلہ بان سے محروم بھیڑبکریوں کی طرح پہاڑوں پر بکھرا ہوا نظر آیا۔ پھر رب مجھ سے ہم کلام ہوا، ’اِن کا کوئی مالک نہیں ہے۔ ہر ایک سلامتی سے اپنے گھر واپس چلا جائے‘۔“ -$-d-Cاے بادشاہ، رب نے آپ پر آفت لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اِس لئے اُس نے جھوٹی روح کو آپ کے اِن تمام نبیوں کے منہ میں ڈال دیا ہے۔“ ,روح نے جواب دیا، ’مَیں نکل کر اُس کے تمام نبیوں پر یوں قابو پاؤں گی کہ وہ جھوٹ ہی بولیں گے۔‘ رب نے فرمایا، ’تُو کامیاب ہو گی۔ جا اور یوں ہی کر!‘A+}آخرکار ایک روح رب کے سامنے کھڑی ہوئی اور کہنے لگی، ’مَیں اُسے اُکساؤں گی۔‘ رب نے سوال کیا، ’کس طرح؟‘*!رب نے پوچھا، ’کون اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کو رامات جِلعاد پر حملہ کرنے پر اُکسائے گا تاکہ وہ وہاں جا کر مر جائے؟‘ ایک نے یہ مشورہ دیا، دوسرے نے وہ۔ 0mK1اُنہیں بتا دینا، ’اِس آدمی کو جیل میں ڈال کر میرے صحیح سلامت واپس آنے تک کم سے کم روٹی اور پانی دیا کریں‘۔“?0yتب اخی اب بادشاہ نے حکم دیا، ”میکایاہ کو شہر پر مقرر افسر امون اور میرے بیٹے یوآس کے پاس واپس بھیج دو!\/3میکایاہ نے جواب دیا، ”جس دن آپ کبھی اِس کمرے میں، کبھی اُس میں کھسک کر چھپنے کی کوشش کریں گے اُس دن آپ کو پتا چلے گا۔“l.Sتب صِدقیاہ بن کنعانہ نے آگے بڑھ کر میکایاہ کے منہ پر تھپڑ مارا اور بولا، ”رب کا روح کس طرح مجھ سے نکل گیا تاکہ تجھ سے بات کرے؟“  P4جنگ سے پہلے اخی اب نے یہوسفط سے کہا، ”مَیں اپنا بھیس بدل کر میدانِ جنگ میں جاؤں گا۔ لیکن آپ اپنا شاہی لباس نہ اُتاریں۔“ چنانچہ اسرائیل کا بادشاہ اپنا بھیس بدل کر میدانِ جنگ میں آیا۔V3'اِس کے بعد اسرائیل کا بادشاہ اخی اب اور یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط مل کر رامات جِلعاد پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔2)میکایاہ بولا، ”اگر آپ صحیح سلامت واپس آئیں تو مطلب ہو گا کہ رب نے میری معرفت بات نہیں کی۔“ پھر وہ ساتھ کھڑے لوگوں سے مخاطب ہوا، ”تمام لوگ دھیان دیں!“ .7W کیونکہ جب دشمنوں کو معلوم ہوا کہ یہ اخی اب بادشاہ نہیں ہے تو وہ اُس کا تعاقب کرنے سے باز آئے۔q6]جب لڑائی چھڑ گئی تو رتھوں کے افسر یہوسفط پر ٹوٹ پڑے، کیونکہ اُنہوں نے کہا، ”یہی اسرائیل کا بادشاہ ہے!“ لیکن جب یہوسفط مدد کے لئے چلّا اُٹھا تو رب نے اُس کی سنی۔ اُس نے اُن کا دھیان یہوسفط سے کھینچ لیا،5شام کے بادشاہ نے رتھوں پر مقرر اپنے افسروں کو حکم دیا تھا، ”صرف اور صرف بادشاہ پر حملہ کریں۔ کسی اَور سے مت لڑنا، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔“ h: لیکن یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط صحیح سلامت یروشلم اور اپنے محل میں پہنچا۔9#"لیکن چونکہ اُس پورے دن شدید قسم کی لڑائی جاری رہی، اِس لئے بادشاہ اپنے رتھ میں ٹیک لگا کر دشمن کے مقابل کھڑا رہا۔ جب سورج غروب ہونے لگا تو وہ مر گیا۔ |8s!لیکن کسی نے خاص نشانہ باندھے بغیر اپنا تیر چلایا تو وہ اخی اب کو ایسی جگہ جا لگا جہاں زرہ بکتر کا جوڑ تھا۔ بادشاہ نے اپنے رتھ بان کو حکم دیا، ”رتھ کو موڑ کر مجھے میدانِ جنگ سے باہر لے جاؤ! مجھے چوٹ لگ گئی ہے۔“ x<kتوبھی آپ میں اچھی باتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ آپ نے یسیرت دیوی کے کھمبوں کو ملک سے دُور کر کے اللہ کے طالب ہونے کا پکا ارادہ کر رکھا ہے۔“{;qاُس وقت یاہو بن حنانی جو غیب بین تھا اُسے ملنے کے لئے نکلا اور بادشاہ سے کہا، ”کیا یہ ٹھیک ہے کہ آپ شریر کی مدد کریں؟ آپ کیوں اُن کو پیار کرتے ہیں جو رب سے نفرت کرتے ہیں؟ یہ دیکھ کر رب کا غضب آپ پر نازل ہوا ہے۔ e?!اُنہیں سمجھاتے ہوئے اُس نے کہا، ”اپنی روِش پر دھیان دیں! یاد رہے کہ آپ انسان کے جواب دہ نہیں ہیں بلکہ رب کے۔ وہی آپ کے ساتھ ہو گا جب آپ فیصلے کریں گے۔s>aاُس نے یہوداہ کے تمام قلعہ بند شہروں میں قاضی بھی مقرر کئے۔=)اِس کے بعد یہوسفط یروشلم میں رہا۔ لیکن ایک دن وہ دوبارہ نکلا۔ اِس بار اُس نے جنوب میں بیرسبع سے لے کر شمال میں افرائیم کے پہاڑی علاقے تک پورے یہوداہ کا دورہ کیا۔ ہر جگہ وہ لوگوں کو رب اُن کے باپ دادا کے خدا کے پاس واپس لایا۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`ju%0;FQ\gr} -& -' -( -) -* -+ -, -- -. -& -' -( -) -* -+ -, -- -. -/ -0 -1 -2 -3 -4 -5 -6  -7 !-8 "-9  -: -; -< -= -> -? -@ -A  -B  -C  -D  -E -F -G -H -I -J -K -L  -M  -N  -O  -P  -Q -R -S -T -U -V -W -X -Y -Z -[ -\ -] -^ -_ -` -a -b -c  -d !-e "-f #-g $-h %-i  -j @B{ یہوسفط نے اُنہیں سمجھاتے ہوئے کہا، ”رب کا خوف مان کر اپنی خدمت کو وفاداری اور پورے دل سے سرانجام دیں۔hAKیروشلم میں یہوسفط نے کچھ لاویوں، اماموں اور خاندانی سرپرستوں کو انصاف کرنے کی ذمہ داری دی۔ رب کی شریعت سے متعلق کسی معاملے یا یروشلم کے باشندوں کے درمیان جھگڑے کی صورت میں اُنہیں فیصلہ کرنا تھا۔@ چنانچہ اللہ کا خوف مان کر احتیاط سے لوگوں کا انصاف کریں۔ کیونکہ جہاں رب ہمارا خدا ہے وہاں بےانصافی، جانب داری اور رشوت خوری ہو ہی نہیں سکتی۔“ iiC! آپ کے بھائی شہروں سے آ کر آپ کے سامنے اپنے جھگڑے پیش کریں گے تاکہ آپ اُن کا فیصلہ کریں۔ آپ کو قتل کے مقدموں کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ ایسے معاملات بھی ہوں گے جو رب کی شریعت، کسی حکم، ہدایت یا اصول سے تعلق رکھیں گے۔ جو بھی ہو، لازم ہے کہ آپ اُنہیں سمجھائیں تاکہ وہ رب کا گناہ نہ کریں۔ ورنہ اُس کا غضب آپ اور آپ کے بھائیوں پر نازل ہو گا۔ اگر آپ یہ کریں تو آپ بےقصور رہیں گے۔ ** E کچھ دیر کے بعد موآبی، عمونی اور کچھ معونی یہوسفط سے جنگ کرنے کے لئے نکلے۔CD امامِ اعظم امریاہ رب کی شریعت سے تعلق رکھنے والے معاملات کا حتمی فیصلہ کرے گا۔ جو مقدمے بادشاہ سے تعلق رکھتے ہیں اُن کا حتمی فیصلہ یہوداہ کے قبیلے کا سربراہ زبدیاہ بن اسمٰعیل کرے گا۔ عدالت کا انتظام چلانے میں لاوی آپ کی مدد کریں گے۔ اب حوصلہ رکھ کر اپنی خدمت سرانجام دیں۔ جو بھی صحیح کام کرے گا اُس کے ساتھ رب ہو گا۔“ -tIcوہ رب کے گھر کے نئے صحن میں جمع ہوئے اور یہوسفط نے سامنے آ کرH#یہوداہ کے تمام شہروں سے لوگ یروشلم آئے تاکہ مل کر مدد کے لئے رب سے دعا مانگیں۔GG یہ سن کر یہوسفط گھبرا گیا۔ اُس نے رب سے راہنمائی مانگنے کا فیصلہ کر کے اعلان کیا کہ تمام یہوداہ روزہ رکھے۔lFSایک قاصد نے آ کر بادشاہ کو اطلاع دی، ”ملکِ ادوم سے ایک بڑی فوج آپ سے لڑنے کے لئے آ رہی ہے۔ وہ بحیرۂ مُردار کے دوسرے کنارے سے بڑھتی بڑھتی اِس وقت حصصون تمر پہنچ چکی ہے“ (حصصون عین جدی کا دوسرا نام ہے)۔ yL!اِس میں تیری قوم آباد ہوئی۔ تیرے نام کی تعظیم میں مقدِس بنا کر اُنہوں نے کہا،+KQاے ہمارے خدا، تُو نے اِس ملک کے پرانے باشندوں کو اپنی قوم اسرائیل کے آگے سے نکال دیا۔ ابراہیم تیرا دوست تھا، اور اُس کی اولاد کو تُو نے یہ ملک ہمیشہ کے لئے دے دیا۔TJ#دعا کی، ”اے رب، ہمارے باپ دادا کے خدا! تُو ہی آسمان پر تخت نشین خدا ہے، اور تُو ہی دنیا کے تمام ممالک پر حکومت کرتا ہے۔ تیرے ہاتھ میں قدرت اور طاقت ہے۔ کوئی بھی تیرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ F?Ny اب عمون، موآب اور پہاڑی ملک سعیر کی حرکتوں کو دیکھ! جب اسرائیل مصر سے نکلا تو تُو نے اُسے اِن قوموں پر حملہ کرنے اور اِن کے علاقے میں سے گزرنے کی اجازت نہ دی۔ اسرائیل کو متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا، کیونکہ اُسے اِنہیں ہلاک کرنے کی اجازت نہ ملی۔6Mg ’جب بھی آفت ہم پر آئے تو ہم یہاں تیرے حضور آ سکیں گے، چاہے جنگ، وبا، کال یا کوئی اَور سزا ہو۔ اگر ہم اُس وقت اِس گھر کے سامنے کھڑے ہو کر مدد کے لئے تجھے پکاریں تو تُو ہماری سن کر ہمیں بچائے گا، کیونکہ اِس عمارت پر تیرے ہی نام کا ٹھپا لگا ہے۔‘ 2gORتب رب کا روح ایک لاوی بنام یحزی ایل پر نازل ہوا جب وہ جماعت کے درمیان کھڑا تھا۔ یہ آدمی آسف کے خاندان کا تھا، اور اُس کا پورا نام یحزی ایل بن زکریاہ بن بنایاہ بن یعی ایل بن متنیاہ تھا۔uQe یہوداہ کے تمام مرد، عورتیں اور بچے وہاں رب کے حضور کھڑے رہے۔OP اے ہمارے خدا، کیا تُو اُن کی عدالت نہیں کرے گا؟ ہم تو اِس بڑی فوج کے مقابلے میں بےبس ہیں۔ اِس کے حملے سے بچنے کا راستہ ہمیں نظر نہیں آتا، لیکن ہماری آنکھیں مدد کے لئے تجھ پر لگی ہیں۔“JO اب دھیان دے کہ یہ بدلے میں کیا کر رہے ہیں۔ یہ ہمیں اُس موروثی زمین سے نکالنا چاہتے ہیں جو تُو نے ہمیں دی تھی۔ XX1T]کل اُن کے مقابلے کے لئے نکلو۔ اُس وقت وہ درۂ صیص سے ہو کر تمہاری طرف بڑھ رہے ہوں گے۔ تمہارا اُن سے مقابلہ اُس وادی کے سرے پر ہو گا جہاں یروایل کا ریگستان شروع ہوتا ہے۔oSYاُس نے کہا، ”یہوداہ اور یروشلم کے لوگو، میری بات سنیں! اے بادشاہ، آپ بھی اِس پر دھیان دیں۔ رب فرماتا ہے کہ ڈرو مت، اور اِس بڑی فوج کو دیکھ کر مت گھبرانا۔ کیونکہ یہ جنگ تمہارا نہیں بلکہ میرا معاملہ ہے۔ H}EWپھر قہات اور قورح کے خاندانوں کے کچھ لاوی کھڑے ہو کر بلند آواز سے رب اسرائیل کے خدا کی حمد و ثنا کرنے لگے۔GV یہ سن کر یہوسفط منہ کے بل جھک گیا۔ یہوداہ اور یروشلم کے تمام لوگوں نے بھی اوندھے منہ جھک کر رب کی پرستش کی۔4Ucلیکن تمہیں لڑنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ بس دشمن کے آمنے سامنے کھڑے ہو کر رُک جاؤ اور دیکھو کہ رب کس طرح تمہیں چھٹکارا دے گا۔ لہٰذا مت ڈرو، اے یہوداہ اور یروشلم، اور دہشت مت کھاؤ۔ کل اُن کا سامنا کرنے کے لئے نکلو، کیونکہ رب تمہارے ساتھ ہو گا۔“ {Yqلوگوں سے مشورہ کر کے یہوسفط نے کچھ مردوں کو رب کی تعظیم میں گیت گانے کے لئے مقرر کیا۔ مُقدّس لباس پہنے ہوئے وہ فوج کے آگے آگے چل کر حمد و ثنا کا یہ گیت گاتے رہے، ”رب کی ستائش کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔“nXWاگلے دن صبح سویرے یہوداہ کی فوج تقوع کے ریگستان کے لئے روانہ ہوئی۔ نکلتے وقت یہوسفط نے اُن کے سامنے کھڑے ہو کر کہا، ”یہوداہ اور یروشلم کے مردو، میری بات سنیں! رب اپنے خدا پر بھروسا رکھیں تو آپ قائم رہیں گے۔ اُس کے نبیوں کی باتوں کا یقین کریں تو آپ کو کامیابی حاصل ہو گی۔“ u\eیہوداہ کے فوجیوں کو اِس کا علم نہیں تھا۔ چلتے چلتے وہ اُس مقام تک پہنچ گئے جہاں سے ریگستان نظر آتا ہے۔ وہاں وہ دشمن کو تلاش کرنے لگے، لیکن لاشیں ہی لاشیں زمین پر بکھری نظر آئیں۔ ایک بھی دشمن نہیں بچا تھا۔E[پھر عمونیوں اور موآبیوں نے مل کر پہاڑی ملک سعیر کے مردوں پر حملہ کیا تاکہ اُنہیں مکمل طور پر ختم کر دیں۔ جب یہ ہلاک ہوئے تو عمونی اور موآبی ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اُتارنے لگے۔&ZGاُس وقت رب حملہ آور فوج کے مخالفوں کو کھڑا کر چکا تھا۔ اب جب یہوداہ کے مرد حمد کے گیت گانے لگے تو وہ تاک میں سے نکل کر بڑھتی ہوئی فوج پر ٹوٹ پڑے اور اُسے شکست دی۔ .6b.0_[اِس کے بعد یہوداہ اور یروشلم کے تمام مرد یہوسفط کی راہنمائی میں خوشی مناتے ہوئے یروشلم واپس آئے۔ کیونکہ رب نے اُنہیں دشمن کی شکست سے خوشی کا سنہرا موقع عطا کیا تھا۔P^چوتھے دن وہ قریب کی ایک وادی میں جمع ہوئے تاکہ رب کی تعریف کریں۔ اُس وقت سے وادی کا نام ’تعریف کی وادی‘ پڑ گیا۔F]یہوسفط اور اُس کے لوگوں کے لئے صرف دشمن کو لُوٹنے کا کام باقی رہ گیا تھا۔ کثرت کے جانور، قسم قسم کا سامان، کپڑے اور کئی قیمتی چیزیں تھیں۔ اِتنا سامان تھا کہ وہ اُسے ایک وقت میں اُٹھا کر اپنے ساتھ لے جا نہیں سکتے تھے۔ سارا مال جمع کرنے میں تین دن لگے۔ q[qd وہ اپنے باپ آسا کے نمونے پر چلتا اور وہ کچھ کرتا رہا جو رب کو پسند تھا۔Rcیہوسفط 35 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور وہ یروشلم میں رہ کر 25 سال حکومت کرتا رہا۔ اُس کی ماں عزوبہ بنت سِلحی تھی۔Gb اُس وقت سے یہوسفط سکون سے حکومت کر سکا، کیونکہ اللہ نے اُسے چاروں طرف کے ممالک کے حملوں سے محفوظ رکھا تھا۔;aqجب ارد گرد کے ممالک نے سنا کہ کس طرح رب اسرائیل کے دشمنوں سے لڑا ہے تو اُن میں اللہ کی دہشت پھیل گئی۔!`=ستار، سرود اور تُرم بجاتے ہوئے وہ یروشلم میں داخل ہوئے اور رب کے گھر کے پاس جا پہنچے۔ G.#GXh+$دونوں نے مل کر تجارتی جہازوں کا ایسا بیڑا بنوایا جو ترسیس تک پہنچ سکے۔ جب یہ جہاز بندرگاہ عِصیون جابر میں تیار ہوئےCg#بعد میں یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط نے اسرائیل کے بادشاہ اخزیاہ سے اتحاد کیا، گو اُس کا رویہ بےدینی کا تھا۔@f{"باقی جو کچھ یہوسفط کی حکومت کے دوران ہوا وہ شروع سے لے کر آخر تک یاہو بن حنانی کی تاریخ میں بیان کیا گیا ہے۔ بعد میں سب کچھ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج کیا گیا۔Ne!لیکن اُس نے بھی اونچے مقاموں کے مندروں کو ختم نہ کیا، اور لوگوں کے دل اپنے باپ دادا کے خدا کی طرف مائل نہ ہوئے۔ j3jk)یہوسفط کے باقی بیٹے عزریاہ، یحی ایل، زکریاہ، عزریاہو، میکائیل اور سفطیاہ تھے۔*j Qجب یہوسفط مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے خاندانی قبر میں دفن کیا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا یہورام تخت نشین ہوا۔Ii %تو مریسہ کا رہنے والا اِلی عزر بن دوداواہو نے یہوسفط کے خلاف پیش گوئی کی، ”چونکہ آپ اخزیاہ کے ساتھ متحد ہو گئے ہیں اِس لئے رب آپ کا کام تباہ کر دے گا!“ اور واقعی، یہ جہاز کبھی اپنی منزلِ مقصود ترسیس تک پہنچ نہ سکے، کیونکہ وہ پہلے ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ n5یہورام 32 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور وہ یروشلم میں رہ کر 8 سال تک حکومت کرتا رہا۔mبادشاہ بننے کے بعد جب یہوداہ کی حکومت مضبوطی سے اُس کے ہاتھ میں تھی تو یہورام نے اپنے تمام بھائیوں کو یہوداہ کے کچھ راہنماؤں سمیت قتل کر دیا۔4lcیہوسفط نے اُنہیں بہت سونا چاندی اور دیگر قیمتی چیزیں دے کر یہوداہ کے قلعہ بند شہروں پر مقرر کیا تھا۔ لیکن یہورام کو اُس نے پہلوٹھا ہونے کے باعث اپنا جانشین بنایا تھا۔ 9qmیہورام کی حکومت کے دوران ادومیوں نے بغاوت کی اور یہوداہ کی حکومت کو رد کر کے اپنا بادشاہ مقرر کیا۔p/توبھی وہ داؤد کے گھرانے کو تباہ نہیں کرنا چاہتا تھا، کیونکہ اُس نے داؤد سے عہد باندھ کر وعدہ کیا تھا کہ تیرا اور تیری اولاد کا چراغ ہمیشہ تک جلتا رہے گا۔;oqاُس کی شادی اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کی بیٹی سے ہوئی تھی، اور وہ اسرائیل کے بادشاہوں اور خاص کر اخی اب کے خاندان کے بُرے نمونے پر چلتا رہا۔ اُس کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔ |]s5 توبھی ملکِ ادوم آج تک دوبارہ یہوداہ کی حکومت کے تحت نہیں آیا۔ اُسی وقت لِبناہ شہر بھی سرکش ہو کر خود مختار ہو گیا۔ یہ سب کچھ اِس لئے ہوا کہ یہورام نے رب اپنے باپ دادا کے خدا کو ترک کر دیا تھا،r{ تب یہورام اپنے افسروں اور تمام رتھوں کو لے کر اُن کے پاس پہنچا۔ جب جنگ چھڑ گئی تو ادومیوں نے اُسے اور اُس کے رتھوں پر مقرر افسروں کو گھیر لیا، لیکن رات کو بادشاہ گھیرنے والوں کی صفوں کو توڑنے میں کامیاب ہو گیا۔ $uC تب یہورام کو الیاس نبی سے خط ملا جس میں لکھا تھا، ”رب آپ کے باپ داؤد کا خدا فرماتا ہے، ’تُو اپنے باپ یہوسفط اور اپنے دادا آسا بادشاہ کے اچھے نمونے پر نہیں چلاLt یہاں تک کہ اُس نے یہوداہ کے پہاڑی علاقے میں کئی اونچی جگہوں پر مندر بنوائے اور یروشلم کے باشندوں کو رب سے بےوفا ہو جانے پر اُکسایا۔ پورے یہوداہ کو وہ بُت پرستی کی غلط راہ پر لے آیا۔ I_x9تُو خود بیمار ہو جائے گا۔ لاعلاج مرض کی زد میں آ کر تجھے بڑی دیر تک تکلیف ہو گی۔ آخرکار تیری انتڑیاں جسم سے نکلیں گی‘۔“9wmاِس لئے رب تیری قوم، تیرے بیٹوں اور تیری بیویوں کو تیری پوری ملکیت سمیت بڑی مصیبت میں ڈالنے کو ہے۔3va بلکہ اسرائیل کے بادشاہوں کی غلط راہوں پر۔ بالکل اخی اب کے خاندان کی طرح تُو یروشلم اور پورے یہوداہ کے باشندوں کو بُت پرستی کی راہ پر لایا ہے۔ اور یہ تیرے لئے کافی نہیں تھا، بلکہ تُو نے اپنے سگے بھائیوں کو بھی جو تجھ سے بہتر تھے قتل کر دیا۔ 1<{sاِس کے بعد رب کا غضب بادشاہ پر نازل ہوا۔ اُسے لاعلاج بیماری لگ گئی جس سے اُس کی انتڑیاں متاثر ہوئیں۔z یہوداہ میں گھس کر وہ یروشلم تک پہنچ گئے اور بادشاہ کے محل کو لُوٹنے میں کامیاب ہوئے۔ تمام مال و اسباب کے علاوہ اُنہوں نے بادشاہ کے بیٹوں اور بیویوں کو بھی چھین لیا۔ صرف سب سے چھوٹا بیٹا یہوآخز یعنی اخزیاہ بچ نکلا۔Kyاُن دنوں میں رب نے فلستیوں اور ایتھوپیا کے پڑوس میں رہنے والے عرب قبیلوں کو یہورام پر حملہ کرنے کی تحریک دی۔ _})یہورام 32 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور یروشلم میں رہ کر 8 سال تک حکومت کرتا رہا تھا۔ جب فوت ہوا تو کسی کو بھی افسوس نہ ہوا۔ اُسے یروشلم شہر کے اُس حصے میں دفن تو کیا گیا جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے، لیکن شاہی قبروں میں نہیں۔ |5بادشاہ کی حالت بہت خراب ہوتی گئی۔ دو سال کے بعد انتڑیاں جسم سے نکل گئیں۔ یہورام شدید درد کی حالت میں کوچ کر گیا۔ جنازے پر اُس کی قوم نے اُس کے احترام میں لکڑی کا بڑا ڈھیر نہ جلایا، گو اُنہوں نے یہ اُس کے باپ دادا کے لئے کیا تھا۔ TcPاخزیاہ بھی اخی اب کے خاندان کے غلط نمونے پر چل پڑا، کیونکہ اُس کی ماں اُسے بےدین راہوں پر چلنے پر اُبھارتی رہی۔mUوہ 22 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا اور یروشلم میں رہ کر ایک سال بادشاہ رہا۔ اُس کی ماں عتلیاہ اسرائیل کے بادشاہ عُمری کی پوتی تھی۔(~ Mیروشلم کے باشندوں نے یہورام کے سب سے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو تخت پر بٹھا دیا۔ باقی تمام بیٹوں کو اُن لٹیروں نے قتل کیا تھا جو عربوں کے ساتھ شاہی لشکرگاہ میں گھس آئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہوداہ کے بادشاہ یہورام کا بیٹا اخزیاہ بادشاہ بنا۔ oo(Kاور میدانِ جنگ کو چھوڑ کر یزرعیل واپس آیا تاکہ زخم بھر جائیں۔ جب وہ وہاں ٹھہرا ہوا تھا تو یہوداہ کا بادشاہ اخزیاہ بن یہورام اُس کا حال پوچھنے کے لئے یزرعیل آیا۔Y-اِن ہی کے مشورے پر وہ اسرائیل کے بادشاہ یورام بن اخی اب کے ساتھ مل کر شام کے بادشاہ حزائیل سے لڑنے کے لئے نکلا۔ جب رامات جِلعاد کے قریب جنگ چھڑ گئی تو یورام شام کے فوجیوں کے ہاتھوں زخمی ہواباپ کی وفات پر وہ اخی اب کے گھرانے کے مشورے پر چلنے لگا۔ نتیجے میں اُس کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔ آخرکار یہی لوگ اُس کی ہلاکت کا سبب بن گئے۔ :s:5eاخی اب کے خاندان کی عدالت کرتے کرتے یاہو کی ملاقات یہوداہ کے کچھ افسروں اور اخزیاہ کے بعض رشتے داروں سے ہوئی جو اخزیاہ کی خدمت میں اُس کے ساتھ آئے تھے۔ اِنہیں قتل کر کے  لیکن اللہ کی مرضی تھی کہ یہ ملاقات اخزیاہ کی ہلاکت کا باعث بنے۔ وہاں پہنچ کر وہ یورام کے ساتھ یاہو بن نِمسی سے ملنے کے لئے نکلا، وہی یاہو جسے رب نے مسح کر کے اخی اب کے خاندان کو نیست و نابود کرنے کے لئے مخصوص کیا تھا۔ E  "-8CNYdoz)4?JU_ju%0;EP[fq| -l -m -n -o -p -q  -r  -s  -t -l -m -n -o -p -q  -r  -s  -t  -u  -v -w -x -y -z -{ -| -}  -~ - - - - - - -  -  -  -  -  - - - - - - - -  -  -  -  -  - - - - - - - - -  - - - - - - - -  -  -  -  -  - - - - - - K جب اخزیاہ کی ماں عتلیاہ کو معلوم ہوا کہ میرا بیٹا مر گیا ہے تو وہ یہوداہ کے پورے شاہی خاندان کو قتل کرنے لگی۔-U یاہو اخزیاہ کو ڈھونڈنے لگا۔ پتا چلا کہ وہ سامریہ شہر میں چھپ گیا ہے۔ اُسے یاہو کے پاس لایا گیا جس نے اُسے قتل کر دیا۔ توبھی اُسے عزت کے ساتھ دفن کیا گیا، کیونکہ لوگوں نے کہا، ”آخر وہ یہوسفط کا پوتا ہے جو پورے دل سے رب کا طالب رہا۔“ اُس وقت اخزیاہ کے خاندان میں کوئی نہ پایا گیا جو بادشاہ کا کام سنبھال سکتا۔ ..U % بعد میں یوآس کو رب کے گھر میں منتقل کیا گیا جہاں وہ اُن کے ساتھ اُن چھ سالوں کے دوران چھپا رہا جب عتلیاہ ملکہ تھی۔ ue لیکن اخزیاہ کی سگی بہن یہوسبع نے اخزیاہ کے چھوٹے بیٹے یوآس کو چپکے سے اُن شہزادوں میں سے نکال لیا جنہیں قتل کرنا تھا اور اُسے اُس کی دایہ کے ساتھ ایک سٹور میں چھپا دیا جس میں بستر وغیرہ محفوظ رکھے جاتے تھے۔ وہاں وہ عتلیاہ کی گرفت سے محفوظ رہا۔ یہوسبع یہویدع امام کی بیوی تھی۔ _r_ اِن آدمیوں نے چپکے سے یہوداہ کے تمام شہروں میں سے گزر کر لاویوں اور اسرائیلی خاندانوں کے سرپرستوں کو جمع کیا اور پھر اُن کے ساتھ مل کر یروشلم آئے۔  عتلیاہ کی حکومت کے ساتویں سال میں یہویدع نے جرٲت کر کے سَو سَو فوجیوں پر مقرر پانچ افسروں سے عہد باندھا۔ اُن کے نام عزریاہ بن یروحام، اسمٰعیل بن یوحنان، عزریاہ بن عوبید، معسیاہ بن عدایاہ اور اِلی سافط بن زِکری تھے۔ :oدوسرا شاہی محل پر اور تیسرا بنیاد نامی دروازے پر۔ باقی سب آدمی رب کے گھر کے صحنوں میں جمع ہو جائیں۔  چنانچہ اگلے سبت کے دن آپ اماموں اور لاویوں میں سے جتنے ڈیوٹی پر آئیں گے وہ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں۔ ایک حصہ رب کے گھر کے دروازوں پر پہرا دے،i Mاللہ کے گھر میں پوری جماعت نے جوان بادشاہ یوآس کے ساتھ عہد باندھا۔ یہویدع اُن سے مخاطب ہوا، ”ہمارے بادشاہ کا بیٹا ہی ہم پر حکومت کرے، کیونکہ رب نے مقرر کیا ہے کہ داؤد کی اولاد یہ ذمہ داری سنبھالے۔ ee.Wباقی لاوی بادشاہ کے ارد گرد دائرہ بنا کر اپنے ہتھیاروں کو پکڑے رکھیں اور جہاں بھی وہ جائے اُسے گھیرے رکھیں۔ جو بھی رب کے گھر میں گھسنے کی کوشش کرے اُسے مار ڈالنا۔“eEخدمت کرنے والے اماموں اور لاویوں کے سوا کوئی اَور رب کے گھر میں داخل نہ ہو۔ صرف یہی اندر جا سکتے ہیں، کیونکہ رب نے اُنہیں اِس خدمت کے لئے مخصوص کیا ہے۔ لازم ہے کہ پوری قوم رب کی ہدایات پر عمل کرے۔ [\[}u امام نے سَو سَو فوجیوں پر مقرر افسروں کو داؤد بادشاہ کے وہ نیزے اور چھوٹی اور بڑی ڈھالیں دیں جو اب تک رب کے گھر میں محفوظ رکھی ہوئی تھیں۔ ;لاوی اور یہوداہ کے اِن تمام مردوں نے ایسا ہی کیا۔ اگلے سبت کے دن سب اپنے بندوں سمیت اُس کے پاس آئے، وہ بھی جن کی ڈیوٹی تھی اور وہ بھی جن کی اب چھٹی تھی۔ کیونکہ یہویدع نے خدمت کرنے والوں میں سے کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ 878{q لوگوں کا شور عتلیاہ تک پہنچا، کیونکہ سب دوڑ کر جمع ہو رہے اور بادشاہ کی خوشی میں نعرے لگا رہے تھے۔ وہ رب کے گھر کے صحن میں اُن کے پاس آئیU% پھر وہ یوآس کو باہر لائے اور اُس کے سر پر تاج رکھ کر اُسے قوانین کی کتاب دے دی۔ یوں یوآس کو بادشاہ بنا دیا گیا۔ اُنہوں نے اُسے مسح کیا اور بلند آواز سے نعرہ لگانے لگے، ”بادشاہ زندہ باد!“lS پھر اُس نے فوجیوں کو بادشاہ کے ارد گرد کھڑا کیا۔ ہر ایک اپنے ہتھیار پکڑے تیار تھا۔ قربان گاہ اور رب کے گھر کے درمیان اُن کا دائرہ رب کے گھر کی جنوبی دیوار سے لے کر اُس کی شمالی دیوار تک پھیلا ہوا تھا۔ ss   تو کیا دیکھتی ہے کہ نیا بادشاہ دروازے کے قریب اُس ستون کے پاس کھڑا ہے جہاں بادشاہ رواج کے مطابق کھڑا ہوتا ہے، اور وہ افسروں اور تُرم بجانے والوں سے گھرا ہوا ہے۔ تمام اُمّت بھی ساتھ کھڑی تُرم بجا بجا کر خوشی منا رہی ہے۔ ساتھ ساتھ گلوکار اپنے ساز بجا کر حمد کے گیت گانے میں راہنمائی کر رہے ہیں۔ عتلیاہ رنجش کے مارے اپنے کپڑے پھاڑ کر چیخ اُٹھی، ”غداری، غداری!“ S0[پھر یہویدع نے قوم اور بادشاہ کے ساتھ مل کر رب سے عہد باندھ کر وعدہ کیا کہ ہم رب کی قوم رہیں گے۔:oوہ عتلیاہ کو پکڑ کر وہاں سے باہر لے گئے اور اُسے گھوڑوں کے دروازے پر مار دیا جو شاہی محل کے پاس تھا۔)Mیہویدع امام نے سَو سَو فوجیوں پر مقرر اُن افسروں کو بُلایا جن کے سپرد فوج کی گئی تھی اور اُنہیں حکم دیا، ”اُسے باہر لے جائیں، کیونکہ مناسب نہیں کہ اُسے رب کے گھر کے پاس مارا جائے۔ اور جو بھی اُس کے پیچھے آئے اُسے تلوار سے مار دینا۔“ b?یہویدع نے اماموں اور لاویوں کو دوبارہ رب کے گھر کو سنبھالنے کی ذمہ داری دی۔ داؤد نے اُنہیں خدمت کے لئے گروہوں میں تقسیم کیا تھا۔ اُس کی ہدایات کے مطابق اُن ہی کو خوشی مناتے اور گیت گاتے ہوئے بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرنی تھیں، جس طرح موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے۔1]اِس کے بعد سب بعل کے مندر پر ٹوٹ پڑے اور اُسے ڈھا دیا۔ اُس کی قربان گاہوں اور بُتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُنہوں نے بعل کے پجاری متان کو قربان گاہوں کے سامنے ہی مار ڈالا۔ !A}اور تمام اُمّت خوشی مناتی رہی۔ یوں یروشلم شہر کو سکون ملا، کیونکہ عتلیاہ کو تلوار سے مار دیا گیا تھا۔ yپھر وہ سَو سَو فوجیوں پر مقرر افسروں، اثر و رسوخ والوں، قوم کے حکمرانوں اور باقی پوری اُمّت کے ہمراہ جلوس نکال کر بادشاہ کو بالائی دروازے سے ہو کر شاہی محل میں لے گیا۔ وہاں اُنہوں نے بادشاہ کو تخت پر بٹھا دیا،[1رب کے گھر کے دروازوں پر یہویدع نے دربان کھڑے کئے تاکہ ایسے لوگوں کو اندر آنے سے روکا جائے جو کسی بھی وجہ سے ناپاک ہوں۔ s"aکچھ دیر کے بعد یوآس نے رب کے گھر کی مرمت کرانے کا فیصلہ کیا۔!یہویدع نے اُس کی شادی دو خواتین سے کرائی جن کے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوئے۔n Wیہویدع کے جیتے جی یوآس وہ کچھ کرتا رہا جو رب کو پسند تھا۔h Mیوآس 7 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ 40 سال تھا۔ اُس کی ماں ضِبیاہ بیرسبع کی رہنے والی تھی۔ cec~$wتب بادشاہ نے امامِ اعظم یہویدع کو بُلا کر پوچھا، ”آپ نے لاویوں سے کیوں نہیں مطالبہ کیا کہ وہ یہوداہ کے شہروں اور یروشلم سے رب کے گھر کی مرمت کے پیسے جمع کریں؟ یہ تو کوئی نئی بات نہیں ہے، کیونکہ رب کا خادم موسیٰ بھی ملاقات کا خیمہ ٹھیک رکھنے کے لئے اسرائیلی جماعت سے ٹیکس لیتا رہا۔#)اماموں اور لاویوں کو اپنے پاس بُلا کر اُس نے اُنہیں حکم دیا، ”یہوداہ کے شہروں میں سے گزر کر تمام لوگوں سے پیسے جمع کریں تاکہ آپ سال بہ سال اپنے خدا کے گھر کی مرمت کروائیں۔ اب جا کر جلدی کریں۔“ لیکن لاویوں نے بڑی دیر لگائی۔  '  پورے یہوداہ اور یروشلم میں اعلان کیا گیا کہ رب کے لئے وہ ٹیکس ادا کیا جائے جس کا خدا کے خادم موسیٰ نے ریگستان میں اسرائیلیوں سے مطالبہ کیا تھا۔"&?بادشاہ کے حکم پر ایک صندوق بنوایا گیا جو باہر، رب کے گھر کے صحن کے دروازے پر رکھا گیا۔J%آپ کو خود معلوم ہے کہ اُس بےدین عورت عتلیاہ نے اپنے پیروکاروں کے ساتھ رب کے گھر میں نقب لگا کر رب کے لئے مخصوص ہدیئے چھین لئے اور بعل کے اپنے بُتوں کی خدمت کے لئے استعمال کئے تھے۔“ ((b)? تو لاوی اُسے اُٹھا کر بادشاہ کے افسروں کے پاس لے جاتے۔ اگر اُس میں واقعی بہت پیسے ہوتے تو بادشاہ کا میرمنشی اور امامِ اعظم کا ایک افسر آ کر اُسے خالی کر دیتے۔ پھر لاوی اُسے اُس کی جگہ واپس رکھ دیتے تھے۔ یہ سلسلہ روزانہ جاری رہا، اور آخرکار بہت بڑی رقم اکٹھی ہو گئی۔n(W یہ سن کر تمام راہنما بلکہ پوری قوم خوش ہوئی۔ اپنے ہدیئے رب کے گھر کے پاس لا کر وہ اُنہیں صندوق میں ڈالتے رہے۔ جب کبھی وہ بھر جاتا GG=+u رب کے گھر کی مرمت کے نگرانوں نے محنت سے کام کیا، اور اُن کے زیرِ نگرانی ترقی ہوتی گئی۔ آخر میں رب کے گھر کی حالت پہلے کی سی ہو گئی تھی بلکہ اُنہوں نے اُسے مزید مضبوط بنا دیا۔t*c بادشاہ اور یہویدع یہ پیسے اُن ٹھیکے داروں کو دیا کرتے تھے جو رب کے گھر کی مرمت کرواتے تھے۔ یہ پیسے پتھر تراشنے والوں، بڑھئیوں اور اُن کاری گروں کی اُجرت کے لئے صَرف ہوئے جو لوہے اور پیتل کا کام کرتے تھے۔ A[A.'اُسے یروشلم کے اُس حصے میں شاہی قبرستان میں دفنایا گیا جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے، کیونکہ اُس نے اسرائیل میں اللہ اور اُس کے گھر کی اچھی خدمت کی تھی۔l-Sیہویدع نہایت بوڑھا ہو گیا۔ 130 سال کی عمر میں وہ فوت ہوا۔2,_کام کے اختتام پر ٹھیکے دار باقی پیسے یوآس بادشاہ اور یہویدع کے پاس لائے۔ اِن سے اُنہوں نے رب کے گھر کی خدمت کے لئے درکار پیالے، سونے اور چاندی کے برتن اور دیگر کئی چیزیں جو قربانیاں چڑھانے کے لئے استعمال ہوتی تھیں بنوائیں۔ یہویدع کے جیتے جی رب کے گھر میں باقاعدگی سے بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کی جاتی رہیں۔ 'y1mاُس نے اپنے نبیوں کو لوگوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُنہیں سمجھا کر رب کے پاس واپس لائیں۔ لیکن کوئی بھی اُن کی بات سننے کے لئے تیار نہ ہوا۔c0Aاِس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اُن کے ساتھ مل کر رب اپنے باپ کے خدا کے گھر کو چھوڑ کر یسیرت دیوی کے کھمبوں اور بُتوں کی پوجا کرنے لگا۔ اِس گناہ کی وجہ سے اللہ کا غضب یہوداہ اور یروشلم پر نازل ہوا۔U/%یہویدع کی موت کے بعد یہوداہ کے بزرگ یوآس کے پاس آ کر منہ کے بل جھک گئے۔ اُس وقت سے وہ اُن کے مشوروں پر عمل کرنے لگا۔ &*j&@4{یوں یوآس بادشاہ نے اُس مہربانی کا خیال نہ کیا جو یہویدع نے اُس پر کی تھی بلکہ اُسے نظرانداز کر کے اُس کے بیٹے کو قتل کیا۔ مرتے وقت زکریاہ بولا، ”رب دھیان دے کر میرا بدلہ لے!“<3sجواب میں لوگوں نے زکریاہ کے خلاف سازش کر کے اُسے بادشاہ کے حکم پر رب کے گھر کے صحن میں سنگسار کر دیا۔R2پھر اللہ کا روح یہویدع امام کے بیٹے زکریاہ پر نازل ہوا، اور اُس نے قوم کے سامنے کھڑے ہو کر کہا، ”اللہ فرماتا ہے، ’تم رب کے احکام کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہو؟ تمہیں کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔ چونکہ تم نے رب کو ترک کر دیا ہے اِس لئے اُس نے تمہیں ترک کر دیا ہے‘!“ bbA6}اگرچہ شام کی فوج یہوداہ کی فوج کی نسبت بہت چھوٹی تھی توبھی رب نے اُسے فتح بخشی۔ چونکہ یہوداہ نے رب اپنے باپ دادا کے خدا کو ترک کر دیا تھا اِس لئے یوآس کو شام کے ہاتھوں سزا ملی۔U5%اگلے سال کے آغاز میں شام کی فوج یوآس سے لڑنے آئی۔ یہوداہ میں گھس کر اُنہوں نے یروشلم پر فتح پائی اور قوم کے تمام بزرگوں کو مار ڈالا۔ سارا لُوٹا ہوا مال دمشق کو بھیجا گیا جہاں بادشاہ تھا۔ J8سازش کرنے والوں کے نام زبد اور یہوزبد تھے۔ پہلے کی ماں سِمعات عمونی تھی جبکہ دوسرے کی ماں سِمریت موآبی تھی۔U7%جنگ کے دوران یہوداہ کا بادشاہ شدید زخمی ہوا۔ جب دشمن نے ملک کو چھوڑ دیا تو یوآس کے افسروں نے اُس کے خلاف سازش کی۔ یہویدع امام کے بیٹے کے قتل کا انتقام لے کر اُنہوں نے اُسے مار ڈالا جب وہ بیمار حالت میں بستر پر پڑا تھا۔ بادشاہ کو یروشلم کے اُس حصے میں دفن کیا گیا جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ لیکن شاہی قبرستان میں نہیں دفنایا گیا۔ m,m;<qجوں ہی اُس کے پاؤں مضبوطی سے جم گئے اُس نے اُن افسروں کو سزائے موت دی جنہوں نے باپ کو قتل کر دیا تھا۔!;=جو کچھ اَمصیاہ نے کیا وہ رب کو پسند تھا، لیکن وہ پورے دل سے رب کی پیروی نہیں کرتا تھا۔o: [اَمصیاہ 25 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ 29 سال تھا۔ اُس کی ماں یہوعدان یروشلم کی رہنے والی تھی۔89kیوآس کے بیٹوں، اُس کے خلاف نبیوں کے فرمانوں اور اللہ کے گھر کی مرمت کے بارے میں مزید معلومات ’شاہان کی کتاب‘ میں درج ہیں۔ یوآس کے بعد اُس کا بیٹا اَمصیاہ تخت نشین ہوا۔   s=aلیکن اُن کے بیٹوں کو اُس نے زندہ رہنے دیا اور یوں موسوی شریعت کے تابع رہا جس میں رب فرماتا ہے، ”والدین کو اُن کے بچوں کے جرائم کے سبب سے سزائے موت نہ دی جائے، نہ بچوں کو اُن کے والدین کے جرائم کے سبب سے۔ اگر کسی کو سزائے موت دینی ہو تو اُس گناہ کے سبب سے جو اُس نے خود کیا ہے۔“ ?5اِس کے علاوہ اَمصیاہ نے اسرائیل کے 1,00,000 تجربہ کار فوجیوں کو اُجرت پر بھرتی کیا تاکہ وہ جنگ میں مدد کریں۔ اُنہیں اُس نے چاندی کے تقریباً 3,400 کلو گرام دیئے۔~>wاَمصیاہ نے یہوداہ اور بن یمین کے قبیلوں کے تمام مردوں کو بُلا کر اُنہیں خاندانوں کے مطابق ترتیب دیا۔ اُس نے ہزار ہزار اور سَو سَو فوجیوں پر افسر مقرر کئے۔ جتنے بھی مرد 20 یا اِس سے زائد سال کے تھے اُن سب کی بھرتی ہوئی۔ اِس طرح 3,00,000 فوجی جمع ہوئے۔ سب بڑی ڈھالوں اور نیزوں سے لیس تھے۔ GqG&AGاگر آپ اُن کے ساتھ مل کر نکلیں تاکہ مضبوطی سے دشمن سے لڑیں تو اللہ آپ کو دشمن کے سامنے گرا دے گا۔ کیونکہ اللہ کو آپ کی مدد کرنے اور آپ کو گرانے کی قدرت حاصل ہے۔“ @لیکن ایک مردِ خدا نے اَمصیاہ کے پاس آ کر اُسے سمجھایا، ”بادشاہ سلامت، لازم ہے کہ یہ اسرائیلی فوجی آپ کے ساتھ مل کر لڑنے کے لئے نہ نکلیں۔ کیونکہ رب اُن کے ساتھ نہیں ہے، وہ افرائیم کے کسی بھی رہنے والے کے ساتھ نہیں ہے۔  D توبھی اَمصیاہ جرٲت کر کے جنگ کے لئے نکلا۔ اپنی فوج کو نمک کی وادی میں لے جا کر اُس نے ادومیوں پر فتح پائی۔ اُن کے 10,000 مرد میدانِ جنگ میں مارے گئے۔C1 چنانچہ اَمصیاہ نے افرائیم سے آئے ہوئے تمام فوجیوں کو فارغ کر کے واپس بھیج دیا، اور وہ یہوداہ سے بہت ناراض ہوئے۔ ہر ایک بڑے طیش میں اپنے اپنے گھر چلا گیا۔JB اَمصیاہ نے اعتراض کیا، ”لیکن مَیں اسرائیلیوں کو چاندی کے 3,400 کلو گرام ادا کر چکا ہوں۔ اِن پیسوں کا کیا بنے گا؟“ مردِ خدا نے جواب دیا، ”رب آپ کو اِس سے کہیں زیادہ عطا کر سکتا ہے۔“ nKGادومیوں کو شکست دینے کے بعد اَمصیاہ سعیر کے باشندوں کے بُتوں کو لُوٹ کر اپنے گھر واپس لایا۔ وہاں اُس نے اُنہیں کھڑا کیا اور اُن کے سامنے اوندھے منہ جھک کر اُنہیں قربانیاں پیش کیں۔eFE اِتنے میں فارغ کئے گئے اسرائیلی فوجیوں نے سامریہ اور بیت حورون کے بیچ میں واقع یہوداہ کے شہروں پر حملہ کیا تھا۔ لڑتے لڑتے اُنہوں نے 3,000 مردوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا اور بہت سا مال لُوٹ لیا تھا۔%EE دشمن کے مزید 10,000 آدمیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہوداہ کے فوجیوں نے قیدیوں کو ایک اونچی چٹان کی چوٹی پر لے جا کر نیچے گرا دیا۔ اِس طرح سب پاش پاش ہو کر ہلاک ہوئے۔ Iyاَمصیاہ نے نبی کی بات کاٹ کر کہا، ”ہم نے کب سے تجھے بادشاہ کا مشیر بنا دیا ہے؟ خاموش، ورنہ تجھے مار دیا جائے گا۔“ نبی نے خاموش ہو کر اِتنا ہی کہا، ”مجھے معلوم ہے کہ اللہ نے آپ کو آپ کی اِن حرکتوں کی وجہ سے اور اِس لئے کہ آپ نے میرا مشورہ قبول نہیں کیا تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“4Hcیہ دیکھ کر رب اُس سے بہت ناراض ہوا۔ اُس نے ایک نبی کو اُس کے پاس بھیجا جس نے کہا، ”تُو اِن دیوتاؤں کی طرف کیوں رجوع کر رہا ہے؟ یہ تو اپنی قوم کو تجھ سے نجات نہ دلا سکے۔“ ::2K_لیکن اسرائیل کے بادشاہ یوآس نے جواب دیا، ”لبنان میں ایک کانٹےدار جھاڑی نے دیودار کے ایک درخت سے بات کی، ’میرے بیٹے کے ساتھ اپنی بیٹی کا رشتہ باندھو۔‘ لیکن اُسی وقت لبنان کے جنگلی جانوروں نے اُس کے اوپر سے گزر کر اُسے پاؤں تلے کچل ڈالا۔ Jایک دن یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ نے اپنے مشیروں سے مشورہ کرنے کے بعد یوآس بن یہوآخز بن یاہو کو پیغام بھیجا، ”آئیں، ہم ایک دوسرے کا مقابلہ کریں!“ E  #.9DOZeoz *5@KValw&1<GR]hs~ - - - - - - - -  - - - - - - - - -  - - - - - - - -  -  -  -  -  - - - - - - - - - - - - - - - -  - - - - - - - -  -  -  -  -  - - - - - - - - - - -  - - - - - - - -  -  - o^okNQتب اسرائیل کا بادشاہ یوآس اپنی فوج لے کر یہوداہ پر چڑھ آیا۔ بیت شمس کے پاس اُس کا یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ کے ساتھ مقابلہ ہوا۔,MSلیکن اَمصیاہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اللہ اُسے اور اُس کی قوم کو اسرائیلیوں کے حوالے کرنا چاہتا تھا، کیونکہ اُنہوں نے ادومیوں کے دیوتاؤں کی طرف رجوع کیا تھا۔nLWادوم پر فتح پانے کے سبب سے آپ کا دل مغرور ہو کر مزید شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے گھر میں رہیں۔ آپ ایسی مصیبت کو کیوں دعوت دیتے ہیں جو آپ اور یہوداہ کی تباہی کا باعث بن جائے؟“ofbflrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv| Y \ _ d h k n q s u x { }  Y \ _ d h k n q s u x { }       " $ ' )+.1468<=?ADGIKNQ T!X"\#_$c%f&h'k(n)r*v+y,|-~./012 3 45789: ;"<$=&>)?-@/A2B5C8D:E<F?GBHEIHJKKNLPMRNTOWQZR\S^T`UbVeWhXkYnZp[r\t]v^y_|`a k$QCجتنا بھی سونا، چاندی اور قیمتی سامان رب کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں میں تھا اُسے اُس نے پورے کا پورا چھین لیا۔ اُس وقت عوبید ادوم رب کے گھر کے خزانے سنبھالتا تھا۔ یوآس لُوٹا ہوا مال اور بعض یرغمالوں کو لے کر سامریہ واپس چلا گیا۔-PUاسرائیل کے بادشاہ یوآس نے یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ بن یوآس بن اخزیاہ کو وہیں بیت شمس میں گرفتار کر لیا۔ پھر وہ اُسے یروشلم لایا اور شہر کی فصیل افرائیم نامی دروازے سے لے کر کونے کے دروازے تک گرا دی۔ اِس حصے کی لمبائی تقریباً 600 فٹ تھی۔Oاسرائیلی فوج نے یہوداہ کی فوج کو شکست دی، اور ہر ایک اپنے اپنے گھر بھاگ گیا۔ ?j*TOجب سے وہ رب کی پیروی کرنے سے باز آیا اُس وقت سے لوگ یروشلم میں اُس کے خلاف سازش کرنے لگے۔ آخرکار اُس نے فرار ہو کر لکیس میں پناہ لی، لیکن سازش کرنے والوں نے اپنے لوگوں کو اُس کے پیچھے بھیجا، اور وہ وہاں اُسے قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔QSباقی جو کچھ اَمصیاہ کی حکومت کے دوران ہوا وہ شروع سے لے کر آخر تک ’شاہانِ اسرائیل و یہوداہ‘ کی کتاب میں درج ہے۔=Ruاسرائیل کے بادشاہ یوآس بن یہوآخز کی موت کے بعد یہوداہ کا بادشاہ اَمصیاہ بن یوآس مزید 15 سال جیتا رہا۔ dDKdcXAعُزیّاہ 16 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور یروشلم میں رہ کر 52 سال حکومت کرتا رہا۔ اُس کی ماں یکولیاہ یروشلم کی رہنے والی تھی۔9Wmجب اُس کا باپ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا۔ بادشاہ بننے کے بعد عُزیّاہ نے ایلات شہر پر قبضہ کر کے اُسے دوبارہ یہوداہ کا حصہ بنا لیا۔ اُس نے شہر میں بہت تعمیری کام کروایا۔8V mیہوداہ کے تمام لوگوں نے اَمصیاہ کی جگہ اُس کے بیٹے عُزیّاہ کو تخت پر بٹھا دیا۔ اُس کی عمر 16 سال تھی8Ukاُس کی لاش گھوڑے پر اُٹھا کر یہوداہ کے شہر یروشلم لائی گئی جہاں اُسے خاندانی قبر میں دفنایا گیا۔ K v\gلیکن اللہ نے نہ صرف فلستیوں سے لڑتے وقت عُزیّاہ کی مدد کی بلکہ اُس وقت بھی جب جور بعل میں رہنے والے عربوں اور معونیوں سے جنگ چھڑ گئی۔:[oعُزیّاہ نے فلستیوں سے جنگ کر کے جات، یبنہ اور اشدود کی فصیلوں کو ڈھا دیا۔ دیگر کئی شہروں کو اُس نے نئے سرے سے تعمیر کیا جو اشدود کے قریب اور فلستیوں کے باقی علاقے میں تھے۔EZامامِ اعظم زکریاہ کے جیتے جی عُزیّاہ رب کا طالب رہا، کیونکہ زکریاہ اُسے اللہ کا خوف ماننے کی تعلیم دیتا رہا۔ جب تک بادشاہ رب کا طالب رہا اُس وقت تک اللہ اُسے کامیابی بخشتا رہا۔iYMاپنے باپ اَمصیاہ کی طرح اُس کا چال چلن رب کو پسند تھا۔ fFf,_S اُس نے بیابان میں بھی بُرج تعمیر کئے اور ساتھ ساتھ پتھر کے بےشمار حوض تراشے، کیونکہ مغربی یہوداہ کے نشیبی پہاڑی علاقے اور میدانی علاقے میں اُس کے بڑے بڑے ریوڑ چرتے تھے۔ بادشاہ کو کاشت کاری کا کام خاص پسند تھا۔ بہت لوگ پہاڑی علاقوں اور زرخیز وادیوں میں اُس کے کھیتوں اور انگور کے باغوں کی نگرانی کرتے تھے۔,^S یروشلم میں عُزیّاہ نے کونے کے دروازے، وادی کے دروازے اور فصیل کے موڑ پر مضبوط بُرج بنوائے۔6]gعمونیوں کو عُزیّاہ کو خراج ادا کرنا پڑا، اور وہ اِتنا طاقت ور بنا کہ اُس کی شہرت مصر تک پھیل گئی۔ Ecعُزیّاہ نے اپنے تمام فوجیوں کو ڈھالوں، نیزوں، خودوں، زرہ بکتروں، کمانوں اور فلاخن کے سامان سے مسلح کیا۔.bW فوج 3,07,500 جنگ لڑنے کے قابل مردوں پر مشتمل تھی۔ جنگ میں بادشاہ اُن پر پورا بھروسا کر سکتا تھا۔Ta# اِن دستوں پر کنبوں کے 2,600 سرپرست مقرر تھے۔`% عُزیّاہ کی طاقت ور فوج تھی۔ بادشاہ کے اعلیٰ افسر حننیاہ کی راہنمائی میں میرمنشی یعی ایل نے افسر معسیاہ کے ساتھ فوج کی بھرتی کر کے اُسے ترتیب دیا تھا۔ U,fSلیکن امامِ اعظم عزریاہ رب کے مزید 80 بہادر اماموں کو اپنے ساتھ لے کر اُس کے پیچھے پیچھے گیا۔/eYلیکن اِس طاقت نے اُسے مغرور کر دیا، اور نتیجے میں وہ غلط راہ پر آ گیا۔ رب اپنے خدا کا بےوفا ہو کر وہ ایک دن رب کے گھر میں گھس گیا تاکہ بخور کی قربان گاہ پر بخور جلائے۔tdcاور یروشلم کے بُرجوں اور فصیل کے کونوں پر اُس نے ایسی مشینیں لگائیں جو تیر چلا سکتی اور بڑے بڑے پتھر پھینک سکتی تھیں۔ غرض، اللہ کی مدد سے عُزیّاہ کی شہرت دُور دُور تک پھیل گئی، اور اُس کی طاقت بڑھتی گئی۔ |hsعُزیّاہ بخوردان کو پکڑے بخور کو پیش کرنے کو تھا کہ اماموں کی باتیں سن کر آگ بگولا ہو گیا۔ لیکن اُسی لمحے اُس کے ماتھے پر کوڑھ پھوٹ نکلا۔ gاُنہوں نے بادشاہ عُزیّاہ کا سامنا کر کے کہا، ”مناسب نہیں کہ آپ رب کو بخور کی قربانی پیش کریں۔ یہ ہارون کی اولاد یعنی اماموں کی ذمہ داری ہے جنہیں اِس کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ مقدِس سے نکل جائیں، کیونکہ آپ اللہ سے بےوفا ہو گئے ہیں، اور آپ کی یہ حرکت رب خدا کے سامنے عزت کا باعث نہیں بنے گی۔“ `Hk باقی جو کچھ عُزیّاہ کی حکومت کے دوران شروع سے لے کر آخر تک ہوا وہ آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی نے قلم بند کیا ہے۔qj]عُزیّاہ جیتے جی اِس بیماری سے شفا نہ پا سکا۔ اُسے علیٰحدہ گھر میں رہنا پڑا، اور اُسے رب کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اُس کے بیٹے یوتام کو محل پر مقرر کیا گیا، اور وہی اُمّت پر حکومت کرنے لگا۔'iIیہ دیکھ کر امامِ اعظم عزریاہ اور دیگر اماموں نے اُسے جلدی سے رب کے گھر سے نکال دیا۔ عُزیّاہ نے خود بھی وہاں سے نکلنے کی جلدی کی، کیونکہ رب ہی نے اُسے سزا دی تھی۔ yyXn+یوتام نے وہ کچھ کیا جو رب کو پسند تھا۔ وہ اپنے باپ عُزیّاہ کے نمونے پر چلتا رہا، اگرچہ اُس نے کبھی بھی باپ کی طرح رب کے گھر میں گھس جانے کی کوشش نہ کی۔ لیکن عام لوگ اپنی غلط راہوں سے نہ ہٹے۔Km یوتام 25 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور یروشلم میں رہ کر 16 سال تک حکومت کرتا رہا۔ اُس کی ماں یروسہ بنت صدوق تھی۔Xl+جب عُزیّاہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے کوڑھ کی وجہ سے دوسرے بادشاہوں کے ساتھ نہیں دفنایا گیا بلکہ قریب کے ایک کھیت میں جو شاہی خاندان کا تھا۔ پھر اُس کا بیٹا یوتام تخت نشین ہوا۔ MdM,rSیوں یوتام کی طاقت بڑھتی گئی۔ اور وجہ یہ تھی کہ وہ ثابت قدمی سے رب اپنے خدا کے حضور چلتا رہا۔cqAجب عمونی بادشاہ کے ساتھ جنگ چھڑ گئی تو اُس نے عمونیوں کو شکست دی۔ تین سال تک اُنہیں اُسے سالانہ خراج کے طور پر تقریباً 3,400 کلو گرام چاندی، 16,00,000 کلو گرام گندم اور 13,50,000 کلو گرام جَو ادا کرنا پڑا۔(pKیہوداہ کے پہاڑی علاقے میں اُس نے شہر تعمیر کئے اور جنگلی علاقوں میں قلعے اور بُرج بنائے۔loSیوتام نے رب کے گھر کا بالائی دروازہ تعمیر کیا۔ عوفل پہاڑی جس پر رب کا گھر تھا اُس کی دیوار کو اُس نے بہت جگہوں پر مضبوط بنا دیا۔ Eb]Ev %آخز 20 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور یروشلم میں رہ کر 16 سال حکومت کرتا رہا۔ وہ اپنے باپ داؤد کے نمونے پر نہ چلا بلکہ وہ کچھ کرتا رہا جو رب کو ناپسند تھا۔u} جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم کے اُس حصے میں جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے دفنایا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا آخز تخت نشین ہوا۔ tوہ 25 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور یروشلم میں رہ کر 16 سال حکومت کرتا رہا۔ sباقی جو کچھ یوتام کی حکومت کے دوران ہوا وہ ’شاہانِ اسرائیل و یہوداہ‘ کی کتاب میں قلم بند ہے۔ اُس میں اُس کی تمام جنگوں اور باقی کاموں کا ذکر ہے۔ ,q,Byآخز بخور جلا کر اپنی قربانیاں اونچے مقاموں، پہاڑیوں کی چوٹیوں اور ہر گھنے درخت کے سائے میں چڑھاتا تھا۔{xqاُس نے نہ صرف وادیِ بن ہنوم میں بُتوں کو قربانیاں پیش کیں بلکہ اپنے بیٹوں کو بھی قربانی کے طور پر جلا دیا۔ یوں وہ اُن قوموں کے گھنونے رسم و رواج ادا کرنے لگا جنہیں رب نے اسرائیلیوں کے آگے ملک سے نکال دیا تھا۔ wکیونکہ اُس نے اسرائیل کے بادشاہوں کا چال چلن اپنایا۔ بعل کے بُت ڈھلوا کر OK[O| اُس وقت افرائیم کے قبیلے کے پہلوان زِکری نے آخز کے بیٹے معسیاہ، محل کے انچارج عزری قام اور بادشاہ کے بعد سب سے اعلیٰ افسر اِلقانہ کو مار ڈالا۔l{Sایک ہی دن میں یہوداہ کے 1,20,000 تجربہ کار فوجی شہید ہوئے۔ یہ سب کچھ اِس لئے ہوا کہ قوم نے رب اپنے باپ دادا کے خدا کو ترک کر دیا تھا۔1z]اِسی لئے رب اُس کے خدا نے اُسے شام کے بادشاہ کے حوالے کر دیا۔ شام کی فوج نے اُسے شکست دی اور یہوداہ کے بہت سے لوگوں کو قیدی بنا کر دمشق لے گئی۔ آخز کو اسرائیل کے بادشاہ فِقَح بن رملیاہ کے حوالے بھی کر دیا گیا جس نے اُسے شدید نقصان پہنچایا۔  O @~{ سامریہ میں رب کا ایک نبی بنام عودید رہتا تھا۔ جب اسرائیلی فوجی میدانِ جنگ سے واپس آئے تو عودید اُن سے ملنے کے لئے نکلا۔ اُس نے اُن سے کہا، ”دیکھیں، رب آپ کے باپ دادا کا خدا یہوداہ سے ناراض تھا، اِس لئے اُس نے اُنہیں آپ کے حوالے کر دیا۔ لیکن آپ لوگ طیش میں آ کر اُن پر یوں ٹوٹ پڑے کہ اُن کا قتلِ عام آسمان تک پہنچ گیا ہے۔-}Uاسرائیلیوں نے یہوداہ کی 2,00,000 عورتیں اور بچے چھین لئے اور کثرت کا مال لُوٹ کر سامریہ لے گئے۔ - افرائیم کے قبیلے کے کچھ سرپرستوں نے بھی فوجیوں کا سامنا کیا۔ اُن کے نام عزریاہ بن یوحنان، برکیاہ بن مسِلّموت، یحِزقیاہ بن سلّوم اور عماسا بن خدلی تھے۔sa چنانچہ میری بات سنیں! اِن قیدیوں کو واپس کریں جو آپ نے اپنے بھائیوں سے چھین لئے ہیں۔ کیونکہ رب کا سخت غضب آپ پر نازل ہونے والا ہے۔“R لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ اب آپ یہوداہ اور یروشلم کے بچے ہوؤں کو اپنے غلام بنانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم اُن سے اچھے ہیں؟ نہیں، آپ سے بھی رب اپنے خدا کے خلاف گناہ سرزد ہوئے ہیں۔ I تب فوجیوں نے اپنے قیدیوں کو آزاد کر کے اُنہیں لُوٹے ہوئے مال کے ساتھ بزرگوں اور پوری جماعت کے حوالے کر دیا۔oY اُنہوں نے کہا، ”اِن قیدیوں کو یہاں مت لے آئیں، ورنہ ہم رب کے سامنے قصوروار ٹھہریں گے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے گناہوں میں اضافہ کریں؟ ہمارا قصور پہلے ہی بہت بڑا ہے۔ ہاں، رب اسرائیل پر سخت غصے ہے۔“ MMاُس وقت آخز بادشاہ نے اسور کے بادشاہ سے التماس کی، ”ہماری مدد کرنے آئیں۔“3مذکورہ چار آدمیوں نے سامنے آ کر قیدیوں کو اپنے پاس محفوظ رکھا۔ لُوٹے ہوئے مال میں سے کپڑے نکال کر اُنہوں نے اُنہیں اُن میں تقسیم کیا جو برہنہ تھے۔ اِس کے بعد اُنہوں نے تمام قیدیوں کو کپڑے اور جوتے دے دیئے، اُنہیں کھانا کھلایا، پانی پلایا اور اُن کے زخموں کی مرہم پٹی کی۔ جتنے تھکاوٹ کی وجہ سے چل نہ سکتے تھے اُنہیں اُنہوں نے گدھوں پر بٹھایا، پھر چلتے چلتے سب کو کھجور کے شہر یریحو تک پہنچایا جہاں اُن کے اپنے لوگ تھے۔ پھر وہ سامریہ لوٹ آئے۔ g!اِس طرح رب نے یہوداہ کو آخز کی وجہ سے زیر کر دیا، کیونکہ بادشاہ نے یہوداہ میں بےلگام بےراہ روی پھیلنے دی اور رب سے اپنی بےوفائی کا صاف اظہار کیا تھا۔ ساتھ ساتھ فلستی مغربی یہوداہ کے نشیبی پہاڑی علاقے اور جنوبی علاقے میں گھس آئے تھے اور ذیل کے شہروں پر قبضہ کر کے اُن میں رہنے لگے تھے: بیت شمس، ایالون، جدیروت، نیز سوکہ، تِمنت اور جِمزو گرد و نواح کی آبادیوں سمیت۔%کیونکہ ادومی یہوداہ میں گھس کر کچھ لوگوں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ 3u eگو وہ اُس وقت بڑی مصیبت میں تھا توبھی رب سے اَور دُور ہو گیا۔ !آخز نے رب کے گھر، شاہی محل اور اپنے اعلیٰ افسروں کے خزانوں کو لُوٹ کر سارا مال اسور کے بادشاہ کو بھیج دیا، لیکن بےفائدہ۔ اِس سے اُسے صحیح مدد نہ ملی۔I  اسور کے بادشاہ تِگلت پِل ایسر اپنی فوج لے کر ملک میں آیا، لیکن آخز کی مدد کرنے کے بجائے اُس نے اُسے تنگ کیا۔ Y -آخز نے حکم دیا کہ اللہ کے گھر کا سارا سامان نکال کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ پھر اُس نے رب کے گھر کے دروازوں پر تالا لگا دیا۔ اُس کی جگہ اُس نے یروشلم کے کونے کونے میں قربان گاہیں کھڑی کر دیں۔ وہ شام کے دیوتاؤں کو قربانیاں پیش کرنے لگا، کیونکہ اُس کا خیال تھا کہ اِن ہی نے مجھے شکست دی ہے۔ اُس نے سوچا، ”شام کے دیوتا اپنے بادشاہوں کی مدد کرتے ہیں! اب سے مَیں اُنہیں قربانیاں پیش کروں گا تاکہ وہ میری بھی مدد کریں۔“ لیکن یہ دیوتا بادشاہ آخز اور پوری قوم کے لئے تباہی کا باعث بن گئے۔ zoجب آخز مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے یروشلم میں دفن کیا گیا، لیکن شاہی قبرستان میں نہیں۔ پھر اُس کا بیٹا حِزقیاہ تخت نشین ہوا۔ oYباقی جو کچھ اُس کی حکومت کے دوران ہوا اور جو کچھ اُس نے کیا وہ شروع سے لے کر آخر تک ’شاہانِ یہوداہ و اسرائیل‘ کی کتاب میں درج ہے۔5eساتھ ساتھ اُس نے دیگر معبودوں کو قربانیاں پیش کرنے کے لئے یہوداہ کے ہر شہر کی اونچی جگہوں پر مندر تعمیر کئے۔ ایسی حرکتوں سے وہ رب اپنے باپ دادا کے خدا کو طیش دلاتا رہا۔ VVلاویوں اور اماموں کو بُلا کر اُس نے اُنہیں رب کے گھر کے مشرقی صحن میں جمع کیا9mاپنی حکومت کے پہلے سال کے پہلے مہینے میں اُس نے رب کے گھر کے دروازوں کو کھول کر اُن کی مرمت کروائی۔q]اپنے باپ داؤد کی طرح اُس نے ایسا کام کیا جو رب کو پسند تھا۔_ ;جب حِزقیاہ بادشاہ بنا تو اُس کی عمر 25 سال تھی۔ یروشلم میں رہ کر وہ 29 سال حکومت کرتا رہا۔ اُس کی ماں ابیاہ بنت زکریاہ تھی۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr} - - - - - -  -  -  . - - - - - -  -  -  .  .  . . . . . . . . . . . . . . .  . . . . . . . .  .  .  .  .  . . . . .! ." .# .$ .% .& .' .( .) .* .+ ., .- .. ./  .0 !.1 ".2 #.3 $.4  .5 .6 .7 .8 .9 .: .; .< FFQرب کے گھر کے سامنے والے برآمدے کے دروازوں پر اُنہوں نے تالا لگا کر چراغوں کو بجھا دیا۔ نہ اسرائیل کے خدا کے لئے بخور جلایا جاتا، نہ بھسم ہونے والی قربانیاں مقدِس میں پیش کی جاتی تھیں۔3ہمارے باپ دادا بےوفا ہو کر وہ کچھ کرتے گئے جو رب ہمارے خدا کو ناپسند تھا۔ اُنہوں نے اُسے چھوڑ دیا، اپنے منہ کو رب کی سکونت گاہ سے پھیر کر دوسری طرف چل پڑے۔A}اور کہا، ”اے لاویو، میری بات سنیں! اپنے آپ کو خدمت کے لئے مخصوص و مُقدّس کریں، اور رب اپنے باپ دادا کے خدا کے گھر کو بھی مخصوص و مُقدّس کریں۔ تمام ناپاک چیزیں مقدِس سے نکالیں!   2_ لیکن اب مَیں رب اسرائیل کے خدا کے ساتھ عہد باندھنا چاہتا ہوں تاکہ اُس کا سخت قہر ہم سے ٹل جائے۔]5 ہماری بےوفائی کی وجہ سے ہمارے باپ تلوار کی زد میں آ کر مارے گئے اور ہمارے بیٹے بیٹیاں اور بیویاں ہم سے چھین لی گئی ہیں۔Z/اِسی وجہ سے رب کا غضب یہوداہ اور یروشلم پر نازل ہوا ہے۔ ہماری حالت کو دیکھ کر لوگ گھبرا گئے، اُن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ ہم دوسروں کے لئے مذاق کا نشانہ بن گئے ہیں۔ آپ خود اِس کے گواہ ہیں۔ 9i9'ہیمان کے خاندان کا یحی ایل اور سِمعی، یدوتون کے خاندان کا سمعیاہ اور عُزی ایل۔ اِلی صفن کے خاندان کا سِمری اور یعی ایل، آسف کے خاندان کا زکریاہ اور متنیاہ،hK پھر ذیل کے لاوی خدمت کے لئے تیار ہوئے: قہات کے خاندان کا محت بن عماسی اور یوایل بن عزریاہ، مراری کے خاندان کا قیس بن عبدی اور عزریاہ بن یہلّل ایل، جیرسون کے خاندان کا یوآخ بن زِمّہ اور عدن بن یوآخ،'I میرے بیٹو، اب سُستی نہ دکھائیں، کیونکہ رب نے آپ کو چن کر اپنے خادم بنایا ہے۔ آپ کو اُس کے حضور کھڑے ہو کر اُس کی خدمت کرنے اور بخور جلانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔“ DfD 7امام رب کے گھر میں داخل ہوئے اور اُس میں سے ہر ناپاک چیز نکال کر اُسے صحن میں لائے۔ وہاں سے لاویوں نے سب کچھ اُٹھا کر شہر سے باہر وادیِ قدرون میں پھینک دیا۔'باقی لاویوں کو بُلا کر اُنہوں نے اپنے آپ کو رب کی خدمت کے لئے مخصوص و مُقدّس کیا۔ پھر وہ بادشاہ کے حکم کے مطابق رب کے گھر کو پاک صاف کرنے لگے۔ کام کرتے کرتے اُنہوں نے اِس کا خیال کیا کہ سب کچھ رب کی ہدایات کے مطابق ہو رہا ہو۔ j"%حِزقیاہ بادشاہ کے پاس جا کر اُنہوں نے کہا، ”ہم نے رب کے پورے گھر کو پاک صاف کر دیا ہے۔ اِس میں جانوروں کو جلانے کی قربان گاہ اُس کے سامان سمیت اور وہ میز جس پر رب کے لئے مخصوص روٹیاں رکھی جاتی ہیں اُس کے سامان سمیت شامل ہے۔!رب کے گھر کی قدوسیت بحال کرنے کا کام پہلے مہینے کے پہلے دن شروع ہوا، اور ایک ہفتے کے بعد وہ سامنے والے برآمدے تک پہنچ گئے تھے۔ ایک اَور ہفتہ پورے گھر کو مخصوص و مُقدّس کرنے میں صرف ہوا۔ پہلے مہینے کے 16ویں دن کام مکمل ہوا۔ 4$cاگلے دن حِزقیاہ بادشاہ صبح سویرے شہر کے تمام بزرگوں کو بُلا کر اُن کے ساتھ رب کے گھر کے پاس گیا۔2#_اور جتنی چیزیں آخز نے بےوفا بن کر اپنی حکومت کے دوران رد کر دی تھیں اُن سب کو ہم نے ٹھیک کر کے دوبارہ مخصوص و مُقدّس کر دیا ہے۔ اب وہ رب کی قربان گاہ کے سامنے پڑی ہیں۔“ gg&پہلے بَیلوں کو ذبح کیا گیا۔ اماموں نے اُن کا خون جمع کر کے اُسے قربان گاہ پر چھڑکا۔ اِس کے بعد مینڈھوں کو ذبح کیا گیا۔ اِس بار بھی اماموں نے اُن کا خون قربان گاہ پر چھڑکا۔ بھیڑ کے بچوں کے خون کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا گیا۔%سات جوان بَیل، سات مینڈھے اور بھیڑ کے سات بچے بھسم ہونے والی قربانی کے لئے صحن میں لائے گئے، نیز سات بکرے جنہیں گناہ کی قربانی کے طور پر شاہی خاندان، مقدِس اور یہوداہ کے لئے پیش کرنا تھا۔ حِزقیاہ نے ہارون کی اولاد یعنی اماموں کو حکم دیا کہ اِن جانوروں کو رب کی قربان گاہ پر چڑھائیں۔ rQ)حِزقیاہ نے لاویوں کو جھانجھ، ستار اور سرود تھما کر اُنہیں رب کے گھر میں کھڑا کیا۔ سب کچھ اُن ہدایات کے مطابق ہوا جو رب نے داؤد بادشاہ، اُس کے غیب بین جاد اور ناتن نبی کی معرفت دی تھیں۔ (پھر اماموں نے اُنہیں ذبح کر کے اُن کا خون گناہ کی قربانی کے طور پر قربان گاہ پر چھڑکا تاکہ اسرائیل کا کفارہ دیا جائے۔ کیونکہ بادشاہ نے حکم دیا تھا کہ بھسم ہونے والی اور گناہ کی قربانی تمام اسرائیل کے لئے پیش کی جائے۔{'qآخر میں گناہ کی قربانی کے لئے مخصوص بکروں کو بادشاہ اور جماعت کے سامنے لایا گیا، اور اُنہوں نے اپنے ہاتھوں کو بکروں کے سروں پر رکھ دیا۔ q.qu-eاِس کے بعد حِزقیاہ اور تمام حاضرین دوبارہ منہ کے بل جھک گئے۔X,+تمام جماعت اوندھے منہ جھک گئی جبکہ لاوی گیت گاتے اور امام تُرم بجاتے رہے۔ یہ سلسلہ اِس قربانی کی تکمیل تک جاری رہا۔e+Eپھر حِزقیاہ نے حکم دیا کہ بھسم ہونے والی قربانی قربان گاہ پر پیش کی جائے۔ جب امام یہ کام کرنے لگے تو لاوی رب کی تعریف میں گیت گانے لگے۔ ساتھ ساتھ تُرم اور داؤد بادشاہ کے بنوائے ہوئے ساز بجنے لگے۔N*لاوی اُن سازوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے جو داؤد نے بنوائے تھے، اور امام اپنے تُرموں کو تھامے اُن کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ ~/wپھر حِزقیاہ لوگوں سے مخاطب ہوا، ”آج آپ نے اپنے آپ کو رب کے لئے وقف کر دیا ہے۔ اب وہ کچھ رب کے گھر کے پاس لے آئیں جو آپ ذبح اور سلامتی کی قربانی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔“ تب لوگ ذبح اور سلامتی کی اپنی قربانیاں لے آئے۔ نیز، جس کا بھی دل چاہتا تھا وہ بھسم ہونے والی قربانیاں لایا۔8.kبادشاہ اور بزرگوں نے لاویوں کو کہا، ”داؤد اور آسف غیب بین کے زبور گا کر رب کی ستائش کریں۔“ چنانچہ لاویوں نے بڑی خوشی سے حمد و ثنا کے گیت گائے۔ وہ بھی اوندھے منہ جھک گئے۔ oAoD2"لیکن اِتنے جانوروں کی کھالوں کو اُتارنے کے لئے امام کم تھے، اِس لئے لاویوں کو اُن کی مدد کرنی پڑی۔ اِس کام کے اختتام تک بلکہ جب تک مزید امام خدمت کے لئے تیار اور پاک نہیں ہو گئے تھے لاوی مدد کرتے رہے۔ اماموں کی نسبت زیادہ لاوی پاک صاف ہو گئے تھے، کیونکہ اُنہوں نے زیادہ لگن سے اپنے آپ کو رب کے لئے مخصوص و مُقدّس کیا تھا۔1!اُن کے علاوہ 600 بَیل اور 3,000 بھیڑبکریاں رب کے گھر کے لئے مخصوص کی گئیں۔;0q اِس طرح بھسم ہونے والی قربانی کے لئے 70 بَیل، 100 مینڈھے اور بھیڑ کے 200 بچے جمع کر کے رب کو پیش کئے گئے۔ S S65 iحِزقیاہ نے اسرائیل اور یہوداہ کی ہر جگہ اپنے قاصدوں کو بھیج کر لوگوں کو رب کے گھر میں آنے کی دعوت دی، کیونکہ وہ اُن کے ساتھ رب اسرائیل کے خدا کی تعظیم میں فسح کی عید منانا چاہتا تھا۔ اُس نے افرائیم اور منسّی کے قبیلوں کو بھی دعوت نامے بھیجے۔&4G$حِزقیاہ اور پوری قوم نے خوشی منائی کہ اللہ نے یہ سب کچھ اِتنی جلدی سے ہمیں مہیا کیا ہے۔ E3#بھسم ہونے والی بےشمار قربانیوں کے علاوہ اماموں نے سلامتی کی قربانیوں کی چربی بھی جلائی۔ ساتھ ساتھ اُنہوں نے مَے کی نذریں پیش کیں۔ یوں رب کے گھر میں خدمت کا نئے سرے سے آغاز ہوا۔ .*8Oاِن باتوں کے پیشِ نظر بادشاہ اور تمام حاضرین اِس پر متفق ہوئے کہ فسح کی عید ملتوی کی جائے۔w7iعام طور پر یہ پہلے مہینے میں منائی جاتی تھی، لیکن اُس وقت تک خدمت کے لئے تیار امام کافی نہیں تھے۔ کیونکہ اب تک سب اپنے آپ کو پاک صاف نہ کر سکے۔ دوسری بات یہ تھی کہ لوگ اِتنی جلدی سے یروشلم میں جمع نہ ہو سکے۔N6بادشاہ نے اپنے افسروں اور یروشلم کی پوری جماعت کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ ہم یہ عید دوسرے مہینے میں منائیں گے۔ AJA:بادشاہ کے حکم پر قاصد اسرائیل اور یہوداہ میں سے گزرے۔ ہر جگہ اُنہوں نے لوگوں کو بادشاہ اور اُس کے افسروں کے خط پہنچا دیئے۔ خط میں لکھا تھا، ”اے اسرائیلیو، رب ابراہیم، اسحاق اور اسرائیل کے خدا کے پاس واپس آئیں! پھر وہ بھی آپ کے پاس جو اسوری بادشاہوں کے ہاتھ سے بچ نکلے ہیں واپس آئے گا۔29_اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم تمام اسرائیلیوں کو جنوب میں بیرسبع سے لے کر شمال میں دان تک دعوت دیں گے۔ سب یروشلم آئیں تاکہ ہم مل کر رب اسرائیل کے خدا کی تعظیم میں فسح کی عید منائیں۔ اصل میں یہ عید بڑی دیر سے ہدایات کے مطابق نہیں منائی گئی تھی۔ uS<!اُن کی طرح اَڑے نہ رہیں بلکہ رب کے تابع ہو جائیں۔ اُس کے مقدِس میں آئیں، جو اُس نے ہمیشہ کے لئے مخصوص و مُقدّس کر دیا ہے۔ رب اپنے خدا کی خدمت کریں تاکہ آپ اُس کے سخت غضب کا نشانہ نہ رہیں۔; اپنے باپ دادا اور بھائیوں کی طرح نہ بنیں جو رب اپنے باپ دادا کے خدا سے بےوفا ہو گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے اُنہیں ایسی حالت میں چھوڑ دیا کہ جس نے بھی اُنہیں دیکھا اُس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ آپ خود اِس کے گواہ ہیں۔ 2=2%?E صرف آشر، منسّی اور زبولون کے چند ایک آدمی فروتنی کا اظہار کر کے مان گئے اور یروشلم آئے۔^>7 قاصد افرائیم اور منسّی کے پورے قبائلی علاقے میں سے گزرے اور ہر شہر کو یہ پیغام پہنچایا۔ پھر چلتے چلتے وہ زبولون تک پہنچ گئے۔ لیکن اکثر لوگ اُن کی بات سن کر ہنس پڑے اور اُن کا مذاق اُڑانے لگے۔?=y اگر آپ رب کے پاس لوٹ آئیں تو جنہوں نے آپ کے بھائیوں اور اُن کے بال بچوں کو قید کر لیا ہے وہ اُن پر رحم کر کے اُنہیں اِس ملک میں واپس آنے دیں گے۔ کیونکہ رب آپ کا خدا مہربان اور رحیم ہے۔ اگر آپ اُس کے پاس واپس آئیں تو وہ اپنا منہ آپ سے نہیں پھیرے گا۔“ [ r[B!پہلے اُنہوں نے شہر سے بُتوں کی تمام قربان گاہوں کو دُور کر دیا۔ بخور جلانے کی چھوٹی قربان گاہوں کو بھی اُنہوں نے اُٹھا کر وادیِ قدرون میں پھینک دیا۔A! دوسرے مہینے میں بہت زیادہ لوگ بےخمیری روٹی کی عید منانے کے لئے یروشلم پہنچے۔s@a یہوداہ میں اللہ نے لوگوں کو تحریک دی کہ اُنہوں نے یک دلی سے اُس حکم پر عمل کیا جو بادشاہ اور بزرگوں نے رب کے فرمان کے مطابق دیا تھا۔ ,w,GE لیکن حاضرین میں سے بہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو صحیح طور پر پاک صاف نہیں کیا تھا۔ اُن کے لئے لاویوں نے فسح کے لیلوں کو ذبح کیا تاکہ اُن کی قربانیوں کو بھی رب کے لئے مخصوص کیا جا سکے۔D3وہ خدمت کے لئے یوں کھڑے ہو گئے جس طرح مردِ خدا موسیٰ کی شریعت میں فرمایا گیا ہے۔ لاوی قربانیوں کا خون اماموں کے پاس لائے جنہوں نے اُسے قربان گاہ پر چھڑکا۔eCEدوسرے مہینے کے 14ویں دن فسح کے لیلوں کو ذبح کیا گیا۔ اماموں اور لاویوں نے شرمندہ ہو کر اپنے آپ کو خدمت کے لئے پاک صاف کر رکھا تھا، اور اب اُنہوں نے بھسم ہونے والی قربانیوں کو رب کے گھر میں پیش کیا۔ "9^H7رب نے حِزقیاہ کی دعا سن کر لوگوں کو بحال کر دیا۔eGEجو پورے دل سے رب اپنے باپ دادا کے خدا کا طالب رہنے کا ارادہ رکھتا ہے، خواہ اُسے مقدِس کے لئے درکار پاکیزگی حاصل نہ بھی ہو۔“ZF/خاص کر افرائیم، منسّی، زبولون اور اِشکار کے اکثر لوگوں نے اپنے آپ کو صحیح طور پر پاک صاف نہیں کیا تھا۔ چنانچہ وہ فسح کے کھانے میں اُس حالت میں شریک نہ ہوئے جس کا تقاضا شریعت کرتی ہے۔ لیکن حِزقیاہ نے اُن کی شفاعت کر کے دعا کی، ”رب جو مہربان ہے ہر ایک کو معاف کرے =6=uKeاِس ہفتے کے بعد پوری جماعت نے فیصلہ کیا کہ عید کو مزید سات دن منایا جائے۔ چنانچہ اُنہوں نے خوشی سے ایک اَور ہفتے کے دوران عید منائی۔*JOلاویوں نے رب کی خدمت کرتے وقت بڑی سمجھ داری دکھائی، اور حِزقیاہ نے اِس میں اُن کی حوصلہ افزائی کی۔ پورے ہفتے کے دوران اسرائیلی رب کو سلامتی کی قربانیاں پیش کر کے قربانی کا اپنا حصہ کھاتے اور رب اپنے باپ دادا کے خدا کی تمجید کرتے رہے۔I+یروشلم میں جمع شدہ اسرائیلیوں نے بڑی خوشی سے سات دن تک بےخمیری روٹی کی عید منائی۔ ہر دن لاوی اور امام اپنے ساز بجا کر بلند آواز سے رب کی ستائش کرتے رہے۔ TVKTsNaیروشلم میں بڑی شادمانی تھی، کیونکہ ایسی عید داؤد بادشاہ کے بیٹے سلیمان کے زمانے سے لے کر اُس وقت تک یروشلم میں منائی نہیں گئی تھی۔M جتنے بھی آئے تھے خوشی منا رہے تھے، خواہ وہ یہوداہ کے باشندے تھے، خواہ امام، لاوی، اسرائیلی یا اسرائیل اور یہوداہ میں رہنے والے پردیسی مہمان۔&LGتب یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ نے جماعت کے لئے 1,000 بَیل اور 7,000 بھیڑبکریاں پیش کیں جبکہ بزرگوں نے جماعت کے لئے 1,000 بَیل اور 10,000 بھیڑبکریاں چڑھائیں۔ اِتنے میں مزید بہت سے اماموں نے اپنے آپ کو رب کی خدمت کے لئے مخصوص و مُقدّس کر لیا تھا۔ ??2P aعید کے بعد جماعت کے تمام اسرائیلیوں نے یہوداہ کے شہروں میں جا کر پتھر کے بُتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، یسیرت دیوی کے کھمبوں کو کاٹ ڈالا، اونچی جگہوں کے مندروں کو ڈھا دیا اور غلط قربان گاہوں کو ختم کر دیا۔ جب تک اُنہوں نے یہ کام یہوداہ، بن یمین، افرائیم اور منسّی کے پورے علاقوں میں تکمیل تک نہیں پہنچایا تھا اُنہوں نے آرام نہ کیا۔ اِس کے بعد وہ سب اپنے اپنے شہروں اور گھروں کو چلے گئے۔O عید کے اختتام پر اماموں اور لاویوں نے کھڑے ہو کر قوم کو برکت دی۔ اور اللہ نے اُن کی سنی، اُن کی دعا آسمان پر اُس کی مُقدّس سکونت گاہ تک پہنچی۔ VRجو جانور بادشاہ اپنی ملکیت سے رب کے گھر کو دیتا رہا وہ بھسم ہونے والی اُن قربانیوں کے لئے مقرر تھے جن کو رب کی شریعت کے مطابق ہر صبح شام، سبت کے دن، نئے چاند کی عید اور دیگر عیدوں پر رب کے گھر میں پیش کی جاتی تھیں۔&QGحِزقیاہ نے اماموں اور لاویوں کو دوبارہ خدمت کے ویسے ہی گروہوں میں تقسیم کیا جیسے پہلے تھے۔ اُن کی ذمہ داریاں بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں چڑھانا، رب کے گھر میں مختلف قسم کی خدمات انجام دینا اور حمد و ثنا کے گیت گانا تھیں۔ QQT+بادشاہ کا یہ اعلان سنتے ہی اسرائیلی فراخ دلی سے غلہ، انگور کے رس، زیتون کے تیل، شہد اور کھیتوں کی باقی پیداوار کا پہلا پھل رب کے گھر میں لائے۔ بہت کچھ اکٹھا ہوا، کیونکہ لوگوں نے اپنی پیداوار کا پورا دسواں حصہ وہاں پہنچایا۔Sحِزقیاہ نے یروشلم کے باشندوں کو حکم دیا کہ اپنی ملکیت میں سے اماموں اور لاویوں کو کچھ دیں تاکہ وہ اپنا وقت رب کی شریعت کی تکمیل کے لئے وقف کر سکیں۔ miWMجب حِزقیاہ اور اُس کے افسروں نے آ کر دیکھا کہ کتنی چیزیں اکٹھی ہو گئی ہیں تو اُنہوں نے رب اور اُس کی قوم اسرائیل کو مبارک کہا۔*VOچیزیں جمع کرنے کا یہ سلسلہ تیسرے مہینے میں شروع ہوا اور ساتویں مہینے میں اختتام کو پہنچا۔aU=یہوداہ کے باقی شہروں کے باشندے بھی ساتھ رہنے والے اسرائیلیوں سمیت اپنی پیداوار کا دسواں حصہ رب کے گھر میں لائے۔ جو بھی بَیل، بھیڑبکریاں اور باقی چیزیں اُنہوں نے رب اپنے خدا کے لئے وقف کی تھیں وہ رب کے گھر میں پہنچیں جہاں لوگوں نے اُنہیں بڑے ڈھیر لگا کر اکٹھا کیا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq|  .>  .?  .@  .A .B .C .D .E .  .>  .?  .@  .A .B .C .D .E .F .G .H .I .J .K .L .M .N .O  .P .Q .R .S .T .U .V .W  .X  .Y  .Z  .[  .\ .] .^ ._ .` .a .b .c .d   .e  .f  .g  .h  .i  .j  .k  .l  .m  .n  .o  .p  .q  .r  .s  .t  .u  .v  .w  .x  .y  .z  .{  .|  .}  .~  .  .  .  . RR Z تب حِزقیاہ نے حکم دیا کہ رب کے گھر میں گودام بنائے جائیں۔ جب ایسا کیا گیاY5 تو صدوق کے خاندان کا امامِ اعظم عزریاہ نے جواب دیا، ”جب سے لوگ اپنے ہدیئے یہاں لے آتے ہیں اُس وقت سے ہم جی بھر کر کھا سکتے ہیں بلکہ کافی کچھ بچ بھی جاتا ہے۔ کیونکہ رب نے اپنی قوم کو اِتنی برکت دی ہے کہ یہ سب کچھ باقی رہ گیا ہے۔“{Xq جب حِزقیاہ نے اماموں اور لاویوں سے اِن ڈھیروں کے بارے میں پوچھا ^\7 امامِ اعظم عزریاہ رب کے گھر کے پورے انتظام کا انچارج تھا، اِس لئے حِزقیاہ بادشاہ نے اُس کے ساتھ مل کر دس نگران مقرر کئے جو کوننیاہ اور سِمعی کے تحت خدمت انجام دیں۔ اُن کے نام یحی ایل، عززیاہ، نحت، عساہیل، یریموت، یوزبد، اِلی ایل، اِسماکیاہ، محت اور بنایاہ تھے۔H[  تو رضاکارانہ ہدیئے، پیداوار کا دسواں حصہ اور رب کے لئے مخصوص کئے گئے عطیات اُن میں رکھے گئے۔ کوننیاہ لاوی اِن چیزوں کا انچارج بنا جبکہ اُس کا بھائی سِمعی اُس کا مددگار مقرر ہوا۔ }^uعدن، من یمین، یشوع، سمعیاہ، امریاہ اور سکنیاہ اُس کے مددگار تھے۔ اُن کی ذمہ داری لاویوں کے شہروں میں رہنے والے اماموں کو اُن کا حصہ دینا تھی۔ بڑی وفاداری سے وہ خیال رکھتے تھے کہ خدمت کے مختلف گروہوں کے تمام اماموں کو وہ حصہ مل جائے جو اُن کا حق بنتا تھا، خواہ وہ بڑے تھے یا چھوٹے۔@]{جو لاوی مشرقی دروازے کا دربان تھا اُس کا نام قورے بن یِمنہ تھا۔ اب اُسے رب کو رضاکارانہ طور پر دیئے گئے ہدیئے اور اُس کے لئے مخصوص کئے گئے عطیے تقسیم کرنے کا نگران بنایا گیا۔ ..g`Iاِن فہرستوں میں اماموں کو اُن کے کنبوں کے مطابق درج کیا گیا۔ اِسی طرح 20 سال یا اِس سے زائد کے لاویوں کو اُن ذمہ داریوں اور خدمت کے مطابق جو وہ اپنے گروہوں میں سنبھالتے تھے فہرستوں میں درج کیا گیا۔c_Aجو اپنے گروہ کے ساتھ رب کے گھر میں خدمت کرتا تھا اُسے اُس کا حصہ براہِ راست ملتا تھا۔ اِس سلسلے میں لاوی کے قبیلے کے جتنے مردوں اور لڑکوں کی عمر تین سال یا اِس سے زائد تھی اُن کی فہرست بنائی گئی۔ :boجو امام شہروں سے باہر اُن چراگاہوں میں رہتے تھے جو اُنہیں ہارون کی اولاد کی حیثیت سے ملی تھیں اُنہیں بھی حصہ ملتا تھا۔ ہر شہر کے لئے آدمی چنے گئے جو اماموں کے خاندانوں کے مردوں اور فہرست میں درج تمام لاویوں کو وہ حصہ دیا کریں جو اُن کا حق تھا۔faGخاندانوں کی عورتیں اور بیٹے بیٹیاں چھوٹے بچوں سمیت بھی اِن فہرستوں میں درج تھیں۔ چونکہ اُن کے مرد وفاداری سے رب کے گھر میں خدمت کرتے تھے، اِس لئے یہ دیگر افراد بھی مخصوص و مُقدّس سمجھے جاتے تھے۔ Qe  حِزقیاہ نے وفاداری سے یہ تمام منصوبے تکمیل تک پہنچائے۔ پھر ایک دن اسور کا بادشاہ سنحیرب اپنی فوج کے ساتھ یہوداہ میں گھس آیا اور قلعہ بند شہروں کا محاصرہ کرنے لگا تاکہ اُن پر قبضہ کرے۔:doجو کچھ اُس نے اللہ کے گھر میں انتظام دوبارہ چلانے اور شریعت کو قائم کرنے کے سلسلے میں کیا اُس کے لئے وہ پورے دل سے اپنے خدا کا طالب رہا۔ نتیجے میں اُسے کامیابی حاصل ہوئی۔ ^c7حِزقیاہ بادشاہ نے حکم دیا کہ پورے یہوداہ میں ایسا ہی کیا جائے۔ اُس کا کام رب کے نزدیک اچھا، منصفانہ اور وفادارانہ تھا۔ fWh! کیونکہ اُنہوں نے کہا، ”اسور کے بادشاہ کو یہاں آ کر کثرت کا پانی کیوں ملے؟“ بہت سے آدمی جمع ہوئے اور مل کر چشموں کو ملبے سے بند کر دیا۔ اُنہوں نے اُس زمین دوز نالے کا منہ بھی بند کر دیا جس کے ذریعے پانی شہر میں پہنچتا تھا۔ g تو اُس نے اپنے سرکاری اور فوجی افسروں سے مشورہ کیا۔ خیال یہ پیش کیا گیا کہ یروشلم شہر کے باہر تمام چشموں کو ملبے سے بند کیا جائے۔ سب متفق ہو گئے،f' جب حِزقیاہ کو اطلاع ملی کہ سنحیرب آ کر یروشلم پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے --hkK ”مضبوط اور دلیر ہوں! اسور کے بادشاہ اور اُس کی بڑی فوج کو دیکھ کر مت ڈریں، کیونکہ جو طاقت ہمارے ساتھ ہے وہ اُسے حاصل نہیں ہے۔]j5 حِزقیاہ نے لوگوں پر فوجی افسر مقرر کئے۔ پھر اُس نے سب کو دروازے کے ساتھ والے چوک پر اکٹھا کر کے اُن کی حوصلہ افزائی کی،i اِس کے علاوہ حِزقیاہ نے بڑی محنت سے فصیل کے ٹوٹے پھوٹے حصوں کی مرمت کروا کر اُس پر بُرج بنوائے۔ فصیل کے باہر اُس نے ایک اَور چاردیواری تعمیر کی جبکہ یروشلم کے اُس حصے کے چبوترے مزید مضبوط کروائے جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ ساتھ ساتھ اُس نے بڑی مقدار میں ہتھیار اور ڈھالیں بنوائیں۔ UHn  ”شاہِ اسور سنحیرب فرماتے ہیں، تمہارا بھروسا کس چیز پر ہے کہ تم محاصرے کے وقت یروشلم کو چھوڑنا نہیں چاہتے؟Vm' جب اسور کا بادشاہ سنحیرب اپنی پوری فوج کے ساتھ لکیس کا محاصرہ کر رہا تھا تو اُس نے وہاں سے یروشلم کو وفد بھیجا تاکہ یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ اور یہوداہ کے تمام باشندوں کو پیغام پہنچائے،Ml اسور کے بادشاہ کے لئے صرف خاکی آدمی لڑ رہے ہیں جبکہ رب ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے۔ وہی ہماری مدد کر کے ہمارے لئے لڑے گا!“ حِزقیاہ بادشاہ کے اِن الفاظ سے لوگوں کی بڑی حوصلہ افزائی ہوئی۔ FF p حِزقیاہ نے تو اِس خدا کی بےحرمتی کی ہے۔ کیونکہ اُس نے اُس کی اونچی جگہوں کے مندروں اور قربان گاہوں کو ڈھا کر یہوداہ اور یروشلم سے کہا ہے کہ ایک ہی قربان گاہ کے سامنے پرستش کریں، ایک ہی قربان گاہ پر قربانیاں چڑھائیں۔(oK جب حِزقیاہ کہتا ہے، ’رب ہمارا خدا ہمیں اسور کے بادشاہ سے بچائے گا‘ تو وہ تمہیں غلط راہ پر لا رہا ہے۔ اِس کا صرف یہ نتیجہ نکلے گا کہ تم بھوکے اور پیاسے مر جاؤ گے۔ ry میرے باپ دادا نے اِن سب کو تباہ کر دیا، اور کوئی بھی دیوتا اپنی قوم کو مجھ سے بچا نہ سکا۔ تو پھر تمہارا دیوتا تمہیں کس طرح مجھ سے بچائے گا؟9qm کیا تمہیں علم نہیں کہ مَیں اور میرے باپ دادا نے دیگر ممالک کی تمام قوموں کے ساتھ کیا کچھ کیا؟ کیا اِن قوموں کے دیوتا اپنے ملکوں کو مجھ سے بچانے کے قابل رہے ہیں؟ ہرگز نہیں! v,v2t_ ایسی باتیں کرتے کرتے سنحیرب کے افسر رب اسرائیل کے خدا اور اُس کے خادم حِزقیاہ پر کفر بکتے گئے۔Ps حِزقیاہ سے فریب نہ کھاؤ! وہ اِس طرح تمہیں غلط راہ پر نہ لائے۔ اُس کی بات پر اعتماد مت کرنا، کیونکہ اب تک کسی بھی قوم یا سلطنت کا دیوتا اپنی قوم کو میرے یا میرے باپ دادا کے قبضے سے چھٹکارا نہ دلا سکا۔ تو پھر تمہارا دیوتا تمہیں میرے قبضے سے کس طرح بچائے گا؟“ ELv اسوری افسروں نے بلند آواز سے عبرانی زبان میں بادشاہ کا پیغام فصیل پر کھڑے یروشلم کے باشندوں تک پہنچایا تاکہ اُن میں خوف و ہراس پھیل جائے اور یوں شہر پر قبضہ کرنے میں آسانی ہو جائے۔7ui اسور کے بادشاہ نے وفد کے ہاتھ خط بھی بھیجا جس میں اُس نے رب اسرائیل کے خدا کی اہانت کی۔ خط میں لکھا تھا، ”جس طرح دیگر ممالک کے دیوتا اپنی قوموں کو مجھ سے محفوظ نہ رکھ سکے اُسی طرح حِزقیاہ کا دیوتا بھی اپنی قوم کو میرے قبضے سے نہیں بچائے گا۔“ $$qy] جواب میں رب نے اسوریوں کی لشکرگاہ میں ایک فرشتہ بھیجا جس نے تمام بہترین فوجیوں کو افسروں اور کمانڈروں سمیت موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ چنانچہ سنحیرب شرمندہ ہو کر اپنے ملک لوٹ گیا۔ وہاں ایک دن جب وہ اپنے دیوتا کے مندر میں داخل ہوا تو اُس کے کچھ بیٹوں نے اُسے تلوار سے قتل کر دیا۔8xk پھر حِزقیاہ بادشاہ اور آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی نے چلّاتے ہوئے آسمان پر تخت نشین خدا سے التماس کی۔'wI اِن افسروں نے یروشلم کے خدا کا یوں تمسخر اُڑایا جیسا وہ دنیا کی دیگر قوموں کے دیوتاؤں کا اُڑایا کرتے تھے، حالانکہ دیگر معبود صرف انسانی ہاتھوں کی پیداوار تھے۔ | اُن دنوں میں حِزقیاہ اِتنا بیمار ہوا کہ مرنے کی نوبت آ پہنچی۔ تب اُس نے رب سے دعا کی، اور رب نے اُس کی سن کر ایک الٰہی نشان سے اِس کی تصدیق کی۔{ بےشمار لوگ یروشلم آئے تاکہ رب کو قربانیاں پیش کریں اور حِزقیاہ بادشاہ کو قیمتی تحفے دیں۔ اُس وقت سے تمام قومیں اُس کا بڑا احترام کرنے لگیں۔;zq اِس طرح رب نے حِزقیاہ اور یروشلم کے باشندوں کو شاہِ اسور سنحیرب سے چھٹکارا دلایا۔ اُس نے اُنہیں دوسری قوموں کے حملوں سے بھی محفوظ رکھا، اور چاروں طرف امن و امان پھیل گیا۔ - حِزقیاہ کو بہت دولت اور عزت حاصل ہوئی، اور اُس نے اپنی سونے چاندی، جواہر، بلسان کے قیمتی تیل، ڈھالوں اور باقی قیمتی چیزوں کے لئے خاص خزانے بنوائے۔c~A پھر حِزقیاہ اور یروشلم کے باشندوں نے پچھتا کر اپنا غرور چھوڑ دیا، اِس لئے رب کا غضب حِزقیاہ کے جیتے جی اُن پر نازل نہ ہوا۔h}K لیکن حِزقیاہ مغرور ہوا، اور اُس نے اِس مہربانی کا مناسب جواب نہ دیا۔ نتیجے میں رب اُس سے اور یہوداہ اور یروشلم سے ناراض ہوا۔ W) حِزقیاہ ہی نے جیحون چشمے کا منہ بند کر کے اُس کا پانی سرنگ کے ذریعے مغرب کی طرف یروشلم کے اُس حصے میں پہنچایا جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ جو بھی کام اُس نے شروع کیا اُس میں وہ کامیاب رہا۔ اُس کے گائےبَیلوں اور بھیڑبکریوں میں اضافہ ہوتا گیا، اور اُس نے کئی نئے شہروں کی بنیاد رکھی، کیونکہ اللہ نے اُسے نہایت ہی امیر بنا دیا تھا۔% اُس نے غلہ، انگور کا رس اور زیتون کا تیل محفوظ رکھنے کے لئے گودام تعمیر کئے اور اپنے گائےبَیلوں اور بھیڑبکریوں کو رکھنے کی بہت سی جگہیں بھی بنوا لیں۔ ]]8k باقی جو کچھ حِزقیاہ کی حکومت کے دوران ہوا اور جو نیک کام اُس نے کیا وہ ’آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی کی رویا‘ میں قلم بند ہے جو ’شاہانِ یہوداہ و اسرائیل‘ کی کتاب میں درج ہے۔cA ایک دن بابل کے حکمرانوں نے اُس کے پاس وفد بھیجا تاکہ اُس الٰہی نشان کے بارے میں معلومات حاصل کریں جو یہوداہ میں ہوا تھا۔ اُس وقت اللہ نے اُسے اکیلا چھوڑ دیا تاکہ اُس کے دل کی حقیقی حالت جانچ لے۔ r_!منسّی کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔ اُس نے اُن قوموں کے قابلِ گھن رسم و رواج اپنا لئے جنہیں رب نے اسرائیلیوں کے آگے سے نکال دیا تھا۔ 9!منسّی 12 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ 55 سال تھا۔jO !جب وہ مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے شاہی قبرستان کی ایک اونچی جگہ پر دفنایا گیا۔ جب جنازہ نکلا تو یہوداہ اور یروشلم کے تمام باشندوں نے اُس کا احترام کیا۔ پھر اُس کا بیٹا منسّی تخت نشین ہوا۔ Q#QE !لیکن منسّی نے پروا نہ کی بلکہ رب کے گھر کے دونوں صحنوں میں آسمان کے پورے لشکر کے لئے قربان گاہیں بنوائیں۔ !اُس نے رب کے گھر میں بھی اپنی قربان گاہیں کھڑی کیں، حالانکہ رب نے اِس مقام کے بارے میں فرمایا تھا، ”یروشلم میں میرا نام ابد تک قائم رہے گا۔“Y-!اونچی جگہوں کے جن مندروں کو اُس کے باپ حِزقیاہ نے ڈھا دیا تھا اُنہیں اُس نے نئے سرے سے تعمیر کیا۔ اُس نے بعل دیوتاؤں کی قربان گاہیں بنوائیں اور یسیرت دیوی کے کھمبے کھڑے کئے۔ اِن کے علاوہ وہ سورج، چاند بلکہ آسمان کے پورے لشکر کو سجدہ کر کے اُن کی خدمت کرتا تھا۔ ) 9!دیوی کا بُت بنوا کر اُس نے اُسے اللہ کے گھر میں کھڑا کیا، حالانکہ رب نے داؤد اور اُس کے بیٹے سلیمان سے کہا تھا، ”اِس گھر اور اِس شہر یروشلم میں جو مَیں نے تمام اسرائیلی قبیلوں میں سے چن لیا ہے مَیں اپنا نام ابد تک قائم رکھوں گا۔S !!یہاں تک کہ اُس نے وادیِ بن ہنوم میں اپنے بیٹوں کو بھی قربان کر کے جلا دیا۔ جادوگری، غیب دانی اور افسوں گری کرنے کے علاوہ وہ مُردوں کی روحوں سے رابطہ کرنے والوں اور رمّالوں سے بھی مشورہ کرتا تھا۔ غرض اُس نے بہت کچھ کیا جو رب کو ناپسند تھا اور اُسے طیش دلایا۔ ey! گو رب نے منسّی اور اپنی قوم کو سمجھایا، لیکن اُنہوں نے پروا نہ کی۔F! لیکن منسّی نے یہوداہ اور یروشلم کے باشندوں کو ایسے غلط کام کرنے پر اُکسایا جو اُن قوموں سے بھی سرزد نہیں ہوئے تھے جنہیں رب نے ملک میں داخل ہوتے وقت اُن کے آگے سے تباہ کر دیا تھا۔ )!اگر اسرائیلی احتیاط سے میرے اُن تمام احکام اور ہدایات کی پیروی کریں جو موسیٰ نے شریعت میں اُنہیں دیئے تو مَیں کبھی نہیں ہونے دوں گا کہ اسرائیلیوں کو اُس ملک سے جلاوطن کر دیا جائے جو مَیں نے اُن کے باپ دادا کو عطا کیا تھا۔“ ! اور رب نے اُس کی التماس پر دھیان دے کر اُس کی سنی۔ اُسے یروشلم واپس لا کر اُس نے اُس کی حکومت بحال کر دی۔ تب منسّی نے جان لیا کہ رب ہی خدا ہے۔{! جب وہ یوں مصیبت میں پھنس گیا تو منسّی رب اپنے خدا کا غضب ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے لگا اور اپنے آپ کو اپنے باپ دادا کے خدا کے حضور پست کر دیا۔(K! تب رب نے اسوری بادشاہ کے کمانڈروں کو یہوداہ پر حملہ کرنے دیا۔ اُنہوں نے منسّی کو پکڑ کر اُس کی ناک میں نکیل ڈالی اور اُسے پیتل کی زنجیروں میں جکڑ کر بابل لے گئے۔ qqA}!اُس نے اجنی معبودوں کو بُت سمیت رب کے گھر سے نکال دیا۔ جو قربان گاہیں اُس نے رب کے گھر کی پہاڑی اور باقی یروشلم میں کھڑی کی تھیں اُنہیں بھی اُس نے ڈھا کر شہر سے باہر پھینک دیا۔F!اِس کے بعد اُس نے ’داؤد کے شہر‘ کی بیرونی فصیل نئے سرے سے بنوائی۔ یہ فصیل جیحون چشمے کے مغرب سے شروع ہوئی اور وادیِ قدرون میں سے گزر کر مچھلی کے دروازے تک پہنچ گئی۔ اِس دیوار نے رب کے گھر کی پوری پہاڑی بنام عوفل کا احاطہ کر لیا اور بہت بلند تھی۔ اِس کے علاوہ بادشاہ نے یہوداہ کے تمام قلعہ بند شہروں پر فوجی افسر مقرر کئے۔ MM !باقی جو کچھ منسّی کی حکومت کے دوران ہوا وہ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج ہے۔ وہاں اُس کی اپنے خدا سے دعا بھی بیان کی گئی ہے اور وہ باتیں بھی جو غیب بینوں نے رب اسرائیل کے خدا کے نام میں اُسے بتائی تھیں۔[1!گو لوگ اِس کے بعد بھی اونچی جگہوں پر اپنی قربانیاں پیش کرتے تھے، لیکن اب سے وہ اِنہیں صرف رب اپنے خدا کو پیش کرتے تھے۔E!پھر اُس نے رب کی قربان گاہ کو نئے سرے سے تعمیر کر کے اُس پر سلامتی اور شکرگزاری کی قربانیاں چڑھائیں۔ ساتھ ساتھ اُس نے یہوداہ کے باشندوں سے کہا کہ رب اسرائیل کے خدا کی خدمت کریں۔ L !امون 22 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور دو سال تک یروشلم میں حکومت کرتا رہا۔I !جب منسّی مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا تو اُسے اُس کے محل میں دفن کیا گیا۔ پھر اُس کا بیٹا امون تخت نشین ہوا۔cA!غیب بینوں کی کتاب میں بھی منسّی کی دعا بیان کی گئی ہے اور یہ کہ اللہ نے کس طرح اُس کی سنی۔ وہاں اُس کے تمام گناہوں اور بےوفائی کا ذکر ہے، نیز اُن اونچی جگہوں کی فہرست درج ہے جہاں اُس نے اللہ کے تابع ہو جانے سے پہلے مندر بنا کر یسیرت دیوی کے کھمبے اور بُت کھڑے کئے تھے۔ f>w!لیکن اُمّت نے تمام سازش کرنے والوں کو مار ڈالا اور امون کی جگہ اُس کے بیٹے یوسیاہ کو بادشاہ بنا دیا۔ !ایک دن امون کے کچھ افسروں نے اُس کے خلاف سازش کر کے اُسے محل میں قتل کر دیا۔]5!لیکن اُس میں اور منسّی میں یہ فرق تھا کہ بیٹے نے اپنے آپ کو رب کے سامنے پست نہ کیا بلکہ اُس کا قصور مزید سنگین ہوتا گیا۔"?!اپنے باپ منسّی کی طرح وہ ایسا غلط کام کرتا رہا جو رب کو ناپسند تھا۔ جو بُت اُس کے باپ نے بنوائے تھے اُن ہی کی پوجا وہ کرتا اور اُن ہی کو قربانیاں پیش کرتا تھا۔ E  ",7BMXcny)4>IT_ju%0;FQ\gr}  .  !.  !. !. !. !. !. !. !.  .  !.  !. !. !. !. !. !. !. !. ! . ! . ! . ! . ! . !. !. !. !. !. !. !. !. !. !. !. !.  ". ". ". ". ". ". ". ". " . " . " . " . " . ". ". ". ". ". ". ". ". ". ". ". ". ". ". ". ". ". ". " . "!.  #. #. #. #. #. #. #. #. # . KSlK!5"اپنی حکومت کے آٹھویں سال میں وہ اپنے باپ داؤد کے خدا کی مرضی تلاش کرنے لگا، گو اُس وقت وہ جوان ہی تھا۔ اپنی حکومت کے 12ویں سال میں وہ اونچی جگہوں کے مندروں، یسیرت دیوی کے کھمبوں اور تمام تراشے اور ڈھالے ہوئے بُتوں کو پورے ملک سے دُور کرنے لگا۔ یوں تمام یروشلم اور یہوداہ اِن چیزوں سے پاک صاف ہو گیا۔c A"یوسیاہ وہ کچھ کرتا رہا جو رب کو پسند تھا۔ وہ اپنے باپ داؤد کے اچھے نمونے پر چلتا رہا اور اُس سے نہ دائیں، نہ بائیں طرف ہٹا۔) O"یوسیاہ 8 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں رہ کر اُس کی حکومت کا دورانیہ 31 سال تھا۔ g#I"بُت پرست پجاریوں کی ہڈیوں کو اُن کی اپنی قربان گاہوں پر جلایا گیا۔ اِس طرح سے یوسیاہ نے یروشلم اور یہوداہ کو پاک صاف کر دیا۔"9"بادشاہ کے زیرِ نگرانی بعل دیوتاؤں کی قربان گاہوں کو ڈھا دیا گیا۔ بخور کی جو قربان گاہیں اُن کے اوپر تھیں اُنہیں اُس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ یسیرت دیوی کے کھمبوں اور تراشے اور ڈھالے ہوئے بُتوں کو زمین پر پٹخ کر اُس نے اُنہیں پیس کر اُن کی قبروں پر بکھیر دیا جنہوں نے جیتے جی اُن کو قربانیاں پیش کی تھیں۔ $5"یہ اُس نے نہ صرف یہوداہ بلکہ منسّی، افرائیم، شمعون اور نفتالی تک کے شہروں میں ارد گرد کے کھنڈرات سمیت بھی کیا۔ اُس نے قربان گاہوں کو گرا کر یسیرت دیوی کے کھمبوں اور بُتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے چِکنا چُور کر دیا۔ تمام اسرائیل کی بخور کی قربان گاہوں کو اُس نے ڈھا دیا۔ اِس کے بعد وہ یروشلم واپس چلا گیا۔ ,,/&Y"اپنی حکومت کے 18ویں سال میں یوسیاہ نے سافن بن اصلیاہ، یروشلم پر مقرر افسر معسیاہ اور بادشاہ کے مشیرِ خاص یوآخ بن یوآخز کو رب اپنے خدا کے گھر کے پاس بھیجا تاکہ اُس کی مرمت کروائیں۔ اُس وقت ملک اور رب کے گھر کو پاک صاف کرنے کی مہم جاری تھی۔%5"یہ اُس نے نہ صرف یہوداہ بلکہ منسّی، افرائیم، شمعون اور نفتالی تک کے شہروں میں ارد گرد کے کھنڈرات سمیت بھی کیا۔ اُس نے قربان گاہوں کو گرا کر یسیرت دیوی کے کھمبوں اور بُتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے چِکنا چُور کر دیا۔ تمام اسرائیل کی بخور کی قربان گاہوں کو اُس نے ڈھا دیا۔ اِس کے بعد وہ یروشلم واپس چلا گیا۔ 4X(+" اب یہ پیسے اُن ٹھیکے داروں کے حوالے کر دیئے گئے جو رب کے گھر کی مرمت کروا رہے تھے۔ اِن پیسوں سے ٹھیکے داروں نے اُن کاری گروں کی اُجرت ادا کی جو رب کے گھر کی مرمت کر کے اُسے مضبوط کر رہے تھے۔H' " امامِ اعظم خِلقیاہ کے پاس جا کر اُنہوں نے اُسے وہ پیسے دیئے جو لاوی کے دربانوں نے رب کے گھر میں جمع کئے تھے۔ یہ ہدیئے منسّی اور افرائیم کے باشندوں، اسرائیل کے تمام بچے ہوئے لوگوں اور یہوداہ، بن یمین اور یروشلم کے رہنے والوں کی طرف سے پیش کئے گئے تھے۔ VsV(+K" وہ مزدوروں اور تمام دیگر کاری گروں پر مقرر تھے۔ کچھ اَور لاوی منشی، نگران اور دربان تھے۔m*U" اِن آدمیوں نے وفاداری سے خدمت سرانجام دی۔ چار لاوی اِن کی نگرانی کرتے تھے جن میں یحت اور عبدیاہ مراری کے خاندان کے تھے جبکہ زکریاہ اور مسُلّام قہات کے خاندان کے تھے۔ جتنے لاوی ساز بجانے میں ماہر تھے ) " کاری گروں اور تعمیر کرنے والوں نے اِن پیسوں سے تراشے ہوئے پتھر اور شہتیروں کی لکڑی بھی خریدی۔ عمارتوں میں شہتیروں کو بدلنے کی ضرورت تھی، کیونکہ یہوداہ کے بادشاہوں نے اُن پر دھیان نہیں دیا تھا، لہٰذا وہ گل گئے تھے۔ @/{"اُنہوں نے رب کے گھر میں جمع شدہ پیسے مرمت پر مقرر ٹھیکے داروں اور باقی کام کرنے والوں کو دے دیئے ہیں۔“y.m"تب سافن کتاب کو لے کر بادشاہ کے پاس گیا اور اُسے اطلاع دی، ”جو بھی ذمہ داری آپ کے ملازموں کو دی گئی اُنہیں وہ اچھی طرح پورا کر رہے ہیں۔-1"اُسے میرمنشی سافن کو دے کر اُس نے کہا، ”مجھے رب کے گھر میں شریعت کی کتاب ملی ہے۔“^,7"جب وہ پیسے باہر لائے گئے جو رب کے گھر میں جمع ہوئے تھے تو خِلقیاہ کو شریعت کی وہ کتاب ملی جو رب نے موسیٰ کی معرفت دی تھی۔ U2%"اُس نے خِلقیاہ، اخی قام بن سافن، عبدون بن میکاہ، میرمنشی سافن اور اپنے خاص خادم عسایاہ کو بُلا کر اُنہیں حکم دیا،x1k"کتاب کی باتیں سن کر بادشاہ نے رنجیدہ ہو کر اپنے کپڑے پھاڑ لئے۔m0U"پھر سافن نے بادشاہ کو بتایا، ”خِلقیاہ نے مجھے ایک کتاب دی ہے۔“ کتاب کو کھول کر وہ بادشاہ کی موجودگی میں اُس کی تلاوت کرنے لگا۔ T4#"چنانچہ خِلقیاہ بادشاہ کے بھیجے ہوئے چند آدمیوں کے ساتھ خُلدہ نبیہ کو ملنے گیا۔ خُلدہ کا شوہر سلّوم بن توقہت بن خسرہ رب کے گھر کے کپڑے سنبھالتا تھا۔ وہ یروشلم کے نئے علاقے میں رہتے تھے۔3"”جا کر میری اور اسرائیل اور یہوداہ کے بچے ہوئے افراد کی خاطر رب سے اِس کتاب میں درج باتوں کے بارے میں دریافت کریں۔ رب کا جو غضب ہم پر نازل ہونے والا ہے وہ نہایت سخت ہے، کیونکہ ہمارے باپ دادا نہ رب کے فرمان کے تابع رہے، نہ اُن ہدایات کے مطابق زندگی گزاری ہے جو کتاب میں درج کی گئی ہیں۔“ \.\N6"خُلدہ نے اُنہیں جواب دیا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ جس آدمی نے تمہیں بھیجا ہے اُسے بتا دینا، ’رب فرماتا ہے کہ مَیں اِس شہر اور اِس کے باشندوں پر آفت نازل کروں گا۔ وہ تمام لعنتیں پوری ہو جائیں گی جو بادشاہ کے حضور پڑھی گئی کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔N5"خُلدہ نے اُنہیں جواب دیا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ جس آدمی نے تمہیں بھیجا ہے اُسے بتا دینا، ’رب فرماتا ہے کہ مَیں اِس شہر اور اِس کے باشندوں پر آفت نازل کروں گا۔ وہ تمام لعنتیں پوری ہو جائیں گی جو بادشاہ کے حضور پڑھی گئی کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔ 8"لیکن یہوداہ کے بادشاہ کے پاس جائیں جس نے آپ کو رب سے دریافت کرنے کے لئے بھیجا ہے اور اُسے بتا دیں کہ رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’میری باتیں سن کرL7"کیونکہ میری قوم نے مجھے ترک کر کے دیگر معبودوں کو قربانیاں پیش کی ہیں اور اپنے ہاتھوں سے بُت بنا کر مجھے طیش دلایا ہے۔ میرا غضب اِس مقام پر نازل ہو جائے گا اور کبھی ختم نہیں ہو گا۔‘  i;M"تب بادشاہ یہوداہ اور یروشلم کے تمام بزرگوں کو بُلا کر: "جب تُو میرے کہنے پر مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملے گا تو سلامتی سے دفن ہو گا۔ جو آفت مَیں شہر اور اُس کے باشندوں پر نازل کروں گا وہ تُو خود نہیں دیکھے گا‘۔“ افسر بادشاہ کے پاس واپس گئے اور اُسے خُلدہ کا جواب سنا دیا۔q9]"تیرا دل نرم ہو گیا ہے۔ جب تجھے پتا چلا کہ مَیں نے اِس مقام اور اِس کے باشندوں کے خلاف بات کی ہے تو تُو نے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے پست کر دیا۔ تُو نے بڑی انکساری سے رنجیدہ ہو کر اپنے کپڑے پھاڑ لئے اور میرے حضور پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ رب فرماتا ہے کہ یہ دیکھ کر مَیں نے تیری سنی ہے۔   r=_"پھر بادشاہ نے اپنے ستون کے پاس کھڑے ہو کر رب کے حضور عہد باندھا اور وعدہ کیا، ”ہم رب کی پیروی کریں گے، ہم پورے دل و جان سے اُس کے احکام اور ہدایات پوری کر کے اِس کتاب میں درج عہد کی باتیں قائم رکھیں گے۔“y<m"رب کے گھر میں گیا۔ سب لوگ چھوٹے سے لے کر بڑے تک اُس کے ساتھ گئے یعنی یہوداہ کے آدمی، یروشلم کے باشندے، امام اور لاوی۔ وہاں پہنچ کر جماعت کے سامنے عہد کی اُس پوری کتاب کی تلاوت کی گئی جو رب کے گھر میں ملی تھی۔ ^/@ [#پھر یوسیاہ نے رب کی تعظیم میں فسح کی عید منائی۔ پہلے مہینے کے 14ویں دن فسح کا لیلا ذبح کیا گیا۔?y"!یوسیاہ نے اسرائیل کے پورے ملک سے تمام گھنونے بُتوں کو دُور کر دیا۔ اسرائیل کے تمام باشندوں کو اُس نے تاکید کی، ”رب اپنے خدا کی خدمت کریں۔“ چنانچہ یوسیاہ کے جیتے جی وہ رب اپنے باپ دادا کی راہ سے دُور نہ ہوئے۔ >1" یوسیاہ نے مطالبہ کیا کہ یروشلم اور یہوداہ کے تمام باشندے عہد میں شریک ہو جائیں۔ اُس وقت سے یروشلم کے باشندے اپنے باپ دادا کے خدا کے عہد کے ساتھ لپٹے رہے۔ u7u>Bw#لاویوں کو تمام اسرائیلیوں کو شریعت کی تعلیم دینے کی ذمہ داری دی گئی تھی، اور ساتھ ساتھ اُنہیں رب کی خدمت کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔ اُن سے یوسیاہ نے کہا، ”مُقدّس صندوق کو اُس عمارت میں رکھیں جو اسرائیل کے بادشاہ داؤد کے بیٹے سلیمان نے تعمیر کیا۔ اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھا کر اِدھر اُدھر لے جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اب سے اپنا وقت رب اپنے خدا اور اُس کی قوم اسرائیل کی خدمت میں صرف کریں۔EA#بادشاہ نے اماموں کو کام پر لگا کر اُن کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ رب کے گھر میں اپنی خدمت اچھی طرح انجام دیں۔ E}#اپنے آپ کو خدمت کے لئے مخصوص کریں اور فسح کے لیلے ذبح کر کے اپنے ہم وطنوں کے لئے اِس طرح تیار کریں جس طرح رب نے موسیٰ کی معرفت حکم دیا تھا۔“OD#پھر مقدِس میں اُس جگہ کھڑے ہو جائیں جو آپ کے خاندانی گروہ کے لئے مقرر ہے اور اُن خاندانوں کی مدد کریں جو قربانیاں چڑھانے کے لئے آتے ہیں اور جن کی خدمت کرنے کی ذمہ داری آپ کو دی گئی ہے۔^C7#اُن خاندانی گروہوں کے مطابق خدمت کے لئے تیار رہیں جن کی ترتیب داؤد بادشاہ اور اُس کے بیٹے سلیمان نے لکھ کر مقرر کی تھی۔ "G?#اِس کے علاوہ بادشاہ کے افسروں نے بھی اپنی خوشی سے قوم، اماموں اور لاویوں کو جانور دیئے۔ اللہ کے گھر کے سب سے اعلیٰ افسروں خِلقیاہ، زکریاہ اور یحی ایل نے دیگر اماموں کو فسح کی قربانی کے لئے 2,600 بھیڑبکریوں کے بچے دیئے، نیز 300 بَیل۔oFY#عید کی خوشی میں یوسیاہ نے عید منانے والوں کو اپنی ملکیت میں سے 30,000 بھیڑبکریوں کے بچے دیئے۔ یہ جانور فسح کی قربانی کے طور پر چڑھائے گئے جبکہ بادشاہ کی طرف سے 3,000 بَیل دیگر قربانیوں کے لئے استعمال ہوئے۔ pweJE# لاویوں نے فسح کے لیلوں کو ذبح کر کے اُن کی کھالیں اُتاریں جبکہ اماموں نے لاویوں سے جانوروں کا خون لے کر قربان گاہ پر چھڑکا۔uIe# جب ہر ایک خدمت کے لئے تیار تھا تو امام اپنی اپنی جگہ پر اور لاوی اپنے اپنے گروہوں کے مطابق کھڑے ہو گئے جس طرح بادشاہ نے ہدایت دی تھی۔ H# اِسی طرح لاویوں کے راہنماؤں نے دیگر لاویوں کو فسح کی قربانی کے لئے 5,000 بھیڑبکریوں کے بچے دیئے، نیز 500 بَیل۔ اُن میں سے تین بھائی بنام کوننیاہ، سمعیاہ اور نتنی ایل تھے جبکہ دوسروں کے نام حسبیاہ، یعی ایل اور یوزبد تھے۔ '^'3La# فسح کے لیلوں کو ہدایات کے مطابق آگ پر بھونا گیا جبکہ باقی گوشت کو مختلف قسم کی دیگوں میں اُبالا گیا۔ جوں ہی گوشت پک گیا تو لاویوں نے اُسے جلدی سے حاضرین میں تقسیم کیا۔K7# جو کچھ بھسم ہونے والی قربانیوں کے لئے مقرر تھا اُسے قوم کے مختلف خاندانوں کے لئے ایک طرف رکھ دیا گیا تاکہ وہ اُسے بعد میں رب کو قربانی کے طور پر پیش کر سکیں، جس طرح موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے۔ بَیلوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا۔ %NE#عید کے پورے دوران آسف کے خاندان کے گلوکار اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہے، جس طرح داؤد، آسف، ہیمان اور بادشاہ کے غیب بین یدوتون نے ہدایت دی تھی۔ دربان بھی رب کے گھر کے دروازوں پر مسلسل کھڑے رہے۔ اُنہیں اپنی جگہوں کو چھوڑنے کی ضرورت بھی نہیں تھی، کیونکہ باقی لاویوں نے اُن کے لئے بھی فسح کے لیلے تیار کر رکھے۔,MS#اِس کے بعد اُنہوں نے اپنے اور اماموں کے لئے فسح کے لیلے تیار کئے، کیونکہ ہارون کی اولاد یعنی امام بھسم ہونے والی قربانیوں اور چربی کو چڑھانے میں رات تک مصروف رہے۔ 88`Q;#فسح کی عید اسرائیل میں سموایل نبی کے زمانے سے لے کر اُس وقت تک اِس طرح نہیں منائی گئی تھی۔ اسرائیل کے کسی بھی بادشاہ نے اُسے یوں نہیں منایا تھا جس طرح یوسیاہ نے اُسے اُس وقت اماموں، لاویوں، یروشلم اور تمام یہوداہ اور اسرائیل سے آئے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل کر منائی۔1P]#یروشلم میں جمع ہوئے اسرائیلیوں نے فسح کی عید اور بےخمیری روٹی کی عید ایک ہفتے کے دوران منائی۔+OQ#یوں اُس دن یوسیاہ کے حکم پر قربانیوں کے پورے انتظام کو ترتیب دیا گیا تاکہ آئندہ فسح کی عید منائی جائے اور بھسم ہونے والی قربانیاں رب کی قربان گاہ پر پیش کی جائیں۔  \ OS#رب کے گھر کی بحالی کی تکمیل کے بعد ایک دن مصر کا بادشاہ نکوہ دریائے فرات پر کے شہر کرکمیس کے لئے روانہ ہوا تاکہ وہاں دشمن سے لڑے۔ لیکن راستے میں یوسیاہ اُس کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلا۔ R;#یوسیاہ بادشاہ کی حکومت کے 18ویں سال میں پہلی دفعہ رب کی تعظیم میں ایسی عید منائی گئی۔ RRYU-#لیکن یوسیاہ باز نہ آیا بلکہ لڑنے کے لئے تیار ہوا۔ اُس نے نکوہ کی بات نہ مانی گو اللہ نے اُسے اُس کی معرفت آگاہ کیا تھا۔ چنانچہ وہ بھیس بدل کر فرعون سے لڑنے کے لئے مجِدّو کے میدان میں پہنچا۔MT#نکوہ نے اپنے قاصدوں کو یوسیاہ کے پاس بھیج کر اُسے اطلاع دی، ”اے یہوداہ کے بادشاہ، میرا آپ سے کیا واسطہ؟ اِس وقت مَیں آپ پر حملہ کرنے کے لئے نہیں نکلا بلکہ اُس شاہی خاندان پر جس کے ساتھ میرا جھگڑا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ مَیں جلدی کروں۔ وہ تو میرے ساتھ ہے۔ چنانچہ اُس کا مقابلہ کرنے سے باز آئیں، ورنہ وہ آپ کو ہلاک کر دے گا۔“ eFX#یرمیاہ نے یوسیاہ کی یاد میں ماتمی گیت لکھے، اور آج تک گیت گانے والے مرد و خواتین یوسیاہ کی یاد میں ماتمی گیت گاتے ہیں، یہ پکا دستور بن گیا ہے۔ یہ گیت ’نوحہ کی کتاب‘ میں درج ہیں۔W!#لوگوں نے اُسے اُس کے اپنے رتھ پر سے اُٹھا کر اُس کے ایک اَور رتھ میں رکھا جو اُسے یروشلم لے گیا۔ لیکن اُس نے وفات پائی، اور اُسے اپنے باپ دادا کے خاندانی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ پورے یہوداہ اور یروشلم نے اُس کا ماتم کیا۔V{#جب لڑائی چھڑ گئی تو یوسیاہ تیروں سے زخمی ہوا، اور اُس نے اپنے ملازموں کو حکم دیا، ”مجھے یہاں سے لے جاؤ، کیونکہ مَیں سخت زخمی ہو گیا ہوں۔“ n[ Y$اُمّت نے یوسیاہ کے بیٹے یہوآخز کو باپ کے تخت پر بٹھا دیا۔rZ_#باقی جو کچھ شروع سے لے کر آخر تک یوسیاہ کی حکومت کے دوران ہوا وہ ’شاہانِ یہوداہ و اسرائیل کی کتاب‘ میں بیان کیا گیا ہے۔ وہاں اُس کے نیک کاموں کا ذکر ہے اور یہ کہ اُس نے کس طرح شریعت کے احکام پر عمل کیا۔ rY_#باقی جو کچھ شروع سے لے کر آخر تک یوسیاہ کی حکومت کے دوران ہوا وہ ’شاہانِ یہوداہ و اسرائیل کی کتاب‘ میں بیان کیا گیا ہے۔ وہاں اُس کے نیک کاموں کا ذکر ہے اور یہ کہ اُس نے کس طرح شریعت کے احکام پر عمل کیا۔ 2WU#2m_U$یہویقیم 25 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں رہ کر وہ 11 سال تک حکومت کرتا رہا۔ اُس کا چال چلن رب اُس کے خدا کو ناپسند تھا۔.^W$مصر کے بادشاہ نے یہوآخز کے سگے بھائی اِلیاقیم کو یہوداہ اور یروشلم کا نیا بادشاہ بنا کر اُس کا نام یہویقیم میں بدل دیا۔ یہوآخز کو وہ قید کر کے اپنے ساتھ مصر لے گیا۔~]w$پھر مصر کے بادشاہ نے اُسے تخت سے اُتار دیا، اور ملکِ یہوداہ کو تقریباً 3,400 کلو گرام چاندی اور 34 کلو گرام سونا خراج کے طور پر ادا کرنا پڑا۔%\E$یہوآخز 23 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ تین ماہ تھا۔ @{b3$باقی جو کچھ یہویقیم کی حکومت کے دوران ہوا وہ ’شاہانِ یہوداہ و اسرائیل کی کتاب‘ میں درج ہے۔ وہاں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اُس نے کیسی گھنونی حرکتیں کیں اور کہ کیا کچھ اُس کے ساتھ ہوا۔ اُس کے بعد اُس کا بیٹا یہویاکین تخت نشین ہوا۔Aa}$نبوکدنضر رب کے گھر کی کئی قیمتی چیزیں بھی چھین کر اپنے ساتھ بابل لے گیا اور وہاں اپنے مندر میں رکھ دیں۔<`s$ایک دن بابل کے نبوکدنضر نے یہوداہ پر حملہ کیا اور یہویقیم کو پیتل کی زنجیروں میں جکڑ کر بابل لے گیا۔ >&eG$ صِدقیاہ 21 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا، اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ 11 سال تھا۔Fd$ بہار کے موسم میں نبوکدنضر بادشاہ نے حکم دیا کہ اُسے گرفتار کر کے بابل لے جایا جائے۔ ساتھ ساتھ فوجیوں نے رب کے گھر کی قیمتی چیزیں بھی چھین کر بابل پہنچائیں۔ یہویاکین کی جگہ نبوکدنضر نے یہویاکین کے چچا صِدقیاہ کو یہوداہ اور یروشلم کا بادشاہ بنا دیا۔tcc$ یہویاکین 18 سال کی عمر میں بادشاہ بنا، اور یروشلم میں اُس کی حکومت کا دورانیہ تین ماہ اور دس دن تھا۔ اُس کا چال چلن رب کو ناپسند تھا۔ F  "-8CNYdoz)4?JU`kv&0:EP[fq| # . # . # . #. #. #. #. #. #. # . # . # . #. #. #. #. #. #. #. #. #. #. #. #. #. #.  $. $. $. $. $. $. $. $. $ . $ . $ . $ . $ . $. $. $. $. $. $. $. $. $. $. .  .  .  .  .  .  .  .   .   .   .  . . . / / / / /  /  /  /  /  / / / / / / / f f g;$ صِدقیاہ کو اللہ کی قَسم کھا کر نبوکدنضر بادشاہ کا وفادار رہنے کا وعدہ کرنا پڑا۔ توبھی وہ کچھ دیر کے بعد سرکش ہو گیا۔ وہ اَڑ گیا، اور اُس کا دل اِتنا سخت ہو گیا کہ وہ رب اسرائیل کے خدا کی طرف دوبارہ رجوع کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔rf_$ اُس کا چال چلن رب اُس کے خدا کو ناپسند تھا۔ جب یرمیاہ نبی نے اُسے رب کی طرف سے آگاہ کیا تو اُس نے اپنے آپ کو نبی کے سامنے پست نہ کیا۔ dd%jE$لیکن لوگوں نے اللہ کے پیغمبروں کا مذاق اُڑایا، اُن کے پیغام حقیر جانے اور نبیوں کو لعن طعن کی۔ آخرکار رب کا غضب اُن پر نازل ہوا، اور بچنے کا کوئی راستہ نہ رہا۔i$بار بار رب اُن کے باپ دادا کا خدا اپنے پیغمبروں کو اُن کے پاس بھیج کر اُنہیں سمجھاتا رہا، کیونکہ اُسے اپنی قوم اور سکونت گاہ پر ترس آتا تھا۔hhK$لیکن یہوداہ کے راہنماؤں، اماموں اور قوم کی بےوفائی بھی بڑھتی گئی۔ پڑوسی قوموں کے گھنونے رسم و رواج اپنا کر اُنہوں نے رب کے گھر کو ناپاک کر دیا، گو اُس نے یروشلم میں یہ عمارت اپنے لئے مخصوص کی تھی۔ .(.]m5$فوجیوں نے رب کے گھر اور تمام محلوں کو جلا کر یروشلم کی فصیل کو گرا دیا۔ جتنی بھی قیمتی چیزیں رہ گئی تھیں وہ تباہ ہوئیں۔l%$نبوکدنضر نے اللہ کے گھر کی تمام چیزیں چھین لیں، خواہ وہ بڑی تھیں یا چھوٹی۔ وہ رب کے گھر، بادشاہ اور اُس کے اعلیٰ افسروں کے تمام خزانے بھی بابل لے گیا۔Tk#$اُس نے بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کو اُن کے خلاف بھیجا تو دشمن یہوداہ کے جوانوں کو تلوار سے قتل کرنے کے لئے مقدِس میں گھسنے سے بھی نہ جھجکے۔ کسی پر بھی رحم نہ کیا گیا، خواہ جوان مرد یا جوان خاتون، خواہ بزرگ یا عمر رسیدہ ہو۔ رب نے سب کو نبوکدنضر کے حوالے کر دیا۔ uoe$یوں وہ کچھ پورا ہوا جس کی پیش گوئی رب نے یرمیاہ نبی کی معرفت کی تھی، کیونکہ زمین کو آخرکار سبت کا وہ آرام مل گیا جو بادشاہوں نے اُسے نہیں دیا تھا۔ جس طرح نبی نے کہا تھا، اب زمین 70 سال تک تباہ اور ویران رہی۔{nq$اور جو تلوار سے بچ گئے تھے اُنہیں بابل کا بادشاہ قید کر کے اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ وہاں اُنہیں اُس کی اور اُس کی اولاد کی خدمت کرنی پڑی۔ اُن کی یہ حالت اُس وقت تک جاری رہی جب تک فارسی قوم کی سلطنت شروع نہ ہوئی۔ i]q5$”فارس کا بادشاہ خورس فرماتا ہے، رب آسمان کے خدا نے دنیا کے تمام ممالک میرے حوالے کر دیئے ہیں۔ اُس نے مجھے یہوداہ کے شہر یروشلم میں اُس کے لئے گھر بنانے کی ذمہ داری دی ہے۔ آپ میں سے جتنے اُس کی قوم کے ہیں یروشلم کے لئے روانہ ہو جائیں۔ رب آپ کا خدا آپ کے ساتھ ہو۔“ p!$فارس کے بادشاہ خورس کی حکومت کے پہلے سال میں رب نے وہ کچھ پورا ہونے دیا جس کی پیش گوئی اُس نے یرمیاہ کی معرفت کی تھی۔ اُس نے خورس کو ذیل کا اعلان کرنے کی تحریک دی۔ یہ اعلان زبانی اور تحریری طور پر پوری بادشاہی میں کیا گیا۔ /k/8s m”فارس کا بادشاہ خورس فرماتا ہے، رب آسمان کے خدا نے دنیا کے تمام ممالک میرے حوالے کر دیئے ہیں۔ اُس نے مجھے یہوداہ کے شہر یروشلم میں اُس کے لئے گھر بنانے کی ذمہ داری دی ہے۔r !فارس کے بادشاہ خورس کی حکومت کے پہلے سال میں رب نے وہ کچھ پورا ہونے دیا جس کی پیش گوئی اُس نے یرمیاہ کی معرفت کی تھی۔ اُس نے خورس کو ذیل کا اعلان کرنے کی تحریک دی۔ یہ اعلان زبانی اور تحریری طور پر پوری بادشاہی میں کیا گیا۔ EEru aجہاں بھی اسرائیلی قوم کے بچے ہوئے لوگ رہتے ہیں، وہاں اُن کے پڑوسیوں کا فرض ہے کہ وہ سونے چاندی اور مال مویشی سے اُن کی مدد کریں۔ اِس کے علاوہ وہ اپنی خوشی سے یروشلم میں اللہ کے گھر کے لئے ہدیئے بھی دیں۔“At آپ میں سے جتنے اُس کی قوم کے ہیں یروشلم کے لئے روانہ ہو جائیں تاکہ وہاں رب اسرائیل کے خدا کے لئے گھر بنائیں، اُس خدا کے لئے جو یروشلم میں سکونت کرتا ہے۔ آپ کا خدا آپ کے ساتھ ہو۔ Zx 1خورس بادشاہ نے وہ چیزیں واپس کر دیں جو نبوکدنضر نے یروشلم میں رب کے گھر سے لُوٹ کر اپنے دیوتا کے مندر میں رکھ دی تھیں۔w  اُن کے تمام پڑوسیوں نے اُنہیں سونا چاندی اور مال مویشی دے کر اُن کی مدد کی۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنی خوشی سے بھی رب کے گھر کے لئے ہدیئے دیئے۔bv Aتب کچھ اسرائیلی روانہ ہو کر یروشلم میں رب کے گھر کو تعمیر کرنے کی تیاریاں کرنے لگے۔ اُن میں یہوداہ اور بن یمین کے خاندانی سرپرست، امام اور لاوی شامل تھے یعنی جتنے لوگوں کو اللہ نے تحریک دی تھی۔ &x m| W سونے اور چاندی کی کُل 5,400 چیزیں تھیں۔ شیس بضر یہ سب کچھ اپنے ساتھ لے گیا جب وہ جلاوطنوں کے ساتھ بابل سے یروشلم کے لئے روانہ ہوا۔ i{ O سونے کے 30 پیالے، چاندی کے 410 پیالے، باقی چیزیں 1,000 عدد۔*z Q جو فہرست اُس نے لکھی اُس میں ذیل کی چیزیں تھیں: سونے کے 30 باسن، چاندی کے 1,000 باسن، 29 چھریاں،Vy )اُنہیں نکال کر فارس کے بادشاہ نے مِتردات خزانچی کے حوالے کر دیا جس نے سب کچھ گن کر یہوداہ کے بزرگ شیس بضر کو دے دیا۔offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|cd e fghijkm!n#o$p&q(r+cd e fghijkm!n#o$p&q(r+s/t2u4v6w8x;y=z@{B|E}G~JLNQSUX[_begjmoqsux|#/79;ACEHIKMPRUX[^adhknqtwz}  "%')+08:=?BEHLNOQSUWY[]_ Ey7EeEپخت موآب کا خاندان یعنی یشوع اور یوآب کی اولاد: 2,812،'Kارخ کا خاندان: 775،-Wسفطیاہ کا خاندان: 372،-Wپرعوس کا خاندان: 2,172،>~wاُن کے راہنما زرُبابل، یشوع، نحمیاہ، سرایاہ، رعلایاہ، مردکی، بِلشان، مِسفار، بِگوَئی، رحوم اور بعنہ تھے۔ ذیل کی فہرست میں واپس آئے ہوئے خاندانوں کے مرد بیان کئے گئے ہیں۔} ذیل میں یہوداہ کے اُن لوگوں کی فہرست ہے جو جلاوطنی سے واپس آئے۔ بابل کا بادشاہ نبوکدنضر اُنہیں قید کر کے بابل لے گیا تھا، لیکن اب وہ یروشلم اور یہوداہ کے اُن شہروں میں پھر جا بسے جہاں اُن کے خاندان پہلے رہتے تھے۔ @xL"^ U$@X+قرِیَت یعریم، کفیرہ اور بیروت کے باشندے: 743،,Uعزماوت کے باشندے: 42،+Sعنتوت کے باشندے: 128،)Oنطوفہ کے 56 باشندے،.Yبیت لحم کے باشندے: 123،,Uجِبّار کا خاندان: 95،+Sحاشوم کا خاندان: 223،)Oیورہ کا خاندان: 112،) Oبِضی کا خاندان: 323،Q اطیر کا خاندان یعنی حِزقیاہ کی اولاد: 98،) Oعدین کا خاندان: 454،1 _بِگوَئی کا خاندان: 2,056،1 _ ادونِقام کا خاندان: 666،-W عزجاد کا خاندان: 1,222،'K ببی کا خاندان: 623،)O بانی کا خاندان: 642،'K زکی کا خاندان: 760،+Sزتُّو کا خاندان: 945،-Wعیلام کا خاندان: 1,254، U,M\*-#W'حارِم کا خاندان: 1,017،-"W&فشحور کا خاندان: 1,247،/![%اِمّیر کا خاندان: 1,052، $ذیل کے امام جلاوطنی سے واپس آئے۔ یدعیاہ کا خاندان جو یشوع کی نسل کا تھا: 973،-W#سناآہ کے باشندے: 3,630۔+S"یریحو کے باشندے: 345،E!لود، حادید اور اونو کے باشندے: 725،+S حارِم کے باشندے: 320،8mدوسرے عیلام کے باشندے: 1,254،+Sمجبیس کے باشندے: 156،&Iنبو کے باشندے: 52،<uبیت ایل اور عَی کے باشندے: 223،-Wمِکماس کے باشندے: 122،9oرامہ اور جِبع کے باشندے: 621، KWlg< |K./Y3بقبوق، حقوفا، حرحور،2.a2اسناہ، معونیم، نفوسیم،(-M1عُزّا، فاسح، بسی،,,U0رضین، نقودا، جزّام،.+Y/جِدّیل، جحر، ریایاہ،(*M.حجاب، شلمی، حنان،0)]-لِبانہ، حجابہ، عقّوب،*(Q,قروس، سیعہا، فدون،!'=+رب کے گھر کے خدمت گاروں کے درجِ ذیل خاندان جلاوطنی سے واپس آئے۔ ضیحا، حسوفا، طبّعوت،!&=*رب کے گھر کے دربان: سلّوم، اطیر، طلمون، عقّوب، خطیطا اور سوبی کے خاندانوں کے 139 آدمی۔C%)گلوکار: آسف کے خاندان کے 128 آدمی،%$E(ذیل کے لاوی جلاوطنی سے واپس آئے۔ یشوع اور قدمی ایل کا خاندان یعنی ہوداویاہ کی اولاد: 74، E  !,7BMXcny)4?JU`kv&1;FQ\gr} / / / / / / / / / / / / / / / / / / / /  / !/ "/ #/ $/ %/! &/" '/# (/$ )/% */& +/' ,/( -/) ./* //+ 0/, 1/- 2/. 3// 4/0 5/1 6/2 7/3 8/4 9/5 :/6 ;/7 /: ?/; @/< A/= B/> C/? D/@ E/A F/B  /C /D /E /F /G /H /I /J  /K  /L  /M  /N  /O  /P /Q /R /S /T /U yycy'7I;واپس آئے ہوئے خاندانوں دلایاہ، طوبیاہ اور نقودا کے 652 مرد ثابت نہ کر سکے کہ اسرائیل کی اولاد ہیں، گو وہ تل ملح، تل حرشا، کروب، ادون اور اِمّیر کے رہنے والے تھے۔;6q:رب کے گھر کے خدمت گاروں اور سلیمان کے خادموں کے خاندانوں میں سے واپس آئے ہوئے مردوں کی تعداد 392 تھی۔J59سفطیاہ، خطّیل، فوکرت ضبائم اور امی۔.4Y8یعلہ، درقون، جِدّیل،3#7سلیمان کے خادموں کے درجِ ذیل خاندان جلاوطنی سے واپس آئے۔ سوطی، سوفرت، فرودا،&2I6نضیاح اور خطیفا۔,1U5برقوس، سیسرا، تامح،,0U4بضلوت، محیدا، حرشا، C9=حبایاہ، ہقوض اور برزلی کے خاندانوں کے کچھ امام بھی واپس آئے، لیکن اُنہیں رب کے گھر میں خدمت کرنے کی اجازت نہ ملی۔ کیونکہ گو اُنہوں نے نسب ناموں میں اپنے نام تلاش کئے اُن کا کہیں ذکر نہ ملا، اِس لئے اُنہیں ناپاک قرار دیا گیا۔ (برزلی کے خاندان کے بانی نے برزلی جِلعادی کی بیٹی سے شادی کر کے اپنے سُسر کا نام اپنا لیا تھا۔)'8I<واپس آئے ہوئے خاندانوں دلایاہ، طوبیاہ اور نقودا کے 652 مرد ثابت نہ کر سکے کہ اسرائیل کی اولاد ہیں، گو وہ تل ملح، تل حرشا، کروب، ادون اور اِمّیر کے رہنے والے تھے۔ "";!?یہوداہ کے گورنرنے حکم دیا کہ اِن تین خاندانوں کے امام فی الحال قربانیوں کا وہ حصہ کھانے میں شریک نہ ہوں جو اماموں کے لئے مقرر ہے۔ جب دوبارہ امامِ اعظم مقرر کیا جائے تو وہی اُوریم اور تُمیم نامی قرعہ ڈال کر معاملہ حل کرے۔C:>حبایاہ، ہقوض اور برزلی کے خاندانوں کے کچھ امام بھی واپس آئے، لیکن اُنہیں رب کے گھر میں خدمت کرنے کی اجازت نہ ملی۔ کیونکہ گو اُنہوں نے نسب ناموں میں اپنے نام تلاش کئے اُن کا کہیں ذکر نہ ملا، اِس لئے اُنہیں ناپاک قرار دیا گیا۔ (برزلی کے خاندان کے بانی نے برزلی جِلعادی کی بیٹی سے شادی کر کے اپنے سُسر کا نام اپنا لیا تھا۔) %XA+Eہر ایک نے اُتنا دے دیا جتنا دے سکا۔ اُس وقت سونے کے کُل 61,000 سکے، چاندی کے 2,800 کلو گرام اور اماموں کے 100 لباس جمع ہوئے۔"@?Dجب وہ یروشلم میں رب کے گھر کے پاس پہنچے تو کچھ خاندانی سرپرستوں نے اپنی خوشی سے ہدیئے دیئے تاکہ اللہ کا گھر نئے سرے سے اُس جگہ تعمیر کیا جا سکے جہاں پہلے تھا۔3?cC435 اونٹ اور 6,720 گدھے تھے۔G> Bاسرائیلیوں کے پاس 736 گھوڑے، 245 خچر، =Aنیز اُن کے 7,337 غلام اور لونڈیاں اور 200 گلوکار جن میں مرد و خواتین شامل تھے۔G< @کُل 42,360 اسرائیلی اپنے وطن لوٹ آئے، UC 'ساتویں مہینے کی ابتدا میں پوری قوم یروشلم میں جمع ہوئی۔ اُس وقت اسرائیلی اپنی آبادیوں میں دوبارہ آباد ہو گئے تھے۔>BwFامام، لاوی، گلوکار، رب کے گھر کے دربان اور خدمت گار، اور عوام کے کچھ لوگ اپنی اپنی آبائی آبادیوں میں دوبارہ جا بسے۔ یوں تمام اسرائیلی دوبارہ اپنے اپنے شہروں میں رہنے لگے۔ ?Eyگو وہ ملک میں رہنے والی دیگر قوموں سے سہمے ہوئے تھے تاہم اُنہوں نے قربان گاہ کو اُس کی پرانی بنیاد پر تعمیر کیا اور صبح شام اُس پر رب کو بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرنے لگے۔Dجمع ہونے کا مقصد اسرائیل کے خدا کی قربان گاہ کو نئے سرے سے تعمیر کرنا تھا تاکہ مردِ خدا موسیٰ کی شریعت کے مطابق اُس پر بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کی جا سکیں۔ چنانچہ یشوع بن یو صدق اور زرُبابل بن سیالتی ایل کام میں لگ گئے۔ یشوع کے امام بھائیوں اور زرُبابل کے بھائیوں نے اُن کی مدد کی۔ rH_گو رب کے گھر کی بنیاد ابھی ڈالی نہیں گئی تھی توبھی اسرائیلی ساتویں مہینے کے پہلے دن سے رب کو بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرنے لگے۔kGQاُس وقت سے امام بھسم ہونے والی تمام درکار قربانیاں باقاعدگی سے پیش کرنے لگے، نیز نئے چاند کی عیدوں اور رب کی باقی مخصوص و مُقدّس عیدوں کی قربانیاں۔ قوم اپنی خوشی سے بھی رب کو قربانیاں پیش کرتی تھی۔F جھونپڑیوں کی عید اُنہوں نے شریعت کی ہدایت کے مطابق منائی۔ اُس ہفتے کے ہر دن اُنہوں نے بھسم ہونے والی اُتنی قربانیاں چڑھائیں جتنی ضروری تھیں۔ eIEپھر اُنہوں نے راجوں اور کاری گروں کو پیسے دے کر کام پر لگایا اور صور اور صیدا کے باشندوں سے دیودار کی لکڑی منگوائی۔ یہ لکڑی لبنان کے پہاڑی علاقے سے سمندر تک لائی گئی اور وہاں سے سمندر کے راستے یافا پہنچائی گئی۔ اسرائیلیوں نے معاوضے میں کھانے پینے کی چیزیں اور زیتون کا تیل دے دیا۔ فارس کے بادشاہ خورس نے اُنہیں یہ کروانے کی اجازت دی تھی۔ Qاُن کے ساتھ رب کے گھر کے 220 خدمت گار تھے۔ اِن کے تمام نام نسب نامے میں درج تھے۔ داؤد اور اُس کے ملازموں نے اُن کے باپ دادا کو لاویوں کی خدمت کرنے کی ذمہ داری دی تھی۔ {{ B;پھر مَیں نے اماموں کے 12 راہنماؤں کو چن لیا، نیز سربیاہ، حسبیاہ اور مزید 10 لاویوں کو۔+AQچنانچہ ہم نے روزہ رکھ کر اپنے خدا سے التماس کی کہ وہ ہماری حفاظت کرے، اور اُس نے ہماری سنی۔.@Wکیونکہ ہمارے ساتھ فوجی اور گھڑسوار نہیں تھے جو ہمیں راستے میں ڈاکوؤں سے محفوظ رکھتے۔ بات یہ تھی کہ مَیں شہنشاہ سے یہ مانگنے سے شرم محسوس کر رہا تھا، کیونکہ ہم نے اُسے بتایا تھا، ”ہمارے خدا کا شفیق ہاتھ ہر ایک پر ٹھہرتا ہے جو اُس کا طالب رہتا ہے۔ لیکن جو بھی اُسے ترک کرے اُس پر اُس کا سخت غضب نازل ہوتا ہے۔“ lESسونے کے 20 پیالے جن کا کُل وزن تقریباً ساڑھے 8 کلو گرام تھا، اور پیتل کے دو پالش کئے ہوئے پیالے جو سونے کے پیالوں جیسے قیمتی تھے۔D)مَیں نے تول کر ذیل کا سامان اُن کے حوالے کر دیا: تقریباً 22,000 کلو گرام چاندی، چاندی کا کچھ سامان جس کا کُل وزن تقریاً 3,400 کلو گرام تھا، 3,400 کلو گرام سونا،8Ckاُن کی موجودگی میں مَیں نے سونا چاندی اور باقی تمام سامان تول لیا جو شہنشاہ، اُس کے مشیروں اور افسروں اور وہاں کے تمام اسرائیلیوں نے ہمارے خدا کے گھر کے لئے عطا کیا تھا۔ aH=پھر اماموں اور لاویوں نے سونا چاندی اور باقی سامان لے کر اُسے یروشلم میں ہمارے خدا کے گھر میں پہنچانے کے لئے محفوظ رکھا۔:Goسب کچھ احتیاط سے محفوظ رکھیں، اور جب آپ یروشلم پہنچیں گے تو اِسے رب کے گھر کے خزانے تک پہنچا کر راہنما اماموں، لاویوں اور خاندانی سرپرستوں کی موجودگی میں دوبارہ تولنا۔“ Fمَیں نے آدمیوں سے کہا، ”آپ اور یہ تمام چیزیں رب کے لئے مخصوص ہیں۔ لوگوں نے اپنی خوشی سے یہ سونا چاندی رب آپ کے باپ دادا کے خدا کے لئے قربان کی ہے۔  L{"ہر چیز گنی اور تولی گئی، پھر اُس کا پورا وزن فہرست میں درج کیا گیا۔K!چوتھے دن ہم نے اپنے خدا کے گھر میں سونا چاندی اور باقی مخصوص سامان تول کر امام مریموت بن اُوریاہ کے حوالے کر دیا۔ اُس وقت اِلی عزر بن فینحاس اور دو لاوی بنام یوزبد بن یشوع اور نوعدیاہ بن بِنّوئی اُس کے ساتھ تھے۔QJ ہم یروشلم پہنچے تو پہلے تین دن آرام کیا۔I)ہم پہلے مہینے کے 12ویں دن اہاوا نہر سے یروشلم کے لئے روانہ ہوئے۔ اللہ کا شفیق ہاتھ ہم پر تھا، اور اُس نے ہمیں راستے میں دشمنوں اور ڈاکوؤں سے محفوظ رکھا۔ NuN#NA$مسافروں نے دریائے فرات کے مغربی علاقے کے گورنروں اور حاکموں کو شہنشاہ کی ہدایات پہنچائیں۔ اِن کو پڑھ کر اُنہوں نے اسرائیلی قوم اور اللہ کے گھر کی حمایت کی۔ M #اِس کے بعد جلاوطنی سے واپس آئے ہوئے تمام لوگوں نے اسرائیل کے خدا کو بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کیں۔ اِس ناتے سے اُنہوں نے پورے اسرائیل کے لئے 12 بَیل، 96 مینڈھے، بھیڑ کے 77 بچے اور گناہ کی قربانی کے 12 بکرے قربان کئے۔ O 5 کچھ دیر بعد قوم کے راہنما میرے پاس آئے اور کہنے لگے، ”قوم کے عام لوگوں، اماموں اور لاویوں نے اپنے آپ کو ملک کی دیگر قوموں سے الگ نہیں رکھا، گو یہ گھنونے رسم و رواج کے پیروکار ہیں۔ اُن کی عورتوں سے شادی کر کے اُنہوں نے اپنے بیٹوں کی بھی شادی اُن کی بیٹیوں سے کرائی ہے۔ یوں اللہ کی مُقدّس قوم کنعانیوں، حِتّیوں، فرِزّیوں، یبوسیوں، عمونیوں، موآبیوں، مصریوں اور اموریوں سے آلودہ ہو گئی ہے۔ اور بزرگوں اور افسروں نے اِس بےوفائی میں پہل کی ہے!“ IQ  یہ سن کر مَیں نے رنجیدہ ہو کر اپنے کپڑوں کو پھاڑ لیا اور سر اور داڑھی کے بال نوچ نوچ کر ننگے فرش پر بیٹھ گیا۔P5 کچھ دیر بعد قوم کے راہنما میرے پاس آئے اور کہنے لگے، ”قوم کے عام لوگوں، اماموں اور لاویوں نے اپنے آپ کو ملک کی دیگر قوموں سے الگ نہیں رکھا، گو یہ گھنونے رسم و رواج کے پیروکار ہیں۔ اُن کی عورتوں سے شادی کر کے اُنہوں نے اپنے بیٹوں کی بھی شادی اُن کی بیٹیوں سے کرائی ہے۔ یوں اللہ کی مُقدّس قوم کنعانیوں، حِتّیوں، فرِزّیوں، یبوسیوں، عمونیوں، موآبیوں، مصریوں اور اموریوں سے آلودہ ہو گئی ہے۔ اور بزرگوں اور افسروں نے اِس بےوفائی میں پہل کی ہے!“ jS شام کی قربانی کے وقت مَیں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا جہاں مَیں توبہ کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہی پھٹے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے مَیں گھٹنے ٹیک کر جھک گیا اور اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اُٹھائے ہوئے رب اپنے خدا سے دعا کرنے لگا،R وہاں مَیں شام کی قربانی تک بےحس و حرکت بیٹھا رہا۔ اِتنے میں بہت سے لوگ میرے ارد گرد جمع ہو گئے۔ وہ جلاوطنی سے واپس آئے ہوئے لوگوں کی بےوفائی کے باعث تھرتھرا رہے تھے، کیونکہ وہ اسرائیل کے خدا کے جواب سے نہایت خوف زدہ تھے۔ SU! ہمارے باپ دادا کے زمانے سے لے کر آج تک ہمارا قصور سنجیدہ رہا ہے۔ اِسی وجہ سے ہم بار بار پردیسی حکمرانوں کے قبضے میں آئے ہیں جنہوں نے ہمیں اور ہمارے بادشاہوں اور اماموں کو قتل کیا، گرفتار کیا، لُوٹ لیا اور ہماری بےحرمتی کی۔ بلکہ آج تک ہماری حالت یہی رہی ہے۔iTM ”اے میرے خدا، مَیں نہایت شرمندہ ہوں۔ اپنا منہ تیری طرف اُٹھانے کی مجھ میں جرٲت نہیں رہی۔ کیونکہ ہمارے گناہوں کا اِتنا بڑا ڈھیر لگ گیا ہے کہ وہ ہم سے اونچا ہے، بلکہ ہمارا قصور آسمان تک پہنچ گیا ہے۔ $ W  بےشک ہم غلام ہیں، توبھی اللہ نے ہمیں ترک نہیں کیا بلکہ فارس کے بادشاہ کو ہم پر مہربانی کرنے کی تحریک دی ہے۔ اُس نے ہمیں از سرِ نو زندگی عطا کی ہے تاکہ ہم اپنے خدا کا گھر دوبارہ تعمیر اور اُس کے کھنڈرات بحال کر سکیں۔ اللہ نے ہمیں یہوداہ اور یروشلم میں ایک محفوظ چاردیواری سے گھیر رکھا ہے۔XV+ لیکن اِس وقت رب ہمارے خدا نے تھوڑی دیر کے لئے ہم پر مہربانی کی ہے۔ ہماری قوم کے بچے کھچے حصے کو اُس نے رِہائی دے کر اپنے مُقدّس مقام پر محفوظ رکھا ہے۔ یوں ہمارے خدا نے ہماری آنکھوں میں دوبارہ چمک پیدا کی اور ہمیں کچھ سکون مہیا کیا ہے، گو ہم اب تک غلامی میں ہیں۔ n(n6Yg جو تُو نے اپنے خادموں یعنی نبیوں کی معرفت دیئے تھے۔ تُو نے فرمایا، ’جس ملک میں تم داخل ہو رہے ہو تاکہ اُس پر قبضہ کرو وہ اُس میں رہنے والی قوموں کے گھنونے رسم و رواج کے سبب سے ناپاک ہے۔ ملک ایک سرے سے دوسرے سرے تک اُن کی ناپاکی سے بھر گیا ہے۔TX# لیکن اے ہمارے خدا، اب ہم کیا کہیں؟ اپنی اِن حرکتوں کے بعد ہم کیا جواب دیں؟ ہم نے تیرے اُن احکام کو نظرانداز کیا ہے ;[q اب ہم اپنی شریر حرکتوں اور بڑے قصور کی سزا بھگت رہے ہیں، گو اے اللہ، تُو نے ہمیں اِتنی سخت سزا نہیں دی جتنی ہمیں ملنی چاہئے تھی۔ تُو نے ہمارا یہ بچا کھچا حصہ زندہ چھوڑا ہے۔Z  لہٰذا اپنی بیٹیوں کی اُن کے بیٹوں کے ساتھ شادی مت کروانا، نہ اپنے بیٹوں کا اُن کی بیٹیوں کے ساتھ رشتہ باندھنا۔ کچھ نہ کرو جس سے اُن کی سلامتی اور کامیابی بڑھتی جائے۔ تب ہی تم طاقت ور ہو کر ملک کی اچھی پیداوار کھاؤ گے، اور تمہاری اولاد ہمیشہ تک ملک کی اچھی چیزیں وراثت میں پاتی رہے گی۔‘ 282] اے رب اسرائیل کے خدا، تُو ہی عادل ہے۔ آج ہم بچے ہوئے حصے کی حیثیت سے تیرے حضور کھڑے ہیں۔ ہم قصوروار ہیں اور تیرے سامنے قائم نہیں رہ سکتے۔“ D\ تو کیا یہ ٹھیک ہے کہ ہم تیرے احکام کی خلاف ورزی کر کے ایسی قوموں سے رشتہ باندھیں جو اِس قسم کی گھنونی حرکتیں کرتی ہیں؟ ہرگز نہیں! کیا اِس کا یہ نتیجہ نہیں نکلے گا کہ تیرا غضب ہم پر نازل ہو کر سب کچھ تباہ کر دے گا اور یہ بچا کھچا حصہ بھی ختم ہو جائے گا؟ 00L_ پھر عیلام کے خاندان کے سکنیاہ بن یحی ایل نے عزرا سے کہا، ”واقعی ہم نے پڑوسی قوموں کی عورتوں سے شادی کر کے اپنے خدا سے بےوفائی کی ہے۔ توبھی اب تک اسرائیل کے لئے اُمید کی کرن باقی ہے۔|^ u جب عزرا اِس طرح دعا کر رہا اور اللہ کے گھر کے سامنے پڑے ہوئے اور روتے ہوئے قوم کے قصور کا اقرار کر رہا تھا تو اُس کے ارد گرد اسرائیلی مردوں، عورتوں اور بچوں کا بڑا ہجوم جمع ہو گیا۔ وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ hFb تب عزرا اُٹھا اور راہنما اماموں، لاویوں اور تمام قوم کو قَسم کھلائی کہ ہم سکنیاہ کے مشورے پر عمل کریں گے۔daC اب اُٹھیں! کیونکہ یہ معاملہ درست کرنا آپ ہی کا فرض ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں، اِس لئے حوصلہ رکھیں اور وہ کچھ کریں جو ضروری ہے۔“`# آئیں، ہم اپنے خدا سے عہد باندھ کر وعدہ کریں کہ ہم اُن تمام عورتوں کو اُن کے بچوں سمیت واپس بھیج دیں گے۔ جو بھی مشورہ آپ اور اللہ کے احکام کا خوف ماننے والے دیگر لوگ ہمیں دیں گے وہ ہم کریں گے۔ سب کچھ شریعت کے مطابق کیا جائے۔ bb#dA سرکاری افسروں اور بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ یروشلم اور پورے یہوداہ میں اعلان کیا جائے، ”لازم ہے کہ جتنے بھی اسرائیلی جلاطنی سے واپس آئے ہیں وہ سب تین دن کے اندر اندر یروشلم میں جمع ہو جائیں۔ جو بھی اِس دوران حاضر نہ ہو اُسے جلاوطنوں کی جماعت سے خارج کر دیا جائے گا اور اُس کی تمام ملکیت ضبط ہو جائے گی۔“sca پھر عزرا اللہ کے گھر کے سامنے سے چلا گیا اور یوحنان بن اِلیاسب کے کمرے میں داخل ہوا۔ وہاں اُس نے پوری رات کچھ کھائے پیئے بغیر گزاری۔ اب تک وہ جلاوطنی سے واپس آئے ہوئے لوگوں کی بےوفائی پر ماتم کر رہا تھا۔ DDf تب یہوداہ اور بن یمین کے قبیلوں کے تمام آدمی تین دن کے اندر اندر یروشلم پہنچے۔ نویں مہینے کے بیسویں دن سب لوگ اللہ کے گھر کے صحن میں جمع ہوئے۔ سب معاملے کی سنجیدگی اور موسم کے سبب سے کانپ رہے تھے، کیونکہ بارش ہو رہی تھی۔#eA سرکاری افسروں اور بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ یروشلم اور پورے یہوداہ میں اعلان کیا جائے، ”لازم ہے کہ جتنے بھی اسرائیلی جلاطنی سے واپس آئے ہیں وہ سب تین دن کے اندر اندر یروشلم میں جمع ہو جائیں۔ جو بھی اِس دوران حاضر نہ ہو اُسے جلاوطنوں کی جماعت سے خارج کر دیا جائے گا اور اُس کی تمام ملکیت ضبط ہو جائے گی۔“ DD0i[ پوری جماعت نے بلند آواز سے جواب دیا، ”آپ ٹھیک کہتے ہیں! لازم ہے کہ ہم آپ کی ہدایت پر عمل کریں۔hy اب رب اپنے باپ دادا کے خدا کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اُس کی مرضی پوری کریں۔ پڑوسی قوموں اور اپنی پردیسی بیویوں سے الگ ہو جائیں۔“g} عزرا امام کھڑے ہو کر کہنے لگا، ”آپ اللہ سے بےوفا ہو گئے ہیں۔ غیریہودی عورتوں سے رشتہ باندھنے سے آپ نے اسرائیل کے قصور میں اضافہ کر دیا ہے۔ Wk) بہتر ہے کہ ہمارے بزرگ پوری جماعت کی نمائندگی کریں۔ پھر جتنے بھی آدمیوں کی غیریہودی بیویاں ہیں وہ ایک مقررہ دن مقامی بزرگوں اور قاضیوں کو ساتھ لے کر یہاں آئیں اور معاملہ درست کریں۔ اور لازم ہے کہ یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے جب تک رب کا غضب ٹھنڈا نہ ہو جائے۔“cjA لیکن یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جو ایک یا دو دن میں درست کیا جا سکے۔ کیونکہ ہم بہت لوگ ہیں اور ہم سے سنجیدہ گناہ سرزد ہوا ہے۔ نیز، اِس وقت برسات کا موسم ہے، اور ہم زیادہ دیر باہر نہیں ٹھہر سکتے۔  m توبھی اسرائیلیوں نے منصوبے پر عمل کیا۔ عزرا امام نے چند ایک خاندانی سرپرستوں کے نام لے کر اُنہیں یہ ذمہ داری دی کہ جہاں بھی کسی یہودی مرد کی غیریہودی عورت سے شادی ہوئی ہے وہاں وہ پورے معاملے کی تحقیق کریں۔ اُن کا کام دسویں مہینے کے پہلے دن شروع ہوا اور پہلے مہینے کے پہلے دن تکمیل تک پہنچا۔ql] تمام لوگ متفق ہوئے، صرف یونتن بن عساہیل اور یحزیاہ بن تِقوَہ نے فیصلے کی مخالفت کی جبکہ مسُلّام اور سبّتی لاوی اُن کے حق میں تھے۔ n توبھی اسرائیلیوں نے منصوبے پر عمل کیا۔ عزرا امام نے چند ایک خاندانی سرپرستوں کے نام لے کر اُنہیں یہ ذمہ داری دی کہ جہاں بھی کسی یہودی مرد کی غیریہودی عورت سے شادی ہوئی ہے وہاں وہ پورے معاملے کی تحقیق کریں۔ اُن کا کام دسویں مہینے کے پہلے دن شروع ہوا اور پہلے مہینے کے پہلے دن تکمیل تک پہنچا۔ o' درجِ ذیل اُن آدمیوں کی فہرست ہے جنہوں نے غیریہودی عورتوں سے شادی کی تھی۔ اُنہوں نے قَسم کھا کر وعدہ کیا کہ ہم اپنی بیویوں سے الگ ہو جائیں گے۔ ساتھ ساتھ ہر ایک نے قصور کی قربانی کے طور پر مینڈھا قربان کیا۔ اماموں میں سے قصوروار: یشوع بن یو صدق اور اُس کے بھائی معسیاہ، اِلی عزر، یریب اور جدلیاہ، s# فشحور کے خاندان کا اِلیوعینی، معسیاہ، اسمعٰیل، نتنی ایل، یوزبد اور اِلعاسہ۔{rq حارِم کے خاندان کا معسیاہ، الیاس، سمعیاہ، یحی ایل اور عُزیّاہ،Lq اِمیّرکے خاندان کا حنانی اور زبدیاہ،p' درجِ ذیل اُن آدمیوں کی فہرست ہے جنہوں نے غیریہودی عورتوں سے شادی کی تھی۔ اُنہوں نے قَسم کھا کر وعدہ کیا کہ ہم اپنی بیویوں سے الگ ہو جائیں گے۔ ساتھ ساتھ ہر ایک نے قصور کی قربانی کے طور پر مینڈھا قربان کیا۔ اماموں میں سے قصوروار: یشوع بن یو صدق اور اُس کے بھائی معسیاہ، اِلی عزر، یریب اور جدلیاہ، jYUj]y5 ببی کے خاندان کا یوحنان، حننیاہ، زبی اور عتلی۔x  زتّو کے خاندان کا اِلیوعینی، اِلیاسب، متنیاہ، یریموت، زبد اور عزیزا۔w عیلام کے خاندان کا متنیاہ، زکریاہ، یحی ایل، عبدی، یریموت اور الیاس،Av} باقی قصوروار اسرائیلی: پرعوس کے خاندان کا رمیاہ، یزیاہ، ملکیاہ، میامین، اِلی عزر، ملکیاہ اور بنایاہ۔3ua گلوکاروں میں سے قصوروار: اِلیاسب۔ رب کے گھر کے دربانوں میں سے قصوروار: سلّوم، طِلِم اور اُوری۔#tA لاویوں میں سے قصوروار: یوزبد، سِمعی، قلایاہ یعنی قلیطا، فتحیاہ، یہوداہ اور اِلی عزر۔ .~\!@ a.0] 'سلمیاہ، ناتن، عدایاہ،:q &بِنّوئی کے خاندان کا سِمعی،3c %متنیاہ، متّنی اور یعسی۔6i $وَنیاہ، مریموت، اِلیاسب،0] #بنایاہ، بدیاہ، کلوہی،O "بانی کے خاندان کا معدی، عمرام، اُوایل، ~ !حاشوم کے خاندان کا متّنی، متتاہ، زبد، اِلی فلط، یریمی، منسّی اور سِمعی۔8}m بن یمین، ملّوک اور سمریاہ۔t|c حارِم کے خاندان کا اِلی عزر، یشیاہ، ملکیاہ، سمعیاہ، شمعون،'{I پخت موآب کے خاندان کا عدنا، کلال، بنایاہ، معسیاہ، متنیاہ، بضلی ایل، بِنّوئی اور منسّی۔zy بانی کے خاندان کا مسُلّام، ملّوک، عدایاہ، یسوب، سیال اور یریموت۔ F  !,7BMXcny)4?JU`kv%/:EP[fq|  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  /  !/  "/  #0  $0  %0  &0  '0  (0  )0  *0  +0  ,0  0  0  0  0  0  0  0  0   0   0   0  0 0 0 0 0 0 0 0  0  0  0  0  0! 0" 0# 0$ 0% 0& 0' 0( Bd-Bg  Mذیل میں نحمیاہ بن حکلیاہ کی رپورٹ درج ہے۔ مَیں ارتخشستا بادشاہ کی حکومت کے 20 ویں سال کِسلیو کے مہینے میں سوسن کے قلعے میں تھا& G ,اِن تمام آدمیوں کی غیریہودی عورتوں سے شادی ہوئی تھی، اور اُن کے ہاں بچے پیدا ہوئے تھے۔   +نبو کے خاندان کا یعی ایل، متِتیاہ، زبد، زبینا، یدّی، یوایل اور بنایاہ۔3c *سلّوم، امریاہ اور یوسف۔4e )عزرایل، سلمیاہ، سمریاہ،,U (مکندبی، ساسی، ساری، @7  kیہ سن کر مَیں بیٹھ کر رونے لگا۔ کئی دن مَیں روزہ رکھ کر ماتم کرتا اور آسمان کے خدا سے دعا کرتا رہا،G   اُنہوں نے جواب دیا، ”جو یہودی بچ کر جلاوطنی سے یہوداہ واپس گئے ہیں اُن کا بہت بُرا اور ذلت آمیز حال ہے۔ یروشلم کی فصیل اب تک زمین بوس ہے، اور اُس کے تمام دروازے راکھ ہو گئے ہیں۔“q  _کہ ایک دن میرا بھائی حنانی مجھ سے ملنے آیا۔ اُس کے ساتھ یہوداہ کے چند ایک آدمی تھے۔ مَیں نے اُن سے پوچھا، ”جو یہودی بچ کر جلاوطنی سے یہوداہ واپس گئے ہیں اُن کا کیا حال ہے؟ اور یروشلم شہر کا کیا حال ہے؟“ I8Ik Sہم نے تیرے خلاف نہایت شریر قدم اُٹھائے ہیں، کیونکہ جو احکام اور ہدایات تُو نے اپنے خادم موسیٰ کو دی تھیں ہم اُن کے تابع نہ رہے۔ +میری بات سن کر دھیان دے کہ تیرا خادم کس طرح تجھ سے التماس کر رہا ہے۔ دن رات مَیں اسرائیلیوں کے لئے جو تیرے خادم ہیں دعا کرتا ہوں۔ مَیں اقرار کرتا ہوں کہ ہم نے تیرا گناہ کیا ہے۔ اِس میں مَیں اور میرے باپ کا گھرانا بھی شامل ہے۔) O”اے رب، آسمان کے خدا، تُو کتنا عظیم اور مہیب خدا ہے! جو تجھے پیار اور تیرے احکام کی پیروی کرتے ہیں اُن کے ساتھ تُو اپنا عہد قائم رکھتا اور اُن پر مہربانی کرتا ہے۔ lR ! اے رب، یہ لوگ تو تیرے اپنے خادم ہیں، تیری اپنی قوم جسے تُو نے اپنی عظیم قدرت اور قوی ہاتھ سے فدیہ دے کر چھڑایا ہے۔. Y لیکن اگر تم میرے پاس واپس آ کر دوبارہ میرے احکام کے تابع ہو جاؤ تو مَیں تمہیں تمہارے وطن میں واپس لاؤں گا، خواہ تم زمین کی انتہا تک کیوں نہ پہنچ گئے ہو۔ مَیں تمہیں اُس جگہ واپس لاؤں گا جسے مَیں نے چن لیا ہے تاکہ میرا نام وہاں سکونت کرے۔‘^ 9لیکن اب وہ کچھ یاد کر جو تُو نے اپنے خادم کو فرمایا، ’اگر تم بےوفا ہو جاؤ تو مَیں تمہیں مختلف قوموں میں منتشر کر دوں گا، !Y0! اِس لئے اُس نے پوچھا، ”آپ اِتنے غمگین کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟ آپ بیمار تو نہیں لگتے بلکہ کوئی بات آپ کے دل کو تنگ کر رہی ہے۔“ مَیں سخت گھبرا گیا% Gچار مہینے گزر گئے۔ نیسان کے مہینے کے ایک دن جب مَیں شہنشاہ ارتخشستا کو مَے پلا رہا تھا تو میری مایوسی اُسے نظر آئی۔ پہلے اُس نے مجھے کبھی اُداس نہیں دیکھا تھا،# C اے رب، اپنے خادم اور اُن تمام خادموں کی التماس سن جو پورے دل سے تیرے نام کا خوف مانتے ہیں۔ جب تیرا خادم آج شہنشاہ کے پاس ہو گا تو اُسے کامیابی عطا کر۔ بخش دے کہ وہ مجھ پر رحم کرے۔“ مَیں نے یہ اِس لئے کہا کہ مَیں شہنشاہ کا ساقی تھا۔ )eEمَیں نے شہنشاہ سے کہا، ”اگر بات آپ کو منظور ہو اور آپ اپنے خادم سے خوش ہوں تو پھر براہِ کرم مجھے یہوداہ کے اُس شہر بھیج دیجئے جس میں میرے باپ دادا دفن ہوئے ہیں تاکہ مَیں اُسے دوبارہ تعمیر کروں۔“)Mشہنشاہ نے پوچھا، ”تو پھر مَیں کس طرح آپ کی مدد کروں؟“ خاموشی سے آسمان کے خدا سے دعا کر کے&Gاور کہا، ”شہنشاہ ابد تک جیتا رہے! مَیں کس طرح خوش ہو سکتا ہوں؟ جس شہر میں میرے باپ دادا کو دفنایا گیا ہے وہ ملبے کا ڈھیر ہے، اور اُس کے دروازے راکھ ہو گئے ہیں۔“ bb\3پھر مَیں نے گزارش کی، ”اگر بات آپ کو منظور ہو تو مجھے دریائے فرات کے مغربی علاقے کے گورنروں کے لئے خط دیجئے تاکہ وہ مجھے اپنے علاقوں میں سے گزرنے دیں اور مَیں سلامتی سے یہوداہ تک پہنچ سکوں۔:oاُس وقت ملکہ بھی ساتھ بیٹھی تھی۔ شہنشاہ نے سوال کیا، ”سفر کے لئے کتنا وقت درکار ہے؟ آپ کب تک واپس آ سکتے ہیں؟“ مَیں نے اُسے بتایا کہ مَیں کب تک واپس آؤں گا تو وہ متفق ہوا۔ 0 lS جب گورنر سنبلّط حورونی اور عمونی افسر طوبیاہ کو معلوم ہوا کہ کوئی اسرائیلیوں کی بہبودی کے لئے آ گیا ہے تو وہ نہایت ناخوش ہوئے۔9 شہنشاہ نے فوجی افسر اور گھڑسوار بھی میرے ساتھ بھیجے۔ یوں روانہ ہو کر مَیں دریائے فرات کے مغربی علاقے کے گورنروں کے پاس پہنچا اور اُنہیں شہنشاہ کے خط دیئے۔Lاِس کے علاوہ شاہی جنگلات کے نگران آسف کے لئے خط لکھوائیں تاکہ وہ مجھے لکڑی دے۔ جب مَیں رب کے گھر کے ساتھ والے قلعے کے دروازے، فصیل اور اپنا گھر بناؤں گا تو مجھے شہتیروں کی ضرورت ہو گی۔“ اللہ کا شفیق ہاتھ مجھ پر تھا، اِس لئے شہنشاہ نے مجھے یہ خط دے دیئے۔ P! چنانچہ مَیں اندھیرے میں وادی کے دروازے سے شہر سے نکلا اور جنوب کی طرف اژدہا کے چشمے سے ہو کر کچرے کے دروازے تک پہنچا۔ ہر جگہ مَیں نے گری ہوئی فصیل اور بھسم ہوئے دروازوں کا معائنہ کیا۔ ! مَیں رات کے وقت شہر سے نکلا۔ میرے ساتھ چند ایک آدمی تھے، اور ہمارے پاس صرف وہی جانور تھا جس پر مَیں سوار تھا۔ اب تک مَیں نے کسی کو بھی اُس بوجھ کے بارے میں نہیں بتایا تھا جو میرے خدا نے میرے دل پر یروشلم کے لئے ڈال دیا تھا۔a= سفر کرتے کرتے مَیں یروشلم پہنچ گیا۔ تین دن کے بعد ss[$1یروشلم کے افسروں کو معلوم نہیں تھا کہ مَیں کہاں گیا اور کیا کر رہا تھا۔ اب تک مَیں نے نہ اُنہیں اور نہ اماموں یا دیگر اُن لوگوں کو اپنے منصوبے سے آگاہ کیا تھا جنہیں تعمیر کا یہ کام کرنا تھا۔<#sاِس لئے مَیں وادیِ قدرون میں سے گزرا۔ اب تک اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ وہاں بھی مَیں فصیل کا معائنہ کرتا گیا۔ پھر مَیں مُڑا اور وادی کے دروازے میں سے دوبارہ شہر میں داخل ہوا۔j"Oپھر مَیں شمال یعنی چشمے کے دروازے اور شاہی تالاب کی طرف بڑھا، لیکن ملبے کی کثرت کی وجہ سے میرے جانور کو گزرنے کا راستہ نہ ملا، q &مَیں نے اُنہیں بتایا کہ اللہ کا شفیق ہاتھ کس طرح مجھ پر رہا تھا اور کہ شہنشاہ نے مجھ سے کس قسم کا وعدہ کیا تھا۔ یہ سن کر اُنہوں نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، آئیں ہم تعمیر کا کام شروع کریں!“ چنانچہ وہ اِس اچھے کام میں لگ گئے۔ %لیکن اب مَیں اُن سے مخاطب ہوا، ”آپ کو خود ہماری مصیبت نظر آتی ہے۔ یروشلم ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے، اور اُس کے دروازے راکھ ہو گئے ہیں۔ آئیں، ہم فصیل کو نئے سرے سے تعمیر کریں تاکہ ہم دوسروں کے مذاق کا نشانہ نہ بنے رہیں۔“ GGV('مَیں نے جواب دیا، ”آسمان کا خدا ہمیں کامیابی عطا کرے گا۔ ہم جو اُس کے خادم ہیں تعمیر کا کام شروع کریں گے۔ جہاں تک یروشلم کا تعلق ہے، نہ آج اور نہ ماضی میں آپ کا کبھی کوئی حصہ یا حق تھا۔“ ['1جب سنبلّط حورونی، عمونی افسر طوبیاہ اور جشم عربی کو اِس کی خبر ملی تو اُنہوں نے ہمارا مذاق اُڑا کر حقارت آمیز لہجے میں کہا، ”یہ تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ کیا تم شہنشاہ سے غداری کرنا چاہتے ہو؟“ ?vW+)مچھلی کا دروازہ سناآہ کے خاندان کی ذمہ داری تھی۔ اُسے شہتیروں سے بنا کر اُنہوں نے کواڑ، چٹخنیاں اور کنڈے لگا دیئے۔E*یریحو کے آدمیوں نے فصیل کے اگلے حصے کو کھڑا کیا جبکہ زکور بن اِمری نے اُن کے حصے سے ملحق حصے کو تعمیر کیا۔=) wامامِ اعظم اِلیاسب باقی اماموں کے ساتھ مل کر تعمیری کام میں لگ گیا۔ اُنہوں نے بھیڑ کے دروازے کو نئے سرے سے بنا دیا اور اُسے مخصوص کر کے اُس کے کواڑ لگا دیئے۔ اُنہوں نے فصیل کے ساتھ والے حصے کو بھی میا بُرج اور حنن ایل کے بُرج تک بنا کر مخصوص کیا۔ ,-,}.uیشانہ کا دروازہ یویدع بن فاسح اور مسُلّام بن بسودیاہ کی ذمہ داری تھی۔ اُسے شہتیروں سے بنا کر اُنہوں نے کواڑ، چٹخنیاں اور کنڈے لگا دیئے۔?-yاگلا حصہ تقوع کے باشندوں نے بنایا۔ لیکن شہر کے بڑے لوگ اپنے بزرگوں کے تحت کام کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ ,اگلے حصے کی مرمت مریموت بن اُوریاہ بن ہقوض نے کی۔ اگلا حصہ مسُلّام بن برکیاہ بن مشیزب ایل کی ذمہ داری تھی۔ صدوق بن بعنہ نے اگلے حصے کو تعمیر کیا۔ > >K2 یدایاہ بن حرومف نے اگلے حصے کی مرمت کی جو اُس کے گھر کے مقابل تھا۔ اگلے حصے کو حطّوش بن حسبنیاہ نے تعمیر کیا۔11 اگلے حصے کو رفایاہ بن حور نے کھڑا کیا۔ یہ آدمی ضلع یروشلم کے آدھے حصے کا افسر تھا۔%0Eاگلے حصے کی مرمت ایک سنار بنام عُزی ایل بن حرہیاہ کے ہاتھ میں تھی۔ اگلے حصے پر ایک عطر ساز بنام حننیاہ مقرر تھا۔ اِن لوگوں نے فصیل کی مرمت ’موٹی دیوار‘ تک کی۔'/Iاگلا حصہ ملطیاہ جِبعونی اور یدون مرونوتی نے کھڑا کیا۔ یہ لوگ جِبعون اور مِصفاہ کے تھے، وہی مِصفاہ جہاں دریائے فرات کے مغربی علاقے کے گورنر کا دار الحکومت تھا۔ f|95m حنون نے زنوح کے باشندوں سمیت وادی کے دروازے کو تعمیر کیا۔ شہتیروں سے اُسے بنا کر اُنہوں نے کواڑ، چٹخنیاں اور کنڈے لگائے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے فصیل کو وہاں سے کچرے کے دروازے تک کھڑا کیا۔ اِس حصے کا فاصلہ تقریباً 1,500 فٹ یعنی آدھا کلومیڑ تھا۔f4G اگلا حصہ سلّوم بن ہلّوحیش کی ذمہ داری تھی۔ یہ آدمی ضلع یروشلم کے دوسرے آدھے حصے کا افسر تھا۔ اُس کی بیٹیوں نے اُس کی مدد کی۔3' اگلے حصے کو تنوروں کے بُرج تک ملکیاہ بن حارِم اور حسوب بن پخت موآب نے کھڑا کیا۔ >>F7چشمے کے دروازے کی تعمیر سلّون بن کُل حوزہ کے ہاتھ میں تھی جو ضلع مِصفاہ کا افسر تھا۔ اُس نے دروازے پر چھت بنا کر اُس کے کواڑ، چٹخنیاں اور کنڈے لگا دیئے۔ ساتھ ساتھ اُس نے فصیل کے اُس حصے کی مرمت کی جو شاہی باغ کے پاس والے تالاب سے گزرتا ہے۔ یہ وہی تالاب ہے جس میں پانی نالے کے ذریعے پہنچتا ہے۔ سلّون نے فصیل کو اُس سیڑھی تک تعمیر کیا جو یروشلم کے اُس حصے سے اُترتی ہے جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔t6cکچرے کا دروازہ ملکیاہ بن ریکاب کی ذمہ داری تھی۔ یہ آدمی ضلع بیت ہکّرم کا افسر تھا۔ اُس نے اُسے بنا کر کواڑ، چٹخنیاں اور کنڈے لگائے۔ G: اگلے حصے کو لاویوں نے بِنّوئی بن حنداد کے زیرِ نگرانی کھڑا کیا جو ضلع قعیلہ کے دوسرے آدھے حصے پر مقرر تھا۔o9Yذیل کے لاویوں نے اگلے حصوں کو کھڑا کیا: پہلے رحوم بن بانی کا حصہ تھا۔ ضلع قعیلہ کے آدھے حصے کے افسر حسبیاہ نے اگلے حصے کی مرمت کی۔J8اگلا حصہ نحمیاہ بن عزبق کی ذمہ داری تھی جو ضلع بیت صور کے آدھے حصے کا افسر تھا۔ فصیل کا یہ حصہ داؤد بادشاہ کے قبرستان کے مقابل تھا اور مصنوعی تالاب اور سورماؤں کے کمروں پر ختم ہوا۔ %H>ذیل کے حصے اُن اماموں نے تعمیر کئے جو شہر کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔Y=-اگلا حصہ مریموت بن اُوریاہ بن ہقوض کی ذمہ داری تھی اور اِلیاسب کے گھر کے دروازے سے شروع ہو کر اُس کے کونے پر ختم ہوا۔q<]اگلے حصے کو باروک بن زبی نے بڑی محنت سے تعمیر کیا۔ یہ حصہ فصیل کے موڑ سے شروع ہو کر امامِ اعظم اِلیاسب کے گھر کے دروازے پر ختم ہوا۔b;?اگلا حصہ مِصفاہ کے سردار عزر بن یشوع کی ذمہ داری تھی۔ یہ حصہ فصیل کے اُس موڑ پر تھا جہاں راستہ اسلحہ خانے کی طرف چڑھتا ہے۔ SA!اگلا حصہ فالال بن اُوزی کی ذمہ داری تھی۔ یہ حصہ موڑ سے شروع ہوا، اور اوپر کا جو بُرج شاہی محل سے اُس جگہ نکلتا ہے جہاں محافظوں کا صحن ہے وہ بھی اِس میں شامل تھا۔ اگلا حصہ فدایاہ بن پرعوسC@اگلا حصہ بِنّوئی بن حنداد کی ذمہ داری تھی۔ یہ عزریاہ کے گھر سے شروع ہوا اور مُڑتے مُڑتے کونے پر ختم ہوا۔:?oاگلے حصے کی تعمیر بن یمین اور حسوب کے زیرِ نگرانی تھی۔ یہ حصہ اُن کے گھروں کے سامنے تھا۔ عزریاہ بن معسیاہ بن عننیاہ نے اگلے حصے کی مرمت کی۔ یہ حصہ اُس کے گھر کے پاس ہی تھا۔ k Eاُن کے بعد صدوق بن اِمّیر کا حصہ آیا۔ یہ بھی اُس کے گھر کے مقابل تھا۔ اگلا حصہ سمعیاہ بن سکنیاہ نے کھڑا کیا۔ یہ آدمی مشرقی دروازے کا پہرے دار تھا۔0D[گھوڑے کے دروازے سے آگے اماموں نے فصیل کی مرمت کی۔ ہر ایک نے اپنے گھر کے سامنے کا حصہ کھڑا کیا۔(CKاگلا حصہ اِس بُرج سے لے کر عوفل پہاڑی کی دیوار تک تھا۔ تقوع کے باشندوں نے اُسے تعمیر کیا۔eBEاور عوفل پہاڑی پر رہنے والے رب کے گھر کے خدمت گاروں کے ذمے تھا۔ یہ حصہ پانی کے دروازے اور وہاں سے نکلے ہوئے بُرج پر ختم ہوا۔ E  !,7BMXcny)4?JU`ju%0;FQ\fq| 0* 0+ 0, 0- 0. 0/ 00  01  0 0* 0+ 0, 0- 0. 0/ 00  01  02  03  04  05 06 07 08 09 0: 0; 0< 0= 0> 0? 0@ 0A 0B 0C 0D 0E 0F 0G  0H  0I 0J 0K 0L 0M 0N 0O 0P  0Q  0R  0S  0T  0U 0V 0W 0X 0Y 0Z 0[ 0\ 0] 0^ 0_  0` 0a 0b 0c 0d 0e 0f 0g  0h  0i  0j  0k  0l 0m 0n P PBI جب سنبلّط کو پتا چلا کہ ہم فصیل کو دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں تو وہ آگ بگولا ہو گیا۔ ہمارا مذاق اُڑا اُڑا کر H آخری حصہ بھیڑ کے دروازے پر ختم ہوا۔ سناروں اور تاجروں نے اُسے کھڑا کیا۔ `G;ایک سنار بنام ملکیاہ نے اگلے حصے کی مرمت کی۔ یہ حصہ رب کے گھر کے خدمت گاروں اور تاجروں کے اُس مکان پر ختم ہوا جو پہرے کے دروازے کے سامنے تھا۔ فصیل کے کونے پر واقع بالاخانہ بھی اِس میں شامل تھا۔sFaاگلا حصہ حننیاہ بن سلمیاہ اور صلف کے چھٹے بیٹے حنون کے ذمے تھا۔ اگلا حصہ مسُلّام بن برکیاہ نے تعمیر کیا جو اُس کے گھر کے مقابل تھا۔  K عمونی افسر طوبیاہ اُس کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ بولا، ”اُنہیں کرنے دو! دیوار اِتنی کمزور ہو گی کہ اگر لومڑی بھی اُس پر چھلانگ لگائے تو گر جائے گی۔“*JOاُس نے اپنے ہم خدمت افسروں اور سامریہ کے فوجیوں کی موجودگی میں کہا، ”یہ ضعیف یہودی کیا کر رہے ہیں؟ کیا یہ واقعی یروشلم کی قلعہ بندی کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ چند ایک قربانیاں پیش کر کے ہم فصیل کو آج ہی کھڑا کریں گے؟ وہ اِن جلے ہوئے پتھروں اور ملبے کے اِس ڈھیر سے کس طرح نئی دیوار بنا سکتے ہیں؟“ xNkمخالفت کے باوجود ہم فصیل کی مرمت کرتے رہے، اور ہوتے ہوتے پوری دیوار کی آدھی اونچائی کھڑی ہوئی، کیونکہ لوگ پوری لگن سے کام کر رہے تھے۔{Mqاُن کا قصور نظرانداز نہ کر بلکہ اُن کے گناہ تجھے یاد رہیں۔ کیونکہ اُنہوں نے فصیل کو تعمیر کرنے والوں کو ذلیل کرنے سے تجھے طیش دلایا ہے۔_L9اے ہمارے خدا، ہماری سن، کیونکہ لوگ ہمیں حقیر جانتے ہیں۔ جن باتوں سے اُنہوں نے ہمیں ذلیل کیا ہے وہ اُن کی ذلت کا باعث بن جائیں۔ بخش دے کہ لوگ اُنہیں لُوٹ لیں اور اُنہیں قید کر کے جلاوطن کر دیں۔ BRB R اُس وقت یہوداہ کے لوگ کراہنے لگے، ”مزدوروں کی طاقت ختم ہو رہی ہے، اور ابھی تک ملبے کے بڑے ڈھیر باقی ہیں۔ فصیل کو بنانا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔“ Q; لیکن ہم نے اپنے خدا سے التماس کر کے پہرے دار لگائے جو ہمیں دن رات اُن سے بچائے رکھیں۔P+سب متحد ہو کر یروشلم پر حملہ کرنے اور اُس میں گڑبڑ پیدا کرنے کی سازشیں کرنے لگے۔jOOجب سنبلّط، طوبیاہ، عربوں، عمونیوں اور اشدود کے باشندوں کو اطلاع ملی کہ یروشلم کی فصیل کی تعمیر میں ترقی ہو رہی ہے بلکہ جو حصے اب تک کھڑے نہ ہو سکے تھے وہ بھی بند ہونے لگے ہیں تو وہ بڑے غصے میں آ گئے۔ ;Uq تب مَیں نے لوگوں کو فصیل کے پیچھے ایک جگہ کھڑا کر دیا جہاں دیوار سب سے نیچی تھی، اور وہ تلواروں، نیزوں اور کمانوں سے لیس اپنے خاندانوں کے مطابق کھلے میدان میں کھڑے ہو گئے۔wTi جو یہودی اُن کے قریب رہتے تھے وہ بار بار ہمارے پاس آ کر ہمیں اطلاع دیتے رہے، ”دشمن چاروں طرف سے آپ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کھڑا ہے۔“!S= دوسری طرف دشمن کہہ رہے تھے، ”ہم اچانک اُن پر ٹوٹ پڑیں گے۔ اُن کو اُس وقت پتا چلے گا جب ہم اُن کے بیچ میں ہوں گے۔ تب ہم اُنہیں مار دیں گے اور کام رُک جائے گا۔“ dLXلیکن اُس دن سے میرے جوانوں کا صرف آدھا حصہ تعمیری کام میں لگا رہا۔ باقی لوگ نیزوں، ڈھالوں، کمانوں اور زرہ بکتر سے لیس پہرہ دیتے رہے۔ افسر یہوداہ کے اُن تمام لوگوں کے پیچھے کھڑے رہے>Wwجب ہمارے دشمنوں کو معلوم ہوا کہ اُن کی سازشوں کی خبر ہم تک پہنچ گئی ہے اور کہ اللہ نے اُن کے منصوبے کو ناکام ہونے دیا تو ہم سب اپنی اپنی جگہ پر دوبارہ تعمیر کے کام میں لگ گئے۔VV'لوگوں کا جائزہ لے کر مَیں کھڑا ہوا اور کہنے لگا، ”اُن سے مت ڈریں! رب کو یاد کریں جو عظیم اور مہیب ہے۔ ذہن میں رکھیں کہ ہم اپنے بھائیوں، بیٹوں بیٹیوں، بیویوں اور گھروں کے لئے لڑ رہے ہیں۔“ XOQ3\aجوں ہی آپ کو تُرم کی آواز سنائی دے تو بھاگ کر آواز کی طرف چلے آئیں۔ ہمارا خدا ہمارے لئے لڑے گا!“z[oمَیں نے شرفا، بزرگوں اور باقی لوگوں سے کہا، ”یہ کام بہت ہی بڑا اور وسیع ہے، اِس لئے ہم ایک دوسرے سے دُور اور بکھرے ہوئے کام کر رہے ہیں۔Zاور جو بھی دیوار کو کھڑا کر رہا تھا اُس کی تلوار کمر میں بندھی رہتی تھی۔ جس آدمی کو تُرم بجا کر خطرے کا اعلان کرنا تھا وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔$YCجو دیوار کو تعمیر کر رہے تھے۔ سامان اُٹھانے والے ایک ہاتھ سے ہتھیار پکڑے کام کرتے تھے۔  _اُن تمام دنوں کے دوران نہ مَیں، نہ میرے بھائیوں، نہ میرے جوانوں اور نہ میرے پہرے داروں نے کبھی اپنے کپڑے اُتارے۔ نیز، ہر ایک اپنا ہتھیار پکڑے رہا۔ J^اُس وقت مَیں نے سب کو یہ حکم بھی دیا، ”ہر آدمی اپنے مددگاروں کے ساتھ رات کا وقت یروشلم میں گزارے۔ پھر آپ رات کے وقت پہرہ داری میں بھی مدد کریں گے اور دن کے وقت تعمیری کام میں بھی۔“o]Yہم پَو پھٹنے سے لے کر اُس وقت تک کام میں مصروف رہتے جب تک ستارے نظر نہ آتے، اور ہر وقت آدمیوں کا آدھا حصہ نیزے پکڑے پہرہ دیتا تھا۔ eBcکچھ اَور بولے، ”ہمیں اپنے کھیتوں اور انگور کے باغوں پر بادشاہ کا ٹیکس ادا کرنے کے لئے اُدھار لینا پڑا۔Yb-دوسروں نے شکایت کی، ”کال کے دوران ہمیں اپنے کھیتوں، انگور کے باغوں اور گھروں کو گروی رکھنا پڑا تاکہ اناج مل جائے۔“Naبعض نے کہا، ”ہمارے بہت زیادہ بیٹے بیٹیاں ہیں، اِس لئے ہمیں مزید اناج ملنا چاہئے، ورنہ ہم زندہ نہیں رہیں گے۔“` +کچھ دیر بعد کچھ مرد و خواتین میرے پاس آ کر اپنے یہودی بھائیوں کی شکایت کرنے لگے۔ {{2f_بہت سوچ بچار کے بعد مَیں نے شرفا اور افسروں پر الزام لگایا، ”آپ اپنے ہم وطن بھائیوں سے غیرمناسب سود لے رہے ہیں!“ مَیں نے اُن سے نپٹنے کے لئے ایک بڑی جماعت اکٹھی کر کےae=اُن کا واویلا اور شکایتیں سن کر مجھے بڑا غصہ آیا۔gdIہم بھی دوسروں کی طرح یہودی قوم کے ہیں، اور ہمارے بچے اُن سے کم حیثیت نہیں رکھتے۔ توبھی ہمیں اپنے بچوں کو غلامی میں بیچنا پڑتا ہے تاکہ گزارہ ہو سکے۔ ہماری کچھ بیٹیاں لونڈیاں بن چکی ہیں۔ لیکن ہم خود بےبس ہیں، کیونکہ ہمارے کھیت اور انگور کے باغ دوسروں کے قبضے میں ہیں۔“ +/ +]i5 مَیں، میرے بھائیوں اور ملازموں نے بھی دوسروں کو اُدھار کے طور پر پیسے اور اناج دیا ہے۔ لیکن آئیں، ہم اُن سے سود نہ لیں!h9 مَیں نے بات جاری رکھی، ”آپ کا یہ سلوک ٹھیک نہیں۔ آپ کو ہمارے خدا کا خوف مان کر زندگی گزارنا چاہئے تاکہ ہم اپنے غیریہودی دشمنوں کی لعن طعن کا نشانہ نہ بنیں۔Mgکہا، ”ہمارے کئی ہم وطن بھائیوں کو غیریہودیوں کو بیچا گیا تھا۔ جہاں تک ممکن تھا ہم نے اُنہیں واپس خرید کر آزاد کرنے کی کوشش کی۔ اور اب آپ خود اپنے ہم وطن بھائیوں کو بیچ رہے ہیں۔ کیا ہم اب اُنہیں دوبارہ واپس خریدیں؟“ وہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔ k% انہوں نے جواب دیا، ”ہم اُسے واپس کر دیں گے اور آئندہ اُن سے کچھ نہیں مانگیں گے۔ جو کچھ آپ نے کہا وہ ہم کریں گے۔“ تب مَیں نے اماموں کو اپنے پاس بُلایا تاکہ شرفا اور بزرگ اُن کی موجودگی میں قَسم کھائیں کہ ہم ایسا ہی کریں گے۔qj] آج ہی اپنے قرض داروں کو اُن کے کھیت، گھر اور انگور اور زیتون کے باغ واپس کر دیں۔ جتنا سود آپ نے لگایا تھا اُسے بھی واپس کر دیں، خواہ اُسے پیسوں، اناج، تازہ مَے یا زیتون کے تیل کی صورت میں ادا کرنا تھا۔“ XomYمَیں کُل بارہ سال صوبہ یہوداہ کا گورنر رہا یعنی ارتخشستا بادشاہ کی حکومت کے 20ویں سال سے اُس کے 32ویں سال تک۔ اِس پورے عرصے میں نہ مَیں نے اور نہ میرے بھائیوں نے وہ آمدنی لی جو ہمارے لئے مقرر کی گئی تھی۔$lC پھر مَیں نے اپنے لباس کی تہیں جھاڑ جھاڑ کر کہا، ”جو بھی اپنی قَسم توڑے اُسے اللہ اِسی طرح جھاڑ کر اُس کے گھر اور ملکیت سے محروم کر دے!“ تمام جمع شدہ لوگ بولے، ”آمین، ایسا ہی ہو!“ اور رب کی تعریف کرنے لگے۔ سب نے اپنے وعدے پورے کئے۔ ((hoKمیری پوری طاقت فصیل کی تکمیل میں صَرف ہوئی، اور میرے تمام ملازم بھی اِس کام میں شریک رہے۔ ہم میں سے کسی نے بھی زمین نہ خریدی۔hnKاصل میں ماضی کے گورنروں نے قوم پر بڑا بوجھ ڈال دیا تھا۔ اُنہوں نے رعایا سے نہ صرف روٹی اور مَے بلکہ فی دن چاندی کے 40 سکے بھی لئے تھے۔ اُن کے افسروں نے بھی عام لوگوں سے غلط فائدہ اُٹھایا تھا۔ لیکن چونکہ مَیں اللہ کا خوف مانتا تھا، اِس لئے مَیں نے اُن سے ایسا سلوک نہ کیا۔ SSr+اے میرے خدا، جو کچھ مَیں نے اِس قوم کے لئے کیا ہے اُس کے باعث مجھ پر مہربانی کر۔ Zq/روزانہ ایک بَیل، چھ بہترین بھیڑبکریاں اور بہت سے پرندے میرے لئے ذبح کر کے تیار کئے جاتے، اور دس دس دن کے بعد ہمیں کئی قسم کی بہت سی مَے خریدنی پڑتی تھی۔ اِن اخراجات کے باوجود مَیں نے گورنر کے لئے مقررہ وظیفہ نہ مانگا، کیونکہ قوم پر بوجھ ویسے بھی بہت زیادہ تھا۔/pYمَیں نے کچھ نہ مانگا حالانکہ مجھے روزانہ یہوداہ کے 150 افسروں کی مہمان نوازی کرنی پڑتی تھی۔ اُن میں وہ تمام مہمان شامل نہیں ہیں جو گاہے بگاہے پڑوسی ممالک سے آتے رہے۔ofOflrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|dfikmnosy  dfikmnosy  !$&(+.257:>AEIKNRUX\_cfikmor u x { }  )3ACDFMORU W!Y"\#^$a%d&f'i(k)n*p+r,u-x.z/{0|1~234 57"8%9':*;,<.=1>7?<@@ADBJCQDYE`GfHhIiJjKnLsMvNz LL6ugاِس لئے مَیں نے قاصدوں کے ہاتھ جواب بھیجا، ”مَیں اِس وقت ایک بڑا کام تکمیل تک پہنچا رہا ہوں، اِس لئے مَیں آ نہیں سکتا۔ اگر مَیں آپ سے ملنے آؤں تو پورا کام رُک جائے گا۔“t-تب سنبلّط اور جشم نے مجھے پیغام بھیجا، ”ہم وادیِ اونو کے شہر کفیریم میں آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔“ لیکن مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔Ys /سنبلّط، طوبیاہ، جشم عربی اور ہمارے باقی دشمنوں کو پتا چلا کہ مَیں نے فصیل کو تکمیل تک پہنچایا ہے اور دیوار میں کہیں بھی خالی جگہ نظر نہیں آتی۔ صرف دروازوں کے کواڑ اب تک لگائے نہیں گئے تھے۔ rx9خط میں لکھا تھا، ”پڑوسی ممالک میں افواہ پھیل گئی ہے کہ آپ اور باقی یہودی بغاوت کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ جشم نے اِس بات کی تصدیق کی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اِسی وجہ سے آپ فصیل بنا رہے ہیں۔ اِن رپورٹوں کے مطابق آپ اُن کے بادشاہ بنیں گے۔,wSپانچویں مرتبہ جب سنبلّط نے اپنے ملازم کو میرے پاس بھیجا تو اُس کے ہاتھ میں ایک کھلا خط تھا۔ vچار دفعہ اُنہوں نے مجھے یہی پیغام بھیجا اور ہر بار مَیں نے وہی جواب دیا۔ yy*{O اصل میں دشمن ہمیں ڈرانا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے سوچا، ”اگر ہم ایسی باتیں کہیں تو وہ ہمت ہار کر کام سے باز آئیں گے۔“ لیکن اب مَیں نے زیادہ عزم کے ساتھ کام جاری رکھا۔[z1مَیں نے اُسے جواب بھیجا، ”جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔ کچھ نہیں ہو رہا، بلکہ آپ نے فرضی کہانی گھڑ لی ہے!“vygکہا جاتا ہے کہ آپ نے نبیوں کو مقرر کیا ہے جو یروشلم میں اعلان کریں کہ آپ یہوداہ کے بادشاہ ہیں۔ بےشک ایسی افواہیں شہنشاہ تک بھی پہنچیں گی۔ اِس لئے آئیں، ہم مل کر ایک دوسرے سے مشورہ کریں کہ کیا کرنا چاہئے۔“ <C} مَیں نے اعتراض کیا، ”کیا یہ ٹھیک ہے کہ مجھ جیسا آدمی بھاگ جائے؟ یا کیا مجھ جیسا شخص جو امام نہیں ہے رب کے گھر میں داخل ہو کر زندہ رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! مَیں ایسا نہیں کروں گا!“@|{ ایک دن مَیں سمعیاہ بن دلایاہ بن مہیطب ایل سے ملنے گیا جو تالا لگا کر گھر میں بیٹھا تھا۔ اُس نے مجھ سے کہا، ”آئیں، ہم اللہ کے گھر میں جمع ہو جائیں اور دروازوں کو اپنے پیچھے بند کر کے کنڈی لگائیں۔ کیونکہ لوگ اِسی رات آپ کو قتل کرنے کے لئے آئیں گے۔“ oYفصیل اِلول کے مہینے کے 25ویں دن یعنی 52 دنوں میں مکمل ہوئی۔~wاے میرے خدا، طوبیاہ اور سنبلّط کی یہ بُری حرکتیں مت بھولنا! نوعدیاہ نبیہ اور باقی اُن نبیوں کو یاد رکھ جنہوں نے مجھے ڈرانے کی کوشش کی ہے۔H  اِس سے وہ مجھے ڈرا کر گناہ کرنے پر اُکسانا چاہتے تھے تاکہ وہ میری بدنامی کر کے مجھے مذاق کا نشانہ بنا سکیں۔~! مَیں نے جان لیا کہ سمعیاہ کی یہ بات اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ سنبلّط اور طوبیاہ نے اُسے رشوت دی تھی، اِسی لئے اُس نے میرے بارے میں ایسی پیش گوئی کی تھی۔ >_9اصل میں یہوداہ کے بہت سے لوگوں نے قَسم کھا کر اُس کی مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ سکنیاہ بن ارخ کا داماد تھا، اور اُس کے بیٹے یوحنان کی شادی مسُلّام بن برکیاہ کی بیٹی سے ہوئی تھی۔&Gاُن 52 دنوں کے دوران یہوداہ کے شرفا طوبیاہ کو خط بھیجتے رہے اور اُس سے جواب ملتے رہے تھے۔#جب ہمارے دشمنوں کو یہ خبر ملی تو پڑوسی ممالک سہم گئے، اور وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو گئے۔ اُنہوں نے جان لیا کہ اللہ نے خود یہ کام تکمیل تک پہنچایا ہے۔ zzwiمَیں نے دو آدمیوں کو یروشلم کے حکمران بنایا۔ ایک میرا بھائی حنانی اور دوسرا قلعے کا کمانڈر حننیاہ تھا۔ حننیاہ کو مَیں نے اِس لئے چن لیا کہ وہ وفادار تھا اور اکثر لوگوں کی نسبت اللہ کا زیادہ خوف مانتا تھا۔Q فصیل کی تکمیل پر مَیں نے دروازوں کے کواڑ لگوائے۔ پھر رب کے گھر کے دربان، گلوکار اور خدمت گزار لاوی مقرر کئے گئے۔2_طوبیاہ کے یہ مددگار میرے سامنے اُس کے نیک کاموں کی تعریف کرتے رہے اور ساتھ ساتھ میری ہر بات اُسے بتاتے رہے۔ پھر طوبیاہ مجھے خط بھیجتا تاکہ مَیں ڈر کر کام سے باز آؤں۔ f9fO گو یروشلم شہر بڑا اور وسیع تھا، لیکن اُس میں آبادی تھوڑی تھی۔ ڈھائے گئے مکان اب تک دوبارہ تعمیر نہیں ہوئے تھے۔Cمَیں نے دونوں سے کہا، ”یروشلم کے دروازے دوپہر کے وقت جب دھوپ کی شدت ہے کھلے نہ رہیں، اور پہرہ دیتے وقت بھی اُنہیں بند کر کے کنڈے لگائیں۔ یروشلم کے آدمیوں کو پہرہ داری کے لئے مقرر کریں جن میں سے کچھ فصیل پر اور کچھ اپنے گھروں کے سامنے ہی پہرہ دیں۔“ E  !,6ALWbmx'2=HS^it$/:EP[fq| 0p 0q 0r  0s 0t 0u 0v 0w 0x 0p 0q 0r  0s 0t 0u 0v 0w 0x 0y 0z  0{  0|  0}  0~  0 0 0 0 0 0 0  0 0 0 0 0 0 0 0  0  0  0  0  0 0 0 0 0 0 0 0 0 0 0 0 0 0 0 0 0 0 0  0 !0 "0 #0 $0 %0 &0 '0 (0 )0 *0 +0 ,0 -0 .0 /0 Jn W”ذیل میں یہوداہ کے اُن لوگوں کی فہرست ہے جو جلاوطنی سے واپس آئے۔ بابل کا بادشاہ نبوکدنضر اُنہیں قید کر کے بابل لے گیا تھا، لیکن اب وہ یروشلم اور یہوداہ کے اُن شہروں میں پھر جا بسے جہاں پہلے رہتے تھے۔2 _چنانچہ میرے خدا نے میرے دل کو شرفا، افسروں اور عوام کو اکٹھا کرنے کی تحریک دی تاکہ خاندانوں کی رجسٹری تیار کروں۔ اِس سلسلے میں مجھے ایک کتاب مل گئی جس میں اُن لوگوں کی فہرست درج تھی جو ہم سے پہلے جلاوطنی سے واپس آئے تھے۔ اُس میں لکھا تھا، EQ'c9yE1_بِگوَئی کا خاندان: 2,067،1_ادونِقام کا خاندان: 667،-Wعزجاد کا خاندان: 2,322،'Kببی کا خاندان: 628،/[بِنّوئی کا خاندان: 648،'Kزکی کا خاندان: 760،)O زتّو کا خاندان: 845،-W عیلام کا خاندان: 1,254،eE پخت موآب کا خاندان یعنی یشوع اور یوآب کی اولاد: 2,818،'K ارخ کا خاندان: 652،-W سفطیاہ کا خاندان: 372،- Wپرعوس کا خاندان: 2,172،K اُن کے راہنما زرُبابل، یشوع، نحمیاہ، عزریاہ، رعمیاہ، نحمانی، مردکی، بِلشان، مِسفرت، بِگوَئی، نحوم اور بعنہ تھے۔ ذیل کی فہرست میں واپس آئے ہوئے خاندانوں کے مرد بیان کئے گئے ہیں۔ QR&X"[Q+)S$یریحو کے باشندے: 345،+(S#حارِم کے باشندے: 320،8'm"دوسرے عیلام کے باشندے: 1,254،1&_!دوسرے نبو کے باشندے: 52،<%u بیت ایل اور عَی کے باشندے: 123،-$Wمکِماس کے باشندے: 122،9#oرامہ اور جِبع کے باشندے: 621،X"+قِریَت یعریم، کفیرہ اور بیروت کے باشندے: 743،3!cبیت عزماوت کے باشندے: 42،+ Sعنتوت کے باشندے: 128،@}بیت لحم اور نطوفہ کے باشندے: 188،,Uحِبعون کا خاندان: 95،+Sخارِف کا خاندان: 112،)Oبِضی کا خاندان: 324،+Sحاشوم کا خاندان: 328،Qاطیر کا خاندان یعنی حِزقیاہ کی اولاد: 98،)Oعدین کا خاندان: 655، (cr(!3=.رب کے گھر کے خدمت گاروں کے درجِ ذیل خاندان جلاوطنی سے واپس آئے۔ ضیحا، حسوفا، طبّعوت،!2=-رب کے گھر کے دربان: سلّوم، اطیر، طلمون، عقّوب، خطیطا اور سوبی کے خاندانوں کے 138 آدمی۔C1,گلوکار: آسف کے خاندان کے 148 آدمی،'0I+ذیل کے لاوی جلاوطنی سے واپس آئے۔ یشوع اور قدمی ایل کا خاندان یعنی ہوداوِیاہ کی اولاد: 74،-/W*حارِم کا خاندان: 1,017،-.W)فشحور کا خاندان: 1,247،/-[(اِمّیر کا خاندان: 1,052،,'ذیل کے امام جلاوطنی سے واپس آئے۔ یدعیاہ کا خاندان جو یشوع کی نسل کا تھا: 973،-+W&سناآہ کے باشندے: 3,930،E*%لود، حادید اور اونو کے باشندے: 721، WwFW.eW;Aq<رب کے گھر کے خدمت گاروں اور سلیمان کے خادموں کے خاندانوں میں سے واپس آئے ہوئے مردوں کی تعداد 392 تھی۔L@;سفطیاہ، خطّیل، فوکرت ضبائم اور امون۔.?Y:یعلہ، درقون، جِدّیل،>#9سلیمان کے خادموں کے درجِ ذیل خاندان جلاوطنی سے واپس آئے۔ سوطی، سوفرت، فرودا،&=I8نضیاح اور خطیفا۔,<U7برقوس، سیسرا، تامح،,;U6بضلوت، محیدا، حرشا،.:Y5بقبوق، حقوفا، حرحور،.9Y4بسی، معونیم، نفوسیم،,8U3جزّام، عُزّا، فاسح،.7Y2ریایاہ، رضین، نقودا،*6Q1حنان، جِدّیل، جحر،.5Y0لِبانہ، حجابہ، شلمی،(4M/قروس، سیعا، فدون، 3Ca>واپس آئے ہوئے خاندانوں میں سے دلایاہ، طوبیاہ اور نقودا کے 642 مرد ثابت نہ کر سکے کہ اسرائیل کی اولاد ہیں، گو وہ تل ملح، تل حرشا، کروب، ادون اور اِمّیر کے رہنے والے تھے۔3Ba=واپس آئے ہوئے خاندانوں میں سے دلایاہ، طوبیاہ اور نقودا کے 642 مرد ثابت نہ کر سکے کہ اسرائیل کی اولاد ہیں، گو وہ تل ملح، تل حرشا، کروب، ادون اور اِمّیر کے رہنے والے تھے۔ LD?حبایاہ، ہقوض اور برزلی کے خاندانوں کے کچھ امام بھی واپس آئے، لیکن اُنہیں رب کے گھر میں خدمت کرنے کی اجازت نہ ملی۔ کیونکہ گو اُنہوں نے نسب ناموں میں اپنے نام تلاش کئے لیکن اُن کا کہیں ذکر نہ ملا، اِس لئے اُنہیں ناپاک قرار دیا گیا۔ (برزلی کے خاندان کے بانی نے برزلی جِلعادی کی بیٹی سے شادی کر کے اپنے سُسر کا نام اپنا لیا تھا۔) F#Aیہوداہ کے گورنر نے حکم دیا کہ اِن تین خاندانوں کے امام فی الحال قربانیوں کا وہ حصہ کھانے میں شریک نہ ہوں جو اماموں کے لئے مقرر ہے۔ جب دوبارہ امامِ اعظم مقرر کیا جائے تو وہی اُوریم اور تُمیم نامی قرعہ ڈال کر معاملہ حل کرے۔LE@حبایاہ، ہقوض اور برزلی کے خاندانوں کے کچھ امام بھی واپس آئے، لیکن اُنہیں رب کے گھر میں خدمت کرنے کی اجازت نہ ملی۔ کیونکہ گو اُنہوں نے نسب ناموں میں اپنے نام تلاش کئے لیکن اُن کا کہیں ذکر نہ ملا، اِس لئے اُنہیں ناپاک قرار دیا گیا۔ (برزلی کے خاندان کے بانی نے برزلی جِلعادی کی بیٹی سے شادی کر کے اپنے سُسر کا نام اپنا لیا تھا۔) ]%]M/Hباقی لوگوں نے سونے کے 20,000 سکے، چاندی کے 1,100 کلو گرام اور اماموں کے 67 لباس عطا کئے۔!L=Gکچھ خاندانی سرپرستوں نے خزانے میں سونے کے 20,000 سکے اور چاندی کے 1,200 کلو گرام ڈال دیئے۔K}Fکچھ خاندانی سرپرستوں نے رب کے گھر کی تعمیرِ نو کے لئے اپنی خوشی سے ہدیئے دیئے۔ گورنر نے سونے کے 1,000 سکے، 50 کٹورے اور اماموں کے 530 لباس دیئے۔3JcE435 اونٹ اور 6,720 گدھے تھے۔GI Dاسرائیلیوں کے پاس 736 گھوڑے، 245 خچر، HCنیز اُن کے 7,337 غلام اور لونڈیاں اور 245 گلوکار جن میں مرد و خواتین شامل تھے۔GG Bکُل 42,360 اسرائیلی اپنے وطن لوٹ آئے، %/O [تو سب لوگ مل کر پانی کے دروازے کے چوک میں جمع ہو گئے۔ اُنہوں نے شریعت کے عالم عزرا سے درخواست کی کہ وہ شریعت لے آئیں جو رب نے موسیٰ کی معرفت اسرائیلی قوم کو دے دی تھی۔WN)Iامام، لاوی، رب کے گھر کے دربان اور خدمت گار، گلوکار اور عوام کے کچھ لوگ اپنی اپنی آبائی آبادیوں میں دوبارہ جا بسے۔ یوں تمام اسرائیلی دوبارہ اپنے اپنے شہروں میں رہنے لگے۔“ ساتویں مہینے یعنی اکتوبر میں جب اسرائیلی اپنے اپنے شہروں میں دوبارہ آباد ہو گئے تھے E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq| 10 20 30 40 50 60 70 80 90 10 20 30 40 50 60 70 80 90 :0 ;0 <0 =0 >0 ?0 @0 A0 B0 C0 D0 E0 F0 G0 H0 I0  0 0 0 0 0 0 0 0  0  0  0  0  0 0 0 0 0 0   0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0  0 ))CRعزرا لکڑی کے ایک چبوترے پر کھڑا تھا جو خاص کر اِس موقع کے لئے بنایا گیا تھا۔ اُس کے دائیں ہاتھ متِتیاہ، سمع، عنایاہ، اُوریاہ، خِلقیاہ اور معسیاہ کھڑے تھے۔ اُس کے بائیں ہاتھ فدایاہ، میسائیل، ملکیاہ، حاشوم، حسبدّانہ، زکریاہ اور مسُلّام کھڑے تھے۔\Q3صبح سویرے سے لے کر دوپہر تک عزرا پانی کے دروازے کے چوک میں پڑھتا رہا، اور تمام جماعت دھیان سے شریعت کی باتیں سنتی رہی۔,PSچنانچہ عزرا نے حاضرین کے سامنے شریعت کی تلاوت کی۔ ساتویں مہینے کا پہلا دن تھا۔ نہ صرف مرد بلکہ عورتیں اور شریعت کی باتیں سمجھنے کے قابل تمام بچے بھی جمع ہوئے تھے۔ (9dUCکچھ لاوی حاضر تھے جنہوں نے لوگوں کے لئے شریعت کی تشریح کی۔ اُن کے نام یشوع، بانی، سربیاہ، یمین، عقّوب، سبّتی، ہودیاہ، معسیاہ، قلیطا، عزریاہ، یوزبد، حنان اور فلایاہ تھے۔ حاضرین اب تک کھڑے تھے۔kTQعزرا نے رب عظیم خدا کی ستائش کی، اور سب نے اپنے ہاتھ اُٹھا کر جواب میں کہا، ”آمین، آمین۔“ پھر اُنہوں نے جھک کر رب کو سجدہ کیا۔TS#چونکہ عزرا اونچی جگہ پر کھڑا تھا اِس لئے وہ سب کو نظر آیا۔ چنانچہ جب اُس نے کتاب کو کھول دیا تو سب لوگ کھڑے ہو گئے۔ 4W  شریعت کی باتیں سن سن کر وہ رونے لگے۔ لیکن نحمیاہ گورنر، شریعت کے عالم عزرا امام اور شریعت کی تشریح کرنے والے لاویوں نے اُنہیں تسلی دے کر کہا، ”اُداس نہ ہوں اور مت روئیں! آج رب آپ کے خدا کے لئے مخصوص و مُقدّس عید ہے۔HV شریعت کی تلاوت کے ساتھ ساتھ مذکورہ لاوی قدم بہ قدم اُس کی تشریح یوں کرتے گئے کہ لوگ اُسے اچھی طرح سمجھ سکے۔ ^AY} لاویوں نے بھی تمام لوگوں کو سکون دلا کر کہا، ”اُداس نہ ہوں، کیونکہ یہ دن رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔“X7 اب جائیں، عمدہ کھانا کھا کر اور پینے کی میٹھی چیزیں پی کر خوشی منائیں۔ جو اپنے لئے کچھ تیار نہ کر سکیں اُنہیں اپنی خوشی میں شریک کریں۔ یہ دن ہمارے رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔ اُداس نہ ہوں، کیونکہ رب کی خوشی آپ کی پناہ گاہ ہے۔“ pZp\جب وہ شریعت کا مطالعہ کر رہے تھے تو اُنہیں پتا چلا کہ رب نے موسیٰ کی معرفت حکم دیا تھا کہ اسرائیلی ساتویں مہینے کی عید کے دوران جھونپڑیوں میں رہیں۔R[ اگلے دن خاندانی سرپرست، امام اور لاوی دوبارہ شریعت کے عالم عزرا کے پاس جمع ہوئے تاکہ شریعت کی مزید تعلیم پائیں۔"Z? پھر سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ وہاں اُنہوں نے بڑی خوشی سے کھا پی کر جشن منایا۔ ساتھ ساتھ اُنہوں نے دوسروں کو بھی اپنی خوشی میں شریک کیا۔ اُن کی بڑی خوشی کا سبب یہ تھا کہ اب اُنہیں اُن باتوں کی سمجھ آئی تھی جو اُنہیں سنائی گئی تھیں۔ xT^#لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ وہ گھروں سے نکلے اور درختوں کی شاخیں توڑ کر لے آئے۔ اُن سے اُنہوں نے اپنے گھروں کی چھتوں پر اور صحنوں میں جھونپڑیاں بنا لیں۔ بعض نے اپنی جھونپڑیوں کو رب کے گھر کے صحنوں، پانی کے دروازے کے چوک اور افرائیم کے دروازے کے چوک میں بھی بنایا۔]چنانچہ اُنہوں نے یروشلم اور باقی تمام شہروں میں اعلان کیا، ”پہاڑوں پر سے زیتون، آس، کھجور اور باقی سایہ دار درختوں کی شاخیں توڑ کر اپنے گھر لے جائیں۔ وہاں اُن سے جھونپڑیاں بنائیں، جس طرح شریعت نے ہدایت دی ہے۔“ {Wa + اُسی مہینے کے 24ویں دن اسرائیلی روزہ رکھنے کے لئے جمع ہوئے۔ ٹاٹ کے لباس پہنے ہوئے اور سر پر خاک ڈال کر وہ یروشلم آئے۔G` عید کے ہر دن عزرا نے اللہ کی شریعت کی تلاوت کی۔ سات دن اسرائیلیوں نے عید منائی، اور آٹھویں دن سب لوگ اجتماع کے لئے اکٹھے ہوئے، بالکل اُن ہدایات کے مطابق جو شریعت میں دی گئی ہیں۔ 6_gجتنے بھی جلاوطنی سے واپس آئے تھے وہ سب جھونپڑیاں بنا کر اُن میں رہنے لگے۔ یشوع بن نون کے زمانے سے لے کر اُس وقت تک یہ عید اِس طرح نہیں منائی گئی تھی۔ سب نہایت ہی خوش تھے۔ zdo یشوع، بانی، قدمی ایل، سبنیاہ، بُنی، سربیاہ، بانی اور کنانی جو لاوی تھے ایک چبوترے پر کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے رب اپنے خدا سے دعا کی۔1c] تین گھنٹے وہ کھڑے رہے، اور اُس دوران رب اُن کے خدا کی شریعت کی تلاوت کی گئی۔ پھر وہ رب اپنے خدا کے سامنے منہ کے بل جھک کر مزید تین گھنٹے اپنے گناہوں کا اقرار کرتے رہے۔ebE اب وہ تمام غیریہودیوں سے الگ ہو کر اُن گناہوں کا اقرار کرنے کے لئے حاضر ہوئے جو اُن سے اور اُن کے باپ دادا سے سرزد ہوئے تھے۔ A)fM اے رب، تُو ہی واحد خدا ہے! تُو نے آسمان کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک اُس کے لشکر سمیت خلق کیا۔ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے، سمندر اور جو کچھ اُس میں ہے سب کچھ تُو ہی نے بنایا ہے۔ تُو نے سب کو زندگی بخشی ہے، اور آسمانی لشکر تجھے سجدہ کرتا ہے۔;eq پھر یشوع، قدمی ایل، بانی، حسبنیاہ، سربیاہ، ہودیاہ، سبنیاہ اور فتحیاہ جو لاوی تھے بول اُٹھے، ”کھڑے ہو کر رب اپنے خدا کی جو ازل سے ابد تک ہے ستائش کریں!“ اُنہوں دعا کی، ”تیرے جلالی نام کی تمجید ہو، جو ہر مبارک بادی اور تعریف سے کہیں بڑھ کر ہے۔ >Pi تُو نے ہمارے باپ دادا کے مصر میں بُرے حال پر دھیان دیا، اور بحرِ قُلزم کے کنارے پر مدد کے لئے اُن کی چیخیں سنیں۔/hY تُو نے اُس کا دل وفادار پایا اور اُس سے عہد باندھ کر وعدہ کیا، ’مَیں تیری اولاد کو کنعانیوں، حِتّیوں، اموریوں، فرِزّیوں، یبوسیوں اور جرجاسیوں کا ملک عطا کروں گا۔‘ اور تُو اپنے وعدے پر پورا اُترا، کیونکہ تُو قابلِ اعتماد اور عادل ہے۔>gw تُو ہی رب اور وہ خدا ہے جس نے ابرام کو چن لیا اور کلدیوں کے شہر اُور سے باہر لا کر ابراہیم کا نام رکھا۔ yk- قوم کے دیکھتے دیکھتے تُو نے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، اور وہ خشک زمین پر چل کر اُس میں سے گزر سکے۔ لیکن اُن کا تعاقب کرنے والوں کو تُو نے متلاطم پانی میں پھینک دیا، اور وہ پتھروں کی طرح سمندر کی گہرائیوں میں ڈوب گئے۔j تُو نے الٰہی نشانوں اور معجزوں سے فرعون، اُس کے افسروں اور اُس کے ملک کی قوم کو سزا دی، کیونکہ تُو جانتا تھا کہ مصری ہمارے باپ دادا سے کیسا گستاخانہ سلوک کرتے رہے ہیں۔ یوں تیرا نام مشہور ہوا اور آج تک یاد رہا ہے۔ n9 تُو نے اُنہیں سبت کے دن کے بارے میں آگاہ کیا، اُس دن کے بارے میں جو تیرے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔ اپنے خادم موسیٰ کی معرفت تُو نے اُنہیں احکام اور ہدایات دیں۔}mu تُو کوہِ سینا پر اُتر آیا اور آسمان سے اُن سے ہم کلام ہوا۔ تُو نے اُنہیں صاف ہدایات اور قابلِ اعتماد احکام دیئے، ایسے قواعد جو اچھے ہیں۔ l دن کے وقت تُو نے بادل کے ستون سے اور رات کے وقت آگ کے ستون سے اپنی قوم کی راہنمائی کی۔ یوں وہ راستہ اندھیرے میں بھی روشن رہا جس پر اُنہیں چلنا تھا۔ N p افسوس، ہمارے باپ دادا مغرور اور ضدی ہو گئے۔ وہ تیرے احکام کے تابع نہ رہے۔.oW جب وہ بھوکے تھے تو تُو نے اُنہیں آسمان سے روٹی کھلائی، اور جب پیاسے تھے تو تُو نے اُنہیں چٹان سے پانی پلایا۔ تُو نے حکم دیا، ’جاؤ، ملک میں داخل ہو کر اُس پر قبضہ کر لو، کیونکہ مَیں نے ہاتھ اُٹھا کر قَسم کھائی ہے کہ تمہیں یہ ملک دوں گا۔‘ r  اُس وقت بھی نہیں جب انہوں نے اپنے لئے سونے کا بچھڑا ڈھال کر کہا، ’یہ تیرا خدا ہے جو تجھے مصر سے نکال لایا۔‘ اِس قسم کا سنجیدہ کفر وہ بکتے رہے۔q اُنہوں نے تیری سننے سے انکار کیا اور وہ معجزات یاد نہ رکھے جو تُو نے اُن کے درمیان کئے تھے۔ وہ یہاں تک اَڑ گئے کہ اُنہوں نے ایک راہنما کو مقرر کیا جو اُنہیں مصر کی غلامی میں واپس لے جائے۔ لیکن تُو معاف کرنے والا خدا ہے جو مہربان اور رحیم، تحمل اور شفقت سے بھرپور ہے۔ تُو نے اُنہیں ترک نہ کیا، DDCu چالیس سال وہ ریگستان میں پھرتے رہے، اور اُس پورے عرصے میں تُو اُن کی ضروریات کو پورا کرتا رہا۔ اُنہیں کوئی بھی کمی نہیں تھی۔ نہ اُن کے کپڑے گھس کر پھٹے اور نہ اُن کے پاؤں سوجے۔t' نہ صرف یہ بلکہ تُو نے اُنہیں اپنا نیک روح عطا کیا جو اُنہیں تعلیم دے۔ جب اُنہیں بھوک اور پیاس تھی تو تُو انہیں مَن کھلانے اور پانی پلانے سے باز نہ آیا۔Ws) لیکن تُو بہت رحم دل ہے، اِس لئے تُو نے اُنہیں ریگستان میں نہ چھوڑا۔ دن کے وقت بادل کا ستون اُن کی راہنمائی کرتا رہا، اور رات کے وقت آگ کا ستون وہ راستہ روشن کرتا رہا جس پر اُنہیں چلنا تھا۔ vvOx وہ ملک میں داخل ہو کر اُس کے مالک بن گئے۔ تُو نے کنعان کے باشندوں کو اُن کے آگے آگے زیر کر دیا۔ ملک کے بادشاہ اور قومیں اُن کے قبضے میں آ گئیں، اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اُن سے نپٹ سکے۔w اُن کی اولاد تیری مرضی سے آسمان پر کے ستاروں جیسی بےشمار ہوئی، اور تُو اُنہیں اُس ملک میں لایا جس کا وعدہ تُو نے اُن کے باپ دادا سے کیا تھا۔-vU تُو نے ممالک اور قومیں اُن کے حوالے کر دیں، مختلف علاتے یکے بعد دیگرے اُن کے قبضے میں آئے۔ یوں وہ سیحون بادشاہ کے ملک حسبون اور عوج بادشاہ کے ملک بسن پر فتح پا سکے۔ GnzW اِس کے باوجود وہ تابع نہ رہے بلکہ سرکش ہوئے۔ اُنہوں نے اپنا منہ تیری شریعت سے پھیر لیا۔ اور جب تیرے نبی اُنہیں سمجھا سمجھا کر تیرے پاس واپس لانا چاہتے تھے تو اُنہوں نے بڑے کفر بک کر اُنہیں قتل کر دیا۔5ye قلعہ بند شہر اور زرخیز زمینیں تیری قوم کے قابو میں آ گئیں، نیز ہر قسم کی اچھی چیزوں سے بھرے گھر، تیار شدہ حوض، انگور کے باغ اور کثرت کے زیتون اور دیگر پھل دار درخت۔ وہ جی بھر کر کھانا کھا کر موٹے ہو گئے اور تیری برکتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ |{s یہ دیکھ کر تُو نے اُنہیں اُن کے دشمنوں کے حوالے کر دیا جو اُنہیں تنگ کرتے رہے۔ جب وہ مصیبت میں پھنس گئے تو وہ چیخیں مار مار کر تجھ سے فریاد کرنے لگے۔ اور تُو نے آسمان پر سے اُن کی سنی۔ بڑا ترس کھا کر تُو نے اُن کے پاس ایسے لوگوں کو بھیج دیا جنہوں نے اُنہیں دشمنوں کے ہاتھ سے چھڑایا۔ y|m لیکن جوں ہی اسرائیلیوں کو سکون ملتا وہ دوبارہ ایسی حرکتیں کرنے لگتے جو تجھے ناپسند تھیں۔ نتیجے میں تُو اُنہیں دوبارہ اُن کے دشمن کے ہاتھ میں چھوڑ دیتا۔ جب وہ اُن کی حکومت کے تحت پِسنے لگتے تو وہ ایک بار پھر چلّا چلّا کر تجھ سے التماس کرنے لگتے۔ اِس بار بھی تُو آسمان پر سے اُن کی سنتا۔ ہاں، تُو اِتنا رحم دل ہے کہ تُو اُنہیں بار بار چھٹکارا دیتا رہا! ;~q اُن کی حرکتوں کے باوجود تُو بہت سالوں تک صبر کرتا رہا۔ تیرا روح اُنہیں نبیوں کے ذریعے سمجھاتا رہا، لیکن اُنہوں نے دھیان نہ دیا۔ تب تُو نے اُنہیں غیرقوموں کے حوالے کر دیا۔&}G تُو اُنہیں سمجھاتا رہا تاکہ وہ دوبارہ تیری شریعت کی طرف رجوع کریں، لیکن وہ مغرور تھے اور تیرے احکام کے تابع نہ ہوئے۔ اُنہوں نے تیری ہدایات کی خلاف ورزی کی، حالانکہ اِن ہی پر چلنے سے انسان کو زندگی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اُنہوں نے پروا نہ کی بلکہ اپنا منہ تجھ سے پھیر کر اَڑ گئے اور سننے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ bA>bX+ !حقیقت تو یہ ہے کہ جو بھی مصیبت ہم پر آئی ہے اُس میں تُو راست ثابت ہوا ہے۔ تُو وفادار رہا ہے، گو ہم قصوروار ٹھہرے ہیں۔y اے ہمارے خدا، اے عظیم، قوی اور مہیب خدا جو اپنا عہد اور اپنی شفقت قائم رکھتا ہے، اِس وقت ہماری مصیبت پر دھیان دے اور اُسے کم نہ سمجھ! کیونکہ ہمارے بادشاہ، بزرگ، امام اور نبی بلکہ ہمارے باپ دادا اور پوری قوم اسوری بادشاہوں کے پہلے حملوں سے لے کر آج تک سخت مصیبت برداشت کرتے رہے ہیں۔;q تاہم تیرا رحم سے بھرا دل اُنہیں ترک کر کے تباہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ تُو کتنا مہربان اور رحیم خدا ہے!   $اِس کا انجام یہ ہوا ہے کہ آج ہم اُس ملک میں غلام ہیں جو تُو نے ہمارے باپ دادا کو عطا کیا تھا تاکہ وہ اُس کی پیداوار اور دولت سے لطف اندوز ہو جائیں۔:o #تُو نے اُنہیں اُن کی اپنی بادشاہی، کثرت کی اچھی چیزوں اور ایک وسیع اور زرخیز ملک سے نوازا تھا۔ توبھی وہ تیری خدمت کرنے کے لئے تیار نہ تھے اور اپنی غلط راہوں سے باز نہ آئے۔3 "ہمارے بادشاہ اور بزرگ، ہمارے امام اور باپ دادا، اُن سب نے تیری شریعت کی پیروی نہ کی۔ جو احکام اور تنبیہ تُو نے اُنہیں دی اُس پر اُنہوں نے دھیان ہی نہ دیا۔ -~yb-2 a حارِم، مریموت، عبدیاہ،0 ] حطّوش، سبنیاہ، ملّوک،2 a فشحور، امریاہ، ملکیاہ،4e سرایاہ، عزریاہ، یرمیاہ،u g ذیل کے لوگوں نے دست خط کئے۔ گورنر نحمیاہ بن حکلیاہ، صِدقیاہ،} &یہ تمام باتیں مدِ نظر رکھ کر ہم عہد باندھ کر اُسے قلم بند کر رہے ہیں۔ ہمارے بزرگ، لاوی اور امام دست خط کر کے عہدنامے پر مہُر لگا رہے ہیں۔“ ~w %ملک کی وافر پیداوار اُن بادشاہوں تک پہنچتی ہے جنہیں تُو نے ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہم پر مقرر کیا ہے۔ اب وہی ہم پر اور ہمارے مویشیوں پر حکومت کرتے ہیں۔ اُن ہی کی مرضی چلتی ہے۔ چنانچہ ہم بڑی مصیبت میں پھنسے ہیں۔ BopsB.Y اطیر، حِزقیاہ، عزور،4e ادونیاہ، بِگوَئی، عدین،(M بُنی، عزجاد، ببی،) اِن کے بعد ذیل کے قومی بزرگوں نے دست خط کئے۔ پرعوس، پخت موآب، عیلام، زتّو، بانی3c ہودیاہ، بانی اور بنینو۔0] زکور، سربیاہ، سبنیاہ،,U میکا، رحوب، حسبیاہ،dC اُن کے بھائی سبنیاہ، ہودیاہ، قلیطا، فلایاہ، حنان،$C پھر ذیل کے لاویوں نے دست خط کئے۔ یشوع بن ازنیاہ، حنداد کے خاندان کا بِنّوئی، قدمی ایل،xk معزیاہ، بِلجی اور سمعیاہ۔ سرایاہ سے لے کر سمعیاہ تک امام تھے۔4 e مسُلّام، ابیاہ، میامین،4 e دانیال، جِنّتون، باروک، E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0:EP[fq|  0  0  0  0  1  !1  "1  #1  $1  0  0  0  0  1  !1  "1  #1  $1  %1  &1   1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1!  1"  1#  1$  1%  1&  !1'  "1(  #1)  $1*  %1+  &1,  '1-   1.  1/  10  11  12  13  14  15  16  17  18  19  1:  1;  1<  1=  1>  1?  1@ Ck5i<CA"} قوم کے باقی لوگ بھی عہد میں شریک ہوئے یعنی باقی امام، لاوی، رب کے گھر کے دربان اور خدمت گار، گلوکار، نیز سب جو غیریہودی قوموں سے الگ ہو گئے تھے تاکہ رب کی شریعت کی پیروی کریں۔ اُن کی بیویاں اور وہ بیٹے بیٹیاں بھی شریک ہوئے جو عہد کو سمجھ سکتے تھے۔1!_ ملّوک، حارِم اور بعنہ۔* Q اخیاہ، حنان، عنان،0] رحوم، حسبناہ، معسیاہ،2a ہلّوحیش، فِلحا، سوبیق،.Y ہوسیع، حننیاہ، حسوب،0] فلطیاہ، حنان، عنایاہ،3c مشیزب ایل، صدوق، یدّوع،2a مگفیعاس، مسُلّام، حزیر,U خارِف، عنتوت، نیبی،.Y ہودیاہ، حاشوم، بِضی، O}Op%[ جب غیریہودی ہمیں سبت کے دن یا رب کے لئے مخصوص کسی اَور دن اناج یا کوئی اَور مال بیچنے کی کوشش کریں تو ہم کچھ نہیں خریدیں گے۔ ہر ساتویں سال ہم زمین کی کھیتی باڑی نہیں کریں گے اور تمام قرضے منسوخ کریں گے۔6$g نیز، اُنہوں نے قَسم کھا کر وعدہ کیا، ”ہم اپنے بیٹے بیٹیوں کی شادی غیریہودیوں سے نہیں کرائیں گے۔#y اپنے بزرگ بھائیوں کے ساتھ مل کر اُنہوں نے قَسم کھا کر وعدہ کیا، ”ہم اُس شریعت کی پیروی کریں گے جو اللہ نے ہمیں اپنے خادم موسیٰ کی معرفت دی ہے۔ ہم احتیاط سے رب اپنے آقا کے تمام احکام اور ہدایات پر عمل کریں گے۔“ eHe_'9 !اللہ کے لئے مخصوص روٹی، غلہ کی نذر اور بھسم ہونے والی وہ قربانیاں جو روزانہ پیش کی جاتی ہیں، سبت کے دن، نئے چاند کی عید اور باقی عیدوں پر پیش کی جانے والی قربانیاں، خاص مُقدّس قربانیاں، اسرائیل کا کفارہ دینے والی گناہ کی قربانیاں، اور ہمارے خدا کے گھر کا ہر کام۔4&c ہم سالانہ رب کے گھر کی خدمت کے لئے چاندی کا چھوٹا سکہ دیں گے۔ اِس خدمت میں ذیل کی چیزیں شامل ہیں: lDlG*  $جس طرح شریعت میں درج ہے، ہم اپنے پہلوٹھوں کو رب کے گھر میں لا کر اللہ کے لئے مخصوص کریں گے۔ گائےبَیلوں اور بھیڑبکریوں کے پہلے بچے ہم خدمت گزار اماموں کو قربان کرنے کے لئے دیں گے۔ )  #ہم سالانہ اپنے کھیتوں اور درختوں کا پہلا پھل رب کے گھر میں پہنچائیں گے۔8(k "ہم نے قرعہ ڈال کر مقرر کیا ہے کہ اماموں، لاویوں اور باقی قوم کے کون کون سے خاندان سال میں کن کن مقررہ موقعوں پر رب کے گھر میں لکڑی پہنچائیں۔ یہ لکڑی ہمارے خدا کی قربان گاہ پر قربانیاں جلانے کے لئے استعمال کی جائے گی، جس طرح شریعت میں لکھا ہے۔  + ,5 &دسواں حصہ ملتے وقت کوئی امام یعنی ہارون کے خاندان کا کوئی مرد لاویوں کے ساتھ ہو گا، اور لاوی مال کا دسواں حصہ ہمارے خدا کے گھر کے گوداموں میں پہنچائیں گے۔Q+ %اُنہیں ہم سال کے پہلے غلہ سے گوندھا ہوا آٹا، اپنے درختوں کا پہلا پھل، اپنی نئی مَے اور زیتون کے نئے تیل کا پہلا حصہ دے کر رب کے گھر کے گوداموں میں پہنچائیں گے۔ دیہات میں ہم لاویوں کو اپنی فصلوں کا دسواں حصہ دیں گے، کیونکہ وہی دیہات میں یہ حصہ جمع کرتے ہیں۔ .  قوم کے بزرگ یروشلم میں آباد ہوئے تھے۔ فیصلہ کیا گیا کہ باقی لوگوں کے ہر دسویں خاندان کو مُقدّس شہر یروشلم میں بسنا ہے۔ یہ خاندان قرعہ ڈال کر مقرر کئے گئے۔ باقی خاندانوں کو اُن کی مقامی جگہوں میں رہنے کی اجازت تھی۔m-U 'عام لوگ اور لاوی وہاں غلہ، نئی مَے اور زیتون کا تیل لائیں گے۔ اِن کمروں میں مقدِس کی خدمت کے لئے درکار تمام سامان محفوظ رکھا جائے گا۔ اِس کے علاوہ وہاں اماموں، دربانوں اور گلوکاروں کے کمرے ہوں گے۔ ہم اپنے خدا کے گھر میں تمام فرائض سرانجام دینے میں غفلت نہیں برتیں گے۔“ s13 لیکن یہوداہ اور بن یمین کے چند ایک لوگ یروشلم میں جا بسے۔) یہوداہ کا قبیلہ: فارص کے خاندان کا عتایاہ بن عُزیّاہ بن زکریاہ بن امریاہ بن سفطیاہ بن مہلل ایل،,0S ذیل میں صوبے کے اُن بزرگوں کی فہرست ہے جو یروشلم میں آباد ہوئے۔ (اکثر لوگ یہوداہ کے باقی شہروں اور دیہات میں اپنی موروثی زمین پر بستے تھے۔ اِن میں عام اسرائیلی، امام، لاوی، رب کے گھر کے خدمت گار اور سلیمان کے خادموں کی اولاد شامل تھے۔ /  لیکن جتنے لوگ اپنی خوشی سے یروشلم جا بسے اُنہیں دوسروں نے مبارک باد دی۔ _T_j7O یروشلم میں ذیل کے امام رہتے تھے۔ یدعیاہ، یویریب، یکین26_ اِن پر یوایل بن زِکری مقرر تھا جبکہ یہوداہ بن سنوآہ شہر کی انتظامیہ میں دوسرے نمبر پر آتا تھا۔`5; سَلّو کے ساتھ جبّی اور سلّی تھے۔ کُل 928 آدمی تھے۔74i بن یمین کا قبیلہ: سَلّو بن مسُلّام بن یوعید بن فدایاہ بن قولایاہ بن معسیاہ بن ایتی ایل بن یسعیاہ۔03[ فارص کے خاندان کے 468 اثر و رسوخ رکھنے والے آدمی اپنے خاندانوں سمیت یروشلم میں رہائش پذیر تھے۔(2K سِلونی کے خاندان کا معسیاہ بن باروک بن کُل حوزہ بن حزایاہ بن عدایاہ بن یویریب بن زکریاہ۔ 1Hc{1 <; ذیل کے لاوی یروشلم میں رہائش پذیر تھے۔ سمعیاہ بن حسوب بن عزری قام بن حسبیاہ بن بُنی،";? اُس کے ساتھ 128 اثر و رسوخ رکھنے والے بھائی تھے۔ زبدی ایل بن ہجدولیم اُن کا انچارج تھا۔d:C اُس کے ساتھ 242 بھائی تھے جو اپنے اپنے خاندانوں کے سرپرست تھے۔ اِن کے علاوہ امَشسی بن عزرایل بن اخزی بن مسِلّموت بن اِمّیر۔a9= اِن اماموں کے 822 بھائی رب کے گھر میں خدمت کرتے تھے۔ نیز، عدایاہ بن یروحام بن فللیاہ بن امصی بن زکریاہ بن فشحور بن ملکیاہ۔48c اور سرایاہ بن خِلقیاہ بن مسُلّام بن صدوق بن مرایوت بن اخی طوب۔ سرایاہ اللہ کے گھر کا منتظم تھا۔ !u@e رب کے گھر کے دربانوں کے درجِ ذیل مرد یروشلم میں رہتے تھے۔ عقّوب اور طلمون اپنے بھائیوں سمیت دروازوں کے پہرے دار تھے۔ کُل 172 مرد تھے۔Y?- لاویوں کے کُل 284 مرد مُقدّس شہر میں رہتے تھے۔a>= نیز شکرگزاری کا راہنما متنیاہ بن میکا بن زبدی بن آسف تھا جو دعا کرتے وقت حمد و ثنا کی راہنمائی کرتا تھا، نیز اُس کا مددگار متنیاہ کا بھائی بقبوقیاہ، اور آخر میں عبدا بن سموع بن جلال بن یدوتون۔w=i نیز سبّتی اور یوزبد جو اللہ کے گھر سے باہر کے کام پر مقرر تھے، !UED بادشاہ نے مقرر کیا تھا کہ آسف کے خاندان کے کن کن آدمیوں کو کس کس دن رب کے گھر میں گیت گانے کی خدمت کرنی ہے۔2C_ یروشلم میں رہنے والے لاویوں کا نگران عُزّی بن بانی بن حسبیاہ بن متنیاہ بن میکا تھا۔ وہ آسف کے خاندان کا تھا، اُس خاندان کا جس کے گلوکار اللہ کے گھر میں خدمت کرتے تھے۔B رب کے گھر کے خدمت گار عوفل پہاڑی پر بستے تھے۔ ضیحا اور جِسفا اُن پر مقرر تھے۔[A1 قوم کے باقی لوگ، امام اور لاوی یروشلم سے باہر یہوداہ کے دوسرے شہروں میں آباد تھے۔ ہر ایک اپنی آبائی زمین پر رہتا تھا۔ /&T i/7Jk عین رِمّون، صُرعہ، یرموت،VI' صِقلاج، مکوناہ گرد و نواح کی آبادیوں سمیت،[H1 حصر سوعال، بیرسبع گرد و نواح کی آبادیوں سمیت،1G_ یشوع، مولادہ، بیت فلط،NF یہوداہ کے قبیلے کے افراد ذیل کے شہروں میں آباد تھے۔ قِریَت اربع، دیبون اور قبضئیل گرد و نواح کی آبادیوں سمیت،VE' فتحیاہ بن مشیزب ایل اسرائیلی معاملوں میں فارس کے بادشاہ کی نمائندگی کرتا تھا۔ وہ زارح بن یہوداہ کے خاندان کا تھا۔ _]_4Qc $لاوی قبیلے کے کچھ خاندان جو پہلے یہوداہ میں رہتے تھے اب بن یمین کے قبائلی علاقے میں آباد ہوئے۔ CP #لود، اونو اور کاری گروں کی وادی۔2Oa "حادید، ضبوعیم، نبلّاط،,NU !حصور، رامہ، جِتّیم،,MU عنتوت، نوب، عننیاہ،FL بن یمین کے قبیلے کی رہائش ذیل کے مقاموں میں تھی۔ جِبع، مِکماس، عیّاہ، بیت ایل گرد و نواح کی آبادیوں سمیت،BK زنوح، عدُلام گرد و نواح کی حویلیوں سمیت، لکیس گرد و نواح کے کھیتوں سمیت اور عزیقہ گرد و نواح کی آبادیوں سمیت۔ غرض، وہ جنوب میں بیرسبع سے لے کر شمال میں وادیِ ہنوم تک آباد تھے۔ 2i4C2 Y لاوی: یشوع، بِنّوئی، قدمی ایل، سربیاہ، یہوداہ اور متنیاہ۔ متنیاہ اپنے بھائیوں کے ساتھ رب کے گھر میں حمد و ثنا کے گیت گانے میں راہنمائی کرتا تھا۔6Xg سَلّو، عموق، خِلقیاہ، اور یدعیاہ۔ یہ یشوع کے زمانے میں اماموں اور اُن کے بھائیوں کے راہنما تھے۔4We سمعیاہ، یویریب، یدعیاہ،2Va میامین، معدیاہ، بِلجہ،2Ua عِدّو، جِنّتون، ابیاہ،0T] سکنیاہ، رحوم، مریموت،0S] امریاہ، ملّوک، حطّوش،xR m درجِ ذیل اُن اماموں اور لاویوں کی فہرست ہے جو زرُبابل بن سیالتی ایل اور یشوع کے ساتھ جلاوطنی سے واپس آئے۔ امام: سرایاہ، یرمیاہ، عزرا، B^qBf`G حارِم کے خاندان کا عدنا، مرایوت کے خاندان کا حِلقی،f_G ملّوک کے خاندان کا یونتن، سبنیاہ کے خاندان کا یوسف،l^S عزرا کے خاندان کا مسُلّام، امریاہ کے خاندان کا یوحنان،j]O جب یویقیم امامِ اعظم تھا تو ذیل کے امام اپنے خاندانوں کے سرپرست تھے۔ سرایاہ کے خاندان کا مرایاہ، یرمیاہ کے خاندان کا حننیاہ،A\ یویدع یونتن کا، یونتن یدّوع کا۔%[E امامِ اعظم یشوع کی اولاد: یشوع یویقیم کا باپ تھا، یویقیم اِلیاسب کا، اِلیاسب یویدع کا،Z7 بقبوقیاہ اور عُنّی اپنے بھائیوں کے ساتھ عبادت کے دوران اُن کے مقابل کھڑے ہوتے تھے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr}  1B  1C  1D  1E  1F  1G  1H  1I  1J  1B  1C  1D  1E  1F  1G  1H  1I  1J  1K  1L  1M  !1N  "1O  #1P  $1Q   1R  1S  1T  1U  1V  1W  1X  1Y  1Z  1[  1\  1]  1^  1_  1`  1a  1b  1c  1d  1e  1f  1g  1h  1i  1j  1k  1l  1m  1n  1o  1p  1q  !1r  "1s  #1t  $1u  %1v  &1w  '1x  (1y  )1z  *1{  +1|  ,1}  -1~  .1  /1   1  1  1  1  1  1 ;;sfa خِلقیاہ کے خاندان کا حسبیاہ، یدعیاہ کے خاندان کا نتنی ایل۔^e7 سلّی کے خاندان کا قلّی، عموق کے خاندان کا عِبر،jdO یویریب کے خاندان کا متّنی، یدعیاہ کے خاندان کا عُزّی،hcK بِلجہ کے خاندان کا سموع، سمعیاہ کے خاندان کا یہونتن،b9 ابیاہ کے خاندان کا زِکری، من یمین کے خاندان کا ایک آدمی، معدیاہ کے خاندان کا فِلطی،pa[ عِدّو کے خاندان کا زکریاہ، جِنّتون کے خاندان کا مسُلّام، Ch لاوی کے خاندانی سرپرستوں کے نام امامِ اعظم یوحنان بن اِلیاسب کے زمانے تک تاریخ کی کتاب میں درج کئے گئے۔Dg جب اِلیاسب، یویدع، یوحنان اور یدّوع امامِ اعظم تھے تو لاوی کے سرپرستوں کی فہرست تیار کی گئی اور اِسی طرح فارس کے بادشاہ دارا کے زمانے میں اماموں کے خاندانی سرپرستوں کی فہرست۔ 1i] لاوی کے خاندانی سرپرست حسبیاہ، سربیاہ، یشوع، بِنّوئی اور قدمی ایل خدمت کے اُن گروہوں کی راہنمائی کرتے تھے جو رب کے گھر میں حمد و ثنا کے گیت گاتے تھے۔ اُن کے مقابل متنیاہ، بقبوقیاہ اور عبدیاہ اپنے گروہوں کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ گیت گاتے وقت کبھی یہ گروہ اور کبھی اُس کے مقابل کا گروہ گاتا تھا۔ سب کچھ اُس ترتیب سے ہوا جو مردِ خدا داؤد نے مقرر کی تھی۔ مسُلّام، طلمون اور عقّوب دربان تھے جو رب کے گھر کے دروازوں کے ساتھ واقع گوداموں کی پہرہ داری کرتے تھے۔ 1j] لاوی کے خاندانی سرپرست حسبیاہ، سربیاہ، یشوع، بِنّوئی اور قدمی ایل خدمت کے اُن گروہوں کی راہنمائی کرتے تھے جو رب کے گھر میں حمد و ثنا کے گیت گاتے تھے۔ اُن کے مقابل متنیاہ، بقبوقیاہ اور عبدیاہ اپنے گروہوں کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ گیت گاتے وقت کبھی یہ گروہ اور کبھی اُس کے مقابل کا گروہ گاتا تھا۔ سب کچھ اُس ترتیب سے ہوا جو مردِ خدا داؤد نے مقرر کی تھی۔ مسُلّام، طلمون اور عقّوب دربان تھے جو رب کے گھر کے دروازوں کے ساتھ واقع گوداموں کی پہرہ داری کرتے تھے۔ Xn+ بیت جِلجال اور جِبع اور عزماوت کے علاقے سے آئے۔ کیونکہ گلوکاروں نے اپنی اپنی آبادیاں یروشلم کے ارد گرد بنائی تھیں۔fmG گلوکار یروشلم کے گرد و نواح سے، نطوفاتیوں کے دیہات،l- فصیل کی مخصوصیت کے لئے پورے ملک کے لاویوں کو یروشلم بُلایا گیا تاکہ وہ خوشی منانے میں مدد کر کے حمد و ثنا کے گیت گائیں اور جھانجھ، ستار اور سرود بجائیں۔kkQ یہ آدمی امامِ اعظم یویقیم بن یشوع بن یوصدق، نحمیاہ گورنر اور شریعت کے عالم عزرا امام کے زمانے میں اپنی خدمت سرانجام دیتے تھے۔ +Qs "یہوداہ، بن یمین، سمعیاہ اور یرمیاہ چلے۔Sr! !جبکہ اِن کے پیچھے عزریاہ، عزرا، مسُلّام،|qs اِن گلوکاروں کے پیچھے ہوسعیاہ یہوداہ کے آدھے بزرگوں کے ساتھ چلاfpG اِس کے بعد مَیں نے یہوداہ کے قبیلے کے بزرگوں کو فصیل پر چڑھنے دیا اور گلوکاروں کو شکرگزاری کے دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا۔ پہلا گروہ فصیل پر چلتے چلتے جنوب میں واقع کچرے کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔hoK پہلے اماموں اور لاویوں نے اپنے آپ کو جشن کے لئے پاک صاف کیا، پھر اُنہوں نے عام لوگوں، دروازوں اور فصیل کو بھی پاک صاف کر دیا۔ XXwvi %چشمے کے دروازے کے پاس آ کر وہ سیدھے اُس سیڑھی پر چڑھ گئے جو یروشلم کے اُس حصے تک پہنچاتی ہے جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ پھر داؤد کے محل کے پیچھے سے گزر کر وہ شہر کے مغرب میں واقع پانی کے دروازے تک پہنچ گئے۔0u[ $اور اُس کے بھائی سمعیاہ، عزرایل، مِللی، جِللی، ماعی، نتنی ایل، یہوداہ اور حنانی۔ یہ آدمی مردِ خدا داؤد کے ساز بجاتے رہے۔ شریعت کے عالم عزرا نے جلوس کی راہنمائی کی۔ute #آخری گروہ امام تھے جو تُرم بجاتے رہے۔ اِن کے پیچھے ذیل کے موسیقار آئے: زکریاہ بن یونتن بن سمعیاہ بن متنیاہ بن میکایاہ بن زکور بن آسف z )اور ذیل کے تُرم بجانے والے اماموں کے ساتھ رب کے گھر کے صحن میں کھڑا ہوا: اِلیاقیم، معسیاہ، من یمین، میکایاہ، اِلیوعینی، زکریاہ اور حننیاہ۔y9 (پھر شکرگزاری کے دونوں گروہ رب کے گھر کے پاس کھڑے ہو گئے۔ مَیں بھی بزرگوں کے آدھے حصے!x= 'ہم افرائیم کے دروازے، یشانہ کے دروازے، مچھلی کے دروازے، حنن ایل کے بُرج، میا بُرج اور بھیڑ کے دروازے سے ہو کر محافظوں کے دروازے تک پہنچ گئے جہاں ہم رُک گئے۔w/ &شکرگزاری کا دوسرا گروہ فصیل پر چلتے چلتے شمال میں واقع تنوروں کے بُرج اور ’موٹی دیوار‘ کی طرف بڑھ گیا، اور مَیں باقی لوگوں کے ساتھ اُس کے پیچھے ہو لیا۔ <|s +اُس دن ذبح کی بڑی بڑی قربانیاں پیش کی گئیں، کیونکہ اللہ نے ہم سب کو بال بچوں سمیت بڑی خوشی دلائی تھی۔ خوشیوں کا اِتنا شور مچ گیا کہ اُس کی آواز دُوردراز علاقوں تک پہنچ گئی۔ { *معسیاہ، سمعیاہ، اِلی عزر، عُزّی، یوحنان، ملکیاہ، عیلام اور عزر بھی ہمارے ساتھ تھے۔ گلوکار اِزرحیاہ کی راہنمائی میں حمد و ثنا کے گیت گاتے رہے۔ 4~c -جو اپنے خدا کی خدمت طہارت کے رسم و رواج سمیت اچھی طرح انجام دیتے تھے۔ رب کے گھر کے گلوکار اور دربان بھی داؤد اور اُس کے بیٹے سلیمان کی ہدایات کے مطابق ہی خدمت کرتے تھے۔}/ ,اُس وقت کچھ آدمیوں کو اُن گوداموں کے نگران بنایا گیا جن میں ہدیئے، فصلوں کا پہلا پھل اور پیداوار کا دسواں حصہ محفوظ رکھا جاتا تھا۔ اُن میں شہروں کی فصلوں کا وہ حصہ جمع کرنا تھا جو شریعت نے اماموں اور لاویوں کے لئے مقرر کیا تھا۔ کیونکہ یہوداہ کے باشندے خدمت کرنے والے اماموں اور لاویوں سے خوش تھے e>|e # اُس دن قوم کے سامنے موسیٰ کی شریعت کی تلاوت کی گئی۔ پڑھتے پڑھتے معلوم ہوا کہ عمونیوں اور موآبیوں کو کبھی بھی اللہ کی قوم میں شریک ہونے کی اجازت نہیں۔>w /چنانچہ زرُبابل اور نحمیاہ کے دنوں میں تمام اسرائیل رب کے گھر کے گلوکاروں اور دربانوں کی روزانہ ضروریات پوری کرتا تھا۔ لاویوں کو وہ حصہ دیا جاتا جو اُن کے لئے مخصوص تھا، اور لاوی اُس میں سے اماموں کو وہ حصہ دیا کرتے تھے جو اُن کے لئے مخصوص تھا۔ >w .کیونکہ داؤد اور آسف کے زمانے سے ہی گلوکاروں کے لیڈر اللہ کی حمد و ثنا کے گیتوں میں راہنمائی کرتے تھے۔ R7 اِس واقعے سے پہلے رب کے گھر کے گوداموں پر مقرر امام اِلیاسب نے اپنے رشتے دار طوبیاہ! جب حاضرین نے یہ حکم سنا تو اُنہوں نے تمام غیریہودیوں کو جماعت سے خارج کر دیا۔*O وجہ یہ ہے کہ اِن قوموں نے مصر سے نکلتے وقت اسرائیلیوں کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے سے انکار کیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ اُنہوں نے بلعام کو پیسے دیئے تھے تاکہ وہ اسرائیلی قوم پر لعنت بھیجے، اگرچہ ہمارے خدا نے لعنت کو برکت میں تبدیل کیا۔ lS اُس وقت مَیں یروشلم میں نہیں تھا، کیونکہ بابل کے بادشاہ ارتخشستا کی حکومت کے 32ویں سال میں مَیں اُس کے دربار میں واپس آ گیا تھا۔ کچھ دیر بعد مَیں شہنشاہ سے اجازت لے کر دوبارہ یروشلم کے لئے روانہ ہوا۔cA کے لئے ایک بڑا کمرا خالی کر دیا تھا جس میں پہلے غلہ کی نذریں، بخور اور کچھ آلات رکھے جاتے تھے۔ نیز، غلہ، نئی مَے اور زیتون کے تیل کا جو دسواں حصہ لاویوں، گلوکاروں اور دربانوں کے لئے مقرر تھا وہ بھی اُس کمرے میں رکھا جاتا تھا اور ساتھ ساتھ اماموں کے لئے مقرر حصہ بھی۔ ;L;  پھر مَیں نے حکم دیا کہ کمرے نئے سرے سے پاک صاف کر دیئے جائیں۔ جب ایسا ہوا تو مَیں نے رب کے گھر کا سامان، غلہ کی نذریں اور بخور دوبارہ وہاں رکھ دیا۔*O یہ بات مجھے نہایت ہی بُری لگی، اور مَیں نے طوبیاہ کا سارا سامان کمرے سے نکال کر پھینک دیا۔ وہاں پہنچ کر مجھے پتا چلا کہ اِلیاسب نے کتنی بُری حرکت کی ہے، کہ اُس نے اپنے رشتے دار طوبیاہ کے لئے رب کے گھر کے صحن میں کمرا خالی کر دیا ہے۔ r% E یہ دیکھ کر تمام یہوداہ غلہ، نئی مَے اور زیتون کے تیل کا دسواں حصہ گوداموں میں لانے لگا۔S ! تب مَیں نے ذمہ دار افسروں کو جھڑک کر کہا، ”آپ اللہ کے گھر کا انتظام اِتنی بےپروائی سے کیوں چلا رہے ہیں؟“ مَیں نے لاویوں اور گلوکاروں کو واپس بُلا کر دوبارہ اُن کی ذمہ داریوں پر لگایا۔3 a مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ لاوی اور گلوکار رب کے گھر میں اپنی خدمت کو چھوڑ کر اپنے کھیتوں میں کام کر رہے ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ اُنہیں وہ حصہ نہیں مل رہا تھا جو اُن کا حق تھا۔ <-<mU اے میرے خدا، اِس کام کے باعث مجھے یاد کر! وہ سب کچھ نہ بھول جو مَیں نے وفاداری سے اپنے خدا کے گھر اور اُس کے انتظام کے لئے کیا ہے۔O  گوداموں کی نگرانی مَیں نے سلمیاہ امام، صدوق منشی اور فدایاہ لاوی کے سپرد کر کے حنان بن زکور بن متنیاہ کو اُن کا مددگار مقرر کیا، کیونکہ چاروں کو قابلِ اعتماد سمجھا جاتا تھا۔ اُن ہی کو اماموں اور لاویوں میں اُن کے مقررہ حصے تقسیم کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ fG صور کے کچھ آدمی بھی جو یروشلم میں رہتے تھے سبت کے دن مچھلی اور دیگر کئی چیزیں یروشلم میں لا کر یہوداہ کے لوگوں کو بیچتے تھے۔8k اُس وقت مَیں نے یہوداہ میں کچھ لوگوں کو دیکھا جو سبت کے دن انگور کا رس نچوڑ کر مَے بنا رہے تھے۔ دوسرے اپنے کھیتوں سے غلہ لا کر مَے، انگور، انجیر اور دیگر مختلف قسم کی پیداوار کے ساتھ گدھوں پر لاد رہے اور یروشلم پہنچا رہے تھے۔ یہ سب کچھ سبت کے دن ہو رہا تھا۔ مَیں نے اُنہیں تنبیہ کی کہ سبت کے دن خوراک فروخت نہ کرنا۔ 1- جب آپ کے باپ دادا نے ایسا کیا تو اللہ یہ ساری آفت ہم پر اور اِس شہر پر لایا۔ اب آپ سبت کے دن کی بےحرمتی کرنے سے اللہ کا اسرائیل پر غضب مزید بڑھا رہے ہیں۔“K یہ دیکھ کر مَیں نے یہوداہ کے شرفا کو ڈانٹ کر کہا، ”یہ کتنی بُری بات ہے! آپ تو سبت کے دن کی بےحرمتی کر رہے ہیں۔ O یہ دیکھ کر تاجروں اور بیچنے والوں نے کئی مرتبہ سبت کی رات شہر سے باہر گزاری اور وہاں اپنا مال بیچنے کی کوشش کی۔ مَیں نے حکم دیا کہ جمعہ کو یروشلم کے دروازے شام کے اُس وقت بند کئے جائیں جب دروازے سائیوں میں ڈوب جائیں، اور کہ وہ سبت کے پورے دن بند رہیں۔ سبت کے اختتام تک اُنہیں کھولنے کی اجازت نہیں تھی۔ مَیں نے اپنے کچھ لوگوں کو دروازوں پر کھڑا بھی کیا تاکہ کوئی بھی اپنا سامان سبت کے دن شہر میں نہ لائے۔ v;vA} اُس وقت مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ بہت سے یہودی مردوں کی شادی اشدود، عمّون اور موآب کی عورتوں سے ہوئی ہے۔ لاویوں کو مَیں نے حکم دیا کہ اپنے آپ کو پاک صاف کر کے شہر کے دروازوں کی پہرہ داری کریں تاکہ اب سے سبت کا دن مخصوص و مُقدّس رہے۔ اے میرے خدا، مجھے اِس نیکی کے باعث یاد کر کے اپنی عظیم شفقت کے مطابق مجھ پر مہربانی کر۔8k تب مَیں نے اُنہیں تنبیہ کی، ”آپ سبت کی رات کیوں فصیل کے پاس گزارتے ہیں؟ اگر آپ دوبارہ ایسا کریں تو آپ کو حوالۂ پولیس کیا جائے گا۔“ اُس وقت سے وہ سبت کے دن آنے سے باز آئے۔ 7wi تب مَیں نے اُنہیں جھڑکا اور اُن پر لعنت بھیجی۔ بعض ایک کے بال نوچ نوچ کر مَیں نے اُن کی پٹائی کی۔ مَیں نے اُنہیں اللہ کی قَسم کھلانے پر مجبور کیا کہ ہم اپنے بیٹے بیٹیوں کی شادی غیرملکیوں سے نہیں کرائیں گے۔E اُن کے آدھے بچے صرف اشدود کی زبان یا کوئی اَور غیرملکی زبان بول لیتے تھے۔ ہماری زبان سے وہ ناواقف ہی تھے۔  اب آپ کے بارے میں بھی یہی کچھ سننا پڑتا ہے! آپ سے بھی یہی بڑا گناہ سرزد ہو رہا ہے۔ غیرملکی عورتوں سے شادی کرنے سے آپ ہمارے خدا سے بےوفا ہو گئے ہیں!“lS مَیں نے کہا، ”اسرائیل کے بادشاہ سلیمان کو یاد کریں۔ ایسی ہی شادیوں نے اُسے گناہ کرنے پر اُکسایا۔ اُس وقت اُس کے برابر کوئی بادشاہ نہیں تھا۔ اللہ اُسے پیار کرتا تھا اور اُسے پورے اسرائیل کا بادشاہ بنایا۔ لیکن اُسے بھی غیرملکی بیویوں کی طرف سے گناہ کرنے پر اُکسایا گیا۔ )>O)"? نیز، مَیں نے دھیان دیا کہ فصل کی پہلی پیداوار اور قربانیوں کو جلانے کی لکڑی وقت پر رب کے گھر میں پہنچائی جائے۔ اے میرے خدا، مجھے یاد کر کے مجھ پر مہربانی کر! kQ چنانچہ مَیں نے اماموں اور لاویوں کو ہر غیرملکی چیز سے پاک صاف کر کے اُنہیں اُن کی خدمت اور مختلف ذمہ داریوں کے لئے ہدایات دیں۔F اے میرے خدا، اُنہیں یاد کر، کیونکہ اُنہوں نے امام کے عُہدے اور اماموں اور لاویوں کے عہد کی بےحرمتی کی ہے۔tc امامِ اعظم اِلیاسب کے بیٹے یویدع کے ایک بیٹے کی شادی سنبلّط حورونی کی بیٹی سے ہوئی تھی، اِس لئے مَیں نے بیٹے کو یروشلم سے بھگا دیا۔ &r%&{$ sاِس کے بعد اُس نے سوسن کے قلعے میں رہنے والے تمام لوگوں کی چھوٹے سے لے کر بڑے تک ضیافت کی۔ یہ جشن سات دن تک شاہی باغ کے صحن میں منایا گیا۔)# Oشہنشاہ نے پورے 180 دن تک اپنی سلطنت کی زبردست دولت اور اپنی قوت کی شان و شوکت کا مظاہرہ کیا۔"  اپنی حکومت کے تیسرے سال میں اُس نے اپنے تمام بزرگوں اور افسروں کی ضیافت کی۔ فارس اور مادی کے فوجی افسر اور صوبوں کے شرفا اور رئیس سب شریک ہوئے۔! جن واقعات کا ذکر ہے وہ اُس وقت ہوئے جب وہ سوسن شہر کے قلعے سے حکومت کرتا تھا۔  اخسویرس بادشاہ کی سلطنت بھارت سے لے کر ایتھوپیا تک 127 صوبوں پر مشتمل تھی۔ G  "-8CNYdoz '1;EOYcmw%0;FQ\gr}  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1 1  1  1  1  1  1  1  1   1   1   1   1   1  1  1  1  1  1  1  1  1  1  1 1 1 1 1 1 1 1  1  1  1  1  1 1 1 1 1 1 1 1 1 1 1  1 1 $$=' wہر کوئی جتنی جی چاہے پی سکتا تھا، کیونکہ بادشاہ نے حکم دیا تھا کہ ساقی مہمانوں کی ہر خواہش پوری کریں۔S& #مَے سونے کے پیالوں میں پلائی گئی۔ ہر پیالہ فرق اور لاثانی تھا، اور بادشاہ کی فیاضی کے مطابق شاہی مَے کی کثرت تھی۔@% }مرمر کے ستونوں کے درمیان کتان کے سفید اور قرمزی رنگ کے قیمتی پردے لٹکائے گئے تھے، اور وہ سفید اور ارغوانی رنگ کی ڈوریوں کے ذریعے ستونوں میں لگے چاندی کے چھلوں کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ مہمانوں کے لئے سونے اور چاندی کے صوفے پچی کاری کے ایسے فرش پر رکھے ہوئے تھے جس میں مرمر کے علاوہ مزید تین قیمتی پتھر استعمال ہوئے تھے۔ ]9]1+ _ لیکن جب خواجہ سرا ملکہ کے پاس گئے تو اُس نے آنے سے انکار کر دیا۔ یہ سن کر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا#* C اُس نے حکم دیا، ”وشتی ملکہ کو شاہی تاج پہنا کر میرے حضور لے آؤ تاکہ شرفا اور باقی مہمانوں کو اُس کی خوب صورتی معلوم ہو جائے۔“ کیونکہ وشتی نہایت خوب صورت تھی۔W) + ساتویں دن جب بادشاہ کا دل مَے پی پی کر بہل گیا تھا تو اُس نے اُن سات خواجہ سراؤں کو بُلایا جو خاص اُس کی خدمت کرتے تھے۔ اُن کے نام مہومان، بِنرتا، خربونا،بِگتا، ابگتا، زِتار اور کرکس تھے۔i( O اِس دوران وشتی ملکہ نے محل کے اندر خواتین کی ضیافت کی۔ . . اخسویرس نے پوچھا، ”قانون کے لحاظ سے وشتی ملکہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ کیونکہ اُس نے خواجہ سراؤں کے ہا تھ بھیجے ہوئے شاہی حکم کو نہیں مانا۔“I- عالموں کے نام کارشینا، سِتار، ادماتا، ترسیس، مرس، مرسنا اور مموکان تھے۔ فارس اور مادی کے یہ سات شرفا آزادی سے بادشاہ کے حضور آ سکتے تھے اور سلطنت میں سب سے اعلیٰ عُہدہ رکھتے تھے۔N,  اور داناؤں سے بات کی جو اوقات کے عالم تھے، کیونکہ دستور یہ تھا کہ بادشاہ قانونی معاملوں میں علما سے مشورہ کرے۔ <?<1 {آج ہی فارس اور مادی کے شرفا کی بیویاں ملکہ کی یہ بات سن کر اپنے شوہروں سے ایسا ہی سلوک کریں گی۔ تب ہم ذلت اور غصے کے جال میں اُلجھ جائیں گے۔p0 ]کیونکہ جو کچھ اُس نے کیا ہے وہ تمام خواتین کو معلوم ہو جائے گا۔ پھر وہ اپنے شوہروں کو حقیر جان کر کہیں گی، ’گو بادشاہ نے وشتی ملکہ کو اپنے حضور آنے کا حکم دیا توبھی اُس نے اُس کے حضور آنے سے انکار کیا۔‘I/ مموکان نے بادشاہ اور دیگر شرفا کی موجودگی میں جواب دیا، ”وشتی ملکہ نے اِس سے نہ صرف بادشاہ کا بلکہ اُس کے تمام شرفا اور سلطنت کے تمام صوبوں میں رہنے والی قوموں کا بھی گناہ کیا ہے۔  A4 }یہ بات بادشاہ اور اُس کے شرفا کو پسند آئی۔ مموکان کے مشورے کے مطابقE3 جب اعلان پوری سلطنت میں کیا جائے گا تو تمام عورتیں اپنے شوہروں کی عزت کریں گی، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے۔“r2 aاگر بادشاہ کو منظور ہو تو وہ اعلان کریں کہ وشتی ملکہ کو پھر کبھی اخسویرس بادشاہ کے حضور آنے کی اجازت نہیں۔ اور لازم ہے کہ یہ اعلان فارس اور مادی کے قوانین میں درج کیا جائے تاکہ اُسے منسوخ نہ کیا جا سکے۔ پھر بادشاہ کسی اَور کو ملکہ کا عُہدہ دیں، ایسی عورت کو جو زیادہ لائق ہو۔ [I7 پھر اُس کے ملازموں نے خیال پیش کیا، ”کیوں نہ پوری سلطنت میں شہنشاہ کے لئے خوب صورت کنواریاں تلاش کی جائیں؟*6 Qبعد میں جب بادشاہ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو ملکہ اُسے دوبارہ یاد آنے لگی۔ جو کچھ وشتی نے کیا تھا اور جو فیصلہ اُس کے بارے میں ہوا تھا وہ بھی اُس کے ذہن میں گھومتا رہا۔s5 cاخسویرس نے سلطنت کے تمام صوبوں میں خط بھیجے۔ ہر صوبے کو اُس کے اپنے طرزِ تحریر میں اور ہر قوم کو اُس کی اپنی زبان میں خط مل گیا کہ ہر مرد اپنے گھر کا سرپرست ہے اور کہ ہر خاندان میں شوہر کی زبان بولی جائے۔ \*\J:اُس وقت سوسن کے قلعے میں بن یمین کے قبیلے کا ایک یہودی رہتا تھا جس کا نام مردکی بن یائیر بن سِمعی بن قیس تھا۔j9Oپھر جو لڑکی بادشاہ کو سب سے زیادہ پسند آئے وہ وشتی کی جگہ ملکہ بن جائے۔“ یہ منصوبہ بادشاہ کو اچھا لگا، اور اُس نے ایسا ہی کیا۔d8Cبادشاہ اپنی سلطنت کے ہر صوبے میں افسر مقرر کریں جو یہ خوب صورت کنواریاں چن کر سوسن کے قلعے کے زنان خانے میں لائیں۔ اُنہیں زنان خانے کے انچارج ہیجا خواجہ سرا کی نگرانی میں دے دیا جائے اور اُن کی خوب صورتی بڑھانے کے لئے رنگ نکھارنے کا ہر ضروری طریقہ استعمال کیا جائے۔ =جب بادشاہ کا حکم صادر ہوا تو بہت سی لڑکیوں کو سوسن کے قلعے میں لا کر زنان خانے کے انچارج ہیجا کے سپرد کر دیا گیا۔ آستر بھی اُن لڑکیوں میں شامل تھی۔$<Cمردکی کے چچا کی ایک نہایت خوب صورت بیٹی بنام ہدسّاہ تھی جو آستر بھی کہلاتی تھی۔ اُس کے والدین کے مرنے پر مردکی نے اُسے لے کر اپنی بیٹی کی حیثیت سے پال لیا تھا۔ ;مردکی کا خاندان اُن اسرائیلیوں میں شامل تھا جن کو بابل کا بادشاہ نبوکدنضر یہوداہ کے بادشاہ یہویاکین کے ساتھ جلاوطن کر کے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ XXB@ ہر دن مردکی زنان خانے کے صحن سے گزرتا تاکہ آستر کے حال کا پتا کرے اور یہ کہ اُس کے ساتھ کیاکیا ہو رہا ہے۔X?+ آستر نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ مَیں یہودی عورت ہوں، کیونکہ مردکی نے اُسے حکم دیا تھا کہ اِس کے بارے میں خاموش رہے۔> وہ ہیجا کو پسند آئی بلکہ اُسے اُس کی خاص مہربانی حاصل ہوئی۔ خواجہ سرا نے جلدی جلدی بناؤ سنگار کا سلسلہ شروع کیا، کھانے پینے کا مناسب انتظام کروایا اور شاہی محل کی سات چنیدہ نوکرانیاں آستر کے حوالے کر دیں۔ رہائش کے لئے آستر اور اُس کی لڑکیوں کو زنان خانے کے سب سے اچھے کمرے دیئے گئے۔ ..eBE اخسویرس بادشاہ سے ملنے سے پہلے ہر کنواری کو بارہ مہینوں کا مقررہ بناؤ سنگار کروانا تھا، چھ ماہ مُر کے تیل سے اور چھ ماہ بلسان کے تیل اور رنگ نکھارنے کے دیگر طریقوں سے۔ جب اُسے بادشاہ کے محل میں جانا تھا تو زنان خانے کی جو بھی چیز وہ اپنے ساتھ لینا چاہتی اُسے دی جاتی۔eAE اخسویرس بادشاہ سے ملنے سے پہلے ہر کنواری کو بارہ مہینوں کا مقررہ بناؤ سنگار کروانا تھا، چھ ماہ مُر کے تیل سے اور چھ ماہ بلسان کے تیل اور رنگ نکھارنے کے دیگر طریقوں سے۔ جب اُسے بادشاہ کے محل میں جانا تھا تو زنان خانے کی جو بھی چیز وہ اپنے ساتھ لینا چاہتی اُسے دی جاتی۔ C1شام کے وقت وہ محل میں جاتی اور اگلے دن اُسے صبح کے وقت دوسرے زنان خانے میں لایا جاتا جہاں بادشاہ کی داشتائیں شعشجز خواجہ سرا کی نگرانی میں رہتی تھیں۔ اِس کے بعد وہ پھر کبھی بادشاہ کے پاس نہ آتی۔ اُسے صرف اِسی صورت میں واپس لایا جاتا کہ وہ بادشاہ کو خاص پسند آتی اور وہ اُس کا نام لے کر اُسے بُلاتا۔ CEچنانچہ اُسے بادشاہ کی حکومت کے ساتویں سال کے دسویں مہینے بنام طیبت میں اخسویرس کے پاس محل میں لایا گیا۔D1ہوتے ہوتے آستر بنت ابی خیل کی باری آئی (ابی خیل مردکی کاچچا تھا، اور مردکی نے اُس کی بیٹی کو لے پالک بنا لیا تھا)۔ جب آستر سے پوچھا گیا کہ آپ زنان خانے کی کیا چیزیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہیں تو اُس نے صرف وہ کچھ لے لیا جو ہیجا خواجہ سرا نے اُس کے لئے چنا۔ اور جس نے بھی اُسے دیکھا اُس نے اُسے سراہا۔ 6H/جب کنواریوں کو ایک بار پھر جمع کیا گیا تو مردکی شاہی صحن کے دروازے میں بیٹھا تھا۔NGموقع کی خوشی میں اُس نے آستر کے اعزاز میں بڑی ضیافت کی۔ تمام شرفا اور افسروں کو دعوت دی گئی۔ ساتھ ساتھ صوبوں میں کچھ ٹیکسوں کی معافی کا اعلان کیا گیا اور فیاضی سے تحفے تقسیم کئے گئے۔tFcبادشاہ کو آستر دوسری لڑکیوں کی نسبت کہیں زیادہ پیاری لگی۔ دیگر تمام کنواریوں کی نسبت اُسے اُس کی خاص قبولیت اور مہربانی حاصل ہوئی۔ چنانچہ بادشاہ نے اُس کے سر پر تاج رکھ کر اُسے وشتی کی جگہ ملکہ بنا دیا۔ *KOمردکی کو پتا چلا تو اُس نے آستر کو خبر پہنچائی جس نے مردکی کا نام لے کر بادشاہ کو اطلاع دی۔;Jqایک دن جب مردکی شاہی صحن کے دروازے میں بیٹھا تھا تو دو خواجہ سرا بنام بِگتان اور ترش غصے میں آ کر اخسویرس کو قتل کرنے کی سازشیں کر نے لگے۔ دونوں شاہی کمروں کے پہرے دار تھے۔DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|P~QRST U VWXYZ[\]^$P~QRST U VWXYZ[\]^$`'a+b.c1d4e7f:g=h@iBjCkElHmKnNoQpSqVrXs[t^uavdwhxkzo{s|v}y~{~  "$'*,.0358:;<=?BEHJMPTVX\_dfhmqv{  &,17=CINTX]b RnlR'اُس کے لئے شاہی لباس چنا جائے جو بادشاہ خود پہن چکے ہوں۔ ایک گھوڑا بھی لایا جائے جس کا سر شاہی سجاوٹ سے سجا ہوا ہو اور جس پر بادشاہ خود سوار ہو چکے ہوں۔xkچنانچہ اُس نے جواب دیا، ”جس آدمی کی بادشاہ خاص عزت کرنا چاہیںہامان داخل ہوا تو بادشاہ نے اُس سے پوچھا، ”اُس آدمی کے لئے کیا کِیا جائے جس کی بادشاہ خاص عزت کرنا چاہے؟“ ہامان نے سوچا، ”وہ میری ہی بات کر رہا ہے! کیونکہ میری نسبت کون ہے جس کی بادشاہ زیادہ عزت کرنا چاہتا ہے؟“ملازموں نے جواب دیا، ”ہامان ہے۔“ بادشاہ نے حکم دیا، ”اُسے اندر آنے دو۔“ >w اخسویرس نے ہامان سے کہا، ”پھر جلدی کریں، مردکی یہودی شاہی صحن کے دروازے کے پاس بیٹھا ہے۔ شاہی لباس اور گھوڑا منگوا کر اُس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں۔ جو بھی کرنے کا مشورہ آپ نے دیا وہی کچھ کریں، اور دھیان دیں کہ اِس میں کسی بھی چیز کی کمی نہ ہو!“3 یہ لباس اور گھوڑا بادشاہ کے اعلیٰ ترین افسروں میں سے ایک کے سپرد کیا جائے۔ وہی اُس شخص کو جس کی بادشاہ خاص عزت کرنا چاہتے ہیں کپڑے پہنائے اور اُسے گھوڑے پر بٹھا کر شہر کے چوک میں سے گزارے۔ ساتھ ساتھ وہ اُس کے آگے آگے چل کر اعلان کرے، ’یہی اُس کے ساتھ کیا جاتا ہے جس کی عزت بادشاہ کرنا چاہتے ہیں‘۔“ ~w پھر مردکی شاہی صحن کے دروازے کے پاس واپس آیا۔ لیکن ہامان اُداس ہو کر جلدی سے اپنے گھر چلا گیا۔ شرم کے مارے اُس نے منہ پر کپڑا ڈال لیا تھا۔iM ہامان کو ایسا ہی کرنا پڑا۔ شاہی لباس کو چن کر اُس نے اُسے مردکی کو پہنا دیا۔ پھر اُسے بادشاہ کے اپنے گھوڑے پر بٹھا کر اُس نے اُسے شہر کے چوک میں سے گزارا۔ ساتھ ساتھ وہ اُس کے آگے آگے چل کر اعلان کرتا رہا، ”یہی اُس شخص کے ساتھ کیا جاتا ہے جس کی عزت بادشاہ کرنا چاہتا ہے۔“ FWp  ]چنانچہ بادشاہ اور ہامان آستر ملکہ کی ضیافت میں شریک ہوئے۔kQوہ ابھی اُس سے بات کر ہی رہے تھے کہ بادشاہ کے خواجہ سرا پہنچ گئے اور اُسے لے کر جلدی جلدی آستر کے پاس پہنچایا۔ ضیافت تیار تھی۔ 6g اُس نے اپنی بیوی زرش اور اپنے دوستوں کو سب کچھ سنایا جو اُس کے ساتھ ہوا تھا۔ تب اُس کے مشیروں اور بیوی نے اُس سے کہا، ”آپ کا بیڑا غرق ہو گیا ہے، کیونکہ مردکی یہودی ہے اور آپ اُس کے سامنے شکست کھانے لگے ہیں۔ آپ اُس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔“ y mملکہ نے جواب دیا، ”اگر بادشاہ مجھ سے خوش ہوں اور اُنہیں میری بات منظور ہو تو میری گزارش پوری کریں کہ میری اور میری قوم کی جان بچی رہے۔l Sمَے پیتے وقت بادشاہ نے پہلے دن کی طرح اب بھی پوچھا، ”آستر ملکہ، اب بتائیں، آپ کیا چاہتی ہیں؟ وہ آپ کو دیا جائے گا۔ اپنی درخواست پیش کریں، کیونکہ میں سلطنت کے آدھے حصے تک آپ کو دینے کے لئے تیار ہوں۔“ \Kآستر نے جواب دیا، ”ہمارا دشمن اور مخالف یہ شریر آدمی ہامان ہے!“ تب ہامان بادشاہ اور ملکہ سے دہشت کھانے لگا۔& Gیہ سن کر اخسویرس نے آستر سے سوال کیا، ”کون ایسی حرکت کرنے کی جرٲت کرتا ہے؟ وہ کہاں ہے؟“ ;کیونکہ مجھے اور میری قوم کو اُن کے ہاتھ بیچ ڈالا گیا ہے جو ہمیں تباہ اور ہلاک کر کے نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم بِک کر غلام اور لونڈیاں بن جاتے تو مَیں خاموش رہتی۔ ایسی کوئی مصیبت بادشاہ کو تنگ کرنے کے لئے کافی نہ ہوتی۔“ gH جب بادشاہ واپس آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ ہامان اُس صوفے پر گر گیا ہے جس پر آستر ٹیک لگائے بیٹھی ہے۔ بادشاہ گرجا، ”کیا یہ آدمی یہیں محل میں میرے حضور ملکہ کی عصمت دری کرنا چاہتا ہے؟“ جوں ہی بادشاہ نے یہ الفاظ کہے ملازموں نے ہامان کے منہ پر کپڑا ڈال دیا۔%بادشاہ آگ بگولا ہو کر کھڑا ہو گیا اور مَے کو چھوڑ کر محل کے باغ میں ٹہلنے لگا۔ ہامان پیچھے رہ کر آستر سے التجا کرنے لگا، ”میری جان بچائیں“ کیونکہ اُسے اندازہ ہو گیا تھا کہ بادشاہ نے مجھے سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ [X[+ Sاُسی دن اخسویرس نے آستر ملکہ کو یہودیوں کے دشمن ہامان کا گھر دے دیا۔ پھر مردکی کو بادشاہ کے سامنے لایا گیا، کیونکہ آستر نے اُسے بتا دیا تھا کہ وہ میرا رشتے دار ہے۔J چنانچہ ہامان کو اُسی سولی سے لٹکا دیا گیا جو اُس نے مردکی کے لئے بنوائی تھی۔ تب بادشاہ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ $C بادشاہ کا خواجہ سرا خربوناہ بول اُٹھا، ”ہامان نے اپنے گھر کے قریب سولی تیار کروائی ہے جس کی اونچائی 75 فٹ ہے۔ وہ مردکی کے لئے بنوائی گئی ہے، اُس شخص کے لئے جس نے بادشاہ کی جان بچائی۔“ بادشاہ نے حکم دیا، ”ہامان کو اُس سے لٹکا دو۔“ p_"?بادشاہ نے سونے کا اپنا عصا آستر کی طرف بڑھایا، تو وہ اُٹھ کر اُس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ایک بار پھر آستر بادشاہ کے سامنے گر گئی اور رو رو کر التماس کرنے لگی، ”جو شریر منصوبہ ہامان اجاجی نے یہودیوں کے خلاف باندھ لیا ہے اُسے روک دیں۔“ بادشاہ نے اپنی اُنگلی سے وہ انگوٹھی اُتاری جو مُہر لگانے کے لئے استعمال ہوتی تھی اور جسے اُس نے ہامان سے واپس لے لیا تھا۔ اب اُس نے اُسے مردکی کے حوالے کر دیا۔ اُس وقت آستر نے اُسے ہامان کی ملکیت کا نگران بھی بنا دیا۔ V تب اخسویرس نے آستر اور مردکی یہودی سے کہا، ”مَیں نے آستر کو ہامان کا گھر دے دیا۔ اُسے خود مَیں نے یہودیوں پر حملہ کرنے کی وجہ سے پھانسی دی ہے۔#Aاگر میری قوم اور نسل مصیبت میں پھنس کر ہلاک ہو جائے تو مَیں یہ کس طرح برداشت کروں گی؟“&Gاُس نے کہا، ”اگر بادشاہ کو بات اچھی اور مناسب لگے، اگر مجھے اُن کی مہربانی حاصل ہو اور وہ مجھ سے خوش ہوں تو وہ ہامان بن ہمّداتا اجاجی کے اُس فرمان کو منسوخ کریں جس کے مطابق سلطنت کے تمام صوبوں میں رہنے والے یہودیوں کو ہلاک کرنا ہے۔ nWلیکن جو بھی فرمان بادشاہ کے نام میں صادر ہوا ہے اور جس پر اُس کی انگوٹھی کی مُہر لگی ہے اُسے منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن آپ ایک اَور کام کر سکتے ہیں۔ میرے نام میں ایک اَور فرمان جاری کریں جس پر میری مُہر لگی ہو۔ اُسے اپنی تسلی کے مطابق یوں لکھیں کہ یہودی محفوظ ہو جائیں۔“ H,S مردکی نے یہ فرمان بادشاہ کے نام میں لکھ کر اُس پر شاہی مُہر لگائی۔ پھر اُس نے اُسے شاہی ڈاک کے تیز رفتار گھوڑوں پر سوار قاصدوں کے حوالے کر دیا۔ فرمان میں لکھا تھا،4c اُسی وقت بادشاہ کے محرّر بُلائے گئے۔ تیسرے مہینے سیوان کا 23واں دن تھا۔ اُنہوں نے مردکی کی تمام ہدایات کے مطابق فرمان لکھ دیا جسے یہودیوں اور تمام 127 صوبوں کے گورنروں، حاکموں اور رئیسوں کو بھیجنا تھا۔ بھارت سے لے کر ایتھوپیا تک یہ فرمان ہر صوبے کے اپنے طرزِ تحریر اور ہر قوم کی اپنی زبان میں قلم بند تھا۔ یہودی قوم کو بھی اُس کے اپنے طرزِ تحریر اور اُس کی اپنی زبان میں فرمان مل گیا۔ W)dW   ہر صوبے میں فرمان کی قانونی تصدیق کرنی تھی اور ہر قوم کو اِس کی خبر پہنچانی تھی تاکہ مقررہ دن یہودی اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کے لئے تیار ہوں۔A} ایک ہی دن یعنی 12ویں مہینے ادارکے 13ویں دن یہودیوں کو بادشاہ کے تمام صوبوں میں یہ کچھ کرنے کی اجازت ہے۔“S! ”بادشاہ ہر شہر کے یہودیوں کو اپنے دفاع کے لئے جمع ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔ اگر مختلف قوموں اور صوبوں کے دشمن اُن پر حملہ کریں تو یہودیوں کو اُنہیں بال بچوں سمیت تباہ کرنے اور ہلاک کر کے نیست و نابود کرنے کی اجازت ہے۔ نیز، وہ اُن کی ملکیت پرقبضہ کر سکتے ہیں۔ T!T "یہودیوں کے لئے آب و تاب، خوشی و شادمانی اور عزت و جلال کا زمانہ شروع ہوا۔:!oمردکی قرمزی اور سفید رنگ کا شاہی لباس، نفیس کتان اور ارغوانی رنگ کی چادر اور سر پر سونے کا بڑا تاج پہنے ہوئے محل سے نکلا۔ تب سوسن کے باشندے نعرے لگا لگا کر خوشی منانے لگے۔[ 1بادشاہ کے حکم پر تیز رَو قاصد شاہی ڈاک کے بہترین گھوڑوں پر سوار ہو کر چل پڑے۔ فرمان کا اعلان سوسن کے قلعے میں بھی ہوا۔ [t$ e پھر 12ویں مہینے ادار کا 13واں دن آ گیا جب بادشاہ کے فرمان پر عمل کرنا تھا۔ دشمنوں نے اُس دن یہودیوں پر غالب آنے کی اُمید رکھی تھی، لیکن اب اِس کے اُلٹ ہوا، یہودی خود اُن پر غالب آئے جو اُن سے نفرت رکھتے تھے۔!#=ہر صوبے اور ہر شہر میں جہاں بھی بادشاہ کا نیا فرمان پہنچ گیا، وہاں یہودیوں نے خوشی کے نعرے لگا لگا کر ایک دوسرے کی ضیافت کی اور جشن منایا۔ اُس وقت دوسری قوموں کے بہت سے لوگ یہودی بن گئے، کیونکہ اُن پر یہودیوں کا خوف چھا گیا تھا۔ ='u اور دربار میں اُس کے اونچے عُہدے اور اُس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی خبر تمام صوبوں میں پھیل گئی تھی۔n&W ساتھ ساتھ صوبوں کے شرفا، گورنروں، حاکموں اور دیگر شاہی افسروں نے یہودیوں کی مدد کی، کیونکہ مردکی کا خوف اُن پر طاری ہو گیا تھا،_%9 سلطنت کے تمام صوبوں میں وہ اپنے اپنے شہروں میں جمع ہوئے تاکہ اُن پر حملہ کریں جو اُنہیں نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ کوئی اُن کا مقابلہ نہ کر سکا، کیونکہ دیگر تمام قوموں کے لوگ اُن سے ڈر گئے تھے۔  x T*# نیز یہودیوں کے دشمن ہامان کے 10 بیٹوں کو بھی۔ اُن کے نام پرشن داتا، دَلفون، اسپاتا، پوراتا، ادلیاہ، اریداتا، پرمشتا، اریسی، ارِدی اور وَیزاتا تھے۔ لیکن یہودیوں نے اُن کا مال نہ لُوٹا۔`); سوسن کے قلعے میں اُنہوں نے 500 آدمیوں کو مار ڈالا،!(= اُس دن یہودیوں نے اپنے دشمنوں کو تلوار سے مار ڈالا اور ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا۔ جو بھی اُن سے نفرت رکھتا تھا اُس کے ساتھ اُنہوں نے جو جی چاہا سلوک کیا۔ PPT,# نیز یہودیوں کے دشمن ہامان کے 10 بیٹوں کو بھی۔ اُن کے نام پرشن داتا، دَلفون، اسپاتا، پوراتا، ادلیاہ، اریداتا، پرمشتا، اریسی، ارِدی اور وَیزاتا تھے۔ لیکن یہودیوں نے اُن کا مال نہ لُوٹا۔T+# نیز یہودیوں کے دشمن ہامان کے 10 بیٹوں کو بھی۔ اُن کے نام پرشن داتا، دَلفون، اسپاتا، پوراتا، ادلیاہ، اریداتا، پرمشتا، اریسی، ارِدی اور وَیزاتا تھے۔ لیکن یہودیوں نے اُن کا مال نہ لُوٹا۔ . اُسی دن بادشاہ کو اطلاع دی گئی کہ سوسن کے قلعے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے تھے۔T-# نیز یہودیوں کے دشمن ہامان کے 10 بیٹوں کو بھی۔ اُن کے نام پرشن داتا، دَلفون، اسپاتا، پوراتا، ادلیاہ، اریداتا، پرمشتا، اریسی، ارِدی اور وَیزاتا تھے۔ لیکن یہودیوں نے اُن کا مال نہ لُوٹا۔ J0 آستر نے جواب دیا، ”اگر بادشاہ کو منظور ہو تو سوسن کے یہودیوں کو اجازت دی جائے کہ وہ آج کی طرح کل بھی اپنے دشمنوں پر حملہ کریں۔ اور ہامان کے 10 بیٹوں کی لاشیں سولی سے لٹکائی جائیں۔“/) تب اُس نے آستر ملکہ سے کہا، ”صرف یہاں سوسن کے قلعے میں یہودیوں نے ہامان کے 10 بیٹوں کے علاوہ 500 آدمیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے۔ تو پھر اُنہوں نے دیگر صوبوں میں کیا کچھ نہ کیا ہو گا! اب مجھے بتائیں، آپ مزید کیا چاہتی ہیں؟ وہ آپ کو دیا جائے گا۔ اپنی درخواست پیش کریں، کیونکہ وہ پوری کی جائے گی۔“ G  "-8CNYdoz)4?JU`kv%.8BLV`jt~ 2 2 2 2 2  2  2  2  2 2 2 2 2 2  2  2  2  2  2 2 2! 2" 2#   2$  2%  2&  2'  2(  2)  2*  2+  2,  2-  2.  2/  20  21  22  23  24  25  26  27  28  29  2:  2;  2<  2=  2>  2?  2@  2A  2B  2C   2D  2E  2F 2G  2H  2I  2J  2K  2L  2M  2N   2O   2P   2Q   2R   2S  2T  2U  2V  2W  2X  2Y  2Z  2[  2\5%4CRap"1@O^m| />M\kz  , -% -k - -6   , -% -k - -6  .=P  .l # . / /V /  /  0) 0o 00  06  1AF  1_ 1y 2  2]  2 2  3/  3u 3 4 4G 4& 43 5C ! 5_Q # 5` & 5n (61|  6w 6 7 "7I 7 7  8 #8a & 8  ,8 093' 49y7 :9H @:X D:Ki G:x J: N; ZGCZe3E سلطنت کے صوبوں کے باقی یہودی بھی مہینے کے 13ویں دن اپنے دفاع کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اُنہوں نے 75,000 دشمنوں کو قتل کیا لیکن کسی کا مال نہ لُوٹا تھا۔ اب وہ دوبارہ چین کا سانس لے کر آرام سے زندگی گزار سکتے تھے۔ اگلے دن اُنہوں نے ایک دوسرے کی ضیافت کر کے خوشی کا بڑا جشن منایا۔2{ اور اگلے دن یعنی مہینے کے 14ویں دن شہر کے یہودی دوبارہ جمع ہوئے۔ اِس بار اُنہوں نے 300 آدمیوں کو قتل کیا۔ لیکن اُنہوں نے کسی کا مال نہ لُوٹا۔51e بادشاہ نے اجازت دی تو سوسن میں اِس کا اعلان کیا گیا۔ تب ہامان کے 10 بیٹوں کو سولی سے لٹکا دیا گیا، t5c سوسن کے یہودیوں نے مہینے کے 13ویں اور 14ویں دن جمع ہو کر اپنے دشمنوں پر حملہ کیا تھا، اِس لئے اُنہوں نے 15ویں دن خوشی کا بڑا جشن منایا۔e4E سلطنت کے صوبوں کے باقی یہودی بھی مہینے کے 13ویں دن اپنے دفاع کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اُنہوں نے 75,000 دشمنوں کو قتل کیا لیکن کسی کا مال نہ لُوٹا تھا۔ اب وہ دوبارہ چین کا سانس لے کر آرام سے زندگی گزار سکتے تھے۔ اگلے دن اُنہوں نے ایک دوسرے کی ضیافت کر کے خوشی کا بڑا جشن منایا۔ ))87 جن میں اُس نے اعلان کیا، ”اب سے سالانہ ادار مہینے کے 14ویں اور 15ویں دن جشن منانا ہے۔7! جو کچھ اُس وقت ہوا تھا اُسے مردکی نے قلم بند کر دیا۔ ساتھ ساتھ اُس نے فارسی سلطنت کے قریبی اور دُوردراز کے تمام صوبوں میں آباد یہودیوں کو خط لکھ دیئے6/ یہی وجہ ہے کہ دیہات اور کھلے شہروں میں رہنے والے یہودی آج تک 12ویں مہینے کے 14ویں دن جشن مناتے ہوئے ایک دوسرے کی ضیافت کرتے اور ایک دوسرے کو تحفے دیتے ہیں۔ mv:g مردکی کی اِن ہدایات کے مطابق اِن دو دنوں کا جشن دستور بن گیا۔9 خوشی مناتے ہوئے ایک دوسرے کی ضیافت کرنا، ایک دوسرے کو تحفے دینا اور غریبوں میں خیرات تقسیم کرنا، کیونکہ اِن دنوں کے دوران آپ کو اپنے دشمنوں سے سکون حاصل ہوا ہے، آپ کا دُکھ سُکھ میں اور آپ کا ماتم شادمانی میں بدل گیا۔“ ;% عید کا نام ’پوریم‘ پڑ گیا، کیونکہ جب یہودیوں کا دشمن ہامان بن ہمّداتا اجاجی اُن سب کو ہلاک کرنے کا منصوبہ باندھ رہا تھا تو اُس نے یہودیوں کو مارنے کا سب سے مبارک دن معلوم کرنے کے لئے قرعہ بنام ’پور‘ ڈال دیا۔ جب اخسویرس کو سب کچھ معلوم ہوا تو اُس نے حکم دیا کہ ہامان کو وہ سزا دی جائے جس کی تیاریاں اُس نے یہودیوں کے لئے کی تھیں۔ تب اُسے اُس کے بیٹوں سمیت پھانسی سے لٹکایا گیا۔ چونکہ یہودی اِس تجربے سے گزرے تھے اور مردکی نے ہدایت دی تھی <% عید کا نام ’پوریم‘ پڑ گیا، کیونکہ جب یہودیوں کا دشمن ہامان بن ہمّداتا اجاجی اُن سب کو ہلاک کرنے کا منصوبہ باندھ رہا تھا تو اُس نے یہودیوں کو مارنے کا سب سے مبارک دن معلوم کرنے کے لئے قرعہ بنام ’پور‘ ڈال دیا۔ جب اخسویرس کو سب کچھ معلوم ہوا تو اُس نے حکم دیا کہ ہامان کو وہ سزا دی جائے جس کی تیاریاں اُس نے یہودیوں کے لئے کی تھیں۔ تب اُسے اُس کے بیٹوں سمیت پھانسی سے لٹکایا گیا۔ چونکہ یہودی اِس تجربے سے گزرے تھے اور مردکی نے ہدایت دی تھی =% عید کا نام ’پوریم‘ پڑ گیا، کیونکہ جب یہودیوں کا دشمن ہامان بن ہمّداتا اجاجی اُن سب کو ہلاک کرنے کا منصوبہ باندھ رہا تھا تو اُس نے یہودیوں کو مارنے کا سب سے مبارک دن معلوم کرنے کے لئے قرعہ بنام ’پور‘ ڈال دیا۔ جب اخسویرس کو سب کچھ معلوم ہوا تو اُس نے حکم دیا کہ ہامان کو وہ سزا دی جائے جس کی تیاریاں اُس نے یہودیوں کے لئے کی تھیں۔ تب اُسے اُس کے بیٹوں سمیت پھانسی سے لٹکایا گیا۔ چونکہ یہودی اِس تجربے سے گزرے تھے اور مردکی نے ہدایت دی تھی "?? لازم ہے کہ جو کچھ ہوا ہے ہر نسل اور ہر خاندان اُسے یاد کر کے مناتا رہے، خواہ وہ کسی بھی صوبے یا شہر میں کیوں نہ ہو۔ ضروری ہے کہ یہودی پوریم کی عید منانے کا دستور کبھی نہ بھولیں، کہ اُس کی یاد اُن کی اولاد میں سے کبھی بھی مٹ نہ جائے۔^>7 اِس لئے وہ متفق ہوئے کہ ہم سالانہ اِسی وقت یہ دو دن عین ہدایات کے مطابق منائیں گے۔ یہ دستور نہ صرف ہمارا فرض ہے، بلکہ ہماری اولاد اور اُن غیریہودیوں کا بھی جو یہودی مذہب میں شریک ہو جائیں گے۔ t*t2B_ ملکہ اور مردکی نے اُنہیں دوبارہ ہدایت کی، ”جس طرح ہم نے فرمایا ہے، یہ عید لازماً متعین اوقات کے عین مطابق منانی ہے۔ اِسے منانے کے لئے یوں متفق ہو جائیں جس طرح آپ نے اپنے اور اپنی اولاد کے لئے روزہ رکھنے اور ماتم کرنے کے دن مقرر کئے ہیں۔“ZA/ یہ خط فارسی سلطنت کے 127 صوبوں میں آباد تمام یہودیوں کو بھیجا گیا۔ سلامتی کی دعا اور اپنی وفاداری کا اظہار کرنے کے بعدt@c ملکہ آستر بنت ابی خیل اور مردکی یہودی نے پورے اختیار کے ساتھ پوریم کی عید کے بارے میں ایک اَور خط لکھ دیا تاکہ اُس کی تصدیق ہو جائے۔ n+n8Ek اُس کی تمام زبردست کامیابیوں کا بیان ’شاہانِ مادی و فارس کی تاریخ‘ کی کتاب میں کیا گیا ہے۔ وہاں اِس کا بھی پورا ذکر ہے کہ اُس نے مردکی کو کس اونچے عُہدے پر فائز کیا تھا۔~D y بادشاہ نے پوری سلطنت کے تمام ممالک پر ساحلی علاقوں تک ٹیکس لگایا۔QC اپنے اِس فرمان سے آستر نے پوریم کی عید اور اُسے منانے کے قواعد کی تصدیق کی، اور یہ تاریخی کتاب میں درج کیا گیا۔ RRTH %اُس کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔qG aملکِ عُوض میں ایک بےالزام آدمی رہتا تھا جس کا نام ایوب تھا۔ وہ سیدھی راہ پر چلتا، اللہ کا خوف مانتا اور ہر بُرائی سے دُور رہتا تھا۔^F7 مردکی بادشاہ کے بعد سلطنت کا سب سے اعلیٰ افسر تھا۔ یہودیوں میں وہ معزز تھا، اور وہ اُس کی بڑی قدر کرتے تھے، کیونکہ وہ اپنی قوم کی بہبودی کا طالب رہتا اور تمام یہودیوں کے حق میں بات کرتا تھا۔  J اُس کے بیٹوں کا دستور تھا کہ باری باری اپنے گھروں میں ضیافت کریں۔ اِس کے لئے وہ اپنی تین بہنوں کو بھی اپنے ساتھ کھانے اور پینے کی دعوت دیتے تھے۔dI Eساتھ ساتھ اُس کے بہت مال مویشی تھے: 7,000 بھیڑبکریاں، 3,000 اونٹ، بَیلوں کی 500 جوڑیاں اور 500 گدھیاں۔ اُس کے بےشمار نوکر نوکرانیاں بھی تھے۔ غرض مشرق کے تمام باشندوں میں اِس آدمی کی حیثیت سب سے بڑی تھی۔ pCpOM رب نے ابلیس سے پوچھا، ”تُو کہاں سے آیا ہے؟“ ابلیس نے جواب دیا، ”مَیں دنیا میں اِدھر اُدھر گھومتا پھرتا رہا۔“L 5ایک دن فرشتے اپنے آپ کو رب کے حضور پیش کرنے آئے۔ ابلیس بھی اُن کے درمیان موجود تھا۔K /ہر دفعہ جب ضیافت کے دن اختتام تک پہنچتے تو ایوب اپنے بچوں کو بُلا کر اُنہیں پاک صاف کر دیتا اور صبح سویرے اُٹھ کر ہر ایک کے لئے بھسم ہونے والی ایک ایک قربانی پیش کرتا۔ کیونکہ وہ کہتا تھا، ”ہو سکتا ہے میرے بچوں نے گناہ کر کے دل میں اللہ پر لعنت کی ہو۔“ چنانچہ ایوب ہر ضیافت کے بعد ایسا ہی کرتا تھا۔ ({P s تُو نے تو اُس کے، اُس کے گھرانے کے اور اُس کی تمام ملکیت کے ارد گرد حفاظتی باڑ لگائی ہے۔ اور جو کچھ اُس کے ہاتھ نے کیا اُس پر تُو نے برکت دی، نتیجے میں اُس کی بھیڑبکریاں اور گائےبَیل پورے ملک میں پھیل گئے ہیں۔ O  ابلیس نے رب کو جواب دیا، ”بےشک، لیکن کیا ایوب یوں ہی اللہ کا خوف مانتا ہے؟CN رب بولا، ”کیا تُو نے میرے بندہ ایوب پر توجہ دی؟ دنیا میں اُس جیسا کوئی اَور نہیں۔ کیونکہ وہ بےالزام ہے، وہ سیدھی راہ پر چلتا، اللہ کا خوف مانتا اور ہر بُرائی سے دُور رہتا ہے۔“ kCkTT %اچانک ایک قاصد ایوب کے پاس پہنچ کر کہنے لگا، ”بیل کھیت میں ہل چلا رہے تھے اور گدھیاں ساتھ والی زمین پر چر رہی تھیںXS - ایک دن ایوب کے بیٹے بیٹیاں معمول کے مطابق ضیافت کر رہے تھے۔ وہ بڑے بھائی کے گھر میں کھانا کھا رہے اور مَے پی رہے تھے۔xR m رب نے ابلیس سے کہا، ”ٹھیک ہے، جو کچھ بھی اُس کا ہے وہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اُس کے بدن کو ہاتھ نہ لگانا۔“ ابلیس رب کے حضور سے چلا گیا۔aQ ? لیکن وہ کیا کرے گا اگر تُو اپنا ہاتھ ذرا بڑھا کر سب کچھ تباہ کرے جو اُسے حاصل ہے۔ تب وہ تیرے منہ پر ہی تجھ پر لعنت کرے گا۔“ \V 5وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ ایک اَور قاصد پہنچاجس نے اطلاع دی، ”اللہ کی آگ نے آسمان سے گر کر آپ کی تمام بھیڑبکریوں اور ملازموں کو بھسم کر دیا۔ صرف مَیں ہی آپ کو یہ بتانے کے لئے بچ نکلا ہوں۔“ U کہ سبا کے لوگوں نے ہم پر حملہ کر کے سب کچھ چھین لیا۔ اُنہوں نے تمام ملازموں کو تلوار سے مار ڈالا، صرف مَیں ہی آپ کو یہ بتانے کے لئے بچ نکلا ہوں۔“ IGIzX qوہ ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ چوتھا قاصد پہنچا۔ اُس نے کہا، ”آپ کے بیٹے بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے گھر میں کھانا کھا رہے اور مَے پی رہے تھے5W gوہ ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ تیسرا قاصد پہنچا۔ وہ بولا، ”بابل کے کلدیوں نے تین گروہوں میں تقسیم ہو کر ہمارے اونٹوں پر حملہ کیا اور سب کچھ چھین لیا۔ تمام ملازموں کو اُنہوں نے تلوار سے مار ڈالا، صرف مَیں ہی آپ کو یہ بتانے کے لئے بچ نکلا ہوں۔“ YY\ اِس سارے معاملے میں ایوب نے نہ گناہ کیا، نہ اللہ کے بارے میں کفر بکا۔ d[ Eوہ بولا، ”مَیں ننگی حالت میں ماں کے پیٹ سے نکلا اور ننگی حالت میں کوچ کر جاؤں گا۔ رب نے دیا، رب نے لیا، رب کا نام مبارک ہو!“jZ Qیہ سب کچھ سن کر ایوب اُٹھا۔ اپنا لباس پھاڑ کر اُس نے اپنے سر کے بال منڈوائے۔ پھر اُس نے زمین پر گر کر اوندھے منہ رب کو سجدہ کیا۔DY کہ اچانک ریگستان کی جانب سے ایک زوردار آندھی آئی جو گھر کے چاروں کونوں سے یوں ٹکرائی کہ وہ جوانوں پر گر پڑا۔ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ صرف مَیں ہی آپ کو یہ بتانے کے لئے بچ نکلا ہوں۔“ S`_;رب بولا، ”کیا تُو نے میرے بندہ ایوب پر توجہ دی؟ زمین پر اُس جیسا کوئی اَور نہیں۔ وہ بےالزام ہے، وہ سیدھی راہ پر چلتا، اللہ کا خوف مانتا اور ہر بُرائی سے دُور رہتا ہے۔ ابھی تک وہ اپنے بےالزام کردار پر قائم ہے حالانکہ تُو نے مجھے اُسے بلاوجہ تباہ کرنے پر اُکسایا۔“P^رب نے ابلیس سے پوچھا، ”تُو کہاں سے آیا ہے؟“ ابلیس نے جواب دیا، ”مَیں دنیا میں اِدھر اُدھر گھومتا پھرتا رہا۔“)] Oایک دن فرشتے دوبارہ اپنے آپ کو رب کے حضور پیش کرنے آئے۔ ابلیس بھی اُن کے درمیان موجود تھا۔ l:ml|dsتب ایوب راکھ میں بیٹھ گیا اور ٹھیکرے سے اپنی جِلد کو کھرچنے لگا۔_c9ابلیس رب کے حضور سے چلا گیا اور ایوب کو ستانے لگا۔ چاند سے لے کر تلوے تک ایوب کے پورے جسم پر بدترین قسم کے پھوڑے نکل آئے۔b1رب نے ابلیس سے کہا، ”ٹھیک ہے، وہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اُس کی جان کو مت چھیڑنا۔“Ia لیکن وہ کیا کرے گا اگر تُو اپنا ہاتھ ذرا بڑھا کر اُس کا جسم چھو دے؟ تب وہ تیرے منہ پر ہی تجھ پر لعنت کرے گا۔“B`ابلیس نے جواب دیا، ”کھال کا بدلہ کھال ہی ہوتا ہے! انسان اپنی جان کو بچانے کے لئے اپنا سب کچھ دے دیتا ہے۔ If لیکن اُس نے جواب دیا، ”تُو احمق عورت کی سی باتیں کر رہی ہے۔ اللہ کی طرف سے بھلائی تو ہم قبول کرتے ہیں، تو کیا مناسب نہیں کہ اُس کے ہاتھ سے مصیبت بھی قبول کریں؟“ اِس سارے معاملے میں ایوب نے اپنے منہ سے گناہ نہ کیا۔3ea اُس کی بیوی بولی، ”کیا تُو اب تک اپنے بےالزام کردار پر قائم ہے؟ اللہ پر لعنت کر کے دم چھوڑ دے!“ CWh) جب اُنہوں نے دُور سے اپنی نظر اُٹھا کر ایوب کو دیکھا تو اُس کی اِتنی بُری حالت تھی کہ وہ پہچانا نہیں جاتا تھا۔ تب وہ زار و قطار رونے لگے۔ اپنے کپڑے پھاڑ کر اُنہوں نے اپنے سروں پر خاک ڈالی۔9gm ایوب کے تین دوست تھے۔ اُن کے نام اِلی فز تیمانی، بِلدد سوخی اور ضوفر نعماتی تھے۔ جب اُنہیں اطلاع ملی کہ ایوب پر یہ تمام آفت آ گئی ہے تو ہر ایک اپنے گھر سے روانہ ہوا۔ اُنہوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ اکٹھے افسوس کرنے اور ایوب کو تسلی دینے جائیں گے۔ I*Kmوہ دن اندھیرا ہی اندھیرا ہو جائے، ایک کرن بھی اُسے روشن نہ کرے۔ اللہ بھی جو بلندیوں پر ہے اُس کا خیال نہ کرے۔l+”وہ دن مٹ جائے جب مَیں نے جنم لیا، وہ رات جس نے کہا، ’پیٹ میں لڑکا پیدا ہوا ہے!‘k5اُس نے کہا،cj Cتب ایوب بول اُٹھا اور اپنے جنم دن پر لعنت کرنے لگا۔Mi پھر وہ اُس کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئے۔ سات دن اور سات رات وہ اِسی حالت میں رہے۔ اِس پورے عرصے میں اُنہوں نے ایوب سے ایک بھی بات نہ کی، کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ وہ شدید درد کا شکار ہے۔  8 @q{جو دنوں پر لعنت بھیجتے اور لِویاتان اژدہے کو تحریک میں لانے کے قابل ہوتے ہیں وہی اُس رات پر لعنت کریں۔hpKوہ رات بانجھ رہے، اُس میں خوشی کا نعرہ نہ لگایا جائے۔Yo-گھنا اندھیرا اُس رات کو چھین لے جب مَیں ماں کے پیٹ میں پیدا ہوا۔ اُسے نہ سال، نہ کسی مہینے کے دنوں میں شمار کیا جائے۔gnIتاریکی اور گھنا اندھیرا اُس پر قبضہ کرے، کالے کالے بادل اُس پر چھائے رہیں، ہاں وہ روشنی سے محروم ہو کر سخت دہشت زدہ ہو جائے۔ Lv اگر یہ نہ ہوتا تو اِس وقت مَیں سکون سے لیٹا رہتا، آرام سے سویا ہوتا۔u1 ماں کے گھٹنوں نے مجھے خوش آمدید کیوں کہا، اُس کی چھاتیوں نے مجھے دودھ کیوں پلایا؟t مَیں پیدائش کے وقت کیوں مر نہ گیا، ماں کے پیٹ سے نکلتے وقت جان کیوں نہ دے دی؟5se کیونکہ اُس نے میری ماں کو مجھے جنم دینے سے نہ روکا، ورنہ یہ تمام مصیبت میری آنکھوں سے چھپی رہتی۔wri اُس رات کے دُھندلکے میں ٹمٹمانے والے ستارے بجھ جائیں، فجر کا انتظار کرنا بےفائدہ ہی رہے بلکہ وہ رات طلوعِ صبح کی پلکیں بھی نہ دیکھے۔ ,B,<{sوہاں قیدی اطمینان سے رہتے ہیں، اُنہیں اُس ظالم کی آواز نہیں سننی پڑتی جو اُنہیں جیتے جی ہانکتا رہا۔9zmاُس جگہ بےدین اپنی بےلگام حرکتوں سے باز آتے اور وہ آرام کرتے ہیں جو تگ و دَو کرتے کرتے تھک گئے تھے۔nyWمجھے ضائع ہو جانے والے بچے کی طرح کیوں نہ زمین میں دبا دیا گیا؟ مجھے اُس بچے کی طرح کیوں نہ دفنایا گیا جس نے کبھی روشنی نہ دیکھی؟#xAمَیں اُن کے ساتھ ہوتا جو پہلے حکمران تھے اور اپنے گھروں کو سونے چاندی سے بھر لیتے تھے۔:woمَیں اُن ہی کے ساتھ ہوتا جو پہلے بادشاہ اور دنیا کے مشیر تھے، جنہوں نے کھنڈرات از سرِ نو تعمیر کئے۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr} 2^ 2_ 2` 2a 2b 2c 2d  2e  2f 2^ 2_ 2` 2a 2b 2c 2d  2e  2f  2g  2h  2i  2j 2k 2l 2m 2n 2o 2p 2q  2r  2s  2t  2u  2v 2w 2x 2y 2z 2{ 2| 2} 2~ 2 2 2 2 2  2 2 2 2 2 2 2 2  2  2  2  2  2 2 2 2 2 2 2 2 2  2 2 2 2 2 2 2 2  2  2 &r&5eکیونکہ جب مجھے روٹی کھانی ہے تو ہائے ہائے کرتا ہوں، میری آہیں پانی کی طرح منہ سے پھوٹ نکلتی ہیں۔Cاللہ اُس کو زندہ کیوں رکھتا جس کی نظروں سے راستہ اوجھل ہو گیا ہے اور جس کے چاروں طرف اُس نے باڑ لگائی ہے۔nWاگر اُنہیں قبر نصیب ہو تو وہ باغ باغ ہو کر جشن مناتے ہیں۔S~!وہ تو موت کے انتظار میں رہتے ہیں لیکن بےفائدہ۔ وہ کھود کھود کر اُسے یوں تلاش کرتے ہیں جس طرح کسی پوشیدہ خزانے کو۔}{اللہ مصیبت زدوں کو روشنی اور شکستہ دلوں کو زندگی کیوں عطا کرتا ہے؟ |اُس جگہ چھوٹے اور بڑے سب برابر ہوتے ہیں، غلام اپنے مالک سے آزاد رہتا ہے۔ W[W'Iتیرے الفاظ نے ٹھوکر کھانے والے کو دوبارہ کھڑا کیا، ڈگمگاتے ہوئے گھٹنے تُو نے مضبوط کئے۔&Gذرا سوچ لے، تُو نے خود بہتوں کو تربیت دی، کئی لوگوں کے تھکے ماندے ہاتھوں کو تقویت دی ہے۔R”کیا تجھ سے بات کرنے کا کوئی فائدہ ہے؟ تُو تو یہ برداشت نہیں کر سکتا۔ لیکن دوسری طرف کون اپنے الفاظ روک سکتا ہے؟O یہ کچھ سن کر اِلی فز تیمانی نے جواب دیا،نہ مجھے اطمینان ہوا، نہ سکون یا آرام بلکہ مجھ پر بےچینی غالب آئی۔“ !=جس چیز سے مَیں ڈرتا تھا وہ مجھ پر آئی، جس سے مَیں خوف کھاتا تھا اُس سے میرا واسطہ پڑا۔ Bi - ایسے لوگ اللہ کی ایک پھونک سے تباہ، اُس کے قہر کے ایک جھونکے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔- Uجہاں تک مَیں نے دیکھا، جو ناانصافی کا ہل چلائے اور نقصان کا بیج بوئے وہ اِس کی فصل کاٹتا ہے۔U %سوچ لے، کیا کبھی کوئی بےگناہ ہلاک ہوا ہے؟ ہرگز نہیں! جو سیدھی راہ پر چلتے ہیں وہ کبھی رُوئے زمین پر سے مٹ نہیں گئے۔S !کیا تیرا اعتماد اِس پر منحصر نہیں ہے کہ تُو اللہ کا خوف مانے، تیری اُمید اِس پر نہیں کہ تُو بےالزام راہوں پر چلے؟cAلیکن اب جب مصیبت تجھ پر آ گئی تو تُو اُسے برداشت نہیں کر سکتا، اب جب خود اُس کی زد میں آ گیا تو تیرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ =T\=3پھر میرے چہرے کے سامنے سے ہَوا کا جھونکا گزر گیا اور میرے تمام رونگٹے کھڑے ہو گئے۔|sمجھ پر دہشت اور تھرتھراہٹ غالب آئی، میری تمام ہڈیاں لرز اُٹھیں۔tc رات کو ایسی رویائیں پیش آئیں جو اُس وقت دیکھی جاتی ہیں جب انسان گہری نیند سویا ہوتا ہے۔ اِن سے مَیں پریشان کن خیالات میں مبتلا ہوا۔+ ایک بار ایک بات چوری چھپے میرے پاس پہنچی، اُس کے چند الفاظ میرے کان تک پہنچ گئے۔ شکار نہ ملنے کی وجہ سے شیر ہلاک ہو جاتا اور شیرنی کے بچے پراگندہ ہو جاتے ہیں۔w i شیرببر کی دہاڑیں خاموش ہو گئیں، جوان شیر کے دانت جھڑ گئے ہیں۔ H}تو پھر وہ انسان پر کیوں بھروسا رکھے جو مٹی کے گھر میں رہتا، ایسے مکان میں جس کی بنیاد خاک پر ہی رکھی گئی ہے۔ اُسے پتنگے کی طرح کچلا جاتا ہے۔)دیکھ، اللہ اپنے خادموں پر بھروسا نہیں کرتا، اپنے فرشتوں کو وہ احمق ٹھہراتا ہے۔;q’کیا انسان اللہ کے حضور راست باز ٹھہر سکتا ہے، کیا انسان اپنے خالق کے سامنے پاک صاف ٹھہر سکتا ہے؟‘ueایک ہستی میرے سامنے کھڑی ہوئی جسے مَیں پہچان نہ سکا، ایک شکل میری آنکھوں کے سامنے دکھائی دی۔ وہ خاموشی تھی، پھر ایک آواز نے فرمایا، BT$Cمَیں نے خود ایک احمق کو جڑ پکڑتے دیکھا، لیکن مَیں نے فوراً ہی اُس کے گھر پر لعنت بھیجی۔*Oکیونکہ احمق کی رنجیدگی اُسے مار ڈالتی، سادہ لوح کی سرگرمی اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیتی ہے۔+ Sبےشک آواز دے، لیکن کون جواب دے گا؟ کوئی نہیں! مُقدّسین میں سے تُو کس کی طرف رجوع کر سکتا ہے؟ اُس کے خیمے کے رسّے ڈھیلے کرو تو وہ حکمت حاصل کئے بغیر انتقال کر جاتا ہے۔ :oصبح کو وہ زندہ ہے لیکن شام تک پاش پاش ہو جاتا، ابد تک ہلاک ہو جاتا ہے، اور کوئی بھی دھیان نہیں دیتا۔ &DI& 1لیکن اگر مَیں تیری جگہ ہوتا تو اللہ سے دریافت کرتا، اُسے ہی اپنا معاملہ پیش کرتا۔بلکہ انسان خود اِس کا باعث ہے، دُکھ درد اُس کی وراثت میں ہی پایا جاتا ہے۔ یہ اِتنا یقینی ہے جتنا یہ کہ آگ کی چنگاریاں اوپر کی طرف اُڑتی ہیں۔{qکیونکہ بُرائی خاک سے نہیں نکلتی اور دُکھ درد مٹی سے نہیں پھوٹتاwiبھوکے اُس کی فصل کھا جاتے، کانٹےدار باڑوں میں محفوظ مال بھی چھین لیتے ہیں۔ پیاسے افراد ہانپتے ہوئے اُس کی دولت کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔8kاُس کے فرزند نجات سے دُور رہتے۔ اُنہیں شہر کے دروازے میں روندا جاتا ہے، اور بچانے والا کوئی نہیں۔ $7$&1دن کے وقت اُن پر اندھیرا چھا جاتا، اور دوپہر کے وقت بھی وہ ٹٹول ٹٹول کر پھرتے ہیں۔N% وہ دانش مندوں کو اُن کی اپنی چالاکی کے پھندے میں پھنسا دیتا ہے تو ہوشیاروں کی سازشیں اچانک ہی ختم ہو جاتی ہیں۔w$i وہ چالاکوں کے منصوبے توڑ دیتا ہے تاکہ اُن کے ہاتھ ناکام رہیں۔##A پست حالوں کو وہ سرفراز کرتا اور ماتم کرنے والوں کو اُٹھا کر محفوظ مقام پر رکھ دیتا ہے۔~"w وہی رُوئے زمین کو بارش عطا کرتا، کھلے میدان پر پانی برسا دیتا ہے۔E! وہی اِتنے عظیم کام کرتا ہے کہ کوئی اُن کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا، اِتنے معجزے کہ کوئی اُنہیں گن نہیں سکتا۔ oD0,[اگر کال پڑے تو وہ فدیہ دے کر تجھے موت سے بچائے گا، جنگ میں تجھے تلوار کی زد میں آنے نہیں دے گا۔/+Yوہ تجھے چھ مصیبتوں سے چھڑائے گا، اور اگر اِس کے بعد بھی کوئی آئے تو تجھے نقصان نہیں پہنچے گا۔>*wکیونکہ وہ زخمی کرتا لیکن مرہم پٹی بھی لگا دیتا ہے، وہ ضرب لگاتا لیکن اپنے ہاتھوں سے شفا بھی بخشتا ہے۔")?مبارک ہے وہ انسان جس کی ملامت اللہ کرتا ہے! چنانچہ قادرِ مطلق کی تادیب کو حقیر نہ جان۔(}یوں پست حالوں کو اُمید دی جاتی اور ناانصافی کا منہ بند کیا جاتا ہے۔ 'اللہ ضرورت مندوں کو اُن کے منہ کی تلوار اور زبردست کے قبضے سے بچا لیتا ہے۔ e/)1Mتُو دیکھے گا کہ تیری اولاد بڑھتی جائے گی، تیرے فرزند زمین پر گھاس کی طرح پھیلتے جائیں گے۔;0qتُو جان لے گا کہ تیرا خیمہ محفوظ ہے۔ جب تُو اپنے گھر کا معائنہ کرے تو معلوم ہو گا کہ کچھ گم نہیں ہوا۔X/+کیونکہ تیرا کھلے میدان کے پتھروں کے ساتھ عہد ہو گا، اِس لئے اُس کے جنگلی جانور تیرے ساتھ سلامتی سے زندگی گزاریں گے۔.)تُو تباہی اور کال کی ہنسی اُڑائے گا، زمین کے وحشی جانوروں سے خوف نہیں کھائے گا۔-)تُو زبان کے کوڑوں سے محفوظ رہے گا، اور جب تباہی آئے تو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ gc7Aکیونکہ قادرِ مطلق کے تیر مجھ میں گڑ گئے ہیں، میری روح اُن کا زہر پی رہی ہے۔ ہاں، اللہ کے ہول ناک حملے میرے خلاف صف آرا ہیں۔*6Oکیونکہ وہ سمندر کی ریت سے زیادہ بھاری ہو گئی ہے۔ اِسی لئے میری باتیں بےتُکی سی لگ رہی ہیں۔ 5”کاش میری رنجیدگی کا وزن کیا جا سکے اور میری مصیبت ترازو میں تولی جا سکے!54 iتب ایوب نے جواب دے کر کہا،37ہم نے تحقیق کر کے معلوم کیا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ چنانچہ ہماری بات سن کر اُسے اپنا لے!“ ~2wتُو وقت پر جمع شدہ پُولوں کی طرح عمر رسیدہ ہو کر قبر میں اُترے گا۔ 3&%= پھر مجھے کم از کم تسلی ہوتی بلکہ مَیں مستقل درد کے مارے پیچ و تاب کھانے کے باوجود خوشی مناتا کہ مَیں نے قدوس خدا کے فرمانوں کا انکار نہیں کیا۔< کاش وہ مجھے کچل دینے کے لئے تیار ہو جائے، وہ اپنا ہاتھ بڑھا کر مجھے ہلاک کرے۔h;Kکاش میری گزارش پوری ہو جائے، اللہ میری آرزو پوری کرے!:yایسی چیز کو مَیں چھوتا بھی نہیں، ایسی خوراک سے مجھے گھن ہی آتی ہے۔9 کیا پھیکا کھانا نمک کے بغیر کھایا جاتا، یا انڈے کی سفیدی میں ذائقہ ہے؟I8 کیا جنگلی گدھا ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا ہے جب اُسے گھاس دست یاب ہو؟ یا کیا بَیل ڈکراتا ہے جب اُسے چارا حاصل ہو؟ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr}  2  2 2 2 2 2 2 2 2  2  2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2  2 2 2 2 2 2 2 2  2  2  2  2  2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2  2 2 2 2 2 2 2 2  2  2  2  2  2 2 2 2 2 2 2 2 2  2 2 h(SC!اُس وقت وہ برف سے بھر کر گدلی ہو جاتی ہیں،EBمیرے بھائیوں نے وادی کی اُن ندیوں جیسی بےوفائی کی ہے جو برسات کے موسم میں اپنے کناروں سے باہر آ جاتی ہیں۔Aجو اپنے دوست پر مہربانی کرنے سے انکار کرے وہ اللہ کا خوف ترک کرتا ہے۔8@k نہیں، مجھ سے ہر سہارا چھین لیا گیا ہے، میرے ساتھ ایسا سلوک ہوا ہے کہ کامیابی کا امکان ہی نہیں رہا۔?{ کیا مَیں پتھروں جیسا طاقت ور ہوں؟ کیا میرا جسم پیتل جیسا مضبوط ہے؟># میری اِتنی طاقت نہیں کہ مزید انتظار کروں، میرا کیا اچھا انجام ہے کہ صبر کروں؟ w6I کیا مَیں نے کہا، ’مجھے تحفہ دے دو، اپنی دولت میں سے میری خاطر رشوت دو،H!تم بھی اِتنے ہی بےکار ثابت ہوئے ہو۔ تم ہول ناک بات دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے ہو۔KGلیکن بےسود۔ جس پر اُنہوں نے اعتماد کیا وہ اُنہیں مایوس کر دیتا ہے۔ جب وہاں پہنچتے ہیں تو شرمندہ ہو جاتے ہیں۔*FOتیما کے قافلے اِس پانی کی تلاش میں رہتے، سبا کے سفر کرنے والے تاجر اُس پر اُمید رکھتے ہیں،@E{تب قافلے اپنی راہوں سے ہٹ جاتے ہیں تاکہ پانی مل جائے، لیکن بےفائدہ۔ وہ ریگستان پا کر تباہ ہو جاتے ہیں۔Dلیکن عروج تک پہنچتے ہی وہ سوکھ جاتی، تپتی گرمی میں اوجھل ہو جاتی ہیں۔ K Nکیا تم یتیم کے لئے بھی قرعہ ڈالتے، اپنے دوست کے لئے بھی سودابازی کرتے ہو؟EMکیا تم سمجھتے ہو کہ خالی الفاظ معاملے کو حل کریں گے، گو تم مایوسی میں مبتلا آدمی کی بات نظرانداز کرتے ہو؟9Lmسیدھی راہ کی باتیں کتنی تکلیف دہ ہو سکتی ہیں! لیکن تمہاری ملامت سے مجھے کس قسم کی تربیت حاصل ہو گی؟1K]مجھے صاف ہدایت دو تو مَیں مان کر خاموش ہو جاؤں گا۔ مجھے بتاؤ کہ کس بات میں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔wJiمجھے دشمن کے ہاتھ سے چھڑاؤ، فدیہ دے کر ظالم کے قبضے سے بچاؤ‘؟ QAhQmTUمجھے بھی بےمعنی مہینے اور مصیبت کی راتیں نصیب ہوئی ہیں۔#SAغلام کی طرح وہ شام کے سائے کا آرزومند ہوتا، مزدور کی طرح مزدوری کے انتظار میں رہتا ہے۔"R Aانسان دنیا میں سخت خدمت کرنے پر مجبور ہوتا ہے، جیتے جی وہ مزدور کی سی زندگی گزارتا ہے۔Qکیا میری زبان جھوٹ بولتی ہے؟ کیا مَیں فریب دہ باتیں پہچان نہیں سکتا؟ %PEاپنی غلطی تسلیم کرو تاکہ ناانصافی نہ ہو۔ اپنی غلطی مان لو، کیونکہ اب تک مَیں حق پر ہوں۔;Oqلیکن اب خود فیصلہ کرو، مجھ پر نظر ڈال کر سوچ لو۔ اللہ کی قَسم، مَیں تمہارے رُوبرُو جھوٹ نہیں بولتا۔ O4Xcاے اللہ، خیال رکھ کہ میری زندگی دم بھر کی ہی ہے! میری آنکھیں آئندہ کبھی خوش حالی نہیں دیکھیں گی۔IW میرے دن جولاہے کی نال سے کہیں زیادہ تیزی سے گزر گئے ہیں۔ وہ اپنے انجام تک پہنچ گئے ہیں، دھاگا ختم ہو گیا ہے۔"V?میرے جسم کی ہر جگہ کیڑے اور کھرنڈ پھیل گئے ہیں، میری سکڑی ہوئی جِلد میں پیپ پڑ گئی ہے۔U جب بستر پر لیٹ جاتا تو سوچتا ہوں کہ کب اُٹھ سکتا ہوں؟ لیکن لگتا ہے کہ رات کبھی ختم نہیں ہو گی، اور مَیں فجر تک بےچینی سے کروٹیں بدلتا رہتا ہوں۔ rG r]! اے اللہ، کیا مَیں سمندر یا سمندری اژدہا ہوں کہ تُو نے مجھے نظربند کر رکھا ہے؟\ چنانچہ مَیں وہ کچھ روک نہیں سکتا جو میرے منہ سے نکلنا چاہتا ہے۔ مَیں رنجیدہ حالت میں بات کروں گا، اپنے دل کی تلخی کا اظہار کر کے آہ و زاری کروں گا۔[ وہ دوبارہ اپنے گھر واپس نہیں آئے گا، اور اُس کا مقام اُسے نہیں جانتا۔Z9 جس طرح بادل اوجھل ہو کر ختم ہو جاتا ہے اُسی طرح پاتال میں اُترنے والا واپس نہیں آتا۔5Yeجو مجھے اِس وقت دیکھے وہ آئندہ مجھے نہیں دیکھے گا۔ تُو میری طرف دیکھے گا، لیکن مَیں ہوں گا نہیں۔ p{bqانسان کیا ہے کہ تُو اُس کی اِتنی قدر کرے، اُس پر اِتنا دھیان دے؟Sa!مَیں نے زندگی کو رد کر دیا ہے، اب مَیں زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہوں گا۔ مجھے چھوڑ، کیونکہ میرے دن دم بھر کے ہی ہیں۔g`Iمیری اِتنی بُری حالت ہو گئی ہے کہ سوچتا ہوں، کاش کوئی میرا گلا گھونٹ کر مجھے مار ڈالے، کاش مَیں زندہ نہ رہوں بلکہ دم چھوڑوں۔_تو تُو مجھے ہول ناک خوابوں سے ہمت ہارنے دیتا، رویاؤں سے مجھے دہشت کھلاتا ہے۔ ^ جب مَیں کہتا ہوں، ’میرا بستر مجھے تسلی دے، سونے سے میرا غم ہلکا ہو جائے‘ Y\;fqتُو میرا جرم معاف کیوں نہیں کرتا، میرا قصور درگزر کیوں نہیں کرتا؟ کیونکہ جلد ہی مَیں خاک ہو جاؤں گا۔ اگر تُو مجھے تلاش بھی کرے تو نہیں ملوں گا، کیونکہ مَیں ہوں گا نہیں۔“ )eMاے انسان کے پہرے دار، اگر مجھ سے غلطی ہوئی بھی تو اِس سے مَیں نے تیرا کیا نقصان کیا؟ تُو نے مجھے اپنے غضب کا نشانہ کیوں بنایا؟ مَیں تیرے لئے بوجھ کیوں بن گیا ہوں؟Ldکیا تُو مجھے تکنے سے کبھی نہیں باز آئے گا؟ کیا تُو مجھے اِتنا سکون بھی نہیں دے گا کہ پل بھر کے لئے تھوک نگلوں؟#cAوہ اِتنا اہم تو نہیں ہے کہ تُو ہر صبح اُس کا معائنہ کرے، ہر لمحہ اُس کی جانچ پڑتال کرے۔ %\Ul%کہ تُو پاک ہو اور سیدھی راہ پر چلے۔ پھر وہ اب بھی تیری خاطر جوش میں آ کر تیری راست بازی کی سکونت گاہ کو بحال کرے گا۔k اب تیرے لئے لازم ہے کہ تُو اللہ کا طالب ہو اور قادرِ مطلق سے التجا کرے،%jEتیرے بیٹوں نے اُس کا گناہ کیا ہے، اِس لئے اُس نے اُنہیں اُن کے جرم کے قبضے میں چھوڑ دیا۔iکیا اللہ انصاف کا خون کر سکتا، کیا قادرِ مطلق راستی کو آگے پیچھے کر سکتا ہے؟h'”تُو کب تک اِس قسم کی باتیں کرے گا؟ کب تک تیرے منہ سے آندھی کے جھونکے نکلیں گے؟>g {تب بلدد سوخی نے جواب دے کر کہا، jh,qS کیا آبی نرسل وہاں اُگتا ہے جہاں دلدل نہیں؟ کیا سرکنڈا وہاں پھلتا پھولتا ہے جہاں پانی نہیں؟*pO لیکن یہ تجھے تعلیم دے کر بات بتا سکتے ہیں، یہ تجھے اپنے دل میں جمع شدہ علم پیش کر سکتے ہیں۔%oE کیونکہ ہم خود کل ہی پیدا ہوئے اور کچھ نہیں جانتے، زمین پر ہمارے دن سائے جیسے عارضی ہیں۔'nIگزشتہ نسل سے ذرا پوچھ لے، اُس پر دھیان دے جو اُن کے باپ دادا نے تحقیقات کے بعد معلوم کیا۔mتب تیرا مستقبل نہایت عظیم ہو گا، خواہ تیری ابتدائی حالت کتنی پست کیوں نہ ہو۔ ?*=?jwOاُس کی جڑیں پتھر کے ڈھیر پر چھا کر اُن میں ٹک جاتی ہیں۔ vبےدین دھوپ میں شاداب بیل کی مانند ہے۔ اُس کی کونپلیں چاروں طرف پھیل جاتی،uجب وہ جالے پر ٹیک لگائے تو کھڑا نہیں رہتا، جب اُسے پکڑ لے تو قائم نہیں رہتا۔6tgجس پر وہ اعتماد کرتا ہے وہ نہایت ہی نازک ہے، جس پر اُس کا بھروسا ہے وہ مکڑی کے جالے جیسا کمزور ہے۔s1 یہ ہے اُن کا انجام جو اللہ کو بھول جاتے ہیں، اِسی طرح بےدین کی اُمید جاتی رہتی ہے۔Rr اُس کی کونپلیں ابھی نکل رہی ہیں اور اُسے توڑا نہیں گیا کہ اگر پانی نہ ملے تو باقی ہریالی سے پہلے ہی سوکھ جاتا ہے۔ 7x!j70} _ ایوب نے جواب دے کر کہا،3|aجو تجھ سے نفرت کرتے ہیں وہ شرم سے ملبّس ہو جائیں گے، اور بےدینوں کے خیمے نیست و نابود ہوں گے۔“ ${Cوہ ایک بار پھر تجھے ایسی خوشی بخشے گا کہ تُو ہنس اُٹھے گا اور شادمانی کے نعرے لگائے گا۔+zQیقیناً اللہ بےالزام آدمی کو مسترد نہیں کرتا، یقیناً وہ شریر آدمی کے ہاتھ مضبوط نہیں کرتا۔!y=یہ ہے اُس کی راہ کی نام نہاد خوشی! جہاں پہلے تھا وہاں دیگر پودے زمین سے پھوٹ نکلیں گے۔_x9لیکن اگر اُسے اُکھاڑا جائے تو جس جگہ پہلے اُگ رہی تھی وہ اُس کا انکار کر کے کہے گی، ’مَیں نے تجھے کبھی دیکھا بھی نہیں۔‘ uJ*u1] وہ زمین کو ہلا دیتا ہے تو وہ لرز کر اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے، اُس کے بنیادی ستون کانپ اُٹھتے ہیں۔5e اللہ پہاڑوں کو کھسکا دیتا ہے، اور اُنہیں پتا ہی نہیں چلتا۔ وہ غصے میں آ کر اُنہیں اُلٹا دیتا ہے۔,S اللہ کا دل دانش مند اور اُس کی قدرت عظیم ہے۔ کون کبھی اُس سے بحث مباحثہ کر کے کامیاب رہا ہے؟3a اگر وہ عدالت میں اللہ کے ساتھ لڑنا چاہے تو اُس کے ہزار سوالات پر ایک کا بھی جواب نہیں دے سکے گا۔2~_ ”مَیں خوب جانتا ہوں کہ تیری بات درست ہے۔ لیکن اللہ کے حضور انسان کس طرح راست باز ٹھہر سکتا ہے؟ yD 7y:o جب وہ میرے سامنے سے گزرے تو مَیں اُسے نہیں دیکھتا، جب وہ میرے قریب سے پھرے تو مجھے معلوم نہیں ہوتا۔Q وہ اِتنے عظیم کام کرتا ہے کہ کوئی اُن کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا، اِتنے معجزے کرتا ہے کہ کوئی اُنہیں گن نہیں سکتا۔  وہی دُبِ اکبر، جوزے، خوشۂ پروین اور جنوبی ستاروں کے جھرمٹوں کا خالق ہے۔&G اللہ ہی آسمان کو خیمے کی طرح تان دیتا، وہی سمندری اژدہے کی پیٹھ کو پاؤں تلے کچل دیتا ہے۔8k وہ سورج کو حکم دیتا ہے تو طلوع نہیں ہوتا، ستاروں پر مُہر لگاتا ہے تو اُن کی چمک دمک بند ہو جاتی ہے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\fq| 2 2 2 2 2  2  2  2  2 2 2 2 2 2  2  2  2  2  2 2 2 2 2 2 2 2 2 2   2  2  2  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  3  !3  "3  #3   3  3!  3"  3#  3$  3%  3&  3'  3(  3)  3*  3+  3,  3-  3. fM 9 اگر وہ میری چیخوں کا جواب دیتا بھی تو مجھے یقین نہ آتا کہ وہ میری بات پر دھیان دے گا۔K  اگر مَیں حق پر ہوتا بھی تو اپنا دفاع نہ کر سکتا۔ اِس مخالف سے مَیں التجا کرنے کے علاوہ اَور کچھ نہیں کر سکتا۔ % تو پھر مَیں کس طرح اُسے جواب دوں، کس طرح اُس سے بات کرنے کے مناسب الفاظ چن لوں؟- U اللہ تو اپنا غضب نازل کرنے سے باز نہیں آتا۔ اُس کے رُعب تلے رہب اژدہے کے مددگار بھی دبک گئے۔' اگر وہ کچھ چھین لے تو کون اُسے روکے گا؟ کون اُس سے کہے گا، ’تُو کیا کر رہا ہے؟‘ b3a3a جو کچھ بھی ہو، مَیں بےالزام ہوں! مَیں اپنی جان کی پروا ہی نہیں کرتا، اپنی زندگی حقیر جانتا ہوں۔N گو مَیں بےگناہ ہوں توبھی میرا اپنا منہ مجھے قصوروار ٹھہرائے گا، گو بےالزام ہوں توبھی وہ مجھے مجرم قرار دے گا۔-U جہاں طاقت کی بات ہے تو وہی قوی ہے، جہاں انصاف کی بات ہے تو کون اُسے پیشی کے لئے بُلا سکتا ہے؟{q وہ مجھے سانس بھی نہیں لینے دیتا بلکہ کڑوے زہر سے سیر کر دیتا ہے۔ / تھوڑی سی غلطی کے جواب میں وہ مجھے پاش پاش کرتا، بلاوجہ مجھے بار بار زخمی کرتا ہے۔ HEH-U وہ سرکنڈے کے بحری جہازوں کی طرح گزر گئے ہیں، اُس عقاب کی طرح جو اپنے شکار پر جھپٹا مارتا ہے۔"? میرے دن دوڑنے والے آدمی سے کہیں زیادہ تیزی سے بیت گئے، خوشی دیکھے بغیر بھاگ نکلے ہیں۔ue اگر کوئی ملک بےدین کے حوالے کیا جائے تو اللہ اُس کے قاضیوں کی آنکھیں بند کر دیتا ہے۔ اگر یہ اُس کی طرف سے نہیں تو پھر کس کی طرف سے ہے؟)M جب کبھی اچانک کوئی آفت انسان کو موت کے گھاٹ اُتارے تو اللہ بےگناہ کی پریشانی پر ہنستا ہے۔7i خیر، ایک ہی بات ہے، اِس لئے مَیں کہتا ہوں، ’اللہ بےالزام اور بےدین دونوں کو ہی ہلاک کر دیتا ہے۔‘ F[ 5 تاہم تُو مجھے گڑھے کی کیچڑ میں یوں دھنسنے دیتا ہے کہ مجھے اپنے کپڑوں سے گھن آتی ہے۔gI گو مَیں صابن سے نہا لوں اور اپنے ہاتھ سوڈے سے دھو لوںM جو کچھ بھی ہو مجھے قصوروار ہی قرار دیا گیا ہے، چنانچہ اِس کا کیا فائدہ کہ مَیں بےمعنی تگ و دَو میں مصروف رہوں؟gI تو پھر بھی مَیں اُن تمام تکالیف سے ڈرتا ہوں جو مجھے برداشت کرنی ہیں۔ کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ تُو مجھے بےگناہ نہیں ٹھہراتا۔6g اگر مَیں کہوں، ’آؤ مَیں اپنی آہیں بھول جاؤں، اپنے چہرے کی اُداسی دُور کر کے خوشی کا اظہار کروں‘ L2:L!) مَیں اللہ سے کہوں گا کہ مجھے مجرم نہ ٹھہرا بلکہ بتا کہ تیرا مجھ پر کیا الزام ہے۔7  k مجھے اپنی جان سے گھن آتی ہے۔ مَیں آزادی سے آہ و زاری کروں گا، کھلے طور پر اپنا دلی غم بیان کروں گا۔# #تب مَیں اللہ سے خوف کھائے بغیر بولتا، کیونکہ فطری طور پر مَیں ایسا نہیں ہوں۔  "جو میری پیٹھ پر سے اللہ کا ڈنڈا ہٹائے تاکہ اُس کا خوف مجھے دہشت زدہ نہ کرے۔cA !کاش ہمارے درمیان ثالث ہو جو ہم دونوں پر ہاتھ رکھے،J اللہ تو مجھ جیسا انسان نہیں کہ مَیں جواب میں اُس سے کہوں، ’آؤ ہم عدالت میں جا کر ایک دوسرے کا مقابلہ کریں۔‘  & تُو تو جانتا ہے کہ مَیں بےقصور ہوں اور کہ تیرے ہاتھ سے کوئی بچا نہیں سکتا۔% تو پھر کیا ضرورت ہے کہ تُو میرے قصور کی تلاش اور میرے گناہ کی تحقیق کرتا رہے؟o$Y کیا تیرے دن اور سال فانی انسان جیسے محدود ہیں؟ ہرگز نہیں!# کیا تیری آنکھیں انسانی ہیں؟ کیا تُو صرف انسان کی سی نظر سے دیکھتا ہے؟Z"/ کیا تُو ظلم کر کے مجھے رد کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے حالانکہ تیرے اپنے ہی ہاتھوں نے مجھے بنایا؟ ساتھ ساتھ تُو بےدینوں کے منصوبوں پر اپنی منظوری کا نور چمکاتا ہے۔ کیا یہ تجھے اچھا لگتا ہے؟ R\7R,/ لیکن ایک بات تُو نے اپنے دل میں چھپائے رکھی، ہاں مجھے تیرا ارادہ معلوم ہو گیا ہے۔0+[ تُو ہی نے مجھے زندگی اور اپنی مہربانی سے نوازا، اور تیری دیکھ بھال نے میری روح کو محفوظ رکھا۔* تُو ہی نے مجھے جِلد اور گوشت پوست سے ملبّس کیا، ہڈیوں اور نسوں سے تیار کیا۔r)_ تُو نے خود مجھے دودھ کی طرح اُنڈیل کر پنیر کی طرح جمنے دیا۔,(S ذرا اِس کا خیال رکھ کہ تُو نے مجھے مٹی سے بنایا۔ اب تُو مجھے دوبارہ خاک میں تبدیل کر رہا ہے۔ '; تیرے اپنے ہاتھوں نے مجھے تشکیل دے کر بنایا۔ اور اب تُو نے مُڑ کر مجھے تباہ کر دیا ہے۔ 0Y0- تُو میرے خلاف نئے گواہوں کو کھڑا کرتا اور مجھ پر اپنے غضب میں اضافہ کرتا ہے، تیرے لشکر صف در صف مجھ پر حملہ کرتے ہیں۔^/7 اور اگر مَیں کھڑا بھی ہو جاؤں تو تُو شیرببر کی طرح میرا شکار کرتا اور مجھ پر دوبارہ اپنی معجزانہ قدرت کا اظہار کرتا ہے۔N. اگر مَیں قصوروار ہوں تو مجھ پر افسوس! اور اگر مَیں بےگناہ بھی ہوں تاہم مَیں اپنا سر اُٹھانے کی جرٲت نہیں کرتا، کیونکہ مَیں شرم کھا کھا کر سیر ہو گیا ہوں۔ مجھے خوب مصیبت پلائی گئی ہے۔L- وہ یہ ہے کہ ’اگر ایوب گناہ کرے تو مَیں اُس کی پہرہ داری کروں گا۔ مَیں اُسے اُس کے قصور سے بَری نہیں کروں گا۔‘ @]45 کیونکہ جلد ہی مجھے کوچ کر کے وہاں جانا ہے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا، اُس ملک میں جس میں تاریکی اور گھنے سائے رہتے ہیں۔N3 کیا میرے دن تھوڑے نہیں ہیں؟ مجھے تنہا چھوڑ! مجھ سے اپنا منہ پھیر لے تاکہ مَیں چند ایک لمحوں کے لئے خوش ہو سکوں،#2A یوں ہوتا جیسا مَیں کبھی زندہ ہی نہ تھا، مجھے سیدھا ماں کے پیٹ سے قبر میں پہنچایا جاتا۔<1s تُو مجھے میری ماں کے پیٹ سے کیوں نکال لایا؟ بہتر ہوتا کہ مَیں اُسی وقت مر جاتا اور کسی کو نظر نہ آتا۔ &:9! اللہ سے تُو کہتا ہے، ’میری تعلیم پاک ہے، اور تیری نظر میں مَیں پاک صاف ہوں۔‘X8+ کیا تیری بےمعنی باتیں لوگوں کے منہ یوں بند کریں گی کہ تُو آزادی سے لعن طعن کرتا جائے اور کوئی تجھے شرمندہ نہ کر سکے؟D7 ”کیا اِن تمام باتوں کا جواب نہیں دینا چاہئے؟ کیا یہ آدمی اپنی خالی باتوں کی بنا پر ہی راست باز ٹھہرے گا؟E6  پھر ضوفر نعماتی نے جواب دے کر کہا،V5' وہ ملک اندھیرا ہی اندھیرا اور کالا ہی کالا ہے، اُس میں گھنے سائے اور بےترتیبی ہے۔ وہاں روشنی بھی اندھیرا ہی ہے۔“ m^l>S اُس کی لمبائی زمین سے بڑی اور چوڑائی سمندر سے زیادہ ہے۔9=m وہ تو آسمان سے بلند ہے، چنانچہ تُو کیا کر سکتا ہے؟ وہ پاتال سے گہرا ہے، چنانچہ تُو کیا جان سکتا ہے؟<- کیا تُو اللہ کا راز کھول سکتا ہے؟ کیا تُو قادرِ مطلق کے کامل علم تک پہنچ سکتا ہے؟ ; کاش وہ تیرے لئے حکمت کے بھید کھولے، کیونکہ وہ انسان کی سمجھ کے نزدیک معجزے سے ہیں۔ تب تُو جان لیتا کہ اللہ تیرے گناہ کا کافی حصہ درگزر کر رہا ہے۔: کاش اللہ خود تیرے ساتھ ہم کلام ہو، وہ اپنے ہونٹوں کو کھول کر تجھ سے بات کرے! V9C7 اگر تیرے ہاتھ گناہ میں ملوث ہوں تو اُسے دُور کر اور اپنے خیمے میں بُرائی بسنے نہ دے!B/ اے ایوب، اپنا دل پورے دھیان سے اللہ کی طرف مائل کر اور اپنے ہاتھ اُس کی طرف اُٹھا!>Aw عقل سے خالی آدمی کس طرح سمجھ پا سکتا ہے؟ یہ اُتنا ہی ناممکن ہے جتنا یہ کہ جنگلی گدھے سے انسان پیدا ہو۔9@m کیونکہ وہ فریب دہ آدمیوں کو جان لیتا ہے، جب بھی اُسے بُرائی نظر آئے تو وہ اُس پر خوب دھیان دیتا ہے۔&?G اگر وہ کہیں سے گزر کر کسی کو گرفتار کرے یا عدالت میں اُس کا حساب کرے تو کون اُسے روکے گا؟ 'R3'6Ig لیکن بےدینوں کی آنکھیں ناکام ہو جائیں گی، اور وہ بچ نہیں سکیں گے۔ اُن کی اُمید مایوس کن ہو گی۔“ HH  تُو آرام کرے گا، اور کوئی تجھے دہشت زدہ نہیں کرے گا بلکہ بہت لوگ تیری نظرِ عنایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔G چونکہ اُمید ہو گی اِس لئے تُو محفوظ ہو گا اور سلامتی سے لیٹ جائے گا۔F تیری زندگی دوپہر کی طرح چمک دار، تیری تاریکی صبح کی مانند روشن ہو جائے گی۔ E  تُو اپنا دُکھ درد بھول جائے گا، اور وہ صرف گزرے سیلاب کی طرح یاد رہے گا۔*DO تب تُو بےالزام حالت میں اپنا چہرہ اُٹھا سکے گا، تُو مضبوطی سے کھڑا رہے گا اور ڈرے گا نہیں۔ E  "-8CNXcny)3>IT_ju%0;EP[fq|  30  31  32  33  34  35   36  37  38  30  31  32  33  34  35   36  37  38  39  3:  3;  3<  3=  3>  3?  3@  3A  3B  3C  3D  3E  3F  3G  3H  3I   3J  3K  3L  3M  3N  3O  3P  3Q  3R  3S  3T  3U  3V  3W  3X  3Y  3Z  3[  3\  3]  3^  3_  3`  3a  3b   3c  3d  3e  3f  3g  3h  3i  3j  3k  3l  3m  3n  3o  3p  3q  3r  3s  3t zCczeNE جو سکون سے زندگی گزارتا ہے وہ مصیبت زدہ کو حقیر جانتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ’آؤ، ہم اُسے ٹھوکر ماریں جس کے پاؤں ڈگمگانے لگے ہے۔‘(MK مَیں تو اپنے دوستوں کے لئے مذاق کا نشانہ بن گیا ہوں، مَیں جس کی دعائیں اللہ سنتا تھا۔ ہاں، مَیں جو بےگناہ اور بےالزام ہوں دوسروں کے لئے مذاق کا نشانہ بن گیا ہوں!0L[ لیکن مجھے سمجھ ہے، اِس ناتے سے مَیں تم سے ادنیٰ نہیں ہوں۔ ویسے بھی کون ایسی باتیں نہیں جانتا؟K ”لگتا ہے کہ تم ہی واحد دانش مند ہو، کہ حکمت تمہارے ساتھ ہی مر جائے گی۔0J _ ایوب نے جواب دے کر کہا، ,SoSY اُسی کے ہاتھ میں ہر جاندار کی جان، تمام انسانوں کا دم ہے۔R  اِن میں سے ایک بھی نہیں جو نہ جانتا ہو کہ رب کے ہاتھ نے یہ سب کچھ کیا ہے۔/QY زمین سے بات کر تو وہ تجھے تعلیم دے گی، بلکہ سمندر کی مچھلیاں بھی تجھے اِس کا مفہوم سنائیں گی۔UP% تاہم تم کہتے ہو کہ جانوروں سے پوچھ لے تو وہ تجھے صحیح بات سکھائیں گے۔ پرندوں سے پتا کر تو وہ تجھے درست جواب دیں گے۔PO غارت گروں کے خیموں میں آرام و سکون ہے، اور اللہ کو طیش دلانے والے حفاظت سے رہتے ہیں، گو وہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ fiUfY7 اُس کے پاس قوت اور دانائی ہے۔ بھٹکنے اور بھٹکانے والا دونوں ہی اُس کے ہاتھ میں ہیں۔X3 جب وہ پانی روکے تو کال پڑتا ہے، جب اُسے کھلا چھوڑے تو وہ ملک میں تباہی مچا دیتا ہے۔)WM جو کچھ وہ ڈھا دے وہ دوبارہ تعمیر نہیں ہو گا، جسے وہ گرفتار کرے اُسے آزاد نہیں کیا جائے گا۔mVU حکمت اور قدرت اللہ کی ہے، وہی مصلحت اور سمجھ کا مالک ہے۔ U; اور حکمت اُن میں پائی جاتی ہے جو عمر رسیدہ ہیں، سمجھ متعدد دن گزرنے کے بعد ہی آتی ہے۔T! کان تو الفاظ کی یوں جانچ پڑتال کرتا ہے جس طرح زبان کھانوں میں امتیاز کرتی ہے۔ pT! _ وہ اندھیرے کے پوشیدہ بھید کھول دیتا اور گہری تاریکی کو روشنی میں لاتا ہے۔^} وہ شرفا پر اپنی حقارت کا اظہار کر کے زورآوروں کا پٹکا کھول دیتا ہے۔*]O قابلِ اعتماد افراد سے وہ بولنے کی قابلیت اور بزرگوں سے امتیاز کرنے کی لیاقت چھین لیتا ہے۔\7 اماموں کو وہ ننگے پاؤں اپنے ساتھ لے جاتا ہے، مضبوطی سے کھڑے آدمیوں کو تباہ کرتا ہے۔w[i وہ بادشاہوں کا پٹکا کھول کر اُن کی کمروں میں رسّا باندھتا ہے۔ Z مشیروں کو وہ ننگے پاؤں اپنے ساتھ لے جاتا ہے، قاضیوں کو احمق ثابت کرتا ہے۔ |;u | d علم کے لحاظ سے مَیں تمہارے برابر ہوں۔ اِس ناتے سے مَیں تم سے کم نہیں ہوں۔c  یہ سب کچھ مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اپنے کانوں سے سن کر سمجھ لیا ہے۔Zb/ تب وہ اندھیرے میں روشنی کے بغیر ٹٹول ٹٹول کر گھومتے ہیں۔ اللہ ہی اُنہیں نشے میں دُھت شرابیوں کی طرح بھٹکنے دیتا ہے۔ Ba وہ ملک کے راہنماؤں کو عقل سے محروم کر کے اُنہیں ایسے بیابان میں آوارہ پھرنے دیتا ہے جہاں راستہ ہی نہیں۔A`} وہ قوموں کو بڑا بھی بناتا اور تباہ بھی کرتا ہے، اُمّتوں کو منتشر بھی کرتا اور اُن کی قیادت بھی کرتا ہے۔ L1j کیا تم اُس کی جانب داری کرنا چاہتے ہو، اللہ کے حق میں لڑنا چاہتے ہو؟i کیا تم اللہ کی خاطر کج رَو باتیں پیش کرتے ہو، کیا اُسی کی خاطر جھوٹ بولتے ہو؟zho مباحثے میں ذرا میرا موقف سنو، عدالت میں میرے بیانات پر غور کرو! g  کاش تم سراسر خاموش رہتے! ایسا کرنے سے تمہاری حکمت کہیں زیادہ ظاہر ہوتی۔ f جہاں تک تمہارا تعلق ہے، تم سب فریب دہ لیپ لگانے والے اور بےکار ڈاکٹر ہو۔0e[ لیکن مَیں قادرِ مطلق سے ہی بات کرنا چاہتا ہوں، اللہ کے ساتھ ہی مباحثہ کرنے کی آرزو رکھتا ہوں۔ o+ خاموش ہو کر مجھ سے باز آؤ! جو کچھ بھی میرے ساتھ ہو جائے، مَیں بات کرنا چاہتا ہوں۔Rn پھر جن کہاوتوں کی یاد تم دلاتے رہتے ہو وہ راکھ کی امثال ثابت ہوں گی، پتا چلے گا کہ تمہاری باتیں مٹی کے الفاظ ہیں۔m% کیا اُس کا رُعب تمہیں خوف زدہ نہیں کرے گا؟ کیا تم اُس سے سخت دہشت نہیں کھاؤ گے؟l اگر تم خفیہ طور پر بھی جانب داری دکھاؤ تو وہ تمہیں ضرور سخت سزا دے گا۔ekE سوچ لو، اگر وہ تمہاری جانچ کرے تو کیا تمہاری بات بنے گی؟ کیا تم اُسے یوں دھوکا دے سکتے ہو جس طرح انسان کو دھوکا دیا جاتا ہے؟ myzJt تمہیں پتا چلے گا کہ مَیں نے احتیاط اور ترتیب سے اپنا معاملہ تیار کیا ہے۔ مجھے صاف معلوم ہے کہ مَیں حق پر ہوں!ksQ دھیان سے میرے الفاظ سنو، اپنے کان میرے بیانات پر دھرو۔ r اور اِس میں مَیں پناہ لیتا ہوں کہ بےدین اُس کے حضور آنے کی جرٲت نہیں کرتا۔pq[ شاید وہ مجھے مار ڈالے۔ کوئی بات نہیں، کیونکہ میری اُمید جاتی رہی ہے۔ جو کچھ بھی ہو مَیں اُسی کے سامنے اپنی راہوں کا دفاع کروں گا۔p مَیں اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنے کے لئے تیار ہوں، مَیں اپنی جان پر کھیلوں گا۔ _cC_z# تُو اپنا چہرہ مجھ سے چھپائے کیوں رکھتا ہے؟ تُو مجھے کیوں اپنا دشمن سمجھتا ہے؟y مجھ سے کتنے گناہ اور غلطیاں ہوئی ہیں؟ مجھ پر میرا جرم اور میرا گناہ ظاہر کر!4xc دوسرے، اِس کے بعد مجھے بُلا تاکہ مَیں جواب دوں، یا مجھے پہلے بولنے دے اور تُو ہی اِس کا جواب دے۔wy پہلے، اپنا ہاتھ مجھ سے دُور کر تاکہ تیرا خوف مجھے دہشت زدہ نہ کرے۔v/ اے اللہ، میری صرف دو درخواستیں منظور کر تاکہ مجھے تجھ سے چھپ جانے کی ضرورت نہ ہو۔u- اگر کوئی مجھے مجرم ثابت کر سکے تو مَیں چپ ہو جاؤں گا، دم چھوڑنے تک خاموش رہوں گا۔ uBxu% Gعورت سے پیدا ہوا انسان چند ایک دن زندہ رہتا ہے، اور اُس کی زندگی بےچینی سے بھری رہتی ہے۔}~u گو مَیں مَے کی گھسی پھٹی مشک اور کیڑوں کا خراب کیا ہوا لباس ہوں۔ V}' تُو میرے پاؤں کو کاٹھ میں ٹھونک کر میری تمام راہوں کی پہرہ داری کرتا ہے۔ تُو میرے ہر ایک نقشِ قدم پر دھیان دیتا ہے،F| یہ تیرا ہی فیصلہ ہے کہ مَیں تلخ تجربوں سے گزروں، تیری ہی مرضی ہے کہ مَیں اپنی جوانی کے گناہوں کی سزا پاؤں۔:{o کیا تُو ہَوا کے جھونکوں کے اُڑائے ہوئے پتے کو دہشت کھلانا چاہتا، خشک بھوسے کا تعاقب کرنا چاہتا ہے؟  +انسان کی عمر تو مقرر ہوئی ہے، اُس کے مہینوں کی تعداد تجھے معلوم ہے، کیونکہ تُو ہی نے اُس کے دنوں کی وہ حد باندھی ہے جس سے آگے وہ بڑھ نہیں سکتا۔\3کون ناپاک چیز کو پاک صاف کر سکتا ہے؟ کوئی نہیں!^7کیا تُو واقعی ایک ایسی مخلوق کا اِتنے غور سے معائنہ کرنا چاہتا ہے؟ مَیں کون ہوں کہ تُو مجھے پیشی کے لئے اپنے حضور لائے؟oYپھول کی طرح وہ چند لمحوں کے لئے پھوٹ نکلتا، پھر مُرجھا جاتا ہے۔ سائے کی طرح وہ تھوڑی دیر کے بعد اوجھل ہو جاتا اور قائم نہیں رہتا۔ :.J لیکن انسان فرق ہے۔ مرتے وقت اُس کی ہر طرح کی طاقت جاتی رہتی ہے، دم چھوڑتے وقت اُس کا نام و نشان تک نہیں رہتا۔?y لیکن پانی کی خوشبو سونگھتے ہی وہ کونپلیں نکالنے لگے گا، اور پنیری کی سی ٹہنیاں اُس سے پھوٹنے لگیں گی۔بےشک اُس کی جڑیں پرانی ہو جائیں اور اُس کا مُڈھ مٹی میں ختم ہونے لگے، اگر درخت کو کاٹا جائے تو اُسے تھوڑی بہت اُمید باقی رہتی ہے، کیونکہ عین ممکن ہے کہ مُڈھ سے کونپلیں پھوٹ نکلیں اور اُس کی نئی شاخیں اُگتی جائیں۔Bچنانچہ اپنی نگاہ اُس سے پھیر لے اور اُسے چھوڑ دے تاکہ وہ مزدور کی طرح اپنے تھوڑے دنوں سے کچھ مزہ لے سکے۔ VfB( K(کیونکہ اگر انسان مر جائے تو کیا وہ دوبارہ زندہ ہو جائے گا؟) پھر مَیں اپنی سخت خدمت کے تمام دن برداشت کرتا، اُس وقت تک انتظار کرتا جب تک میری سبک دوشی نہ ہو جاتی۔ ; کاش تُو مجھے پاتال میں چھپا دیتا، مجھے وہاں اُس وقت تک پوشیدہ رکھتا جب تک تیرا قہر ٹھنڈا نہ ہو جاتا! کاش تُو ایک وقت مقرر کرے جب تُو میرا دوبارہ خیال کرے گا۔l S وفات پانے والے کا یہی حال ہے۔ وہ لیٹ جاتا اور کبھی نہیں اُٹھے گا۔ جب تک آسمان قائم ہے نہ وہ جاگ اُٹھے گا، نہ اُسے جگایا جائے گا۔& G وہ اُس جھیل کی مانند ہے جس کا پانی اوجھل ہو جائے، اُس ندی کی مانند جو سکڑ کر خشک ہو جائے۔ a fGجس طرح بہتا پانی پتھر کو رگڑ رگڑ کر ختم کرتا اور سیلاب مٹی کو بہا لے جاتا ہے اُسی طرح تُو انسان کی اُمید خاک میں ملا دیتا ہے۔لیکن افسوس! جس طرح پہاڑ گر کر چُور چُور ہو جاتا اور چٹان کھسک جاتی ہے،7تُو میرے جرائم تھیلے میں باندھ کر اُس پر مُہر لگا دیتا، میری ہر غلطی کو ڈھانک دیتا۔.Wاُس وقت بھی تُو میرے ہر قدم کا شمار کرتا، لیکن نہ صرف اِس مقصد سے کہ میرے گناہوں پر دھیان دے۔ 1تب تُو مجھے آواز دیتا اور مَیں جواب دیتا، تُو اپنے ہاتھوں کے کام کا آرزومند ہوتا۔ E  "-8CNYdoy)4?JU`ju%0;FQ\gr}  3v  3w  3x  3y  3z  3{  3|  3}  3~  3v  3w  3x  3y  3z  3{  3|  3}  3~  3 3 3 3 3 3 3 3  3  3  3  3  3 3 3 3 3 3 3 3 3 3  3 3 3 3 3 3 3 3  3  3  3  3  3 3 3 3 3 3 3 3 3 3 3 3 3 3 3 3 3 3 3  3 !3 "3 #3  3 3 3 '@e'/کیا مناسب ہے کہ وہ فضول بحث مباحثہ کرے، ایسی باتیں کرے جو بےفائدہ ہیں؟ ہرگز نہیں!J”کیا دانش مند کو جواب میں بےہودہ خیالات پیش کرنے چاہئیں؟ کیا اُسے اپنا پیٹ تپتی مشرقی ہَوا سے بھرنا چاہئے؟H تب اِلی فز تیمانی نے جواب دے کر کہا،وہ صرف اپنے ہی جسم کا درد محسوس کرتا اور اپنے لئے ہی ماتم کرتا ہے۔“ W)اگر اُس کے بچوں کو سرفراز کیا جائے تو اُسے پتا نہیں چلتا، اگر اُنہیں پست کیا جائے تو یہ بھی اُس کے علم میں نہیں آتا۔<sتُو مکمل طور پر اُس پر غالب آ جاتا تو وہ کوچ کر جاتا ہے، تُو اُس کا چہرہ بگاڑ کر اُسے فارغ کر دیتا ہے۔ '4np'3aجب اللہ کی مجلس منعقد ہو جائے تو کیا تُو بھی اُن کی باتیں سنتا ہے؟ کیا صرف تجھے ہی حکمت حاصل ہے؟کیا تُو سب سے پہلے پیدا ہوا انسان ہے؟ کیا تُو نے پہاڑوں سے پہلے ہی جنم لیا؟zoمجھے تجھے قصوروار ٹھہرانے کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ تیرا اپنا ہی منہ تجھے مجرم ٹھہراتا ہے، تیرے اپنے ہی ہونٹ تیرے خلاف گواہی دیتے ہیں۔Bتیرا قصور ہی تیرے منہ کو ایسی باتیں کرنے کی تحریک دے رہا ہے، اِسی لئے تُو نے چالاکوں کی زبان اپنا لی ہے۔H لیکن تیرا رویہ اِس سے کہیں بُرا ہے۔ تُو اللہ کا خوف چھوڑ کر اُس کے حضور غور و خوض کرنے کا فرض حقیر جانتا ہے۔ [!  کہ آخرکار تُو اپنا غصہ اللہ پر اُتار کر ایسی باتیں اپنے منہ سے اُگل دے؟ 5 تیرے دل کے جذبات تجھے یوں اُڑا کر کیوں لے جائیں، تیری آنکھیں کیوں اِتنی چمک اُٹھیں اے ایوب، کیا تیری نظر میں اللہ کی تسلی دینے والی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا تُو اِس کی قدر نہیں کر سکتا کہ نرمی سے تجھ سے بات کی جا رہی ہے؟# ہمارے درمیان بھی عمر رسیدہ بزرگ ہیں، ایسے آدمی جو تیرے والد سے بھی بوڑھے ہیں۔!= تُو کیا جانتا ہے جو ہم نہیں جانتے؟ تجھے کس بات کی سمجھ آئی ہے جس کا علم ہم نہیں رکھتے؟ J@J@&{وہ کچھ جو دانش مندوں نے پیش کیا اور جو اُنہیں اپنے باپ دادا سے ملا تھا۔ اُن سے کچھ چھپایا نہیں گیا تھا۔4%cمیری بات سن، مَیں تجھے کچھ سنانا چاہتا ہوں۔ مَیں تجھے وہ کچھ بیان کروں گا جو مجھ پر ظاہر ہوا ہے،>$wتو پھر وہ انسان پر بھروسا کیوں رکھے جو قابلِ گھن اور بگڑا ہوا ہے، جو بُرائی کو پانی کی طرح پی لیتا ہے۔4#cاللہ تو اپنے مُقدّس خادموں پر بھی بھروسا نہیں رکھتا، بلکہ آسمان بھی اُس کی نظر میں پاک نہیں ہے۔<"sبھلا انسان کیا ہے کہ پاک صاف ٹھہرے؟ عورت سے پیدا ہوئی مخلوق کیا ہے کہ راست باز ثابت ہو؟ کچھ بھی نہیں! =2_*1اُسے اندھیرے سے بچنے کی اُمید ہی نہیں، کیونکہ اُسے تلوار کے لئے تیار رکھا گیا ہے۔O)دہشت ناک آوازیں اُس کے کانوں میں گونجتی رہتی ہیں، اور امن و امان کے وقت ہی تباہی مچانے والا اُس پر ٹوٹ پڑتا ہے۔( وہ کہتے تھے، بےدین اپنے تمام دن ڈر کے مارے تڑپتا رہتا، اور جتنے بھی سال ظالم کے لئے محفوظ رکھے گئے ہیں اُتنے ہی سال وہ پیچ و تاب کھاتا رہتا ہے۔?'y(باپ دادا سے مراد وہ واحد لوگ ہیں جنہیں اُس وقت ملک دیا گیا جب کوئی بھی پردیسی اُن میں نہیں پھرتا تھا)۔ C`s/aگو اِس وقت اُس کا چہرہ چربی سے چمکتا اور اُس کی کمر موٹی ہے،.اپنی موٹی اور مضبوط ڈھال کی پناہ میں اکڑ کر وہ تیزی سے اللہ پر حملہ کرتا ہے۔5-eاور وجہ کیا ہے؟ یہ کہ اُس نے اپنا ہاتھ اللہ کے خلاف اُٹھایا، قادرِ مطلق کے سامنے تکبر دکھایا ہے۔,تنگی اور مصیبت اُسے دہشت کھلاتی، حملہ آور بادشاہ کی طرح اُس پر غالب آتی ہیں۔9+mوہ مارا مارا پھرتا ہے، آخرکار وہ گِدھوں کی خورک بنے گا۔ اُسے خود علم ہے کہ تاریکی کا دن قریب ہی ہے۔ HoH49 وقت سے پہلے ہی اُسے اِس کا پورا معاوضہ ملے گا، اُس کی کونپل کبھی نہیں پھلے پھولے گی۔3!وہ دھوکے پر بھروسا نہ کرے، ورنہ وہ بھٹک جائے گا اور اُس کا اجر دھوکا ہی ہو گا۔i2Mوہ تاریکی سے نہیں بچے گا۔ شعلہ اُس کی کونپلوں کو مُرجھانے دے گا، اور اللہ اُسے اپنے منہ کی ایک پھونک سے اُڑا کر تباہ کر دے گا۔+1Qوہ امیر نہیں ہو گا، اُس کی دولت قائم نہیں رہے گی، اُس کی جائیداد ملک میں پھیلی نہیں رہے گی۔^07لیکن آئندہ وہ تباہ شدہ شہروں میں بسے گا، ایسے مکانوں میں جو سب کے چھوڑے ہوئے ہیں اور جو جلد ہی پتھر کے ڈھیر بن جائیں گے۔ ++=:uکیا تمہاری لفاظی کبھی ختم نہیں ہو گی؟ تجھے کیا چیز بےچین کر رہی ہے کہ تُو مجھے جواب دینے پر مجبور ہے؟9%”اِس طرح کی مَیں نے بہت سی باتیں سنی ہیں، تمہاری تسلی صرف دُکھ درد کا باعث ہے۔08 _ایوب نے جواب دے کر کہا،E7#اُن کے پاؤں دُکھ درد سے بھاری ہو جاتے، اور وہ بُرائی کو جنم دیتے ہیں۔ اُن کا پیٹ دھوکا ہی پیدا کرتا ہے۔“ 6%"کیونکہ بےدینوں کا جتھا بنجر رہے گا، اور آگ رشوت خوروں کے خیموں کو بھسم کرے گی۔b5?!وہ انگور کی اُس بیل کی مانند ہو گا جس کا پھل کچی حالت میں ہی گر جائے، زیتون کے اُس درخت کی مانند جس کے تمام پھول جھڑ جائیں۔ Dg>لیکن اب اللہ نے مجھے تھکا دیا ہے، اُس نے میرے پورے گھرانے کو تباہ کر دیا ہے۔Y=-لیکن میرے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہو رہا۔ اگر مَیں بولوں تو مجھے سکون نہیں ملتا، اگر چپ رہوں تو میرا درد دُور نہیں ہوتا۔7<iلیکن مَیں ایسا نہ کرتا۔ مَیں تمہیں اپنی باتوں سے تقویت دیتا، افسوس کے اظہار سے تمہیں تسکین دیتا۔};uاگر مَیں تمہاری جگہ ہوتا تو مَیں بھی تمہاری جیسی باتیں کر سکتا۔ پھر مَیں بھی تمہارے خلاف پُرالفاظ تقریریں پیش کر کے توبہ توبہ کہہ سکتا۔ -SB اللہ نے مجھے شریروں کے حوالے کر دیا، مجھے بےدینوں کے چنگل میں پھنسا دیا ہے۔VA' لوگ گلا پھاڑ کر میرا مذاق اُڑاتے، میرے گال پر تھپڑ مار کر میری بےعزتی کرتے ہیں۔ سب کے سب میرے خلاف متحد ہو گئے ہیں۔n@W اللہ کا غضب مجھے پھاڑ رہا ہے، وہ میرا دشمن اور میرا مخالف بن گیا ہے جو میرے خلاف دانت پیس پیس کر مجھے اپنی آنکھوں سے چھید رہا ہے۔]?5اُس نے مجھے سکڑنے دیا ہے، اور یہ بات میرے خلاف گواہ بن گئی ہے۔ میری دُبلی پتلی حالت کھڑی ہو کر میرے خلاف گواہی دیتی ہے۔ ] :]Gرو رو کر میرا چہرہ سوج گیا ہے، میری پلکوں پر گھنا اندھیرا چھا گیا ہے۔3Faمَیں نے ٹانکے لگا کر اپنی جِلد کے ساتھ ٹاٹ کا لباس جوڑ لیا ہے، اپنی شان و شوکت خاک میں ملائی ہے۔E/بار بار وہ میری قلعہ بندی میں رخنہ ڈالتا رہا، پہلوان کی طرح مجھ پر حملہ کرتا رہا۔OD پھر اُس کے تیراندازوں نے مجھے گھیر لیا۔ اُس نے بےرحمی سے میرے گُردوں کو چیر ڈالا، میرا پِت زمین پر اُنڈیل دیا۔oCY مَیں سکون سے زندگی گزار رہا تھا کہ اُس نے مجھے پاش پاش کر دیا، مجھے گلے سے پکڑ کر زمین پر پٹخ دیا۔ اُس نے مجھے اپنا نشانہ بنا لیا، 5u<5&MGکیونکہ تھوڑے ہی سالوں کے بعد مَیں اُس راستے پر روانہ ہو جاؤں گا جس سے واپس نہیں آؤں گا۔ ELمیری آہیں اللہ کے سامنے فانی انسان کے حق میں بات کریں گی، اِس طرح جس طرح کوئی اپنے دوست کے حق میں بات کرے۔Kمیری آہ و زاری میرا ترجمان ہے، مَیں بےخوابی سے اللہ کے انتظار میں رہتا ہوں۔ Jاب بھی میرا گواہ آسمان پر ہے، میرے حق میں گواہی دینے والا بلندیوں پر ہے۔'IIاے زمین، میرے خون کو مت ڈھانپنا! میری آہ و زاری کبھی آرام کی جگہ نہ پائے بلکہ گونجتی رہے۔H لیکن وجہ کیا ہے؟ میرے ہاتھ تو ظلم سے بَری رہے، میری دعا پاک صاف رہی ہے۔ o~AR}وہ اُس آدمی کی مانند ہیں جو اپنے دوستوں کو ضیافت کی دعوت دے، حالانکہ اُس کے اپنے بچے بھوکوں مر رہے ہوں۔Qاُن کے ذہنوں کو تُو نے بند کر دیا، اِس لئے تُو اُن سے عزت نہیں پائے گا۔!P=اے اللہ، میری ضمانت میرے اپنے ہاتھوں سے قبول فرما، کیونکہ اَور کوئی نہیں جو اُسے دے۔>Owمیرے چاروں طرف مذاق ہی مذاق سنائی دیتا، میری آنکھیں لوگوں کا ہٹ دھرم رویہ دیکھتے دیکھتے تھک گئی ہیں۔ N میری روح شکستہ ہو گئی، میرے دن بجھ گئے ہیں۔ قبرستان ہی میرے انتظار میں ہے۔of?flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|lqw} !&,04lqw} !&,049>CINSY_djotz !&*/4:>BGMRW]cipv{   % * 0 5 9=AGLQUZ_ekrw|  !"#$%%+'0(5):*?+D,I-P.V/\0c1i2n4s5v6z789 :;<=># M_ M9Wm لیکن جہاں تک تم سب کا تعلق ہے، آؤ دوبارہ مجھ پر حملہ کرو! مجھے تم میں ایک بھی دانا آدمی نہیں ملے گا۔ V راست باز اپنی راہ پر قائم رہتے، اور جن کے ہاتھ پاک ہیں وہ تقویت پاتے ہیں۔BUیہ دیکھ کر سیدھی راہ پر چلنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور بےگناہ بےدینوں کے خلاف مشتعل ہو جاتے ہیں۔+TQمیری آنکھیں غم کھا کھا کر دُھندلا گئی ہیں، میرے اعضا یہاں تک سوکھ گئے کہ سایہ ہی رہ گیا ہے۔nSWاللہ نے مجھے مذاق کا یوں نشانہ بنایا ہے کہ مَیں قوموں میں عبرت انگیز مثال بن گیا ہوں۔ مجھے دیکھتے ہی لوگ میرے منہ پر تھوکتے ہیں۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gq| 3 3 3 3  3  3  3  3  3 3 3 3 3  3  3  3  3  3 3 3 3 3 3 3 3 3 3  3 3 3 3 3 3 3 3  3  3  3  3  3 3 3 3  3 3 3 3 3 3 3 3  3  3  3  3  3 3 3 3 3 3 3 3 3  3 3 3 3 3 3 3 3  3  3  3  3  3 4 Ks {K]1تب میری اُمید میرے ساتھ پاتال میں اُترے گی، اور ہم مل کر خاک میں دھنس جائیں گے۔“ \تو پھر یہ کیسی اُمید ہو گی؟ کون کہے گا، ’مجھے تیرے لئے اُمید نظر آتی ہے‘؟ [قبر سے کہوں، ’تُو میرا باپ ہے‘ اور کیڑے سے، ’اے میری امی، اے میری بہن‘]Z5 اگر مَیں صرف اِتنی ہی اُمید رکھوں کہ پاتال میرا گھر ہو گا تو یہ کیسی اُمید ہو گی؟ اگر مَیں اپنا بستر تاریکی میں بچھا کرY جن سے رات دن میں بدل گئی اور روشنی اندھیرے کو دُور کر کے قریب آئی تھی۔ X  میرے دن گزر گئے ہیں۔ میرے وہ منصوبے اور دل کی آرزوئیں خاک میں مل گئی ہیں !< cاُس کے خیمے میں روشنی اندھیرا ہو جائے گی، اُس کے اوپر کی شمع بجھ جائے گی۔b یقیناً بےدین کا چراغ بجھ جائے گا، اُس کی آگ کا شعلہ آئندہ نہیں چمکے گا۔aگو تُو آگ بگولا ہو کر اپنے آپ کو پھاڑ رہا ہے، لیکن کیا تیرے باعث زمین کو ویران ہونا چاہئے اور چٹانوں کو اپنی جگہ سے کھسکنا چاہئے؟ ہرگز نہیں!P`تُو ہمیں ڈنگر جیسے احمق کیوں سمجھتا ہے؟_9”تُو کب تک ایسی باتیں کرے گا؟ اِن سے باز آ کر ہوش میں آ! تب ہی ہم صحیح بات کر سکیں گے۔9^ qبلدد سوخی نے جواب دے کر کہا، gr<i' آفت اُسے ہڑپ کر لینا چاہتی ہے، تباہی تیار کھڑی ہے تاکہ اُسے گرتے وقت ہی پکڑ لے۔,hS وہ ایسی چیزوں سے گھرا رہتا ہے جو اُسے قدم بہ قدم دہشت کھلاتی اور اُس کی ناک میں دم کرتی ہیں۔g اُسے پھنسانے کا رسّا زمین میں چھپا ہوا ہے، راستے میں پھندا بچھا ہے۔cfA پھندا اُس کی ایڑی پکڑ لیتا، کمند اُسے جکڑ لیتی ہے۔ eاُس کے اپنے پاؤں اُسے جال میں پھنسا دیتے ہیں، وہ دام پر ہی چلتا پھرتا ہے۔d%اُس کے لمبے قدم رُک رُک کر آگے بڑھیں گے، اور اُس کا اپنا منصوبہ اُسے پٹخ دے گا۔ oE?p)قوم میں اُس کی نہ اولاد نہ نسل رہے گی، جہاں پہلے رہتا تھا وہاں کوئی نہیں بچے گا۔ o اُسے روشنی سے تاریکی میں دھکیلا جاتا، دنیا سے بھگا کر خارج کیا جاتا ہے۔nزمین پر سے اُس کی یاد مٹ جاتی ہے، کہیں بھی اُس کا نام و نشان نہیں رہتا۔ymmنیچے اُس کی جڑیں سوکھ جاتی، اوپر اُس کی شاخیں مُرجھا جاتی ہیں۔pl[اُس کے خیمے میں آگ بستی، اُس کے گھر پر گندھک بکھر جاتی ہے۔3kaاُسے اُس کے خیمے کی حفاظت سے چھین لیا جاتا اور گھسیٹ کر دہشتوں کے بادشاہ کے سامنے لایا جاتا ہے۔ j بیماری اُس کی جِلد کو کھا جاتی، موت کا پہلوٹھا اُس کے اعضا کو نگل لیتا ہے۔ @M v;اگر یہ بات صحیح بھی ہو کہ مَیں غلط راہ پر آ گیا ہوں تو مجھے ہی اِس کا نتیجہ بھگتنا ہے۔uاب تم نے دس بار مجھے ملامت کی ہے، تم نے شرم کئے بغیر میرے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔t/”تم کب تک مجھ پر تشدد کرنا چاہتے ہو، کب تک مجھے الفاظ سے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہو؟2s cتب ایوب نے جواب میں کہا،r یہی ہے بےدین کے گھر کا انجام، اُسی کے مقام کا جو اللہ کو نہیں جانتا۔“ IT_ju$/:EP[fq| 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4  4 4 4 4 4 4 4 4  4  4  4  4  4 4 4 4 4 4! 4" 4# 4$ 4% 4& 4' 4( 4) 4* 4+ 4,  4- 4. 4/ 40 41 42 43 44  45  46  47  48  49 4: 4; 4< 4= 4> 4? 4@ 4A 4B 4C 4D 4E 4F t?%yجوں ہی اُسے کثرت کی چیزیں حاصل ہوں گی وہ مصیبت میں پھنس جائے گا۔ تب دُکھ درد کا پورا زور اُس پر آئے گا۔$)جب وہ کھانا کھاتا ہے تو کچھ نہیں بچتا، اِس لئے اُس کی خوش حالی قائم نہیں رہے گی۔!#=اُس نے پیٹ میں کبھی سکون محسوس نہیں کیا بلکہ جو کچھ بھی چاہتا تھا اُسے بچنے نہیں دیا۔`";کیونکہ اُس نے پست حالوں پر ظلم کر کے اُنہیں ترک کیا ہے، اُس نے ایسے گھروں کو چھین لیا ہے جنہیں اُس نے تعمیر نہیں کیا تھا۔!yجو کچھ اُس نے حاصل کیا اُسے وہ ہضم نہیں کرے گا بلکہ سب کچھ واپس کرے گا۔ جو دولت اُس نے اپنے کاروبار سے کمائی اُس سے وہ لطف نہیں اُٹھائے گا۔ @O@*)آسمان اُسے مجرم ٹھہرائے گا، زمین اُس کے خلاف گواہی دینے کے لئے کھڑی ہو جائے گی۔)9گہری تاریکی اُس کے خزانوں کی تاک میں بیٹھی رہے گی۔ ایسی آگ جو انسانوں نے نہیں لگائی اُسے بھسم کرے گی۔ اُس کے خیمے کے جتنے لوگ بچ نکلے اُنہیں وہ کھا جائے گی۔E(جب وہ اُسے اپنی پیٹھ سے نکالے تو تیر کی نوک اُس کے کلیجے میں سے نکلے گی۔ اُسے دہشت ناک واقعات پیش آئیں گے۔'گو وہ لوہے کے ہتھیار سے بھاگ جائے، لیکن پیتل کا تیر اُسے چیر ڈالے گا۔-&Uکاش اللہ بےدین کا پیٹ بھر کر اپنا بھڑکتا قہر اُس پر نازل کرے، کاش وہ اپنا غضب اُس پر برسائے۔ a!w60gکیا مَیں کسی انسان سے احتجاج کر رہا ہوں؟ ہرگز نہیں! تو پھر کیا عجب کہ میری روح اِتنی تنگ آ گئی ہے۔&/Gجب تک مَیں اپنی بات پیش نہ کروں مجھے برداشت کرو، اِس کے بعد اگر چاہو تو میرا مذاق اُڑاؤ۔d.C”دھیان سے میرے الفاظ سنو! یہی کرنے سے مجھے تسلی دو!4- gپھر ایوب نے جواب میں کہا،,7یہ ہے وہ اجر جو اللہ بےدینوں کو دے گا، وہ وراثت جسے اللہ نے اُن کے لئے مقرر کی ہے۔“ +1سیلاب اُس کا گھر اُڑا لے جائے گا، غضب کے دن شدت سے بہتا ہوا پانی اُس پر سے گزرے گا۔ SO`S55 اُن کے گھر محفوظ ہیں۔ نہ کوئی چیز اُنہیں ڈراتی، نہ اللہ کی سزا اُن پر نازل ہوتی ہے۔+4Qاُن کے بچے اُن کے سامنے قائم ہو جاتے، اُن کی اولاد اُن کی آنکھوں کے سامنے مضبوط ہو جاتی ہے۔93mخیال یہ ہے کہ بےدین کیوں جیتے رہتے ہیں؟ نہ صرف وہ عمر رسیدہ ہو جاتے بلکہ اُن کی طاقت بڑھتی رہتی ہے۔k2Qجب کبھی مجھے وہ خیال یاد آتا ہے جو مَیں پیش کرنا چاہتا ہوں تو مَیں دہشت زدہ ہو جاتا ہوں، میرے جسم پر تھرتھراہٹ طاری ہو جاتی ہے۔-1Uمجھ پر نظر ڈالو تو تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور تم حیرانی سے اپنا ہاتھ منہ پر رکھو گے۔ ),F9 اُن کی زندگی خوش حال رہتی ہے، وہ ہر دن سے پورا لطف اُٹھاتے اور آخرکار بڑے سکون سے پاتال میں اُتر جاتے ہیں۔89 وہ دف اور سرود بجا کر گیت گاتے اور بانسری کی سُریلی آواز نکال کر اپنا دل بہلاتے ہیں۔y7m وہ اپنے بچوں کو باہر کھیلنے کے لئے بھیجتے ہیں تو وہ بھیڑبکریوں کے ریوڑ کی طرح گھر سے نکلتے ہیں۔ اُن کے لڑکے کودتے پھاندتے نظر آتے ہیں۔S6! اُن کا سانڈ نسل بڑھانے میں کبھی ناکام نہیں ہوتا، اُن کی گائے وقت پر جنم دیتی، اور اُس کے بچے کبھی ضائع نہیں ہوتے۔ O!==ایسا لگتا ہے کہ بےدینوں کا چراغ کبھی نہیں بجھتا۔ کیا اُن پر کبھی مصیبت آتی ہے؟ کیا اللہ کبھی قہر میں آ کر اُن پر وہ تباہی نازل کرتا ہے جو اُن کا مناسب حصہ ہے؟7<iکیا اُن کی خوش حالی اُن کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتی؟ کیا بےدینوں کے منصوبے اللہ سے دُور نہیں رہتے؟;5قادرِ مطلق کون ہے کہ ہم اُس کی خدمت کریں؟ اُس سے دعا کرنے سے ہمیں کیا فائدہ ہو گا؟‘-:Uاور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ سے کہتے ہیں، ’ہم سے دُور ہو جا، ہم تیری راہوں کو جاننا نہیں چاہتے۔ sLsUA%کیونکہ جب اُس کی زندگی کے مقررہ دن اختتام تک پہنچیں تو اُسے کیا پروا ہو گی کہ میرے بعد گھر والوں کے ساتھ کیا ہو گا۔@5اُس کی اپنی ہی آنکھیں اُس کی تباہی دیکھیں، وہ خود قادرِ مطلق کے غضب کا پیالہ پی لے۔-?Uشاید تم کہو، ’اللہ اُنہیں سزا دینے کے بجائے اُن کے بچوں کو سزا دے گا۔‘ لیکن مَیں کہتا ہوں کہ اُسے باپ کو ہی سزا دینی چاہئے تاکہ وہ اپنے گناہوں کا نتیجہ خوب جان لے۔^>7کیا ہَوا کے جھونکے کبھی اُنہیں بھوسے کی طرح اور آندھی کبھی اُنہیں تُوڑی کی طرح اُڑا لے جاتی ہے؟ افسوس، ایسا نہیں ہوتا۔ V])V!G=سنو، مَیں تمہارے خیالات اور اُن سازشوں سے واقف ہوں جن سے تم مجھ پر ظلم کرنا چاہتے ہو۔Fاب دونوں مل کر خاک میں پڑے رہتے ہیں، دونوں کیڑے مکوڑوں سے ڈھانپے رہتے ہیں۔E+دوسرا شخص شکستہ حالت میں مر جاتا ہے اور اُسے کبھی خوش حالی کا لطف نصیب نہیں ہوا۔~Dwاُس کے برتن دودھ سے بھرے رہے، اُس کی ہڈیوں کا گُودا تر و تازہ رہا۔/CYایک شخص وفات پاتے وقت خوب تن درست ہوتا ہے۔ جیتے جی وہ بڑے سکون اور اطمینان سے زندگی گزار سکا۔B9لیکن کون اللہ کو علم سکھا سکتا ہے؟ وہ تو بلندیوں پر رہنے والوں کی بھی عدالت کرتا ہے۔ cdc.LW لوگ اُس کے جنازے میں شریک ہو کر اُسے قبر تک لے جاتے ہیں۔ اُس کی قبر پر چوکیدار لگایا جاتا ہے۔0K[کون اُس کے رُوبرُو اُس کے چال چلن کی ملامت کرتا، کون اُسے اُس کے غلط کام کا مناسب اجر دیتا ہے؟J)کہ آفت کے دن شریر کو صحیح سلامت چھوڑا جاتا ہے، کہ غضب کے دن اُسے رِہائی ملتی ہے۔)IMلیکن اُن سے پوچھ لو جو اِدھر اُدھر سفر کرتے رہتے ہیں۔ تمہیں اُن کی گواہی تسلیم کرنی چاہئےkHQکیونکہ تم کہتے ہو، ’رئیس کا گھر کہاں ہے؟ وہ خیمہ کدھر گیا جس میں بےدین بستے تھے؟ وہ اپنے گناہوں کے سبب سے ہی تباہ ہو گئے ہیں۔‘ j.m jj|Qsاگر تُو راست باز ہو بھی تو کیا وہ اِس سے اپنے لئے نفع اُٹھا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! اگر تُو بےالزام زندگی گزارے تو کیا اُسے کچھ حاصل ہوتا ہے؟2P_”کیا اللہ انسان سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! اُس کے لئے دانش مند بھی فائدے کا باعث نہیں۔JO پھر اِلی فز تیمانی نے جواب دے کر کہا،=Nu"چنانچہ تم مجھے عبث باتوں سے کیوں تسلی دے رہے ہو؟ تمہارے جوابوں میں تمہاری بےوفائی ہی نظر آتی ہیں۔“ NM!وادی کی مٹی کے ڈھیلے اُسے میٹھے لگتے ہیں۔ جنازے کے پیچھے پیچھے تمام دنیا، اُس کے آگے آگے اَن گنت ہجوم چلتا ہے۔ !.UWتُو نے تھکے ماندوں کو پانی پلانے سے اور بھوکے مرنے والوں کو کھانا کھلانے سے انکار کیا ہو گا۔0T[جب تیرے بھائیوں نے تجھ سے قرض لیا تو تُو نے بلاوجہ وہ چیزیں اپنا لی ہوں گی جو اُنہوں نے تجھے ضمانت کے طور پر دی تھیں، تُو نے اُنہیں اُن کے کپڑوں سے محروم کر دیا ہو گا۔cSAنہیں، وجہ تیری بڑی بدکاری، تیرے لامحدود گناہ ہیں۔[R1اللہ تجھے تیری خدا ترس زندگی کے سبب سے ملامت نہیں کر رہا۔ یہ نہ سوچ کہ وہ اِسی لئے عدالت میں تجھ سے جواب طلب کر رہا ہے۔ 7XCZ کیا اللہ آسمان کی بلندیوں پر نہیں ہوتا؟ وہ تو ستاروں پر نظر ڈالتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی اونچے کیوں نہ ہوں۔3Ya یہی وجہ ہے کہ تجھ پر ایسا اندھیرا چھا گیا ہے کہ تُو دیکھ نہیں سکتا، کہ سیلاب نے تجھے ڈبو دیا ہے۔X# اِسی لئے تُو پھندوں سے گھرا رہتا ہے، اچانک ہی تجھے دہشت ناک واقعات ڈراتے ہیں۔ W تُو نے بیواؤں کو خالی ہاتھ موڑ دیا ہو گا، یتیموں کی طاقت پاش پاش کی ہو گی۔EVبےشک تیرا رویہ اِس خیال پر مبنی تھا کہ پورا ملک طاقت وروں کی ملکیت ہے، کہ صرف بڑے لوگ اُس میں رہ سکتے ہیں۔ Qy,_Sاُنہوں نے اللہ سے کہا، ’ہم سے دُور ہو جا،‘ اور ’قادرِ مطلق ہمارے لئے کیا کچھ کر سکتا ہے؟‘^-وہ تو اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہی سکڑ گئے، اُن کی بنیادیں سیلاب سے ہی اُڑا لی گئیں۔|]sکیا تُو اُس قدیم راہ سے باز نہیں آئے گا جس پر بدکار چلتے رہے ہیں؟8\kوہ گھنے بادلوں میں چھپا رہتا ہے، اِس لئے جب وہ آسمان کے گنبد پر چلتا ہے تو اُسے کچھ نظر نہیں آتا۔‘+[Q توبھی تُو کہتا ہے، ’اللہ کیا جانتا ہے؟ کیا وہ کالے بادلوں میں سے دیکھ کر عدالت کر سکتا ہے؟ A)oA*eOاگر تُو قادرِ مطلق کے پاس واپس آئے تو بحال ہو جائے گا، اور تیرے خیمے سے بدی دُور ہی رہے گی۔}duاللہ کے منہ کی ہدایت اپنا لے، اُس کے فرمان اپنے دل میں محفوظ رکھ۔cاے ایوب، اللہ سے صلح کر کے سلامتی حاصل کر، تب ہی تُو خوش حالی پائے گا۔b+’لو، یہ دیکھو، اُن کی جائیداد کس طرح مٹ گئی، اُن کی دولت کس طرح بھسم ہو گئی ہے!‘aراست باز اُن کی تباہی دیکھ کر خوش ہوئے، بےقصوروں نے اُن کی ہنسی اُڑا کر کہا،S`!لیکن اللہ ہی نے اُن کے گھروں کو بھرپور خوش حالی سے نوازا، گو بےدینوں کے بُرے منصوبے اُس سے دُور ہی دُور رہتے ہیں۔ E  "-8CNYcny)4?JU`kv%0;FQ\fq| 4H 4I 4J 4K  4L !4M "4N  4O 4P 4H 4I 4J 4K  4L !4M "4N  4O 4P 4Q 4R 4S 4T 4U 4V  4W  4X  4Y  4Z  4[ 4\ 4] 4^ 4_ 4` 4a 4b 4c 4d 4e 4f 4g 4h 4i 4j 4k 4l  4m 4n 4o 4p 4q 4r 4s 4t  4u  4v  4w  4x  4y 4z 4{ 4| 4}  4~ 4 4 4 4 4 4 4  4  4  4  4  4 4 4 {v^ {!k=کیونکہ جو شیخی بھگارتا ہے اُسے اللہ پست کرتا جبکہ جو پست حال ہے اُسے وہ نجات دیتا ہے۔*jOجو کچھ بھی تُو کرنے کا ارادہ رکھے اُس میں تجھے کامیابی ہو گی، تیری راہوں پر روشنی چمکے گی۔ iتُو اُس سے التجا کرے گا تو وہ تیری سنے گا اور تُو اپنی مَنتیں بڑھا سکے گا۔hتب تُو قادرِ مطلق سے لطف اندوز ہو گا اور اللہ کے حضور اپنا سر اُٹھا سکے گا۔gتو قادرِ مطلق خود تیرا سونا ہو گا، وہی تیرے لئے چاندی کا ڈھیر ہو گا۔fسونے کو خاک کے برابر، اوفیر کا خالص سونا وادی کے پتھر کے برابر سمجھ لے )i9U) r;کیا وہ اپنی عظیم قوت مجھ سے لڑنے پر صَرف کرتا؟ ہرگز نہیں! وہ یقیناً مجھ پر توجہ دیتا۔qتب مجھے اُس کے جوابوں کا پتا چلتا، مَیں اُس کے بیانات پر غور کر سکتا۔$pCپھر مَیں اپنا معاملہ ترتیب وار اُس کے سامنے پیش کرتا، مَیں اپنا منہ دلائل سے بھر لیتا۔o}کاش مَیں اُسے پانے کا علم رکھوں تاکہ اُس کی سکونت گاہ تک پہنچ سکوں۔3na”بےشک آج میری شکایت سرکشی کا اظہار ہے، حالانکہ مَیں اپنی آہوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہوں۔-m Yایوب نے جواب میں کہا،l!وہ بےقصور کو چھڑاتا ہے، چنانچہ اگر تیرے ہاتھ پاک ہوں تو وہ تجھے چھڑائے گا۔“ 6T69wm میرے قدم اُس کی راہ میں رہے ہیں، مَیں راہ سے نہ بائیں، نہ دائیں طرف ہٹا بلکہ سیدھا اُس پر چلتا رہا۔'vI کیونکہ وہ میری راہ کو جانتا ہے۔ اگر وہ میری جانچ پڑتال کرتا تو مَیں خالص سونا ثابت ہوتا۔2u_ شمال میں اُسے ڈھونڈوں تو وہ دکھائی نہیں دیتا، جنوب کی طرف رُخ کروں تو وہاں بھی پوشیدہ رہتا ہے۔>twلیکن افسوس، اگر مَیں مشرق کی طرف جاؤں تو وہ وہاں نہیں ہوتا، مغرب کی جانب بڑھوں تو وہاں بھی نہیں ملتا۔fsGاگر مَیں وہاں اُس کے حضور آ سکتا تو دیانت دار آدمی کی طرح اُس کے ساتھ مقدمہ لڑتا۔ تب مَیں ہمیشہ کے لئے اپنے منصف سے بچ نکلتا! C|اللہ نے خود مجھے شکستہ دل کیا، قادرِ مطلق ہی نے مجھے دہشت کھلائی ہے۔0{[اِسی لئے مَیں اُس کے حضور دہشت زدہ ہوں۔ جب بھی مَیں اِن باتوں پر دھیان دوں تو اُس سے ڈرتا ہوں۔Mzجو بھی منصوبہ اُس نے میرے لئے باندھا اُسے وہ ضرور پورا کرے گا۔ اور اُس کے ذہن میں مزید بہت سے ایسے منصوبے ہیں۔#yA اگر وہ فیصلہ کرے تو کون اُسے روک سکتا ہے؟ جو کچھ بھی وہ کرنا چاہے اُسے عمل میں لاتا ہے۔9xm مَیں اُس کے ہونٹوں کے فرمان سے باز نہیں آیا بلکہ اپنے دل میں ہی اُس کے منہ کی باتیں محفوظ رکھی ہیں۔ RBR"?وہ ضرورت مندوں کو راستے سے ہٹاتے ہیں، چنانچہ ملک کے غریبوں کو سراسر چھپ جانا پڑتا ہے۔Oوہ یتیموں کا گدھا ہانک کر لے جاتے اور اِس شرط پر بیوہ کو قرض دیتے ہیں کہ وہ اُنہیں ضمانت کے طور پر اپنا بَیل دے۔?yبےدین اپنی زمینوں کی حدود کو آگے پیچھے کرتے اور دوسروں کے ریوڑ لُوٹ کر اپنی چراگاہوں میں لے جاتے ہیں۔0~ ]قادرِ مطلق عدالت کے اوقات کیوں نہیں مقرر کرتا؟ جو اُسے جانتے ہیں وہ ایسے دن کیوں نہیں دیکھتے؟:}oکیونکہ نہ مَیں تاریکی سے تباہ ہو رہا ہوں، نہ اِس لئے کہ گھنے اندھیرے نے میرے چہرے کو ڈھانپ دیا ہے۔ !!&Gپہاڑوں کی بارش سے وہ بھیگ جاتے اور پناہ گاہ نہ ہونے کے باعث پتھروں کے ساتھ لپٹ جاتے ہیں۔4cکپڑوں سے محروم رہ کر وہ رات کو برہنہ حالت میں گزارتے ہیں۔ سردی میں اُن کے پاس کمبل تک نہیں ہوتا۔ ;جو کھیت اُن کے اپنے نہیں ہیں اُن میں وہ فصل کاٹتے ہیں، اور بےدینوں کے انگور کے باغوں میں جا کر وہ دو چار انگور چن لیتے ہیں جو فصل چننے کے بعد باقی رہ گئے تھے۔U%ضرورت مند بیابان میں جنگلی گدھوں کی طرح کام کرنے کے لئے نکلتے ہیں۔ خوراک کا کھوج لگا لگا کر وہ اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے ہیں بلکہ ریگستان ہی اُنہیں اُن کے بچوں کے لئے کھانا مہیا کرتا ہے۔ >A} زیتون کے جو درخت بےدینوں نے صف در صف لگائے تھے اُن کے درمیان غریب زیتون کا تیل نکالتے ہیں۔ پیاسی حالت میں وہ شریروں کے حوضوں میں انگور کو پاؤں تلے کچل کر اُس کا رس نکالتے ہیں۔0[ غریب برہنہ حالت میں اور کپڑے پہنے بغیر پھرتے ہیں، وہ بھوکے ہوتے ہوئے پُولے اُٹھائے چلتے ہیں۔  بےدین باپ سے محروم بچے کو ماں کی گود سے چھین لیتے ہیں بلکہ اِس شرط پر مصیبت زدہ کو قرض دیتے ہیں کہ وہ اُنہیں ضمانت کے طور پر اپنا شیرخوار بچہ دے۔ O زناکار کی آنکھیں شام کے دُھندلکے کے انتظار میں رہتی ہیں، یہ سوچ کر کہ اُس وقت مَیں کسی کو نظر نہیں آؤں گا۔ نکلتے وقت وہ اپنے منہ کو ڈھانپ لیتا ہے۔* Oصبح سویرے قاتل اُٹھتا ہے تاکہ مصیبت زدہ اور ضرورت مند کو قتل کرے۔ رات کو چور چکر کاٹتا ہے۔> w یہ بےدین اُن میں سے ہیں جو نور سے سرکش ہو گئے ہیں۔ نہ وہ اُس کی راہوں سے واقف ہیں، نہ اُن میں رہتے ہیں۔k Q شہر سے مرنے والوں کی آہیں نکلتی ہیں اور زخمی لوگ مدد کے لئے چیختے چلّاتے ہیں۔ اِس کے باوجود اللہ کسی کو بھی مجرم نہیں ٹھہراتا۔ $t5eجس طرح کال اور جُھلستی گرمی برف کا پانی چھین لیتی ہیں اُسی طرح پاتال گناہ گاروں کو چھین لیتا ہے۔Y-لیکن بےدین پانی کی سطح پر جھاگ ہیں، ملک میں اُن کا حصہ ملعون ہے اور اُن کے انگور کے باغوں کی طرف کوئی رجوع نہیں کرتا۔,Sگہری تاریکی ہی اُن کی صبح ہوتی ہے، کیونکہ اُن کی گھنے اندھیرے کی دہشتوں سے دوستی ہو گئی ہے۔X +ڈاکو اندھیرے میں گھروں میں نقب لگاتے جبکہ دن کے وقت وہ چھپ کر اپنے پیچھے کنڈی لگا لیتے ہیں۔ نور کو وہ جانتے ہی نہیں۔ ;qاللہ اُنہیں حفاظت سے آرام کرنے دیتا ہے، لیکن اُس کی آنکھیں اُن کی راہوں کی پہرہ داری کرتی رہتی ہیں۔^7لیکن اللہ زبردستوں کو اپنی قدرت سے گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔ وہ مضبوطی سے کھڑے بھی ہوں توبھی کوئی یقین نہیں کہ زندہ رہیں گے۔mUبےدین بانجھ عورت پر ظلم اور بیواؤں سے بدسلوکی کرتے ہیں،]5ماں کا رِحم اُنہیں بھول جاتا، کیڑا اُنہیں چوس لیتا اور اُن کی یاد جاتی رہتی ہے۔ یقیناً بےدینی لکڑی کی طرح ٹوٹ جاتی ہے۔ 1 کیا کوئی اُس کے دستوں کی تعداد گن سکتا ہے؟ اُس کا نور کس پر نہیں چمکتا؟ ”اللہ کی حکومت دہشت ناک ہے۔ وہی اپنی بلندیوں پر سلامتی قائم رکھتا ہے۔@ پھر بلدد سوخی نے جواب دے کر کہا،Kکیا ایسا نہیں ہے؟ اگر کوئی متفق نہیں تو وہ ثابت کرے کہ مَیں غلطی پر ہوں، وہ دکھائے کہ میرے دلائل باطل ہیں۔“ .Wلمحہ بھر کے لئے وہ سرفراز ہوتے، لیکن پھر نیست و نابود ہو جاتے ہیں۔ اُنہیں خاک میں ملا کر سب کی طرح جمع کیا جاتا ہے، وہ گندم کی کٹی ہوئی بالوں کی طرح مُرجھا جاتے ہیں۔ }/2@}?yتُو نے اُسے کتنے اچھے مشورے دیئے جو حکمت سے محروم ہے، اپنی سمجھ کی کتنی گہری باتیں اُس پر ظاہر کی ہیں۔;q”واہ جی واہ! تُو نے کیا خوب اُسے سہارا دیا جو بےبس ہے، کیا خوب اُس بازو کو مضبوط کر دیا جو بےطاقت ہے!0 _ایوب نے جواب دے کر کہا،تو پھر انسان کس طرح پاک ٹھہر سکتا ہے جو کیڑا ہی ہے؟ آدم زاد تو مکوڑا ہی ہے۔“ dCاُس کی نظر میں نہ چاند پُرنور ہے، نہ ستارے پاک ہیں۔Mتو پھر انسان اللہ کے سامنے کس طرح راست باز ٹھہر سکتا ہے؟ جو عورت سے پیدا ہوا وہ کس طرح پاک صاف ثابت ہو سکتا ہے؟ ,Dv%,y%m اُس نے اپنا تخت نظروں سے چھپا کر اپنا بادل اُس پر چھا جانے دیا۔z$oاُس نے اپنے بادلوں میں پانی لپیٹ لیا، لیکن وہ بوجھ تلے نہ پھٹے۔R#اللہ ہی نے شمال کو ویران و سنسان جگہ کے اوپر تان لیا، اُسی نے زمین کو یوں لگا دیا کہ وہ کسی بھی چیز سے نہیں لٹکتی۔x"kہاں، اُس کے سامنے پاتال برہنہ اور اُس کی گہرائیاں بےنقاب ہیں۔J!اللہ کے سامنے وہ تمام مُردہ ارواح جو پانی اور اُس میں رہنے والوں کے نیچے بستی ہیں ڈر کے مارے تڑپ اُٹھتی ہیں۔8 kتُو نے کس کی مدد سے یہ کچھ پیش کیا ہے؟ کس نے تیری روح میں وہ باتیں ڈالیں جو تیرے منہ سے نکل آئی ہیں؟ mX^?+ }پھر ایوب نے اپنی بات جاری رکھی،[*1لیکن ایسے کام اُس کی راہوں کے کنارے پر ہی کئے جاتے ہیں۔ جو کچھ ہم اُس کے بارے میں سنتے ہیں وہ دھیمی دھیمی آواز سے ہمارے کان تک پہنچتا ہے۔ تو پھر کون اُس کی قدرت کی کڑکتی آواز سمجھ سکتا ہے؟“ )) اُس کے روح نے آسمان کو صاف کیا، اُس کے ہاتھ نے فرار ہونے والے سانپ کو چھید ڈالا۔(5 اپنی قدرت سے اللہ نے سمندر کو تھما دیا، اپنی حکمت سے رہب اژدہے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔q'] آسمان کے ستون لرز اُٹھے۔ اُس کی دھمکی پر وہ دہشت زدہ ہوئے۔& اُس نے پانی کی سطح پر دائرہ بنایا جو روشنی اور اندھیرے کے درمیان حد بن گیا۔ E  #.9DOZepz)4?JT_ju%0;FP[fq| 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4  4 4 4 4 4 4  4 4 4 4 4 4 4 4  4  4  4  4  4 4  4 4 4 4 4 4 4 4  4  4  4  4  4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4  4 4 4 4 4 4 4 4  4  4  4  4  4 4 4 4 4 4Ri0Mمَیں اصرار کرتا ہوں کہ راست باز ہوں اور اِس سے کبھی باز نہیں آؤں گا۔ میرا دل میرے کسی بھی دن کے بارے میں مجھے ملامت نہیں کرتا۔L/مَیں کبھی تسلیم نہیں کروں گا کہ تمہاری بات درست ہے۔ مَیں بےالزام ہوں اور مرتے دم تک اِس کے اُلٹ نہیں کہوں گا۔{.qمیرے ہونٹ جھوٹ نہیں بولیں گے، میری زبان دھوکا بیان نہیں کرے گی۔a-=میرے جیتے جی، ہاں جب تک اللہ کا دم میری ناک میں ہےH, ”اللہ کی حیات کی قَسم جس نے میرا انصاف کرنے سے انکار کیا، قادرِ مطلق کی قَسم جس نے میری زندگی تلخ کر دی ہے، a)a15] اب مَیں تمہیں اللہ کی قدرت کے بارے میں تعلیم دوں گا، قادرِ مطلق کا ارادہ تم سے نہیں چھپاؤں گا۔4} یا کیا وہ قادرِ مطلق سے لطف اندوز ہو گا اور ہر وقت اللہ کو پکارے گا؟ 3 کیا اللہ اُس کی چیخیں سنے گا جب وہ مصیبت میں پھنس کر مدد کے لئے پکارے گا؟X2+کیونکہ اُس وقت شریر کی کیا اُمید رہے گی جب اُسے اِس زندگی سے منقطع کیا جائے گا، جب اللہ اُس کی جان اُس سے طلب کرے گا؟w1iاللہ کرے کہ میرے دشمن کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو بےدینوں کے ساتھ کیا جائے گا، کہ میرے مخالف کا وہ انجام ہو جو بدکاروں کو پیش آئے گا۔ e%d:5بےشک وہ خاک کی طرح چاندی کا ڈھیر لگائے اور مٹی کی طرح نفیس کپڑوں کا تودہ اکٹھا کرے،=9uجو بچ جائیں اُنہیں مہلک بیماری سے قبر میں پہنچایا جائے گا، اور اُن کی بیوائیں ماتم نہیں کر پائیں گی۔+8Qگو اُس کے بچے متعدد ہوں، لیکن آخرکار وہ تلوار کی زد میں آئیں گے۔ اُس کی اولاد بھوکی رہے گی۔ 7 بےدین اللہ سے کیا اجر پائے گا، ظالم کو قادرِ مطلق سے میراث میں کیا ملے گا؟6) دیکھو، تم سب نے اِس کا مشاہدہ کیا ہے۔ تو پھر اِس قسم کی باطل باتیں کیوں کرتے ہو؟ =w+?!مشرقی لُو اُسے اُڑا لے جاتی، اُسے اُٹھا کر اُس کے مقام سے دُور پھینک دیتی ہے۔>اُس پر ہول ناک واقعات کا سیلاب ٹوٹ پڑتا، اُسے رات کے وقت آندھی چھین لیتی ہے۔3=aوہ امیر حالت میں سو جاتا ہے، لیکن آخری دفعہ۔ جب اپنی آنکھیں کھول لیتا تو تمام دولت جاتی رہی ہے۔B<جو گھر بےدین بنا لے وہ گھونسلے کی مانند ہے، اُس عارضی جھونپڑی کی مانند جو چوکیدار اپنے لئے بنا لیتا ہے۔?;yلیکن جو کپڑے وہ جمع کرے اُنہیں راست باز پہن لے گا، اور جو چاندی وہ اکٹھی کرے اُسے بےقصور تقسیم کرے گا۔ mRZD/انسان اندھیرے کو ختم کر کے زمین کی گہری گہری جگہوں تک کچی دھات کا کھوج لگاتا ہے، خواہ وہ کتنے اندھیرے میں کیوں نہ ہو۔~Cwلوہا زمین سے نکالا جاتا اور لوگ پتھر پگھلا کر تانبا بنا لیتے ہیں۔ B یقیناً چاندی کی کانیں ہوتی ہیں اور ایسی جگہیں جہاں سونا خالص کیا جاتا ہے۔A وہ تالیاں بجا کر اپنی حقارت کا اظہار کرتی، اپنی جگہ سے آوازے کستی ہے۔ @بےرحمی سے وہ اُس پر یوں جھپٹا مارتی رہتی ہے کہ اُسے بار بار بھاگنا پڑتا ہے۔ 3*3AI}جنگل کے رُعب دار جانوروں میں سے کوئی بھی اِن راہوں پر نہیں چلا، کسی بھی شیرببر نے اِن پر قدم نہیں رکھا۔H7یہ ایسے راستے ہیں جو کوئی بھی شکاری پرندہ نہیں جانتا، جو کسی بھی باز نے نہیں دیکھا۔ Gپتھروں سے سنگِ لاجورد نکالا جاتا ہے جس میں سونے کے ذرے بھی پائے جاتے ہیں۔;Fqزمین کی سطح پر خوراک پیدا ہوتی ہے جبکہ اُس کی گہرائیاں یوں تبدیل ہو جاتی ہیں جیسے اُس میں آگ لگی ہو۔E!ایک اجنبی قوم سرنگ لگاتی ہے۔ جب رسّوں سے لٹکے ہوئے کام کرتے اور انسانوں سے دُور کان میں جھومتے ہیں تو زمین پر گزرنے والوں کو اُن کی یاد ہی نہیں رہتی۔ x8xdPCحکمت کو نہ خالص سونے، نہ چاندی سے خریدا جا سکتا ہے۔7Oiسمندر کہتا ہے، ’حکمت میرے پاس نہیں ہے،‘ اور اُس کی گہرائیاں بیان کرتی ہیں، ’یہاں بھی نہیں ہے۔‘N/ انسان اُس تک جانے والی راہ نہیں جانتا، کیونکہ اُسے ملکِ حیات میں پایا نہیں جاتا۔cMA لیکن حکمت کہاں پائی جاتی ہے، سمجھ کہاں سے ملتی ہے؟zLo اور زمین دوز ندیوں کو بند کر کے پوشیدہ چیزیں روشنی میں لاتا ہے۔gKI وہ پتھر میں سرنگ لگا کر ہر قسم کی قیمتی چیز دیکھ لیتاxJk انسان سنگِ چقماق پر ہاتھ لگا کر پہاڑوں کو جڑ سے اُلٹا دیتا ہے۔ `i}Vuوہ تمام جانداروں سے پوشیدہ رہتی بلکہ پرندوں سے بھی چھپی رہتی ہے۔TU#حکمت کہاں سے آتی، سمجھ کہاں سے مل سکتی ہے؟&TGایتھوپیا کا زبرجد اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اُسے خالص سونے کے لئے خریدا نہیں جا سکتا۔,SSاُس کی نسبت مونگا اور بلور کی کیا قدر ہے؟ حکمت سے بھری تھیلی موتیوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔R-سونا اور شیشہ اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتے، نہ وہ سونے کے زیورات کے عوض مل سکتی ہے۔Q3اُسے پانے کے لئے نہ اوفیر کا سونا، نہ بیش قیمت عقیقِ احمر یا سنگِ لاجورد کافی ہیں۔ I[CIK\اُسی وقت اُس نے حکمت کو دیکھ کر اُس کی جانچ پڑتال کی۔ اُس نے اُسے قائم بھی کیا اور اُس کی تہہ تک تحقیق بھی کی۔[+اُسی نے بارش کے لئے فرمان جاری کیا اور بادل کی کڑکتی بجلی کے لئے راستہ تیار کیا۔ Zتاکہ ہَوا کا وزن مقرر کرے اور پانی کی پیمائش کر کے اُس کی حدود متعین کرے۔Yyکیونکہ اُسی نے زمین کی حدود تک دیکھا، آسمان تلے سب کچھ پر نظر ڈالیXلیکن اللہ اُس تک جانے والی راہ کو جانتا ہے، اُسے معلوم ہے کہ کہاں مل سکتی ہے۔!W=پاتال اور موت اُس کے بارے میں کہتے ہیں، ’ہم نے اُس کے بارے میں صرف افواہیں سنی ہیں۔‘ Mv8c9کثرت کے باعث میرے قدم دہی سے دھوئے رہتے اور چٹان سے تیل کی ندیاں پھوٹ کر نکلتی تھیں۔{bqقادرِ مطلق میرے ساتھ تھا، اور مَیں اپنے بیٹوں سے گھرا رہتا تھا۔a اُس وقت میری جوانی عروج پر تھی اور میرا خیمہ اللہ کے سائے میں رہتا تھا۔.`Wجب اُس کی شمع میرے سر کے اوپر چمکتی رہی اور مَیں اُس کی روشنی کی مدد سے اندھیرے میں چلتا تھا۔ _”کاش مَیں دوبارہ ماضی کے وہ دن گزار سکوں جب اللہ میری دیکھ بھال کرتا تھا،C^ ایوب نے اپنی بات جاری رکھ کر کہا،/]Yانسان سے اُس نے کہا، ’سنو، اللہ کا خوف ماننا ہی حکمت اور بُرائی سے دُور رہنا ہی سمجھ ہے‘۔“ |(k#iA کیونکہ جو مصیبت میں آ کر آواز دیتا اُسے مَیں بچاتا، بےسہارا یتیم کو چھٹکارا دیتا تھا۔9hm جس کان نے میری باتیں سنیں اُس نے مجھے مبارک کہا، جس آنکھ نے مجھے دیکھا اُس نے میرے حق میں گواہی دی۔pg[ شرفا کی آواز دب جاتی اور اُن کی زبان تالو سے چپک جاتی تھی۔Rf رئیس بولنے سے باز آ کر منہ پر ہاتھ رکھتے،e تو جوان آدمی مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹ کر چھپ جاتے، بزرگ اُٹھ کر کھڑے رہتے،d{جب کبھی مَیں شہر کے دروازے سے نکل کر چوک میں اپنی کرسی پر بیٹھ جاتا Q+,xnkمَیں نے بےدین کا جبڑا توڑ کر اُس کے دانتوں میں سے شکار چھڑایا۔{mqمَیں غریبوں کا باپ تھا، اور جب کبھی اجنبی کو مقدمہ لڑنا پڑا تو مَیں غور سے اُس کے معاملے کا معائنہ کرتا تھا تاکہ اُس کا حق مارا نہ جائے۔tlcاندھوں کے لئے مَیں آنکھیں، لنگڑوں کے لئے پاؤں بنا رہتا تھا۔+kQمَیں راست بازی سے ملبّس اور راست بازی مجھ سے ملبّس رہتی تھی، انصاف میرا چوغہ اور پگڑی تھا۔+jQ تباہ ہونے والے مجھے برکت دیتے تھے۔ میرے باعث بیواؤں کے دلوں سے خوشی کے نعرے اُبھر آتے تھے۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr} 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4  4 4 4 4 4 4 4 4  4  4  4  4  4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4 4  4 4 4 4 4 4 4 4  4  5  5  5  5 5 5 5 5 5 5 5 5 5 5 5 5 5 5 5 5 5 5  5 5 5 /&?syمیرے بات کرنے پر وہ جواب میں کچھ نہ کہتے بلکہ میرے الفاظ ہلکی سی بوندا باندی کی طرح اُن پر ٹپکتے رہتے۔ureلوگ میری سن کر خاموشی سے میرے مشوروں کے انتظار میں رہتے تھے۔q!میری عزت ہر وقت تازہ رہے گی، اور میرے ہاتھ کی کمان کو نئی تقویت ملتی رہے گی۔‘opYمیری جڑیں پانی تک پھیلی اور میری شاخیں اوس سے تر رہیں گی۔Moاُس وقت میرا خیال تھا، ’مَیں اپنے ہی گھر میں وفات پاؤں گا، سیمرغ کی طرح اپنی زندگی کے دنوں میں اضافہ کروں گا۔ =vuمَیں اُن کی راہ اُن کے لئے چن کر اُن کی قیادت کرتا، اُن کے درمیان یوں بستا تھا جس طرح بادشاہ اپنے دستوں کے درمیان۔ مَیں اُس کی مانند تھا جو ماتم کرنے والوں کو تسلی دیتا ہے۔ Vu'جب مَیں اُن سے بات کرتے وقت مسکراتا تو اُنہیں یقین نہیں آتا تھا، میری اُن پر مہربانی اُن کے نزدیک نہایت قیمتی تھی۔t!جس طرح انسان شدت سے بارش کے انتظار میں رہتا ہے اُسی طرح وہ میرے انتظار میں رہتے تھے۔ وہ منہ پسار کر بہار کی بارش کی طرح میرے الفاظ کو جذب کر لیتے تھے۔ b b%zEوہ جھاڑیوں سے خطمی کا پھل توڑ کر کھاتے، جھاڑیوں کی جڑیں آگ تاپنے کے لئے اکٹھی کرتے ہیں۔yyخوراک کی کمی اور شدید بھوک کے مارے وہ خشک زمین کی تھوڑی بہت پیداوار کتر کتر کر کھاتے ہیں۔ ہر وقت وہ تباہی اور ویرانی کے دامن میں رہتے ہیں۔x-میرے لئے اُن کے ہاتھوں کی مدد کا کیا فائدہ تھا؟ اُن کی پوری طاقت تو جاتی رہی تھی۔Qw لیکن اب وہ میرا مذاق اُڑاتے ہیں، حالانکہ اُن کی عمر مجھ سے کم ہے اور مَیں اُن کے باپوں کو اپنی بھیڑبکریوں کی دیکھ بھال کرنے والے کُتوں کے ساتھ کام پر لگانے کے بھی لائق نہیں سمجھتا تھا۔ ] وہ گھن کھا کر مجھ سے دُور رہتے اور میرے منہ پر تھوکنے سے نہیں رُکتے۔r_ اور اب مَیں اِن ہی کا نشانہ بن گیا ہوں۔ اپنے گیتوں میں وہ میرا مذاق اُڑاتے ہیں، میری بُری حالت اُن کے لئے مضحکہ خیز مثال بن گئی ہے۔y~mاِن کمینے اور بےنام لوگوں کو مار مار کر ملک سے بھگا دیا گیا ہے۔ }جھاڑیوں کے درمیان وہ آوازیں دیتے اور مل کر اونٹ کٹاروں تلے دبک جاتے ہیں۔3|aاُنہیں گھاٹیوں کی ڈھلانوں پر بسنا پڑتا، وہ زمین کے غاروں میں اور پتھروں کے درمیان ہی رہتے ہیں۔{9اُنہیں آبادیوں سے خارج کیا گیا ہے، اور لوگ ’چور چور‘ چلّا کر اُنہیں بھگا دیتے ہیں۔ 5:z%وہ رخنے میں داخل ہوتے اور جوق در جوق تباہ شدہ فصیل میں سے گزر کر آگے بڑھتے ہیں۔<s وہ میری قلعہ بندیاں ڈھا کر مجھے خاک میں ملانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کسی اَور کی مدد درکار ہی نہیں۔wi میرے دہنے ہاتھ ہجوم کھڑے ہو کر مجھے ٹھوکر کھلاتے اور میری فصیل کے ساتھ مٹی کے ڈھیر لگاتے ہیں تاکہ اُس میں رخنہ ڈال کر مجھے تباہ کریں۔G  چونکہ اللہ نے میری کمان کی تانت کھول کر میری رُسوائی کی ہے، اِس لئے وہ میری موجودگی میں بےلگام ہو گئے ہیں۔ wL -اُس نے مجھے کیچڑ میں پھینک دیا ہے، اور دیکھنے میں مَیں خاک اور مٹی ہی بن گیا ہوں۔'اللہ بڑے زور سے میرا کپڑا پکڑ کر گریبان کی طرح مجھے اپنی سخت گرفت میں رکھتا ہے۔ رات کو میری ہڈیوں کو چھیدا جاتا ہے، کترنے والا درد مجھے کبھی نہیں چھوڑتا۔اور اب میری جان نکل رہی ہے، مَیں مصیبت کے دنوں کے قابو میں آ گیا ہوں۔~wہول ناک واقعات میرے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں، اور وہ تیز ہَوا کی طرح میرے وقار کو اُڑا لے جا رہے ہیں۔ میری سلامتی بادل کی طرح اوجھل ہو گئی ہے۔ aI%a@{یقیناً مَیں نے کبھی بھی اپنا ہاتھ کسی ضرورت مند کے خلاف نہیں اُٹھایا جب اُس نے اپنی مصیبت میں آواز دی۔] 5ہاں، اب مَیں جانتا ہوں کہ تُو مجھے موت کے حوالے کرے گا، اُس گھر میں پہنچائے گا جہاں ایک دن تمام جاندار جمع ہو جاتے ہیں۔  تُو مجھے اُڑا کر ہَوا پر سوار ہونے دیتا، گرجتے طوفان میں گھلنے دیتا ہے۔2 _تُو میرے ساتھ اپنا سلوک بدل کر مجھ پر ظلم کرنے لگا، اپنے ہاتھ کے پورے زور سے مجھے ستانے لگا ہے۔3 aمَیں تجھے پکارتا، لیکن تُو جواب نہیں دیتا۔ مَیں کھڑا ہو جاتا، لیکن تُو مجھے گھورتا ہی رہتا ہے۔ =@E=tcمَیں گیدڑوں کا بھائی اور عقابی اُلّوؤں کا ساتھی بن گیا ہوں۔_9مَیں ماتمی لباس میں پھرتا ہوں اور کوئی مجھے تسلی نہیں دیتا، حالانکہ مَیں جماعت میں کھڑے ہو کر مدد کے لئے آواز دیتا ہوں۔*Oمیرے اندر سب کچھ مضطرب ہے اور کبھی آرام نہیں کر سکتا، میرا واسطہ تکلیف دہ دنوں سے پڑتا ہے۔wiتاہم مجھ پر مصیبت آئی، اگرچہ مَیں بھلائی کی اُمید رکھ سکتا تھا۔ مجھ پر گھنا اندھیرا چھا گیا، حالانکہ مَیں روشنی کی توقع کر سکتا تھا۔<sبلکہ جب کسی کا بُرا حال تھا تو مَیں ہم دردی سے رونے لگا، غریبوں کی حالت دیکھ کر میرا دل غم کھانے لگا۔ Dy/KDueمیری راہیں تو اللہ کو نظر آتی ہیں، وہ میرا ہر قدم گن لیتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ ناراست شخص کے لئے آفت اور بدکار کے لئے تباہی مقرر ہے؟`;کیونکہ انسان کو آسمان پر رہنے والے خدا کی طرف سے کیا نصیب ہے، اُسے بلندیوں پر بسنے والے قادرِ مطلق سے کیا وراثت پانا ہے؟% Gمَیں نے اپنی آنکھوں سے عہد باندھا ہے۔ تو پھر مَیں کس طرح کسی کنواری پر نظر ڈال سکتا ہوں؟5اب میرا سرود صرف ماتم کرنے اور میری بانسری صرف رونے والوں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ میری جِلد کالی ہو گئی، میری ہڈیاں تپتی گرمی کے سبب سے جُھلس گئی ہیں۔ G@*G_9 اگر میرا دل کسی عورت سے ناجائز تعلقات رکھنے پر اُکسایا گیا اور مَیں اِس مقصد سے اپنے پڑوسی کے دروازے پر تاک لگائے بیٹھاCتو پھر جو بیج مَیں نے بویا اُس کی پیداوار کوئی اَور کھائے، جو فصلیں مَیں نے لگائیں اُنہیں اُکھاڑا جائے۔:oاگر میرے قدم صحیح راہ سے ہٹ گئے، میری آنکھیں میرے دل کو غلط راہ پر لے گئیں یا میرے ہاتھ داغ دار ہوئے تو اللہ مجھے انصاف کے ترازو میں تول لے، اللہ میری بےالزام حالت معلوم کرے۔<sنہ مَیں کبھی دھوکے سے چلا، نہ میرے پاؤں نے کبھی فریب دینے کے لئے پُھرتی کی۔ اگر اِس میں ذرا بھی شک ہو Z9#mتو مَیں کیا کروں جب اللہ عدالت میں کھڑا ہو جائے؟ جب وہ میری پوچھ گچھ کرے تو مَیں اُسے کیا جواب دوں؟" اگر میرا نوکر نوکرانیوں کے ساتھ جھگڑا تھا اور مَیں نے اُن کا حق ماراM! ایسے گناہ کی آگ پاتال تک سب کچھ بھسم کر دیتی ہے۔ اگر وہ مجھ سے سرزد ہوتا تو میری تمام فصل جڑوں تک راکھ کر دیتا۔u e کیونکہ ایسی حرکت شرم ناک ہوتی، ایسا جرم سزا کے لائق ہوتا ہے۔"? تو پھر اللہ کرے کہ میری بیوی کسی اَور آدمی کی گندم پیسے، کہ کوئی اَور اُس پر جھک جائے۔ ?]?7(iجب کبھی مَیں نے دیکھا کہ کوئی کپڑوں کی کمی کے باعث ہلا ک ہو رہا ہے، کہ کسی غریب کے پاس کمبل تک نہیںW')ہرگز نہیں، بلکہ اپنی جوانی سے لے کر مَیں نے اُس کا باپ بن کر اُس کی پرورش کی، اپنی پیدائش سے ہی بیوہ کی راہنمائی کی۔&کیا مَیں نے اپنی روٹی اکیلے ہی کھائی اور یتیم کو اُس میں شریک نہ کیا؟8%kکیا مَیں نے پست حالوں کی ضروریات پوری کرنے سے انکار کیا یا بیوہ کی آنکھوں کو بجھنے دیا؟ ہرگز نہیں!c$Aکیونکہ جس نے مجھے میری ماں کے پیٹ میں بنایا اُس نے اُنہیں بھی بنایا۔ ایک ہی نے اُنہیں بھی اور مجھے بھی رِحم میں تشکیل دیا۔ Svv,gایسی حرکتیں میرے لئے ناممکن تھیں، کیونکہ اگر مَیں ایسا کرتا تو مَیں اللہ سے دہشت کھاتا رہتا، مَیں اُس سے ڈر کے مارے قائم نہ رہ سکتا۔4+cاگر ایسا نہ تھا تو اللہ کرے کہ میرا شانہ کندھے سے نکل کر گر جائے، کہ میرا بازو جوڑ سے پھاڑا جائے!Y*-مَیں نے کبھی بھی یتیموں کے خلاف ہاتھ نہیں اُٹھایا، اُس وقت بھی نہیں جب شہر کے دروازے میں بیٹھے بزرگ میرے حق میں تھے۔))Mتو مَیں نے اُسے اپنی بھیڑوں کی کچھ اُون دی تاکہ وہ گرم ہو سکے۔ ایسے لوگ مجھے دعا دیتے تھے۔ =G1 ہرگز نہیں، کیونکہ یہ بھی سزا کے لائق جرم ہے۔ اگر مَیں ایسا کرتا تو بلندیوں پر رہنے والے خدا کا انکار کرتا۔0)میرے دل کو کبھی چپکے سے غلط راہ پر لایا گیا؟ کیا مَیں نے کبھی اُن کا احترام کیا؟f/Gکیا سورج کی چمک دمک اور چاند کی پُروقار روِش دیکھ کر1.]کیا مَیں اِس لئے خوش تھا کہ میری دولت زیادہ ہے اور میرے ہاتھ نے بہت کچھ حاصل کیا ہے؟ ہرگز نہیں!?-yکیا مَیں نے سونے پر اپنا پورا بھروسا رکھا یا خالص سونے سے کہا، ’تجھ پر ہی میرا اعتماد ہے‘؟ ہرگز نہیں! 2E6!کیا مَیں نے کبھی آدم کی طرح اپنا گناہ چھپا کر اپنا قصور دل میں پوشیدہ رکھا،15] اجنبی کو باہر گلی میں رات گزارنی نہیں پڑتی تھی بلکہ میرا دروازہ مسافروں کے لئے کھلا رہتا تھا۔*4Oبلکہ میرے خیمے کے آدمیوں کو تسلیم کرنا پڑا، ’کوئی نہیں ہے جو ایوب کے گوشت سے سیر نہ ہوا۔‘3مَیں نے اپنے منہ کو اجازت نہ دی کہ گناہ کر کے اُس کی جان پر لعنت بھیجے۔J2کیا مَیں کبھی خوش ہوا جب مجھ سے نفرت کرنے والا تباہ ہوا؟ کیا مَیں باغ باغ ہوا جب اُس پر مصیبت آئی؟ ہرگز نہیں! E  !,7BMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr} 5 5 5 5  5  5  5  5!  5" 5 5 5 5  5  5  5  5!  5" 5# 5$ 5% 5& 5' 5( 5) 5* 5+ 5, 5- 5. 5/ 50 51 52 53 54  55 !56 "57 #58 $59 %5: &5; '5< (5=   5>  5?  5@  5A  5B  5C  5D  5E  5F  5G  5H  5I  5J  5K  5L  5M  5N  5O  5P  5Q  5R  5S  !5T !5U !5V !5W !5X !5Y !5Z !5[ ! 5\ ! 5] ! 5^ &&:'%مَیں اللہ کو اپنے قدموں کا پورا حساب کتاب دے کر رئیس کی طرح اُس کے قریب پہنچتا۔I9 $اگر الزامات کا کاغذ ملتا تو مَیں اُسے اُٹھا کر اپنے کندھے پر رکھتا، اُسے پگڑی کی طرح اپنے سر پر باندھ لیتا۔+8Q#کاش کوئی میری سنے! دیکھو، یہاں میری بات پر میرے دست خط ہیں، اب قادرِ مطلق مجھے جواب دے۔ کاش میرے مخالف لکھ کر مجھے وہ الزامات بتائیں جو اُنہوں نے مجھ پر لگائے ہیں!@7{"اِس لئے کہ ہجوم سے ڈرتا اور اپنے رشتے داروں سے دہشت کھاتا تھا؟ ہرگز نہیں! مَیں نے کبھی بھی ایسا کام نہ کیا جس کے باعث مجھے ڈر کے مارے چپ رہنا پڑتا اور گھر سے نکل نہیں سکتا تھا۔ 2ON9> o تب مذکورہ تینوں آدمی ایوب کو جواب دینے سے باز آئے، کیونکہ وہ اب تک سمجھتا تھا کہ مَیں راست باز ہوں۔}=u(اگر مَیں اِس میں قصوروار ٹھہروں تو گندم کے بجائے خاردار جھاڑیاں اور جَو کے بجائے دھتورا اُگے۔“ یوں ایوب کی باتیں اختتام کو پہنچ گئیں۔ _<9'کیا مَیں نے اُس کی پیداوار اجر دیئے بغیر کھائی، اُس پر محنت مشقت کرنے والوں کے لئے آہیں بھرنے کا باعث بن گیا؟ ہرگز نہیں!J;&کیا میری زمین نے مدد کے لئے پکار کر مجھ پر الزام لگایا ہے؟ کیا اُس کی ریگھاریاں میرے سبب سے مل کر رو پڑی ہیں؟ ||B1 لیکن اب جب اُس نے دیکھا کہ تینوں آدمی مزید کوئی جواب نہیں دے سکتے تو وہ بھڑک اُٹھاNA اِلیہو نے اب تک ایوب سے بات نہیں کی تھی۔ جب تک دوسروں نے بات پوری نہیں کی تھی وہ خاموش رہا، کیونکہ وہ بزرگ تھے۔K@ دوسری طرف وہ تینوں دوستوں سے بھی ناراض تھا، کیونکہ نہ وہ ایوب کو صحیح جواب دے سکے، نہ ثابت کر سکے کہ مجرم ہے۔@?{ یہ دیکھ کر اِلیہو بن برکیل غصے ہو گیا۔ بوز شہر کے رہنے والے اِس آدمی کا خاندان رام تھا۔ ایک طرف تو وہ ایوب سے خفا تھا، کیونکہ یہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے راست باز ٹھہراتا تھا۔ X LXG9 چنانچہ مَیں گزارش کرتا ہوں کہ ذرا میری بات سنیں، مجھے بھی اپنی رائے پیش کرنے دیجئے۔F نہ صرف بوڑھے لوگ دانش مند ہیں، نہ صرف وہ انصاف سمجھتے ہیں جن کے بال سفید ہیں۔7Ei لیکن جو روح انسان میں ہے یعنی جو دم قادرِ مطلق نے اُس میں پھونک دیا وہی انسان کو سمجھ عطا کرتا ہے۔IT_ju%0;FQ\gr} ! 5` !5a !5b !5c !5d !5e !5f !5g !5 ! 5` !5a !5b !5c !5d !5e !5f !5g !5h !5i !5j !5k !5l !5m !5n !5o !5p !5q !5r ! 5s !!5t  "5u "5v "5w "5x "5y "5z "5{ "5| " 5} " 5~ " 5 " 5 " 5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 "5 " 5 "!5 ""5 "#5 "$5 "%5  #5 #5 #5 #5 #5 #5 #5 #5 # 5 # 5 # 5 dN_G " یقیناً وہ انسان کو اُس کے اعمال کا مناسب اجر دے کر اُس پر وہ کچھ لاتا ہے جس کا تقاضا اُس کا چال چلن کرتا ہے۔k~Q" چنانچہ اے سمجھ دار مردو، میری بات سنیں! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ شریر کام کرے؟ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ قادرِ مطلق ناانصافی کرے۔}" کیونکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ سے لطف اندوز ہونا انسان کے لئے بےفائدہ ہے۔|y"بدکاروں کی صحبت میں چلتے اور بےدینوں کے ساتھ اپنا وقت گزارتے ہیں۔{+"اب مجھے بتائیں، کیا کوئی ایوب جیسا بُرا ہے؟ وہ تو کفر کی باتیں پانی کی طرح پیتے، 3s`3}"جو بادشاہ سے کہہ سکتا ہے، ’اے بدمعاش!‘ اور شرفا سے، ’اے بےدینو!‘؟O"جو انصاف سے نفرت کرے کیا وہ حکومت کر سکتا ہے؟ کیا آپ اُسے مجرم ٹھہرانا چاہتے ہیں جو راست باز اور قادرِ مطلق ہے،tc"اے ایوب، اگر آپ کو سمجھ ہے تو سنیں، میری باتوں پر دھیان دیں۔[1"تو تمام لوگ دم چھوڑ کر دوبارہ خاک ہو جائیں گے۔wi"اگر وہ کبھی ارادہ کرے کہ اپنی روح اور اپنا دم انسان سے واپس لے%" کس نے زمین کو اللہ کے حوالے کیا؟ کس نے اُسے پوری دنیا پر اختیار دیا؟ کوئی نہیں!  " یقیناً اللہ بےدین حرکتیں نہیں کرتا، قادرِ مطلق انصاف کا خون نہیں کرتا۔ :!w:/ Y"اور اللہ کسی بھی انسان کو اُس وقت سے آگاہ نہیں کرتا جب اُسے الٰہی تختِ عدالت کے سامنے آنا ہے۔ "کہیں اِتنی تاریکی یا گھنا اندھیرا نہیں ہوتا کہ بدکار اُس میں چھپ سکے۔& G"کیونکہ اللہ کی آنکھیں انسان کی راہوں پر لگی رہتی ہیں، آدم زاد کا ہر قدم اُسے نظر آتا ہے۔sa"وہ پل بھر میں، آدھی رات ہی مر جاتے ہیں۔ شرفا کو ہلایا جاتا ہے تو وہ کوچ کر جاتے ہیں، طاقت وروں کو بغیر کسی تگ و دَو کے ہٹایا جاتا ہے۔dC"وہ تو نہ رئیسوں کی جانب داری کرتا، نہ عُہدے داروں کو پست حالوں پر ترجیح دیتا ہے، کیونکہ سب ہی کو اُس کے ہاتھوں نے بنایا ہے۔ ?oO"کیونکہ اُن کی حرکتوں کے باعث پست حالوں کی چیخیں اللہ کے سامنے اور مصیبت زدوں کی التجائیں اُس کے کان تک پہنچیں۔"اُس کی پیروی سے ہٹنے اور اُس کی راہوں کا لحاظ نہ کرنے کا یہی نتیجہ ہے۔"اُن کی بےدینی کے جواب میں وہ اُنہیں سب کی نظروں کے سامنے پٹخ دیتا ہے۔; q"وہ تو اُن کی حرکتوں سے واقف ہے اور اُنہیں رات کے وقت یوں تہہ و بالا کر سکتا ہے کہ چُور چُور ہو جائیں۔= u"اُسے تحقیقات کی ضرورت ہی نہیں بلکہ وہ زورآوروں کو پاش پاش کر کے دوسروں کو اُن کی جگہ کھڑا کر دیتا ہے۔ }4c" جو کچھ مجھے نظر نہیں آتا وہ مجھے سکھا، اگر مجھ سے ناانصافی ہوئی ہے تو آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔‘9m"بہتر ہے کہ آپ اللہ سے کہیں، ’مجھے غلط راہ پر لایا گیا ہے، آئندہ مَیں دوبارہ بُرا کام نہیں کروں گا۔Z/"تاکہ شریر حکومت نہ کریں اور قوم پھنس نہ جائے۔"?"لیکن اگر وہ خاموش بھی رہے تو کون اُسے مجرم قرار دے سکتا ہے؟ اگر وہ اپنے چہرے کو چھپائے رکھے تو کون اُسے دیکھ سکتا ہے؟ وہ تو قوم پر بلکہ ہر فرد پر حکومت کرتا ہے ;*cD #پھر اِلیہو نے اپنی بات جاری رکھی،C"%وہ اپنے گناہ میں اضافہ کر کے ہمارے رُوبرُو اپنے جرم پر شک ڈالتا اور اللہ پر متعدد الزامات لگاتا ہے‘۔“ "$کاش ایوب کی پوری جانچ پڑتال کی جائے، کیونکہ وہ شریروں کے سے جواب پیش کرتا،|s"#’ایوب علم کے ساتھ بات نہیں کر رہا، اُس کے الفاظ فہم سے خالی ہیں۔mU""سمجھ دار لوگ بلکہ ہر دانش مند جو میری بات سنے فرمائے گا،Q"!کیا اللہ کو آپ کو وہ اجر دینا چاہئے جو آپ کی نظر میں مناسب ہے، گو آپ نے اُسے رد کر دیا ہے؟ لازم ہے کہ آپ خود ہی فیصلہ کریں، نہ کہ مَیں۔ لیکن ذرا وہ کچھ پیش کریں جو کچھ آپ صحیح سمجھتے ہیں۔ QdsQH  #راست باز زندگی گزارنے سے آپ اُسے کیا دے سکتے ہیں؟ آپ کے ہاتھوں سے اللہ کو کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ کچھ بھی نہیں!S!#اگر آپ نے گناہ کیا تو اللہ کو کیا نقصان پہنچا ہے؟ گو آپ سے متعدد جرائم بھی سرزد ہوئے ہوں تاہم وہ متاثر نہیں ہو گا۔|s#اپنی نگاہ آسمان کی طرف اُٹھائیں، بلندیوں کے بادلوں پر غور کریں۔hK#مَیں آپ کو اور ساتھی دوستوں کو اِس کا جواب بتاتا ہوں۔#یا یہ کہ ’مجھے کیا فائدہ ہے، گناہ نہ کرنے سے مجھے کیا نفع ہوتا ہے؟‘+#”آپ کہتے ہیں، ’مَیں اللہ سے زیادہ راست باز ہوں۔‘ کیا آپ یہ بات درست سمجھتے ہیں x7z x%# اُن کی چیخوں کے باوجود اللہ جواب نہیں دیتا، کیونکہ وہ گھمنڈی اور بُرے ہیں۔?$y# جو ہمیں زمین پر چلنے والے جانوروں کی نسبت زیادہ تعلیم دیتا، ہمیں پرندوں سے زیادہ دانش مند بناتا ہے؟‘(#K# لیکن کوئی نہیں کہتا، ’اللہ، میرا خالق کہاں ہے؟ وہ کہاں ہے جو رات کے دوران نغمے عطا کرتا،9"m# جب لوگوں پر سخت ظلم ہوتا ہے تو وہ چیختے چلّاتے اور بڑوں کی زیادتی کے باعث مدد کے لئے آواز دیتے ہیں۔E!#آپ کے ہم جنس انسان ہی آپ کی بےدینی سے متاثر ہوتے ہیں، اور آدم زاد ہی آپ کی راست بازی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ iJ<* w$اِلیہو نے اپنی بات جاری رکھی،=)u#جب ایوب منہ کھولتا ہے تو بےمعنی باتیں نکلتی ہیں۔ جو متعدد الفاظ وہ پیش کرتا ہے وہ علم سے خالی ہیں۔“ 6(g#وہ آپ کی کیوں سنے جب آپ کہتے ہیں، ’اللہ کا غضب کبھی سزا نہیں دیتا، اُسے بُرائی کی پروا ہی نہیں‘؟'1#تو پھر وہ آپ پر کیوں توجہ دے جب آپ دعویٰ کرتے ہیں، ’مَیں اُسے نہیں دیکھ سکتا،‘ اور ’میرا معاملہ اُس کے سامنے ہی ہے، مَیں اب تک اُس کا انتظار کر رہا ہوں'؟&!# یقیناً اللہ ایسی باطل فریاد نہیں سنتا، قادرِ مطلق اُس پر دھیان ہی نہیں دیتا۔ 8./$وہ بےدین کو زیادہ دیر تک جینے نہیں دیتا، لیکن مصیبت زدوں کا انصاف کرتا ہے۔y.m$گو اللہ عظیم قدرت کا مالک ہے تاہم وہ خلوص دلوں کو رد نہیں کرتا۔b-?$یقیناً جو کچھ مَیں کہوں گا وہ فریب دہ نہیں ہو گا۔ ایک ایسا آدمی آپ کے سامنے کھڑا ہے جس نے خلوص دلی سے اپنا علم حاصل کیا ہے۔$,C$مَیں دُور دُور تک پھروں گا تاکہ وہ علم حاصل کروں جس سے میرے خالق کی راستی ثابت ہو جائے۔D+$”تھوڑی دیر کے لئے صبر کر کے مجھے اِس کی تشریح کرنے دیں، کیونکہ مزید بہت کچھ ہے جو اللہ کے حق میں کہنا ہے۔ %D4$ اگر وہ مان کر اُس کی خدمت کرنے لگیں تو پھر وہ جیتے جی اپنے دن خوش حالی میں اور اپنے سال سکون سے گزاریں گے۔33a$ وہ اُن کے کانوں کو تربیت کے لئے کھول کر اُنہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی ناانصافی سے باز آ کر واپس آؤ۔s2a$ تو وہ اُن پر ظاہر کرتا ہے کہ اُن سے کیا کچھ سرزد ہوا ہے، وہ اُنہیں اُن کے جرائم پیش کر کے اُنہیں دکھاتا ہے کہ اُن کا تکبر کا رویہ ہے۔1-$پھر اگر اُنہیں زنجیروں میں جکڑا جائے، اُنہیں مصیبت کے رسّوں میں گرفتار کیا جائےW0)$وہ اپنی آنکھوں کو راست بازوں سے نہیں پھیرتا بلکہ اُنہیں بادشاہوں کے ساتھ تخت نشین کر کے بلندیوں پر سرفراز کرتا ہے۔ L{M8$لیکن اللہ مصیبت زدہ کو اُس کی مصیبت کے ذریعے نجات دیتا، اُس پر ہونے والے ظلم کی معرفت اُس کا کان کھول دیتا ہے۔#7A$جوانی میں ہی اُن کی جان نکل جاتی، اُن کی زندگی مُقدّس فرشتوں کے ہاتھوں ختم ہو جاتی ہے۔M6$ بےدین اپنی حرکتوں سے اپنے آپ پر الٰہی غضب لاتے ہیں۔ اللہ اُنہیں باندھ بھی لے، لیکن وہ مدد کے لئے نہیں پکارتے۔05[$ لیکن اگر نہ مانیں تو اُنہیں دریائے موت کو عبور کرنا پڑے گا، وہ علم سے محروم رہ کر مر جائیں گے۔ G"GW<)$کیا آپ کی دولت آپ کا دفاع کر کے آپ کو مصیبت سے بچائے گی؟ یا کیا آپ کی سرتوڑ کوششیں یہ سرانجام دے سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں!>;w$خبردار کہ یہ بات آپ کو کفر بکنے پر نہ اُکسائے، ایسا نہ ہو کہ تاوان کی بڑی رقم آپ کو غلط راہ پر لے جائے۔:$لیکن اِس وقت آپ عدالت کا وہ پیالہ پی کر سیر ہو گئے ہیں جو بےدینوں کے نصیب میں ہے، اِس وقت عدالت اور انصاف نے آپ کو اپنی سخت گرفت میں لے لیا ہے۔9$وہ آپ کو بھی مصیبت کے منہ سے نکلنے کی ترغیب دلا کر ایک ایسی کھلی جگہ پر لانا چاہتا ہے جہاں رکاوٹ نہیں ہے، جہاں آپ کی میز عمدہ کھانوں سے بھری رہے گی۔ UgGUB$ہر شخص نے یہ کام دیکھ لیا، انسان نے دُور دُور سے اُس کا ملاحظہ کیا ہے۔6Ag$اُس کے کام کی تمجید کرنا نہ بھولیں، اُس سارے کام کی جس کی لوگوں نے اپنے گیتوں میں حمد و ثنا کی ہے۔+@Q$کس نے مقرر کیا کہ اُسے کس راہ پر چلنا ہے؟ کون کہہ سکتا ہے، ’تُو نے غلط کام کیا‘؟ کوئی نہیں!i?M$اللہ اپنی قدرت میں سرفراز ہے۔ کون اُس جیسا اُستاد ہے؟0>[$خبردار رہیں کہ ناانصافی کی طرف رجوع نہ کریں، کیونکہ آپ کو اِسی لئے مصیبت سے آزمایا جا رہا ہے۔=%$رات کی آرزو نہ کریں، اُس وقت کی جب قومیں جہاں بھی ہوں نیست و نابود ہو جاتی ہیں۔ E  "-8BMXcny)4?JU`kv%0;FQ\gr} # 5 #5 #5 #5  $5 $5 $5 $5 $5 # 5 #5 #5 #5  $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $ 5 $ 5 $ 5 $ 5 $ 5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $5 $ 5 $!5  %5 %5 %5 %5 %5 %5 %5 %5 % 5 % 5 % 5 % 5 % 5 %5 %5 %5 %5 %5 %5 %5 %5 %5 %5 %5  &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 g\2 H$یوں وہ بادلوں سے قوموں کی پرورش کرتا، اُنہیں کثرت کی خوراک مہیا کرتا ہے۔G$وہ اپنے ارد گرد روشنی پھیلا کر سمندر کی جڑوں تک سب کچھ روشن کرتا ہے۔ F;$کون سمجھ سکتا ہے کہ بادل کس طرح چھا جاتے، کہ اللہ کے مسکن سے بجلیاں کس طرح کڑکتی ہیں؟E $وہ بارش جو بادل زمین پر برسا دیتے اور جس کی بوچھاڑیں انسان پر پڑتی ہیں۔|Ds$کیونکہ وہ پانی کے قطرے اوپر کھینچ کر دُھند سے بارش نکال لیتا ہے،C%$اللہ عظیم ہے اور ہم اُسے نہیں جانتے، اُس کے سالوں کی تعداد معلوم نہیں کر سکتے۔  ]: M%آسمان تلے ہر مقام پر بلکہ زمین کی انتہا تک وہ اپنی بجلی چمکنے دیتا ہے۔#LA%سنیں اور اُس کی غضب ناک آواز پر غور کریں، اُس غُراتی آواز پر جو اُس کے منہ سے نکلتی ہے۔bK A%یہ سوچ کر میرا دل لرز کر اپنی جگہ سے اُچھل پڑتا ہے۔:Jo$!اُس کے بادلوں کی گرجتی آواز اُس کے غضب کا اعلان کرتی، ناانصافی پر اُس کے شدید قہر کو ظاہر کرتی ہے۔ I9$ وہ اپنی مٹھیوں کو بادل کی بجلیوں سے بھر کر حکم دیتا ہے کہ کیا چیز اپنا نشانہ بنائیں۔ C <C R%تب جنگلی جانور بھی اپنے بھٹوں میں چھپ جاتے، اپنے گھروں میں پناہ لیتے ہیں۔4Qc%یوں وہ ہر انسان کو اُس کے گھر میں رہنے پر مجبور کرتا ہے تاکہ سب جان لیں کہ اللہ کام میں مصروف ہے۔,PS%کیونکہ وہ برف کو فرماتا ہے، ’زمین پر پڑ جا‘ اور موسلادھار بارش کو، ’اپنا پورا زور دکھا۔‘IO %اللہ انوکھے طریقے سے اپنی آواز گرجنے دیتا ہے۔ ساتھ ساتھ وہ ایسے عظیم کام کرتا ہے جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔sNa%اِس کے بعد کڑکتی آواز سنائی دیتی، اللہ کی رُعب دار آواز گرج اُٹھتی ہے۔ اور جب اُس کی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ بجلیوں کو نہیں روکتا۔ |V X%اے ایوب، میری اِس بات پر دھیان دیں، رُک کر اللہ کے عظیم کاموں پر غور کریں۔9Wm% یوں وہ اُنہیں لوگوں کی تربیت کرنے، اپنی زمین کو برکت دینے یا اپنی شفقت دکھانے کے لئے بھیج دیتا ہے۔V}% اُس کی ہدایت پر وہ منڈلاتے ہوئے اُس کا ہر حکم تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔U% اللہ بادلوں کو نمی سے بوجھل کر کے اُن کے ذریعے دُور تک اپنی بجلی چمکاتا ہے۔T% اللہ پھونک مارتا تو پانی جم جاتا، اُس کی سطح دُور دُور تک منجمد ہو جاتی ہے۔S{% طوفان اپنے کمرے سے نکل آتا، شمالی ہَوا ملک میں ٹھنڈ پھیلا دیتی ہے۔ h3lh0][%ہمیں بتائیں کہ اللہ سے کیا کہیں! افسوس، اندھیرے کے باعث ہم اپنے خیالات کو ترتیب نہیں دے سکتے۔A\}%تو کیا آپ اللہ کے ساتھ مل کر آسمان کو ٹھونک ٹھونک کر پیتل کے آئینے کی مانند سخت بنا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں![ %جب زمین جنوبی لُو کی زد میں آ کر چپ ہو جاتی اور آپ کے کپڑے تپنے لگتے ہیںCZ%کیا آپ بادلوں کی نقل و حرکت جانتے ہیں؟ کیا آپ کو اُس کے انوکھے کاموں کی سمجھ آتی ہے جو کامل علم رکھتا ہے؟IY %کیا آپ کو معلوم ہے کہ اللہ اپنے کاموں کو کیسے ترتیب دیتا ہے، کہ وہ اپنے بادلوں سے بجلی کس طرح چمکنے دیتا ہے؟ 4$4b%اِس لئے آدم زاد اُس سے ڈرتے اور دل کے دانش مند اُس کا خوف مانتے ہیں۔“ Ga %ہم تو قادرِ مطلق تک نہیں پہنچ سکتے۔ اُس کی قدرت اعلیٰ اور راستی زورآور ہے، وہ کبھی انصاف کا خون نہیں کرتا۔`)%شمال سے سنہری چمک قریب آتی اور اللہ رُعب دار شان و شوکت سے گھرا ہوا آ پہنچتا ہے۔?_y%ایک وقت دھوپ نظر نہیں آتی اور بادل زمین پر سایہ ڈالتے ہیں، پھر ہَوا چلنے لگتی اور موسم صاف ہو جاتا ہے۔^%%اگر مَیں اپنی بات پیش کروں تو کیا اُسے کچھ معلوم ہو جائے گا جس کا پہلے علم نہ تھا؟ کیا کوئی بھی کچھ بیان کر سکتا ہے جو اُسے پہلے معلوم نہ ہو؟ کبھی نہیں! y{Gyh &اُس کے ستون کس چیز پر لگائے گئے؟ کس نے اُس کے کونے کا بنیادی پتھر رکھا،'gI&کس نے اُس کی لمبائی اور چوڑائی مقرر کی؟ کیا تجھے معلوم ہے؟ کس نے ناپ کر اُس کی پیمائش کی؟f#&تُو کہاں تھا جب مَیں نے زمین کی بنیاد رکھی؟ اگر تجھے اِس کا علم ہو تو مجھے بتا!e&مرد کی طرح کمربستہ ہو جا! مَیں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تُو مجھے تعلیم دے۔d7&”یہ کون ہے جو سمجھ سے خالی باتیں کرنے سے میرے منصوبے کے صحیح مطلب پر پردہ ڈالتا ہے؟c &پھر اللہ خود ایوب سے ہم کلام ہوا۔ طوفان میں سے اُس نے اُسے جواب دیا، =_k=wni& کیا تُو نے کبھی صبح کو حکم دیا یا اُسے طلوع ہونے کی جگہ دکھائی0m[& مَیں بولا، ’تجھے یہاں تک آنا ہے، اِس سے آگے نہ بڑھنا، تیری رُعب دار لہروں کو یہیں رُکنا ہے۔‘l}& اُس کی حدود مقرر کر کے مَیں نے اُسے روکنے کے دروازے اور کنڈے لگائے۔bk?& اُس وقت مَیں نے بادلوں کو اُس کا لباس بنایا اور اُسے گھنے اندھیرے میں یوں لپیٹا جس طرح نوزاد کو پوتڑوں میں لپیٹا جاتا ہے۔j&جب سمندر رِحم سے پھوٹ نکلا تو کس نے دروازے بند کر کے اُس پر قابو پایا؟i5&اُس وقت جب صبح کے ستارے مل کر شادیانہ بجا رہے، تمام فرشتے خوشی کے نعرے لگا رہے تھے؟ x3xt3&کیا تجھے زمین کے وسیع میدانوں کی پوری سمجھ آئی ہے؟ مجھے بتا اگر یہ سب کچھ جانتا ہے!s&کیا موت کے دروازے تجھ پر ظاہر ہوئے، تجھے گھنے اندھیرے کے دروازے نظر آئے ہیں؟r}&کیا تُو سمندر کے سرچشموں تک پہنچ کر اُس کی گہرائیوں میں سے گزرا ہے؟q&تب بےدینوں کی روشنی روکی جاتی، اُن کا اُٹھایا ہوا بازو توڑا جاتا ہے۔Lp&اُس کی روشنی میں زمین یوں تشکیل پاتی ہے جس طرح مٹی جس پر مُہر لگائی جائے۔ سب کچھ رنگ دار لباس پہنے نظر آتا ہے۔ro_& تاکہ وہ زمین کے کناروں کو پکڑ کر بےدینوں کو اُس سے جھاڑ دے؟ cnc.yW&مَیں اُنہیں مصیبت کے وقت کے لئے محفوظ رکھتا ہوں، ایسے دنوں کے لئے جب لڑائی اور جنگ چھڑ جائے۔@x{&کیا تُو وہاں تک پہنچ گیا ہے جہاں برف کے ذخیرے جمع ہوتے ہیں؟ کیا تُو نے اولوں کے گوداموں کو دیکھ لیا ہے؟Pw&بےشک تُو اِس کا علم رکھتا ہے، کیونکہ تُو اُس وقت جنم لے چکا تھا جب یہ پیدا ہوئے۔ تُو تو قدیم زمانے سے ہی زندہ ہے!=vu&کیا تُو اُنہیں اُن کے مقاموں تک پہنچا سکتا ہے؟ کیا تُو اُن کے گھروں تک لے جانے والی راہوں سے واقف ہے؟u&روشنی کے منبع تک لے جانے والا راستہ کہاں ہے؟ اندھیرے کی رہائش گاہ کہاں ہے؟ (%E&برف کس ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئی؟ جو پالا آسمان سے آ کر زمین پر پڑتا ہے کس نے اُسے جنم دیا؟`~;&کیا بارش کا باپ ہے؟ کون شبنم کے قطروں کا والد ہے؟ } &تاکہ ویران و سنسان بیابان کی پیاس بجھ جائے اور اُس سے ہریالی پھوٹ نکلے؟{|q&تاکہ انسان سے خالی زمین اور غیرآباد ریگستان کی آب پاشی ہو جائے،{{&کس نے موسلادھار بارش کے لئے راستہ اور گرجتے طوفان کے لئے راہ بنائیbz?&مجھے بتا، اُس جگہ تک کس طرح پہنچنا ہے جہاں روشنی تقسیم ہوتی ہے، یا اُس جگہ جہاں سے مشرقی ہَوا نکل کر زمین پر بکھر جاتی ہے؟ N2+&"کیا جب تُو بلند آواز سے بادلوں کو حکم دے تو وہ تجھ پر موسلادھار بارش برساتے ہیں؟&!کیا تُو آسمان کے قوانین جانتا یا اُس کی زمین پر حکومت متعین کرتا ہے؟ & کیا تُو کروا سکتا ہے کہ ستاروں کے مختلف جھرمٹ اُن کے مقررہ اوقات کے مطابق نکل آئیں؟ کیا تُو دُبِ اکبر کی اُس کے بچوں سمیت قیادت کرنے کے قابل ہے؟&کیا تُو خوشۂ پروین کو باندھ سکتا یا جوزے کی زنجیروں کو کھول سکتا ہے؟.W&جب پانی پتھر کی طرح سخت ہو جائے بلکہ گہرے سمندر کی سطح بھی جم جائے تو کون یہ سرانجام دیتا ہے؟ \>o\ 7&(جب وہ اپنی چھپنے کی جگہوں میں دبک جائیں یا گنجان جنگل میں کہیں تاک لگائے بیٹھے ہوں؟n W&'کیا تُو ہی شیرنی کے لئے شکار کرتا یا شیروں کو سیر کرتا ہے+Q&&جب مٹی ڈھالے ہوئے لوہے کی طرح سخت ہو جائے اور ڈھیلے ایک دوسرے کے ساتھ چپک جائیں؟ کوئی نہیں!9m&%کس کو اِتنی دانائی حاصل ہے کہ وہ بادلوں کو گن سکے؟ کون آسمان کے اِن گھڑوں کو اُس وقت اُنڈیل سکتا ہے`;&$کس نے مصر کے لق لق کو حکمت دی، مرغ کو سمجھ عطا کی؟>w&#کیا تُو بادل کی بجلی زمین پر بھیج سکتا ہے؟ کیا وہ تیرے پاس آ کر کہتی ہے، ’مَیں خدمت کے لئے حاضر ہوں‘؟ E  !,7BMXcny)4?JU`ku%0;FQ\gr} & 5 & 5 & 5 & 5 &5 &5 &5 &5 &5 & 5 & 5 & 5 & 5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &5 &6 &6 & 6 &!6 &"6  &$6 &%6 &&6 &'6 &(6 &)6  '6 '6 '6 '6 '6 '6 '6 '6 ' 6 ' 6 ' 6 ' 6 ' 6 '6 '6 '6 '6 '6 '6 '6 '6 '6! '6" '6# '6$ '6% '6& '6' '6( '6)  (6* (6+ (6, (6- (6. (6/ (60 XHe,XP'اُن کے بچے طاقت ور ہو کر کھلے میدان میں پھلتے پھولتے، پھر ایک دن چلے جاتے ہیں اور اپنی ماں کے پاس واپس نہیں آتے۔q]'اُس دن وہ دبک جاتی، بچے نکل آتے اور دردِ زہ ختم ہو جاتا ہے۔A }'کیا تُو وہ مہینے گنتا رہتا ہے جب بچے ہرنیوں کے پیٹ میں ہوں؟ کیا تُو جانتا ہے کہ کس وقت بچے جنم دیتی ہیں؟_  ;'کیا تجھے معلوم ہے کہ پہاڑی بکریوں کے بچے کب پیدا ہوتے ہیں؟ جب ہرنی اپنا بچہ جنم دیتی ہے تو کیا تُو اِس کو ملاحظہ کرتا ہے؟4 c&)کون کوّے کو خوراک مہیا کرتا ہے جب اُس کے بچے بھوک کے باعث اللہ کو آواز دیں اور مارے مارے پھریں؟ 525"?' کیا تُو اُسے باندھ کر ہل چلا سکتا ہے؟ کیا وہ وادی میں تیرے پیچھے چل کر سہاگا پھیرے گا؟0[' کیا جنگلی بَیل تیری خدمت کرنے کے لئے تیار ہو گا؟ کیا وہ کبھی رات کو تیری چرنی کے پاس گزارے گا؟9'وہ چرنے کے لئے پہاڑی علاقے میں اِدھر اُدھر گھومتا اور ہریالی کا کھوج لگاتا رہتا ہے۔ ;'وہ شہر کا شور شرابہ دیکھ کر ہنس اُٹھتا، اور اُسے ہانکنے والے کی آواز سننی نہیں پڑتی۔*O'مَیں ہی نے بیابان اُس کا گھر بنا دیا، مَیں ہی نے مقرر کیا کہ بنجر زمین اُس کی رہائش گاہ ہو۔ym'کس نے جنگلی گدھے کو کھلا چھوڑ دیا؟ کس نے اُس کے رسّے کھول دیئے؟ M^@{'شُتر مرغ کو خیال تک نہیں آتا کہ کوئی اُنہیں پاؤں تلے کچل سکتا یا کوئی جنگلی جانور اُنہیں روند سکتا ہے۔{'وہ تو اپنے انڈے زمین پر اکیلے چھوڑتا ہے، اور وہ مٹی ہی پر پکتے ہیں۔C' شُتر مرغ خوشی سے اپنے پَروں کو پھڑپھڑاتا ہے۔ لیکن کیا اُس کا شاہ پَر لق لق یا باز کے شاہ پَر کی مانند ہے؟ ;' کیا تُو بھروسا کر سکتا ہے کہ وہ تیرا اناج جمع کر کے گاہنے کی جگہ پر لے آئے؟ ہرگز نہیں!/Y' کیا تُو اُس کی بڑی طاقت دیکھ کر اُس پر اعتماد کرے گا؟ کیا تُو اپنا سخت کام اُس کے سپرد کرے گا؟offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|@,A1B6D:E>FBGGHLIRJXK^LdMjNnOt@,A1B6D:E>FBGGHLIRJXK^LdMjNnOtPzRST UVWX Y%Z*[/\4]8^<_BaHbMcRdXe]fbghhnitjyklm opqst$u*v0w6x<yAzF{L}Q~W]bfjlpuz "(-28=AGLRV\`dhmrw{  #&*/49?EKPV jOja='کیا تُو ہی اُسے ٹڈی کی طرح پھلانگنے دیتا ہے؟ جب وہ زور سے اپنے نتھنوں کو پُھلا کر آواز نکالتا ہے تو کتنا رُعب دار لگتا ہے! 'کیا تُو گھوڑے کو اُس کی طاقت دے کر اُس کی گردن کو ایال سے آراستہ کرتا ہے؟3a'توبھی وہ اِتنی تیزی سے اُچھل کر بھاگ جاتا ہے کہ گھوڑے اور گھڑسوار کی دوڑ دیکھ کر ہنسنے لگتا ہے۔zo'کیونکہ اللہ نے اُسے حکمت سے محروم رکھ کر اُسے سمجھ سے نہ نوازا۔kQ'لگتا نہیں کہ اُس کے اپنے بچے ہیں، کیونکہ اُس کا اُن کے ساتھ سلوک اِتنا سخت ہے۔ اگر اُس کی محنت ناکام نکلے تو اُسے پروا ہی نہیں، UDH$ 'جب بھی بِگل بجے وہ زور سے ہنہناتا اور دُور ہی سے میدانِ جنگ، کمانڈروں کا شور اور جنگ کے نعرے سونگھ لیتا ہے۔A#}'وہ بڑا شور مچا کر اِتنی تیزی اور جوش و خروش سے دشمن پر حملہ کرتا ہے کہ بِگل بجتے وقت بھی روکا نہیں جاتا۔h"K'اُس کے اوپر ترکش کھڑکھڑاتا، نیزہ اور شمشیر چمکتی ہے۔"!?'وہ خوف کا مذاق اُڑاتا اور کسی سے بھی نہیں ڈرتا، تلوار کے رُوبرُو بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔' I'وہ وادی میں سُم مار مار کر اپنی طاقت کی خوشی مناتا، پھر بھاگ کر میدانِ جنگ میں آ جاتا ہے۔ X s+* U(رب نے ایوب سے پوچھا،)'اُس کے بچے خون کے لالچ میں رہتے، اور جہاں بھی لاش ہو وہاں وہ حاضر ہوتا ہے۔“ (!'وہاں سے وہ اپنے شکار کا کھوج لگاتا ہے، اُس کی آنکھیں دُور دُور تک دیکھتی ہیں۔'%'وہ چٹان پر رہتا، اُس کے ٹوٹے پھوٹے کناروں اور قلعہ بند جگہوں پر بسیرا کرتا ہے۔1&]'کیا عقاب تیرے ہی حکم پر بلندیوں پر منڈلاتا اور اونچی اونچی جگہوں پر اپنا گھونسلا بنا لیتا ہے؟$%C'کیا باز تیری ہی حکمت کے ذریعے ہَوا میں اُڑ کر اپنے پَروں کو جنوب کی جانب پھیلا دیتا ہے؟ =I<0 (”مرد کی طرح کمربستہ ہو جا! مَیں تجھ سے سوال کروں اور تُو مجھے تعلیم دے۔R/(تب اللہ طوفان میں سے ایوب سے ہم کلام ہوا،4.c(ایک بار مَیں نے بات کی اور اِس کے بعد مزید ایک دفعہ، لیکن اب سے مَیں جواب میں کچھ نہیں کہوں گا۔“--U(”مَیں تو نالائق ہوں، مَیں کس طرح تجھے جواب دوں؟ مَیں اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش رہوں گا۔@,}(تب ایوب نے جواب دے کر رب سے کہا،?+y(”کیا ملامت کرنے والا عدالت میں قادرِ مطلق سے جھگڑنا چاہتا ہے؟ اللہ کی سرزنش کرنے والا اُسے جواب دے!“ `T2z` 6( اُن سب کو مٹی میں چھپا دے، اُنہیں رسّوں میں جکڑ کر کسی خفیہ جگہ گرفتار کر۔5( ہر متکبر پر غور کر کے اُسے پست کر۔ جہاں بھی بےدین ہو وہیں اُسے کچل دے۔44c( بیک وقت اپنا شدید قہر مختلف جگہوں پر نازل کر، ہر مغرور کو اپنا نشانہ بنا کر اُسے خاک میں ملا دے۔z3o( آ، اپنے آپ کو شان و شوکت سے آراستہ کر، عزت و جلال سے ملبّس ہو جا!!2=( کیا تیرا بازو اللہ کے بازو جیسا زورآور ہے؟ کیا تیری آواز اُس کی آواز کی طرح کڑکتی ہے۔(1K(کیا تُو واقعی میرا انصاف منسوخ کر کے مجھے مجرم ٹھہرانا چاہتا ہے تاکہ خود راست باز ٹھہرے؟ gGv< (وہ اللہ کے کاموں میں سے اوّل ہے، اُس کے خالق ہی نے اُسے اُس کی تلوار دی۔d;C(اُس کی ہڈیاں پیتل کے سے پائپ، لوہے کے سے سریئے ہیں۔M:(وہ اپنی دُم کو دیودار کے درخت کی طرح لٹکنے دیتا ہے، اُس کی رانوں کی نسیں مضبوطی سے ایک دوسری سے جُڑی ہوئی ہیں۔w9i(اُس کی کمر میں کتنی طاقت، اُس کے پیٹ کے پٹھوں میں کتنی قوت ہے۔"8?(بہیموت پر غور کر جسے مَیں نے تجھے خلق کرتے وقت بنایا اور جو بَیل کی طرح گھاس کھاتا ہے۔7%(تب ہی مَیں تیری تعریف کر کے مان جاؤں گا کہ تیرا دہنا ہاتھ تجھے نجات دے سکتا ہے۔ 0[-?0 A(کیا کوئی اُس کی آنکھوں میں اُنگلیاں ڈال کر اُسے پکڑ سکتا ہے؟ اگر اُسے پھندے میں پکڑا بھی جائے تو کیا کوئی اُس کی ناک کو چھید سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! j@O(جب دریا سیلاب کی صورت اختیار کرے تو وہ نہیں بھاگتا۔ گو دریائے یردن اُس کے منہ پر پھوٹ پڑے توبھی وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے۔?+(خاردار جھاڑیاں اُس پر سایہ ڈالتی اور ندی کے سفیدہ کے درخت اُسے گھیرے رکھتے ہیں۔>(وہ کانٹےدار جھاڑیوں کے نیچے آرام کرتا، سرکنڈوں اور دلدل میں چھپا رہتا ہے۔!==(پہاڑیاں اُسے اپنی پیداوار پیش کرتی، کھلے میدان کے تمام جانور وہاں کھیلتے کودتے ہیں۔ NpRF)کیا تُو پرندے کی طرح اُس کے ساتھ کھیل سکتا یا اُسے باندھ کر اپنی لڑکیوں کو دے سکتا ہے تاکہ وہ اُس کے ساتھ کھیلیں؟E)کیا وہ کبھی تیرے ساتھ عہد کرے گا کہ تُو اُسے اپنا غلام بنائے رکھے؟ ہرگز نہیں!D%)کیا وہ کبھی تجھ سے بار بار رحم مانگے گا یا نرم نرم الفاظ سے تیری خوشامد کرے گا؟+CQ)کیا تُو اُس کی ناک چھید کر اُس میں سے رسّا گزار سکتا یا اُس کے جبڑے کو کانٹے سے چیر سکتا ہے؟.B Y)کیا تُو لِویاتان اژدہے کو مچھلی کے کانٹے سے پکڑ سکتا یا اُس کی زبان کو رسّے سے باندھ سکتا ہے؟ 1d^1L) کس نے مجھے کچھ دیا ہے کہ مَیں اُس کا معاوضہ دوں۔ آسمان تلے ہر چیز میری ہی ہے!K%) کوئی اِتنا بےدھڑک نہیں ہے کہ اُسے مشتعل کرے۔ تو پھر کون میرا سامنا کر سکتا ہے؟3Ja) یقیناً اُس پر قابو پانے کی ہر اُمید فریب دہ ثابت ہو گی، کیونکہ اُسے دیکھتے ہی انسان گر جاتا ہے۔=Iu)ایک دفعہ اُسے ہاتھ لگایا تو یہ لڑائی تجھے ہمیشہ یاد رہے گی، اور تُو آئندہ ایسی حرکت کبھی نہیں کرے گا! H)کیا تُو اُس کی کھال کو بھالوں سے یا اُس کے سر کو ہارپونوں سے بھر سکتا ہے؟G+)کیا سوداگر کبھی اُس کا سودا کریں گے یا اُسے تاجروں میں تقسیم کریں گے؟ کبھی نہیں! E$/:EP[fq|  +6ALWbmx(3=HS^it (6 ( 62 ( 63 ( 64 ( 65 ( 66 (67 (68 (69  ( 62 ( 63 ( 64 ( 65 ( 66 (67 (68 (69 (6: (6; (6< (6= (6> (6? (6@ (6A  )6B )6C )6D )6E )6F )6G )6H )6I ) 6J ) 6K ) 6L ) 6M ) 6N )6O )6P )6Q )6R )6S )6T )6U )6V )6W )6X )6Y )6Z )6[ )6\ )6] )6^ )6_ )6` ) 6a )!6b )"6c  *6d *6e *6f *6g *6h *6i *6j *6k * 6l * 6m * 6n * 6o * 6p *6q *6r *6s *6t 6u  6v L[&QG)وہ اِتنی مضبوطی سے ایک دوسری سے لگی ہوتی ہیں کہ اُن کے درمیان سے ہَوا بھی نہیں گزر سکتی،P)اُس کی پیٹھ پر ایک دوسری سے خوب جُڑی ہوئی ڈھالوں کی قطاریں ہوتی ہیں۔FO)کون اُس کے منہ کا دروازہ کھولنے کی جرٲت کرے؟ اُس کے ہول ناک دانت دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔N3) کون اُس کی کھال اُتار سکتا، کون اُس کے زرہ بکتر کی دو تہوں کے اندر تک پہنچ سکتا ہے؟0M[) مَیں تجھے اُس کے اعضا کے بیان سے محروم نہیں رکھوں گا، کہ وہ کتنا بڑا، طاقت ور اور خوب صورت ہے۔ TK'$WC)اُس کی گردن میں اِتنی طاقت ہے کہ جہاں بھی جائے وہاں اُس کے آگے آگے مایوسی پھیل جاتی ہے۔V})جب پھونک مارے تو کوئلے دہک اُٹھتے اور اُس کے منہ سے شعلے نکلتے ہیں۔U1)اُس کے نتھنوں سے دھواں یوں نکلتا ہے جس طرح بھڑکتی اور دہکتی آگ پر رکھی گئی دیگ سے۔`T;)اُس کے منہ سے مشعلیں اور چنگاریاں خارج ہوتی ہیں،"S?)جب چھینکیں مارے تو بجلی چمک اُٹھتی ہے۔ اُس کی آنکھیں طلوعِ صبح کی پلکوں کی مانند ہیں۔(RK)بلکہ یوں ایک دوسری سے چمٹی اور لپٹی رہتی ہیں کہ اُنہیں ایک دوسری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ v;P#v)]M)تیر اُسے نہیں بھگا سکتے، اور اگر غلیل کے پتھر اُس پر چلاؤ تو اُن کا اثر بھوسے کے برابر ہے۔f\G)وہ لوہے کو بھوسا اور پیتل کو گلی سڑی لکڑی سمجھتا ہے۔@[{)ہتھیاروں کا اُس پر کوئی اثر نہیں ہوتا، خواہ کوئی تلوار، نیزے، برچھی یا تیر سے اُس پر حملہ کیوں نہ کرے۔vZg)جب اُٹھے تو زورآور ڈر جاتے اور دہشت کھا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔oYY)اُس کا دل پتھر جیسا سخت، چکّی کے نچلے پاٹ جیسا مستحکم ہے۔AX})اُس کے گوشت پوست کی تہیں ایک دوسری سے خوب جُڑی ہوئی ہیں، وہ ڈھالے ہوئے لوہے کی طرح مضبوط اور بےلچک ہیں۔ 5qm5b)!دنیا میں اُس جیسا کوئی مخلوق نہیں، ایسا بنایا گیا ہے کہ کبھی نہ ڈرے۔-aU) اپنے پیچھے وہ چمکتا دمکتا راستہ چھوڑتا ہے۔ تب لگتا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں کے سفید بال ہیں۔/`Y)جب سمندر کی گہرائیوں میں سے گزرے تو پانی اُبلتی دیگ کی طرح کھَولنے لگتا ہے۔ وہ مرہم کے مختلف اجزا کو ملا ملا کر تیار کرنے والے عطار کی طرح سمندر کو حرکت میں لاتا ہے۔M_)اُس کے پیٹ پر تیز ٹھیکرے سے لگے ہیں، اور جس طرح اناج پر گاہنے کا آلہ چلایا جاتا ہے اُسی طرح وہ کیچڑ پر چلتا ہے۔ ^)ڈنڈا اُسے تنکا سا لگتا ہے، اور وہ شمشیر کا شور شرابہ سن کر ہنس اُٹھتا ہے۔ J a"f?*تُو نے فرمایا، ’یہ کون ہے جو سمجھ سے خالی باتیں کرنے سے میرے منصوبے کے صحیح مطلب پر پردہ ڈالتا ہے؟‘ یقیناً مَیں نے ایسی باتیں بیان کیں جو میری سمجھ سے باہر ہیں، ایسی باتیں جو اِتنی انوکھی ہیں کہ مَیں اُن کا علم رکھ ہی نہیں سکتا۔&eG*”مَیں نے جان لیا ہے کہ تُو سب کچھ کر پاتا ہے، کہ تیرا کوئی بھی منصوبہ روکا نہیں جا سکتا۔0wاگر مَیں نے اُس سے بُرا سلوک کیا جس کا میرے ساتھ جھگڑا نہیں تھا یا اپنے دشمن کو خواہ مخواہ لُوٹ لیا ہو/اے رب میرے خدا، اگر مجھ سے یہ کچھ سرزد ہوا اور میرے ہاتھ قصوروار ہوں،$.Cورنہ وہ شیرببر کی طرح مجھے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے، اور بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ 7f]7(8K یقیناً اِس وقت بھی دشمن اپنی تلوار کو تیز کر رہا، اپنی کمان کو تان کر نشانہ باندھ رہا ہے۔w7i اللہ عادل منصف ہے، ایسا خدا جو روزانہ لوگوں کی سرزنش کرتا ہے۔6 اللہ میری ڈھال ہے۔ جو دل سے سیدھی راہ پر چلتے ہیں اُنہیں وہ رِہائی دیتا ہے۔F5 اے راست خدا، جو دل کی گہرائیوں کو تہہ تک جانچ لیتا ہے، بےدینوں کی شرارتیں ختم کر اور راست باز کو قائم رکھ۔(4Kرب اقوام کی عدالت کرتا ہے۔ اے رب، میری راست بازی اور بےگناہی کا لحاظ کر کے میرا انصاف کر۔3'اقوام تیرے ارد گرد جمع ہو جائیں جب تُو اُن کے اوپر بلندیوں پر تخت نشین ہو جائے۔ JM/=Yمَیں رب کی ستائش کروں گا، کیونکہ وہ راست ہے۔ مَیں رب تعالیٰ کے نام کی تعریف میں گیت گاؤں گا۔ <وہ خود اپنی شرارت کی زد میں آئے گا، اُس کا ظلم اُس کے اپنے سر پر نازل ہو گا۔';Iلیکن جو گڑھا اُس نے دوسروں کو پھنسانے کے لئے کھود کھود کر تیار کیا اُس میں خود گر پڑا ہے۔<:sدیکھ، بُرائی کا بیج اُس میں اُگ آیا ہے۔ اب وہ شرارت سے حاملہ ہو کر پھرتا اور جھوٹ کے بچے جنم دیتا ہے۔29_ لیکن جو مہلک ہتھیار اور جلتے ہوئے تیر اُس نے تیار کر رکھے ہیں اُن کی زد میں وہ خود ہی آ جائے گا۔ hhAتو انسان کون ہے کہ تُو اُسے یاد کرے یا آدم زاد کہ تُو اُس کا خیال رکھے؟{@qجب مَیں تیرے آسمان کا ملاحظہ کرتا ہوں جو تیری اُنگلیوں کا کام ہے، چاند اور ستاروں پر غور کرتا ہوں جن کو تُو نے اپنی اپنی جگہ پر قائم کیاs?aاپنے مخالفوں کے جواب میں تُو نے چھوٹے بچوں اور شیرخواروں کی زبان کو تیار کیا ہے تاکہ وہ تیری قوت سے دشمن اور کینہ پرور کو ختم کریں۔> %داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: گتّیت۔ اے رب ہمارے آقا، تیرا نام پوری دنیا میں کتنا شاندار ہے! تُو نے آسمان پر ہی اپنا جلال ظاہر کر دیا ہے۔ hixG m داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: علاموت لبّین۔ اے رب، مَیں پورے دل سے تیری ستائش کروں گا، تیرے تمام معجزات کا بیان کروں گا۔mFU اے رب ہمارے آقا، پوری دنیا میں تیرا نام کتنا شاندار ہے! wEiپرندے، مچھلیاں یا سمندری راہوں پر چلنے والے باقی تمام جانور۔aD=خواہ بھیڑبکریاں ہوں خواہ گائےبَیل، جنگلی جانور،C)تُو نے اُسے اپنے ہاتھوں کے کاموں پر مقرر کیا، سب کچھ اُس کے پاؤں کے نیچے کر دیا،B#تُو نے اُسے فرشتوں سے کچھ ہی کم بنایا، تُو نے اُسے جلال اور عزت کا تاج پہنایا۔ L%r^L7 دشمن تباہ ہو گیا، ابد تک ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ تُو نے شہروں کو جڑ سے اُکھاڑ دیا ہے، اور اُن کی یاد تک باقی نہیں رہے گی۔/KY تُو نے اقوام کو ملامت کر کے بےدینوں کو ہلاک کر دیا، اُن کا نام و نشان ہمیشہ کے لئے مٹا دیا ہے۔ J کیونکہ تُو نے میرا انصاف کیا ہے، تُو تخت پر بیٹھ کر راست منصف ثابت ہوا ہے۔I جب میرے دشمن پیچھے ہٹ جائیں گے تو وہ ٹھوکر کھا کر تیرے حضور تباہ ہو جائیں گے۔0H[ مَیں شادمان ہو کر تیری خوشی مناؤں گا۔ اے اللہ تعالیٰ، مَیں تیرے نام کی تمجید میں گیت گاؤں گا۔ %YCs%R) کیونکہ جو مقتولوں کا انتقام لیتا ہے وہ مصیبت زدوں کی چیخیں نظرانداز نہیں کرتا۔/QY رب کی تمجید میں گیت گاؤ جو صیون پہاڑ پر تخت نشین ہے، اُمّتوں میں وہ کچھ سناؤ جو اُس نے کیا ہے۔LP اے رب، جو تیرا نام جانتے وہ تجھ پر بھروسا رکھتے ہیں۔ کیونکہ جو تیرے طالب ہیں اُنہیں تُو نے کبھی ترک نہیں کیا۔ O رب مظلوموں کی پناہ گاہ ہے، ایک قلعہ جس میں وہ مصیبت کے وقت محفوظ رہتے ہیں۔N} وہ راستی سے دنیا کی عدالت کرے گا، انصاف سے اُمّتوں کا فیصلہ کرے گا۔#MA لیکن رب ہمیشہ تک تخت نشین رہے گا، اور اُس نے اپنے تخت کو عدالت کرنے کے لئے کھڑا کیا ہے۔ %#%7Vi رب نے انصاف کر کے اپنا اظہار کیا تو بےدین اپنے ہاتھ کے پھندے میں اُلجھ گیا۔ (ہگایون کا طرز۔ سِلاہ)?Uy اقوام اُس گڑھے میں خود گر گئی ہیں جو اُنہوں نے دوسروں کو پکڑنے کے لئے کھودا تھا۔ اُن کے اپنے پاؤں اُس جال میں پھنس گئے ہیں جو اُنہوں نے دوسروں کو پھنسانے کے لئے بچھا دیا تھا۔jTO تاکہ مَیں صیون بیٹی کے دروازوں میں تیری ستائش کر کے وہ کچھ سناؤں جو تُو نے میرے لئے کیا ہے، تاکہ مَیں تیری نجات کی خوشی مناؤں۔kSQ اے رب، مجھ پر رحم کر! میری اُس تکلیف پر غور کر جو نفرت کرنے والے مجھے پہنچا رہے ہیں۔ مجھے موت کے دروازوں میں سے نکال کر اُٹھا لے (e (0\[ بےدین تکبر سے مصیبت زدوں کے پیچھے لگ گئے ہیں، اور اب بےچارے اُن کے جالوں میں اُلجھنے لگے ہیں۔ [ = اے رب، تُو اِتنا دُور کیوں کھڑا ہے؟ مصیبت کے وقت تُو اپنے آپ کو پوشیدہ کیوں رکھتا ہے؟Z اے رب، اُنہیں دہشت زدہ کر تاکہ اقوام جان لیں کہ انسان ہی ہیں۔ (سِلاہ) $YC اے رب، اُٹھ کھڑا ہو تاکہ انسان غالب نہ آئے۔ بخش دے کہ تیرے حضور اقوام کی عدالت کی جائے۔0X[ کیونکہ وہ ضرورت مندوں کو ہمیشہ تک نہیں بھولے گا، مصیبت زدوں کی اُمید ابد تک جاتی نہیں رہے گی۔W) بےدین پاتال میں اُتریں گے، جو اُمّتیں اللہ کو بھول گئی ہیں وہ سب وہاں جائیں گی۔ E%0;FQ\gr| !,7BMWbmx'2=HS^hs~  6 6 6 6 6 6 6 6  6  6 6 6 6 6 6 6 6  6   6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6   6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6  6   6  6  6  6  6  6  6   6  6  6  6  6  6  6  6   6  6  6  6  7  7  7 8GL,`S دل میں وہ سوچتا ہے، ”مَیں کبھی نہیں ڈگمگاؤں گا، نسل در نسل مصیبت کے پنجوں سے بچا رہوں گا۔“w_i جو کچھ بھی کرے اُس میں وہ کامیاب ہے۔ تیری عدالتیں اُسے بلندیوں میں کہیں دُور لگتی ہیں جبکہ وہ اپنے تمام مخالفوں کے خلاف پھنکارتا ہے۔m^U بےدین غرور سے پھول کر کہتا ہے، ”اللہ مجھ سے جواب طلبی نہیں کرے گا۔“ اُس کے تمام خیالات اِس بات پر مبنی ہیں کہ کوئی خدا نہیں ہے۔D] کیونکہ بےدین اپنی دلی آرزوؤں پر شیخی مارتا ہے، اور ناجائز نفع کمانے والا لعنت کر کے رب کو حقیر جانتا ہے۔ @hZ-dU اُس کے شکار پاش پاش ہو کر جھک جاتے ہیں، بےچارے اُس کی زبردست طاقت کی زد میں آ کر گر جاتے ہیں۔ c جنگل میں بیٹھے شیرببر کی طرح تاک میں رہ کر وہ مصیبت زدہ پر حملہ کرنے کا موقع ڈھونڈتا ہے۔ جب اُسے پکڑ لے تو اُسے اپنے جال میں گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔Tb# وہ آبادیوں کے قریب تاک میں بیٹھ کر چپکے سے بےگناہوں کو مار ڈالتا ہے، اُس کی آنکھیں بدقسمتوں کی گھات میں رہتی ہیں۔Ch اے اللہ، حقیقت میں تُو یہ سب کچھ دیکھتا ہے۔ تُو ہماری تکلیف اور پریشانی پر دھیان دے کر مناسب جواب دے گا۔ ناچار اپنا معاملہ تجھ پر چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ تُو یتیموں کا مددگار ہے۔#gA بےدین اللہ کی تحقیر کیوں کرے، وہ دل میں کیوں کہے، ”اللہ مجھ سے جواب طلب نہیں کرے گا“؟f# اے رب، اُٹھ! اے اللہ، اپنا ہاتھ اُٹھا کر ناچاروں کی مدد کر اور اُنہیں نہ بھول۔>ew تب وہ دل میں کہتا ہے، ”اللہ بھول گیا ہے، اُس نے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے، اُسے یہ کبھی نظر نہیں آئے گا۔“ S=hSm  داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ مَیں نے رب میں پناہ لی ہے۔ تو پھر تم کس طرح مجھ سے کہتے ہو، ”چل، پرندے کی طرح پھڑپھڑا کر پہاڑوں میں بھاگ جا“؟%lE یتیموں اور مظلوموں کا انصاف کرے گا تاکہ آئندہ کوئی بھی انسان ملک میں دہشت نہ پھیلائے۔ .kW اے رب، تُو نے ناچاروں کی آرزو سن لی ہے۔ تُو اُن کے دلوں کو مضبوط کرے گا اور اُن پر دھیان دے کرwji رب ابد تک بادشاہ ہے۔ اُس کے ملک سے دیگر اقوام غائب ہو گئی ہیں۔?iy شریر اور بےدین آدمی کا بازو توڑ دے! اُس سے اُس کی شرارتوں کی جواب طلبی کر تاکہ اُس کا پورا اثر مٹ جائے۔ FxF5re بےدینوں پر وہ جلتے ہوئے کوئلے اور شعلہ زن گندھک برسا دے گا۔ جُھلسنے والی آندھی اُن کا حصہ ہو گی۔q رب راست باز کو پرکھتا تو ہے، لیکن بےدین اور ظالم سے نفرت ہی کرتا ہے۔opY لیکن رب اپنی مُقدّس سکونت گاہ میں ہے، رب کا تخت آسمان پر ہے۔ وہاں سے وہ دیکھتا ہے، وہاں سے اُس کی آنکھیں آدم زادوں کو پرکھتی ہیں۔po[ راست باز کیا کرے؟ اُنہوں نے تو بنیاد کو ہی تباہ کر دیا ہے۔n کیونکہ دیکھو، بےدین کمان تان کر تیر کو تانت پر لگا چکے ہیں۔ اب وہ اندھیرے میں بیٹھ کر اِس انتظار میں ہیں کہ دل سے سیدھی راہ پر چلنے والوں پر چلائیں۔ JH"w وہ اُن سب کو مٹا دے جو کہتے ہیں، ”ہم اپنی لائق زبان کے باعث طاقت ور ہیں۔ ہمارے ہونٹ ہمیں سہارا دیتے ہیں تو کون ہمارا مالک ہو گا؟ کوئی نہیں!“dvC رب تمام چِکنی چپڑی اور شیخی باز زبانوں کو کاٹ ڈالے!;uq آپس میں سب جھوٹ بولتے ہیں۔ اُن کی زبان پر چِکنی چپڑی باتیں ہوتی ہیں جبکہ دل میں کچھ اَور ہی ہوتا ہے۔~t y داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: شمینیت۔ اے رب، مدد فرما! کیونکہ ایمان دار ختم ہو گئے ہیں۔ دیانت دار انسانوں میں سے مٹ گئے ہیں۔2s_ کیونکہ رب راست ہے، اور اُسے انصاف پیارا ہے۔ صرف سیدھی راہ پر چلنے والے اُس کا چہرہ دیکھیں گے۔  {9 گو بےدین آزادی سے اِدھر اُدھر پھرتے ہیں، اور انسانوں کے درمیان کمینہ پن کا راج ہے۔ z1 اے رب، تُو ہی اُنہیں محفوظ رکھے گا، تُو ہی اُنہیں ابد تک اِس نسل سے بچائے رکھے گا،y رب کے فرمان پاک ہیں، وہ بھٹی میں سات بار صاف کی گئی چاندی کی مانند خالص ہیں۔Hx  لیکن رب فرماتا ہے، ”ناچاروں پر تمہارے ظلم کی خبر اور ضرورت مندوں کی کراہتی آوازیں میرے سامنے آئی ہیں۔ اب مَیں اُٹھ کر اُنہیں اُن سے چھٹکارا دوں گا جو اُن کے خلاف پھنکارتے ہیں۔“ 0sB تب میرا دشمن کہے گا، ”مَیں اُس پر غالب آ گیا ہوں!“ اور میرے مخالف شادیانہ بجائیں گے کہ مَیں ہل گیا ہوں۔9~m اے رب میرے خدا، مجھ پر نظر ڈال کر میری سن! میری آنکھوں کو روشن کر، ورنہ مَیں موت کی نیند سو جاؤں گا۔[}1 میری جان کب تک پریشانیوں میں مبتلا رہے، میرا دل کب تک روز بہ روز دُکھ اُٹھاتا رہے؟ میرا دشمن کب تک مجھ پر غالب رہے گا؟m| W داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، کب تک؟ کیا تُو مجھے ابد تک بھولا رہے گا؟ تُو کب تک اپنا چہرہ مجھ سے چھپائے رکھے گا؟ BaB4cافسوس، سب صحیح راہ سے بھٹک گئے، سب کے سب بگڑ گئے ہیں۔ کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں۔0[رب نے آسمان سے انسان پر نظر ڈالی تاکہ دیکھے کہ کیا کوئی سمجھ دار ہے؟ کیا کوئی اللہ کا طالب ہے؟' Kداؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ احمق دل میں کہتا ہے، ”اللہ ہے ہی نہیں!“ ایسے لوگ بدچلن ہیں، اُن کی حرکتیں قابلِ گھن ہیں۔ ایک بھی نہیں ہے جو اچھا کام کرے۔ مَیں رب کی تمجید میں گیت گاؤں گا، کیونکہ اُس نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ 1 لیکن مَیں تیری شفقت پر بھروسا رکھتا ہوں، میرا دل تیری نجات دیکھ کر خوشی منائے گا۔ h$h3  cداؤد کا زبور۔ اے رب، کون تیرے خیمے میں ٹھہر سکتا ہے؟ کس کو تیرے مُقدّس پہاڑ پر رہنے کی اجازت ہے؟eEکاش کوہِ صیون سے اسرائیل کی نجات نکلے! جب رب اپنی قوم کو بحال کرے گا تو یعقوب خوشی کے نعرے لگائے گا، اسرائیل باغ باغ ہو گا۔ #تم ناچار کے منصوبوں کو خاک میں ملانا چاہتے ہو، لیکن رب خود اُس کی پناہ گاہ ہے۔{تب اُن پر سخت دہشت چھا گئی، کیونکہ اللہ راست باز کی نسل کے ساتھ ہے۔X+کیا جو بدی کر کے میری قوم کو روٹی کی طرح کھا لیتے ہیں اُن میں سے ایک کو بھی سمجھ نہیں آتی؟ وہ تو رب کو پکارتے ہی نہیں۔ ts aوہ سود لئے بغیر اُدھار دیتا ہے اور اُس کی رشوت قبول نہیں کرتا جو بےگناہ کا حق مارنا چاہتا ہے۔ ایسا شخص کبھی ڈانواں ڈول نہیں ہو گا۔  وہ مردود کو حقیر جانتا لیکن خدا ترس کی عزت کرتا ہے۔ جو وعدہ اُس نے قَسم کھا کر کیا اُسے پورا کرتا ہے، خواہ اُسے کتنا ہی نقصان کیوں نہ پہنچے۔C ایسا شخص اپنی زبان سے کسی پر تہمت نہیں لگاتا۔ نہ وہ اپنے پڑوسی پر زیادتی کرتا، نہ اُس کی بےعزتی کرتا ہے۔  وہ جس کا چال چلن بےگناہ ہے، جو راست باز زندگی گزار کر دل سے سچ بولتا ہے۔ ^6yاے رب، تُو میری میراث اور میرا حصہ ہے۔ میرا نصیب تیرے ہاتھ میں ہے۔1لیکن جو دیگر معبودوں کے پیچھے بھاگے رہتے ہیں اُن کی تکلیف بڑھتی جائے گی۔ نہ مَیں اُن کی خون کی قربانیوں کو پیش کروں گا، نہ اُن کے ناموں کا ذکر تک کروں گا۔ ملک میں جو مُقدّسین ہیں وہی میرے سورمے ہیں، اُن ہی کو مَیں پسند کرتا ہوں۔#مَیں نے رب سے کہا، ”تُو میرا آقا ہے، تُو ہی میری خوش حالی کا واحد سرچشمہ ہے۔“ 9داؤد کا ایک سنہرا زبور۔ اے اللہ، مجھے محفوظ رکھ، کیونکہ تجھ میں مَیں پناہ لیتا ہوں۔ }`D}C کیونکہ تُو میری جان کو پاتال میں نہیں چھوڑے گا، اور نہ اپنے مُقدّس کو گلنے سڑنے کی نوبت تک پہنچنے دے گا۔6g اِس لئے میرا دل شادمان ہے، میری جان خوشی کے نعرے لگاتی ہے۔ ہاں، میرا بدن پُرسکون زندگی گزارے گا۔5eرب ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔ وہ میرے دہنے ہاتھ رہتا ہے، اِس لئے مَیں نہیں ڈگمگاؤں گا۔%Eمَیں رب کی ستائش کروں گا جس نے مجھے مشورہ دیا ہے۔ رات کو بھی میرا دل میری ہدایت کرتا ہے۔3جب قرعہ ڈالا گیا تو مجھے خوش گوار زمین مل گئی۔ یقیناً میری میراث مجھے بہت پسند ہے۔ )-'تیرے حضور میرا انصاف کیا جائے، تیری آنکھیں اُن باتوں کا مشاہدہ کریں جو سچ ہیں۔x mداؤد کی دعا۔ اے رب، انصاف کے لئے میری فریاد سن، میری آہ و زاری پر دھیان دے۔ میری دعا پر غور کر، کیونکہ وہ فریب دہ ہونٹوں سے نہیں نکلتی۔S! تُو مجھے زندگی کی راہ سے آگاہ کرتا ہے۔ تیرے حضور سے بھرپور خوشیاں، تیرے دہنے ہاتھ سے ابدی مسرتیں حاصل ہوتی ہیں۔ |+/اے اللہ، مَیں تجھے پکارتا ہوں، کیونکہ تُو میری سنے گا۔ کان لگا کر میری دعا کو سن۔ymمَیں قدم بہ قدم تیری راہوں میں رہا، میرے پاؤں کبھی نہ ڈگمگائے۔Qجو کچھ بھی دوسرے کرتے ہیں مَیں نے خود تیرے منہ کے فرمان کے تابع رہ کر اپنے آپ کو ظالموں کی راہوں سے دُور رکھا ہے۔{تُو نے میرے دل کو جانچ لیا، رات کو میرا معائنہ کیا ہے۔ تُو نے مجھے بھٹی میں ڈال دیا تاکہ ناپاک چیزیں دُور کرے، گو ایسی کوئی چیز نہیں ملی۔ کیونکہ مَیں نے پورا ارادہ کر لیا ہے کہ میرے منہ سے بُری بات نہیں نکلے گی۔ E  #.9DNYdoz(3>IT_ju$/:EP[fq| 7 7 7 7 7  7 7 7 7 7 7 7 7 7  7 7 7 7 7  7 7 7 7 7 7 7 7  7  7  7  7 7 7 7 7 7 7 7  7!  7"  7#  7$  7% 7& 7'  7( 7) 7* 7+ 7, 7- 7. 7/  70  71  72  73  74 75 76 77 78 79 7: 7; 7< 7= 7> 7? 7@ 7A 7B 7C 7D 7E 7F  7G !7H %,%# جدھر بھی ہم قدم اُٹھائیں وہاں وہ بھی پہنچ جاتے ہیں۔ اب اُنہوں نے ہمیں گھیر لیا ہے، وہ گھور گھور کر ہمیں زمین پر پٹخنے کا موقع ڈھونڈ رہے ہیں۔k"Q وہ سرکش ہو گئے ہیں، اُن کے منہ گھمنڈ کی باتیں کرتے ہیں۔e!E اُن بےدینوں سے مجھے محفوظ رکھ جو مجھ پر تباہ کن حملے کر رہے ہیں، اُن دشمنوں سے جو مجھے گھیر کر مار ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آنکھ کی پُتلی کی طرح میری حفاظت کر، اپنے پَروں کے سائے میں مجھے چھپا لے۔kQتُو جو اپنے دہنے ہاتھ سے اُنہیں رِہائی دیتا ہے جو اپنے مخالفوں سے تجھ میں پناہ لیتے ہیں، معجزانہ طور پر اپنی شفقت کا اظہار کر۔ :3&aاے رب، اپنے ہاتھ سے مجھے اِن سے چھٹکارا دے۔ اُنہیں تو اِس دنیا میں اپنا حصہ مل چکا ہے۔ کیونکہ تُو نے اُن کے پیٹ کو اپنے مال سے بھر دیا، بلکہ اُن کے بیٹے بھی سیر ہو گئے ہیں اور اِتنا باقی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لئے بھی کافی کچھ چھوڑ جائیں گے۔5%e اے رب، اُٹھ اور اُن کا سامنا کر، اُنہیں زمین پر پٹخ دے! اپنی تلوار سے میری جان کو بےدینوں سے بچا۔B$ وہ اُس شیرببر کی مانند ہیں جو شکار کو پھاڑنے کے لئے تڑپتا ہے، اُس جوان شیر کی مانند جو تاک میں بیٹھا ہے۔ M:M*مَیں رب کو پکارتا ہوں، اُس کی تمجید ہو! تب وہ مجھے دشمنوں سے چھٹکارا دیتا ہے۔)رب میری چٹان، میرا قلعہ اور میرا نجات دہندہ ہے۔ میرا خدا میری چٹان ہے جس میں مَیں پناہ لیتا ہوں۔ وہ میری ڈھال، میری نجات کا پہاڑ، میرا بلند حصار ہے۔=( wرب کے خادم داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ داؤد نے رب کے لئے یہ گیت گایا جب رب نے اُسے تمام دشمنوں اور ساؤل سے بچایا۔ وہ بولا، اے رب میری قوت، مَیں تجھے پیار کرتا ہوں۔B'لیکن مَیں خود راست باز ثابت ہو کر تیرے چہرے کا مشاہدہ کروں گا، مَیں جاگ کر تیری صورت سے سیر ہو جاؤں گا۔ <q<*/Oاُس کی ناک سے دھواں نکل آیا، اُس کے منہ سے بھسم کرنے والے شعلے اور دہکتے کوئلے بھڑک اُٹھے۔9.mتب زمین لرز اُٹھی اور تھرتھرانے لگی، پہاڑوں کی بنیادیں رب کے غضب کے سامنے کانپنے اور جھولنے لگیں۔4-cجب مَیں مصیبت میں پھنس گیا تو مَیں نے رب کو پکارا۔ مَیں نے مدد کے لئے اپنے خدا سے فریاد کی تو اُس نے اپنی سکونت گاہ سے میری آواز سنی، میری چیخیں اُس کے کان تک پہنچ گئیں۔,پاتال کے رسّوں نے مجھے جکڑ لیا، موت نے میرے راستے میں اپنے پھندے ڈال دیئے۔ +موت کے رسّوں نے مجھے گھیر لیا، ہلاکت کے سیلاب نے میرے دل پر دہشت طاری کی۔ Vy-4U رب آسمان سے کڑکنے لگا، اللہ تعالیٰ کی آواز گونج اُٹھی۔ تب اولے اور شعلہ زن کوئلے برسنے لگے۔3 اُس کے حضور کی تیز روشنی سے اُس کے بادل اولے اور شعلہ زن کوئلے لے کر نکل آئے۔?2y اُس نے اندھیرے کو اپنی چھپنے کی جگہ بنایا، بارش کے کالے اور گھنے بادل خیمے کی طرح اپنے گرداگرد لگائے۔1} وہ کروبی فرشتے پر سوار ہوا اور اُڑ کر ہَوا کے پَروں پر منڈلانے لگا۔&0G آسمان کو جھکا کر وہ نازل ہوا۔ جب اُتر آیا تو اُس کے پاؤں کے نیچے اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ 66Q6+9Qجس دن مَیں مصیبت میں پھنس گیا اُس دن اُنہوں نے مجھ پر حملہ کیا، لیکن رب میرا سہارا بنا رہا۔38aاُس نے مجھے میرے زبردست دشمن سے بچایا، اُن سے جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں، جن پر مَیں غالب نہ آ سکا۔17]بلندیوں پر سے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُس نے مجھے پکڑ لیا، مجھے گہرے پانی میں سے کھینچ کر نکال لایا۔a6=اے رب، تُو نے ڈانٹا تو سمندر کی وادیاں ظاہر ہوئیں، جب تُو غصے میں گرجا تو تیرے دم کے جھونکوں سے زمین کی بنیادیں نظر آئیں۔F5اُس نے اپنے تیر چلائے تو دشمن تتر بتر ہو گئے۔ اُس کی تیز بجلی اِدھر اُدھر گرتی گئی تو اُن میں ہل چل مچ گئی۔ ax-"a=?uاِس لئے رب نے مجھے میری راست بازی کا اجر دیا، کیونکہ اُس کی آنکھوں کے سامنے ہی مَیں پاک صاف ثابت ہوا۔s>aاُس کے سامنے ہی مَیں بےالزام رہا، گناہ کرنے سے باز رہا ہوں۔=اُس کے تمام احکام میرے سامنے رہے ہیں، مَیں نے اُس کے فرمانوں کو رد نہیں کیا۔<9کیونکہ مَیں رب کی راہوں پر چلتا رہا ہوں، مَیں بدی کرنے سے اپنے خدا سے دُور نہیں ہوا۔$;Cرب مجھے میری راست بازی کا اجر دیتا ہے۔ میرے ہاتھ صاف ہیں، اِس لئے وہ مجھے برکت دیتا ہے۔:اُس نے مجھے تنگ جگہ سے نکال کر چھٹکارا دیا، کیونکہ وہ مجھ سے خوش تھا۔ 5|jE1اللہ کی راہ کامل ہے، رب کا فرمان خالص ہے۔ جو بھی اُس میں پناہ لے اُس کی وہ ڈھال ہے۔-DUکیونکہ تیرے ساتھ مَیں فوجی دستے پر حملہ کر سکتا، اپنے خدا کے ساتھ دیوار کو پھلانگ سکتا ہوں۔ Cاے رب، تُو ہی میرا چراغ جلاتا، میرا خدا ہی میرے اندھیرے کو روشن کرتا ہے۔B{کیونکہ تُو پست حالوں کو نجات دیتا اور مغرور آنکھوں کو پست کرتا ہے۔5Aeجو پاک ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک پاک ہے۔ لیکن جو کج رَو ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک بھی کج رَوی کا ہے۔G@ اے اللہ، جو وفادار ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک وفاداری کا ہے، جو بےالزام ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک بےالزام ہے۔ RiR K$تُو میرے قدموں کے لئے راستہ بنا دیتا ہے، اِس لئے میرے ٹخنے نہیں ڈگمگاتے۔UJ%#اے رب، تُو نے مجھے اپنی نجات کی ڈھال بخش دی ہے۔ تیرے دہنے ہاتھ نے مجھے قائم رکھا، تیری نرمی نے مجھے بڑا بنا دیا ہے۔+IQ"وہ میرے ہاتھوں کو جنگ کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ اب میرے بازو پیتل کی کمان کو بھی تان لیتے ہیں۔%HE!وہ میرے پاؤں کو ہرن کی سی پُھرتی عطا کرتا، مجھے مضبوطی سے میری بلندیوں پر کھڑا کرتا ہے۔xGk اللہ مجھے قوت سے کمربستہ کرتا، وہ میری راہ کو کامل کر دیتا ہے۔pF[کیونکہ رب کے سوا کون خدا ہے؟ ہمارے خدا کے سوا کون چٹان ہے؟ mT;mJP)وہ مدد کے لئے چیختے چلّاتے رہے، لیکن بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ رب کو پکارتے رہے، لیکن اُس نے جواب نہ دیا۔(OK(تُو نے میرے دشمنوں کو میرے سامنے سے بھگا دیا، اور مَیں نے نفرت کرنے والوں کو تباہ کر دیا۔>Nw'کیونکہ تُو نے مجھے جنگ کرنے کے لئے قوت سے کمربستہ کر دیا، تُو نے میرے مخالفوں کو میرے سامنے جھکا دیا۔'MI&مَیں نے اُنہیں یوں پاش پاش کر دیا کہ دوبارہ اُٹھ نہ سکے بلکہ گر کر میرے پاؤں تلے پڑے رہے۔(LK%مَیں نے اپنے دشمنوں کا تعاقب کر کے اُنہیں پکڑ لیا، مَیں باز نہ آیا جب تک وہ ختم نہ ہو گئے۔ n6f]nqV]/وہی خدا ہے جو میرا انتقام لیتا، اقوام کو میرے تابع کر دیتاxUk.رب زندہ ہے! میری چٹان کی تمجید ہو! میری نجات کے خدا کی تعظیم ہو!fTG-وہ ہمت ہار کر کانپتے ہوئے اپنے قلعوں سے نکل آتے ہیں۔S3,جوں ہی مَیں بات کرتا ہوں تو لوگ میری سنتے ہیں۔ پردیسی دبک کر میری خوشامد کرتے ہیں۔LR+تُو نے مجھے قوم کے جھگڑوں سے بچا کر اقوام کا سردار بنا دیا ہے۔ جس قوم سے مَیں ناواقف تھا وہ میری خدمت کرتی ہے۔FQ*مَیں نے اُنہیں چُور چُور کر کے گرد کی طرح ہَوا میں اُڑا دیا۔ مَیں نے اُنہیں کچرے کی طرح گلی میں پھینک دیا۔ 2 w2u[eایک دن دوسرے کو اطلاع دیتا، ایک رات دوسری کو خبر پہنچاتی ہے،eZ Gداؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ آسمان اللہ کے جلال کا اعلان کرتے ہیں، آسمانی گنبد اُس کے ہاتھوں کا کام بیان کرتا ہے۔`Y;2کیونکہ رب اپنے بادشاہ کو بڑی نجات دیتا ہے، وہ اپنے مسح کئے ہوئے بادشاہ داؤد اور اُس کی اولاد پر ہمیشہ تک مہربان رہے گا۔ %XE1اے رب، اِس لئے مَیں اقوام میں تیری حمد و ثنا کروں گا، تیرے نام کی تعریف میں گیت گاؤں گا۔\W30اور مجھے میرے دشمنوں سے چھٹکارا دیتا ہے۔ یقیناً تُو مجھے میرے مخالفوں پر سرفراز کرتا، مجھے ظالموں سے بچائے رکھتا ہے۔ ""X`+رب کی شریعت کامل ہے، اُس سے جان میں جان آ جاتی ہے۔ رب کے احکام قابلِ اعتماد ہیں، اُن سے سادہ لوح دانش مند ہو جاتا ہے۔L_آسمان کے ایک سرے سے چڑھ کر اُس کا چکر دوسرے سرے تک لگتا ہے۔ اُس کی تپتی گرمی سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں رہتی۔H^ جس طرح دُولھا اپنی خواب گاہ سے نکلتا ہے اُسی طرح سورج نکل کر پہلوان کی طرح اپنی دوڑ دوڑنے پر خوشی مناتا ہے۔|]sتوبھی اُن کی آواز نکل کر پوری دنیا میں سنائی دیتی، اُن کے الفاظ دنیا کی انتہا تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں اللہ نے آفتاب کے لئے خیمہ لگایا ہے۔c\Aلیکن زبان سے نہیں۔ گو اُن کی آواز سنائی نہیں دیتی، 6Se9 جو خطائیں بےخبری میں سرزد ہوئیں کون اُنہیں جانتا ہے؟ میرے پوشیدہ گناہوں کو معاف کر! d اُن سے تیرے خادم کو آگاہ کیا جاتا ہے، اُن پر عمل کرنے سے بڑا اجر ملتا ہے۔:co وہ سونے بلکہ خالص سونے کے ڈھیر سے زیادہ مرغوب ہیں۔ وہ شہد بلکہ چھتے کے تازہ شہد سے زیادہ میٹھے ہیں۔b! رب کا خوف پاک ہے اور ابد تک قائم رہے گا۔ رب کے فرمان سچے اور سب کے سب راست ہیں۔Faرب کی ہدایات باانصاف ہیں، اُن سے دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ رب کے احکام پاک ہیں، اُن سے آنکھیں چمک اُٹھتی ہیں۔ E  #.9DOZep{ *5@KV`kv%0;FP[fq| #7J $7K %7L &7M '7N (7O )7P *7Q +7R #7J $7K %7L &7M '7N (7O )7P *7Q +7R ,7S -7T .7U /7V 07W 17X 27Y  7Z 7[ 7\ 7] 7^ 7_ 7` 7a  7b  7c  7d  7e  7f 7g  7h 7i 7j 7k 7l 7m 7n 7o  7p  7q 7r 7s 7t 7u 7v 7w 7x  7y  7z  7{  7|  7}  7~ 7 7 7 7 7 7 7  7  7  7  7  7 7 7 7 7 +P$j)وہ تیری غلہ کی نذریں یاد کرے، تیری بھسم ہونے والی قربانیاں قبول فرمائے۔ (سِلاہ)jiOوہ مقدِس سے تیری مدد بھیجے، وہ صیون سے تیرا سہارا بنے۔;h sداؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ مصیبت کے دن رب تیری سنے، یعقوب کے خدا کا نام تجھے محفوظ رکھے۔Wg)اے رب، بخش دے کہ میرے منہ کی باتیں اور میرے دل کی سوچ بچار تجھے پسند آئے۔ تُو ہی میری چٹان اور میرا چھڑانے والا ہے۔ Qf اپنے خادم کو گستاخوں سے محفوظ رکھ تاکہ وہ مجھ پر حکومت نہ کریں۔ تب مَیں بےالزام ہو کر سنگین گناہ سے پاک رہوں گا۔ YYoہمارے دشمن جھک کر گر جائیں گے، لیکن ہم اُٹھ کر مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔0n[بعض اپنے رتھوں پر، بعض اپنے گھوڑوں پر فخر کرتے ہیں، لیکن ہم رب اپنے خدا کے نام پر فخر کریں گے۔m#اب مَیں نے جان لیا ہے کہ رب اپنے مسح کئے ہوئے بادشاہ کی مدد کرتا ہے۔ وہ اپنے مُقدّس آسمان سے اُس کی سن کر اپنے دہنے ہاتھ کی قدرت سے اُسے چھٹکارا دے گا۔Olتب ہم تیری نجات کی خوشی منائیں گے، ہم اپنے خدا کے نام میں فتح کا جھنڈا گاڑیں گے۔ رب تیری تمام گزارشیں پوری کرے۔{kqوہ تیرے دل کی آرزو پوری کرے، تیرے تمام منصوبوں کو کامیابی بخشے۔ WWCtاُس نے تجھ سے زندگی پانے کی آرزو کی تو تُو نے اُسے عمر کی درازی بخشی، مزید اِتنے دن کہ اُن کی انتہا نہیں۔7siکیونکہ تُو اچھی اچھی برکتیں اپنے ساتھ لے کر اُس سے ملنے آیا، تُو نے اُسے خالص سونے کا تاج پہنایا۔@r{تُو نے اُس کی دلی خواہش پوری کی اور انکار نہ کیا جب اُس کی آرزو نے ہونٹوں پر الفاظ کا روپ دھارا۔ (سِلاہ)_q ;داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، بادشاہ تیری قوت دیکھ کر شادمان ہے، وہ تیری نجات کی کتنی بڑی خوشی مناتا ہے۔}pu اے رب، ہماری مدد فرما! بادشاہ ہماری سنے جب ہم مدد کے لئے پکاریں۔ |o,{|{yq جب تُو اُن پر ظاہر ہو گا تو وہ بھڑکتی بھٹی کی سی مصیبت میں پھنس جائیں گے۔ رب اپنے غضب میں اُنہیں ہڑپ کر لے گا، اور آگ اُنہیں کھا جائے گی۔-xUتیرے دشمن تیرے قبضے میں آ جائیں گے، جو تجھ سے نفرت کرتے ہیں اُنہیں تیرا دہنا ہاتھ پکڑ لے گا۔w3کیونکہ بادشاہ رب پر اعتماد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی شفقت اُسے ڈگمگانے سے بچائے گی۔v9کیونکہ تُو اُسے ابد تک برکت دیتا، اُسے اپنے چہرے کے حضور لا کر نہایت خوش کر دیتا ہے۔ uتیری نجات سے اُسے بڑی عزت حاصل ہوئی، تُو نے اُسے شان و شوکت سے آراستہ کیا۔ LK0L1~ _داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: طلوعِ صبح کی ہرنی۔ اے میرے خدا، اے میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں ترک کر دیا ہے؟ مَیں چیخ رہا ہوں، لیکن میری نجات نظر نہیں آتی۔+}Q اے رب، اُٹھ اور اپنی قدرت کا اظہار کر تاکہ ہم تیری قدرت کی تمجید میں ساز بجا کر گیت گائیں۔ | کیونکہ تُو اُنہیں بھگا کر اُن کے چہروں کو اپنے تیروں کا نشانہ بنا دے گا۔ {  گو وہ تیرے خلاف سازشیں کرتے ہیں توبھی اُن کے بُرے منصوبے ناکام رہیں گے۔1z] تُو اُن کی اولاد کو رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالے گا، انسانوں میں اُن کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ ?H-Uلیکن مَیں کیڑا ہوں، مجھے انسان نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ میری بےعزتی کرتے، مجھے حقیر جانتے ہیں۔Mجب اُنہوں نے مدد کے لئے تجھے پکارا تو بچنے کا راستہ کھل گیا۔ جب اُنہوں نے تجھ پر اعتماد کیا تو شرمندہ نہ ہوئے۔ ;تجھ پر ہمارے باپ دادا نے بھروسا رکھا، اور جب بھروسا رکھا تو تُو نے اُنہیں رِہائی دی۔yلیکن تُو قدوس ہے، تُو جو اسرائیل کی مدح سرائی پر تخت نشین ہوتا ہے۔=uاے میرے خدا، دن کو مَیں چلّاتا ہوں، لیکن تُو جواب نہیں دیتا۔ رات کو پکارتا ہوں، لیکن آرام نہیں پاتا۔ |d$|$C مجھ سے دُور نہ رہ۔ کیونکہ مصیبت نے میرا دامن پکڑ لیا ہے، اور کوئی نہیں جو میری مدد کرے۔5 جوں ہی مَیں پیدا ہوا مجھے تجھ پر چھوڑ دیا گیا۔ ماں کے پیٹ سے ہی تُو میرا خدا رہا ہے۔M یقیناً تُو مجھے ماں کے پیٹ سے نکال لایا۔ مَیں ابھی ماں کا دودھ پیتا تھا کہ تُو نے میرے دل میں بھروسا پیدا کیا۔J”اُس نے اپنا معاملہ رب کے سپرد کیا ہے۔ اب رب ہی اُسے بچائے۔ وہی اُسے چھٹکارا دے، کیونکہ وہی اُس سے خوش ہے۔“+سب مجھے دیکھ کر میرا مذاق اُڑاتے ہیں۔ وہ منہ بنا کر توبہ توبہ کرتے اور کہتے ہیں، kK کتوں نے مجھے گھیر رکھا، شریروں کے جتھے نے میرا احاطہ کیا ہے۔ اُنہوں نے میرے ہاتھوں اور پاؤں کو چھید ڈالا ہے۔J میری طاقت ٹھیکرے کی طرح خشک ہو گئی، میری زبان تالو سے چپک گئی ہے۔ ہاں، تُو نے مجھے موت کی خاک میں لٹا دیا ہے۔^ 7مجھے پانی کی طرح زمین پر اُنڈیلا گیا ہے، میری تمام ہڈیاں الگ الگ ہو گئی ہیں، جسم کے اندر میرا دل موم کی طرح پگھل گیا ہے۔Q  میرے خلاف اُنہوں نے اپنے منہ کھول دیئے ہیں، اُس دہاڑتے ہوئے شیرببر کی طرح جو شکار کو پھاڑنے کے جوش میں آ گیا ہے۔  متعدد بَیلوں نے مجھے گھیر لیا، بسن کے طاقت ور سانڈ چاروں طرف جمع ہو گئے ہیں۔ kg71]مَیں اپنے بھائیوں کے سامنے تیرے نام کا اعلان کروں گا، جماعت کے درمیان تیری مدح سرائی کروں گا۔3aشیر کے منہ سے مجھے مخلصی دے، جنگلی بَیلوں کے سینگوں سے رِہائی عطا کر۔ اے رب، تُو نے میری سنی ہے!vgمیری جان کو تلوار سے بچا، میری زندگی کو کُتے کے پنجے سے چھڑا۔لیکن تُو اے رب، دُور نہ رہ! اے میری قوت، میری مدد کرنے کے لئے جلدی کر!zoوہ آپس میں میرے کپڑے بانٹ لیتے اور میرے لباس پر قرعہ ڈالتے ہیں۔مَیں اپنی ہڈیوں کو گن سکتا ہوں۔ لوگ گھور گھور کر میری مصیبت سے خوش ہوتے ہیں۔ :)Mناچار جی بھر کر کھائیں گے، رب کے طالب اُس کی حمد و ثنا کریں گے۔ تمہارے دل ابد تک زندہ رہیں!+Qاے خدا، بڑے اجتماع میں مَیں تیری ستائش کروں گا، خدا ترسوں کے سامنے اپنی مَنت پوری کروں گا۔#Aکیونکہ نہ اُس نے مصیبت زدہ کا دُکھ حقیر جانا، نہ اُس کی تکلیف سے گھن کھائی۔ اُس نے اپنا منہ اُس سے نہ چھپایا بلکہ اُس کی سنی جب وہ مدد کے لئے چیخنے چلّانے لگا۔lSتم جو رب کا خوف مانتے ہو، اُس کی تمجید کرو! اے یعقوب کی تمام اولاد، اُس کا احترام کر! اے اسرائیل کے تمام فرزندو، اُس سے خوف کھاؤ! -:-:oہاں، وہ آ کر اُس کی راستی ایک قوم کو سنائیں گے جو ابھی پیدا نہیں ہوئی، کیونکہ اُس نے یہ کچھ کیا ہے۔ 3اُس کے فرزند اُس کی خدمت کریں گے۔ ایک آنے والی نسل کو رب کے بارے میں سنایا جائے گا۔ ;دنیا کے تمام بڑے لوگ اُس کے حضور کھائیں گے اور سجدہ کریں گے۔ خاک میں اُترنے والے سب اُس کے سامنے جھک جائیں گے، وہ سب جو اپنی زندگی کو خود قائم نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ رب کو ہی بادشاہی کا اختیار حاصل ہے، وہی اقوام پر حکومت کرتا ہے۔Bلوگ دنیا کی انتہا تک رب کو یاد کر کے اُس کی طرف رجوع کریں گے۔ غیراقوام کے تمام خاندان اُسے سجدہ کریں گے۔ ~hl~j!Oتُو میرے دشمنوں کے رُوبرُو میرے سامنے میز بچھا کر میرے سر کو تیل سے تر و تازہ کرتا ہے۔ میرا پیالہ تیری برکت سے چھلک اُٹھتا ہے۔x kگو مَیں تاریک ترین وادی میں سے گزروں مَیں مصیبت سے نہیں ڈروں گا، کیونکہ تُو میرے ساتھ ہے، تیری لاٹھی اور تیرا عصا مجھے تسلی دیتے ہیں۔"?وہ میری جان کو تازہ دم کرتا اور اپنے نام کی خاطر راستی کی راہوں پر میری قیادت کرتا ہے۔ وہ مجھے شاداب چراگاہوں میں چَراتا اور پُرسکون چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔c Cداؤد کا زبور۔ رب میرا چرواہا ہے، مجھے کمی نہ ہو گی۔ K> oKu'eوہ رب سے برکت پائے گا، اُسے اپنی نجات کے خدا سے راستی ملے گی۔(&Kوہ جس کے ہاتھ پاک اور دل صاف ہیں، جو نہ فریب کا ارادہ رکھتا، نہ قَسم کھا کر جھوٹ بولتا ہے۔%/کس کو رب کے پہاڑ پر چڑھنے کی اجازت ہے؟ کون اُس کے مُقدّس مقام میں کھڑا ہو سکتا ہے؟ $کیونکہ اُس نے زمین کی بنیاد سمندروں پر رکھی اور اُسے دریاؤں پر قائم کیا۔# 9داؤد کا زبور۔ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے رب کا ہے، دنیا اور اُس کے باشندے اُسی کے ہیں۔>"wیقیناً بھلائی اور شفقت عمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی، اور مَیں جیتے جی رب کے گھر میں سکونت کروں گا۔ u1PuV- )داؤد کا زبور۔ اے رب، مَیں تیرا آرزومند ہوں۔,y جلال کا بادشاہ کون ہے؟ رب الافواج، وہی جلال کا بادشاہ ہے۔ (سِلاہ) (+K اے پھاٹکو، کھل جاؤ! اے قدیم دروازو، پورے طور پر کھل جاؤ تاکہ جلال کا بادشاہ داخل ہو جائے۔*جلال کا بادشاہ کون ہے؟ رب جو قوی اور قادر ہے، رب جو جنگ میں زورآور ہے۔()Kاے پھاٹکو، کھل جاؤ! اے قدیم دروازو، پورے طور پر کھل جاؤ تاکہ جلال کا بادشاہ داخل ہو جائے۔K(یہ ہو گا اُن لوگوں کا حال جو اللہ کی مرضی دریافت کرتے، جو تیرے چہرے کے طالب ہوتے ہیں، اے یعقوب کے خدا۔ (سِلاہ) E$/:EP[fq| *5@KU`kv&1<FQ\gr} 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7 7  7 7 7 7 7 7  7 7 7 7 7 7 7 7  7  7  7 7 7 7 7 7 7 7  7  7  7  7  7 7 7 7 7 7 7 7 7 7  7 7 7 7 7 7 7 7  7  7  7  7  7 7 7 7 7 7 =r2 اے رب، اپنا وہ رحم اور مہربانی یاد کر جو تُو قدیم زمانے سے کرتا آیا ہے۔e1Eاپنی سچائی کے مطابق میری راہنمائی کر، مجھے تعلیم دے۔ کیونکہ تُو میری نجات کا خدا ہے۔ دن بھر مَیں تیرے انتظار میں رہتا ہوں۔r0_اے رب، اپنی راہیں مجھے دکھا، مجھے اپنے راستوں کی تعلیم دے۔G/ کیونکہ جو بھی تجھ پر اُمید رکھے وہ شرمندہ نہیں ہو گا جبکہ جو بلاوجہ بےوفا ہوتے ہیں وہی شرمندہ ہو جائیں گے۔?.yاے میرے خدا، تجھ پر مَیں بھروسا رکھتا ہوں۔ مجھے شرمندہ نہ ہونے دے کہ میرے دشمن مجھ پر شادیانہ بجائیں۔ xx7k اے رب، میرا قصور سنگین ہے، لیکن اپنے نام کی خاطر اُسے معاف کر۔96m جو رب کے عہد اور احکام کے مطابق زندگی گزاریں اُنہیں رب مہربانی اور وفاداری کی راہوں پر لے چلتا ہے۔51 وہ فروتنوں کی انصاف کی راہ پر راہنمائی کرتا، حلیموں کو اپنی راہ کی تعلیم دیتا ہے۔4)رب بھلا اور عادل ہے، اِس لئے وہ گناہ گاروں کو صحیح راہ پر چلنے کی تلقین کرتا ہے۔i3Mاے رب، میری جوانی کے گناہوں اور میری بےوفا حرکتوں کو یاد نہ کر بلکہ اپنی بھلائی کی خاطر اور اپنی شفقت کے مطابق میرا خیال رکھ۔ DdW-Dm>Uمیری مصیبت اور تنگی پر نظر ڈال کر میری خطاؤں کو معاف کر۔v=gمیرے دل کی پریشانیاں دُور کر، مجھے میری تکالیف سے رِہائی دے۔<میری طرف مائل ہو جا، مجھ پر مہربانی کر! کیونکہ مَیں تنہا اور مصیبت زدہ ہوں۔;!میری آنکھیں رب کو تکتی رہتی ہیں، کیونکہ وہی میرے پاؤں کو جال سے نکال لیتا ہے۔ :جو رب کا خوف مانیں اُنہیں وہ اپنے ہم راز بنا کر اپنے عہد کی تعلیم دیتا ہے۔z9o تب وہ خوش حال رہے گا، اور اُس کی اولاد ملک کو میراث میں پائے گی۔8+ رب کا خوف ماننے والا کہاں ہے؟ رب خود اُسے اُس راہ کی تعلیم دے گا جو اُسے چننا ہے۔ 5t#5wDiاے رب، مجھے جانچ لے، مجھے آزما کر دل کی تہہ تک میرا معائنہ کر۔vC iداؤد کا زبور۔ اے رب، میرا انصاف کر، کیونکہ میرا چال چلن بےقصور ہے۔ مَیں نے رب پر بھروسا رکھا ہے، اور مَیں ڈانواں ڈول نہیں ہو جاؤں گا۔wBiاے اللہ، فدیہ دے کر اسرائیل کو اُس کی تمام تکالیف سے آزاد کر! A5بےگناہی اور دیانت داری میری پہرہ داری کریں، کیونکہ مَیں تیرے انتظار میں رہتا ہوں۔,@Sمیری جان کو محفوظ رکھ، مجھے بچا! مجھے شرمندہ نہ ہونے دے، کیونکہ مَیں تجھ میں پناہ لیتا ہوں۔? دیکھ، میرے دشمن کتنے زیادہ ہیں، وہ کتنا ظلم کر کے مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ dc>dJ+اے رب، تیری سکونت گاہ مجھے پیاری ہے، جس جگہ تیرا جلال ٹھہرتا ہے وہ مجھے عزیز ہے۔Iبلند آواز سے تیری حمد و ثنا کرتا، تیرے تمام معجزات کا اعلان کرتا ہوں۔1H]اے رب، مَیں اپنے ہاتھ دھو کر اپنی بےگناہی کا اظہار کرتا ہوں۔ مَیں تیری قربان گاہ کے گرد پھر کرGمجھے شریروں کے اجتماعوں سے نفرت ہے، بےدینوں کے ساتھ مَیں بیٹھتا بھی نہیں۔Fنہ مَیں دھوکے بازوں کی مجلس میں بیٹھتا، نہ چالاک لوگوں سے رفاقت رکھتا ہوں۔E-کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سامنے رہی ہے، مَیں تیری سچی راہ پر چلتا رہا ہوں۔ x/MxQO داؤد کا زبور۔ رب میری روشنی اور میری نجات ہے، مَیں کس سے ڈروں؟ رب میری جان کی پناہ گاہ ہے، مَیں کس سے دہشت کھاؤں؟ N; میرے پاؤں ہموار زمین پر قائم ہو گئے ہیں، اور مَیں اجتماعوں میں رب کی ستائش کروں گا۔ M7 کیونکہ مَیں بےگناہ زندگی گزارتا ہوں۔ فدیہ دے کر مجھے چھٹکارا دے! مجھ پر مہربانی کر!L+ ایسے لوگوں میں جن کے ہاتھ شرم ناک حرکتوں سے آلودہ ہیں، جو ہر وقت رشوت کھاتے ہیں۔MK میری جان کو مجھ سے چھین کر مجھے گناہ گاروں میں شامل نہ کر! میری زندگی کو مٹا کر مجھے خوں خواروں میں شمار نہ کر، F$j2FhSKکیونکہ مصیبت کے دن وہ مجھے اپنی سکونت گاہ میں پناہ دے گا، مجھے اپنے خیمے میں چھپا لے گا، مجھے اُٹھا کر اونچی چٹان پر رکھے گا۔4Rcرب سے میری ایک گزارش ہے، مَیں ایک ہی بات چاہتا ہوں۔ یہ کہ جیتے جی رب کے گھر میں رہ کر اُس کی شفقت سے لطف اندوز ہو سکوں، کہ اُس کی سکونت گاہ میں ٹھہر کر محوِ خیال رہ سکوں۔6Qgگو فوج مجھے گھیر لے میرا دل خوف نہیں کھائے گا، گو میرے خلاف جنگ چھڑ جائے میرا بھروسا قائم رہے گا۔XP+جب شریر مجھ پر حملہ کریں تاکہ مجھے ہڑپ کر لیں، جب میرے مخالف اور دشمن مجھ پر ٹوٹ پڑیں تو وہ ٹھوکر کھا کر گر جائیں گے۔ 68_6%WE اپنے چہرے کو مجھ سے چھپائے نہ رکھ، اپنے خادم کو غصے سے اپنے حضور سے نہ نکال۔ کیونکہ تُو ہی میرا سہارا رہا ہے۔ اے میری نجات کے خدا، مجھے نہ چھوڑ، مجھے ترک نہ کر۔UV%میرا دل تجھے یاد دلاتا ہے کہ تُو نے خود فرمایا، ”میرے چہرے کے طالب رہو!“ اے رب، مَیں تیرے ہی چہرے کا طالب رہا ہوں۔Uاے رب، میری آواز سن جب مَیں تجھے پکاروں، مجھ پر مہربانی کر کے میری سن۔:Toاب مَیں اپنے دشمنوں پر سربلند ہوں گا، اگرچہ اُنہوں نے مجھے گھیر رکھا ہے۔ مَیں اُس کے خیمے میں خوشی کے نعرے لگا کر قربانیاں پیش کروں گا، ساز بجا کر رب کی مدح سرائی کروں گا۔ W({\qرب کے انتظار میں رہ! مضبوط اور دلیر ہو، اور رب کے انتظار میں رہ! [- لیکن میرا پورا ایمان یہ ہے کہ مَیں زندوں کے ملک میں رہ کر رب کی بھلائی دیکھوں گا۔RZ مجھے مخالفوں کے لالچ میں نہ آنے دے، کیونکہ جھوٹے گواہ میرے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو تشدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔8Yk اے رب، مجھے اپنی راہ کی تربیت دے، ہموار راستے پر میری راہنمائی کر تاکہ اپنے دشمنوں سے محفوظ رہوں۔%XE کیونکہ میرے ماں باپ نے مجھے ترک کر دیا ہے، لیکن رب مجھے قبول کر کے اپنے گھر میں لائے گا۔ %_Eمجھے اُن بےدینوں کے ساتھ گھسیٹ کر سزا نہ دے جو غلط کام کرتے ہیں، جو اپنے پڑوسیوں سے بظاہر دوستانہ باتیں کرتے، لیکن دل میں اُن کے خلاف بُرے منصوبے باندھتے ہیں۔y^mمیری التجائیں سن جب مَیں چیختے چلّاتے تجھ سے مدد مانگتا ہوں، جب مَیں اپنے ہاتھ تیری سکونت گاہ کے مُقدّس ترین کمرے کی طرف اُٹھاتا ہوں۔9] oداؤد کا زبور۔ اے رب، مَیں تجھے پکارتا ہوں۔ اے میری چٹان، خاموشی سے اپنا منہ مجھ سے نہ پھیر۔ کیونکہ اگر تُو چپ رہے تو مَیں موت کے گڑھے میں اُترنے والوں کی مانند ہو جاؤں گا۔ ^r^cرب میری قوت اور میری ڈھال ہے۔ اُس پر میرے دل نے بھروسا رکھا، اُس سے مجھے مدد ملی ہے۔ میرا دل شادیانہ بجاتا ہے، مَیں گیت گا کر اُس کی ستائش کرتا ہوں۔]b5رب کی تمجید ہو، کیونکہ اُس نے میری التجا سن لی۔kaQکیونکہ نہ وہ رب کے اعمال پر، نہ اُس کے ہاتھوں کے کام پر توجہ دیتے ہیں۔ اللہ اُنہیں ڈھا دے گا اور دوبارہ کبھی تعمیر نہیں کرے گا۔;`qاُنہیں اُن کی حرکتوں اور بُرے کاموں کا بدلہ دے۔ جو کچھ اُن کے ہاتھوں سے سرزد ہوا ہے اُس کی پوری سزا دے۔ اُنہیں اُتنا ہی نقصان پہنچا دے جتنا اُنہوں نے دوسروں کو پہنچایا ہے۔  Xi+رب کی آواز زوردار ہے، رب کی آواز پُرجلال ہے۔&hGرب کی آواز سمندر کے اوپر گونجتی ہے۔ جلال کا خدا گرجتا ہے، رب گہرے پانی کے اوپر گرجتا ہے۔|gsرب کے نام کو جلال دو۔ مُقدّس لباس سے آراستہ ہو کر رب کو سجدہ کرو۔f 1داؤد کا زبور۔ اے اللہ کے فرزندو، رب کی تمجید کرو! رب کے جلال اور قدرت کی ستائش کرو!=eu اے رب، اپنی قوم کو نجات دے! اپنی میراث کو برکت دے! اُن کی گلہ بانی کر کے اُنہیں ہمیشہ تک اُٹھائے رکھ۔ ~dwرب اپنی قوم کی قوت اور اپنے مسح کئے ہوئے خادم کا نجات بخش قلعہ ہے۔ WDVWo  رب سیلاب کے اوپر تخت نشین ہے، رب بادشاہ کی حیثیت سے ابد تک تخت نشین ہے۔nnW رب کی آواز سن کر ہرنی دردِ زہ میں مبتلا ہو جاتی اور جنگلوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ لیکن اُس کی سکونت گاہ میں سب پکارتے ہیں، ”جلال!“myرب کی آواز ریگستان کو ہلا دیتی ہے، رب دشتِ قادس کو کانپنے دیتا ہے۔Il رب کی آواز آگ کے شعلے بھڑکا دیتی ہے۔k7وہ لبنان کو بچھڑے اور کوہِ سریون کو جنگلی بَیل کے بچے کی طرح کودنے پھاندنے دیتا ہے۔8jkرب کی آواز دیودار کے درختوں کو توڑ ڈالتی ہے، رب لبنان کے دیودار کے درختوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ E$/:EP[ep{ *5?JU`kv%0;FQ\gr} 7  7  7  7  7  7 7  7 7 7  7  7  7  7  7 7  7 7 7 7 7 7 7 7  7  7 7 7 7 7 7 7 7  7  7  7  7 7 7 7 7 7 7 7  7  7  7  7  7 7 7 8 8 8 8 8  8  8  8  8  8 8 8 8 8 8 8 8 8 8 8 8   8  8  8  8  8  8 |{!t=اے ایمان دارو، ساز بجا کر رب کی تعریف میں گیت گاؤ۔ اُس کے مُقدّس نام کی حمد و ثنا کرو۔5seاے رب، تُو میری جان کو پاتال سے نکال لایا، تُو نے میری جان کو موت کے گڑھے میں اُترنے سے بچایا ہے۔r5اے رب میرے خدا، مَیں نے چیختے چلّاتے ہوئے تجھ سے مدد مانگی، اور تُو نے مجھے شفا دی۔\q 5داؤد کا زبور۔ رب کے گھر کی مخصوصیت کے موقع پر گیت۔ اے رب، مَیں تیری ستائش کرتا ہوں، کیونکہ تُو نے مجھے گہرائیوں میں سے کھینچ نکالا۔ تُو نے میرے دشمنوں کو مجھ پر بغلیں بجانے کا موقع نہیں دیا۔p{ رب اپنی قوم کو تقویت دے گا، رب اپنے لوگوں کو سلامتی کی برکت دے گا۔ )-)y{ ”کیا فائدہ ہے اگر مَیں ہلاک ہو کر موت کے گڑھے میں اُتر جاؤں؟ کیا خاک تیری ستائش کرے گی؟ کیا وہ لوگوں کو تیری وفاداری کے بارے میں بتائے گی؟qx]اے رب، مَیں نے تجھے پکارا، ہاں خداوند سے مَیں نے التجا کی،nwWاے رب، جب تُو مجھ سے خوش تھا تو تُو نے مجھے مضبوط پہاڑ پر رکھ دیا۔ لیکن جب تُو نے اپنا چہرہ مجھ سے چھپا لیا تو مَیں سخت گھبرا گیا۔~vwجب حالات پُرسکون تھے تو مَیں بولا، ”مَیں کبھی نہیں ڈگمگاؤں گا۔“huKکیونکہ وہ لمحہ بھر کے لئے غصے ہوتا، لیکن زندگی بھر کے لئے مہربانی کرتا ہے۔ گو شام کو رونا پڑے، لیکن صبح کو ہم خوشی منائیں گے۔ z} qداؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، مَیں نے تجھ میں پناہ لی ہے۔ مجھے کبھی شرمندہ نہ ہونے دے بلکہ اپنی راستی کے مطابق مجھے بچا!s|a کیونکہ تُو چاہتا ہے کہ میری جان خاموش نہ ہو بلکہ گیت گا کر تیری تمجید کرتی رہے۔ اے رب میرے خدا، مَیں ابد تک تیری حمد و ثنا کروں گا۔ <{s تُو نے میرا ماتم خوشی کے ناچ میں بدل دیا، تُو نے میرے ماتمی کپڑے اُتار کر مجھے شادمانی سے ملبّس کیا۔~zw اے رب، میری سن، مجھ پر مہربانی کر۔ اے رب، میری مدد کرنے کے لئے آ!“ V}V,Sمَیں اُن سے نفرت رکھتا ہوں جو بےکار بُتوں سے لپٹے رہتے ہیں۔ مَیں تو رب پر بھروسا رکھتا ہوں۔6gمَیں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں۔ اے رب، اے وفادار خدا، تُو نے فدیہ دے کر مجھے چھڑایا ہے!9mمجھے اُس جال سے نکال دے جو مجھے پکڑنے کے لئے چپکے سے بچھایا گیا ہے۔ کیونکہ تُو ہی میری پناہ گاہ ہے۔7کیونکہ تُو میری چٹان، میرا قلعہ ہے، اپنے نام کی خاطر میری راہنمائی، میری قیادت کر۔]~5اپنا کان میری طرف جھکا، جلد ہی مجھے چھٹکارا دے۔ چٹان کا میرا بُرج ہو، پہاڑ کا قلعہ جس میں مَیں پناہ لے کر نجات پا سکوں۔ |||7 میری زندگی دُکھ کی چکّی میں پِس رہی ہے، میرے سال آہیں بھرتے بھرتے ضائع ہو رہے ہیں۔ میرے قصور کی وجہ سے میری طاقت جواب دے گئی، میری ہڈیاں گلنے سڑنے لگی ہیں۔Z/ اے رب، مجھ پر مہربانی کر، کیونکہ مَیں مصیبت میں ہوں۔ غم کے مارے میری آنکھیں سوج گئی ہیں، میری جان اور جسم گل رہے ہیں۔5تُو نے مجھے دشمن کے حوالے نہیں کیا بلکہ میرے پاؤں کو کھلے میدان میں قائم کر دیا ہے۔_9مَیں باغ باغ ہوں گا اور تیری شفقت کی خوشی مناؤں گا، کیونکہ تُو نے میری مصیبت دیکھ کر میری جان کی پریشانی کا خیال کیا ہے۔ ff لیکن مَیں اے رب، تجھ پر بھروسا رکھتا ہوں۔ مَیں کہتا ہوں، ”تُو میرا خدا ہے!“ ! بہتوں کی افواہیں مجھ تک پہنچ گئی ہیں، چاروں طرف سے ہول ناک خبریں مل رہی ہیں۔ وہ مل کر میرے خلاف سازشیں کر رہے، مجھے قتل کرنے کے منصوبے باندھ رہے ہیں۔%E مَیں مُردوں کی مانند اُن کی یادداشت سے مٹ گیا ہوں، مجھے ٹھیکرے کی طرح پھینک دیا گیا ہے۔A} مَیں اپنے دشمنوں کے لئے مذاق کا نشانہ بن گیا ہوں بلکہ میرے ہم سائے بھی مجھے لعن طعن کرتے، میرے جاننے والے مجھ سے دہشت کھاتے ہیں۔ گلی میں جو بھی مجھے دیکھے مجھ سے بھاگ جاتا ہے۔ K-Uاُن کے فریب دہ ہونٹ بند ہو جائیں، کیونکہ وہ تکبر اور حقارت سے راست باز کے خلاف کفر بکتے ہیں۔{ qاے رب، مجھے شرمندہ نہ ہونے دے، کیونکہ مَیں نے تجھے پکارا ہے۔ میرے بجائے بےدینوں کے منہ کالے ہو جائیں، وہ پاتال میں اُتر کر چپ ہو جائیں۔~ wاپنے چہرے کا نور اپنے خادم پر چمکا، اپنی مہربانی سے مجھے نجات دے۔1 ]میری تقدیر تیرے ہاتھ میں ہے۔ مجھے میرے دشمنوں کے ہاتھ سے بچا، اُن سے جو میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ 8R8'اُس وقت مَیں گھبرا کر بولا، ”ہائے، مَیں تیرے حضور سے منقطع ہو گیا ہوں!“ لیکن جب مَیں نے چیختے چلّاتے ہوئے تجھ سے مدد مانگی تو تُو نے میری التجا سن لی۔0[رب کی تمجید ہو، کیونکہ جب شہر کا محاصرہ ہو رہا تھا تو اُس نے معجزانہ طور پر مجھ پر مہربانی کی۔]5تُو اُنہیں اپنے چہرے کی آڑ میں لوگوں کے حملوں سے چھپا لیتا، اُنہیں خیمے میں لا کر الزام تراش زبانوں سے محفوظ رکھتا ہے۔%تیری بھلائی کتنی عظیم ہے! تُو اُسے اُن کے لئے تیار رکھتا ہے جو تیرا خوف مانتے ہیں، اُسے اُنہیں دکھاتا ہے جو انسانوں کے سامنے سے تجھ میں پناہ لیتے ہیں۔ !kU% کیونکہ دن رات مَیں تیرے ہاتھ کے بوجھ تلے پِستا رہا، میری طاقت گویا موسمِ گرما کی جُھلستی تپش میں جاتی رہی۔ (سِلاہ)tc جب مَیں چپ رہا تو دن بھر آہیں بھرنے سے میری ہڈیاں گلنے لگیں۔# مبارک ہے وہ جس کا گناہ رب حساب میں نہیں لائے گا اور جس کی روح میں فریب نہیں ہے۔* Q داؤد کا زبور۔ حکمت کا گیت۔ مبارک ہے وہ جس کے جرائم معاف کئے گئے، جس کے گناہ ڈھانپے گئے ہیں۔mUچنانچہ مضبوط اور دلیر ہو، تم سب جو رب کے انتظار میں ہو۔ [1اے رب کے تمام ایمان دارو، اُس سے محبت رکھو! رب وفاداروں کو محفوظ رکھتا، لیکن مغروروں کو اُن کے رویے کا پورا اجر دے گا۔ BBR ”مَیں تجھے تعلیم دوں گا، تجھے وہ راہ دکھاؤں گا جس پر تجھے جانا ہے۔ مَیں تجھے مشورہ دے کر تیری دیکھ بھال کروں گا۔?y تُو میری چھپنے کی جگہ ہے، تُو مجھے پریشانی سے محفوظ رکھتا، مجھے نجات کے نغموں سے گھیر لیتا ہے۔ (سِلاہ)S! اِس لئے تمام ایمان دار اُس وقت تجھ سے دعا کریں جب تُو مل سکتا ہے۔ یقیناً جب بڑا سیلاب آئے تو اُن تک نہیں پہنچے گا۔J تب مَیں نے تیرے سامنے اپنا گناہ تسلیم کیا، مَیں اپنا گناہ چھپانے سے باز آیا۔ مَیں بولا، ”مَیں رب کے سامنے اپنے جرائم کا اقرار کروں گا۔“ تب تُو نے میرے گناہ کو معاف کر دیا۔ (سِلاہ)  d !!سرود بجا کر رب کی حمد و ثنا کرو۔ اُس کی تمجید میں دس تاروں والا ساز بجاؤ۔*  Q!اے راست بازو، رب کی خوشی مناؤ! کیونکہ مناسب ہے کہ سیدھی راہ پر چلنے والے اُس کی ستائش کریں۔- اے راست بازو، رب کی خوشی میں جشن مناؤ! اے تمام دیانت دارو، شادمانی کے نعرے لگاؤ! 8k بےدین کی متعدد پریشانیاں ہوتی ہیں، لیکن جو رب پر بھروسا رکھے اُسے وہ اپنی شفقت سے گھیرے رکھتا ہے۔\3 ناسمجھ گھوڑے یا خچر کی مانند نہ ہو، جن پر قابو پانے کے لئے لگام اور دہانے کی ضرورت ہے، ورنہ وہ تیرے پاس نہیں آئیں گے۔“ z~8(+! کیونکہ اُس نے فرمایا تو فوراً وجود میں آیا، اُس نے حکم دیا تو اُسی وقت قائم ہوا۔|'s!کُل دنیا رب کا خوف مانے، زمین کے تمام باشندے اُس سے دہشت کھائیں۔$&C!وہ سمندر کے پانی کا بڑا ڈھیر جمع کرتا، پانی کی گہرائیوں کو گوداموں میں محفوظ رکھتا ہے۔%/!رب کے کہنے پر آسمان خلق ہوا، اُس کے منہ کے دم سے ستاروں کا پورا لشکر وجود میں آیا۔$!اُسے راست بازی اور انصاف پیارے ہیں، دنیا رب کی شفقت سے بھری ہوئی ہے۔r#_!کیونکہ رب کا کلام سچا ہے، اور وہ ہر کام وفاداری سے کرتا ہے۔"!اُس کی تمجید میں نیا گیت گاؤ، مہارت سے ساز بجا کر خوشی کے نعرے لگاؤ۔ <o5[</!بادشاہ کی بڑی فوج اُسے نہیں چھڑاتی، اور سورمے کی بڑی طاقت اُسے نہیں بچاتی۔. !جس نے اُن سب کے دلوں کو تشکیل دیا وہ اُن کے تمام کاموں پر دھیان دیتا ہے۔j-O!اپنے تخت سے وہ زمین کے تمام باشندوں کا معائنہ کرتا ہے۔j,O! رب آسمان سے نظر ڈال کر تمام انسانوں کا ملاحظہ کرتا ہے۔+!! مبارک ہے وہ قوم جس کا خدا رب ہے، وہ قوم جسے اُس نے چن کر اپنی میراث بنا لیا ہے۔*9! لیکن رب کا منصوبہ ہمیشہ تک کامیاب رہتا، اُس کے دل کے ارادے پشت در پشت قائم رہتے ہیں۔ )! رب اقوام کا منصوبہ ناکام ہونے دیتا، وہ اُمّتوں کے ارادوں کو شکست دیتا ہے۔ < ~5w!اے رب، تیری مہربانی ہم پر رہے، کیونکہ ہم تجھ پر اُمید رکھتے ہیں۔ 4!ہمارا دل اُس میں خوش ہے، کیونکہ ہم اُس کے مُقدّس نام پر بھروسا رکھتے ہیں۔y3m!ہماری جان رب کے انتظار میں ہے۔ وہی ہمارا سہارا، ہماری ڈھال ہے۔g2I!کہ وہ اُن کی جان موت سے بچائے اور کال میں محفوظ رکھے۔91m!یقیناً رب کی آنکھ اُن پر لگی رہتی ہے جو اُس کا خوف مانتے اور اُس کی مہربانی کے انتظار میں رہتے ہیں،@0{!گھوڑا بھی مدد نہیں کر سکتا۔ جو اُس پر اُمید رکھے وہ دھوکا کھائے گا۔ اُس کی بڑی طاقت چھٹکارا نہیں دیتی۔ E  "-8BMXcny)3>IT_ju$/:EP[fq|  8  8  8  8  !8 !8! !8" !8# !8$  8  8  8  8  !8 !8! !8" !8# !8$ !8% !8& !8' ! 8( ! 8) ! 8* ! 8+ ! 8, !8- !8. !8/ !80 !81 !82 !83 !84 !85  "86 "87 "88 "89 "8: "8; "8< "8= " 8> " 8? " 8@ " 8A " 8B "8C "8D "8E "8F "8G "8H "8I "8J "8K  #8L #8M #8N #8O #8P #8Q #8R #8S # 8T # 8U # 8V # 8W # 8X #8Y #8Z #8[ #8\ #8] #8^ #8_ #8` g,4gI9 "مَیں نے رب کو تلاش کیا تو اُس نے میری سنی۔ جن چیزوں سے مَیں دہشت کھا رہا تھا اُن سب سے اُس نے مجھے رِہائی دی۔8{"آؤ، میرے ساتھ رب کی تعظیم کرو۔ آؤ، ہم مل کر اُس کا نام سربلند کریں۔q7]"میری جان رب پر فخر کرے گی۔ مصیبت زدہ یہ سن کر خوش ہو جائیں۔P6 "داؤد کا یہ زبور اُس وقت سے متعلق ہے جب اُس نے فلستی بادشاہ ابی مَلِک کے سامنے پاگل بننے کا روپ بھر لیا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ نے اُسے بھگا دیا۔ چلے جانے کے بعد داؤد نے یہ گیت گایا۔ ہر وقت مَیں رب کی تمجید کروں گا، اُس کی حمد و ثنا ہمیشہ ہی میرے ہونٹوں پر رہے گی۔ L^LA?}" جوان شیرببر کبھی ضرورت مند اور بھوکے ہوتے ہیں، لیکن رب کے طالبوں کو کسی بھی اچھی چیز کی کمی نہیں ہو گی۔>)" اے رب کے مُقدّسین، اُس کا خوف مانو، کیونکہ جو اُس کا خوف مانیں اُنہیں کمی نہیں۔p=["رب کی بھلائی کا تجربہ کرو۔ مبارک ہے وہ جو اُس میں پناہ لے۔<1"جو رب کا خوف مانیں اُن کے ارد گرد اُس کا فرشتہ خیمہ زن ہو کر اُن کو بچائے رکھتا ہے۔;3"اِس ناچار نے پکارا تو رب نے اُس کی سنی، اُس نے اُسے اُس کی تمام مصیبتوں سے نجات دی۔:7"جن کی آنکھیں اُس پر لگی رہیں وہ خوشی سے چمکیں گے، اور اُن کے منہ شرمندہ نہیں ہوں گے۔ =,ES"لیکن رب کا چہرہ اُن کے خلاف ہے جو غلط کام کرتے ہیں۔ اُن کا زمین پر نام و نشان تک نہیں رہے گا۔$DC"رب کی آنکھیں راست بازوں پر لگی رہتی ہیں، اور اُس کے کان اُن کی التجاؤں کی طرف مائل ہیں۔C7"وہ بُرائی سے منہ پھیر کر نیک کام کرے، صلح سلامتی کا طالب ہو کر اُس کے پیچھے لگا رہے۔ B" وہ اپنی زبان کو شریر باتیں کرنے سے روکے اور اپنے ہونٹوں کو جھوٹ بولنے سے۔gAI" کون مزے سے زندگی گزارنا اور اچھے دن دیکھنا چاہتا ہے؟|@s" اے بچو، آؤ، میری باتیں سنو! مَیں تمہیں رب کے خوف کی تعلیم دوں گا۔of1flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|`ejoty~ !'`ejoty~ !'-27>DJOSW\_cioty} !(/59?EKPTX\afkpv| $)/48<?BFI M Q V [ _aeiloty  "', 2!7"=#B$F%J&O(T)Z*`+d,g-l.r/w0{ ^T^#KA"لیکن رب اپنے خادموں کی جان کا فدیہ دے گا۔ جو بھی اُس میں پناہ لے اُسے سزا نہیں ملے گی۔ J'"بُرائی بےدین کو مار ڈالے گی، اور جو راست باز سے نفرت کرے اُسے مناسب اجر ملے گا۔}Iu"وہ اُس کی تمام ہڈیوں کی حفاظت کرتا ہے، ایک بھی نہیں توڑی جائے گی۔H"راست باز کی متعدد تکالیف ہوتی ہیں، لیکن رب اُسے اُن سب سے بچا لیتا ہے۔'GI"رب شکستہ دلوں کے قریب ہوتا ہے، وہ اُنہیں رِہائی دیتا ہے جن کی روح کو خاک میں کچلا گیا ہو۔(FK"جب راست باز فریاد کریں تو رب اُن کی سنتا، وہ اُنہیں اُن کی تمام مصیبت سے چھٹکارا دیتا ہے۔ T }Pu#وہ ہَوا میں بھوسے کی طرح اُڑ جائیں جب رب کا فرشتہ اُنہیں بھگا دے۔O#جو میری جان کے لئے کوشاں ہیں اُن کا منہ کالا ہو جائے، وہ رُسوا ہو جائیں۔ جو مجھے مصیبت میں ڈالنے کے منصوبے باندھ رہے ہیں وہ پیچھے ہٹ کر شرمندہ ہوں۔EN#نیزے اور برچھی کو نکال کر اُنہیں روک دے جو میرا تعاقب کر رہے ہیں! میری جان سے فرما، ”مَیں تیری نجات ہوں!“kMQ#لمبی اور چھوٹی ڈھال پکڑ لے اور اُٹھ کر میری مدد کرنے آ۔(L M#داؤد کا زبور۔ اے رب، اُن سے جھگڑ جو میرے ساتھ جھگڑتے ہیں، اُن سے لڑ جو میرے ساتھ لڑتے ہیں۔ xfT# تب میری جان رب کی خوشی منائے گی اور اُس کی نجات کے باعث شادمان ہو گی۔QS#اِس لئے تباہی اچانک ہی اُن پر آ پڑے، پہلے انہیں پتا ہی نہ چلے۔ جو جال اُنہوں نے چپکے سے بچھایا اُس میں وہ خود اُلجھ جائیں، جس گڑھے کو اُنہوں نے کھودا اُس میں وہ خود گر کر تباہ ہو جائیں۔9Rm#کیونکہ اُنہوں نے بےسبب اور چپکے سے میرے راستے میں جال بچھایا، بلاوجہ مجھے پکڑنے کا گڑھا کھودا ہے۔Q#اُن کا راستہ تاریک اور پھسلنا ہو جب رب کا فرشتہ اُن کے پیچھے پڑ جائے۔ f:fPX# جب وہ بیمار ہوئے تو مَیں نے ٹاٹ اوڑھ کر اور روزہ رکھ کر اپنی جان کو دُکھ دیا۔ کاش میری دعا میری گود میں واپس آئے!W# وہ میری نیکی کے عوض مجھے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اب میری جان تن تنہا ہے۔YV-# ظالم گواہ میرے خلاف اُٹھ کھڑے ہو رہے ہیں۔ وہ ایسی باتوں کے بارے میں میری پوچھ گچھ کر رہے ہیں جن سے مَیں واقف ہی نہیں۔]U5# میرے تمام اعضا کہہ اُٹھیں گے، ”اے رب، کون تیری مانند ہے؟ کوئی بھی نہیں! کیونکہ تُو ہی مصیبت زدہ کو زبردست آدمی سے چھٹکارا دیتا، تُو ہی ناچار اور غریب کو لُوٹنے والے کے ہاتھ سے بچا لیتا ہے۔“ t\td\C#اے رب، تُو کب تک خاموشی سے دیکھتا رہے گا؟ میری جان کو اُن کی تباہ کن حرکتوں سے بچا، میری زندگی کو جوان شیروں سے چھٹکارا دے۔~[w#مسلسل کفر بک بک کر وہ میرا مذاق اُڑاتے، میرے خلاف دانت پیستے تھے۔7Zi#لیکن جب مَیں خود ٹھوکر کھانے لگا تو وہ خوش ہو کر میرے خلاف جمع ہوئے۔ وہ مجھ پر حملہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے، اور مجھے معلوم ہی نہیں تھا۔ وہ مجھے پھاڑتے رہے اور باز نہ آئے۔dYC#مَیں نے یوں ماتم کیا جیسے میرا کوئی دوست یا بھائی ہو۔ مَیں ماتمی لباس پہن کر یوں خاک میں جھک گیا جیسے اپنی ماں کا جنازہ ہو۔ wa}#اے رب، تجھے سب کچھ نظر آیا ہے۔ خاموش نہ رہ! اے رب، مجھ سے دُور نہ ہو۔`)#وہ منہ پھاڑ کر کہتے ہیں، ”لو جی، ہم نے اپنی آنکھوں سے اُس کی حرکتیں دیکھی ہیں!“g_I#کیونکہ وہ خیر اور سلامتی کی باتیں نہیں کرتے بلکہ اُن کے خلاف فریب دہ منصوبے باندھتے ہیں جو امن اور سکون سے ملک میں رہتے ہیں۔g^I#اُنہیں مجھ پر بغلیں بجانے نہ دے جو بےسبب میرے دشمن ہیں۔ اُنہیں مجھ پر ناک بھوں چڑھانے نہ دے جو بلاوجہ مجھ سے کینہ رکھتے ہیں۔]#تب مَیں بڑی جماعت میں تیری ستائش اور بڑے ہجوم میں تیری تعریف کروں گا۔ 6ofY#لیکن جو میرے انصاف کے آرزومند ہیں وہ خوش ہوں اور شادیانہ بجائیں۔ وہ کہیں، ”رب کی بڑی تعریف ہو، جو اپنے خادم کی خیریت چاہتا ہے۔“$eC#جو میرا نقصان دیکھ کر خوش ہوئے اُن سب کا منہ کالا ہو جائے، وہ شرمندہ ہو جائیں۔ جو مجھے دبا کر اپنے آپ پر فخر کرتے ہیں وہ شرمندگی اور رُسوائی سے ملبّس ہو جائیں۔3da#وہ دل میں نہ سوچیں، ”لو جی، ہمارا ارادہ پورا ہوا ہے!“ وہ نہ بولیں، ”ہم نے اُسے ہڑپ کر لیا ہے۔“c7#اے رب میرے خدا، اپنی راستی کے مطابق میرا انصاف کر۔ اُنہیں مجھ پر بغلیں بجانے نہ دے۔nbW#اے رب میرے خدا، جاگ اُٹھ! میرے دفاع میں اُٹھ کر اُن سے لڑ! ArkATk#$اپنے بستر پر بھی وہ شرارت کے منصوبے باندھتا ہے۔ وہ مضبوطی سے بُری راہ پر کھڑا رہتا اور بُرائی کو مسترد نہیں کرتا۔#jA$اُس کے منہ سے شرارت اور فریب نکلتا ہے، وہ سمجھ دار ہونے اور نیک کام کرنے سے باز آیا ہے۔'iI$کیونکہ اُس کی نظر میں یہ بات فخر کا باعث ہے کہ اُسے قصوروار پایا گیا، کہ وہ نفرت کرتا ہے۔h $رب کے خادم داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ بدکاری بےدین کے دل ہی میں اُس سے بات کرتی ہے۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے اللہ کا خوف نہیں ہوتا، g#تب میری زبان تیری راستی بیان کرے گی، وہ سارا دن تیری تمجید کرتی رہے گی۔  I&pG$ کیونکہ زندگی کا سرچشمہ تیرے ہی پاس ہے، اور ہم تیرے نور میں رہ کر نور کا مشاہدہ کرتے ہیں۔>ow$وہ تیرے گھر کے عمدہ کھانے سے تر و تازہ ہو جاتے ہیں، اور تُو اُنہیں اپنی خوشیوں کی ندی میں سے پلاتا ہے۔n1$اے اللہ، تیری شفقت کتنی بیش قیمت ہے! آدم زاد تیرے پَروں کے سائے میں پناہ لیتے ہیں۔Ym-$تیری راستی بلندترین پہاڑوں کی مانند، تیرا انصاف سمندر کی گہرائیوں جیسا ہے۔ اے رب، تُو انسان و حیوان کی مدد کرتا ہے۔vlg$اے رب، تیری شفقت آسمان تک، تیری وفاداری بادلوں تک پہنچتی ہے۔ {T{}vu%رب پر بھروسا رکھ کر بھلائی کر، ملک میں رہ کر وفاداری کی پرورش کر۔u/%کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد ہی مُرجھا جائیں گے، ہریالی کی طرح جلد ہی سوکھ جائیں گے۔~t y%داؤد کا زبور۔ شریروں کے باعث بےچین نہ ہو جا، بدکاروں پر رشک نہ کر۔,sS$ دیکھو، بدکار گر گئے ہیں! اُنہیں زمین پر پٹخ دیا گیا ہے، اور وہ دوبارہ کبھی نہیں اُٹھیں گے۔ r$ مغروروں کا پاؤں مجھ تک نہ پہنچے، بےدینوں کا ہاتھ مجھے بےگھر نہ بنائے۔(qK$ اپنی شفقت اُن پر پھیلائے رکھ جو تجھے جانتے ہیں، اپنی راستی اُن پر جو دل سے دیانت دار ہیں۔ ~V~|%% کیونکہ شریر مٹ جائیں گے جبکہ رب سے اُمید رکھنے والے ملک کو میراث میں پائیں گے۔{%خفا ہونے سے باز آ، غصے کو چھوڑ دے۔ رنجیدہ نہ ہو، ورنہ بُرا ہی نتیجہ نکلے گا۔'zI%رب کے حضور چپ ہو کر صبر سے اُس کا انتظار کر۔ بےقرار نہ ہو اگر سازشیں کرنے والا کامیاب ہو۔7yi%تب وہ تیری راست بازی سورج کی طرح طلوع ہونے دے گا اور تیرا انصاف دوپہر کی روشنی کی طرح چمکنے دے گا۔x%اپنی راہ رب کے سپرد کر۔ اُس پر بھروسا رکھ تو وہ تجھے کامیابی بخشے گا۔dwC%رب سے لطف اندوز ہو تو جو تیرا دل چاہے وہ تجھے دے گا۔ E  "-8CNXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr} #8b #8c #8d #8e #8f #8g  $8h $8i $8j #8b #8c #8d #8e #8f #8g  $8h $8i $8j $8k $8l $8m $8n $8o $ 8p $ 8q $ 8r $ 8s  %8t %8u %8v %8w %8x %8y %8z %8{ % 8| % 8} % 8~ % 8 % 8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 %8 % 8 %!8 %"8 %#8 %$8 %%8 %&8 %'8 %(8  &8 &8 &8 &8 &8 &8 &8 &8 & 8 & 8 & 8 76%لیکن اُن کی تلوار اُن کے اپنے دل میں گھونپی جائے گی، اُن کی کمان ٹوٹ جائے گی۔r_%بےدینوں نے تلوار کو کھینچا اور کمان کو تان لیا ہے تاکہ ناچاروں اور ضرورت مندوں کو گرا دیں اور سیدھی راہ پر چلنے والوں کو قتل کریں۔ % لیکن رب اُس پر ہنستا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کا انجام قریب ہی ہے۔ue% بےشک بےدین دانت پیس پیس کر راست باز کے خلاف سازشیں کرتا رہے۔~% لیکن حلیم ملک کو میراث میں پا کر بڑے امن اور سکون سے لطف اندوز ہوں گے۔E}% مزید تھوڑی دیر صبر کر تو بےدین کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ تُو اُس کا کھوج لگائے گا، لیکن کہیں نہیں پائے گا۔ _|Y_9%بےدین قرض لیتا اور اُسے نہیں اُتارتا، لیکن راست باز مہربان ہے اور فیاضی سے دیتا ہے۔X+%لیکن بےدین ہلاک ہو جائیں گے، اور رب کے دشمن چراگاہوں کی شان کی طرح نیست ہو جائیں گے، دھوئیں کی طرح غائب ہو جائیں گے۔xk%مصیبت کے وقت وہ شرم سار نہیں ہوں گے، کال بھی پڑے تو سیر ہوں گے۔%%رب بےالزاموں کے دن جانتا ہے، اور اُن کی موروثی ملکیت ہمیشہ کے لئے قائم رہے گی۔%کیونکہ بےدینوں کا بازو ٹوٹ جائے گا جبکہ رب راست بازوں کو سنبھالتا ہے۔{%راست باز کو جو تھوڑا بہت حاصل ہے وہ بہت بےدینوں کی دولت سے بہتر ہے۔ p-p %وہ ہمیشہ مہربان اور قرض دینے کے لئے تیار ہے۔ اُس کی اولاد برکت کا باعث ہو گی۔n W%مَیں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو گیا ہوں۔ لیکن مَیں نے کبھی نہیں دیکھا کہ راست باز کو ترک کیا گیا یا اُس کے بچوں کو بھیک مانگنی پڑی۔ !%اگر گر بھی جائے تو پڑا نہیں رہے گا، کیونکہ رب اُس کے ہاتھ کا سہارا بنا رہے گا۔ /%اگر کسی کے پاؤں جم جائیں تو یہ رب کی طرف سے ہے۔ ایسے شخص کی راہ کو وہ پسند کرتا ہے۔O %کیونکہ جنہیں رب برکت دے وہ ملک کو میراث میں پائیں گے، لیکن جن پر وہ لعنت بھیجے اُن کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ _wZn_% بےدین راست باز کی تاک میں بیٹھ کر اُسے مار ڈالنے کا موقع ڈھونڈتا ہے۔%اللہ کی شریعت اُس کے دل میں ہے، اور اُس کے قدم کبھی نہیں ڈگمگائیں گے۔}u%راست باز کا منہ حکمت بیان کرتا اور اُس کی زبان سے انصاف نکلتا ہے۔iM%راست باز ملک کو میراث میں پا کر اُس میں ہمیشہ بسیں گے۔-%کیونکہ رب کو انصاف پیارا ہے، اور وہ اپنے ایمان داروں کو کبھی ترک نہیں کرے گا۔ وہ ابد تک محفوظ رہیں گے جبکہ بےدینوں کی اولاد کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔%بُرائی سے باز آ کر بھلائی کر۔ تب تُو ہمیشہ کے لئے ملک میں آباد رہے گا، Oa'I%%بےالزام پر دھیان دے اور دیانت دار پر غور کر، کیونکہ آخرکار اُسے امن اور سکون حاصل ہو گا۔M%$لیکن تھوڑی دیر کے بعد جب مَیں دوبارہ وہاں سے گزرا تو وہ تھا نہیں۔ مَیں نے اُس کا کھوج لگایا، لیکن کہیں نہ ملا۔B%#مَیں نے ایک بےدین اور ظالم آدمی کو دیکھا جو پھلتے پھولتے دیودار کے درخت کی طرح آسمان سے باتیں کرنے لگا۔jO%"رب کے انتظار میں رہ اور اُس کی راہ پر چلتا رہ۔ تب وہ تجھے سرفراز کر کے ملک کا وارث بنائے گا، اور تُو بےدینوں کی ہلاکت دیکھے گا۔-U%!لیکن رب راست باز کو اُس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑے گا، وہ اُسے عدالت میں مجرم نہیں ٹھہرنے دے گا۔ W=}&کیونکہ تیرے تیر میرے جسم میں لگ گئے ہیں، تیرا ہاتھ مجھ پر بھاری ہے۔) O&داؤد کا زبور۔ یادداشت کے لئے۔ اے رب، اپنے غضب میں مجھے سزا نہ دے، قہر میں مجھے تنبیہ نہ کر!dC%(رب ہی اُن کی مدد کر کے اُنہیں چھٹکارا دے گا، وہی اُنہیں بےدینوں سے بچا کر نجات دے گا۔ کیونکہ اُنہوں نے اُس میں پناہ لی ہے۔ }%'راست بازوں کی نجات رب کی طرف سے ہے، مصیبت کے وقت وہی اُن کا قلعہ ہے۔%E%&لیکن مجرم مل کر تباہ ہو جائیں گے، اور بےدینوں کو آخرکار رُوئے زمین پر سے مٹایا جائے گا۔ $S1H$ $& اے رب، میری تمام آرزو تیرے سامنے ہے، میری آہیں تجھ سے پوشیدہ نہیں رہتیں۔#&مَیں نڈھال اور پاش پاش ہو گیا ہوں۔ دل کے عذاب کے باعث مَیں چیختا چلّاتا ہوں۔Z"/&میری کمر میں شدید سوزش ہے، پورا جسم بیمار ہے۔! &مَیں کُبڑا بن کر خاک میں دب گیا ہوں، پورا دن ماتمی لباس پہنے پھرتا ہوں۔z o&میری حماقت کے باعث میرے زخموں سے بدبو آنے لگی، وہ گلنے لگے ہیں۔!=&کیونکہ مَیں اپنے گناہوں کے سیلاب میں ڈوب گیا ہوں، وہ ناقابلِ برداشت بوجھ بن گئے ہیں۔)M&تیری لعنت کے باعث میرا پورا جسم بیمار ہے، میرے گناہ کے باعث میری تمام ہڈیاں گلنے لگی ہیں۔ gWg{)q&مَیں ایسا شخص بن گیا ہوں جو نہ سنتا، نہ جواب میں اعتراض کرتا ہے۔8(k& اور مَیں؟ مَیں تو گویا بہرا ہوں، مَیں نہیں سنتا۔ مَیں گونگے کی مانند ہوں جو اپنا منہ نہیں کھولتا۔u'e& میرے جانی دشمن پھندے بچھا رہے ہیں، جو مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ دھمکیاں دے رہے اور سارا سارا دن فریب دہ منصوبے باندھ رہے ہیں۔9&m& میرے دوست اور ساتھی میری مصیبت دیکھ کر مجھ سے گریز کرتے، میرے قریب کے رشتے دار دُور کھڑے رہتے ہیں۔%%E& میرا دل زور سے دھڑکتا، میری طاقت جواب دے گئی بلکہ میری آنکھوں کی روشنی بھی جاتی رہی ہے۔ )mr)-/U&وہ نیکی کے بدلے بدی کرتے ہیں۔ وہ اِس لئے میرے دشمن ہیں کہ مَیں بھلائی کے پیچھے لگا رہتا ہوں۔.#&میرے دشمن زندہ اور طاقت ور ہیں، اور جو بلاوجہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں وہ بہت ہیں۔ -&چنانچہ مَیں اپنا قصور تسلیم کرتا ہوں، مَیں اپنے گناہ کے باعث غمگین ہوں۔,{&کیونکہ مَیں لڑکھڑانے کو ہوں، میری اذیت متواتر میرے سامنے رہتی ہے۔e+E&مَیں بولا، ”ایسا نہ ہو کہ وہ میرا نقصان دیکھ کر بغلیں بجائیں، وہ میرے پاؤں کے ڈگمگانے پر مجھے دبا کر اپنے آپ پر فخر کریں۔“*&کیونکہ اے رب، مَیں تیرے انتظار میں ہوں۔ اے رب میرے خدا، تُو ہی میری سنے گا۔ jD7jI4 'میرا دل پریشانی سے تپنے لگا، میرے کراہتے کراہتے میرے اندر بےچینی کی آگ سی بھڑک اُٹھی۔ تب بات زبان پر آ گئی،3)'مَیں چپ چاپ ہو گیا اور اچھی چیزوں سے دُور رہ کر خاموش رہا۔ تب میری اذیت بڑھ گئی۔n2 Y'داؤد کا زبور۔ یدوتون کے لئے۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ مَیں بولا، ”مَیں اپنی راہوں پر دھیان دوں گا تاکہ اپنی زبان سے گناہ نہ کروں۔ جب تک بےدین میرے سامنے رہے اُس وقت تک اپنے منہ کو لگام دیئے رہوں گا۔“W1)&اے رب میری نجات، میری مدد کرنے میں جلدی کر! _09&اے رب، مجھے ترک نہ کر! اے اللہ، مجھ سے دُور نہ رہ! g^g8'چنانچہ اے رب، مَیں کس کے انتظار میں رہوں؟ تُو ہی میری واحد اُمید ہے!-7U'جب وہ اِدھر اُدھر گھومے پھرے تو سایہ ہی ہے۔ اُس کا شور شرابہ باطل ہے، اور گو وہ دولت جمع کرنے میں مصروف رہے توبھی اُسے معلوم نہیں کہ بعد میں کس کے قبضے میں آئے گی۔“<6s'دیکھ، میری زندگی کا دورانیہ تیرے سامنے لمحہ بھر کا ہے۔ میری پوری عمر تیرے نزدیک کچھ بھی نہیں ہے۔ ہر انسان دم بھر کا ہی ہے، خواہ وہ کتنی ہی مضبوطی سے کھڑا کیوں نہ ہو۔ (سِلاہ)57'”اے رب، مجھے میرا انجام اور میری عمر کی حد دکھا تاکہ مَیں جان لوں کہ کتنا فانی ہوں۔ v<</' جب تُو انسان کو اُس کے قصور کی مناسب سزا دے کر اُس کو تنبیہ کرتا ہے تو اُس کی خوب صورتی کیڑا لگے کپڑے کی طرح جاتی رہتی ہے۔ ہر انسان دم بھر کا ہی ہے۔ (سِلاہ);' اپنا عذاب مجھ سے دُور کر! تیرے ہاتھ کی ضربوں سے مَیں ہلاک ہو رہا ہوں۔/:Y' مَیں خاموش ہو گیا ہوں اور کبھی اپنا منہ نہیں کھولتا، کیونکہ یہ سب کچھ تیرے ہی ہاتھ سے ہوا ہے۔9'میرے تمام گناہوں سے مجھے چھٹکارا دے۔ احمق کو میری رُسوائی کرنے نہ دے۔ t? e(داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ مَیں صبر سے رب کے انتظار میں رہا تو وہ میری طرف مائل ہوا اور مدد کے لئے میری چیخوں پر توجہ دی۔>9' مجھ سے باز آ تاکہ مَیں کوچ کر کے نیست ہو جانے سے پہلے ایک بار پھر ہشاش بشاش ہو جاؤں۔ ]=5' اے رب، میری دعا سن اور مدد کے لئے میری آہوں پر توجہ دے۔ میرے آنسوؤں کو دیکھ کر خاموش نہ رہ۔ کیونکہ مَیں تیرے حضور رہنے والا پردیسی، اپنے تمام باپ دادا کی طرح تیرے حضور بسنے والا غیرشہری ہوں۔ ((HB (مبارک ہے وہ جو رب پر پورا بھروسا رکھتا ہے، جو تنگ کرنے والوں اور فریب میں اُلجھے ہوؤں کی طرف رُخ نہیں کرتا۔A(اُس نے میرے منہ میں نیا گیت ڈال دیا، ہمارے خدا کی حمد و ثنا کا گیت اُبھرنے دیا۔ بہت سے لوگ یہ دیکھیں گے اور خوف کھا کر رب پر بھروسا رکھیں گے۔@(وہ مجھے تباہی کے گڑھے سے کھینچ لایا، دلدل اور کیچڑ سے نکال لایا۔ اُس نے میرے پاؤں کو چٹان پر رکھ دیا، اور اب مَیں مضبوطی سے چل پھر سکتا ہوں۔ E$/:EP[fq| *5@KValw&1<GR\gr} & 8 &8 &8 &8 &8 &8 &8 &8 &8 & 8 &8 &8 &8 &8 &8 &8 &8 &8 &8  '8 '8 '8 '8 '8 '8 '8 '8 ' 8 ' 8 ' 8 ' 8 ' 8  (8 (8 (8 (8 (8 (8 (8 (8 ( 8 ( 8 ( 8 ( 8 ( 8 (8 (8 (8 (8  )8 )8 )8 )8 )8 )8 )8 )8 ) 8 ) 8 ) 8 ) 8 ) 8  *8 *8 *8 *8 *8 *8 *8 *8 * 8 * 8 * 8  +8 +8 +8 +8 +8 >>"F?(اے میرے خدا، مَیں خوشی سے تیری مرضی پوری کرتا ہوں، تیری شریعت میرے دل میں ٹک گئی ہے۔“E3(پھر مَیں بول اُٹھا، ”مَیں حاضر ہوں جس طرح میرے بارے میں کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے۔ D(تُو قربانیاں اور نذریں نہیں چاہتا تھا، لیکن تُو نے میرے کانوں کو کھول دیا۔ تُو نے بھسم ہونے والی قربانیوں اور گناہ کی قربانیوں کا تقاضا نہ کیا۔iCM(اے رب میرے خدا، بار بار تُو نے ہمیں اپنے معجزے دکھائے، جگہ بہ جگہ اپنے منصوبے وجود میں لا کر ہماری مدد کی۔ تجھ جیسا کوئی نہیں ہے۔ تیرے عظیم کام بےشمار ہیں، مَیں اُن کی پوری فہرست بتا بھی نہیں سکتا۔ ?$?>Iw( اے رب، تُو مجھے اپنے رحم سے محروم نہیں رکھے گا، تیری مہربانی اور وفاداری مسلسل میری نگہبانی کریں گی۔H9( مَیں نے تیری راستی اپنے دل میں چھپائے نہ رکھی بلکہ تیری وفاداری اور نجات بیان کی۔ مَیں نے بڑے اجتماع میں تیری شفقت اور صداقت کی ایک بات بھی پوشیدہ نہ رکھی۔XG+( مَیں نے بڑے اجتماع میں راستی کی خوش خبری سنائی ہے۔ اے رب، یقیناً تُو جانتا ہے کہ مَیں نے اپنے ہونٹوں کو بند نہ رکھا۔ 8%M}(جو میری مصیبت دیکھ کر قہقہہ لگاتے ہیں وہ شرم کے مارے تباہ ہو جائیں۔L(میرے جانی دشمن سب شرمندہ ہو جائیں، اُن کی سخت رُسوائی ہو جائے۔ جو میری مصیبت دیکھنے سے لطف اُٹھاتے ہیں وہ پیچھے ہٹ جائیں، اُن کا منہ کالا ہو جائے۔yKm( اے رب، مہربانی کر کے مجھے بچا! اے رب، میری مدد کرنے میں جلدی کر!HJ ( کیونکہ بےشمار تکلیفوں نے مجھے گھیر رکھا ہے، میرے گناہوں نے آخرکار مجھے آ پکڑا ہے۔ اب مَیں نظر بھی نہیں اُٹھا سکتا۔ وہ میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں، اِس لئے مَیں ہمت ہار گیا ہوں۔ ?U~kQQ)رب اُس کی حفاظت کر کے اُس کی زندگی کو محفوظ رکھے گا، وہ ملک میں اُسے برکت دے کر اُسے اُس کے دشمنوں کے لالچ کے حوالے نہیں کرے گا۔SP #)داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ مبارک ہے وہ جو پست حال کا خیال رکھتا ہے۔ مصیبت کے دن رب اُسے چھٹکارا دے گا۔fOG(مَیں ناچار اور ضرورت مند ہوں، لیکن رب میرا خیال رکھتا ہے۔ تُو ہی میرا سہارا اور میرا نجات دہندہ ہے۔ اے میرے خدا، دیر نہ کر! =Nu(لیکن تیرے طالب شادمان ہو کر تیری خوشی منائیں۔ جنہیں تیری نجات پیاری ہے وہ ہمیشہ کہیں، ”رب عظیم ہے!“ 7e7?Vy)مجھ سے نفرت کرنے والے سب آپس میں میرے خلاف پھسپھساتے ہیں۔ وہ میرے خلاف بُرے منصوبے باندھ کر کہتے ہیں،U)جب کبھی کوئی مجھ سے ملنے آئے تو اُس کا دل جھوٹ بولتا ہے۔ پسِ پردہ وہ ایسی نقصان دہ معلومات جمع کرتا ہے جنہیں بعد میں باہر جا کر گلیوں میں پھیلا سکے۔1T])میرے دشمن میرے بارے میں غلط باتیں کر کے کہتے ہیں، ”وہ کب مرے گا؟ اُس کا نام و نشان کب مٹے گا؟“S7)مَیں بولا، ”اے رب، مجھ پر رحم کر! مجھے شفا دے، کیونکہ مَیں نے تیرا ہی گناہ کیا ہے۔“R))بیماری کے وقت رب اُس کو بستر پر سنبھالے گا۔ تُو اُس کی صحت پوری طرح بحال کرے گا۔ wpw![=) تُو نے مجھے میری دیانت داری کے باعث قائم رکھا اور ہمیشہ کے لئے اپنے حضور کھڑا کیا ہے۔!Z=) اِس سے مَیں جانتا ہوں کہ تُو مجھ سے خوش ہے کہ میرا دشمن مجھ پر فتح کے نعرے نہیں لگاتا۔=Yu) لیکن تُو اے رب، مجھ پر مہربانی کر! مجھے دوبارہ اُٹھا کھڑا کر تاکہ اُنہیں اُن کے سلوک کا بدلہ دے سکوں۔jXO) میرا دوست بھی میرے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ جس پر مَیں اعتماد کرتا تھا اور جو میری روٹی کھاتا تھا، اُس نے مجھ پر لات اُٹھائی ہے۔ W)”اُسے مہلک مرض لگ گیا ہے۔ وہ کبھی اپنے بستر پر سے دوبارہ نہیں اُٹھے گا۔“ bE*_O*دن رات میرے آنسو میری غذا رہے ہیں۔ کیونکہ پورا دن مجھ سے کہا جاتا ہے، ”تیرا خدا کہاں ہے؟“^*میری جان خدا، ہاں زندہ خدا کی پیاسی ہے۔ مَیں کب جا کر اللہ کا چہرہ دیکھوں گا؟] /*قورح کی اولاد کا زبور۔ حکمت کا گیت۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ، جس طرح ہرنی ندیوں کے تازہ پانی کے لئے تڑپتی ہے اُسی طرح میری جان تیرے لئے تڑپتی ہے۔\/) رب کی حمد ہو جو اسرائیل کا خدا ہے۔ ازل سے ابد تک اُس کی تمجید ہو۔ آمین، پھر آمین۔ Pa*اے میری جان، تُو غم کیوں کھا رہی ہے، بےچینی سے کیوں تڑپ رہی ہے؟ اللہ کے انتظار میں رہ، کیونکہ مَیں دوبارہ اُس کی ستائش کروں گا جو میرا خدا ہے اور میرے دیکھتے دیکھتے مجھے نجات دیتا ہے۔{`q*پہلے حالات یاد کر کے مَیں اپنے سامنے اپنے دل کی آہ و زاری اُنڈیل دیتا ہوں۔ کتنا مزہ آتا تھا جب ہمارا جلوس نکلتا تھا، جب مَیں ہجوم کے بیچ میں خوشی اور شکرگزاری کے نعرے لگاتے ہوئے اللہ کی سکونت گاہ کی جانب بڑھتا جاتا تھا۔ کتنا شور مچ جاتا تھا جب ہم جشن مناتے ہوئے گھومتے پھرتے تھے۔ (Am_e9* مَیں اللہ اپنی چٹان سے کہوں گا، ”تُو مجھے کیوں بھول گیا ہے؟ مَیں اپنے دشمن کے ظلم کے باعث کیوں ماتمی لباس پہنے پھروں؟“Pd*دن کے وقت رب اپنی شفقت بھیجے گا، اور رات کے وقت اُس کا گیت میرے ساتھ ہو گا، مَیں اپنی حیات کے خدا سے دعا کروں گا۔ccA*جب سے تیرے آبشاروں کی آواز بلند ہوئی تو ایک سیلاب دوسرے کو پکارنے لگا ہے۔ تیری تمام موجیں اور لہریں مجھ پر سے گزر گئی ہیں۔Tb#*میری جان غم کے مارے پگھل رہی ہے۔ اِس لئے مَیں تجھے یردن کے ملک، حرمون کے پہاڑی سلسلے اور کوہِ مصر سے یاد کرتا ہوں۔ YC7YZi/+کیونکہ تُو میری پناہ کا خدا ہے۔ تُو نے مجھے کیوں رد کیا ہے؟ مَیں اپنے دشمن کے ظلم کے باعث کیوں ماتمی لباس پہنے پھروں؟2h a+اے اللہ، میرا انصاف کر! میرے لئے غیرایمان دار قوم سے لڑ، مجھے دھوکے باز اور شریر آدمیوں سے بچا۔Rg* اے میری جان، تُو غم کیوں کھا رہی ہے، بےچینی سے کیوں تڑپ رہی ہے؟ اللہ کے انتظار میں رہ، کیونکہ مَیں دوبارہ اُس کی ستائش کروں گا جو میرا خدا ہے اور میرے دیکھتے دیکھتے مجھے نجات دیتا ہے۔ 9fm* میرے دشمنوں کی لعن طعن سے میری ہڈیاں ٹوٹ رہی ہیں، کیونکہ پورا دن وہ کہتے ہیں، ”تیرا خدا کہاں ہے؟“ %Rl+اے میری جان، تُو غم کیوں کھا رہی ہے، بےچینی سے کیوں تڑپ رہی ہے؟ اللہ کے انتظار میں رہ، کیونکہ مَیں دوبارہ اُس کی ستائش کروں گا جو میرا خدا ہے اور میرے دیکھتے دیکھتے مجھے نجات دیتا ہے۔ k+تب مَیں اللہ کی قربان گاہ کے پاس آؤں گا، اُس خدا کے پاس جو میری خوشی اور فرحت ہے۔ اے اللہ میرے خدا، وہاں مَیں سرود بجا کر تیری ستائش کروں گا۔Wj)+اپنی روشنی اور سچائی کو بھیج تاکہ وہ میری راہنمائی کر کے مجھے تیرے مُقدّس پہاڑ اور تیری سکونت گاہ کے پاس پہنچائیں۔ 55Ho ,اُنہوں نے اپنی ہی تلوار کے ذریعے ملک پر قبضہ نہیں کیا، اپنے ہی بازو سے فتح نہیں پائی بلکہ تیرے دہنے ہاتھ، تیرے بازو اور تیرے چہرے کے نور نے یہ سب کچھ کیا۔ کیونکہ وہ تجھے پسند تھے۔>nw,تُو نے خود اپنے ہاتھ سے دیگر قوموں کو نکال کر ہمارے باپ دادا کو ملک میں پودے کی طرح لگا دیا۔ تُو نے خود دیگر اُمّتوں کو شکست دے کر ہمارے باپ دادا کو ملک میں پھلنے پھولنے دیا۔9m o,قورح کی اولاد کا زبور۔ حکمت کا گیت۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ، جو کچھ تُو نے ہمارے باپ دادا کے ایام میں یعنی قدیم زمانے میں کیا وہ ہم نے اپنے کانوں سے اُن سے سنا ہے۔ t,t1,پورا دن ہم اللہ پر فخر کرتے ہیں، اور ہم ہمیشہ تک تیرے نام کی تمجید کریں گے۔ (سِلاہ)(sK,بلکہ تُو ہی ہمیں دشمن سے بچاتا، تُو ہی اُنہیں شرمندہ ہونے دیتا ہے جو ہم سے نفرت کرتے ہیں۔r!,کیونکہ مَیں اپنی کمان پر اعتماد نہیں کرتا، اور میری تلوار مجھے نہیں بچائے گی-qU,تیری مدد سے ہم اپنے دشمنوں کو زمین پر پٹخ دیتے، تیرا نام لے کر اپنے مخالفوں کو کچل دیتے ہیں۔p ,تُو میرا بادشاہ، میرا خدا ہے۔ تیرے ہی حکم پر یعقوب کو مدد حاصل ہوتی ہے۔ _d_+yQ, یہ تیری طرف سے ہوا کہ ہمارے پڑوسی ہمیں رُسوا کرتے، گرد و نواح کے لوگ ہمیں لعن طعن کرتے ہیں۔x3, تُو نے اپنی قوم کو خفیف سی رقم کے لئے بیچ ڈالا، اُسے فروخت کرنے سے نفع حاصل نہ ہوا۔2w_, تُو نے ہمیں بھیڑبکریوں کی طرح قصاب کے ہاتھ میں چھوڑ دیا، ہمیں مختلف قوموں میں منتشر کر دیا ہے۔2v_, تُو نے ہمیں دشمن کے سامنے پسپا ہونے دیا، اور جو ہم سے نفرت کرتے ہیں اُنہوں نے ہمیں لُوٹ لیا ہے۔bu?, لیکن اب تُو نے ہمیں رد کر دیا، ہمیں شرمندہ ہونے دیا ہے۔ جب ہماری فوجیں لڑنے کے لئے نکلتی ہیں تو تُو اُن کا ساتھ نہیں دیتا۔ i\>w,تاہم تُو نے ہمیں چُور چُور کر کے گیدڑوں کے درمیان چھوڑ دیا، تُو نے ہمیں گہری تاریکی میں ڈوبنے دیا ہے۔y~m,نہ ہمارا دل باغی ہو گیا، نہ ہمارے قدم تیری راہ سے بھٹک گئے ہیں۔$}C,یہ سب کچھ ہم پر آ گیا ہے، حالانکہ نہ ہم تجھے بھول گئے اور نہ تیرے عہد سے بےوفا ہوئے ہیں۔F|,کیونکہ مجھے اُن کی گالیاں اور کفر سننا پڑتا ہے، دشمن اور انتقام لینے پر تُلے ہوئے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔{),دن بھر میری رُسوائی میری آنکھوں کے سامنے رہتی ہے۔ میرا چہرہ شرم سار ہی رہتا ہے،z!,ہم اقوام میں عبرت انگیز مثال بن گئے ہیں۔ لوگ ہمیں دیکھ کر توبہ توبہ کہتے ہیں۔ vQiM,ہماری جان خاک میں دب گئی، ہمارا بدن مٹی سے چمٹ گیا ہے۔B,تُو اپنا چہرہ ہم سے پوشیدہ کیوں رکھتا ہے، ہماری مصیبت اور ہم پر ہونے والے ظلم کو نظرانداز کیوں کرتا ہے؟@{,اے رب، جاگ اُٹھ! تُو کیوں سویا ہوا ہے؟ ہمیں ہمیشہ کے لئے رد نہ کر بلکہ ہماری مدد کرنے کے لئے کھڑا ہو جا۔D,لیکن تیری خاطر ہمیں دن بھر موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لوگ ہمیں ذبح ہونے والی بھیڑوں کے برابر سمجھتے ہیں۔%,تو کیا اللہ کو یہ بات معلوم نہ ہو جاتی؟ ضرور! وہ تو دل کے رازوں سے واقف ہوتا ہے۔,اگر ہم اپنے خدا کا نام بھول کر اپنے ہاتھ کسی اَور معبود کی طرف اُٹھاتے R {-اے سورمے، اپنی تلوار سے کمربستہ ہو، اپنی شان و شوکت سے ملبّس ہو جا!F-تُو آدمیوں میں سب سے خوب صورت ہے! تیرے ہونٹ شفقت سے مسح کئے ہوئے ہیں، اِس لئے اللہ نے تجھے ابدی برکت دی ہے۔g K-قورح کی اولاد کا زبور۔ حکمت اور محبت کا گیت۔ طرز: سوسن کے پھول۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ میرے دل سے خوب صورت گیت چھلک رہا ہے، مَیں اُسے بادشاہ کو پیش کروں گا۔ میری زبان ماہر کاتب کے قلم کی مانند ہو!vg,اُٹھ کر ہماری مدد کر! اپنی شفقت کی خاطر فدیہ دے کر ہمیں چھڑا! E  #.9DOZep{  *5@KValw&1<GR\gr} ,8 ,8 ,8 ,8 ,8 ,8 ,8 , 8 , 8 ,8 ,8 ,8 ,8 ,8 ,8 ,8 , 8 , 8 , 8 , 8 , 8 ,8 ,8 ,8 ,8 ,8 ,8 ,9 ,9 ,9 ,9 ,9 ,9 ,9  -9 -9 -9 -9 -9 -9 -9 -9 - 9 - 9 - 9 - 9 - 9 -9 -9 -9 -9  .9 .9 .9 .9 .9 .9 .9 .9 . 9 . 9! . 9"  /9# /9$ /9% /9& /9' /9( /9) /9* / 9+  09, 09- 09. 09/ 090 091 092 y -تُو نے راست بازی سے محبت اور بےدینی سے نفرت کی، اِس لئے اللہ تیرے خدا نے تجھے خوشی کے تیل سے مسح کر کے تجھے تیرے ساتھیوں سے کہیں زیادہ سرفراز کر دیا۔@ {-اے اللہ، تیرا تخت ازل سے ابد تک قائم و دائم رہے گا، اور انصاف کا شاہی عصا تیری بادشاہی پر حکومت کرے گا۔ 5-تیرے تیز تیر بادشاہ کے دشمنوں کے دلوں کو چھید ڈالیں۔ قومیں تیرے پاؤں میں گر جائیں۔b ?-غلبہ اور کامیابی حاصل کر۔ سچائی، انکساری اور راستی کی خاطر لڑنے کے لئے نکل آ۔ تیرا دہنا ہاتھ تجھے حیرت انگیز کام دکھائے۔ oOo3- صور کی بیٹی تحفہ لے کر آئے گی، قوم کے امیر تیری نظرِ کرم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔$C- بادشاہ تیرے حُسن کا آرزومند ہے، کیونکہ وہ تیرا آقا ہے۔ چنانچہ جھک کر اُس کا احترام کر۔#- اے بیٹی، سن میری بات! غور کر اور کان لگا۔ اپنی قوم اور اپنے باپ کا گھر بھول جا۔@{- بادشاہوں کی بیٹیاں تیرے زیورات سے سجی پھرتی ہیں۔ ملکہ اوفیر کا سونا پہنے ہوئے تیرے دہنے ہاتھ کھڑی ہے۔iM-مُر، عود اور املتاس کی بیش قیمت خوشبو تیرے تمام کپڑوں سے پھیلتی ہے۔ ہاتھی دانت کے محلوں میں تاردار موسیقی تیرا دل بہلاتی ہے۔ SZ#A-پشت در پشت مَیں تیرے نام کی تمجید کروں گا، اِس لئے قومیں ہمیشہ تک تیری ستائش کریں گی۔ \3-اے بادشاہ، تیرے بیٹے تیرے باپ دادا کی جگہ کھڑے ہو جائیں گے، اور تُو اُنہیں رئیس بنا کر پوری دنیا میں ذمہ داریاں دے گا۔6g-لوگ شادمان ہو کر اور خوشی مناتے ہوئے اُنہیں وہاں پہنچاتے ہیں، اور وہ شاہی محل میں داخل ہوتی ہیں۔ue-اُسے نفیس رنگ دار کپڑے پہنے بادشاہ کے پاس لایا جاتا ہے۔ جو کنواری سہیلیاں اُس کے پیچھے چلتی ہیں اُنہیں بھی تیرے سامنے لایا جاتا ہے۔)M- بادشاہ کی بیٹی کتنی شاندار چیزوں سے آراستہ ہے۔ اُس کا لباس سونے کے دھاگوں سے بُنا ہوا ہے۔ :0:'I.اللہ اُس کے بیچ میں ہے، اِس لئے شہر نہیں ڈگمگائے گا۔ صبح سویرے ہی اللہ اُس کی مدد کرے گا۔-U.دریا کی شاخیں اللہ کے شہر کو خوش کرتی ہیں، اُس شہر کو جو اللہ تعالیٰ کی مُقدّس سکونت گاہ ہے۔'.گو سمندر شور مچا کر ٹھاٹھیں مارے اور پہاڑ اُس کی دہاڑوں سے کانپ اُٹھیں۔ (سِلاہ)7i.اِس لئے ہم خوف نہیں کھائیں گے، گو زمین لرز اُٹھے اور پہاڑ جھوم کر سمندر کی گہرائیوں میں گر جائیں، .قورح کی اولاد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ گیت کا طرز: کنواریاں۔ اللہ ہماری پناہ گاہ اور قوت ہے۔ مصیبت کے وقت وہ ہمارا مضبوط سہارا ثابت ہوا ہے۔ FlbFx"k. رب الافواج ہمارے ساتھ ہے۔ یعقوب کا خدا ہمارا قلعہ ہے۔ (سِلاہ) S!!. وہ فرماتا ہے، ”اپنی حرکتوں سے باز آؤ! جان لو کہ مَیں خدا ہوں۔ مَیں اقوام میں سربلند اور دنیا میں سرفراز ہوں گا۔“F . وہی دنیا کی انتہا تک جنگیں روک دیتا، وہی کمان کو توڑ دیتا، نیزے کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا اور ڈھال کو جلا دیتا ہے۔ .آؤ، رب کے عظیم کاموں پر نظر ڈالو! اُسی نے زمین پر ہول ناک تباہی نازل کی ہے۔vg.رب الافواج ہمارے ساتھ ہے، یعقوب کا خدا ہمارا قلعہ ہے۔ (سِلاہ).قومیں شور مچانے، سلطنتیں لڑکھڑانے لگیں۔ اللہ نے آواز دی تو زمین لرز اُٹھی۔ ((`E'/اللہ نے صعود فرمایا تو ساتھ ساتھ خوشی کا نعرہ بلند ہوا، رب بلندی پر چڑھ گیا تو ساتھ ساتھ نرسنگا بجتا رہا۔D&/اُس نے ہمارے لئے ہماری میراث کو چن لیا، اُسی کو جو اُس کے پیارے بندے یعقوب کے لئے فخر کا باعث تھا۔ (سِلاہ)%/اُس نے قوموں کو ہمارے تحت کر دیا، اُمّتوں کو ہمارے پاؤں تلے رکھ دیا۔v$g/کیونکہ رب تعالیٰ پُرجلال ہے، وہ پوری دنیا کا عظیم بادشاہ ہے۔T# %/قورح کی اولاد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے تمام قومو، تالی بجاؤ! خوشی کے نعرے لگا کر اللہ کی مدح سرائی کرو! _WgC, 0گیت۔ قورح کی اولاد کا زبور۔ رب عظیم اور بڑی تعریف کے لائق ہے۔ اُس کا مُقدّس پہاڑ ہمارے خدا کے شہر میں ہے۔l+S/ دیگر قوموں کے شرفا ابراہیم کے خدا کی قوم کے ساتھ جمع ہو گئے ہیں، کیونکہ وہ دنیا کے حکمرانوں کا مالک ہے۔ وہ نہایت ہی سربلند ہے۔ y*m/اللہ قوموں پر حکومت کرتا ہے، اللہ اپنے مُقدّس تخت پر بیٹھا ہے۔) /کیونکہ اللہ پوری دنیا کا بادشاہ ہے۔ حکمت کا گیت گا کر اُس کی ستائش کرو۔(5/مدح سرائی کرو، اللہ کی مدح سرائی کرو! مدح سرائی کرو، ہمارے بادشاہ کی مدح سرائی کرو! Q/Q>2w0جس طرح مشرقی آندھی ترسیس کے شاندار جہازوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے اُسی طرح تُو نے اُنہیں تباہ کر دیا۔"1?0وہاں اُن پر کپکپی طاری ہوئی، اور وہ دردِ زہ میں مبتلا عورت کی طرح پیچ و تاب کھانے لگے۔s0a0لیکن اُسے دیکھتے ہی وہ حیران ہوئے، وہ دہشت کھا کر بھاگ گئے۔d/C0کیونکہ دیکھو، بادشاہ جمع ہو کر یروشلم سے لڑنے آئے۔n.W0اللہ اُس کے محلوں میں ہے، وہ اُس کی پناہ گاہ ثابت ہوا ہے۔u-e0کوہِ صیون کی بلندی خوب صورت ہے، پوری دنیا اُس سے خوش ہوتی ہے۔ کوہِ صیون دُورترین شمال کا الٰہی پہاڑ ہی ہے، وہ عظیم بادشاہ کا شہر ہے۔ 170 صیون کے ارد گرد گھومو پھرو، اُس کی فصیل کے ساتھ ساتھ چل کر اُس کے بُرج گن لو۔6+0 کوہِ صیون شادمان ہو، یہوداہ کی بیٹیاں تیرے منصفانہ فیصلوں کے باعث خوشی منائیں۔H5 0 اے اللہ، تیرا نام اِس لائق ہے کہ تیری تعریف دنیا کی انتہا تک کی جائے۔ تیرا دہنا ہاتھ راستی سے بھرا رہتا ہے۔z4o0 اے اللہ، ہم نے تیری سکونت گاہ میں تیری شفقت پر غور و خوض کیا ہے۔f3G0جو کچھ ہم نے سنا ہے وہ ہمارے دیکھتے دیکھتے رب الافواج ہمارے خدا کے شہر پر صادق آیا ہے، اللہ اُسے ابد تک قائم رکھے گا۔ (سِلاہ) G =+1مَیں اپنا کان ایک کہاوت کی طرف جھکاؤں گا، سرود بجا کر اپنی پہیلی کا حل بتاؤں گا۔<y1میرا منہ حکمت بیان کرے گا اور میرے دل کا غور و خوض سمجھ عطا کرے گا۔S;!1چھوٹے اور بڑے، امیر اور غریب سب توجہ دیں۔5: g1قورح کی اولاد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے تمام قومو، سنو! دنیا کے تمام باشندو، دھیان دو!90یقیناً اللہ ہمارا خدا ہمیشہ تک ایسا ہی ہے۔ وہ ابد تک ہماری راہنمائی کرے گا۔ 58e0 اُس کی قلعہ بندی پر خوب دھیان دو، اُس کے محلوں کا معائنہ کرو تاکہ آنے والی نسل کو سب کچھ سنا سکو۔ k1j%BE1 چنانچہ کوئی بھی ہمیشہ کے لئے زندہ نہیں رہ سکتا، آخرکار ہر ایک موت کے گڑھے میں اُترے گا۔CA1کیونکہ اِتنی بڑی رقم دینا اُس کے بس کی بات نہیں۔ آخرکار اُسے ہمیشہ کے لئے ایسی کوششوں سے باز آنا پڑے گا۔7@i1کوئی بھی فدیہ دے کر اپنے بھائی کی جان کو نہیں چھڑا سکتا۔ وہ اللہ کو اِس قسم کا تاوان نہیں دے سکتا۔|?s1ایسے لوگ اپنی ملکیت پر اعتماد اور اپنی بڑی دولت پر فخر کرتے ہیں۔>1مَیں خوف کیوں کھاؤں جب مصیبت کے دن آئیں اور مکاروں کا بُرا کام مجھے گھیر لے؟ aNF1 یہ اُن سب کی تقدیر ہے جو اپنے آپ پر اعتماد رکھتے ہیں، اور اُن سب کا انجام جو اُن کی باتیں پسند کرتے ہیں۔ (سِلاہ)E11 انسان اپنی شان و شوکت کے باوجود قائم نہیں رہتا، اُسے جانوروں کی طرح ہلاک ہونا ہے۔kDQ1 اُن کی قبریں ابد تک اُن کے گھر بنی رہیں گی، پشت در پشت وہ اُن میں بسے رہیں گے، گو اُنہیں زمینیں حاصل تھیں جو اُن کے نام پر تھیں۔ C1 کیونکہ ہر ایک دیکھ سکتا ہے کہ دانش مند بھی وفات پاتے اور احمق اور ناسمجھ بھی مل کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سب کو اپنی دولت دوسروں کے لئے چھوڑنی پڑتی ہے۔ tJ:Jo1مرتے وقت تو وہ اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جائے گا، اُس کی شان و شوکت اُس کے ساتھ پاتال میں نہیں اُترے گی۔I1مت گھبرا جب کوئی امیر ہو جائے، جب اُس کے گھر کی شان و شوکت بڑھتی جائے۔H51لیکن اللہ میری جان کا فدیہ دے گا، وہ مجھے پکڑ کر پاتال کی گرفت سے چھڑائے گا۔ (سِلاہ)G 1اُنہیں بھیڑبکریوں کی طرح پاتال میں لایا جائے گا، اور موت اُنہیں چَرائے گی۔ کیونکہ صبح کے وقت دیانت دار اُن پر حکومت کریں گے۔ تب اُن کی شکل و صورت گھسے پھٹے کپڑے کی طرح گل سڑ جائے گی، پاتال ہی اُن کی رہائش گاہ ہو گا۔ V&O 2اللہ کا نور صیون سے چمک اُٹھا ہے، اُس پہاڑ سے جو کامل حُسن کا اظہار ہے۔JN 2آسف کا زبور۔ رب قادرِ مطلق خدا بول اُٹھا ہے، اُس نے طلوعِ صبح سے لے کر غروبِ آفتاب تک پوری دنیا کو بُلایا ہے۔M-1جو انسان اپنی شان و شوکت کے باوجود ناسمجھ ہے، اُسے جانوروں کی طرح ہلاک ہونا ہے۔ AL}1پھر بھی وہ آخرکار اپنے باپ دادا کی نسل کے پاس اُترے گا، اُن کے پاس جو دوبارہ کبھی روشنی نہیں دیکھیں گے۔&KG1بےشک وہ جیتے جی اپنے آپ کو مبارک کہے گا، اور دوسرے بھی کھاتے پیتے آدمی کی تعریف کریں گے۔ E  #.9DOYdoz *4?JU`kv&0;FQ\gr} 0 94 0 95 0 96 0 97 0 98 099  19: 19; 19< 0 94 0 95 0 96 0 97 0 98 099  19: 19; 19< 19= 19> 19? 19@ 19A 1 9B 1 9C 1 9D 1 9E 1 9F 19G 19H 19I 19J 19K 19L 19M  29N 29O 29P 29Q 29R 29S 29T 29U 2 9V 2 9W 2 9X 2 9Y 2 9Z 29[ 29\ 29] 29^ 29_ 29` 29a 29b 29c 29d  39e 39f 39g 39h 39i 39j 39k 39l 3 9m 3 9n 3 9o 3 9p 3 9q 39r 39s 39t 39u 39v 39w  49x )E=Tu2”اے میری قوم، سن! مجھے بات کرنے دے۔ اے اسرائیل، مَیں تیرے خلاف گواہی دوں گا۔ مَیں اللہ تیرا خدا ہوں۔S+2آسمان اُس کی راستی کا اعلان کریں گے، کیونکہ اللہ خود انصاف کرنے والا ہے۔ (سِلاہ)=Ru2میرے ایمان داروں کو میرے حضور جمع کرو، اُنہیں جنہوں نے قربانیاں پیش کر کے میرے ساتھ عہد باندھا ہے۔“Q2وہ آسمان و زمین کو آواز دیتا ہے، ”اب مَیں اپنی قوم کی عدالت کروں گا۔SP!2ہمارا خدا آ رہا ہے، وہ خاموش نہیں رہے گا۔ اُس کے آگے آگے سب کچھ بھسم ہو رہا ہے، اُس کے ارد گرد تیز آندھی چل رہی ہے۔ 4*n4Z%2 کیا تُو سمجھتا ہے کہ مَیں سانڈوں کا گوشت کھانا یا بکروں کا خون پینا چاہتا ہوں؟Y52 اگر مجھے بھوک لگتی تو مَیں تجھے نہ بتاتا، کیونکہ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے میرا ہے۔!X=2 مَیں پہاڑوں کے ہر پرندے کو جانتا ہوں، اور جو بھی میدانوں میں حرکت کرتا ہے وہ میرا ہے۔%WE2 کیونکہ جنگل کے تمام جاندار میرے ہی ہیں، ہزاروں پہاڑیوں پر بسنے والے جانور میرے ہی ہیں۔kVQ2 نہ مَیں تیرے گھر سے بَیل لوں گا، نہ تیرے باڑوں سے بکرے۔RU2مَیں تجھے تیری ذبح کی قربانیوں کے باعث ملامت نہیں کر رہا۔ تیری بھسم ہونے والی قربانیاں تو مسلسل میرے سامنے ہیں۔ (Mo(,`S2تُو اپنے منہ کو بُرے کام کے لئے استعمال کرتا، اپنی زبان کو دھوکا دینے کے لئے تیار رکھتا ہے۔_!2کسی چور کو دیکھتے ہی تُو اُس کا ساتھ دیتا ہے، تُو زناکاروں سے رفاقت رکھتا ہے۔^%2تُو تو تربیت سے نفرت کرتا اور میرے فرمان کچرے کی طرح اپنے پیچھے پھینک دیتا ہے۔-]U2لیکن بےدین سے اللہ فرماتا ہے، ”میرے احکام سنانے اور میرے عہد کا ذکر کرنے کا تیرا کیا حق ہے؟\2مصیبت کے دن مجھے پکار۔ تب مَیں تجھے نجات دوں گا اور تُو میری تمجید کرے گا۔“/[Y2اللہ کو شکرگزاری کی قربانی پیش کر، اور وہ مَنت پوری کر جو تُو نے اللہ تعالیٰ کے حضور مانی ہے۔ vO2]vcdA2جو شکرگزاری کی قربانی پیش کرے وہ میری تعظیم کرتا ہے۔ جو مصمم ارادے سے ایسی راہ پر چلے اُسے مَیں اللہ کی نجات دکھاؤں گا۔“ Qc2تم جو اللہ کو بھولے ہوئے ہو، بات سمجھ لو، ورنہ مَیں تمہیں پھاڑ ڈالوں گا۔ اُس وقت کوئی نہیں ہو گا جو تمہیں بچائے۔b-2یہ کچھ تُو نے کیا ہے، اور مَیں خاموش رہا۔ تب تُو سمجھا کہ مَیں بالکل تجھ جیسا ہوں۔ لیکن مَیں تجھے ملامت کروں گا، تیرے سامنے ہی معاملہ ترتیب سے سناؤں گا۔-aU2تُو دوسروں کے پاس بیٹھ کر اپنے بھائی کے خلاف بولتا ہے، اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔ $b$g!3کیونکہ مَیں اپنی سرکشی کو مانتا ہوں، اور میرا گناہ ہمیشہ میرے سامنے رہتا ہے۔#fA3مجھے دھو دے تاکہ میرا قصور دُور ہو جائے، جو گناہ مجھ سے سرزد ہوا ہے اُس سے مجھے پاک کر۔e 13داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ یہ گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب داؤد کے بت سبع کے ساتھ زنا کرنے کے بعد ناتن نبی اُس کے پاس آیا۔ اے اللہ، اپنی شفقت کے مطابق مجھ پر مہربانی کر، اپنے بڑے رحم کے مطابق میری سرکشی کے داغ مٹا دے۔  s&lG3مجھے دوبارہ خوشی اور شادمانی سننے دے تاکہ جن ہڈیوں کو تُو نے کچل دیا وہ شادیانہ بجائیں۔3ka3زوفا لے کر مجھ سے گناہ دُور کر تاکہ پاک صاف ہو جاؤں۔ مجھے دھو دے تاکہ برف سے زیادہ سفید ہو جاؤں۔j'3یقیناً تُو باطن کی سچائی پسند کرتا اور پوشیدگی میں مجھے حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔8ik3یقیناً مَیں گناہ آلودہ حالت میں پیدا ہوا۔ جوں ہی مَیں ماں کے پیٹ میں وجود میں آیا تو گناہ گار تھا۔3ha3مَیں نے تیرے، صرف تیرے ہی خلاف گناہ کیا، مَیں نے وہ کچھ کیا جو تیری نظر میں بُرا ہے۔ کیونکہ لازم ہے کہ تُو بولتے وقت راست ٹھہرے اور عدالت کرتے وقت پاکیزہ ثابت ہو جائے۔ LtLMr3اے اللہ، میری نجات کے خدا، قتل کا قصور مجھ سے دُور کر کے مجھے بچا۔ تب میری زبان تیری راستی کی حمد و ثنا کرے گی۔Dq3 تب مَیں اُنہیں تیری راہوں کی تعلیم دوں گا جو تجھ سے بےوفا ہو گئے ہیں، اور گناہ گار تیرے پاس واپس آئیں گے۔ p3 مجھے دوبارہ اپنی نجات کی خوشی دلا، مجھے مستعد روح عطا کر کے سنبھالے رکھ۔o{3 مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر، نہ اپنے مُقدّس روح کو مجھ سے دُور کر۔n3 اے اللہ، میرے اندر پاک دل پیدا کر، مجھ میں نئے سرے سے ثابت قدم روح قائم کر۔sma3 اپنے چہرے کو میرے گناہوں سے پھیر لے، میرا تمام قصور مٹا دے۔ lwS3تب تجھے ہماری صحیح قربانیاں، ہماری بھسم ہونے والی اور مکمل قربانیاں پسند آئیں گی۔ تب تیری قربان گاہ پر بَیل چڑھائے جائیں گے۔ v3اپنی مہربانی کا اظہار کر کے صیون کو خوش حالی بخش، یروشلم کی فصیل تعمیر کر۔.uW3اللہ کو منظور قربانی شکستہ روح ہے۔ اے اللہ، تُو شکستہ اور کچلے ہوئے دل کو حقیر نہیں جانے گا۔=tu3کیونکہ تُو ذبح کی قربانی نہیں چاہتا، ورنہ مَیں وہ پیش کرتا۔ بھسم ہونے والی قربانیاں تجھے پسند نہیں۔nsW3اے رب، میرے ہونٹوں کو کھول تاکہ میرا منہ تیری ستائش کرے۔ ;e{E4اے فریب دہ زبان، تُو ہر تباہ کن بات سے پیار کرتی ہے۔%zE4تجھے بھلائی کی نسبت بُرائی زیادہ پیاری ہے، سچ بولنے کی نسبت جھوٹ زیادہ پسند ہے۔ (سِلاہ)y+4اے دھوکے باز، تیری زبان تیز اُسترے کی طرح چلتی ہوئی تباہی کے منصوبے باندھتی ہے۔Ax 4داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ حکمت کا یہ گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب دو ئیگ ادومی ساؤل بادشاہ کے پاس گیا اور اُسے بتایا، ”داؤد اخی مَلِک امام کے گھر میں گیا ہے۔“ اے سورمے، تُو اپنی بدی پر کیوں فخر کرتا ہے؟ اللہ کی شفقت دن بھر قائم رہتی ہے۔ w[14لیکن مَیں اللہ کے گھر میں زیتون کے پھلتے پھولتے درخت کی مانند ہوں۔ مَیں ہمیشہ کے لئے اللہ کی شفقت پر بھروسا رکھوں گا۔j~O4”لو، یہ وہ آدمی ہے جس نے اللہ میں پناہ نہ لی بلکہ اپنی بڑی دولت پر اعتماد کیا، جو اپنے تباہ کن منصوبوں سے طاقت ور ہو گیا تھا۔“s}a4راست باز یہ دیکھ کر خوف کھائیں گے۔ وہ اُس پر ہنس کر کہیں گے،|4لیکن اللہ تجھے ہمیشہ کے لئے خاک میں ملائے گا۔ وہ تجھے مار مار کر تیرے خیمے سے نکال دے گا، تجھے جڑ سے اُکھاڑ کر زندوں کے ملک سے خارج کر دے گا۔ (سِلاہ) ,,4c5افسوس، سب صحیح راہ سے بھٹک گئے، سب کے سب بگڑ گئے ہیں۔ کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں۔4c5اللہ نے آسمان سے انسان پر نظر ڈالی تاکہ دیکھے کہ کیا کوئی سمجھ دار ہے؟ کیا کوئی اللہ کا طالب ہے؟Q 5داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ حکمت کا گیت۔ طرز: محلت۔ احمق دل میں کہتا ہے، ”اللہ ہے ہی نہیں!“ ایسے لوگ بدچلن ہیں، اُن کی حرکتیں قابلِ گھن ہیں۔ ایک بھی نہیں ہے جو اچھا کام کرے۔ 4 مَیں ابد تک اُس کے لئے تیری ستائش کروں گا جو تُو نے کیا ہے۔ مَیں تیرے ایمان داروں کے سامنے ہی تیرے نام کے انتظار میں رہوں گا، کیونکہ وہ بھلا ہے۔ 9eE5کاش کوہِ صیون سے اسرائیل کی نجات نکلے! جب رب اپنی قوم کو بحال کرے گا تو یعقوب خوشی کے نعرے لگائے گا، اسرائیل باغ باغ ہو گا۔ K5تب اُن پر سخت دہشت وہاں چھا گئی جہاں پہلے دہشت کا سبب نہیں تھا۔ جنہوں نے تجھے گھیر رکھا تھا اللہ نے اُن کی ہڈیاں بکھیر دیں۔ تُو نے اُن کو رُسوا کیا، کیونکہ اللہ نے اُنہیں رد کیا ہے۔C5کیا جو بدی کر کے میری قوم کو روٹی کی طرح کھا لیتے ہیں اُنہیں سمجھ نہیں آتی؟ وہ تو اللہ کو پکارتے ہی نہیں۔ K i M6لیکن اللہ میرا سہارا ہے، رب میری زندگی قائم رکھتا ہے۔N 6کیونکہ پردیسی میرے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں، ظالم جو اللہ کا لحاظ نہیں کرتے میری جان لینے کے درپَے ہیں۔ (سِلاہ)jO6اے اللہ، میری التجا سن، میرے منہ کے الفاظ پر دھیان دے۔1 _6داؤد کا زبور۔ حکمت کا یہ گیت تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ یہ اُس وقت سے متعلق ہے جب زیف کے باشندوں نے ساؤل کے پاس جا کر کہا، ”داؤد ہمارے پاس چھپا ہوا ہے۔“ اے اللہ، اپنے نام کے ذریعے سے مجھے چھٹکارا دے! اپنی قدرت کے ذریعے سے میرا انصاف کر! P-7مجھ پر غور کر، میری سن۔ مَیں بےچینی سے اِدھر اُدھر گھومتے ہوئے آہیں بھر رہا ہوں۔ 37داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ حکمت کا یہ گیت تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ اے اللہ، میری دعا پر دھیان دے، اپنے آپ کو میری التجا سے چھپائے نہ رکھ۔5 e6کیونکہ اُس نے مجھے ساری مصیبت سے رِہائی دی، اور اب مَیں اپنے دشمنوں کی شکست دیکھ کر خوش ہوں گا۔ 8 k6مَیں تجھے رضاکارانہ قربانی پیش کروں گا۔ اے رب، مَیں تیرے نام کی ستائش کروں گا، کیونکہ وہ بھلا ہے۔, S6وہ میرے دشمنوں کی شرارت اُن پر واپس لائے گا۔ چنانچہ اپنی وفاداری دکھا کر اُنہیں تباہ کر دے! 8H7مَیں جلدی سے کہیں پناہ لیتا جہاں تیز آندھی اور طوفان سے محفوظ رہتا۔“ (سِلاہ)^77تب مَیں دُور تک بھاگ کر ریگستان میں بسیرا کرتا، 7مَیں بولا، ”کاش میرے کبوتر کے سے پَر ہوں تاکہ اُڑ کر آرام و سکون پا سکوں!nW7خوف اور لرزش مجھ پر طاری ہوئی، ہیبت مجھ پر غالب آ گئی ہے۔sa7میرا دل میرے اندر تڑپ رہا ہے، موت کی دہشت مجھ پر چھا گئی ہے۔]57کیونکہ دشمن شور مچا رہا، بےدین مجھے تنگ کر رہا ہے۔ وہ مجھ پر آفت لانے پر تُلے ہوئے ہیں، غصے میں میری مخالفت کر رہے ہیں۔ E%0;FQ\fq| *5@KValw&1<GR]hs} 49z 49{ 49| 49} 49~ 49 4 9  59 59 49z 49{ 49| 49} 49~ 49 4 9  59 59 59 59 59 59  69 69 69 69 69 69 69  79 79 79 79 79 79 79 79 7 9 7 9 7 9 7 9 7 9 79 79 79 79 79 79 79 79 79 79  89 89 89 89 89 89 89 89 8 9 8 9 8 9 8 9 8 9  99 99 99 99 99 99 99 99 9 9 9 9 9 9  :9 :9 r. r7 لیکن تُو ہی نے یہ کیا، تُو جو مجھ جیسا ہے، جو میرا قریبی دوست اور ہم راز ہے۔7 اگر کوئی دشمن میری رُسوائی کرتا تو قابلِ برداشت ہوتا۔ اگر مجھ سے نفرت کرنے والا مجھے دبا کر اپنے آپ کو سرفراز کرتا تو مَیں اُس سے چھپ جاتا۔7 اُس کے بیچ میں تباہی کی حکومت ہے، اور ظلم اور فریب اُس کے چوک کو نہیں چھوڑتے۔  7 دن رات وہ فصیل پر چکر کاٹتے ہیں، اور شہر فساد اور خرابی سے بھرا رہتا ہے۔N7 اے رب، اُن میں ابتری پیدا کر، اُن کی زبان میں اختلاف ڈال! کیونکہ مجھے شہر میں ہر طرف ظلم اور جھگڑے نظر آتے ہیں۔ ibCiV'7وہ فدیہ دے کر میری جان کو اُن سے چھڑائے گا جو میرے خلاف لڑ رہے ہیں۔ گو اُن کی تعداد بڑی ہے وہ مجھے آرام و سکون دے گا۔9m7مَیں ہر وقت آہ و زاری کرتا اور کراہتا رہتا ہوں، خواہ صبح ہو، خواہ دوپہر یا شام۔ اور وہ میری سنے گا۔}u7لیکن مَیں پکار کر اللہ سے مدد مانگتا ہوں، اور رب مجھے نجات دے گا۔^77موت اچانک ہی اُنہیں اپنی گرفت میں لے لے۔ زندہ ہی وہ پاتال میں اُتر جائیں، کیونکہ بُرائی نے اُن میں اپنا گھر بنا لیا ہے۔/7میری تیرے ساتھ کتنی اچھی رفاقت تھی جب ہم ہجوم کے ساتھ اللہ کے گھر کی طرف چلتے گئے!  s#17اپنا بوجھ رب پر ڈال تو وہ تجھے سنبھالے گا۔ وہ راست باز کو کبھی ڈگمگانے نہیں دے گا۔j"O7اُس کی زبان پر مکھن کی سی چِکنی چپڑی باتیں اور دل میں جنگ ہے۔ اُس کے تیل سے زیادہ نرم الفاظ حقیقت میں کھینچی ہوئی تلواریں ہیں۔!!7اُس شخص نے اپنا ہاتھ اپنے دوستوں کے خلاف اُٹھایا، اُس نے اپنا عہد توڑ لیا ہے۔r _7اللہ جو ازل سے تخت نشین ہے میری سن کر اُنہیں مناسب جواب دے گا۔ (سِلاہ) کیونکہ نہ وہ تبدیل ہو جائیں گے، نہ کبھی اللہ کا خوف مانیں گے۔ ) &;8دن بھر میرے دشمن میرے پیچھے لگے ہیں، کیونکہ وہ بہت ہیں اور غرور سے مجھ سے لڑ رہے ہیں۔%% G8داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: دُوردراز جزیروں کا کبوتر۔ یہ سنہرا گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب فلستیوں نے اُسے جات میں پکڑ لیا۔ اے اللہ، مجھ پر مہربانی کر! کیونکہ لوگ مجھے تنگ کر رہے ہیں، لڑنے والا دن بھر مجھے ستا رہا ہے۔*$O7لیکن اے اللہ، تُو اُنہیں تباہی کے گڑھے میں اُترنے دے گا۔ خوں خوار اور دھوکے باز آدھی عمر بھی نہیں پائیں گے بلکہ جلدی مریں گے۔ لیکن مَیں تجھ پر بھروسا رکھتا ہوں۔ 2s2E+8جو ایسی شریر حرکتیں کرتے ہیں، کیا اُنہیں بچنا چاہئے؟ ہرگز نہیں! اے اللہ، اقوام کو غصے میں خاک میں ملا دے۔N*8وہ حملہ آور ہو کر تاک میں بیٹھ جاتے اور میرے ہر قدم پر غور کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ مجھے مار ڈالنے پر تُلے ہوئے ہیں۔?)y8دن بھر وہ میرے الفاظ کو توڑ مروڑ کر غلط معنی نکالتے، اپنے تمام منصوبوں سے مجھے ضرر پہنچانا چاہتے ہیں۔_(98اللہ کے کلام پر میرا فخر ہے، اللہ پر میرا بھروسا ہے۔ مَیں ڈروں گا نہیں، کیونکہ فانی انسان مجھے کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟ ' 8لیکن جب خوف مجھے اپنی گرفت میں لے لے تو مَیں تجھ پر ہی بھروسا رکھتا ہوں۔ BB30a8 اے اللہ، تیرے حضور مَیں نے مَنتیں مانی ہیں، اور اب مَیں تجھے شکرگزاری کی قربانیاں پیش کروں گا۔,/S8 اللہ پر میرا بھروسا ہے۔ مَیں ڈروں گا نہیں، کیونکہ فانی انسان مجھے کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟j.O8 اللہ کے کلام پر میرا فخر ہے، رب کے کلام پر میرا فخر ہے۔>-w8 پھر جب مَیں تجھے پکاروں گا تو میرے دشمن مجھ سے باز آئیں گے۔ یہ مَیں نے جان لیا ہے کہ اللہ میرے ساتھ ہے!$,C8جتنے بھی دن مَیں بےگھر پھرا ہوں اُن کا تُو نے پورا حساب رکھا ہے۔ اے اللہ، میرے آنسو اپنے مشکیزے میں ڈال لے! کیا وہ پہلے سے تیری کتاب میں قلم بند نہیں ہیں؟ ضرور! 39مَیں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہوں، اللہ سے جو میرا معاملہ ٹھیک کرے گا۔2 {9داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: تباہ نہ کر۔ یہ سنہرا گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب وہ ساؤل سے بھاگ کر غار میں چھپ گیا۔ اے اللہ، مجھ پر مہربانی کر، مجھ پر مہربانی کر! کیونکہ میری جان تجھ میں پناہ لیتی ہے۔ جب تک آفت مجھ پر سے گزر نہ جائے مَیں تیرے پَروں کے سائے میں پناہ لوں گا۔i1M8 کیونکہ تُو نے میری جان کو موت سے بچایا اور میرے پاؤں کو ٹھوکر کھانے سے محفوظ رکھا تاکہ زندگی کی روشنی میں اللہ کے حضور چلوں۔ t t7%9اُنہوں نے میرے قدموں کے آگے پھندا بچھا دیا، اور میری جان خاک میں دب گئی ہے۔ اُنہوں نے میرے سامنے گڑھا کھود لیا، لیکن وہ خود اُس میں گر گئے ہیں۔ (سِلاہ)z6o9اے اللہ، آسمان پر سربلند ہو جا! تیرا جلال پوری دنیا پر چھا جائے!t5c9مَیں انسان کو ہڑپ کرنے والے شیرببروں کے بیچ میں لیٹا ہوا ہوں، اُن کے درمیان جن کے دانت نیزے اور تیر ہیں اور جن کی زبان تیز تلوار ہے۔z4o9وہ آسمان سے مدد بھیج کر مجھے چھٹکارا دے گا اور اُن کی رُسوائی کرے گا جو مجھے تنگ کر رہے ہیں۔ (سِلاہ) اللہ اپنا کرم اور وفاداری بھیجے گا۔ ']8'x<k9 اے اللہ، آسمان پر سرفراز ہو! تیرا جلال پوری دنیا پر چھا جائے۔ ;9 کیونکہ تیری عظیم شفقت آسمان جتنی بلند ہے، تیری وفاداری بادلوں تک پہنچتی ہے۔:9 اے رب، قوموں میں مَیں تیری ستائش، اُمّتوں میں تیری مدح سرائی کروں گا۔9)9اے میری جان، جاگ اُٹھ! اے ستار اور سرود، جاگ اُٹھو! آؤ، مَیں طلوعِ صبح کو جگاؤں۔899اے اللہ، میرا دل مضبوط، میرا دل ثابت قدم ہے۔ مَیں ساز بجا کر تیری مدح سرائی کروں گا۔ GcAA:تاکہ نہ جادوگر کی آواز سنے، نہ ماہر سپیرے کے منتر۔@3:وہ سانپ کی طرح زہر اُگلتے ہیں، اُس بہرے ناگ کی طرح جو اپنے کانوں کو بند کر رکھتا ہے0?[:بےدین پیدائش سے ہی صحیح راہ سے دُور ہو گئے ہیں، جھوٹ بولنے والے ماں کے پیٹ سے ہی بھٹک گئے ہیں۔>/:ہرگز نہیں، تم دل میں بدی کرتے اور ملک میں اپنے ظالم ہاتھوں کے لئے راستہ بناتے ہو۔= +:داؤد کا سنہرا گیت۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: تباہ نہ کر۔ اے حکمرانو، کیا تم واقعی منصفانہ فیصلہ کرتے، کیا دیانت داری سے آدم زادوں کی عدالت کرتے ہو؟ gFF: آخرکار دشمن کو سزا ملے گی۔ یہ دیکھ کر راست باز خوش ہو گا، اور وہ اپنے پاؤں کو بےدینوں کے خون میں دھو لے گا۔EE: اِس سے پہلے کہ تمہاری دیگیں کانٹےدار ٹہنیوں کی آگ محسوس کریں اللہ اُن سب کو آندھی میں اُڑا کر لے جائے گا۔D:وہ دھوپ میں گھونگے کی مانند ہوں جو چلتا چلتا پگھل جاتا ہے۔ اُن کا انجام اُس بچے کا سا ہو جو ماں کے پیٹ میں ضائع ہو کر کبھی سورج نہیں دیکھے گا۔.CW:وہ اُس پانی کی طرح ضائع ہو جائیں جو بہہ کر غائب ہو جاتا ہے۔ اُن کے چلائے ہوئے تیر بےاثر رہیں۔B%:اے اللہ، اُن کے منہ کے دانت توڑ ڈال! اے رب، جوان شیرببروں کے جبڑے کو پاش پاش کر! ARJJ;دیکھ، وہ میری تاک میں بیٹھے ہیں۔ اے رب، زبردست آدمی مجھ پر حملہ آور ہیں، حالانکہ مجھ سے نہ خطا ہوئی نہ گناہ۔dIC;مجھے بدکاروں سے چھٹکارا دے، خوں خواروں سے رِہا کر۔kH S;داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: تباہ نہ کر۔ یہ سنہرا گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب ساؤل نے اپنے آدمیوں کو داؤد کے گھر کی پہرہ داری کرنے کے لئے بھیجا تاکہ جب موقع ملے اُسے قتل کریں۔ اے میرے خدا، مجھے میرے دشمنوں سے بچا۔ اُن سے میری حفاظت کر جو میرے خلاف اُٹھے ہیں۔;Gq: تب لوگ کہیں گے، ”واقعی راست باز کو اجر ملتا ہے، واقعی اللہ ہے جو دنیا میں لوگوں کی عدالت کرتا ہے!“ bNN;دیکھ، اُن کے منہ سے رال ٹپک رہی ہے، اُن کے ہونٹوں سے تلواریں نکل رہی ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں، ”کون سنے گا؟“(MK;ہر شام کو وہ واپس آ جاتے اور کُتوں کی طرح بھونکتے ہوئے شہر کی گلیوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔nLW;اے رب، لشکروں اور اسرائیل کے خدا، دیگر تمام قوموں کو سزا دینے کے لئے جاگ اُٹھ! اُن سب پر کرم نہ فرما جو شریر اور غدار ہیں۔ (سِلاہ)|Ks;مَیں بےقصور ہوں، تاہم وہ دوڑ دوڑ کر مجھ سے لڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ چنانچہ جاگ اُٹھ، میری مدد کرنے آ، جو کچھ ہو رہا ہے اُس پر نظر ڈال۔ ,~,iSM; جو کچھ بھی اُن کے منہ سے نکلتا ہے وہ گناہ ہے، وہ لعنتیں اور جھوٹ ہی سناتے ہیں۔ چنانچہ اُنہیں اُن کے تکبر کے جال میں پھنسنے دے۔R; اے اللہ ہماری ڈھال، اُنہیں ہلاک نہ کر، ورنہ میری قوم تیرا کام بھول جائے گی۔ اپنی قدرت کا اظہار یوں کر کہ وہ اِدھر اُدھر لڑکھڑا کر گر جائیں۔PQ; میرا خدا اپنی مہربانی کے ساتھ مجھ سے ملنے آئے گا، اللہ بخش دے گا کہ مَیں اپنے دشمنوں کی شکست دیکھ کر خوش ہوں گا۔P ; اے میری قوت، میری آنکھیں تجھ پر لگی رہیں گی، کیونکہ اللہ میرا قلعہ ہے۔Oy;لیکن تُو اے رب، اُن پر ہنستا ہے، تُو تمام قوموں کا مذاق اُڑاتا ہے۔ i2iW+;لیکن مَیں تیری قدرت کی مدح سرائی کروں گا، صبح کو خوشی کے نعرے لگا کر تیری شفقت کی ستائش کروں گا۔ کیونکہ تُو میرا قلعہ اور مصیبت کے وقت میری پناہ گاہ ہے۔)VM;وہ اِدھر اُدھر گشت لگا کر کھانے کی چیزیں ڈھونڈتے ہیں۔ اگر پیٹ نہ بھرے تو غُراتے رہتے ہیں۔(UK;ہر شام کو وہ واپس آ جاتے اور کُتوں کی طرح بھونکتے ہوئے شہر کی گلیوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔T7; غصے میں اُنہیں تباہ کر! اُنہیں یوں تباہ کر کہ اُن کا نام و نشان تک نہ رہے۔ تب لوگ دنیا کی انتہا تک جان لیں گے کہ اللہ یعقوب کی اولاد پر حکومت کرتا ہے۔ (سِلاہ) AT"A]Z5<تُو نے زمین کو ایسے جھٹکے دیئے کہ اُس میں دراڑیں پڑ گئیں۔ اب اُس کے شگافوں کو شفا دے، کیونکہ وہ ابھی تک تھرتھرا رہی ہے۔.Y Y<داؤد کا زبور۔ طرز: عہد کا سوسن۔ تعلیم کے لئے یہ سنہرا گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب داؤد نے مسوپتامیہ کے اَرامیوں اور ضوباہ کے اَرامیوں سے جنگ کی۔ واپسی پر یوآب نے نمک کی وادی میں 12,000 ادومیوں کو مار ڈالا۔ اے اللہ، تُو نے ہمیں رد کیا، ہماری قلعہ بندی میں رخنہ ڈال دیا ہے۔ لیکن اب اپنے غضب سے باز آ کر ہمیں بحال کر۔(XK;اے میری قوت، مَیں تیری مدح سرائی کروں گا، کیونکہ اللہ میرا قلعہ اور میرا مہربان خدا ہے۔ E%0;FQ\gq| !+6ALWbmx&1<GR]hs~ :9 :9 :9 :9 :9 : 9 : 9 : 9  ;9 :9 :9 :9 :9 :9 : 9 : 9 : 9  ;9 ;9 ;9 ;9 ;9 ;9 ;9 ;9 ; 9 ; 9 ; 9 ; 9 ; 9 ;9 ;9 ;9 ;9  <9 <9 <9 <9 <9 <9 <9 <9 < 9 < 9 < 9 < 9  =9 =9 =9 =9 =9 =9 =9 =9  >9 >9 >9 >9 >9 >9 >9 >9 > 9 > 9 > 9 > 9  ?9 ?9 ?9 ?9 ?9 ?9 ?9 ?: ? : ? : ? :  @: bHib_+<جِلعاد میرا ہے اور منسّی میرا ہے۔ افرائیم میرا خود اور یہوداہ میرا شاہی عصا ہے۔X^+<اللہ نے اپنے مقدِس میں فرمایا ہے، ”مَیں فتح مناتے ہوئے سِکم کو تقسیم کروں گا اور وادیِ سُکات کو ناپ کر بانٹ دوں گا۔ ]<اپنے دہنے ہاتھ سے مدد کر کے میری سن تاکہ جو تجھے پیارے ہیں وہ نجات پائیں۔[\1<لیکن جو تیرا خوف مانتے ہیں اُن کے لئے تُو نے جھنڈا گاڑ دیا جس کے ارد گرد وہ جمع ہو کر تیروں سے پناہ لے سکتے ہیں۔ (سِلاہ)4[c<تُو نے اپنی قوم کو تلخ تجربوں سے دوچار ہونے دیا، ہمیں ایسی تیز مَے پلا دی کہ ہم ڈگمگانے لگے ہیں۔ ,"d< اللہ کے ساتھ ہم زبردست کام کریں گے، کیونکہ وہی ہمارے دشمنوں کو کچل دے گا۔ vcg< مصیبت میں ہمیں سہارا دے، کیونکہ اِس وقت انسانی مدد بےکار ہے۔kbQ< اے اللہ، تُو ہی یہ کر سکتا ہے، گو تُو نے ہمیں رد کیا ہے۔ اے اللہ، تُو ہماری فوجوں کا ساتھ نہیں دیتا جب وہ لڑنے کے لئے نکلتی ہیں۔a7< کون مجھے قلعہ بند شہر میں لائے گا؟ کون میری راہنمائی کر کے مجھے ادوم تک پہنچائے گا؟P`<موآب میرا غسل کا برتن ہے، اور ادوم پر مَیں اپنا جوتا پھینک دوں گا۔ اے فلستی ملک، مجھے دیکھ کر زوردار نعرے لگا!“ '&h/=مَیں ہمیشہ کے لئے تیرے خیمے میں رہنا، تیرے پَروں تلے پناہ لینا چاہتا ہوں۔ (سِلاہ)g%=کیونکہ تُو میری پناہ گاہ رہا ہے، ایک مضبوط بُرج جس میں مَیں دشمن سے محفوظ ہوں۔}fu=مَیں تجھے دنیا کی انتہا سے پکار رہا ہوں، کیونکہ میرا دل نڈھال ہو گیا ہے۔ میری راہنمائی کر کے مجھے اُس چٹان پر پہنچا دے جو مجھ سے بلند ہے۔Ue '=داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ تاردار ساز کے ساتھ گانا ہے۔ اے اللہ، میری آہ و زاری سن، میری دعا پر توجہ دے۔ !#~fm I>داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ یدوتون کے لئے۔ میری جان خاموشی سے اللہ ہی کے انتظار میں ہے۔ اُسی سے مجھے مدد ملتی ہے۔!l==تب مَیں ہمیشہ تک تیرے نام کی مدح سرائی کروں گا، روز بہ روز اپنی مَنتیں پوری کروں گا۔ k=وہ ہمیشہ تک اللہ کے حضور تخت نشین رہے۔ شفقت اور وفاداری اُس کی حفاظت کریں۔ijM=بادشاہ کو عمر کی درازی بخش دے۔ وہ پشت در پشت جیتا رہے۔[i1=کیونکہ اے اللہ، تُو نے میری مَنتوں پر دھیان دیا، تُو نے مجھے وہ میراث بخشی جو اُن سب کو ملتی ہے جو تیرا خوف مانتے ہیں۔ fT)%qE>لیکن تُو اے میری جان، خاموشی سے اللہ ہی کے انتظار میں رہ۔ کیونکہ اُسی سے مجھے اُمید ہے۔'pI>اُن کے منصوبوں کا ایک ہی مقصد ہے، کہ اُسے اُس کے اونچے عُہدے سے اُتاریں۔ اُنہیں جھوٹ سے مزہ آتا ہے۔ منہ سے وہ برکت دیتے، لیکن اندر ہی اندر لعنت کرتے ہیں۔ (سِلاہ)o>تم کب تک اُس پر حملہ کرو گے جو پہلے ہی جھکی ہوئی دیوار کی مانند ہے؟ تم سب کب تک اُسے قتل کرنے پر تُلے رہو گے جو پہلے ہی گرنے والی چاردیواری جیسا ہے؟n'>وہی میری چٹان، میری نجات اور میرا قلعہ ہے، اِس لئے مَیں زیادہ نہیں ڈگمگاؤں گا۔ ^Kv> ظلم پر اعتماد نہ کرو، چوری کرنے پر فضول اُمید نہ رکھو۔ اور اگر دولت بڑھ جائے تو تمہارا دل اُس سے لپٹ نہ جائے۔`u;> انسان دم بھر کا ہی ہے، اور بڑے لوگ فریب ہی ہیں۔ اگر اُنہیں ترازو میں تولا جائے تو مل کر اُن کا وزن ایک پھونک سے بھی کم ہے۔ftG>اے اُمّت، ہر وقت اُس پر بھروسا رکھ! اُس کے حضور اپنے دل کا رنج و الم پانی کی طرح اُنڈیل دے۔ اللہ ہی ہماری پناہ گاہ ہے۔ (سِلاہ)%sE>میری نجات اور عزت اللہ پر مبنی ہے، وہی میری محفوظ چٹان ہے۔ اللہ میں مَیں پناہ لیتا ہوں۔r7>صرف وہی میری جان کی چٹان، میری نجات اور میرا قلعہ ہے، اِس لئے مَیں نہیں ڈگمگاؤں گا۔ ~y0~.zW?چنانچہ مَیں مقدِس میں تجھے دیکھنے کے انتظار میں رہا تاکہ تیری قدرت اور جلال کا مشاہدہ کروں۔)y O?داؤد کا زبور۔ یہ اُس وقت سے متعلق ہے جب وہ یہوداہ کے ریگستان میں تھا۔ اے اللہ، تُو میرا خدا ہے جسے مَیں ڈھونڈتا ہوں۔ میری جان تیری پیاسی ہے، میرا پورا جسم تیرے لئے ترستا ہے۔ مَیں اُس خشک اور نڈھال ملک کی مانند ہوں جس میں پانی نہیں ہے۔x+> اے رب، یقیناً تُو مہربان ہے، کیونکہ تُو ہر ایک کو اُس کے اعمال کا بدلہ دیتا ہے۔ w> اللہ نے ایک بات فرمائی بلکہ دو بار مَیں نے سنی ہے کہ اللہ ہی قادر ہے۔ ro1r}?میری جان تیرے ساتھ لپٹی رہتی، اور تیرا دہنا ہاتھ مجھے سنبھالتا ہے۔"??کیونکہ تُو میری مدد کرنے آیا، اور مَیں تیرے پَروں کے سائے میں خوشی کے نعرے لگاتا ہوں۔~?بستر پر مَیں تجھے یاد کرتا، پوری رات کے دوران تیرے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔$}C?میری جان عمدہ غذا سے سیر ہو جائے گی، میرا منہ خوشی کے نعرے لگا کر تیری حمد و ثنا کرے گا۔|?چنانچہ مَیں جیتے جی تیری ستائش کروں گا، تیرا نام لے کر اپنے ہاتھ اُٹھاؤں گا۔ {?کیونکہ تیری شفقت زندگی سے کہیں بہتر ہے، میرے ہونٹ تیری مدح سرائی کریں گے۔ KDK@مجھے بدمعاشوں کی سازشوں سے چھپائے رکھ، اُن کی ہل چل سے جو غلط کام کرتے ہیں۔g K@داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ، سن جب مَیں اپنی آہ و زاری پیش کرتا ہوں۔ میری زندگی دشمن کی دہشت سے محفوظ رکھ۔lS? لیکن بادشاہ اللہ کی خوشی منائے گا۔ جو بھی اللہ کی قَسم کھاتا ہے وہ فخر کرے گا، کیونکہ جھوٹ بولنے والوں کے منہ بند ہو جائیں گے۔  ? اُنہیں تلوار کے حوالے کیا جائے گا، اور وہ گیدڑوں کی خوراک بن جائیں گے۔8k? لیکن جو میری جان لینے پر تُلے ہوئے ہیں وہ تباہ ہو جائیں گے، وہ زمین کی گہرائیوں میں اُتر جائیں گے۔ R]D @وہ بڑی باریکی سے بُرے منصوبوں کی تیاریاں کرتے، پھر کہتے ہیں، ”چلو، بات بن گئی ہے، منصوبہ سوچ بچار کے بعد تیار ہوا ہے۔“ یقیناً انسان کے باطن اور دل کی تہہ تک پہنچنا مشکل ہی ہے۔5e@وہ بُرا کام کرنے میں ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے، ایک دوسرے سے مشورہ لیتے ہیں کہ ہم اپنے پھندے کس طرح چھپا کر لگائیں؟ وہ کہتے ہیں، ”یہ کسی کو بھی نظر نہیں آئیں گے۔“8k@تاکہ تاک میں بیٹھ کر اُنہیں بےقصور پر چلائیں۔ وہ اچانک اور بےباکی سے اُنہیں اُس پر برسا دیتے ہیں۔*O@وہ اپنی زبان کو تلوار کی طرح تیز کرتے اور اپنے زہریلے الفاظ کو تیروں کی طرح تیار رکھتے ہیں 'k'@ }Aداؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے گیت۔ اے اللہ، تُو ہی اِس لائق ہے کہ انسان کوہِ صیون پر خاموشی سے تیرے انتظار میں رہے، تیری تمجید کرے اور تیرے حضور اپنی مَنتیں پوری کرے۔0 [@ راست باز اللہ کی خوشی منا کر اُس میں پناہ لے گا، اور جو دل سے دیانت دار ہیں وہ سب فخر کریں گے۔ . W@ تب تمام لوگ خوف کھا کر کہیں گے، ”اللہ ہی نے یہ کیا!“ اُنہیں سمجھ آئے گی کہ یہ اُسی کا کام ہے۔+ Q@وہ اپنی ہی زبان سے ٹھوکر کھا کر گر جائیں گے۔ جو بھی اُنہیں دیکھے گا وہ ”توبہ توبہ“ کہے گا۔} u@لیکن اللہ اُن پر تیر برسائے گا، اور اچانک ہی وہ زخمی ہو جائیں گے۔ W WAتُو اپنی قدرت سے پہاڑوں کی مضبوط بنیادیں ڈالتا اور قوت سے کمربستہ رہتا ہے۔Aاے ہماری نجات کے خدا، ہیبت ناک کاموں سے اپنی راستی قائم کر کے ہماری سن! کیونکہ تُو زمین کی تمام حدود اور دُوردراز سمندروں تک سب کی اُمید ہے۔)Aمبارک ہے وہ جسے تُو چن کر قریب آنے دیتا ہے، جو تیری بارگاہوں میں بس سکتا ہے۔ بخش دے کہ ہم تیرے گھر، تیری مُقدّس سکونت گاہ کی اچھی چیزوں سے سیر ہو جائیں۔{qAگناہ مجھ پر غالب آ گئے ہیں، تُو ہی ہماری سرکش حرکتوں کو معاف کر۔saAتُو دعاؤں کو سنتا ہے، اِس لئے تمام انسان تیرے حضور آتے ہیں۔ An%A تُو کھیت کی ریگھاریوں کو شرابور کر کے اُس کے ڈھیلوں کو ہموار کرتا ہے۔ تُو بارش کی بوچھاڑوں سے زمین کو نرم کر کے اُس کی فصلوں کو برکت دیتا ہے۔EA تُو زمین کی دیکھ بھال کر کے اُسے پانی کی کثرت اور زرخیزی سے نوازتا ہے، چنانچہ اللہ کی ندی پانی سے بھری رہتی ہے۔ زمین کو یوں تیار کر کے تُو انسان کو اناج کی اچھی فصل مہیا کرتا ہے۔OAدنیا کی انتہا کے باشندے تیرے نشانات سے خوف کھاتے ہیں، اور تُو طلوعِ صبح اور غروبِ آفتاب کو خوشی منانے دیتا ہے۔;qAتُو متلاطم سمندروں کو تھما دیتا ہے، تُو اُن کی گرجتی لہروں اور اُمّتوں کا شور شرابہ ختم کر دیتا ہے۔ RtcBاُس کے نام کے جلال کی تمجید کرو، اُس کی ستائش عروج تک لے جاؤ!* QBموسیقی کے راہنما کے لئے۔ زبور۔ گیت۔ اے ساری زمین، خوشی کے نعرے لگا کر اللہ کی مدح سرائی کر!S!A سبزہ زار بھیڑبکریوں سے آراستہ ہیں، وادیاں اناج سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ سب خوشی کے نعرے لگا رہے ہیں، سب گیت گا رہے ہیں! ,SA بیابان کی چراگاہیں تیل کی کثرت سے ٹپکتی ہیں، اور پہاڑیاں بھرپور خوشی سے ملبّس ہو جاتی ہیں۔*OA تُو سال کو اپنی بھلائی کا تاج پہنا دیتا ہے، اور تیرے نقشِ قدم تیل کی فراوانی سے ٹپکتے ہیں۔ 818S!!Bاپنی قدرت سے وہ ابد تک حکومت کرتا ہے۔ اُس کی آنکھیں قوموں پر لگی رہتی ہیں تاکہ سرکش اُس کے خلاف نہ اُٹھیں۔ (سِلاہ)m UBاُس نے سمندر کو خشک زمین میں بدل دیا۔ جہاں پہلے پانی کا تیز بہاؤ تھا وہاں سے لوگ پیدل ہی گزرے۔ چنانچہ آؤ، ہم اُس کی خوشی منائیں۔ Bآؤ، اللہ کے کام دیکھو! آدم زاد کی خاطر اُس نے کتنے پُرجلال معجزے کئے ہیں!9Bتمام دنیا تجھے سجدہ کرے! وہ تیری تعریف میں گیت گائے، تیرے نام کی ستائش کرے۔“ (سِلاہ)KBاللہ سے کہو، ”تیرے کام کتنے پُرجلال ہیں۔ تیری بڑی قدرت کے سامنے تیرے دشمن دبک کر تیری خوشامد کرنے لگتے ہیں۔ E  #.9DOZeoz)4?JU`kv$/:EP[fq| @: @: @: @: @: @: @ : @ :  A: @: @: @: @: @: @: @ : @ :  A: A: A: A: A: A: A: A: A : A : A : A : A :  B: B: B: B: B: B: B:! B:" B :# B :$ B :% B :& B :' B:( B:) B:* B:+ B:, B:- B:.  C:/ C:0 C:1 C:2 C:3 C:4 C:5  D:6 D:7 D:8 D:9 D:: D:; D:< D:= D :> D :? D :@ D :A D :B D:C D:D D:E D:F D:G D:H D:I D:J "&!B تُو نے لوگوں کے رتھوں کو ہمارے سروں پر سے گزرنے دیا، اور ہم آگ اور پانی کی زد میں آ گئے۔ لیکن پھر تُو نے ہمیں مصیبت سے نکال کر فراوانی کی جگہ پہنچایا۔%yB تُو نے ہمیں جال میں پھنسا دیا، ہماری کمر پر اذیت ناک بوجھ ڈال دیا۔W$)B کیونکہ اے اللہ، تُو نے ہمیں آزمایا۔ جس طرح چاندی کو پگھلا کر صاف کیا جاتا ہے اُسی طرح تُو نے ہمیں پاک صاف کر دیا ہے۔#B کیونکہ وہ ہماری زندگی قائم رکھتا، ہمارے پاؤں کو ڈگمگانے نہیں دیتا۔z"oBاے اُمّتو، ہمارے خدا کی حمد کرو۔ اُس کی ستائش دُور تک سنائی دے۔ )J3)i,MBاگر مَیں دل میں گناہ کی پرورش کرتا تو رب میری نہ سنتا۔+/Bمَیں نے اپنے منہ سے اُسے پکارا، لیکن میری زبان اُس کی تعریف کرنے کے لئے تیار تھی۔+*QBاے اللہ کا خوف ماننے والو، آؤ اور سنو! جو کچھ اللہ نے میری جان کے لئے کیا وہ تمہیں سناؤں گا۔)Bبھسم ہونے والی قربانی کے طور پر مَیں تجھے موٹی تازی بھیڑیں اور مینڈھوں کا دھواں پیش کروں گا، ساتھ ساتھ بَیل اور بکرے بھی چڑھاؤں گا۔ (سِلاہ)_(9Bوہ مَنتیں جو میرے منہ نے مصیبت کے وقت مانی تھیں۔2'_B مَیں بھسم ہونے والی قربانیاں لے کر تیرے گھر میں آؤں گا اور تیرے حضور اپنی مَنتیں پوری کروں گا، zu1eCاے اللہ، قومیں تیری ستائش کریں، تمام قومیں تیری ستائش کریں۔~0wCتاکہ زمین پر تیری راہ اور تمام قوموں میں تیری نجات معلوم ہو جائے۔/ Cزبور۔ تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اللہ ہم پر مہربانی کرے اور ہمیں برکت دے۔ وہ اپنے چہرے کا نور ہم پر چمکائے (سِلاہ).Bاللہ کی حمد ہو، جس نے نہ میری دعا رد کی، نہ اپنی شفقت مجھ سے باز رکھی۔ o-YBلیکن یقیناً رب نے میری سنی، اُس نے میری التجا پر توجہ دی۔ +6 Dداؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے گیت۔ اللہ اُٹھے تو اُس کے دشمن تتر بتر ہو جائیں گے، اُس سے نفرت کرنے والے اُس کے سامنے سے بھاگ جائیں گے۔w5iCاللہ ہمیں برکت دے، اور دنیا کی انتہائیں سب اُس کا خوف مانیں۔ h4KCزمین اپنی فصلیں دیتی ہے۔ اللہ ہمارا خدا ہمیں برکت دے!u3eCاے اللہ، قومیں تیری ستائش کریں، تمام قومیں تیری ستائش کریں۔n2WCاُمّتیں شادمان ہو کر خوشی کے نعرے لگائیں، کیونکہ تُو انصاف سے قوموں کی عدالت کرے گا اور زمین پر اُمّتوں کی قیادت کرے گا۔ (سِلاہ) *h:Dاللہ اپنی مُقدّس سکونت گاہ میں یتیموں کا باپ اور بیواؤں کا حامی ہے۔'9IDاللہ کی تعظیم میں گیت گاؤ، اُس کے نام کی مدح سرائی کرو! جو رتھ پر سوار بیابان میں سے گزر رہا ہے اُس کے لئے راستہ تیار کرو۔ رب اُس کا نام ہے، اُس کے حضور خوشی مناؤ!8!Dلیکن راست باز خوش و خرم ہوں گے، وہ اللہ کے حضور جشن منا کر پھولے نہ سمائیں گے۔R7Dوہ دھوئیں کی طرح بکھر جائیں گے۔ جس طرح موم آگ کے سامنے پگھل جاتا ہے اُسی طرح بےدین اللہ کے حضور ہلاک ہو جائیں گے۔ \;>qD اے اللہ، تُو نے کثرت کی بارش برسنے دی۔ جب کبھی تیرا موروثی ملک نڈھال ہوا تو تُو نے اُسے تازہ دم کیا۔Q=Dتو زمین لرز اُٹھی اور آسمان سے بارش ٹپکنے لگی۔ ہاں، اللہ کے حضور جو کوہِ سینا اور اسرائیل کا خدا ہے ایسا ہی ہوا۔$<CDاے اللہ، جب تُو اپنی قوم کے آگے آگے نکلا، جب تُو ریگستان میں قدم بہ قدم آگے بڑھا (سِلاہ)x;kDاللہ بےگھروں کو گھروں میں بسا دیتا اور قیدیوں کو قید سے نکال کر خوش حالی عطا کرتا ہے۔ لیکن جو سرکش ہیں وہ جُھلسے ہوئے ملک میں رہیں گے۔ zG  zCDجب قادرِ مطلق نے وہاں کے بادشاہوں کو منتشر کر دیا تو کوہِ ضلمون پر برف پڑی۔|BsD تم کیوں اپنے زِین کے دو بوروں کے درمیان بیٹھے رہتے ہو؟ دیکھو، کبوتر کے پَروں پر چاندی اور اُس کے شاہ پَروں پر پیلا سونا چڑھایا گیا ہے۔“&AGD ”فوجوں کے بادشاہ بھاگ رہے ہیں۔ وہ بھاگ رہے ہیں اور عورتیں لُوٹ کا مال تقسیم کر رہی ہیں۔ @D رب فرمان صادر کرتا ہے تو خوش خبری سنانے والی عورتوں کا بڑا لشکر نکلتا ہے،5?eD یوں تیری قوم اُس میں آباد ہوئی۔ اے اللہ، اپنی بھلائی سے تُو نے اُسے ضرورت مندوں کے لئے تیار کیا۔ p G Dتُو نے بلندی پر چڑھ کر قیدیوں کا ہجوم گرفتار کر لیا، تجھے انسانوں سے تحفے ملے، اُن سے بھی جو سرکش ہو گئے تھے۔ یوں ہی رب خدا وہاں سکونت پذیر ہوا۔,FSDاللہ کے بےشمار رتھ اور اَن گنت فوجی ہیں۔ خداوند اُن کے درمیان ہے، سینا کا خدا مقدِس میں ہے۔ E;Dاے پہاڑ کی متعدد چوٹیو، تم اُس پہاڑ کو کیوں رشک کی نگاہ سے دیکھتی ہو جسے اللہ نے اپنی سکونت گاہ کے لئے پسند کیا ہے؟ یقیناً رب وہاں ہمیشہ کے لئے سکونت کرے گا۔iDMDکوہِ بسن الٰہی پہاڑ ہے، کوہِ بسن کی متعدد چوٹیاں ہیں۔ }^}L#Dتب تُو اپنے پاؤں کو دشمن کے خون میں دھو لے گا، اور تیرے کُتے اُسے چاٹ لیں گے۔“$KCDرب نے فرمایا، ”مَیں اُنہیں بسن سے واپس لاؤں گا، سمندر کی گہرائیوں سے واپس پہنچاؤں گا۔KJDیقیناً اللہ اپنے دشمنوں کے سروں کو کچل دے گا۔ جو اپنے گناہوں سے باز نہیں آتا اُس کی کھوپڑی وہ پاش پاش کرے گا۔NIDہمارا خدا وہ خدا ہے جو ہمیں بار بار نجات دیتا ہے، رب قادرِ مطلق ہمیں بار بار موت سے بچنے کے راستے مہیا کرتا ہے۔H7Dرب کی تمجید ہو جو روز بہ روز ہمارا بوجھ اُٹھائے چلتا ہے۔ اللہ ہماری نجات ہے۔ (سِلاہ) %?%?QyDاے اللہ، اپنی قدرت برُوئے کار لا! اے اللہ، جو قدرت تُو نے پہلے بھی ہماری خاطر دکھائی اُسے دوبارہ دکھا!nPWDوہاں سب سے چھوٹا بھائی بن یمین آگے چل رہا ہے، پھر یہوداہ کے بزرگوں کا پُرشور ہجوم زبولون اور نفتالی کے بزرگوں کے ساتھ چل رہا ہے۔/OYD”جماعتوں میں اللہ کی ستائش کرو! جتنے بھی اسرائیل کے سرچشمے سے نکلے ہوئے ہو رب کی تمجید کرو!“.NWDآگے گلوکار، پھر ساز بجانے والے چل رہے ہیں۔ اُن کے آس پاس کنواریاں دف بجاتے ہوئے پھر رہی ہیں۔=MuDاے اللہ، تیرے جلوس نظر آ گئے ہیں، میرے خدا اور بادشاہ کے جلوس مقدِس میں داخل ہوتے ہوئے نظر آ گئے ہیں۔offlrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|234 5689:#;&<+=0>3?7@<AA234 5689:#;&<+=0>3?7@<AABFCJDNESFWGZI_JdKhLmMqNvOzPQR STUVW!Y&Z,[1\6]:^>_C`GaLbQdVeZf^gdhijnktlzm~nopqrst u&v*w1y6z<{B|G}K~QV\aglrw| !',17<AFKQUZ_dinsx} % f~NVD!جو اپنے رتھ پر سوار ہو کر قدیم زمانے کے بلندترین آسمانوں میں سے گزرتا ہے۔ سنو اُس کی آواز جو زور سے گرج رہا ہے۔ U D اے دنیا کی سلطنتو، اللہ کی تعظیم میں گیت گاؤ! رب کی مدح سرائی کرو (سِلاہ){TqDمصر سے سفیر آئیں گے، ایتھوپیا اپنے ہاتھ اللہ کی طرف اُٹھائے گا۔fSGDسرکنڈوں میں چھپے ہوئے درندے کو ملامت کر! سانڈوں کا جو غول بچھڑوں جیسی قوموں میں رہتا ہے اُسے ڈانٹ! اُنہیں کچل دے جو چاندی کو پیار کرتے ہیں۔ اُن قوموں کو منتشر کر جو جنگ کرنے سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔R'Dاُسے یروشلم کے اوپر اپنی سکونت گاہ سے دکھا۔ تب بادشاہ تیرے حضور تحفے لائیں گے۔ UlsZaEمَیں گہری دلدل میں دھنس گیا ہوں، کہیں پاؤں جمانے کی جگہ نہیں ملتی۔ مَیں پانی کی گہرائیوں میں آ گیا ہوں، سیلاب مجھ پر غالب آ گیا ہے۔QY Eداؤد کا زبور۔ طرز: سوسن کے پھول۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ، مجھے بچا! کیونکہ پانی میرے گلے تک پہنچ گیا ہے۔eXED#اے اللہ، تُو اپنے مقدِس سے ظاہر ہوتے وقت کتنا مہیب ہے۔ اسرائیل کا خدا ہی قوم کو قوت اور طاقت عطا کرتا ہے۔ اللہ کی تمجید ہو! 'WID"اللہ کی قدرت کو تسلیم کرو! اُس کی عظمت اسرائیل پر چھائی رہتی اور اُس کی قدرت آسمان پر ہے۔ H/MH^}Eاے قادرِ مطلق رب الافواج، جو تیرے انتظار میں رہتے ہیں وہ میرے باعث شرمندہ نہ ہوں۔ اے اسرائیل کے خدا، میرے باعث تیرے طالب کی رُسوائی نہ ہو۔]Eاے اللہ، تُو میری حماقت سے واقف ہے، میرا قصور تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔W\)Eجو بلاوجہ مجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں، جو بےسبب میرے دشمن ہیں اور مجھے تباہ کرنا چاہتے ہیں وہ طاقت ور ہیں۔ جو کچھ مَیں نے نہیں لُوٹا اُسے مجھ سے طلب کیا جاتا ہے۔M[Eمَیں چلّاتے چلّاتے تھک گیا ہوں۔ میرا گلا بیٹھ گیا ہے۔ اپنے خدا کا انتظار کرتے کرتے میری آنکھیں دُھندلا گئیں۔ T_d9E جو بزرگ شہر کے دروازے پر بیٹھے ہیں وہ میرے بارے میں گپیں ہانکتے ہیں۔ شرابی مجھے اپنے طنز بھرے گیتوں کا نشانہ بناتے ہیں۔cyE جب ماتمی لباس پہنے پھرتا تھا تو اُن کے لئے عبرت انگیز مثال بن گیا۔obYE جب مَیں روزہ رکھ کر روتا تھا تو لوگ میرا مذاق اُڑاتے تھے۔4acE کیونکہ تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا گئی ہے، جو تجھے گالیاں دیتے ہیں اُن کی گالیاں مجھ پر آ گئی ہیں۔$`CEمَیں اپنے سگے بھائیوں کے نزدیک اجنبی اور اپنی ماں کے بیٹوں کے نزدیک پردیسی بن گیا ہوں۔(_KEکیونکہ تیری خاطر مَیں شرمندگی برداشت کر رہا ہوں، تیری خاطر میرا چہرہ شرم سار ہی رہتا ہے۔  ^ i/Eاپنا چہرہ اپنے خادم سے چھپائے نہ رکھ، کیونکہ مَیں مصیبت میں ہوں۔ جلدی سے میری سن!h3Eاے رب، میری سن، کیونکہ تیری شفقت بھلی ہے۔ اپنے عظیم رحم کے مطابق میری طرف رجوع کر۔7giEسیلاب مجھ پر غالب نہ آئے، سمندر کی گہرائی مجھے ہڑپ نہ کر لے، گڑھا میرے اوپر اپنا منہ بند نہ کر لے۔Xf+Eمجھے دلدل سے نکال تاکہ غرق نہ ہو جاؤں۔ مجھے اُن سے چھٹکارا دے جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ پانی کی گہرائیوں سے مجھے بچا۔e E لیکن اے رب، میری تجھ سے دعا ہے کہ مَیں تجھے دوبارہ منظور ہو جاؤں۔ اے اللہ، اپنی عظیم شفقت کے مطابق میری سن، اپنی یقینی نجات کے مطابق مجھے بچا۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv&0;FQ\fq| D:L D:M D:N D:O D:P D:Q D:R D:S D:T D:L D:M D:N D:O D:P D:Q D:R D:S D:T D :U D!:V D":W D#:X  E:Y E:Z E:[ E:\ E:] E:^ E:_ E:` E :a E :b E :c E :d E :e E:f E:g E:h E:i E:j E:k E:l E:m E:n E:o E:p E:q E:r E:s E:t E:u E:v E:w E :x E!:y E":z E#:{ E$:|  F:} F:~ F: F: F:  G: G: G: G: G: G: G: G: G : G : G : G : G : G: G: ol|o~nwEاُن کی میز اُن کے لئے پھندا اور اُن کے ساتھیوں کے لئے جال بن جائے۔m Eاُنہوں نے میری خوراک میں کڑوا زہر ملایا، مجھے سرکہ پلایا جب پیاسا تھا۔-lUEاُن کے طعنوں سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے، مَیں بیمار پڑ گیا ہوں۔ مَیں ہم دردی کے انتظار میں رہا، لیکن بےفائدہ۔ مَیں نے توقع کی کہ کوئی مجھے دلاسا دے، لیکن ایک بھی نہ ملا۔;kqEتُو میری رُسوائی، میری شرمندگی اور تذلیل سے واقف ہے۔ تیری آنکھیں میرے تمام دشمنوں پر لگی رہتی ہیں۔jEقریب آ کر میری جان کا فدیہ دے، میرے دشمنوں کے سبب سے عوضانہ دے کر مجھے چھڑا۔ v^lvt%Eاُنہیں کتابِ حیات سے مٹایا جائے، اُن کا نام راست بازوں کی فہرست میں درج نہ ہو۔sEاُن کے قصور کا سختی سے حساب کتاب کر، وہ تیرے سامنے راست باز نہ ٹھہریں۔OrEکیونکہ جسے تُو ہی نے سزا دی اُسے وہ ستاتے ہیں، جسے تُو ہی نے زخمی کیا اُس کا دُکھ دوسروں کو سنا کر خوش ہوتے ہیں۔qEاُن کی رہائش گاہ سنسان ہو جائے اور کوئی اُن کے خیموں میں آباد نہ ہو،ipMEاپنا پورا غصہ اُن پر اُتار، تیرا سخت غضب اُن پر آ پڑے۔o7Eاُن کی آنکھیں تاریک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں۔ اُن کی کمر ہمیشہ تک ڈگمگاتی رہے۔ T75$zCE"آسمان و زمین اُس کی تمجید کریں، سمندر اور جو کچھ اُس میں حرکت کرتا ہے اُس کی ستائش کرے۔xykE!کیونکہ رب محتاجوں کی سنتا اور اپنے قیدیوں کو حقیر نہیں جانتا۔xE حلیم اللہ کا کام دیکھ کر خوش ہو جائیں گے۔ اے اللہ کے طالبو، تسلی پاؤ! wEیہ رب کو بَیل یا سینگ اور کُھر رکھنے والے سانڈ سے کہیں زیادہ پسند آئے گا۔ vEمَیں اللہ کے نام کی مدح سرائی کروں گا، شکرگزاری سے اُس کی تعظیم کروں گا۔(uKEہائے، مَیں مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں، مجھے بہت درد ہے۔ اے اللہ، تیری نجات مجھے محفوظ رکھے۔ wew ~Fمیرے جانی دشمن شرمندہ ہو جائیں، اُن کی سخت رُسوائی ہو جائے۔ جو میری مصیبت دیکھنے سے لطف اُٹھاتے ہیں وہ پیچھے ہٹ جائیں، اُن کا منہ کالا ہو جائے۔\} 5Fداؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ یادداشت کے لئے۔ اے اللہ، جلدی سے آ کر مجھے بچا! اے رب، میری مدد کرنے میں جلدی کر!0|[E$اُن کی اولاد ملک کو میراث میں پائے گی، اور اُس کے نام سے محبت رکھنے والے اُس میں بسے رہیں گے۔ c{AE#کیونکہ اللہ صیون کو نجات دے کر یہوداہ کے شہروں کو تعمیر کرے گا، اور اُس کے خادم اُن پر قبضہ کر کے اُن میں آباد ہو جائیں گے۔ ^!Gاپنی راستی سے مجھے بچا کر چھٹکارا دے۔ اپنا کان میری طرف جھکا کر مجھے نجات دے۔x mGاے رب، مَیں نے تجھ میں پناہ لی ہے۔ مجھے کبھی شرمندہ نہ ہونے دے۔]5Fلیکن مَیں ناچار اور محتاج ہوں۔ اے اللہ، جلدی سے میرے پاس آ! تُو ہی میرا سہارا اور میرا نجات دہندہ ہے۔ اے رب، دیر نہ کر! A}Fلیکن تیرے طالب شادمان ہو کر تیری خوشی منائیں۔ جنہیں تیری نجات پیاری ہے وہ ہمیشہ کہیں، ”اللہ عظیم ہے!“~wFجو میری مصیبت دیکھ کر قہقہہ لگاتے ہیں وہ شرم کے مارے پشت دکھائیں۔ aaayGبہتوں کے نزدیک مَیں بدشگونی ہوں، لیکن تُو میری مضبوط پناہ گاہ ہے۔QGپیدائش سے ہی مَیں نے تجھ پر تکیہ کیا ہے، ماں کے پیٹ سے تُو نے مجھے سنبھالا ہے۔ مَیں ہمیشہ تیری حمد و ثنا کروں گا۔%EGکیونکہ تُو ہی میری اُمید ہے۔ اے رب قادرِ مطلق، تُو میری جوانی ہی سے میرا بھروسا رہا ہے۔#Gاے میرے خدا، مجھے بےدین کے ہاتھ سے بچا، اُس کے قبضے سے جو بےانصاف اور ظالم ہے۔Gمیرے لئے چٹان پر محفوظ گھر ہو جس میں مَیں ہر وقت پناہ لے سکوں۔ تُو نے فرمایا ہے کہ مجھے نجات دے گا، کیونکہ تُو ہی میری چٹان اور میرا قلعہ ہے۔ 2iKG میرے حریف شرمندہ ہو کر فنا ہو جائیں، جو مجھے نقصان پہنچانے کے درپَے ہیں وہ لعن طعن اور رُسوائی تلے دب جائیں۔ {G اے اللہ، مجھ سے دُور نہ ہو۔ اے میرے خدا، میری مدد کرنے میں جلدی کر۔E G وہ کہتے ہیں، ”اللہ نے اُسے ترک کر دیا ہے۔ اُس کے پیچھے پڑ کر اُسے پکڑو، کیونکہ کوئی نہیں جو اُسے بچائے۔“c AG کیونکہ میرے دشمن میرے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، جو میری جان کی تاک لگائے بیٹھے ہیں وہ ایک دوسرے سے صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔w iG بُڑھاپے میں مجھے رد نہ کر، طاقت کے ختم ہونے پر مجھے ترک نہ کر۔j OGدن بھر میرا منہ تیری تمجید اور تعظیم سے لبریز رہتا ہے۔ r<sGاے اللہ، تُو میری جوانی سے مجھے تعلیم دیتا رہا ہے، اور آج تک مَیں تیرے معجزات کا اعلان کرتا آیا ہوں۔,SGمَیں رب قادرِ مطلق کے عظیم کام سناتے ہوئے آؤں گا، مَیں تیری، صرف تیری ہی راستی یاد کروں گا۔hKGمیرا منہ تیری راستی سناتا رہے گا، سارا دن تیرے نجات بخش کاموں کا ذکر کرتا رہے گا، گو مَیں اُن کی پوری تعداد گن بھی نہیں سکتا۔ Gلیکن مَیں ہمیشہ تیرے انتظار میں رہوں گا، ہمیشہ تیری ستائش کرتا رہوں گا۔ !$RGمیرا رُتبہ بڑھا دے، مجھے دوبارہ تسلی دے۔ymGتُو نے مجھے متعدد تلخ تجربوں میں سے گزرنے دیا ہے، لیکن تُو مجھے دوبارہ زندہ بھی کرے گا، تُو مجھے زمین کی گہرائیوں میں سے واپس لائے گا۔8kGاے اللہ، تیری راستی آسمان سے باتیں کرتی ہے۔ اے اللہ، تجھ جیسا کون ہے جس نے اِتنے عظیم کام کئے ہیں؟9Gاے اللہ، خواہ مَیں بوڑھا ہو جاؤں اور میرے بال سفید ہو جائیں مجھے ترک نہ کر جب تک مَیں آنے والی پشت کے تمام لوگوں کو تیری قوت اور قدرت کے بارے میں بتا نہ لوں۔ x$x( MHسلیمان کا زبور۔ اے اللہ، بادشاہ کو اپنا انصاف عطا کر، بادشاہ کے بیٹے کو اپنی راستی بخش دے[1Gمیری زبان بھی دن بھر تیری راستی بیان کرے گی، کیونکہ جو مجھے نقصان پہنچانا چاہتے تھے وہ شرم سار اور رُسوا ہو گئے ہیں۔ q]Gجب مَیں تیری مدح سرائی کروں گا تو میرے ہونٹ خوشی کے نعرے لگائیں گے، اور میری جان جسے تُو نے فدیہ دے کر چھڑایا ہے شادیانہ بجائے گی۔Gاے میرے خدا، مَیں ستار بجا کر تیری ستائش اور تیری وفاداری کی تمجید کروں گا۔ اے اسرائیل کے قدوس، مَیں سرود بجا کر تیری تعریف میں گیت گاؤں گا۔ my(m7 iHاُس کے دورِ حکومت میں راست باز پھلے پھولے گا، اور جب تک چاند نیست نہ ہو جائے سلامتی کا غلبہ ہو گا۔OHوہ کٹی ہوئی گھاس کے کھیت پر برسنے والی بارش کی طرح اُتر آئے، زمین کو تر کرنے والی بوچھاڑوں کی طرح نازل ہو جائے۔Hتب لوگ پشت در پشت تیرا خوف مانیں گے جب تک سورج چمکے اور چاند روشنی دے۔Hوہ قوم کے مصیبت زدوں کا انصاف کرے اور محتاجوں کی مدد کر کے ظالموں کو کچل دے۔^7Hپہاڑ قوم کو سلامتی اور پہاڑیاں راستی پہنچائیں۔Hتاکہ وہ راستی سے تیری قوم اور انصاف سے تیرے مصیبت زدوں کی عدالت کرے۔ ciEc&H وہ پست حالوں اور غریبوں پر ترس کھائے گا، محتاجوں کی جان کو بچائے گا۔i%MH کیونکہ جو ضرورت مند مدد کے لئے پکارے اُسے وہ چھٹکارا دے گا، جو مصیبت میں ہے اور جس کی مدد کوئی نہیں کرتا اُسے وہ رِہائی دے گا۔k$QH تمام بادشاہ اُسے سجدہ کریں، سب اقوام اُس کی خدمت کریں۔ #;H ترسیس اور ساحلی علاقوں کے بادشاہ اُسے خراج پہنچائیں، سبا اور صبا اُسے باج پیش کریں۔}"uH ریگستان کے باشندے اُس کے سامنے جھک جائیں، اُس کے دشمن خاک چاٹیں۔!!Hوہ ایک سمندر سے دوسرے سمندر تک اور دریائے فرات سے دنیا کی انتہا تک حکومت کرے۔ Sme*EHبادشاہ کا نام ابد تک قائم رہے، جب تک سورج چمکے اُس کا نام پھلے پھولے۔ تمام اقوام اُس سے برکت پائیں، اور وہ اُسے مبارک کہیں۔)3Hملک میں اناج کی کثرت ہو، پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی اُس کی فصلیں لہلہائیں۔ اُس کا پھل لبنان کے پھل جیسا عمدہ ہو، شہروں کے باشندے ہریالی کی طرح پھلیں پھولیں۔B(Hبادشاہ زندہ باد! سبا کا سونا اُسے دیا جائے۔ لوگ ہمیشہ اُس کے لئے دعا کریں، دن بھر اُس کے لئے برکت چاہیں۔)'MHوہ عوضانہ دے کر اُنہیں ظلم و تشدد سے چھڑائے گا، کیونکہ اُن کا خون اُس کی نظر میں قیمتی ہے۔ `` 1Iمرتے وقت اُن کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی، اور اُن کے جسم موٹے تازے رہتے ہیں۔07Iکیونکہ شیخی بازوں کو دیکھ کر مَیں بےچین ہو گیا، اِس لئے کہ بےدین اِتنے خوش حال ہیں۔g/IIلیکن مَیں پھسلنے کو تھا، میرے قدم لغزش کھانے کو تھے۔. Iآسف کا زبور۔ یقیناً اللہ اسرائیل پر مہربان ہے، اُن پر جن کے دل پاک ہیں۔U-%Hیہاں داؤد بن یسّی کی دعائیں ختم ہوتی ہیں۔ $,CHاُس کے جلالی نام کی ابد تک تمجید ہو، پوری دنیا اُس کے جلال سے بھر جائے۔ آمین، پھر آمین۔x+kHرب خدا کی تمجید ہو جو اسرائیل کا خدا ہے۔ صرف وہی معجزے کرتا ہے! E  "-8CNYdny)4?IT_ju%0;FQ\gr| G: G: G: G: G: G: G: G:  H: G: G: G: G: G: G: G: G:  H: H: H: H: H: H: H: H: H : H : H : H : H : H: H: H: H: H: H: H:  I: I: I: I: I: I: I: I: I : I : I : I : I : I: I: I: I: I: I: I: I: I: I: I: I: I: I: I:  J: J: J: J: J: J: J: J: J : J : J : J : J : 3qk6QI وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے منہ سے نکلتا ہے وہ آسمان سے ہے، جو بات ہماری زبان پر آ جاتی ہے وہ پوری زمین کے لئے اہمیت رکھتی ہے۔5Iوہ مذاق اُڑا کر بُری باتیں کرتے ہیں، اپنے غرور میں ظلم کی دھمکیاں دیتے ہیں۔#4AIچربی کے باعث اُن کی آنکھیں اُبھر آئی ہیں۔ اُن کے دل بےلگام وہموں کی گرفت میں رہتے ہیں۔3Iاِس لئے اُن کے گلے میں تکبر کا ہار ہے، وہ ظلم کا لباس پہنے پھرتے ہیں۔I2 Iعام لوگوں کے مسائل سے اُن کا واسطہ نہیں پڑتا۔ جس درد و کرب میں دوسرے مبتلا رہتے ہیں اُس سے وہ آزاد ہوتے ہیں۔ ]b9]"<?Iاگر مَیں کہتا، ”مَیں بھی اُن کی طرح بولوں گا،“ تو تیرے فرزندوں کی نسل سے غداری کرتا۔;Iکیونکہ دن بھر مَیں درد و کرب میں مبتلا رہتا ہوں، ہر صبح مجھے سزا دی جاتی ہے۔:7I یقیناً مَیں نے بےفائدہ اپنا دل پاک رکھا اور عبث اپنے ہاتھ غلط کام کرنے سے باز رکھے۔(9KI دیکھو، یہی ہے بےدینوں کا حال۔ وہ ہمیشہ سکون سے رہتے، ہمیشہ اپنی دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔z8oI وہ کہتے ہیں، ”اللہ کو کیا پتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کو علم ہی نہیں۔“7/I چنانچہ عوام اُن کی طرف رجوع ہوتے ہیں، کیونکہ اُن کے ہاں کثرت کا پانی پیا جاتا ہے۔ +O{+rB_Iجب میرے دل میں تلخی پیدا ہوئی اور میرے باطن میں سخت درد تھاWA)Iاے رب، جس طرح خواب جاگ اُٹھتے وقت غیرحقیقی ثابت ہوتا ہے اُسی طرح تُو اُٹھتے وقت اُنہیں وہم قرار دے کر حقیر جانے گا۔ @;Iاچانک ہی وہ تباہ ہو جائیں گے، دہشت ناک مصیبت میں پھنس کر مکمل طور پر فنا ہو جائیں گے۔ ?;Iیقیناً تُو اُنہیں پھسلنی جگہ پر رکھے گا، اُنہیں فریب میں پھنسا کر زمین پر پٹخ دے گا۔> Iتب مَیں اللہ کے مقدِس میں داخل ہو کر سمجھ گیا کہ اُن کا انجام کیا ہو گا۔-=UIمَیں سوچ بچار میں پڑ گیا تاکہ بات سمجھوں، لیکن سوچتے سوچتے تھک گیا، اذیت میں صرف اضافہ ہوا۔ f1Y1G]Iخواہ میرا جسم اور میرا دل جواب دے جائیں، لیکن اللہ ہمیشہ تک میرے دل کی چٹان اور میری میراث ہے۔TF#Iجب تُو میرے ساتھ ہے تو مجھے آسمان پر کیا کمی ہو گی؟ جب تُو میرے ساتھ ہے تو مَیں زمین کی کوئی بھی چیز نہیں چاہوں گا۔EIتُو اپنے مشورے سے میری قیادت کر کے آخر میں عزت کے ساتھ میرا خیرمقدم کرے گا۔D7Iتوبھی مَیں ہمیشہ تیرے ساتھ لپٹا رہوں گا، کیونکہ تُو میرا دہنا ہاتھ تھامے رکھتا ہے۔C'Iتو مَیں احمق تھا۔ مَیں کچھ نہیں سمجھتا تھا بلکہ تیرے سامنے مویشی کی مانند تھا۔ JP]iJK1Jاپنی جماعت کو یاد کر جسے تُو نے قدیم زمانے میں خریدا اور عوضانہ دے کر چھڑایا تاکہ تیری میراث کا قبیلہ ہو۔ کوہِ صیون کو یاد کر جس پر تُو سکونت پذیر رہا ہے۔pJ ]Jآسف کا زبور۔ حکمت کا گیت۔ اے اللہ، تُو نے ہمیں ہمیشہ کے لئے کیوں رد کیا ہے؟ اپنی چراگاہ کی بھیڑوں پر تیرا قہر کیوں بھڑکتا رہتا ہے؟oIYIلیکن میرے لئے اللہ کی قربت سب کچھ ہے۔ مَیں نے رب قادرِ مطلق کو اپنی پناہ گاہ بنایا ہے، اور مَیں لوگوں کو تیرے تمام کام سناؤں گا۔ ,HSIیقیناً جو تجھ سے دُور ہیں وہ ہلاک ہو جائیں گے، جو تجھ سے بےوفا ہیں اُنہیں تُو تباہ کر دے گا۔ _dd5_RQJاپنے دل میں وہ بولے، ”آؤ، ہم اُن سب کو خاک میں ملائیں!“ اُنہوں نے ملک میں اللہ کی ہر عبادت گاہ نذرِ آتش کر دی ہے۔P5Jاُنہوں نے تیرے مقدِس کو بھسم کر دیا، فرش تک تیرے نام کی سکونت گاہ کی بےحرمتی کی ہے۔ OJاپنے کلہاڑوں اور کدالوں سے اُس کی تمام کندہ کاری کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔uNeJاُنہوں نے گنجان جنگل میں لکڑہاروں کی طرح اپنے کلہاڑے چلائے،MJتیرے مخالفوں نے گرجتے ہوئے تیری جلسہ گاہ میں اپنے نشان گاڑ دیئے ہیں۔L+Jاپنے قدم اِن دائمی کھنڈرات کی طرف بڑھا۔ دشمن نے مقدِس میں سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ {VJ تُو ہی نے اپنی قدرت سے سمندر کو چیر کر پانی میں اژدہاؤں کے سروں کو توڑ ڈالا۔UJ اللہ قدیم زمانے سے میرا بادشاہ ہے، وہی دنیا میں نجات بخش کام انجام دیتا ہے۔ETJ تُو اپنا ہاتھ کیوں ہٹاتا، اپنا دہنا ہاتھ دُور کیوں رکھتا ہے؟ اُسے اپنی چادر سے نکال کر اُنہیں تباہ کر دے!S J اے اللہ، حریف کب تک لعن طعن کرے گا، دشمن کب تک تیرے نام کی تکفیر کرے گا؟uReJ اب ہم پر کوئی الٰہی نشان ظاہر نہیں ہوتا۔ نہ کوئی نبی ہمارے پاس رہ گیا، نہ کوئی اَور موجود ہے جو جانتا ہو کہ ایسے حالات کب تک رہیں گے۔ Li'L3\aJاپنے کبوتر کی جان کو وحشی جانوروں کے حوالے نہ کر، ہمیشہ تک اپنے مصیبت زدوں کی زندگی کو نہ بھول۔ [Jاے رب، دشمن کی لعن طعن یاد کر۔ خیال کر کہ احمق قوم تیرے نام پر کفر بکتی ہے۔ZJتُو ہی نے زمین کی حدود مقرر کیں، تُو ہی نے گرمیوں اور سردیوں کے موسم بنائے۔YJدن بھی تیرا ہے، رات بھی تیری ہی ہے۔ چاند اور سورج تیرے ہی ہاتھ سے قائم ہوئے۔*XOJایک جگہ تُو نے چشمے اور ندیاں پھوٹنے دیں، دوسری جگہ کبھی نہ سوکھنے والے دریا سوکھنے دیئے۔W!Jتُو ہی نے لِویاتان کے سروں کو چُور چُور کر کے اُسے جنگلی جانوروں کو کھلا دیا۔ >k@>~a yKآسف کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: تباہ نہ کر۔ اے اللہ، تیرا شکر ہو، تیرا شکر! تیرا نام اُن کے قریب ہے جو تیرے معجزے بیان کرتے ہیں۔`9Jاپنے دشمنوں کے نعرے نہ بھول بلکہ اپنے مخالفوں کا مسلسل بڑھتا ہوا شور شرابہ یاد کر۔ 2__Jاے اللہ، اُٹھ کر عدالت میں اپنے معاملے کا دفاع کر۔ یاد رہے کہ احمق دن بھر تجھے لعن طعن کرتا ہے۔N^Jہونے نہ دے کہ مظلوموں کو شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹنا پڑے بلکہ بخش دے کہ مصیبت زدہ اور غریب تیرے نام پر فخر کر سکیں۔]Jاپنے عہد کا لحاظ کر، کیونکہ ملک کے تاریک کونے ظلم کے میدانوں سے بھر گئے ہیں۔ z@g Kبلکہ اللہ سے جو منصف ہے۔ وہی ایک کو پست کر دیتا ہے اور دوسرے کو سرفراز۔vfgKکیونکہ سرفرازی نہ مشرق سے، نہ مغرب سے اور نہ بیابان سے آتی ہے_e9Kنہ اپنی طاقت پر شیخی مارو، نہ اکڑ کر کفر بکو‘۔“#dAKشیخی بازوں سے مَیں نے کہا، ’ڈینگیں مت مارو،‘ اور بےدینوں سے، ’اپنے آپ پر فخر مت کرو۔4ccKگو زمین اپنے باشندوں سمیت ڈگمگانے لگے، لیکن مَیں ہی نے اُس کے ستونوں کو مضبوط کر دیا ہے۔ (سِلاہ)bKاللہ فرماتا ہے، ”جب میرا وقت آئے گا تو مَیں انصاف سے عدالت کروں گا۔ ?K?ylmLاُس نے اپنی ماند سالم میں اور اپنا بھٹ کوہِ صیون پر بنا لیا ہے۔ik OLآسف کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ اللہ یہوداہ میں مشہور ہے، اُس کا نام اسرائیل میں عظیم ہے۔j9K اللہ فرماتا ہے، ”مَیں تمام بےدینوں کی کمر توڑ دوں گا جبکہ راست باز سرفراز ہو گا۔“ i7K لیکن مَیں ہمیشہ اللہ کے عظیم کام سناؤں گا، ہمیشہ یعقوب کے خدا کی مدح سرائی کروں گا۔hKکیونکہ رب کے ہاتھ میں جھاگ دار اور مسالے دار مَے کا پیالہ ہے جسے وہ لوگوں کو پلا دیتا ہے۔ یقیناً دنیا کے تمام بےدینوں کو اِسے آخری قطرے تک پینا ہے۔ t5XtnrWLتُو نے آسمان سے فیصلے کا اعلان کیا۔ زمین سہم کر چپ ہو گئیpq[Lتُو ہی مہیب ہے۔ جب تُو جھڑکے تو کون تیرے حضور قائم رہے گا؟ pLاے یعقوب کے خدا، تیرے ڈانٹنے پر گھوڑے اور رتھ بان بےحس و حرکت ہو گئے ہیں۔8okLبہادروں کو لُوٹ لیا گیا ہے، وہ موت کی نیند سو گئے ہیں۔ فوجیوں میں سے ایک بھی ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا۔nLاے اللہ، تُو درخشاں ہے، تُو شکار کے پہاڑوں سے آیا ہوا عظیم الشان سورما ہے۔Gm Lوہاں اُس نے جلتے ہوئے تیروں کو توڑ ڈالا اور ڈھال، تلوار اور جنگ کے ہتھیاروں کو چُور چُور کر دیا ہے۔ (سِلاہ) E  #.9DOZepz)4?JU`ju%0;EP[fq| J: J: J: J: J: J: J: J: J: J: J: J: J: J: J: J: J: J:  K: K: K: K: K: K: K: K: K : K :  L: L: L: L: L: L: L: L: L : L : L : L :  M: M: M: M: M: M: M: M: M : M ; M ; M ; M ; M; M; M; M; M; M; M;  N; N; N; N; N; N; N; N; N ; N ; N ; N ; N ; N; N; N; N; N; 3Y@3 w Mآسف کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ یدوتون کے لئے۔ مَیں اللہ سے فریاد کر کے مدد کے لئے چلّاتا ہوں، مَیں اللہ کو پکارتا ہوں کہ مجھ پر دھیان دے۔vL وہ حکمرانوں کو شکستہ روح کر دیتا ہے، اُسی سے دنیا کے بادشاہ دہشت کھاتے ہیں۔ Uu%L رب اپنے خدا کے حضور مَنتیں مان کر اُنہیں پورا کرو۔ جتنے بھی اُس کے ارد گرد ہیں وہ پُرجلال خدا کے حضور ہدیئے لائیں۔&tGL کیونکہ انسان کا طیش بھی تیری تمجید کا باعث ہے۔ اُس کے طیش کا آخری نتیجہ تیرا جلال ہی ہے۔#sAL جب اللہ عدالت کرنے کے لئے اُٹھا، جب وہ تمام مصیبت زدوں کو نجات دینے کے لئے آیا۔ (سِلاہ) cAc*|OMرات کو مَیں اپنا گیت یاد کرتا ہوں۔ میرا دل محوِ خیال رہتا اور میری روح تفتیش کرتی رہتی ہے۔ {Mمَیں قدیم زمانے پر غور کرتا ہوں، اُن سالوں پر جو بڑی دیر ہوئے گزر گئے ہیں۔z1Mتُو میری آنکھوں کو بند ہونے نہیں دیتا۔ مَیں اِتنا بےچین ہوں کہ بول بھی نہیں سکتا۔OyMمَیں اللہ کو یاد کرتا ہوں تو آہیں بھرنے لگتا ہوں، مَیں سوچ بچار میں پڑ جاتا ہوں تو روح نڈھال ہو جاتی ہے۔ (سِلاہ)hxKMاپنی مصیبت میں مَیں نے رب کو تلاش کیا۔ رات کے وقت میرے ہاتھ بلاناغہ اُس کی طرف اُٹھے رہے۔ میری جان نے تسلی پانے سے انکار کیا۔ qw:"q-UM جو کچھ تُو نے کیا اُس کے ہر پہلو پر غور و خوض کروں گا، تیرے عظیم کاموں میں محوِ خیال رہوں گا۔M مَیں رب کے کام یاد کروں گا، ہاں قدیم زمانے کے تیرے معجزے یاد کروں گا۔ M مَیں بولا، ”اِس سے مجھے دُکھ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دہنا ہاتھ بدل گیا ہے۔“9M کیا اللہ مہربانی کرنا بھول گیا ہے؟ کیا اُس نے غصے میں اپنا رحم باز رکھا ہے؟“ (سِلاہ)~'Mکیا اُس کی شفقت ہمیشہ کے لئے جاتی رہی ہے؟ کیا اُس کے وعدے اب سے جواب دے گئے ہیں؟}M”کیا رب ہمیشہ کے لئے رد کرے گا، کیا آئندہ ہمیں کبھی پسند نہیں کرے گا؟ ^:^&GMآندھی میں تیری آواز کڑکتی رہی، دنیا بجلیوں سے روشن ہوئی، زمین کانپتی کانپتی اُچھل پڑی۔  Mموسلادھار بارش برسی، بادل گرج اُٹھے اور تیرے تیر اِدھر اُدھر چلنے لگے۔!=Mاے اللہ، پانی نے تجھے دیکھا، پانی نے تجھے دیکھا تو تڑپنے لگا، گہرائیوں تک لرزنے لگا۔)MMبڑی قوت سے تُو نے عوضانہ دے کر اپنی قوم، یعقوب اور یوسف کی اولاد کو رِہا کر دیا ہے۔ (سِلاہ)+Mتُو ہی معجزے کرنے والا خدا ہے۔ اقوام کے درمیان تُو نے اپنی قدرت کا اظہار کیا ہے۔zoM اے اللہ، تیری راہ قدوس ہے۔ کون سا معبود ہمارے خدا جیسا عظیم ہے؟ I  +Nجو کچھ ہم نے سن لیا اور ہمیں معلوم ہوا ہے، جو کچھ ہمارے باپ دادا نے ہمیں سنایا ہےy mNمَیں تمثیلوں میں بات کروں گا، قدیم زمانے کے معمے بیان کروں گا۔,  UNآسف کا زبور۔ حکمت کا گیت۔ اے میری قوم، میری ہدایت پر دھیان دے، میرے منہ کی باتوں پر کان لگا۔  Mموسیٰ اور ہارون کے ہاتھ سے تُو نے ریوڑ کی طرح اپنی قوم کی راہنمائی کی۔ 3 aMتیری راہ سمندر میں سے، تیرا راستہ گہرے پانی میں سے گزرا، توبھی تیرے نقشِ قدم کسی کو نظر نہ آئے۔ c ?cX+Nکیونکہ اللہ کی مرضی ہے کہ اِس طرح ہر پشت اللہ پر اعتماد رکھ کر اُس کے عظیم کام نہ بھولے بلکہ اُس کے احکام پر عمل کرے۔ONتاکہ آنے والی پشت بھی اُنہیں اپنائے، وہ بچے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ پھر اُنہیں بھی اپنے بچوں کو سنانا تھا۔wiNکیونکہ اُس نے یعقوب کی اولاد کو شریعت دی، اسرائیل میں احکام قائم کئے۔ اُس نے فرمایا کہ ہمارے باپ دادا یہ احکام اپنی اولاد کو سکھائیںoYNاُسے ہم اُن کی اولاد سے نہیں چھپائیں گے۔ ہم آنے والی پشت کو رب کے قابلِ تعریف کام بتائیں گے، اُس کی قدرت اور معجزات بیان کریں گے۔ f&/N ملکِ مصر کے علاقے ضُعن میں اُس نے اُن کے باپ دادا کے دیکھتے دیکھتے معجزے کئے تھے۔#AN جو کچھ اُس نے کیا تھا، جو معجزے اُس نے اُنہیں دکھائے تھے، افرائیمی وہ سب کچھ بھول گئے۔%N وہ اللہ کے عہد سے وفادار نہ رہے، اُس کی شریعت پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔|sN چنانچہ افرائیم کے مرد گو کمانوں سے لیس تھے جنگ کے وقت فرار ہوئے۔)Nوہ نہیں چاہتا کہ وہ اپنے باپ دادا کی مانند ہوں جو ضدی اور سرکش نسل تھے، ایسی نسل جس کا دل ثابت قدم نہیں تھا اور جس کی روح وفاداری سے اللہ سے لپٹی نہ رہی۔ eB%e Nجان بوجھ کر اُنہوں نے اللہ کو آزما کر وہ خوراک مانگی جس کا لالچ کرتے تھے۔+Nلیکن وہ اُس کا گناہ کرنے سے باز نہ آئے بلکہ ریگستان میں اللہ تعالیٰ سے سرکش رہے۔Nاُس نے ہونے دیا کہ چٹان سے ندیاں پھوٹ نکلیں اور پانی دریاؤں کی طرح بہنے لگے۔!Nریگستان میں اُس نے پتھروں کو چاک کر کے اُنہیں سمندر کی سی کثرت کا پانی پلایا۔Nدن کو اُس نے بادل کے ذریعے اور رات بھر چمک دار آگ سے اُن کی قیادت کی۔:oN سمندر کو چیر کر اُس نے اُنہیں اُس میں سے گزرنے دیا، اور دونوں طرف پانی مضبوط دیوار کی طرح کھڑا رہا۔ Ma@M!+Nاِس کے باوجود اللہ نے اُن کے اوپر بادلوں کو حکم دے کر آسمان کے دروازے کھول دیئے۔% ENکیوں؟ اِس لئے کہ اُنہیں اللہ پر یقین نہیں تھا، وہ اُس کی نجات پر بھروسا نہیں رکھتے تھے۔*ONیہ سن کر رب طیش میں آ گیا۔ یعقوب کے خلاف آگ بھڑک اُٹھی، اور اُس کا غضب اسرائیل پر نازل ہوا۔5Nبےشک جب اُس نے چٹان کو مارا تو پانی پھوٹ نکلا اور ندیاں بہنے لگیں۔ لیکن کیا وہ روٹی بھی دے سکتا ہے، اپنی قوم کو گوشت بھی مہیا کر سکتا ہے؟ یہ تو ناممکن ہے۔“1Nاللہ کے خلاف کفر بک کر وہ بولے، ”کیا اللہ ریگستان میں ہمارے لئے میز بچھا سکتا ہے؟ Y|C Y/'YNتب وہ کھا کھا کر خوب سیر ہو گئے، کیونکہ جس کا لالچ وہ کرتے تھے وہ اللہ نے اُنہیں مہیا کیا تھا۔ &Nخیمہ گاہ کے بیچ میں ہی وہ گر پڑے، اُن کے گھروں کے ارد گرد ہی زمین پر آ گرے۔#%ANاُس نے گرد کی طرح اُن پر گوشت برسایا، سمندر کی ریت جیسے بےشمار پرندے اُن پر گرنے دیئے۔ $Nپھر اُس نے آسمان پر مشرقی ہَوا چلائی اور اپنی قدرت سے جنوبی ہَوا پہنچائی۔$#CNہر ایک نے فرشتوں کی یہ روٹی کھائی بلکہ اللہ نے اِتنا کھانا بھیجا کہ اُن کے پیٹ بھر گئے۔"{Nاُس نے کھانے کے لئے اُن پر من برسایا، اُنہیں آسمان سے روٹی کھلائی۔ sK8,kN"جب کبھی اللہ نے اُن میں قتل و غارت ہونے دی تو وہ اُسے ڈھونڈنے لگے، وہ مُڑ کر اللہ کو تلاش کرنے لگے۔6+gN!اِس لئے اُس نے اُن کے دن ناکامی میں گزرنے دیئے، اور اُن کے سال دہشت کی حالت میں اختتام پذیر ہوئے۔2*_N اِن تمام باتوں کے باوجود وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کرتے گئے اور اُس کے معجزات پر ایمان نہ لائے۔4)cNکہ اللہ کا غضب اُن پر نازل ہوا۔ قوم کے کھاتے پیتے لوگ ہلاک ہوئے، اسرائیل کے جوان خاک میں مل گئے۔ ( Nلیکن اُن کا لالچ ابھی پورا نہیں ہوا تھا اور گوشت ابھی اُن کے منہ میں تھا r]0*1ON'کیونکہ اُسے یاد رہا کہ وہ فانی انسان ہیں، ہَوا کا ایک جھونکا جو گزر کر کبھی واپس نہیں آتا۔)0MN&توبھی اللہ رحم دل رہا۔ اُس نے اُنہیں تباہ نہ کیا بلکہ اُن کا قصور معاف کرتا رہا۔ بار بار وہ اپنے غضب سے باز آیا، بار بار اپنا پورا قہر اُن پر اُتارنے سے گریز کیا۔/#N%نہ اُن کے دل ثابت قدمی سے اُس کے ساتھ لپٹے رہے، نہ وہ اُس کے عہد سے وفادار رہے۔z.oN$لیکن وہ منہ سے اُسے دھوکا دیتے، زبان سے اُسے جھوٹ پیش کرتے تھے۔ -N#تب اُنہیں یاد آیا کہ اللہ ہماری چٹان، اللہ تعالیٰ ہمارا چھڑانے والا ہے۔ epF e#7AN-اُس نے اُن کے درمیان جوؤں کے غول بھیجے جو اُنہیں کھا گئیں، مینڈک جو اُن پر تباہی لائے۔6+N,اُس نے اُن کی نہروں کا پانی خون میں بدل دیا، اور وہ اپنی ندیوں کا پانی پی نہ سکے۔5/N+وہ دن جب اُس نے مصر میں اپنے الٰہی نشان دکھائے، ضُعن کے علاقے میں اپنے معجزے کئے۔4)N*اُنہیں اُس کی قدرت یاد نہ رہی، وہ دن جب اُس نے فدیہ دے کر اُنہیں دشمن سے چھڑایا، 3N)بار بار اُنہوں نے اللہ کو آزمایا، بار بار اسرائیل کے قدوس کو رنجیدہ کیا۔ 2N(ریگستان میں وہ کتنی دفعہ اُس سے سرکش ہوئے، کتنی مرتبہ اُسے دُکھ پہنچایا۔ E  !,7BMXcny)4?JU`kv&1<GR\gr} N; N; N; N;! N;" N;# N;$ N;% N;& N; N; N; N;! N;" N;# N;$ N;% N;& N;' N;( N;) N ;* N!;+ N";, N#;- N$;. N%;/ N&;0 N';1 N(;2 N);3 N*;4 N+;5 N,;6 N-;7 N.;8 N/;9 N0;: N1;; N2;< N3;= N4;> N5;? N6;@ N7;A N8;B N9;C N:;D N;;E N<;F N=;G N>;H N?;I N@;J NA;K NB;L NC;M ND;N NE;O NF;P NG;Q NH;R  O;S O;T O;U O;V O;W O;X O;Y O;Z O ;[ O ;\ O ;] O ;^ O ;_  P;` P;a P;b V)B1<]N2اُس نے اپنے غضب کے لئے راستہ تیار کر کے اُنہیں موت سے نہ بچایا بلکہ مہلک وبا کی زد میں آنے دیا۔c;AN1اُس نے اُن پر اپنا شعلہ زن غضب نازل کیا۔ قہر، خفگی اور مصیبت یعنی تباہی لانے والے فرشتوں کا پورا دستہ اُن پر حملہ آور ہوا۔:N0اُن کے مویشی اُس نے اولوں کے حوالے کئے، اُن کے ریوڑ بجلی کے سپرد کئے۔!9=N/اُن کی انگور کی بیلیں اُس نے اولوں سے، اُن کے انجیرتوت کے درخت سیلاب سے تباہ کر دیئے۔&8GN.اُن کی پیداوار اُس نے جوان ٹڈیوں کے حوالے کی، اُن کی محنت کا پھل بالغ ٹڈیوں کے سپرد کیا۔ $K<$A#N7اُن کے آگے آگے وہ دیگر قومیں نکالتا گیا۔ اُن کی زمین اُس نے تقسیم کر کے اسرائیلیوں کو میراث میں دی، اور اُن کے خیموں میں اُس نے اسرائیلی قبیلے بسائے۔,@SN6یوں اللہ نے اُنہیں مُقدّس ملک تک پہنچایا، اُس پہاڑ تک جسے اُس کے دہنے ہاتھ نے حاصل کیا تھا۔1?]N5وہ حفاظت سے اُن کی قیادت کرتا رہا۔ اُنہیں کوئی ڈر نہیں تھا جبکہ اُن کے دشمن سمندر میں ڈوب گئے۔&>GN4پھر وہ اپنی قوم کو بھیڑبکریوں کی طرح مصر سے باہر لا کر ریگستان میں ریوڑ کی طرح لئے پھرا۔1=]N3مصر میں اُس نے تمام پہلوٹھوں کو مار ڈالا اور حام کے خیموں میں مردانگی کا پہلا پھل تمام کر دیا۔ 7K*FON<اُس نے سَیلا میں اپنی سکونت گاہ چھوڑ دی، وہ خیمہ جس میں وہ انسان کے درمیان سکونت کرتا تھا۔EN;جب اللہ کو خبر ملی تو وہ غضب ناک ہوا اور اسرائیل کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔6DgN:اُنہوں نے اونچی جگہوں کی غلط قربان گاہوں سے اللہ کو غصہ دلایا اور اپنے بُتوں سے اُسے رنجیدہ کیا۔C-N9اپنے باپ دادا کی طرح وہ غدار بن کر بےوفا ہوئے۔ وہ ڈھیلی کمان کی طرح ناکام ہو گئے۔EBN8اِس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کو آزمانے سے باز نہ آئے بلکہ اُس سے سرکش ہوئے اور اُس کے احکام کے تحت نہ رہے۔ 8rIK NAتب رب جاگ اُٹھا، اُس آدمی کی طرح جس کی نیند اُچاٹ ہو گئی ہو، اُس سورمے کی مانند جس سے نشے کا اثر اُتر گیا ہو۔{JqN@اُس کے امام تلوار سے قتل ہوئے، اور اُس کی بیواؤں نے ماتم نہ کیا۔I#N?قوم کے جوان نذرِ آتش ہوئے، اور اُس کی کنواریوں کے لئے شادی کے گیت گائے نہ گئے۔,HSN>اپنی قوم کو اُس نے تلوار کی زد میں آنے دیا، کیونکہ وہ اپنی موروثی ملکیت سے نہایت ناراض تھا۔DGN=عہد کا صندوق اُس کی قدرت اور جلال کا نشان تھا، لیکن اُس نے اُسے دشمن کے حوالے کر کے جلاوطنی میں جانے دیا۔ jdh<jNQNGہاں، اُس نے اُسے بھیڑوں کی دیکھ بھال سے بُلایا تاکہ وہ اُس کی قوم یعقوب، اُس کی میراث اسرائیل کی گلہ بانی کرے۔wPiNFاُس نے اپنے خادم داؤد کو چن کر بھیڑبکریوں کے باڑوں سے بُلایا۔.OWNEاُس نے اپنا مقدِس بلندیوں کی مانند بنایا، زمین کی مانند جسے اُس نے ہمیشہ کے لئے قائم کیا ہے۔zNoNDبلکہ یہوداہ کے قبیلے اور کوہِ صیون کو چن لیا جو اُسے پیارا تھا۔|MsNCاُس وقت اُس نے یوسف کا خیمہ رد کیا اور افرائیم کے قبیلے کو نہ چناL+NBاُس نے اپنے دشمنوں کو مار مار کر بھگا دیا اور اُنہیں ہمیشہ کے لئے شرمندہ کر دیا۔ eJ/UYOیروشلم کے چاروں طرف اُنہوں نے خون کی ندیاں بہائیں، اور کوئی باقی نہ رہا جو مُردوں کو دفناتا۔]V اے رب، جتنی بھی قومیں تُو نے بنائیں وہ آ کر تیرے حضور سجدہ کریں گی اور تیرے نام کو جلال دیں گی۔(=KVاے رب، معبودوں میں سے کوئی تیری مانند نہیں ہے۔ جو کچھ تُو کرتا ہے کوئی اَور نہیں کر سکتا۔r<_Vمصیبت کے دن مَیں تجھے پکارتا ہوں، کیونکہ تُو میری سنتا ہے۔X;+Vاے رب، میری دعا سن، میری التجاؤں پر توجہ کر۔ \I2E_Vمیری طرف رجوع فرما، مجھ پر مہربانی کر! اپنے خادم کو اپنی قوت عطا کر، اپنی خادمہ کے بیٹے کو بچا۔D!Vلیکن تُو، اے رب، رحیم اور مہربان خدا ہے۔ تُو تحمل، شفقت اور وفا سے بھرپور ہے۔VC'Vاے اللہ، مغرور میرے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں، ظالموں کا جتھا میری جان لینے کے درپَے ہے۔ یہ لوگ تیرا لحاظ نہیں کرتے۔B7V کیونکہ تیری مجھ پر شفقت عظیم ہے، تُو نے میری جان کو پاتال کی گہرائیوں سے چھڑایا ہے۔ A;V اے رب میرے خدا، مَیں پورے دل سے تیرا شکر کروں گا، ہمیشہ تک تیرے نام کی تعظیم کروں گا۔ E  #.9DOZep{ *5@KU`kv%0;FQ\fq| U; U; U; U; U; U; U; U ; U ; U; U; U; U; U; U; U; U ; U ; U ; U ; U ;  V; V; V; V; V; V; V; V; V ; V ; V ; V ; V ; V; V; V; V;  W; W; W; W; W; W; W;  X; X; X; X; X; X; X; X; X ; X ; X ; X ; X ; X; X; X; X; X;  Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y ; Y ; Y ; Y ; Y ; Y; Y; 6 q67JiWرب فرماتا ہے، ”مَیں مصر اور بابل کو اُن لوگوں میں شمار کروں گا جو مجھے جانتے ہیں۔“ فلستیہ، صور اور ایتھوپیا کے بارے میں بھی کہا جائے گا، ”اِن کی پیدائش یہیں ہوئی ہے۔“IyWاے اللہ کے شہر، تیرے بارے میں شاندار باتیں سنائی جاتی ہیں۔ (سِلاہ) H Wرب صیون کے دروازوں کو یعقوب کی دیگر آبادیوں سے کہیں زیادہ پیار کرتا ہے۔G Wقورح کی اولاد کا زبور۔ گیت۔ اُس کی بنیاد مُقدّس پہاڑوں پر رکھی گئی ہے۔rF_Vمجھے اپنی مہربانی کا کوئی نشان دکھا۔ مجھ سے نفرت کرنے والے یہ دیکھ کر شرمندہ ہو جائیں کہ تُو رب نے میری مدد کر کے مجھے تسلی دی ہے۔ S3oSrO_Xمیری دعا تیرے حضور پہنچے، اپنا کان میری چیخوں کی طرف جھکا۔*N QXقورح کی اولاد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: محلت لعنوت۔ ہیمان اِزراحی کا حکمت کا گیت۔ اے رب، اے میری نجات کے خدا، دن رات مَیں تیرے حضور چیختا چلّاتا ہوں۔vMgWاور لوگ ناچتے ہوئے گائیں گے، ”میرے تمام چشمے تجھ میں ہیں۔“ @L{Wجب رب اقوام کو کتاب میں درج کرے گا تو وہ ساتھ ساتھ یہ بھی لکھے گا، ”یہ صیون میں پیدا ہوئی ہیں۔“ (سِلاہ)IK Wلیکن صیون کے بارے میں کہا جائے گا، ”ہر ایک باشندہ اُس میں پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ خود اُسے قائم رکھے گا۔“ gsg.TWXتیرے غضب کا پورا بوجھ مجھ پر آ پڑا ہے، تُو نے مجھے اپنی تمام موجوں کے نیچے دبا دیا ہے۔ (سِلاہ)SXتُو نے مجھے سب سے گہرے گڑھے میں، تاریک ترین گہرائیوں میں ڈال دیا ہے۔}RuXمجھے مُردوں میں تنہا چھوڑا گیا ہے، قبر میں اُن مقتولوں کی طرح جن کا تُو اب خیال نہیں رکھتا اور جو تیرے ہاتھ کے سہارے سے منقطع ہو گئے ہیں۔NQXمجھے اُن میں شمار کیا جاتا ہے جو پاتال میں اُتر رہے ہیں۔ مَیں اُس مرد کی مانند ہوں جس کی تمام طاقت جاتی رہی ہے۔ P Xکیونکہ میری جان دُکھ سے بھری ہے، اور میری ٹانگیں قبر میں لٹکی ہوئی ہیں۔ G YX کیا تاریکی میں تیرے معجزے یا ملکِ فراموش میں تیری راستی معلوم ہو جائے گی؟vXgX کیا لوگ قبر میں تیری شفقت یا پاتال میں تیری وفا بیان کریں گے؟+WQX کیا تُو مُردوں کے لئے معجزے کرے گا؟ کیا پاتال کے باشندے اُٹھ کر تیری تمجید کریں گے؟ (سِلاہ)SV!X میری آنکھیں غم کے مارے پژمُردہ ہو گئی ہیں۔ اے رب، دن بھر مَیں تجھے پکارتا، اپنے ہاتھ تیری طرف اُٹھائے رکھتا ہوں۔^U7Xتُو نے میرے قریبی دوستوں کو مجھ سے دُور کر دیا ہے، اور اب وہ مجھ سے گھن کھاتے ہیں۔ مَیں پھنسا ہوا ہوں اور نکل نہیں سکتا۔ [N^)Xدن بھر وہ مجھے سیلاب کی طرح گھیرے رکھتے ہیں، ہر طرف سے مجھ پر حملہ آور ہوتے ہیں۔]#Xتیرا بھڑکتا قہر مجھ پر سے گزر گیا، تیرے ہول ناک کاموں نے مجھے نابود کر دیا ہے۔Y\-Xمَیں مصیبت زدہ اور جوانی سے موت کے قریب رہا ہوں۔ تیرے دہشت ناک حملے برداشت کرتے کرتے مَیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہوں۔[#Xاے رب، تُو میری جان کو کیوں رد کرتا، اپنے چہرے کو مجھ سے پوشیدہ کیوں رکھتا ہے؟!Z=X لیکن اے رب، مَیں مدد کے لئے تجھے پکارتا ہوں، میری دعا صبح سویرے تیرے سامنے آ جاتی ہے۔ 6I`6$cCY’مَیں تیری نسل کو ہمیشہ تک قائم رکھوں گا، تیرا تخت ہمیشہ تک مضبوط رکھوں گا‘۔“ (سِلاہ)=buYتُو نے فرمایا، ”مَیں نے اپنے چنے ہوئے بندے سے عہد باندھا، اپنے خادم داؤد سے قَسم کھا کر وعدہ کیا ہے،=auYکیونکہ مَیں بولا، ”تیری شفقت ہمیشہ تک قائم ہے، تُو نے اپنی وفا کی مضبوط بنیاد آسمان پر ہی رکھی ہے۔“e` GYایتان اِزراحی کا حکمت کا گیت۔ مَیں ابد تک رب کی مہربانیوں کی مدح سرائی کروں گا، پشت در پشت منہ سے تیری وفا کا اعلان کروں گا۔3_aXتُو نے میرے دوستوں اور پڑوسیوں کو مجھ سے دُور کر رکھا ہے۔ تاریکی ہی میری قریبی دوست بن گئی ہے۔ [B[%hEY تُو ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر پر حکومت کرتا ہے۔ جب وہ موجزن ہو تو تُو اُسے تھما دیتا ہے۔%gEYاے رب، اے لشکروں کے خدا، کون تیری مانند ہے؟ اے رب، تُو قوی اور اپنی وفا سے گھرا رہتا ہے۔zfoYجو بھی مُقدّسین کی مجلس میں شامل ہیں وہ اللہ سے خوف کھاتے ہیں۔ جو بھی اُس کے ارد گرد ہوتے ہیں اُن پر اُس کی عظمت اور رُعب چھایا رہتا ہے۔e!Yکیونکہ بادلوں میں کون رب کی مانند ہے؟ الہٰی ہستیوں میں سے کون رب کی مانند ہے؟:doYاے رب، آسمان تیرے معجزوں کی ستائش کریں گے، مُقدّسین کی جماعت میں ہی تیری وفاداری کی تمجید کریں گے۔  U n9Yمبارک ہے وہ قوم جو تیری خوشی کے نعرے لگا سکے۔ اے رب، وہ تیرے چہرے کے نور میں چلیں گے۔mYراستی اور انصاف تیرے تخت کی بنیاد ہیں۔ شفقت اور وفا تیرے آگے آگے چلتی ہیں۔l9Y تیرا بازو قوی اور تیرا ہاتھ طاقت ور ہے۔ تیرا دہنا ہاتھ عظیم کام کرنے کے لئے تیار ہے۔k1Y تُو نے شمال و جنوب کو خلق کیا۔ تبور اور حرمون تیرے نام کی خوشی میں نعرے لگاتے ہیں۔jY آسمان و زمین تیرے ہی ہیں۔ دنیا اور جو کچھ اُس میں ہے تُو نے قائم کیا۔^i7Y تُو نے سمندری اژدہے رہب کو کچل دیا، اور وہ مقتول کی مانند بن گیا۔ اپنے قوی بازو سے تُو نے اپنے دشمنوں کو تتر بتر کر دیا۔ 9wZ79ntWYمیرا ہاتھ اُسے قائم رکھے گا، میرا بازو اُسے تقویت دے گا۔ s Yمَیں نے اپنے خادم داؤد کو پا لیا اور اُسے اپنے مُقدّس تیل سے مسح کیا ہے۔r9Yماضی میں تُو رویا میں اپنے ایمان داروں سے ہم کلام ہوا۔ اُس وقت تُو نے فرمایا، ”مَیں نے ایک سورمے کو طاقت سے نوازا ہے، قوم میں سے ایک کو چن کر سرفراز کیا ہے۔qYکیونکہ ہماری ڈھال رب ہی کی ہے، ہمارا بادشاہ اسرائیل کے قدوس ہی کا ہے۔pYکیونکہ تُو ہی اُن کی طاقت کی شان ہے، اور تُو اپنے کرم سے ہمیں سرفراز کرے گا۔oYروزانہ وہ تیرے نام کی خوشی منائیں گے اور تیری راستی سے سرفراز ہوں گے۔ /{zqYمَیں اُسے اپنا پہلوٹھا اور دنیا کا سب سے اعلیٰ بادشاہ بناؤں گا۔yYوہ مجھے پکار کر کہے گا، ’تُو میرا باپ، میرا خدا اور میری نجات کی چٹان ہے۔‘x-Yمَیں اُس کے ہاتھ کو سمندر پر اور اُس کے دہنے ہاتھ کو دریاؤں پر حکومت کرنے دوں گا۔ w Yمیری وفا اور میری شفقت اُس کے ساتھ رہیں گی، میرے نام سے وہ سرفراز ہو گا۔CvYاُس کے آگے آگے مَیں اُس کے دشمنوں کو پاش پاش کروں گا۔ جو اُس سے نفرت رکھتے ہیں اُنہیں زمین پر پٹخ دوں گا۔zuoYدشمن اُس پر غالب نہیں آئے گا، شریر اُسے خاک میں نہیں ملائیں گے۔ _R2_)Y!لیکن مَیں اُسے اپنی شفقت سے محروم نہیں کروں گا، اپنی وفا کا انکار نہیں کروں گا۔#AY تو مَیں لاٹھی لے کر اُن کی تادیب کروں گا اور مہلک وباؤں سے اُن کے گناہوں کی سزا دوں گا۔ ~Yاگر وہ میرے فرمانوں کی بےحرمتی کر کے میری ہدایات کے مطابق زندگی نہ گزاریںy}mYاگر اُس کے بیٹے میری شریعت ترک کر کے میرے احکام پر عمل نہ کریں، |;Yمَیں اُس کی نسل ہمیشہ تک قائم رکھوں گا، جب تک آسمان قائم ہے اُس کا تخت قائم رکھوں گا۔*{OYمَیں اُسے ہمیشہ تک اپنی شفقت سے نوازتا رہوں گا، میرا اُس کے ساتھ عہد کبھی تمام نہیں ہو گا۔ aW"?Y&لیکن اب تُو نے اپنے مسح کئے ہوئے خادم کو ٹھکرا کر رد کیا، تُو اُس سے غضب ناک ہو گیا ہے۔$CY%چاند کی طرح وہ ہمیشہ تک برقرار رہے گا، اور جو گواہ بادلوں میں ہے وہ وفادار ہے۔“ (سِلاہ)!Y$اُس کی نسل ابد تک قائم رہے گی، اُس کا تخت آفتاب کی طرح میرے سامنے کھڑا رہے گا۔G Y#مَیں نے ایک بار سدا کے لئے اپنی قدوسیت کی قَسم کھا کر وعدہ کیا ہے، اور مَیں داؤد کو کبھی دھوکا نہیں دوں گا۔1Y"نہ مَیں اپنے عہد کی بےحرمتی کروں گا، نہ وہ کچھ تبدیل کروں گا جو مَیں نے فرمایا ہے۔ {Y {n WY,تُو نے اُس کی شان ختم کر کے اُس کا تخت زمین پر پٹخ دیا ہے۔ Y+تُو نے اُس کی تلوار کی تیزی بےاثر کر کے اُسے جنگ میں فتح پانے سے روک دیا ہے۔ 5Y*تُو نے اُس کے مخالفوں کا دہنا ہاتھ سرفراز کیا، اُس کے تمام دشمنوں کو خوش کر دیا ہے۔'IY)جو بھی وہاں سے گزرے وہ اُسے لُوٹ لیتا ہے۔ وہ اپنے پڑوسیوں کے لئے مذاق کا نشانہ بن گیا ہے۔ Y(تُو نے اُس کی تمام فصیلیں ڈھا کر اُس کے قلعوں کو ملبے کے ڈھیر بنا دیا ہے۔#AY'تُو نے اپنے خادم کا عہد نامنظور کیا اور اُس کا تاج خاک میں ملا کر اُس کی بےحرمتی کی ہے۔ E  !,7BMXcny)4?JU`kv%0;FQ[fq| Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y; Y ; Y!< Y"< Y#< Y$< Y%< Y&< Y'< Y(< Y)< Y*< Y+< Y,< Y-< Y.< Y/< Y0< Y1< Y2< Y3< Y4<  Z< Z< Z< Z< Z< Z< Z< Z< Z < Z < Z < Z < Z < Zk\ تُو نے مجھے جنگلی بَیل کی سی طاقت دے کر تازہ تیل سے مسح کیا ہے۔)=M\ کیونکہ تیرے دشمن، اے رب، تیرے دشمن یقیناً تباہ ہو جائیں گے، بدکار سب تتر بتر ہو جائیں گے۔ FLNBFxGk]لیکن ایک ہے جو گہرے پانی کے شور سے زیادہ زورآور، جو سمندر کی ٹھاٹھوں سے زیادہ طاقت ور ہے۔ رب جو بلندیوں پر رہتا ہے کہیں زیادہ عظیم ہے۔F9]اے رب، سیلاب گرج اُٹھے، سیلاب شور مچا کر گرج اُٹھے، سیلاب ٹھاٹھیں مار کر گرج اُٹھے۔fEG]تیرا تخت قدیم زمانے سے قائم ہے، تُو ازل سے موجود ہے۔zD q]رب بادشاہ ہے، وہ جلال سے ملبّس ہے۔ رب جلال سے ملبّس اور قدرت سے کمربستہ ہے۔ یقیناً دنیا مضبوط بنیاد پر قائم ہے، اور وہ نہیں ڈگمگائے گی۔0C[\اُس وقت بھی وہ اعلان کریں گے، ”رب راست ہے۔ وہ میری چٹان ہے، اور اُس میں ناراستی نہیں ہوتی۔“ SSHgS N^بیواؤں اور اجنبیوں کو وہ موت کے گھاٹ اُتار رہے، یتیموں کو قتل کر رہے ہیں۔M{^اے رب، وہ تیری قوم کو کچل رہے، تیری موروثی ملکیت پر ظلم کر رہے ہیں۔vLg^وہ کفر کی باتیں اُگلتے رہتے، تمام بدکار شیخی مارتے رہتے ہیں۔eKE^اے رب، بےدین کب تک، ہاں کب تک فتح کے نعرے لگائیں گے؟}Ju^اے دنیا کے منصف، اُٹھ کر مغروروں کو اُن کے اعمال کی مناسب سزا دے۔I ^اے رب، اے انتقام لینے والے خدا! اے انتقام لینے والے خدا، اپنا نور چمکا۔)HM]اے رب، تیرے احکام ہر طرح سے قابلِ اعتماد ہیں۔ تیرا گھر ہمیشہ تک قدوسیت سے آراستہ رہے گا۔ tg^T^ اے رب، مبارک ہے وہ جسے تُو تربیت دیتا ہے، جسے تُو اپنی شریعت کی تعلیم دیتا ہےzSo^ رب انسان کے خیالات جانتا ہے، وہ جانتا ہے کہ وہ دم بھر کے ہی ہیں۔R ^ جو اقوام کو تنبیہ کرتا اور انسان کو تعلیم دیتا ہے کیا وہ سزا نہیں دیتا؟Q#^ جس نے کان بنایا، کیا وہ نہیں سنتا؟ جس نے آنکھ کو تشکیل دیا کیا وہ نہیں دیکھتا؟rP_^اے قوم کے نادانو، دھیان دو! اے احمقو، تمہیں کب سمجھ آئے گی؟O ^وہ کہتے ہیں، ”یہ رب کو نظر نہیں آتا، یعقوب کا خدا دھیان ہی نہیں دیتا۔“ E$/:EP[fq| *5@KValw&1<GR\gr} \<6 \<7 \<8 \<9 \<: \<; \<< \ <= \ <> \<6 \<7 \<8 \<9 \<: \<; \<< \ <= \ <> \ zkQdشکر کرتے ہوئے اُس کے دروازوں میں داخل ہو، ستائش کرتے ہوئے اُس کی بارگاہوں میں حاضر ہو۔ اُس کا شکر کرو، اُس کے نام کی تمجید کرو!@{dجان لو کہ رب ہی خدا ہے۔ اُسی نے ہمیں خلق کیا، اور ہم اُس کے ہیں، اُس کی قوم اور اُس کی چراگاہ کی بھیڑیں۔jOdخوشی سے رب کی عبادت کرو، جشن مناتے ہوئے اُس کے حضور آؤ!! ?dشکرگزاری کی قربانی کے لئے زبور۔ اے پوری دنیا، خوشی کے نعرے لگا کر رب کی مدح سرائی کرو!,Sc رب ہمارے خدا کی تعظیم کرو اور اُس کے مُقدّس پہاڑ پر سجدہ کرو، کیونکہ رب ہمارا خدا قدوس ہے۔ E%0;FQ\gq|  +5@KVakv%0;FQ\gr} a<| a<} a<~ a< a < a < a < a <  b< a<| a<} a<~ a< a < a < a < a <  b< b< b< b< b< b< b< b< b <  c< c< c< c< c< c< c< c< c <  d< d< d< d< d<  e< e< e< e< e< e< e< e<  f< f< f< f< f< f< f< f< f < f < f < f < f < f< f< f< f< f< f< f< f< f< f< f< f< f< f< f<  g< g< fwieجھوٹا دل مجھ سے دُور رہے۔ مَیں بُرائی کو جاننا ہی نہیں چاہتا۔Leمَیں شرارت کی بات اپنے سامنے نہیں رکھتا اور بُری حرکتوں سے نفرت کرتا ہوں۔ ایسی چیزیں میرے ساتھ لپٹ نہ جائیں۔\3eمَیں بڑی احتیاط سے بےالزام راہ پر چلوں گا۔ لیکن تُو کب میرے پاس آئے گا؟ مَیں خلوص دلی سے اپنے گھر میں زندگی گزاروں گا۔  =eداؤد کا زبور۔ مَیں شفقت اور انصاف کا گیت گاؤں گا۔ اے رب، مَیں تیری مدح سرائی کروں گا۔'dکیونکہ رب بھلا ہے۔ اُس کی شفقت ابدی ہے، اور اُس کی وفاداری پشت در پشت قائم ہے۔ IA"}eہر صبح کو مَیں ملک کے تمام بےدینوں کو خاموش کراؤں گا تاکہ تمام بدکاروں کو رب کے شہر میں سے مٹایا جائے۔ !'eدھوکے باز میرے گھر میں نہ ٹھہرے، جھوٹ بولنے والا میری موجودگی میں قائم نہ رہے۔K eمیری آنکھیں ملک کے وفاداروں پر لگی رہتی ہیں تاکہ وہ میرے ساتھ رہیں۔ جو بےالزام راہ پر چلے وہی میری خدمت کرے۔dCeجو چپکے سے اپنے پڑوسی پر تہمت لگائے اُسے مَیں خاموش کراؤں گا، جس کی آنکھیں مغرور اور دل متکبر ہو اُسے برداشت نہیں کروں گا۔of$flrx~ &,28>DJPV\bhntz "(.4:@FLRX^djpv|/4:@EJOTY^chntz/4:@EJOTY^chntz %*05<BGNTZ_ejqv{ "'-39>DKQV\aflpv| #).5:?EJPV\agmsy~     &+/6;@ELSY_ekqx~ ! "# PsP'fآہ و زاری کرتے کرتے میرا جسم سکڑ گیا ہے، جِلد اور ہڈیاں ہی رہ گئی ہیں۔&'fمیرا دل گھاس کی طرح جُھلس کر سوکھ گیا ہے، اور مَیں روٹی کھانا بھی بھول گیا ہوں۔%7fکیونکہ میرے دن دھوئیں کی طرح غائب ہو رہے ہیں، میری ہڈیاں کوئلوں کی طرح دہک رہی ہیں۔[$1fجب مَیں مصیبت میں ہوں تو اپنا چہرہ مجھ سے چھپائے نہ رکھ بلکہ اپنا کان میری طرف جھکا۔ جب مَیں پکاروں تو جلد ہی میری سن۔# fمصیبت زدہ کی دعا، اُس وقت جب وہ نڈھال ہو کر رب کے سامنے اپنی آہ و زاری اُنڈیل دیتا ہے۔ اے رب، میری دعا سن! مدد کے لئے میری آہیں تیرے حضور پہنچیں۔ {uE{-f میرے دن شام کے ڈھلنے والے سائے کی مانند ہیں۔ مَیں گھاس کی طرح سوکھ رہا ہوں۔),Mf کیونکہ مجھ پر تیری لعنت اور تیرا غضب نازل ہوا ہے۔ تُو نے مجھے اُٹھا کر زمین پر پٹخ دیا ہے۔+f راکھ میری روٹی ہے، اور جو کچھ پیتا ہوں اُس میں میرے آنسو ملے ہوتے ہیں۔4*cfدن بھر میرے دشمن مجھے لعن طعن کرتے ہیں۔ جو میرا مذاق اُڑاتے ہیں وہ میرا نام لے کر لعنت کرتے ہیں۔u)efمَیں بستر پر جاگتا رہتا ہوں، چھت پر تنہا پرندے کی مانند ہوں۔( fمَیں ریگستان میں دشتی اُلّو اور کھنڈرات میں چھوٹے اُلّو کی مانند ہوں۔ R{%R 3 fمفلسوں کی دعا پر وہ دھیان دے گا اور اُن کی فریادوں کو حقیر نہیں جانے گا۔27fکیونکہ رب صیون کو از سرِ نو تعمیر کرے گا، وہ اپنے پورے جلال کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ 1;fتب ہی قومیں رب کے نام سے ڈریں گی، اور دنیا کے تمام بادشاہ تیرے جلال کا خوف کھائیں گے۔&0Gfکیونکہ تیرے خادموں کو اُس کا ایک ایک پتھر پیارا ہے، اور وہ اُس کے ملبے پر ترس کھاتے ہیں۔(/Kf اب آ، کوہِ صیون پر رحم کر۔ کیونکہ اُس پر مہربانی کرنے کا وقت آ گیا ہے، مقررہ وقت آ گیا ہے۔.}f لیکن تُو اے رب ابد تک تخت نشین ہے، تیرا نام پشت در پشت قائم رہتا ہے۔ T7|{9qfراستے میں ہی اللہ نے میری طاقت توڑ کر میرے دن مختصر کر دیئے ہیں۔v8gfکہ قومیں اور سلطنتیں مل کر جمع ہو جائیں اور رب کی عبادت کریں۔77ifکیونکہ اُس کی مرضی ہے کہ وہ کوہِ صیون پر رب کے نام کا اعلان کریں اور یروشلم میں اُس کی ستائش کریں،w6ifتاکہ قیدیوں کی آہ و زاری سنے اور مرنے والوں کی زنجیریں کھولے۔59fکیونکہ رب نے اپنے مقدِس کی بلندیوں سے جھانکا ہے، اُس نے آسمان سے زمین پر نظر ڈالی ہے(4Kfآنے والی نسل کے لئے یہ قلم بند ہو جائے تاکہ جو قوم ابھی پیدا نہیں ہوئی وہ رب کی ستائش کرے۔ = me='>Ifتیرے خادموں کے فرزند تیرے حضور بستے رہیں گے، اور اُن کی اولاد تیرے سامنے قائم رہے گی۔“ z=ofلیکن تُو وہی کا وہی رہتا ہے، اور تیری زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔<fیہ تو تباہ ہو جائیں گے، لیکن تُو قائم رہے گا۔ یہ سب کپڑے کی طرح گھس پھٹ جائیں گے۔ تُو اُنہیں پرانے لباس کی طرح بدل دے گا، اور وہ جاتے رہیں گے۔;1fتُو نے قدیم زمانے میں زمین کی بنیاد رکھی، اور تیرے ہی ہاتھوں نے آسمانوں کو بنایا۔p:[fمَیں بولا، ”اے میرے خدا، مجھے زندوں کے ملک سے دُور نہ کر، میری زندگی تو ادھوری رہ گئی ہے۔ لیکن تیرے سال پشت در پشت قائم رہتے ہیں۔ G`5gGgDIgرب تمام مظلوموں کے لئے راستی اور انصاف قائم کرتا ہے۔2C_gوہ تیری زندگی کو اچھی چیزوں سے سیر کرتا ہے، اور تُو دوبارہ جوان ہو کر عقاب کی سی تقویت پاتا ہے۔JBgوہ عوضانہ دے کر تیری جان کو موت کے گڑھے سے چھڑا لیتا، تیرے سر کو اپنی شفقت اور رحمت کے تاج سے آراستہ کرتا ہے۔Agکیونکہ وہ تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا، تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔@gاے میری جان، رب کی ستائش کر اور جو کچھ اُس نے تیرے لئے کیا ہے اُسے بھول نہ جا۔? 5gداؤد کا زبور۔ اے میری جان، رب کی ستائش کر! میرا رگ و ریشہ اُس کے قدوس نام کی حمد کرے! )x n)-KUg جس طرح باپ اپنے بچوں پر ترس کھاتا ہے اُسی طرح رب اُن پر ترس کھاتا ہے جو اُس کا خوف مانتے ہیں۔Jg جتنی دُور مشرق مغرب سے ہے اُتنا ہی اُس نے ہمارے قصور ہم سے دُور کر دیئے ہیں۔$ICg کیونکہ جتنا بلند آسمان ہے، اُتنی ہی عظیم اُس کی شفقت اُن پر ہے جو اُس کا خوف مانتے ہیں۔Hg نہ وہ ہماری خطاؤں کے مطابق سزا دیتا، نہ ہمارے گناہوں کا مناسب اجر دیتا ہے۔bG?g نہ وہ ہمیشہ ڈانٹتا رہے گا، نہ ابد تک ناراض رہے گا۔hFKgرب رحیم اور مہربان ہے، وہ تحمل اور شفقت سے بھرپور ہے۔Egاُس نے اپنی راہیں موسیٰ پر اور اپنے عظیم کام اسرائیلیوں پر ظاہر کئے۔ AW|AQgرب نے آسمان پر اپنا تخت قائم کیا ہے، اور اُس کی بادشاہی سب پر حکومت کرتی ہے۔#PAgشرط یہ ہے کہ وہ اُس کے عہد کے مطابق زندگی گزاریں اور دھیان سے اُس کے احکام پر عمل کریں۔WO)gلیکن جو رب کا خوف مانیں اُن پر وہ ہمیشہ تک مہربانی کرے گا، وہ اپنی راستی اُن کے پوتوں اور نواسوں پر بھی ظاہر کرے گا۔N1gجب اُس پر سے ہَوا گزرے تو وہ نہیں رہتا، اور اُس کے نام و نشان کا بھی پتا نہیں چلتا۔Mgانسان کے دن گھاس کی مانند ہیں، اور وہ جنگلی پھول کی طرح ہی پھلتا پھولتا ہے۔tLcgکیونکہ وہ ہماری ساخت جانتا ہے، اُسے یاد ہے کہ ہم خاک ہی ہیں۔ u-uV hتیری چادر نور ہے جسے تُو اوڑھے رہتا ہے۔ تُو آسمان کو خیمے کی طرح تان کر/U [hاے میری جان، رب کی ستائش کر! اے رب میرے خدا، تُو نہایت ہی عظیم ہے، تُو جاہ و جلال سے آراستہ ہے۔TT#gتم سب جنہیں اُس نے بنایا، رب کی ستائش کرو! اُس کی سلطنت کی ہر جگہ پر اُس کی تمجید کرو۔ اے میری جان، رب کی ستائش کر! S7gاے تمام لشکرو، تم سب جو اُس کے خادم ہو اور اُس کی مرضی پوری کرتے ہو، رب کی ستائش کرو!ORgاے رب کے فرشتو، اُس کے طاقت ور سورماؤ، جو اُس کے فرمان پورے کرتے ہو تاکہ اُس کا کلام مانا جائے، رب کی ستائش کرو! o2<o$\Chتب پہاڑ اونچے ہوئے اور وادیاں اُن جگہوں پر اُتر آئیں جو تُو نے اُن کے لئے مقرر کی تھیں۔[hلیکن تیرے ڈانٹنے پر پانی فرار ہوا، تیری گرجتی آواز سن کر وہ ایک دم بھاگ گیا۔ Zhسیلاب نے اُسے لباس کی طرح ڈھانپ دیا، اور پانی پہاڑوں کے اوپر ہی کھڑا ہوا۔sYahتُو نے زمین کو مضبوط بنیاد پر رکھا تاکہ وہ کبھی نہ ڈگمگائے۔}Xuhتُو ہَواؤں کو اپنے قاصد اور آگ کے شعلوں کو اپنے خادم بنا دیتا ہے۔JWhاپنا بالاخانہ اُس کے پانی کے بیچ میں تعمیر کرتا ہے۔ بادل تیرا رتھ ہے، اور تُو ہَوا کے پَروں پر سوار ہوتا ہے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\fq| g< g< g< g< g< g < g < g < g < g< g< g< g< g< g < g < g < g < g < g< g< g< g< g< g< g< g< g<  h< h< h< h< h< h< h< h< h < h < h < h < h < h< h< h< h< h< h< h< h< h< h< h< h< h< h< h< h< h< h< h < h!< h"< h#<  i< i< i< i< i< i< i< i< i = i = i = i = i = i= i= R M5aeh تُو اپنے بالاخانے سے پہاڑوں کو تر کرتا ہے، اور زمین تیرے ہاتھ سے سیر ہو کر ہر طرح کا پھل لاتی ہے۔:`oh پرندے اُن کے کناروں پر بسیرا کرتے، اور اُن کی چہچہاتی آوازیں گھنے بیل بوٹوں میں سے سنائی دیتی ہیں۔6_gh بہتے بہتے وہ کھلے میدان کے تمام جانوروں کو پانی پلاتے ہیں۔ جنگلی گدھے آ کر اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ ^ h تُو وادیوں میں چشمے پھوٹنے دیتا ہے، اور وہ پہاڑوں میں سے بہہ نکلتے ہیں۔*]Oh تُو نے ایک حد باندھی جس سے پانی بڑھ نہیں سکتا۔ آئندہ وہ کبھی پوری زمین کو نہیں ڈھانکنے کا۔ )j7fhپہاڑوں کی بلندیوں پر پہاڑی بکروں کا راج ہے، چٹانوں میں بِجُو پناہ لیتے ہیں۔e5hپرندے اُن میں اپنے گھونسلے بنا لیتے ہیں، اور لق لق جونیپر کے درخت میں اپنا آشیانہ۔dhرب کے درخت یعنی لبنان میں اُس کے لگائے ہوئے دیودار کے درخت سیراب رہتے ہیں۔;cqhتیری مَے انسان کا دل خوش کرتی، تیرا تیل اُس کا چہرہ روشن کر دیتا، تیری روٹی اُس کا دل مضبوط کرتی ہے۔Sb!hتُو جانوروں کے لئے گھاس پھوٹنے اور انسان کے لئے پودے اُگنے دیتا ہے تاکہ وہ زمین کی کاشت کاری کر کے روٹی حاصل کرے۔ GyHl hاے رب، تیرے اَن گنت کام کتنے عظیم ہیں! تُو نے ہر ایک کو حکمت سے بنایا، اور زمین تیری مخلوقات سے بھری پڑی ہے۔ khاُس وقت انسان گھر سے نکل کر اپنے کام میں لگ جاتا اور شام تک مصروف رہتا ہے۔j hپھر سورج طلوع ہونے لگتا ہے، اور وہ کھسک کر اپنے بھٹوں میں چھپ جاتے ہیں۔ i;hجوان شیرببر دہاڑ کر شکار کے پیچھے پڑ جاتے اور اللہ سے اپنی خوراک کا مطالبہ کرتے ہیں۔h/hتُو اندھیرا پھیلنے دیتا ہے تو دن ڈھل جاتا ہے اور جنگلی جانور حرکت میں آ جاتے ہیں۔5gehتُو نے سال کو مہینوں میں تقسیم کرنے کے لئے چاند بنایا، اور سورج کو غروب ہونے کے اوقات معلوم ہیں۔ Q<]p5hتُو اُن میں خوراک تقسیم کرتا ہے تو وہ اُسے اکٹھا کرتے ہیں۔ تُو اپنی مٹھی کھولتا ہے تو وہ اچھی چیزوں سے سیر ہو جاتے ہیں۔|oshسب تیرے انتظار میں رہتے ہیں کہ تُو اُنہیں وقت پر کھانا مہیا کرے۔nhاُس کی سطح پر جہاز اِدھر اُدھر سفر کرتے ہیں، اُس کی گہرائیوں میں لِویاتان پھرتا ہے، وہ اژدہا جسے تُو نے اُس میں اُچھلنے کودنے کے لئے تشکیل دیا تھا۔+mQhسمندر کو دیکھو، وہ کتنا بڑا اور وسیع ہے۔ اُس میں بےشمار جاندار ہیں، بڑے بھی اور چھوٹے بھی۔ CfJC]v5h"میری بات اُسے پسند آئے! مَیں رب سے کتنا خوش ہوں!#uAh!مَیں عمر بھر رب کی تمجید میں گیت گاؤں گا، جب تک زندہ ہوں اپنے خدا کی مدح سرائی کروں گا۔.tWh وہ زمین پر نظر ڈالتا ہے تو وہ لرز اُٹھتی ہے۔ وہ پہاڑوں کو چھو دیتا ہے تو وہ دھواں چھوڑتے ہیں۔gsIhرب کا جلال ابد تک قائم رہے! رب اپنے کام کی خوشی منائے!r3hتُو اپنا دم بھیج دیتا ہے تو وہ پیدا ہو جاتے ہیں۔ تُو ہی رُوئے زمین کو بحال کرتا ہے۔vqghجب تُو اپنا چہرہ چھپا لیتا ہے تو اُن کے حواس گم ہو جاتے ہیں۔ جب تُو اُن کا دم نکال لیتا ہے تو وہ نیست ہو کر دوبارہ خاک میں مل جاتے ہیں۔ @3(|Kiجو معجزے اُس نے کئے اُنہیں یاد کرو۔ اُس کے الٰہی نشان اور اُس کے منہ کے فیصلے دہراتے رہو۔|{siرب اور اُس کی قدرت کی دریافت کرو، ہر وقت اُس کے چہرے کے طالب رہو۔jzOiاُس کے مُقدّس نام پر فخر کرو۔ رب کے طالب دل سے خوش ہوں۔yiساز بجا کر اُس کی مدح سرائی کرو۔ اُس کے تمام عجائب کے بارے میں لوگوں کو بتاؤ۔x iرب کا شکر کرو اور اُس کا نام پکارو! اقوام میں اُس کے کاموں کا اعلان کرو۔[Q>S !iیوسف کو فرعون کے رئیسوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے اور مصری بزرگوں کو حکمت کی تعلیم دینے کی ذمہ داری بھی دی گئی۔ iاُس نے اُسے اپنے گھرانے پر نگران اور اپنی تمام ملکیت پر حکمران مقرر کیا۔) Miتب مصری بادشاہ نے اپنے بندوں کو بھیج کر اُسے رِہائی دی، قوموں کے حکمران نے اُسے آزاد کیا۔0 [iجب تک وہ کچھ پورا نہ ہوا جس کی پیش گوئی یوسف نے کی تھی، جب تک رب کے فرمان نے اُس کی تصدیق نہ کی۔S !iاُس کے پاؤں اور گردن زنجیروں میں جکڑے رہے!=iلیکن اُس نے اُن کے آگے آگے ایک آدمی کو مصر بھیجا یعنی یوسف کو جو غلام بن کر فروخت ہوا۔ ^:%iملکِ حام میں آ کر اُنہوں نے اُن کے درمیان اللہ کے الٰہی نشان اور معجزے دکھائے۔ iتب اللہ نے اپنے خادم موسیٰ اور اپنے چنے ہوئے بندے ہارون کو مصر میں بھیجا۔T#iساتھ ساتھ اُس نے مصریوں کا رویہ بدل دیا، تو وہ اُس کی قوم اسرائیل سے نفرت کر کے رب کے خادموں سے چالاکیاں کرنے لگے۔8kiوہاں اللہ نے اپنی قوم کو بہت پھلنے پھولنے دیا، اُس نے اُسے اُس کے دشمنوں سے زیادہ طاقت ور بنا دیا۔7iپھر یعقوب کا خاندان مصر آیا، اور اسرائیل حام کے ملک میں اجنبی کی حیثیت سے بسنے لگا۔ uD'$u+Qi!اُس نے اُن کی انگور کی بیلیں اور انجیر کے درخت تباہ کر دیئے، اُن کے علاقے کے درخت توڑ ڈالے۔xki بارش کی بجائے اُس نے اُن کے ملک پر اولے اور دہکتے شعلے برسائے۔iاللہ کے حکم پر مصر کے پورے علاقے میں مکھیوں اور جوؤں کے غول پھیل گئے۔!=iمصر کے ملک پر مینڈکوں کے غول چھا گئے جو اُن کے حکمرانوں کے اندرونی کمروں تک پہنچ گئے۔ueiاُس نے اُن کا پانی خون میں بدل کر اُن کی مچھلیوں کو مروا دیا۔8kiاللہ کے حکم پر مصر پر تاریکی چھا گئی، ملک میں اندھیرا ہو گیا۔ لیکن اُنہوں نے اُس کے فرمان نہ مانے۔ )MZ)9i'دن کو اللہ نے اُن کے اوپر بادل کمبل کی طرح بچھا دیا، رات کو آگ مہیا کی تاکہ روشنی ہو۔ i&مصر خوش تھا جب وہ روانہ ہوئے، کیونکہ اُن پر اسرائیل کی دہشت چھا گئی تھی۔oYi%اِس کے بعد وہ اسرائیل کو چاندی اور سونے سے نواز کر مصر سے نکال لایا۔ اُس وقت اُس کے قبیلوں میں ٹھوکر کھانے والا ایک بھی نہیں تھا۔7i$پھر اللہ نے مصر میں تمام پہلوٹھوں کو مار ڈالا، اُن کی مردانگی کا پہلا پھل تمام ہوا۔ i#وہ اُن کے ملک کی تمام ہریالی اور اُن کے کھیتوں کی تمام پیداوار چٹ کر گئیں۔}ui"اُس کے حکم پر اَن گنت ٹڈیاں اپنے بچوں سمیت ملک پر حملہ آور ہوئیں۔ e%m2#_i,اُس نے اُنہیں دیگر اقوام کے ممالک دیئے، اور اُنہوں نے دیگر اُمّتوں کی محنت کے پھل پر قبضہ کیا۔4"ci+چنانچہ وہ اپنی چنی ہوئی قوم کو مصر سے نکال لایا، اور وہ خوشی اور شادمانی کے نعرے لگا کر نکل آئے۔!3i*کیونکہ اُس نے اُس مُقدّس وعدے کا خیال رکھا جو اُس نے اپنے خادم ابراہیم سے کیا تھا۔ 3i)اُس نے چٹان کو چاک کیا تو پانی پھوٹ نکلا، اور ریگستان میں پانی کی ندیاں بہنے لگیں۔)i(جب اُنہوں نے خوراک مانگی تو اُس نے اُنہیں بٹیر پہنچا کر آسمانی روٹی سے سیر کیا۔ E   +6ALWbmx(3>IS^it$/:EP[fq| i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i= i = i!= i"= i#= i$= i%= i&= i'= i(= i)= i*=! i+=" i,=# i-=$  j=% j=& j=' j=( j=) j=* j=+ j=, j =- j =. j =/ j =0 j =1 j=2 j=3 j=4 j=5 j=6 j=7 j=8 j=9 j=: j=; j=< j== j=> j=? j=@ j=A j=B j=C j =D j!=E j"=F j#=G j$=H j%=I j&=J j'=K j(=L LXH1La)=jتاکہ مَیں تیرے چنے ہوئے لوگوں کی خوش حالی دیکھ سکوں اور تیری قوم کی خوشی میں شریک ہو کر تیری میراث کے ساتھ ستائش کر سکوں۔(+jاے رب، اپنی قوم پر مہربانی کرتے وقت میرا خیال رکھ، نجات دیتے وقت میری بھی مدد کرx'kjمبارک ہیں وہ جو انصاف قائم رکھتے، جو ہر وقت راست کام کرتے ہیں۔&jکون رب کے تمام عظیم کام سنا سکتا، کون اُس کی مناسب تمجید کر سکتا ہے؟% jرب کی حمد ہو! رب کا شکر کرو، کیونکہ وہ بھلا ہے، اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔$$Ci-کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ وہ اُس کے احکام اور ہدایات کے مطابق زندگی گزاریں۔ رب کی حمد ہو! fQ(.Kj اُس نے اُنہیں نفرت کرنے والے کے ہاتھ سے چھڑایا اور عوضانہ دے کر دشمن کے ہاتھ سے رِہا کیا۔_-9j اُس نے بحرِ قُلزم کو جھڑکا تو وہ خشک ہو گیا۔ اُس نے اُنہیں سمندر کی گہرائیوں میں سے یوں گزرنے دیا جس طرح ریگستان میں سے۔(,Kjتوبھی اُس نے اُنہیں اپنے نام کی خاطر بچایا، کیونکہ وہ اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔+jجب ہمارے باپ دادا مصر میں تھے تو اُنہیں تیرے معجزوں کی سمجھ نہ آئی اور تیری متعدد مہربانیاں یاد نہ رہیں بلکہ وہ سمندر یعنی بحرِ قُلزم پر سرکش ہوئے۔*'jہم نے اپنے باپ دادا کی طرح گناہ کیا ہے، ہم سے ناانصافی اور بےدینی سرزد ہوئی ہے۔ /$X/#5Ajتب زمین کھل گئی، اور اُس نے داتن کو ہڑپ کر لیا، ابیرام کے جتھے کو اپنے اندر دفن کر لیا۔4yjخیمہ گاہ میں وہ موسیٰ اور رب کے مُقدّس امام ہارون سے حسد کرنے لگے۔3'jتب اُس نے اُن کی درخواست پوری کی، لیکن ساتھ ساتھ مہلک وبا بھی اُن میں پھیلا دی۔ 2jریگستان میں شدید لالچ میں آ کر اُنہوں نے وہیں بیابان میں اللہ کو آزمایا۔19j لیکن جلد ہی وہ اُس کے کام بھول گئے۔ وہ اُس کی مرضی کا انتظار کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔{0qj تب اُنہوں نے اللہ کے فرمانوں پر ایمان لا کر اُس کی مدح سرائی کی۔[/1j اُن کے مخالف پانی میں ڈوب گئے۔ ایک بھی نہ بچا۔ `E:jجو معجزے حام کے ملک میں ہوئے اور جو جلالی واقعات بحرِ قُلزم پر پیش آئے تھے وہ سب اللہ کے ہاتھ سے ہوئے تھے۔)9Mjوہ اللہ کو بھول گئے، حالانکہ اُسی نے اُنہیں چھڑایا تھا، اُسی نے مصر میں عظیم کام کئے تھے۔8jاُنہوں نے اللہ کو جلال دینے کے بجائے گھاس کھانے والے بَیل کی پوجا کی۔$7Cjوہ کوہِ حورب یعنی سینا کے دامن میں بچھڑے کا بُت ڈھال کر اُس کے سامنے اوندھے منہ ہو گئے۔l6Sjآگ اُن کے جتھے میں بھڑک اُٹھی، اور بےدین نذرِ آتش ہوئے۔ @ ?jاور اُن کی اولاد کو دیگر اقوام میں پھینک کر مختلف ممالک میں منتشر کر دے۔>#jتب اُس نے اپنا ہاتھ اُن کے خلاف اُٹھایا تاکہ اُنہیں وہیں ریگستان میں ہلاک کرے=jوہ اپنے خیموں میں بڑبڑانے لگے اور رب کی آواز سننے کے لئے تیار نہ ہوئے۔><wjپھر اُنہوں نے کنعان کے خوش گوار ملک کو حقیر جانا۔ اُنہیں یقین نہیں تھا کہ اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔p;[jچنانچہ اللہ نے فرمایا کہ مَیں اُنہیں نیست و نابود کروں گا۔ لیکن اُس کا چنا ہوا خادم موسیٰ رخنے میں کھڑا ہو گیا تاکہ اُس کے غضب کو اسرائیلیوں کو مٹانے سے روکے۔ صرف اِس وجہ سے اللہ اپنے ارادے سے باز آیا۔ []:E9j!کیونکہ اُنہوں نے اُس کے دل میں اِتنی تلخی پیدا کی کہ اُس کے منہ سے بےجا باتیں نکلیں۔ D;j مریبہ کے چشمے پر بھی اُنہوں نے رب کو غصہ دلایا۔ اُن ہی کے باعث موسیٰ کا بُرا حال ہوا۔|Csjاِسی بنا پر اللہ نے اُسے پشت در پشت اور ابد تک راست باز قرار دیا۔kBQjلیکن فینحاس نے اُٹھ کر اُن کی عدالت کی۔ تب وبا رُک گئی۔ Ajاُنہوں نے اپنی حرکتوں سے رب کو طیش دلایا تو اُن میں مہلک بیماری پھیل گئی۔!@=jوہ بعل فغور دیوتا سے لپٹ گئے اور مُردوں کے لئے پیش کی گئی قربانیوں کا گوشت کھانے لگے۔ ErbJ?j&ہاں، اُنہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو کنعان کے دیوتاؤں کے حضور پیش کر کے اُن کا معصوم خون بہایا۔ اِس سے ملک کی بےحرمتی ہوئی۔Ij%وہ اپنے بیٹے بیٹیوں کو بدروحوں کے حضور قربان کرنے سے بھی نہ کترائے۔H'j$وہ اُن کے بُتوں کی پوجا کرنے میں لگ گئے، اور یہ اُن کے لئے پھندے کا باعث بن گئے۔/GYj#نہ صرف یہ بلکہ وہ غیرقوموں سے رشتہ باندھ کر اُن میں گھل مل گئے اور اُن کے رسم و رواج اپنا لئے۔7Fij"جو دیگر قومیں ملک میں تھیں اُنہیں اُنہوں نے نیست نہ کیا، حالانکہ رب نے اُنہیں یہ کرنے کو کہا تھا۔ ik#iPyj,لیکن اُس نے مدد کے لئے اُن کی آہیں سن کر اُن کی مصیبت پر دھیان دیا۔@O{j+اللہ بار بار اُنہیں چھڑاتا رہا، حالانکہ وہ اپنے سرکش منصوبوں پر تُلے رہے اور اپنے قصور میں ڈوبتے گئے۔qN]j*اُن کے دشمنوں نے اُن پر ظلم کر کے اُن کو اپنا مطیع بنا لیا۔-MUj)اُس نے اُنہیں دیگر قوموں کے حوالے کیا، اور جو اُن سے نفرت کرتے تھے وہ اُن پر حکومت کرنے لگے۔L!j(تب اللہ اپنی قوم سے سخت ناراض ہوا، اور اُسے اپنی موروثی ملکیت سے گھن آنے لگی۔Kj'وہ اپنی غلط حرکتوں سے ناپاک اور اپنے زناکارانہ کاموں سے اللہ سے بےوفا ہوئے۔ -o9-V'kرب کے نجات یافتہ جن کو اُس نے عوضانہ دے کر دشمن کے قبضے سے چھڑایا ہے سب یہ کہیں۔oU [kرب کا شکر کرو، کیونکہ وہ بھلا ہے، اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔T)j0ازل سے ابد تک رب، اسرائیل کے خدا کی حمد ہو۔ تمام قوم کہے، ”آمین! رب کی حمد ہو!“ Sj/اے رب ہمارے خدا، ہمیں بچا! ہمیں دیگر قوموں سے نکال کر جمع کر۔ تب ہی ہم تیرے مُقدّس نام کی ستائش کریں گے اور تیرے قابلِ تعریف کاموں پر فخر کریں گے۔R j.اُس نے ہونے دیا کہ جس نے بھی اُنہیں گرفتار کیا اُس نے اُن پر ترس کھایا۔ Qj-اُس نے اُن کے ساتھ اپنا عہد یاد کیا، اور وہ اپنی بڑی شفقت کے باعث پچھتایا۔ jY\kوہ رب کا شکر کریں کہ اُس نے اپنی شفقت اور اپنے معجزے انسان پر ظاہر کئے ہیں۔[ kاُس نے اُنہیں صحیح راہ پر لا کر ایسی آبادی تک پہنچایا جہاں رہ سکتے تھے۔6Zgkتب اُنہوں نے اپنی مصیبت میں رب کو پکارا، اور اُس نے اُنہیں اُن کی تمام پریشانیوں سے چھٹکارا دیا۔[Y1kبھوک اور پیاس کے مارے اُن کی جان نڈھال ہو گئی۔/XYkبعض ریگستان میں صحیح راستہ بھول کر ویران راستے پر مارے مارے پھرے، اور کہیں بھی آبادی نہ ملی۔Wkاُس نے اُنہیں مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک دیگر ممالک سے اکٹھا کیا ہے۔ z[4z6agk تو اُنہوں نے اپنی مصیبت میں رب کو پکارا، اور اُس نے اُنہیں اُن کی تمام پریشانیوں سے چھٹکارا دیا۔_`9k اِس لئے اللہ نے اُن کے دل کو تکلیف میں مبتلا کر کے پست کر دیا۔ جب وہ ٹھوکر کھا کر گر گئے اور مدد کرنے والا کوئی نہ رہا تھا*_Ok کیونکہ وہ اللہ کے فرمانوں سے سرکش ہوئے تھے، اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حقیر جانا تھا۔^k دوسرے زنجیروں اور مصیبت میں جکڑے ہوئے اندھیرے اور گہری تاریکی میں بستے تھے،!]=k کیونکہ وہ پیاسی جان کو آسودہ کرتا اور بھوکی جان کو کثرت کی اچھی چیزوں سے سیر کرتا ہے۔ aiEa6ggkتب اُنہوں نے اپنی مصیبت میں رب کو پکارا، اور اُس نے اُنہیں اُن کی تمام پریشانیوں سے چھٹکارا دیا۔fkاُنہیں ہر خوراک سے گھن آنے لگی، اور وہ موت کے دروازوں کے قریب پہنچے۔e9kکچھ لوگ احمق تھے، وہ اپنے سرکش چال چلن اور گناہوں کے باعث پریشانیوں میں مبتلا ہوئے۔dkکیونکہ اُس نے پیتل کے دروازے توڑ ڈالے، لوہے کے کنڈے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہیں۔ckوہ رب کا شکر کریں کہ اُس نے اپنی شفقت اور اپنے معجزے انسان پر ظاہر کئے ہیں۔b!kوہ اُنہیں اندھیرے اور گہری تاریکی سے نکال لایا اور اُن کی زنجیریں توڑ ڈالیں۔ E  "-8CNYcny)4?JU`kv&1;FQ\gr} j*=N j+=O j,=P j-=Q j.=R j/=S j0=T  k=U k=V j*=N j+=O j,=P j-=Q j.=R j/=S j0=T  k=U k=V k=W k=X k=Y k=Z k=[ k=\ k =] k =^ k =_ k =` k =a k=b k=c k=d k=e k=f k=g k=h k=i k=j k=k k=l k=m k=n k=o k=p k=q k=r k=s k =t k!=u k"=v k#=w k$=x k%=y k&=z k'={ k(=| k)=} k*=~ k+=  l= l= l= l= l= l= l= l= l = l = l = l = l =  m= m= m= m= m= m= rtIrmkکیونکہ رب نے حکم دیا تو آندھی چلی جو سمندر کی موجیں بلندیوں پر لائی۔lkاُنہوں نے رب کے عظیم کام اور سمندر کی گہرائیوں میں اُس کے معجزے دیکھے ہیں۔:kokبعض بحری جہاز میں بیٹھ گئے اور تجارت کے سلسلے میں سمندر پر سفر کرتے کرتے دُوردراز علاقوں تک پہنچے۔j7kوہ شکرگزاری کی قربانیاں پیش کریں اور خوشی کے نعرے لگا کر اُس کے کاموں کا چرچا کریں۔ikوہ رب کا شکر کریں کہ اُس نے اپنی شفقت اور معجزے انسان پر ظاہر کئے ہیں۔h kاُس نے اپنا کلام بھیج کر اُنہیں شفا دی اور اُنہیں موت کے گڑھے سے بچایا۔ O[Oskوہ رب کا شکر کریں کہ اُس نے اپنی شفقت اور اپنے معجزے انسان پر ظاہر کئے ہیں۔r1kمسافر پُرسکون حالات دیکھ کر خوش ہوئے، اور اللہ نے اُنہیں منزلِ مقصود تک پہنچایا۔~qwkاُس نے سمندر کو تھما دیا اور خاموشی پھیل گئی، لہریں ساکت ہو گئیں۔*pOkتب اُنہوں نے اپنی مصیبت میں رب کو پکارا، اور اُس نے اُنہیں تمام پریشانیوں سے چھٹکارا دیا۔(oKkوہ شراب میں دُھت آدمی کی طرح لڑکھڑاتے اور ڈگمگاتے رہے۔ اُن کی تمام حکمت ناکام ثابت ہوئی۔!n=kوہ آسمان تک چڑھیں اور گہرائیوں تک اُتریں۔ پریشانی کے باعث ملاحوں کی ہمت جواب دے گئی۔ oFApy[k%تب وہ کھیت اور انگور کے باغ لگاتے ہیں جو خوب پھل لاتے ہیں۔ixMk$وہاں وہ بھوکوں کو بسا دیتا ہے تاکہ آبادیاں قائم کریں۔w%k#دوسری جگہوں پر وہ ریگستان کو جھیل میں اور پیاسی زمین کو چشموں میں بدل دیتا ہے۔ vk"باشندوں کی بُرائی دیکھ کر وہ زرخیز زمین کو کلر کے بیابان میں بدل دیتا ہے۔u%k!کئی جگہوں پر وہ دریاؤں کو ریگستان میں اور چشموں کو پیاسی زمین میں بدل دیتا ہے۔ tk وہ قوم کی جماعت میں اُس کی تعظیم کریں، بزرگوں کی مجلس میں اُس کی حمد کریں۔ mA m~1k*سیدھی راہ پر چلنے والے یہ دیکھ کر خوش ہوں گے، لیکن بےانصاف کا منہ بند کیا جائے گا۔K}k)لیکن محتاج کو وہ مصیبت کی دلدل سے نکال کر سرفراز کرتا اور اُس کے خاندانوں کو بھیڑبکریوں کی طرح بڑھا دیتا ہے۔?|yk(تو وہ شرفا پر اپنی حقارت اُنڈیل دیتا اور اُنہیں ریگستان میں بھگا کر صحیح راستے سے دُور پھرنے دیتا ہے۔{9k'جب کبھی اُن کی تعداد کم ہو جاتی اور وہ مصیبت اور دُکھ کے بوجھ تلے خاک میں دب جاتے ہیں;zqk&اللہ اُنہیں برکت دیتا ہے تو اُن کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے۔ وہ اُن کے ریوڑوں کو بھی کم ہونے نہیں دیتا۔ z>"lاپنے دہنے ہاتھ سے مدد کر کے میری سن تاکہ جو تجھے پیارے ہیں نجات پائیں۔vglاے اللہ، آسمان پر سرفراز ہو! تیرا جلال پوری دنیا پر چھا جائے۔lکیونکہ تیری شفقت آسمان سے کہیں بلند ہے، تیری وفاداری بادلوں تک پہنچتی ہے۔lاے رب، مَیں قوموں میں تیری ستائش، اُمّتوں میں تیری مدح سرائی کروں گا۔mUlاے ستار اور سرود، جاگ اُٹھو! مَیں طلوعِ صبح کو جگاؤں گا۔H lداؤد کا زبور۔ گیت۔ اے اللہ، میرا دل مضبوط ہے۔ مَیں ساز بجا کر تیری مدح سرائی کروں گا۔ اے میری جان، جاگ اُٹھ!k+کون دانش مند ہے؟ وہ اِس پر دھیان دے، وہ رب کی مہربانیوں پر غور کرے۔ *$*k Ql اے اللہ، تُو ہی یہ کر سکتا ہے، گو تُو نے ہمیں رد کیا ہے۔ اے اللہ، تُو ہماری فوجوں کا ساتھ نہیں دیتا جب وہ لڑنے کے لئے نکلتی ہیں۔ 7l کون مجھے قلعہ بند شہر میں لائے گا؟ کون میری راہنمائی کر کے مجھے ادوم تک پہنچائے گا؟I l موآب میرا غسل کا برتن ہے، اور ادوم پر مَیں اپنا جوتا پھینک دوں گا۔ مَیں فلستی ملک پر زوردار نعرے لگاؤں گا!“+lجِلعاد میرا ہے اور منسّی میرا ہے۔ افرائیم میرا خود اور یہوداہ میرا شاہی عصا ہے۔X+lاللہ نے اپنے مقدِس میں فرمایا ہے، ”مَیں فتح مناتے ہوئے سِکم کو تقسیم کروں گا اور وادیِ سُکات کو ناپ کر بانٹ دوں گا۔ nG&Gmمیری محبت کے جواب میں وہ مجھ پر اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن دعا ہی میرا سہارا ہے۔kQmوہ مجھے نفرت کے الفاظ سے گھیر کر بلاوجہ مجھ سے لڑے ہیں۔5emکیونکہ اُنہوں نے اپنا بےدین اور فریب دہ منہ میرے خلاف کھول کر جھوٹی زبان سے میرے ساتھ بات کی ہے۔  mداؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ میرے فخر، خاموش نہ رہ! l اللہ کے ساتھ ہم زبردست کام کریں گے، کیونکہ وہی ہمارے دشمنوں کو کچل دے گا۔ v gl مصیبت میں ہمیں سہارا دے، کیونکہ اِس وقت انسانی مدد بےکار ہے۔ `v^]5m اُس کی اولاد یتیم اور اُس کی بیوی بیوہ بن جائے۔p[mاُس کی زندگی مختصر ہو، کوئی اَور اُس کی ذمہ داری اُٹھائے۔!=mمقدمے میں اُسے مجرم ٹھہرایا جائے۔ اُس کی دعائیں بھی اُس کے گناہوں میں شمار کی جائیں۔fGmاے اللہ، کسی بےدین کو مقرر کر جو میرے دشمن کے خلاف گواہی دے، کوئی مخالف اُس کے دہنے ہاتھ کھڑا ہو جائے جو اُس پر الزام لگائے۔3mمیری نیکی کے عوض وہ مجھے نقصان پہنچاتے اور میرے پیار کے بدلے مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ Z[%mاُن کا بُرا کردار رب کے سامنے رہے، اور وہ اُن کی یاد رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالے۔!=mرب اُس کے باپ دادا کی ناانصافی کا لحاظ کرے، اور وہ اُس کی ماں کی خطا بھی درگزر نہ کرے۔m اُس کی اولاد کو مٹایا جائے، اگلی پشت میں اُن کا نام و نشان تک نہ رہے۔uem کوئی نہ ہو جو اُس پر مہربانی کرے یا اُس کے یتیموں پر رحم کرے۔2_m جس سے اُس نے قرضہ لیا تھا وہ اُس کے تمام مال پر قبضہ کرے، اور اجنبی اُس کی محنت کا پھل لُوٹ لیں۔lSm اُس کے بچے آوارہ پھریں اور بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں۔ اُنہیں اُن کے تباہ شدہ گھروں سے نکل کر اِدھر اُدھر روٹی ڈھونڈنی پڑے۔ NFhN mرب میرے مخالفوں کو اور اُنہیں جو میرے خلاف بُری باتیں کرتے ہیں یہی سزا دے۔mوہ کپڑے کی طرح اُس سے لپٹی رہے، پٹکے کی طرح ہمیشہ اُس سے کمربستہ رہے۔Z/mاُس نے لعنت چادر کی طرح اوڑھ لی، چنانچہ لعنت پانی کی طرح اُس کے جسم میں اور تیل کی طرح اُس کی ہڈیوں میں سرایت کر جائے۔Nmاُسے لعنت کرنے کا شوق تھا، چنانچہ لعنت اُسی پر آئے! اُسے برکت دینا پسند نہیں تھا، چنانچہ برکت اُس سے دُور رہے۔dCmکیونکہ اُس کو کبھی مہربانی کرنے کا خیال نہ آیا بلکہ وہ مصیبت زدہ، محتاج اور شکستہ دل کا تعاقب کرتا رہا تاکہ اُسے مار ڈالے۔ 1#i1y&mmاے رب میرے خدا، میری مدد کر! اپنی شفقت کا اظہار کر کے مجھے چھڑا!8%kmمَیں اپنے دشمنوں کے لئے مذاق کا نشانہ بن گیا ہوں۔ مجھے دیکھ کر وہ سر ہلا کر ”توبہ توبہ“ کہتے ہیں۔$ymروزہ رکھتے رکھتے میرے گھٹنے ڈگمگانے لگے اور میرا جسم سوکھ گیا ہے۔,#Smشام کے ڈھلتے سائے کی طرح مَیں ختم ہونے والا ہوں۔ مجھے ٹڈی کی طرح جھاڑ کر دُور کر دیا گیا ہے۔"mکیونکہ مَیں مصیبت زدہ اور ضرورت مند ہوں۔ میرا دل میرے اندر مجروح ہے۔Y!-mلیکن تُو اے رب قادرِ مطلق، اپنے نام کی خاطر میرے ساتھ مہربانی کا سلوک کر۔ مجھے بچا، کیونکہ تیری ہی شفقت تسلی بخش ہے۔ i-+Umکیونکہ وہ محتاج کے دہنے ہاتھ کھڑا رہتا ہے تاکہ اُسے اُن سے بچائے جو اُسے مجرم ٹھہراتے ہیں۔ *mمَیں زور سے رب کی ستائش کروں گا، بہتوں کے درمیان اُس کی حمد کروں گا۔ )mمیرے مخالف رُسوائی سے ملبّس ہو جائیں، اُنہیں شرمندگی کی چادر اوڑھنی پڑے۔F(mجب وہ لعنت کریں تو مجھے برکت دے! جب وہ میرے خلاف اُٹھیں تو بخش دے کہ شرمندہ ہو جائیں جبکہ تیرا خادم خوش ہو۔'!mاُنہیں پتا چلے کہ یہ تیرے ہاتھ سے پیش آیا ہے، کہ تُو رب ہی نے یہ سب کچھ کیا ہے۔ 'jpاُس کے فرزند ملک میں طاقت ور ہوں گے، اور دیانت دار کی نسل کو برکت ملے گی۔$= Epرب کی حمد ہو! مبارک ہے وہ جو اللہ کا خوف مانتا اور اُس کے احکام سے بہت لطف اندوز ہوتا ہے۔~<wo حکمت اِس سے شروع ہوتی ہے کہ ہم رب کا خوف مانیں۔ جو بھی اُس کے احکام پر عمل کرے اُسے اچھی سمجھ حاصل ہو گی۔ اُس کی حمد ہمیشہ تک قائم رہے گی۔ uW?buiEMp وہ فیاضی سے ضرورت مندوں میں خیرات بکھیر دیتا ہے۔ اُس کی راست بازی ہمیشہ قائم رہے گی، اور اُسے عزت کے ساتھ سرفراز کیا جائے گا۔YD-pاُس کا دل مستحکم ہے۔ وہ سہما ہوا نہیں رہتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک دن مَیں اپنے دشمنوں کی شکست دیکھ کر خوش ہوں گا۔C)pوہ بُری خبر ملنے سے نہیں ڈرتا۔ اُس کا دل مضبوط ہے، اور وہ رب پر بھروسا رکھتا ہے۔zBopکیونکہ وہ ابد تک نہیں ڈگمگائے گا۔ راست باز ہمیشہ ہی یاد رہے گا۔%AEpمہربانی کرنا اور قرض دینا بابرکت ہے۔ جو اپنے معاملوں کو انصاف سے حل کرے وہ اچھا کرے گا، 0U_L9qاور آسمان و زمین کو دیکھنے کے لئے نیچے جھکتا ہے؟iKMqکون رب ہمارے خدا کی مانند ہے جو بلندیوں پر تخت نشین ہےoJYqرب تمام اقوام سے سربلند ہے، اُس کا جلال آسمان سے عظیم ہے۔^I7qطلوعِ صبح سے غروبِ آفتاب تک رب کے نام کی حمد ہو۔FHqرب کے نام کی اب سے ابد تک تمجید ہو۔G qرب کی حمد ہو! اے رب کے خادمو، رب کے نام کی ستائش کرو، رب کے نام کی تعریف کرو۔LFp بےدین یہ دیکھ کر ناراض ہو جائے گا، وہ دانت پیس پیس کر نیست ہو جائے گا۔ جو کچھ بےدین چاہتے ہیں وہ جاتا رہے گا۔ N6Srپہاڑ مینڈھوں کی طرح کودنے اور پہاڑیاں جوان بھیڑبکریوں کی طرح پھاندنے لگیں۔lRSrیہ دیکھ کر سمندر بھاگ گیا اور دریائے یردن پیچھے ہٹ گیا۔rQ_rتو یہوداہ اللہ کا مقدِس بن گیا اور اسرائیل اُس کی بادشاہی۔P ;rجب اسرائیل مصر سے روانہ ہوا اور یعقوب کا گھرانا اجنبی زبان بولنے والی قوم سے نکل آیاO5q بانجھ کو وہ اولاد عطا کرتا ہے تاکہ وہ گھر میں خوشی سے زندگی گزار سکے۔ رب کی حمد ہو! tNcqوہ اُسے شرفا کے ساتھ، اپنی قوم کے شرفا کے ساتھ بٹھا دیتا ہے۔.MWqپست حال کو وہ خاک میں سے اُٹھا کر پاؤں پر کھڑا کرتا، محتاج کو راکھ سے نکال کر سرفراز کرتا ہے۔ Xi%XYY-sدیگر اقوام کیوں کہیں، ”اُن کا خدا کہاں ہے؟“UX 'sاے رب، ہماری ہی عزت کی خاطر کام نہ کر بلکہ اِس لئے کہ تیرے نام کو جلال ملے، اِس لئے کہ تُو مہربان اور وفادار خدا ہے۔W#rاُس کے سامنے تھرتھرا جس نے چٹان کو جوہڑ میں اور سخت پتھر کو چشمے میں بدل دیا۔ dVCrاے زمین، رب کے حضور، یعقوب کے خدا کے حضور لرز اُٹھ،YU-rاے پہاڑو، کیا ہوا کہ تم مینڈھوں کی طرح کودنے لگے ہو؟ اے پہاڑیو، کیا ہوا کہ تم جوان بھیڑبکریوں کی طرح پھاندنے لگی ہو؟T!rاے سمندر، کیا ہوا کہ تُو بھاگ گیا ہے؟ اے یردن، کیا ہوا کہ تُو پیچھے ہٹ گیا ہے؟ a %a@_{sجو بُت بناتے ہیں وہ اُن کی مانند ہو جائیں، جو اُن پر بھروسا رکھتے ہیں وہ اُن جیسے بےحس و حرکت ہو جائیں۔K^sاُن کے ہاتھ ہیں، لیکن وہ چھو نہیں سکتے۔ اُن کے پاؤں ہیں، لیکن وہ چل نہیں سکتے۔ اُن کے گلے سے آواز نہیں نکلتی۔]sاُن کے کان ہیں لیکن وہ سن نہیں سکتے، اُن کی ناک ہے لیکن وہ سونگھ نہیں سکتے۔\'sاُن کے منہ ہیں لیکن وہ بول نہیں سکتے۔ اُن کی آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے۔z[osاُن کے بُت سونے چاندی کے ہیں، انسان کے ہاتھ نے اُنہیں بنایا ہے۔`Z;sہمارا خدا تو آسمان پر ہے، اور جو جی چاہے کرتا ہے۔ _e}sرب تمہاری تعداد میں اضافہ کرے، تمہاری بھی اور تمہاری اولاد کی بھی۔wdis وہ رب کا خوف ماننے والوں کو برکت دے گا، خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے۔Zc/s رب نے ہمارا خیال کیا ہے، اور وہ ہمیں برکت دے گا۔ وہ اسرائیل کے گھرانے کو برکت دے گا، وہ ہارون کے گھرانے کو برکت دے گا۔b+s اے رب کا خوف ماننے والو، رب پر بھروسا رکھو! وہی تمہارا سہارا اور تمہاری ڈھال ہے۔as اے ہارون کے گھرانے، رب پر بھروسا رکھ! وہی تیرا سہارا اور تیری ڈھال ہے۔x`ks اے اسرائیل، رب پر بھروسا رکھ! وہی تیرا سہارا اور تیری ڈھال ہے۔ MQ ktاُس نے اپنا کان میری طرف جھکایا ہے، اِس لئے مَیں عمر بھر اُسے پکاروں گا۔ j tمَیں رب سے محبت رکھتا ہوں، کیونکہ اُس نے میری آواز اور میری التجا سنی ہے۔jiOsلیکن ہم رب کی ستائش اب سے ابد تک کریں گے۔ رب کی حمد ہو! Chsاے رب، مُردے تیری ستائش نہیں کرتے، خاموشی کے ملک میں اُترنے والوں میں سے کوئی بھی تیری تمجید نہیں کرتا۔xgksآسمان تو رب کا ہے، لیکن زمین کو اُس نے آدم زادوں کو بخش دیا ہے۔nfWsرب جو آسمان و زمین کا خالق ہے تمہیں برکت سے مالا مال کرے۔ j)[4jFqtکیونکہ اے رب، تُو نے میری جان کو موت سے، میری آنکھوں کو آنسو بہانے سے اور میرے پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے۔p#tاے میری جان، اپنی آرام گاہ کے پاس واپس آ، کیونکہ رب نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔ otرب سادہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ جب مَیں پست حال تھا تو اُس نے مجھے بچایا۔Sn!tرب مہربان اور راست ہے، ہمارا خدا رحیم ہے۔umetتب مَیں نے رب کا نام پکارا، ”اے رب، مہربانی کر کے مجھے بچا!“Sl!tموت نے مجھے اپنی زنجیروں میں جکڑ لیا، اور پاتال کی پریشانیاں مجھ پر غالب آئیں۔ مَیں مصیبت اور دُکھ میں پھنس گیا۔ $:gxItرب کی نگاہ میں اُس کے ایمان داروں کی موت گراں قدر ہے۔wtمَیں رب کے حضور اُس کی ساری قوم کے سامنے ہی اپنی مَنتیں پوری کروں گا۔_v9t مَیں نجات کا پیالہ اُٹھا کر رب کا نام پکاروں گا۔wuit جو بھلائیاں رب نے میرے ساتھ کی ہیں اُن سب کے عوض مَیں کیا دوں؟mtUt مَیں سخت گھبرا گیا اور بولا، ”تمام انسان دروغ گو ہیں۔“s t مَیں ایمان لایا اور اِس لئے بولا، ”مَیں شدید مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔“crAt اب مَیں زندوں کی زمین میں رہ کر رب کے حضور چلوں گا۔ E  #.9DOZep{ *5@KValw%0;FQ\gr} s= s= s= s= s= s= s = s = s = s= s= s= s= s= s= s = s = s = s = s = s= s= s= s= s=  t= t= t= t= t= t= t= t= t = t = t = t = t = t= t= t= t= t= t=  u= u=  v= v> v> v> v> v> v> v> v > v > v > v > v > v> v> v> v> v> v> v> v> v> v> v> v> v> v> v> v>  w> w> w> l36l ~uکیونکہ اُس کی ہم پر شفقت عظیم ہے، اور رب کی وفاداری ابدی ہے۔ رب کی حمد ہو! } uاے تمام اقوام، رب کی تمجید کرو! اے تمام اُمّتو، اُس کی مدح سرائی کرو!/|Ytمَیں رب کے گھر کی بارگاہوں میں، اے یروشلم تیرے بیچ میں ہی اُنہیں پورا کروں گا۔ رب کی حمد ہو۔ {tمَیں رب کے حضور اُس کی ساری قوم کے سامنے ہی اپنی مَنتیں پوری کروں گا۔rz_tمَیں تجھے شکرگزاری کی قربانی پیش کر کے تیرا نام پکاروں گا۔Iy tاے رب، یقیناً مَیں تیرا خادم، ہاں تیرا خادم اور تیری خادمہ کا بیٹا ہوں۔ تُو نے میری زنجیروں کو توڑ ڈالا ہے۔ v@~<vBvرب میرے حق میں ہے اور میرا سہارا ہے، اِس لئے مَیں اُن کی شکست دیکھ کر خوش ہوں گا جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ vرب میرے حق میں ہے، اِس لئے مَیں نہیں ڈروں گا۔ انسان میرا کیا بگاڑ سکتا ہے؟-Uvمصیبت میں مَیں نے رب کو پکارا تو رب نے میری سن کر میرے پاؤں کو کھلے میدان میں قائم کر دیا ہے۔cAvرب کا خوف ماننے والے کہیں، ”اُس کی شفقت ابدی ہے۔“Y-vہارون کا گھرانا کہے، ”اُس کی شفقت ابدی ہے۔“Kvاسرائیل کہے، ”اُس کی شفقت ابدی ہے۔“o [vرب کا شکر کرو، کیونکہ وہ بھلا ہے، اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔ A(A| sv دشمن نے مجھے دھکا دے کر گرانے کی کوشش کی، لیکن رب نے میری مدد کی۔ !v وہ شہد کی مکھیوں کی طرح چاروں طرف سے مجھ پر حملہ آور ہوئے، لیکن کانٹےدار جھاڑیوں کی آگ کی طرح جلد ہی بجھ گئے۔ مَیں نے رب کا نام لے کر اُنہیں بھگا دیا۔: ov اُنہوں نے مجھے گھیر لیا، ہاں چاروں طرف سے گھیر لیا، لیکن مَیں نے اللہ کا نام لے کر اُنہیں بھگا دیا۔v تمام اقوام نے مجھے گھیر لیا، لیکن مَیں نے اللہ کا نام لے کر انہیں بھگا دیا۔hKv رب میں پناہ لینا شرفا پر اعتماد کرنے سے کہیں بہتر ہے۔jOvرب میں پناہ لینا انسان پر اعتماد کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ n]mnfGvیہ رب کا دروازہ ہے، اِسی میں راست باز داخل ہوتے ہیں۔vراستی کے دروازے میرے لئے کھول دو تاکہ مَیں اُن میں داخل ہو کر رب کا شکر کروں۔|svگو رب نے میری سخت تادیب کی ہے، اُس نے مجھے موت کے حوالے نہیں کیا۔nWvمَیں نہیں مروں گا بلکہ زندہ رہ کر رب کے کام بیان کروں گا۔vرب کا دہنا ہاتھ سرفراز کرتا ہے، رب کا دہنا ہاتھ زبردست کام کرتا ہے!“0 [vخوشی اور فتح کے نعرے راست بازوں کے خیموں میں گونجتے ہیں، ”رب کا دہنا ہاتھ زبردست کام کرتا ہے!e Evرب میری قوت اور میرا گیت ہے، وہ میری نجات بن گیا ہے۔ Jvرب ہی خدا ہے، اور اُس نے ہمیں روشنی بخشی ہے۔ آؤ، عید کی قربانی رسّیوں سے قربان گاہ کے سینگوں کے ساتھ باندھو۔vمبارک ہے وہ جو رب کے نام سے آتا ہے۔ رب کی سکونت گاہ سے ہم تمہیں برکت دیتے ہیں۔vاے رب، مہربانی کر کے ہمیں بچا! اے رب، مہربانی کر کے کامیابی عطا فرما!vاِسی دن رب نے اپنی قدرت دکھائی ہے۔ آؤ، ہم شادیانہ بجا کر اُس کی خوشی منائیں۔]5vیہ رب نے کیا اور دیکھنے میں کتنا حیرت انگیز ہے۔vجس پتھر کو مکان بنانے والوں نے رد کیا وہ کونے کا بنیادی پتھر بن گیا۔zovمَیں تیرا شکر کرتا ہوں، کیونکہ تُو نے میری سن کر مجھے بچایا ہے۔ $^LW$ wکاش میری راہیں اِتنی پختہ ہوں کہ مَیں ثابت قدمی سے تیرے احکام پر عمل کروں!7wتُو نے ہمیں اپنے احکام دیئے ہیں، اور تُو چاہتا ہے کہ ہم ہر لحاظ سے اُن کے تابع رہیں۔]5wجو بدی نہیں کرتے بلکہ اُس کی راہوں پر چلتے ہیں۔wمبارک ہیں وہ جو اُس کے احکام پر عمل کرتے اور پورے دل سے اُس کے طالب رہتے ہیں، +wمبارک ہیں وہ جن کا چال چلن بےالزام ہے، جو رب کی شریعت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔tcvرب کی ستائش کرو، کیونکہ وہ بھلا ہے اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔ 7vتُو میرا خدا ہے، اور مَیں تیرا شکر کرتا ہوں۔ اے میرے خدا، مَیں تیری تعظیم کرتا ہوں۔ 9f19R'w اے رب، تیری حمد ہو! مجھے اپنے احکام سکھا۔&}w مَیں نے تیرا کلام اپنے دل میں محفوظ رکھا ہے تاکہ تیرا گناہ نہ کروں۔%}w مَیں پورے دل سے تیرا طالب رہا ہوں۔ مجھے اپنے احکام سے بھٹکنے نہ دے۔$%w نوجوان اپنی راہ کو کس طرح پاک رکھے؟ اِس طرح کہ تیرے کلام کے مطابق زندگی گزارے۔x#kwتیرے احکام پر مَیں ہر وقت عمل کروں گا۔ مجھے پوری طرح ترک نہ کر!6"gwجتنا مَیں تیرے باانصاف فیصلوں کے بارے میں سیکھوں گا اُتنا ہی دیانت دار دل سے تیری ستائش کروں گا۔!'wتب مَیں شرمندہ نہیں ہوں گا، کیونکہ میری آنکھیں تیرے تمام احکام پر لگی رہیں گی۔ Z_>Zv.gwدنیا میں مَیں پردیسی ہی ہوں۔ اپنے احکام مجھ سے چھپائے نہ رکھ!h-Kwمیری آنکھوں کو کھول تاکہ تیری شریعت کے عجائب دیکھوں۔,+wاپنے خادم سے بھلائی کر تاکہ مَیں زندہ رہوں اور تیرے کلام کے مطابق زندگی گزاروں۔+}wمَیں تیرے فرمانوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں اور تیرا کلام نہیں بھولتا۔* wمَیں تیری ہدایات میں محوِ خیال رہوں گا اور تیری راہوں کو تکتا رہوں گا۔)wمَیں تیرے احکام کی راہ سے اُتنا لطف اندوز ہوتا ہوں جتنا کہ ہر طرح کی دولت سے۔}(uw اپنے ہونٹوں سے مَیں دوسروں کو تیرے منہ کی تمام ہدایات سناتا ہوں۔ Z+5wمَیں نے اپنی راہیں بیان کیں تو تُو نے میری سنی۔ مجھے اپنے احکام سکھا۔4wمیری جان خاک میں دب گئی ہے۔ اپنے کلام کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔p3[wتیرے احکام سے ہی مَیں لطف اُٹھاتا ہوں، وہی میرے مشیر ہیں۔82kwگو بزرگ میرے خلاف منصوبے باندھنے کے لئے بیٹھ گئے ہیں، تیرا خادم تیرے احکام میں محوِ خیال رہتا ہے۔19wمجھے لوگوں کی توہین اور تحقیر سے رِہائی دے، کیونکہ مَیں تیرے احکام کے تابع رہا ہوں۔0wتُو مغروروں کو ڈانٹتا ہے۔ اُن پر لعنت جو تیرے احکام سے بھٹک جاتے ہیں!x/kwمیری جان ہر وقت تیری ہدایات کی آرزو کرتے کرتے نڈھال ہو رہی ہے۔ NhjpN<w!اے رب، مجھے اپنے آئین کی راہ سکھا تو مَیں عمر بھر اُن پر عمل کروں گا۔;)w مَیں تیرے فرمانوں کی راہ پر دوڑتا ہوں، کیونکہ تُو نے میرے دل کو کشادگی بخشی ہے۔|:swمَیں تیرے احکام سے لپٹا رہتا ہوں۔ اے رب، مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔x9kwمَیں نے وفا کی راہ اختیار کر کے تیرے آئین اپنے سامنے رکھے ہیں۔m8Uwفریب کی راہ مجھ سے دُور رکھ اور مجھے اپنی شریعت سے نواز۔ 7wمیری جان دُکھ کے مارے نڈھال ہو گئی ہے۔ مجھے اپنے کلام کے مطابق تقویت دے۔6#wمجھے اپنے احکام کی راہ سمجھنے کے قابل بنا تاکہ تیرے عجائب میں محوِ خیال رہوں۔ E  *5@KValw'2=HS^it$/:EP[fq| w> w>! w>" w># w >$ w >% w >& w >' w >( w> w>! w>" w># w >$ w >% w >& w >' w >( w>) w>* w>+ w>, w>- w>. w>/ w>0 w>1 w>2 w>3 w>4 w>5 w>6 w>7 w>8 w>9 w>: w >; w!>< w">= w#>> w$>? w%>@ w&>A w'>B w(>C w)>D w*>E w+>F w,>G w->H w.>I w/>J w0>K w1>L w2>M w3>N w4>O w5>P w6>Q w7>R w8>S w9>T w:>U w;>V w<>W w=>X w>>Y w?>Z w@>[ wA>\ wB>] wC>^ wD>_ wE>` wF>a wG>b wH>c wI>d |WG|Bw'جس رُسوائی سے مجھے خوف ہے اُس کا خطرہ دُور کر، کیونکہ تیرے احکام اچھے ہیں۔A{w&جو وعدہ تُو نے اپنے خادم سے کیا وہ پورا کر تاکہ لوگ تیرا خوف مانیں۔1@]w%میری آنکھوں کو باطل چیزوں سے پھیر لے، اور مجھے اپنی راہوں پر سنبھال کر میری جان کو تازہ دم کر۔?w$میرے دل کو لالچ میں آنے نہ دے بلکہ اُسے اپنے فرمانوں کی طرف مائل کر۔>w#اپنے احکام کی راہ پر میری راہنمائی کر، کیونکہ یہی مَیں پسند کرتا ہوں۔%=Ew"مجھے سمجھ عطا کر تاکہ تیری شریعت کے مطابق زندگی گزاروں اور پورے دل سے اُس کے تابع رہوں۔ lCHw-مَیں کھلے میدان میں چلتا پھروں گا، کیونکہ تیرے آئین کا طالب رہتا ہوں۔Gw,مَیں ہر وقت تیری شریعت کی پیروی کروں گا، اب سے ابد تک اُس میں قائم رہوں گا۔F'w+میرے منہ سے سچائی کا کلام نہ چھین، کیونکہ مَیں تیرے فرمانوں کے انتظار میں ہوں۔%EEw*تاکہ مَیں بےعزتی کرنے والے کو جواب دے سکوں۔ کیونکہ مَیں تیرے کلام پر بھروسا رکھتا ہوں۔}Duw)اے رب، تیری شفقت اور وہ نجات جس کا وعدہ تُو نے کیا ہے مجھ تک پہنچےCw(مَیں تیری ہدایات کا شدید آرزومند ہوں، اپنی راستی سے میری جان کو تازہ دم کر۔ k8kN+w3مغرور میرا حد سے زیادہ مذاق اُڑاتے ہیں، لیکن مَیں تیری شریعت سے دُور نہیں ہوتا۔Mw2مصیبت میں یہی تسلی کا باعث رہا ہے کہ تیرا کلام میری جان کو تازہ دم کرتا ہے۔L1w1اُس بات کا خیال رکھ جو تُو نے اپنے خادم سے کی اور جس سے تُو نے مجھے اُمید دلائی ہے۔TK#w0مَیں اپنے ہاتھ تیرے فرمانوں کی طرف اُٹھاؤں گا، کیونکہ وہ مجھے پیارے ہیں۔ مَیں تیری ہدایات میں محوِ خیال رہوں گا۔tJcw/مَیں تیرے فرمانوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں، وہ مجھے پیارے ہیں۔vIgw.مَیں شرم کئے بغیر بادشاہوں کے سامنے تیرے احکام بیان کروں گا۔ 4LR4U+w:مَیں پورے دل سے تیری شفقت کا طالب رہا ہوں۔ اپنے وعدے کے مطابق مجھ پر مہربانی کر۔Tyw9رب میری میراث ہے۔ مَیں نے تیرے فرمانوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔fSGw8یہ تیری بخشش ہے کہ مَیں تیرے آئین کی پیروی کرتا ہوں۔ Rw7اے رب، رات کو مَیں تیرا نام یاد کرتا ہوں، تیری شریعت پر عمل کرتا رہتا ہوں۔ Qw6جس گھر میں مَیں پردیسی ہوں اُس میں مَیں تیرے احکام کے گیت گاتا رہتا ہوں۔'PIw5بےدینوں کو دیکھ کر مَیں آگ بگولا ہو جاتا ہوں، کیونکہ اُنہوں نے تیری شریعت کو ترک کیا ہے۔xOkw4اے رب، مَیں تیرے قدیم فرمان یاد کرتا ہوں تو مجھے تسلی ملتی ہے۔ 5{d5r\_wAاے رب، تُو نے اپنے کلام کے مطابق اپنے خادم سے بھلائی کی ہے۔m[Uw@اے رب، دنیا تیری شفقت سے معمور ہے۔ مجھے اپنے احکام سکھا!0Z[w?مَیں اُن سب کا ساتھی ہوں جو تیرا خوف مانتے ہیں، اُن سب کا دوست جو تیری ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔Yw>آدھی رات کو مَیں جاگ اُٹھتا ہوں تاکہ تیرے راست فرمانوں کے لئے تیرا شکر کروں۔X w=بےدینوں کے رسّوں نے مجھے جکڑ لیا ہے، لیکن مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔W w<مَیں نہیں جھجکتا بلکہ بھاگ کر تیرے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔V}w;مَیں نے اپنی راہوں پر دھیان دے کر تیرے احکام کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔ LjLLb3wGمیرے لئے اچھا تھا کہ مجھے پست کیا گیا، کیونکہ اِس طرح مَیں نے تیرے احکام سیکھ لئے۔awFاُن کے دل اکڑ کر بےحس ہو گئے ہیں، لیکن مَیں تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔F`wEمغروروں نے جھوٹ بول کر مجھ پر کیچڑ اُچھالی ہے، لیکن مَیں پورے دل سے تیری ہدایات کی فرماں برداری کرتا ہوں۔f_GwDتُو بھلا ہے اور بھلائی کرتا ہے۔ مجھے اپنے آئین سکھا!1^]wCاِس سے پہلے کہ مجھے پست کیا گیا مَیں آوارہ پھرتا تھا، لیکن اب مَیں تیرے کلام کے تابع رہتا ہوں۔]wBمجھے صحیح امیتاز اور عرفان سکھا، کیونکہ مَیں تیرے احکام پر ایمان رکھتا ہوں۔ [ygmwLتیری شفقت مجھے تسلی دے، جس طرح تُو نے اپنے خادم سے وعدہ کیا ہے۔Hf wKاے رب، مَیں نے جان لیا ہے کہ تیرے فیصلے راست ہیں۔ یہ بھی تیری وفاداری کا اظہار ہے کہ تُو نے مجھے پست کیا ہے۔7eiwJجو تیرا خوف مانتے ہیں وہ مجھے دیکھ کر خوش ہو جائیں، کیونکہ مَیں تیرے کلام کے انتظار میں رہتا ہوں۔9dmwIتیرے ہاتھوں نے مجھے بنا کر مضبوط بنیاد پر رکھ دیا ہے۔ مجھے سمجھ عطا فرما تاکہ تیرے احکام سیکھ لوں۔!c=wHجو شریعت تیرے منہ سے صادر ہوئی ہے وہ مجھے سونے چاندی کے ہزاروں سکوں سے زیادہ پسند ہے۔ @|\%lEwQمیری جان تیری نجات کی آرزو کرتے کرتے نڈھال ہو رہی ہے، مَیں تیرے کلام کے انتظار میں ہوں۔k#wPمیرا دل تیرے آئین کی پیروی کرنے میں بےالزام رہے تاکہ میری رُسوائی نہ ہو جائے۔jwOکاش جو تیرا خوف مانتے اور تیرے احکام جانتے ہیں وہ میرے پاس واپس آئیں!@i{wNجو مغرور مجھے جھوٹ سے پست کر رہے ہیں وہ شرمندہ ہو جائیں۔ لیکن مَیں تیرے فرمانوں میں محوِ خیال رہوں گا۔f wL>g wM>h wN>i wO>j wP>k wQ>l wR>m w wK>f wL>g wM>h wN>i wO>j wP>k wQ>l wR>m wS>n wT>o wU>p wV>q wW>r wX>s wY>t wZ>u w[>v w\>w w]>x w^>y w_>z w`>{ wa>| wb>} wc>~ wd> we> wf> wg> wh> wi> wj> wk> wl> wm> wn> wo> wp> wq> wr> ws> wt> wu> wv> ww> wx> wy> wz> w{> w|> w}> w~> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> =2 /wnبےدینوں نے میرے لئے پھندا تیار کر رکھا ہے، لیکن مَیں تیرے فرمانوں سے نہیں بھٹکا۔xkwmمیری جان ہمیشہ خطرے میں ہے، لیکن مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔ wlاے رب، میرے منہ کی رضاکارانہ قربانیوں کو پسند کر اور مجھے اپنے آئین سکھا! wkمجھے بہت پست کیا گیا ہے۔ اے رب، اپنے کلام کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔3awjمَیں نے قَسم کھائی ہے کہ تیرے راست فرمانوں کی پیروی کروں گا، اور مَیں یہ وعدہ پورا بھی کروں گا۔ymwiتیرا کلام میرے پاؤں کے لئے چراغ ہے جو میری راہ کو روشن کرتا ہے۔ vcP'v-Uwtاپنے فرمان کے مطابق مجھے سنبھال تاکہ زندہ رہوں۔ میری آس ٹوٹنے نہ دے تاکہ شرمندہ نہ ہو جاؤں۔!wsاے بدکارو، مجھ سے دُور ہو جاؤ، کیونکہ مَیں اپنے خدا کے احکام سے لپٹا رہوں گا۔ wrتُو میری پناہ گاہ اور میری ڈھال ہے، مَیں تیرے کلام کے انتظار میں رہتا ہوں۔l Swqمَیں دو دِلوں سے نفرت لیکن تیری شریعت سے محبت کرتا ہوں۔ ;wpمَیں نے اپنا دل تیرے احکام پر عمل کرنے کی طرف مائل کیا ہے، کیونکہ اِس کا اجر ابدی ہے۔ -woتیرے احکام میری ابدی میراث بن گئے ہیں، کیونکہ اُن سے میرا دل خوشی سے اُچھلتا ہے۔ Twzاپنے خادم کی خوش حالی کا ضامن بن کر مغروروں کو مجھ پر ظلم کرنے نہ دے۔+Qwyمَیں نے راست اور باانصاف کام کیا ہے، چنانچہ مجھے اُن کے حوالے نہ کر جو مجھ پر ظلم کرتے ہیں۔wxمیرا جسم تجھ سے دہشت کھا کر تھرتھراتا ہے، اور مَیں تیرے فیصلوں سے ڈرتا ہوں۔nWwwتُو زمین کے تمام بےدینوں کو ناپاک چاندی سے خارج کی ہوئی مَیل کی طرح پھینک کر نیست کر دیتا ہے، اِس لئے تیرے فرمان مجھے پیارے ہیں۔2_wvتُو اُن سب کو رد کرتا ہے جو تیرے احکام سے بھٹکے پھرتے ہیں، کیونکہ اُن کی دھوکے بازی فریب ہی ہے۔mUwuمیرا سہارا بن تاکہ بچ کر ہر وقت تیرے آئین کا لحاظ رکھوں۔ soY8sA{wاِس لئے مَیں احتیاط سے تیرے تمام آئین کے مطابق زندگی گزارتا ہوں۔ مَیں ہر فریب دہ راہ سے نفرت کرتا ہوں۔ wاِس لئے مَیں تیرے احکام کو سونے بلکہ خالص سونے سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔w~اب وقت آ گیا ہے کہ رب قدم اُٹھائے، کیونکہ لوگوں نے تیری شریعت کو توڑ ڈالا ہے۔ w}مَیں تیرا ہی خادم ہوں۔ مجھے فہم عطا فرما تاکہ تیرے آئین کی پوری سمجھ آئے۔w|اپنے خادم سے تیرا سلوک تیری شفقت کے مطابق ہو۔ مجھے اپنے احکام سکھا۔ w{میری آنکھیں تیری نجات اور تیرے راست وعدے کی راہ دیکھتے دیکھتے رہ گئی ہیں۔ v+v"ewاپنے چہرے کا نور اپنے خادم پر چمکا اور مجھے اپنے احکام سکھا۔!!wفدیہ دے کر مجھے انسان کے ظلم سے چھٹکارا دے تاکہ مَیں تیرے احکام کے تابع رہوں۔  wاپنے کلام سے میرے قدم مضبوط کر، کسی بھی گناہ کو مجھ پر حکومت نہ کرنے دے۔9kwمیری طرف رجوع فرما اور مجھ پر وہی مہربانی کر جو تُو اُن سب پر کرتا ہے جو تیرے نام سے پیار کرتے ہیں۔wمَیں تیرے فرمانوں کے لئے اِتنا پیاسا ہوں کہ منہ کھول کر ہانپ رہا ہوں۔wwتیرے کلام کا انکشاف روشنی بخشتا اور سادہ لوح کو سمجھ عطا کرتا ہے۔{owتیرے احکام تعجب انگیز ہیں، اِس لئے میری جان اُن پر عمل کرتی ہے۔ ZaZ)-wتیری راستی ابدی ہے، اور تیری شریعت سچائی ہے۔(ywمجھے ذلیل اور حقیر جانا جاتا ہے، لیکن مَیں تیرے آئین نہیں بھولتا۔'}wتیرا کلام آزما کر پاک صاف ثابت ہوا ہے، تیرا خادم اُسے پیار کرتا ہے۔&)wمیری جان غیرت کے باعث تباہ ہو گئی ہے، کیونکہ میرے دشمن تیرے فرمان بھول گئے ہیں۔x%iwتُو نے راستی اور بڑی وفاداری کے ساتھ اپنے فرمان جاری کئے ہیں۔Y$+wاے رب، تُو راست ہے، اور تیرے فیصلے درست ہیں۔"#=wمیری آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں بہہ رہی ہیں، کیونکہ لوگ تیری شریعت کے تابع نہیں رہتے۔ j[*j / wرات کے وقت ہی میری آنکھیں کھل جاتی ہیں تاکہ تیرے کلام پر غور و خوض کروں۔/.Wwپَو پھٹنے سے پہلے پہلے مَیں اُٹھ کر مدد کے لئے پکارتا ہوں۔ مَیں تیرے کلام کے انتظار میں ہوں۔|-qwمَیں پکارتا ہوں، ”مجھے بچا! مَیں تیرے احکام کی پیروی کروں گا۔“&,Ewمَیں پورے دل سے پکارتا ہوں، ”اے رب، میری سن! مَیں تیرے آئین کے مطابق زندگی گزاروں گا۔“+wتیرے احکام ابد تک راست ہیں۔ مجھے سمجھ عطا فرما تاکہ مَیں جیتا رہوں۔!*;wمصیبت اور پریشانی مجھ پر غالب آ گئی ہیں، لیکن مَیں تیرے احکام سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ 1[>1N5wعدالت میں میرے حق میں لڑ کر میرا عوضانہ دے تاکہ میری جان چھوٹ جائے۔ اپنے وعدے کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔4 wمیری مصیبت کا خیال کر کے مجھے بچا! کیونکہ مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔+3Owبڑی دیر پہلے مجھے تیرے فرمانوں سے معلوم ہوا ہے کہ تُو نے اُنہیں ہمیشہ کے لئے قائم رکھا ہے۔`29wاے رب، تُو قریب ہی ہے، اور تیرے احکام سچائی ہیں۔61ewجو چالاکی سے میرا تعاقب کر رہے ہیں وہ قریب پہنچ گئے ہیں۔ لیکن وہ تیری شریعت سے انتہائی دُور ہیں۔!0;wاپنی شفقت کے مطابق میری آواز سن! اے رب، اپنے فرمانوں کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔ 6wd6; wتیرے کلام کا لُبِ لباب سچائی ہے، تیرے تمام راست فرمان ابد تک قائم ہیں۔:5wدیکھ، مجھے تیرے احکام سے پیار ہے۔ اے رب، اپنی شفقت کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔ 99wبےوفاؤں کو دیکھ کر مجھے گھن آتی ہے، کیونکہ وہ تیرے کلام کے مطابق زندگی نہیں گزارتے۔28]wمیرا تعاقب کرنے والوں اور میرے دشمنوں کی بڑی تعداد ہے، لیکن مَیں تیرے احکام سے دُور نہیں ہوا۔57cwاے رب، تُو متعدد طریقوں سے اپنے رحم کا اظہار کرتا ہے۔ اپنے آئین کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔6wنجات بےدینوں سے بہت دُور ہے، کیونکہ وہ تیرے احکام کے طالب نہیں ہوتے۔ |rI|Awاے رب، مَیں تیری نجات کے انتظار میں رہتے ہوئے تیرے احکام کی پیروی کرتا ہوں۔+@Owجنہیں شریعت پیاری ہے اُنہیں بڑا سکون حاصل ہے، وہ کسی بھی چیز سے ٹھوکر کھا کر نہیں گریں گے۔?wمَیں دن میں سات بار تیری ستائش کرتا ہوں، کیونکہ تیرے احکام راست ہیں۔>wمَیں جھوٹ سے نفرت کرتا بلکہ گھن کھاتا ہوں، لیکن تیری شریعت مجھے پیاری ہے۔=wمَیں تیرے کلام کی خوشی اُس کی طرح مناتا ہوں جسے کثرت کا مالِ غنیمت مل گیا ہو۔ < wسردار بلاوجہ میرا پیچھا کرتے ہیں، لیکن میرا دل تیرے کلام سے ہی ڈرتا ہے۔ L@ G wمیری زبان تیرے کلام کی مدح سرائی کرے، کیونکہ تیرے تمام فرمان راست ہیں۔Fwمیرے ہونٹوں سے حمد و ثنا پھوٹ نکلے، کیونکہ تُو مجھے اپنے احکام سکھاتا ہے۔wEgwمیری التجائیں تیرے سامنے آئیں، مجھے اپنے کلام کے مطابق چھڑا! Dwاے رب، میری آہیں تیرے سامنے آئیں، مجھے اپنے کلام کے مطابق سمجھ عطا فرما۔!C;wمَیں تیرے آئین اور ہدایات کی پیروی کرتا ہوں، کیونکہ میری تمام راہیں تیرے سامنے ہیں۔|Bqwمیری جان تیرے فرمانوں سے لپٹی رہتی ہے، وہ اُسے نہایت پیارے ہیں۔ B&2>JVbnz ".:FR^jv'2=GR]hs~ w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w> w>  x> x> x> x> x> x> x>  y> y> y> y> y> y> y> y>  z> z> z> z> z> z> z> z> z >  {> {> {> {>  |> |> |> |> |>  ^K mNUxاے فریب دہ زبان، وہ تیرے ساتھ کیا کرے، مزید تجھے کیا دے؟mMUxاے رب، میری جان کو جھوٹے ہونٹوں اور فریب دہ زبان سے بچا۔|L uxزیارت کا گیت۔ مصیبت میں مَیں نے رب کو پکارا، اور اُس نے میری سنی۔HK wمَیں بھٹکی ہوئی بھیڑ کی طرح آوارہ پھر رہا ہوں۔ اپنے خادم کو تلاش کر، کیونکہ مَیں تیرے احکام نہیں بھولتا۔ J{wمیری جان زندہ رہے تاکہ تیری ستائش کر سکے۔ تیرے آئین میری مدد کریں۔ I wاے رب، مَیں تیری نجات کا آرزومند ہوں، تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔H5wتیرا ہاتھ میری مدد کرنے کے لئے تیار رہے، کیونکہ مَیں نے تیرے احکام اختیار کئے ہیں۔ z UztUcyوہ تیرا پاؤں پھسلنے نہیں دے گا۔ تیرا محافظ اونگھنے کا نہیں۔aT=yمیری مدد رب سے آتی ہے، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔!S ?yزیارت کا گیت۔ مَیں اپنی آنکھوں کو پہاڑوں کی طرف اُٹھاتا ہوں۔ میری مدد کہاں سے آتی ہے؟Rxمَیں تو امن چاہتا ہوں، لیکن جب کبھی بولوں تو وہ جنگ کرنے پر تُلے ہوتے ہیں۔ zQoxاِتنی دیر سے امن کے دشمنوں کے پاس رہنے سے میری جان تنگ آ گئی ہے۔ Pxمجھ پر افسوس! مجھے اجنبی ملک مَسک میں، قیدار کے خیموں کے پاس رہنا پڑتا ہے۔bO?xوہ تجھ پر جنگجو کے تیز تیر اور دہکتے کوئلے برسائے! 85[M8(]Kzیروشلم شہر یوں بنایا گیا ہے کہ اُس کے تمام حصے مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔f\Gzاے یروشلم، اب ہمارے پاؤں تیرے دروازوں میں کھڑے ہیں۔$[ Ezداؤد کا زیارت کا گیت۔ مَیں اُن سے خوش ہوا جنہوں نے مجھ سے کہا، ”آؤ، ہم رب کے گھر چلیں۔“cZAyرب اب سے ابد تک تیرے آنے جانے کی پہرہ داری کرے گا۔ rY_yرب تجھے ہر نقصان سے بچائے گا، وہ تیری جان کو محفوظ رکھے گا۔bX?yنہ دن کو سورج، نہ رات کو چاند تجھے ضرر پہنچائے گا۔aW=yرب تیرا محافظ ہے، رب تیرے دہنے ہاتھ پر سائبان ہے۔dVCyیقیناً اسرائیل کا محافظ نہ اونگھتا ہے، نہ سوتا ہے۔ ;%{cqz رب ہمارے خدا کے گھر کی خاطر مَیں تیری خوش حالی کا طالب رہوں گا۔ b zاپنے بھائیوں اور ہم سایوں کی خاطر مَیں کہوں گا، ”تیرے اندر سلامتی ہو!“caAzتیری فصیل میں سلامتی اور تیرے محلوں میں سکون ہو۔“`zیروشلم کے لئے سلامتی مانگو! ”جو تجھ سے پیار کرتے ہیں وہ سکون پائیں۔_-zکیونکہ وہاں تخت عدالت کرنے کے لئے لگائے گئے ہیں، وہاں داؤد کے گھرانے کے تخت ہیں۔A^}zوہاں قبیلے، ہاں رب کے قبیلے حاضر ہوتے ہیں تاکہ رب کے نام کی ستائش کریں جس طرح اسرائیل کو فرمایا گیا ہے۔ KTMKRh !|اسرائیل کہے، ”اگر رب ہمارے ساتھ نہ ہوتا،)gM{سکون سے زندگی گزارنے والوں کی لعن طعن اور مغروروں کی تحقیر سے ہماری جان دوبھر ہو گئی ہے۔ *fO{اے رب، ہم پر مہربانی کر، ہم پر مہربانی کر! کیونکہ ہم حد سے زیادہ حقارت کا نشانہ بن گئے ہیں۔Ue%{جس طرح غلام کی آنکھیں اپنے مالک کے ہاتھ کی طرف اور لونڈی کی آنکھیں اپنی مالکن کے ہاتھ کی طرف لگی رہتی ہیں اُسی طرح ہماری آنکھیں رب اپنے خدا پر لگی رہتی ہیں، جب تک وہ ہم پر مہربانی نہ کرے۔(d M{زیارت کا گیت۔ مَیں اپنی آنکھوں کو تیری طرف اُٹھاتا ہوں، تیری طرف جو آسمان پر تخت نشین ہے۔ K HKo|رب کا نام، ہاں اُسی کا نام ہمارا سہارا ہے جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔ Wn)|ہماری جان اُس چڑیا کی طرح چھوٹ گئی ہے جو چڑی مار کے پھندے سے نکل کر اُڑ گئی ہے۔ پھندا ٹوٹ گیا ہے، اور ہم بچ نکلے ہیں۔m%|رب کی حمد ہو جس نے ہمیں اُن کے دانتوں کے حوالے نہ کیا، ورنہ وہ ہمیں پھاڑ کھاتے۔Il |اور متلاطم پانی ہم پر سے گزر جاتا۔“ska|پھر سیلاب ہم پر ٹوٹ پڑتا، ندی کا تیز دھارا ہم پر غالب آ جاتاj|اور آگ بگولا ہو کر اپنا پورا غصہ ہم پر اُتارا، تو وہ ہمیں زندہ ہڑپ کر لیتے۔ai=|اگر رب ہمارے ساتھ نہ ہوتا جب لوگ ہمارے خلاف اُٹھے 3,j3Pt}لیکن جو بھٹک کر اپنی ٹیڑھی میڑھی راہوں پر چلتے ہیں اُنہیں رب بدکاروں کے ساتھ خارج کر دے۔ اسرائیل کی سلامتی ہو! sy}اے رب، اُن سے بھلائی کر جو نیک ہیں، جو دل سے سیدھی راہ پر چلتے ہیں۔]r5}کیونکہ بےدینوں کی راست بازوں کی میراث پر حکومت نہیں رہے گی، ایسا نہ ہو کہ راست باز بدکاری کرنے کی آزمائش میں پڑ جائیں۔>qw}جس طرح یروشلم پہاڑوں سے گھرا رہتا ہے اُسی طرح رب اپنی قوم کو اب سے ابد تک چاروں طرف سے محفوظ رکھتا ہے۔Pp }زیارت کا گیت۔ جو رب پر بھروسا رکھتے ہیں وہ کوہِ صیون کی مانند ہیں جو کبھی نہیں ڈگمگاتا بلکہ ابد تک قائم رہتا ہے۔ vbFv|ys~جو آنسو بہا بہا کر بیج بوئیں وہ خوشی کے نعرے لگا کر فصل کاٹیں گے۔Ix ~اے رب، ہمیں بحال کر۔ جس طرح موسمِ برسات میں دشتِ نجب کے خشک نالے پانی سے بھر جاتے ہیں اُسی طرح ہمیں بحال کر۔w{~رب نے واقعی ہمارے لئے زبردست کام کیا ہے۔ ہم کتنے خوش تھے، کتنے خوش!v+~تب ہمارا منہ ہنسی خوشی سے بھر گیا، اور ہماری زبان شادمانی کے نعرے لگانے سے رُک نہ سکی۔ تب دیگر قوموں میں کہا گیا، ”رب نے اُن کے لئے زبردست کام کیا ہے۔“u 1~زیارت کا گیت۔ جب رب نے صیون کو بحال کیا تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہم خواب دیکھ رہے ہیں۔ &F|یہ بھی عبث ہے کہ تم صبح سویرے اُٹھو اور پورے دن محنت مشقت کے ساتھ روزی کما کر رات گئے سو جاؤ۔ کیونکہ جو اللہ کو پیارے ہیں اُنہیں وہ اُن کی ضروریات اُن کے سوتے میں پوری کر دیتا ہے۔'{ Kسلیمان کا زیارت کا گیت۔ اگر رب گھر کو تعمیر نہ کرے تو اُس پر کام کرنے والوں کی محنت عبث ہے۔ اگر رب شہر کی پہرہ داری نہ کرے تو انسانی پہرے داروں کی نگہبانی عبث ہے۔Vz'~وہ روتے ہوئے بیج بونے کے لئے نکلیں گے، لیکن جب فصل پک جائے تو خوشی کے نعرے لگا کر پُولے اُٹھائے اپنے گھر لوٹیں گے۔ Y یقیناً تُو اپنی محنت کا پھل کھائے گا۔ مبارک ہو، کیونکہ تُو کامیاب ہو گا۔ زیارت کا گیت۔ مبارک ہے وہ جو رب کا خوف مان کر اُس کی راہوں پر چلتا ہے۔Qمبارک ہے وہ آدمی جس کا ترکش اُن سے بھرا ہے۔ جب وہ شہر کے دروازے پر اپنے دشمنوں سے جھگڑے گا تو شرمندہ نہیں ہو گا۔ y~mجوانی میں پیدا ہوئے بیٹے سورمے کے ہاتھ میں تیروں کی مانند ہیں۔#}Aبچے ایسی نعمت ہیں جو ہم میراث میں رب سے پاتے ہیں، اولاد ایک اجر ہے جو وہی ہمیں دیتا ہے۔ MM5میری جوانی سے ہی وہ بار بار مجھ پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ توبھی وہ مجھ پر غالب نہ آئے۔“( Kزیارت کا گیت۔ اسرائیل کہے، ”میری جوانی سے ہی میرے دشمن بار بار مجھ پر حملہ آور ہوئے ہیں۔xiکہ تُو اپنے پوتوں نواسوں کو بھی دیکھے۔ اسرائیل کی سلامتی ہو! رب تجھے کوہِ صیون سے برکت دے۔ وہ کرے کہ تُو جیتے جی یروشلم کی خوش حالی دیکھے،_7جو آدمی رب کا خوف مانے اُسے ایسی ہی برکت ملے گی۔mSگھر میں تیری بیوی انگور کی پھل دار بیل کی مانند ہو گی، اور تیرے بیٹے میز کے ارد گرد بیٹھ کر زیتون کی تازہ شاخوں کی مانند ہوں گے۔ B$/:EPZep{%1=IUamx*6BNZfr~  |> |>  }> }> }> }> }>  ~> ~ |> |>  }> }> }> }> }>  ~> ~> ~> ~> ~> ~>  > > > > >  ? ? ? ? ? ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ? ? ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ?!  ?"  ?#  ?$  ?% ?& ?' ?( ?) ?*  ?+ ?, ?-  ?. ?/ q]Uq* Mجو بھی اُن سے گزرے وہ نہ کہے، ”رب تمہیں برکت دے۔“ ہم رب کا نام لے کر تمہیں برکت دیتے ہیں!  )اور جس سے نہ فصل کاٹنے والا اپنا ہاتھ، نہ پُولے باندھنے والا اپنا بازو بھر سکے۔ %وہ چھتوں پر کی گھاس کی مانند ہوں جو صحیح طور پر بڑھنے سے پہلے ہی مُرجھا جاتی ہے  اللہ کرے کہ جتنے بھی صیون سے نفرت رکھیں وہ شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ جائیں۔x iرب راست ہے۔ اُس نے بےدینوں کے رسّے کاٹ کر مجھے آزاد کر دیا ہے۔7ہل چلانے والوں نے میری پیٹھ پر ہل چلا کر اُس پر اپنی لمبی لمبی ریگھاریاں بنائی ہیں۔ l! hlxiپہرے دار جس شدت سے پَو پھٹنے کے انتظار میں رہتے ہیں، میری جان اُس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ، ہاں زیادہ شدت کے ساتھ رب کی منتظر رہتی ہے۔4aمَیں رب کے انتظار میں ہوں، میری جان شدت سے انتظار کرتی ہے۔ مَیں اُس کے کلام سے اُمید رکھتا ہوں۔mSلیکن تجھ سے معافی حاصل ہوتی ہے تاکہ تیرا خوف مانا جائے۔ اے رب، اگر تُو ہمارے گناہوں کا حساب کرے تو کون قائم رہے گا؟ کوئی بھی نہیں!nUاے رب، میری آواز سن! کان لگا کر میری التجاؤں پر دھیان دے!k Qزیارت کا گیت۔ اے رب، مَیں تجھے گہرائیوں سے پکارتا ہوں۔ \^\[/اے اسرائیل، اب سے ابد تک رب کے انتظار میں رہ! یقیناً مَیں نے اپنی جان کو راحت اور سکون دلایا ہے، اور اب وہ ماں کی گود میں بیٹھے چھوٹے بچے کی مانند ہے، ہاں میری جان چھوٹے بچے کی مانند ہے۔& Gزیارت کا گیت۔ اے رب، نہ میرا دل گھمنڈی ہے، نہ میری آنکھیں مغرور ہیں۔ جو باتیں اِتنی عظیم اور حیران کن ہیں کہ مَیں اُن سے نپٹ نہیں سکتا اُنہیں مَیں نہیں چھیڑتا۔pYوہ اسرائیل کے تمام گناہوں کا فدیہ دے کر اُسے نجات دے گا۔ 5اے اسرائیل، رب کی راہ دیکھتا رہ! کیونکہ رب کے پاس شفقت اور فدیہ کا ٹھوس بندوبست ہے۔ <xyp<!آؤ، ہم اُس کی سکونت گاہ میں داخل ہو کر اُس کے پاؤں کی چوکی کے سامنے سجدہ کریں۔)ہم نے اِفراتہ میں عہد کے صندوق کی خبر سنی اور یعر کے کھلے میدان میں اُسے پا لیا۔~uجب تک رب کے لئے مقام اور یعقوب کے سورمے کے لئے سکونت گاہ نہ ملے۔“نہ مَیں اپنی آنکھوں کو سونے دوں گا، نہ اپنے پپوٹوں کو اونگھنے دوں گاmS”نہ مَیں اپنے گھر میں داخل ہوں گا، نہ بستر پر لیٹوں گا، اُس نے قَسم کھا کر رب سے وعدہ کیا اور یعقوب کے قوی خدا کے حضور مَنت مانی، زیارت کا گیت۔ اے رب، داؤد کا خیال رکھ، اُس کی تمام مصیبتوں کو یاد کر۔ <\5I< $  اگر تیرے بیٹے میرے عہد سے وفادار رہیں اور اُن احکام کی پیروی کریں جو مَیں اُنہیں سکھاؤں گا تو اُن کے بیٹے بھی ہمیشہ تک تیرے تخت پر بیٹھیں گے۔“h#I رب نے قَسم کھا کر داؤد سے وعدہ کیا ہے، اور وہ اُس سے کبھی نہیں پھرے گا، ”مَیں تیری اولاد میں سے ایک کو تیرے تخت پر بٹھاؤں گا۔" اے اللہ، اپنے خادم داؤد کی خاطر اپنے مسح کئے ہوئے بندے کے چہرے کو رد نہ کر۔! تیرے امام راستی سے ملبّس ہو جائیں، اور تیرے ایمان دار خوشی کے نعرے لگائیں۔ 9اے رب، اُٹھ کر اپنی آرام گاہ کے پاس آ، تُو اور عہد کا صندوق جو تیری قدرت کا اظہار ہے۔ jJC)یہاں مَیں داؤد کی طاقت بڑھا دوں گا، اور یہاں مَیں نے اپنے مسح کئے ہوئے خادم کے لئے چراغ تیار کر رکھا ہے۔6(eمَیں اُس کے اماموں کو نجات سے ملبّس کروں گا، اور اُس کے ایمان دار خوشی سے زوردار نعرے لگائیں گے۔'!مَیں صیون کی خوراک کو کثرت کی برکت دے کر اُس کے غریبوں کو روٹی سے سیر کروں گا۔J& اُس نے فرمایا، ”یہ ہمیشہ تک میری آرام گاہ ہے، اور یہاں مَیں سکونت کروں گا، کیونکہ مَیں اِس کا آرزومند ہوں۔% کیونکہ رب نے کوہِ صیون کو چن لیا ہے، اور وہی وہاں سکونت کرنے کا آرزومند تھا۔ [). Mزیارت کا گیت۔ آؤ، رب کی ستائش کرو، اے رب کے تمام خادمو جو رات کے وقت رب کے گھر میں کھڑے ہو۔t-aیہ اُس اوس کی مانند ہے جو کوہِ حرمون سے صیون کے پہاڑوں پر پڑتی ہے۔ کیونکہ رب نے فرمایا ہے، ”وہیں ہمیشہ تک برکت اور زندگی ملے گی۔“ j,Mیہ اُس نفیس تیل کی مانند ہے جو ہارون امام کے سر پر اُنڈیلا جاتا ہے اور ٹپک ٹپک کر اُس کی داڑھی اور لباس کے گریبان پر آ جاتا ہے۔-+ Uداؤد کا زبور۔ زیارت کا گیت۔ جب بھائی مل کر اور یگانگت سے رہتے ہیں یہ کتنا اچھا اور پیارا ہے۔!*;مَیں اُس کے دشمنوں کو شرمندگی سے ملبّس کروں گا جبکہ اُس کے سر کا تاج چمکتا رہے گا۔“ Z+0Z#5?ہاں، مَیں نے جان لیا ہے کہ رب عظیم ہے، کہ ہمارا رب دیگر تمام معبودوں سے زیادہ عظیم ہے۔ 4کیونکہ رب نے یعقوب کو اپنے لئے چن لیا، اسرائیل کو اپنی ملکیت بنا لیا ہے۔31رب کی حمد کرو، کیونکہ رب بھلا ہے۔ اُس کے نام کی مدح سرائی کرو، کیونکہ وہ پیارا ہے۔g2Gجو رب کے گھر میں، ہمارے خدا کی بارگاہوں میں کھڑے ہو۔ 1 رب کی حمد ہو! رب کے نام کی ستائش کرو! اُس کی تمجید کرو، اے رب کے تمام خادمو،u0cرب صیون سے تجھے برکت دے، آسمان و زمین کا خالق تجھے برکت دے۔ Z/-مقدِس میں اپنے ہاتھ اُٹھا کر رب کی تمجید کرو!l__ekqw} %+17=CIOU[agmsy !'-39?EKQX_fmt{5%'&.'5(<*B+H,N-U.\/b0g1l2q3w4}%'&.'5(<*B+H,N-U.\/b0g1l2q3w4}57 89:;"<)=/>5?;@AAGCNDUE]FcGhHoItJyK|LMO PQRS$T)U.V5X:Y@ZF[L]Q^W_\`bahbmcrdxe}fgh jklmn"o&p*q.r3s9t>uCvIwOyUz[{`|g}m~sy "&*/6<CIPV\bhnsy~ @q$: اُس نے متعدد قوموں کو شکست دے کر طاقت ور بادشاہوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔T9! اے مصر، اُس نے اپنے الٰہی نشان اور معجزات تیرے درمیان ہی کئے۔ تب فرعون اور اُس کے تمام ملازم اُن کا نشانہ بن گئے۔r8]مصر میں اُس نے انسان و حیوان کے تمام پہلوٹھوں کو مار ڈالا۔K7وہ زمین کی انتہا سے بادل چڑھنے دیتا اور بجلی بارش کے لئے پیدا کرتا ہے، وہ ہَوا اپنے گوداموں سے نکال لاتا ہے۔<6qرب جو جی چاہے کرتا ہے، خواہ آسمان پر ہو یا زمین پر، خواہ سمندروں میں ہو یا گہرائیوں میں کہیں بھی ہو۔ ]:7@'اُن کے منہ ہیں لیکن وہ بول نہیں سکتے، اُن کی آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے۔?دیگر قوموں کے بُت سونے چاندی کے ہیں، انسان کے ہاتھ نے اُنہیں بنایا۔y>kکیونکہ رب اپنی قوم کا انصاف کر کے اپنے خادموں پر ترس کھائے گا۔{=o اے رب، تیرا نام ابدی ہے۔ اے رب، تجھے پشت در پشت یاد کیا جائے گا۔!<; اُس نے اُن کا ملک اسرائیل کو دے کر فرمایا کہ آئندہ یہ میری قوم کی موروثی ملکیت ہو گا۔;7 اموریوں کا بادشاہ سیحون، بسن کا بادشاہ عوج اور ملکِ کنعان کی تمام سلطنتیں نہ رہیں۔ zv zpF [رب کا شکر کرو، کیونکہ وہ بھلا ہے، اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔E!صیون سے رب کی حمد ہو۔ اُس کی حمد ہو جو یروشلم میں سکونت کرتا ہے۔ رب کی حمد ہو! D'اے لاوی کے گھرانے، رب کی حمد و ثنا کر۔ اے رب کا خوف ماننے والو، رب کی ستائش کرو۔ Cاے اسرائیل کے گھرانے، رب کی ستائش کر۔ اے ہارون کے گھرانے، رب کی تمجید کر۔AB{جو بُت بناتے ہیں وہ اُن کی مانند ہو جائیں، جو اُن پر بھروسا رکھتے ہیں وہ اُن جیسے بےحس و حرکت ہو جائیں۔Aاُن کے کان ہیں لیکن وہ سن نہیں سکتے، اُن کے منہ میں سانس ہی نہیں ہوتی۔ (ZLجس نے آسمان کی روشنیوں کو خلق کیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔&KEجس نے زمین کو مضبوطی سے پانی کے اوپر لگا دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔Jجس نے حکمت کے ساتھ آسمان بنایا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔Iجو اکیلا ہی عظیم معجزے کرتا ہے اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔kHOمالکوں کے مالک کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔gGGخداؤں کے خدا کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔ @'3?KWco{ ".:FR^jv*6AMYeq}   ?1 ?2 ?3 ?4 ?5 ?6 ?7 ?8  ?1 ?2 ?3 ?4 ?5 ?6 ?7 ?8  ?9  ?:  ?;  ?<  ?= ?> ?? ?@ ?A ?B ?C ?D ?E  ?F ?G ?H ?I ?J ?K ?L ?M  ?N  ?O  ?P  ?Q  ?R ?S ?T ?U ?V ?W ?X ?Y ?Z ?[ ?\ ?] ?^ ?_  ?` ?a ?b ?c ?d ?e ?f ?g  ?h  ?i ?j ?k ?l ?m ?n ?o ?p QT&QE جس نے اُس وقت بڑی طاقت اور قدرت کا اظہار کیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔P/ جو اسرائیل کو مصریوں میں سے نکال لایا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔O# جس نے مصر میں پہلوٹھوں کو مار ڈالا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔AN{ جس نے چاند اور ستاروں کو رات کے وقت حکومت کرنے کے لئے بنایا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔+MOجس نے سورج کو دن کے وقت حکومت کرنے کے لئے بنایا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔ VCW#جس نے طاقت ور بادشاہوں کو مار ڈالا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔ Vجس نے بڑے بادشاہوں کو شکست دی اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔U1جس نے ریگستان میں اپنی قوم کی قیادت کی اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔ETجس نے فرعون اور اُس کی فوج کو بحرِ قُلزم میں بہا کر غرق کر دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔&SEجس نے اسرائیل کو اُس کے بیچ میں سے گزرنے دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔&RE جس نے بحرِ قُلزم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔ HC'\Gجس نے ہمارا خیال کیا جب ہم خاک میں دب گئے تھے اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔=[sجس نے اُن کا ملک اپنے خادم اسرائیل کی موروثی ملکیت بنایا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔!Z;جس نے اُن کا ملک اسرائیل کو میراث میں دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔Y/جس نے بسن کے بادشاہ عوج کو ہلاک کر دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔4Xaجس نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کو موت کے گھاٹ اُتارا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔ B5I-bSکیونکہ جنہوں نے ہمیں گرفتار کیا تھا اُنہوں نے ہمیں وہاں گیت گانے کو کہا، اور جو ہمارا مذاق اُڑاتے ہیں اُنہوں نے خوشی کا مطالبہ کیا، ”ہمیں صیون کا کوئی گیت سناؤ!“iaKہم نے وہاں کے سفیدہ کے درختوں سے اپنے سرود لٹکا دیئے،}` uجب صیون کی یاد آئی تو ہم بابل کی نہروں کے کنارے ہی بیٹھ کر رو پڑے۔i_Kآسمان کے خدا کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔ ^3جو تمام جانداروں کو خوراک مہیا کرتا ہے اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔:]mجس نے ہمیں اُن کے قبضے سے چھڑایا جو ہم پر ظلم کر رہے تھے اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔ $HNdhA مبارک ہے وہ جو تیرے بچوں کو پکڑ کر پتھر پر پٹخ دے۔ Egاے بابل بیٹی جو تباہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے، مبارک ہے وہ جو تجھے اُس کا بدلہ دے جو تُو نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔vfeاے رب، وہ کچھ یاد کر جو ادومیوں نے اُس دن کیا جب یروشلم دشمن کے قبضے میں آیا۔ اُس وقت وہ بولے، ”اُسے ڈھا دو! بنیادوں تک اُسے گرا دو!“Xe)اگر مَیں تجھے یاد نہ کروں اور یروشلم کو اپنی عظیم ترین خوشی سے زیادہ قیمتی نہ سمجھوں تو میری زبان تالو سے چپک جائے۔|dqاے یروشلم، اگر مَیں تجھے بھول جاؤں تو میرا دہنا ہاتھ سوکھ جائے۔Zc-لیکن ہم اجنبی ملک میں کس طرح رب کا گیت گائیں؟ Gumcوہ رب کی راہوں کی مدح سرائی کریں، کیونکہ رب کا جلال عظیم ہے۔~luاے رب، دنیا کے تمام حکمران تیرے منہ کے فرمان سن کر تیرا شکر کریں۔k}جس دن مَیں نے تجھے پکارا تُو نے میری سن کر میری جان کو بڑی تقویت دی۔>juمَیں تیری مُقدّس سکونت گاہ کی طرف رُخ کر کے سجدہ کروں گا، تیری مہربانی اور وفاداری کے باعث تیرا شکر کروں گا۔ کیونکہ تُو نے اپنے نام اور کلام کو تمام چیزوں پر سرفراز کیا ہے۔5i eداؤد کا زبور۔ اے رب، مَیں پورے دل سے تیری ستائش کروں گا، معبودوں کے سامنے ہی تیری تمجید کروں گا۔ ZPQZ rمیرا اُٹھنا بیٹھنا تجھے معلوم ہے، اور تُو دُور سے ہی میری سوچ سمجھتا ہے۔)q Mداؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، تُو میرا معائنہ کرتا اور مجھے خوب جانتا ہے۔6peرب میری خاطر بدلہ لے گا۔ اے رب، تیری شفقت ابدی ہے۔ اُنہیں نہ چھوڑ جن کو تیرے ہاتھوں نے بنایا ہے! {ooجب کبھی مصیبت میرا دامن نہیں چھوڑتی تو تُو میری جان کو تازہ دم کرتا ہے، تُو اپنا دہنا ہاتھ بڑھا کر مجھے میرے دشمنوں کے طیش سے بچاتا ہے۔,nQکیونکہ گو رب بلندیوں پر ہے وہ پست حال کا خیال کرتا اور مغروروں کو دُور سے ہی پہچان لیتا ہے۔ _R'#_@xyاگر آسمان پر چڑھ جاؤں تو تُو وہاں موجود ہے، اگر اُتر کر اپنا بستر پاتال میں بچھاؤں تو تُو وہاں بھی ہے۔}wsمَیں تیرے روح سے کہاں بھاگ جاؤں، تیرے چہرے سے کہاں فرار ہو جاؤں؟vyاِس کا علم اِتنا حیران کن اور عظیم ہے کہ مَیں اِسے سمجھ نہیں سکتا۔uتُو مجھے چاروں طرف سے گھیرے رکھتا ہے، تیرا ہاتھ میرے اوپر ہی رہتا ہے۔t3کیونکہ جب بھی کوئی بات میری زبان پر آئے تُو اے رب پہلے ہی اُس کا پورا علم رکھتا ہے۔*sMتُو مجھے جانچتا ہے، خواہ مَیں راستے میں ہوں یا آرام کروں۔ تُو میری تمام راہوں سے واقف ہے۔ w"} کیونکہ تُو نے میرا باطن بنایا ہے، تُو نے مجھے ماں کے پیٹ میں تشکیل دیا ہے۔]|3 تیرے سامنے تاریکی بھی تاریک نہیں ہوتی، تیرے حضور رات دن کی طرح روشن ہوتی ہے بلکہ روشنی اور اندھیرا ایک جیسے ہوتے ہیں۔P{ اگر مَیں کہوں، ”تاریکی مجھے چھپا دے، اور میرے ارد گرد کی روشنی رات میں بدل جائے،“ توبھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔z1 وہاں بھی تیرا ہاتھ میری قیادت کرے گا، وہاں بھی تیرا دہنا ہاتھ مجھے تھامے رکھے گا۔y گو مَیں طلوعِ صبح کے پَروں پر اُڑ کر سمندر کی دُورترین حد پر جا بسوں، xEx/اے اللہ، تیرے خیالات سمجھنا میرے لئے کتنا مشکل ہے! اُن کی کُل تعداد کتنی عظیم ہے۔*Mتیری آنکھوں نے مجھے اُس وقت دیکھا جب میرے جسم کی شکل ابھی نامکمل تھی۔ جتنے بھی دن میرے لئے مقرر تھے وہ سب تیری کتاب میں اُس وقت درج تھے، جب ایک بھی نہیں گزرا تھا۔Kمیرا ڈھانچا تجھ سے چھپا نہیں تھا جب مجھے پوشیدگی میں بنایا گیا، جب مجھے زمین کی گہرائیوں میں تشکیل دیا گیا۔h~Iمَیں تیرا شکر کرتا ہوں کہ مجھے جلالی اور معجزانہ طور سے بنایا گیا ہے۔ تیرے کام حیرت انگیز ہیں، اور میری جان یہ خوب جانتی ہے۔ FJHrF,Qاے اللہ، میرا معائنہ کر کے میرے دل کا حال جان لے، مجھے جانچ کر میرے بےچین خیالات کو جان لے۔ykیقیناً مَیں اُن سے سخت نفرت کرتا ہوں۔ وہ میرے دشمن بن گئے ہیں۔Rاے رب، کیا مَیں اُن سے نفرت نہ کروں جو تجھ سے نفرت کرتے ہیں؟ کیا مَیں اُن سے گھن نہ کھاؤں جو تیرے خلاف اُٹھے ہیں؟veوہ فریب سے تیرا ذکر کرتے ہیں، ہاں تیرے مخالف جھوٹ بولتے ہیں۔اے اللہ، کاش تُو بےدین کو مار ڈالے، کہ خوں خوار مجھ سے دُور ہو جائیں۔2]اگر مَیں اُنہیں گن سکتا تو وہ ریت سے زیادہ ہوتے۔ مَیں جاگ اُٹھتا ہوں تو تیرے ہی ساتھ ہوتا ہوں۔ el Qاے رب، مجھے بےدین کے ہاتھوں سے محفوظ رکھ، ظالم سے مجھے بچائے رکھ، اُن سے جو میرے پاؤں کو ٹھوکر کھلانے کے منصوبے باندھ رہے ہیں۔ 1اُن کی زبان سانپ کی زبان جیسی تیز ہے، اور اُن کے ہونٹوں میں سانپ کا زہر ہے۔ (سِلاہ)k Oدل میں وہ بُرے منصوبے باندھتے، روزانہ جنگ چھیڑتے ہیں۔+  Qداؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، مجھے شریروں سے چھڑا اور ظالموں سے محفوظ رکھ۔{oمَیں نقصان دہ راہ پر تو نہیں چل رہا؟ ابدی راہ پر میری قیادت کر! @(4@LXdp| #/;GS_kw*5AMYeq}  ? ?r ?s ?t ?u ?v ?w ?x  ? ?r ?s ?t ?u ?v ?w ?x  ?y  ?z  ?{  ?|  ?} ?~ ? ? ? ? ? ? ? ? ? ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ?  ?  ?  ?  ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ?  ?  ? ? ? ? ? ? ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ?  ?  ? AzA<q اُنہوں نے مجھے گھیر لیا ہے، لیکن جو آفت اُن کے ہونٹ مجھ پر لانا چاہتے ہیں وہ اُن کے اپنے سروں پر آئے!Lاے رب، بےدین کا لالچ پورا نہ کر۔ اُس کا ارادہ کامیاب ہونے نہ دے، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ سرفراز ہو جائیں۔ (سِلاہ)%Cاے رب قادرِ مطلق، اے میری قوی نجات! جنگ کے دن تُو اپنی ڈھال سے میرے سر کی حفاظت کرتا ہے۔مَیں رب سے کہتا ہوں، ”تُو ہی میرا خدا ہے، میری التجاؤں کی آواز سن!“{ oمغروروں نے میرے راستے میں پھندا اور رسّے چھپائے ہیں، اُنہوں نے جال بچھا کر راستے کے کنارے کنارے مجھے پکڑنے کے پھندے لگائے ہیں۔ (سِلاہ) r>Zrd Cداؤد کا زبور۔ اے رب، مَیں تجھے پکار رہا ہوں، میرے پاس آنے میں جلدی کر! جب مَیں تجھے آواز دیتا ہوں تو میری فریاد پر دھیان دے! یقیناً راست باز تیرے نام کی ستائش کریں گے، اور دیانت دار تیرے حضور بسیں گے۔ %C مَیں جانتا ہوں کہ رب عدالت میں مصیبت زدہ کا دفاع کرے گا۔ وہی ضرورت مند کا انصاف کرے گا۔ 9 تہمت لگانے والا ملک میں قائم نہ رہے، اور بُرائی ظالم کو مار مار کر اُس کا پیچھا کرے۔>u دہکتے کوئلے اُن پر برسیں، اور اُنہیں آگ میں، اتھاہ گڑھوں میں پھینکا جائے تاکہ آئندہ کبھی نہ اُٹھیں۔ 4!4Rراست باز شفقت سے مجھے مارے اور مجھے تنبیہ کرے۔ میرا سر اِس سے انکار نہیں کرے گا، کیونکہ یہ اُس کے لئے شفابخش تیل کی مانند ہو گا۔ لیکن مَیں ہر وقت شریروں کی حرکتوں کے خلاف دعا کرتا ہوں۔میرے دل کو غلط بات کی طرف مائل نہ ہونے دے، ایسا نہ ہو کہ مَیں بدکاروں کے ساتھ مل کر بُرے کام میں ملوث ہو جاؤں اور اُن کے لذیذ کھانوں میں شرکت کروں۔{اے رب، میرے منہ پر پہرہ بٹھا، میرے ہونٹوں کے دروازے کی نگہبانی کر۔[/میری دعا تیرے حضور بخور کی قربانی کی طرح قبول ہو، میرے تیری طرف اُٹھائے ہوئے ہاتھ شام کی غلہ کی نذر کی طرح منظور ہوں۔ 99E مجھے اُس جال سے محفوظ رکھ جو اُنہوں نے مجھے پکڑنے کے لئے بچھایا ہے۔ مجھے بدکاروں کے پھندوں سے بچائے رکھ۔I اے رب قادرِ مطلق، میری آنکھیں تجھ پر لگی رہتی ہیں، اور مَیں تجھ میں پناہ لیتا ہوں۔ مجھے موت کے حوالے نہ کر۔.Uاے اللہ، ہماری ہڈیاں اُس زمین کی مانند ہیں جس پر کسی نے اِتنے زور سے ہل چلایا ہے کہ ڈھیلے اُڑ کر اِدھر اُدھر بکھر گئے ہیں۔ ہماری ہڈیاں پاتال کے منہ تک بکھر گئی ہیں۔{oجب وہ گر کر اُس چٹان کے ہاتھ میں آئیں گے جو اُن کا منصف ہے تو وہ میری باتوں پر دھیان دیں گے، اور اُنہیں سمجھ آئے گی کہ وہ کتنی پیاری ہیں۔ omn"Uجب میری روح میرے اندر نڈھال ہو جاتی ہے تو تُو ہی میری راہ جانتا ہے۔ جس راستے میں مَیں چلتا ہوں اُس میں لوگوں نے پھندا چھپایا ہے۔&!Eمَیں اپنی آہ و زاری اُس کے سامنے اُنڈیل دیتا، اپنی تمام مصیبت اُس کے حضور پیش کرتا ہوں۔~  wحکمت کا گیت۔ دعا جو داؤد نے کی جب وہ غار میں تھا۔ مَیں مدد کے لئے چیختا چلّاتا رب کو پکارتا ہوں، مَیں زوردار آواز سے رب سے التجا کرتا ہوں۔  بےدین مل کر اُن کے اپنے جالوں میں اُلجھ جائیں جبکہ مَیں بچ کر آگے نکلوں۔ 40/4w&gمیری جان کو قیدخانے سے نکال لا تاکہ تیرے نام کی ستائش کروں۔ جب تُو میرے ساتھ بھلائی کرے گا تو راست باز میرے ارد گرد جمع ہو جائیں گے۔ }%sمیری چیخوں پر دھیان دے، کیونکہ مَیں بہت پست ہو گیا ہوں۔ مجھے اُن سے چھڑا جو میرا پیچھا کر رہے ہیں، کیونکہ مَیں اُن پر قابو نہیں پا سکتا۔Z$-اے رب، مَیں مدد کے لئے تجھے پکارتا ہوں۔ مَیں کہتا ہوں، ”تُو میری پناہ گاہ اور زندوں کے ملک میں میرا موروثی حصہ ہے۔“n#Uمَیں دہنی طرف نظر ڈال کر دیکھتا ہوں، لیکن کوئی نہیں ہے جو میرا خیال کرے۔ مَیں بچ نہیں سکتا، کوئی نہیں ہے جو میری جان کی فکر کرے۔ B*1میرے اندر میری روح نڈھال ہے، میرے اندر میرا دل دہشت کے مارے بےحس و حرکت ہو گیا ہے۔)}کیونکہ دشمن نے میری جان کا پیچھا کر کے اُسے خاک میں کچل دیا ہے۔ اُس نے مجھے اُن لوگوں کی طرح تاریکی میں بسا دیا ہے جو بڑے عرصے سے مُردہ ہیں۔0(Yاپنے خادم کو اپنی عدالت میں نہ لا، کیونکہ تیرے حضور کوئی بھی جاندار راست باز نہیں ٹھہر سکتا۔:' oداؤد کا زبور۔ اے رب، میری دعا سن، میری التجاؤں پر دھیان دے۔ اپنی وفاداری اور راستی کی خاطر میری سن! Ml]M .صبح کے وقت مجھے اپنی شفقت کی خبر سنا، کیونکہ مَیں تجھ پر بھروسا رکھتا ہوں۔ مجھے وہ راہ دکھا جس پر مجھے جانا ہے، کیونکہ مَیں تیرا ہی آرزومند ہوں۔ -اے رب، میری سننے میں جلدی کر۔ میری جان تو ختم ہونے والی ہے۔ اپنا چہرہ مجھ سے چھپائے نہ رکھ، ورنہ مَیں گڑھے میں اُترنے والوں کی مانند ہو جاؤں گا۔ ,9مَیں اپنے ہاتھ تیری طرف اُٹھاتا ہوں، میری جان خشک زمین کی طرح تیری پیاسی ہے۔ (سِلاہ)l+Qمَیں قدیم زمانے کے دن یاد کرتا اور تیرے کاموں پر غور و خوض کرتا ہوں۔ جو کچھ تیرے ہاتھوں نے کیا اُس میں مَیں محوِ خیال رہتا ہوں۔ syAsJ3 داؤد کا زبور۔ رب میری چٹان کی حمد ہو، جو میرے ہاتھوں کو لڑنے اور میری اُنگلیوں کو جنگ کرنے کی تربیت دیتا ہے۔I2  اپنی شفقت سے میرے دشمنوں کو ہلاک کر۔ جو بھی مجھے تنگ کر رہے ہیں اُنہیں تباہ کر! کیونکہ مَیں تیرا خادم ہوں۔ $1A اے رب، اپنے نام کی خاطر میری جان کو تازہ دم کر۔ اپنی راستی سے میری جان کو مصیبت سے بچا۔?0w مجھے اپنی مرضی پوری کرنا سکھا، کیونکہ تُو میرا خدا ہے۔ تیرا نیک روح ہموار زمین پر میری راہنمائی کرے۔/ اے رب، مجھے میرے دشمنوں سے چھڑا، کیونکہ مَیں تجھ میں پناہ لیتا ہوں۔ gO29]اپنا ہاتھ بلندیوں سے نیچے بڑھا اور مجھے چھڑا کر پانی کی گہرائیوں اور پردیسیوں کے ہاتھ سے بچا،8{بجلی بھیج کر اُنہیں منتشر کر، اپنے تیر چلا کر اُنہیں درہم برہم کر۔ 7 اے رب، اپنے آسمان کو جھکا کر اُتر آ! پہاڑوں کو چھو تاکہ وہ دھواں چھوڑیں۔6انسان دم بھر کا ہی ہے، اُس کے دن تیزی سے گزرنے والے سائے کی مانند ہیں۔51اے رب، انسان کون ہے کہ تُو اُس کا خیال رکھے؟ آدم زاد کون ہے کہ تُو اُس کا لحاظ کرے؟u4cوہ میری شفقت، میرا قلعہ، میرا نجات دہندہ اور میری ڈھال ہے۔ اُسی میں مَیں پناہ لیتا ہوں، اور وہی دیگر اقوام کو میرے تابع کر دیتا ہے۔ Ns>_ ہمارے بیٹے جوانی میں پھلنے پھولنے والے پودوں کی مانند ہوں، ہماری بیٹیاں محل کو سجانے کے لئے تراشے ہوئے کونے کے ستون کی مانند ہوں۔$=A مجھے چھڑا کر پردیسیوں کے ہاتھ سے بچا، جن کا منہ جھوٹ بولتا اور دہنا ہاتھ فریب دیتا ہے۔<' کیونکہ تُو بادشاہوں کو نجات دیتا اور اپنے خادم داؤد کو مہلک تلوار سے بچاتا ہے۔0;Y اے اللہ، مَیں تیری تمجید میں نیا گیت گاؤں گا، دس تاروں کا ستار بجا کر تیری مدح سرائی کروں گا۔`:9جن کا منہ جھوٹ بولتا اور دہنا ہاتھ فریب دیتا ہے۔ /+/Cwروزانہ مَیں تیری تمجید کروں گا، ہمیشہ تک تیرے نام کی حمد کروں گا۔aB =داؤد کا زبور۔ حمد و ثنا کا گیت۔ اے میرے خدا، مَیں تیری تعظیم کروں گا۔ اے بادشاہ، مَیں ہمیشہ تک تیرے نام کی ستائش کروں گا۔Aمبارک ہے وہ قوم جس پر یہ سب کچھ صادق آتا ہے، مبارک ہے وہ قوم جس کا خدا رب ہے! j@Mہمارے گائےبَیل موٹے تازے ہوں، اور نہ کوئی ضائع ہو جائے، نہ کسی کو نقصان پہنچے۔ ہمارے چوکوں میں آہ و زاری کی آواز سنائی نہ دے۔c?? ہمارے گودام بھرے رہیں اور ہر قسم کی خوراک مہیا کریں۔ ہماری بھیڑبکریاں ہمارے میدانوں میں ہزاروں بلکہ بےشمار بچے جنم دیں۔ t7iIKرب مہربان اور رحیم ہے۔ وہ تحمل اور شفقت سے بھرپور ہے۔H!وہ جوش سے تیری بڑی بھلائی کو سراہیں اور خوشی سے تیری راستی کی مدح سرائی کریں۔G%لوگ تیرے ہیبت ناک کاموں کی قدرت پیش کریں، اور مَیں بھی تیری عظمت بیان کروں گا۔Fمَیں تیرے شاندار جلال کی عظمت اور تیرے معجزوں میں محوِ خیال رہوں گا۔0EYایک پشت اگلی پشت کے سامنے وہ کچھ سراہے جو تُو نے کیا ہے، وہ دوسروں کو تیرے زبردست کام سنائیں۔D رب عظیم اور بڑی تعریف کے لائق ہے۔ اُس کی عظمت انسان کی سمجھ سے باہر ہے۔ |v7Oرب تمام گرنے والوں کا سہارا ہے۔ جو بھی دب جائے اُسے وہ اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔N- تیری بادشاہی کی کوئی انتہا نہیں، اور تیری سلطنت پشت در پشت ہمیشہ تک قائم رہے گی۔M3 تاکہ آدم زاد تیرے قوی کاموں اور تیری بادشاہی کی جلالی شان و شوکت سے آگاہ ہو جائیں۔tLa وہ تیری بادشاہی کے جلال پر فخر کریں اور تیری قدرت بیان کریں K اے رب، تیری تمام مخلوقات تیرا شکر کریں۔ تیرے ایمان دار تیری تمجید کریں۔Jy رب سب کے ساتھ بھلائی کرتا ہے، وہ اپنی تمام مخلوقات پر رحم کرتا ہے۔ @'3?KWco{ ".:FR^jv)4@LXdp|  ? ? ? ? ? ? ? ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ?  ?  ?  ?  ? ? ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ?  ?  ?  ?  ? ? ? ? ? ? ? ? ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ?  ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ?  ?  ?  ?  ? ? ? ? ? ? Rg%U5رب اُن سب کو محفوظ رکھتا ہے جو اُسے پیار کرتے ہیں، لیکن بےدینوں کو وہ ہلاک کرتا ہے۔,TQجو اُس کا خوف مانیں اُن کی آرزو وہ پوری کرتا ہے۔ وہ اُن کی فریادیں سن کر اُن کی مدد کرتا ہے۔Sرب اُن سب کے قریب ہے جو اُسے پکارتے ہیں، جو دیانت داری سے اُسے پکارتے ہیں۔zRmرب اپنی تمام راہوں میں راست اور اپنے تمام کاموں میں وفادار ہے۔kQOتُو اپنی مٹھی کھول کر ہر جاندار کی خواہش پوری کرتا ہے۔*PMسب کی آنکھیں تیرے انتظار میں رہتی ہیں، اور تُو ہر ایک کو وقت پر اُس کا کھانا مہیا کرتا ہے۔ WxF[!مبارک ہے وہ جس کا سہارا یعقوب کا خدا ہے، جو رب اپنے خدا کے انتظار میں رہتا ہے۔8Ziجب اُس کی روح نکل جائے تو وہ دوبارہ خاک میں مل جاتا ہے، اُسی وقت اُس کے منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں۔sY_شرفا پر بھروسا نہ رکھو، نہ آدم زاد پر جو نجات نہیں دے سکتا۔ X جیتے جی مَیں رب کی ستائش کروں گا، عمر بھر اپنے خدا کی مدح سرائی کروں گا۔NW رب کی حمد ہو! اے میری جان، رب کی حمد کر۔%VCمیرا منہ رب کی تعریف بیان کرے، تمام مخلوقات ہمیشہ تک اُس کے مُقدّس نام کی ستائش کریں۔ ]U]`/ رب ابد تک حکومت کرے گا۔ اے صیون، تیرا خدا پشت در پشت بادشاہ رہے گا۔ رب کی حمد ہو۔ q_[ رب پردیسیوں کی دیکھ بھال کرتا، یتیموں اور بیواؤں کو قائم رکھتا ہے۔ لیکن وہ بےدینوں کی راہ کو ٹیڑھا بنا کر کامیاب ہونے نہیں دیتا۔@^yرب اندھوں کی آنکھیں بحال کرتا اور خاک میں دبے ہوؤں کو اُٹھا کھڑا کرتا ہے، رب راست باز کو پیار کرتا ہے۔]1وہ مظلوموں کا انصاف کرتا اور بھوکوں کو روٹی کھلاتا ہے۔ رب قیدیوں کو آزاد کرتا ہے۔'\Gکیونکہ اُس نے آسمان و زمین، سمندر اور جو کچھ اُن میں ہے بنایا ہے۔ وہ ہمیشہ تک وفادار ہے۔ B@#|gqرب کی تمجید میں شکر کا گیت گاؤ، ہمارے خدا کی خوشی میں سرود بجاؤ۔fرب مصیبت زدوں کو اُٹھا کھڑا کرتا لیکن بدکاروں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔eہمارا رب عظیم ہے، اور اُس کی قدرت زبردست ہے۔ اُس کی حکمت کی کوئی انتہا نہیں۔dوہ ستاروں کی تعداد گن لیتا اور ہر ایک کا نام لے کر اُنہیں بُلاتا ہے۔tcaوہ دل شکستوں کو شفا دے کر اُن کے زخموں پر مرہم پٹی لگاتا ہے۔bرب یروشلم کو تعمیر کرتا اور اسرائیل کے منتشر جلاوطنوں کو جمع کرتا ہے۔:a oرب کی حمد ہو! اپنے خدا کی مدح سرائی کرنا کتنا بھلا ہے، اُس کی تمجید کرنا کتنا پیارا اور خوب صورت ہے۔ NJpN*mM کیونکہ اُس نے تیرے دروازوں کے کنڈے مضبوط کر کے تیرے درمیان بسنے والی اولاد کو برکت دی ہے۔ql[ اے یروشلم، رب کی مدح سرائی کر! اے صیون، اپنے خدا کی حمد کر!k5 رب اُن ہی سے خوش ہوتا ہے جو اُس کا خوف مانتے اور اُس کی شفقت کے انتظار میں رہتے ہیں۔j# نہ وہ گھوڑے کی طاقت سے لطف اندوز ہوتا، نہ آدمی کی مضبوط ٹانگوں سے خوش ہوتا ہے۔i/ وہ مویشی کو چارا اور کوّے کے بچوں کو وہ کچھ کھلاتا ہے جو وہ شور مچا کر مانگتے ہیں۔2h]کیونکہ وہ آسمان پر بادل چھانے دیتا، زمین کو بارش مہیا کرتا اور پہاڑوں پر گھاس پھوٹنے دیتا ہے۔ EdTEs#اُس نے یعقوب کو اپنا کلام سنایا، اسرائیل پر اپنے احکام اور آئین ظاہر کئے ہیں۔Erوہ ایک بار پھر اپنا فرمان بھیجتا ہے تو برف پگھل جاتی ہے۔ وہ اپنی ہَوا چلنے دیتا ہے تو پانی ٹپکنے لگتا ہے۔)qKوہ اپنے اولے کنکروں کی طرح زمین پر پھینک دیتا ہے۔ کون اُس کی شدید سردی برداشت کر سکتا ہے؟ pوہ اُون جیسی برف مہیا کرتا اور پالا راکھ کی طرح چاروں طرف بکھیر دیتا ہے۔~ouوہ اپنا فرمان زمین پر بھیجتا ہے تو اُس کا کلام تیزی سے پہنچتا ہے۔n)وہی تیرے علاقے میں امن اور سکون قائم رکھتا اور تجھے بہترین گندم سے سیر کرتا ہے۔ I0%yوہ رب کے نام کی ستائش کریں، کیونکہ اُس نے فرمایا تو وہ وجود میں آئے۔xxiاے بلند ترین آسمانو اور آسمان کے اوپر کے پانی، اُس کی حمد کرو! wاے سورج اور چاند، اُس کی حمد کرو! اے تمام چمک دار ستارو، اُس کی ستائش کرو!vاے اُس کے تمام فرشتو، اُس کی حمد کرو! اے اُس کے تمام لشکرو، اُس کی تعریف کرو!u {رب کی حمد ہو! آسمان سے رب کی ستائش کرو، بلندیوں پر اُس کی تمجید کرو!3t_ایسا سلوک اُس نے کسی اَور قوم سے نہیں کیا۔ دیگر اقوام تو تیرے احکام نہیں جانتیں۔ رب کی حمد ہو! 8tgL8kO اے نوجوانو اور کنواریو، بزرگو اور بچو، اُس کی حمد کرو!!; اے زمین کے بادشاہو اور تمام قومو، سردارو اور زمین کے تمام حکمرانو، اُس کی تمجید کرو! ~ اے جنگلی جانورو، مویشیو، رینگنے والی مخلوقات اور پرندو، اُس کی حمد کرو!}  اے پہاڑو اور پہاڑیو، پھل دار درختو اور تمام دیودارو، اُس کی تعریف کرو!|اے آگ، اولو، برف، دُھند اور اُس کے حکم پر چلنے والی آندھیو، اُس کی حمد کرو!w{gاے سمندر کے اژدہاؤ اور تمام گہرائیو، زمین سے رب کی تمجید کرو!z اُس نے ناقابلِ منسوخ فرمان جاری کر کے اُنہیں ہمیشہ کے لئے قائم کیا ہے۔ oE1o وہ ناچ کر اُس کے نام کی ستائش کریں، دف اور سرود سے اُس کی مدح سرائی کریں۔  اسرائیل اپنے خالق سے خوش ہو، صیون کے فرزند اپنے بادشاہ کی خوشی منائیں۔ 9رب کی حمد ہو! رب کی تمجید میں نیا گیت گاؤ، ایمان داروں کی جماعت میں اُس کی تعریف کرو۔اُس نے اپنی قوم کو سرفراز کر کے اپنے تمام ایمان داروں کی شہرت بڑھائی ہے، یعنی اسرائیلیوں کی شہرت، اُس قوم کی جو اُس کے قریب رہتی ہے۔ رب کی حمد ہو! 6e سب رب کے نام کی ستائش کریں، کیونکہ صرف اُسی کا نام عظیم ہے، اُس کی عظمت آسمان و زمین سے اعلیٰ ہے۔ DSDO  تاکہ اُنہیں وہ سزا دیں جس کا فیصلہ قلم بند ہو چکا ہے۔ یہ عزت اللہ کے تمام ایمان داروں کو حاصل ہے۔ رب کی حمد ہو!  وہ اُن کے بادشاہوں کو زنجیروں میں اور اُن کے شرفا کو بیڑیوں میں جکڑ لیں گےj Mتاکہ دیگر اقوام سے انتقام لیں اور اُمّتوں کو سزا دیں۔  اُن کے منہ میں اللہ کی حمد و ثنا اور اُن کے ہاتھوں میں دو دھاری تلوار ہو'Gایمان دار اِس شان و شوکت کے باعث خوشی منائیں، وہ اپنے بستروں پر شادمانی کے نعرے لگائیں۔(Iکیونکہ رب اپنی قوم سے خوش ہے۔ وہ مصیبت زدوں کو اپنی نجات کی شان و شوکت سے آراستہ کرتا ہے۔ E(4@LXdp| #/:FR^jv )3=GQ[eoy  ?  ? ? ? ? ? ? ?  ?  ? ? ? ? ? ? ? ?  ?  ?  ?  @  @ @  @ @ @ @ @ @ @ @  @  @ @ @ @ @ @ @  @  @  @  @  @  @  @   @   @   @   @   @  @  @  @!  @"  @#  @$  @%  @&  @'  @(  @)  @*  @+  @,  @-  @.  @/  @0   @1  !@2  @3 @4 @5 @6 @7 @8 \5d\fEجس میں بھی سانس ہے وہ رب کی ستائش کرے۔ رب کی حمد ہو! +جھانجھوں کی چھنکارتی آواز سے اُس کی حمد کرو، گونجتی جھانجھ سے اُس کی تعریف کرو۔)دف اور لوک ناچ سے اُس کی حمد کرو۔ تاردار ساز اور بانسری بجا کر اُس کی ستائش کرو۔نرسنگا پھونک کر اُس کی حمد کرو، ستار اور سرود بجا کر اُس کی تمجید کرو۔# ?اُس کے عظیم کاموں کے باعث اُس کی حمد کرو۔ اُس کی زبردست عظمت کے باعث اُس کی ستائش کرو۔F  رب کی حمد ہو! اللہ کے مقدِس میں اُس کی ستائش کرو۔ اُس کی قدرت کے بنے ہوئے آسمانی گنبد میں اُس کی تمجید کرو۔ _+  تب وہ اَمثال اور تمثیلیں، دانش مندوں کی باتیں اور اُن کے معمے سمجھ لے گا۔' Kجو دانا ہے وہ سن کر اپنے علم میں اضافہ کرے، جو سمجھ دار ہے وہ راہنمائی کرنے کا فن سیکھ لے۔ یہ اَمثال سادہ لوح کو ہوشیاری اور نوجوان کو علم اور تمیز سکھاتی ہیں۔ اور دانائی دلانے والی تربیت، راستی، انصاف اور دیانت داری اپنائے گا۔ +اِن سے تُو حکمت اور تربیت حاصل کرے گا، بصیرت کے الفاظ سمجھنے کے قابل ہو جائے گا،y qذیل میں اسرائیل کے بادشاہ سلیمان بن داؤد کی اَمثال قلم بند ہیں۔ SI7 k ہم اُنہیں پاتال کی طرح زندہ نگل لیں، اُنہیں موت کے گڑھے میں اُترنے والوں کی طرح ایک دم ہڑپ کر لیں۔Z 1 اُن کی بات نہ مان جب وہ کہیں، ”آ، ہمارے ساتھ چل! ہم تاک میں بیٹھ کر کسی کو قتل کریں، بلاوجہ کسی بےقصور کی گھات لگائیں۔   میرے بیٹے، جب خطاکار تجھے پُھسلانے کی کوشش کریں تو اُن کے پیچھے نہ ہو لے۔s c کیونکہ یہ تیرے سر پر دل کش سہرا اور تیرے گلے میں گلوبند ہیں۔ میرے بیٹے، اپنے باپ کی تربیت کے تابع رہ، اور اپنی ماں کی ہدایت مسترد نہ کر۔( Mحکمت اِس سے شروع ہوتی ہے کہ ہم رب کا خوف مانیں۔ صرف احمق حکمت اور تربیت کو حقیر جانتے ہیں۔ kE]" 7جب چڑی مار اپنا جال لگا کر اُس پر پرندوں کو پھانسنے کے لئے روٹی کے ٹکڑے بکھیر دیتا ہے تو پرندوں کی نظر میں یہ بےمقصد ہے۔!  کیونکہ اُن کے پاؤں غلط کام کے پیچھے دوڑتے، خون بہانے کے لئے بھاگتے ہیں۔  میرے بیٹے، اُن کے ساتھ مت جانا، اپنا پاؤں اُن کی راہوں پر رکھنے سے روک لینا۔  آ، جرٲت کر کے ہم میں شریک ہو جا، ہم لُوٹ کا تمام مال برابر تقسیم کریں گے۔“  ہم ہر قسم کی قیمتی چیز حاصل کریں گے، اپنے گھروں کو لُوٹ کے مال سے بھر لیں گے۔ +6& iجہاں سب سے زیادہ شور شرابہ ہے وہاں وہ چلّاچلّا کر بولتی، شہر کے دروازوں پر ہی اپنی تقریر کرتی ہے،{% sحکمت گلی میں زور سے آواز دیتی، چوکوں میں بلند آواز سے پکارتی ہے۔7$ kیہی اُن سب کا انجام ہے جو ناروا نفع کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ناجائز نفع اپنے مالک کی جان چھین لیتا ہے۔# %یہ لوگ بھی ایک دن پھنس جائیں گے۔ جب تاک میں بیٹھ جاتے ہیں تو اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں، جب دوسروں کی گھات لگاتے ہیں تو اپنی ہی جان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ 2f* -تم نے میرے کسی مشورے کی پروا نہ کی، میری ملامت تمہارے نزدیک قابلِ قبول نہیں تھی۔G)  لیکن جب مَیں نے آواز دی تو تم نے انکار کیا، جب مَیں نے اپنا ہاتھ تمہاری طرف بڑھایا تو کسی نے بھی توجہ نہ دی۔;( sآؤ، میری سرزنش پر دھیان دو۔ تب مَیں اپنی روح کا چشمہ تم پر پھوٹنے دوں گی، تمہیں اپنی باتیں سناؤں گی۔ ' ”اے سادہ لوح لوگو، تم کب تک اپنی سادہ لوحی سے محبت رکھو گے؟ مذاق اُڑانے والے کب تک اپنے مذاق سے لطف اُٹھائیں گے، احمق کب تک علم سے نفرت کریں گے؟ +L / میرا مشورہ اُنہیں قبول نہیں تھا بلکہ وہ میری ہر سرزنش کو حقیر جانتے تھے۔{. sکیونکہ وہ علم سے نفرت کر کے رب کا خوف ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔*- Qتب وہ مجھے آواز دیں گے، لیکن مَیں اُن کی نہیں سنوں گی، وہ مجھے ڈھونڈیں گے پر پائیں گے نہیں۔Z, 1اُس وقت تم پر دہشت ناک آندھی ٹوٹ پڑے گی، آفت طوفان کی طرح تم پر آئے گی، اور تم مصیبت اور تکلیف کے سیلاب میں ڈوب جاؤ گے۔P+ اِس لئے جب تم پر آفت آئے گی تو مَیں قہقہہ لگاؤں گی، جب تم ہول ناک مصیبت میں پھنس جاؤ گے تو تمہارا مذاق اُڑاؤں گی۔ 0[|0 6اُسے یوں تلاش کر گویا چاندی ہو، اُس کا یوں کھوج لگا گویا پوشیدہ خزانہ ہو۔Q5بصیرت کے لئے آواز دے، چلّا کر سمجھ مانگ۔b4?اپنا کان حکمت پر دھر، اپنا دل سمجھ کی طرف مائل کر۔{3 sمیرے بیٹے، میری بات قبول کر کے میرے احکام اپنے دل میں محفوظ رکھ۔2 !لیکن جو میری سنے وہ سکون سے بسے گا، ہول ناک مصیبت اُسے پریشان نہیں کرے گی۔“ E1  کیونکہ صحیح راہ سے دُور ہونے کا عمل سادہ لوح کو مار ڈالتا ہے، اور احمقوں کی بےپروائی اُنہیں تباہ کرتی ہے۔ 0 =چنانچہ اب وہ اپنے چال چلن کا پھل کھائیں، اپنے منصوبوں کی فصل کھا کھا کر سیر ہو جائیں۔ g="<? کیونکہ تیرے دل میں حکمت داخل ہو جائے گی، اور علم و عرفان تیری جان کو پیارا ہو جائے گا۔|;s تب تجھے راستی، انصاف، دیانت داری اور ہر اچھی راہ کی سمجھ آئے گی۔\:3کیونکہ وہ انصاف پسندوں کی راہوں کی پہرہ داری کرتا ہے۔ جہاں بھی اُس کے ایمان دار چلتے ہیں وہاں وہ اُن کی حفاظت کرتا ہے۔>9wوہ سیدھی راہ پر چلنے والوں کو کامیابی فراہم کرتا اور بےالزام زندگی گزارنے والوں کی ڈھال بنا رہتا ہے۔8}کیونکہ رب ہی حکمت عطا کرتا، اُسی کے منہ سے عرفان اور سمجھ نکلتی ہے۔7#اگر تُو ایسا کرے تو تجھے رب کے خوف کی سمجھ آئے گی اور اللہ کا عرفان حاصل ہو گا۔ w#wuCeجو اپنے جیون ساتھی کو ترک کر کے اپنے خدا کا عہد بھول جاتی ہے۔B+حکمت تجھے ناجائز عورت سے چھڑاتی ہے، اُس اجنبی عورت سے جو چِکنی چپڑی باتیں کرتی،wAiاُن کی راہیں ٹیڑھی ہیں، اور وہ جہاں بھی چلیں آوارہ پھرتے ہیں۔@-وہ بُری حرکتیں کرنے سے خوش ہو جاتے ہیں، غلط کام کی کج رَوی دیکھ کر جشن مناتے ہیں۔y?m ایسے لوگ سیدھی راہ کو چھوڑ دیتے ہیں تاکہ تاریک راستوں پر چلیں،x>k حکمت تجھے غلط راہ اور کج رَو باتیں کرنے والے سے بچائے رکھے گی۔]=5 تمیز تیری حفاظت اور سمجھ تیری چوکیداری کرے گی۔ 3]^3I میرے بیٹے، میری ہدایت مت بھولنا۔ میرے احکام تیرے دل میں محفوظ رہیں۔H9لیکن بےدین ملک سے مٹ جائیں گے، اور بےوفاؤں کو اُکھاڑ کر ملک سے خارج کر دیا جائے گا۔ +GQکیونکہ سیدھی راہ پر چلنے والے ملک میں آباد ہوں گے، آخرکار بےالزام ہی اُس میں باقی رہیں گے۔!F=چنانچہ اچھے لوگوں کی راہ پر چل پھر، دھیان دے کہ تیرے قدم راست بازوں کے راستے پر رہیں۔$ECجو بھی اُس کے پاس جائے وہ واپس نہیں آئے گا، وہ زندگی بخش راہوں پر دوبارہ نہیں پہنچے گا۔D7کیونکہ اُس کے گھر میں داخل ہونے کا انجام موت، اُس کی راہوں کی منزلِ مقصود پاتال ہے۔ U&#|Psاِس سے تیرا بدن صحت پائے گا اور تیری ہڈیاں تر و تازہ ہو جائیں گی۔Oاپنے آپ کو دانش مند مت سمجھنا بلکہ رب کا خوف مان کر بُرائی سے دُور رہ۔Nجہاں بھی تُو چلے صرف اُسی کو جان لے، پھر وہ خود تیری راہوں کو ہموار کرے گا۔lMSپورے دل سے رب پر بھروسا رکھ، اور اپنی عقل پر تکیہ نہ کر۔yLmتب تجھے اللہ اور انسان کے سامنے مہربانی اور قبولیت حاصل ہو گی۔-KUشفقت اور وفا تیرا دامن نہ چھوڑیں۔ اُنہیں اپنے گلے سے باندھنا، اپنے دل کی تختی پر کندہ کرنا۔&JGکیونکہ اِن ہی سے تیری زندگی کے دنوں اور سالوں میں اضافہ ہو گا اور تیری خوش حالی بڑھے گی۔ |i=|IT_ju%0:EP[fq| @:  @;  @<  @=  @>  @? @@ @A @ @:  @;  @<  @=  @>  @? @@ @A @B @C @D @E @F @G @H  @I @J @K @L @M @N @O @P  @Q  @R  @S  @T  @U @V @W @X @Y @Z @[ @\ @] @^ @_ @` @a @b @c @d @e @f @g  @h !@i "@j #@k  @l @m @n @o @p @q @r @s  @t  @u  @v  @w  @x @y @z @{ @| @} @~ nz,$\Cاُس کے عرفان سے ہی گہرائیوں کا پانی پھوٹ نکلا اور آسمان سے شبنم ٹپک کر زمین پر پڑتی ہے۔&[Gرب نے حکمت کے وسیلے سے ہی زمین کی بنیاد رکھی، سمجھ کے ذریعے ہی آسمان کو مضبوطی سے لگایا۔Z7جو اُس کا دامن پکڑ لے اُس کے لئے وہ زندگی کا درخت ہے۔ مبارک ہے وہ جو اُس سے لپٹا رہے۔gYIاُس کی راہیں خوش گوار، اُس کے تمام راستے پُرامن ہیں۔Xاُس کے دہنے ہاتھ میں عمر کی درازی اور بائیں ہاتھ میں دولت اور عزت ہے۔ Wحکمت موتیوں سے زیادہ نفیس ہے، تیرے تمام خزانے اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ Yn? bکیونکہ رب پر تیرا اعتماد ہے، وہی تیرے پاؤں کو پھنس جانے سے محفوظ رکھے گا۔yamناگہاں آفت سے مت ڈرنا، نہ اُس تباہی سے جو بےدین پر غالب آتی ہے،-`Uتُو پاؤں پھیلا کر سو سکے گا، کوئی صدمہ تجھے نہیں پہنچے گا بلکہ تُو لیٹ کر گہری نیند سوئے گا۔|_sتب تُو چلتے وقت محفوظ رہے گا، اور تیرا پاؤں ٹھوکر نہیں کھائے گا۔g^Iاُن سے تیری جان تر و تازہ اور تیرا گلہ آراستہ رہے گا۔"]?میرے بیٹے، دانائی اور تمیز اپنے پاس محفوظ رکھ اور اُنہیں اپنی نظر سے دُور نہ ہونے دے۔ dS%6dMh کیونکہ بُری راہ پر چلنے والے سے رب گھن کھاتا ہے جبکہ سیدھی راہ پر چلنے والوں کو وہ اپنے رازوں سے آگاہ کرتا ہے۔^g7نہ ظالم سے حسد کر، نہ اُس کی کوئی راہ اختیار کر۔f جس نے تجھے نقصان نہیں پہنچایا عدالت میں اُس پر بےبنیاد الزام نہ لگانا۔eجو پڑوسی بےفکر تیرے ساتھ رہتا ہے اُس کے خلاف بُرے منصوبے مت باندھنا۔ d;اگر تُو آج کچھ دے سکے تو اپنے پڑوسی سے مت کہنا، ”کل آنا تو مَیں آپ کو کچھ دے دوں گا۔“(cKاگر کوئی ضرورت مند ہو اور تُو اُس کی مدد کر سکے تو اُس کے ساتھ بھلائی کرنے سے انکار نہ کر۔ u_Unyمَیں ابھی اپنے باپ کے گھر میں نازک لڑکا تھا، اپنی ماں کا واحد بچہ،~mwمَیں تمہیں اچھی تعلیم دیتا ہوں، اِس لئے میری ہدایت کو ترک نہ کرو۔l اے بیٹو، باپ کی نصیحت سنو، دھیان دو تاکہ تم سیکھ کر سمجھ حاصل کر سکو۔k#دانش مند میراث میں عزت پائیں گے جبکہ احمق کے نصیب میں شرمندگی ہو گی۔ j "مذاق اُڑانے والوں کا وہ مذاق اُڑاتا، لیکن فروتنوں پر مہربانی کرتا ہے۔i!بےدین کے گھر پر رب کی لعنت آتی جبکہ راست باز کے گھر کو وہ برکت دیتا ہے۔ t tsاُسے عزیز رکھ تو وہ تجھے سرفراز کرے گی، اُسے گلے لگا تو وہ تجھے عزت بخشے گی۔Mrحکمت اِس سے شروع ہوتی ہے کہ تُو حکمت اپنا لے۔ سمجھ حاصل کرنے کے لئے باقی تمام ملکیت قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔q9حکمت ترک نہ کر تو وہ تجھے محفوظ رکھے گی۔ اُس سے محبت رکھ تو وہ تیری دیکھ بھال کرے گی۔p1حکمت حاصل کر، سمجھ اپنا لے! یہ چیزیں مت بھولنا، میرے منہ کے الفاظ سے دُور نہ ہونا۔\o3تو میرے باپ نے مجھے تعلیم دے کر کہا، ”پورے دل سے میرے الفاظ اپنا لے اور ہر وقت میرے احکام پر عمل کر تو تُو جیتا رہے گا۔ |aH|kyQبےدینوں کی راہ پر قدم نہ رکھ، شریروں کے راستے پر مت جا۔x! تربیت کا دامن تھامے رہ! اُسے نہ چھوڑ بلکہ محفوظ رکھ، کیونکہ وہ تیری زندگی ہے۔@w{ جب تُو چلے گا تو تیرے قدموں کو کسی بھی چیز سے روکا نہیں جائے گا، اور دوڑتے وقت تُو ٹھوکر نہیں کھائے گا۔v- مَیں تجھے حکمت کی راہ پر چلنے کی ہدایت دیتا، تجھے سیدھی راہوں پر پھرنے دیتا ہوں۔wui میرے بیٹے، میری سن! میری باتیں اپنا لے تو تیری عمر دراز ہو گی۔t/ تب وہ تیرے سر کو خوب صورت سہرے سے آراستہ کرے گی اور تجھے شاندار تاج سے نوازے گی۔“ ~m `~]~5اِس کے مقابلے میں بےدین کا راستہ گہری تاریکی کی مانند ہے، اُنہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ کس چیز سے ٹھوکر کھا کر گر گئے ہیں۔%}Eلیکن راست باز کی راہ طلوعِ صبح کی پہلی روشنی کی مانند ہے جو دن کے عروج تک بڑھتی رہتی ہے۔_|9وہ بےدینی کی روٹی کھاتے اور ظلم کی مَے پیتے ہیں۔{کیونکہ جب تک اُن سے بُرا کام سرزد نہ ہو جائے وہ سو ہی نہیں سکتے، جب تک اُنہوں نے کسی کو ٹھوکر کھلا کر خاک میں ملا نہ دیا ہو وہ نیند سے محروم رہتے ہیں۔yzmاُس سے گریز کر، اُس پر سفر نہ کر بلکہ اُس سے کترا کر آگے نکل جا۔ GG اپنے پاؤں کا راستہ چلنے کے قابل بنا دے، دھیان دے کہ تیری راہیں مضبوط ہیں۔1]دھیان دے کہ تیری آنکھیں سیدھا آگے کی طرف دیکھیں، کہ تیری نظر اُس راستے پر لگی رہے جو سیدھا ہے۔fGاپنے منہ سے جھوٹ اور اپنے ہونٹوں سے کج گوئی دُور کر۔ تمام چیزوں سے پہلے اپنے دل کی حفاظت کر، کیونکہ یہی زندگی کا سرچشمہ ہے۔کیونکہ جو یہ باتیں اپنائیں وہ زندگی اور پورے جسم کے لئے شفا پاتے ہیں۔zoاُنہیں اپنی نظر سے اوجھل نہ ہونے دے بلکہ اپنے دل میں محفوظ رکھ۔p[میرے بیٹے، میری باتوں پر دھیان دے، میرے الفاظ پر کان دھر۔ oZ  اُس کے پاؤں موت کی طرف اُترتے، اُس کے قدم پاتال کی جانب بڑھتے جاتے ہیں۔ لیکن انجام میں وہ زہر جیسی کڑوی اور دو دھاری تلوار جیسی تیز ثابت ہوتی ہے۔+ Qکیونکہ زناکار عورت کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے، اُس کی باتیں تیل کی طرح چِکنی چپڑی ہوتی ہیں۔پھر تُو تمیز کا دامن تھامے رہے گا، اور تیرے ہونٹ علم و عرفان محفوظ رکھیں گے۔{ sمیرے بیٹے، میری حکمت پر دھیان دے، میری سمجھ کی باتوں پر کان دھر۔ نہ دائیں، نہ بائیں طرف مُڑ بلکہ اپنے پاؤں کو غلط قدم اُٹھانے سے باز رکھ۔ + x}u تب آخرکار تیرا بدن اور گوشت گھل جائیں گے، اور تُو آہیں بھر بھر کرT# ایسا نہ ہو کہ پردیسی تیری ملکیت سے سیر ہو جائیں، کہ جو کچھ تُو نے محنت مشقت سے حاصل کیا وہ کسی اَور کے گھر میں آئے۔#A ایسا نہ ہو کہ تُو اپنی طاقت کسی اَور کے لئے صَرف کرے اور اپنے سال ظالم کے لئے ضائع کرے۔{اپنے راستے اُس سے دُور رکھ، اُس کے گھر کے دروازے کے قریب بھی نہ جا۔ }چنانچہ میرے بیٹو، میری سنو اور میرے منہ کی باتوں سے دُور نہ ہو جاؤ۔P اُس کے راستے کبھی اِدھر کبھی اُدھر پھرتے ہیں تاکہ تُو زندگی کی راہ پر توجہ نہ دے اور اُس کی آوارگی کو جان نہ لے۔ &`&Z/تیرا چشمہ مبارک ہو۔ ہاں، اپنی بیوی سے خوش رہ۔  جو پانی تیرا اپنا ہے وہ تجھ تک محدود رہے، اجنبی اُس میں شریک نہ ہو جائے۔  کیا مناسب ہے کہ تیرے چشمے گلیوں میں اور تیری ندیاں چوکوں میں بہہ نکلیں؟{qاپنے ہی حوض کا پانی اور اپنے ہی کنویں سے پھوٹنے والا پانی پی لے۔)Mجماعت کے درمیان ہی رہتے ہوئے مجھ پر ایسی آفت آئی کہ مَیں تباہی کے دہانے تک پہنچ گیا ہوں۔“ ہدایت کرنے والوں کی مَیں نے نہ سنی، اپنے اُستادوں کی باتوں پر کان نہ دھرا۔1 کہے گا، ”ہائے، مَیں نے کیوں تربیت سے نفرت کی، میرے دل نے کیوں سرزنش کو حقیر جانا؟ o05oA}وہ تربیت کی کمی کے سبب سے ہلاک ہو جائے گا، اپنی بڑی حماقت کے باعث ڈگمگاتے ہوئے اپنے انجام کو پہنچے گا۔ %Eبےدین کی اپنی ہی حرکتیں اُسے پھنسا دیتی ہیں، وہ اپنے ہی گناہ کے رسّوں میں جکڑا رہتا ہے۔+Qخیال رکھ، انسان کی راہیں رب کو صاف دکھائی دیتی ہیں، جہاں بھی وہ چلے اُس پر وہ توجہ دیتا ہے۔3میرے بیٹے، تُو اجنبی عورت سے کیوں مست ہو جائے، کسی دوسرے کی بیوی سے کیوں لپٹ جائے؟Kوہی تیری من موہن ہرنی اور دل رُبا غزال ہے۔ اُسی کا پیار تجھے تر و تازہ کرے، اُسی کی محبت تجھے ہمیشہ مست رکھے۔ E  "-8CNYcny)4?JU_ju%0;FQ\gr} @ @ @ @ @ @ @  @ @ @ @ @ @ @ @ @  @ @ @ @ @ @ @ @  @  @  @  @  @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @  @ @ @ @ @ @ @ @  @  @  @  @  @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @  @ !@ "@ #@  @ @ @ @ 7!iاپنی آنکھوں کو سونے نہ دے، اپنے پپوٹوں کو اونگھنے نہ دے جب تک تُو اِس ذمہ داری سے فارغ نہ ہو جائے۔  ایسا کرنے سے تُو اپنے پڑوسی کے ہاتھ میں آ گیا ہے، اِس لئے اپنی جان کو چھڑانے کے لئے اُس کے سامنے اوندھے منہ ہو کر اُسے اپنی منت سماجت سے تنگ کر۔yکیا تُو اپنے وعدے سے بندھا ہوا، اپنے منہ کے الفاظ سے پھنسا ہوا ہے؟] 7میرے بیٹے، کیا تُو اپنے پڑوسی کا ضامن بنا ہے؟ کیا تُو نے ہاتھ ملا کر وعدہ کیا ہے کہ مَیں کسی دوسرے کا ذمہ دار ٹھہروں گا؟  (h^'7 تُو کہتا ہے، ”مجھے تھوڑی دیر سونے دے، تھوڑی دیر اونگھنے دے، تھوڑی دیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے دے تاکہ آرام کر سکوں۔“g&I اے کاہل، تُو مزید کب تک سویا رہے گا، کب جاگ اُٹھے گا؟;%qتوبھی وہ گرمیوں میں سردیوں کے لئے کھانے کا ذخیرہ کر رکھتی، فصل کے دنوں میں خوب خوراک اکٹھی کرتی ہے۔V$'اُس پر نہ سردار، نہ افسر یا حکمران مقرر ہے،#-اے کاہل، چیونٹی کے پاس جا کر اُس کی راہوں پر غور کر! اُس کے نمونے سے حکمت سیکھ لے۔["1جس طرح غزال شکاری کے ہاتھ سے اور پرندہ چڑی مار کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اُسی طرح سرتوڑ کوشش کر تاکہ تیری جان چھوٹ جائے۔ d;+dB,لیکن ایسے شخص پر اچانک ہی آفت آئے گی۔ ایک ہی لمحے میں وہ پاش پاش ہو جائے گا۔ تب اُس کا علاج ناممکن ہو گا۔O+اُس کے دل میں کجی ہے، اور وہ ہر وقت بُرے منصوبے باندھنے میں لگا رہتا ہے۔ جہاں بھی جائے وہاں جھگڑے چھڑ جاتے ہیں۔-*U اپنی آنکھوں، پاؤں اور اُنگلیوں سے اشارہ کر کے تجھے فریب کے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتا ہے۔) بدمعاش اور کمینہ کس طرح پہچانا جاتا ہے؟ وہ منہ میں جھوٹ لئے پھرتا ہے،@({ لیکن خبردار، جلد ہی غربت راہزن کی طرح تجھ پر آئے گی، مفلسی ہتھیار سے لیس ڈاکو کی طرح تجھ پر ٹوٹ پڑے گی۔ L7L?2yاُنہیں یوں اپنے دل کے ساتھ باندھے رکھ کہ کبھی دُور نہ ہو جائیں۔ اُنہیں ہار کی طرح اپنے گلے میں ڈال لے۔1میرے بیٹے، اپنے باپ کے حکم سے لپٹا رہ، اور اپنی ماں کی ہدایت نظرانداز نہ کر۔ 0وہ گواہ جو عدالت میں جھوٹ بولتا اور وہ جو بھائیوں میں جھگڑا پیدا کرتا ہے۔$/Cوہ دل جو بُرے منصوبے باندھتا ہے، وہ پاؤں جو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لئے بھاگتے ہیں،3.aوہ آنکھیں جو غرور سے دیکھتی ہیں، وہ زبان جو جھوٹ بولتی ہے، وہ ہاتھ جو بےگناہوں کو قتل کرتے ہیں،d-Cرب چھ چیزوں سے نفرت بلکہ سات چیزوں سے گھن کھاتا ہے، EkQ7کیونکہ گو کسبی آدمی کو اُس کے پیسے سے محروم کرتی ہے، لیکن دوسرے کی زناکار بیوی اُس کی قیمتی جان کا شکار کرتی ہے۔6دل میں اُس کے حُسن کا لالچ نہ کر، ایسا نہ ہو کہ وہ پلک مار مار کر تجھے پکڑ لے۔5-یوں تُو بدکار عورت اور دوسرے کی زناکار بیوی کی چِکنی چپڑی باتوں سے محفوظ رہے گا۔!4=کیونکہ باپ کا حکم چراغ اور ماں کی ہدایت روشنی ہے، تربیت کی ڈانٹ ڈپٹ زندگی بخش راہ ہے۔63gچلتے وقت وہ تیری راہنمائی کریں، آرام کرتے وقت تیری پہرہ داری کریں، جاگتے وقت تجھ سے ہم کلام ہوں۔ ^K+<Qحالانکہ اُسے چوری کئے ہوئے مال کو سات گُنا واپس کرنا ہے اور اُس کے گھر کی دولت جاتی رہے گی۔;9جو بھوک کے مارے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے چوری کرے اُسے لوگ حد سے زیادہ حقیر نہیں جانتے،X:+اِسی طرح جو کسی دوسرے کی بیوی سے ہم بستر ہو جائے اُس کا انجام بُرا ہے، جو بھی دوسرے کی بیوی کو چھیڑے اُسے سزا ملے گی۔ 9یا کیا کوئی دہکتے کوئلوں پر یوں پھر سکتا ہے کہ اُس کے پاؤں جُھلس نہ جائیں؟85کیا انسان اپنی جھولی میں بھڑکتی آگ یوں اُٹھا کر پھر سکتا ہے کہ اُس کے کپڑے نہ جلیں؟ s=3s$BCمیرے احکام کے تابع رہ تو جیتا رہے گا۔ اپنی آنکھ کی پُتلی کی طرح میری ہدایت کی حفاظت کر۔A }میرے بیٹے، میرے الفاظ کی پیروی کر، میرے احکام اپنے اندر محفوظ رکھ۔ @#نہ وہ کوئی معاوضہ قبول کرے گا، نہ رشوت لے گا، خواہ کتنی زیادہ کیوں نہ ہو۔ w?i"کیونکہ شوہر غیرت کھا کر اور طیش میں آ کر بےرحمی سے بدلہ لے گا۔ >!اُس کی پٹائی اور بےعزتی کی جائے گی، اور اُس کی شرمندگی کبھی نہیں مٹے گی۔>=w لیکن جو کسی دوسرے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے وہ بےعقل ہے۔ جو اپنی جان کو تباہ کرنا چاہے وہی ایسا کرتا ہے۔ \H3وہ گلی میں سے گزر کر زناکار عورت کے کونے کی طرف ٹہلنے لگا۔ چلتے چلتے وہ اُس راستے پر آ گیا جو عورت کے گھر تک لے جاتا ہے۔*GOتو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں کچھ سادہ لوح نوجوان کھڑے ہیں۔ اُن میں سے ایک بےعقل جوان نظر آیا۔dFCایک دن مَیں نے اپنے گھر کی کھڑکی میں سے باہر جھانکا]E5یہی تجھے زناکار عورت سے محفوظ رکھیں گی، دوسرے کی اُس بیوی سے جو اپنی چِکنی چپڑی باتوں سے تجھے پھسلانے کی کوشش کرتی ہے۔ Dحکمت سے کہہ، "تُو میری بہن ہے،" اور سمجھ سے، "تُو میری قریبی رشتے دار ہے۔"wCiاُنہیں اپنی اُنگلی کے ساتھ باندھ، اپنے دل کی تختی پر کندہ کر۔ uHN-”مجھے سلامتی کی قربانیاں پیش کرنی تھیں، اور آج ہی مَیں نے اپنی مَنتیں پوری کیں۔M اب اُس نے نوجوان کو پکڑ کر اُسے بوسہ دیا۔ بےحیا نظر اُس پر ڈال کر اُس نے کہا،L کبھی وہ گلی میں، کبھی چوکوں میں ہوتی ہے، ہر کونے پر وہ تاک میں بیٹھی رہتی ہے۔ K یہ عورت اِتنی بےلگام اور خودسر ہے کہ اُس کے پاؤں اُس کے گھر میں نہیں ٹکتے۔vJg تب ایک عورت کسبی کا لباس پہنے ہوئے چالاکی سے اُس سے ملنے آئی۔{Iq شام کا دُھندلکا تھا، دن ڈھلنے اور رات کا اندھیرا چھانے لگا تھا۔ [^[!U=ایسی باتیں کرتے کرتے عورت نے نوجوان کو ترغیب دے کر اپنی چِکنی چپڑی باتوں سے ورغلایا۔Tوہ بٹوے میں پیسے ڈال کر چلا گیا ہے اور پورے چاند تک واپس نہیں آئے گا۔“S}کیونکہ میرا خاوند گھر میں نہیں ہے، وہ لمبے سفر کے لئے روانہ ہوا ہے۔R آؤ، ہم صبح تک محبت کا پیالہ تہہ تک پی لیں، ہم عشق بازی سے لطف اندوز ہوں!\Q3اُس پر مُر، عود اور دارچینی کی خوشبو چھڑکی ہے۔\P3مَیں نے اپنے بستر پر مصر کے رنگین کمبل بچھائے،O5اِس لئے مَیں نکل کر تجھ سے ملنے آئی، مَیں نے تیرا پتا کیا اور اب تُو مجھے مل گیا ہے۔ 0^Y7تیرا دل بھٹک کر اُس طرف رُخ نہ کرے جہاں زناکار عورت پھرتی ہے، ایسا نہ ہو کہ تُو آوارہ ہو کر اُس کی راہوں میں اُلجھ جائے۔qX]چنانچہ میرے بیٹو، میری سنو، میرے منہ کی باتوں پر دھیان دو!4Wcکیونکہ ایک وقت آئے گا کہ تیر اُس کا دل چیر ڈالے گا۔ لیکن فی الحال اُس کی حالت اُس چڑیا کی مانند ہے جو اُڑ کر جال میں آ جاتی اور خیال تک نہیں کرتی کہ میری جان خطرے میں ہے۔KVنوجوان سیدھا اُس کے پیچھے یوں ہو لیا جس طرح بَیل ذبح ہونے کے لئے جاتا یا ہرن اُچھل کر پھندے میں پھنس جاتا ہے۔ j9#j_}”اے مردو، مَیں تم ہی کو پکارتی ہوں، تمام انسانوں کو آواز دیتی ہوں۔$^Cشہر کے دروازوں پر جہاں لوگ نکلتے اور داخل ہوتے ہیں وہاں حکمت زوردار آواز سے پکارتی ہے،]وہ بلندیوں پر کھڑی ہے، اُس جگہ جہاں تمام راستے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔\ سنو! کیا حکمت آواز نہیں دیتی؟ ہاں، سمجھ اونچی آواز سے اعلان کرتی ہے۔ [اُس کا گھر پاتال کا راستہ ہے جو لوگوں کو موت کی کوٹھڑیوں تک پہنچاتا ہے۔ BZکیونکہ اُن کی تعداد بڑی ہے جنہیں اُس نے گرا کر موت کے گھاٹ اُتارا ہے، اُس نے متعدد لوگوں کو مار ڈالا ہے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\gr} @ @ @  @  @  @  @  @ @ @ @ @  @  @  @  @  @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @  @ @ @ @ @ @ @ @  @  @  @  @  @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @ @  @ !@ "@ #@ $@   A  A  A  A  A  A  A  A  A  A  A 40!0?N]l{$3AP_n}"1@N]lz   U; Y;  \<5 a<{ g< i= j)=M  U; Y;  \<5 a<{ g< i= j)=M m= s= w>) wJ>e6 w>B |>N ?0\  ?qi  ?x ? @9 @ @  A    AQ A A B# Bi B B C;) C8 CJ D^  DTs D D E) Eo  E  E  FA F# F7  GO  GYf $G &G )H+ , Hq /H 3 H  8IC <I %~F%f' کیونکہ حکمت موتیوں سے کہیں بہتر ہے، کوئی بھی خزانہ اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔e} چاندی کی جگہ میری تربیت اور خالص سونے کے بجائے علم و عرفان اپنا لو۔$dC سمجھ دار جانتا ہے کہ میری باتیں سب درست ہیں، علم رکھنے والے کو معلوم ہے کہ وہ صحیح ہیں۔ cجو بھی بات میرے منہ سے نکلے وہ راست ہے، ایک بھی پیچ دار یا ٹیڑھی نہیں ہے۔{bqمیرا منہ سچ بولتا ہے، کیونکہ میرے ہونٹ بےدینی سے گھن کھاتے ہیں۔aسنو، کیونکہ مَیں شرافت کی باتیں کرتی ہوں، اور میرے ہونٹ سچائی پیش کرتے ہیں۔i`Mاے سادہ لوحو، ہوشیاری سیکھ لو! اے احمقو، سمجھ اپنا لو! ^m^0l[جو مجھے پیار کرتے ہیں اُنہیں مَیں پیار کرتی ہوں، اور جو مجھے ڈھونڈتے ہیں وہ مجھے پا لیتے ہیں۔vkgمیرے ذریعے رئیس اور شرفا بلکہ تمام عادل منصف حکومت کرتے ہیں۔sjaمیرے وسیلے سے بادشاہ سلطنت اور حکمران راست فیصلے کرتے ہیں۔i1میرے پاس اچھا مشورہ اور کامیابی ہے۔ میرا دوسرا نام سمجھ ہے، اور مجھے قوت حاصل ہے۔Dh جو رب کا خوف مانتا ہے وہ بُرائی سے نفرت کرتا ہے۔ مجھے غرور، تکبر، غلط چال چلن اور ٹیڑھی باتوں سے نفرت ہے۔g مَیں جو حکمت ہوں ہوشیاری کے ساتھ بستی ہوں، اور مَیں تمیز کا علم رکھتی ہوں۔ [[rمجھے ازل سے مقرر کیا گیا، ابتدا ہی سے جب دنیا ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔iqMجب رب تخلیق کا سلسلہ عمل میں لایا تو پہلے اُس نے مجھے ہی بنایا۔ قدیم زمانے میں مَیں اُس کے دیگر کاموں سے پہلے ہی وجود میں آئی۔2p_جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں اُنہیں مَیں میراث میں دولت مہیا کرتی ہوں۔ اُن کے گودام بھرے رہتے ہیں۔hoKمَیں راستی کی راہ پر ہی چلتی ہوں، وہیں جہاں انصاف ہے۔&nGمیرا پھل سونے بلکہ خالص سونے سے کہیں بہتر ہے، میری پیداوار خالص چاندی پر سبقت رکھتی ہے۔Zm/میرے پاس عزت و دولت، شاندار مال اور راستی ہے۔ oC|(wKجب اُس نے آسمان پر بادلوں اور گہرائیوں میں سرچشموں کا انتظام مضبوط کیا تو مَیں ساتھ تھی۔Bvجب اُس نے آسمان کو اُس کی جگہ پر لگایا اور سمندر کی گہرائیوں پر زمین کا علاقہ مقرر کیا تو مَیں ساتھ تھی۔u#اُس وقت اللہ نے نہ زمین، نہ اُس کے میدان، اور نہ دنیا کے پہلے ڈھیلے بنائے تھے۔tنہ پہاڑ اپنی اپنی جگہ پر قائم ہوئے تھے، نہ پہاڑیاں تھیں جب مَیں پیدا ہوئی۔ sنہ سمندر کی گہرائیاں، نہ کثرت سے پھوٹنے والے چشمے تھے جب مَیں نے جنم لیا۔ 4 p|[!میری تربیت مان کر دانش مند بن جاؤ، اُسے نظرانداز مت کرنا۔{ چنانچہ میرے بیٹو، میری سنو، کیونکہ مبارک ہیں وہ جو میری راہوں پر چلتے ہیں۔zمَیں اُس کی زمین کی سطح پر رنگ رلیاں مناتی اور انسان سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ay=تو مَیں ماہر کاری گر کی حیثیت سے اُس کے ساتھ تھی۔ روز بہ روز مَیں لطف کا باعث تھی، ہر وقت اُس کے حضور رنگ رلیاں مناتی رہی۔ax=جب اُس نے سمندر کی حدیں مقرر کیں اور حکم دیا کہ پانی اُن سے تجاوز نہ کرے، جب اُس نے زمین کی بنیادیں اپنی اپنی جگہ پر رکھیں 3A3C اب اُس نے اپنی نوکرانیوں کو بھیجا ہے، اور خود بھی لوگوں کو شہر کی بلندیوں سے ضیافت کرنے کی دعوت دیتی ہے،/ اپنے جانوروں کو ذبح کرنے اور اپنی مَے تیار کرنے کے بعد اُس نے اپنی میز بچھائی ہے۔s c حکمت نے اپنا گھر تعمیر کر کے اپنے لئے سات ستون تراش لئے ہیں۔=u$لیکن جو مجھے پانے سے قاصر رہے وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے، جو بھی مجھ سے نفرت کرے اُسے موت پیاری ہے۔“ j~O#کیونکہ جو مجھے پائے وہ زندگی اور رب کی منظوری پاتا ہے۔:}o"مبارک ہے وہ جو میری سنے، جو روز بہ روز میرے دروازے پر چوکس کھڑا رہے، روزانہ میری چوکھٹ پر حاضر رہے۔ ' '?y دانش مند کو ہدایت دے تو اُس کی حکمت مزید بڑھے گی، راست باز کو تعلیم دے تو وہ اپنے علم میں اضافہ کرے گا۔E لعن طعن کرنے والے کی ملامت نہ کر ورنہ وہ تجھ سے نفرت کرے گا۔ دانش مند کی ملامت کر تو وہ تجھ سے محبت کرے گا۔H  جو لعن طعن کرنے والے کو تعلیم دے اُس کی اپنی رُسوائی ہو جائے گی، اور جو بےدین کو ڈانٹے اُسے نقصان پہنچے گا۔ اپنی سادہ لوح راہوں سے باز آؤ تو جیتے رہو گے، سمجھ کی راہ پر چل پڑو۔“sa ”آؤ، میری روٹی کھاؤ، وہ مَے پیؤ جو مَیں نے تیار کر رکھی ہے۔zo ”جو سادہ لوح ہے، وہ میرے پاس آئے۔“ ناسمجھ لوگوں سے وہ کہتی ہے، "_2"{ ”جو سادہ لوح ہے وہ میرے پاس آئے۔“ جو ناسمجھ ہیں اُن سے وہ کہتی ہے، وہ گزرنے والوں کو جو سیدھی راہ پر چلتے ہیں اونچی آواز سے دعوت دیتی ہے،y m اُس کا گھر شہر کی بلندی پر واقع ہے۔ دروازے کے پاس کرسی پر بیٹھیg I حماقت بی بی بےلگام اور ناسمجھ ہے، وہ کچھ نہیں جانتی۔U % اگر تُو دانش مند ہو تو خود اِس سے فائدہ اُٹھائے گا، اگر لعن طعن کرنے والا ہو تو تجھے ہی اِس کا نقصان جھیلنا پڑے گا۔g I مجھ سے ہی تیری عمر کے دنوں اور سالوں میں اضافہ ہو گا۔ 3 رب کا خوف ماننے سے ہی حکمت شروع ہوتی ہے، قدوس خدا کو جاننے سے ہی سمجھ حاصل ہوتی ہے۔ TzT   رب راست باز کو بھوکوں مرنے نہیں دیتا، لیکن بےدینوں کا لالچ روک دیتا ہے۔@{ خزانوں کا کوئی فائدہ نہیں اگر وہ بےدین طریقوں سے جمع ہو گئے ہوں، لیکن راست بازی موت سے بچائے رکھتی ہے۔\ 5 ذیل میں سلیمان کی اَمثال قلم بند ہیں۔ دانش مند بیٹا اپنے باپ کو خوشی دلاتا جبکہ احمق بیٹا اپنی ماں کو دُکھ پہنچاتا ہے۔mU لیکن اُنہیں معلوم نہیں کہ حماقت بی بی کے گھر میں صرف مُردوں کی روحیں بستی ہیں، کہ اُس کے مہمان پاتال کی گہرائیوں میں رہتے ہیں۔ } ”چوری کا پانی میٹھا اور پوشیدگی میں کھائی گئی روٹی لذیذ ہوتی ہے۔“ Y   جو دل سے دانش مند ہے وہ احکام قبول کرتا ہے، لیکن بکواسی تباہ ہو جائے گا۔/ لوگ راست باز کو یاد کر کے اُسے مبارک کہتے ہیں، لیکن بےدین کا نام سڑ کر مٹ جائے گا۔,S راست باز کا سر برکت کے تاج سے آراستہ رہتا ہے جبکہ بےدینوں کے منہ پر ظلم کا پردہ پڑا رہتا ہے۔b? جو گرمیوں میں فصل جمع کرتا ہے وہ دانش مند بیٹا ہے جبکہ جو فصل کی کٹائی کے وقت سویا رہتا ہے وہ والدین کے لئے شرم کا باعث ہے۔lS ڈھیلے ہاتھ غربت اور محنتی ہاتھ دولت کی طرف لے جاتے ہیں۔ `;#`5 دانش مند اپنا علم محفوظ رکھتے ہیں، لیکن احمق کا منہ جلد ہی تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔1 سمجھ دار کے ہونٹوں پر حکمت پائی جاتی ہے، لیکن ناسمجھ صرف ڈنڈے کا پیغام سمجھتا ہے۔}u نفرت جھگڑے چھیڑتی رہتی جبکہ محبت تمام خطاؤں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔- راست باز کا منہ زندگی کا سرچشمہ ہے، لیکن بےدین کے منہ پر ظلم کا پردہ پڑا رہتا ہے۔vg آنکھ مارنے والا دُکھ پہنچاتا ہے، اور بکواسی تباہ ہو جائے گا۔@{ جس کا چال چلن بےالزام ہے وہ سکون سے زندگی گزارتا ہے، لیکن جو ٹیڑھا راستہ اختیار کرے اُسے پکڑا جائے گا۔ /S/@${ جہاں بہت باتیں کی جاتی ہیں وہاں گناہ بھی آ موجود ہوتا ہے، جو اپنی زبان کو قابو میں رکھے وہ دانش مند ہے۔2#_ جو اپنی نفرت چھپائے رکھے وہ جھوٹ بولتا ہے، جو دوسروں کے بارے میں غلط خبریں پھیلائے وہ احمق ہے۔]"5 جو تربیت قبول کرے وہ دوسروں کو زندگی کی راہ پر لاتا ہے، جو نصیحت نظرانداز کرے وہ دوسروں کو صحیح راہ سے دُور لے جاتا ہے۔A!} جو کچھ راست باز کما لیتا ہے وہ زندگی کا باعث ہے، لیکن بےدین اپنی روزی گناہ کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔( K امیر کی دولت قلعہ بند شہر ہے جس میں وہ محفوظ ہے جبکہ غریب کی غربت اُس کی تباہی کا باعث ہے۔ hB h*7 جب طوفان آتے ہیں تو بےدین کا نام و نشان مٹ جاتا جبکہ راست باز ہمیشہ تک قائم رہتا ہے۔#)A جس چیز سے بےدین دہشت کھاتا ہے وہی اُس پر آئے گی، لیکن راست باز کی آرزو پوری ہو جائے گی۔ ( احمق غلط کام سے اپنا دل بہلاتا، لیکن سمجھ دار حکمت سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ ' رب کی برکت دولت کا باعث ہے، ہماری اپنی محنت مشقت اِس میں اضافہ نہیں کرتی۔'&I راست باز کی زبان بہتوں کی پرورش کرتی ہے، لیکن احمق اپنی بےعقلی کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔}%u راست باز کی زبان عمدہ چاندی ہے جبکہ بےدین کے دل کی کوئی قدر نہیں۔ E  !,7BMWbmx(3>IT_ju$/:EP[fq|  A  A  A  A  A  A   A  A  A  A  A  A  A  A  A   A  A  A  A  A  A  A  A  A  A  A  A  A  A  A  A!  A"  A#  A$  A%  A&  A'  A(  A)  A*  A+  A,  A-  A.  A/  A0  A1   A2  A3  A4  A5  A6  A7  A8  A9  A:  A;  A<  A=  A>  A?  A@  AA  AB  AC  AD  AE  AF  AG  AH  AI  AJ  AK  AL  AM  AN  AO  AP ,a/ راست باز کبھی ڈانواں ڈول نہیں ہو گا، لیکن بےدین ملک میں آباد نہیں رہیں گے۔ . رب کی راہ بےالزام شخص کے لئے پناہ گاہ، لیکن بدکار کے لئے تباہی کا باعث ہے۔8-k راست باز آخرکار خوشی منائیں گے، کیونکہ اُن کی اُمید بر آئے گی۔ لیکن بےدینوں کی اُمید جاتی رہے گی۔F, جو رب کا خوف مانے اُس کی زندگی کے دنوں میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ بےدین کی زندگی وقت سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے۔O+ جس طرح دانت سرکے سے اور آنکھیں دھوئیں سے تنگ آ جاتی ہیں اُسی طرح وہ تنگ آ جاتا ہے جو سُست آدمی سے کام کرواتا ہے۔ (h8(5 غضب کے دن دولت کا کوئی فائدہ نہیں جبکہ راست بازی لوگوں کی جان کو چھڑاتی ہے۔G4  سیدھی راہ پر چلنے والوں کی دیانت داری اُن کی راہنمائی کرتی جبکہ بےوفاؤں کی نمک حرامی اُنہیں تباہ کرتی ہے۔+3Q جہاں تکبر ہے وہاں بدنامی بھی قریب ہی رہتی ہے، لیکن جو حلیم ہے اُس کے دامن میں حکمت رہتی ہے۔v2 i رب غلط ترازو سے گھن کھاتا ہے، وہ صحیح ترازو ہی سے خوش ہوتا ہے۔11] راست باز کے ہونٹ جانتے ہیں کہ اللہ کو کیا پسند ہے، لیکن بےدین کا منہ ٹیڑھی باتیں ہی جانتا ہے۔ 0! راست باز کا منہ حکمت کا پھل لاتا رہتا ہے، لیکن کج گو زبان کو کاٹ ڈالا جائے گا۔ EM":? کافر اپنے منہ سے اپنے پڑوسی کو تباہ کرتا ہے، لیکن راست بازوں کا علم اُنہیں چھڑاتا ہے۔ 9 راست باز کی جان مصیبت سے چھوٹ جاتی ہے، اور اُس کی جگہ بےدین پھنس جاتا ہے۔'8I دم توڑتے وقت بےدین کی ساری اُمید جاتی رہتی ہے، جس دولت کی توقع اُس نے کی وہ جاتی رہتی ہے۔77i سیدھی راہ پر چلنے والوں کی راست بازی اُنہیں چھڑا دیتی جبکہ بےوفاؤں کا لالچ اُنہیں پھنسا دیتا ہے۔66g بےالزام کی راست بازی اُس کا راستہ ہموار بنا دیتی ہے جبکہ بےدین کی بُری حرکتیں اُسے گرا دیتی ہیں۔ f@f2?_ جہاں قیادت کی کمی ہے وہاں قوم کا تنزل یقینی ہے، جہاں مشیروں کی کثرت ہے وہاں قوم فتح یاب رہے گی۔W>) تہمت لگانے والا دوسروں کے راز فاش کرتا ہے، لیکن قابلِ اعتماد شخص وہ بھید پوشیدہ رکھتا ہے جو اُس کے سپرد کیا گیا ہو۔ = ناسمجھ آدمی اپنے پڑوسی کو حقیر جانتا ہے جبکہ سمجھ دار آدمی خاموش رہتا ہے۔0<[ سیدھی راہ پر چلنے والوں کی برکت سے شہر ترقی کرتا ہے، لیکن بےدین کے منہ سے وہ مسمار ہو جاتا ہے۔;;q جب راست باز کامیاب ہوں تو پورا شہر جشن مناتا ہے، جب بےدین ہلاک ہوں تو خوشی کے نعرے بلند ہو جاتے ہیں۔ gH0gE رب کج دلوں سے گھن کھاتا ہے، وہ بےالزام راہ پر چلنے والوں ہی سے خوش ہوتا ہے۔D راست بازی کا پھل زندگی ہے جبکہ بُرائی کے پیچھے بھاگنے والے کا انجام موت ہے۔C3 جو کچھ بےدین کماتا ہے وہ فریب دہ ہے، لیکن جو راستی کا بیج بوئے اُس کا اجر یقینی ہے۔)BM شفیق کا اچھا سلوک اُسی کے لئے فائدہ مند ہے جبکہ ظالم کا بُرا سلوک اُسی کے لئے نقصان دہ ہے۔fAG نیک عورت عزت سے اور ظالم آدمی دولت سے لپٹے رہتے ہیں۔3@a جو اجنبی کا ضامن ہو جائے اُسے یقیناً نقصان پہنچے گا، جو ضامن بننے سے انکار کرے وہ محفوظ رہے گا۔ tmt J  فیاض دل خوش حال رہے گا، جو دوسروں کو تر و تازہ کرے وہ خود تازہ دم رہے گا۔nIW ایک آدمی کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، گو وہ فیاض دلی سے تقسیم کرتا ہے۔ دوسرے کی غربت میں اضافہ ہوتا ہے، گو وہ حد سے زیادہ کنجوس ہے۔>Hw اللہ راست بازوں کی آرزو اچھی چیزوں سے پوری کرتا ہے، لیکن اُس کا غضب بےدینوں کی اُمید پر نازل ہوتا ہے۔0G[ جس طرح سؤر کی تھوتھنی میں سونے کا چھلا کھٹکتا ہے اُسی طرح خوب صورت عورت کی بےتمیزی کھٹکتی ہے۔F یقین کرو، بدکار سزا سے نہیں بچے گا جبکہ راست بازوں کے فرزند چھوٹ جائیں گے۔ _4G_O} راست باز کا پھل زندگی کا درخت ہے، اور دانش مند آدمی جانیں جیتتا ہے۔'NI جو اپنے گھر میں گڑبڑ پیدا کرے وہ میراث میں ہَوا ہی پائے گا۔ احمق دانش مند کا نوکر بنے گا۔1M] جو اپنی دولت پر بھروسا رکھے وہ گر جائے گا، لیکن راست باز ہرے بھرے پتوں کی طرح پھلیں پھولیں گے۔hLK جو بھلائی کی تلاش میں رہے وہ اللہ کی منظوری چاہتا ہے، لیکن جو بُرائی کی تلاش میں رہے وہ خود بُرائی کے پھندے میں پھنس جائے گا۔GK  لوگ گندم کے ذخیرہ اندوز پر لعنت بھیجتے ہیں، لیکن جو گندم کو بازار میں آنے دیتا ہے اُس کے سر پر برکت آتی ہے۔ 6b06U} راست باز کے خیالات منصفانہ ہیں جبکہ بےدینوں کے منصوبے فریب دہ ہیں۔DT سُگھڑ بیوی اپنے شوہر کا تاج ہے، لیکن جو شوہر کی رُسوائی کا باعث ہے وہ اُس کی ہڈیوں میں سڑاہٹ کی مانند ہے۔&SG انسان بےدینی کی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتا جبکہ راست باز کی جڑیں اُکھاڑی نہیں جا سکتیں۔ R رب اچھے آدمی سے خوش ہوتا ہے جبکہ وہ سازش کرنے والے کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔Q 5 جسے علم و عرفان پیارا ہے اُسے تربیت بھی پیاری ہے، جسے نصیحت سے نفرت ہے وہ بےعقل ہے۔P- راست باز کو زمین پر ہی اجر ملتا ہے۔ تو پھر بےدین اور گناہ گار سزا کیوں نہ پائیں؟ "XjYO نچلے طبقے کا جو آدمی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے وہ اُس آدمی سے کہیں بہتر ہے جو نخرہ بگھارتا ہے گو اُس کے پاس روٹی بھی نہیں ہے۔OX کسی کی جتنی عقل و سمجھ ہے اُتنا ہی لوگ اُس کی تعریف کرتے ہیں، لیکن جس کے ذہن میں فتور ہے اُسے حقیر جانا جاتا ہے۔EW بےدینوں کو خاک میں یوں ملایا جاتا ہے کہ اُن کا نام و نشان تک نہیں رہتا، لیکن راست باز کا گھر قائم رہتا ہے۔YV- بےدینوں کے الفاظ لوگوں کو قتل کرنے کی تاک میں رہتے ہیں جبکہ سیدھی راہ پر چلنے والوں کی باتیں لوگوں کو چھڑا لیتی ہیں۔ pVB^ انسان اپنے منہ کے پھل سے خوب سیر ہو جاتا ہے، اور جو کام اُس کے ہاتھوں نے کیا اُس کا اجر اُسے ضرور ملے گا۔] شریر اپنی غلط باتوں کے جال میں اُلجھ جاتا جبکہ راست باز مصیبت سے بچ جاتا ہے۔*\O بےدین دوسروں کو جال میں پھنسانے سے اپنا دل بہلاتا ہے، لیکن راست باز کی جڑ پھل دار ہوتی ہے۔P[ جو اپنی زمین کی کھیتی باڑی کرے اُس کے پاس کثرت کا کھانا ہو گا، لیکن جو فضول چیزوں کے پیچھے پڑ جائے وہ ناسمجھ ہے۔ Z راست باز اپنے مویشی کا بھی خیال کرتا ہے جبکہ بےدین کا دل ظالم ہی ظالم ہے۔ UYc1 سچے ہونٹ ہمیشہ تک قائم رہتے ہیں جبکہ جھوٹی زبان ایک ہی لمحے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔*bO گپیں ہانکنے والے کی باتیں تلوار کی طرح زخمی کر دیتی ہیں جبکہ دانش مند کی زبان شفا دیتی ہے۔)aM دیانت دار گواہ کھلے طور پر سچائی بیان کرتا ہے جبکہ جھوٹا گواہ دھوکا ہی دھوکا پیش کرتا ہے۔`/ احمق ایک دم اپنی ناراضی کا اظہار کرتا ہے، لیکن دانا اپنی بدنامی چھپائے رکھتا ہے۔&_G احمق کی نظر میں اُس کی اپنی راہ ٹھیک ہے، لیکن دانش مند دوسروں کے مشورے پر دھیان دیتا ہے۔ q5(q2h_ جس کے ہاتھ محنتی ہیں وہ حکومت کرے گا، لیکن جس کے ہاتھ ڈھیلے ہیں اُسے بیگار میں کام کرنا پڑے گا۔(gK سمجھ دار اپنا علم چھپائے رکھتا جبکہ احمق اپنے دل کی حماقت بلند آواز سے سب کو پیش کرتا ہے۔/fY رب فریب دہ ہونٹوں سے گھن کھاتا ہے، لیکن جو وفاداری سے زندگی گزارتے ہیں اُن سے وہ خوش ہوتا ہے۔'eI کوئی بھی آفت راست باز پر نہیں آئے گی جبکہ دُکھ تکلیف بےدینوں کا دامن کبھی نہیں چھوڑے گی۔Fd بُرے منصوبے باندھنے والے کا دل دھوکے سے بھرا رہتا جبکہ سلامتی کے مشورے دینے والے کا دل خوشی سے چھلکتا ہے۔ ;`;*nO انسان اپنے منہ کے اچھے پھل سے خوب سیر ہو جاتا ہے، لیکن بےوفا کے دل میں ظلم کا لالچ رہتا ہے۔6m i دانش مند بیٹا اپنے باپ کی تربیت قبول کرتا ہے، لیکن طعنہ زن پروا ہی نہیں کرتا اگر کوئی اُسے ڈانٹے۔sla راستی کی راہ میں زندگی ہے، لیکن غلط راہ موت تک پہنچاتی ہے۔ k% ڈھیلا آدمی اپنا شکار نہیں پکڑ سکتا جبکہ محنتی شخص کثرت کا مال حاصل کر لیتا ہے۔%jE راست باز اپنی چراگاہ معلوم کر لیتا ہے، لیکن بےدینوں کی راہ اُنہیں آوارہ پھرنے دیتی ہے۔i1 جس کے دل میں پریشانی ہے وہ دبا رہتا ہے، لیکن کوئی بھی اچھی بات اُسے خوشی دلاتی ہے۔ E  !,7BMXcny)4>IT_ju%0;FP[fq|  AR  AS  AT  AU  AV  AW  AX  AY  AZ  AR  AS  AT  AU  AV  AW  AX  AY  AZ  A[  A\  A]  A^  A_  A`  Aa  Ab  Ac  Ad  Ae  Af  Ag  Ah  Ai  Aj  Ak  Al   Am  An  Ao  Ap  Aq  Ar  As  At  Au  Av  Aw  Ax  Ay  Az  A{  A|  A}  A~  A  A  A  A  A  A  A  A A A A A A A A  A  A  A  A  A A A A A 3u>sw کچھ لوگ امیر کا روپ بھر کر پھرتے ہیں گو غریب ہیں۔ دوسرے غریب کا روپ بھر کر پھرتے ہیں گو امیر ترین ہیں۔r راستی بےالزام کی حفاظت کرتی جبکہ بےدینی گناہ گار کو تباہ کر دیتی ہے۔q راست باز جھوٹ سے نفرت کرتا ہے، لیکن بےدین شرم اور رُسوائی کا باعث ہے۔&pG کاہل آدمی لالچ کرتا ہے، لیکن اُسے کچھ نہیں ملتا جبکہ محنتی شخص کی آرزو پوری ہو جا تی ہے۔Ho  جو اپنی زبان قابو میں رکھے وہ اپنی زندگی محفوظ رکھتا ہے، جو اپنی زبان کو بےلگام چھوڑ دے وہ تباہ ہو جائے گا۔bRRY`gnu|$+29@GNU\cjqx  '.5<CJQX_fmt{!',27<BHNUY_!',27<BHNUY_flrw|$*/5:?EJOUÁYā^ŁcƁhǁnɁsˁx́~́΁ρЁсҁӁ%ԁ+Ձ1ׁ7؁<فBځGہL܁R݁Xށ^߁dj၃n⁃sぃx偃}恄灄聄遄ꁄ끄쁄#큄(.4:?EJOU[afkqw}  '.4 ^%^Bx جو اُمید وقت پر پوری نہ ہو جائے وہ دل کو بیمار کر دیتی ہے، لیکن جو آرزو پوری ہو جائے وہ زندگی کا درخت ہے۔Bw جلدبازی سے حاصل شدہ دولت جلد ہی ختم ہو جاتی ہے جبکہ جو رفتہ رفتہ اپنا مال جمع کرے وہ اُسے بڑھاتا رہے گا۔v' مغروروں میں ہمیشہ جھگڑا ہوتا ہے جبکہ دانش مند صلاح مشورے کے مطابق ہی چلتے ہیں۔uue راست باز کی روشنی چمکتی رہتی جبکہ بےدین کا چراغ بجھ جاتا ہے۔{tq کبھی امیر کو اپنی جان چھڑانے کے لئے ایسا تاوان دینا پڑتا ہے کہ تمام دولت جاتی رہتی ہے، لیکن غریب کی جان اِس قسم کی دھمکی سے بچی رہتی ہے۔ ,a9 ,X~+ جو تربیت کی پروا نہ کرے اُسے غربت اور شرمندگی حاصل ہو گی، لیکن جو دوسرے کی نصیحت مان جائے اُس کا احترام کیا جائے گا۔{}q بےدین قاصد مصیبت میں پھنس جاتا جبکہ وفادار قاصد شفا کا باعث ہے۔,|S ذہین ہر کام سوچ سمجھ کر کرتا، لیکن احمق تمام نظروں کے سامنے ہی اپنی حماقت کی نمائش کرتا ہے۔{  اچھی سمجھ منظوری عطا کرتی ہے، لیکن بےوفا کی راہ ابدی تباہی کا باعث ہے۔z) دانش مند کی ہدایت زندگی کا سرچشمہ ہے جو انسان کو مہلک پھندوں سے بچائے رکھتی ہے۔y/ جو اچھی ہدایت کو حقیر جانے اُسے نقصان پہنچے گا، لیکن جو حکم مانے اُسے اجر ملے گا۔ J71] غریب کا کھیت کثرت کی فصلیں مہیا کر سکتا ہے، لیکن جہاں انصاف نہیں وہاں سب کچھ چھین لیا جاتا ہے۔F نیک آدمی کے بیٹے اور پوتے اُس کی میراث پائیں گے، لیکن گناہ گار کی دولت راست باز کے لئے محفوظ رکھی جائے گی۔} مصیبت گناہ گار کا پیچھا کرتی ہے جبکہ راست بازوں کا اجر خوش حالی ہے۔=u جو دانش مندوں کے ساتھ چلے وہ خود دانش مند ہو جائے گا، لیکن جو احمقوں کے ساتھ چلے اُسے نقصان پہنچے گا۔1] جو آرزو پوری ہو جائے وہ دل کو تر و تازہ کرتی ہے، لیکن احمق بُرائی سے دریغ کرنے سے گھن کھاتا ہے۔ u5LuRاحمق کی باتوں سے وہ ڈنڈا نکلتا ہے جو اُسے اُس کے تکبر کی سزا دیتا ہے، لیکن دانش مند کے ہونٹ اُسے محفوظ رکھتے ہیں۔6gجو سیدھی راہ پر چلتا ہے وہ اللہ کا خوف مانتا ہے، لیکن جو غلط راہ پر چلتا ہے وہ اُسے حقیر جانتا ہے۔# Cحکمت بی بی اپنا گھر تعمیر کرتی ہے، لیکن حماقت بی بی اپنے ہی ہاتھوں سے اُسے ڈھا دیتی ہے۔} راست باز جی بھر کر کھانا کھاتا ہے، لیکن بےدین کا پیٹ خالی رہتا ہے۔ F جو اپنے بیٹے کو تنبیہ نہیں کرتا وہ اُس سے نفرت کرتا ہے۔ جو اُس سے محبت رکھے وہ وقت پر اُس کی تربیت کرتا ہے۔ VX&V) احمق اپنے قصور کا مذاق اُڑاتے ہیں، لیکن سیدھی راہ پر چلنے والے رب کو منظور ہیں۔3 aذہین کی حکمت اِس میں ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنی راہ پر چلے، لیکن احمق کی حماقت سراسر دھوکا ہی ہے۔x kاحمق سے دُور رہ، کیونکہ تُو اُس کی باتوں میں علم نہیں پائے گا۔" ?طعنہ زن حکمت کو ڈھونڈتا ہے، لیکن بےفائدہ۔ سمجھ دار کے علم میں آسانی سے اضافہ ہوتا ہے۔ وفادار گواہ جھوٹ نہیں بولتا، لیکن جھوٹے گواہ کے منہ سے جھوٹ نکلتا ہے۔# Aجہاں بَیل نہیں وہاں چرنی خالی رہتی ہے، بَیل کی طاقت ہی سے کثرت کی فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ 9 k^7جس کا دل بےوفا ہے وہ جی بھر کر اپنے چال چلن کا کڑوا پھل کھائے گا جبکہ نیک آدمی اپنے اعمال کے میٹھے پھل سے سیر ہو جائے گا۔1 دل ہنستے وقت بھی رنجیدہ ہو سکتا ہے، اور خوشی کے اختتام پر دُکھ ہی باقی رہ جاتا ہے۔  ایسی راہ بھی ہوتی ہے جو دیکھنے میں ٹھیک تو لگتی ہے گو اُس کا انجام موت ہے۔+ بےدین کا گھر تباہ ہو جائے گا، لیکن سیدھی راہ پر چلنے والے کا خیمہ پھلے پھولے گا۔B ہر دل کی اپنی ہی تلخی ہوتی ہے جس سے صرف وہی واقف ہے، اور اُس کی خوشی میں بھی کوئی اَور شریک نہیں ہو سکتا۔ [sغریب کے ہم سائے بھی اُس سے نفرت کرتے ہیں جبکہ امیر کے بےشمار دوست ہوتے ہیں۔;qشریروں کو نیکوں کے سامنے جھکنا پڑے گا، اور بےدینوں کو راست باز کے دروازے پر اوندھے منہ ہونا پڑے گا۔5سادہ لوح میراث میں حماقت پاتا ہے جبکہ ذہین آدمی کا سر علم کے تاج سے آراستہ رہتا ہے۔ غصیلا آدمی احمقانہ حرکتیں کرتا ہے، اور لوگ سازشی شخص سے نفرت کرتے ہیں۔4cدانش مند ڈرتے ڈرتے غلط کام سے دریغ کرتا ہے، لیکن احمق خود اعتماد ہے اور ایک دم مشتعل ہو جاتا ہے۔ ;سادہ لوح ہر ایک کی بات مان لیتا ہے جبکہ ذہین آدمی اپنا ہر قدم سوچ سمجھ کر اُٹھاتا ہے۔ m[v m1جو رب کا خوف مانے اُس کے پاس محفوظ قلعہ ہے جس میں اُس کی اولاد بھی پناہ لے سکتی ہے۔eEسچا گواہ جانیں بچاتا ہے جبکہ جھوٹا گواہ فریب دہ ہے۔{qدانش مندوں کا اجر دولت کا تاج ہے جبکہ احمقوں کا اجر حماقت ہی ہے۔"?محنت مشقت کرنے میں ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے، جبکہ خالی باتیں کرنے سے لوگ غریب ہو جاتے ہیں۔:oبُرے منصوبے باندھنے والے سب آوارہ پھرتے ہیں۔ لیکن اچھے منصوبے باندھنے والے شفقت اور وفا پائیں گے۔ ;جو اپنے پڑوسی کو حقیر جانے وہ گناہ کرتا ہے۔ مبارک ہے وہ جو ضرورت مند پر ترس کھاتا ہے۔ s,%S بےدین کی بُرائی اُسے خاک میں ملا دیتی ہے، لیکن راست باز مرتے وقت بھی اللہ میں پناہ لیتا ہے۔M$جو پست حال پر ظلم کرے وہ اُس کے خالق کی تحقیر کرتا ہے جبکہ جو ضرورت مند پر ترس کھائے وہ اللہ کا احترام کرتا ہے۔w#iپُرسکون دل جسم کو زندگی دلاتا جبکہ حسد ہڈیوں کو گلنے دیتا ہے۔""?تحمل کرنے والا بڑی سمجھ داری کا مالک ہے، لیکن غصیلا آدمی اپنی حماقت کا اظہار کرتا ہے۔2!_جتنی آبادی ملک میں ہے اُتنی ہی بادشاہ کی شان و شوکت ہے۔ رعایا کی کمی حکمران کے تنزل کا باعث ہے۔  رب کا خوف زندگی کا سرچشمہ ہے جو انسان کو مہلک پھندوں سے بچائے رکھتا ہے۔ c`c+رب کی آنکھیں ہر جگہ موجود ہیں، وہ بُرے اور بھلے سب پر دھیان دیتی ہیں۔3*aدانش مندوں کی زبان علم و عرفان پھیلاتی ہے جبکہ احمق کا منہ حماقت کا زور سے اُبلنے والا چشمہ ہے۔f) Iنرم جواب غصہ ٹھنڈا کرتا، لیکن تُرش بات طیش دلاتی ہے۔A(}#بادشاہ دانش مند ملازم سے خوش ہوتا ہے، لیکن شرم ناک کام کرنے والا ملازم اُس کے غصے کا نشانہ بن جاتا ہے۔ ' "راستی سے ہر قوم سرفراز ہوتی ہے جبکہ گناہ سے اُمّتیں رُسوا ہو جاتی ہیں۔&1!حکمت سمجھ دار کے دل میں آرام کرتی ہے، اور وہ احمقوں کے درمیان بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ W?W1 رب بےدین کی راہ سے گھن کھاتا، لیکن راستی کا پیچھا کرنے والے سے پیار کرتا ہے۔#0Aرب بےدینوں کی قربانی سے گھن کھاتا، لیکن سیدھی راہ پر چلنے والوں کی دعا سے خوش ہوتا ہے۔%/Eدانش مندوں کے ہونٹ علم و عرفان کا بیج بکھیر دیتے ہیں، لیکن احمقوں کا دل ایسا نہیں کرتا۔).Mراست باز کے گھر میں بڑا خزانہ ہوتا ہے، لیکن جو کچھ بےدین حاصل کرتا ہے وہ تباہی کا باعث ہے۔-احمق اپنے باپ کی تربیت کو حقیر جانتا ہے، لیکن جو نصیحت مانے وہ دانش مند ہے۔{,qنرم زبان زندگی کا درخت ہے جبکہ فریب دہ زبان شکستہ دل کر دیتی ہے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0:EP[fq| A A A A A A A A A A A A A A A A A A A A A A  A !A "A #A  A A A A A A A A  A  A  A  A  A A A A A A A A A A A A A A A A A A A  A !A  A A A A A A A A  A  A  A  A  A A A A A A A YV7مصیبت زدہ کے تمام دن بُرے ہیں، لیکن جس کا دل خوش ہے وہ روزانہ جشن مناتا ہے۔&6Gسمجھ دار کا دل علم و عرفان کی تلاش میں رہتا، لیکن احمق حماقت کی چراگاہ میں چرتا رہتا ہے۔+5Q جس کا دل خوش ہے اُس کا چہرہ کھِلا رہتا ہے، لیکن جس کا دل پریشان ہے اُس کی روح شکستہ رہتی ہے۔4/ طعنہ زن کو دوسروں کی نصیحت پسند نہیں آتی، اِس لئے وہ دانش مندوں کے پاس نہیں جاتا۔/3Y پاتال اور عالم ارواح رب کو صاف نظر آتے ہیں۔ تو پھر انسانوں کے دل اُسے کیوں نہ صاف دکھائی دیں؟"2? جو صحیح راہ کو ترک کرے اُس کی سخت تادیب کی جائے گی، جو نصیحت سے نفرت کرے وہ مر جائے گا۔ BJ<5دانش مند بیٹا اپنے باپ کے لئے خوشی کا باعث ہے، لیکن احمق اپنی ماں کو حقیر جانتا ہے۔;%کاہل کا راستہ کانٹےدار باڑ کی مانند ہے، لیکن دیانت داروں کی راہ پکی سڑک ہی ہے۔:5غصیلا آدمی جھگڑے چھیڑتا رہتا جبکہ تحمل کرنے والا لوگوں کے غصے کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔79iجہاں محبت ہے وہاں سبزی کا سالن بہت ہے، جہاں نفرت ہے وہاں موٹے تازے بچھڑے کی ضیافت بھی بےفائدہ ہے۔98mجو غریب رب کا خوف مانتا ہے اُس کا حال اُس کروڑپتی سے کہیں بہتر ہے جو بڑی بےچینی سے زندگی گزارتا ہے۔ Kg_K B رب بُرے منصوبوں سے گھن کھاتا ہے، اور مہربان الفاظ اُس کے نزدیک پاک ہیں۔A}رب متکبر کا گھر ڈھا دیتا، لیکن بیوہ کی زمین کی حدود محفوظ رکھتا ہے۔#@Aزندگی کی راہ چڑھتی رہتی ہے تاکہ سمجھ دار اُس پر چلتے ہوئے پاتال میں اُترنے سے بچ جائے۔?انسان موزوں جواب دینے سے خوش ہو جاتا ہے، وقت پر مناسب بات کتنی اچھی ہوتی ہے۔E>جہاں صلاح مشورہ نہیں ہوتا وہاں منصوبے ناکام رہ جاتے ہیں، جہاں بہت سے مشیر ہوتے ہیں وہاں کامیابی ہوتی ہے۔=#ناسمجھ آدمی حماقت سے لطف اندوز ہوتا، لیکن سمجھ دار آدمی سیدھی راہ پر چلتا ہے۔ TtoG جو زندگی بخش نصیحت پر دھیان دے وہ دانش مندوں کے درمیان ہی سکونت کرے گا۔Fچمکتی آنکھیں دل کو خوشی دلاتی ہیں، اچھی خبر پورے جسم کو تر و تازہ کر دیتی ہے۔jEOرب بےدینوں سے دُور رہتا، لیکن راست باز کی دعا سنتا ہے۔[D1راست باز کا دل سوچ سمجھ کر جواب دیتا ہے، لیکن بےدین کا منہ زور سے اُبلنے والے چشمہ ہے جس سے بُری باتیں نکلتی رہتی ہیں۔'CIجو ناجائز نفع کمائے وہ اپنے گھر پر آفت لاتا ہے، لیکن جو رشوت سے نفرت رکھے وہ جیتا رہے گا۔ 1_,Lجو کچھ بھی تُو کرنا چاہے اُسے رب کے سپرد کر۔ تب ہی تیرے منصوبے کامیاب ہوں گے۔$KCانسان کی نظر میں اُس کی تمام راہیں پاک صاف ہیں، لیکن رب ہی روحوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔J انسان دل میں منصوبے باندھتا ہے، لیکن زبان کا جواب رب کی طرف سے آتا ہے۔MI!رب کا خوف ہی وہ تربیت ہے جس سے انسان حکمت سیکھتا ہے۔ پہلے فروتنی اپنا لے، کیونکہ یہی عزت پانے کا پہلا قدم ہے۔ JH جو تربیت کی پروا نہ کرے وہ اپنے آپ کو حقیر جانتا ہے، لیکن جو نصیحت پر دھیان دے اُس کی سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ &=m&4Rc انسان اپنے دل میں منصوبے باندھتا رہتا ہے، لیکن رب ہی مقرر کرتا ہے کہ وہ آخرکار کس راہ پر چل پڑے۔ Q انصاف سے تھوڑا بہت کمانا ناانصافی سے بہت دولت جمع کرنے سے کہیں بہتر ہے۔$PCاگر رب کسی انسان کی راہوں سے خوش ہو تو وہ اُس کے دشمنوں کو بھی اُس سے صلح کرانے دیتا ہے۔)OMشفقت اور وفاداری گناہ کا کفارہ دیتی ہیں۔ رب کا خوف ماننے سے انسان بُرائی سے دُور رہتا ہے۔uNeرب ہر مغرور دل سے گھن کھاتا ہے۔ یقیناً وہ سزا سے نہیں بچے گا۔>Mwرب نے سب کچھ اپنے ہی مقاصد پورے کرنے کے لئے بنایا ہے۔ وہ دن بھی پہلے سے مقرر ہے جب بےدین پر آفت آئے گی۔ "S,"QXجب بادشاہ کا چہرہ کھِل اُٹھے تو مطلب زندگی ہے۔ اُس کی منظوری موسمِ بہار کے تر و تازہ کرنے والے بادل کی مانند ہے۔W3بادشاہ کا غصہ موت کا پیش خیمہ ہے، لیکن دانش مند اُسے ٹھنڈا کرنے کے طریقے جانتا ہے۔V بادشاہ راست باز ہونٹوں سے خوش ہوتا اور صاف بات کرنے والے سے محبت رکھتا ہے۔"U? بادشاہ بےدینی سے گھن کھاتا ہے، کیونکہ اُس کا تخت راست بازی کی بنیاد پر مضبوط رہتا ہے۔|Ts رب درست ترازو کا مالک ہے، اُسی نے تمام باٹوں کا انتظام قائم کیا۔(SK بادشاہ کے ہونٹ گویا الٰہی فیصلے پیش کرتے ہیں، اُس کا منہ عدالت کرتے وقت بےوفا نہیں ہوتا۔ RwKR1^]جو دل سے دانش مند ہے اُسے سمجھ دار قرار دیا جاتا ہے، اور میٹھے الفاظ تعلیم میں اضافہ کرتے ہیں۔]جو کلام پر دھیان دے وہ خوش حال ہو گا، مبارک ہے وہ جو رب پر بھروسا رکھے۔3\aفروتنی سے ضرورت مندوں کے درمیان بسنا گھمنڈیوں کے لُوٹے ہوئے مال میں شریک ہونے سے کہیں بہتر ہے۔_[9تباہی سے پہلے غرور اور گرنے سے پہلے تکبر آتا ہے۔DZدیانت دار کی مضبوط راہ بُرے کام سے دُور رہتی ہے، جو اپنی راہ کی پہرہ داری کرے وہ اپنی جان بچائے رکھتا ہے۔Yحکمت کا حصول سونے سے کہیں بہتر اور سمجھ پانا چاندی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ BZ~Bd1شریر کُرید کُرید کر غلط کام نکال لیتا، اُس کے ہونٹوں پر جُھلسانے والی آگ رہتی ہے۔c)مزدور کا خالی پیٹ اُسے کام کرنے پر مجبور کرتا، اُس کی بھوک اُسے ہانکتی رہتی ہے۔ bایسی راہ بھی ہوتی ہے جو دیکھنے میں تو ٹھیک لگتی ہے گو اُس کا انجام موت ہے۔ a;مہربان الفاظ خالص شہد ہیں، وہ جان کے لئے شیریں اور پورے جسم کو تر و تازہ کر دیتے ہیں۔!`=دانش مند کا دل سمجھ کی باتیں زبان پر لاتا اور تعلیم دینے میں ہونٹوں کا سہارا بنتا ہے۔!_=فہم اپنے مالک کے لئے زندگی کا سرچشمہ ہے، لیکن احمق کی اپنی ہی حماقت اُسے سزا دیتی ہے۔ zZDzwji!انسان تو قرعہ ڈالتا ہے، لیکن اُس کا ہر فیصلہ رب کی طرف سے ہے۔ >iw تحمل کرنے والا سورمے سے سبقت لیتا ہے، جو اپنے آپ کو قابو میں رکھے وہ شہر کو شکست دینے والے سے برتر ہے۔h سفید بال ایک شاندار تاج ہیں جو راست باز زندگی گزارنے سے حاصل ہوتے ہیں۔+gQجو آنکھ مارے وہ غلط منصوبے باندھ رہا ہے، جو اپنے ہونٹ چبائے وہ غلط کام کرنے پر تُلا ہوا ہے۔bf?ظالم اپنے پڑوسی کو ورغلا کر غلط راہ پر لے جاتا ہے۔!e=کج رَو آدمی جھگڑے چھیڑتا رہتا، اور تہمت لگانے والا دلی دوستوں میں بھی رخنہ ڈالتا ہے۔ <n بدکار شریر ہونٹوں پر دھیان اور دھوکے باز تباہ کن زبان پر توجہ دیتا ہے۔$mCسونا چاندی کٹھالی میں پگھلا کر پاک صاف کی جاتی ہے، لیکن رب ہی دل کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔{lqسمجھ دار ملازم مالک کے اُس بیٹے پر قابو پائے گا جو شرم کا باعث ہے، اور جب بھائیوں میں موروثی ملکیت تقسیم کی جائے تو اُسے بھی حصہ ملے گا۔k )جس گھر میں روٹی کا باسی ٹکڑا سکون کے ساتھ کھایا جائے وہ اُس گھر سے کہیں بہتر ہے جس میں لڑائی جھگڑا ہے، خواہ اُس میں کتنی شاندار ضیافت کیوں نہ ہو رہی ہو۔ e%VelsS جو دوسرے کی غلطی کو درگزر کرے وہ محبت کو فروغ دیتا ہے، لیکن جو ماضی کی غلطیاں دہراتا رہے وہ قریبی دوستوں میں نفاق پیدا کرتا ہے۔,rSرشوت دینے والے کی نظر میں رشوت جادو کی مانند ہے۔ جس دروازے پر بھی کھٹکھٹائے وہ کھل جاتا ہے۔.qWاحمق کے لئے بڑی بڑی باتیں کرنا موزوں نہیں، لیکن شریف ہونٹوں پر فریب کہیں زیادہ غیرمناسب ہے۔gpIپوتے بوڑھوں کا تاج اور والدین اپنے بچوں کے زیور ہیں۔Vo'جو غریب کا مذاق اُڑائے وہ اُس کے خالق کی تحقیر کرتا ہے، جو دوسرے کی مصیبت دیکھ کر خوش ہو جائے وہ سزا سے نہیں بچے گا۔ ;(;8xkلڑائی جھگڑا چھیڑنا بند میں رخنہ ڈالنے کے برابر ہے۔ اِس سے پہلے کہ مقدمہ بازی شروع ہو اُس سے باز آ۔w جو بھلائی کے عوض بُرائی کرے اُس کے گھر سے بُرائی کبھی دُور نہیں ہو گی۔v' جو احمق اپنی حماقت میں اُلجھا ہوا ہو اُس سے دریغ کر، کیونکہ اُس سے ملنے سے بہتر یہ ہے کہ تیرا اُس ریچھنی سے واسطہ پڑے جس کے بچے اُس سے چھین لئے گئے ہوں۔u شریر سرکشی پر تُلا رہتا ہے، لیکن اُس کے خلاف ظالم قاصد بھیجا جائے گا۔St! اگر سمجھ دار کو ڈانٹا جائے تو وہ خوب سیکھ لیتا ہے، لیکن اگر احمق کو سَو بار مارا جائے توبھی وہ اِتنا نہیں سیکھتا۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gr} A A A A A A A A A A A A A A A A A A A A  A !A  A A A A A A A A  A  A  A  A  A A A A A A A A A B B B B B B B  B B B B B B B B  B  B  B  B  B B B B B B B B B B B B  B B B! B" so}Yجو لڑائی جھگڑے سے محبت رکھے وہ گناہ سے محبت رکھتا ہے، جو اپنا دروازہ حد سے زیادہ بڑا بنائے وہ تباہی کو داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے۔{|qجو ہاتھ ملا کر اپنے پڑوسی کا ضامن ہونے کا وعدہ کرے وہ ناسمجھ ہے۔,{Sپڑوسی وہ ہے جو ہر وقت محبت رکھتا ہے، بھائی وہ ہے جو مصیبت میں سہارا دینے کے لئے پیدا ہوا ہے۔7ziاحمق کے ہاتھ میں پیسوں کا کیا فائدہ ہے؟ کیا وہ حکمت خرید سکتا ہے جبکہ اُس میں عقل نہیں؟ ہرگز نہیں!y جو بےدین کو بےقصور اور راست باز کو مجرم ٹھہرائے اُس سے رب گھن کھاتا ہے۔ CJzvCxkاحمق بیٹا باپ کے لئے رنج کا باعث اور ماں کے لئے تلخی کا سبب ہے۔2_سمجھ دار اپنی نظر کے سامنے حکمت رکھتا ہے، لیکن احمق کی نظریں دنیا کی انتہا تک آوارہ پھرتی ہیں۔mUبےدین چپکے سے رشوت لے کر انصاف کی راہوں کو بگاڑ دیتا ہے۔خوش باش دل پورے جسم کو شفا دیتا ہے، لیکن شکستہ روح ہڈیوں کو خشک کر دیتی ہے۔Kجس کے ہاں احمق بیٹا پیدا ہو جائے اُسے دُکھ پہنچتا ہے، اور عقل سے خالی بیٹا باپ کے لئے خوشی کا باعث نہیں ہوتا۔1~]جس کا دل ٹیڑھا ہے وہ خوش حالی نہیں پائے گا، اور جس کی زبان چالاک ہے وہ مصیبت میں اُلجھ جائے گا۔ Q#3احمق سمجھ سے لطف اندوز نہیں ہوتا بلکہ صرف اپنے دل کی باتیں دوسروں پر ظاہر کرنے سے۔5 gجو دوسروں سے الگ ہو جائے وہ اپنے ذاتی مقاصد پورے کرنا چاہتا اور سمجھ کی ہر بات پر جھگڑنے لگتا ہے۔:oاگر احمق خاموش رہے تو وہ بھی دانش مند لگتا ہے۔ جب تک وہ بات نہ کرے لوگ اُسے سمجھ دار قرار دیتے ہیں۔ 0[جو اپنی زبان کو قابو میں رکھے وہ علم و عرفان کا مالک ہے، جو ٹھنڈے دل سے بات کرے وہ سمجھ دار ہے۔*Oبےقصور پر جرمانہ لگانا غلط ہے، اور شریف کو اُس کی دیانت داری کے سبب سے کوڑے لگانا بُرا ہے۔ YPhY(Kتہمت لگانے والے کی باتیں لذیذ کھانے کے لقموں کی مانند ہیں، وہ دل کی تہہ تک اُتر جاتی ہیں۔< sاحمق کا منہ اُس کی تباہی کا باعث ہے، اُس کے ہونٹ ایسا پھندا ہیں جس میں اُس کی اپنی جان اُلجھ جاتی ہے۔ 3احمق کے ہونٹ لڑائی جھگڑا پیدا کرتے ہیں، اُس کا منہ زور سے پٹائی کا مطالبہ کرتا ہے۔g Iبےدین کی جانب داری کر کے راست باز کا حق مارنا غلط ہے۔y mانسان کے الفاظ گہرا پانی ہیں، حکمت کا سرچشمہ بہتی ہوئی ندی ہے۔+ Qجہاں بےدین آئے وہاں حقارت بھی آ موجود ہوتی، اور جہاں رُسوائی ہو وہاں طعنہ زنی بھی ہوتی ہے۔ `*w9 دوسرے کی بات سننے سے پہلے جواب دینا حماقت ہے۔ جو ایسا کرے اُس کی رُسوائی ہو جائے گی۔.W تباہ ہونے سے پہلے انسان کا دل مغرور ہو جاتا ہے، عزت ملنے سے پہلے لازم ہے کہ وہ فروتن ہو جائے۔6g امیر سمجھتا ہے کہ میری دولت میرا قلعہ بند شہر اور میری اونچی چاردیواری ہے جس میں مَیں محفوظ ہوں۔wi رب کا نام مضبوط بُرج ہے جس میں راست باز بھاگ کر محفوظ رہتا ہے۔1 جو اپنے کام میں ذرا بھی ڈھیلا ہو جائے، اُسے یاد رہے کہ ڈھیلے پن کا بھائی تباہی ہے۔ ==S"?قرعہ ڈالنے سے جھگڑے ختم ہو جاتے اور بڑوں کا ایک دوسرے سے لڑنے کا خطرہ دُور ہو جاتا ہے۔eEجو عدالت میں پہلے اپنا موقف پیش کرے وہ اُس وقت تک حق بجانب لگتا ہے جب تک دوسرا فریق سامنے آ کر اُس کی ہر بات کی تحقیق نہ کرے۔jOتحفہ راستہ کھول کر دینے والے کو بڑوں تک پہنچا دیتا ہے۔ سمجھ دار کا دل علم اپناتا اور دانش مند کا کان عرفان کا کھوج لگاتا رہتا ہے۔>wبیمار ہوتے وقت انسان کی روح جسم کی پرورش کرتی ہے، لیکن اگر روح شکستہ ہو تو پھر کون اُس کو سہارا دے گا؟ 7غریب منت کرتے کرتے اپنا معاملہ پیش کرتا ہے، لیکن امیر کا جواب سخت ہوتا ہے۔~wجسے بیوی ملی اُسے اچھی نعمت ملی، اور اُسے رب کی منظوری حاصل ہوئی۔)زبان کا زندگی اور موت پر اختیار ہے، جو اُسے پیار کرے وہ اُس کا پھل بھی کھائے گا۔'Iانسان اپنے منہ کے پھل سے سیر ہو جائے گا، وہ اپنے ہونٹوں کی پیداوار کو جی بھر کر کھائے گا۔+جس بھائی کو ایک دفعہ مایوس کر دیا جائے اُسے دوبارہ جیت لینا قلعہ بند شہر پر فتح پانے سے زیادہ دشوار ہے۔ جھگڑے حل کرنا بُرج کے کنڈے توڑنے کی طرح مشکل ہے۔ VV(V #جھوٹا گواہ سزا سے نہیں بچے گا، جو جھوٹی گواہی دے اُس کی جان نہیں چھوٹے گی۔""?دولت مند کے دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن غریب کا ایک دوست بھی اُس سے الگ ہو جاتا ہے۔!#گو انسان کی اپنی حماقت اُسے بھٹکا دیتی ہے توبھی اُس کا دل رب سے ناراض ہوتا ہے۔ 'اگر علم ساتھ نہ ہو تو سرگرمی کا کوئی فائدہ نہیں۔ جلدباز غلط راہ پر آتا رہتا ہے۔ جو غریب بےالزام زندگی گزارے وہ ٹیڑھی باتیں کرنے والے احمق سے کہیں بہتر ہے۔%Eکئی دوست تجھے تباہ کرتے ہیں، لیکن ایسے بھی ہیں جو تجھ سے بھائی سے زیادہ لپٹے رہتے ہیں۔ @Y= @G(  احمق کے لئے عیش و عشرت سے زندگی گزارنا موزوں نہیں، لیکن غلام کی حکمرانوں پر حکومت کہیں زیادہ غیرمناسب ہے۔' جھوٹا گواہ سزا سے نہیں بچے گا، جھوٹی گواہی دینے والا تباہ ہو جائے گا۔"&?جو حکمت اپنا لے وہ اپنی جان سے محبت رکھتا ہے، جو سمجھ کی پرورش کرے اُسے کامیابی ہو گی۔%)غریب کے تمام بھائی اُس سے نفرت کرتے ہیں، تو پھر اُس کے دوست اُس سے کیوں دُور نہ رہیں۔ وہ باتیں کرتے کرتے اُن کا پیچھا کرتا ہے، لیکن وہ غائب ہو جاتے ہیں۔"$?متعدد لوگ بڑے آدمی کی خوشامد کرتے ہیں، اور ہر ایک اُس آدمی کا دوست ہے جو تحفے دیتا ہے۔ ]pC.جو وفاداری سے حکم پر عمل کرے وہ اپنی جان محفوظ رکھتا ہے، لیکن جو اپنی راہوں کی پروا نہ کرے وہ مر جائے گا۔- سُست ہونے سے انسان گہری نیند سو جاتا ہے، لیکن ڈھیلا شخص بھوکوں مرے گا۔,7موروثی گھر اور ملکیت باپ دادا کی طرف سے ملتی ہے، لیکن سمجھ دار بیوی رب کی طرف سے ہے۔}+u احمق بیٹا باپ کی تباہی اور جھگڑالو بیوی مسلسل ٹپکنے والی چھت ہے۔D* بادشاہ کا طیش جوان شیرببر کی دہاڑوں کی مانند ہے جبکہ اُس کی منظوری گھاس پر شبنم کی طرح تر و تازہ کرتی ہے۔)7 انسان کی حکمت اُسے تحمل سکھاتی ہے، اور دوسروں کے جرائم سے درگزر کرنا اُس کا فخر ہے۔ i{i4انسان کا لالچ اُس کی رُسوائی کا باعث ہے، اور غریب دروغ گو سے بہتر ہے۔35انسان دل میں متعدد منصوبے باندھتا رہتا ہے، لیکن رب کا ارادہ ہمیشہ پورا ہو جاتا ہے۔p2[اچھا مشورہ اپنا اور تربیت قبول کر تاکہ آئندہ دانش مند ہو۔E1جو حد سے زیادہ طیش میں آئے اُسے جرمانہ دینا پڑے گا۔ اُسے بچانے کی کوشش مت کر ورنہ اُس کا طیش اَور بڑھے گا۔$0Cجب تک اُمید کی کرن باقی ہو اپنے بیٹے کی تادیب کر، لیکن اِتنے جوش میں نہ آ کہ وہ مر جائے۔/{جو غریب پر مہربانی کرے وہ رب کو اُدھار دیتا ہے، وہی اُسے اجر دے گا۔ 2L"s2:شریر گواہ انصاف کا مذاق اُڑاتا ہے، اور بےدین کا منہ آفت کی خبریں پھیلاتا ہے۔%9Eمیرے بیٹے، تربیت پر دھیان دینے سے باز نہ آ، ورنہ تُو علم و عرفان کی راہ سے بھٹک جائے گا۔*8Oجو اپنے باپ پر ظلم کرے اور اپنی ماں کو نکال دے وہ والدین کے لئے شرم اور رُسوائی کا باعث ہے۔$7Cطعنہ زن کو مار تو سادہ لوح سبق سیکھے گا، سمجھ دار کو ڈانٹ تو اُس کے علم میں اضافہ ہو گا۔}6uکاہل اپنا ہاتھ کھانے کے برتن میں ڈال کر اُسے منہ تک نہیں لا سکتا۔/5Yرب کا خوف زندگی کا منبع ہے۔ خدا ترس آدمی سیر ہو کر سکون سے سو جاتا اور مصیبت سے محفوظ رہتا ہے۔ *7?iکاہل وقت پر ہل نہیں چلاتا، چنانچہ جب وہ فصل پکتے وقت اپنے کھیت پر نگاہ کرے تو کچھ نظر نہیں آئے گا۔#>Aلڑائی جھگڑے سے باز رہنا عزت کا طُرۂ امتیاز ہے جبکہ ہر احمق جھگڑنے کے لئے تیار رہتا ہے۔.=Wبادشاہ کا قہر جوان شیرببر کی دہاڑوں کی مانند ہے، جو اُسے طیش دلائے وہ اپنی جان پر کھیلتا ہے۔,< Uمَے طعنہ زن کا باپ اور شراب شور شرابہ کی ماں ہے۔ جو یہ پی پی کر ڈگمگانے لگے وہ دانش مند نہیں۔n;Wطعنہ زن کے لئے سزا اور احمق کی پیٹھ کے لئے کوڑا تیار ہے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju%0;FQ\fq| B$ B% B&  B'  B(  B)  B*  B+ B, B$ B% B&  B'  B(  B)  B*  B+ B, B- B. B/ B0 B1 B2 B3 B4 B5 B6 B7 B8 B9 B: B;  B< B= B> B? B@ BA BB BC  BD  BE  BF  BG  BH BI BJ BK BL BM BN BO BP BQ BR BS BT BU BV BW BX BY  BZ B[ B\ B] B^ B_ B` Ba  Bb  Bc  Bd  Be  Bf Bg Bh jL?jaE= غلط باٹ اور غلط پیمائش، رب دونوں سے گھن کھاتا ہے۔,DS کون کہہ سکتا ہے، ”مَیں نے اپنے دل کو پاک صاف کر رکھا ہے، مَیں اپنے گناہ سے پاک ہو گیا ہوں“؟:Coجب بادشاہ تختِ عدالت پر بیٹھ جائے تو وہ اپنی آنکھوں سے سب کچھ چھان کر ہر غلط بات ایک طرف کر لیتا ہے۔kBQجو راست باز بےالزام زندگی گزارے اُس کی اولاد مبارک ہے۔A-بہت سے لوگ اپنی وفادری پر فخر کرتے ہیں، لیکن قابلِ اعتماد شخص کہاں پایا جاتا ہے؟/@Yانسان کے دل کا منصوبہ گہرے پانی کی مانند ہے، لیکن سمجھ دار آدمی اُسے نکال کر عمل میں لاتا ہے۔ 9 <%JEسونا اور کثرت کے موتی پائے جا سکتے ہیں، لیکن سمجھ دار ہونٹ اُن سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔HI گاہک دکاندار سے کہتا ہے، ”یہ کیسی ناقص چیز ہے!“ لیکن پھر جا کر دوسروں کے سامنے اپنے سودے پر شیخی مارتا ہے۔.HW نیند کو پیار نہ کر ورنہ غریب ہو جائے گا۔ اپنی آنکھوں کو کھلا رکھ تو جی بھر کر کھانا کھائے گا۔yGm سننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھیں دونوں ہی رب نے بنائی ہیں۔BF لڑکے کا کردار اُس کے سلوک سے معلوم ہوتا ہے۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ اُس کا چال چلن پاک اور راست ہے یا نہیں۔ GSG O جو اپنے باپ یا ماں پر لعنت کرے اُس کا چراغ گھنے اندھیرے میں بجھ جائے گا۔IN اگر تُو بہتان لگانے والے کو ہم راز بنائے تو وہ اِدھر اُدھر پھر کر بات پھیلائے گا۔ چنانچہ باتونی سے گریز کر۔+MQمنصوبے صلاح مشورے سے مضبوط ہو جاتے ہیں، اور جنگ کرنے سے پہلے دوسروں کی ہدایات پر دھیان دے۔*LOدھوکے سے حاصل کی ہوئی روٹی آدمی کو میٹھی لگتی ہے، لیکن اُس کا انجام کنکروں سے بھرا منہ ہے۔yKmضمانت کا وہ لباس واپس نہ کر جو کسی نے پردیسی کا ضامن بن کر دیا ہے۔ اگر وہ اجنبی کا ضامن ہو تو اُس ضمانت پر ضرور قبضہ کر جو اُس نے دی تھی۔  qE =Uuدانش مند بادشاہ بےدینوں کو چھان چھان کر اُڑا لیتا ہے، ہاں وہ گاہنے کا آلہ ہی اُن پر سے گزرنے دیتا ہے۔OTانسان اپنے لئے پھندا تیار کرتا ہے جب وہ جلدبازی سے مَنت مانتا اور بعد میں ہی مَنت کے نتائج پر غور کرنے لگتا ہے۔ Sرب ہر ایک کے قدم مقرر کرتا ہے۔ تو پھر انسان کس طرح اپنی راہ سمجھ سکتا ہے؟R{رب جھوٹے باٹوں سے گھن کھاتا ہے، اور غلط ترازو اُسے اچھا نہیں لگتا۔"Q?مت کہنا، ”مَیں غلط کام کا انتقام لوں گا۔“ رب کے انتظار میں رہ تو وہی تیری مدد کرے گا۔ Pجو میراث شروع میں بڑی جلدی سے مل جائے وہ آخر میں برکت کا باعث نہیں ہو گی۔ ZfIZ#[Aہر آدمی کی راہ اُس کی اپنی نظر میں ٹھیک لگتی ہے، لیکن رب ہی دلوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔Z /بادشاہ کا دل رب کے ہاتھ میں نہر کی مانند ہے۔ وہ جدھر چاہے اُس کا رُخ پھیر دیتا ہے۔$YCزخم اور چوٹیں بُرائی کو دُور کر دیتی ہیں، ضربیں باطن کی تہہ تک سب کچھ صاف کر دیتی ہیں۔ Xyنوجوانوں کا فخر اُن کی طاقت اور بزرگوں کی شان اُن کے سفید بال ہیں۔W%شفقت اور وفا بادشاہ کو محفوظ رکھتی ہیں، شفقت سے وہ اپنا تخت مستحکم کر لیتا ہے۔V%آدم زاد کی روح رب کا چراغ ہے جو انسان کے باطن کی تہہ تک سب کچھ کی تحقیق کرتا ہے۔ vp8tacقصوروار کی راہ پیچ دار ہے جبکہ پاک شخص سیدھی راہ پر چلتا ہے۔"`?بےدینوں کا ظلم ہی اُنہیں گھسیٹ کر لے جاتا ہے، کیونکہ وہ انصاف کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ _فریب دہ زبان سے جمع کیا ہوا خزانہ بکھر جانے والا دھواں اور مہلک پھندا ہے۔ ^محنتی شخص کے منصوبے نفع کا باعث ہیں، لیکن جلدبازی غربت تک پہنچا دیتی ہے۔r]_مغرور آنکھیں اور متکبر دل جو بےدینوں کا چراغ ہیں گناہ ہیں۔\راست بازی اور انصاف کرنا رب کو ذبح کی قربانیوں سے کہیں زیادہ پسند ہے۔ rUVr_f9 جو کان میں اُنگلی ڈال کر غریب کی مدد کے لئے چیخیں نہیں سنتا وہ بھی ایک دن چیخیں مارے گا، اور اُس کی بھی نہیں سنی جائے گی۔ e; اللہ جو راست ہے بےدین کے گھر کو دھیان میں رکھتا ہے، وہی بےدین کو خاک میں ملا دیتا ہے۔8dk طعنہ زن پر جرمانہ لگا تو سادہ لوح سبق سیکھے گا، دانش مند کو تعلیم دے تو اُس کے علم میں اضافہ ہو گا۔c+ بےدین غلط کام کرنے کے لالچ میں رہتا ہے اور اپنے کسی بھی پڑوسی پر ترس نہیں کھاتا۔&bG جھگڑالو بیوی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے کی نسبت چھت کے کسی کونے میں گزارہ کرنا بہتر ہے۔ 6[1k]جب راست باز کا فدیہ دینا ہے تو بےدین کو دیا جائے گا، اور دیانت دار کی جگہ بےوفا کو دیا جائے گا۔;jqجو عیش و عشرت کی زندگی پسند کرے وہ غریب ہو جائے گا، جسے مَے اور تیل پیارا ہو وہ امیر نہیں ہو جائے گا۔iجو سمجھ کی راہ سے بھٹک جائے وہ ایک دن مُردوں کی جماعت میں آرام کرے گا۔ hجب انصاف کیا جائے تو راست باز خوش ہو جاتا، لیکن بدکار دہشت کھانے لگتا ہے۔Egپوشیدگی میں صلہ دینے سے دوسرے کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا، کسی کی جیب گرم کرنے سے اُس کا سخت طیش دُور ہو جاتا ہے۔ :\+e:qمغرور اور گھمنڈی کا نام ’طعنہ زن‘ ہے، ہر کام وہ بےحد تکبر کے ساتھ کرتا ہے۔pجو اپنے منہ اور زبان کی پہرہ داری کرے وہ اپنی جان کو مصیبت سے بچائے رکھتا ہے۔Ao}دانش مند آدمی طاقت ور فوجیوں کے شہر پر حملہ کر کے وہ قلعہ بندی ڈھا دیتا ہے جس پر اُن کا پورا اعتماد تھا۔nجو انصاف اور شفقت کا تعاقب کرتا رہے وہ زندگی، راستی اور عزت پائے گا۔$mCدانش مند کے گھر میں عمدہ خزانہ اور تیل ہوتا ہے، لیکن احمق اپنا سارا مال ہڑپ کر لیتا ہے۔l9جھگڑالو اور تنگ کرنے والی بیوی کے ساتھ بسنے کی نسبت ریگستان میں گزارہ کرنا بہتر ہے۔ ZO8ZowYکسی کی بھی حکمت، سمجھ یا منصوبہ رب کا سامنا نہیں کر سکتا۔8vkبےدین آدمی گستاخ انداز سے پیش آتا ہے، لیکن سیدھی راہ پر چلنے والا سوچ سمجھ کر اپنی راہ پر چلتا ہے۔)uMجھوٹا گواہ تباہ ہو جائے گا، لیکن جو دوسرے کی دھیان سے سنے اُس کی بات ہمیشہ تک قائم رہے گی۔ tبےدینوں کی قربانی قابلِ گھن ہے، خاص کر جب اُسے بُرے مقصد سے پیش کیا جائے۔s}لالچی پورا دن لالچ کرتا رہتا ہے، لیکن راست باز فیاض دلی سے دیتا ہے۔,rSکاہل کا لالچ اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیتا ہے، کیونکہ اُس کے ہاتھ کام کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ nh73}aبےدین کی راہ میں کانٹے اور پھندے ہوتے ہیں۔ جو اپنی جان محفوظ رکھنا چاہے وہ اُن سے دُور رہتا ہے۔u|eفروتنی اور رب کا خوف ماننے کا پھل دولت، احترام اور زندگی ہے۔3{aذہین آدمی خطرہ پہلے سے بھانپ کر چھپ جاتا ہے، جبکہ سادہ لوح آگے بڑھ کر اُس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔yzmامیر اور غریب ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، رب اُن سب کا خالق ہے۔y نیک نام بڑی دولت سے قیمتی، اور منظورِ نظر ہونا سونے چاندی سے بہتر ہے۔ xگھوڑے کو جنگ کے دن کے لئے تیار تو کیا جاتا ہے، لیکن فتح رب کے ہاتھ میں ہے۔ %`?%- جو دل کی پاکیزگی کو پیار کرے اور مہربان زبان کا مالک ہو وہ بادشاہ کا دوست بنے گا۔gI طعنہ زن کو بھگا دے تو لڑائی جھگڑا گھر سے نکل جائے گا، تُو تُو مَیں مَیں اور ایک دوسرے کی بےعزتی کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔  فیاض دل کو برکت ملے گی، کیونکہ وہ پست حال کو اپنے کھانے میں شریک کرتا ہے۔ ;جو ناانصافی کا بیج بوئے وہ آفت کی فصل کاٹے گا، تب اُس کی زیادتی کی لاٹھی ٹوٹ جائے گی۔xkامیر غریب پر حکومت کرتا، اور قرض دار قرض خواہ کا غلام ہوتا ہے۔~1چھوٹے بچے کو صحیح راہ پر چلنے کی تربیت دے تو وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں ہٹے گا۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq| Bj Bk Bl Bm Bn Bo Bp Bq Br Bj Bk Bl Bm Bn Bo Bp Bq Br Bs Bt Bu Bv Bw Bx  By Bz B{ B| B} B~ B B  B  B  B  B  B B B B B B B B B B B B B B B B B  B B B B B B B B  B  B  B  B  B B B B B B B B B B B B B mN m| sکان لگا کر داناؤں کی باتوں پر دھیان دے، دل سے میری تعلیم اپنا لے!+Qایک پست حال پر ظلم کرتا ہے تاکہ دولت پائے، دوسرا امیر کو تحفے دیتا ہے لیکن غریب ہو جاتا ہے۔yبچے کے دل میں حماقت ٹکتی ہے، لیکن تربیت کی چھڑی اُسے بھگا دیتی ہے۔ زناکار عورت کا منہ گہرا گڑھا ہے۔ جس سے رب ناراض ہو وہ اُس میں گر جاتا ہے۔/ کاہل کہتا ہے، ”گلی میں شیر ہے، اگر باہر جاؤں تو مجھے کسی چوک میں پھاڑ کھائے گا۔“-U رب کی آنکھیں علم و عرفان کی دیکھ بھال کرتی ہیں، لیکن وہ بےوفا کی باتوں کو تباہ ہونے دیتا ہے۔ Y"/پست حال کو اِس لئے نہ لُوٹ کہ وہ پست حال ہے، مصیبت زدہ کو عدالت میں مت کچلنا۔n Wکیونکہ مَیں تجھے سچائی کی قابلِ اعتماد باتیں سکھانا چاہتا ہوں تاکہ تُو اُنہیں قابلِ اعتماد جواب دے سکے جنہوں نے تجھے بھیجا ہے۔' Iمَیں نے تیرے لئے 30کہاوتیں قلم بند کی ہیں، ایسی باتیں جو مشوروں اور علم سے بھری ہوئی ہیں۔ آج مَیں تجھے، ہاں تجھے ہی تعلیم دے رہا ہوں تاکہ تیرا بھروسا رب پر رہے۔" ?کیونکہ اچھا ہے کہ تُو اُنہیں اپنے دل میں محفوظ رکھے، وہ سب تیرے ہونٹوں پر مستعد رہیں۔ qpKq}زمین کی جو حدود تیرے باپ دادا نے مقرر کیں اُنہیں آگے پیچھے مت کرنا۔Oقرض دار کے پیسے واپس نہ کرنے پر اگر تُو بھی پیسے ادا نہ کر سکے تو تیری چارپائی بھی تیرے نیچے سے چھین لی جائے گی۔|sکبھی ہاتھ ملا کر وعدہ نہ کر کہ مَیں دوسرے کے قرضے کا ضامن ہوں گا۔ایسا نہ ہو کہ تُو اُس کا چال چلن اپنا کر اپنی جان کے لئے پھندا لگائے۔+غصیلے شخص کا دوست نہ بن، نہ اُس سے زیادہ تعلق رکھ جو جلدی سے آگ بگولا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ رب خود اُن کا دفاع کر کے اُنہیں لُوٹ لے گا جو اُنہیں لُوٹ رہے ہیں۔ l%3#l2_ایک نظر دولت پر ڈال تو وہ اوجھل ہو جاتی ہے، اور پَر لگا کر عقاب کی طرح آسمان کی طرف اُڑ جاتی ہے۔!اپنی پوری طاقت امیر بننے میں صَرف نہ کر، اپنی حکمت ایسی کوششوں سے ضائع مت کر۔tcاُس کی عمدہ چیزوں کا لالچ مت کر، کیونکہ یہ کھانا فریب دہ ہے۔Pاگر تُو پیٹو ہو تو اپنے گلے پر چھری رکھ۔ /اگر تُو کسی حکمران کے کھانے میں شریک ہو جائے تو خوب دھیان دے کہ تُو کس کے حضور ہے۔V'کیا تجھے ایسا آدمی نظر آتا ہے جو اپنے کام میں ماہر ہے؟ وہ نچلے طبقے کے لوگوں کی خدمت نہیں کرے گا بلکہ بادشاہوں کی۔ DD   کیونکہ اُن کا چھڑانے والا قوی ہے، وہ اُن کے حق میں خود تیرے خلاف لڑے گا۔B زمین کی جو حدود قدیم زمانے میں مقرر ہوئیں اُنہیں آگے پیچھے مت کرنا، اور یتیموں کے کھیتوں پر قبضہ نہ کر۔xk احمق سے بات نہ کر، کیونکہ وہ تیری دانش مند باتیں حقیر جانے گا۔0[جو لقمہ تُو نے کھا لیا اُس سے تجھے قَے آئے گی، اور تیری اُس سے دوستانہ باتیں ضائع ہو جائیں گی۔;qکیونکہ یہ گلے میں بال کی طرح ہو گا۔ وہ تجھ سے کہے گا، ”کھاؤ، پیؤ!“ لیکن اُس کا دل تیرے ساتھ نہیں ہے۔r_جلنے والے کی روٹی مت کھا، اُس کے لذیذ کھانوں کا لالچ نہ کر۔ ]]' کیونکہ تیری اُمید جاتی نہیں رہے گی بلکہ تیرا مستقبل یقیناً اچھا ہو گا۔$&Cتیرا دل گناہ گاروں کو دیکھ کر کُڑھتا نہ رہے بلکہ پورے دن رب کا خوف رکھنے میں سرگرم رہے۔%مَیں اندر ہی اندر خوشی مناؤں گا جب تیرے ہونٹ دیانت دار باتیں کریں گے۔s$aمیرے بیٹے، اگر تیرا دل دانش مند ہو تو میرا دل بھی خوش ہو گا۔h#Kچھڑی سے اُسے سزا دے تو اُس کی جان موت سے چھوٹ جائے گی۔" بچے کو تربیت سے محروم نہ رکھ، چھڑی سے اُسے سزا دینے سے وہ نہیں مرے گا۔r!_ اپنا دل تربیت کے حوالے کر اور اپنے کان علم کی باتوں پر لگا۔ "t9m".9چنانچہ اپنے ماں باپ کے لئے خوشی کا باعث ہو، ایسی زندگی گزار کہ تیری ماں جشن منا سکے۔"-?راست باز کا باپ بڑی خوشی مناتا ہے، اور دانش مند بیٹے کا والد اُس سے لطف اندوز ہوتا ہے۔,%سچائی خرید لے اور کبھی فروخت نہ کر، اُس میں شامل حکمت، تربیت اور سمجھ اپنا لے۔++اپنے باپ کی سن جس نے تجھے پیدا کیا، اور اپنی ماں کو حقیر نہ جان جب بوڑھی ہو جائے۔*کیونکہ شرابی اور پیٹو غریب ہو جائیں گے، اور کاہلی اُنہیں چیتھڑے پہنائے گی۔7)kشرابی اور پیٹو سے دریغ کر،( میرے بیٹے، سن کر دانش مند ہو جا اور صحیح راہ پر اپنے دل کی راہمنائی کر۔ x\43مَے کو تکتا نہ رہ، خواہ اُس کا سرخ رنگ کتنی خوب صورتی سے پیالے میں کیوں نہ چمکے، خواہ اُسے بڑے مزے سے کیوں نہ پیا جائے۔ 3وہ جو رات گئے تک مَے پینے اور مسالے دار مَے سے مزہ لینے میں مصروف رہتا ہے۔s2aکون آہیں بھرتا ہے؟ کون ہائے ہائے کرتا اور لڑائی جھگڑے میں ملوث رہتا ہے؟ کس کو بلاوجہ چوٹیں لگتی، کس کی آنکھیں دُھندلی سی رہتی ہیں؟1ڈاکو کی طرح وہ تاک لگائے بیٹھ کر مردوں میں بےوفاؤں کا اضافہ کرتی ہے۔f0Gکیونکہ کسبی گہرا گڑھا اور زناکار عورت تنگ کنواں ہے،/میرے بیٹے، اپنا دل میرے حوالے کر، تیری آنکھیں میری راہیں پسند کریں۔ 1R>1:3کیونکہ اُن کا دل ظلم کرنے پر تُلا رہتا ہے، اُن کے ہونٹ دوسروں کو دُکھ پہنچاتے ہیں۔h9 Mشریروں سے حسد نہ کر، نہ اُن سے صحبت رکھنے کی آرزو رکھ،8#تُو کہے گا، ”میری پٹائی ہوئی لیکن درد محسوس نہ ہوا، مجھے مارا گیا لیکن معلوم نہ ہوا۔ مَیں کب جاگ اُٹھوں گا تاکہ دوبارہ شراب کی طرف رُخ کر سکوں؟“ #7A"تُو سمندر کے بیچ میں لیٹنے والے کی مانند ہو گا، اُس جیسا جو مستول پر چڑھ کر لیٹ گیا ہو۔6!تیری آنکھیں عجیب و غریب منظر دیکھیں گی اور تیرا دل بےتُکی باتیں ہکلائے گا۔n5W انجام کار وہ تجھے سانپ کی طرح کاٹے گی، ناگ کی طرح ڈسے گی۔ {l{U@%بُرے منصوبے باندھنے والا سازشی کہلاتا ہے۔w?iحکمت اِتنی بلند و بالا ہے کہ احمق اُسے پا نہیں سکتا۔ جب بزرگ شہر کے دروازے میں فیصلہ کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں تو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔>)کیونکہ جنگ کرنے کے لئے ہدایت اور فتح پانے کے لئے متعدد مشیروں کی ضرورت ہوتی ہے۔=}دانش مند کو طاقت حاصل ہوتی اور علم رکھنے والے کی قوت بڑھتی رہتی ہے، <اور علم و عرفان اُس کے کمروں کو بیش قیمت اور من موہن چیزوں سے بھر دیتا ہے۔y;mحکمت گھر کو تعمیر کرتی، سمجھ اُسے مضبوط بنیاد پر کھڑا کر دیتی، B<B|Es میرے بیٹے، شہد کھا کیونکہ وہ اچھا ہے، چھتے کا خالص شہد میٹھا ہے۔uDe شاید تُو کہے، ”ہمیں تو اِس کے بارے میں علم نہیں تھا۔“ لیکن یقین جان، جو دل کی جانچ پڑتال کرتا ہے وہ بات سمجھتا ہے، جو تیری جان کی دیکھ بھال کرتا ہے اُسے معلوم ہے۔ وہ انسان کو اُس کے اعمال کا بدلہ دیتا ہے۔IT_ju$/:EP[fq| B B B B B  B !B "B #B B B B B B  B !B "B #B  B B B B B B B B  B  B  B  B  B B B B B B B B B B B B B B B B B B B  B !B "B  B B B B B B B B  B  B  B  B  B B B B B B B B B B B B B B SS/PYجو قصوروار سے کہے، "تُو بےقصور ہے" اُس پر قومیں لعنت بھیجیں گی، اُس کی سرزنش اُمّتیں کریں گی۔&OGذیل میں دانش مندوں کی مزید کہاوتیں قلم بند ہیں۔ عدالت میں جانب داری دکھانا بُری بات ہے۔KNکیونکہ اچانک ہی اُن پر آفت آئے گی، کسی کو پتا ہی نہیں چلے گا جب دونوں اُن پر حملہ کر کے اُنہیں تباہ کر دیں گے۔zMoمیرے بیٹے، رب اور بادشاہ کا خوف مان، اور سرکشوں میں شریک نہ ہو۔|Lsکیونکہ شریروں کا کوئی مستقبل نہیں، بےدینوں کا چراغ بجھ جائے گا۔|Ksبدکاروں کو دیکھ کر مشتعل نہ ہو جا، بےدینوں کے باعث کُڑھتا نہ رہ۔ l" Vایک دن مَیں سُست اور ناسمجھ آدمی کے کھیت اور انگور کے باغ میں سے گزرا۔UU%مت کہنا، ”جس طرح اُس نے میرے ساتھ کیا اُسی طرح مَیں اُس کے ساتھ کروں گا، مَیں اُس کے ہر فعل کا مناسب جواب دوں گا۔“"T?بلاوجہ اپنے پڑوسی کے خلاف گواہی مت دے۔ یا کیا تُو اپنے ہونٹوں سے دھوکا دینا چاہتا ہے؟Sپہلے باہر کا کام مکمل کر کے اپنے کھیتوں کو تیار کر، پھر ہی اپنا گھر تعمیر کر۔FRسچا جواب دوست کے بوسے کی مانند ہے۔Qلیکن جو قصوروار کو مجرم ٹھہرائے وہ خوش حال ہو گا، اُسے کثرت کی برکت ملے گی۔ f(f+[ Sذیل میں سلیمان کی مزید کہاوتیں درج ہیں جنہیں یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ کے لوگوں نے جمع کیا۔:Zo"تو خبردار، جلد ہی غربت راہزن کی طرح تجھ پر آئے گی، مفلسی ہتھیار سے لیس ڈاکو کی طرح تجھ پر آ پڑے گی۔ eYE!اگر تُو کہے، ”مجھے تھوڑی دیر سونے دے، تھوڑی دیر اونگھنے دے، تھوڑی دیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے دے تاکہ مَیں آرام کر سکوں“eXE یہ دیکھ کر مَیں نے دل سے دھیان دیا اور سبق سیکھ لیا،SW!ہر جگہ کانٹےدار جھاڑیاں پھیلی ہوئی تھیں، خود رَو پودے پوری زمین پر چھا گئے تھے۔ اُس کی چاردیواری بھی گر گئی تھی۔ !|`0`[بادشاہ کے حضور اپنے آپ پر فخر نہ کر، نہ عزت کی اُس جگہ پر کھڑا ہو جا جو بزرگوں کے لئے مخصوص ہے۔_)بےدین کو بادشاہ کے حضور سے دُور کرو تو اُس کا تخت راستی کی بنیاد پر قائم رہے گا۔|^sچاندی سے مَیل دُور کرو تو سنار برتن بنانے میں کامیاب ہو جائے گا، ];جتنا آسمان بلند اور زمین گہری ہے اُتنا ہی بادشاہوں کے دل کا کھوج نہیں لگایا جا سکتا۔Z\/اللہ کا جلال اِس میں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ معاملہ پوشیدہ رکھتا ہے، بادشاہ کا جلال اِس میں کہ وہ معاملے کی تحقیق کرتا ہے۔ <C<re_ وقت پر موزوں بات چاندی کے برتن میں سونے کے سیب کی مانند ہے۔ d ایسا نہ ہو کہ سننے والا تیری بےعزتی کرے۔ تب تیری بدنامی کبھی نہیں مٹے گی۔"c? عدالت میں اپنے پڑوسی سے لڑتے وقت وہ بات بیان نہ کر جو کسی نے پوشیدگی میں تیرے سپرد کی،/bYجلدبازی نہ کر، کیونکہ تُو کیا کرے گا اگر تیرا پڑوسی تیرے معاملے کو جھٹلا کر تجھے شرمندہ کرے؟]a5اِس سے پہلے کہ شرفا کے سامنے ہی تیری بےعزتی ہو جائے بہتر ہے کہ تُو پیچھے کھڑا ہو جا اور بعد میں کوئی تجھ سے کہے، ”یہاں سامنے آ جائیں۔“ جو کچھ تیری آنکھوں نے دیکھا اُسے عدالت میں پیش کرنے میں rSg rj%اگر شہد مل جائے تو ضرورت سے زیادہ مت کھا، حد سے زیادہ کھانے سے تجھے قَے آئے گی۔ iحکمران کو تحمل سے قائل کیا جا سکتا، اور نرم زبان ہڈیاں توڑنے کے قابل ہے۔Gh جو شیخی مار کر تحفوں کا وعدہ کرے لیکن کچھ نہ دے وہ اُن طوفانی بادلوں کی مانند ہے جو برسے بغیر گزر جاتے ہیں۔ggI قابلِ اعتماد قاصد بھیجنے والے کے لئے فصل کاٹتے وقت برف کی ٹھنڈک جیسا ہے، اِس طرح وہ اپنے مالک کی جان کو تر و تازہ کر دیتا ہے۔(fK دانش مند کی نصیحت قبول کرنے والے کے لئے سونے کی بالی اور خالص سونے کے گلوبند کی مانند ہے۔ E9oاگر تیرا دشمن بھوکا ہو تو اُسے کھانا کھلا، اگر پیاسا ہو تو پانی پلا۔Hn دُکھتے دل کے لئے گیت گانا اُتنا ہی غیرموزوں ہے جتنا سردیوں کے موسم میں قمیص اُتارنا یا سوڈے پر سرکہ ڈالنا۔m)مصیبت کے وقت بےوفا پر اعتبار کرنا خراب دانت یا ڈگمگاتے پاؤں کی طرح تکلیف دہ ہے۔l7جو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی دے وہ ہتھوڑے، تلوار اور تیز تیر جیسا نقصان دہ ہے۔6kgاپنے پڑوسی کے گھر میں بار بار جانے سے اپنے قدموں کو روک، ورنہ وہ تنگ آ کر تجھ سے نفرت کرنے لگے گا۔ AKiQA|usزیادہ شہد کھانا اچھا نہیں، اور نہ ہی زیادہ اپنی عزت کی فکر کرنا۔ tجو راست باز بےدین کے سامنے ڈگمگانے لگے، وہ گدلا چشمہ اور آلودہ کنواں ہے۔isMدُوردراز ملک کی خوش خبری پیاسے گلے میں ٹھنڈا پانی ہے۔&rGجھگڑالو بیوی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے کی نسبت چھت کے کسی کونے میں گزارہ کرنا بہتر ہے۔]q5جس طرح کالے بادل لانے والی ہَوا بارش پیدا کرتی ہے اُسی طرح باتونی کی چپکے سے کی گئی باتوں سے لوگوں کے منہ بگڑ جاتے ہیں۔0p[کیونکہ ایسا کرنے سے تُو اُس کے سر پر جلتے ہوئے کوئلوں کا ڈھیر لگائے گا، اور رب تجھے اجر دے گا۔ @j ~@{3جب احمق احمقانہ باتیں کرے تو اُسے جواب دے، ورنہ وہ اپنی نظر میں دانش مند ٹھہرے گا۔z+جب احمق احمقانہ باتیں کرے تو اُسے جواب نہ دے، ورنہ تُو اُسی کے برابر ہو جائے گا۔ y گھوڑے کو چھڑی سے، گدھے کو لگام سے اور احمق کی پیٹھ کو لاٹھی سے تربیت دے۔5xeبلاوجہ بھیجی ہوئی لعنت پھڑپھڑاتی چڑیا یا اُڑتی ہوئی ابابیل کی طرح اوجھل ہو کر بےاثر رہ جاتی ہے۔w ;احمق کی عزت کرنا اُتنا ہی غیرموزوں ہے جتنا موسمِ گرما میں برف یا فصل کاٹتے وقت بارش۔vجو اپنے آپ پر قابو نہ پا سکے وہ اُس شہر کی مانند ہے جس کی فصیل ڈھا دی گئی ہے۔ H;4H جو احمق اپنی حماقت دہرائے وہ اپنی قَے کے پاس واپس آنے والے کُتے کی مانند ہے۔)M جو احمق یا ہر کسی گزرنے والے کو کام پر لگائے وہ سب کو زخمی کرنے والے تیرانداز کی مانند ہے۔#A احمق کے منہ میں حکمت کی بات نشے میں دُھت شرابی کے ہاتھ میں کانٹےدار جھاڑی کی مانند ہے۔r~_احمق کا احترام کرنا غلیل کے ساتھ پتھر باندھنے کے برابر ہے۔ }احمق کے منہ میں حکمت کی بات مفلوج کی بےحرکت لٹکتی ٹانگوں کی طرح بےکار ہے۔@|{جو احمق کے ہاتھ پیغام بھیجے وہ اُس کی مانند ہے جو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار کر اپنے آپ سے زیادتی کرتا ہے۔ :&n2_جو گزرتے وقت دوسروں کے جھگڑے میں مداخلت کرے وہ اُس آدمی کی مانند ہے جو کُتے کو کانوں سے پکڑ لے۔%کاہل اپنی نظر میں حکمت سے جواب دینے والے سات آدمیوں سے کہیں زیادہ دانش مند ہے۔3aجب کاہل اپنا ہاتھ کھانے کے برتن میں ڈال دے تو وہ اِتنا سُست ہے کہ اُسے منہ تک واپس نہیں لا سکتا۔جس طرح دروازہ قبضے پر گھومتا ہے اُسی طرح کاہل اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا ہے۔{q کاہل کہتا ہے، ”راستے میں شیر ہے، ہاں چوکوں میں شیر پھر رہا ہے!“A} کیا کوئی دکھائی دیتا ہے جو اپنے آپ کو دانش مند سمجھتا ہے؟ اُس کی نسبت احمق کے سدھرنے کی زیادہ اُمید ہے۔ rHrQ انگاروں میں کوئلے اور آگ میں لکڑی ڈال تو آگ بھڑک اُٹھے گی۔ جھگڑالو کو کہیں بھی کھڑا کر تو لوگ مشتعل ہو جائیں گے۔% Eلکڑی کے ختم ہونے پر آگ بجھ جاتی ہے، تہمت لگانے والے کے چلے جانے پر جھگڑا بند ہو جاتا ہے۔ جو اپنے پڑوسی کو فریب دے کر بعد میں کہے، ”مَیں صرف مذاق کر رہا تھا“ وہ اُس دیوانے کی مانند ہے جو لوگوں پر جلتے ہوئے اور مہلک تیر برساتا ہے۔جو اپنے پڑوسی کو فریب دے کر بعد میں کہے، ”مَیں صرف مذاق کر رہا تھا“ وہ اُس دیوانے کی مانند ہے جو لوگوں پر جلتے ہوئے اور مہلک تیر برساتا ہے۔ Z_G گو اُس کی نفرت فی الحال فریب سے چھپی رہے، لیکن ایک دن اُس کا غلط کردار پوری جماعت کے سامنے ظاہر ہو جائے گا۔"?جب وہ مہربان باتیں کرے تو اُس پر یقین نہ کر، کیونکہ اُس کے دل میں سات مکروہ باتیں ہیں۔1]نفرت کرنے والا اپنے ہونٹوں سے اپنا اصلی روپ چھپا لیتا ہے، لیکن اُس کا دل فریب سے بھرا رہتا ہے۔ -جلنے والے ہونٹ اور شریر دل مٹی کے اُس برتن کی مانند ہیں جسے چمک دار بنایا گیا ہو۔! =تہمت لگانے والے کی باتیں لذیذ کھانے کے لقموں جیسی ہیں، وہ دل کی تہہ تک اُتر جاتی ہیں۔ E  !,7BMXcny)4?JT_ju%0;FQ\gr| B  B B B B B B B B B  B B B B B B B B  B  C  C  C  C C C C C C C C C C C C C C C C  C C C C C C C C  C  C  C  C  C C C! C" C# C$ C% C& C' C( C) C* C+ C, C-  C. C/ C0 C1 C2 C3 C4 C5  C6  C7  C8  C9  C: eCe1پتھر بھاری اور ریت وزنی ہے، لیکن جو احمق تجھے تنگ کرے وہ زیادہ ناقابلِ برداشت ہے۔)تیرا اپنا منہ اور اپنے ہونٹ تیری تعریف نہ کریں بلکہ وہ جو تجھ سے واقف بھی نہ ہو۔ 7اُس پر شیخی نہ مار جو تُو کل کرے گا، تجھے کیا معلوم کہ کل کا دن کیا کچھ فراہم کرے گا؟0[جھوٹی زبان اُن سے نفرت کرتی ہے جنہیں وہ کچل دیتی ہے، خوشامد کرنے والا منہ تباہی مچا دیتا ہے۔ جو دوسروں کو پھنسانے کے لئے گڑھا کھودے وہ اُس میں خود گر جائے گا، جو پتھر لُڑھکا کر دوسروں پر پھینکنا چاہے اُس پر ہی پتھر واپس لُڑھک آئے گا۔ TVymجو آدمی اپنے گھر سے نکل کر مارا مارا پھرے وہ اُس پرندے کی مانند ہے جو اپنے گھونسلے سے بھاگ کر کبھی اِدھر کبھی اُدھر پھڑپھڑاتا رہتا ہے۔+Qجو سیر ہے وہ شہد کو بھی پاؤں تلے روند دیتا ہے، لیکن بھوکے کو کڑوی چیزیں بھی میٹھی لگتی ہیں۔)Mپیار کرنے والے کی ضربیں وفا کا ثبوت ہیں، لیکن نفرت کرنے والے کے متعدد بوسوں سے خبردار رہ۔Lکھلی ملامت چھپی ہوئی محبت سے بہتر ہے۔'Iغصہ ظالم ہوتا اور طیش سیلاب کی طرح انسان پر آ جاتا ہے، لیکن کون حسد کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ he3a ذہین آدمی خطرہ پہلے سے بھانپ کر چھپ جاتا ہے، جبکہ سادہ لوح آگے بڑھ کر اُس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔+Q میرے بیٹے، دانش مند بن کر میرے دل کو خوش کر تاکہ مَیں اپنے حقیر جاننے والے کو جواب دے سکوں۔N اپنے دوستوں کو کبھی نہ چھوڑ، نہ اپنے ذاتی دوستوں کو نہ اپنے باپ کے دوستوں کو۔ تب تجھے مصیبت کے دن اپنے بھائی سے مدد نہیں مانگنی پڑے گی۔ کیونکہ قریب کا پڑوسی دُور کے بھائی سے بہتر ہے۔! تیل اور بخور دل کو خوش کرتے ہیں، لیکن دوست اپنے اچھے مشوروں سے خوشی دلاتا ہے۔ Zb^$7جو انجیر کے درخت کی دیکھ بھال کرے وہ اُس کا پھل کھائے گا، جو اپنے مالک کی وفاداری سے خدمت کرے اُس کا احترام کیا جائے گا۔d#Cلوہا لوہے کو اور انسان انسان کے ذہن کو تیز کرتا ہے۔h"Kاُسے روکنا ہَوا کو روکنے یا تیل کو پکڑنے کے برابر ہے۔! جھگڑالو بیوی موسلادھار بارش کے باعث مسلسل ٹپکنے والی چھت کی مانند ہے۔ /جو صبح سویرے بلند آواز سے اپنے پڑوسی کو برکت دے اُس کی برکت لعنت ٹھہرائی جائے گی۔ ضمانت کا وہ لباس واپس نہ کر جو کسی نے پردیسی کا ضامن بن کر دیا ہے۔ اگر وہ اجنبی عورت کا ضامن ہو تو اُس ضمانت پر ضرور قبضہ کر جو اُس نے دی تھی۔ gZ&*Gکیونکہ کوئی بھی دولت ہمیشہ تک قائم نہیں رہتی، کوئی بھی تاج نسل در نسل برقرار نہیں رہتا۔)احتیاط سے اپنی بھیڑبکریوں کی حالت پر دھیان دے، اپنے ریوڑوں پر خوب توجہ دے۔8(kاگر احمق کو اناج کی طرح اُوکھلی اور موسل سے کوٹا بھی جائے توبھی اُس کی حماقت دُور نہیں ہو جائے گی۔V''سونا اور چاندی کٹھالی میں پگھلا کر پاک صاف کر، لیکن انسان کا کردار اِس سے معلوم کر کہ لوگ اُس کی کتنی قدر کرتے ہیں۔q&]نہ موت اور نہ پاتال کبھی سیر ہوتے ہیں، نہ انسان کی آنکھیں۔%#جس طرح پانی چہرے کو منعکس کرتا ہے اُسی طرح انسان کا دل انسان کو منعکس کرتا ہے۔ :Z*:k/Qملک کی خطاکاری کے سبب سے اُس کی حکومت کی یگانگت قائم نہیں رہے گی، لیکن سمجھ دار اور دانش مند آدمی اُسے بڑی دیر تک قائم رکھے گا۔d. Eبےدین فرار ہو جاتا ہے حالانکہ تعاقب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، لیکن راست باز اپنے آپ کو جوان شیرببر کی طرح محفوظ سمجھتا ہے۔+-Qاور بکریاں اِتنا دودھ دیں گی کہ تیرے، تیرے خاندان اور تیرے نوکر چاکروں کے لئے کافی ہو گا۔ ,تب تُو بھیڑوں کی اُون سے کپڑے بنا سکے گا، بکروں کی فروخت سے کھیت خرید سکے گا،!+=کھلے میدان میں گھاس کاٹ کر جمع کر تاکہ نئی گھاس اُگ سکے، چارا پہاڑوں سے بھی اکٹھا کر۔ @xq,4Sجو شریعت کی پیروی کرے وہ سمجھ دار بیٹا ہے، لیکن عیاشوں کا ساتھی اپنے باپ کی بےعزتی کرتا ہے۔ 3بےالزام زندگی گزارنے والا غریب ٹیڑھی راہوں پر چلنے والے امیر سے بہتر ہے۔r2_شریر انصاف نہیں سمجھتے، لیکن رب کے طالب سب کچھ سمجھتے ہیں۔C1جس نے شریعت کو ترک کیا وہ بےدین کی تعریف کرتا ہے، لیکن جو شریعت کے تابع رہتا ہے وہ اُس کی مخالفت کرتا ہے۔;0qجو غریب غریبوں پر ظلم کرے وہ اُس موسلادھار بارش کی مانند ہے جو سیلاب لا کر فصلوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ *D9 جب راست باز فتح یاب ہوں تو ملک کی شان و شوکت بڑھ جاتی ہے، لیکن جب بےدین اُٹھ کھڑے ہوں تو لوگ چھپ جاتے ہیں۔B8 امیر اپنے آپ کو دانش مند سمجھتا ہے، لیکن جو ضرورت مند سمجھ دار ہے وہ اُس کا اصلی کردار معلوم کر لیتا ہے۔O7 جو سیدھی راہ پر چلنے والوں کو غلط راہ پر لائے وہ اپنے ہی گڑھے میں گر جائے گا، لیکن بےالزام اچھی میراث پائیں گے۔%6E جو اپنے کان میں اُنگلی ڈالے تاکہ شریعت کی باتیں نہ سنے اُس کی دعائیں بھی قابلِ گھن ہیں۔Q5جو اپنی دولت ناجائز سود سے بڑھائے وہ اُسے کسی اَور کے لئے جمع کر رہا ہے، ایسے شخص کے لئے جو غریبوں پر رحم کرے گا۔ WW3>aجو کسی کو قتل کرے وہ موت تک اپنے قصور کے نیچے دبا ہوا مارا مارا پھرے گا۔ ایسے شخص کا سہارا نہ بن!)=Mجہاں ناسمجھ حکمران ہے وہاں ظلم ہوتا ہے، لیکن جسے غلط نفع سے نفرت ہو اُس کی عمر دراز ہو گی۔$<Cپست حال قوم پر حکومت کرنے والا بےدین غُراتے ہوئے شیرببر اور حملہ آور ریچھ کی مانند ہے۔$;Cمبارک ہے وہ جو ہر وقت رب کا خوف مانے، لیکن جو اپنا دل سخت کرے وہ مصیبت میں پھنس جائے گا۔$:C جو اپنے گناہ چھپائے وہ ناکام رہے گا، لیکن جو اُنہیں تسلیم کر کے ترک کرے وہ رحم پائے گا۔ RYuRC5لالچی بھاگ بھاگ کر دولت جمع کرتا ہے، اُسے معلوم ہی نہیں کہ اِس کا انجام غربت ہی ہے۔B+جانب داری بُری بات ہے، لیکن انسان روٹی کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے مجرم بن جاتا ہے۔_A9قابلِ اعتماد آدمی کو کثرت کی برکتیں حاصل ہوں گی، لیکن جو بھاگ بھاگ کر دولت جمع کرنے میں مصروف رہے وہ سزا سے نہیں بچے گا۔_@9جو اپنی زمین کی کھیتی باڑی کرے وہ جی بھر کر روٹی کھائے گا، لیکن جو فضول چیزوں کے پیچھے پڑ جائے وہ غربت سے سیر ہو جائے گا۔"??جو بےالزام زندگی گزارے وہ بچا رہے گا، لیکن جو ٹیڑھی راہ پر چلے وہ اچانک ہی گر جائے گا۔ ~D]H5غریبوں کو دینے والا ضرورت مند نہیں ہو گا، لیکن جو اپنی آنکھیں بند کر کے اُنہیں نظرانداز کرے اُس پر بہت لعنتیں آئیں گی۔G3جو اپنے دل پر بھروسا رکھے وہ بےوقوف ہے، لیکن جو حکمت کی راہ پر چلے وہ محفوظ رہے گا۔ Fلالچی جھگڑوں کا منبع رہتا ہے، لیکن جو رب پر بھروسا رکھے وہ خوش حال رہے گا۔#EAجو اپنے باپ یا ماں کو لُوٹ کر کہے، ”یہ جرم نہیں ہے“ وہ مہلک قاتل کا شریکِ کار ہوتا ہے۔~Dwآخرکار نصیحت دینے والا چاپلوسی کرنے والے سے زیادہ منظور ہوتا ہے۔ <}* M;بادشاہ انصاف سے ملک کو مستحکم کرتا، لیکن حد سے زیادہ ٹیکس لینے سے اُسے تباہ کرتا ہے۔.LWجسے حکمت پیاری ہو وہ اپنے باپ کو خوشی دلاتا ہے، لیکن کسبیوں کا ساتھی اپنی دولت اُڑا دیتا ہے۔K1جب راست باز بہت ہیں تو قوم خوش ہوتی، لیکن جب بےدین حکومت کرے تو قوم آہیں بھرتی ہے۔:J qجو متعدد نصیحتوں کے باوجود ہٹ دھرم رہے وہ اچانک ہی برباد ہو جائے گا، اور شفا کا امکان ہی نہیں ہو گا۔?Iyجب بےدین اُٹھ کھڑے ہوں تو لوگ چھپ جاتے ہیں، لیکن جب ہلاک ہو جائیں تو راست بازوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ >}I>+SQ خوں خوار آدمی بےالزام شخص سے نفرت کرتا، لیکن سیدھی راہ پر چلنے والا اُس کی بہتری چاہتا ہے۔IR  جب دانش مند آدمی عدالت میں احمق سے لڑے تو احمق طیش میں آ جاتا یا قہقہہ لگاتا ہے، سکون کا امکان ہی نہیں ہوتا۔Q طعنہ زن شہر میں افرا تفری مچا دیتے جبکہ دانش مند غصہ ٹھنڈا کر دیتے ہیں۔Pراست باز پست حالوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، لیکن بےدین پروا ہی نہیں کرتا۔O3شریر جرم کرتے وقت اپنے آپ کو پھنسا دیتا، لیکن راست باز خوشی منا کر شادمان رہتا ہے۔Nyجو اپنے پڑوسی کی چاپلوسی کرے وہ اُس کے قدموں کے آگے جال بچھاتا ہے۔ Qp]Q.YWجب بےدین پھلیں پھولیں تو گناہ بھی پھلتا پھولتا ہے، لیکن راست باز اُن کی شکست کے گواہ ہوں گے۔9Xmچھڑی اور نصیحت حکمت پیدا کرتی ہیں۔ جسے بےلگام چھوڑا جائے وہ اپنی ماں کے لئے شرمندگی کا باعث ہو گا۔W'جو بادشاہ دیانت داری سے ضرورت مند کی عدالت کرے اُس کا تخت ہمیشہ تک قائم رہے گا۔V- جب غریب اور ظالم کی ملاقات ہوتی ہے تو دونوں کی آنکھوں کو روشن کرنے والا رب ہی ہے۔qU] جو حکمران جھوٹ پر دھیان دے اُس کے تمام ملازم بےدین ہوں گے۔ T احمق اپنا پورا غصہ اُتارتا، لیکن دانش مند اُسے روک کر قابو میں رکھتا ہے۔ E  !,7BMXcny(3>IT_ju$/:EP[fq| C< C= C> C? C@ CA CB CC C C< C= C> C? C@ CA CB CC CD CE CF CG CH CI  CJ CK CL CM CN CO CP CQ  CR  CS  CT  CU  CV CW CX CY CZ C[ C\ C] C^ C_ C` Ca Cb Cc Cd  Ce Cf Cg Ch Ci Cj Ck Cl  Cm  Cn  Co  Cp  Cq Cr Cs Ct Cu Cv Cw Cx Cy Cz C{ C| C} C~ C C {T{_غضب آلود آدمی جھگڑے چھیڑتا رہتا ہے، غصیلے شخص سے متعدد گناہ سرزد ہوتے ہیں۔^جو غلام جوانی سے ناز و نعمت میں پل کر بگڑ جائے اُس کا بُرا انجام ہو گا۔5]eکیا کوئی دکھائی دیتا ہے جو بات کرنے میں جلدباز ہے؟ اُس کی نسبت احمق کے سدھرنے کی زیادہ اُمید ہے۔\نوکر صرف الفاظ سے نہیں سدھرتا۔ اگر وہ بات سمجھے بھی توبھی دھیان نہیں دے گا۔![=جہاں رویا نہیں وہاں قوم بےلگام ہو جاتی ہے، لیکن مبارک ہے وہ جو شریعت کے تابع رہتا ہے۔mZUاپنے بیٹے کو تربیت دے تو وہ تجھے سکون اور خوشی دلائے گا۔ \dراست باز بدکار سے اور بےدین سیدھی راہ پر چلنے والے سے گھن کھاتا ہے۔ c#بہت لوگ حکمران کی منظوری کے طالب رہتے ہیں، لیکن انصاف رب ہی کی طرف سے ملتا ہے۔%bEجو انسان سے خوف کھائے وہ پھندے میں پھنس جائے گا، لیکن جو رب کا خوف مانے وہ محفوظ رہے گا۔+aQجو چور کا ساتھی ہو وہ اپنی جان سے نفرت رکھتا ہے۔ گو اُس سے حلف اُٹھوایا جائے کہ چوری کے بارے میں گواہی دے توبھی کچھ نہیں بتاتا بلکہ حلف کی لعنت کی زد میں آ جاتا ہے۔p`[تکبر اپنے مالک کو پست کر دے گا جبکہ فروتن شخص عزت پائے گا۔ @/hYکون آسمان پر چڑھ کر واپس اُتر آیا؟ کس نے ہَوا کو اپنے ہاتھوں میں جمع کیا؟ کس نے گہرے پانی کو چادر میں لپیٹ لیا؟ کس نے زمین کی حدود کو اپنی اپنی جگہ پر قائم کیا ہے؟ اُس کا نام کیا ہے، اُس کے بیٹے کا کیا نام ہے؟ اگر تجھے معلوم ہو تو مجھے بتا!vggنہ مَیں نے حکمت سیکھی، نہ قدوس خدا کے بارے میں علم رکھتا ہوں۔f!یقیناً مَیں انسانوں میں سب سے زیادہ نادان ہوں، مجھے انسان کی سمجھ حاصل نہیں۔#e Cذیل میں اجور بن یاقہ کی کہاوتیں ہیں۔ وہ مسّا کا رہنے والا تھا۔ اُس نے فرمایا، اے اللہ، مَیں تھک گیا ہوں، اے اللہ، مَیں تھک گیا ہوں، یہ میرے بس کی بات نہیں رہی۔ X}RX&mG ایسا نہ ہو کہ مَیں دولت کے باعث سیر ہو کر تیرا انکار کروں اور کہوں، ”رب کون ہے؟“ ایسا بھی نہ ہو کہ مَیں غربت کے باعث چوری کر کے اپنے خدا کے نام کی بےحرمتی کروں۔Jlپہلے، دروغ گوئی اور جھوٹ مجھ سے دُور رکھ۔ دوسرے، نہ غربت نہ دولت مجھے دے بلکہ اُتنی ہی روٹی جتنی میرا حق ہے،kاے رب، مَیں تجھ سے دو چیزیں مانگتا ہوں، میرے مرنے سے پہلے اِن سے انکار نہ کر۔jاُس کی باتوں میں اضافہ مت کر، ورنہ وہ تجھے ڈانٹے گا اور تُو جھوٹا ٹھہرے گا۔iyاللہ کی ہر بات آزمودہ ہے، جو اُس میں پناہ لے اُس کے لئے وہ ڈھال ہے۔ m0bmpr[ایسی نسل بھی ہے جس کے دانت تلواریں اور جبڑے چھریاں ہیں تاکہ دنیا کے مصیبت زدوں کو کھا جائیں، معاشرے کے ضرورت مندوں کو ہڑپ کر لیں۔(qK ایسی نسل بھی ہے جس کی آنکھیں بڑے تکبر سے دیکھتی ہیں، جو اپنی پلکیں بڑے گھمنڈ سے مارتی ہے۔p ایسی نسل بھی ہے جو اپنی نظر میں پاک صاف ہے، گو اُس کی غلاظت دُور نہیں ہوئی۔ o  ایسی نسل بھی ہے جو اپنے باپ پر لعنت کرتی اور اپنی ماں کو برکت نہیں دیتی۔Kn مالک کے سامنے ملازم پر تہمت نہ لگا، ایسا نہ ہو کہ وہ تجھ پر لعنت بھیجے اور تجھے اِس کا بُرا نتیجہ بھگتنا پڑے۔ ppv تین باتیں مجھے حیرت زدہ کرتی ہیں بلکہ چار ہیں جن کی مجھے سمجھ نہیں آتی،ouYجو آنکھ باپ کا مذاق اُڑائے اور ماں کی ہدایت کو حقیر جانے اُسے وادی کے کوّے اپنی چونچوں سے نکالیں گے اور گِدھ کے بچے کھا جائیں گے۔Etپاتال، بانجھ کا رِحم، زمین جس کی پیاس کبھی نہیں بجھتی اور آگ جو کبھی نہیں کہتی، ”اب بس کرو، اب کافی ہے۔“@s{جونک کی دو بیٹیاں ہیں، چوسنے کے دو اعضا جو چیختے رہتے ہیں، ”اَور دو، اَور دو“ تین چیزیں ہیں جو کبھی سیر نہیں ہوتیں بلکہ چار ہیں جو کبھی نہیں کہتیں، ”اب بس کرو، اب کافی ہے،“ )PN)v|gزمین کی چار مخلوقات نہایت ہی دانش مند ہیں حالانکہ چھوٹی ہیں۔&{Gوہ نفرت انگیز عورت جس کی شادی ہو جائے اور وہ نوکرانی جو اپنی مالکن کی ملکیت پر قبضہ کرے۔wziوہ غلام جو بادشاہ بن جائے، وہ احمق جو جی بھر کر کھانا کھا سکے،yزمین تین چیزوں سے لرز اُٹھتی ہے بلکہ چار چیزیں برداشت نہیں کر سکتی،Ax}زناکار عورت کی یہ راہ ہے، وہ کھا لیتی اور پھر اپنا منہ پونچھ کر کہتی ہے، ”مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔“ewEآسمان کی بلندیوں پر عقاب کی راہ، چٹان پر سانپ کی راہ، سمندر کے بیچ میں جہاز کی راہ اور وہ راہ جو مرد کنواری کے ساتھ چلتا ہے۔ NarN&Gدوسرے، مرغا جو اکڑ کر چلتا ہے، تیسرے، بکرا اور چوتھے اپنی فوج کے ساتھ چلنے والا بادشاہ۔پہلے، شیرببر جو جانوروں میں زورآور ہے اور کسی سے بھی پیچھے نہیں ہٹتا،_9تین بلکہ چار جاندار پُروقار انداز میں چلتے ہیں۔چھپکلیاں گو ہاتھ سے پکڑی جاتی ہیں، تاہم شاہی محلوں میں پائی جاتی ہیں۔p[ٹڈیوں کا بادشاہ نہیں ہوتا تاہم سب پرے باندھ کر نکلتی ہیں،w~iبِجُو کمزور نسل ہیں لیکن چٹانوں میں ہی اپنے گھر بنا لیتے ہیں،}/چیونٹیاں کمزور نسل ہیں لیکن گرمیوں کے موسم میں سردیوں کے لئے خوراک جمع کرتی ہیں، M\!اپنی پوری طاقت عورتوں پر ضائع نہ کر، اُن پر جو بادشاہوں کی تباہی کا باعث ہیں۔)اے میرے بیٹے، میرے پیٹ کے پھل، جو میری مَنتوں سے پیدا ہوا، مَیں تجھے کیا بتاؤں؟ !ذیل میں مسّا کے بادشاہ لموایل کی کہاوتیں ہیں۔ اُس کی ماں نے اُسے یہ تعلیم دی،9m!کیونکہ دودھ بلونے سے مکھن، ناک کو مروڑنے سے خون اور کسی کو غصہ دلانے سے لڑائی جھگڑا پیدا ہوتا ہے۔ .W اگر تُو نے مغرور ہو کر حماقت کی یا بُرے منصوبے باندھے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش ہو جا، G+7% اپنا منہ کھول کر انصاف سے عدالت کر اور مصیبت زدہ اور غریبوں کے حقوق محفوظ رکھ۔ اپنا منہ اُن کے لئے کھول جو بول نہیں سکتے، اُن کے حق میں جو ضرورت مند ہیں۔_ 9ایسے ہی پی پی کر اپنی غربت اور مصیبت بھول جائیں۔  شراب اُنہیں پلا جو تباہ ہونے والے ہیں، مَے اُنہیں پلا جو غم کھاتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ وہ پی پی کر قوانین بھول جائیں اور تمام مظلوموں کا حق ماریں۔4 cاے لموایل، بادشاہوں کے لئے مَے پینا مناسب نہیں، حکمرانوں کے لئے شراب کی آرزو رکھنا موزوں نہیں۔ tnZ/وہ پَو پھٹنے سے پہلے ہی جاگ اُٹھتی ہے تاکہ اپنے گھر والوں کے لئے کھانا اور اپنی نوکرانیوں کے لئے اُن کا حصہ تیار کرے۔{qتجارتی جہازوں کی طرح وہ دُوردراز علاقوں سے اپنی روٹی لے آتی ہے۔eE وہ اُون اور سَن چن کر بڑی محنت سے دھاگا بنا لیتی ہے۔xk عمر بھر وہ اُسے نقصان نہیں پہنچائے گی بلکہ برکت کا باعث ہو گی۔ اُس پر اُس کے شوہر کو پورا اعتماد ہے، اور وہ نفع سے محروم نہیں رہے گا۔  سُگھڑ بیوی کون پا سکتا ہے؟ ایسی عورت موتیوں سے کہیں زیادہ بیش قیمت ہے۔ Z57-Uجب برف پڑے تو اُسے گھر والوں کے بارے میں کوئی ڈر نہیں، کیونکہ سب گرم گرم کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔وہ اپنی مٹھی مصیبت زدوں اور غریبوں کے لئے کھول کر اُن کی مدد کرتی ہے۔q]اُس کے ہاتھ ہر وقت اُون اور کتان کاتنے میں مصروف رہتے ہیں۔2_وہ محسوس کرتی ہے، ”میرا کاروبار فائدہ مند ہے،“ اِس لئے اُس کا چراغ رات کے وقت بھی نہیں بجھتا۔jOطاقت سے کمربستہ ہو کر وہ اپنے بازوؤں کو مضبوط کرتی ہے۔!=سوچ بچار کے بعد وہ کھیت خرید لیتی، اپنے کمائے ہوئے پیسوں سے انگور کا باغ لگا لیتی ہے۔bRrRY`gnu|$+29@GNU\cjqx  '.5<CJQX_fmt{ @ E J PV[`ejou{ @ E J PV[`ejou{ $* /!4"9#>$C%H&M'S(Y*_+d,h-m.r/v0|1234579%:*;-<1=5>9?=@@ACBGCJDMEQFYG]HaIeKhLlMpNtOwP{Q~RSTU V WXYZ[#\'],_/`2a6b:c=d@eBfDgFhIiMjOkRlVm[n`oepiqm ?Lr_وہ حکمت سے بات کرتی، اور اُس کی زبان پر شفیق تعلیم رہتی ہے۔ وہ طاقت اور وقار سے ملبّس رہتی اور ہنس کر آنے والے دنوں کا سامنا کرتی ہے۔9بیوی کپڑوں کی سلائی کر کے اُنہیں فروخت کرتی ہے، سوداگر اُس کے کمربند خرید لیتے ہیں۔nWشہر کے دروازے میں بیٹھے ملک کے بزرگ اُس کے شوہر سے خوب واقف ہیں، اور جب کبھی کوئی فیصلہ کرنا ہو تو وہ بھی شوریٰ میں شریک ہوتا ہے۔<sاپنے بستر کے لئے وہ اچھے کمبل بنا لیتی، اور خود وہ باریک کتان اور ارغوانی رنگ کے لباس پہنے پھرتی ہے۔ F)4?IT_ju%0;FQ\gr} (2<FP[fq| C C  C !C  C C C C C C C  C !C  C C C C C C C C  C  C  C  C  C C C C C C C C C C C C C C C C C C C C  C  C  C  C  C  C  C   C   C   C   C   C  C  C  C  C  C  C C C C C C C C  C  C  C  C  C C C C C Uh3U% 5ذیل میں واعظ کے الفاظ قلم بند ہیں، اُس کے جو داؤد کا بیٹا اور یروشلم میں بادشاہ ہے،$اُسے اُس کی محنت کا اجر دو! شہر کے دروازوں میں اُس کے کام اُس کی ستائش کریں! $#Cدل فریبی، دھوکا اور حُسن پل بھر کا ہے، لیکن جو عورت اللہ کا خوف مانے وہ قابلِ تعریف ہے۔" ”بہت سی عورتیں سُگھڑ ثابت ہوئی ہیں، لیکن تُو اُن سب پر سبقت رکھتی ہے!“#!Aاُس کے بیٹے کھڑے ہو کر اُسے مبارک کہتے ہیں، اُس کا شوہر بھی اُس کی تعریف کر کے کہتا ہے، !وہ سُستی کی روٹی نہیں کھاتی بلکہ اپنے گھر میں ہر معاملے کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ vS* #ہَوا جنوب کی طرف چلتی، پھر مُڑ کر شمال کی طرف چلنے لگتی ہے۔ یوں چکر کاٹ کاٹ کر وہ بار بار نقطۂ آغاز پر واپس آتی ہے۔7) kسورج طلوع اور غروب ہو جاتا ہے، پھر سُرعت سے اُسی جگہ واپس چلا جاتا ہے جہاں سے دوبارہ طلوع ہوتا ہے۔y( oایک پشت آتی اور دوسری جاتی ہے، لیکن زمین ہمیشہ تک قائم رہتی ہے۔v' iسورج تلے جو محنت مشقت انسان کرے اُس کا کیا فائدہ ہے؟ کچھ نہیں!& واعظ فرماتا ہے، ”باطل ہی باطل، باطل ہی باطل، سب کچھ باطل ہی باطل ہے!“ H-   جو کچھ پیش آیا وہی دوبارہ پیش آئے گا، جو کچھ کیا گیا وہی دوبارہ کیا جائے گا۔ سورج تلے کوئی بھی بات نئی نہیں۔G,  انسان باتیں کرتے کرتے تھک جاتا ہے اور صحیح طور سے کچھ بیان نہیں کر سکتا۔ آنکھ کبھی اِتنا نہیں دیکھتی کہ کہے، ”اب بس کرو، کافی ہے۔“ کان کبھی اِتنا نہیں سنتا کہ اَور نہ سننا چاہے۔ + تمام دریا سمندر میں جا ملتے ہیں، توبھی سمندر کی سطح وہی رہتی ہے، کیونکہ دریاؤں کا پانی مسلسل اُن سرچشموں کے پاس واپس آتا ہے جہاں سے بہہ نکلا ہے۔ })L}c1 C مَیں نے اپنی پوری ذہنی طاقت اِس پر لگائی کہ جو کچھ آسمان تلے کیا جاتا ہے اُس کی حکمت کے ذریعے تفتیش و تحقیق کروں۔ یہ کام ناگوار ہے گو اللہ نے خود انسان کو اِس میں محنت مشقت کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔c0 C مَیں جو واعظ ہوں یروشلم میں اسرائیل کا بادشاہ تھا۔X/ - جو پہلے زندہ تھے اُنہیں کوئی یاد نہیں کرتا، اور جو آنے والے ہیں اُنہیں بھی وہ یاد نہیں کریں گے جو اُن کے بعد آئیں گے۔R. ! کیا کوئی بات ہے جس کے بارے میں کہا جا سکے، ”دیکھو، یہ نئی ہے“؟ ہرگز نہیں، یہ بھی ہم سے بہت دیر پہلے ہی موجود تھی۔  #K &5 Iمَیں نے اپنی پوری ذہنی طاقت اِس پر لگائی کہ حکمت سمجھوں، نیز کہ مجھے دیوانگی اور حماقت کی سمجھ بھی آئے۔ لیکن مجھے معلوم ہوا کہ یہ بھی ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔G4  مَیں نے دل میں کہا، ”حکمت میں مَیں نے اِتنا اضافہ کیا اور اِتنی ترقی کی کہ اُن سب سے سبقت لے گیا جو مجھ سے پہلے یروشلم پر حکومت کرتے تھے۔ میرے دل نے بہت حکمت اور علم اپنا لیا ہے۔“3  جو پیچ دار ہے وہ سیدھا نہیں ہو سکتا، جس کی کمی ہے اُسے گنا نہیں جا سکتا۔X2 -مَیں نے تمام کاموں کا ملاحظہ کیا جو سورج تلے ہوتے ہیں، تو نتیجہ یہ نکلا کہ سب کچھ باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔ \5\%9Eمَیں نے دل میں اپنا جسم مَے سے تر و تازہ کرنے اور حماقت اپنانے کے طریقے ڈھونڈ نکالے۔ اِس کے پیچھے بھی میری حکمت معلوم کرنے کی کوشش تھی، کیونکہ مَیں دیکھنا چاہتا تھا کہ جب تک انسان آسمان تلے جیتا رہے اُس کے لئے کیا کچھ کرنا مفید ہے۔v8gمَیں بولا، ”ہنسنا بےہودہ ہے، اور خوشی سے کیا حاصل ہوتا ہے؟“07 ]مَیں نے اپنے آپ سے کہا، ”آ، خوشی کو آزما کر اچھی چیزوں کا تجربہ کر!“ لیکن یہ بھی باطل ہی نکلا۔F6  کیونکہ جہاں حکمت بہت ہے وہاں رنجیدگی بھی بہت ہے۔ جو علم و عرفان میں اضافہ کرے، وہ دُکھ میں اضافہ کرتا ہے۔ %qg%==uمَیں نے غلام اور لونڈیاں خرید لیں۔ ایسے غلام بھی بہت تھے جو گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ مجھے اُتنے گائےبَیل اور بھیڑبکریاں ملیں جتنی مجھ سے پہلے یروشلم میں کسی کو حاصل نہ تھیں۔<پھلنے پھولنے والے جنگل کی آب پاشی کے لئے مَیں نے تالاب تیار کروائے۔;yمتعدد باغ اور پارک لگا کر اُن میں مختلف قسم کے پھل دار درخت لگائے۔ :مَیں نے بڑے بڑے کام انجام دیئے، اپنے لئے مکان تعمیر کئے، تاکستان لگائے، xx]@5 جو کچھ بھی میری آنکھیں چاہتی تھیں وہ مَیں نے اُن کے لئے مہیا کیا، مَیں نے اپنے دل سے کسی بھی خوشی کا انکار نہ کیا۔ میرے دل نے میرے ہر کام سے لطف اُٹھایا، اور یہ میری تمام محنت مشقت کا اجر رہا۔i?M یوں مَیں نے بہت ترقی کر کے اُن سب پر سبقت حاصل کی جو مجھ سے پہلے یروشلم میں تھے۔ اور ہر کام میں میری حکمت میرے دل میں قائم رہی۔3>aمَیں نے اپنے لئے سونا چاندی اور بادشاہوں اور صوبوں کے خزانے جمع کئے۔ مَیں نے گلوکار مرد و خواتین حاصل کئے، ساتھ ساتھ کثرت کی ایسی چیزیں جن سے انسان اپنا دل بہلاتا ہے۔ zC+ مَیں نے دیکھا کہ جس طرح روشنی اندھیرے سے بہتر ہے اُسی طرح حکمت حماقت سے بہتر ہے۔B- پھر مَیں حکمت، بےہودگی اور حماقت پر غور کرنے لگا۔ مَیں نے سوچا، جو آدمی بادشاہ کی وفات پر تخت نشین ہو گا وہ کیا کرے گا؟ وہی کچھ جو پہلے بھی کیا جا چکا ہے!cAA لیکن جب مَیں نے اپنے ہاتھوں کے تمام کاموں کا جائزہ لیا، اُس محنت مشقت کا جو مَیں نے کی تھی تو نتیجہ یہی نکلا کہ سب کچھ باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔ سورج تلے کسی بھی کام کا فائدہ نہیں ہوتا۔ #62# Gیوں سوچتے سوچتے مَیں زندگی سے نفرت کرنے لگا۔ جو بھی کام سورج تلے کیا جاتا ہے وہ مجھے بُرا لگا، کیونکہ سب کچھ باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔Fyکیونکہ احمق کی طرح دانش مند کی یاد بھی ہمیشہ تک نہیں رہے گی۔ آنے والے دنوں میں سب کی یاد مٹ جائے گی۔ احمق کی طرح دانش مند کو بھی مرنا ہی ہے!bE?مَیں نے دل میں کہا، ”احمق کا سا انجام میرا بھی ہو گا۔ تو پھر اِتنی زیادہ حکمت حاصل کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ یہ بھی باطل ہے۔“^D7دانش مند کے سر میں آنکھیں ہیں جبکہ احمق اندھیرے ہی میں چلتا ہے۔ لیکن مَیں نے یہ بھی جان لیا کہ دونوں کا ایک ہی انجام ہے۔ >Jwتب میرا دل مایوس ہو کر ہمت ہارنے لگا، کیونکہ جو بھی محنت مشقت مَیں نے سورج تلے کی تھی وہ بےکار سی لگی۔FIاور کیا معلوم کہ وہ دانش مند یا احمق ہو گا؟ لیکن جو بھی ہو، وہ اُن تمام چیزوں کا مالک ہو گا جو حاصل کرنے کے لئے مَیں نے سورج تلے اپنی پوری طاقت اور حکمت صَرف کی ہے۔ یہ بھی باطل ہے۔Hسورج تلے مَیں نے جو کچھ بھی محنت مشقت سے حاصل کیا تھا اُس سے مجھے نفرت ہو گئی، کیونکہ مجھے یہ سب کچھ اُس کے لئے چھوڑنا ہے جو میرے بعد میری جگہ آئے گا۔ CMاُس کے تمام دن دُکھ اور رنجیدگی سے بھرے رہتے ہیں، رات کو بھی اُس کا دل آرام نہیں پاتا۔ یہ بھی باطل ہی ہے۔mLUکیونکہ آخر میں انسان کے لئے کیا کچھ قائم رہتا ہے، جبکہ اُس نے سورج تلے اِتنی محنت مشقت اور کوششوں کے ساتھ سب کچھ حاصل کر لیا ہے؟CKکیونکہ خواہ انسان اپنا کام حکمت، علم اور مہارت سے کیوں نہ کرے، آخرکار اُسے سب کچھ کسی کے لئے چھوڑنا ہے جس نے اُس کے لئے ایک اُنگلی بھی نہیں ہلائی۔ یہ بھی باطل اور بڑی مصیبت ہے۔ ?u?~Q yہر چیز کی اپنی گھڑی ہوتی، آسمان تلے ہر معاملے کا اپنا وقت ہوتا ہے،/PYجو انسان اللہ کو منظور ہو اُسے وہ حکمت، علم و عرفان اور خوشی عطا کرتا ہے، لیکن گناہ گار کو وہ جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے کی ذمہ داری دیتا ہے تاکہ بعد میں یہ دولت اللہ کو منظور شخص کے حوالے کی جائے۔ یہ بھی باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔ lOSکیونکہ اُس کے بغیر کون کھا کر خوش ہو سکتا ہے؟ کوئی نہیں!N'انسان کے لئے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کھائے پیئے اور اپنی محنت مشقت کے پھل سے لطف اندوز ہو۔ لیکن مَیں نے یہ بھی جان لیا کہ اللہ ہی یہ سب کچھ مہیا کرتا ہے۔ .HpeYE چنانچہ کیا فائدہ ہے کہ کام کرنے والا محنت مشقت کرے؟Xپیار کرنے اور نفرت کرنے کا، جنگ لڑنے اور سلامتی سے زندگی گزارنے کا،eWEپھاڑنے اور سی کر جوڑنے کا، خاموش رہنے اور بولنے کا،kVQتلاش کرنے اور کھو دینے کا، محفوظ رکھنے اور پھینکنے کا،U}پتھر پھینکنے اور پتھر جمع کرنے کا، گلے ملنے اور اِس سے باز رہنے کا،\T3رونے اور ہنسنے کا، آہیں بھرنے اور رقص کرنے کا،hSKمار دینے اور شفا دینے کا، ڈھا دینے اور تعمیر کرنے کا،bR?جنم لینے اور مرنے کا، پودا لگانے اور اُکھاڑنے کا، xR1x4]c کیونکہ اگر کوئی کھائے پیئے اور تمام محنت مشقت کے ساتھ ساتھ خوش حال بھی ہو تو یہ اللہ کی بخشش ہے۔5\e مَیں نے جان لیا کہ انسان کے لئے اِس سے بہتر کچھ نہیں ہے کہ وہ خوش رہے اور جیتے جی زندگی کا مزہ لے۔b[? اُس نے ہر چیز کو یوں بنایا ہے کہ وہ اپنے وقت کے لئے خوب صورت اور مناسب ہو۔ اُس نے انسان کے دل میں جاودانی بھی ڈالی ہے، گو وہ شروع سے لے کر آخر تک اُس کام کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا جو اللہ نے کیا ہے۔)ZM مَیں نے وہ تکلیف دہ کام کاج دیکھا جو اللہ نے انسان کے سپرد کیا تاکہ وہ اُس میں اُلجھا رہے۔ //]a5لیکن مَیں دل میں بولا، ”اللہ راست باز اور بےدین دونوں کی عدالت کرے گا، کیونکہ ہر معاملے اور کام کا اپنا وقت ہوتا ہے۔“>`wمَیں نے سورج تلے مزید دیکھا، جہاں عدالت کرنی ہے وہاں ناانصافی ہے، جہاں انصاف کرنا ہے وہاں بےدینی ہے۔_%جو حال میں پیش آ رہا ہے وہ ماضی میں پیش آ چکا ہے، اور جو مستقبل میں پیش آئے گا وہ بھی پیش آ چکا ہے۔ ہاں، جو کچھ گزر چکا ہے اُسے اللہ دوبارہ واپس لاتا ہے۔ ^مجھے سمجھ آئی کہ جو کچھ اللہ کرے وہ ابد تک قائم رہے گا۔ اُس میں نہ اضافہ ہو سکتا ہے نہ کمی۔ اللہ یہ سب کچھ اِس لئے کرتا ہے کہ انسان اُس کا خوف مانے۔ {:{:eoکون یقین سے کہہ سکتا ہے کہ انسان کی روح اوپر کی طرف جاتی اور حیوان کی روح نیچے زمین میں اُترتی ہے؟“%dEسب کچھ ایک ہی جگہ چلا جاتا ہے، سب کچھ خاک سے بنا ہے اور سب کچھ دوبارہ خاک میں مل جائے گا۔%cEکیونکہ انسان و حیوان کا ایک ہی انجام ہے۔ دونوں دم چھوڑتے، دونوں میں ایک سا دم ہے، اِس لئے انسان کو حیوان کی نسبت زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ سب کچھ باطل ہی ہے۔mbUمَیں نے یہ بھی سوچا، ”جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے اللہ اُن کی جانچ پڑتال کرتا ہے تاکہ اُنہیں پتا چلے کہ وہ جانوروں کی مانند ہیں۔ E  #.9DOZeoz *5@KV`kv%0;FQ\gr} C C C C C C C C  C C C C C C C C C  C C C C C C C C  C  C  C  C  C C C C C C C C C C  C C C C C C C C  C  C  C  C  C C C C  C C C C C C C C  C  D  D  D  D D D D D D D D  D D D 1&1ph[یہ دیکھ کر مَیں نے مُردوں کو مبارک کہا، حالانکہ وہ عرصے سے وفات پا چکے تھے۔ مَیں نے کہا، ”وہ حال کے زندہ لوگوں سے کہیں مبارک ہیں۔qg _مَیں نے ایک بار پھر نظر ڈالی تو مجھے وہ تمام ظلم نظر آیا جو سورج تلے ہوتا ہے۔ مظلوموں کے آنسو بہتے ہیں، اور تسلی دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ظالم اُن سے زیادتی کرتے ہیں، اور تسلی دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔_f9غرض مَیں نے جان لیا کہ انسان کے لئے اِس سے بہتر کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنے کاموں میں خوش رہے، یہی اُس کے نصیب میں ہے۔ کیونکہ کون اُسے وہ دیکھنے کے قابل بنائے گا جو اُس کے بعد پیش آئے گا؟ کوئی نہیں! A$uA/lYلیکن دوسری طرف اگر کوئی مٹھی بھر روزی کما کر سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے تو یہ اِس سے بہتر ہے کہ دونوں مٹھیاں سرتوڑ محنت اور ہَوا کو پکڑنے کی کوششوں کے بعد ہی بھریں۔k+ایک طرف تو احمق ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے باعث اپنے آپ کو تباہی تک پہنچاتا ہے۔ jمَیں نے یہ بھی دیکھا کہ سب لوگ اِس لئے محنت مشقت اور مہارت سے کام کرتے ہیں کہ ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں۔ یہ بھی باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔Wi)لیکن اِن سے زیادہ مبارک وہ ہے جو اب تک وجود میں نہیں آیا، جس نے وہ تمام بُرائیاں نہیں دیکھیں جو سورج تلے ہوتی ہیں۔“ rp_ اگر ایک گر جائے تو اُس کا ساتھی اُسے دوبارہ کھڑا کرے گا۔ لیکن اُس پر افسوس جو گر جائے اور کوئی ساتھی نہ ہو جو اُسے دوبارہ کھڑا کرے۔oy دو ایک سے بہتر ہیں، کیونکہ اُنہیں اپنے کام کاج کا اچھا اجر ملے گا۔ nایک آدمی اکیلا ہی تھا۔ نہ اُس کے بیٹا تھا، نہ بھائی۔ وہ بےحد محنت مشقت کرتا رہا، لیکن اُس کی آنکھیں کبھی اپنی دولت سے مطمئن نہ تھیں۔ سوال یہ رہا، ”مَیں اِتنی سرتوڑ کوشش کس کے لئے کر رہا ہوں؟ مَیں اپنی جان کو زندگی کے مزے لینے سے کیوں محروم رکھ رہا ہوں؟“ یہ بھی باطل اور ناگوار معاملہ ہے۔Vm'مَیں نے سورج تلے مزید کچھ دیکھا جو باطل ہے۔ 1cAt}کیونکہ گو وہ بوڑھے بادشاہ کی حکومت کے دوران غربت میں پیدا ہوا تھا توبھی وہ جیل سے نکل کر بادشاہ بن گیا۔As} جو لڑکا غریب لیکن دانش مند ہے وہ اُس بزرگ لیکن احمق بادشاہ سے کہیں بہتر ہے جو تنبیہ ماننے سے انکار کرے۔Ir  ایک شخص پر قابو پایا جا سکتا ہے جبکہ دو مل کر اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ تین لڑیوں والی رسّی جلدی سے نہیں ٹوٹتی۔Jq نیز، جب دو سردیوں کے موسم میں مل کر بستر پر لیٹ جائیں تو وہ گرم رہتے ہیں۔ جو تنہا ہے وہ کس طرح گرم ہو جائے گا؟ 2!w ?اللہ کے گھر میں جاتے وقت اپنے قدموں کا خیال رکھ اور سننے کے لئے تیار رہ۔ یہ احمقوں کی قربانیوں سے کہیں بہتر ہے، کیونکہ وہ جانتے ہی نہیں کہ غلط کام کر رہے ہیں۔v+اُن تمام لوگوں کی انتہا نہیں تھی جن کی قیادت وہ کرتا تھا۔ توبھی جو بعد میں آئیں گے وہ اُس سے خوش نہیں ہوں گے۔ یہ بھی باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔ Iu لیکن پھر مَیں نے دیکھا کہ سورج تلے تمام لوگ ایک اَور لڑکے کے پیچھے ہو لئے جسے پہلے کی جگہ تخت نشین ہونا تھا۔ 1k{Qمَنت نہ ماننا مَنت مان کر اُسے پورا نہ کرنے سے بہتر ہے۔Zz/اگر تُو اللہ کے حضور مَنت مانے تو اُسے پورا کرنے میں دیر مت کر۔ وہ احمقوں سے خوش نہیں ہوتا، چنانچہ اپنی منَت پوری کر۔Oyکیونکہ جس طرح حد سے زیادہ محنت مشقت سے خواب آنے لگتے ہیں اُسی طرح بہت باتیں کرنے سے آدمی کی حماقت ظاہر ہوتی ہے۔x)بولنے میں جلدبازی نہ کر، تیرا دل اللہ کے حضور کچھ بیان کرنے میں جلدی نہ کرے۔ اللہ آسمان پر ہے جبکہ تُو زمین پر ہی ہے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ تُو کم باتیں کرے۔ UU~ کیا تجھے صوبے میں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو غریبوں پر ظلم کرتے، اُن کا حق مارتے اور اُنہیں انصاف سے محروم رکھتے ہیں؟ تعجب نہ کر، کیونکہ ایک سرکاری ملازم دوسرے کی نگہبانی کرتا ہے، اور اُن پر مزید ملازم مقرر ہوتے ہیں۔4}cجہاں بہت خواب دیکھے جاتے ہیں وہاں فضول باتیں اور بےشمار الفاظ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اللہ کا خوف مان!a|=اپنے منہ کو اجازت نہ دے کہ وہ تجھے گناہ میں پھنسائے، اور اللہ کے پیغمبر کے سامنے نہ کہہ، ”مجھ سے غیرارادی غلطی ہوئی ہے۔“ کیا ضرورت ہے کہ اللہ تیری بات سے ناراض ہو کر تیری محنت کا کام تباہ کرے؟ 6- جتنا مال میں اضافہ ہو اُتنا ہی اُن کی تعداد بڑھتی ہے جو اُسے کھا جاتے ہیں۔ اُس کے مالک کو اُس کا کیا فائدہ ہے سوائے اِس کے کہ وہ اُسے دیکھ دیکھ کر مزہ لے؟P جسے پیسے پیارے ہوں وہ کبھی مطمئن نہیں ہو گا، خواہ اُس کے پاس کتنے ہی پیسے کیوں نہ ہوں۔ جو زردوست ہو وہ کبھی آسودہ نہیں ہو گا، خواہ اُس کے پاس کتنی ہی دولت کیوں نہ ہو۔ یہ بھی باطل ہی ہے۔E چنانچہ ملک کے لئے ہر لحاظ سے فائدہ اِس میں ہے کہ ایسا بادشاہ اُس پر حکومت کرے جو کاشت کاری کی فکر کرتا ہے۔ uHwu}uماں کے پیٹ سے نکلتے وقت وہ ننگا تھا، اور اِسی طرح کوچ کر کے چلا بھی جائے گا۔ اُس کی محنت کا کوئی پھل نہیں ہو گا جسے وہ اپنے ساتھ لے جا سکے۔Lکیونکہ جب یہ دولت کسی مصیبت کے باعث تباہ ہو گئی اور آدمی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اُس کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا۔P مجھے سورج تلے ایک نہایت بُری بات نظر آئی۔ جو دولت کسی نے اپنے لئے محفوظ رکھی وہ اُس کے لئے نقصان کا باعث بن گئی۔^7 کام کاج کرنے والے کی نیند میٹھی ہوتی ہے، خواہ اُس نے کم یا زیادہ کھانا کھایا ہو، لیکن امیر کی دولت اُسے سونے نہیں دیتی۔ &@{تب مَیں نے جان لیا کہ انسان کے لئے اچھا اور مناسب ہے کہ وہ جتنے دن اللہ نے اُسے دیئے ہیں کھائے پیئے اور سورج تلے اپنی محنت مشقت کے پھل کا مزہ لے، کیونکہ یہی اُس کے نصیب میں ہے۔S!جیتے جی وہ ہر دن تاریکی میں کھانا کھاتے ہوئے گزارتا، زندگی بھر وہ بڑی رنجیدگی، بیماری اور غصے میں مبتلا رہتا ہے۔}uیہ بھی بہت بُری بات ہے کہ جس طرح انسان آیا اُسی طرح کوچ کر کے چلا بھی جاتا ہے۔ اُسے کیا فائدہ ہوا ہے کہ اُس نے ہَوا کے لئے محنت مشقت کی ہو؟ AA  /مجھے سورج تلے ایک اَور بُری بات نظر آئی جو انسان کو اپنے بوجھ تلے دبائے رکھتی ہے۔Z /ایسے شخص کو زندگی کے دنوں پر غور و خوض کرنے کا کم ہی وقت ملتا ہے، کیونکہ اللہ اُسے دل میں خوشی دلا کر مصروف رکھتا ہے۔ = uکیونکہ جب اللہ کسی شخص کو مال و متاع عطا کر کے اُسے اِس قابل بنائے کہ اُس کا مزہ لے سکے، اپنا نصیب قبول کر سکے اور محنت مشقت کے ساتھ ساتھ خوش بھی ہو سکے تو یہ اللہ کی بخشش ہے۔ rr ہو سکتا ہے کہ کسی آدمی کے سَو بچے پیدا ہوں اور وہ عمر رسیدہ بھی ہو جائے، لیکن خواہ وہ کتنا بوڑھا کیوں نہ ہو جائے، اگر اپنی خوش حالی کا مزہ نہ لے سکے اور آخرکار صحیح رسومات کے ساتھ دفنایا نہ جائے تو اِس کا کیا فائدہ؟ مَیں کہتا ہوں کہ اُس کی نسبت ماں کے پیٹ میں ضائع ہو گئے بچے کا حال بہتر ہے۔y mاللہ کسی آدمی کو مال و متاع اور عزت عطا کرتا ہے۔ غرض اُس کے پاس سب کچھ ہے جو اُس کا دل چاہے۔ لیکن اللہ اُسے اِن چیزوں سے لطف اُٹھانے نہیں دیتا بلکہ کوئی اجنبی اُس کا مزہ لیتا ہے۔ یہ باطل اور ایک بڑی مصیبت ہے۔ ".H&Gانسان کی تمام محنت مشقت کا یہ مقصد ہے کہ پیٹ بھر جائے، توبھی اُس کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔a=اور اگر وہ دو ہزار سال تک جیتا رہے، لیکن اپنی خوش حالی سے لطف اندوز نہ ہو سکے تو کیا فائدہ ہے؟ سب کو تو ایک ہی جگہ جانا ہے۔oYلیکن گو اُس نے نہ کبھی سورج دیکھا، نہ اُسے کبھی معلوم ہوا کہ ایسی چیز ہے تاہم اُسے مذکورہ آدمی سے کہیں زیادہ آرام و سکون حاصل ہے۔Y-بےشک ایسے بچے کا آنا بےمعنی ہے، اور وہ اندھیرے میں ہی کوچ کر کے چلا جاتا بلکہ اُس کا نام تک اندھیرے میں چھپا رہتا ہے۔  1] جو کچھ بھی پیش آتا ہے اُس کا نام پہلے ہی رکھا گیا ہے، جو بھی انسان وجود میں آتا ہے وہ پہلے ہی معلوم تھا۔ کوئی بھی انسان اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا جو اُس سے طاقت ور ہے۔1 دُوردراز چیزوں کے آرزومند رہنے کی نسبت بہتر یہ ہے کہ انسان اُن چیزوں سے لطف اُٹھائے جو آنکھوں کے سامنے ہی ہیں۔ یہ بھی باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔r_دانش مند کو کیا حاصل ہے جس کے باعث وہ احمق سے برتر ہے؟ اِس کا کیا فائدہ ہے کہ غریب آدمی زندوں کے ساتھ مناسب سلوک کرنے کا فن سیکھ لے؟ @;g@"?ضیافت کرنے والوں کے گھر میں جانے کی نسبت ماتم کرنے والوں کے گھر میں جانا بہتر ہے، کیونکہ ہر انسان کا انجام موت ہی ہے۔ جو زندہ ہیں وہ اِس بات پر خوب دھیان دیں۔x mاچھا نام خوشبودار تیل سے اور موت کا دن پیدائش کے دن سے بہتر ہے۔S! کس کو معلوم ہے کہ اُن تھوڑے اور بےکار دنوں کے دوران جو سائے کی طرح گزر جاتے ہیں انسان کے لئے کیا کچھ فائدہ مند ہے؟ کون اُسے بتا سکتا ہے کہ اُس کے چلے جانے پر سورج تلے کیا کچھ پیش آئے گا؟ @{ کیونکہ جتنی بھی باتیں انسان کرے اُتنا ہی زیادہ معلوم ہو گا کہ باطل ہیں۔ انسان کے لئے اِس کا کیا فائدہ؟ /کسی معاملے کا انجام اُس کی ابتدا سے بہتر ہے، صبر کرنا مغرور ہونے سے بہتر ہے۔vgناروا نفع دانش مند کو احمق بنا دیتا، رشوت دل کو بگاڑ دیتی ہے۔+احمق کے قہقہے دیگچی تلے چٹخنے والے کانٹوں کی آگ کی مانند ہیں۔ یہ بھی باطل ہی ہے۔احمقوں کے گیت سننے کی نسبت دانش مند کی جھڑکیوں پر دھیان دینا بہتر ہے۔Jدانش مند کا دل ماتم کرنے والوں کے گھر میں ٹھہرتا جبکہ احمق کا دل عیش و عشرت کرنے والوں کے گھر میں ٹک جاتا ہے۔tcدُکھ ہنسی سے بہتر ہے، اُترا ہوا چہرہ دل کی بہتری کا باعث ہے۔ u A# اللہ کے کام کا ملاحظہ کر۔ جو کچھ اُس نے پیچ دار بنایا کون اُسے سلجھا سکتا ہے؟F" کیونکہ حکمت پیسوں کی طرح پناہ دیتی ہے، لیکن حکمت کا خاص فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنے مالک کی جان بچائے رکھتی ہے۔I!  اگر حکمت کے علاوہ میراث میں ملکیت بھی مل جائے تو یہ اچھی بات ہے، یہ اُن کے لئے سودمند ہے جو سورج دیکھتے ہیں۔ ' یہ نہ پوچھ کہ آج کی نسبت پرانا زمانہ بہتر کیوں تھا، کیونکہ یہ حکمت کی بات نہیں۔ غصہ کرنے میں جلدی نہ کر، کیونکہ غصہ احمقوں کی گود میں ہی آرام کرتا ہے۔ QQ('Kنہ حد سے زیادہ بےدینی، نہ حد سے زیادہ حماقت دکھا۔ مقررہ وقت سے پہلے مرنے کی کیا ضرورت ہے؟0&[نہ حد سے زیادہ راست بازی دکھا، نہ حد سے زیادہ دانش مندی۔ اپنے آپ کو تباہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟<%sاپنی عبث زندگی کے دوران مَیں نے دو باتیں دیکھی ہیں۔ ایک طرف راست باز اپنی راست بازی کے باوجود تباہ ہو جاتا جبکہ دوسری طرف بےدین اپنی بےدینی کے باوجود عمر رسیدہ ہو جاتا ہے۔$ خوشی کے دن خوش ہو، لیکن مصیبت کے دن خیال رکھ کہ اللہ نے یہ دن بھی بنایا اور وہ بھی اِس لئے کہ انسان اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ معلوم نہ کر سکے۔ 6 Y,کیونکہ دل میں تُو جانتا ہے کہ تُو نے خود متعدد بار دوسروں پر لعنت بھیجی ہے۔-+Uلوگوں کی ہر بات پر دھیان نہ دے، ایسا نہ ہو کہ تُو نوکر کی لعنت بھی سن لے جو وہ تجھ پر کرتا ہے۔%*Eدنیا میں کوئی بھی انسان اِتنا راست باز نہیں کہ ہمیشہ اچھا کام کرے اور کبھی گناہ نہ کرے۔})uحکمت دانش مند کو شہر کے دس حکمرانوں سے زیادہ طاقت ور بنا دیتی ہے۔E(اچھا ہے کہ تُو یہ بات تھامے رکھے اور دوسری بھی نہ چھوڑے۔ جو اللہ کا خوف مانے وہ دونوں خطروں سے بچ نکلے گا۔ E  "-8CNYdny)4?JU`kv%0;FQ\fq| D D D D  D  D  D  D  D D D D D  D  D  D  D  D D D D D D D D  D  D  D!  D"  D# D$ D% D& D' D( D) D* D+ D, D- D. D/ D0 D1 D2 D3  D4 D5 D6 D7 D8 D9 D: D;  D<  D=  D>  D?  D@ DA DB DC DD   DE  DF  DG  DH  DI  DJ  DK  DL  DM  DN  DO  DP  DQ  DR  DS ''T/#چنانچہ مَیں رُخ بدل کر پورے دھیان سے اِس کی تحقیق و تفتیش کرنے لگا کہ حکمت اور مختلف باتوں کے صحیح نتائج کیا ہیں۔ نیز، مَیں بےدینی کی حماقت اور بےہودگی کی دیوانگی معلوم کرنا چاہتا تھا۔ .جو کچھ موجود ہے وہ دُور اور نہایت گہرا ہے۔ کون اُس کی تہہ تک پہنچ سکتا ہے؟j-Oحکمت کے ذریعے مَیں نے اِن تمام باتوں کی جانچ پڑتال کی۔ مَیں بولا، ”مَیں دانش مند بننا چاہتا ہوں،“ لیکن حکمت مجھ سے دُور رہی۔ e2Eلیکن جسے مَیں ڈھونڈتا رہا وہ نہ ملا۔ ہزار افراد میں سے مجھے صرف ایک ہی دیانت دار مرد ملا، لیکن ایک بھی دیانت دار عورت نہیں۔`1;واعظ فرماتا ہے، ”یہ سب کچھ مجھے معلوم ہوا جب مَیں نے مختلف باتیں ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کیں تاکہ صحیح نتائج تک پہنچوں۔@0{مجھے معلوم ہوا کہ موت سے کہیں تلخ وہ عورت ہے جو پھندا ہے، جس کا دل جال اور ہاتھ زنجیریں ہیں۔ جو آدمی اللہ کو منظور ہو وہ بچ نکلے گا، لیکن گناہ گار اُس کے جال میں اُلجھ جائے گا۔ ~P6بادشاہ کے حضور سے دُور ہونے میں جلدبازی نہ کر۔ کسی بُرے معاملے میں مبتلا نہ ہو جا، کیونکہ اُسی کی مرضی چلتی ہے۔5)مَیں کہتا ہوں، بادشاہ کے حکم پر چل، کیونکہ تُو نے اللہ کے سامنے حلف اُٹھایا ہے۔4 {کون دانش مند کی مانند ہے؟ کون باتوں کی صحیح تشریح کرنے کا علم رکھتا ہے؟ حکمت انسان کا چہرہ روشن اور اُس کے منہ کا سخت انداز نرم کر دیتی ہے۔]35مجھے صرف اِتنا ہی معلوم ہوا کہ گو اللہ نے انسانوں کو دیانت دار بنایا، لیکن وہ کئی قسم کی چالاکیاں ڈھونڈ نکالتے ہیں۔“ "Ql" :کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ مستقبل کیسا ہو گا۔ کوئی اُسے یہ نہیں بتا سکتا ہے۔49cکیونکہ ہر معاملے کے لئے مناسب وقت اور انصاف کی راہ ہوتی ہے۔ لیکن مصیبت انسان کو دبائے رکھتی ہے،`8;جو اُس کے حکم پر چلے اُس کا کسی بُرے معاملے سے واسطہ نہیں پڑے گا، کیونکہ دانش مند دل مناسب وقت اور انصاف کی راہ جانتا ہے۔*7Oبادشاہ کے فرمان کے پیچھے اُس کا اختیار ہے، اِس لئے کون اُس سے پوچھے، ”تُو کیا کر رہا ہے؟“ ={^==3 پھر مَیں نے دیکھا کہ بےدینوں کو عزت کے ساتھ دفنایا گیا۔ یہ لوگ مقدِس کے پاس آتے جاتے تھے! لیکن جو راست باز تھے اُن کی یاد شہر میں مٹ گئی۔ یہ بھی باطل ہی ہے۔<+ مَیں نے یہ سب کچھ دیکھا جب پورے دل سے اُن تمام باتوں پر دھیان دیا جو سورج تلے ہوتی ہیں، جہاں اِس وقت ایک آدمی دوسرے کو نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے۔;{کوئی بھی انسان ہَوا کو بند رکھنے کے قابل نہیں۔ اِسی طرح کسی کو بھی اپنی موت کا دن مقرر کرنے کا اختیار نہیں۔ یہ اُتنا یقینی ہے جتنا یہ کہ فوجیوں کو جنگ کے دوران فارغ نہیں کیا جاتا اور بےدینی بےدین کو نہیں بچاتی۔ BE!BZ@/ بےدین کی خیر نہیں ہو گی، کیونکہ وہ اللہ کا خوف نہیں مانتا۔ اُس کی زندگی کے دن زیادہ نہیں بلکہ سائے جیسے عارضی ہوں گے۔?9 گناہ گار سے سَو گناہ سرزد ہوتے ہیں، توبھی عمر رسیدہ ہو جاتا ہے۔ بےشک مَیں یہ بھی جانتا ہوں کہ خدا ترس لوگوں کی خیر ہو گی، اُن کی جو اللہ کے چہرے سے ڈرتے ہیں۔6>g مجرموں کو جلدی سے سزا نہیں دی جاتی، اِس لئے لوگوں کے دل بُرے کام کرنے کے منصوبوں سے بھر جاتے ہیں۔ Bچنانچہ مَیں نے خوشی کی تعریف کی، کیونکہ سورج تلے انسان کے لئے اِس سے بہتر کچھ نہیں ہے کہ وہ کھائے پیئے اور خوش رہے۔ پھر محنت مشقت کرتے وقت خوشی اُتنے ہی دن اُس کے ساتھ رہے گی جتنے اللہ نے سورج تلے اُس کے لئے مقرر کئے ہیں۔yAmتوبھی ایک اَور بات دنیا میں پیش آتی ہے جو باطل ہے، راست بازوں کو وہ سزا ملتی ہے جو بےدینوں کو ملنی چائے، اور بےدینوں کو وہ اجر ملتا ہے جو راست بازوں کو ملنا چاہئے۔ یہ دیکھ کر مَیں بولا، ”یہ بھی باطل ہی ہے۔“ D'تب مَیں نے اللہ کا سارا کام دیکھ کر جان لیا کہ انسان اُس تمام کام کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا جو سورج تلے ہوتا ہے۔ خواہ وہ اُس کی کتنی تحقیق کیوں نہ کرے توبھی وہ تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ ہو سکتا ہے کوئی دانش مند دعویٰ کرے، ”مجھے اِس کی پوری سمجھ آئی ہے،“ لیکن ایسا نہیں ہے، وہ تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ Cمَیں نے اپنی پوری ذہنی طاقت اِس پر لگائی کہ حکمت جان لوں اور زمین پر انسان کی محنتوں کا معائنہ کر لوں، ایسی محنتیں کہ اُسے دن رات نیند نہیں آتی۔ l?lNF سب کے نصیب میں ایک ہی انجام ہے، راست باز اور بےدین کے، نیک اور بد کے، پاک اور ناپاک کے، قربانیاں پیش کرنے والے کے اور اُس کے جو کچھ نہیں پیش کرتا۔ اچھے شخص اور گناہ گار کا ایک ہی انجام ہے، حلف اُٹھانے والے اور اِس سے ڈر کر گریز کرنے والے کی ایک ہی منزل ہے۔A>M اپنے جیون ساتھی کے ساتھ جو تجھے پیارا ہے زندگی کے مزے لیتا رہ۔ سورج تلے کی باطل زندگی کے جتنے دن اللہ نے تجھے بخش دیئے ہیں اُنہیں اِسی طرح گزار! کیونکہ زندگی میں اور سورج تلے تیری محنت مشقت میں یہی کچھ تیرے نصیب میں ہے۔kLQ تیرے کپڑے ہر وقت سفید ہوں، تیرا سر تیل سے محروم نہ رہے۔QK چنانچہ جا کر اپنا کھانا خوشی کے ساتھ کھا، اپنی مَے زندہ دلی سے پی، کیونکہ اللہ کافی دیر سے تیرے کاموں سے خوش ہے۔dJC اُن کی محبت، نفرت اور غیرت سب کچھ بڑی دیر سے جاتی رہی ہے۔ اب وہ کبھی بھی اُن کاموں میں حصہ نہیں لیں گے جو سورج تلے ہوتے ہیں۔ BB)تُو باغ کا اُبلتا چشمہ ہے، ایک ایسا منبع جس کا تازہ پانی لبنان سے بہہ کر آتا ہے۔\=3بال چھڑ، زعفران، خوشبودار بید، دارچینی، بخور کی ہر قسم کا درخت، مُر، عود اور ہر قسم کا بلسان باغ میں پھلتا پھولتا ہے۔ rA5مَیں سو رہی تھی، لیکن میرا دل بیدار رہا۔ سن! میرا محبوب دستک دے رہا ہے، ”اے میری بہن، میری ساتھی، میرے لئے دروازہ کھول دے! اے میری کبوتری، میری کامل ساتھی، میرا سر اوس سے تر ہو گیا ہے، میری زُلفیں رات کی شبنم سے بھیگ گئی ہیں۔“ @ میری بہن، میری دُلھن، اب مَیں اپنے باغ میں داخل ہو گیا ہوں۔ مَیں نے اپنا مُر اپنے بلسان سمیت چن لیا، اپنا چھتا شہد سمیت کھا لیا، اپنی مَے اپنے دودھ سمیت پی لی ہے۔ کھاؤ، میرے دوستو، کھاؤ اور پیؤ، محبت سے سرشار ہو جاؤ! *\\*-EUمَیں نے اپنے محبوب کے لئے دروازہ کھول دیا، لیکن وہ مُڑ کر چلا گیا تھا۔ مجھے سخت صدمہ ہوا۔ مَیں نے اُسے تلاش کیا لیکن نہ ملا۔ مَیں نے اُسے آواز دی، لیکن جواب نہ ملا۔{Dqمَیں اُٹھی تاکہ اپنے محبوب کے لئے دروازہ کھولوں۔ میرے ہاتھ مُر سے، میری اُنگلیاں مُر کی خوشبو سے ٹپک رہی تھیں جب مَیں کنڈی کھولنے آئی۔C/میرے محبوب نے اپنا ہاتھ دیوار کے سوراخ میں سے اندر ڈال دیا۔ تب میرا دل تڑپ اُٹھا۔B{”مَیں اپنا لباس اُتار چکی ہوں، اب مَیں کس طرح اُسے دوبارہ پہن لوں؟ مَیں اپنے پاؤں دھو چکی ہوں، اب مَیں اُنہیں کس طرح دوبارہ مَیلا کروں؟“ #>Hw تُو جو عورتوں میں سب سے حسین ہے، ہمیں بتا، تیرے محبوب کی کیا خاصیت ہے جو دوسروں میں نہیں ہے؟ تیرا محبوب دوسروں سے کس طرح سبقت رکھتا ہے کہ تُو ہمیں ایسی قَسم کھلانا چاہتی ہے؟JGاے یروشلم کی بیٹیو، قَسم کھاؤ کہ اگر میرا محبوب ملا تو اُسے اطلاع دو گی، مَیں محبت کے مارے بیمار ہو گئی ہوں۔ F جو چوکیدار شہر میں گشت کرتے ہیں اُن سے میرا واسطہ پڑا، اُنہوں نے میری پٹائی کر کے مجھے زخمی کر دیا۔ فصیل کے چوکیداروں نے میری چادر بھی چھین لی۔ f!L= اُس کے گال بلسان کی کیاری کی مانند، اُس کے ہونٹ مُر سے ٹپکتے سوسن کے پھولوں جیسے ہیں۔IK  اُس کی آنکھیں ندیوں کے کنارے کے کبوتروں کی مانند ہیں، جو دودھ میں نہلائے اور کثرت کے پانی کے پاس بیٹھے ہیں۔4Jc اُس کا سر خالص سونے کا ہے، اُس کے بال کھجور کے پھولدار گُچھوں کی مانند اور کوّے کی طرح سیاہ ہیں۔\I3 میرے محبوب کی جِلد گلابی اور سفید ہے۔ ہزاروں کے ساتھ اُس کا مقابلہ کرو تو اُس کا اعلیٰ کردار نمایاں طور پر نظر آئے گا۔ n -gntP eاے تُو جو عورتوں میں سب سے خوب صورت ہے، تیرا محبوب کدھر چلا گیا ہے؟ اُس نے کون سی سمت اختیار کی تاکہ ہم تیرے ساتھ اُس کا کھوج لگائیں؟AO}اُس کا منہ مٹھاس ہی ہے، غرض وہ ہر لحاظ سے پسندیدہ ہے۔ اے یروشلم کی بیٹیو، یہ ہے میرا محبوب، میرا دوست۔ ZN/اُس کی رانیں مرمر کے ستون ہیں جو خالص سونے کے پائیوں پر لگے ہیں۔ اُس کا حلیہ لبنان اور دیودار کے درختوں جیسا عمدہ ہے۔oMYاُس کے بازو سونے کی سلاخیں ہیں جن میں پکھران جڑے ہوئے ہیں، اُس کا جسم ہاتھی دانت کا شاہکار ہے جس میں سنگِ لاجورد کے پتھر لگے ہیں۔ Tاپنی نظروں کو مجھ سے ہٹا لے، کیونکہ وہ مجھ میں اُلجھن پیدا کر رہی ہیں۔ تیرے بال اُن بکریوں کی مانند ہیں جو اُچھلتی کودتی کوہِ جِلعاد سے اُترتی ہیں۔7Siمیری محبوبہ، تُو تِرضہ شہر جیسی حسین، یروشلم جیسی خوب صورت اور علم بردار دستوں جیسی رُعب دار ہے۔R مَیں اپنے محبوب کی ہی ہوں، اور وہ میرا ہی ہے، وہ جو سوسنوں میں چرتا ہے۔iQMمیرا محبوب یہاں سے اُتر کر اپنے باغ میں چلا گیا ہے، وہ بلسان کی کیاریوں کے پاس گیا ہے تاکہ باغوں میں چرے اور سوسن کے پھول چنے۔ EB_X9 لیکن میری کبوتری، میری کامل ساتھی لاثانی ہے۔ وہ اپنی ماں کی واحد بیٹی ہے، جس نے اُسے جنم دیا اُس کی پاک لاڈلی ہے۔ بیٹیوں نے اُسے دیکھ کر اُسے مبارک کہا، رانیوں اور داشتاؤں نے اُس کی تعریف کی،qW]گو بادشاہ کی 60 بیویاں، 80 داشتائیں اور بےشمار کنواریاں ہوں V نقاب کے پیچھے تیرے گالوں کی جھلک انار کے ٹکڑوں کی مانند دکھائی دیتی ہے۔6Ugتیرے دانت ابھی ابھی نہلائی ہوئی بھیڑوں جیسے سفید ہیں۔ ہر دانت کا جُڑواں ہے، ایک بھی گم نہیں ہوا۔ /1/}\u اے شولمیت، لوٹ آ، لوٹ آ! مُڑ کر لوٹ آ تاکہ ہم تجھ پر نظر کریں۔ تم شولمیت کو کیوں دیکھنا چاہتی ہو؟ ہم لشکرگاہ کا لوک ناچ دیکھنا چاہتی ہیں! '[I لیکن چلتے چلتے نہ جانے کیا ہوا، میری آرزو نے مجھے میری شریف قوم کے رتھوں کے پاس پہنچایا۔;Zq مَیں اخروٹ کے باغ میں اُتر آیا تاکہ وادی میں پھوٹنے والے پودوں کا معائنہ کروں۔ مَیں یہ بھی معلوم کرنا چاہتا تھا کہ کیا انگور کی کونپلیں نکل آئی یا انار کے پھول لگ گئے ہیں۔^Y7 ”یہ کون ہے جو طلوعِ صبح کی طرح چمک اُٹھی، جو چاند جیسی خوب صورت، آفتاب جیسی پاک اور علم بردار دستوں جیسی رُعب دار ہے؟“ !E,`Sتیری گردن ہاتھی دانت کا مینار، تیری آنکھیں حسبون شہر کے تالاب ہیں، وہ جو بَت ربیم کے دروازے کے پاس ہیں۔ تیری ناک مینارِ لبنان کی مانند ہے جس کا منہ دمشق کی طرف ہے۔]_5تیری چھاتیاں غزال کے جُڑواں بچوں کی مانند ہیں۔W^)تیری ناف پیالہ ہے جو مَے سے کبھی نہیں محروم رہتی۔ تیرا جسم گندم کا ڈھیر ہے جس کا احاطہ سوسن کے پھولوں سے کیا گیا ہے۔Z] 1اے رئیس کی بیٹی، جوتوں میں چلنے کا تیرا انداز کتنا من موہن ہے! تیری خوش وضع رانیں ماہر کاری گر کے زیورات کی مانند ہیں۔ 8dkمَیں بولا، ”مَیں کھجور کے درخت پر چڑھ کر اُس کے پھولدار گُچھوں پر ہاتھ لگاؤں گا۔“ تیری چھاتیاں انگور کے گُچھوں کی مانند ہوں، تیرے سانس کی خوشبو سیبوں کی خوشبو جیسی ہو۔ c تیرا قد و قامت کھجور کے درخت سا، تیری چھاتیاں انگور کے گُچھوں جیسی ہیں۔mbUاے خوشیوں سے لبریز محبت، تُو کتنی حسین، کتنی دل رُبا ہے!maUتیرا سر کوہِ کرمل کی مانند ہے، تیرے کھلے بال ارغوان کی طرح قیمتی اور دل کش ہیں۔ بادشاہ تیری زُلفوں کی زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے۔ *[Ph آ، ہم صبح سویرے انگور کے باغوں میں جا کر معلوم کریں کہ کیا بیلوں سے کونپلیں نکل آئی ہیں اور پھول لگے ہیں، کہ کیا انار کے درخت کھِل رہے ہیں۔ وہاں مَیں تجھ پر اپنی محبت کا اظہار کروں گی۔hgK آ، میرے محبوب، ہم شہر سے نکل کر دیہات میں رات گزاریں۔_f9 مَیں اپنے محبوب کی ہی ہوں، اور وہ مجھے چاہتا ہے۔Qe تیرا منہ بہترین مَے ہو، ایسی مَے جو سیدھی میرے محبوب کے منہ میں جا کر نرمی سے ہونٹوں اور دانتوں میں سے گزر جائے۔  lاُس کا بایاں بازو میرے سر کے نیچے ہوتا اور دایاں بازو مجھے گلے لگاتا ہے۔k+مَیں تیری راہنمائی کر کے تجھے اپنی ماں کے گھر میں لے جاتی، اُس کے گھر میں جس نے مجھے تعلیم دی۔ وہاں مَیں تجھے مسالے دار مَے اور اپنے اناروں کا رس پلاتی۔pj ]کاش تُو میرا سگا بھائی ہوتا، تب اگر باہر تجھ سے ملاقات ہوتی تو مَیں تجھے بوسہ دیتی اور کوئی نہ ہوتا جو یہ دیکھ کر مجھے حقیر جانتا۔RggI اُس دن یسّی کی جڑ سے پھوٹی ہوئی کونپل اُمّتوں کے لئے جھنڈا ہو گا۔ قومیں اُس کی طالب ہوں گی، اور اُس کی سکونت گاہ جلالی ہو گی۔f} میرے تمام مُقدّس پہاڑ پر نہ غلط اور نہ تباہ کن کام کیا جائے گا۔ کیونکہ ملک رب کے عرفان سے یوں معمور ہو گا جس طرح سمندر پانی سے بھرا رہتا ہے۔7ei شیرخوار بچہ ناگ کی بانبی کے قریب کھیلے گا، اور جوان بچہ اپنا ہاتھ زہریلے سانپ کے بِل میں ڈالے گا۔ j تب اسرائیل کا حسد ختم ہو جائے گا، اور یہوداہ کے دشمن نیست و نابود ہو جائیں گے۔ نہ اسرائیل یہوداہ سے حسد کرے گا، نہ یہوداہ اسرائیل سے دشمنی رکھے گا۔i} وہ قوموں کے لئے جھنڈا گاڑ کر اسرائیل کے جلاوطنوں کو اکٹھا کرے گا۔ ہاں، وہ یہوداہ کے بکھرے افراد کو دنیا کے چاروں کونوں سے لا کر جمع کرے گا۔Ph اُس دن رب ایک بار پھر اپنا ہاتھ بڑھائے گا تاکہ اپنی قوم کا وہ بچا کھچا حصہ دوبارہ حاصل کرے جو اسور، شمالی اور جنوبی مصر، ایتھوپیا، عیلام، بابل، حمات اور ساحلی علاقوں میں منتشر ہو گا۔ kk/mY ایک ایسا راستہ بنے گا جو رب کے بچے ہوئے افراد کو اسور سے اسرائیل تک پہنچائے گا، بالکل اُس راستے کی طرح جس نے اسرائیلیوں کو مصر سے نکلتے وقت اسرائیل تک پہنچایا تھا۔ 6lg رب بحرِ قُلزم کو خشک کرے گا اور ساتھ ساتھ دریائے فرات کے اوپر ہاتھ ہلا کر اُس پر زوردار ہَوا چلائے گا۔ تب دریا سات ایسی نہروں میں بٹ جائے گا جو پیدل ہی پار کی جا سکیں گی۔!k= پھر دونوں مغرب میں فلستی ملک پر جھپٹ پڑیں گے اور مل کر مشرق کے باشندوں کو لُوٹ لیں گے۔ ادوم اور موآب اُن کے قبضے میں آئیں گے، اور عمون اُن کے تابع ہو جائے گا۔ pq[ اُس دن تم کہو گے، ”رب کی ستائش کرو! اُس کا نام لے کر اُسے پکارو! جو کچھ اُس نے کیا ہے دنیا کو بتاؤ، اُس کے نام کی عظمت کا اعلان کرو۔Xp+ تم شادمانی سے نجات کے چشموں سے پانی بھرو گے۔po[ اللہ میری نجات ہے۔ اُس پر بھروسا رکھ کر مَیں دہشت نہیں کھاؤں گا۔ کیونکہ رب خدا میری قوت اور میرا گیت ہے، وہ میری نجات بن گیا ہے۔“ n  اُس دن تم گیت گاؤ گے، ”اے رب، مَیں تیری ستائش کروں گا! یقیناً تُو مجھ سے ناراض تھا، لیکن اب تیرا غضب مجھ پر سے دُور ہو جائے اور تُو مجھے تسلی دے۔ P`Iu  ننگے پہاڑ پر جھنڈا گاڑ دو۔ اُنہیں بلند آواز دو، ہاتھ ہلا کر اُنہیں شرفا کے دروازوں میں داخل ہونے کا حکم دو۔ t  درجِ ذیل بابل کے بارے میں وہ اعلان ہے جو یسعیاہ بن آموص نے رویا میں دیکھا۔ksQ اے یروشلم کی رہنے والی، شادیانہ بجا کر خوشی کے نعرے لگا! کیونکہ اسرائیل کا قدوس عظیم ہے، اور وہ تیرے درمیان ہی سکونت کرتا ہے۔ +rQ رب کی تمجید کا گیت گاؤ، کیونکہ اُس نے زبردست کام کیا ہے، اور اِس کا علم پوری دنیا تک پہنچے۔ >>y3 واویلا کرو، کیونکہ رب کا دن قریب ہی ہے، وہ دن جب قادرِ مطلق کی طرف سے تباہی مچے گی۔yxm اُس کے فوجی دُوردراز علاقوں بلکہ آسمان کی انتہا سے آ رہے ہیں۔ کیونکہ رب اپنے غضب کے آلات کے ساتھ آ رہا ہے تاکہ تمام ملک کو برباد کر دے۔w% سنو! پہاڑوں پر بڑے ہجوم کا شور مچ رہا ہے۔ سنو! متعدد ممالک اور جمع ہونے والی قوموں کا غل غپاڑا سنائی دے رہا ہے۔ رب الافواج جنگ کے لئے فوج جمع کر رہا ہے۔v مَیں نے اپنے مُقدّسین کو کام پر لگا دیا ہے، مَیں نے اپنے سورماؤں کو جو میری عظمت کی خوشی مناتے ہیں بُلا لیا ہے تاکہ میرے غضب کا آلۂ کار بنیں۔ Oy(#OO} آسمان کے ستارے اور اُن کے جھرمٹ نہیں چمکیں گے، سورج طلوع ہوتے وقت تاریک ہی رہے گا، اور چاند کی روشنی ختم ہو گی۔|{ دیکھو، رب کا بےرحم دن آ رہا ہے جب اُس کا قہر اور شدید غضب نازل ہو گا۔ اُس وقت ملک تباہ ہو جائے گا اور گناہ گار کو اُس میں سے مٹا دیا جائے گا۔L{ دہشت اُن پر چھا جائے گی، اور وہ جاں کنی اور دردِ زہ کی سی گرفت میں آ کر جنم دینے والی عورت کی طرح تڑپیں گے۔ ایک دوسرے کو ڈر کے مارے گھور گھور کر اُن کے چہرے آگ کی طرح تمتما رہے ہوں گے۔z تب تمام ہاتھ بےحس و حرکت ہو جائیں گے، اور ہر ایک کا دل ہمت ہار دے گا۔ <'<fG کیونکہ آسمان رب الافواج کے قہر کے سامنے کانپ اُٹھے گا، اُس کے شدید غضب کے نازل ہونے پر زمین لرز کر اپنی جگہ سے کھسک جائے گی۔<s لوگ خالص سونے سے کہیں زیادہ نایاب ہوں گے، انسان اوفیر کے قیمتی سونے کی نسبت کہیں زیادہ کم یاب ہو گا۔~! مَیں دنیا کو اُس کی بدکاری کا اجر اور بےدینوں کو اُن کے گناہوں کی سزا دوں گا، مَیں شوخوں کا گھمنڈ ختم کر دوں گا اور ظالموں کا غرور خاک میں ملا دوں گا۔ M2M`; مَیں مادیوں کو اُن پر چڑھا لاؤں گا، ایسے لوگوں کو جنہیں رشوت سے نہیں آزمایا جا سکتا، جو سونے چاندی کی پروا ہی نہیں کرتے۔]5 اُن کے دیکھتے دیکھتے دشمن اُن کے بچوں کو زمین پر پٹخ دے گا اور اُن کے گھروں کو لُوٹ کر اُن کی عورتوں کی عصمت دری کرے گا۔9m جو بھی دشمن کے قابو میں آئے گا اُسے چھیدا جائے گا، جسے بھی پکڑا جائے گا اُسے تلوار سے مارا جائے گا۔)M بابل کے تمام باشندے شکاری کے سامنے دوڑنے والے غزال اور چرواہے سے محروم بھیڑبکریوں کی طرح اِدھر اُدھر بھاگ کر اپنے ملک اور اپنی قوم میں واپس آنے کی کوشش کریں گے۔ .NL.- آئندہ اُسے کبھی دوبارہ بسایا نہیں جائے گا، نسل در نسل وہ ویران ہی رہے گا۔ نہ بَدُو اپنا تنبو وہاں لگائے گا، اور نہ گلہ بان اپنے ریوڑ اُس میں ٹھہرائے گا۔}u اللہ بابل کو جو تمام ممالک کا تاج اور بابلیوں کا خاص فخر ہے رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالے گا۔ اُس دن وہ سدوم اور عمورہ کی طرح تباہ ہو جائے گا۔-U اُن کے تیر نوجوانوں کو مار دیں گے۔ نہ وہ شیرخواروں پر ترس کھائیں گے، نہ بچوں پر رحم کریں گے۔ ||D  کیونکہ رب یعقوب پر ترس کھائے گا، وہ دوبارہ اسرائیلیوں کو چن کر اُنہیں اُن کے اپنے ملک میں بسا دے گا۔ پردیسی بھی اُن کے ساتھ مل جائیں گے، وہ یعقوب کے گھرانے سے منسلک ہو جائیں گے۔ ! جنگلی کُتے اُس کے محلوں میں روئیں گے، اور گیدڑ عیش و عشرت کے قصروں میں اپنی درد بھری آوازیں نکالیں گے۔ بابل کا خاتمہ قریب ہی ہے، اب دیر نہیں لگے گی۔ 7 صرف ریگستان کے جانور کھنڈرات میں جا بسیں گے۔ شہر کے گھر اُن کی آوازوں سے گونج اُٹھیں گے، عقابی اُلّو وہاں ٹھہریں گے، اور بکرانما جِنّ اُس میں رقص کریں گے۔ zTzU %اُس دن تُو بابل کے بادشاہ پر طنز کا گیت گائے گا، ”یہ کیسی بات ہے؟ ظالم نیست و نابود اور اُس کے حملے ختم ہو گئے ہیں۔s aجس دن رب تجھے مصیبت، بےچینی اور ظالمانہ غلامی سے آرام دے گا0 [دیگر قومیں اسرائیلیوں کو لے کر اُن کے وطن میں واپس پہنچا دیں گی۔ تب اسرائیل کا گھرانا اِن پردیسیوں کو ورثے میں پائے گا، اور یہ رب کے ملک میں اُن کے نوکر نوکرانیاں بن کر اُن کی خدمت کریں گے۔ جنہوں نے اُنہیں جلاوطن کیا تھا اُن ہی کو وہ جلاوطن کئے رکھیں گے، جنہوں نے اُن پر ظلم کیا تھا اُن ہی پر وہ حکومت کریں گے۔ p جونیپر کے درخت اور لبنان کے دیودار بھی تیرے انجام پر خوش ہو کر کہتے ہیں، ’شکر ہے! جب سے تُو گرا دیا گیا کوئی یہاں چڑھ کر ہمیں کاٹنے نہیں آتا۔‘+اب پوری دنیا کو آرام و سکون حاصل ہوا ہے، اب ہر طرف خوشی کے نعرے سنائی دے رہے ہیں۔>wجو طیش میں آ کر قوموں کو مسلسل مارتا رہا اور غصے سے اُن پر حکومت کرتا، بےرحمی سے اُن کے پیچھے پڑا رہا۔ رب نے بےدینوں کی لاٹھی توڑ کر حکمرانوں کا وہ شاہی عصا ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے 99W) اے ستارۂ صبح، اے ابنِ سحر، تُو آسمان سے کس طرح گر گیا ہے! جس نے دیگر ممالک کو شکست دی تھی وہ اب خود پاش پاش ہو گیا ہے۔Z/ تیری تمام شان و شوکت پاتال میں اُتر گئی ہے، تیرے ستار خاموش ہو گئے ہیں۔ اب کیڑے تیرا گدّا اور کیچوے تیرا کمبل ہوں گے۔.W سب مل کر تجھ سے کہیں گے، ’اب تُو بھی ہم جیسا کمزور ہو گیا ہے، تُو بھی ہمارے برابر ہو گیا ہے!‘T# پاتال تیرے اُترنے کے باعث ہل گیا ہے۔ تیرے انتظار میں وہ مُردہ روحوں کو حرکت میں لا رہا ہے۔ وہاں دنیا کے تمام رئیس اور اقوام کے تمام بادشاہ اپنے تختوں سے کھڑے ہو کر تیرا استقبال کریں گے۔ E  "-8CNYdoz)4?JU`kv%0;FQ\gq|  E  E  E  E  F  F  F  F  F  E  E  E  E  F  F  F  F  F  F  F  F  F  F  F F F F F F F F  F  F  F  F  F F F F F F F F F F F F! F" F# F$ F% F& F' F(  F)  F* F+ F, F- F. F/ F0 F1  F2  F3 F4 F5 F6 F7 F8 F9 F:  F;  F<  F=  F>  F? F@ Iq]جو بھی تجھ پر نظر ڈالے گا وہ غور سے دیکھ کر پوچھے گا، ’کیا یہی وہ آدمی ہے جس نے زمین کو ہلا دیا، جس کے سامنے دیگر ممالک کانپ اُٹھے؟+لیکن تجھے تو پاتال میں اُتارا جائے گا، اُس کے سب سے گہرے گڑھے میں گرایا جائے گا۔ مَیں بادلوں کی بلندیوں پر چڑھ کر قادرِ مطلق کے بلکل برابر ہو جاؤں گا۔‘%E دل میں تُو نے کہا، ’مَیں آسمان پر چڑھ کر اپنا تخت اللہ کے ستاروں کے اوپر لگا لوں گا، مَیں انتہائی شمال میں اُس پہاڑ پر جہاں دیوتا جمع ہوتے ہیں تخت نشین ہوں گا۔ "@"لیکن تجھے اپنی قبر سے دُور کسی بےکار کونپل کی طرح پھینک دیا جائے گا۔ تجھے مقتولوں سے ڈھانکا جائے گا، اُن سے جن کو تلوار سے چھیدا گیا ہے، جو پتھریلے گڑھوں میں اُتر گئے ہیں۔ تُو پاؤں تلے روندی ہوئی لاش جیسا ہو گا،دیگر ممالک کے تمام بادشاہ بڑی عزت کے ساتھ اپنے اپنے مقبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔;qکیا اِسی نے دنیا کو ویران کر دیا اور اُس کے شہروں کو ڈھا کر قیدیوں کو گھر واپس جانے کی اجازت نہ دی؟‘ %%{اِس آدمی کے بیٹوں کو پھانسی دینے کی جگہ تیار کرو! کیونکہ اُن کے باپ دادا کا قصور اِتنا سنگین ہے کہ اُنہیں مرنا ہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ دوبارہ اُٹھ کر دنیا پر قبضہ کر لیں، کہ رُوئے زمین اُن کے شہروں سے بھر جائے۔“Qاور تدفین کے وقت تُو دیگر بادشاہوں سے جا نہیں ملے گا۔ کیونکہ تُو نے اپنے ملک کو تباہ اور اپنی قوم کو ہلاک کر دیا ہے۔ چنانچہ اب سے ابد تک اِن بےدینوں کی اولاد کا ذکر تک نہیں کیا جائے گا۔ X!+رب الافواج نے قَسم کھا کر فرمایا ہے، ”یقیناً سب کچھ میرے منصوبے کے مطابق ہی ہو گا، میرا ارادہ ضرور پورا ہو جائے گا۔s aبابل خارپُشت کا مسکن اور دلدل کا علاقہ بن جائے گا، کیونکہ مَیں خود اُس میں تباہی کا جھاڑو پھیر دوں گا۔“ یہ رب الافواج کا فرمان ہے۔2_رب الافواج فرماتا ہے، ”مَیں اُن کے خلاف یوں اُٹھوں گا کہ بابل کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ مَیں اُس کی اولاد کو رُوئے زمین پر سے مٹا دوں گا، اور ایک بھی نہیں بچنے کا۔ :m%Uذیل کا کلام اُس سال نازل ہوا جب آخز بادشاہ نے وفات پائی۔G$ رب الافواج نے فیصلہ کر لیا ہے، تو کون اِسے منسوخ کرے گا؟ اُس نے اپنا ہاتھ بڑھا دیا ہے، تو کون اُسے روکے گا؟&#Gپوری دنیا کے بارے میں یہ منصوبہ اٹل ہے، اور رب اپنا ہاتھ تمام قوموں کے خلاف بڑھا چکا ہے۔J"مَیں اسور کو اپنے ملک میں چِکنا چُور کر دوں گا اور اُسے اپنے پہاڑوں پر کچل ڈالوں گا۔ تب اُس کا جوا میری قوم پر سے دُور ہو جائے گا، اور اُس کا بوجھ اُس کے کندھوں پر سے اُتر جائے گا۔“ NNQ(اے شہر کے دروازے، واویلا کر! اے شہر، زور سے چیخیں مار! اے فلستیو، ہمت ہار کر لڑکھڑاتے جاؤ۔ کیونکہ شمال سے تمہاری طرف دھواں بڑھ رہا ہے، اور اُس کی صفوں میں پیچھے رہنے والا کوئی نہیں ہے۔'%تب ضرورت مندوں کو چراگاہ ملے گی، اور غریب محفوظ جگہ پر آرام کریں گے۔ لیکن تیری جڑ کو مَیں کال سے مار دوں گا، اور جو بچ جائیں اُنہیں بھی ہلاک کر دوں گا۔=&uاے تمام فلستی ملک، اِس پر خوشی مت منا کہ ہمیں مارنے والی لاٹھی ٹوٹ گئی ہے۔ کیونکہ سانپ کی بچی ہوئی جڑ سے زہریلا سانپ پھوٹ نکلے گا، اور اُس کا پھل شعلہ فشاں اُڑن اژدہا ہو گا۔ !!.,Wگلیوں میں وہ ٹاٹ سے ملبّس پھر رہے ہیں، چھتوں پر اور چوکوں میں سب رو رو کر آہ و بکا کر رہے ہیں۔F+اب دیبون کے باشندے ماتم کرنے کے لئے اپنے مندر اور پہاڑی قربان گاہوں کی طرف چڑھ رہے ہیں۔ موآب اپنے شہروں نبو اور میدبا پر واویلا کر رہا ہے۔ ہر سر مُنڈا ہوا اور ہر داڑھی کٹ گئی ہے۔a* ?موآب کے بارے میں رب کا فرمان: ایک ہی رات میں موآب کا شہر عار تباہ ہو گیا ہے۔ ایک ہی رات میں موآب کا شہر قیر برباد ہو گیا ہے۔v)g تو پھر ہمارے پاس بھیجے ہوئے قاصدوں کو ہم کیا جواب دیں؟ یہ کہ رب نے صیون کو قائم رکھا ہے، کہ اُس کی قوم کے مظلوم اُسی میں پناہ لیں گے۔ b6bO/نِمریم کا پانی سوکھ گیا ہے، گھاس جُھلس گئی ہے، تمام ہریالی ختم ہو گئی ہے، سبزہ زاروں کا نام و نشان تک نہیں رہا۔ .میرا دل موآب کو دیکھ کر رو رہا ہے۔ اُس کے مہاجرین بھاگ کر ضُغر اور عجلت شلیشیاہ تک پہنچ رہے ہیں۔ لوگ رو رو کر لوحیت کی طرف چڑھ رہے ہیں، وہ حورونائم تک جانے والے راستے پر چلتے ہوئے اپنی تباہی پر گریہ و زاری کر رہے ہیں۔6-gحسبون اور اِلی عالی مدد کے لئے پکار رہے ہیں، اور اُن کی آوازیں یہض تک سنائی دے رہی ہیں۔ اِس لئے موآب کے مسلح مرد جنگ کے نعرے لگا رہے ہیں، گو وہ اندر ہی اندر کانپ رہے ہیں۔ l8-3 Wملک کا جو حکمران ریگستان کے پار سلع میں ہے اُس کی طرف سے صیون بیٹی کے پہاڑ پر مینڈھا بھیج دو۔q2] لیکن گو دیمون کی نہر خون سے سرخ ہو گئی ہے، تاہم مَیں اُس پر مزید مصیبت لاؤں گا۔ مَیں شیرببر بھیجوں گا جو اُن پر بھی دھاوا بولیں گے جو موآب سے بچ نکلے ہوں گے اور اُن پر بھی جو ملک میں پیچھے رہ گئے ہوں گے۔ 91mچیخیں موآب کی حدود تک گونج رہی ہیں، ہائے ہائے کی آوازیں اِجلائم اور بیر ایلیم تک سنائی دے رہی ہیں۔0اِس لئے لوگ اپنا سارا جمع شدہ سامان سمیٹ کر وادیِ سفیدہ کو عبور کر رہے ہیں۔ Q&Q|6sموآبی مہاجروں کو اپنے پاس ٹھہرنے دے، موآبی مفروروں کے لئے پناہ گاہ ہو تاکہ وہ ہلاکو کے ہاتھ سے بچ جائیں۔“ لیکن ظالم کا انجام آنے والا ہے۔ تباہی کا سلسلہ ختم ہو جائے گا، اور کچلنے والا ملک سے غائب ہو جائے گا۔O5”ہمیں کوئی مشورہ دے، کوئی فیصلہ پیش کر۔ ہم پر سایہ ڈال تاکہ دوپہر کی تپتی دھوپ ہم پر نہ پڑے بلکہ رات جیسا اندھیرا ہو۔ مفروروں کو چھپا دے، دشمن کو پناہ گزینوں کے بارے میں اطلاع نہ دے۔U4%موآب کی بیٹیاں گھونسلے سے بھگائے ہوئے پرندوں کی طرح دریائے ارنون کے پایاب مقاموں پر اِدھر اُدھر پھڑپھڑا رہی ہیں۔ 99اِس لئے موآبی اپنے آپ پر آہ و زاری کر رہے، سب مل کر آہیں بھر رہے ہیں۔ وہ سسک سسک کر قیرحراست کی کشمش کی ٹکیاں یاد کر رہے ہیں، اُن کا نہایت بُرا حال ہو گیا ہے۔h8Kہم نے موآب کے تکبر کے بارے میں سنا ہے، کیونکہ وہ حد سے زیادہ متکبر، مغرور، گھمنڈی اور شوخ چشم ہے۔ لیکن اُس کی ڈینگیں عبث ہیں۔K7تب اللہ اپنے فضل سے داؤد کے گھرانے کے لئے تخت قائم کرے گا۔ اور جو اُس پر بیٹھے گا وہ وفاداری سے حکومت کرے گا۔ وہ انصاف کا طالب رہ کر عدالت کرے گا اور راستی قائم رکھنے میں ماہر ہو گا۔ dD; اِس لئے مَیں یعزیر کے ساتھ مل کر سِبماہ کے انگوروں کے لئے آہ و زاری کر رہا ہوں۔ اے حسبون، اے اِلی عالی، تمہاری حالت دیکھ کر میرے بےحد آنسو بہہ رہے ہیں۔ کیونکہ جب تمہارا پھل پک گیا اور تمہاری فصل تیار ہوئی تب جنگ کے نعرے تمہارے علاقے میں گونج اُٹھے۔:)حسبون کے باغ مُرجھا گئے، سِبماہ کے انگور ختم ہو گئے ہیں۔ پہلے تو اُن کی انوکھی بیلیں یعزیر بلکہ ریگستان تک پھیلی ہوئی تھیں، اُن کی کونپلیں سمندر کو بھی پار کرتی تھیں۔ لیکن اب غیرقوم حکمرانوں نے یہ عمدہ بیلیں توڑ ڈالی ہیں۔ WWM? رب نے ماضی میں اِن باتوں کا اعلان کیا۔$>C جب موآب اپنی پہاڑی قربان گاہ کے سامنے حاضر ہو کر سجدہ کرتا ہے تو بےکار محنت کرتا ہے۔ جب وہ پوجا کرنے کے لئے اپنے مندر میں داخل ہوتا ہے تو فائدہ کوئی نہیں ہوتا۔@={ میرا دل سرود کے ماتمی سُر نکال کر موآب کے لئے نوحہ کر رہا ہے، میری جان قیرحراست کے لئے آہیں بھر رہی ہے۔e<E اب خوشی و شادمانی باغوں سے غائب ہو گئی ہے، انگور کے باغوں میں گیت اور خوشی کے نعرے بند ہو گئے ہیں۔ کوئی نہیں رہا جو حوضوں میں انگور کو روند کر رس نکالے، کیونکہ مَیں نے فصل کی خوشیاں ختم کر دی ہیں۔ WPWtBcعروعیر کے شہر بھی ویران و سنسان ہو جائیں گے۔ تب ریوڑ ہی اُن کی گلیوں میں چریں گے اور آرام کریں گے۔ کوئی نہیں ہو گا جو اُنہیں بھگائے۔A -دمشق شہر کے بارے میں اللہ کا فرمان: ”دمشق مٹ جائے گا، ملبے کا ڈھیر ہی رہ جائے گا۔@لیکن اب وہ مزید فرماتا ہے، ”تین سال کے اندر اندر موآب کی تمام شان و شوکت اور دھوم دھام جاتی رہے گی۔ جو تھوڑے بہت بچیں گے، وہ نہایت ہی کم ہوں گے۔“  Dاُس دن یعقوب کی شان و شوکت کم اور اُس کا موٹا تازہ جسم لاغر ہوتا جائے گا۔ZC/اسرائیل کے قلعہ بند شہر نیست و نابود ہو جائیں گے، اور دمشق کی سلطنت جاتی رہے گی۔ شام کے جو لوگ بچ نکلیں گے اُن کا اور اسرائیل کی شان و شوکت کا ایک ہی انجام ہو گا۔“ یہ ہے رب الافواج کا فرمان۔